بلند پایہ محدث حضرت الاستاذ شیخ ریاست علی بجنوری ر حمہ اللہ (1940-2017)

….ہر آنکھ لیکن بھگو گیا ہے

بلند پایہ محدث حضرت الاستاذ شیخ ریاست علی بجنوری رحمہ اللہ (1940-2017)

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

Email: qasmikhursheed

دارالعلوم، دیوبند کےعظیم المرتبت استاذ حدیث، حضرت الاستاذ مولانا ریاست علی ظفر بجنوری –رحمہ اللہ– انتہائی موقر ومحترم شخصیت، بلند پایہ محدث اور اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ اللہ تعالی کا بلاوا آیا اور حضرت الاستاذ اس دار فانی سے دار جاودانی کےلیے کوچ کرگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ انسان کر بھی کیا سکتا ہے، جب اللہ بلائیں؛ تو جانا ہی ہوگا۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ کچھ لوگوں کی وفات کا اثر ایک محدود دائرے تک ہی رہتا اور چند دنوں کے بعد، آدمی صبر کرکے خاموش ہوجاتا ہے؛ جب کہ کچھ لوگوں کی شخصیت ہمہ جہت ہونے کی وجہ سے، ان کی وفات کا اثر دور دور تک پہنچتا ہے، ان کی یاد آتی رہتی اوران کے انمٹ نقوش ہمیشہ کے لیےباقی رہتے ہیں۔ حضرت الاستاذ کی شخصیت بھی انھیں معدودے چند عظیم المرتبت لوگوں میں سےتھی؛ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شیخ بجنوری –رحمہ اللہ– کی وفات صرف ان کے اہل وعیال اور خاندان والوں کے لیے ہی حادثۂ فاجعہ نہیں؛ بل کہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ان کے ہزاروں شاگردوں کے لیے بھی "عظیم علمی خسارہ” کا باعث ہے۔ اللہ تعالی حضرت کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے! آمین!

کڑے سفر کا تھکا مسافر، تھکا ہے ایسا کہ سو گیا ہے

خود اپنی آنکھیں تو بند کرلیں، ہر آنکھ لیکن بھگو گیا ہے

حضرت الاستاذ کا وطن اصلی موضع: "حبیب والا”، ضلع: "بجنور”، یوپی تھا۔ آپ 9/مارچ 1940 عیسوی کو "علی گڑھ” کے محلہ: "حکیم سرائے” میں پیدا ہوئے، جہاں آپ کے والد ماجد جناب منشی فراست علی صاحب (رحمہ اللہ) بسلسلہ درس وتدریس، مع اہل وعیال مقیم تھے۔

حضرت الاستاذ نے ابتدا سے پرائمری درجہ چہارم تک کی تعلیم، اپنے وطن میں حاصل کی۔ سن 1951 عیسوی میں پرائمری کے درجہ چہارم کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد اپنے پھوپھا حضرت مولانا سلطان الحق ذاکر فاروقی صاحب –رحمہ اللہ– (متوفی: 1407ھ) ، سابق ناظم: کتب خانہ دار العلوم، دیوبند، کے ساتھ دیوبند تشریف لائے اور 1951ء میں، دار العلوم، دیوبند میں داخلہ لیا۔ آپ نے 1958ء میں دار العلوم، دیوبند سے فضیلت کے امتحان میں امتیازی نمبرات کے ساتھ کام یاب ہوئے۔

دار العلوم، دیوبند میں قیام کے دوران آپ نے فخر المحدثین حضرت مولانا سید فخرالدین احمد مرادآبادی (1307-1393ھ)، جامع المعقول والمنقول حضرت علامہ محمد ابراہیم صاحب بلیاوی(1886-1967ء)، حضرت مولانا بشیر احمد خان صاحب بلند شہری(وفات: 1966ء)، حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمی (1897-1983ء)، سابق رئیس دارالعلوم، دیوبند، ماہرِ معقول ومنقول، استاذ الاساتذہ حضرت علامہ محمد حسین بہاری (1905-1992ء)،حضرت مولانا جلیل احمد کیرانوی اور حضرت مولانا ظہور احمد دیوبندی (رحمہم اللہ) جیسے اساطین علوم وفنون سے استفادہ کیا۔ فراغت کے بعد 13/سال تک اپنے محترم استاذ شیخ سید فخر الدین احمد –رحمہ اللہ– کی زیر نگرانی رہ کر علمی استفادہ کرتے رہے۔ اسی دوران علی گڑھ سے "ادیب کامل” کا امتحان، اول پوزیشن سے پاس کیا اور "سر سید میڈل” سے نوازے گئے۔

استاذ محترم شیخ بجنوری کی تعلیم وتربیت میں جہاں آپ کی رات دن کی محنت، جہد مسلسل اور آپ کے اساتذہ کرام کی رہنمائی نے اہم رول ادا کیا؛ وہیں آپ کے پھوپھا حضرت مولانا سلطان الحق فاروقی –رحمہ اللہ– کی تربیت کا بھی بہت بڑا دخل تھا۔ آپ اپنے پھوپھا محترم کی تربیت کو سراہتے ہوئے ایضاح البخاری کا "انتساب” کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "پھوپا جان حضرت مولانا سلطان الحق ذاکرفاروقی رحمہ اللہ (المتوفی: 1407ھ)سابق ناظم کتب خانہ دار العلوم، دیوبند، اس دنیائے آب ورنگ میں، راقم کے لیے حقیقی مسبّب الاسباب کے بعد، سب سے بڑے مربّی تھے۔ اس سلسلے میں انھیں جن جانکاہیوں کا سامنا کرنا پڑا، انھیں خداوند قدوس بہتر جانتے ہیں۔اس موقع پر اپنی اس متاع حقیر کو انھیں کے نام سے منسوب کرتا ہوں۔” (ایضاح البخاری 1/3)

حضرت الاستاذ کا تقرر، دار العلوم، دیوبند میں، استاذ کی حیثیت سے سن 1972ء میں ہوا۔ آپ نے 45/سال تک دار العلوم، دیوبند میں مخلصانہ خدمات انجام دی۔ آپ دار العلوم میں تدریسی ذمے داری کے ساتھ ساتھ مختلف مواقع سے چند دوسری اہم انتظامی ذمے داریاں بھی بحسن وخوبی انجام دیتے رہے۔ آپ 1982 سے 1984 تک ماہ نامہ "دار العلوم” (اردو) کی ادارت کی ذمے داری انجام دی اور ماہ نامہ کے مدیر محترم رہے۔ 1985ء میں آپ شعبہ تعلیمات کے ناظم کی حیثیت منتخب کیے گئے اور آپ نے اس مفوضہ ذمے داری کو بڑے حسن اسلوب کے ساتھ نبھایا۔ 1988ء میں، مجلس شوری نے آپ کو دار العلوم دیوبند کے شعبہ تحقیق وتالیف اور صحافت "شیخ الہند اکیڈمی” کا نگراں منتخب کیا۔آپ کی نگرانی میں، "شیخ الہند اکیڈمی” سے متعدد معیاری اور علمی کتابیں شا‏ئع ہوئیں۔ تقرری کے وقت سے تادم واپسیں، 45/سال دارالعلوم میں رہے؛ بل کہ دار العلوم کے ہی ہو کر رہ گئے اور مختلف ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ، علم وفن کی اکثر کتابوں کا درس دیا۔ ابھی حال میں، مشہور محدث أبو عيسى محمد بن عيسى بن سَورة بن موسى بن الضحاك (متوفى: 279ھ) کی کتاب: سنن الترمذي،جلد: اول اور البلاغۃ الواضحۃ کے اسباق آپ سے متعلق تھے۔ اللہ تعالی آپ کی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے!

