مولانا نور عالم خلیل امینی اور صدر جمہوریہ ایوارڈ

بقلم: امدادالحق بختيار*

ہم تمام خوشہ چینان امینی حکومت ہند کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ اس نے صدر جمہوریہ ایوارڈ کے لیے بالکل درست انتخاب کیا ہے، حکومت کے اس فیصلے سے شیخ امینی کے تمام تلامذہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور تمام حلقوں سے اس فیصلہ کی ستائش کی جارہی ہے، دراصل یہ فیصلہ حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی کے لیے بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن دیر آید درست آید کے مطابق ہم اس فیصلہ کو سراہتے ہیں، اور میری تو بساط کیا ہے ملک کی دیگر اکابر، عبقری، علمی و ادبی شخصیات حضرت مولانا کو تہنیت و تبریک پیش کریں گی، تاہم ہماری خوشی بھی دیکھنے لائق ہے، کیونکہ ہم نے بھی اسی خوان ادب سے کچھ لذیذ ٹکڑے حاصل کئے ہیں، لہذا حضرت کے تمام شاگردوں کے لیے یہ بہت بڑی خوشی کا موقع ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت ہندوستان کے اکثر مدارس میں عربی ادب کی خدمات انجام دینے والے عربی زبان وادب کے ماہرین بالواسطہ یا بلا واسطہ شیخ امینی کے ہی شاگرد ہیں، بلکہ بیرون ممالک میں بھی آپ کے بہت سے تلامذہ ہیں، آپ نصف صدی سے اس زبان کی خدمت بڑی خاموشی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں، عربی زبان وادب آپ کا اوڑھنا بچھونا، غذا، دوا سب کچھ ہے، آپ کو اس زبان سے زبانی نہیں بلکہ عملی اور واقعی عشق ہے۔
آپ کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے یہاں ادب کو نہلایا ، سنوارا، پاکیزہ، اور اخلاقیات سے لبریز کیا جاتا ہے، آپ دیگر ادیبوں کی طرح نہیں ہیں، جن کے یہاں زبان و ادب بے راہ روی کی شکار ہے، جو ادب کے نام پر معاشرے میں تمام طرح کی بے اخلاقی بلکہ فحاشی کو رواج دیتے ہیں، جن کے یہاں الفاظ بھی بے جامہ اور ننگے ہوتے ہیں، شیخ امینی اس طرح کے ادیبوں سے بہت کڑھتے ہیں، انھوں نے حال ہی میں چھپی اپنی کتاب ( تعلموا العربية فإنها من دينكم) میں اپنی اس تکلیف کا اظہار کیا ہے، اور ایسے تمام ادیبوں سے گزارش کی ہے کہ وہ زبان کو تعمیر نسل نو کا ذریعہ بنائیں، تخریب کاری اور اخلاق سوزی کا ذریعہ نہ بنائیں۔۔
شیخ امینی کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جو لکھتے ہیں بہت محنت کے بعد لکھتے ہیں، اتنی محنت جس کا ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے، چنانچہ وہ اپنی تحریر میں ہر لفظ کو وہ جگہ دیتے ہیں کہ اگر اسے وہاں سے ہٹا کر کسی اور جگہ رکھا جائے تو زبان اپنے معیار سے فروتر ہوجائے، ان کے لکھے ہوئے پر انگلی رکھنا بہت مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ عالم عرب کے چوٹی کے علماء اور ادبا یونیورسٹیوں کے پروفیسران آپ کی تحریروں کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اپنے طلبہ کو استفادہ کا مشورہ دیتے ہیں، اسی لیے ان کی تحریریں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔
شیخ امینی کی ایک ممتاز خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ عربی کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی بہت صاف ستھرا اور پاکیزہ ذوق رکھتے ہیں، اردو کے اشعار، تعبیرات اور امثال و کہاوتوں پر آپ کو حیرت انگیز طور پر عبور حاصل ہے، جس کی گواہ آپ کی اردو زبان میں کئی کتابیں ہیں۔
میں دارالعلوم دیوبند میں پنجم عربی پڑھنے کے لیے داخل ہوا، شیخ امینی کے تعلق ایک بھاری بھرکم تصور میرے نازک اور معصوم ذہن و خیال اور دل و دماغ میں جاگزیں تھا، دوران تعلیم کبھی کبھار کتب خانہ اور صدر گیٹ کے راستے میں آپ کا دیدار ہوتا، آپ کے ساتھ علیا درجے کے چنیدہ طلبہ کا ایک گروپ ہوتا، آپ دیوبندی ٹوپی، موٹی عینک، شیروانی اور جوتوں میں ملبوس ہوتے، ہماری مرعوبیت کے بیان سے قلم عاجز ہے، یہ تصور بھی نہیں تھا کہ ہم جیسے کوتاہ علم اور ہیچمند کو شیخ امینی سے استفادہ کا موقع ملے گا، تاہم اس راہ عشق میں ہم شروع سے گستاخ ثابت ہوئے ہیں اور جنون کی اس راہ میں کسی کوہ پیمائی یا کوہ کنی سے کبھی نہیں گھبرائے، لیکن کیا کہیے مجنون بھی کبھی صحیح منزل تک پہنچ ہی جاتا ہے، اللہ نے اس معصوم تمنا کی لاج رکھ لی اور تکمیل ادب ( شعبہ عربی زبان وادب) میں اس نالائق زمان کا داخلہ ہوگیا۔ اگلی صف میں جگہ ملی، عربی زبان وادب کے اس بحر بے کنار سے خوب خوب استفادہ کا موقع ملا، طلبہ پر آپ کا رعب کسی سے مخفی نہیں، عام خیال یہ ہے کہ اس شعبے میں دیگر اساتذہ کی بنسبت طلبہ شیخ امینی سے زیادہ ڈرتے ہیں، اور ڈسپلن کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں، کیونکہ اگر شیخ کے مزاج کے خلاف کسی طالب علم سے کوئی بات سرزد ہوئی تو زبان و ادب والی مناسب سزا بھی اسے سہنی پڑتی۔
اس کے بالمقابل شیخ امینی کے درس سے طلبہ کے چہروں پر جتنی خوشی اور مسکراہٹ آجاتی، دیگر اسباق میں انھیں یہ چیز حاصل نہیں ہوتی، طلبہ مولانا کے جملوں سے بہت محظوظ ہوتے، شیخ طلبہ کو خوب ہنساتے ہیں آپ کا سبق خشک نہیں ہوتا، ایک طرف آپ کا رعب اور دوسری طرف درسگاہ میں طلبہ کو ہنسانا یہ دو متضاد باتیں ہم نے صرف آپ کے یہاں دیکھی ہیں۔
اور گھر پر بعد عصر کی ملاقات میں شیخ امینی استاذ اور شاگرد کے مرتبے کو ملحوظ رکھتے ہوئے، بالکل کھل جاتے، خود بھی باتوں سے خوب خوب محظوظ ہوتے، ہنستے اور آنے والے طلبہ کو بھی خوب ہنساتے ہیں، لیکن استاد اور شاگرد کے حد فاصل کی دیوار مضبوطی کے ساتھ قائم رہتی ہے، جسے ہم آپ کی کرامت سمجھتے ہیں، واضح رہے کہ شیخ سے ملاقات کے لئے ایک دن قبل ٹیلیفون کے ذریعے اجازت لینی پڑتی ہے، شیخ بڑے نستعلیق اور وقت کے پابند منٹوں نہیں بلکہ سیکنڈوں کے اعتبار سے ہیں، ہمارے ساتھ شیخ کے وطن کے ایک ساتھی پڑھتے تھے، شیخ سے ملاقات کی میری ہمت نہیں ہوتی تھی، ہمارے مذکورہ ساتھی ایک بار شیخ سے ملاقات کے لئے جارہے تھے انہوں نے مجھ سے کہا تم بھی چلو میں نے شیخ کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے عرض کیا کہ میں نے بذریعہ فون اجازت نہیں لی ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ چلیں ، ہم سنبھال لیں گے، چنانچہ کسی طرح کمر ہمت باندھی اور حاضری ہوئی، انہوں نے تو اپنے لئے پہلے سے اجازت لے رکھی تھی اور میں طفیلی بن کر پیچھے سے جیسے ہی داخل ہوا شیخ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: تمہیں ہمارے اصول نہیں معلوم۔ میں نے معافی چاہی، ہمارے ساتھی نے بتایا کہ میں ہی اسے لے کر آیا ہوں، شرف حاضری حاصل ہوئی، مجلس اتنی زعفران زار تھی کہ تصور سے بالا تر، پھر کیا تھا حاضری پر حاضری ہونے لگی، شیخ کی کسی تحریر میں ایک لفظ مطالعہ میں آیا (قاسم مشترك) اپنی حد تک میں اس کے مفہوم تک پہنچنے میں ناکام رہا، عصر بعد کی مجلس میں پہنچا اور میں نے اس لفظ کو شیخ کی خدمت میں رکھ دیا اور استفسار کیا، شیخ نے اپنے انداز میں فرمایا کہ درسگاہ کے باہر ہم ایک لفظ کے ایک ہزار روپے لیتے ہیں، یہ کہہ کر خود بھی مسکرانے لگے اور حاضرین بھی ہنسنے لگے۔ ذیل میں شیخ امینی کے تعلق سے چند بنیادی معلومات پیش کی جاتی ہیں واضح رہے کہ یہ معلومات مکمل نہیں:
مولانا نور عالم خلیل امینی:
ہندوستان میں عربی زبان وادب کے مشہور ادیب و قلمکار ہیں، وہ ماہنامہ الداعی (عربی) دیوبند کے مدیر اعلیٰ اور دار العلوم دیوبند کے استاذ ادب ہیں۔
ولادت:
18/12/1952 بمطابق 28/4/1347ھ کو اپنے ننھیال بیشی ہر پور سیتامڑھی میں پیدا ہوئے۔ مولانا کا وطن (دادھیال )رائے پور ضلع سیتامڑھی ہے۔
تعلیمی لیاقت :
(الف)فاضل دارالعلوم دیوبند (ب)تخصص عربی زبان وادب دارالعلوم دیوبند (ج)عربی زبان و ادب کی تدریسی مہارت: کنگ سعود یونیورسٹی ریاض، سعودی عرب۔
تصنیفات:
مولانا کی عربی اردو کتابیں تقریباً 13 یا 14 چودہ ہیں جنمیں وہ کوہ کن کی بات ٬ فلسطین کسی صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں، پس مرگ زندہ (اردو ) مفتاح العربیہ، فلسطين في انتظار صلاح دين، كيف تكون الكتابات مؤثرة؟ (عربی) تعلموا العربية فإنها من دينكم. الصحابة ومكانتهم في الإسلام. حرف شیریں، کیا اسلام پسپا ہورہا ہے، وغیرہ بہت مقبول ہیں۔
مقالات و مضامین:
مولانا کے عربی و اردو زبان میں 500 سے زیادہ مضامین ہند وبیرون ہند کے عربی اور اردو کے مختلف رسائل واخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔
بیرونی اسفار:
مولانا کانفرنسوں میں شرکت ودیگر علمی امور کے لیے مختلف ممالک کے اسفار کرچکے ہیں مثلًا سعودی عرب، کویت، مصر، متحدہ عرب امارات وغیرہ بلکہ شاید کوئی عرب ملک باقی ہو جہاں مولانا کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف نہ لے گئے ہوں۔
پسندیدہ شخصیات:
مولانا وحید الزماں کیرانوی، مولانا محمد میاں دہلوی٬ مولانا علی میاں ندوی، مولانا اشرف علی تھانوی۔

Advertisements

موت اس کی کرے جس کا زمانہ افسوس

خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمیؒ کے کمالات واوصاف

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ (1897-1983)کے صاحب زادے خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمیؒ (1926-2018) اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔ حضرت خطیب الاسلام کے آباؤ اجداد نے وہ خدمات اور قربانیاں پیش کیں ہیں کہ بر صغیر کا ہر مسلمان، ان حضرات کا شکرگزار ہے اور ان کو لائق صد تعظیم وتکریم سمجھتا ہے۔ ان عظیم نسبتوں اور خاندانی خدمات کے علاوہ، خود خطیب الاسلام کی ذات میں اللہ تعالی نے بہت سے کمالات واوصاف ودیعت کر رکھے تھے۔آپ میں صلاحیت وصالحیت ،خشیت وللہیت ، تقوی وپرہیز گاری ، صبر وتحمل، علم وفضل اور فہمِ فکر وفلسفۂ قاسمی بدرجہ اتم موجود تھی۔ بلا شبہ آپ "فکرِ دیوبند” کے ترجمان تھے۔ آج آپ کے رخصت ہوجانے پر، ہر کوئی اظہارِ افسوس کررہا ہے۔
موت اس کی کرےجس کا زمانہ افسوس – یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے

آپ کی خصوصیات وامتیازات اور اوصاف وکمالات کی وجہہ سے لوگ آپ سے دل وجان سے محبت کرتے تھے؛ بل کہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اللہ نے آپ کی قبولیت ومحبت لوگوں کے دلوں میں اس طرح ڈالدی تھی کہ سب آپ کے دیوانے تھے اور جب بھی آپ کا نام آتا؛ تو زبانیں ذکر خیر اور تعریف وتوصیف میں مشغول ہوجاتیں۔ جناب نبی صادق ومصدوق –صلی اللہ علیہ وسلم– کا فرمان ہے: "إِذَا أَحَبَّ اللهُ العَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي الأَرْضِ” (صحیح البخاري عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ: 3209) ترجمہ: جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت کرتے ہیں؛ تو اللہ تعالی جبریل –علیہ السلام– کو بلاتے ہیں (اور کہتے ہیں): اللہ تعالی فلاں سے محبت کرتے ہیں؛ لہذا آپ بھی اس سے محبت کریں! چناں چہ جبریل –علیہ السلام– اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔پھر جبریل –علیہ السلام– آسمان والوں کے درمیان اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی فلاں سے محبت کرتے ہیں؛ لہذا آپ بھی اس سے محبت کریں! چناں چہ آسمان والے بھی ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر زمین میں اس کے لیے قبولیت ڈالی جاتی ہے (روئے زمین والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔)۔

"علم” ایک بڑی قابل فضیلت چیز ہے۔ اس کی واضح اور بین دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی شانہ نے قرآن کریم میں، "اہل ایمان” اور "اہل علم” کے درجات بلند کرنے کا ذکر کیا ہے۔ فرمان باری تعالی ہے: ﴿يَرْفَعِ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا العِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾. (مجادلہ: 11) ترجمہ: "اللہ تعالی تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے جنھیں "علم” عطا ہوا ہےدرجے بلند کرے گااور اللہ کو تمھارے اعمال کی پوری خبر ہے”۔ اللہ تعالی نےخطیب الاسلام کو علوم نبوّت کے وافر حصے سے نواز کر، بلند مقام ومرتبہ عطا فرما رکھا تھا، جس کا مشاہدہ لوگوں نے اپنی کھلی آنکھوں کیا۔ اب آپ اس دنیا میں نہیں رہے، امید ہے کہ آخرت میں بھی دونوں جہان کے خالق ومالک آپ کو عظیم مراتب سے سرفراز فرماکر، جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائیں گے۔
ما الفضلُ إِلا لأَهْلِ العِلمِ إِنّهُم ٭ عَلَی الهُدی لِمنِ اسْتَهْدی أَدِلّاءُ
ترجمہ: فضیلت تو اہل علم ہی کے لیے؛ کیوں کہ وہ ہدایت پر ہیں (اور) ان کی رہنمائی کرتے جوہدایت کے طلب گار ہیں۔

مختلف حدیثوں میں "رفع علم” (علم کے اٹھنے) کو علامات قیامت میں شمار کرایا گیا ہے۔ نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– کے خادم خاص –رضی اللہ عنہ– نقل کرتے ہیں کہ آپ –صلی اللہ علیہ وسلم– نے فرمایا: "إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ وَيَثْبُتَ الجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا” (صحیح البخاري عن أنس رضی اللہ عنہ: 80) ترجمہ: "قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیاجائے گا اور جہالت جم جائے گی، شراب پی جائے گی اور زنا عام ہوجائے گا”۔

اگرحضرت خطیب الاسلامؒ کی زندگی پر غور کریں؛تو اندازہ ہوگا کہ ان کا سینہ در حقیقت علوم ومعارف کا گنجینہ تھا۔ آپ عصر حاضر میں ان چند گنے چنے اہل علم میں سے تھے کہ بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان جیسے اہل علم وفضل کا ہمارے درمیان رہنا رحمت کا باعث تھا اور ان جیسے کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا ،قربِ قیامت کی علامات میں سے ہے جسے حدیث میں "رفع علم” اور "قبض العلم” سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حضرت خطیب الاسلامؒ کو اللہ تعالی نے علم جیسی عظیم نعمت سے نوازا تھا۔ پھر اللہ تعالی نے ان کو علم سے نوازنے کے ساتھ ساتھ ان علوم کی نشر واشاعت کی بھی بھرپور صلاحیت سے نوازا تھا؛ چناں چہ آپ نے ان علوم سے امت محمدیّہ کے نونہالان کوخوب مستفید کیا۔ آپ نے ان علوم کی نشر واشاعت کے لیے درس وتدریس، دعوت وتبلیغ، تقریر وخطابت، وعظ ونصیحت اور تحریر وتصنیف کے راستے اختیار کیے۔

