حضرت مولانا ریاست علی بجنوری اور ان کی کتاب ’شوری کی شرعی حیثیت‘ کا ایک جائزہ

محمد اللہ خلیلی قاسمی

حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوری رحمة اللہ علیہ ایک جید عالم دین، نکتہ رس محدث، باصلاحیت استاذ، بے مثال ادیب و شاعر اور گوناگوں خوبیوں کے مالک تھے۔ تقوی و دیانت داری ، رأفت و رحمت، ذکاوت و ذہانت، اصابت رائے و معاملہ سنجی ، مہمان نوازی و غریب پروری اور حسن اخلاق و تواضع آپ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ آپ کے انتقال سے دارالعلوم کی علمی و فکری تاریخ کا ایک باب بند ہوگیا۔
حضرت مولانا کی تدریسی زندگی پینتالیس برسوں پر محیط ہے۔ آپ نے ہزاروں طالبان علوم اسلامیہ کو علوم نبوت کی روشنی سے منور کیا۔ آپ کا درس بہت مربوط، عام فہم، سبک رفتار اور مقبول ہوتا تھا۔تدریس کے ساتھ ساتھ ماہنامہ دارالعلوم کی ادارت کی ذمہ داری بھی انجام دی اور شیخ الہند اکیڈمی کے ڈائریکٹر بھی مقرر کیے گئے۔ ۱۹۸۵ء میں آپ کو مجلس شوریٰ نے مجلس تعلیمی کا ناظم (ناظم تعلیمات ) مقرر کیا ، اس منصب پر آپ پانچ سال تک فائز رہے۔ دارالعلوم میں آپ کا دور نظامت بہت مثالی تھا۔نازک حالات میں دارالعلوم کے تعلیمی نظام کو سنبھالا دینا اور اسے ترقی کی بلندیوں پر پہنچانا آپ کا تاریخی کارنامہ ہے۔ حضرت مہتمم صاحب وغیرہ ذمہ داران کی غیر موجودگی میں اکثر آپ کو قائم مقامی یا نیابت اہتمام کے فرائض انجام دینے پڑتے۔ مجلس شوریٰ نے آپ کو مستقل طور پر نائب مہتمم کے عہدہ کی پیشکش کی لیکن انھوں نے معذرت ظاہر کی۔ گزشتہ چالیس سالوں کے دوران انھوں نے دارالعلوم کی انتظامیہ کو اپنے صائب مشوروں اور بر وقت رہ نمائی سے بڑی طاقت بخشی۔ اسی لیے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ آپ جدید دارالعلوم کے معماروں میں تھے۔
حضرت مولانا ریاست علی بجنوری کا تصنیفی یادگاریں
تدریسی و انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ آپ نے اہم علمی و تصنیفی سرمایہ بھی چھوڑا ۔ ایضاح البخاری آپ کے اعلی علمی و ادبی ذوق کا شاہ کار ہے اور اردو کی شروح بخاری میں ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ آپ نے اصول فقہ کے موضوع پر حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی کے ساتھ مشترکہ طور پر ’تسہیل الاصول ‘ لکھی جو دارالعلوم میں سال چہارم میں داخل درس ہے۔ اسی طرح ’ مقدمہٴ تفہیم القرآن کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘ مکتبہ دارالعلوم سے شائع ہوچکی ہے۔
اخیر زمانے میں حضرت مولانا علامہ محمد اعلی التھانوی کی مشہور آفاق کتاب ’کشاف اصطلاحات الفنون‘ پر مولانا عارف جمیل صاحب مبارک پوری کے ساتھ تحقیقی کام بھی کیا جو پایہٴ تکمیل کو پہنچ چکا ہے ۔ اسی طرح ہونہار شاگردوں کی مدد سے خلاصة التفاسیر (موٴلفہ مولانا فتح محمد تائب لکھنوی،متوفی ۱۳۲۷ھ/ ۱۹۰۹ء ) کی تدوین و تحقیق کام انجام دیا۔ یہ دونوں اہم کتابیں عنقریب منظر عام پر آنے والی ہیں۔
آپ علم و عمل میں بلند مقام پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ شعر و ادب میں اعلیٰ ذوق کے حامل تھے جس کا زندہ ثبوت دارالعلوم دیوبند کا شہرہٴ آفاق ’ترانہ ‘ہے جو ایک لازوال ادبی شہہ پارہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ شاعری میں ظفر# تخلص فرماتے تھے۔ آپ کا مجموعہٴ کلام ’نغمہٴ سحر‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔ آپ کا کلام ضخامت اور قامت میں کہتر ہونے کے باوجود قدر و قیمت کے اعتبار سے بہت ’بہتر‘ ہے ۔ کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان اور سلیس و رواں کلام کا یہ مختصر مجموعہ بھی آپ کو مستند شعراء کی صف میں شمارکرانے کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح مولانا محمد عثمان کاشف الہاشمی کا شعری مجموعہ بھی آپ کی کاوشوں سے منظرِ عام پر آیا۔
’شوریٰ کی شرعی حیثیت‘ شاندار تحقیقی کارنامہ
’شوریٰ کی شرعی حیثیت‘ حضرت مولانا کی نہایت اہم تصنیف ہے جو اپنے موضوع پر ایسی اچھوتی ،بسیط اورمدلل کتاب ہے جس سے کتاب خانے خالی ہیں۔ یہ کتاب اولاً ۱۴۰۸ھ مطابق ۱۹۸۷ء میں حضرات اکابر (حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی، حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب بجنوری سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا معراج الحق صاحب سابق صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا نصیر احمد خان بلند شہری سابق شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا قاضی اطہر مبارک پوری رحمہم اللہ) کی تقریظات و تصدیقات کے ساتھ شائع ہوئی اور اب بھی مکتبہ دارالعلوم سے شائع ہورہی ہے۔ اس وقت میرے سامنے محرم الحرام ۱۴۳۵ھ مطابق نومبر ۲۰۱۳ء کا ایڈیشن موجود ہے جو چار سو آٹھ (صفحات) پر مشتمل ہے۔
حضرت مولانا کی یہ کتاب مدارس عربیہ کے نظام کار، ان کے دستور اساسی، رجسٹریشن ، وقف اور دیگر تمام امور و معاملات میں شوریٰ کی شرعی حیثیت کی تفصیلات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں مدارس اسلامیہ کی مجالسِ شوریٰ ، اہتمام، مالیت اور جائیداد وغیرہ کے بارے میں شرعی احکام مفصل اور محقق طور پر بیان کیے گئے ہیں۔
دارالعلوم دیوبند میں ۱۹۸۰ء کے بعد مہتمم اور مجلس شوریٰ کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہوا ، جس کی وجہ سے بعض حلقوں کی طرف سے ایک نیا مسئلہ بڑی شدت کے ساتھ اٹھایا گیا کہ ان مدارس کی مجلس ِ شوریٰ اور ان کے مہتمم کی باہمی حیثیت کیا ہے؟ نیز مدرسہ کے مہتمم اور مدرسہ کی مجلسِ شوریٰ کے درمیان کس نوع کا تعلق ہے، ان میں سے کون حاکم ہے اور کون محکوم، بعض جگہ تو شوریٰ نے مہتمم کو اتنا پابند کردیا ہے کہ وہ کوئی کام شوریٰ سے پوچھے بغیر نہیں کرسکتا، اور نہ شوریٰ اس کے لیے کوئی ضابطہ بناتی ہے کہ جس کے تحت مہتمم کام کرلیا کرے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں سخت دشواری پیش آتی ہے۔ بعض جگہ مہتمم نے شوریٰ کو بالکل ہی بے حیثیت کردیا ہے اور خود مختاری کا پورا پورا اعلان کردیا ہے کہ کسی کام میں شوریٰ سے پوچھنے اور معلوم کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ شوریٰ ہی بیکار اور کالعدم ہے۔ دارالعلوم کے اختلاف کے پس منظر میں حضرت مولانا مسیح اللہ خان جلال آبادی رحمة اللہ علیہ نے ایک رسالہ ’رسالہٴ اہتمام و شوریٰ‘ لکھا جس میں مہتمم کو اصل اور شوریٰ کو تابع قرار دیا گیااور دارالعلوم کے دستور اساسی کو غیر شرعی بتایا گیا۔
چناں چہ دارالعلوم دیوبند نے صورتِ حال کی نزاکت پیش نظر اس موضوع کی تحقیق و تنقیح کے لیے حضرت مولانا کا انتخاب کیا۔ حضرت مولانا نے نہایت تحقیق و تلاش سے ان مسائل پر کتاب و سنت ، فقہ و فتاویٰ اور علمائے کرام آراء و اقوال کے قدیم و جدید مآخذ کو کھنگال کر نہایت سنجیدہ اور باوقار کتاب مرتب کی۔مولانا نے موضوع کے متعلق تمام گوشوں کو فقہی عبارات سے مدلل کیا اور ہر جگہ ایسی دل نشیں گفتگو کی ہے کہ مسئلہ پر شرح صدر ہوجاتا ہے۔کتاب کے مطالعہ سے محسوس ہوتا ہے کہ حضرت موٴلف کو مضامین کی ترتیب اور بسط دلائل میں خصوصی درک حاصل تھا۔ پوری کتاب اتنی متانت اور سنجیدگی سے لکھی گئی ہے کہ کہیں مجادلانہ یا ادعائی حتی کہ مجیبانہ انداز بھی نہیں اپنایا گیا، بلکہ زیر بحث مسئلہ کا صرف معروضی جائزہ لیا گیا۔
اس کتاب میں اولاً مدارس عربیہ کے نظام کار کی تشریح کی گئی ہے اور اکابر کے ارشادات کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے مدارس عربیہ کے عہدہ داروں میں کس منصب کی کیا شرعی حیثیت ہے۔ پھر شوریٰ کا شرعی مقام واضح کیا گیا ہے۔ شوری کا مسئلہ چوں کہ اس تحریر کا بنیادی نقطہٴ بحث تھا اس لیے اس موضوع کے تمام پہلوٴوں کا مبسوط جائزہ لیا گیا ہے اور بتلایا گیا ہے کہ عہد رسالت اور خلافت راشدہ میں شوری کا طرز عمل اور دائرہٴ کار کیا تھا۔ پھر قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی میں شوری کے لیے پائی جانے والی حقیقتوں کو پیش کیا گیا ہے اور یہ بات پوری طرح واضح اور ثابت کردی گئی ہے کہ مدارسِ عربیہ میں شوریٰ کی بالادستی شبہ سے بالاتر ہے۔ ان خالص علمی اور تحقیقی مضامین کے درمیان، شوری کی بالادستی کا انکار کرنے والے نقطہٴ نظر کے دلائل کا بھی پوری سنجیدگی سے جائزہ لیا گیا گیا ہے جس سے غلط فہمیوں کے ازالہ میں پوری مدد ملتی ہے۔ اسی کے ساتھ مدارس کے ستور اساسی اور سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے مسئلہ کو بھی منقح کیا گیا ہے۔ رجسٹریشن پر کیے جانے والے اعتراضات جا ئزہ لیا گیا ہے۔
اسی سلسلہ کا دوسرا اہم مسئلہ یہ تھا کہ یہ مدارس فقہائے کرام کی اصطلاح کے مطابق وقف ہیں یا وقف نہیں ہیں۔حضرت مولانا نے اس کتاب میں مسئلہٴ وقف کو خوب وضاحت سے بیان کیا ہے کہ کن شرائط کے ساتھ وقف صحیح ہوتا ہے ؛ مدرسہ کی ہر چیز کو نہ وقف کہا جاسکتا ہے اور نہ ہر چیز کے وقف ہونے سے انکار کیا جاسکتا ہے۔ جو جائد اد وغیرہ فقہی ضابطہ کے تحت وقف ہے اس پر وقف کے احکام لاگو ہوں گے کہ بیع وغیرہ کے ذریعہ اس کی ملکیت کسی کو منتقل نہیں کی جاسکتی اور ان کی حفاظت پوری طرح واجب ہوگی۔ لیکن جو اشیاء فقہی قاعدہ کے تحت وقف نہیں ، بلکہ ملکِ مدرسہ میں داخل ہیں، ان پر وقف کے احکام نافذ نہیں ہوں گے،البتہ مدرسہ کی ضروریات ان سے پوری کی جائیں گی۔مہتمم یا شوریٰ ایسی کسی چیز کو اپنی ذاتی ملک قرار دینے کا مجاز نہیں۔ اس کتاب سے آپ کی فقیہانہ شان نمایاں ہوتی ہے جو عمومی طور پر لوگوں کو پر آشکارا نہیں تھی۔
اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ حضرت مولانا نے اس کتاب کو لکھنے کے بعد حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمة اللہ علیہ اور حضرت مولانا معراج الحق صاحب دیوبندی رحمة اللہ علیہ بالاستیعاب پڑھ کر سنائی اور ان حضرات اکابر کے مشوروں کے مطابق اس میں حک و فک کیا۔ اس کے بعد اس کتاب کی نقول کو متعدد اہل علم (حضرت مولانا منظور احمد نعمانی و حضرت مولانا قاضی زین العابدین میرٹھی رحمہما اللہ تعالیٰ اراکین مجلس شوری دارالعلوم دیوبند) اور اساتذہٴ دارالعلوم (حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی، حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری اور حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی قاسمی مد ظلہم العالی) کو پیش کی جس کو ان حضرات نے ملاحظہ فرماکر اپنے نوٹس لکھے۔ اس کے بعد مجلسِ مناقشہ منعقد کی گئی اور تبادلہٴ خیالات کے بعد اصلاحات کی گئیں۔ حضرت مولانا محمد عثمان کاشف الہاشمی اور حضرت مولانا حکیم عزیز الرحمن اعظمی رحمہما اللہ کو بھی اس کتاب کی کاپی پیش کی گئی اور انھوں نے بھی اس پر مکمل اعتماد کا اظہار فرمایا۔ حضرت مولانا ریاست علی بجنوری رحمة اللہ علیہ نے اس کتاب میں ان تمام حضرات کا ذکر کیا ہے جن سے انھوں نے اس کتاب کی ترتیب کے دوران استفادہ، تبادلہٴ خیالات یا اور کسی طرح کی مددلی، حتی کہ انھوں نے خوردوں کے تعاون کا بھی بہت فراخ دلی کے ساتھ کا اظہار کیا ہے جو آپ کے اعلیٰ اخلاق کی واضح دلیل ہے۔
اس کتاب کی تیاری میں حضرت نے جہاں تفسیر و حدیث اور فقہ اسلامی کے امہات کتب سے استفادہ کیا ہے وہیں کچھ معاصر اور ماضی قریب کے اہل علم کتابوں سے بھی استفادہ کیا ہے جیسے حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمة اللہ علیہ کی ’التمہید لائمة التجدید‘ اور ’مواقف المسترشدین‘ ، شیخ عبد الوہاب خلاف کی ’اصول الفقہ‘، شیخ محمد خضری بک کی ’اصول الفقہ‘ اور ’تاریخ التشریع الاسلامی‘، شیخ ابو زہرہ مصری کی ’اصول الفقہ‘ اور ’تاریخ المذاھب الاسلامیة‘ اور قدیم مآخذ میں’الأحکام السلطانیة‘ (موٴلفہ شیخ ابو الحسن علی بن حبیب البصری المادروی متوفی ، ۴۵۰ھ )،’ الأحکام السلطانیة‘ (موٴلفہ قاضی ابو یعلیٰ الفراء ، متوفی۴۵۸ھ )، ’الموافقات‘ اور ’الاعتصام ‘(شیخ ابواسحاق الشاطبی الغرناطی المتوفی، ۷۹۰ھ) ، ’جامع الرموز‘ (موٴلفہ شیخ شمس الدین محمد خراسانی فہستانی متوفی ۹۶۹ھ) ، ’کشف الاسرار‘ (موٴلفہ علامہ عبد العزیز بخاری متوفی ۷۳۰ھ) وغیرہ ۔ مراجع کی فہرست میں ۹۵(پنچانوے) کتابوں کا ذکر موجود ہے۔
شوریٰ کے نظام کی اہمیت اور اس کی عصری معنویت
خیر القرون میں منصب خلافت سے لے کر ماتحت امارتوں تک مناصب کی تقسیم ، امور کی تنفیذ و تعمیل کا معاملہ وامرھم شوریٰ بینھم کی اساس پر قائم رہا۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ بنیاد کمزور ہوتی چلی گئی اور اسلامی حکومت میں شورائیت اور اہلیت کی جگہ وراثت کا عمل جاری ہوگیا۔ خیار امت اور علمائے کرام نے روز اول ہی سے اس غلطی کا ادراک کرلیا تھا ، انھوں نے اس کی اصلاح کی کوششیں بھی کیں ، لیکن اسلامی حکومتیں وراثت کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ بہرحال علمائے کرام سلاطین کے خلاف کام کرنے کے بجائے شورائیت کے واجبِ کفایہ کو اپنے علم و حکمت کے دبستانوں میں لاگو کیا اور شوریٰ کی بالادستی و سرپرستی کا عمل جاری کیا۔ حضرات علمائے کرام نے شوریٰ کی زیر سرکردگی میں علوم و فنون کی جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں وہ اسلامی کتب خانہ کی صورت میں موجود ہیں۔ جہاں جہاں اسلامی حکومتیں قائم رہیں علمائے کرام اپنی پسندیدہ روش پر قائم رہے ، انھوں نے سلاطین سے کوئی سروکار نہیں رکھا اور شوریٰ کے ذریعہ کتاب و سنت کی طرف مراجعت کرکے غیر منصوص مسائل کے شرعی احکام کو مدون کرتے گئے اور علوم اسلامیہ کا ایک قابل قدر ذخیرہ جمع کردیا۔
ہندوستان میں مسلم حکومت کی تحلیل کے بعد جب مدارس اور دینی مراکز سے اقتدار اسلامی کی سرپرستی ختم ہوگئی تو انھوں نے ملت اسلامیہ کی بقا و تحفظ کی خاطر مدارس اسلامیہ کا نظام مرتب کیا۔ اکابرین نے اس نظام کو شوریٰ کی بنیادوں پر استوار کیا ۔ یہ دیدہ ور اور ژرف نگاہ اکابر اسلامی تعلیمات ، اس کے مزاج و مذاق اور مقاصد شریعت کے سلسلہ میں خداداد بصیرت اور زہد و تقوی کی صفات سے مزین تھے۔ انھوں نے اس نظام میں شوریٰ کو وہی مقام دیا جس کی وہ مستحق تھی۔
یہی وجہ ہے کہ دارالعلوم کی تاریخ میں ایسا بھی نازک موقع آیا جب سرپرستِ دارالعلوم (حکیم الامت حضرت مولانا اشرف تھانوی رحمة اللہ علیہ) اور مجلسِ شوریٰ کے درمیان اس طرح کا مسئلہ پیش آیا اور دیانت و امانت کے اس عہد زریں میں اکابر نے عملی طور پر اس قضیہ کو اس طرح حل کردیا کہ سرپرست نے شوریٰ کے سامنے اپنا استعفا پیش کردیا جو شوریٰ کی بالادستی کے اعتراف کے ساتھ اختلاف کو ختم کرنے کا ایک نہایت کامیاب اور قابل تقلید حل تھا۔ کاش کہ اسی اعلی نمونہ کی دیگر مواقع پر بھی پیروی کی گئی ہوتی تو دارالعلوم بہت بڑی آزمائش سے بچ گیا ہوتا، لیکن ماشاء اللہ کان وما لم یشأ لم یکن وھو الحکیم الخبیر۔
دارالعلوم دیوبند کی تاریخ کے طالب علم کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دارالعلوم کی نمایاں خصوصیات میں دو چیزیں نہایت اہم ہیں؛ ایک دارالعلوم کا عوامی چندہ کا نظام قائم کرنا، اس کو مستحکم اور منظم کرنا، دوسرے مدرسہ کو مجلس شوریٰ کے تحت قائم کرنا ۔ حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة اللہ علیہ کے اصول ہشتگانہ میں بھی یہ دونوں خصوصیات بہت نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ یہ دونوں عناصر دراصل تحریک مدارس ِکی روح ہیں اور ان بنیادوں میں کمزور ی سے یہ نظام کمزوری اور لاقانونیت کی نذر ہوجا ئے گا۔ ان خصوصیات سے بانیان دارالعلوم کی دور بینی و ژرف نگاہی کا بھی انکشاف ہوتا ہے کہ دنیا میں جمہوری دور کی آمد کی آہٹ انھوں نے کتنی پہلے محسوس کرلی تھی اور جمہوری بنیادوں پر اسلامی اداروں کو قائم کرکے دنیا کے سامنے بہترین نمونہ بھی پیش کردیا تھا۔
شوری کا یہ نظام ہندوستان جیسے ملک میں مسلمانوں کے لیے کسی نعمت ِ عظمی سے کم نہیں۔یہ کتاب اہل مدارس کے لیے بہت کام کی ہے ، اگر ارکانِ شوریٰ اور نظماء و مہتممین حضرات شرعی حدود میں رہ کر مدارس کے نظم و نسق کو چلائیں تو ان کے مابین ناگوار واقعات نہیں پیش آئیں گے ۔ آج کے پرفتن اور ہوائے نفسانی کے غلبہ کے دور میں اداروں اور جماعتوں کو شخص واحد کی امارت و قیادت میں دینے اور بڑی بڑی جماعتوں اور عظیم الشان اداروں میں عملی طور پر وراثت کی روایت پڑنے کی صورت میں بااختیار اور ہیئت حاکمہ کی حیثیت رکھنے والی مجلس شوریٰ قیام اور اس کے ذریعہ طے شدہ ہدایات پر عمل بہت سے فتنوں اور مکروہات سے حفاظت کی ضمانت ہے۔
اگرچہ یہ کتاب ایک وقتی ضرورت اور عارضی حالات کے پس منظر میں لکھی گئی، لیکن اس کے مضامین مین بڑی آفاقیت اور وسعت ہے۔ یہ موضوع اس وقت جتنا اہم اور ضروری تھا، آج اس کی ضرورت و اہمیت دو چند ہوگئی ہے؛ کیوں کہ ایک طرف مدارس کو خارجی فتنوں کا سامنا ہے اور دوسری طرف بہت سی داخلی کمزوریاں اس نظام میں در آئی ہیں:

فرد را ربطِ جماعت رحمت است
جوہرِ او را کمال از ملت است

تاتوانی با جماعت یار باش
رونقِ ہنگامہٴ احرار باش

حرز جان کن گفتہٴ خیر البشر
ہست شیطان از جماعت دور تر

فرد و قوم آئینہٴ یک دیگر ند
سلک و گوہر کہکشان و اخترند

فرد می گیرد ز ملت احترام
ملت از افراد می یابد نظام
(رموز بے خودی، علامہ اقبال)

حضرت مولانا حسیب الرحمن کشن گنجی رحمت الہی کی آغوش میں

حضرت مولانا حسیب الرحمن کشن گنجی رحمت الہی کی آغوش میں
سابق شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ دارالعلوم /حیدر آباد

از :امدادالحق بختیار*

یوں تواس دنیا میں روزانہ لاکھوں کی تعداد میں انسانوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے ؛ لیکن بہت سی شخصیات ایسی ہوتی ہیں ، جن کے جانے پر بہت سے دل رنجیدہ اور بہت سی آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں ؛ کیوں کہ اس دنیا میں انسانوں کی کمی نہیں ؛ لیکن کام کے انسانوں کو کمی ہی نہیں ؛ بلکہ قحط ہے ، اقبال نے اس مفہوم کوخوب ادا کیاہے : ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے # بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ۔اور میر تقی میر کہتا ہے :مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں # تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں۔ اسی لیے ایسے عظیم انسان روئے زمین پر اللہ کی بڑی نعمت ہوتے ہیں ، وہ نادر ونایاب ہوتے ہیں ، ان کے چلے جانے سے ایک بڑا طبقہ متاثر ہوتا ہے ۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی  ، جن کے علم حدیث کا ڈنکا پورے بر صغیر میں بجتا ہے اور جن کی شاگردی پر بڑے بڑے علماء کو ناز ہے ،آپ کے شاگرد اپنے وقت کے آفتاب وماہتاب ہیں، برصغیر کے بڑے بڑے شیخ الحدیث آپ کے شاگرد ہیں، اسی لیے پورے بر صغیر میں شیخ الاسلام کے شاگردوں کو قدر، احترام اور رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،علم حدیث میں کسی کے پختہ اور ماہر ہونے کے لیے شیخ الاسلام کی شاگردی ہی معتبر اور بڑی سند مانی جاتی ہے ۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا حسیب الرحمان صاحب بھی گلشن مدنی کے گل سرسبد تھے، آپ نے اپنے استاذ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ، بڑی خاموشی ، سنجیدگی اور متانت کے ساتھ نصف صدی سے زائد عرصہ تک علم حدیث کی بے لوث خدمت انجام دی ، مگرحضرت مدنی کا یہ روشن علمی چراغ ۲۴ / دسمبر ۲۰۱۸ء =۱۶/ ربیع الثانی ۱۴۴۰ھ اتوار اور پیر کی درمیانی رات میں تقریباً سوا بجے رحمت خداوندی کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے محو خواب ہوگیا۔
آپ بلند پایہ محدث ، ماہر مدرس اور دل نشیں مقرر تھے ، آپ کی وفات بلاشبہ بڑا علمی خسارہ ہے،جس سے علمی دنیا میں افسوس وغم کی لہر دوڑ گئی ؛بالخصوص جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد، یہاں کے اساتذہ ،ذمہ داران، منسوبین ، متعلقین اور بے شمار فیض یافتگان کے قلب و دماغ پریہ خبر بجلی کی طرح گری کہ حضرت شیخ الحدیث اس دار فانی سے دار بقا اور رحمت الہی کی طرف کوچ کرگئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
ولادت
آپ کی ولادت صوبہ بہار کے ضلع کشن گنج ، تھانہ بہادر گنج ، پوسٹ خدا گنج کے موضع ڈابر میں۳۷ یا۱۹۳۶ء میں ہوئی،آپ کا گاوٴں شہر کشن گنج سے شمال کی جانب ۲۲ کلو میٹرکی دوری پر واقع ہے۔ آپ کے والدماجد الحاج شمس الحق بن محمد حسن علی (متوفی۶۳یا ۱۹۶۴ء)نسباً شیخ صدیقی ، دینداراور بڑے زمیندار تھے،حضرت مولانا محمد علی مونگیری  سے مرید تھے ،خیر کے کاموں میں بھر پور حصہ لیتے تھے ،انہوں نے ، بیوہ مسکین اورغریبوں کے لیے (۱۶)بھیگہ زمین وقف کی تھی،ایک مسجد اپنے خرچ سے بنوائی اور اس کے لیے (۲۲)ایکڑ زمین بھی وقف کی ،اس مسجد کا موجودہ نام آپ کے والد صاحب کی طرف نسبت کرتے ہوئے ” مسجد شمس “ ہے ، مولانا منت اللہ صاحب  کثرت سے آپ کے پاس تشریف لاتے تھے ،ان کی ضیافت میں ہمیشہ ایک گائے اور ایک بکرا ذبح ہوتا تھا ،ان کی زندگی میں ہر رمضان کو ایک گائے ذبح ہوتی اور( ۵۰۰) لوگوں کی دعوت کر تے تھے ۔
تعلیمی سفر
آپ نے اولاً دارالعلوم لطیفیہ کٹیہار(صوبہ بہار) میں تین سال ۴۸-۱۹۵۰ء تک ابتدائی تعلیم حاصل کی،بعد ازاں( ۱۱)یا (۱۲) سال کی عمر میں اعلی اور بہتر تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے، ۱۹۵۱ء میں دارالعلوم دیوبند میں آپ کا داخلہ ہوا اورچھ سال بعد ۱۹۵۶ء میں دورہ حدیث سے فراغت ہوئی ،بعد ازاں آپ نے دارالعلوم ہی میں ۱۹۵۷ء میں تکمیل علوم کیا اور ۱۹۵۸ء میں تکمیل افتاء بھی۔
دارالعلوم میں آپ کے اساتذہ
آپ نے دارالعلوم میں اپنے وقت کے آفتاب و ماہتاب ، علوم اسلامیہ کے ماہر ین اور میدان معرفت کے رمز شناس اساتذہ اور متبحر علماء سے کسب فیض کیا ، اس وقت اس گلشن قاسمی و رشیدی کی فضا عجیب روحانی اور عرفانی تھی ، اس گلشن نانوتوی میں مایہ ناز اساتذہ کے علوم کا دریا رواں دواں تھا ، جس سے ایک عالم علمی اور روحانی سیرابی حاصل کررہا تھا ،ایک طرف شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کی مسند حدیث کی جلوہ سامانی تھی ، تو دوسری طرف شیخ الادب والفقہ حضرت مولانا اعزاز علی امروہی کی شفقت ، محبت اور تربیت کے سایہ میں کتاب وسنت کے موتیوں کی تراش خراش ہورہی تھی، جہاں علامہ بلیاوی  کی نکتہ سنجیوں اور دقیقہ آفرینیوں سے طالبان علوم نبوت محظوظ ہورہے تھے ، وہیں حکیم الاسلام کے ذریعہ علوم نانوتوی کے چشمہ سے فیضان علم جاری وساری تھا ، اس عظیم درس گاہ میں مولانا حسیب الرحمان نے سالہا سال تک اسلامی علوم کے ان میناروں اور کتاب سنت کے معتبر شارحین سے بھر پور استفادہ کیا ۔
آپ کے دارالعلوم کے اساتذہ میں سرفہرست شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ،مولانا فخرالدین صاحب ،علامہ ابراہیم بلیاوی ، مولانا فخرالحسن صاحب ،مولانا نعیم صاحب ،مولانا بشیر احمد خان صاحب ، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہی ،مولانا معراج الحق دیوبندی صاحب ،حضرت مولانامحمد حسین ”ملا بہاری“ صاحب ، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمدطیب صاحب ،مولانا انظر شاہ صاحب ،مولانا محمدسالم صاحب ، مولاناسید حسن دیوبندی صاحب، مولانا ظہور صاحب والد مولانا خورشید صاحب اورمفتی مہدی حسن صاحب قابل ذکرہیں۔
تدریسی زندگی
دارالعلوم دیوبند سے تمام علوم متداولہ میں سند فراغ حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے وطن تشریف لے گئے ، آپ کے والد محترم چوں کہ حضرت مولانا منت اللہ رحمانی  کے خوشہ چیں اور ان سے تعلق رکھتے تھے ؛اس لیے ان کی خواہش تھی کہ مولانا حسیب الرحمان  بھی مولانا کی سرپرستی میں اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کریں ، حسن اتفاق کہ آپ ابھی اپنے دولت کدہ پر ہی تھے کہ جامعہ رحمانیہ مونگیر میں تدریس کے حوالے سے حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کا مکتوب گرامی قاضی مجاہد الاسلام قاسمی  کے ذریعہ آپ کے گھر پہنچا ، آپ نے والد صاحب کی خواہش اور حضرت مولانا کے حکم پر جامعہ رحمانیہ میں تدریس شروع فرمائی۔
آپ نے جامعہ رحمانیہ میں ۱۹۵۹ء -۱۹۸۰ء پورے ۲۲ سال تک تدریسی خد مات انجام دیں ،یہاں آپ نے علم الفقہ سے تدریس کا آغاز فرمایا اور تین سال بعد ہی آپ کو مشکاة شریف تفویض کی گئی ،جامعہ رحمانیہ میں بخاری کے علاوہ تمام کتابیں آپ کے زیر درس رہیں ، جامعہ رحمانیہ میں دورہ کی کتابوں میں سب سے پہلے نسائی اورابن ماجہ آپ سے متعلق ہوئیں پھر مسلم ،ابوداؤد ،ترمذی اور موطین بھی آپ کو تفویض کی گئیں۔
جس زمانہ میں آپ رحمانیہ میں ترمذی شریف وغیرہ حدیث کی کتابیں پڑھا رہے تھے ، اسی زمانہ میں دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ پر مشتمل ایک وفدرحمانیہ آیا ، مولانا منت اللہ رحمانی  کی عادت تھی کہ ایسے موقع پر اکابر سے اپنی جامعہ کے اساتذہ کے درس میں بیٹھنے کی خواہش کرتے تھے ، چنانچہ اس وفد میں شریک علامہ نعیم صاحب ،ملاحسن بہاری، مولاناعزیز گل صاحب ناظم تنظیم وترقی اور مفتی احمد سعید صاحب نائب مفتی دارالعلوم دیوبند،مولانا حسیب الرحمان صاحب کے ترمذی کے سبق میں تشریف لائے اور پورے سبق میں بیٹھے ، سبق کے بعد مولانا عزیز گل صاحب نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اب ایسی تعلیم تو دارالعلوم دیوبند میں بھی نہیں ہورہی“ واضح رہے کہ ایک زمانہ میں رحمانیہ کا تعلیمی معیار کافی بلند تھا۔
حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کے انتقال کے بعد آپ جامعہ رحمانیہ سے سبک دوش ہوگئے اوردارالعلوم رحمانیہ ارریہ میں تدریسی سلسلہ کو جاری فرمایا ،یہاں آپ نے ۱۹۸۱ء-۱۹۸۳ ء کل تین سال تک تدریسی خد مات انجام دیں ۔اسی طرح آپ نے مفتاح العلوم /مئومیں ۱۹۸۴ء میں صرف ایک سال تدریسی خد مات انجام دیں ۔
جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد، جو ملک کے مشہور اور نامور اداروں میں سے ایک ہے ، جس نے اپنے بانی کے اخلاص اور اپنے ناظم کی شبانہ روز جدوجہد سے تھوڑے ہی عرصہ میں نہ صرف پورے ملک بلکہ بیرون ملک بھی نمایاں مقام اور معتبر نام حاصل کیا، جب یہاں دروہ حدیث قائم کرنے کا عزم کیا گیا تواس مبارک شعبہ کے قیام اور افتتاح کے لیے شیخ الاسلام کے دو عظیم شاگردوں پر نگاہیں جاکر رک گئیں (۱)مولانا حسیب الرحمان صاحب (۲)اوردوسرے مولانا محمد انصار صاحب مد ظلہ العالی؛ چنانچہ دونوں حضرات ۱۹۸۵ء میں یہاں تشریف لائے اوردورہ حدیث شریف کا افتتاح فرمایا اور اس روز سے جامعہ میں مولانا حسیب الرحمان صاحب کے آخری سال تک بخاری شریف جلد اول کا درس آپ سے ہی متعلق رہا۔
آپ کو علم حدیث سے خصوصی لگاوٴ تھا ، ایک لمبے زمانے تک آپ علم حدیث سے وابستہ رہے، جو بڑی سعادت کی چیز ہے ، آپ نے ۱۹۶۲ء سے لے کر ۲۰۱۵ء تک تقریبا ً ۵۳ سال تک یعنی نصف صدی سے زائد علم حدیث کی خدمت انجام دی،طحاوی شریف اور شمائل ترمذی کے سوا آپ نے حدیث کی متداول تمام کتابیں پڑھائی ہیں ۔تقریباً چار دہائی تک آپ نے بخاری شریف پڑھائی ، امام بخاری ،صحیح بخاری اور اس کی شرحوں کے تعلق سے فرماتے تھے کہ حدیث کی کتابوں میں بخاری سے بہت دل چسپی ہے ،روایات سے استنباط اور اثبات تراجم میں بہت لطف آتا ہے، بخاری کا انداز کلام شاہانہ ہے ،امام بخاری اصحاب ظواہر میں سے ہیں ،شروح بخاری میں عینی سے بہت متأثر ہوں کیوں کہ اس میں تمام فنون کی تحقیق ہے ،یہ محقق کے لیے ہے اور مدرس کے لیے فتح الباری مناسب ہے ، دیگر فنون کے بارے میں فرمایا کہ فقہ میں ہدایہ اور تفسیر میں جلالین سے مناسبت رہی۔
شاید علم حدیث کی اسی خدمت کی وجہ سے ایک مرتبہ آپ کی بڑی صاحبزادی نے نبی پاک ﷺ کو خواب میں دیکھا تو کسی صاحب نے خواب میں ہی ان سے پوچھا کہ کیا حضور ﷺ سے آپ کی جان پہچان ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کے والد کی جان پہچان ہے ۔
تدریس اور تقریر میں آپ کا انداز
اپنی تدریسی زندگی میں وہ وقت کے بڑے پابند تھے ،بڑھاپہ اور کمزوری کے باوجود پابندی سے اسباق پڑھاتے ، ہم نے شاید ہی کبھی یہ سنا ہو کہ شیخ صاحب کا آج درس نہیں ہورہا ہے ، یہ چیز ہم جیسے فضلاء کے لیے لائق تقلید ہے ، آپ کا انداز بیان دل نشین ہوتا ، آپ کا درس مرتب اور مدلل ہوتا اور تسلسل کے ساتھ جاری وساری رہتا ، طلبہ آپ کے انداز درس کی تعریف کرتے ، جامعہ میں جب بھی کوئی بڑا پروگرام ہوتا؛ چاہے وہ ختم بخاری شریف کا اجلاس ہو یا طلبہ کی انجمن النادی العربی کا اختتامی جلسہ یا کوئی بھی مناسبت ہوتی ، شیخ الحدیث  کا بیان ضرور ہوتا اور اساتذہ اور طلبہ یکساں طور پر آپ کے بیان سے محظوظ ہوتے ، ترتیب ، تسلسل ، استدلال اور استنباط آپ کی تقریر کے نمایاں اوصاف تھے، بسا اوقات اساتذہ کو بھی آپ کی استنباطی تقریر پر عش عش کرتے ہوئے دیکھا گیا، حضرت مولاناحمید الدین عاقل حسامی  کی رفاقت میں بھی بہت سی جگہ آپ تقریر کرنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے ، ایک زمانہ میں شہر میں کسی جگہ تسلسل کے ساتھ علماء کے خطابات ہوتے تھے ، جن میں شہر کے صرف تعلیم یافتہ حضرات ہی ہوتے ، مولانا حسیب الرحمان صاحب  بھی پابندی کے ساتھ اس پروگرام میں شرکت فرماتے تھے ، ایک مرتبہ فرمار ہے تھے کہ ان تقریروں کے لیے میں بہت تیاری اور محنت کرتا تھا، وہ بہت اہم اور معلوماتی تقریریں ہیں کاش ان تقریروں کو بھی کوئی حاصل کرکے مرتب کرکے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اپنے تعزیتی بیان میں ارشاد فرماتے ہیں:
”حضرت مولانا حسیب الرحمان صاحب  بہت ہی مخلص، کامیاب اور بافیض استاذ تھے ، انہوں نے جامعہ رحمانیہ مونگیر بہار اور جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآبادمیں طویل عرصہ تک درس نظامی کی منتہی کتابوں کا درس دیا ، وہ ایک مایہ ناز استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے مقرر بھی تھے ، ان کی انکساری اور سادگی سے سلف صالحین کی یاد تازہ ہوجاتی تھی، انہوں نے پچاس سال سے زیادہ عرصہ تک حدیث نبوی کا درس دیا ، وہ ایک ماہر محدث اورمایہ ناز فقیہ تھے، وہ تدریس کے کام کو ایک عبادت کی طرح انجام دیتے تھے ، وہ شہرت سے بچتے ہوئے خاموش خدمت انجام دیتے تھے “۔