اٹھائے کچھ ورق لالے نے، کچھ نرکس نے، کچھ گل نے

چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی داستاں میری

حضرت الاستاذ کوئی کثیر التصانیف مصنف نہیں تھے؛ مگر جو بھی تصنیف آپ کے قلم سے نکلی، اس کی زبان بڑی سلیس، صاف ستھری اور دلکش ہے۔ آپ کی مشہور تصنیف "شوری کی شرعی حیثیت” ہے، جو اپنے موضوع پر انوکھی اور اکلوتی ہے کتاب ہے۔ اصول فقہ کے موضوع پر استاذ محترم حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی –حفظہ اللہ– کے ساتھ، آپ نے مشترکہ طور پر "تسہیل الأصول” نامی رسالہ لکھا جو دار العلوم، دیوبند کے درجہ عربی چہارم میں داخل درس ہے۔ اسی طرح آپ نے "مقدمہ تفہیم القرآن کا تحقیقی وتنفیدی جائزہ” لکھا جو شائع شدہ ہے۔ آپ کو حدیث شریف سے بھی مثالی تعلق تھا؛ چناں چہ جہاں برسوں حدیث شریف کی تدریسی خدمات انجام دی، وہیں اپنے مشفق ومربی استاذ شیخ فخر الدین صاحب –رحمہ اللہ– کی تقریرِ بخاری بھی "ایضاح البخاری” کے نام سے ترتیب دیا، جو ترتیب، زبان وبیان اور علمی مواد کی وجہ سے بخاری شریف کی اعلا درجے کی شرح ہے۔

استاذ محترم نے فضیلت کے سال میں شیخ الحدیث حضرت مولانا سید فخرالدین احمد کی بخاری شریف کے درسی افادات قلم بند کیے تھے۔ فراغت کے اگلے سال(1378ھ-1959ء)دار العلوم میں رہ کر، حضرت شیخ کے درسی افادات کو دوبارہ بہ اہتمام ضبط کیا۔ سال کے خاتمہ پر اپنے بڑوں ، بزرگوں اور دوستوں کے مشورے سے، اس درسی افادات کو ترتیب دے کر شائع کرنے کا ارادہ کیا؛ چناں چہ دونوں سال کے افادات کو سامنے رکھ کر، آپ نے تیسرا مقالہ تیارکیا اور درمیان میں ذیلی سرخیاں قائم کی۔ پھر اس کی اشاعت کا انتظام کیا اور بہ نام "ایضاح البخاری” شائع کرکے، جہاں اپنے مشفق استاذ کی درسی تقریر کو محفوظ کیا؛ وہیں اساتذہ وطلبۂ حدیث کی خدمت میں، ایک اہم قیمتی سوغات بھی پیش کی۔ ایضاح البخاری کی اب تک 6/جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ اللہ تعالی حضرت الاستاذ کے اس کار عظیم کا اپنے شایانِ شان بدلہ نصیب فرمائے!

حضرت الاستاذ بلند پایہ محدث ومنتظم ہونے کے ساتھ ساتھ اردو زبان وادب کے کہنہ مشق ادیب اورصاحب دیوان شاعر بھی تھے۔ نثرنگاری ہو یا نظم نگاری، آپ لکھتے تو ادبی شہہ پارے بکھیرتے جاتے۔ شعرو سخن میں آپ مفسر قرآن، مملکت شعر وسخن کے خاموش تاج دار حضرت مولانا محمد عثمان کاشف الہاشمی –رحمہ اللہ– کے شاگردوں میں تھے۔ آپ شاعری کی ہر صنف پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ نے بہت کم شعری کلام کہے؛ مگر جو کچھ بھی کہا، اسے ارباب علم وادب نے سراہا اور دادِتحسین سے نوازا۔ آپ نے دار العلوم، دیوبند کے صدسالہ اجلاس (1980ء=1400ھ) کی مناسبت سے "ترانۂ دار العلوم، دیوبند” لکھا۔ اس ترانے کو جو شہرت ملی، وہ شاید ہی کسی اور ترانہ کو ملی ہوگی۔ آپ کا مجموعۂ کلام "نغمۂ سحر” کے نام سے کئی سالوں پہلے چھپا اور علماء وادباء نے اس کی بڑی پذیرائی کی۔

لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں

ہو تخیّل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں

شیخ بجنوری نے 45/سال تک، دار العلوم، دیوبند میں اپنی تدریسی خدمات پیش کرکے، ہزاروں آرزومندوں وتشنگان علوم دینیہ کو سیراب کیا۔ احاطۂ دار العلوم میں، طلبہ کے لیے شیخ بجنوری کی محبت والفت دیدنی تھی۔آپ سے کوئی طالب علم ملنے جاتا؛ تو آپ خوش طبعی اور کشادہ دلی سے ملتے۔ طلبہ کے لیےشیخ کی شخصیت ایک باپ نما شفیق وکریم استاذ ومربی اور ناصح و واعظ کی تھی۔ آپ کی زبان بڑی میٹھی اور پیاری تھی۔ آپ طلبہ کو ہمیشہ "بیٹے” کے لفظ سے مخاطب کرتے تھے۔ آپ جب لفظ "بیٹے” کا تلفظ کرتے تھے؛ تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ آپ کا دل پیار ومحبت سے معمور ہے۔ ہاں، یاد آیا کہ کلاس میں، کسی طالب علم کے نام کے ساتھ "بھائی” بھی لگادیا کرتے تھے؛ مگر یہ لفظ ان کے معمول کا نہیں تھا؛ بل کہ مزاح فرمانے کےلیے کبھی کبھار ایسا کرتے تھے۔

سن 2003ء میں، راقم الحروف کو حضرت والا سے معروف محدث ابن ماجہ أبو عبد الله محمد بن يزيد القزوينی –رحمہ اللہ– (متوفى: 273ھ) کی حدیث کی کتاب "سنن ابن ماجہ” پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی؛ پھر 2004 ء میں، "تکمیل ادب” میں "البلاغۃ الواضحۃ” پڑھنے کا شرف حاصل رہا۔ آپ تکمیل ادب کی درس گاہ میں آتے؛ تو طالب علم عبارت پڑھتا۔ پھر آپ سبق کی تشریح کرتے۔ البلاغۃ الواضحۃ میں، ہر سبق کے اختتام پر تمرین میں، طلبہ چاہتے کہ تمرین اردو زبان میں بہ عجلت کرکے سبق سے چھٹکارا حاصل کیا جائے؛ مگر حضرت کہتے کہ بیٹے ایسا نہیں! تمرین تو آپ کو عربی میں ہی کرنی ہوگی۔ اب آپ عربی زبان وادب کے طالب علم ہیں۔ بہرحال، طلبہ کو تمرین عربی میں ہی کرنی ہوتی تھی اور دوران تمرین اگر کوئی غلطی ہوتی؛ تو آپ اصلاح فرماتے۔ طلبہ کی غلطیوں پر آپ ناراض نہیں ہوتے؛ بل کہ ان غلطیوں کی اصلاح خندہ پیشانی کے ساتھ کرتے۔ دوران درس کبھی آپ کے چہرے سے ناگواری کے آثار نمایاں نہیں ہوتے۔ دوران درس آپ کا لب ولہجہ پیار ومحبت سے لبریز ہوتا اور آپ کو ہمیشہ یہ خیال رہتا کہ:

وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے

دیکھ! کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے

حضرت الاستاذ نے اپنی عمر عزیز کی تقریبا 77/بہاریں دیکھ چکے تھے۔ اِن دنوں آپ پر پیرانہ سالی کے آثار نمایاں تھے۔ آپ کی طبیعت بھی ادھر کچھ مہینوں سے ناساز تھی۔ چند مہینے قبل سوشل میڈیا پر یہ خبر نشر ہوئی تھی کہ آپ شدید بیمار ہیں۔ مگر اُس وقت اللہ تعالی نے آپ کو رو بصحت کیا۔ آپ کا وقت موعود آچکا تھا؛ چناں چہ اپنے ہزاروں شاگردوں، قدر دانوں اور اہل خانہ سے منھ موڑ کر اور ان کو روتا بلکتا چھوڑ کر، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے 20/مئی، 2017 کا سورج نکلے سے پہلے غروب ہوگئے۔ آپ کی نماز جنازہ اُسی دن، بعد نماز ظہر، تقریبا ساڑھے تین بجے حضرت الاستاذ مولانا قاری سیّد محمد عثمان صاحب منصورپوری –حفظہ اللہ–، استاذ حدیث: دار العلوم، دیوبند نے "احاطۂ مولسری” میں پڑھائی اورہزاروں لوگوں نے آپ کو دیوبند کے "قبرستان قاسمی” میں سپرد خاک کردیا۔ یقین ہے کہ آپ کے شاگرد، قدردان اور اولاد واحفاد آپ کے حق میں دعا اور ایصال ثواب کرکے، آپ کے رفع درجات کا ذریعہ بنیں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی حضرت الاستاذ کی مغفرت فرماکر،جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل! آمین!

اے جہاں آباد! اے گہوارۂ علم وہنر

ہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام ودر

٭٭٭

حضرت مولانا ابرار الحق –رحمہ اللہ- ہردوئی

حضرت مولانا ابرار الحق –رحمہ اللہ- ہردوئی
بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی ٭

ولادت و وطن :
آپؒ کا خاندانی وطن "دہلی” کے قریب ایک "پلول” (Palwal) نامی گاؤں میں تھا؛ لیکن نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا اور آخر میں آپ کے والد محترم جناب وکیل محمود الحق ؒ صاحب نے "ہردوئی” (یو پی ) میں سکونت اختیار کرلی ۔آپؒ کی پیدائش20/ دسمبرسن 1920ء کو "ہردوئی ” میں ہوئی ۔ یہیں پلے ، بڑھے ، پھولے پھلے اور اسی سرزمین پر ایک "چراغ اشرفی” جلا کر ، دنیا کو روشن کرنے لگے ۔

تعلیم و تعلم :
حضرت کی رسم بسم اللہ ، عارف باللہ مولانا اصغر حسین صاحب دیوبندی ؒ استاذ :دارالعلوم ، دیوبند نے کرائی۔ شروع سے حفظ قرآن کریم تک کی تعلیم "انجمن اسلامیہ ، ہردوئی” میں ، صرف ۸ سال کی ننھی سی عمر میں ، خدا داد ذکاوت و ذہانت اور شو ق و لگن کی وجہ سے پوری کی ۔ مزید علمی تشنگی بجھانے کے لیےسن 1347ھ میں ، ایشیاء کی مشہور دینی و اسلامی درس گاہ "مظاہر علوم ، سہارن پور” کا سفر کیا۔ سن 1356ھ میں آپ نے اسی ادارہ سے سند فضیلت حاصل کی ۔ دوران طالب علمی آپ نے "مظاہر علوم” میں نابغہ روزگار شخصیات : حضرت مولانا عبد اللطیف ، مولانا اسعد اللہ ، مولانا عبد الشکور ، شیخ الحدیث مولانا زکریا اور مولانا عبد الجبار ـرحمہم اللہ ـ وغیرہم سے اکتساب فیض کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ کے والد ماجد حناب محمودالحق ؒصاحب مرحوم بڑے ہی نیک خصلت ، پاک طینت ، پابند شرع اور حضرت حکیم الامت ؒ کے مرید تھے ۔ باپ سے بیٹے کا متأثر ہونا ایک فطری امر ہے ؛ چنان چہ والد صاحب سے متأثر ہوکر ، انھیں کے شیخ و مرشد حضرت تھانوی ؒ کے سامنے زمانہ طالب علمی میں ہی دست بیعت دراز کردیا۔ حضرت تھانوی نے بیعت فرمالیا ، پھر تو تعلیمی ایام "مظاہر علوم” اور تعطیلی ایام "خانقاہ اشرفیہ ، تھانہ بھون” میں گزرنے لگے ۔ اب جہاں شریعت کی شناخت ہوئی؛ تو طبیعت کو بھی پہچاننے لگی، شریعت و طبیعت کی حقیقت واضح ہوگئی اور نیکی و بدی کا فرق منشرح ہوگیا ۔ حضرت تھانویؒ کی دوررس نگاہ نے ان خوبیوں کو تاڑ لیا اور صرف 22/سال کی عمر میں خلعت خلافت سے نواز کر "شیخ طریقت” بنادیا ۔ پھر سن 1941ء میں، عین آغاز شباب کے زمانے میں، آپ کا شمار حضرت تھانوی ؒ کے عالی مقام خلفاء میں ہونے لگا ؎
بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا ٭ روشن شرر تیشہ سے خانہ فرہاد

درس و تدریس :
علوم دینیہ کی رسمی تکمیل کے بعد ، درس و تدریس کی غرض سے ، حضرت حکیم الامتؒ کے مشورے سے "جامع العلوم ، کان پور” ـجہاں حضرت تھانویؒ نے بھی ایک مدت تک تعلیم و تربیت کا فرض منصبی انجام دیا تھا ـ تشریف لے گئے ۔ یہاں دو سال تک طالبان علوم نبوت نے آپ کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرکے علمی پیاس بجھائی ۔ پھر یہاں کے بعد "مدرسہ اسلامیہ ،فتح پور ، ہنسوا” میں بہ حیثیت مدرس تعلیمی خدمت کے لیے مامور کیے گئے ۔ اسی دوران حکیم الامت ؒ کے ہی ایماء پر ، اپنے وطن عزیز میں ، ایک تعلیمی و تربیتی درس گاہ بہ نام "اشرف المدارس” کی بنیاد رکھی ؛ جو اسم با مسمی ہونے کے ساتھ ساتھ ، اپنے ان گنت کارہائے نمایاں کی وجہ سے، داد تحسین حاصل کررہا ہے ۔ اللہ اس شجر مثمر کو تادیر باقی رکھے اور اس کی مرکزیت کو دوام بخشے ! ؎
آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو ٭ گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

تصنیف و تالیف :
تصنیف و تالیف باضابطہ آ پ کا پیشہ نہیں تھا ؛ لیکن پھر بھی جب کوئی بات مناسب معلوم ہوتی ، امت کا فائدہ نظر آتا ؛ تو اسے ضبط تحریر کرلیتے اور اصلاح امت کے لیے اسے شائع کردیتے ۔ آپ کی مصنفہ کتابوں کی تعداد تقریبا دو درجن ہیں ، جن میں سے : "ایک منٹ کا مدرسہ” ، "اصلاح معاشرہ” ، "اصلاح معاملات” ، "اصلاح المنکرات” اور "اشرف الاصلاح”وغیرہ ہیں ۔ علاوہ ازیں اور بھی بہت سارے علمی و اصلاحی رسائل و پمفلیٹس منظر عام پر آچکے ہیں ۔ آپ کے ملفوظات کا مجموعہ "مجالس ابرار” (مرتبہ: مولانا حکیم اختر صاحب )اصلاح امت کے حوالے سے بے نظیر ہدایات و ارشادات کا مجموعہ ہے ۔