فراغت کے معًا بعد، ایشیاء کی عظیم اِسلامی درس گاہ: دار العلوم، دیوبند میں، سن 1948 عیسوی میں مدرّس ومعلم کی حیثیت سے آپ کا تقرر عمل میں آیا۔ آپ کو پڑھنے پڑھانے سے اتنی دل چسپی تھی کہ جن حضرات نے آپ سے پڑھا اور استفادہ کیا ہے، ان کا بیان ہے کہ جوں ہی گھنٹہ بجتا، آپ درس گاہ میں پہنچ جاتے۔ دورانِ درس اِدھر اُدھر کی باتوں سے کلی طور پر اجتناب کرتے۔ آپ کی اصل توجہہ درس اور افہام درس پر ہوتی۔ جوں ہی اگلا گھنٹہ بجتا، آپ درس گاہ سے نکل جاتے۔ آپ ٹھوس صلاحیت کے مالک، ایک قابل اور باصلاحیت مدرّس تھے۔ آپ کے درس کے دوران ایسا لگتا تھا کہ گویا علوم ومعارف کے چشمے بہہ رہے ہیں۔ آپ کو صرف ونحو، فقہ، اصول فقہ، تفسیر، اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث ، بلاغت اور عقائد وکلام جیسے فنون کی تدریس کی ذمے داری سپرد کی گئی جسے آپ نے بحسن وخوبی انجام دیا۔ ایک مدت تک حدیث کی مشہور کتابیں: مشکاۃ المصابیح، سنن ابی داؤد اورصحیح بخاری وغیرہ کا درس بھی دیا۔ اخیر میں ملی واجتماعی مصروفیات کی وجہہ سے صرف صحیح بخاری کے کچھ اجزاء کی تدریس آپ سے متعلق تھی۔

تصنیف وتالیف کے حوالے آپ کے گہربار قلم سے چند قیمتی کتابیں وجود میں آئیں۔ وہ کتابیں: "قرآن کریم کے اردو تراجم کا جائزہ”،”رسالۃ المصطفی”،”تاجدار ارض حرم کا پیغام”،”مرد غازی”،”مجاہدین آزادی”،”ایک عظیم تاریخی کارنامہ”،”سفرنامہ برما” اور "مبادئ التربیۃ الاسلامیۃ (عربی) وغیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ، مختلف مواقع سے لکھے گئے مضامین ومقالات بھی ہیں جو مختلف جرائد ورسائل میں شائع ہوئے۔

عصری درس گاہوں کے اکثر طلبہ علومِ اسلامیّہ سے نابلد ہوتے ہیں۔ اس کی وجہہ یہ ہے کہ اکثر عصری ادارے میں، علومِ اسلامیّہ کی تدریس شاملِ نصاب نہیں ہے۔ چناں چہ عصری درس گاہوں کے طلبہ کو علومِ اسلامیّہ سے روشناس کرانے کی فکر میں، حضرت نے سن 1966 عیسوی میں ایک مراسلاتی طریقہ تعلیم کا ادارہ بہ نام: "جامعہ دینیات” قائم کیا۔ عصری اداروں سے وابستہ سیکڑوں طلبہ نے اس ادارہ سے وابستہ ہوکر، اسلامی علوم سے واقفیت حاصل کی۔ یہ ادارہ تاہنوز اپنی خدمات پیش کررہا ہے اور طلبہ استفادہ کررہے ہیں۔

علوم دینیہ کی نشرواشاعت کے حوالے سے "جامعہ دینیات” کے پیلٹ فارم سے خطیب الاسلام کی خدمت قابل ستائش ہے۔ اسی طرح آپ کے علوم ومعارف سے دونوں دارلعلوموں میں ہزاروں طلبہ اور علماء نے استفادہ کیا اور نفع اٹھایا۔ آپ کی تحریری خدمات میں آپ کے قلم سے نکلی ہوئی کتابیں ہیں۔ آپ کی یہ عظیم خدمات یقینا آپ کےلیے صدقہ جاریہ ہوں گی اور آپ کو اس کا ثواب ملتا رہے گا۔ نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– کا فرمان ہے: "إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ”. (صحیح مسلم عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ: 1631) ترجمہ: جب آدمی مرجاتا ہے؛ تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین ( اعمال کہ ان کا ثواب منقطع نہیں ہوتا ) : (1) صدقہ جاریہ (لوگوں کے پانی پینے کے لیےپانی کا انتظام کردیا کوئی زمین وغیرہ للہ وقت کردیا ہو)، (2) یا ایسا علم جس سے نفع اٹھا یا جائے(دینی علوم کی تعلیم وتدریس میں مشغول ہو)اور (3) یا نیک اور صالح اولاد (چھوڑ کر وفات پایا ) جو اس کےلیے دعاء کرتی ہے۔

حضرت خطیب الاسلامؒ شروع سے ہی ایک معتبر خطیب ومقرر کی حیثیت سے اندرون اور بیرون ہند میں متعارف تھے۔ آپ اتنے سیدھے سادھے اور بھولے بھالے تھے کہ جہاں سے بھی دعوتی واصلاحی پروگراموں کے لیے دعوت آتی، آپ دعوت قبول فرما لیتے۔ آپ جہاں اور جس پروگرام میں تشریف لے جاتے، آپ کی حیثیت میر ِمجلس کی ہوتی؛ مگر اس کے باوجود بھی دعوت دینے والوں کو شروط وقیود کے جال میں پھنسانے کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے۔ اگر آپ کے پاس وقت ہوتا؛ تو خوش دلی سے دعوت قبول فرمالیتے اوردعوت دینے والے جیسا بھی انتظام کردیں، آپ اس کے خلاف زبانِ شکایت نہیں کھولتے۔ آپ نے دعوتی واصلاحی پروگرام کی مناسبت سے درجنوں ممالک اور اندرون ہند سیکڑوں شہروں اور دیہاتوں کا سفر کیا۔ آپ شروع زمانے سے ہی منفرد اسلوب ولہجہ کے خطیب ومقرر تھے جیسا کہ آپ کے عظیم والدحضرت حکیم الاسلام جلیل القدروفرید العصر خطیب ومقرر تھے۔ آپ کسی بھی اصلاحی ودعوتی پروگراموں میں تشریف لے جانے سے انکار نہیں کرتے، گویا آپ کے سامنے ہمیشہ نبی آخر الزماں –صلی اللہ علیہ وسلم – کا فرمان ہوتا تھا کہ «بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً» (صحیح البخاری عن عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ: 3461) ترجمہ: میری طرف سے پہنچاؤ، گرچہ ایک آیت ہی ہو۔
وقِیمةُ المرءِ مَا قَد كَانَ یُحسِنُهُ ٭ وَلِلرِّجَالِ عَلَى الْأَفْعَالِ أَسماءُ
ترجمہ: انسان کی اہمیت اس کی خوبی اور بھلائی میں ہے جو اس نے کیا ہے؛ کیوں کہ مردوں کے لیے صرف ان کے کام ہی (ان کے باصلاحیت ہونے)ثبوت ہے۔

حضرت خطیب الاسلامؒ تواضع وخاک ساری، عاجزی وانکساری کے حوالے سےبھی قابل تقیلد تھے۔ آپ انانیت وخودپسندی، خود غرضی وخود نمائی سے کوسوں دور تھے۔بڑے چھوٹے سب کو آپ پیار ومحبت اور ادب واحترام سےخطاب فرماتے تھے۔ اسی کا نتیجہ تھا اللہ تعالی نے آپ کو وہ مقام ومرتبہ دیا تھا کہ ہند وبیرون ہند سے اہل علم وفضل علماء آپ کی زیارت اور کبھی علم حدیث کی سند واجازت کے لیے دیوبند میں "طیّب منزل” پر تشریف لاتے۔کبھی بڑے بڑے داعیان ومبلغین آپ کے سامنے اپنی کارگزاری سنا کر، دعا کی درخواست کرتے اور آپ کی دعا سے اپنے دامن کو بھر کرجاتے۔ بہت سی سماجی شخصیات، سیاسی لیڈران اوراہل دولت وثروت آپ سے شرفِ ملاقات کے لیے دیوبند تشریف لاتے اور "طیّب منزل” پر پہنچ کر، آپ کی زیارت کا شرف حاصل کرتے اور دعا کی درخواست کرتے۔ پیارے نبی –صلی اللہ علیہ وسلم– نے ایک چھوٹے سے جملے میں کتنی بڑی حقیقت کو رکھ دیا، آپ –صلی اللہ علیہ وسلم– کا فرمان ہے: «مَن تَواضَعَ للهِ رَفَعَهُ اللهُ». (شعب الإيمان، حدیث: 7790) ترجمہ: جس نے اللہ واسطے تواضع اختیار کی، اللہ تعالی اس کو بلنددرجہ عطا کریں گے۔

آپ کی مجلس میں اکثر علماء اورطالبانِ علوم بنویہ شرکت کرتے اور آپ کے زریں اقوال اورنصیحت سے مستفید ہوتے۔ آپ کی مجلس میں شریک کسی فرد کو اجازت نہیں تھی کہ وہ کسی کی کردار کشی اور عیب جوئی کرے۔ آپ کی مجلس غیبت وچغلی سے پاک وصاف اور منزہ ہوتی تھی، اس کا اعتراف ہر اس شخص کو ہوگا جس نے آپ کی مجلس میں شرکت کی ہے۔ اس طرح آپ خود بھی غیبت کرنے کی اخلاقی پستی سےدور رہتے اور اپنی مجلس کے شرکت کنندگان کو بھی غیبت کی قباحت وشناعت سے محفوظ کردیتے۔ ایک حدیث ہے: "يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ، وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعُ اللهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ يَتَّبِعِ اللهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ.” (سنن أبی داود، حدیث: 4880) ترجمہ: اےان لوگوں کی جماعت جن کے زبان پر تو ایمان ہے، مگر ایمان ( ابھی) ان کے دل میں داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کی غیبت اور عیب کے پیچھے مت پڑو؛ کیوں کہ جو شخص ان کےعیب کے پیچھے پڑیگا ، اللہ اس کے عیب کے پیچھے پڑیں گے، اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے پڑیں گے، اسے اس کے گھر میں ہی رسوا کریں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ خطیب الاسلام عہدے اور مناصب کے جھمیلے سے دور بھاگتے تھے۔ مگرضرورت کے وقت کچھ عہدے اور مناصب کو آپ نے عزت بخشی۔ آپ ہندوستانی مسلمانوں کی دینی واسلامی شعائراور عائلی مسائل کی محافظ تنظیم: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کی مجلس عاملہ کے موقر رکن اور نائب صدر محترم، مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر،ممتاز دینی ادارہ جامعہ مظاہر علوم (وقف) کی مجلس شوری کے سرپرست، عالمی شہرت یافتہ دینی درس گاہ: دار العلوم ندوۃ العلماء کی مجلس شوری وانتظامیہ کے رکن، اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا کے سرپرست، علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے کورٹ کے سابق رکن اور ان اداروں کے علاوہ مختلف دینی وملی ، تعلیمی وفلاحی ادارے کےسرپرست ونگراں۔ اسی طرح آپ دار العلوم وقف، دیوبند کے مھتمم، پھر صدر مھتمم رہے اور آج دار العلوم وقف کی جو ترقی اور روشن خدمات ہیں، اس کا سہرا بلا واسطہ یا بالواسطہ آپ کے ہی سر جاتا ہے۔

آپ کی تدریسی وتعلیمی، علمی ددینی اور دعوتی واصلاحی خدمات مسلم ہے۔ آپ ایک ممتاز عالم دین تھے؛ چناں چہ مصری حکومت نے آپ کو”نوط الامتیاز/نشان امتیاز” ایوارڈ سےنوازا۔ آپ سیکڑوں علماء وفضلاء کی موجودگی میں، ساؤتھ افریقہ کی سرزمین پر،”امام محمد قاسم النانوتوي ایوارڈ” سے نوازے گئے۔ آپ حضرت شاہ ولی اللہ ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔

حضرت خطیبؒ الاسلام کی تعلیم از ناظرہ وحفظ القرآن الکریم تا تکمیل فضیلت (دورہ حدیث شریف) دار العلوم، دیوبندمیں ہوئی۔ آپ نے سن 1948م=1376ھ میں دار العلوم سے تکمیل فضیلت کی۔ آپ نے علوم حدیث کے آفتاب وماہتاب محدثین سے درس حدیث اخذ کیا۔ ان میں حضرت مولانا سید فخرالحسن صاحبؒ، حضرت علامہ محمد ابراہیم بلیاوی صاحبؒ (1886-1967ء)، حضرت مولانا اعزاز علی امروہوی صاحبؒ (1882-1952ء)، (آپ کے والد ماجد) حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمی صاحبؒ (1897-1983ء) اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی صاحبؒ (1879-1957ء) ہیں۔ آپ کو حضرت شیخ الحدیث محمد زکریا صاحب کاندھلوی ثم مدنیؒ (1897-1982ء) اور شیخ عبد اللہ بن احمد الناخبیؒ سے بھی اجازت حدیث حاصل تھی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ حضرت تھانوی کے آخری شاگرد تھے۔ آپ نے درس نظامی کی مشہور بنیادی کتاب: "میزان الصّرف” حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (1863-1943ء) سے پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔

العِلْمُ زَيْن فَكُنْ لِلْعِلْمِ مُكْتَسِبَا ٭ وَكُنْ لَهُ طَالِبًا ما عِشْتَ مُقْتَبِسَا
ترجمہ: علم خوبی اور حسن وجمال ہے؛ چناں چہ علم ضرور حاصل کریں ٭ آپ طالب علم ہوجائیں، جب تک آپ زندہ ہیں علم حاصل کرتے رہیں ۔

حضرت خطیب الاسلامؒ کی ولات، بہ روز: جمعہ، 8/جنوری 1926م =22/جمادی الاخری 1344ھ کو ہوئی۔ آپ تقریبا 94/سال کی عمر میں، بہ روز: سنیچر، 14/اپریل 2018م = 26/رجب 1439ھ کو اپنی جان مستعار، جاں آفریں کو سپرد کردی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دار العلوم، دیوبند کا مشہور احاطہ: احاطۂ مولسری ـــــ جو ایک مدت تک آپ کے اخلاص وللہیت، علم وعمل اور تعلیمی وتدریسی زندگی کا خاموش گواہ رہا ہے ـــــ میں رات کے دس بجے، آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ آپ کے صاحب زادے اوردار العلوم وقف دیوبند کے موقر رئیس حضرت مولانا محمد سفیان صاحب قاسمی –دامت برکاتہم– نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ہزارہا ہزار فرزندان توحید نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور نم آنکھوں سے "مزارِ قاسمی” میں، آپ کے والدِ بزرگوار: قاری محمد طیب قاسمی صاحبؒ اور جدّ امجد، امام محمد قاسم نانوتویؒ کی قبروں کے درمیان آپ کو سپرد خاک کردیا۔

وَإِذَا ذكَرْتُكَ مَيتًا سَفَحَتْ ٭ عَيْنِيْ الدُّمُوْعَ فَفَاضَ وَانْسَكَبَا
ترجمہ: جب بھی میں آپ کی وفات کا ذکر کرتا ہوں، میری آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور میں بکثرت روتا ہوں۔

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ

آسام رجسٹریشن آف سیٹیزنس: ریاست کی لا پرواہی کے آ گے سپریم کورٹ ناکام

آسام این آر سی سے چالیس لاکھ نام غائب:

ریاست کی لا پرواہی کے آگے سپریم کورٹ ناکام

ہاجیلا ٹیم نے آسام میں عوامی وسائل اور کاشتکاروں کے ساتھ بھونڈا مذاق کیا ہے

بقلم: محمدبرہان الدین قاسمی

ترجمہ: محمد جاوید اقبال

1985 میں اس وقت کے وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی اور آل آسام اسٹودینٹس یونین (آسو) کے مابین آسام اکارڈ قرار پانے کے تقریبا 33 سال بعد، نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنس (این آر سی) کے اسٹیٹ کو آر ڈی نیٹر پرتیک ہاجیلا نے این آر سی کا مکمل مسودہ جاری کیا۔ مئی 2015 کے بعد سپریم کورٹ کی سخت ہدایت کے پیش نظر چار سالوں کی چھان بین کے بعد 30 جولائی 2018 بروز پیر این آر سی کا فائنل ڈرافٹ شائع کیا گیا۔ریاست کے نظر ثانی شدہ این آر سی کا پہلا ڈرافٹ 31 دسمبر 2017 کی آدھی رات کو جاری کیا گیا تھا جس میں 1.90 کڑور نام شامل تھے۔بقیہ تمام مستند اور تصدیق شدہ شہریوں کے نام اس دوسرے اور مکمل مسودے میں شائع ہوئے ہیں جو 3.29 کڑور عرضی گزاروں میں سے صرف 2.89 کڑوں لوگوں پر مشتمل ہےجبکہ 40 لاکھ لوگ اس فہرست سے تاحال خارج ہیں۔

دعوؤں اور اعتراضات کے مکمل جائزے کے بعد این آر سی کی ترمیم شدہ حتمی فہرست کا آنا ابھی باقی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس کی حتمی تاریخ طے نہیں کی ہے لہذا فی الواقع ایسا کب ہو پائے گا کچھ کہا نہیں جا سکتا۔تاہم سپریم کورٹ نے معاملہ کی سنگینی کی جانب دوسری بار اشارہ کرتے ہوئے مورخہ 31 جولائی 2018 کے اپنے حکم نامے میں بی جے پی کی قیادت والی ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو 16 اگست 2018 کو دوپہر 2 بجے تک این آر سی کی مکمل لسٹ کے حوالے سے معیاری طریقہ کار (اسٹنڈرڈ آپریشنل پروسیجر) پیش کرنے کو کہا ہے ۔31 جولائی 2018 کے حکم نامے میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر حالیہ مسودے کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی حیثیت کے بارے میں یہ کہا ہے کہ "اس سلسلہ میں عدالت کا موقف یہ ہے کہ جو کچھ شائع ہوا ہے وہ این آر سی کا مسودہ ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ بحیثیت مسودہ یہ کسی بھی ادارے کے لیے کسی طرح کی کارروائی کی بنیاد نہیں بن سکتا”۔