تلامذہ
ملک کے طول وعرض میں آپ کے بے شمار تلامذہ ہیں ، جن میں بہت سے بڑے ناموراور اس وقت ملک کے چوٹی کے علماء میں ان کا شمار ہے جیسے مولاناولی رحمانی صاحب ،مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب ،مولانا بدرالحسن صاحب ،مولانا رضوان القاسمی صاحبوغیرہ اور آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے بیشتر علماء اور فضلاء آپ کے شاگردیا شاگردوں کے شاگرد ہیں، یہاں مولانا سید احمد ومیض ندوی استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد ، مولانا عبد القوی صاحب ناظم ادارہ اشرف العلوم وغیرہ بھی آپ کے شاگرد ہیں ۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اپنے تعزیتی بیان میں فرماتے ہیں:
”ہندوستان اور بیرون ہند میں ان کے شاگرد پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں بہت ہی ممتاز اور اصحاب افتاء اور مصنفین شامل ہیں ،اس حقیر کو بھی مولانا سے حدیث وفقہ کی نہایت اہم کتابیں پڑھنے کا شرف حاصل ہے ، یقیناً ان کی وفات دنیائے علم کا بڑا حادثہ ہے “۔
فتاوی نویسی
آپ نے دارالعلوم دیوبند سے تکمیل افتا ء بھی کیا تھا اور حضرت مفتی مہدی حسن صاحب کی زیر نگرانی فتوی نویسی کی مشق کی تھی ؛ چنانچہ آپ کوجہاں علم حدیث میں تبحر حاصل تھا، وہیں فقہ و فتاوی پر بھی آپ کی گہری نظر تھی ، حضرت مولانا منت اللہ رحمانی  ،رجال شناسی جن کا خاصہ تھا انہوں نے آپ کی صلاحیتوں کے پیش نظر جامعہ رحمانیہ میں فتاوی نویسی کی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد کی ؛ چنانچہ۱۵ سال تک آپ نے وہاں یہ خدمت بھی انجام دی ،آپ کے تحریر کردہ فتاوی کی ایک بڑی تعداد ہے اور یہ تمام فتاوی آپ کے گھرپر موجوداور محفوظ ہیں ، خدا کرے کوئی ان کو مرتب کردے اور جدید قالب میں ڈھال دے ، یہ ایک بڑا کام ہوگا ، حضرت شیخ کے صاحبزادگان کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہیے ۔
جامعہ میں آخری ایام سے لے کر علالت و وفات تک
آخری سالوں میں آپ کے لیے سفر کافی دشوار ہوگیا تھا ، آپ کے ساتھ بہار سے آپ کے صاحبزادے آتے تھے اور پھر جب مکہ مکرمہ میں حج کے دوران آپ کی اہلیہ محترمہ کا انتقال ہوگیا ، تو اس کے بعد آپ کی طبیعت گھبرانے لگی اور تنہائی میں وحشت سی ہونے لگی ، بسا اوقات نماز عشاء کے بعد حضرت شیخ مجھے طلب فرماتے اور دیر تک باتیں کرتے رہتے،اس کیفیت کے ساتھ بھی کئی سال تک جامعہ تشریف لاتے رہے اور مسند حدیث کو رونق بخشتے رہے ، بالآخر ۲۰۱۵ء کے تعلیمی سال کے اختتام کے بعد جب گھر تشریف لے گئے تو نئے تعلیمی سال میں طبیعت کچھ ناساز ہوگئی اور آنے کے سلسلہ میں پس و پیش ہونے لگے ، جامعہ کی طرف سے انہیں کسی قسم کی پابندی نہیں تھی ؛ بلکہ جامعہ اور ناظم جامعہ کی یہ خواہش تھی کہ حضرت شیخ بس تشریف لے آئیں ، چاہے پڑھائیں یا نہ پڑھائیں ، جامعہ اپنے عظیم محسن کے انتظارمیں ہی رہی ؛ لیکن ادھر حضرت شیخ کی طبیعت مزید ناساز ہوتی رہی اور کمزوری بڑھتی رہی ۔
آپ لمبے عرصہ سے شوگر کے مریض تھے ، اخیر میں اس کا حملہ گردوں پر ہوا ، علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کیا گیا ؛ لیکن بقولے : مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، بالآخر ۲۴ / دسمبر ۲۰۱۸ء =۱۶/ ربیع الثانی ۱۴۴۰ھ اتوار اور پیر کی رات میں تقریباً سوا بجے علم حدیث کا یہ خادم اپنے رب حقیقی سے جاملا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔اور ظہر کے بعد آپ کے آبائی گاوٴں ڈابر میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور علوم اسلامیہ کے اس خزینہ کو سپرد خاک کردیا گیا ۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد انصار صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے تعزیتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا حسیب الرحمان کا انتقال پیر کے دن ہونا قابل رشک ہے ، یہ اللہ کا ان پربڑا انعام ہے ، جو موت سے ہی شروع ہوگیا ، اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آگے بھی ان پر اللہ کے انعامات کی بارش ہوتی رہے گی۔ شیخ الحدیث صاحب نے فرمایا کہ ویسے تو دنوں میں افضل جمعہ کا دن ہے ؛ لیکن موت کے اعتبار سے پیر کا دن افضل ہے ، اسی دن نبی پاک ﷺ کی بھی رحلت ہوئی ہے اور امام بخاری نے بھی بخاری شریف میں باب قائم کیا ہے کہ یوم الاثنین(یعنی پیر کا دن) موت کے لیے تمام دنوں میں افضل ہے ۔
پسماندگان
آپ کے پس ماندگان میں تین صاحبزادے ہیں اور ایک صاحبزادے کی وفات ہوچکی ہے:(۱) جناب مظفرحسن صاحب (IAS INCOME TAX OFFICER) (۲) مناظر سہیل (مرحوم) (۳)جناب محمد مظاہر الباری(سابق مکھیہ)(۴) جناب محمد محاسن احمد (لیکچرار)اور تین صاحبزادیاں:(۱)محترمہ نفیس فاطمہ (۲)محترمہ فرحت فاطمہ (۳)اورمحترمہ رفعت فاطمہ ہیں، آپ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضور پاک ﷺ کو اپنی صاحبزادیوں میں سب سے زیادہ سیدہ فاطمہ سے محبت تھی ؛ اسی لیے میں نے ” فاطمہ “ کواپنی تمام بیٹیوں کے نام کا جز رکھا ہے ۔
حضرت شیخ کے عام معمولات اوراد وظائف اور دعائیں
صبح وشام کی تلاوت:سورہ فاتحہ ، سورہ بقرہ کا پہلا رکوع ، سورہ حشر کا آخری رکوع ، سورہ یس مع سورہ دہر کا آخری رکوع اور تین مرتبہ یہ دعا : بسم اللہ الذی لایضر مع اسمہ شیء فی الارض ولا فی السماء وہو السمیع العلیم ۔
مغرب و عشا ء کے درمیان: تنزیل السجدة ، سورہ تبارک الذی ، سورہ دخان ، سور رحمن ، سورہ واقعہ ، سورہ حدید ، سورہ قیامہ ، سورہ جمعہ ، سورہ دہر۔
جمعہ کے روزسورہ کہف اور صلاة التسبیح۔
صبح و شام کی تسبیحات:سبحان اللہ ، الحمد للہ ، اللہ اکبر ، لاالہ الا اللہ ، استغفار اور درود شریف سو سو مرتبہ۔
صبح و شام کی دعائیں:اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم، اعوذ بکلمات اللہ التامة من شر ماخلق (تین مرتبہ )اللہم اجرنی من النار و ادخلنی فی جنة الفردوس بفضلک ومنک ورحمتک (تین بار) حسبنا اللہ ونعم الوکیل ونعم المولی ونعم النصیر (۲۵مرتبہ مغرب اور فجر کے بعد) اللہم اصبحنا واصبح الملک کلہ، للہ والحمد للہ، لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر(صبح تین بار) اللہم انی اسئلک خیر ما فی ہذا الیوم وخیر ما بعدہ (صبح تین بار)
حضرت شیخ الحدیث- کچھ یادیں کچھ باتیں
۲۰۱۰ء میں دارالعلوم دیوبند کے شعبہ افتاء سے تکمیل کے بعد حضرت مفتی حبیب الرحمان صاحب دامت برکاتہم العالیہ(صدر مفتی دارالعلوم دیوبند) کے حکم سے احقر تدریس کے لیے دارالعلوم حیدرآباد حاضر ہوا ، یہ میرے لیے بالکل نئی دنیا تھی ، طالب علمی کی زند گی سے نکل کر تدریس کے ماحول میں آناہر ایک کے لیے آسان نہیں اور میں بچپن سے ہی والد محترم  کے ساتھ رہتا تھا ، جن کی وجہ سے ڈر کی حد تک علماء کا احترام میرے دل میں بیٹھا ہوا تھا ، یہاں حضرت شیخ الحدیث مولانا حسیب الرحمان صاحب ، شیخ ثانی مولانا انصار صاحب ، مولانا نعمان الدین ندوی صاحب اور دیگر کئی اساتذہ میرے اساتذہ اورتقریباً والد محترم کی عمرکے تھے ، میں طالب علمانہ عادت کے اعتبار سے ان سے بے تکلف ہونے کی ہمت نہیں کرتا تھا اور ان کے سامنے زیادہ تر خاموش رہتا تھا ، ایک مرتبہ شیخ صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ مولانا آپ بہت خاموش رہتے ہیں ، کیا کوئی پریشانی ہے ؟ پھر خود ہی فرمانے لگے کہ آج کل خاموش رہنا اور کم بولنا ہی مناسب ہے ۔
شیخ الحدیث  اکابر و اسلاف کا نمونہ اوران کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، پرانے بزرگان دین کی طرح سادگی پسند تھے ،آپ دو تہی ٹوپی ، سوتی کپڑے کا کرتہ اورہمیشہ تہبندمیں رہتے تھے ، اگر کبھی کسی پروگرام یا سفر میں جانا ہوتا تبھی پائجامہ پہنتے تھے، آپ کی مجلس میں بیٹھو تو ایسا لگتا کہ ہم اکابر واسلاف کے زمانہ؛ بالخصوص دارالعلوم دیوبند کے اکابر کے دور میں ہیں ، بات بات میں اکابر دیوبند کے واقعات ، ملفوظات و ارشادات موقع ومحل کی مناسبت سے سناتے ،اکابر دیوبند اور حضرت تھانوی  کے ملفوظات و ارشادات کا ایک بڑا ذخیرہ آپ کے سینہ میں محفوظ تھا،خود آپ کے اپنے بہت سے ملفوظات آج تک یہاں کے اساتذہ اور طلبہ کے زبان زد ہیں ، جنہیں مجلسوں میں دہراکرتازگی اور نصیحت حاصل کی جاتی ہے، نئے اساتذہ کوحضرت تھانوی کی کتابوں اور ملفوظات کے مطالعہ کی تاکید فرماتے۔
اساتذہ کو مفید مشوروں سے نوازتے ، اپنے طویل تجربات کی روشنی میں قیمتی نصیحت فرماتے ، جلوت سے زیادہ وہ خلوت پسند تھے ، جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد جہاں انھوں نے اپنی زندگی کے قیمتی(۳۳)سال گزارے ؛ لیکن اس طویل عرصہ میں سادگی کا دامن کبھی چھوٹنے نہیں دیا ،انہوں نے اپنی ضروریات بہت محدود رکھی تھیں ، وہ زندگی کو پھیلانے اور سامان تعیش کے بڑھانے کے روادار نہیں تھے؛ اسی لیے جامعہ میں ان کا مکمل سامان صرف ایک بیگ تھا # اس کی امیدیں قلیل ،اس کے مقاصد جلیل ۔
حضرت شیخ الحدیث اپنے معمولات کے بڑے پابند تھے ، جامعہ میں بڑی محتاط زندگی گزارتے تھے ،حالانکہ طویل عرصہ سے شوگر کے مریض تھے ؛ لیکن چہرے پر وہی تازگی اور صحت بھی اچھی معلوم ہوتی تھی ، بالیقین یہ علم حدیث کی خدمت کی برکت تھی۔آپ عصر کے بعد جامعہ کے دفتر کے سامنے والے چمن میں کرسی پر تشریف رکھتے تھے ، عشاء کے بعد تھوڑی دیر کے لیے دفتر کے پاس انتظار گاہ کی اپنے کمرہ سے متصل کسی کرسی پر بیٹھتے ، آپ جب تک تھے جامعہ میں رونق تھی ، آپ کے جانے کے بعد جامعہ اور بالخصوص یہ دونوں حصے بالکل سونے پڑگئے ، جہاں حضرت مولانا حمید الدین عاقل حسامی  کی وفات حسرت آیات اس جامعہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے ، وہیں حضرت شیخ الحدیث کی وفات بھی اس کے لیے خسارہ عظیم ہے ۔
دو طالب علم ہمیشہ آپ کی خدمت میں رہتے تھے ،کبھی ان طلبہ کو آپ کی ڈانٹ بھی سننی پڑتی تھی ؛ لیکن حضرت شیخ بعد میں ان طلبہ سے فرماتے کہ میری بات کا برا مت ماننا ، کبھی غصہ میں کہہ دیتا ہوں، آپ چائے اور پان کے عادی تھے ، دن بھر میں تقریباً آٹھ یا نو چائے پیتے تھے ، دن میں کئی بار چائے اپنے ہی ہاتھ سے بناتے تھے ، ہر وقت پان چباتے رہتے ، ایک دن میں تقریباً ۳۵ پان چبا جاتے ، اخیر میں آپ کی خوراک بہت کم ہوگئی تھی ، ایک سے ڈیڑھ چپاتی ہی آپ تناول فرماتے ، تنخواہ کی بڑی مقدار دوا پر خرچ ہوتی اور باقی پان اور چائے وغیرہ پر ، آپ تہجد ، نماز باجماعت اور اوراد وظائف کے بڑے پابند تھے، اخیر عمر میں جب قوی کمزور ہوگئے تو ایک طالب علم کو اپنا امام مقر فرمالیا تھا ، جو پانچوں وقت کی نماز آپ کو دفتر میں پڑھاتا تھا ۔جب گھر جانے کا موقع آتا تو حالانکہ آپ کا سامان بہت تھوڑا ہوتا لیکن آپ کئی روز پہلے سے سامان کی تیاری میں رہتے ۔
آپ پابندی سے مطالعہ کرتے تھے ، بلکہ جامعہ رحمانیہ کی تدریس کے زمانہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ رات کے دو ، تین بجے تک مطالعہ کرتا تھا اور مغرب کے بعد کا وقت تو اخیر عمر تک مطالعہ کے لیے مخصوص تھا ،آپ فرماتے تھے کہ جو مدرس بغیر مطالعہ کے درس میں جاتا ہے ، اس کی مثال چور کی ہے جو ڈرتے ڈرتے دوسرے کے گھر میں گھستا ہے اور جو مطالعہ کرکے سبق میں جاتا ہے اس کی مثال ایسی ہے ، جیساکہ کو ئی اپنے گھر میں داخل ہورہا ہو ،وہ بالکل بے خوف ہوتا ہے ۔
ہم نوجوان اساتذہ کی پوری ایک جماعت تھی ، ایک مرتبہ ہم سب نے حضرت شیخ سے عرض کیا کہ حضرت ہماری چائے کی دعوت کردیں، اس بار تو حضرت نے ہم سب کی عصر کے بعد دعوت کردی ،لیکن ایک بار پھر ہم سب نے کسی موقع سے یہی عرض کیا تو حضرت نے چائے کے پیسے دے دیے ۔ہم لوگوں کو دیکھ کر حضرت فرماتے تھے کہ مولانا ہم نے تو (مدرسہ کی زندگی)کاٹ لی ، اب آپ کی باری ہے ،کبھی فرماتے :میں نے مدرسہ کا جتنا کھانا کھایا ہے ، شاید کوئی کھاسکے ، حضرت شیخ مدرسہ میں ہمیشہ تنہا رہے ، کبھی اہلیہ کے ساتھ نہیں رہے۔
اخیر کے سالوں میں جب کمزوری زیادہ ہوگئی تو حضرت نے انتظامیہ سے مزید اسباق کم کرنے کے لیے فرمایا ، اس وقت بخاری اور ترمذی جلد اول زیر درس تھیں ؛ چنانچہ حضرت شیخ کی ترمذی اس نالائق ،ناکارہ زمان ، بے علم اور بے بضاعت کے سپرد کی گئی ، حضرت نے بلاکر
مبارک باد دی اور نصیحت کی کہ محنت سے پڑھانا ، میں سمجھتا ہوں کہ والدین اور اساتذہ کے بعد حضرت کی نصیحت کی برکت سے ہی اب تک کسی طرح دورہ حدیث کی یہ اہم کتاب پڑھانے کی سعادت حاصل ہورہی ہے ۔اللہ تبارک وتعالی حضرت شیخ کو اعلی علیین میں مقام عطا فرمائے ۔

*استاذ حدیث ورئیس تحریرعربی مجلہ” الصحوة الاسلامیہ“
جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد۔