اصلاح امت:
اللہ عز و جل نے آپؒ کو اصلاح امت کے لیے ایسا "درد مند دل ” عطا کیا تھا ، جس کی نظیر اس قحط الرجال کے دور میں عنقا نظر آتی ہے ۔ اپنی خانقاہ میں ہوتے یا جہاں کہیں بھی تشریف لے جاتے ، امت کی اصلاح کی فکر دامن گیر رہتی اور اپنی حکمت و دانائی اور فراست مومنانہ سے "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر” کا کام شروع کردیتے ۔افراد امت کو صلاۃ و صوم ، احیاء سنت ، زہد و تقوی اور ذکر و فکر کی دعوت دیتے ۔آج کے اس دور میں ، جہاں بڑے بڑے دستار و جبہ والے قائدین امت "نہی عن المنکر” کے فريضہ کو ایسا فراموش کر بیٹھے ہیں کہ گویا اس کی ذمے داری ان کے سروں پر جاتی ہی نہیں اور مقام تأسف تو یہ ہے کہ منکرات کی ایسی مجلسوں کے دعوت نامے قبول کرتے ہیں؛ بل کہ بہ صد رغبت شرکت کا ارتکاب کرتے ہیں جہاں تصویر کشی ہوتی ہے ، ویڈیو کیسٹ تیار کی جاتی ہے اور بے حجاب عورتیں مسند نشیں ہوتی ہیں؛ مگر حضرت ؒ ایسی مجلسوں کے دعوت نامے ٹھکرادیتے اور اگر کہیں ان کی موجودگی میں ایسا ہوتا؛ تو بلاخوف "لومۃ لائم” بغیر کسی کی رضا ء اور عدم رضاء کا خیال کیے ہوئے ، قرآن و حدیث کی روشنی میں روکتے اور اللہ و رسول کے احکام کی پیروی میں ہی اپنی کام یابی و کام رانی سمجھتے ۔ ؎
سارا جہاں خلاف ہو پروا نہ چاہیے ٭ مد نظر تو مرضی جانان چاہیے

آپ ؒ نے اپنے دعوت و تبلیغ کے دائرے کو وسیع ترین بناتے ہوئے ، ملت اسلامیہ میں دینی رجحان کو فروغ دینے ، دینی جذبہ پیدا کرنے اور صراط مستقیم پر جمے رہنے کے لیے ، پچیسوں ایشیائی ، یورپی اور افریقی ممالک کا دورہ کیا ـ الحمد للہ ـ آپ کے ارشاد و ہدایات اور دعوت و تبلیغ سے لاکھوں بندگان خدا فیض یاب ہوئے اور آج ہند و بیرون ہند میں ، آپ کے خلفاء و مجازین کی تعداد بے شمار ہے ، جو آپؒ کے ورثاء اور معنوی اولاد کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اب ان کی یہ ذمے داری ہے کہ حضرت والاکے اس مشن کو جاری و ساری رکھے اور دعوت و تبلیغ میں مؤثر کردار ادا کریں ۔

قیمتی تحفہ:
قرآن کریم کی تعلیم تجوید و مخارج کے حوالے سے، ہمارے دیار میں بڑی غفلت برتی گئی؛ چنان چہ حضرت ؒ نے اس سلسلے میں بھی بڑی پیش رفت کی ، پھر "نورانی قاعدہ” کی تصحیح اور اس کی تعلیم کو عام کر کے "نونہالان ہند” کو ایک قیمتی تحفہ پیش کیا، جس سے لوگوں میں قرآن شریف کو مخارج حروف ، حسن ادا ، حسن صوت اور مجہول سے بچتے ہوئے معروف پڑھنے پڑھانے کا داعیہ پیدا ہوا ۔ اب "نورانی قاعدہ” ہر مکاتب و مدارس میں لازمی طور پر پڑھائی جاتی ہے ۔ تصحیح قرآن کے حوالے سے حضرت نے اتنی محنت کی کہ علماء و فضلاء کو بھی قرآن بالتجوید پڑھنے کا ذوق و شوق بیدار ہوا؛ لہذا "اشرف المدارس” میں باضابطہ "نورانی قاعدہ” کا کورس شروع کیا ۔ یہ ایسی عظیم خدمت ہے جسے ملت اسلامیہ کبھی فراموش نہیں کر پائے گی اور اس کا اجر غیر ممنون آپ ؒ کو ملتا رہے گا ۔

وفات:
موت ایک ایسی حقیقت ہے؛ جس سے کسی کو انکار نہیں، ہرکسی کو اپنے اپنے وقت پر جانا ہے ۔ ارشاد خداوندی ہے: "فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ.” (سورہ نحل، آیت: 61) حضرت بھی ایک طویل علالت کے بعد، ضعف و نقاہت کی حالت میں ، بہ عمر85/ سال (17/مئی 2005ءکو) جان، جاں آفریں کے سپرد کردیا ۔ خویش واقارب اور خلفاء و مجازین کے ایک جم غفیر نے ان کے جسد خاکی کو، گورستان ہردوئی میں، پیوند خاک کرکے عمر بھر کی بے قراری اور دنیا کے ہنگاموں سے نجات بخشا ۔
جان کر منجملہ خاصان میخانہ تجھے ٭ مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ تجھے
٭ مرکز اسلامی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، انکلیشور، گجرات، ہند

جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات

جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات
ملاقات سے ہمارا مقصد باہمی رابطے کا دروازہ کھولنا اور ایک ایسے میکانزم کا تعین تھا جس کے ذریعے ہم مستقل مسائل کے بارے میں سرکار سے رابطہ رکھ سکیں:مولانا قاری عثمان
بہت ہی مثبت ملاقات رہی-وزیراعظم نے قومی مسائل میں ہماری تشویش سے اتفاق کیا: مولانا محمودمدنی