مسودے کی ترتیب کے دوران ریاستی حکومت کی بے ضابطگیوں کو دیکھتے ہوئے مستقبل قریب میں ایک درست اور قابل قبول فیصلہ کن لسٹ کے امکانات بہت کم ہی ہیں،الا یہ کہ سپریم کورٹ بذات خود آسام میں تمام ساز و سامان کے ساتھ پروفیشنل شمار کنندگان کی ٹیم بھیج کر اسے یقینی بنائے۔اب ریاست کی سخت کوشی بھی فہرست کے جاری ہونے کے بعد کھلے طور پر سامنے آ چکی ہے۔اس صورت حال میں شاید وہ لوگ کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں جو2016 میں لوک سبھا میں پیش ہونے والے بھاجپا قیادت والی موجودہ مرکزی حکومت کے شہری ترمیمی بل تک معاملے کو طول دینا چاہتے تھے۔

مذکورہ بل جو 15 جولائی 2016 کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا کا مقصد سیٹیزن شپ ایکٹ 1955 میں ترمیم کرنا تھا تاکہ افغانستان ،پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہوئے مسلمانوں کے علاوہ دیگر غیر قانونی مہاجرین کو مذہب کی بنیاد پر شہریت عطا کی جا سکے۔ سوائے بی جے پی کے جو 2016 سے آسام میں بر سر اقتدار ہے،تمام آسامی باشندگان نے،خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم جیسےآسام اکورڈ کی موسس آسو ،اے جی پی، کانگریس اور مولانا بدرالدین اجمل کی قیادت والی اے آئی یو ڈی ایف سب نے یکساں طور پر اس بل کی پرزور مخالفت کی ہے۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق ہندستانی ریاست آسام میں مسلمانوں کی کل تعداد1.06 کروڑ تھی جو ریاست کی مجموعی آبادی کا 34.22 فیصد ہے۔تقریبا نو اضلاع میں مسلمان اکثریت میں ہیں خصوصا براک ویلی میں کچھاڑ،کریم گنج ،ہیلا کنڈی ، نشیبی آسام میں دھوبڑی ،گوالپاڑا اور برپیٹا جبکہ ریاست کے مرکزی خطے میں نوگاؤں ،موری گاؤں اور ہوجائی وہ اضلاع ہیں جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔اگر فیصد ی تناسب کا لحاظ کیا جائے تو بھارت میں جموں وکشمیر کے بعد یہ مسلمانوں کی دوسری بڑی اکثریت قرار پاتی ہے۔ریاست آسام،شمال مشرق ہندوستان میں، 33 اضلاع ، مجلس قانون ساز کے 126 انتخابی حلقوں اور قومی پارلیامنٹ کے 14 حلقوں پر مشتمل ہے۔

آسام میں نئی این آر سی کیوں؟

روزنامہ انڈین ایکسپریس میں مورخہ 1 اگست 2018 کو ایک مضمون شائع ہوا ،جس میں فاضل مضمون نگار ادریجا رائے چودھری لکھتی ہیں "ما قبل آزادی زمانے میں ہی مہاجرین کے مسئلے نے آسام میں سماجی تعلقات میں کھٹاس پیدا کردی تھی۔ آسام میں مردم شماری کا مطالعہ کرنے والے امریکی سیاست داں مائرن وینیئر نے 1891 کی مردم شماری کے خاکے کو بنیاد بناتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ مہاجرین اور ان کی نسل کی تعداد 8.5 میلین ہے جبکہ اس کے برخلاف مقامی باشندوں اور ان کی نسل کا تخمینہ 6.5 میلین ہے۔آزاد ہندستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد 1979 تک جب کہ آسام موومنٹ شروع ہوا اس معاملے سے بے رخی برتی گئی ۔لمبے عرصے تک جس چیز نے مہاجرین کے مسئلے کو حاشیے پر رکھا وہ در اصل سماجی رسہ کشی کے حدود کی تعیین میں لسانی مسئلے(بھاشا آندولن ) پر مرکوزیت ہے ۔

” اگرچہ گاہے گاہے مہاجرین کا تنازع زیر بحث آتا رہا لیکن یہ 1979 کی بات ہے جب اس مسئلے نے مستقبل کے لیے مذہبی اور سماجی مراسم کا ایک نیا ڈھانچہ پیش کرکے ریاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔”اس سے وہ صحت مند سماجی تعلقات برہم ہوئے جن کی نشو نما بہ صد اہتمام ہوپائی تھی اور جو ریاست میں سیاسی استحکام کی بنیاد ہواکرتی تھیں،نتیجتا سیاسی کشمکش کا ایک طویل دور شروع ہوا،” ماہر سیاسیات سنجیب باروا نے اپنی کتاب Immigration, Ethnic Conflict and Political Turmoil- Assam 1979-1985(ہجرت، سماجی رسہ کشی اور سیاسی کشمکش-آسام 1985-1979)میں ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔

1979 سے 1985 کے دوران مرکزی آسام کے علاقے نیلی میں ایک بھیانک فساد برپا ہوا جو18 فروری 1983 کی صبح کو 6 گھنٹے تک جاری رہا۔اس قتل عام میں نو گاوں ضلع کے نیلی اور گردونواح کے 14 گاؤں کے 2191 لوگ ہلاک ہوئے (واضح رہے غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 10000 سے متجاوز ہے )۔ہلاک شدگان مشرقی بنگال کے وہ مسلمان تھے جن کے آبا ء واجداد نے ما قبل تقسیم برطانوی ہندوستان میں یہاں نقل مکانی کی تھی۔ذرائع ابلاغ سے وابستہ تین افراد انڈین ایکسپریس کے ہمیندر ناراین ،آسام ٹریبیون کے بیدابرتا لکھر اور اے بی سی کے شرما اس واقعہ کے گواہ تھے۔یہ متاثرین ان لوگوں کی آل و اولاد تھے جو بیسویں صدی کے پہلے عشرے میں برٹش انڈیا کے تحت چلنے والی اس وقت کی آسام حکومت کی راست تولیت کی بنیاد پر آسام آئے تھے۔(ویکیپیڈیا ، آزاد دائرۃ المعارف)

نیلی میں رونما ہونے والا یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب آسام ایجی ٹیشن عروج پر تھا اور اسے ریاست میں رہنے والے بنگالیوں کے خلاف آسوکی زیر قیادت علاقائیت پسند نام نہاد آسامیوں نے انجام دیا تھا۔”اس واقعہ کو جنگ عظیم دوم کے بعد بدترین اقلیت کشی کا نمونہ قرار دیا گیا ہے”(ویکیپیڈیا)

بعد ازاں اس یقین دہانی کے ساتھ آسام اکارڈ قائم ہواکہ ” حکومت واقعی آسام میں غیر ملکی باشندوں کے مسئلے کا اطمینان بخش حل تلاش کرنے کے سلسلے میں سنجیدہ ہے”چنانچہ آسام میں مہاجرین کے مسئلے کے حل کے لیے قراردادوں کی ایک لسٹ مرتب کی گئی۔

آسام اکارڈ میں ایک مرکزی نقطہ یہ بھی تھا کہ آسام میں پہلی این آر سی جسے 1951کے آل انڈیا سینسس کے موافق ترتیب دیا گیا تھا کی بیناد پر ایک نئی ترمیم شدہ این آر سی تیار کی جائے ۔اس نئی این آر سی میں اندراج کے لیے دو شرائط درکار تھے(الف) لیگیسی ڈاٹا (موروثی کاغذات) (ب)یا 24 مارچ 1971 کی آدھی رات تک تسلیم شدہ دستاویزات میں سے کسی ایک میں متعلقہ شخص کا نام موجود ہونیز متعلقہ شخص سے اس کی وابستگی ثابت ہوتی ہو۔”دستاویزات مثلا 1951 این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنس) اورمحکمہ انتخاب کے 24 مارچ 1971 کی آدھی رات تک کے ریکارڈ مجموعی طور پر لیگیسی ڈاتاکہلاتے ہیں”(http://nrcassam.nic.in)

این آر سی فائنل ڈرافٹ اور وزیر اعلی آسام

آسام کے وزیر اعلی سروا نند سونووال نے 30 جولائی سے پہلی شام کو گواہاٹی میں ایک کل جماعتی میٹنگ کے بعد میڈیا کو اہم بیانات دیے ۔انھوں نے کہا "آج ہم نے حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کے ساتھ ایک کل جماعتی میٹنگ کا انعقاد کیا ہے ۔ این آر سی ڈرافٹ کا جاری ہونا آسام میں ہم تمام لوگوں کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ این آر سی کی تجدید کلی طور پر سپریم کورٹ کی دیکھ ریکھ میں انجام دی گئی ہے۔کسی کو بھی اسے آسام میں مذہبی یا لسانی تفریق کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے۔جو لوگ اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی یا سماج میں رخنہ اندازی کی کوشش کریں گے ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائےگا”۔

وزیر موصوف نے طےشدہ مزید تین اہم معاملوں کی وضاحت بھی کی جن پر 29 جولائی 2018 کی کل جماعتی میٹنگ میں مشاورت کے بعد فیصلہ لیا گیا۔انھوں نے کہا:

1. یہ این آر سی کا محض ایک کامل مسودہ ہے جو کل پیش ہونے والا ہے، کوئی حتمی فہرست نہیں ہے۔حتمی فہرست بقیہ تمام کارروائیوں کے بعد جاری کی جائے گی۔

2. جن لوگوں کے نام اس ڈرافٹ میں درج نہیں ہیں انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،انھیں فہرست میں اندراج کے لیے این آر سی حکام کی ہدایات کے مطابق دوبارہ دعوی کرنے کا اختیار ہے۔انھیں ایسا کرنا چاہیے اور صوبائی حکومت ،سیاسی جماعتیں اور غیر سرکاری تنظیمیں ان کا مناسب انداز میں تعاون کریں گی۔

3. جن لوگوں کے نام اس مکمل ڈرافٹ سے خارج ہوں گے انھیں غیر ملکی قرار نہیں دیا جائے گا؛ انھیں حراستی مراکز میں نہیں رکھا جائے گا اور نہ ہی وہ ہندستانی شہریوں کو ملنے والےکسی بھی حق سے محروم کیے جائیں گے۔

این آر سی پر اےآئی یو ڈی ایف کا موقف

آسام کے بڑے سیاسی اور مذہبی لیڈر ،صدر آل انڈیا یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ ،ممبر آف پارلیامنٹ (دھوبڑی) اور مسلمانان ہند کی سب سے بڑی تنظیم جمعیۃ علمائے ہند کی صوبائی شاخ کے صدر مولانا بدرالدین اجمل نے بھی 29 جولائی 2018کو تمام شہریوں سے اپیل کی تھی کہ خبروں اور افواہوں کے حوالے سے چوکنا رہیں۔ انھوں نے کہا کہ” ہم نےآسام کے سبھی اضلاع میں اے آئی یو ڈی ایف کے رضاکاروں کو پابند کردیا ہے کہ وہ ان اصلی باشندوں کے ساتھ جن کے نام کسی وجہ سے اس مکمل مسودہ میں ممکنہ طور پر درج نہ ہو پائے ہوں قانونی چارہ جوئی میں تعاون کریں ۔ہمارے وکلاء اور مقامی کمیٹیاں ضرورت مند لوگوں کی مددکے لیے بلو پرنٹ (مفصل خاکے) کے ساتھ مستعد ہیں۔”

مولانا اجمل نے ڈرافٹ کی اشاعت سے ایک روز قبل پورے وثوق سے کہا تھاکہ 30 جولائی 2018 کو این آر سی کامکمل ڈرافٹ جاری ہونے کے بعد آسام کے حالات پر امن رہیں گے۔ انھوں نے کہا: ” ہم آسام والےامن پسند لوگ ہیں ،ہمارے شہری برے وقتوں میں بھی آپسی اتحاد اور امن قائم رکھنے کے تئیں کافی با شعور واقع ہوئےہیں”۔

تاہم ،مولانا اجمل نےجو آسام اسمبلی میں 13 ممبران اور لوک سبھا میں بشمول خود تین نشستیں رکھنے والے ایک لیڈر ہیں 30 جولائی کو مکمل این آر سی ڈرافٹ کی اشاعت کے چند گھنٹو ں بعد اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ” 40 لاکھ لوگوں کے نام مکمل ڈرافٹ سے حذف کردیے گئے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے،سسٹم میں کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے”۔انھوں نے فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فائنل رجسٹر میں اپنے نام درج کرانے کے لیے غریب لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کیسے بار بار اپنا اعتراض درج کرانے اور دعوے دائرکرنے کے لیے آفسوں کے چکر لگائے گی۔ "اقلیتوں کی کثرت والے اضلاع کےرجسٹروں سے اتنی تعداد میں ناموں کاغائب ہونا ایک سازش بھی ہوسکتی ہے تاکہ سیاست کے میدان میں مسلمانوں کی نمائندگی کو گھٹایا جاسکے”۔ ان خدشات کا اظہار مولانا اجمل نے 30 جولائی کی شام کو گواہاٹی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔

این آر سی کے عمل میں خدشات

مولانا اجمل کے ذریعے ظاہر کیے گیے خدشات قابل توجہ ہیں ۔ ہندستانی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ڈرافٹ جاری ہونے کے بعد یہ مسئلہ گونجتا رہا۔مغربی بنگال کی وزیر اعلی محترمہ ممتا بنرجی کی طرف سے این آر سی کی کارروائی میں دھاندلی کے خدشہ کا اظہار اور سلچر(جو کہ آسام کے ان علاقوں میں سے ہے جہاں بنگالیوں کی تعداد زیادہ ہے) کی کانگریس ایم پی محترمہ ششمتا دیو کے اعتراضات اس پوری کارروائی اور اس کے طریقہ کار پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔این آر سی آسام کے کو آر ڈی نیٹر مسٹر پرتیک ہاجیلا اپنی ذمہ داری کو خوش اسلوبی کے ساتھ نبھانے میں ناکام رہے۔

اس حوالے سے ماضی میں بھی کچھ اہم سوالات اٹھتے رہے ہیں کہ آخر کیسے ایک جانے مانے مجاہد آزادی ،آسام اسٹیٹ کونسل نیز اسٹیٹ اسمبلی کے، 1937 سے 1946 تک،اولین دپٹی اسپیکر مولانا محمد امیر الدین کی حقیقی اولاد کو غیر ملکی ہونے کا طعنہ دیا گیا اور وہ سالہا سال سے فارنر ٹریبیونل کورٹس کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ 12 جولائی 2018 کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو متوجہ کرتے ہوئے آواز پٹیشن آن لائن داخل کی گئی جس میں 29 جولائی تک، ڈرافٹ جاری ہونے سے پہلے، 7.5لاکھ دستخط ہو چکے تھے اور بعدہ1 اگست تک، فائنل ڈرافٹ جاری ہونے کے بعد، دستخطوں کی تعداد 816500ہوچکی ہے، اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ” این آر سی کی اشاعت سے بڑے پیمانے پر تشدد پھیلےگا ، نسل کشی ہوگی اور مسلم اقلیت کے لیے تاحیات جیل کی راہیں کھل جائیں گی”۔

آسام کانگریس نے الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنس کے اہل کاروں کے کام کاج میں مداخلت کررہی ہے۔ آسام پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ریپن بورا نے گواہاٹی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ” ہمیں خبر ملی ہے کہ این آر سی محکمہ کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق یا اپنے طور پر کام کرنے میں آجکل دشواری پیش آرہی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ این آر سی کی تجدید میں بی جے پی اپنے سیاسی مفاد حاصل کرنے کی خاطر دخل دے رہی ہے”۔(www.ummid.com 17 July, 2018)

نارتھ ایسٹ کے معروف انگریزی روزنامہ دی آسام ٹریبیون نے اپنی اشاعت مورخہ 28 جولائی 2018 میں گواہاٹی کی ایک سول سوسائٹی کی میٹنگ کی روداد شائع کی ہے۔جس کا عنوان ہے Public meeting calls for preparation of correct NRC ۔خبر میں بتایا گیا کہ :” اقلیتی طبقے کے بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ نئی این آر سی سے ان کے نام ایک سازش کے تحت ڈی ووٹرس کے زمرہ میں شامل کر لیے جاءنگے ۔حکومت کے کچھ لوگ نئی این آر سی کے عمل پر اپنے غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے عام لوگوں کو اکسا رہے ہیں۔”

ذرائع ابلاغ کے بڑے ادارے جیسے انڈیا ٹوڈے ،آؤٹ لوک اور فرنٹ لائن میگزن نے اپنی مسلسل کور اسٹوریز میں این آر سی کی کارروائی اور اس کے بعد پیش آنے والے مسائل پر عوامی خدشات کو بیان کیا ہے۔ اہم غیر سرکاری تنظیمیں جیسے جمعیۃ علمائے ہند،سیٹزن فار جسٹس اینڈ پیس اور کل آسام مسلم اسٹوڈنٹ یونین (آمسو) نے متواتر اعتراضات کیے ہیں اور این آر سی کارڈینٹر پرتیک ہاجیلا سے لے کر وزیر اعلی آسام سربانند سونووال اور گوورنر آسام سے لے کر مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ تک سب سے ملاقاتیں کیں اور اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیاکہ این آر سی کا عمل سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق انجام نہیں پا رہا ہےجس سے ڈرافٹ شائع ہوجانے پر مزید انتشار پیدا ہوسکتا ہے۔

30 جولائی 2018 کو این ار سی کے فائنل ڈرافٹ کی اشاعت کے بعد تمام خدشات درست ثابت ہوئے ۔ اگلی قسط میں ہم تجزیہ کریں گے کہ کس طرح مسٹر ہاجیلا کی ٹیم نے این آر سی کے معاملے میں باشندگان آسام کے خواب کو چکنا چور کیا ہے اور کیسے ایک تاریخی اقدام ریاست کی بد نیتی اور محکمہ کی لا پرواہی کی وجہ سے غارت ہوکر رہ گیا.