حضرت مولانا سید محمد میاں دیوبندی: جمعیة علماء ہند کے ایک مخلص اورجانباز سپاہی

امداد الحق بختیار قاسمی*

جمعیة علماء ہند اور ملک وملت اور قوم کے تئیں جب اس عظیم تنظیم کی زریں خدمات ، تاریخی کارنامے ، آزادی وطن کے لیے اس کے ٹھوس اقدامات ، موٴثر تدبیریں ، جمہوریت کی تشکیل میں اس کا قائدانہ کردار ، اس کی بقا اور حفاظت میں اس تنظیم کی ناقابل فراموش قربانیاں ، آزادی کے بعد مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی اس ملک میں حفاظت ، ان کو ثابت قدم رکھنا ، ان کی ڈھارس بندھانا ، ان کا سہارا بننا ، ان کے پیش آمدہ مسائل کو حل کرنا ، ان کی جان ومال اور عزت آبرو کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کے دین وایمان اور مذہب وعقیدہ کی پاسبانی کرنا ، یہ اور ان جیسی بے شمار سنہری خدمات کے تذکرہ کا لامتناہی سلسلہ جب شروع ہوتا ہے ، تو ان کے پس منظر میں کچھ قدسی صفات ہستیاں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں ، جنہوں نے اپنے پہاڑی حوصلوں ، مضبوط قوت ارادی ، مخلصانہ عزائم ، سرفروشانہ جذبات اور دینی حمیت وغیرت سے ان کارناموں کو وجود بخشا اور تاریخی صفحات ان سے آراستہ ہوئے، ان پاکباز ہستیوں میں حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ (۱۲۹۲ھ=۱۸۷۵ء/۱۳۷۲ھ= ۱۹۵۲ء) سحبان الہندمولانا احمد سعید دہلوی  (۱۳۰۶ھ =۱۸۸۸ء/۱۳۷۹ھ=۱۹۵۹ء)ابوالمحاسن مولانا سجاد  (۱۳۰۱ھ/۱۳۵۹ھ=۱۹۴۰ء) شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی  (۱۲۹۵ھ=۱۸۷۹ء/۱۳۷۷ھ= ۱۹۵۷ء) مولانا ابوالکلام آزاد (۱۳۰۵ھ=۱۸۸۸ء/۱۳۷۷ھ۱۹۵۷ء) ،مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی (۱۳۱۸ھ=۱۹۰۱ء/۱۳۸۲ھ=۱۹۶۲ء) اور دیگرکئی ایک محسن شخصیات ہیں۔
مورخ ملت مولانا سید محمد میاں  (۱۳۲۱ھ=۱۹۰۳ء/۱۳۹۵ھ=۱۹۷۵ء)بھی اس جماعت کے اہم رکن اور اس طائفہ کے ممتاز فردرہے ہیں ، جنہوں نے قوت بازو بن کر اس جماعت کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کیا ، ایک جانباز اور مخلص سپاہی کی طرح ہر موقع پر اپنے آپ کو پیش کیا ، ہر خطرہ میں کودنے کو تیار رہے ، ملک کے گوشے گوشے میں پہنچ کر جمعیة کے پیغام کو عام کیا ، زمینی سطح پر اس جماعت کو مضبوط کرنے میں تن من دھن کی بازی لگا دی ،ایک طرف زبان جمعیت بن کر اس کی ترجمانی کا حق ادا کیا، تودوسری طرف قلم جمعیت کی حیثیت سے اس کی تاریخ مرتب کرکے آئندہ نسلوں پر احسان گراں بار کیا ، صوبائی اور ملکی دونوں سطح پر اس کی نظامت کے فرائض بخوبی انجام دیے ، جمعیت کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے بڑی بڑی دشواریوں اور صعوبتوں کا سامنا کیا، جیلوں میں مشقت بھری زندگی گزاری ، سزائیں کاٹیں ، ایک دور وہ تھا جب آپ نے تمام مشاغل ترک کرکے جمعیت کی خدمت کو اپنا نصب العین بنالیا تھا ، اور اسی کو اس وقت کی سب بڑی عبادت سمجھتے تھے۔
عملی میدان میں قدم اورملک کا سیاسی نقشہ
آپ نے ۱۳۴۳ھ میں دارالعلوم دیوبند سے تمام علوم متداولہ میں تکمیل کرکے سند فراغ حاصل کی ، بعد ازاں ۱۹۲۶ء میں عملی میدان میں قدم رکھا اور علامہ انور شاہ کشمیری (۱۲۹۲ھ=۱۸۷۵ء/۱۳۵۱ھ=۱۹۳۲ء)اور شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہی (۱۳۰۰ھ=۱۸۸۲ء/ ۱۳۷۴ھ =۱۹۵۴ء)کے مشورہ سے سب سے پہلے مدرسہ حنفیہ آرہ ضلع شاہ آباد صوبہ بہار سے اپنی تدریس کا آغاز فرمایا، وہاں تقریبا ساڑھے تین سال تک تدریسی خدمات انجام دیں اورپھرمولانا حبیب الرحمان عثمانی (۱۳۴۸ھ)مہتمم دارالعلوم دیوبند اور شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہی کے حکم سے مارچ ۱۹۲۸ء (۱)سے مدرسہ شاہی میں تدریسی خدمات انجام دینے لگے ، یہاں کا ماحول اورآب وہوا آپ کے مزاج و مذاق کے بالکل موافق تھی ۔
یہ ٹھیک وہ زمانہ تھا ، جب کہ جمعیت علماء کے بائیکاٹ اورکانگریس کے مقاطعہ کی وجہ سے سائمن کمیشن(۲) ہندوستان پہنچ کر ناکام واپس ہوچکا تھا ، اس کمیشن کا مقصداہل ہند کو لالچ دینا اور ان سے ایسے وعدے کرنا کہ وہ آزادی سے دستبردار ہوجائیں اور اس طرح آزادی ہند کی تحریک کمزور پڑ جائے اور انگریزوں کو ایک بار پھر لمبے عرصے تک اس ملک پر حکومت کرنے کا موقع ہاتھ آجائے، ایک طرف خلافت تحریک (۳)کا غلغلہ پورے ملک میں گونج رہا تھا، یہ تحریک اگرچہ اپنے آخری ایام میں تھی ، لیکن اس نے ملک کی سیاست میں روح پھونک دی تھی، ” اتحاد اہالیان ہند“ کا بے نظیر کارنامہ انجام دیاتھااور جدوجہد آزادی کے ایک نئے ، کامیاب اور پرامن طریقہ سے اہل ہند کو متعارف کروایا، تو دوسری طرف جمعیة علماء ہند نے اپنے ساتویں اجلاس منعقدہ ۱۱ تا ۱۴/ ما رچ ۱۹۲۶ء کلکتہ میں مکمل آزادی کی تجویز منظور کردی تھی(۴)ہندوستانی سیاست میں ایک نیا رنگ آچکا تھا ، تحریک آزادی اپنے آخری پڑاوٴ پر تھی ،آزادی ہندوستا ن کی چوکٹھ تک پہنچ چکی تھی، ڈیڑھ سے دو دہائی کے دوران یہ ملک آزادی سے بہرہ ور ہونے والا تھا ۔
مالٹا سے واپسی کے بعد شیخ الہند  (۱۲۶۸ھ=۱۸۵۱ء/۱۳۳۹ھ=۱۹۲۰ء)نے تحریک آزادی کے طریقہ کار میں تبدیلی فرمائی ، ایک طویل مسلح جدجہد کی نتائج ان کے سامنے تھے ؛ لہذا انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اب عدم تشدد کی راہ اختیار کی جائے اور اب قتل وغارت گری کے بجائے ،عدم تشدد ، ترک موالات ، مقاطعہ و بائیکاٹ ، پر امن احتجاج ومظاہرے ، جیل بھرو تحریک کو آزادی کے لیے ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جائے ، گاندھی جی (موہن داس کرم چند ۱۸۶۹ء/۱۹۴۸ء)بھی اسی نظریہ کے حامی اور پرجوش داعی بنے ؛چنانچہ پورے ملک میں اس کو سراہا گیا اور اختیار کیا گیا ،اور پھر اس کو عملی شکل دینے کے لیے بہت سی تحریکات وجود میں آئیں ، جیسے ستیہ گرہ (صبر کے ذریعہ مقابلہ)تحریک (۵)تحریک نمک سازی اور تحریک سول نافرمانی ، ترک موالات وغیرہ۔
یہ بھی یاد رہے کہ چند شرارت پسند بلکہ انگریزوں کی کاسہ لیسی کرنے والے عناصر اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارتدادی تحریک چلارہے تھے، جن سے عمومی طور پر ملک اور بالخصوص اسلامیان ہند کی فضا مسموم ہو رہی تھی ، سوامی شردھا نند کی شدھی سنگٹھن تحریک ایسے ہی ناپاک عزائم کے ساتھ نمودار ہوئی تھی۔(۶)
جمعیة علماء ہند سے وابستگی
مولانا سید محمد میاں  نے جس وقت عملی میدان میں قدم رکھا، اس وقت سب بڑی عبادت جو ہندوستان کی سر زمین پر ادا کی جارہی تھی ، وہ حصول آزادی کے لیے جہاد عظیم اور ملت اسلامیہ کے دین وایمان کی حفاظت کی عبادت تھی ، مولانا کے سامنے اس میدان کے گزرے ہوئے مجاہدین حضرت شاہ ولی اللہ (۱۱۱۴ھ=۱۷۰۳ء/۱۱۷۶ھ=۱۷۶۲ء)سے لے کر حضرت شیخ الہند(۱۲۶۸ھ=۱۸۵۱ء/۱۳۳۹ھ=۱۹۲۰ء) تک بھی تھے اور موجودہ مجاہدین میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی  اور علامہ انور شاہ کشمیری  کی جدو جہد بھی تھی ، جبکہ ان میں سے ایک ان کے روحانی پیشوا اور مربی تھے تو دوسرٍے گرامی قدر استاذ مکرم ؛ لہذا ان سے متاثر ہونا ناگزیر تھا ، نیزملک کے چوٹی کے علماء جمعیت علماء ہند کے پلیٹ فارم سے اس عبادت میں سرگرم حصہ لے رہے تھے اور دارالعلوم دیوبند کا ادنی سے ادنی علمی فرزند بھی شاہ ولی اللہ ،مولانا محمد قاسم نانوتوی (۱۲۴۸ھ =۱۸۳۳ء/۱۲۹۷ھ= ۱۸۸۰ء)مولانا رشید احمد گنگوہی(۱۲۴۴ھ=۱۸۲۹ء/۱۳۲۳ھ=۱۹۰۵ء) اور شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی مجاہدانہ خدمات سے ناآشنا نہیں ہوتا اور کوئی ایسا نہیں ہے جو ان اکابر واسلاف اور جمعیة علماء ہند کی خدمات کو قدر ؛ بلکہ رشک کی نگاہ سے نہ دیکھتاہو اور اپنے اسلاف کی اقتداء اور ان کی قربانیوں کا حصہ بننا نہ چاہتا ہو ۔
مولانا سید محمد میاں دارالعلوم دیوبند کے عظیم فضلاء میں سے تھے ؛ لہذا دارالعلوم دیوبند ، جمعیة علماء ہند اور ان کے معماروں اور پاسبانوں کی تحریکات ، زریں خدمات ، مثالی قربانیوں کا مولانا کے قلب میں موجزن ہونابالکل ظاہر و باہر تھا ، مولانا کی صلاحیتیں اس تحریک کا تاریخی حصہ بننے کے لیے کسی موقع کی تلاش میں تھیں اور اس موقع کی آمدکی آہٹ جیسے ہی سنائی دی ، مولانا اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ اس میدان میں کود پڑے۔
چنانچہ مارچ ۱۹۲۹ء میں جب مولانا سید محمد میاں  شاہی مرادآباد میں مدرس کی حیثیت سے تشریف لائے ، تبھی سے آپ کی سرگرم جمعیتی زندگی کا بھی آغاز ہوتا ہے ، جو ۳۵ سال کے طویل عرصے پر محیط ہے ؛بلکہ جمعیت سے آپ کا رشتہ پوری زندگی استوار رہا اور آپ نے اس عظیم پلیٹ فارم سے اپنے پیشرو اور موجودہ اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ،جہاں ملک کی آزادی میں سرفروشانہ خدمات پیش کیں، وہیں ملت اسلامیہ کے دین وایمان اور عقیدہ واعمال صالحہ کی پاسبانی کے لیے قابل تقلید اور لائق صد ستائش کارہائے نمایا انجام دیے اور خود جمعیت علماء ہند کی وہ بے مثال خدمت انجام دی ہے ، جو اس کی تاریخ میں سنہرے باب کی حیثیت سے درخشندہ ہے اور ہمیشہ رہے گی، مولانا نے اپنی شبانہ روز کی عملی جدو جہد کے ساتھ زبان و قلم کو بھی جمعیت کے لیے وقف کردیا تھا ۔
جمعیة علماء ہند کے ساتھ آپ کی وابستگی کے تعلق سے ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری نے خوب لکھا ہے :
”جمعیة علماء ہند ، اس کی سیاست ، اس کے رہنماوٴں ، اس کے مقاصد اور اس کے اصول سے لے کر فروع تک سے مورخ ملت کا تعلق جسم وجان کا سا تھا ۔جمعیة علماے ہند کے ایک دور کی کہانی مولانا محمد میاں  کی کہانی تھی ۔ مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی کی حیات (اگست ۱۹۶۲ء ) تک جمعیة کے روح رواں رہے ، ان کے انتقال کے بعد ایک سال تک وہ جمعیة کے ناظم اعلی کے منصب پر فائز رہے تھے ، اس کے بعد بھی منصب کی ذمہ داری کے بغیر جمعیة سے ان کا تعلق اسی طرح ذوق وخدمت کا تعلق رہا“۔(۷)
جمعیة علماء ہند مرادآباد ومتحدہ صوبہ آگرہ واودھ کی نظامت
جمعیت علماء ہند کے ساتھ قلبی اور جذباتی رشتہ کے بعدآپ کے باضابطہ عملی رشتہ کی ابتداء مرادآباد جمعیت کی نظامت سے ہوتی ہے ، آپ۱۹۲۹ء کے آس پاس سب سے پہلے جمعیت علماء ہند مرادآباد کے نائب ناظم بنائے گئے اور پھر کچھ ہی عرصہ کے بعد ناظم بھی منتخب کیے گئے ، آپ کی تنظیمی صلاحیت اورمخلصانہ خدمات کی وجہ سے جمعیت علماء صوبہ آگرہ کے ناظم تبلیغ کی حیثیت سے آپ کا انتخاب کیا گیا ، بعد ازاں آگرہ اور صوبہ متحدہ آگرہ و اودھ کے ناظم بنائے گئے ، مولانا نور عالم خلیل امینی تحریر فرماتے ہیں :
”مئی ۱۹۳۰ ء میں جمعیت علماء کا تا ریخی اجلا س شہر امروہہ میں منعقد ہوا ،اس کی بڑی اہمت یہ تھی کہ اس میں کانگریس کے ساتھ شراکت عمل کی قراردادپاس کی گئی اس اجلاس سے کچھ پہلے جمعیة علما ء شہر مرادآباد کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں آپ کوشہر مرادآباد کی جمعیة علماء کا نائب ناظم منتخب کیا گیا ،کچھ دنوں کے بعد باقعدہ ناظم بنادیا گیا، پھر جمعیة علماء صوبہ آگرہ کا ناظم تبلیغ بنا یاگیا؛ کیوں کہ اس وقت جمعیة علما ء تبلیغ کی سگرمیاں بھی انجام دیتی تھی ، پھر آگر ہ اور صوبہ متحدہ آگرہ وادوھ کے ناظم جمعیة بنا دے گئے۔“(۸)
مولانا سید محمد میاں  اپنی خود نوشت سوانح میں اس حوالے سے ارقام کرتے ہیں:
”احقر کو مدرسہ شاہی مرادآباد میں کام کرتے ہوئے ، ابھی ایک سال ہی ہوا تھا کہ سیاسی فضا میں یہ گرمی پیدا ہوگئی ، اس سال جمعیة علما مرادآباد کا بھی انتخاب ہوا تو احقر نائب ناظم بنایا گیا “۔(۹)
رزونامہ الجمعیت کی خصوصی اشاعت میں مولانا سید محمد میاں  کی مندرجہ ذیل تحریر ملتی ہے:
”اس اجلاس (جمعیت علماء ہند کا اجلاس امروہہ)سے کچھ پہلے جمعیة علماء شہر مرادآباد کی مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا ، جس میں احقر کو جمعیة علماء شہر مرادآباد کا نائب ناظم منتخب کیا گیا ، کچھ دنوں بعد نائب کے بجائے ناظم بنا دیا گیا ، اس وقت نظام جمعیة علماء میں صوبہ آگرہ الگ تھا اور اودھ علیحدہ اور اس زمانہ میں تبلیع کا سلسلہ بھی جمعیة علماء سے وابستہ کیا گیا تھا ، تو احقر کو جمعیة علماء صوبہ آگرہ کا ناظم تبلیغ بنادیا گیا ، ناظم تبلیغ کے بعد احقر جمعیة علماء صوبہ آگرہ ، پھر پورے صوبہ متحدہ کی جمعیة علماء کا ناظم ہوگیا “۔(۱۰)
جمعیة علماء ہند اور کانگریس کی ڈکٹیٹرشپ اور گرفتاری
تحریک سول نافرمانی ، جو ۱۹۳۱ء میں شروع ہوئی ، اور تمام ہندوستانیوں نے اس میں پورے جوش و جذبہ کے ساتھ حصہ لیا ، اور اس میں انگریز حکومت کے ہر قانون کی پرامن طریقہ سے مخالفت کی گئی ، جس سے انگریز بری طرح جھنجھلا گئے اور بڑی تعداد میں ہندوستانیوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا ، جس کا اندازہ آزادی کے راہنماوٴں کو پہلے سے ہی تھا اور وہ پہلے سے اس کے لیے تیار بھی تھے اور اس کے لیے پوری تیاری بھی کر رکھی تھی ؛ چنانچہ جمعیت علماء ہند اور انڈین نیشنل کانگریس دونوں نے صدر ، سکریٹری اور دیگر تمام تنظیمی عہدوں کو ختم کرکے ”ڈکٹیٹر شپ“ کا نظام قائم کیا تھا ،ڈکٹیٹر ہی تمام امور دیکھتا تھا اپنے بڑے لیڈورں کو بالترتیب نمبروار ڈکٹیٹر نامزد کیا اور خفیہ طور پر ان کی فہرست تیار کر لی گئی تھی اور منصوبہ یہ تھا کہ تمام ڈکٹیٹر زیکے بعد دیگر ایک بڑے مجمع کے ساتھ سول نافرمانی کرتے ہوئے گرفتاری پیش کریں گے اور ہر ڈکٹیٹر اپنی گرفتاری کے وقت اپنے جانشین ڈکٹیٹر کے نام کا اعلان کرے گا (۱۱)۔
حضرت مولانا سید محمد میاں  کو بھی ڈکٹیٹر بنایا گیا؛ بلکہ آپ کو یہ امتیاز حاصل رہا کہ آپ بیک وقت جمعیت علماء ہند اور انڈین نیشنل کانگریس دونوں کے ڈکٹیٹر تھے ،مولانا جمعیت علماء ہند کے نویں (۹)ڈکٹیٹر تھے؛ چنانچہ آپ خود تحریر کرتے ہیں :
”دوسرا امتیاز یہ تھا کہ احقر کو جمعیة علماء ہند کا نواں ڈکٹیٹرنامزد کیا جا چکا تھا ․․․․․اور یہ شرف غالباً احقر کے لیے ہی مخصوص تھا کہ ساتھ ساتھ اتر پردیش کانگریس کمیٹی ، اس کا بھی ڈکٹیٹر احقر ہی تھا “۔ (۱۲)