نئی د ہلی ۔9مئی
صدر جمعیۃ علما ء ہند حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری کی قیادت میں مذہبی رہنماؤں ، ماہرین تعلیم اور دیگر سماجی دانشوروں پر مشتمل جمعیۃ علماء کے وفدنے وزیر اعظم نریندرمودی سے آج ان کی رہائش گاہ ۷؍ریس کورس نئی دہلی پہنچ کر ملاقات کی ، یہ ملاقات تقریبا دو گھنٹے تک جاری رہی ۔ اس موقع پر وفد نے وزیر اعظم کو ایک میمونڈم بھی پیش کیا ۔ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری اور جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے مشترکہ طور سے کہا کہ ہماری میٹنگ مثبت اور قابل اطمینان رہی اور وزیر اعظم نے ہماری تمام تشویشات سے اتفاق کیا ، مولانا محمود مدنی نے کہا کہ طلاق کے موضوع پر بھی انھوں نے ہماری رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم سماج کا داخلی معاملہ ہے ، اسے خود ہی اسے حل کرنا چاہیے ۔مولانا محمود مدنی نے بتایا کہ ملاقات سے ہمارا مقصد باہمی رابطے کا دروازہ کھولنا اور ایک ایسے میکانزم کا تعین تھا جس کے ذریعے ہم مستقل مسائل کے بارے میں سرکار سے رابطہ رکھ سکیں تاکہ مسلمانوں کی ملک کی ترقی میں شرکت اور حصہ داری کو یقینی بنایا جاسکے، جس میں ہمیں کامیابی ملی ہے ۔مولانا محمود مدنی نے کہا کہ وزیر اعظم سے تمام مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور تقریبا ہر موضوع پر انھوں نے کھل کر رائے رکھی اور یقین دہانی کرائی کہ سماج دشمن عناصر کے خلاف وہ ذاتی طور سے سنجیدہ ہیں اور اسے پھلنے پھولنے نہیں دیں گے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ملاقات ضرورت اور تقاضے کے مطابق ہوئی ہے ، اب ہم امید کرتے ہیں کہ وزیر اعظم نے جتنے مثبت خیالات کااظہار کیا ہے ، اتنا ہی بہتر سے بہتر اقدامات کرکے صورت حال کو درست کریں گے ۔اس موقع پر جو میمورنڈم پیش کیا گیا ہے ،اس کا متن یہ ہے
بخدمت عزت مآب وزیر اعظم ہند
اس ملاقات کا بنیادی مقصد حکومت اور اس ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کے درمیان باہمی گفتگو اور افہام و تفہیم کی راہ ہموار کرنا ہے۔ جس کو خود عزت مآب وزیر اعظم نے ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘اور ’’میری سرکار، سب کی سرکار‘‘کے نعروں سے اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ہمارا یہ احساس ہے کہ ملک کے اہم بنیادی مسائل باہمی گفتگو کے ذریعے ہی حل کیے جاسکتے ہیں ۔
وطن کے تحفظ ، اتحاد اور ترقی کے لیے قانون کی بالادستی ، سب سے اہم ہے ، کوئی بھی شخص یا تنظیم قانون سے بالاتر نہیں ہے اور قانون کے نفاذ میں کسی طرح کا امتیاز اور جانب داری نہیں برتی جانی چاہیے ۔اسی کے پیش نظرآ پ نے سابق میں تحفظ گاؤکے نام پرائیویٹ گروہوں کے ذریعے قانون ہاتھ میں لینے اور قاتلانہ حملوں کی سرزنش کرکے صحیح پیغام دیا تھا ، لیکن قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور ریاستی انتظامیہ کی جانب سے ابھی بھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے ۔اورحال میں گاؤ کشی کے بہانے انسان کشی کے واقعات نے مسلمان ، دلت اور سماج کے کمزور طبقات میں خوف اور دہشت کی لہر پیدا کردی ہے ۔ ہمیں خطرہ ہے کہ اگر اسے نہیں روکا گیا تو اس سے خوف ، مایوسی اور افسردگی پیدا ہو گی جس کے یقیناًسخت منفی نتائج نکلیں گے ۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی جسے ہمارے دشمن مسلسل بڑھاوا دے رہے ہیں ، وہ قومی تحفظ،امن واستحکام کے تناظر میں سب سے ا ہم مسئلہ ہے جسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ہم نے ہمیشہ ایسی کوششوں کی مذمت کی ہے اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ قومی سطح پر دہشت گردی ، مذہبی تعصب اور شدت پسندی کے خلاف مسلسل تحریک چلائی ہے ۔ عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانو ں کو بدنام کرنے کے پس منظر میں، آپ نے اسلا م کی امن پسندی اور ہندستانی مسلمانوں کے معتدل نظریہ کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں تشدد پسندانہ افکار سے الگ کرکے ان کا وقار بلند کیا ہے۔ہم اس کی تحسین کرتے ہوئے اس عزم کو دوہراتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہندستان کے کردار کو قابل تقلید بنائیں گے ۔تاہم دہشت گردی کی روک تھام کے لیے قانون کے نفاذ میں انصاف کے تقاضوں کی پوری پاسداری ہونی چاہیے تاکہ بے قصور افراد زیادتی کے شکار نہ بنیں ، اس بارے میں سرکاری اداروں کو خاص طور پر محتاط طرز عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔
دیگر فرقوں کی طرح مسلمانوں کے بھی تعلیمی ، سماجی اور معاشی مسائل ہیں ، جن کا اپنی جگہ پر حالات اور تقاضوں کے مطابق حل ہو نا ضروری ہے ۔ ان مسائل کا حل باہمی اعتماد اور خوش گوار ماحول میں ہو نا چاہیے تاکہ اس کی وجہ سے کسی قوم میں مذہب کی بنیاد پر تفریق اور امتیاز کا احساس پیدا نہ ہو سکے اور وطن کے تئیں برابر کی ذمہ داری اور حصہ داری یکساں طور پر سبھی شہری محسوس کریں ، یہی ہمارے محبوب وطن کی پہچان رہی ہے ہم آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ کوئی ایسا طریق کار (Mechanism)متعین کیا جائے جس کے ذریعے ہم مستقل مسائل کے بارے میں آپ کے مقرر کردہ ذمہ داروں سے رابطہ رکھ سکیں تاکہ مسلمانوں کی ملک کی ترقی میں شرکت اور حصہ داری کو یقینی بنایا جاسکے۔
ہم ایک بار پھر آپ کا شکریہ اداکرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ باہمی رابطے اور قربت کا جو آج دروازہ کھولا گیا ہے وہ آئندہ کے لیے مزید راہ ہموار کرے گا او رباہمی تعاون کے ذریعے ہم ملک کی ترقی اور درپیش مسائل کے حل میں مناسب کردار اد ا کرسکیں گے ۔
آپ کا مخلص

( مولانا قاری ) محمد عثمان منصورپوری
صدر جمعیۃ علماء ہند
وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے وفد میں درج ذیل شخصیات شریک تھیں(۱) مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند (۲) مولانا محمود مدنی ، جنرل سکریٹری جمعےۃ علماء ہند (۳) ڈاکٹر ظہیر آئی کاضی ، صدر انجمن اسلام ممبئی (۴) پی اے انعامدار ، بانی اعظم کیمپس تعلیمی سوسائٹی پونہ (۵) پروفیسر اخترالواسع وائس چانسلر مولانا آزادیونیورسٹی جودھپور (۶) محمد عتیق او ایس ڈی مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور (۷) مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری ، جنرل سکریٹری دینی تعلیمی بورڈ ، جمعیۃ علماء ہند (۸) مولانا حسیب صدیقی خازن جمعےۃ علماء ہند (۹) مولانا محمد قاسم صدر جمعےۃ علماء بہار (۱۰) مولانا حافظ ندیم صدیقی صدر جمعےۃ علما ء مہاراشٹرا (۱۱) مفتی افتخار احمد قاسمی صدر جمعےۃ علماء کرناٹک ( ۱۲) مولاناحافظ پیر شبیر صدر جمعیۃ علماء آندھرا و تلنگانہ ( ۱۳) مفتی شمس الدین بجلی جنرل سکریٹری جمعےۃ علماء کرناٹک ( ۱۴) مولانا بدرالدین اجمل صدر جمعےۃ علماء آسام ( ۱۵) مولانا متین الحق اسامہ صدر جمعےۃ علماء اترپردیش ( ۱۶) مفتی احمد دیولہ نائب صدر جمعےۃ علماء گجرات ( ۱۷) شکیل احمد سید ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ( ۱۸) مولانا نیاز احمد فاروقی رکن مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند ( ۱۹) مولانا عبدالواحد کھتری جنرل سکریٹری جمعےۃ علماء راجستھان ( ۲۰) مولانا محمد یحیے کریمی صدر جمعیۃ علماء ہریانہ ،پنجاب وہماچل پردیش ( ۲۱) مولانا علی حسن مظاہری جنرل سکریٹری جمعےۃ علماء ہریانہ ،پنجاب وہماچل پردیش(۲۲) مولانا معزالدین رکن مجلس عاملہ جمعےۃ علماء ہند ( ۲۳) مولانا قاری شوکت علی رکن مجلس عاملہ جمعےۃ علماء ہند( ۲۴) حاجی سید واحد حسین چشتی انگارہ شاہ سکریٹری انجمن خدام خواجہ صاحب سید زادگان درگاہ شریف اجمیر (۲۵) مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعےۃ علماء ہند