این آر سی ڈرافٹ پر کریڈٹ کی جنگ

2 جولائی 2018کو جاری ہونے والے سپریم کورٹ کے حکم نامے کے مطابق 30 جولائی 2018 کو این آر سی کا فائنل ڈرافت جاری ہوا۔بہر صورت سپریم کورٹ آف انڈیا ڈرافٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک فیصلہ کن موقف اختیار کرنے کی بنا پر شکریے کا مستحق ہے۔ این آر سی کی کارروائی جورسمی طور پر مئی 2015 میں ترون گوگوئی کی زیر قیادت کانگریس کے دورِحکومت میں شروع ہوئی تھی ، سپریم کورٹ کی مداخلت سے اس کا بمشکل 50 فیصد کام ہی سونووال کی قیادت والی بی جے پی دور حکومت کی چار سالہ مدت میں ممکن ہوپایا ہے۔ 12 دسمبر 2018 تک اس پوری کارروائی کے لیے مبلغ 1220.93 کڑور کا بجٹ منظور کیا گیا تھا۔چنانچہ آسام کے لوگ اس بنا پر تذبذب کا شکار ہیں اور وہ کوئی حتمی رائے اختیار کرنے میں پس وپیش میں مبتلا ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ آسام میں این آر سی کی کارروائی کا عملی تصور دراصل2005 میں منموہن سنگھ کی قیادت والی مرکزی حکومت اور آسام میں ترون گوگوئی کی حکومت نےآسو کے ساتھ ایک سہ فریقی میٹنگ کے بعد پیش کیا تھاجو باضابطہ طور پر 2010 میں متعارف ہوکر روبہ عمل ہوا۔تاہم آمسو اور کچھ دیگر اقلیتی تنظیمیں اس کے نہج سے مطمئن نہیں تھیں۔اس کی مخالفت میں انھوں نے احتجاج کیے جس کے نتیجے میں برپیٹا میں 4 مسلم طلبہ کو گولی مار دی گئی اور 50 سے زائد لوگ شدید زخمی ہوئے۔آسام حکومت کو عارضی طور پر این آر سی کی کارروائی روکنی پڑی۔انگریزی روزنامہ دی ہندو نے 22 جولائی 2010 کی اشاعت میں درج ذیل رپورٹ شائع کی۔”نشیبی آسام کے اقلیتی آبادی رکھنے والے علاقوں میں پولس کی فائرنگ میں مارے جانے والے چار طلبہ کی موت پر ایک ریاست گیر ہڑتال کے دوران فساد پھوٹ پڑا ۔ حکومت نےنیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) کی تجدید کا سلسلہ وقتی طور پر موقوف کردیا جس کی وجہ سے یہ تشدد رونما ہوا”۔

اس کے بعد آسام پبلک ورکس (اے پی ڈبلیو) بنام یونین آف انڈیا ودیگر، رٹ پٹیشن (سول)مرقومہ 274/2009 کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کئی آرڈر جاری کیا جس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے کہا گیا تھا کہ وہ این آرسی کی تجدید کاکام 2013 کے اندر اندر ایک متعینہ مدت میں مکمل کر لیں۔اس حکم نامے میں کورٹ نے یہ بات بھی کہی کہ وہ بذات خود آئندہ کارروائیوں کا جائزہ لیتا رہے گا نیز حکومتوں کوہدایت دی گئی کہ وہ کارروائی کا تفصیلی ڈھانچہ کورٹ کو پیش کریں۔” سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے آسام میں این آر سی کی تجدید کا کام دسمبر 2013 میں شروع ہوا جسے تین سال کی مدت میں مکمل ہوجانا ہے۔این آر سی کی تجدیدی کارروائی سپریم کورٹ کی مسلسل نگہ داشت میں ہورہی ہے اورکورٹ وقفے وقفے سے مختلف ہدایات بھی دے رہی ہے۔”(Press Information Bureau Government of India, Ministry of Home Affairs, 04-April-2018) تاہم حکومت ایک بار پھر عملاً دسمبر 2013 سے اس سلسلے کو شروع کرنے میں ناکام رہی اور یہ کام دوبارہ مئی 2015 سے گوگوئی کی قیادت والی کانگریس حکومت کے دوران سپریم کورٹ کی بار بار تلقین کے بعد شروع ہوا ۔

این آر سی کو آر ڈی نیٹر پرتیک ہاجیلااپنی ذاتی کدوکاوش کے لیے تعریف وتحسین کے مستحق ہیں ۔ان کی اجتماعی کاوش بہت بہتر ہوسکتی تھی۔مگر وہ ریاست کی لاپرواہی کے چلتے ناکام ہوگئے۔سخت گیری ، مداخلت اور غیر تربیت یافتہ بلاک آفیسرز نےہاجیلا کی کارکردگی کو متاثر کیا۔

آج جو مسودہ ہاتھ آیا ہے وہ ایک ملغوبہ ہے۔40 لاکھ متروک ناموں کو جانے دیجیئے ، ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ آخر حالیہ مسودے کی خامیوں کو وہ کیسے دور کریں گے!راقم الحروف نے صرف ایک ضلع کریم گنج کے سے اہل خانہ اور ان احباب کے ناموں کا جائزہ لیا جن کو فائنل ڈرافٹ میں جگہ دی گئی ہے مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اندراج شدہ لوگوں میں سے 86 لوگوں کے ناموں کا اندراج غلط ہے۔ان میں اسپیلنگ کی خامیاں، جنس کا تفاوت ،اور خاندانی رشتوں کا غلط اندراج شامل ہے ۔مثلاً بیوی،ماں،بیٹی ؛شوہر اور بیٹے کےنام اس فہرست میں بڑی لاپرواہی کے ساتھ جہاں تہاں درج کردیے گیے ہیں۔بلاشبہ یہ صورتحال مستقبل میں کسی ایسی فہرست کے مستند ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے درست اور مفیدہونے پر بھی سوالیہ نشان لگاتی ہے۔

این آر سی کا بنیادی مقصدیکبارگی تمام لوگوں کے لیے ایک ایسی فہرست مرتب کرنا تھا جس میں مارچ 1971 تک کے تمام مستند ہندستانی باشندے اور ان کی اولاد یں شامل ہوتیں نیز تمام غیر ملکی اس سے خارج ہوتے جس سے غیر ملکیوں اور غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کا قصہ ہمیشہ کے لیے آسام سے ختم ہوجاتا۔حالیہ مسودے نے اس مقصد کوبس جزوی طور پر حاصل کیا ہے؛اگر ریاست کی مشینری مزید پیشہ ورانہ طریقے سے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی تو اور بھی بہتر نتائج حاصل ہوسکتے تھے ۔

اس پس منظر میں بی جےپی صدر امت شاہ کا 31 جولائی 2018 کو راجیہ سبھا میں یہ کہتے ہوئے کہ ” کانگریس حکومت آسام میں این آر سی لانے کی جرات نہیں کر سکی ،جبکہ ہم اور ہماری حکومت نے ایسا کر دکھایا ہے”اپنا سینہ ٹھونکناقوم کے ساتھ ایک عدد بےجا مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔انھوں نے پارلیامنٹ کے ایوان بالا میں اپوزیشن جماعتوں سے یہ بھی پوچھا کہ” کیا آپ لوگ ان 40 لاکھ بنگلہ دیشیوں کو بچانا چاہتے ہیں جو این آر سی کی لسٹ سے خارج ہیں ؟” اس سے معلوم ہوتا ہے یا تو مسٹر شاہ آسام اور نئی این آر سی کی کارروائی سے قطعی نابلد ہیں یا پھر وہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کے پیش کررہے ہیں اور آسام کی اس صورتِ حال کا ملک میں سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

مشہور سماجی ،سیاسی اور تعلیم وتعلم کے شعبے سے وابستہ افراد کے علاوہ موری گاؤں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے موجودہ ممبر اسمبلی راماکانت دیوری اورسلچر سے بی جے پی کے موجودہ ایم ایل اے، اور سابق ڈپٹی اسپیکر دلیپ کمار پال کی اہلیہ ارچنا پال کے نام بھی آسام کے فائنل این آر سی کی فہرست سے خارج ہیں۔تو کیا بی جے پی کے قومی صدر مسٹر شاہ یہ تسلیم کرنے کو تیار ہیں کہ ان کے کم از کم ایک ایم ایل اے بنگلہ دیشی ہیں اور ایک دوسرے ایم ایل اے بنگلہ دیشی بیوی کے شوہر ہیں !یہ ناعاقبت اندیشی پر مبنی سیاست اور بے تکی بیان بازی کا نمونہ ہے۔

بات بی جے پی کی ہو یا کسی اور قومی یا علاقائی پارٹی کی، آسام کی اس نئی اور ہنوز نامکمل این آر سی کی تیاری میں کسی سیاسی پارٹی کا کوئی کردار نہیں ہے،بلکہ سیاست نے اس مسئلے کو اپنے اپنے رائے دہندگان کو بے وقوف بنانے کے لیے ہمیشہ طول دیا ہے۔اس کا سہرا اگر کسی کے سر جاتا ہے تو وہ صرف سپریم کورٹ آف انڈیا ہے جو لمبے عرصے تک اس کی برابر تلقین کرتا رہا۔خصوصاً جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس روہنٹن فالی نریمان؛اور آسام پبلک ورکس (اے پی ڈبلیو) کے رٹ پٹیشن کےاصل دعویدارپردیپ کماربھوئیاں جو اس معاملے کی پیروی2006 سے ہی کر رہے ہیں ۔

این آر سی کا فائنل ڈرافٹ آخر ہے کیا؟

40 لاکھ لوگوں کے ناموں کا این آر سی کے مسودے سے چھنٹ جانا واقعی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔این آر سی کوآر ڈی نیٹر پرتیک ہاجیلا نے 31 جولائی 2018 کو سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ وہ 30 اگست سے 28 ستمبر 2018 تک تیس دنوں کے اندر دعووں یا اعتراضات کی وصولیابی مکمل کر لیں گے۔یعنی مطلب یہ ہوا کہ وہ تیس دن کے اس دورانیے میں بلاناغہ حتی کہ اتوار کی بھی چھٹی کیے بنا یومیہ 1.33 لاکھ فارم کی کاروائی مکمل کرنے جارہے ہیں !اب تو مسٹر ہاجیلا ہی جانتے ہیں کہ اس گراں بار ذمہ داری کو اتنی کم مدت میں وہ کیسے انجام دیں گے۔یا پھر وہ ایک اور بے ڈھب قسم کی فائنل لسٹ منظر عام پر لانا چاہتے ہیں جو نہ صرف آسام بلکہ پورے ملک کے لیے مشکلات کا باعث ہوگی۔

این آر سی کے فائنل ڈرافٹ سے جو نمایاں نام غائب ہیں بر سبیلِ تذکرہ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔موری گاؤں حلقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے راماکانت دیوری، اسی طرح آسام اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور سلچر حلقے سے بی جے پی کے موجودہ ایم ایل اے دلپ کمار پال کی اہلیہ ارچنا پال، کچھاڑ کے کاٹی گورا حلقے سے ماضی میں دو بار ایم ایل اے رہ چکے مولانا عطاء الرحمٰن ماجھیر بھوئیاں، ابھیا پوری ساؤتھ (ایس سی) سے آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے ایم ایل اے اننت کمار مالو، نیز انڈین آرمی کے رٹائرڈ صوبے دار اجمل حق اور سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر فخرالدین علی احمد کے بھتیجے ضیاء الدین علی احمد وغیرہ ۔

کچھ ایسے بھی معاملات سامنے آئے ہیں جن میں غلطی کرنے کی کوئی تک نہیں ہے۔ این آر سی کے بنیادی مقصد کو حاصل کرنے کے لیےان دفتری اغلاط سے بچا جا سکتا تھااور حصول مقصد کے لیےاصلی شہریوں کے نام مسودہ مین شامل کر کے اس عمل کو بہتر بنا یاجاسکتا تھا۔ ہوجائی سے تعلق رکھنے والا میرا ایک شاگرد جس کی عمر 26 سال ہے اس کتربیونت کی وجہ سے پریشان ہےکیونکہ ان کی والدہ کا نام این آر سی کے فائنل ڈرافٹ سے غائب ہے۔

ایک 48 سالہ خاتون پھول جان بیگم کےمیکے والوں میں سےان کےوالد ،والدہ،بھائی اور بہنیں فہرست میں شامل ہیں ۔اسی طرح سسرالی رشتے میں ان کے شوہر ،بچے اور بچیوں کے نام بھی فائنل ڈرافٹ میں موجود ہیں ۔مزید براں ان کا اپنا نام بھی لنکیج ڈاٹا میں بیٹی ،بیوی اور ماں کی حیثیت سے اس نئی این آر سی لسٹ میں کئی جگہ مذکورہےمگر بحیثیت ایک شہری ہونے کے ان کا نام ڈرافٹ سے چھانٹ دیا گیا ہے!یہ بڑے اچھنبے کی بات ہے ۔گویا ان کی چاروں نرینہ اولادیں ان کی وساطت کے بغیر یاتو براہ راست آسمان سے ٹپکے تھے یا پھر انھوں نے اپنے ان بچوں کو جو اس وقت بڑے ہوچکے ہیں اور ہندستان کے شہری بھی ہیں کہیں پردیس میں جنا تھا۔دونوں صورتیں بدیہی طور پر غلط ہیں۔لیکن بھارت کی ریاست آسام میں 30 جولائی کو اشاعت پذیر مکمل این آر سی ڈرافٹ میں یہ لغو واقعہ پیش آچکا ہے۔

انڈین ایکسپریس نےاپنی 30 جولائی کی آن لائین اشاعت میں آسام کے برپیٹا ضلع سے ایک معاملہ کی خبر شائع کی ہے۔اس طویل مضمون میں بھانت بھانت کی بے ضابطگیوں کا ذکر ہے جن میں سے ایک کا احوال کچھ یوں ہے:”بوہوری ٹاؤن برپیٹا سے تعلق رکھنے والے فرہاد بھوئیاں جیسے بہت سے لوگ صبح سویرے این آر سی سیوا کیندر (این ایس کے) میں جمع تھے۔ بھوئیاں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ وہ چار افراد پر مشتمل اپنے کنبے کا تنہا فرد ہے جس کا نام لسٹ سے غائب ہے۔” جنوری میں جب پہلا ڈرافٹ شائع ہوا تھا ،ہم میں سے کوئی بھی اس میں شامل نہیں تھا۔بظاہر ایسا لگتا تھا کہ میرے والد کے نام میں املا کی غلطی سے ایسا ہوا ہے۔پھر مجھے نئے سرے سے تصدیق کرانےکو کہا گیا،تب میں نے تمام ضروری دستاویزات جمع کر دیےحتی کہ میرے والد کی شناخت کے لیے تین معمر شہریوں کی گواہی بھی پیش کی گئی ۔افسران نے مجھے یہاں تک کہا تھا کہ میں اس حوالے سے فکر نہ کروں۔اس کے باوجودآج کی لسٹ میں میرا نام موجود نہیں ہے”۔ بھوئیاں کو یقین ہے کہ کسی تکنیکی خامی کی وجہ سے اس کا نام لسٹ میں نہیں آسکا مگر پھربھی وہ پریشان ہے۔ بھوئیاں نے کہا”میرا خاندان اٹھارویں صدی میں آسام آیا تھا ۔مجھے یقین ہےمیں ایک ہندستانی شہری ہوں ،مگر پھر کوئی تکنیکی خامی واقع ہوگئی تو کیا ہوگا۔اس کا کہنا ہے کہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں”۔

میرے دفتر میں آسام سے تعلق رکھنے والے پانچ نوجوان ہیں ۔ان میں سے تین فائنل این آر سی ڈرافٹ سے متائثر ہیں ۔کریم گنج آسام کے رہنےوالے شمیم احمد عمر 28 سال کے دو ماوؤں سے 6 بھائی اور 3 بہنیں ہیں۔شمیم احمد کے سوا اس کی فیملی کے سبھی افراد بشمول اس کے چچا اور ان کی اولادوں کے نام فہرست میں شامل ہیں، حالانکہ اس کے پاس سال گزشتہ کا بنا ہوا پاسپورٹ بھی ہے۔بدرپور کے دلاور حسین عمر 22 سال 6 لوگوں کی فیلمی میں اپنی والدہ اور چھوٹی بہن کے ساتھ فہرست سے خارج ہیں۔اس کے والد ، ایک چھوٹا اور دوسرا بڑا، دو بھائی این آر سی ڈرافٹ میں جگہ پائے ہوئے ہیں۔ضلع کریم گنج آسام کے بدرپور کےایک اور باشندے انوار حسین عمر 23 سال کے گھر پر دو بھائی ،دو بہنیں اور والدین ہیں۔سات افراد پر مشتمل اس کی فیملی کے 6 لوگ بشمول حسین کےنام فائنل ڈرافٹ میں موجود ہیں مگر اس کی دس سالہ چھوٹی بہن شرمین بیگم ہی صرف این آر سی کے مقامی حکام کے شرائط پر پورا نہیں اتر پائی ،اسی وجہ سے اس خورد سال بچی کو فہرست سے خارج کردیا گیا ہے، ممبئی میں قیام پذیر جواں سال حسین کے لیے یہ سخت اضطراب کا باعث ہے۔

یہ چند مثالیں تھیں جن میں مخصوص افراد خانہ کے نام این آر سی ڈرافٹ میں نہیں آ سکے ہیں اور اس کی وجہ ظاہر ہے اندراج کنندگان کی کاہلی اور دفتری لاپرواہی ہے ورنہ ایک دس سالہ بچی شرمین بھلا کیسے لسٹ سے خارج ہوسکتی تھی جبکہ اس کے والدین اور دیگر بھائی بہنوں کے نام فہرست میں موجودہیں۔ دوسری طرف، این آر سی ڈرافٹ میں بعض اندراجات کی صورت حال بھی کافی مضحکہ خیز ہے۔