ڈکٹیٹر بننے کے بعد یہ بات تقریباً طے تھی کہ گرفتاری عمل میں آئے گی اور قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا ہوگا ، یہ چیز تمام ڈکٹیٹروں کو معلوم تھی اور وہ ذہنی طور پر اس کے لیے تیار بھی تھے ،تحریک سول نافرمانی کے دوران ایک اندازے کے مطابق جیل جانے والے افراد کی تعدادنوے (۹۰) ہزار تھی ، جن میں چالیس ہزار پانچ سو(۴۰۵۰۰)مسلمان تھے(۱۳) مولانا سید محمد میاں  کو بھی اس کی پاداش میں گرفتار کیا گیا اور جیل کی تاریک وتنگ کوٹھری میں انھیں تکلیف دہ ایام کا سامنا کرنا پڑا۔
چنانچہ مولانا  کو ڈکٹیٹر شپ کی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار کیا گیا ، ایک مرتبہ دہلی سے ، جہاں وہ ہر جمعہ کو بہت احتیاط سے مرادآباد سے جاکر جامع مسجد میں تقریر کرتے تھے اور پولیس کو مات دے کر واپس مرادآباد تشریف لے آتے تھے ؛ لیکن ایک دفعہ رہبر کی غلطی کی وجہ سے چاندنی چوک کوتوالی کے سامنے سے آپ گرفتار کرکے پورے اعزاز کے ساتھ حوالات میں پہنچا دیے گئے ،ایک ہفتہ تک جیل میں رہے نیز چھ مہینے کے لیے دہلی میں آپ کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا، اس کی تفصیل مولانا نے خود لکھی ہے ، جو طویل ؛ لیکن دل چسپ ہے :
”اس نظام (ادارہ حربیہ اورڈکٹیٹر شپ)کی کلید حضرت ابو المحاسن سجاد صاحب  کے دست مبارک میں تھی موصوف کی ہدایت اس احقر کے لیے یہ تھی کہ ہر ہفتہ جمعہ کی صبح کو مرادآباد سے چل کر دہلی پہونچاکرے اور نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد میں تقریر کرکے واپس ہوجایا کرے ۔ چند جمعے اس طرح گزرے ، مرادآباج سے تقریبا ۵ بجے صبح کو گاڑی چلتی تھی ، احقر اس ٹرین سے تقریبا ساڑھے دس بجے دہلی پہنچتا تھا ، اسٹیشن پر ہی کوئی صاحب موجود رہتے جو احقر کو احتیاط سے طے کردہ مقام پر پہونچادیتے تھے ، پھر اسی احتیاط سے رقیبوں کی نظروں سے بچاتے ہوئے جامع مسجد پہنچاتے اور تقریر کے فوراً بعد اسی احتیاط سے کسی صاحب کی رہنمائی میں صوبہ دہلی کی حدود سے باہر پہوچادیتے تھے ، پولیس جب تلاش کرتی تو اس کو اپنی ناکامی پر کافی جھنجھلاہٹ ہوا کرتی تھی۔
جمعہ کا دن تھا ، احقر حسب ہدیت مرادآباد سے دہلی پہونچا ، اس روز پولیس پوری طرح چوکنی تھی اور احقر کی گرفتاری کا سامان اس نے مکمل کررکھا تھا ، حضرت مولانا سجاد صاحب کو اس کا علم تھا ، مولانا موصوف نے نماز جمعہ کے لیے احقر کو خفیہ راستوں سے روانہ فرمایا تو احقر کے رہبر قاضی اکرام الحق صاحب کو تاکید کردی کہ نماز کے بعد جنوبی دروازہ سے احقر کو نہ نکالیں ، اس طرف پولیس چوکی ہے اور آج چوکی کے علاوہ بھی پولیس کا انتظام ہے ؛ بلکہ شمالی دروازہ کے سامنے تانگہ تیار رکھیں اور اس راستہ سے نکال کرلا ئیں ، اس طرف پولیس نہیں ہوگی ۔قاضی اکرام الحق صاحب سہو اور نسیان کے پرانے مریض ہیں یہاں بھی وہ اس ہدایت سے ایسے غافل ہوگئے کہ خاص طور پر ممنوعہ راستہ ہی پر تانگہ کا انتظام کیا ، پھر راستہ بھی چاوٴڑی بازار کے علاوہ چاندنی چوک کی طرف کا اختیار کیا ؛ چنانچہ جیسے ہی کوتوالی کے سامنے تانگہ پہونچا سی آئی ڈی کے سب انسپکٹر نے جو جامع مسجد سے ہی تانگہ کے پیچھے لگ گیا تھا اور اطمینان سے اپنی سائکل پر ہمارے پیچھے پیچھے چلا آرہا تھا ، اس نے تانگہ رکوالیا اور احقر کو پورے اعزاز کے ساتھ تانگہ سے اتار کر حوالات میں پہونچادی“۔(۱۴)
یہاں جیل میں کن پریشانیوں سے مولانا  کو گزرنا پڑا، کیسی کیسی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں ، یہاں کی زندگی کتنی تنگ اور دشوار گزار تھی خود مولانا کی زبانی وہ روداد اور داستان پیش خدمت کی جاتی ہے:
” غالباً اگست کا مہینہ تھا ۔شدید گرمی، حوالات سب طرف سے بند ،نہ روشن دان، نہ کھڑکی ،صرف ایک جانب مین دروازہ کے دو طرف جنگلے تھے؛ مگر سامنے چوڑا برآمدہ تھا، جس کی وجہ سے یہ جنگلے بھی ہوا سے نا آشنا رہتے تھے، پیشاب پاخانہ کے لیے صبح کوآٹھ بجے ایک گھنٹہ کے لئے کھولا جاتا تھا، باقی ۲۳گھنٹے اسی کمرہ میں بندرہتے تھے، یہیں وضو بھی کیا جاتا تھا ۔ پانی نکلنے کی کوئی نالی نہیں تھی ؛نتیجہ یہ ہوا کہ وضو کا پانی کمرہ ہی میں بھرتا رہا ۔ حسنِ اتفاق یہ تھا کہ کمرہ میں ڈھال کافی تھا ، پانی اسی ڈھال میں رہتا تھا۔رفتہ رفتہ صورت یہ ہوگئی کہ کمرہ کے نصف حصہ میں پانی بھر گیااور نصف حصہ میں ہمارے چھ یاسات ساتھیوں کے بستر تھے ،ایک ہفتہ بعد ہمیں حوالات سے نجات ملی اور ۶ ماہ کے لیے دہلی میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا، اگست کے مہینہ میں اس حبسٍ بے جا کا اثر یہ ہوا کہ تمام ساتھیوں کو عوارض لاحق ہوگئے، احقر کو پیچش ہوگئی “۔(۱۵)
دہلی سے رہائی کے بعد مولانا  دیوبند اپنی والدہ اور متعلقین سے ملنے تشریف لے گئے اور پھر وہاں سے جلد ہی مرادآباد کے لیے روانہ ہوگئے، ادھر مرادآباد میں آپ کی گرفتاری کی مکمل تیاری ہوچکی تھی ؛ کیونکہ آپ صوبہ یو پی کانگریس کمیٹی کے بھی ڈکٹیٹر تھے، سی آئی ڈی آپ کی تلاش میں تھی، مولانا فرماتے ہیں :
”ممکن ہے کہ اس (سی آئی ڈی)کو حیرت ہوئی ہو، جب احقر دفعةً مرادآباد کے چوک بازار میں اس حالت میں نمودار ہوگیا کہ ایک ہاتھ میں کانگریس کا جھنڈا تھا ، دوسرے میں جمعیة علماء ہند کا!“۔(۱۶)
مولانا کے چوک بازار میں اس طرح نمودار ہونے کے بعد ، ان کے ساتھ ایک بڑا مجمع ہوگیا ، جس نے جلوس کی شکل اختیار کرلی اور یہ جلوس امروہہ گیٹ کی طرف بڑھنے لگا ، اس کی قیادت مولانا اس شان سے کررہے تھے کہ آپ کے ایک ہاتھ میں کانگریس کا ، دوسرے میں جمعیة علماء ہند کا جھنڈا تھا اور گلے میں قرآن کریم لٹک رہا تھا ، تھوڑا فاصلہ طے کرنے کے بعدپولیس کے ایک دستہ نے مولانا کا محاصرہ کرلیا اور گرفتاری کا حکم سنا کر اپنی تحویل میں لے لیا اور لاٹھی چارج کرکے مجمع کو منتشرکردیا ، چھ ماہ کی سزا بامشقت کلاس ”سی“ سنائی گئی ، کچھ دوڑ دھوپ کے بعد یہ سزا کلاس ”سی“ سے ”بی“ میں تبدیل کردی گئی اور چکی کی مشقت سے بھی آپ کو چھٹکارا ملا۔(۱۷)
جمعیة علماء ہند کے لیے ایک عظیم سپوت کی دریافت
مولانا سید محمد میاں  کی جمعیتی اور سیاسی زندگی کی عمر ابھی چند ہی برس کی ہوئی تھی کہ اس میدان کے بڑے اور ماہر شہسواروں نے آپ کی جدو جہد ، طریقہ کار ، اور شاندار کارکردگی کے آئینہ میں آپ کے اندر مخفی صلاحیتوں کا ادرا ک کرلیا اور آپ کی ان صلاحیتوں سے قوم وملت اور ملک عزیز کو زیادہ سے زیادہ نفع پہنچانے کے لیے جمیعة علماء کے عظیم پلیٹ فارم کے لیے آپ کا انتخاب کرلیا گیا ؛ اس روشن آغاز کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ مرادآباد اور بریلی کی جیلوں میں مولانا سید محمد میاں  کو مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی  کے ساتھ رہنے کا موقع ملا ، اس عرصہ میں مجاہد ملت نے اس گوہرآبدار کو پہچان لیا اور شاید یہ عزم مصمم کرلیا کہ اسے کسی طرح حاصل کرنا ہے ، یہ جمعیة علماء ہند کا مستقبل ثابت ہوسکتا ہے ؛ اس زمانہ تک مولانا سید محمد میاں  مدرسہ شاہی مرادآباد کے مدرس تھے ، مجاہد ملت  مدرسہ شاہی تشریف لائے ؛ تاکہ مولانا میاں  کو جمعیة کے لیے یہاں سے لے جائیں اور مجاہد ملت نے اپنے اس منصوبہ کو عملی شکل دینے اور اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی پوری اور مضبوط تیار ی کرلی تھی ؛ چنانچہ وہ اکیلے تشریف نہیں لائے تھے ؛ بلکہ مولانا میاں  کے پیر ومرشد ، شیخ ومربی شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کو بھی ساتھ لائے تھے ؛ جن کی بات کسی قیمت پر مولانا میاں رد نہیں کرسکتے تھے؛ چنانچہ مدرسہ کے مہتمم صاحب سے رخصت دلوا کر مولانا میاں  کو دہلی لے گئے ،مولانا دہلی کیا گئے پھر دہلی ہی کے ہوکر رہ گئے، مولانا میاں  نے خود اس واقعہ کو تحریری دستاویز میں محفوظ کیا ہے؛آپ لکھتے ہیں:
”مجاہد ملت زمانہ اسارت میں احقر سے اتنے مانوس ہوگئے تھے کہ پھر احقر کو اپنی قید سے رہا کرنا گوارا نہ کیا ،۱۹۴۵ء میں حضرت شیخ الاسلام  کو ساتھ لے کر مرادآباد پہنچے اور مدرسہ شاہی کے مہتمم حضرت مولانا عبد الحق صاحب مدنی  اور صدر مدرس حضرت مولانا سید فخر الدین احمد صاحب  سے اصرار کرکے مدرسہ شاہی سے چھ ماہ کی رخصت دالوائی اور دہلی لے آئے ، حضرت مجاہد ملت تیار نہیں تھے ؛ مگر احقر کو سلسلہ ٴ درس ترک کرناگوارا نہیں تھا ، چھ ماہ بعد واپس ہوگیا ؛ لیکن چند روز بعد ۱۹۴۷ء کا مشہور ہنگامہ ہوگیا ، ابتداء ہنگامہ میں تو حالت یہ تھی کہ دہلی میں کسی طرف سے بھی کسی مسلمان کا آنا خود کشی کے مرادف تھا ؛ لیکن جیسے ہی دہلی پہنچنے کا موقع ملا ، احقر دہلی گیا اور یہاں آکر محسوس کیا کہ اس وقت مجاہد ملت جو خدمت انجام دے رہے ہیں وہی بہترین خدمت ؛ بلکہ افضل ترین جہاد ہے ؛ لہذا احقر نے دہلی ہی میں اس وقت تک قیام کا ارادہ کرلیا ، جب تک مجاہد ملت کو ضرورت ہو “۔(۱۸)
جمعیة علماء ہند کی نظامت
مولانا سید محمد میاں قومی وملی خدمت کے میدان میں وہ ایک اچھے کارکن تھے ، انھوں نے نائب ناظم اور ناظم کی حیثیت سے اپنی صلاحیت کو ثابت کردیا تھا اور اب اونچے مناصب کے لیے لیے فتح مندی کا دروازہ کھل چکا تھا(۱۹)؛مگر ان کی دلی خواہش اور ان کی خوشی اس بات میں تھی کہ وہ ادنی خادم کی حیثیت سے جمعیة علماء ہند کی خدمت کرے ، انہیں عہدوں اور منصبوں سے بیزاری ہوتی تھی ،وہ ان سے دور بھاگتے تھے ، جب کبھی ایسا موقع آتا وہ اپنا دامن بچانے کی بھر پور کوشش کرتے ، لیکن جب ۱۹۴۵ء میں سہارن پور میں جمعیة علماء ہند کا عظیم الشان اجلاس ہوا اور اس میں جمعیة علماء ہند کا انتخاب از سر نوعمل میں آیا ، جس میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کو صدر ، مجاہد ملت کو ناظم اعلی منتخب کیا گیا اور نظامت کے لیے مولانا سید محمد میاں  کا نام لیا گیا تو مولانا نے اٹھ کر معذرت کر نے کی کوشش کی ، تو ان کے شیخ ومرشد شیخ الاسلام نے ان کا دامن پکڑ کر انہیں نیچے بٹھادیا ، شیخ الاسلام کے حکم کے آگے ان کے لیے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں رہ جاتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو خود سپرد کردیں ، چنانچہ اس اجلاس میں آپ جمعیة علماء ہند کے ناظم منتخب کیے گئے (۲۰) ۔
مولانا سید محمد میاں  تحریرفرماتے ہیں:
”۴تا ۷ / مئی ۱۹۴۵ء کو بڑی شان کے ساتھ جمعیة علماء ہند کا اجلاس سہارن پور میں ہوا ، جضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی  صدر اور مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان صاحب  ناظم اعلی منتخب کیے گئے ، احقر کا نام زبانوں پر آیا تو احقر نے اسٹیج پر کھڑے ہوکر معذرت کرنی چاہی ؛ مگر سیدی شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنینے اسٹیج پر تشریف فرماتھے ، خلاف معمول احقر کا دامن جھٹک کر کھینچا اور احقر کو نیچے بٹھادیا ، اب بجز تسلیم ورضا چارہ ہی کیا تھا ؟”قہر درویش بر جان درویش “۔(۲۱)
مولانا سید محمد میاںکو معلوم تھا کہ نظامت کا عہدہ قبول کرنا ، اپنے آپ کو بڑی آزمائشوں کے حوالے کرنا ہے ؛ کیوں کہ ایک آل انڈیا جماعت جو نہایت ذمہ دار ، حساس اور سرگرم ہو ،جس کی سینکڑوں شاخیں ملک میں پھیلی ہوئی ہو، جس کے ہزاروں کارکن قوم وملت کی خدمت میں مصروف ہوں، اس سے ایک ناظم کی ذمہ داریوں اور اس کی مشکلات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ، مولانا سید محمد میاں  نے اپنے ذوق خدت ، اپنی صلاحیتوں اور فکر عمل کی قابلیتوں کو کسوٹی کے حوالے کردیا تھا ، جس کے کھرے کھوٹے پر ایک عالم کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں ؛ لیکن اللہ تعالی نے مولانا  کو کاموں کی انجام دہی کا ایسا سلیقہ اور ہمت عطا فرمائی تھی کہ ہر کام بروقت اور حسن و خوبی کے ساتھ انجام پارہا تھا۔(۲۲)
جمعیة علماء ہند کی نظامت علیا
مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی  کی دیرینہ خواہش تھی کہ اپنی زندگی میں ہی مولانا سید محمد میاں  کو جمعیت علماء ہند کی نظامت ِ علیا کی ذمہ داری سپرد کردیں ،بارہاآپ نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا؛ لیکن مولانا میاں  اس کے لیے تیار نہ ہوتے اور اپنی طبیعت اور مزاج اور دیگر بہانوں کے ذریعہ ٹالنے کی کامیاب کوشش کرتے ؛ یہاں تک کہ مجاہد ملت  ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ،چنانچہ مولانا میاں  اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
”مجاہد ملت  نے بارہا فرمایا کہ وہ نظامت علیا سے سبک دوش ہونا چاہتے ہیں ، یہ ذمہ داری احقر منظور کرلے ؛ مگر احقر کا جواب یہی ہوتا تھا کہ احقر اپنی افتاد طبع کے لحاظ سے مدرس ہے ، آپ کی امداد کے لیے خدمت درس ترک کیے ہوئے ہے ، نظامت سے طبعا دل چسپی نہیں ہے ، آپ کو اگر امداد کی ضرورت نہیں تو احقر کا مقام ”مدرسہ شاہی “ہے ، نظامت علیا نہیں، بہر حال نتیجہ یہ ہوا ”آں قدح بشکست وآں ساقی نماند۔ (۲۳)
مجاہد ملت نے اپنے مرض الوفات میں مولانا سید محمد میاں  کے لیے اپنی قائم مقامی کا اعلان کرادیا تھا ؛چنانچہ مجاہد ملت کی وفات (۱۳۸۲ھ مطابق ۱۹۶۲ء) کے بعد آپ کو جمعیة علماء کا” ناظم اعلی“ منتخب کیا گیا اور پورے ایک سال تک آپ اس عہدہ پر فائز رہے ، مولانا لکھتے ہیں:
”حضرت مجاہد ملت  نے زمانہ مرض میں از خود احقر کی قائم مقامی کا اعلان کرادیا تھا ، مرحوم کی وفات کے بعد ایک سال تک اس اعلان کا احترام کرتے ہوئے یہ خدمت انجام دی“۔(۲۴)
جمعیة علماء کی دیگر ذمہ داریاں
نظامت علیا سے سبک دوش ہونے کے بعدآپ مدرسہ امینیہ میں شیخ الحدیث اور مفتی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے لگے اور آپ کا محبوب مشغلہ درس وتدریس کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ؛ لیکن جمعیة علماء ہند سے آپ کارشتہ منقطع نہیں ہوا؛بلکہ پوری زندگی آپ نے جمعیة علماء ہند کی خدمت انجام دی ، آپ اس کی مجلس عاملہ کے رکن رکین ، ادارہ مباحث فقہیہ کے مدیر (ناظم)اور جمعیة ٹرسٹ کے سکریٹری رہے۔ (۲۵)
روز نامہ الجمعیة کا احیاء نو اور اس کی ادارت
مجاہد ملت  نے الجمعیة اخبار کے احیاء نو کا عزم فرمایا اور اس کی ادارت کی ذمہ داری مولانا سید محمد میاں  کو دی ؛چنانچہ ۲۳/دسمبر ۱۹۴۷ء سے یہ روز نامہ دوبارہ جاری ہوسکا، پہلے یہ اخبار سہ روزہ تھا ؛ لیکن مجاہد ملت  نے اس نشاة ثانیہ میں اسے” روزنامہ “کردیا ، مولانا محمد میاں  اس حوالے سے ارقام کرتے ہیں:
”۲۰/ دسمبر(۱۹۴۷ء) کو سہانپورمیں مجاہد ملّت کا تار پہنچا اور احقر خطر ناک راستے طے کرتا ہوا خدا کے فضل سے دہلی پہونچ گیا ۔یہا ں مجاہد ملّت روزنامہ الجمعیة کے جاری کرنے کا عزم فرما چکے تھے اور احقر کو اسی لئے طلب فرمایا تھا کہ بلا تو قف روزمامہ جاری کردیا جائے؛ چنانچہ ۲۳/ دسمبر ۴۷ء سے یہ روزنامہ پھر جاری ہوگیا جو ۹ سال پہلے برطانوی حکومت کے ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کی نوازشوں کا شکار ہو چکا تھا؛ فرق یہ ہوا کہ پہلے سہ روزہ تھا اور اس مرتبہ مجاہد ملت کے حوصلہ عالی نے اس کو روزنامہ قراردیا“۔ (۲۶)
ادارہ مباحث فقہیہ
صنعتی ا نقلاب اورروز افزوں سائنسی ایجادات کی وجہ سے نت نئے مسائل پیدا ہورہے تھے ، اور شریعت اسلامیہ کی روشنی میں ان مسائل کا حل اور حکم شرعی پیش کرنا ، علماء کی ذمہ داری ہوتی ہے اور انفرادی کوشش کے مقابل میں اجتماعی غور و فکر کے ذریعہ مسائل کی صحیح صورت حال اور ان کے شرعی حکم تک پہنچنا بہتر ، قریب از صواب اور محتاط طریقہ کار ہے ؛ چنانچہ جمعیة علماء ہند نے اس شرعی اور ملی ضرورت کوپورا کرنے کے لیے ۱۹۷۰ ء میں مولانا سید محمد میاں  کی تحریک پر اور آپ کی زیر نگرانی ”ادرہ مباحث فقہیہ“قائم کیا، تاکہ بدلتے ہوئے حالات میں پیداشدہ مسائل پر تحقیق اور غور و خوض کرکے ، ملت کی ان کے سلسلے میں رہنمائی کی جائے، جس کے تحت متعدد نئے مسائل اور جدید موضوعات پر فقہی مقالے لکھے گئے ، جنہیں ملک کے نامو ر علماء اور فقہاء نے تحسین کی نگاہ سے دیکھا ۔ الحمد للہ یہ ادارہ ہنوز اپنے نہج پر قائم ہے اور ملت کی رہنمائی کا فریضہ منظم انداز میں انجام دے رہا ہے۔(۲۷)
مورخ جمعیة علماء ہند کی قلمی خدمات
حضرت مولانا جہاں ایک طرف کامیاب مدرس ، نکتہ سنج مفسر ،بالغ نظر فقیہ ، کہنہ مشق خطیب ، عاشق رسول محدث، عالم با عمل ، مجاہد آزادی اور امت کا درد رکھنے والے اوراس کے لیے تڑپنے والے تھے ، وہیں حقیقت کی تہہ تک پہنچنے والے مورخ بھی تھے ، آپ کی بیشتر کتابوں میں تاریخی عنصر نمایاں اور غالب نظر آتا ہے ، آپ تاریخ ساز ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ نگار بھی تھے ، اس فن میں آپ نے متعدد بیش قیمت کتابیں تالیف فرمائی ہیں ، جنھیں برصغیر کی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے، ان کی سیاسی تالیفات و تحریرات اپنی کمیت او رکیفیت ہر دو لحاظ سے تاریخ سیاسیات ِہند وپاکستان کے لٹریچر میں اپنی مثال نہیں رکھتتیں(۲۸) اور اسی وجہ سے آپ کو ” مورخ ملت “ کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
مولانا نے اپنے اسی طبعی ذوق اور فطری صلاحیت کو بروکار لاتے ہوئے ، جمعیة علماء ہند کے لیے اتنا لکھا ہے ، جعیة علماء ہند کی معلومات اور تاریخ کا ماخذ مولانا ہی کی تحریریں اور کتابیں ہیں اور جمعیة کی تاریخ ودستاویزات کے تعلق سے آپ کی تحریریں ہی اصل سر مایہ ہیں، آپ نے اس موضوع پر بہت کچھ لکھا اور تاریخ نویسو ں کے لئے بنیادی مواد فراہم کردیا؛ چنانچہ مولانا معز الدین صاحب تحریر فرماتے ہیں :
” آپ کے قلم نے جمعیة علماء ہند کے دستاویز کو مجفوظ کردیا اور علماء حق کے کارناموں کو زندہ جاوید کردیا، جمعیة علماء کے پاس آج جو بھی تاریخ ہے، وہ مولانا مرحوم کی رہین منّت ہے؛ یقینا آپ جمعیة علما ء کے قلم تھے“۔ (۲۹)
مولانا مسعود عزیزی ندوی لکھتے ہیں :
”مولانا سید محمد میاں صاحب بالعموم ہر اجلاس میں پیش کی جانے والی تجایز مرتب کرتے یا اگر کوئی اور مرتب بھی کرتا تو بھی اس کی نوک پلک سنوارنے کے لیے وہ تحریر مولانا کو ہی دی جاتی ، تجاویز کی عبارت حسب حال اور بہت جچی تلی ہوتی “۔(۳۰)
دوسری جگہ مولانا مسعود عزیزی ندوی لکھتے ہیں :
”جمعیة علماء کی سیاسی تاریخ اور اس کے ریکارڈ پر ان کی گہری نظر تھی ، علماء ہند کی سیاسی خدمات سے عوام الناس کو روشناس کرانے اور ایک طرح سے ہندوستان کی جدو جہد آزادی میں مسلمانوں کے کردار کو واضح کرنے میں ، انہوں نے عظیم تصنفی خدمات انجام دیں ، اکابر دیوبند کی عملی ، سیاسی اور دینی و تبلیغی خدمات پر آپ کی تحریریں بہت سمجھی جاتی ہیں ، یورپ اور امریکہ کے مصنفین بھی ان کے حوالی دیتے ہیں“۔(۳۱)
چناں چہ مولانا نے جمعیة علماء کی تاریخ پر متعدد کتابیں لکھی ہیں، جن میں سے بعض کا تعارف پیش کیا جاتا ہے :
(۱)علماء حق اور ان کی مجاہدانہ کارنامے
یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے ، پہلی جلد ۲۲/ ستمبر۱۹۳۹ء کو مکمل ہوئی تھی ، اس میں جنگ عظیم دوم کے آغاز سے پہلے کے حالات ، تحریکات اور رجال کار کی خدمات کا احاطہ کیا گیاہے اور جلد دوم جنگ عظیم ثانی کے آعاز اور اس کی تباہ کاریوں کے تذکرے سے لے کر گاندھی جی کے قتل (۱۹۴۸ء)اور حالات مابعد پر تبصرے کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچتی ہے ۔(۳۲)نیز اس کے دوسرے حصے میں ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعد کے حالات اور اس دور میں جمعیة علماء ہند کی خدمات کا ذکرہے ( ۳۳)مولانا معز الدین صاحب سے لکھتے ہیں:
”یہ کتاب علماء ہند کا شاندار ماضی کا تکملہ ہے ، جس میں ۱۸۵۷ء کے بعد سے ۱۹۴۷ء تک مجاہدین حریت کے کارناموں کو بیان کیا گیاہے ؛ بالخصوص شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی  اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے مجاہدانہ کردار کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے “۔(۳۴)
(۲)جمعیة علماء کیا ہے؟
یہ کتاب دو حصوں میں چند ضمیموں کے ساتھ ہے ، یہ سلسلہ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی  کے ایما پر مورخ ملت نے تالیف کیا تھا ، اس کی پہلی جلد ۱۹۴۵ء میں مرکزی لیجس لیٹو اسمبلی کے انتخاب کے موقع پر شائع ہوئی تھی ، یہ جلد جمعیت علماء کی اسلامی اور سیاسی خدمات کے تعارف میں ہے ۔اس کا دوسرا حصخ جنوری ۱۹۴۶ء میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سے قبل شایع کیا گیا تھا ، اس کے چند ضمیمے بھی تھے ، جن میں ان سے قبل وبعد کے اجلاسوں کی اہم تجایز مرتب کردی گئی ہیں۔(۳۵) مولانا معزالدین صاحب اس کتاب کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں :
”اس کتاب میں جمعیة علماء ہند کی خدمات اور اس کی تجایز کو مرتب کیا گیا ہے ، تاریخ جمعیة میں یہ کتاب سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے “۔(۳۶)
(۳)خدمات جمعیة علماء ہند
یہ کتاب چار حصوں میں ہے اوران میں جمعیة علماء ہند کی خدمات کا تعارف پیش کیاگیا ہے، حصہ اول ۳۰ صفحات پر مشتمل ہے ، اس میں جمعیة علماء ہند کی بنیادی خدمات کا تذکرہ ہے ، یہ نومبر ۱۹۵۲ء میں شایع ہوئی تھی۔حصہ دوم اکتوبر ۱۹۶۲ء میں شایع ہوا ، اس کے ۸۰ صفحات ہیں اور اس میں جمعیة علماء ہند کی امداد خدمات کا تذکرہ ہے ۔حصہ سوم ۱۸ صفحے کا ایک رسالہ ہے ، جس میں جمعیة علماء ہند کی تعمیری خدمات کا بیان ہے اور یہ بھی اکتوبر ۱۹۶۲ء میں شایع ہوا ، نیز یہ تینوں حصے شعبہ نشر و اشاعت جمعیة علماء ہند ، نئی دہلی سے شایع ہوئے ۔ چوتھا حصہ میں مجاہد ملت کی تاریخی تقریر یں جمع کی گئی ہیں ، یہ ۱۹۲ صفحات کی کتاب ہے ، الجمعیة بک ڈپو ، نئی دہلی سے شایع ہوئی ہے ۔(۳۷)
ان کے علاوہ بھی جمعیة علماء ہند کی تاریخ ، اس کی خدمات ، اس کے کارنامے ، اس کی سیاست اور اس کے منشور وغیرہ پر مولانا  نے متعدد کتابیں اور رسالے تحریر فرمائے ہیں ، جن میں سے چند پیش خدمت ہیں:
(۴)آنے والے انقلاب کی تصویر (۵) جمعیة علماء ہند ایک تاریخی مطالعہ (۶) ہندوستانی سیاست اور علماء ہند ۱۸۵۷ء کے بعد (۷)تقسیم ملک اور جمعیة علماء ہند کا موقف(۸)ہندوستانی سیاست اور اس کا تقابلی مطالعہ (۹)ہندوستان کی تین بڑی جماعتیں اور ان کی تجاویز(۱۰)جمعیة علماء ہند اور لیگ کا نصب العین (۱۱) جمعیة علماء ہند اور عمایدین لیگ کے کارنامے (۱۲) شرکت کانگریس کا جواز ، تھانوی ، عثمانی نقطہ ٴ نظر پر تنقید و تبصرہ کی ایک نظر (۱۳) مسلم لیگ کے دعاوی اور ان کی حقیقت تحریک پاکستان کے پس منظر میں(۱۴) جمعیة علماء ہند کا واضح فیصلہ پورا ہندوستان ہمارا پاکستان ہے(۳۸)۔(۱۵) خطرناک نعرے اور جمعیة علماء ہند کا صراط مستقیم ۔(۳۹)
جمعیت علماء کا بے لوث اور نڈر خادم
مولانا سید محمد میاں  جمعیة علماء کے مشن کو عملی شکل دینے کے لیے ہر راہ سے گزرے ہیں ، ہر وادی کو انھوں نے عبور کیا ہے ، خطرات کے راستے طے کیے ہیں ، خطرناک اور ہنگامہ خیز حالات میں بھی وہ میدان عمل میں نکلے ؛ بلکہ ایسے خوفناک ماحول میں بھی جب کہ اپنی منزل سے نکلنے والے کو یہ معلوم نہیں رہتا تھا کہ وہ زندہ اور سلامت واپس آئے گا یا نہیں ، انھوں نے سر سے کفن باندھ کر اور جان ہتھیلی پر رکھ کر بھی جمعیة کی دعوت پر لبیک کہا ہے ، وہ بلاشبہ جمعیة علماء ہند کے جانباز ، نڈر اور بے خوف سپاہی تھے ، کئی موقعوں پر انھیں جمعیة کے مشن کو بروئے کار لانے کے لیے ایسے اسفار کرنے پڑے ، جن میں جان کا بھی خطرہ تھا ،متعدد بار گرفتار کیے گئے(۴۰) مہینوں جیل کاٹنی پڑی ، جس کا کچھ تذکرہ ”جمعیة علماء ہند اور کانگریس کی ڈکٹیٹرشپ اور گرفتاری“ عنوان کے ذیل میں آچکا ہے ، اس کے علاوہ بھی متعدد بار جیل جانا پڑا۔
مولانا قاضی سجاد حسین (متوفی۱۴۱۰ھ=۱۹۹۰ء) ، سابق صدر مدرس مدرسہ عالیہ عربیہ ، دہلی ، مولانا کی کتاب ” اسیران مالٹا“ پر اپنے ”تعارفی کلمات“ میں لکھتے ہیں:
”جمعیت علماء کی نظامت کے جلیل القد ر عہدہ پر عرصہ درازتک فائزرہے؛ لیکن عہدہ کی جلالت کبھی مولانا کے لئے ادنیٰ سے ادنیٰ خدمت سے مانع نہ ہوئی، مولانا کا مقصد کام اور خدمت ہوتی تھی، خواہ وہ کسی بھی نوعیت کی کیوں نہ ہو۔۱۹۴۷ء کے ہنگاموں میں جبکہ ہندوستان جہنم کدہ بنا ہوا تھا اور مظلوموں کی چنیخ وپکار سے اہل ہندکے دل دہل رہے تھے مولانا نے انتہائی استقامت کے ساتھ مظلوموں کی خدمت کی،جہا ں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم وستم ہوا، مولانا بے دھڑک وہاں ریلیف اور امداکے لئے پہونچے ۔ پنجاب کے خونچکاں واقعات کے بعد جبکہ مسلمانوں کے کچھ افراد پنچاب اور ہماچل کی دور دراز آباد یوں میں اکّا دُکّارہ گئے تھے، مولانا نے پنچاب کے دیہات کے دورے کئے، ہماچل پہاڑکے پھیلے ہوئے دیہات میں دشوارگزار راستے طے کر کے پہونچے اور وہاں ان کے زخموں پر مرہم رکھا اور ان کے دین وایمان کے تحفظ کے لئے مکاتب اور مدارس قائم کئے“۔(۴۱)
خطروں بھرے اسفار
جب انڈین نیشنل کا نگر یس نے ۸/اگست ۱۹۴۲ ء کو” کوئٹ انڈیا “( ہندستان چھوڑو)کی تجویز پاس کی،تومجاہدملّت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی (ناظم عمومی جمعیة علماء ہند )نے اس تحریک کی تائید کے لئے ۷، ۸/ اگست ۱۹۴۲ء کو دہلی میں مجلس عاملہ کا ہنگا می اجلاس بلایا، مولانا سید محمد میاں  اس اجلاس میں کیسی کیسی صعوبتیں اٹھاکر شریک ہوئے اورپھر حسب ہدایت ملک کے گوشہ گوشہ میں مجلس عاملہ کی تجویز کو پہنچایا، مولانا مرحوم کا یہ ایک عظیم الشان کا رنامہ ہے اور ان کے جذبہ آزادی اور جمعیة علماء خدمت کی ایک تا بنا ک مثال ، مولانا نے خود اس کی بھی تفصیل لکھی ہے ، جو حسب ذیل ہے :
”اس زمانہ میں احقر کا تعلق مدرسہ شاہی مرادآباد سے تھا؛ مگر جب رفقاء محترم کو بجرم عشق حریت ۸/ اگست کو مرادآباد سے گرفتار کیا گیا تو احقر نے فورُ ا ہی روپوش ہوجانا ضروری سمجھا؛ چنانچہ پولیس گرفتار یوں میں مصروف تھی اور احقر تاریک اور غیر معروف گلیوں، کو چوں میں ہوتا ہوا، مرادآ باد سے نکل رہا تھا، میرے نسبتی بھائ حافظ سادات حسن صاحب ازراہ ہمدردی احقرکے ساتھ ہولئے، ہم دونوں( ۸) میل پا پیادہ طے کر کے قصبہ حکیم پورپہنچے ،جب چند گھنٹہ بعد دہلی جانے والا پسنجرحکیم پور پہنچا تو احقراس سے روانہ ہوا ؛ لیکن ٹرین میں زیادہ دیر تک بیٹھنا بھی مناسب نہیں تھا؛ لہٰذ سمبھاوٴلی اسٹیشن پراترگیا اور موضع ویٹ میں جو اسٹیشن سمبھاوٴلی سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پرہے ،اپنے ماموں زادبھائی مولانا سیدمحمداعلی صاحب صدر مدرسہ اعزازیہ قصبہ ویٹ کے یہاں دو تین روز قیام کیا پھر کچھ پاپیا دہ اور کچھ بس سے سفر کرتے ہوئے دہلی پہنچناچاہتا تھا کہ جمنا کے پل پر راستہ روک دیا گیا کہ شہر میں کانگریسیوں نے فسادبرپاکررکھا ہے، فسا د کا تماشہ میں خود بھی جمنا پارسے دیکھ رہا تھا؛ کیونکہ پیلی کوٹھی کو ،جس میں ریلوے کا ریکارڈتھا، آگ لگادی گئی تھی اور اس کے شعلے آسما ن سے با تیں کررہے تھے ،یہ شعلے جمنا پار؛ بلکہ شاہدرہ سے نظرآرہے تھے، اس وقت جمنا برج سے واپس ہوکر ،غازی آباد پہنچا پھر غازی آبادسے دہلی پہنچنے کی داستان طویل ہے۔
مولانا کسی طرح دہلی پہنچ گئے اور مجلس عاملہ کے اجلاس میں بحیثیت مدعو خصوصی شریک ہوئے ، اس اجلاس میں جمعیة نے ایک تجویز پاس کی اور یہ فیصلہ لیا کہ اس تجویز کو کثیر تعداد میں چھپوایا جائے اور ملک کے گوشے گوشے میں اسے پہنچایا جائے ، یہ مشکل ترین خدمت دو حضرات کے سپرد کی گئی :(۱)مولانا عبد الماجد دہلوی (۲)مولانا سید محمد میاں ، اس تجویز کو دہلی سے مشرقی ہندوستان کے آخری کنارے تک پہنچانے کی ذمہ داری مولانا سید محمد میاں  کو تفویض کی گئی،مولانا  تجویز کا بنڈل لے کر سفر کے لیے کمر بستہ ہوگئے ، مولانا کے قلم تاریخ رقم نے سفر کی داستان محفوظ کردی ہے:
” جگہ جگہ ہڑتالیں ہورہی تھیں، پولیس اور فوج کی گولیاں موت کی بارش برسارہی تھیں، ریل کی پٹریاں اکھاڑی جارہی تھیں، ٹیلیفون اور ٹیلی گراف کے تار کاٹ کرنظام حکومت؛ خصوصاً ریلوے کے نظام کو معطل کیا جارہا تھا اور بارش کی مسلسل جھڑیوں نے جس طرح پولیس اور سی آئی ڈی کے کام کود شوارکردیا تھا، مسافروں کے لئے بھی صعوبتیں پیداکردی تھیں؛ بہر حال ان حالات کو انگیز کرتے ہوئے دہلی سے روانہ ہوکر مغل سرائے تک تو رسائی ہوگئی؛ لیکن مغل سرائے کے بعد سفرکی تمام صورتیں نا ممکن ہوگئیں؛ کیونکہ ریلوے کی پٹریاں تو تحریک کی نذرہوگئی تھیں اور عام راستوں اور سڑکوں کو سیلاب نے ناقابل عبوربنادیا تھا؛ مجبوراً احقر جونپور واپس ہوا اور محترم حاجی ولی محمد صاحب مرحوم کے ایک مکان میں گوشہ نشیں ہوکر اس لڑیچرکو مختلف صورتوں سے ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں پہنچا نے کا انتظام کیا “۔(۴۲)
مجاہد ملت نے جب اخبار ” الجمعیة “ کی نشاة ثانیہ کا عزم فرمایا اور اس کی ادارت کے لیے مولانا سید محمد میاں  کو دہلی طلب کیا تو آپ کن دشوار گزار راہوں کو طے کرتے ہوئے ، دہلی پہنچے ، مولانا کے قلم نے اس کا حال بھی سپرد قرطاس کیا ہے:
”وسط دسمبر (۱۹۴۷ء)میں احقر چند ضرورتوں سے دہلی سے باہر گیا ہوا تھا ،غالباً ۲۰/ دسمبر کو سہانپورمیں مجاہد ملّت کا تار پہنچا اور احقر خطر ناک راستے طے کرتا ہوا خدا کے فضل سے دہلی پہونچ گیا “۔(۴۳)
آزادی کے بعد پھوٹنے والے قیامت خیز فسادات میں جمعیة اور کارکنان جمعیة کی قربانیاں
تقسیم ہند کے بعدجب پورے ملک میں فسادات کی آگ پھیل گئی ، مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ، لاکھوں کی تعداد میں مسلمان قتل کیے گئے ، ان کے گھر اجاڑے گئے ، ان کی آبادیاں ویران کی گئیں ، فسادات کے شعلے ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بلند ہورہے تھے ، پورا ملک جہنم کدہ بنا ہوا تھا، دہلی ، میوات ، ہریانہ اور دیگر کئی صوبوں سے مسلمانوں کے اخراج کی منصوبہ بندی مکمل کرلی گئی تھی ، حکومت اور انتظامیہ چشم پوشی سے کام لے رہی تھی ، بالفاظ دیگر فسادیوں اور بلوائیوں کے ساتھ کھڑی تھی ، ملک کا وزیر داخلہ کے نزدیک ان فسادات اور بڑی تعداد میں مسلمانوں کے جانی و مالی نقصان کو معمولی سمجھ رہاتھا؛ بلکہ وقتا فوقتا اس کی تردید کر رہا تھا ، جس کی کہانی مولانا آزاد نے تفصیل سے لکھی ہے ۔
ان سنگین حالات اور ہندو دہشت گردی وفرقہ پرستی کا مقابلہ کرنے کے لیے ، جمعیة علماء ہند اور اس کا جانباز کارکنان نے جان کی بازی لگا دی ، مجاہد ملت  اور ان کے دست وبازو مولانا سید محمد میاں  ، مولانا انیس الحسن  وغیرہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ان فساد زدہ علاقوں میں پہنچ جاتے، فسادیوں پر کنٹرول کرنے کے لیے انتظامیہ کو متنبہ کرتے ، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے، مظلوم اور بے سہارا لوگوں کی ہر طرح امداد کرتے ، ان کے درد میں شریک ہوتے ، ملک میں جہاں کہیں فساد ہوتا ، فوراً وہاں پہنچتے اور ہر طرح سے وہاں کے لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا مظاہرہ کرتے، جمعیة کے تمام کارکنان اس عرصہ میں نہایت مصروف رہے ، دیگر تمام کاموں کو روک دینا پڑا، مولانا سید محمد میاں  اس زمانہ کی اپنی مصروفیت کے تعلق سے لکھتے ہیں :
”افسوس اس زمانے میں جمعیة علما ء سے تعلق رکھنے والا ہر ایک چھوٹا بڑا، اس درجہ مصروف اور منہمک تھا کہ کسی کو بھی ڈائری لکھنے کی توفیق نہیں ہوئی، احقر نے چند باریہ سلسلہ قائم کرنا چاہا؛ مگر ایک طرف واقعات کی کثرت اور دوسری جانب جماعتی فرائض کی انجام دہی کی کوشش ؛نتیجہ یہ ہوا کہ ڈائری لکھنے میں کامیاب نہ ہو سکا، تاہم بہت سے واقعات علماء حق جلد دوم اور مخصر تذکرہ خدمات جمعیت علماء ہند میں درج کرکے شائع کراچکاہوں ۔(۴۴)
ایک دوسرے موقع پر مولانا تحریر فرماتے ہیں کہ وجمعیة علماء کی طرف سے فسادات میں ستم رسیدہ اور زخم خوردہ مظلوموں کی مدد کے تشریف لے جاتے تھے :
”۱۹۴۷ء کے وقتی ہنگاموں کے بعد جو فسادات گذشتہ پندرہ سال میں ہوئے، ان کا شمار مشکل ہے ،ہر فساد کے موقع پر جمعیة علماء ہند کی طرف سے وفود بھیجے جاتے تھے اور ستم رسیدہ مسلمانو ں کی امداد کی جاتی تھی؛ مگر ان دفود میں خود مجاہد ملت شریک نہیں ہوا کرتے تھے ؛بلکہ اہم موقع پر احقر کو بھج دیاکرتے تھے “۔ (۴۵)
ڈاکٹرابو سلمان شاہ جہان پوری لکھتے ہیں :
”اور ۱۹۴۷ء کے آخر تک جو وقت آیا تھا ، اس میں ہر صبح و شام کو ان کی ذمہ داریوں اور مصروفیتوں میں اضافہ ہوتا رہا تھا اور آخر میں تو یہ اہتمام اتنا بڑھ گیا تھا کہ جب وہ جمعیة کے دفتر سے نکلتے تو جان کو پہلے اپنی ہتھیلی پر رکھ لیتے تھے“۔(۴۶)
۱۹۴۷ء کے بعد ہنگامہ خیز اور قیامت افشاں حالات میں مولانا میاں کی خدمت کے حوالے سے مولانامسعود عزیز ندوی لکھتے ہیں:
”اس پر آِشوب دور میں جب کہ مسلمان خود کو بے یارو مددگار پارہے تھے ، اس موقع پر مولانا حفظ الرجمان سیوہاروی  کے ساتھ معاون کے طور پر مولانا سید محمد میاں نے جو خدمات انجام دیں ، وہ ہندوستان کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائیں گی ، اکابر علماء نے اس فتنہ سے مسلمانوں کو بچانے میں جان کی بازی لگادی اور سر ہتھیلی پر رکھ کر خدمات انجام دیتے رہے “۔(۴۷)
جمعیة علماء فتنہٴ ارتداد کے مقابلہ میں اور مولانا سید محمد میاں کی قربانیاں
آزادی کے بعد ملک کی صورت حال کچھ اس طرح ہوئی کہ مسلمان دہشت اور خوف کے سایہ میں تھے ، احساس کمتری نے ان کے اندر مضبوطی کے ساتھ اپنے پاوٴں جمالیے تھے ، جس کی وجہ سے بہت سے ایسے علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی ، جیسے ہریانہ، پنجاب اور میوات وغیرہ وہاں بڑی تعداد میں مسلمان ڈر کی وجہ سے مرتد ہوگئے تھے ، بہت سوں نے ہندوٴوں کی طرح چوٹیاں بھی رکھ لی تھیں، جمعیة علماء ہند اور اس کے ارکان بالخصوص مجاہد ملت اور مولانا سید محمد میاں  وغیرہ نے ان مسلمانوں سے خوف ودہشت دور کرنے ، احساس کم تری سے ان کو باہر کرنے اور دوبارہ حلقہ بگوش اسلام کرنے اور بقیہ مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کرنے اور آئندہ نسل کو ارتداد والحاد سے محفوظ رکھنے کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں ، مولانا سید محمد میاں  نے ان علاقوں کے اسفار کیے ، جب کہ وہ علاقے مسلمانوں کے لیے بالکل غیر محفوظ تھے ، مولانا نور عالم خلیل امینی  رقم طراز ہیں:
” ملک کی آزادی کے بعد جہاں مسلمان تھوڑی تعداد میں رہ گئے تھے ،وہاں ارتد ادکا شدید خطرہ پیدا ہوگیا تھا، ان مسلمانوں کو مسلمان باقی رکھنا بڑا نازک مسّلہ بن گیا تھا، آپ نے اس سلسلے میں بڑا بنیادی کردار ادا کیا، راجستھان ،میوات، ہماچل پردیش اور مشرقی پنچاب کے دور درازعلاقوں میں شب وروز دور ے کیے، دینی مکاتب قائم کیے، ان مسلمانوں کو دینی معلومات بہم پہنچائیں، انھیں حکمت عملی سے اسلام کی قیمت واہمیت بتائی، اس سلسلے میں بعض ایسی جگہوں کا سفر کیا جہاں جانا بڑی ہمت اور عزیمت کا کام تھا، ان کے کمزور جسم میں آہنی ارادے کا ایک بہت طاقت ور انسان نہ ہوتا تو وہ ہر گز یہ مہم انجام نہیں دے سکتے تھے، انھوں نے اس سلسلے میں متعدّدر فقاے کا رکوکام پر لگایا اور ان کی وفکر ی تربیت کی اس طرح ان گنت مسلمانوں کو ارتدادسے بچایا، یہ ان کے دینی وملی کارنامو ں میں بڑا تاریخی کارنامہ ہے “۔ (۴۸)
جمعیة علماء کا دینی تعلیمی پروگرام اور مولانا سید محمد میاں  کی کاوشیں
جمہوری ہندوستان تیزی کے ساتھ نئے افکار و رجحانات کی طرف بڑھ رہا تھااوریہ خیال ایک قطعی فیصلہ کی شکل اختیار کر چکا تھا کہ ملک کی اتنی بڑی آبادی کو جہالت و پس ماندگی سے نکالنے کے لیے دنیوی تعلیم کی عام اور جبری اشاعت ضروری ہے ، یہ نظریہ قابل تحسین تھا ؛ لیکن اس میں یہ خطرہ بالکل یقینی تھا کہ جب مسلمان بچے دنیوی لازمی تعلیم کا حصہ ہوں گے تو وہ دین کی تعلیم سے اور نتیجةً دین سے دور ہو جائیں گے ؛ کیوں کہ جمہوری ملک کی سرکاری تعلیم میں کسی مذہب کی تعلیم نہیں دی جاسکتی تھی ، نیز ایسی مسموم ذہنیت کے افراد کی بھی کمی نہیں تھی ، جو سرکاری نصاب تعلیم کو جمہوری اور دستور ہند کی منشا کے خلاف اکثریت کے مخصوص مذہبی رجحانات میں رنگنے لگے تھے اور ایک خاموش کوشش شروع ہوچکی تھی کہ نصاب تعلیم کے ذریعہ آنے والی نسل کا ابتدا ہی سے اس طرح ذہن ڈھالا جائے کہ وہ اسلامی عقائد ونظریات سے دور ہوجائیں ،ایسے ناسازگار حالات کا مقابلہ کرنے کے لیی جمعیة علماء ہند نے اپنے سالانہ اجلاس منعقدہ لکھنوٴ (۱۹۴۹ء)میں دینی تعلیم کی مہم کو اپنا سب سے اہم پروگرام قرار دیا(۴۹)اور ملک گیرپیمانہ پر دینی تعلیمی تحریک مہم کو برپا کرنے کا عزم کیا تاکہ مسلمانوں کے دل میں دینی تعلیم کی اہمیت کو جاگزیں کی جائے اور ان کی نسلوں کے دین و ایمان کی حفاظت کی جاسکے اور ملک کے طول وعرض میں بیسیوں کامیاب اجتماعات کیے۔
اس کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ ایک مختصر اور سہل دینی نصاب مرتب کیا جائے جو کم سے کم وقت میں مسلمان بچوں کو دین کے مبادیات ، عقائد ، احکام اور اخلاق سے آراستہ کرے اور یہ ذمہ مولانا سید محمد میاں  نے بحسن وخوبی انجام دی ،نصاب تیار کیا اور دینی تعلیم کے رسالے لکھے اور تعلیم کو آسان سے آسان تر بنانے کے طریقے متعارف کروائے ، مولانا انیس الحسن اپنے مقالہ میں تحریر کرتے ہیں :
”جمعیة نے اپنے سالانہ اجلاس منعقدہ لکھنوٴ(۴۹ء)میں دینی تعلیم کی مہم کو اپنا سب سے اہم پروگرام قرار دیا اور اس گے خدام اس مہم کی ساخت وپرداخت میں لگ گئے ، مجوزہ نصاب کی تدوین و ترتیب کی سعادت اکثر وبیشتر حضرت مولانا محمد میاں صاحب کے حصہ میں آئی اور ملک گیر پیمانہ پر اس مہم کو برپا کرنے کا شرف مجاہد ملت  کو حاصل ہوا“۔(۵۰)
مولانا نور عالم خلیل امینی لکھتے ہیں:
” اسی طرح آزادی کے بعد کے مر حلے میں مسلمانوں کی نئی نسلوں میں دین کی حفاظت اور عقیدہ اسلام پر انھیں بر قراررکھنا بھی دینی وملی فریضے میں بنیادی حیثیت کا کام تھا، جمعیة علما ے ہند نے اپنے سو لھویں اجلاس منعقدہ لکھنوٴ ۱۶تا۱۸/اپریل ۱۹۴۹ء میں دینی تعلیم پرارتکا ز کو اپنا بنیادی پروگرم قرار دیا اور اس مہم کو انجام دینے کی ذمے داری آپ ہی کے ذمے کی گئی ۔آپ نے نہ صرف اسے مطلوبہ معیار پر انجام دیا ؛بلکہ اس کے لئے نصابی رسالے بھی مرتب فرمائے، جو ”دینی تعلیم کے رسالے“ کے نام سے بہت مشہور ومقبول ہوے اور آپ کی میزان حسنات میں گراں قدر اضافے کا باعث بنے “۔(۵۱)
جمعیة علماء ہند کا منصوبہ ” شرعی پنچایتوں کا نظام“ اور مولانا محمد میاں کی خدمات
محکمہ قضا ایسا ضروری محکمہ ہے کہ اس کے بغیر مسلمانوں کی سماجی زندگی کو اسلامی زندگی کہنا سراسر غلط ہے اور ایک بے معنی لفظ ہے ؛ اسی لیے قاضی کے تقرر کو واجب قرار دیا جاتا ہے ، جس کے لیے جد وجہد کرنا مسلمانوں پر بحیثیت فقہ واجب اور لازم ہے ، جدوجہد نہ کریں تو سب گنہگار ہیں؛ مگر اس واجب کی ادائیگی کے لیے حکومت کے تعاون کی ضرورت ہے ؛ لیکن بدرجہ مجبوری (یعنی حکومت کے تعاون نہ کرنے کی صورت میں)ان مسائل کا حل ایسی کمیٹیوں اور پنچائتوں کے ذریعہ ہوسکتا ہے ، جن کو ” شرعی پنچایت “ کہا جاسکے ۔(۵۲)
چنانچہ شرعی پنچایت کی اسی اہمیت کے پیش نظر جمعیة علماء ہند اپنے اجلاسوں کی تجاویز میں باربار مسلمانوں کو ” شرعی پنچایت “ کے قیام کی طرف توجہ دلاتی رہی ہے اورجب جمعیتہ علماء ہند نے اپنے اجلاس اجین منعقدہ ۹ تا ۱۱/ دسمبر ۱۹۶۰ء میں شرعی پنچایتوں کے نظام کو جاری کرنے کا فیصلہ کیا (۵۳) تو مولانامیاں نے ہی اس کا ضابطہ عمل، اختیار ات وفرائض اور احکام تیارکیے۔(۵۴)
مولانا سید محمد میاں  نے شرعی پنچایت کے لیے یہ ضابطہ عمل حضرت مولانا اشرف علی تھانوی(۱۲۸۰ھ=۱۸۶۳ء/۱۳۶۲ھ= ۱۹۴۳ء ) کی کتاب ” الحیلة الناجزة للحلیة العاجزة “ کی روشنی میں مرتب کیا تھا پھر اس کا مسودہ حضرت مولانا نظام الدین  (متوفی ۱۴۲۰ھ = ۲۰۰۰ء ) سابق مفتی دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا شاہ عون احمد پھلواری شریف کی خدمت پیش کیا اور ان حضرات کے نظر ثانی کے بعد ہی اسے شائع کیا گیا ؛ چنانچہ مولانا سید محمد میاں  تحریر فرماتے ہیں:
”اللہ تعالی بے حد وبے حساب رحمتیں نازل فرمائے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور ان کی رفقاء و معاون حضرات پر اور ان کی مدارج بلند کرے کہ ان حضرات نی خود اپنی تحقیق وتفتیش کی علاوہ حرمین شریفین کے احجاب فتوی علماء سے مراسلت کرکے ایسا ذخیرہ مرتب فرمادیا ہے، جو مسلم پرسنل لا سے متعلق ان اہم مسائل میں شمع ہدایت اور مشعل راہ ہے ، جو ” الحیلة الناجزة للحلیة العاجزة“کے نام سے بار بار طبع ہو کر حضرات علماء کرام کی قبولیت حاصل کرچکا ہے ۔یہ مقبول و مستند ذخیرہ ہی اس ضابطہ عمل کی بنیاد ہے ؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ضابطہ عمل اسی ذخیرہ کی تشریح ہے ، جو نمبروار دفعات کی صورت میں مرتب کردی گئی ہے “۔(۵۵)
جمعیة علماء ہند کی ایک یادگار خدمت
جمعیة علماء کے حوالے سے مولانا سید محمدمیاں  کی خدمات کے تذکرہ کواحقر ان کی ایک یادگار اور ایسی خدمت پر ختم کرتا ہے ، جس سے جمعیة علماء ہنوز استفادہ کر رہی ہے ، اور اب وہ جمعیة کا نشان اور اس کی پہچان بن گئی ہے اور وہ ہے جمعیة علماء ہند کا موجودہ پرشکوہ اور اہمیت کا حامل دفتر اور اس کی جگہ ، جو مسجد عبد النبی کے احاطہ میں ہے ، آزادی کے بعد دیگر بہت سی مساجد اور اوقافی جائدادوں کی طرح یہ مسجد بھی غیروں کے قبضہ میں تھی ، مولانا سیدمحمد میاں  نے دیگر مساجد کی طرح اس مسجد کوبھی واگزار کرایا (۵۶)اور یہ مسجد ۲۱/فروری ۱۹۶۳ء کو جمعیة علماء کے حوالے کردی گئی ، آپ کی خواہش بھی تھی کہ جمعیة علماء کا صدر دفتر گلی قاسم جان سے منتقل ہوکر یہاں قائم ہوجائے اور یہ خواب حضرت فدائے ملت مولانااسعد مدنی (۱۳۴۶ھ=۱۹۲۸ء/۱۴۲۷ھ=۲۰۰۶ء) نے۱۹۶۵ء میں شرمندہ تعبیر کیا ۔(۵۷)

حواشی وحوالہ جات
(۱) مولانا سید محمد میاں  کس سنہ میں مدرسہ شاہی کے مدرس ہوئے ، اس سلسلہ میں تحریروں میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے (۱) مولانامسعود عزیز ندوی نے اپنی کتاب”تذکرہ مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی“ میں مولانا کی تحریر پیش کی ہے، جس میں لکھاہے کہ آپ مارچ ۱۹۲۹ء میں مدرس ہوئے۔(ص:۴۱) (۲) جبکہ مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری لکھتے ہیں :۱۹۲۸ء میں جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد تشریف لائے (تحریک آزادی ہند میں مسلم علماء اور عوام کا کردار، ص:۲۲۱)اورمولانا نور عالم خلیل امینی کی ” پس مرگ زندہ “میں شامل مولانا سید محمد میاں کی خود نوشت سوانح(ص:۹۵) اور مولانا معزالدین صاحب نے تاریخ شاہی نمبر (ص:۳۸۶،۳۸۷)میں مولاناسید محمد میاں  کی تحریر کے حوالے سے یہی لکھا ہے، نیز مولانا معزالدین صاحب نے رجسٹر کارروائی اجلاس مجلس شوری مدرسہ شاہی کے حوالے سے بھی لکھا ہے کہ مولانا ۱۳۴۷ھ (مطابق ۱۹۲۸ء)میں تدریسی خدمات پر مامور ہوئے۔(۳) مولانا اشفاق حسین قاسمی نے ندائے شاہی کے تاریخ شاہی نمبر میں لکھا ہے :آپ ۱۳۴۷ھ مطابق ۱۹۲۷ء میں مدرسہ شاہی میں مدرس کی حیثیت سے تشریف لائے۔(تاریخ شاہی نمبر، ص: ۲۳۹)
غور کرنے اور تاریخوں اور واقعات کوآپس میں ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دوسری رائے ہی صحیح ہے ، یعنی مولانا سید محمد میاں  ۱۹۲۸ء میں ہی جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد کے مدرس ہوگئے ہیں ؛ کیوں کہ (۱)مدرسہ شاہی مرادآباد کی تاریخی روداد میں بھی درج ہے کہ شوال۴۷ھ (۱۳۴۷ھ مطابق ۱۹۲۸ء)سے حضرت مولانا محمد میاں صاحب  ناظم جمعیة علماء ہند نے بحیثیت ادیب ومدرس مدرسہ شاہی میں کام کا آغاز کیا۔(تاریخ شاہی نمبر ، عنوان مدرسہ شاہی کے ایک سو سترہ سال ، از مفتی محمد سلمان منصورپوری، ص:۱۵۵)(۲) مولاناسید محمد میاں  نے لکھا ہے کہ یہ وہی زمانہ ہے جس میں سائمن کمیشن ناکام واپس ہوا ہے ، اور تاریخی اعتبار سے یہ بات متعین ہے کہ یہ کمیشن ۳۱/ مارچ ۱۹۲۸ء کو واپس ہوا ہے ۔(۳)اس باب میں مولانا مسعود عزیزی نے اپنی کتاب کا ماخذ ، تاریخ شاہی میں موجود مولانا معزالدین صاحب کے مضمون کو ہی بنایا ہے ، اکثر عبارتیں بھی بعینہ ہیں ؛لہذا غالب گمان یہ ہے کہ مولانا مسعود عزیزی کی کتاب اورمولانا اشفاق صاحب کے مضمون میں کاتب سے سہو ہوا ہو۔
لیکن تقریبا تمام ہی سوانح نگاروں نے یہ بات نقل کی ہے کہ مارچ ۱۹۲۶ء میں کلکتہ میں جمعیت کا اجلاس ہوا اور پھر اس کے بعد ہی مولانا مدرسہ حنفیہ آرہ ضلع شاہ آباد کے مدرس ہوئے اور مولانا نے وہاں تقریباً تین، ساڑھے تین سال تدریسی خدمات انجام دیں ، جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ۱۹۲۹ء یا اس کے بعد ہی مولانا مدرسہ شاہی کے مدرس بنے ہیں ، واللہ اعلم بحقیقة الحال!
(۲) شاہجہان پوری ، ڈاکٹر ابو سلمان ، مقالات سیاسیہ، فرید بک ڈپو (پرائیویٹ) لمٹیڈ نئی دہلی،ج:۲، ص:۲۹۔
(۳) سائمن کمیشن (Simon Commission) برطانوی حکومت نے ۱۹۲۷ء میں سات ممبران پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا ، جس کا چیئرمین سر جوہن سائمن (Sir John Simon)تھا ، کمیشن کا مقصد ۱۹۱۹ء میں بنے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ (Government of India Act of 1919) کی کارگزاری کی رپورٹ دینا،اور اس میں کچھ ترمیم اور اصلاحات کرنا اور ہندوستانیوں کو جزوی خود مختاری دینا تھا ، لیکن پس پردہ اس کا مقصد آزادی کی تحریک اور اس کے مطالبہ کو سرد کرنا تھا، کمیشن فروری ۱۹۲۸ء کو ہندوستان آیا ، مگر ہر طرف اس کی مخالفت ہوئی ، جس کی وجہ سے ایک مہینہ بعد ہی مارچ ۱۹۲۸ء کو نامراد واپس چلاگیا۔
(۴) جنگ عظیم اول جو برطانیہ اور جرمنی اور ان کے حلیف ممالک کے درمیان۱۹۱۴ء سے ۱۹۱۸ء تک جاری رہی اور جس کا اختتام ، خلافت عثمانیہ کے تاراج پر منتج ہوا ، لہذا خلافت کی حمایت اور انگریزوں کی مخالفت میں ۱۹۱۸ء میں خلافت تحریک وجود پذیر ہوئی ، جس کے بہت ہی شاندار نتائج ہندوستانی سیاست پر مرتب ہوئے ،اس سے ہندومسلم اتحاد کو تقویت ملی ، کیونکہ برادران وطن ، کانگریس اور مہاتما گاندھی نے بھی اس تحریک کی تائید کی اور اس کے جلسوں میں شریک ہوئے ، اس تحریک سے ملکی سیاست میں بڑی تبدیلی پیدا ہوئی ، اس نے برطانوی پروڈکٹس اور حکومت برطانیہ کے عہدوں اور ان کی امدادوں کا بائیکاٹ کیا، ترک موالات کا فتوی پورے ملک میں پھیلا گیا ، جس سے تحریک آزادی میں ایک نیا جوش اور پر امید امنگ پیدا ہوئی ۔
(۵) مختصر داستان حریت ، مفتی عبد الحمید دانش قاسمی ، ص: ۲۱۵۔
(۶) مولانا ابوالکلام آزاد اور مہاتما گاندھی نے ستیہ گرہ کا نظریہ پیش کیا اور مارچ ۱۹۱۹ء کو ممبئی میں ستیہ گرہ سبھا قائم ہوئی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ حکومت برطانیہ کے قوانین کی مخالفت کرنا، عدم تشدد کے ساتھ سول نافرمانی کرنا ۔(مختصر داستان حریت ، ص: ۲۰۸)
(۷) سوامی شردھانند ، جو تحریک سول نافرمانی کا حصہ تھے ، وہ دوران جیل حکومت برطانیہ کے آلہ کار بن گئے اور انھوں نے ۱۹۲۲ء میں شدھی سنگٹھن تحریک چلائی ، جس کے ذریعہ انھوں نے بہت سے مسلمانوں کو مرتد بنادیا ، یہ تحریک ملکانوں کے علاقہ سے شروع ہوئی اور ہزاروں ملکانوں کو مرتد بنادیا گیا ؛ لیکن جمعیة علماء ہند نے اس تحریک (بلکہ تخریب)کا کامیاب تعاقب کیا اور تمام مرتدین کو دوبارہ حلقہ بگوش اسلام کیا۔(تاریخ جمعیة علماء ہند ، اسیر ادروی ، ج:۱، ص:۶۳)
(۸) امینی، مولانا نور عالم خلیل ،پس مرگ زندہ ، ادارہٴ علم وادب ، افریقی منزل قدیم ، نزد چھتہ مسجد دیوبند ، یو پی ، انڈیا، ایڈیشن ۱، ۱۴۳۱ھ مطابق ۲۰۱۰ء، ص:۴۶۔
(۹) پس مرگ زندہ ، ص:۹۷۔
(۱۰) روز نامہ الجمعیة دہلی ، خصوصی اشاعت ، بموقع اجلاس بست وسوم جمعیة علماء ہند ، ۵ / مئی ۱۹۷۲ء ، مضمون بعنوان :خود نوشت نوا، ص:۱۲۹، ۱۳۰۔ بحوالہ تاریخ شاہی نمبر، ۱۹۹۲ء مطابق ۱۴۱۳ھ، مضمون مولانا معزالدین صاحب ، عنوان :مدرسہ شاہی کے عظیم محسن سید الملت مولاناسید محمد میاں دیوبندی کی زنگی کے چند اوراق، ص: ۳۹۰
(۱۱) تفصیل کے لیے دیکھیں : مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی ایک سیاسی مطالعہ ، ص:۱۴۲، مختصر داستان حریت ، از مفتی عبد الحمید دانش ، ص:۲۱۷، ۲۱۸۔
(۱۲) شاہجہان پوری، ڈاکٹر ابو سلمان، مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی  ایک سیاسی مطالعہ،فرید بک ڈپو (پرائیویٹ) لمٹیڈ نئی دہلی،۲۰۱۱،ص:۱۴۲،۱۴۳۔
(۱۳) مختصر داستان حریت ، ص: ۲۱۸۔
(۱۴) مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی  ایک سیاسی مطالعہ،ص:۱۴۳،۱۴۴۔
(۱۵) مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی  ایک سیاسی مطالعہ،ص:۱۴۴،۱۴۵۔
(۱۶) مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی  ایک سیاسی مطالعہ،ص:۱۴۵۔
(۱۷) مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی  ایک سیاسی مطالعہ،ص:۱۴۵،۱۴۶۔
(۱۸) تاریخ شاہی نمبر، ص:۳۸۸۔
(۱۹) شاہجہان پوری ، ڈاکٹر ابو سلمان ، مقالات سیاسیہ، فرید بک ڈپو (پرائیویٹ) لمٹیڈ نئی دہلی،ج:۲، ص:۱۰۔
(۲۰) ادروی ، اسیر ،تاریخ جمعیة علماء ہند ،شعبہ نشر و اشاعت جمعیة علماء ہند ،۱۴۰۳ھ،ص:۱۴۸۔
(۲۱) تاریخ شاہی نمبر، ص:۳۸۸۔
(۲۲) مستفاد از: مقالات سیاسیہ ج:۲، ص:۲۵، ۲۶۔
(۲۳) تاریخ شاہی نمبر، ص:۳۹۱۔
(۲۴) ندوی ،مفتی محمد مسعود عزیز ی،تذکرہ حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی ،دارالبحوث والنشر مرکز احیاء الفکر الاسلامی ، مظفر آباد ، سہارن پور ، یو پی، ۲۰۱۳ء /۱۴۳۴ھ، ص:۵۸۔
(۲۵) ہفت روزہ الجمعیة نئی دہلی ، اکابر جمعیة علماء نمبر،نومبر ۲۰۰۸ء مطابق ذی قعدہ ۱۴۲۹ھ ، مرتب محمد سالم جامعی ، ص:۱۰۰۔
(۲۶) تاریخ شاہی نمبر، ص:۳۹۸۔
(۲۷) دیکھیں:پس مرگ زندہ ، ص: ۴۸۔إدارة المباحث الفقہیة لجمعیة علماء الہند، تعریب: عبدالرزاق القاسمی، الناشر:إدارة المباحث الفقہیة التابعة لجمعیة علماء الہند، ۱۴۳۸ھج/۲۰۱۷ء،ص:۸۔
(۲۸) مزید کے لیے دیکھیں: مقالات سیاسیہ ، ج:۲، ص:۶،۱۰،۱۱۔
(۲۹) ہفت روزہ الجمعیة نئی دہلی ، اکابر جمعیة علماء نمبر،ص:۱۰۳۔
(۳۰) تذکرہ حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی ، ص:۶۵۔
(۳۱) تذکرہ حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی ، ص:۶۷،۶۸۔
(۳۲)مقالات سیاسیہ، ج:۲، ص:۱۳۔
(۳۳) پس مرگ زندہ ،ص:۸۷
(۳۴)تاریخ شاہی نمبر، ص:۳۹۹۔
(۳۵)مقالات سیاسیہ، ج:۲، ص:۱۳، ۱۴۔
(۳۶)تاریخ شاہی نمبر، ص:۳۹۹۔
(۳۷)مقالات سیاسیہ، ج:۲، ص:۱۳، ۱۴۔
(۳۸) مقالات سیاسیہ ج:۲۔
(۳۹) تاریخ شاہی نمبر، ص:۴۰۰۔
(۴۰) آپ پانچ مرتبہ قید وبند کی آزمائشوں سے گزرے ، مولانا کابیان ہے :”کا نگریس کا با قاعد ہ ممبر بننے کے چند ہفتے بعد ہی احقر گرفتارہوا اس وقت حضرت مولانا سیّد فخرالدین احمد سابق صدر جمعیة علماء ہند نے بھی احقر کا ساتھ دیا ،اس کے بعد احقر ۱۹۳۲ ء میں پہلے دہلی پھر مرادآباد میں گر فتار ہوکر سزا یاب ہوا پھر ۱۹۴۰ء میں یہ شرف حاصل ہوا، ۱۹۴۲ ء کی تحریک میں آخری بارگرفتار ہوا“۔(تاریخ شاہی نمبر، ص:۳۹۲)
(۴۱) مولاناسید محمد میاں ، اسیران مالٹا ، الجمعیة بک ڈپو ، گلی قاسم جان ، دہلی ۱۱۰۰۰۶،اشاعت :۱، ۱۹۷۶ء۔
(۴۲) تاریخ شاہی نمبر، ص:۳۹۵،۳۹۶۔
(۴۳)مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی  ایک سیاسی مطالعہ،ص:۲۱۶۔
(۴۴)مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی  ایک سیاسی مطالعہ،ص:۱۸۴۔
(۴۵)مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی  ایک سیاسی مطالعہ،ص:۱۹۸،۱۹۹۔
(۴۶) مقالات سیاسیہ ج:۲،ص:۲۶۔
(۴۷) تذکرہ حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی ، ص:۹۶،۹۷۔
(۴۸) پس مرگ زندہ ، ص:۴۷۔
(۴۹)ڈاکٹر رضی احمد کمال، جمعیة علماء ہند ، دستاویزات مرکزی اجلاس ہائے عام (۱۹۴۸ء تا ۲۰۰۳ء)شعبہ نشر واشاعت جمعیة علماء ہند ، اشاعت:۲۰۰۴ء، ص:۸۴،۸۵۔
(۵۰)مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی  ایک سیاسی مطالعہ،ص:۲۵۸۔
(۵۱) پس مرگ زندہ ، ص:۴۸۔
(۵۲) مولانا سید محمد میاں ، اسلامی معاشرہ کی بنیادی ضرورت شرعی پنچایت، جمعیة علماء ہند ، دہلی،ص:۳۔
(۵۳)جمعیة علماء ہند ، دستاویزات مرکزی اجلاس ہائے عام (۱۹۴۸ء تا ۲۰۰۳ء)ص:۲۹۸۔
(۵۴) تاریخ شاہی نمبر، ص:۳۹۷۔
(۵۵) اسلامی معاشرہ کی بنیادی ضرورت شرعی پنچایت، ص:۴۔
(۵۶)تذکرہ حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی ، ص:۹۶،۹۷۔
(۵۷)منصورپوری ، محمد سلمان، ندائے شاہی کی خاص اشاعت ، فدائے ملت نمبر، اشاعت دوم :۱۴۲۹ھ مطابق ۲۰۰۸ء ، ناشر: جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد، ص: ۳۸۔
الحمد للہ یہ مقالہ ۱۶/صفر ۱۴۳۹ھ مطابق ۲۶/اکتوبر ۲۰۱۸ء کو مکمل ہوا ۔

استاذ حدیث ورئیس تحریر مجلہ ” الصحوة الاسلامیہ“ وصدر شعبہ عربی ادب
جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد(ہند)
Email: ihbq1982