ایسا نہ ہو کہ ہم خرافات میں مبتلا ہو کر شبِ براءت کی فضیلت سے محروم ہوجائیں

دوسروں کو کوتاہ قد ثابت کرنے کے ب جائے اپنا قد بڑھانے پر محنت کیجئے

اذان کے صرف معنیٰ ہی نہیں الفاظ بھی سحر انگیز ہیں

طلاق : اسلام کے جامع نظام کا مظہر

مفتی امانت علی قاسمی# استاذ دار العلوم حیدرآباد
E-mail: aaliqasmi1985@gmail.com
07207326738 Mob:
حالیہ دنوں طلاق کا مسئلہ ملک کے منظر نامے پر چھایہ ہوا ہے ،ملک کے وزیرا عظم نے عورتوں کو انصاف دلانے کا بیڑا اٹھایا ہے، اس لئے وہ اپنے بیانات میں بار بار طلاق کا تذکرہ کرتے ہیں، مودی جی کے ساتھ ساتھ یوپی کے وزیر اعلی یوگی جی نے بھی طلاق کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے ، مجھے ان دونوں حضرات پر کوئی تعجب نہیں ہے اس لئے کہ یہ حضرات اسلامی نظامِ زندگی سے نا واقف ہیں ، اسلام کی خوبی ، جامعیت و ابدیت سے لا علم ہیں، اسلامی قانون زندگی سے اچھی طرح متعارف نہیں ہیں ،اور تھوڑا آگے بڑھ کر یہ حضرات یکساں سول کوڈ کے حامی اور وکیل ہیں پورے ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنا چاہتے ہیں اس لئے بھی مسلمانوں کے عائلی مسائل میں ترمیم و تبدیلی کی بات کرتے ہیں ۔
لیکن حیرت ان مسلم دانشوروں پر ہوتی ہے جو اپنے آپ کو تجدد پسند مسلمان سمجھتے ہیں ، عصری دانش گاہوں میں اعلی کرسیوں پر بیٹھے ہیں اور اس طرح کے عائلی مسائل میں کود کر اپنے تجدد پسندی کا ثبوت پیش کرتے ہیں اور اسلام کی من مانی تعبیر و تشریح کرتے ہیں ، میری ملاقات ہندوستان کی ایک مرکزی یونیورسٹی کے ایک قابل اور ذہین ترین شخص سے ہوئی جو ایک اسکول کے ڈین بھی ہیں انہوں کے مسئلہ طلاق پر گفتگو شروع کر دی، وسعت مطالعہ اور اسلام کے بارے میں ہمہ دانی کا اندازہ لگائیے ، کہنے لگے جب قرآن نے تین طلاق دینے سے منع کر دیا ہے پھر اگر کوئی تین طلاق دیتا ہے تو قرآن کی خلاف ورزی ہوئی اس لئے وہ طلاق نہیں واقع ہونی چاہئے جیسے قرآن نے بلا وضو نماز پڑھنے سے منع کر دیا ہے اب اگر کوئی بغیر وضو نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز نہیں ہوتی ہے ، میں نے جوابا ًعرض کیا بندوق میں گولی ہوتی ہے بلا ضرورت اس کا استعمال کرنا منع ہے لیکن اگر کوئی بلا ضرورت بندوق چلا دے تو سامنے والے کو گولی لگے گی یا نہیں ؟پھر اگر بندوق میں تین گولی ہو اور وہ تینوں ایک ساتھ نکلے تو سامنے تین گولی سے مرے گا یا ایک سے؟کسی کو ناحق قتل کرنے کو قرآن نے سختی سے منع کیا ہے؛ لیکن اگرکوئی شخص ناحق قتل کردے تو قتل ہوگا یا نہیں ؟اسی طرح شریعت نے تین طلاق دینے سے منع کیا ہے لیکن کوئی بے وقوف شریعت کی ہدایت پرعمل نہ کرے اور تین طلاق دے دے تو تین طلاق واقع ہو جائے گی واضح رہے کہ قرآن میں تین طلاق کی ممانعت کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ؛بلکہ قرآن میں تو اس کی صراحت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین تیسری طلاق دے دے تو اب وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں رہتی ہے اس کی مزید وضاحت آگے پیش کی جائے گی ۔
قارئین !آئیے اسلام کے نظام طلاق کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہیں ،اسلام کی آمد سے پہلے زمانہ جاہلیت میں طلاق کا رواج تھا ،لیکن نہ اس کی کوئی حد مقررتھی اور نہ ہی کوئی عدد، اس لئے ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا پھر اس سے رجوع کرلیتا وہ اس کی بیوی ہو جاتی اور جب کوئی شخص اپنی بیوی کو پریشان کرنا اور تکلیف دینا چاہتا تو طلاق کا سہارا لیتا چنانچہ وہ اس کو طلاق دیتا پھر جب اس کی عدت پوری ہونے لگتی تو رجوع کرلیتا پھر اس کو طلاق دے دیتا پھر عدت کے ختم ہونے پر رجوع کر لیتا اور یہ سلسلہ چلتا رہتا اس طرح وہ عورت نہ تو شوہر والی ہوتی اور نہ آزاد ہوتی کہ دوسری شادی کر سکے ،اسلام کے آنے کے بعد ایک مرتبہ ایک انصاری صحابی نے اپنی بیوی سے غصے میں کہا کہ تمہیں لٹکا کر رکھ دوں گا ، نہ تمہیں بیوی بناوٴں گا اور نہ ہی آزاد کروں گا ،اس کی بیوی نے پوچھا وہ کیسے اس نے جواب دیا کہ تمہیں طلاق دے دوں گا پھر عدت پوری ہونے سے پہلے رجوع کر لوں گا پھر طلاق دوں گا اسی طرح کرتا رہوں گا،وہ عورت آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت لے کر آئی اس موقع پر قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی ، جس میں عورتوں کے ساتھ ہو رہے ظلم و نا انصافی کو ختم کرتے ان کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ کیا گیا اور الطلاق مرتان کہ کر طلاق کی تحدید کر دی گئی کہ صرف دو مرتبہ طلاق دے کر رجوع کرسکتے ہو تیسری طلاق کے بعد رجوع کا اختیار ختم ، غور کیجئے اسلام سے پہلے طلاق کے سلسلے میں عورتوں کے ساتھ جو ظلم ہو رہا تھا اسلام نے طلاق کی حد بندی کر کے عورتوں کے ساتھ ہورہے ظلم و نا انصافی کا مداوا کیا ہے ۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے طلاق کا استعمال حضرت اسمعیل علیہ السلام نے کیا ، اس کے بعد حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں تورات میں طلاق کا حکم نازل ہوا کہ طلاق کے بعد جب تک عورت دوسری شادی نہ کرے وہ اپنے شوہر کے لئے حلال ہے جب دوسری شادی کر لے تو پہلے شوہر کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی ، اس کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے طلاق کا دوسرا قانون نازل ہوا جس میں نکاح کے بعد مطلقاً طلاق دینے سے منع کر دیا گیا یعنی کسی عورت سے شادی کے بعد اس سے علیحدہ ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے ، غور کیجئے طلاق کے دونوں نظام میں تنگی اور دشواری ہے اس کے بعد اسلام کا نظام طلاق نازل ہوا جو کہ امت وسط اور امت معتدل ہے اس لئے اسلام کا نظام ِطلاق بھی بالکل معتدل اور انسانی مزاج سے ہم آہنگ ہے ،اس میں طلاق دینے کی بھی گنجائش ہے اور طلاق کے بعد دوبارہ نکاح بھی جائز ہے اگر عورت دوسرے مرد سے نکاح کر لے پھر پہلے مرد سے نکاح کرنا چاہے تو دوسرے مرد کے طلاق دینے یا وفات پاجانے کے بعد یہ بھی درست ہے ۔