محمد عزیز الرحمٰن نامی ایک شخص کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔یہ سارے بچے بڑے ہیں ،ان کی اپنی فیملی اور بچے ہیں۔ این آر سی کی ہدایات کے مطابق ان چاروں لڑکوں نے الگ الگ اپلیکیشن رجسٹریشن نمبروں کے تحت درست کاغذات منسلک کرکے درخواستیں جمع کیں ۔چونکہ ان سب کے والد ایک ہی شخص ہیں تو لا محالہ انھوں نے اپنے والد سے وابستہ ایک جیسے کاغذات ہی لنکیج ڈاٹا اور لیگیسی ڈاٹا کے طور پر الگ الگ نمبروں والی درخواستوں کے ساتھ منسلک کیے۔این آر سی ڈرافٹ میں ان کے نام بشمول تمام افراد کنبہ کے شامل کیا گیا ،تاہم ان کے والد محمد عزیز الرحمٰن کا نام مذکورہ چاروں مقامات میں الگ الگ طریقے سےظاہر ہوا ہے۔ ایک جگہ یہ نام Azizul Rehaman ہے ، دوسری جگہ Azizur Rahman ہے Mohammad کے بغیر ،تیسری جگہ Mohamed Ajijulہے Rahmanکے بغیرساتھ ہی لفظ Azizur، Ajijul سے بدل گیا ہے؛چوتھی جگہ یہ نام Ajijul Haq لکھا گیا ہے ،گویا پورا نام ہی بدل دیا گیا!ایسا لگتا ہے کہ فاضل محرر نے قسم کھا رکھی تھی کہ وہ ان کے والد کے نام کے ساتھ جدت طرازی سے کام لیں گے اور چاروں مقامات پر نت نئے نام شامل کر کے ہی دم لیں گے۔ اب ان کی اولاد کو اصلاح کی کوئی شکل نکالنی ہوگی ،کیونکہ یہ آئندہ ان کے لیے دقت کا باعث ہو سکتا ہے۔انھوں نے درخواست کرتے وقت مقامی این ایس کے میں حکام کے پاس اپنے والد اور دادا دادی سے وابستہ کاغذات جمع کردیے تھے جن میں صاف طور پر ان کے والد کا نام Mohammad Azizur Rahman درج ہے۔

آسام کے رہنے والےفیس بک پر میرے ایک دوست ،سیمی نان،(سمیر) تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :” فائنل ڈرافٹ میں میری والدہ اور دوبھائیوں کے نام تو شامل ہیں البتہ میرے نام کو اس میں جگہ نہیں مل سکی۔لگتا ہے میں غیر فطری طریقے سے اس خاندان کا حصہ بنا تھا۔مزید برآں میرے بڑے بھائی کے نام میں نیز سارے القاب میں غلطیاں در آئی ہیں۔چنانچہ ہندستان کا ایک اصلی باشندہ ہونے کے باوجود، خود کو شہری ثابت کرنے کے لیےمجھے اب مزیدبے جا بھاگ دوڑ کرنی پڑے گی ،حالانکہ اس کے لیے صرف اور صرف این آر سی کی ٹیم کی عاجلانہ اور غیر ذمہ دارانہ روش ذمہ دار ہے”۔

این ڈی ٹی وی انڈیا کی سیاسی مدیر اور Behind the Bar نامی کتاب کی مصنفہ سنیترا چودھری نے ٹویٹ کرکےکہا:

"میں نے سنا ہے کہ امت شاہ نے این آر سی آسام میں غیر مندرج لوگوں کو گھسپیٹھ یا انفلٹریٹرس کہا ہے۔تو کیا میرے کزن جو گواہاٹی میں ایک بڑے ڈاکٹر ہیں، ان کی والدہ اورمیرے چچا جو تیز پور میں ہیں سبھی اب اس لقب سے ملقب ہوگئے ؟اور یہ سب کچھ سارے کاغذات جمع کرنے کے باوجود ہوا! کیسی ذہنی اذیت ہے یہ؟”

اسی طرح بہت سے لوگوں کو لسٹ میں موجود اپنے ناموں میں غلط اسپیلنگ اور کچھ دوسرے قسم کی اغلاط کا سامنا ہے۔ ” کہیں کہیں ایک مرد کی تصویر کسی عورت کے نام کے ساتھ چسپاں ہے۔ القاب ،جنس ،خاندانی تعلقات سب خلط ملط کا شکار ہیں۔بلکہ کہیں تو نام کا صرف درمیانی یا آخری جز یا تنہا یک لفظی نام ہی لسٹ میں درج ہے۔حال یہ ہے کہ اگر ایک شخص دولت پور گاؤں کا باشندہ ہے تو اسے دھرمپور لکھا گیا ہے،”ان خیالات کا اظہار آسام کی سلمٰی نامی ایک خاتون نے انڈین ایکسپریس کے صحافی کے سامنے کیا۔

کتابت کی یہ اغلاط ایسی ہیں جو بالکل نا مناسب اور پیشہ وارانہ طور سے ناقابل قبول ہیں،نیز ان عوامل نے بلا وجہ ان لوگوں کے لیے بھی آفت کا سامان کیا ہے جن کے نام ڈرافٹ لسٹ میں شامل ہیں۔ڈرافٹ پر ایک نظر ڈالتے ہی محسوس ہوجاتا ہے کہ اس میں کتابت کی ایسی غلطیوں کی بھرمار ہے۔اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ریاست کی مشینری نے اس مہتم بالشان کارنامےکی تیاری میں کس سنجیدگی سے کام لیا ہے؟ محمد عزیز الرحمٰن کے معاملے کو ہی لے لیجیے، بھلا ایک نام میں چار چار بار غلطی کرنے کی کیا تک ہے؟

یہ صورت حال جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ان 40 لاکھ لوگوں کے بارے میں صاف طور پر اشارہ کرتا ہے کہ ایک بڑی تعداد ممکن ہے محض کلرک کی لاپرواہی کے باعث نظر انداز کردی گئی ہو۔اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ریاست نے سپریم کورٹ کو مایوس کیا ہے۔ ممکن ہے بلاک آفیسرز، ٹائپسٹس اور کلرکوں کی انہی بھونڈی غلطیوں کی وجہ سے ایسا ہوا ہو۔حکومت نے لاکھوں لوگوں کو مشکل سے دوچار اور کوفت میں مبتلا کردیا ہے۔انھیں ایک بار پھر سےلسٹ میں اپنے نام درج کرانے کے لیے نجانے کتنے دن، مہینے یا سال این آر سی دفاتر کے چکر لگانے پڑیں گے۔

آخر اس بد نظمی کے لیے ذمہ دار کون ہے؟ ذاتی اور عوامی وسائل کےاضافی اور غیر ضروری اخراجات کا بھگتان کون کرےگا؟ ساری کی ساری کارروائی غریب و سادہ لوح کسانوں کے لیے بہت ہی تکلیف دہ اورگراں رہی ہے۔ممبئی سے آل انڈیا علما کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمود دریابادی نے بجا طور پر اس پراز اغلاط لسٹ کے اسباب کی جانچ پڑتال کے لیے مکمل انکوائری اور خاطیوں کی سزا کا مطالبہ کیا ہے ۔مولانا دریابادی کا پریس کو دیا گیا بیان بڑے پیمانے پر 2 اگست کو اردو اخبارات نے نقل کیا ہے ،جس میں انھوں نے کہا۔”…. اضافی اخراجات کا بار آسام حکومت کے کارندوں کے ذمہ کیا جانا چاہئے جنہوں نے زمینی سطح پر یہ کام انجام دیا ،یا پھر وپرو کمپنی اس کی تلافی کرے جو این آر سی کی ویب سائٹ سنبھالتی ہے ، جیسا کہ اسے اس کی تجدید کے لیے سسٹم انٹگریٹر کی حیثیت سے مقرر کیا گیا ہے”۔ ڈاٹا انٹری کے کام میں وپرو کے عمال متعین ہیں جو این آر سی کو اپڈیٹ کرتے ہیں۔

دہلی سے آل انڈیا مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے بھی آسام میں 30 جولائی کو شائع ہونے والی این آرسی پر ایک مضمون رقم کیا ہے،جسے آنلائن پورٹل millattimes.com نے اسی شام کو شائع کیا ۔حامد صاحب نے اپنے مضمون کا عنوان لگایا ہے :

(NRC exercise in Assam is a fraudulent exercise to steal citizenship of genuine Indians)

"آسام میں این آر سی کی کارروائی اصلی ہندستانیوں سے حق شہریت سلب کرنے کی ایک پر فریب کوشش ہے”۔

پرتیک ہاجیلا کی ٹیم کے ذریعہ کیے گیے اس ادھوری کارروائی نے امید وبیم کے ماحول میں مزید مسائل پیدا کر دیے ہیں۔تا ہم آسامی عوام چاہتی ہے کہ این آر سی کی تجدید کا کام درست اور معیاری طریقے پرانجام دیا جائے ۔وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ وہ ہندو-مسلم ،آسامی-بنگالی اور علاقائیت پسندی کی سیاست سے اوپر اٹھ کر ترقی کے واقعی اسباب پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ماضی میں آسام نے کافی خوں ریزیوں کا مشاہدہ کیا ہے؛ اب یہ ریاست صرف امن اور اتحاد چاہتی ہےلیکن ایک صحیح اور مکمل این آر سی تمام آسامیوں کا درینہ خواب بھی ہے۔

مضمون نگار محمد برہان الدین قاسمی ایک آسامی نژاد اور ماہنامہ ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی کے ایڈیٹر ہیں

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنه سے آپ ﷺ کے نکاح کو لیکر کی ئے جانے والے اعتراضات کے سلسلہ میں ایک اہم تحقیق

✍🏻 محمد نعمان مکہ مکرمہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيِمِ.. الحَمْدُ لله رَبِّ العَالَمِينَ وَالصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ عَلَى أَشْرَفِ الخَلْقِ أَجْمَعِينَ وَخَاتَمِ الأَنْبِياءِ وَالمُرْسَلِينَ سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَأَتْبَاعِهِ بِإِحْسَانٍ إِلَى يَوْمِ الدِّيِنِ.

*کیا ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح حضرت محمد ﷺ کے ساتھ کم سنی میں ہوا تها……؟؟؟*
دشمنان اسلام خصوص" مغربی دنیا کے لوگ اس بات کو لیکر حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرتے نظر آتے ہیں. .. اور آپ ﷺ کے مبارک تقدس کو پامال کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں، جنکا دیکھا دیکھی آج کل ہندوستان کے کچھ تنگ ذہن، اسلام مخلاف لوگ بھی اس کو عنوان بنا کر مسلمانان ہند کے جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کررہے ہیں.. جس کو سن کر مسلمان بہت زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں اور شان اقدس میں ہونے والی گستاخی کو برداشت نہیں کرپاتے، مگر اس کے باوجود اس اعتراض پر اپنے آپ کو لاجواب محسوس کرتے نظر آتے ہیں.. اور بعض مسلمان خود حیران ہوکر اس پر سوال کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے امی عائشہ سے اتنی کم عمری میں نکاح کیوں کیا تها….؟؟؟
آگے جو تحقیق اور حقائق آپکے سامنے پیش کیئے جارہے ہیں اسے پڑھ کر آپکے سارے اشکال دور ہوجائیں گے ان شاءالله، اور آپ خود اپنے دوسرے مسلم اور غیر مسلم بھائیوں کی غلط فہمی کو دور کر سکتے ہیں، یہ تحریر بڑی محنت سے تیار کی گئی ہے اسکو کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھیں تاکہ پوری زندگی آپکو اس عنوان کے متعلق تذبذب میں مبتلا نہ ہونا پڑے. عنقریب اسکا انگریزی میں ترجمہ بھی پیش کیا جائے گا ان شاءالله، جسکو آپ اپنے غیر مسلم دوستوں کے ساتھ بھی شیر کرسکتے ہیں..
بوقت ضرورت مقررین حضرات بھی اس تحقیق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو اس کے متعلق بتا سکتے ہیں، جو کہ اسوقت مسلمان ، خصوصا" دنیوی پڑھے لکھے طبقے کے ایمان و عقائد کی سلامتی کے لئیے ضروری ہے…..

صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایات سے پتا چلتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنه کا نکاح انکی چھ سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی کے وقت انکی عمر شریف نو برس کی تھی. { رواه البخاري (3894) ومسلم (1422) }..
یہ ساری روایات صحیح ہیں انکی صحت پر کلام نہیں کیا جاسکتا.
اس بات کو مغربی میڈیا نے کئی دفعہ mispresent کرکے عوام کے دلوں میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے متعلق بدگمانی پیدا کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے. ..
جس کی وجہ سے بعض لوگ حیرانی اور تعجب سے پوچھتے ہیں کیا محمد ﷺ نے ایک بچی سے نکاح کیا تھا…؟؟؟

آئیے دیکھتے ہیں کہ اسکی کیا حقیقت ہے…..
اس نکاح کے پیچھے کیا حکمت تھی…؟؟؟
1400 سو سال پہلے کیا یہ عام سی بات تھی. ….؟؟؟؟
اسکا جواب دینے کے لئیے ان روایات کی صحت پر کلام کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسکو تاریخی پس منظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے…

*اہم نکتہ*:-
وقت کے ساتھ ساتھ انسانوں کی غذا اور انکے کے استعمال کی چیزوں میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور اسی طرح انسانوں کے اندر بھی جسمانی تبدیلیاں ( Anatomical and Physiological Changes ) ہوئی ہیں…
1400 سال پہلے اتنی کم عمری میں شادی ہونا ایک عام سی بات تھی… اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یورپ، ایشیاء، افریقہ اور امیریکہ میں 9 سال سے 14 سال کی لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی تھیں. ..

مثال کے طور پر سینٹ آگاسٹین Saint Augustine ~ 350 AD نے جس لڑکی سے شادی کی اسکی *عمر 10 سال* تھی. .

راجا ریچرڈ 2 ، KING RICHARD-II 1400 AD
نے جس لڑکی سے شادی کی اس کی *عمر سات سال* کی تھی. .
ہینری 8 ، HENRY 8 نے ایک *6 سال* کی لڑکی سے شادی کی تھی. .
یہاں تک کہ عیسائیوں کی پڑھی جانے والی آج کی موجودہ بائبل میں ہے.
In the book of Numbers, chapter 31 and verse 17

*" But Save for yourselves every GIRL who has never slept with a man "*
*" مگر ہر وہ لڑکی جو باکرہ ہے اسکو اپنے لیئے محفوظ کرلو"*

عیسائیوں کی کیتھولک ینسائکلوپیڈیا کے مطابق حضرت
عیسی علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم کا نکاح انکی 12 سال کی عمر میں 99 برس کے جوسف سے ہوئی تھی.

1929 سے پہلے تک برطانیہ میں، چرچ آف انگلینڈ کے وزراء *12 سال* کی لڑکی سے شادی کرسکتے تهے.

1983 سے پہلے کیتھولک کینان کے قانون نے اپنے پادریوں کو ایسی لڑکیوں سے شادی کرلینے کی اجازت دے رکھی تھی کہ جنکی *عمر 12* کو پہنچ چکی ہو.
بہت سارے لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ امیریکہ کے اسٹیٹ آف ڈیلیورا میں 1880 میں لڑکی کی شادی کی جو کم سے کم عمر تھی وہ *8 سال* تھی. اور کیلیفورنیا میں *10 سال* تھی. ..
یہاں تک کہ آج تک بھی امیریکہ کے کچھ اسٹیٹس میں لڑکیوں کی شادی کی جو عمر ہے، وہ *میسیچوسس میں 12 سال*، اور *نیوہیمسفر میں 13 سال* اور *نیویارک میں 24 سال* کی عمر ہے.
یہاں تک تو عیسائیت اور مغربی ممالک میں لڑکی کی شادی کی مناسب عمر اور وہاں کے معروف شخصیات کے متعلق تھا، جس سے یہ صاف ثابت ہوتا ہے کہ تاریخی نکتہ نظر سے اس عمر کی لڑکی سے نکاح کرنا ایک عام سی بات تھی اور اسکو کوئی معیوب نہیں سمجھتا تھا.

*ہندو مذہب میں شادی کی عمر* :
اب ہمارے ملک ہندوستان کے قوانین اور ہندو مذہب کی مقدس کتابوں پر نظر ڈالتے ہیں کہ ان میں لڑکی کی شادی کی مناسب عمر کے بارے میں کیا لکھا ہے. ؟
ہندو مذہب کی کتاب منوسمرتی میں لکھا ہے،
*" لڑکی بالغ ہونے سے پہلے اسکی شادی کر دینی چاہیے"*
( گوتما 18-21 )

*"اس ڈر سے کے کہیں ایام حیض نہ شروع ہوجائیں، باپ کو چاہئیے کہ اپنی لڑکی کی شادی اسی وقت کردے جب کے وہ بے لباس گھوم رہی ہو، کیونکہ اگر وہ بلوغت کے بعد بھی گھر میں رہے تو اسکا گناہ باپ کے سر ہوگا "*
واشستها ( 17:70 )
(manu ix, 88; http://www.payer.de/dharmashastra/dharmash083.htm)

  • *Age of Marriage in India*

*ہندوستان میں شادی کی عمر* :
اس کے متعلق کیمبرج کے سنٹ جانس کالج کے Jack Goody نے اپنی کتاب
*The Oriental, the Ancient and Primitive*
میں لکھا ہے کہ ہندوستانی گھروں میں لڑکیاں بہت جلدی ہی بیاہ دی جاتیں تھیں. .

سری نواس ان دنوں کے بارے لکھتے ہیں جب کہ انڈیا میں بلوغت سے قبل شادی کرنے کا رواج چلتا تھا..

(1984:11) : لڑکی کو اسکی عمر کو پہنچنے سے پہلے اسکی شادی کردینی ہوتی تھی؛ ہندو لا کے مطابق اور ملک کے رواج کے موافق لڑکی کے باپ پر یہ ضروری تھا کہ وہ بالغ ہونے سے پہلے اسکی شادی کردے، گرچہ کہ رخصتی میں اکثر تاخیر ہوتی تھی، جو تقریبا" 3 سال ہوتی تھی.
(The Oriental, the Ancient, and the Primitive, p.208.)

  • اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ ایسی کم عمری کی شادیوں کا انڈیا میں آج بھی رواج ہے.
  • *The Encyclopedia of Religion and Ethics*

میں لکھا ہے کہ، جس کی بیٹی اس حالت میں بلوغت کو پہنچتی تھی کہ وہ غیر شادی شدہ ہو تو اسکے (ہندو) باپ کو گنہگار سمجھا جاتا تھا ، اگر ایسا ہوتا تو وہ لڑکی خود بخود "سدرا" (نچلی ذات ) کے درجہ میں چلی جاتی تھی. اور ایسی لڑکی سے شادی کرنا شوہر کے لئیے باعث رسوائی ہوا کرتا تھا..

*منو* کی *سمرتی* نے مرد اور عورت کے لئیے شادی کی جو عمریں طے کی ہیں وہ اسطرح کہ، لڑکا 30 سال کا اور لڑکی 12 سال کی یا لڑکا 24 سال کا اور لڑکی 8 سال کی…
مگر آگے چل کر *بھراسپتی* اور *مہابهارتہ* کی تعلیم کے مطابق ایسے موقعوں پر (ہندو) لڑکیوں کی جو شادی کی عمر بتائی گئی ہے، وہ 10 سال اور 7 سال ہے، جبکہ اسکے بعد کے *شلوکاس* میں شادی کی کم از کم عمر 4 سے 6 سال اور زیادہ سے زیادہ 8 سال بتائی گئی ہے. اور اس بات کے بے شمار شواہد ہیں کہ یہ باتیں صرف تحریر میں نہیں تھیں ( یعنی ان پر عمل کیا جاتا تھا)
(encyclopedia of religion and ethics, p.450 ),

  • تو ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اپنی کتابوں کے مطابق بھی اس عمر میں شادی کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے، جو لوگ اسپر اعتراض کرتے ہیں یا تو وہ جہالت کی بنیاد پر کرتے ہیں یا سیاسی مفاد کی خاطر… انکو چاہئیے کہ پہلے تاریخ کا اور اپنی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کریں….

*1400 سال قبل ملک عرب میں*
بھی اس عمر میں لڑکی کی شادی کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا…
حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں جن لوگوں نے آپکے پیغام کو جھٹلایا تھا، انہوں نے ہر طریقے سے آپ ﷺ کو بدنام کرنے اور آپکو نیچا دکھانے کی کی کوشش کی. وہ ہر اس موقع کی تاک میں رہتے تھے کہ جس سے وہ آپ ﷺ کی شخصیت پر وار کر سکیں زبانی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی.
آپ ﷺ پر جو زبانی حملے کرتے تھے ان میں کبھی آپﷺ کو جادوگر کہتے تھے، کبھی آپکو کو جھوٹا کہتے تو کبھی آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے، نعوذ بالله من ذالك. مگر کبھی بھی ان لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنه سے آپکے نکاح کو لیکر اعتراض کریں یا طعنہ دیں، ایسا کیوں…؟؟؟
کیونکہ اسوقت انکے سماج میں یہ عام سی بات تھی. اور انکے نزدیک وہ کوئی ایسی عیب کی بات نہیں تھی کہ جس کو بنیاد بنا کر وہ آپ کو طعنہ دیتے….

*کیا آپ جانتے ہیں. ..؟*
کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ کے پہلے 54 سال تک صرف ایک ہی زوجہ محترمہ تھیں، وہ ام المومنین حضرت خديجة الكبرى رضى الله عنه تھیں.
کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ایک بیوہ عورت تھیں جن سے حضرت محمد ﷺ نے نکاح کیا تها؟؟؟؟؟
اور کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ سے عمر میں پندرہ سال بڑی تھیں. .؟؟؟
حضرت محمد ﷺ نے اپنی زندگی کے عین جوانی کے ایام صرف یہ ایک بیوی حضرت خدیجہ رضى الله عنه کے ساتھ گذارے ہیں جو آپ سے 15 سال بڑی تھیں…اور آپ ﷺ نے انکی وفات تک بھی ان سے تعلق رکھا اور یہاں تک کے انکی وفات کے بعد بھی انکے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور تعلق کو برقرار رکھا….

*أم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے آپکا نکاح:*
اللہ کے حکم پر آپﷺ نے أم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے نکاح فرمایا جب کہ انکی عمر مبارک 6 سال تھی، مگر اسی وقت رخصتی نہیں کی گئی، جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنه کی عمر 9 سال کی ہوئی تب آپکی رخصتی ہوئی.

اب سوال یہ ہے کہ، جس وقت آپکی رخصتی ہوئی ہے اسوقت کیا حضرت عائشہ ابھی نابالغ بچی تھیں….؟؟؟
نہیں بلکہ ملک عرب کے موسم اور وہاں کی ترتیب کے حساب سے وہ عمر بچیوں کی رخصتی کے لئیے قابل قبول عمر تھی…

*تاریخ اور جدید سائنس* : اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ بلوغت کی عمر مختلف زمانے اور مختلف علاقوں کے حساب سے مختلف ہوتی رہی ہے…
موجودہ سائنسی تحقیقات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ " لڑکیاں مکمل بلوغت کی عمر کو *9 سے 15 سال کی عمر* کے درمیان کسی بھی وقت پہنچ سکتی ہیں. "
( http://www.livescience.com/1824-truth-early-puberty.html )

*" The average temperature of the country is considered the chief factor with regard to Menstruation and Sexual Puberty"*
(Women : An Historical, Gynecological and Anthropological compendium, Volume I, Lord and Brandsby , 1998, p. 563)

ترجمہ : "کسی بهی علاقے کی بچیوں کے ایام حیض کے شروعات اور ازدواجی بلوغت کی عمر کو پہنچنے میں اس ملک کا اوسط" جو درجہ حرارت ہے، وہ اہم کردار ادا کرتا ہے."

ان سارے دلائل کی روشنی میں اگر اس واقعہ کو دیکھیں تو یہ اشکال کہ أمی عائشہ رخصتی کے وقت نابالغ بچی تھیں، بلکل ختم ہوجاتا ہے. اور ان سارے واقعات اور تاریخی پس منظر کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو کسی کو بهی اس نکاح پر اعتراض کرنے کا کوئی بھی موقع باقی نہیں رہتا….
ہاں! اگر کسی کے دل میں پہلے ہی سے مرض ہو تو اسے کوئی کچھ نہیں کرسکتا…
قوله تعالى:
﴿ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ﴾
سورة: (البقرة) الآية: (10)
"ان کے دلوں میں مرض تھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا."

*اس نکاح کی عظیم حکمت :*
تو اس نکاح کے پیچھے کیا حکمت تھی. ..؟؟؟
ہمارا خالق، ہم کو سب کو پیدا کر نے والا سب چیزوں کو سب سے بہتر جاننے والا ہے.
حضرت عاشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے آپ ﷺ نے نکاح، اللہ تبارک وتعالى کے حکم کی تعمیل میں کیا تھا.
( صحیح البخاری، جلد 5، کتاب 58، حدیث 235 )
سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنه نے، اللہ کے حبیب ﷺ کی 22000 سے زاید احادیث ہم تک پہنچائی ہیں. حضرت عائشہ رضی اللہ عنه غیر معمولی ذہین تھیں اور بہت بہترین قوت حفظہ کی مالک تھیں. اور چونکہ کم عمری میں ہی انکی شادی اللہ کے نبی ﷺ سے ہوگئی تھی، تو انہیں آپ ﷺ سے بہت سارا علم حاصل کرنے کا موقع مل گیا. جس کی بدولت آگے چل کر انہوں نے ایک بہت بہترین استاد، ماہر اور فقیہ کا کردار ادا کیا. تو اس شادی کے پیچھے بڑی حکمتیں پوشیدہ تھیں.
حضرت محمد ﷺ دنیا کی آسائش اور اسکی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کے لئیے دنیا میں تشریف نہیں لائے بلکہ آپنے ہمیشہ اپنے آپ کو دنیا کی زیب و زینت اور اسکی لذتوں سے دور رکھا، اور اپنی امت کو بھی اسکے دھوکے سے ڈرایا.
جتنے بھی نکاح آپ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں فرمائے وہ مردوں والے شوق کی شادیاں نہیں تھیں، بلکہ وہ حکم الہی اور حکمت خداوندی کی بنیاد پر تھیں..
ورنہ ایک ایسا حسین و جمیل، اجمل و اکمل، ابحا و انور، اعلی و انسب، تونا اور خوبصورت نوجوان، جس جیسا کسی کی آنکه نے نہ دیکها ہو، وہ اپنی عین بھر پور جوانی کے ایام اپنے سے 15 سال بڑی ایک ہی بیوی کے ساتھ کیسے گزاسکتا تها …؟؟
وأَحسنُ منكَ لم ترَ قطُّ عيني,
وَأجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النّسَاءُ.
خلقتَ مبرءاً منْ كلّ عيبٍ,
كأنكَ قدْ خلقتَ كما تشاءُ.
*آپﷺ جیسا حسین میری آنکھ نے نہیں دیکھا.*
*آپﷺ جیسا جمال والا کسی ماں نے نہیں جنا.*
*آپﷺ ہر عیب سے پاک پیدا ہوئے*
*آپﷺ ایسے پیدا ہوئے جیسے خود آپنے اپنے لئیے چاہا.*

اللَّهمَّ صلِّ وسلِّم وبارك عليه، عدد خلقك.. ورضا نفسك، وزِنَةَ عرشِكَ، ومدادَ كلماتِك، اللَّهمَّ صلِّ وسلِّم وبارك عليه عدد ما خلقتَ، وعدد ما رزقتَ، وعدد ما أحييتَ، وعدد ما أَمتَّ.

یوگا ورزش کے نام پر شرک وکفر کو فروغ دینے کی سازش ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محمد ابراہیم شولاپوری

’’یوگا‘‘ورزش کے نام پر شرک وکفر کو فروغ دینے کی سازش ہے، اہل ایمان اپنے ایمان کی فکر کریں۔

یوگا کی مذہبی حقیقت کو چھپا کر ورزش کے نام سے متعارف کرایا جارہا ہے ، یہ ہندوازم کو فروغ دینے کی ناپاک سازش کا حصہ اور مسلمانوں کے عقائد پر فکری یلغار ہے۔

جنگ دو طرح کی ہوتی ہے، ایک عسکری جس میں ہتھیاراورمادی قوت کا استعمال ہوتا ہے، اپنے مد مقابل کے جان مال اور آبرو کو پامال کیا جاتا ہے، جسمانی اذیت پہنچائی جاتی ہے،املاک لوٹے جاتے ہیں یا تباہ کردئے جاتے ہیں،جنگ کی دوسری قسم فکری جنگ ہے جوانجام اور نتیجہ کے اعتبار سے پہلی سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہوتی ہے۔اس میں قوم کا ایمان لوٹا جاتا ہے، اس کے نظریات بدل دیئے جاتے ہیں،قوم دشمن کی آلہء کار بنتی ہے،دشمن کے نظریات کو کچلنے کے بجائے لا شعوری میں اسکے نظریات کی تبلیغ واشاعت کرتی ہے، اس پر خوشی سے اپناجان مال نچھاور کرتی ہے،اس جنگ میں متاع کارواں تو جاتا ہی ہے احساس زیاں بھی ختم ہوجاتاہے،قوم کی اکثریت کو اس بات کا بھی احساس نہیں ہوتا کہ ہم جنگ کی صورت حال سے گزررہے ہیں، اس وقت مسلمانان ہندکو اسی فکری جنگ سے واسطہ ہے۔لیکن قوم کا حال یہ ہے کہ آج تک اسے پتہ ہی نہیں کہ اس سے کیا چھیناجارہا ہے اور اس کو کیا دیا جارہا ہے۔ قوم کا دانشورطبقہ بھی خواب غفلت میں پڑا ہوا ہے اور اس بات کا احساس کرنے کو تیار نہیں کہ کفر وایمان کی جنگ اس کے گھرکے اندر تک داخل ہوچکی ہے،اور اس کی نسلیں ایمانی اور فکری طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں۔

فکری جنگ میں دشمن کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ مختلف طریقوں سے مد مقابل کے افکار و عقائد میں شکوک اور اعمال میں تذبذب پیدا کرے،اس کے دل ودماغ کی اس طرح تربیت کی جائے کہ اس کی فکر اس کے دشمن کی فکر سے ہم آہنگ ہو اور وہ بغیر احساس کئے اپنے دشمن کا متبع اس کی تہذیب وتمدن پر فخر کرنے لگے۔ ہندواحیاء کی تحریکیں موجودہ حکو مت کی مددسے جہاں ایک طرف مسلمانوں کے عقائد، عائلی قوانین ،اسلامی طریقہائے زندگی کے بارے میں طرح طرح کے شکوک وشبہات پیدا کررہی ہیں تو دوسری طرف سرسوتی کی پوجا، وندے ماترم،سوریہ نمسکار اور یوگا کے نام پر ہندوازم کے عقائد کو مسلمانوں پر تھوپنے میں لگی ہوئی ہیں۔ اگر بروقت اس کا نوٹس نہیں لیا گیا تو آنے والی نسلوں کا ایمان پر برقرار رہنا مشکل ہوگا۔

یوگا کو ورزش کے نام پر متعارف کراکر پہلے اکیس جون کو یوگا دن منانے کا اعلان کیا گیا ، اب ہر ماہ کی ۲۱تاریخ کو یوگا دن منانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

ہمارے بعض روشن خیال تعلیم یافتہ اور نیم پڑھے لکھے لوگوں کو یوگا کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں یا پھر سطحی علم ہے، وہ بغیر مطالعہ اور تجزیہ کے یوگا کو صرف ورزش کا طریقہ قراردیتے ہیں جو سراسر لا علمی کا نتیجہ ہے۔انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یوگا کی تمام باتیں اسلامی عقائد سے ٹکراتی ہیں،یوگا میں توحید، رسالت اور قیامت کے دن کا انکار ہوتا ہے،اسی طرح مخلوق کا خالق میں حلول کرنے کا عقیدہ پایاجاتا ہے، نیز اس میں مشرکین کے ساتھ مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔
مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی نظریہ کو لینے یا کسی تحریک سے وابستہ ہونے سے پہلے اس بات کی تحقیق کرے کہ اس کا بانی کون ہے، اس کے عقائداور نظریات کیا ہیں، اس کے ماننے والے اس کو کیا درجہ دیتے ہیں، یہ تحریک قائم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس کے اغراض ومقاصد کیا ہیں، وہ اپنے ماننے والوں میں کیا تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں، اس تنظیم یا تحریک میں بااثر لوگوں کے نظریات مذہب اور طریقہء فکر کیا ہے، اور متبعین پر کیا اثر پڑرہا ہے۔نیز خاص طور سے ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے لئے یہ بھی از حد ضروری ہے کہ ہم یہ بھی دیکھیں کہ وہ شریعت کی روشنی میں صحیح بھی ہے یا نہیں۔

ہمارے اطراف میں یوگا کے لئے ہندئوں کی تین تنظیمیں متحرک ہیں،ان کا سرسری جائزہ پیش ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھیں احقر کی انگریزی کتاب Raja yoga and the art of living an Islamic appraisal)

آرٹ آف لِونگ: یہ تنظیم بہت سے ممالک میں اپنے یوگا کے کلاسیس چلاتی ہے ،اس کا بانی شری شری روی شنکر ہے، یہ ایک ہندو اسکالر ہیں اور ان کے عقائد وہی ہیں جو ایک عام ہندو کے ہوتے ہیں،ایک جگہ ہندوازم اور عیسائیت پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اگر تم چاہتے کہ رکاوٹیں دور ہوں تو گنیش کی پوجا کرو، اگر تمہیں خوشحالی چاہئے تو شیوا کی پوجا کرو، اگر تمہیں مال چاہئے تو لکشمی کی پوجا کرو او رعلم کے لئے سرسوتی کی پوجا کرو (induism and Christianity by Sri Sri Ravi Shankar Page 4)

اور ان کے متبعین ان کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں، symposium on human values presented by art of living کے صفحہ سات میں کہتے ہیں کہ تمام دنیا کی آسمانی کتابوں سے زیادہ حکمت ان سے جاری ہوتی ہے۔اوروہ انہیں خدا کے برابر درجہ دیتے ہیں۔

راج یوگا: یہ بھی ایک تحریک ہے جس کا مرکزراجستھان میں مائونٹ ابو پر قائم ہے،ہمارے شہر شولاپورمیں سید بخاری درگاہ سے نیچے اترنے پر چوک سے داہنے طرف تقریبا سو میٹر کے فاصلے پر ان کا مرکز بنا ہوا ہے، روڑ کے قریب ایک بڑا بورڈ لگا ہوا جس پر خانہ کعبہ کی تصویر بھی بنی ہوئی ہے، اس طرح عام مسلمانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حجر اسود ان کے تصور میں قائم خدا کی علامت ہے۔اس تحریک کا بانی دادا لیکھ راج تھا جس نے دعوی کیا کہ ہندئوں کا دیوتا شیوا اس پر نازل ہوکر اس کو اپنے علم کے فروغ کے لئے چنا۔ ان کے عقائد پوری طرح سے اسلامی تعلیمات کے خلاف کفر وشرک پر منحصرہیں، اس میں شرکت کرنے سے آدمی اسلام سے فوری خارج ہوجاتا ہے۔

پتانجلی یوگپیٹھ:یہ اس وقت زیادہ معروف ہے اور بابا رامدیو کی طرف سے اس کی تشہیر ہوتی ہے، حکومت کی پشت پناہی میں اس وقت یوگا کی خوب پزیرائی ہورہی ہے اور اسکولوں میں اس کا اہتمام کرایا جارہا ہے۔