ہندوستان میں ہندوٴوں کے یہاں طلاق کا کوئی تصور نہیں تھا ان کے یہاں اصول یہ تھا کہ ماں کے یہاں سے لڑکی کی ڈولی اٹھتی ہے اور شوہر کے گھر سے ارتھی اٹھتی ہے ،اس نظام میں بہت تنگی تھی جس کا نتیحہ یہ ہوتا تھا کہ اگرشوہر کو بیوی پسند نہیں ہے یا مرد اس عورت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا ہے تو اسے زہر دے کر یا اسے جلا کر اس سے آزادی حاصل کرتا تھا اور اگر عورت آزاد ہونا چاہتی تو خود کشی کرکے یا جرأت مند عورت ہوتی تو شوہر کا کام تمام کر کے آزادی حاصل کر تی تھی اس تنگی سے نکلنے کے لئے ۵۵ ۱۹ء میں ہندو میرج ایکٹ بنا اورطلاق کا قانون بنایا گیا اور آج بھی اس قانون میں اتنی خامیاں ہیں کہ ایک عورت طلاق لینا چاہے تو اس کے لئے اتنا وقت چاہئے کہ عورت کی جوانی کورٹ کے در و دیوار کی نذر ہو جاتی ہے ۔
اسلام میں طلاق کا تصور: شادی کے ذریعہ دو اجنبی ازدواجی بندھن میں بندھ جاتے ہیں اور شیر شکر، ایک جان دو قالب کی طرح محبت و الفت سے رہتے ہیں ، اسلام نے شوہر کو بیوی کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی اور فرمایا تم میں بہترین انسان وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے ،آپ ﷺ نے حضرت عائشہ اور دیگر ازواج مطہرات سے محبت کا بہترین نمونہ امت کے سامنے پیش کرکے بتایا کہ شوہر کو اپنی بیوی سے خوب محبت کرنی چاہئے اور اس کے حقوق کا مکمل خیال کرنا چاہئے، اسی طرح اسلام نے عورتوں کو بھی ہدایت دی کہ شوہر کے حقوق کی رعایت کر و ، اس کی خدمت کر و ،آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو سجدہ کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں ک سجدہ کریں ،اسلام نے اس رشتے کو دوام بخشنے کی تلقین اور دائمی الفت و محبت کی ترغیب فرمائی اسی لئے بلا ضرورت مردوں کو طلاق دینے سے منع فرمایا آپ ﷺنے فرمایا اللہ تعالی کو مباح چیزوں میں سب سے ناپسند چیز طلاق ہے ،عورتوں کو بھی بلا ضروت طلاق لینے سے سختی سے منع کیا آپ ﷺنے فرمایا جو عورت بلا وجہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گی یعنی ایسی عورت جنت میں داخل نہیں ہوگی ۔
لیکن بعض مرتبہ میاں بیوی دونوں اجنبی ہوتے ہیں ، کبھی تہذیب ، فکر و ذہن اور و رہن سہن میں کافی اختلاف ہوتا ہے ،جس کی وجہ دونوں کے درمیان ناچاکی و نا اتفاقی اور جھگڑے پیدا ہوجاتے اور بسا اوقات نوبت علحدگی تک پہنچ جاتی ہے اس موقع پر قرآن کریم نے بہترین رہنمائی کی ہے کہ پہلے شوہر مناسب انداز میں سمجھائے اس سے کام نہ چلے تو شوہر ہلکے پھلکے انداز میں پٹائی بھی کر سکتا ہے بشرطیکہ اس میں تنبیہ کا پہلو ہو عذاب اور تکلیف دینا مقصود نہ ہو ، اس سے بھی کام نہ چلے تو اس کا بستر الگ کردے ، غیرت مند خاتون کے لئے شوہر سے الگ بستر پر سونا کسی مار سے کم نہیں ہے ان تین مراحل سے شوہر خود گزرے؛ لیکن اگر اس سے کام نہ چل سکے اور ازدواجی زندگی پٹری پر نہ آسکے اور نااتفاقی بڑھتی چلی جائے تو پھر دونوں خاندان کے بزرگ اور سمجھدار لوگ بیٹھ کر دونوں فریق کی بات سنجیدگی سے سنیں اور صلح کی کوشش کریں ،اگر دونوں خاندان کے بزرگ اصلاح کی نیت سے بیٹھیں گے تو اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالی دونوں میں صلح اور خیر کی سبیل پیدا کردیگا ؛لیکن اگر داخلی اور خارجی تمام وششیں ناکام ہو جائیں اور دونوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہو ، اور نہ صرف ان دونوں کی، بلکہ دونوں خاندن کے لوگ متاثر اور ذہنی تناوٴ کا شکار ہوں اور دونوں کے علحدہ ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ ہو تو پھر قرآن کی ہدایت ہے کہ مرد عورت کو ایک طلاق دے دے ، طلاق کے بعد اگر دونوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور دوبارہ ازدواجی رشتہ بر قرار رکھنا چاہیں تو عدت میں بلا نکاح کے رجوع کر سکتے ہیں اور عدت کے بعد دوبارا نکاح کے ذریعہ عورت کو اپنی بیوی بنا سکتے ہیں ، اگر رجوع یا نکاح کے بعد پھر ناچاقی پیدا ہو جائے اور دونوں میاں بیوی علحدہ ہونے ہی عافیت محسوس کریں تو شوہر دوسری طلاق دے سکتا ہے اس کے بعد پھر اگر دونوں باہم مل کر رہنا چاہیں تو عدت میں رجوع اور عدت کے بعد دوبارا نکاح کر سکتے ہیں اگر دوسرے نکاح کے بعد پھر سے دونوں کے درمیان ان بن ہو جائے اور لڑائی جھگڑے کا بازار گرم رہے اور شوہر کو یقین ہو جائے کہ اس رشتے کو نبھانا ناممکن ہے اوردو با رکے تجربہ سے بھی ثابت ہو جائے علحدہ ہونے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے ؛بلکہ اسی میں دونوں کے لئے خیر ہے تو شوہر عورت کو تیسری بار طلاق دے دے اب دونوں ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئے ہیں رجعت یا نکاح کے ذریعہ اس رشتے کو قائم کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے ۔
اسلام نے طلاق کا یہ بہترین نظام دیا ہے جس میں ہر شخص کے لئے عافیت ہے اور رشتہ ازدواج کو دوام دینے کی ہر ممکن کوشش ہے اور اتحاد و صلح کی تمام صورتوں کے نا کام ہونے کی صورت میں جدا ہونے کا راستہ بھی ہے اگر طلاق کے ذریعہ علحدہ ہونے کا راستہ نہ ہوتا تو دونوں کی زندگی عذ۱ب بن جاتی یا پھر یہی ہوتا کہ مرد عورت کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرتا ، اس کو لٹکا کر رکھتا یا زہر کی گولی دے کراسے دائمی نیند سلا دیتا لیکن اسلام نے ایسا طریقہ دیا جس کے ذریعہ غیر فطری طریقہ سے بچ کر مناسب انداز میں عورت کو آزاد کر سکتا ہے ، بہت سے مسلمان اسلام کے اس نظام طلاق سے متعارف نہ ہونے کی وجہ سے تین طلاق دینے کو ہی طلاق دینا سمجھتے ہیں اس لئے جب کبھی وہ غصہ میں طلاق دینا چاہتے ہیں تو تین طلاق بولتے ہیں ، طلاق کا یہ طریقہ اسلام میں منع ہے اور اس طرح طلاق دینے والا گنہگار ہوتا ہے لیکن چوں کہ تین طلاق واقع ہوجاتی ہے اور دوبا رہ نکاح کا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا ہے تو یہی لوگ اسلام اور شریعت پر حملہ شروع کردیتے ہیں ۔
آج بعض ناعاقبت اندیش ، اسلامی تعلیمات سے نا آشنا ،شریعت کے رموز و اسرار سے ناواقف حکومت کی لے میں لے ملاتے ہوئے کہتے ہیں کہ تین طلاق پر پابندی لگنی چاہئے اگر کوئی اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو اس ایک شمار کرنا چاہیے ، میں یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ شریعت ہماری عقل کے تابع نہیں ہے ،بلکہ ہماری عقل کو شریعت کے تابع ہونا چاہیے اس لئے کہ شریعت خدائی قانون کا نام ہے انسانی عقل کی خدائی قانون کے مقابلہ میں کیا نسبت ہے ،؟جب حضور ﷺنے تین طلاق کو تین قرار دیا ہے تو آج مسلمان یا حکومت اس کو ایک کیسے قرار دے سکتی ہے ؟دار قطنی کی روایت ہے ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دے دی آپ ﷺ نے فرمایا تین طلاق تو واقع ہو گئیں اور باقی طلاقیں اس کی گردن پر ظلم کے طور پر ہیں اگر اللہ تعالی چاہیں گے تو اس پر عذاب دیں گے ، دار قطنی کی دوسری روایت حضرت معاذ کی ہے حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص بدعت کے طور پر اپنی بیوی کو ایک طلاق دے یا دو طلاق دے یا تیں طلاق دے میں اس کو لازم قرار دوں گا ، حضرت ابن عمر  نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دیا تھا آپ ﷺ نے رجوع کرنے کا حکم دیا انہوں نے رجوع کر لیا اور پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتا تو کیا میرے لئے رجوع کی گنجائش ہوتی آپ ﷺ نے فرمایا نہیں وہ تم سے جدا ہوجاتی اور تم گنہگا ر ہوتے اس طرح کی بہت سی روایتیں ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین ہیں ۔
تین طلاق کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ تین طہر میں تیں طلاقیں دی جائیں یہ تیں طلاقیں فقہ کی اصطلاح میں طلاق حسن اور طلاق سنی کہلاتی ہیں ، اور اس کا ثبوت قرآن کریم سے ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن نے تین طلاق سے منع کیا ہے وہ یا توناواقف ہیں یا دھو کہ دیتے ہیں تین کا ثبوت قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ہے، امت کے تمام مکاتب فکر کا اس پر اتفاق ہے اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے تین طلاق کی دوسری صورت یہ کہ ایک ساتھ تین طلاق دی جائے جیسے کہتے ہیں تمہیں تین طلاق یہ تینوں طلاق بھی واقع ہوجاتی ہیں اس پر بھی اہل علم متفق ہیں ائمہ اربعہ کے یہاں اس پر بھی اتفاق ہے سوائے ابن تیمیہ اور موجودہ دور کے اہل حدیث کے اس میں بھی کسی کا اختلاف نہیں ہے سعودی عرب کے ہیئت کبار العلماء نامی کمیٹی نے بھی ایک مجلس کی تین طلاق کو نافذ قرار دیا ہے ،ایک دھوکہ یہ بھی دیا جارہا ہے کہ بہت سے اسلامی ممالک میں تین طلاق پر پابندی ہے اگر مضمون کے طویل ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو تمام ممالک کے قانون کے الفاظ نقل کرتا ،تمام اسلامی ممالک میں تین طلاق نافذ ہیں ہاں بعض ممالک میں ایک بارگی کی تین طلاق ایک شمار ہوتی ہے لیکن تین طہر کی یا تین مجلس کی تین طلاقیں ان ممالک میں بھی تین ہی ہیں ، تھوڑی دیر کے لئے سوچئے کہ آدمی جب زبان سے تین کا لفظ استعمال کرتا ہے تو اس کو تین ہی کہا جاسکتا ہے اس کو ایک ماننا کون سی منطق ہے ؟۔
یہاں دو باتیں مزید عرض کرنا چاہتا ہوں ، اسلام نے طلاق دینے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے، تین طلاق دینے والوں پر آپﷺ نے اپنی شدید نا گواری کا اظہار کیا ہے،یہی وجہ ہے مسلمانوں کے یہاں طلاق کے واقعات دیگر مذاہب کے مقابلے میں کم ہیں اعداد و شمار اس پر شاہد ہیں ، دوسری طرف اسلام نے بیوہ اور مطلقہ سے شادی کے فضائل بیان کئے ہیں اس لئے مسلم مطلقہ اور بیوہ کی دوسری شادی ہوجاتی ہے اور بہت کم عورتیں بغیر شوہر کے ہوتی ہیں اور جو بعض ہوتی ہیں شریعت نے ان کی کفالت کے اصول مقرر کر دئے ہیں جبکہ ہندو اور دیگر مذاہب میں مطلقہ اور بیوہ کی شادی بہت ہی معیوب ہے اس لئے ان کے یہاں ایسی عورتوں کا تناسب بہت زیادہ ہے نیز ہندوٴں میں بغیر طلاق کے عورتوں کو چھوڑ دینے کے واقعات بھی بہت پائے جاتے ہیں ،پھر غور کیجئے مسلم خواتین کو انصاف دلانے کے نام پر حکومت کا مسئلہ طلاق میں دخل اندازی کیا حکومت کی بد نیتی کو ظاہر نہیں کرتا ہے ؟کیا یہ اسلامی شریعت میں بے جا مداخلت نہیں ہے ؟کیا یہ مسلم پرسنل لا کو ختم کرنے سازش نہیں ہے ؟پھر مسلمانوں کا اس مہم میں شریک ہونا اور عصری دانش گاہوں کے تربیت یافتہ حضرات کا اس مہم کی تائید کر نا کیا دانش مندانہ فیصلہ ہے ؟ضرورت ہے کہ مسلمان حکومت کی بد نیتی کو سمجھیں اگر واقعتا حکومت مسلم خواتین کے لئے کچھ کرنے کے سلسلے میں سنجیدہ ہے تو بہت سے کام ہیں جو حکومت مسلم خواتین کے لئے کر سکتی ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ مسلمان اسلام کے نظام طلاق کو سمجھیں اور ضرورت پڑنے پر بہت سوچ سمجھ کر اور بڑوں کے مشورے سے صحیح طریقے سے طلاق دیں جس طرح نکاح کرتے وقت خوب معلومات کی جاتی ہے مشورے کئے جاتے ہیں اسی طرح طلاق دیتے وقت بھی رائے مشورہ سے طلاق دیں اور جب کبھی بھی طلاق کی نوبت آئے توایک طلاق دینا چاہئے ،غصے میںآ کرایک ساتھ تین طلاق دینا نہ صرف یہ کہ خدا تعالی کی ناراضگی کا سبب ہے ،بلکہ پورے معاشرہ اور سماج کے پراگندہ او ربدنام کرنے کا بھی باعث ہے ، آج ایک شخص بڑی آسانی سے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتا ہے ایس ایم ایس کے ذریعہ یا واٹس اپ یا میل کے ذریعہ طلاق نامہ بھیج دیتا ہے ظاہر ہے شوہر کے لفظ طلاق بولتے یا لکھتے ہی طلاق واقع ہو جاتی ہے لیکن اس طرح کی حرکت سے سوشل میڈیا پر اسلام دشمن طاقتوں کو اسلام کے خلاف بولنے اور لکھنے کا موقع فراہم ہو جاتا ہے خدا را اپنے اس انداز اور طرز عمل میں تبدیلی لائیے اس طرح کا واقعہ تو ایک دو ہی پیش آتے ہیں اور ہر سماج میں پیش آتے ہیں ؛لیکن اسلام مخالف ذہنیت کو ہنسنے کا موقع مل جاتاہے ۔