اس وقت بابا رام دیو کے یوگا پر ایک انگریزی کتاب میرے سامنے ہے جس کے ٹائٹل پیج پرلکھا ہے (oga, a divine tree of life)اس کے سرورق پر ہندئوں کی مذہبی علامت اور ان کے یہاں سب سے مقدس سمجھا جانے والا منتر اوم لکھا ہوا ہے، جس سے خود ہندوازم کی تقدیس ظاہر ہورہی ہے، اسی طرح کتاب بابا رام دیو کی ستر کھلی ہوئی تصویروں سے پُر ہے،اور طریقہء یوگا اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ پہلے مراقبہ کی صورت میں بیٹھا جائے، پھر آنکھ بند کرکے ناک سے سانس لی جائے،تین مرتبہ کھینچ کر اوم کہا جائے،پھر گایتری منتر اور دوسرے منتروں کا ذکر ہے، گایتری کو ہندو سرسوتی کا اوتار مانتے ہیں اور اس کو طاقت کی دیوی بتاتے ہیں،اس کا جب نام لیا جاتا ہے تو کنول کے پھول پر بیٹھی ہوئی پانچ سر اور دس ہاتھوں کی عورت ان کے تصور میں آتی ہے،نیز ہندئووں کا عقیدہ ہے کہ اس منتر کو پڑھنے سے آدمی کو خداکی ماورا ئی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ہندئووں کا عقیدہ ہے کہ شیواہندوستان کے جنگلوں میں یوگی کی حیثیت میں رہا کرتا تھا، وہ یوگا کی مشق کرتے کرتے کائنات کا عظیم خدا بن گیا۔ (تانتریکا صفحہ ۵)

یوگی لوگ زعفرانی کپڑے پہنتے ہیں، تربیت کا آغاز اوم نمسکار سے کرتے ہیں، مختلف منتر اور دیوی دیوتائوں کے ورد پڑھتے ہیں۔بہر حال یوگا سے متعلق سنجیدگی سے تین سوال پوچھے جائیں۔

یوگا کی تعلیمات اور سند کس مذہب کی ہیں؟

یوگا کو سکھانے والے اور اس کی دعوت دینے والے کون لوگ ہیں؟

یوگا کی تحریک کے علمبردار اور اصل محرک کون ہیں،؟اوپر کی تفصیل سے اب کیا شک رہ جاتا ہے کہ یوگا ایک ہندو مذہب کی عبادت کی شکل ہے جو اسلام کی بنیادی اور اصولی تعلیمات سے براہ راست ٹکراتی ہے۔صرف نام بدلنے سے شئی کی حقیقت ختم نہیں ہوتی۔ ہندو مذہب میں کوئی اعلی تعلیمات نہیں ہیں اور نا ہی آج کی ترقی یافتہ دور میں اس کی تعلیمات میں کوئی کشش ہے، بلکہ کچھ مسائل تو ایسے ہیں جن سے انسانیت بھی شرمندہ ہوتی ہے، خود تراشیدہ چیزوں کو پوجنا، ستی طبقاتی اونچ نیچ وغیرہ۔ ہندو احیا کی تحریکوں کے لئے اپنے مذہب کو پیش کرنے کے لئے یہ باتیں بڑی رکاوٹ بنتی ہیں، اس لئے وہ یوگا کو ورزش کا نام دیکر اپنے افکار کی اشاعت میں لگے ہوئے ہیں۔

اسی طرح ہماری اسکولوں کے نام یوگا کے لئے جو سرکیولر جاری کیا گیا اس میں بھی ہندئووں کی مذہبی کتاب رگ وید کی آیتوں کا ورد کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، سرکیولر میں یوگا کرنے کے آداب مذکور تھے۔ ابتدا میں میں تھا کہ بچوں کو خاص ہیئت میں بٹھاکر ان کو پڑھایا جائے

سنگچھ دھوم سنودھوم سو مناسی جناتھم دیوابھاگم یتھا پروے سنجانانا اپاستے

یہ رگ وید کی آیت ہے، جس میں آگ کے دیوتا ،جس کے بارے میں ہندئوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہردم جوان معبود ہے جس کا کام لوگوں کے نذرانوں کو تمام دیوی دیوتائوں کو تقسیم کرنا ہے۔ اس آگ کے دیوتا سے دعا کی گئی ہے۔چاہے وہ گایتری منتر ہو یا پھر اس رگ وید کی آیت ہمارے توحید ورسالت کے عقیدے کے بالکل خلاف ہے۔

اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:

اے ایمان والو اگر تم ان لوگوں کی پیروی کروگے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، تو وہ لوگ تمہیں ایمان لانے کے بعد کفر میں وا پس ڈالدیں گے پھر تم خسارہ اٹھانے والے ہو کر لوٹوگے(سورہ آل عمران آیت ۹۴۱)

مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کفر وشرک کے مسئلہ میں ہر گز سمجھوتہ نا کریں اور ہر حال میں اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کریں۔اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں۔

اے ایمان والو اسلام میں پوری طرح سے داخل ہوجائو اور شیطان کی پیروی مت کرو، بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔(سورہ بقرہ آیت ۸۰۲)

بعض لوگ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ ہندو منتر سے اگر پریشانی ہے تو آپ لوگ اللہ کہو ، ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح سے دین سے دور اور دینی علم سے ناواقف شخص دھیرے دھیرے شرک کے دلدل میں پھنس ہی جائے گا۔ قرآن کریم میں ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے بھی منع کیا گیا ہے جو کفر وشرک میں ملوث ہیں، اور حدیث میں ہے کہ جو شخص جس قوم کی تعداد بڑھائے گا اس کا شمار انہیں میں ہوگا۔لہذا یوگا کے لئے مندروں، مٹھوں، آشرم اور کیندروں میں خاموش یا اللہ کا ذکر کرتے ہوئے بیٹھنا بھی جائز نہیں ہوگا اس سے شرکیہ چیزوں کی خاموش حمایت ہوتی ہے اور ایمانی غیرت کے بھی خلاف ہے۔ورزش کے بہت سے طریقے ہیں، پھر عبادات میں نماز، روزہ، اعتکاف، اللہ کے قدرت میں غوروفکر، قرآن کی تلاوت، تسبیحات کی پابندی سے جہاں ایک طرف ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے وہیں جسم کو صحت مند رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں انسانوں کی مکمل رہنمائی کرتا ہے، اس کی تعلیمات چھوڑکر دوسروں کے پیچھے چلنا خود اسلام کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔اوراسلام کی ہدایت ملنے کے بعد کفر کی چیزوں کو اپنانادر حقیقت نعمت اسلام کی ناقدری ہوگی۔قوم کے ارباب علم وفکر ، اسکول کے غیرتمند اساتذہ کرام اور عامۃ المسلمین سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ سلسلہ میں بیدار مغزی سے کام لیں اور بروقت اس فتنہ کا سد باب کرنے کے لئے لائحہء عمل طے کریں ورنہ نسلوں کے گمراہ ہونے کا وبال ہمارے سر پر ہوگا۔ اللہ تعالی ہمارے اور ہماری نسلوں کی دین کی حفاظت فرمائے آمین۔

شبِ قدر کی حقیقت، علامات اور اعمال

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی بڑی فضیلت واہمیت ہے۔ یہ عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی، اعتکاف جیسی عظیم عبادت کے ساتھ ساتھ اسی عشرہ کی کسی طاق راتوں میں سے ایک رات "شبِ قدر”، یا "لیلۃ القدر” ہوتی ہے۔ شبِ قدر یا لیلۃ القدر بڑی بابرکت اور فضیلت واہمیت والی رات ہے۔ اس رات کے فیوض وبرکات کثرت سے حدیثوں میں آئے ہیں؛ جب کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں، ایک سورت نازل فرمایا اور اس سورۃ میں اس کی رات کی اہمیت اور فضیلت بیان فرمایا ہے۔ اس سورۃ کا نام سورۃ القدر ہے۔ شب قدر کا مطلب ہے کہ وہ رات جس کی اللہ کے نزدیک قدر ومنزلت ہو۔

"قدر” کا معنی اور مطلب کیا ہے؟ "قدر کے ایک معنی عظمت وشرف کے ہیں۔ …. اس رات کو "لیلۃ القدر” (شبِ قدر) کہنے کی وجہہ اس رات کی عظمت وشرف ہے۔ ابو بکر وراق نے فرمایا کہ اس رات کر لیلۃ القدر اس وجہہ سے کہا گیا کہ جس آدمی کی اس سے پہلے اپنی بے عملی کے سبب کوئی قدر وقیمت نہ تھی، اس رات میں توبہ واستغفار اور عبادت کے ذریعہ وہ صاحب قدر وشرف بن جاتا ہے۔” (معارف القرآن 8/791)

صرف اس امت کو شب قدر ملی:
شب قدر جیسی عظیم الشان اور انوار وبرکات والی رات، نبی اکرم –ﷺ– کی فکر کے نتیجے میں، صرف امت محمدیہ کو ملی۔ شبِ قدر اللہ کی جانب سے بہت بڑا احسان ہے جو کسی دوسری امت کے حصے میں نہیں آئی۔ نبی اکرم –ﷺ– نے فرمایا : "اللہ سبحانہ وتعالی نے میری امت کو شبِ قدر عطا فرمایا اور اس سے پہلے کسی (امت) کو یہ عطا نہیں فرمایا ۔” (جامع الأحاديث، حدیث: 39912)

موطا امام مالک میں ہے کہ "رسول اللہ–ﷺ– کو، ان سے پہلے لوگ کی عمریں دکھائی گئیں، یا ان میں سے جو اللہ نے چاہا؛ تو گویا آپ –ﷺ– نے اپنی امت کی عمروں کو بہت کم محسوس کیا کہ وہ عمل میں وہاں تک نہیں پہنچ سکے گی، جہاں تک دوسرے لوگ اپنی طویل عمر کی وجہہ سے پہنچے؛ لہذا اللہ نے آپ –ﷺ– کو شبِ قدر عنایت فرمائی جو ہزار مہینوں سے (عبادت کے اعتبار سے) بہتر ہے۔” (موطأ امام مالک، حدیث: 1145)

ایک دوسری روایت اس طرح ہے کہ رسول اللہ –ﷺ– نے بنی اسرائیل کے ایک ایسے آدمی کا ذکر فرمایا، جس نے اللہ کے راستے میں، ایک ہزار مہینے تک ہتھیار پہنے رکھا؛ تو مسلمان اس سے(بہت) متعجب ہوئے؛ تو اللہ عز وجل نے انّا انزلناہ …. نازل فرمائی کہ ایک شبِ قدر کا عمل، ان ہزار مہینوں سے بہتر ہے جن میں اس آدمی نے فی سبیل اللہ ہتھیار پہنے رکھا۔ (السنن الکبری للبیہقی، حدیث: 8522)

شب قدر کی علامات اور متوقع رات:
اتنی مبارک اور شرف وعزت والی رات کی تاریخ متعین نہیں ہے؛ لیکن اتنا طے ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک رات: "شبِ قدر” ہوتی ہے۔ ایک بار رسول اللہ –ﷺ– اپنے صحابہ کرام–رضی اللہ عنہم– کو شبِ قدر کی اطلاع دینے کے لیے تشریف لا رہے تھے؛ تو آپ –ﷺ– نے دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے پایا؛ پھر وہ آپ –ﷺ– سے اٹھا لی گئی؛ لہذا شبِ قدر متعین نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ –ﷺ– باہر تشریف لائے اور یہ چاہ رہے تھے کہ اپنے صحابہ –رضی اللہ عنہم–کو شب قدر کے بارے میں بتائیں؛ لیکن (مسلمانوں میں سے) دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے؛ تو رسول اللہ –ﷺ– نے فرمایا: "میں اس ارادہ سے نکلا تھا کہ تمھیں شبِ قدر کے بارے میں اطلاع دوں؛ تو دو آدمی آپس میں لڑ رہے تھے؛لہذا مجھ سے اٹھا لی گئی۔ پس تم اسے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔” (شعب الایمان، حدیث: 3406)

ابن عمر –رضی اللہ عنہما– فرماتے ہیں کہ رسول اللہ –ﷺ– سے شبِ قدر کے بارے میں سوال کیا گیا اور میں سن رہا تھا، آپ –ﷺ– نے فرمایا:”یہ ہر رمضان میں ہوتی ہے”۔ (ابوداؤد، حدیث: 1387)

حضرت ابن عمر–رضی اللہ عنہما– بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ –ﷺ– نے فرمایا: "تم شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو!”(مسند ابی داؤد طیالسی، حدیث: 2047)

حضرت عبادہ بن صامت –رضی اللہ عنہ– نے رسول اللہ –ﷺ– سے شبِ قدر کے بارے میں پوچھا؛ تو آپ –ﷺ– نے فرمایا: "وہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے۔ وہ کسی طاق رات میں ہوتی ہے، اکیسویں رات، یا تیئسویں رات یا پچیسویں رات یا ستائیسویں رات، یا انتیسویں رات یا پھر رمضان کی آخری رات میں۔ جس نے ایمان واخلاص کے ساتھ، اس رات قیام کیا، اس کے سابقہ گناہوں کی مغفرت کردی جائے گی اور اس کی علامات میں سے یہ ہے کہ یہ رات انتہائی راحت بخش، صاف، پرسکون اور خاموش ہوتی ہے، نہ زیادہ گرم ہوتی ہے نہ زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے۔ اس میں چاند روشن ہوتا ہے۔ اس رات میں صبح تک کسی ستارے کے لیے ٹوٹنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اس کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے اور اس کی شعائیں نہیں ہوتیں۔ وہ بالکل برابر ہوتا ہے گویا کہ وہ چودھویں رات کا چاند ہے اور اللہ تعالی نے شیطان پر حرام قرار دیا ہےاس دن وہ اس کے ساتھ نکلے۔ (الدر المنثور8/571)

حضرت جابر بن عبد اللہ –رضی اللہ عنہما– روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم –ﷺ– نے ارشاد فرمایا: "میں نے اس رات (شبِ قدر) کو یکھا ہے۔ یہ آخری عشرہ کی کسی طاق رات میں ہے اور یہ رات انتہائی پرسکون اور راحت بخش ہے، نہ گرم ہے اور نہ ہی سرد۔ اس میں چاند روشن ہوتا ہے اور اس میں شیطان ظاہر نہیں ہوتا، یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاتی ہے۔ (الدر المنثور8/571)

کچھ لوگوں کو یہ اشکال ہوتا ہے کہ بسا اوقات چند ممالک میں اسلامی تاریخ مختلف ہوتی ہے، مثلا: ہندوستان میں رمضان کی اکیسویں رات ہوتی ہے؛ تو سعودیہ عربیہ میں رمضان کی بائیسویں رات ہوتی ہے۔ اس صورت میں سوال یہ ہوتا ہےکہ "شبِ قدر” کہاں کی تاریخ کے اعتبار سے ہوگی یا پھر ہر ملک میں، مختلف دنوں میں شب قدر ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی تاریخ "اختلاف مطالع” کے سبب مختلف ملکوں اور شہروں میں، شبِ قدر مختلف دنوں میں ہو، تو اس میں کوئی اشکال نہیں؛ کیوں کہ ہر جگہ کے اعتبار سے جو رات شبِ قدر قرار پائے گی، اس جگہ اسی رات میں شبِ قدر کے برکات حاصل ہوں گے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔” (معارف القرآن 8/794)

شبِ قدر کی عبادت کی اہمیت:
اللہ سبحانہ وتعالی شبِ قدر کی عبادت کے بارے میں، قرآن کریم میں فرماتے ہیں: (ترجمہ) "شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔” ہزار مہینے تیراسی سال اور چار مہینے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ ” ہزار مہینے تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ہے،اس سے زیادہ شبِ قدر میں، عبادت کرنے کا ثواب ہے۔”(بیان القرآن)

حضرت انس –رضی اللہ عنہ– سے مرفوعا مروی ہے کہ لیلۃ القدر میں، جبریل –علیہ السلام– فرشتوں کے ایک گروہ میں آتے ہیں اور جس کسی کو عبادت الہی میں مشغول دیکھتے ہیں، اس کے لیے دعاء مغفرت کرتے ہیں۔ (بیان القرآن)

امام ابن ابی شیبہ (رحمہ اللہ) نے حضرت حسن –رضی اللہ عنہ– سے بیان کیا ہے کہ میں کسی دن کو کسی دن پر اور کسی رات کو کسی رات پر افضل نہیں جانتا، بجز شبِ قدر کے؛ کیوں کہ (عبادت کے اعتبارسے) یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (الدر المنثور 6/1054)

شبِ قدر میں عبادت:
ہمیں رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں: اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں میں شبِ قدر کی تلاش میں، عبادات میں مشغول رہنا چاہیے۔ شبِ قدر کی تلاش کا مطلب یہ ہے کہ اس رات میں زیادہ ہی تلاوت قرآن کریم، ذکر واذکار، نفل نمازیں اور دوسرے اعمال کرنا چاہیے۔ ان راتوں میں عبادات کے حوالے سے چند احادیث ملاحظہ فرمائے:

حضرت انس –رضی اللہ عنہ– نے بیان فرمایا کہ شبِ قدر میں کوئی عمل، صدقہ، نماز اور زکاۃ ہزار مہینوں کے اعمال سے افضل وبہتر ہے۔ (فتح القدیر للشوکانی 5/577)

رسول اللہ –ﷺ– نے امّ المومنین حضرت عائشہ –رضی اللہ عنہا– کو شب قدر میں دعا مانگنے کا حکم دیا؛ چناں چہ حضرت سفیان ثوری –رحمہ اللہ– فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک شبِ قدر میں دعا نماز سے بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی نماز جس میں دعا نہ یا کم ہو، اس سے بہتر ہے کہ آدمی دعا میں مشغول رہے۔ ہاں، اگر اس طرح نماز پڑھ رہا ہو کہ اس میں دعا بھی خوب کرے، آیت رحمت پر اللہ تعالی سے رحمت کی دعا کرے، آیت عذاب پر اللہ تعالی کی پناہ چاہے؛ تو پھر یہ نماز بہتر ہے۔ سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ تہجد کی نماز پڑھے، تلاوت کرے اور دعا بھی کرے۔ (لطائف المعارف لابن حجر 204)

حضرت ابو ہریرہ –رضی اللہ عنہ– بیان کرتے ہیں کہ نبی –ﷺ– نے فرمایا: "مَنْ قَامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.” (صحیح بخاری، حدیث: 1901) یعنی جس شخص نے شبِ قدر میں ایمان کی حالت میں، اللہ تعالی سے ثواب کی امید رکھتے ہوئے قیام کیا؛ تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ اس حدیث شریف میں قیام کا لفظ آیا ہے۔ اس قیام کا مطلب یہ ہے کہ اس رات میں تہجد کی نماز ادا کی جائے، دوسرے نفلی عبادات کیے جائیں اور دعا بھی کی جائے، جیسا کہ نبی اکرم –ﷺ– نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دعا کرنے کو سیکھایا۔

رمضان کے مہینے میں نبی –ﷺ– کا معمول یہ تھا کہ رات میں تہجد کی نماز ادا کرتے، ترتیل کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے، جب کسی آیت رحمت کی تلاوت کرتے؛ تو اللہ تعالی سے اس کا سوال کرتے اور جب کسی آیت عذاب کی تلاوت کرتے تو اس سے اللہ کی پناہ چاہتے۔ اس طرح نبی –ﷺ– اپنی عبادات میں نماز، قرات، دعا: سب کو شامل کرتے۔ یہی بہتر طریقہ بھی ہے۔

شبِ قدر کی دعا:

شبِ قدر میں کیا کرنا چاہیے اور کونسی دعا مانگی چاہیے؟ اس حوالے سے امّ المومنین عائشہ –رضی اللہ عنہا– فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول –ﷺ– آپ بتلائے کہ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ (فلاں رات) "شبِ قدر”ہے؛ تو میں اپنے رب سے کیا مانگوں اور کیا دعا کروں؟ آپ –ﷺ– نے ارشاد فرمایا: "(یہ) دعا مانگو! اللّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي.” (شعب الایمان، حدیث:3427) ترجمہ: ” اے اللہ! آپ بہت معاف کرنے والے ہیں اور آپ معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں؛ لہذا مجھے معاف کردیجیے!”

ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ اس دعا میں اللہ کے نبی–ﷺ– نے معافی مانگنے کو سیکھایا ہے؛ جب کہ عام طور پر ایک مسلمان پورے رمضان نیک اعمال میں مشغول رہتا ہے؛ پھر بھی "شبِ قدر” میں معافی کا سوال کیوں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نیک اور صالح بندوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ کثرت سے اعمال صالحہ کرنے کے باوجود بھی وہ اپنے اعمال کو اعمال صالحہ نہیں شمار کرتے؛ لہذا خود کو ایک گنہگار سمجھ کر معافی کا سوال کرتے ہیں۔

وہ لوگ بدقسمت ہیں:
رمضان کا پورا مہینہ مسلمانوں کے لیےموسم بہار ہے، جتنا فائدہ اٹھانا چاہے اٹھا سکتا ہے۔ خاص طورپر آخری عشرہ بڑی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں خوب عبادت کرنی چاہیے۔ آخری عشرہ میں بھی طاق راتیں انوار وبرکات سے پُر راتیں ہوتی ہیں، ان کا ایک منٹ بھی ضائع کرنا بدنصیبی اور بدقسمتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ –رضی اللہ عنہ– فرماتے ہیں کہ رسول اللہ –ﷺ– نے فرمایا: "…. فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ.” (مسند احمد، حدیث: 7148) یعنی اس (رمضان) میں ایک ایسی رات ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے؛ جو اس کے خیر محروم رہا، وہ تحقیق کہ (ہر طرح کے خیر سے) محروم رہا۔”

٭ہیڈ اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ

سفارت خانہ کی منتقلی اور فلسطینیوں کا قتل عام

سفارت خانہ کی منتقلی اور فلسطینیوں کا قتل عام

از: خورشید عالم داؤد قاسمی ٭
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

جی ہاں، یہاں خفیہ طور پر کچھ بھی نہیں ہورہا۔ سب کچھ دن کے اجالے میں ہورہا ہے۔ غاصب مملکت اسرائیل کے شہر تل ابیب میں واقع، امریکی سفارت خانہ 14/مئی کو مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کردیا گیا۔ اسی یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) میں جس کے اصل حقدار فلسطینی مسلمان ہیں۔ اس عمل سے امریکہ یہ واضح کردینا چاہتا ہے اسرائیل نے جس یروشلم (بیت المقدس) کو ظلم وجبر کے ساتھ 1967ء میں قبضہ کرکے اپنا دار الحکومت بنانا چاہتا ہے، اس میں امریکہ کی مرضی بھی شامل ہے۔ پچھلے ہفتے 12/مئی 2018ء کو امریکی صدرنے ٹویٹ کیا تھا: (Big week next week when the American Embassy in Israel will be moved to Jerusalem. Congratulations to all!) "یعنی آئندہ ہفتہ عظیم ہفتہ ہوگا، جس وقت اسرائیل (تل ابیب) میں واقع امریکی سفارت خانہ، بیت المقدس منتقل کیا جائے گا۔ سب لوگوں کو مبارک ہو!” 14/مئی 2018ء کو صبح صبح اسی امریکی صدر نے ٹویٹ کیا (A great day for Israel!) یعنی اسرائیل (کی تاریخ) کا ایک عظیم دن۔ تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ مگر ہاں، شرم سے ڈوب مرنے کی بات ہے کہ ایک امریکی صدر کی چودھراہٹ کے سامنے درجنوں مسلم ممالک کے زعماء وقائدین گیدر بن کر بِل میں گھسے ہوئے ہیں؛ جب کہ ان کے پاس کافی وقت تھا کہ وہ ہمت کا مظاہرہ کرتے، عالمی برادری سے مل کر باتیں کرتے، اس امریکی فیصلے کے خلاف ماحول تیار کرتے اور امریکہ کے ظالمانہ فیصلے پر روک لگانے کی کوشش کرتے ۔ مگر انھوں نے ایساکچھ بھی نہیں؛ اس لیے انھیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے؛ لیکن سوال یہ بھی تو ہے کہ کیا ان اندر شرم وحیا نام کی کوئی چیز بھی ہے؟!

امریکی صدر نے گزشتہ سال یعنی 6/دسمبر 20017 کو ہی "بیت المقدس” کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد، کچھ مسلم ممالک کے حکمرانوں نے ٹرمپ کے اس ظالمانہ رویے کے خلاف آواز اٹھاکر، خواب غفلت سے بیداری کا ثبوت پیش کیا تھا؛ تو لوگوں کو امید بندھی تھی کہ اب پانی سر سے اونچا ہورہا؛ اس لیے مسلم ممالک کے لیڈران کم از کم اب بیدار ہوگئے ہیں۔ اب فلسطین کی آزادی، بیت المقدس کی بازیابی اور مسجد اقصی کی حفاظت کے حوالے سے کچھ مثبت فیصلے لیے جائیں؛ مگر چند دنوں کے بعد ہی سب کے سب پہلے ہی کی طرح خاموش ہوگئے۔ ترکی کے مرد آہن، رجب طیب اردگان استنبول سے لندن تک کچھ نہ کچھ بول رہے ہیں؛ مگر شخص واحد کربھی کیا سکتا ہے۔ مسٹر ٹرمپ کے بدبختانہ اعلان کے بعد، عرب لیگ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی ہنگامی میٹنگ، مصر کی راجدھانی قاہرہ میں منعقد ہوئی تھی۔ اس میٹنگ میں ممبران نے واضح لفظوں میں امریکی صدر کےفیصلے کی مذمت کی تھی اورعالمی برادری سے یہ مطالبہ بھی کیا گيا تھا کہ وہ فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کریں۔ مگر اس کے بعد،عملی طورپر کوئی قدم نہیں بڑھایا؛ بل کہ ماضی کی طرح سب خاموش بیٹھ گئے۔

آخر کار 14/مئی کا دن آیا اور تل ابیب میں واقع امریکی سفارت خانہ کو بیت المقدس منتقل کرنے کا عمل شروع ہوگیا۔14/مئی کی شام کو چار بجےبیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ کی منتقلی کی مناسبت سے ایک افتتاحی تقریب منعقد کی گئی۔ غاصب اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامین نتین یاہو نے اس افتتاحی پروگرام میں شرکت کرکے امریکی صدر کے فیصلے کو سراہا۔نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ہماری راجدھانی ـــ بیت المقدس ـــ میں، ریاستہائے متحدہ امریکہ کے سفارت خانہ کا افتتاح ہورہا ہے! نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کا ٹویٹر پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "(آج کا دن) کیا ہی ایک حیرت انگیز دن ہے!” امریکہ کے اعلی سطحی وفد کی موجودگی میں سفارت خانہ کا افتتاح ہوا۔ اس تقریب میں اسٹیٹ ڈپٹی سکریٹری جون سلیوان، امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن، ٹرمپ کے داماد اور مشیر اعلی جیرڈ کشنر، ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اوربین الاقوامی مذاکرات کے خصوصی نمائندہ جاسون گرینبلیٹ نے بھی شرکت کی۔ امریکی صدر ٹرمپ گرچہ اس پروگرام میں موجود نہیں تھے؛ لیکن ٹیلی کانفرنس کے ذریعے اپنے بیان سے مسلم ممالک کے حساس عوام کے دلوں کومجروح کرتے ہوئے اپنے منافقانہ خطاب میں کہاکہ "آج ہم نے جو فیصلہ کیا ہے، وہ اس بات کا اظہار ہے کہ ہم اسرائیلی عوام کے ساتھ ہیں۔” ٹرمپ نے اپنے اسی بیان میں متضاد باتیں کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ "امریکہ نے پائیدار امن سمجھوتے کی تشکیل کےلیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔”

مڈل ایسٹ آئی (Middle East Eye) کی ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا، جس کو پڑھ کر کسی بھی انسانیت نواز شخص کا سر شرم سے جھک جائے گا اور وہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ کیا ایسے انسان بھی اس دنیا میں بستے ہیں؟ رپورٹ میں ہے کہ امریکی سفارت خانہ کی منتقلی کے وقت جہاں بیت المقدس میں آباد مسلمان پرامن احتجاج کررہےتھے، وہیں صہیونیت نواز لوگ اپنے جشن کےاظہار میں فلسطینیوں کے خلاف یہ نعرے لگارہے تھے کہ”ان کو جلادو، ان گولیوں سے بھون دو، ان کو قتل کردو!”(Burn them, shoot them, kill them) جس ریاست کے حکمرانوں کا دامن فلسطینیوں کے خون سے رنگین ہو اور اس کے شہری ایسی زبان بولتے ہوں، کیا ان سے بھی پائیدار امن سمجھوتے کی توقع کی جاسکتی ہے؛ جب کہ امریکہ پائیدار امن سمجھوتے کے لیے خود وقف کررہا ہے؟

امریکہ سپر پاور ہونے کے جھوٹے زعم وغرور میں، ہر جگہ ثالثی کا رول نبھانے کا خواہاں رہتا ہے۔ چناں چہ مشرق وسطی میں بھی فلسطین اورغاصب ریاست اسرائیل کے حوالے سے وہ خود کو ہمیشہ ثالثی بتاتا آیا ہے۔ اب انصاف پسند کچھ لوگ اس بات سے پریشان اور تعجب میں ہیں کہ جو خود کو ثالثی باور کرانے کوشش کرتا رہا ہو،وہ کیسے ایسا غیر دانش مندانہ قدم اٹھا رہا ہے جو بدیہی طور جانب دارای کی عکاسی کررہا ہے؛ کیوں کہ اس اشتعال انگیز فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ غیر جانبدار نہیں ہے؛ بل کہ دہشت گرد مملکت اسرائیل کا حلیف ومعین ہے جو فلسطین کا وجود ختم کرنے کی کوشش میں ہے۔

آج جس اقوام متحدہ کی قرار داد کے طفیل غاصب ریاست اسرائیل کا وجود نظر آرہا ہے، اسی اقوام متحدہ کے قرارداد نے فلسطین کی تقسیم کے وقت "یروشلم- بیت المقدس” کو "بین الاقوامی شہر” قرار دیا تھا، مگر اس پر غاصب اسرائیل اور اس کے ظالم حلیف نے کبھی توجہہ نے دی؛ تا آں کہ 1967 کی جنگ میں پورے بیت المقدس کو قبضہ کرلیا۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی قرار داد کے خلاف قدم اٹھایا تھا؛ بل کہ حقیقت یہ ہے فلسطین کے حق میں، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے جب بھی کوئی قرار دار منظور کی گئی ہے، امریکہ اسے ویٹو کرنے یا پھر غاصب اسرائیل کی اس قرارادادکے خلاف عملی اقدام کرنے میں پشت پناہی کرتا رہا ہے۔ جب دسمبر 2017 ء میں ٹرمپ نے ظالمانہ انداز میں بیت المقدس کو غاصب اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرکے، امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے "بیت المقدس” منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا، اس وقت بھی ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرار داد پاس کرکے امریکہ کے فیصلے کو مسترد کیا تھا۔ اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی واضح مخالفت کرتے ہوئے، امریکی سفارت خانہ کو بیت المقدس منتقل کرکے، اقوام عالم کو ایک بار پھر باور کرادیا کہ اسرائیلی مفاد کے خلاف اقوام متحدہ کے کسی قرارداد کی، اس کے سامنے کوئی وقعت واہمیت نہیں ہے۔

بہرکیف، صہیونی اسرائیلیوں نے اس امریکی فیصلے پر جشن منایا اور خوشی ومسرت کے ماحول میں، امریکی سفارت خانہ کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی ہوگئی۔ مسلم ممالک کے حکمراں خاموش تماشائی بنے رہے۔ شاید وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان حکمرانوں کے ممالک محفوظ، ان کی حکومتیں محفوظ ہیں، ان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے، ان کے بیٹے بیٹیوں اور جگر کے ٹکڑوں کا قتل نہیں ہورہا ہے، ان کی بیٹیوں اور بیویوں کی عزت محفوظ ہے، ان کے آسمان چھوتے محلات پر کوئی قابض نہیں ہے، ان کی عیش وآرام کی زندگی میں کوئی مزاحم نہیں ہے، ان کےتعلیمی ادارے اور ہسپتالوں پر بمباری نہیں ہورہی ہے، ان کے ہرے بھرے باغات جلائے نہیں جارہے ہیں، پھر ان کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اسرائیل و امریکہ کے خلاف آواز اٹھائیں؛ جب کہ اسرائیل اپنی وحشیانہ طاقت کا استعمال کررہا ہے، ظلم وجور اور کھلی دہشت گردی کا ارتکاب کررہا ہے اور امریکہ اس کی واضح طور پر حمایت میں لگا ہے۔

مسلم ممالک کے خاموش اور بے غیرت حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو اسرائیل آج فلسطینیوں کی آزادی چھین رہا ہے، فلسطینیوں کی زمینیں قبضہ کررہا ہے،مسلمانوں کے قبلہ اول کو مسمار ومنہدم کرنے کی مذموم سعی کررہا ہے، فلسطینیوں کے مدارس واسکولس اور ہسپتالوں تک پر بمباری کرنے میں دریغ نہیں کرتا، فلسطینیوں کے ہرے بھرے باغات کو نذر آتش کرتا ہے، ہزاروں فلسطینیوں کو قید کیے ہوا ہے، ان کے معصوموں، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی تمیز کے گولیوں سے بھون رہا ہے، فلسطینیوں کا قتل عام کررہا ہے، فلسطینیوں کی نسل کشی کا مجرم ہے، وہ اسرائیل جب فلسطینیوں سے فارغ ہوگا؛ تو پھر وہ ان گیدروں، بزدلوں، منافقوں اور عیاشوں پر حملہ کرے گا جو آج خاموش تماشائی ہیں۔ دانشمندی اسی میں ہے ابھی بھی مسلم ممالک کے قائدین اتحاد واتفاق کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر آکر، کھلے طور پر فلسطینیوں کی حمایت کریں، بیت المقدس ومسجد اقصی کی بازیابی اور فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد ریاست سے کم پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ اگر ایسا نہیں ہے؛ تو یاد رکھیں کہ "آج ہماری، کل تمھاری باری ہے”۔ مسلم ممالک کے لیڈران نوٹ کرلیں کہ امریکہ کا اسرائیل کو مادی ومعنوی قوت فراہم کرنے کا سیدھا مقصد، مشرق وسطی کو کنٹرول اور قبضے میں رکھنےکی مضبوط تیاری ہے، جس میں امریکہ کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے۔

گزشتہ کی طرح اس بار فلسطینی سرفروشان اسلام، انبیاء کی سرزمین: فسلطین اور مسلمانوں کے قبلہ اول کی حفاظت کے لیے 14/مئی کی صبح سے، امریکی سفارت خانہ کی منتقلی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ قابض اسرائیلی فوج کی بندوقوں سے گولیاں بارش کی طرح ان پر امن مظاہرین پر برس رہی ہیں۔ اسرائیلی فوج اپنی طاقت کے نشے میں اس طرح مست ہے کہ بغیر کسی تمیزکے جس پر وہ چاہتی ہے فائرنگ کرتی ہے؛ چناں چہ ان کی گولیوں سے نہ صرف پرامن مظاہرین کے ساتھ معصوم بچے اور لائق رحم بوڑھے قتل ہورہے ہیں؛ بل کہ صحافی اور ڈاکٹر کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پر رہا ہے۔ اب تک کئی مظاہرین اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق، غزہ کے سرحدی علاقے میں، غاصب اسرائیل کی فوجیوں کی فائرنگ سے، جام شہادت نوش کرنے والوں کی تعداد”ساٹھ” تک پہنچ چکی ہے؛ جب کہ زخمیوں کی تعدادتین ہزار سے زاید ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فلسطینیوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ہمیں یقین ہے کہ ان شہیدوں کا خون ضرور نگ لائے گا۔ مگر یہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ فلسطین کی آزادی، بیت المقدس کی بازیابی اور مسجد اقصی کی حفاظت کے لیے کتنے شہیدوں کا خون درکار ہے اور ان شہیدوں کا خون کب رنگ لائے گا؟

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا