ماہِ صفر اسلام کی نظر میں

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

صفر المظفر ہجری کیلنڈر کا دوسرا مہینہ ہے، جو محرم الحرام کے بعد اور ربیع الاول سے پہلے آتا ہے۔ اس مہینہ میں معمول کی ہی عبادت کی جاتی ہے، یعنی کوئی خاص عبادت اس مہینہ میں مسنون یا مستحب نہیں ہے۔ نیز یہ دیگر مہینوں کی طرح ہی ہے، یعنی خاص طور پر اس مہینہ میں آفات ومصائب نازل ہونے کا عقیدہ رکھنا غلط ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اس ماہ کو نحوست والا مہینہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے وہ اس ماہ میں سفر کرنے سے گریز کیا کرتے تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کا غلط وفاسد عقیدہ اِن دنوں سوشل میڈیا پر ہمارے ہی دینی بھائیوں کی طرف سے شيئر کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہیں نقصانات بھی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ لوگوں کی اچھی خاصی تعداد پڑھے بغیر اور میسیج کی تحقیق کئے بغیر دوسروں کو فارورڈ کردیتی ہے۔ ان میسیجیز میں بعض اوقات نبی اکرم ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب ہوتی ہے جو نبی اکرم ﷺ نے زندگی میں کبھی بھی نہیں کہی۔ حالانکہ اس پر سخت وعیدیں احادیث میں وارد ہوئی ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جو شخص میری نسبت وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے۔ (بخاری) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان مختلف الفاظ کے ساتھ حدیث کی مختلف کتابوں میں مذکور ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ نے متعدد مرتبہ ایسا کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔ لہٰذا نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب کوئی بھی بات بغیر کسی تحقیق کے ہرگز فارورڈ نہ کریں۔ اسی طرح فرمان رسول ﷺ ہے: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بلا تحقیق بیان کرے۔ (مسلم) ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری طرف منسوب کرکے جان بوجھ کر کوئی جھوٹی حدیث بیان کی تو وہ جھوٹ بولنے والوں میں سے ایک ہے۔ مسلم

نبی اکرم ﷺ نے ماہ صفر سے متعلق اِس باطل عقیدہ کا انکار آج سے 1400 سال قبل ہی کردیا تھا، چنانچہ حدیث کی سب سے مستند کتاب میں وارد ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ماہ صفر (میں نحوست ہونے کا عقیدہ) بے حقیقت بات ہے۔ (بخاری) نحوست تو دراصل انسان کے عمل میں ہوتی ہے کہ وہ خالق کائنات کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، باوجود یکہ وہ اپنے وجود اور بقا کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کا محتاج ہے۔ اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ وہ بھی موت کا مزہ چکھ لے گا اور اس کے بعد انسان کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب اللہ تعالیٰ کو دینا ہوگا۔ انسان کی زندگی کا جو وقت بھی اللہ کی ناراضگی میں گزرا دراصل وہ منحوس ہے نہ کہ کوئی مہینہ یا دن۔ لہٰذا جو انسان ماہ صفر میں اچھے کام کرے گا تو یہی مہینہ اس کے لیے خیر وبرکت اور کامیابی کا سبب بنے گا اورانسان جن اوقات اور مہینوں میں بھی برے کام کرے گا زندگی کے وہ لمحات اُس کے لیے منحوس ہوں گے۔ مثلاً نماز فجر کے وقت کچھ لوگ بیدار ہوکر نماز پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ بلاعذر بستر پر پڑے رہتے ہیں اور نماز نہیں پڑھتے، تو ایک ہی وقت کچھ لوگوں کے لیے برکت اور کامیابی کا ذریعہ بنا، اور دوسروں کے لیے نحوست۔ معلوم ہوا کہ کسی وقت یا مہینہ میں نحوست نہیں ہوتی بلکہ ہمارے عمل میں برکت یا نحوست ہوتی ہے۔ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: آدم کی اولاد زمانہ کو گالی دیتی ہے، اور زمانہ کو برا بھلا کہتی ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہوں، رات دن کی گردش میرے ہاتھ میں ہے۔ (بخاری) یعنی بعض لوگ حوادث زمانہ سے متاثر ہوکر زمانے کو برا بھلا کہنے لگتے ہیں، حالانکہ زمانہ کوئی کام نہیں کرتا، بلکہ زمانہ میں جو واقعات اور حوادث پیش آتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے حکم سے ہوتے ہیں۔

غرضیکہ قرآن کریم کی کسی بھی آیت یا نبی اکرم ﷺ کے کسی بھی فرمان میں یہ مذکور نہیں ہے کہ ماہ صفر میں نحوست ہے یا اس مہینہ میں مصیبتیں اور آفتیں نازل ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ صفر کا مہینہ دیگر مہینوں کی طرح ہے، یعنی اس مہینہ میں کوئی نحوست نہیں ہے۔ سیرت نبوی کے متعدد واقعات، بعض صحابیات کی شادیاں اور متعدد صحابیوں کا قبول اسلام بھی اسی ماہ میں ہوا ہے۔ اور عقل سے بھی سوچیں کہ مہینہ یا زمانہ یا وقت کیسے اور کیوں منحوس ہوسکتا ہے؟ بلکہ ماہ صفر میں تو نحوست کا شبہ بھی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کا نام صفر المظفر ہے جس کے معنی ہی ہیں ’’کامیابی کا مہینہ‘‘۔ جس مہینہ کے نام میں ہی خیر اور کامیابی کے معنی پوشیدہ ہوں وہ کیسے نحوست کا مہینہ ہوسکتا ہے؟ بعض حضرات یہ سمجھ کر کہ صفر کے ابتدائی تیرہ دنوں میں آپ ﷺ بیمار ہوئے تھے، شادی وغیرہ نہیں کرتے ہیں، بالکل غلط ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں اس نوعیت کی کوئی بھی تعلیم موجود نہیں ہے، نیز تحقیقی بات یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ صفر کے ابتدائی دنوں میں نہیں بلکہ ماہ صفر کے آخری ایام یا ربیع الاول کے ابتدائی ایام میں بیمار ہوئے تھے۔ اور ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو آپﷺ کی وفات ہوئی تھی۔

بعض ناواقف لوگ ماہ صفر کے آخری بدھ کو خوشی کی تقریب مناتے ہیں اور مٹھائی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں، جبکہ اس کی شریعت اسلامیہ میں کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ لوگوں میں یہ بات غلط مشہور ہوگئی ہے کہ اس دن نبی اکرم ﷺ صحت یاب ہوئے تھے، حالانکہ یہ بالکل صحیح نہیں ہے، بلکہ بعض روایات میں اس دن میں حضور اکرم ﷺ کی بیماری کے بڑھ جانے کا تذکرہ ملتا ہے۔ لہٰذا ماہ صفر کا آخری بدھ مسلمانوں کے لیے خوشی کا دن ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہود ونصاریٰ خوش ہوسکتے ہیں، ممکن ہے کہ انہیں کی طرف سے یہ بات پھیلائی گئی ہو۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کی طرح برصغیر کے تمام مکاتب فکر کا بھی یہی موقف ہے کہ صفر کے مہینہ میں کوئی نحوست نہیں ہے، اس میں شادی وغیرہ بالکل کی جاسکتی ہے۔ اور ماہ صفر کے آخری بدھ میں خوشی کی کوئی تقریب منانا دین نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

اِن دِنوں سوشل میڈیا پر کسی بھی پیغام کو فارورڈ کرنے کا سلسلہ بڑی تیزی سے جاری ہے، چاہے ہم اس پیغام کو پڑھنے کی تکلیف گوارہ کریں یا نہ کریں، اور اسی طرح اس کی تحقیق کرنے کی ضرورت بھی سمجھیں یا نہ سمجھیں کہ میسج صحیح معلومات پر مشتمل ہے یا جھوٹ کے پلندوں پر۔ البتہ اس کو فارورڈ کرنے میں انتہائی عجلت سے کام لیا جاتا ہے۔ جبکہ میسج فارورڈکرنے کے لئے نہیں بلکہ اصل میں پڑھنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ غلط معلومات پر مشتمل میسج کو فارورڈ کرنا ہمارے لئے جائز نہیں ہے، خاص کر اگر وہ پیغام دینی معلومات پر مشتمل ہو کیونکہ اس سے غلط معلومات دوسروں تک پہونچے گی۔ مثال کے طور پر کبھی کبھی سوشل میڈیا کے ذریعہ پیغام پہنچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے 5 نام کسی بھی 11 مسلمانوں کو بھیج دیں تو بڑی سے بڑی پریشانی حل ہوجائے گی۔ اسی طرح فلاں پیغام اگر اتنے احباب کو بھیج دیں تو اس سے فلاں فلاں مسائل حل ہوجائیں گے، ورنہ مسائل اور زیادہ پیدا ہوں گے۔اسی طرح کبھی کبھی سوشل میڈیا پر میسج نظر آتا ہے کہ فلاں پیغام اتنے لوگوں کو بھیجنے پر جنت ملے گی۔ کبھی کبھی تحریر ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے سچی محبت نہ کرنے والا ہی اس میسیج کو فارورڈ نہیں کرے گا، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے پیغام کا شریعت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ عموماً جھوٹ اور فریب پر مشتمل ہوتے ہیں۔

موجودہ زمانہ میں تعلیم وتعلم اور معلومات فراہم کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا بھی استعمال کیا جارہا ہے، یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے بشرطیکہ اس کا صحیح استعمال کیا جائے۔مگر بعض حضرات کچھ پیغام کی چمک دمک دیکھ کر اس کو پڑھے بغیریا تحقیق کئے بغیر دوسروں کو فارورڈکردیتے ہیں۔ اب اگر غلط معلومات پر مشتمل کوئی پیغام فارورڈ کیا گیا تو وہ غلط معلومات ہزاروں لوگوں میں رائج ہوتی جائیں گی، جس کا گناہ ہر اس شخص پر ہوگا جو اس کا ذریعہ بن رہا ہے۔ لہذا تحقیق کئے بغیرکوئی بھی پیغام خاص کر دینی معلومات سے متعلق فارورڈ نہ کریں، جیساکہ احادیث رسولﷺ کی روشنی میں ذکر کیاگیا۔ یاد رکھیں کہ انسان کے منہ سے جو بات بھی نکلتی ہے یا وہ لکھتا ہے تو وہ بات اس کے نامۂ اعمال میں لکھی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: انسان منہ سے جو لفظ بھی نکالتا ہے، اس کے پاس نگہبان (فرشتے اسے لکھنے کے لئے) تیاررہتے ہیں۔ سورۃ ق 18

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ غلط خبروں کے شائع ہونے کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو بہت نقصان ہوا ہے، مثال کے طور پر غزوۂ احد کے موقع پر آپﷺکے قتل ہونے کی غلط خبر اڑادی گئی تھی جس کی وجہ سے مسلمانوں کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی، جس کا نتیجہ تاریخی کتابوں میں موجود ہے۔ اسی طرح غزوۂ بنو مصطلق کے موقع پر منافقین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاکر غلط خبرپھیلائی تھی جس سے نبی اکرمﷺ کی شخصیت بھی متأثر ہوئی تھی۔ ابتدا میں یہ خبر منافقین نے اڑائی تھی لیکن بعد میں کچھ سچے مسلمان بھی اپنی لاعلمی کی وجہ سے اس میں شامل ہوگئے تھے۔آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں حضرت عائشہؓ کی برأت نازل فرمائی۔اور اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے جھوٹی خبر پھیلانے والوں کی مذمت کی جنہوں نے ایسی غلط خبر کو رائج کیاکہ جس کے ذریعہ حضرت عائشہؓ کے دامن عفت وعزت کو داغ دار کرنے کی مذموم کوشش کی گئی تھی، ارشاد باری ہے: ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصہ کو سر انجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت بڑا ہے۔ سورۃ النور 11

اسی طرح آج بعض ویب سائٹیں اسلام سے متعلق مختلف موضوعات پر ریفرنڈم (رائے طلبی ) کراتی رہتی ہیں۔ ان ریفرنڈم میں ہمارے بعض بھائی کافی جذبات سے شریک ہوتے ہیں، اور اپنی صلاحیتوں کا ایک حصہ اس میں لگا دیتے ہیں۔ عموماً اس طرح کی تمام ویب سائٹیں اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لئے ہی استعمال کی جاتی ہیں، ان پر کوئی توجہ نہیں دینی چاہئے ، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: اے ایمان والو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذاء پہنچادو، پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ۔ (سورۃ الحجرات 6) نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے خواہاں رہتے ہیں ، ان کے لئے دنیا وآخرت میں دردناک عذاب ہے۔ سورۃ النور 19

خلاصۂ کلام: سوشل میڈیا کو ہمیں اپنے شخصی وتعلیمی وسماجی وتجارتی مراسلات کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ دین اسلام کی تبلیغ اور علوم نبوت کو پھیلانے کے لئے استعمال کرنا چاہئے کیونکہ موجودہ دور میں یہی ایک ایسا میڈیا ہے جس کے ذریعہ ہم اپنی بات دوسروں تک بآسانی پہنچا سکتے ہیں، ورنہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا تو عمومی طور پر مسلم مخالف طاقتوں کے پاس ہے۔ نیز اگر صحیح دینی معلومات پر مشتمل کوئی پیغام مستند ذرائع سے آپ تک پہونچے تو آپ اس پیغام کو پڑھیں بھی، نیز اپنی استطاعت کے مطابق زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بھی فارورڈ کریں تاکہ اسلام اور اس کے تمام علوم کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ہوسکے۔ لیکن اگر آپ کے پاس کوئی پیغام غیرمعتبر ذرائع سے پہونچے تو اس پیغام کو بغیر تحقیق کئے ہرگز فارورڈنہ کریں۔ ماہ صفر کے منحوس ہونے یا اس میں مصیبتیں اور آفات نازل ہونے کے متعلق کوئی ایک روایت بھی موجود نہیں ہے، اور نہ ہی آج تک کسی مستند عالم دین نے اس کو تسلیم کیا ہے، لہٰذا اس نوعیت کے پیغام کو ہرگز ہرگز دوسروں کو ارسال نہ کریں، بلکہ انہیں فوراً ڈیلیٹ کردیں۔

(www.najeebqasmi.com)

مولانا سلمان ندوی صاحب کی تقریر میں حضرت معاویہ ود یگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی کردار کشی کا ایک علمی جائزہ

ڈاکٹر مفتی عبید اللہ قاسمی
دہلی یونیورسٹی

انتہائی درد اور کڑھن کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ حالیہ دنوں میں جناب مولانا سلمان ندوی صاحب کی اس جوشیلی تقریر نے جس میں بے دردی کے ساتھ کاتبِ وحی، فاتحِ عرب وعجم صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور رسولِ اکرم کی زوجہِ مطہرہ جو اہلِ بیت میں ہیں، کے حقیقی بھائی سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی کردار کشی کی گئی ہے اور انہیں فاسق بنایا گیا ہے اس تقریر سے ملتِ اسلامیہ مضطرب ہوگئی ہے، علماءِ کرام غرقِ حیرت ہیں، ہر باغیرت صاحبِ ایمان کا کلیجہ منھ کو آرہا ہے اور تکلیف دہ حیرت اس وجہ سے بھی بڑھی ہوئی ہے کہ یہ ساری باتیں ان مولانا سلمان صاحب کی طرف سے امت کے سامنے پیش کی گئی ہیں جو ایک اہم ادارے کے مسندِ تدریسِ حدیث پر فائز ہیں۔ مولانا موصوف کا چند برسوں سے یہ معمول سا بن گیا ہے کہ وہ اپنے پرجوش بیانات میں ایسی باتیں کہتے رہتے ہیں جس سے امتِ اسلامیہ کو سخت تکلیف پہنچتی ہے۔ مولانا کا یہ رویہ بالخصوص مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی علیہ الرحمہ کی وفات کے بعد نمایاں ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں میں مولانا نے کبھی قرآن کریم کے صدیوں سے تعاملِ امت کے ذریعے چلے آرہے پاروں کی ترتیب کو غلط ٹھہرایا، تو کبھی بدنامِ زمانہ بغدادی کو امیر المومنین بناکر اور دشمنانِ اسلام کے اس ایجنٹ کی منھ بھر بھر کر تعریف کرکے مسلمانوں میں بھونچال پیدا کیا، تو کبھی روی روی شنکر سے ملاقات کرکے خانہِ خدا بابری مسجد کو بت خانے کے لئے حوالہ کرنے اور بدلے میں اجودھیا سے بہت دور شاندار مسجد اور جامعۃ الاسلام یونیورسٹی کی تجویز پیش کردی اور اکابرینِ مسلم پرسنل لاء کے ذریعے اس کی مخالفت کیے جانے پر ان کے خلاف تنقید وتنقیص اور الزام تراشیوں کا دہانہ کھول دیا۔

مولانا کی اس بار کی تقریر گزشتہ تمام تقریروں کا ریکارڈ توڑ گئی کیونکہ اب کی بار کا حملہ سیدھا ناموسِ صحابہ اور عدالتِ صحابہ پر تھا، چنانچہ مولانا نے صحابیِ رسول حضرت معاویہ پر اور (اگر میں نے سمجھنے میں غلطی نہیں کی ہے تو) دبے لفظوں میں خلافتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر بھی اپنی تقریر میں تنقید کی ہے۔

درج ذیل سطور میں مولانا کی تقریر میں اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کے خلاف مشمولات اور ان کا سرسری جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔

1۔ مولانا نے اپنی تقریر میں کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اچانک عمل میں آگئی، پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت خلافت کا قیام نہیں ہوا۔

سوال یہ ہے کہ مولانا کی اس بات کے پیچھے اصل منشاء کیا ہے؟ کیا مولانا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی خلافت منصوبہ بندی اور صحابہ کے درمیان خوب غور وفکر اور مشورے کی صفت سے خالی ہونے کی وجہ سے مخدوش اور قابلِ تنقید خلافت تھی؟ اگر بین السطور میں یہ کہاجارہا ہے تو یہ بہت خطرناک بات ہے۔ روافض تو اس بات کو سن کر مارے خوشی کے بلیوں اچھلینگے اور عید منائینگے کیونکہ وہ شیخین کی تنقیص کرنا اور انہیں گالیاں دینا اپنا جزوِ ایمان سمجھتے ہیں۔ خدا کرے مولانا کی مراد یہ نہ ہو۔ لیکن اگر مولانا نے حضرتِ ابوبکر کی خلافت پر یہ سوال اٹھایا ہے تو کس مقصد سے اٹھایا ہے، یہ میری فہم سے بالا تر ہے۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صحابہ کے درمیان سب سے افضل صحابی کے طور پر معروف تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عمر میں امامتِ نماز میں بھی انہیں اپنا خلیفہ بنایا۔ اہلِ بیت جن افراد پر مشتمل ہے ان میں ان کی جگر گوشہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ خود اہلِ بیت کے حضراتِ حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے والد اور خلیفہِ رابع حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرتِ ابو بکر کی وفات پر ان وقیع الفاظ میں ان کے اوصاف بیان فرمائے "رحمك الله أبا بكر، كنت والله أول القوم إسلاماً،وأخلصهم إيماناً وأشدهم يقيناً… وأحفظهم على رسول الله وأحربهم على الإسلام، وأحناهم على أهله، وأشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم خلقاً وفضلاً وهدياً وسمتاً،فجزاك الله عن الإسلام وعن رسول الله وعن المسلمين خيراً…” اب ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کا حضرت ابو بکر کو ان کےmatchless اوصافِ حمیدہ کی بنیاد پر خلیفہِ اول منتخب کرلینا فطری عمل کہلائے گا اور اس میں کسی منصوبہ بندی اور غور وفکر ومشورے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں تھی۔ غور وفکر اور منصوبہ بندی کی ضرورت اس وقت پڑتی جب ان کی بجائے کسی اور صحابی کو خلیفہ بنایا جاتا۔ وقت کا تقاضا بھی یہی تھا کہ فوری طور پر افضل الصحابہ کو خلیفہ منتخب کر لیا جائے۔ چنانچہ اس وقت موجود ہزاروں صحابہ نے بیعت کرکے متفقہ طور پر حضرت ابوبکر کو اپنا خلیفہ بنالیا۔ اگر یہ انشاءِ خلافت بوجہ عدمِ منصوبہ بندی غلط یا کمزور تھی تو صحابہ کی طرف سے ابقائے خلافت ہرگز نہیں ہوتی اور خلافت کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کا پورا موقعہ تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا اور نہ ہونا چاہئے تھا۔ بہرکیف، ہزاروں صحابہ کا فوری طور پر حضرت ابوبکر کی خلافت پر مجتمع ہوجانا اور کسی کی طرف سے بھی اختلاف کا نہ ہونا کیا منصوبہ بندی سے کمتر بنیادِ خلافت کہی جاسکتی ہے؟ حق تو یہ ہے کہ ان ہزاروں تمام صحابہ کے ذریعے حضرت ابو بکر کی بیعت اور خلافت پر متفق ہوجانے پر لاکھوں منصوبہ بندیاں قربان اور ہیچ ہیں۔ سورج کے غروب ہونے پر چودہویں کی رات میں چاند اور ستاروں میں چاند کو سب سے زیادہ روشن کہنے کے لئے کسی منصوبہ بندی، پلاننگ، غور و فکر، تدبر وتامل اور مشورے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ کسی کا اس میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ البتہ اگر اختلاف ہوسکتا ہے تو کسی چمگادڑ کی طرف سے یا انتہائی ضعیف البصر شخص کی طرف سے۔ "الله الله في أصحابي”

2۔ مولانا نے اپنی تقریر میں صحابیِ رسول اور کاتبِ وحی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں نازیبا کلمات استعمال کیے ہیں، انہیں باغی گروہ کا سردار کہا ہے۔ ان کی حکومت کو مجرمانہ کہا ہے۔ ان کے لئے حضرت علی کی بیعت کو واجب بتلایا گویا کہ حضرت معاویہ ترکِ واجب اور قیادتِ بغاۃ کی وجہ سے مجرم، فاسق اور غیر عادل ٹھہرے۔ مولانا موصوف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بغاوت کو مؤکد کرنے کے لئے یہ حدیث بھی پیش کرڈالتے ہیں "إن عماراً تقتله الفئة الباغية”. جبکہ اہلِ سنت والجماعت کی کتابوں میں مصرح ہے کہ یہاں الفئة الباغية سے مراد خوارج ہیں جنہوں نے حضرتِ عمار کو قتل کیا اور جن کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی تھی۔ مگر حیرت ہے کہ مولانا اس کا مصداق جماعتِ معاویہ کو ٹھہرا رہے ہیں جن میں بڑی تعداد میں صحابہ بھی ہیں۔ پھر مولانا آگے یہ بھی فرمارہے ہیں کہ "یہ ساری وہ چیزیں ہیں کہ جن کی وجہ سے معاویہؓ کی حیثیت قرآن کی روشنی میں مجروح ہوتی چلی جارہی ہے”! استغفر الله، استغفر الله! یہاں رک کر سوچنے کی بات یہ ہے کہ جہاں حضرت علی کے ساتھ صحابہ تھے وہیں حضرت معاویہ کے ساتھ بھی تو صحابہ تھے جن میں خزیمہ بن ثابت، ابو ایوب انصاری، خالد بن ربیعہ، عبد اللہ بن عباس، زید بن ارقم، سہل بن حنیف، قیس بن سعد بن عبادہ، عدی بن حاتم، عمار بن یاسر، ربیعہ بن قیاس، سعد بن حارث، رافع بن خدیج وغیرہ رضی اللہ عنہم شامل تھے۔سوال یہ ہے کہ پھر کیا حضرت معاویہ کا ساتھ دینے والے یہ سارے صحابہ الفئة الباغية تھے، فاسق، مجرم، غیر عادل اور قرآن کی روشنی میں مجروح شخصیت والے تھے، نعوذ باللہ؟ اگر ہاں، تو ان تمام صحابہ سے مروی جو احادیث صحیحین اور دوسری کتابوں میں ہیں ان کا کیا حکم ہوگا؟ امام بخاری نے تو اخذِ حدیث میں عدالت اور تقویٰ کا اس حد تک خیال رکھا کہ کسی محدث نے جانور کو جھوٹا چارہ دکھایا تو اس سے اخذِ حدیث کا ارادہ ترک کردیا اور غیر ثقہ ٹھہرادیا۔ اب اگر مولانا کے الزامات درست ہیں اور یہ سارے اصحابِ رسول قرآن کی نگاہ میں مجروح ہیں اور الفئۃ الباغیہ ہیں تو بھلا کس محدث کی مجال ہے کہ قرآن کی جرح کے مقابلے میں ان صحابہ کی تعدیل کردے اور ان کی مروی احادیث کو امام بخاری کی اصح الکتب بعد کتاب اللہ اور دیگر تمام محدثین کی کتابوں میں جگہ مل جائے؟ یا کیا یہ سمجھا جائے کہ حضرت معاویہ اور ان کا ساتھ دینے والے صحابہ کی مجروحیت عند القرآن اور ان کا الفئۃ الباغیہ کا مصداق ہونا محدثین اور فقہاء کو معلوم نہیں تھا اور ان سب سے غلطی ہوئی ہے؟ "الله الله في أصحابي”.

صحابہ کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت (ما أنا عليه وأصحابي) کاعقیدہ:

صحابہ کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت کا واضح اور صریح عقیدہ قرآن وسنت کی صریح نصوص پر مشتمل ہے۔

اہل السنہ والجماعت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام انبیاء کرام کے بعد الی قیام الساعة روئے زمین کی سب سے زیادہ متقی،صالح اور افضل جماعت ہیں۔ ان کی تعریف وتوصیف میں درجنوں قرآنی آیات اور سینکڑوں احادیث منقول ہیں۔ اگر ان کی فضیلت اور تعریف اور صفتِ عدالت میں ایک بھی آیت یا حدیث موجود نہ ہوتی اور قرآن و حدیث ان کی تعریف سے خالی ہوتے تب بھی بتقاضائے عقل صحابہ کا احترام اور ان کی شان میں گستاخی سے احتراز اور ان کی اقتداء کرنا لازم ہوتا کیونکہ وہ اصحابِ رسول تھے اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تزکیہ کرتے تھے اور انہیں تعلیم دیتے تھے "ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة”. مگر یہاں تو نہ صرف یہ کہ خموشی نہیں ہے بلکہ قرآن اور احادیث دونوں انتہائی خوبصورت اسلوب میں جگہ جگہ ان کی تعریف میں ناطق ہیں جنہیں پڑھ کر انسان جھوم جھوم جائے، ان کے لئے جنت کی بشارت سنارہے ہیں، ان کے ایمان کو قیامت تک آنیوالے مسلمانوں کے لئے parameterاور scale بنایا جارہا ہے اور حکمِ ربانی ہورہا ہے "آمنوا كما آمن الناس” یعنی اے ایمان والو، جس طرح صحابہ جنمیں حضرتِ معاویہ بھی شامل ہیں، کا ایمان ہے اس طرح اپنا ایمان بناؤ۔ ان سے محبت کرنے کا حکم دیا جارہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں صاف صاف اعلان فرمائے دے رہا ہے "رضي الله عنهم ورضوا عنه”. ایسی صورت میں صحابی حضرت معاویہ یا صحابہ کے خلاف نفرت اور بغض کا اظہار اور بذریعہ وعظ مسلم عوام کو اس نفرت اور بغض کی تعلیم دینا انتہائی باعثِ حیرت ہے اور خدانخواستہ یہ ایمان سوز بھی بن سکتا ہے۔ صحابہ کے خلاف بغض ونفرت پر مشتمل ایسی فکر رکھنا اور اس کی اشاعت کرنا خدانخواستہ کسی بڑے ابتلاء اور مصیبت کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے! "الله الله في أصحابي”

اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ قرآنی آیت رضي الله عنهم ورضوا عنه ہے۔

اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ "الصحابة كلهم عدول” ہے۔ یعنی تمام صحابہ تقویٰ وثقاہت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔ صحابہ یقیناً معصوم عن الخطاء نہیں ہیں مگر وہ باقی علی الخطاء بھی نہیں ہیں۔ ان سے غلطیاں ہوئی ہیں مگر وہ اللہ کے حضور میں توبہ کرکے خود کو پاک صاف بھی کرتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ توبہ کے بعد انسان pure اور پاک ہوجاتا ہے "التائب من الذنب كمن لا ذنب له”. ان کے باقی علی الخطاء نہ ہونے کی بطور دلالۃ النص دلیل دیگر متعدد دلائل کے علاوہ قرآن کریم کا یہ اعلان ہے "رضي الله عنهم ورضوا عنه”. ظاہر ہے کہ اللہ نے صحابہ جن میں حضرت معاویہ بھی ہیں، سے اپنی رضامندی اور خوش ہونے کا اظہار صیغہِ ماضی سے کیا جوconfirmed statusاور یقنیت وتاکید کو بتلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں نزولِ قرآن کی تکمیل کے بعد حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص لینے کے معاملے میں صحابہ کے درمیان رونما ہونے والے اختلافات، حضرت معاویہ کا حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کا انکار کرنا، حضرت علی وحضرت معاویہ کا دیگر صحابہ کے ساتھ قصاصِ حضرتِ عثمان کے معاملے میں برسرِپیکار ہونا اور حضرت معاویہ کا یزید کو ولیِ عہد بنانا یہ سب کچھ تھا۔ ان میں سے کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر ہرگز نہ تھی مگر ان سب کے باوجود اعلانِ ربانی رضي الله عنهم ورضوا عنه کے ہونے کا مطلب اس سوا کچھ نہیں ہے کہ صحابہ اگرچہ معصوم عن الخطاء نہیں ہیں مگر ان کی طرف سے بقاء علی الخطاء بھی نہیں ہوگا لہٰذا میں ان سے راضی ہوں اور اس کا اعلان بھی کردے رہا ہوں تاکہ دوسرے مسلمان بھی ان سے راضی رہیں، ان کے خلاف دل میں بغض نہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کو بتلانے کے لیے ورضوا عنه بڑھانے کی ضرورت نہیں تھی مگر یہ بڑھاکر خدا کے نزدیک صحابہ کے بہت زیادہ لاڈلے اور پیارے ہونے کو بلیغ انداز میں ظاہر کیا گیا۔ اب بھلا کسی مسلمان کے لئے کہاں گنجائش باقی رہی کہ وہ صحابہ سے بغض اور نفرت کرے اور انہیں ہدفِ تنقید بنائے۔ "الله الله في أصحابي”

اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے "الله الله في أصحابي لا تتخذوهم غرضاً بعدي فمن أحبهم فبحبي أحبهم، ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله يوشك أن يأخذه” (الترمذي) اللہ اللہ! قربان جائیے رسالت مآب کی فصاحت وبلاغت پر! جملے کے شروع میں کوئی فعل استعمال نہیں کیا گیا اور لفظ اللہ کو مکرر کرکے کتنے مؤکد اسلوبِ بیان میں فرمایا کہ میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ان کی شان میں کوئی گستاخی نہ ہو، کوئی نازیبا کلمہ منھ سے نہ نکلے اور میری وفات کے بعد انہیں نشانہ نہ بنانا۔ نیز رسولِ خدا سے محبت کے لئے صحابہ جنمیں حضرتِ معاویہ بھی شامل ہیں، سے محبت کو شرط قرار دیا گیا۔ اور صحابہ جنمیں حضرت معاویہ بھی داخل ہیں، سے بغض اور نفرت کو خدا ورسول سے بغض اور نفرت قرار دیا گیا اور بہت صریح الفاظ میں اللہ کے رسول نے یہ باتیں فرمائیں۔ حیرت ہے کہ مولانا نے خطبہِ جمعہ سے "الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة” پڑھکر تو سنا دیا مگر اسی خطبے میں موجود اس حدیث کو پڑھ کر نہیں سنایا۔

اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ارشادِ صحابیِ رسول عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہے "من كان منكم متأسيا فليتأس بأصحاب محمد ، فإنهم كانوا أبر هذه الأمة قلوبا، وأعمقها علما، وأقلها تكلفا، وأقومها هديا، وأحسنها حالا؛ قوما اختارهم الله لصحبة نبيه، وإقامة دينه، فاعرفوا لهم فضلهم، واتبعوهم في آثارهم، فإنهم كانوا على الهدى المستقيم”۔

حضرت علی وحضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلافات اور جنگ:

ان دونوں جلیل القدر صحابہ کے درمیان اختلاف اور جنگ خلیفہِ ثالث حضرت عثمان کے قاتلین کے قصاص کو لیکر پیدا ہوئی۔ حضرت علی اپنے اجتہاد کے مطابق محسوس کررہے تھے کہ چونکہ قاتلین کا ٹولہ مضبوط ہے اور ان سے قصاص لینے پر کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوسکتا ہے لہٰذا کچھ انتظار کرلیا جائے۔ دوسری طرف حضرت معاویہ اپنے اجتہاد کے مطابق فوری قصاص کو ضروری سمجھ رہے تھے۔ ان دونوں بزرگوں کا اختلاف اور پھر جنگ کسی ذاتی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ سیاسی پالیسی میں اجتہادی نوعیت کی تھی۔ دونوں بزرگوں کا ساتھ دینے والے صحابہ کرام کی بھی یہی نوعیت تھی۔ بدنیتی اور ظلم فریقین میں سے کسی کی طرف سے نہیں تھا۔ صحابہ کا ایک تیسرا طبقہ وہ بھی تھا جو اپنے اجتہاد کے پیشِ نظر دونوں میں سے کسی کی طرف نہیں تھا۔ وہ طبقہ یہ سمجھتا تھا کہ جنگ کی صورت میں بہر صورت خون مسلمانوں کا ہی بہے گا لہٰذا ہمیں دونوں سے الگ تھلگ رہنا ہے۔ جس طرح بہت سارے فقہی مسائل میں صحابہ کے مابین اجتہادی اختلافات تھے اسی طرح اسلامی حکومت اور اسلامی سیاست کے اس مسئلہِ قصاص میں بھی صحابہ کے درمیان یہ تین اجتہادی اختلافات پیدا ہوئے اور بموجب حدیثِ نبوی یہ تینوں طبقے اپنے اپنے اجتہاد کی وجہ سے مستحقِ ثواب بھی ٹھہرے۔ ان میں سے جو حق پر تھا وہ دوہرے اجر کا مستحق اور جو غلطی پر تھا وہ بھی کوئی گنہگار نہیں بلکہ اکہرے اجر کا مستحق تھا۔ اہلِ سنت والجماعت کے اجماعی عقیدے کے مطابق حضرت علی حق پر ہونے کی وجہ سے دوہرے اجر والے تھے اور حضرت معاویہ اکہرے اجر والے، اور گنہگار وہ ہرگز نہ تھے۔ چنانچہ جنگِ صفین کا ذکر کرنے کے بعد حافظ بن کثیر فرماتے ہیں "وهذا هو مذهب أهل السنة والجماعة أن علياً هو المصيب وإن كان معاوية مجتهداً وهو مأجور إن شاء الله”.(البداية والنهاية) خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عثمان کے قصاص کے معاملے میں یہ اختلاف ہوا اور یہ اجتہادی نوعیت کا اختلاف تھا جس میں صواب وخطاء دونوں پر اجر موعود ہے۔ لہٰذا اس بنیاد پر حضرت معاویہ کی کردار کشی، ان پر لعن طعن کرنا، انہیں برا بھلا کہنا اور ان کی تنقیص کرنا بلکہ اپنے دل میں بھی ان کے خلاف بغض ونفرت کو چھپاکر رکھنا سراسر حرام اور گناہِ عظیم ہے۔ "الله الله في أصحابي”

3۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرت معاویہ نے حضرت علی سے بغاوت کی اور باغی گروہ کی سربراہی کی۔ مولانا کی طرف سے حضرت معاویہ پر یہ الزامِ بغاوت بھی اس وجہ سے درست نہیں ہے کہ حضرت معاویہ نے حضرت عثمان کے قصاص کے معاملے کو لیکر حضرت علی سے بیعت نہیں کیا۔ بغاوت تب ہوتی جب انہوں نے بیعت کی ہوتی اور پھر بات نہ مانتے۔ کسی بھی ملک سے بغاوت اس کی طرف سے ہوتی ہے جو اس ملک کا آئینی شہری ہو۔ جو شہری ہی نہ ہو اس کے ذریعے اس ملک کی مخالفت بغاوت نہیں کہی جاسکتی۔ اسی طرح حضرت معاویہ کا معاملہ تھا۔

4۔ اپنی تقریر میں مولانا فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ کے مزاج میں ڈھیلاپن تھا۔ ڈھیلاپن کا ہونا اور خلیفۃ المسلمین کا امورِ خلافت میں ڈھیلاپن یقیناً ایک بڑا عیب بلکہ گناہ ہے۔ ظاہر ہے خلیفہِ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ڈھیلاپن کی تعبیر انتہائی نامناسب بات ہے۔

5۔ مولانا نے فرمایا کہ”لا تسبوا أصحابي” ایک خاص سیاق وسباق کے ساتھ مخصوص ہے، یہ کوئی اصول اور عمومی بات نہیں ہے۔ وہ سیاق وسباق یہ تھا کہ حضرت خالد بن ولید کو حضرت عبد الرحمن بن عوف کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ لہٰذا یہ حدیث اسی واقعے کے ساتھ خاص ہے، یہ کوئی اصول نہیں ہے۔ واہ صاحب واہ! یہ آپ کا اصول بھی خوب رہا! اولاً جمہور علماء امت کے نزدیک تو اصول یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے نصوص کے عمومِ الفاظ کا اعتبار ہے، نہ کہ سبب اور واقعے کا، العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب” البتہ شانِ نزول اور مواقعِ احادیث کے علم کا فائدہ یہ ہے کہ نص میں اگر کہیں اجمال ہو اور فہمِ معنی میں دشواری ہو تو اس سے مدد لے لی جائے۔ امت کا یہ اصول "العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب” معقول بھی ہے کیونکہ اگر قرآن و حدیث کے نصوص کو ان کی شانِ نزول اور واقعات کے ساتھ خاص کردیا جائے تو قرآن و حدیث یعنی مکمل اسلام ان واقعات کے ساتھ مخصوص ہوکر رہ جائے گا کیونکہ قرآن کی تقریباً ہر آیت کی شانِ نزول ہے اور خطبات کے علاوہ تقریباً تمام ہی ارشاداتِ رسول کسی نہ کسی سبب اور واقعے کے وقت فرمائے گئے۔ اس طرح لازم آئے گا کہ احکامِ اسلام مابعد زمانہ کے لئے معتبر نہیں ہونگے۔ گویا کہ اسلام صحابہ کے زمانے تک ہی محدود رہے گا۔ ثانیاً، اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد لا تسبوا أصحابي صرف عبد الرحمن بن عوف کے ساتھ مخصوص ہوتا تو جمع کا لفظ اصحاب کی بجائے مفرد لفظ استعمال کیا جاتا۔ ثالثا، اگر حضور کا ارشاد "لا تسبوا” عام نہیں تھا تو کیا یہ لازم نہیں آیا کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کے سوا دوسرے صحابہ کے بارے میں برا بھلا کہنے کی ممانعت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہرگز نہیں کی گئی ہے اور اس کا جواز حاصل ہے؟ جبکہ معمولی اخلاق والا انسان بھی دوسروں کو برا بھلا کہنے اور گالی دینے سے روکتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو چشمہِ اخلاقِ فاضلہ تھے۔ مولانا کو اگر اس حدیث میں عام ممانعت نظر نہیں بھی آئی تو دوسری حدیثوں اور قرآنی آیات پر نظر ڈال لیتے۔ کیا حدیث "سباب المسلم فسوق وقتاله كفر” بھی عام نہیں بلکہ واقعہِ ارشاد کے ساتھ خاص ہے؟ "الله الله في أصحابي”

6۔ یزید کو ولیِ عہد بنانے کی وجہ سے بھی مولانا حضرت معاویہ پر برس پڑے ہیں اور حضرت معاویہ کے اس اقدام کو ناجائز قرار دیا ہے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت معاویہ کو بحیثیت امیر المومنین اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں تھی۔ اگر بیٹا نااہل اور فاسق نہیں ہے اور دوسرے افراد بیٹے سے زیادہ اہل ہیں تب بھی بیٹے کو ولیِ عہد بنانے کا شرعاً جواز ہے البتہ یہ افضل نہیں ہے۔ مگر افضل کو اختیار کرنا بھی افضل ہی تک ہے، واجب نہیں ہے۔ یزید میں بظاہر فسق کے اسباب حضرت معاویہ کے زمانے میں ظاہر نہیں ہوئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ بھی یزید کی ان الفاظ میں تعریف کرتے ہیں "قد حضرته وأقمت عنده فرأيته مواظباً على الصلاة متحرياً للخير يسأل عن الفقه ملازماً للسنة۔”( حافظ بن كثير)،نیز مشہور صحابیِ رسول حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ کے سامنے یزید کو ولیِ عہد بنانے کی تجویز رکھی۔ نیز یزید فنِ حرب وضرب، سپہ سالاری میں ماہر تھا۔ چنانچہ بہت ممکن ہے کہ حضرات عبد الرحمن بن ابی بکر، حسن وحسین اور دیگر صحابہ کے مقابلے میں یزید کی ان ممتاز خوبیوں اور حضرت مغیرہ کی تجویز کی وجہ سے حضرت معاویہ نے اسے ولیِ عہد بنادیا ہو۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ انہوں نے بددیانتی کی ہے اور ذاتی مفاد کے پیشِ نظر محض بیٹا ہونے کی وجہ سے یزید کو ولیِ عہد نامزد کردیا۔ انہوں نے جو کچھ کیا نیک نیتی کے ساتھ کیا، البتہ یہ الگ بات ہے کہ نتائج کے اعتبار سے یہ فیصلہ غلط نکلا اور یزید سے امت کو نقصان پہنچا۔ حضرت معاویہ کی طرف سے اس فیصلے میں ان کی طرف سے بدنیتی اور مفاد پرستی نہ ہونے کی دلیلوں میں سے دلیلِ قرآنی "رضي الله عنهم ورضوا عنه” ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ آیت نازل کرتے وقت آئندہ یزید کو ولیِ عہد بنانے میں حضرت معاویہ کی نیت بھی معلوم تھی اس کے باوجود صحابہ کرام کے بارے میں یہ اعلانِ رضامندی فرمایا اور صحابہ میں حضرت معاویہ بھی شامل ہیں۔ اگر حضرت معاویہ کی طرف سے بدنیتی ہوتی، مفاد پرستی ہوتی جو یقیناً گناہ ہے اور اس نامزدگی پر حضرت معاویہ اپنی وفات تک قائم بھی رہے تو یہ اعلان "رضي الله عنهم.. ” نہ ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ بغیر توبے کے گناہوں کے ساتھ راضی ہونے کا اعلان نہیں کرسکتا ہے۔ نیز حضرت معاویہ پر مفاد پرستی اور بددیانتی جیسے گناہ کا الزام اہلِ سنت والجماعت کے اجماعی عقیدے کے خلاف بھی ہے۔ اب جب حضرت معاویہ قرآن کے مطابق عدول ثابت ہوئے تو مفاد پرستی اور بددیانتی جو عدولیت کے خلاف ہے خود بخود مرتفع ہوگئی۔ لہٰذا یزید کو ولیِ عہد بنانے کی وجہ سے حضرت معاویہ پر لعن طعن کرنا، تنقید وتنقیص کرنا حرام اور سخت گناہ ہوا۔ حضرت معاویہ کو اپنے بیٹے یزید کو اپنے اجتہاد کی روشنی میں ولیِ عہد بنانے کی صورت میں بھی اکہرا اجر حاصل ہے۔ "الله الله في أصحابي”

7۔ ا ہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ایک ادنیٰ درجے کا صحابی بھی اپنے مابعد قیامت تک آنے والے بڑے بڑے متقی اور اللہ والے سے ہزاروں گنا افضل ہے بلکہ کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تمام تابعین، فقہاء، محدثین وعلماء سے افضل ہیں۔ وہ اہلِ بیت کے غیر صحابی قیامت تک آنیوالے تمام مسلمانوں سے بہتر ہیں۔ حضرت معاویہ حضرات سعید بن مسیب، حسن بصری، زین العابدین، علی بن حسین، محمد بن باقر، جعفرِ صادق، زید، حسن بصری، ابو حنیفہ، مالک، شافعی، احمد بن حنبل، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، سید احمد شہید رحمہم اللہ ان سب سے ہزاروں گنا زیادہ افضل ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ان حضرات میں سے کسی کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کی جاسکتی ہے تو ان سے ہزاروں گنا افضل صحابیِ رسول کاتبِ وحی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی امت کیسے برداشت کرسکتی ہے؟ اور ان پر لعن طعن کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے؟ "الله الله في أصحابي”

8۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ساری دعائیں اور تعریفیں منقول ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا "اللهم علم معاوية الكتاب والحساب وقه العذاب”، ایک مرتبہ حضور نے فرمایا "ادعوا معاوية أحضروه أمركم فإنه قوي أمين” (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، مطبوعة بيروت)۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا اور اپنی آخر حیات تک باقی رکھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانہِ خلافت میں بھی انہیں شام کی گورنری پر باقی رکھا بلکہ مزید کچھ دوسرے علاقوں کی ذمہ داری دی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جب کسی فقہی مسئلے میں شکایت کی گئی تو انہوں نے فرمایا "إنه صحب رسول الله صلى الله عليه وسلم” (البخاري). حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص کی گورنری سے معزول کیا اور ان کی جگہ حضرت معاویہ کو مقرر کیا تو کچھ لوگوں نے چہ می گوئیاں کیں۔ حضرت عمیر بن سعد نے انہیں سختی سے ڈانٹا اور فرمایا "لا تذكروا معاوية إلا بخير فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول اللهم اهد به” (جامع الترمذي).

9 ۔ حضرت معاویہ کو مخدوش کرنا، انہیں ہدفِ تنقید بنانا اور ان سے بغض رکھنا، لعن طعن کرنا صرف حضرت معاویہ تک ہی محدود نہیں رہتا ہے بلکہ اس کے اثرات صحابہ کی ایک بڑی تعداد تک پہنچتے ہیں۔ انہیں شام ودوسرے علاقوں کا گورنر بنانے والے صحابہ یعنی حضرت عمر وعثمان رضی اللہ عنہما بھی زد میں آتے ہیں، سعد بن ابی وقاص، مغیرہ بن شعبہ، ابو ایوب انصاری اور دیگر بہت سارے صحابہ زد میں آتے ہیں جنہوں حضرت معاویہ کی تعریف کی یا جنگ میں ان کا ساتھ دیا۔ لہٰذا جو شخص حضرت معاویہ کو برا بھلا کہے گا اسے دیگر اصحابِ رسول کو برا بھلا کہنے کی بھی ناپاک جرات ہوجائے گی۔ اسی وجہ سے رفیع بن نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں "معاوية ستر لأصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فإذا كشف الرجل الستر اجترأ على ما وراءه” (الخطيب: تاريخ بغداد). یعنی حضرت معاویہ اصحابِ رسول کے ناموس کے لیے ڈھال ہیں۔

روافض اور دشمنانِ اسلام اسی وجہ سے حضرت معاویہ کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ جب یہ ڈھال ٹوٹ جائیگی اور اس کے ذریعے دروازہ کھل جائے گا تو پھر دیگر صحابہ کی ناموس تک پہنچنا آسان ہوجائے گا۔

خلاصہ یہ ہے کہ مولانا سلمان صاحب نے حضرت معاویہ اور ان کے ساتھ دیگر صحابہ پر سخت تنقید اور ان کی کردار کشی کرکے انتہائی گھناؤنا اور مکروہ کام کیا ہے جو قرآن و سنت اور عقیدہِ اہلِ سنت والجماعت کے خلاف ہے۔ ناموسِ صحابہ پامال ہونے کی وجہ سے ہم ان کی تقریر کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور تمام صحابہ بشمول حضرت معاویہ کو اسی طرح برگزیدہ، متقی، نیک نیت، صالح، اور خیرِ امت سمجھتے ہیں جس طرح اللہ اور اللہ کے رسول نے قرآن و حدیث میں بتلایا ہے۔ مولانا کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں توبہ کریں اور واضح انداز میں بغیر کسی اگر مگر اور شق بیانی کے اپنی غلط باتوں سے رجوع کرنے کا اعلان کریں۔

تین طلاق پر آرڈیننس مرکزی حکومت کا سیاسی ہتھکنڈا

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی *

جب سے دہلی مرکز اور ہندوستان کی بیشتر ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں اقتدار میں آئی ہیں، ملک میں آئے دن مختلف بہانوں سے اقلیتوں میں خوف وہراس پھیلایا جارہا ہے۔ ایک مسئلہ کے بعد دوسرے مسئلہ میں اقلیتوں کو الجھاکر انہیں ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے روکا جارہا ہے۔ کانگریس نے بھی اپنے دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر ظلم وزیادتی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن پھر بھی مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کے بعض مسائل حل کرنا اور کسی درجہ میں ان کو خوش رکھنا کانگریس کی مجبوری تھی۔ بی جے پی کو مسلمانوں کے ووٹوں کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی وہ اسمبلی یاپارلیمنٹ میں مسلم نمائندگی کی خواہش رکھتی ہے، گزشتہ متعدد مرتبہ ایک بھی مسلمان کو اپنا امیدوار نہ بنانا اس بات کی واضح دلیل ہے۔ ملک کی ترقی وخوشحالی کے لیے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی کو روکنے پر صلاحیت لگانے کے بجائے گؤ کشی، مذبح خانے، گوشت کی دکانیں، حکومت کے فنڈ سے چلنے والے بعض مدارس، مندر، مسجد، اذان، لاؤڈسپیکر اور طلاق جیسے غیر ضروری مسائل اٹھاکر ہندوستانی تہذیب وتمدن کے خلاف ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلاکر حکمراں پارٹی صرف ہندؤوں کا ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ گؤ کشی کے نام پر ہندوستانی قوانین کی دھجیاں اڑاکر نام چار کے گؤ رکشک ملک میں جگہ جگہ نوجوانوں کو قتل کررہے ہیں لیکن اُن کے خلاف کاروائی تو بہت دور کی بات ہے بلکہ اس کے برعکس اُن کو کھلے عام انعامات سے سرفراز کیا جارہا ہے۔

حال ہی میں دہلی میں واقع ہندوستان کے مشہور تعلیمی ادارہ ’’جواہر لال نہرو یونیورسٹی‘‘ میں طلبہ یونین کے انتخابات میں بری طرح شکست سے بوکھلاکر بی جے پی حکومت نے اسی سال راجستھان، مدھیہ پردیش اور گجرات جیسے اہم صوبوں میں ہونے والے الیکشن، نیز 2019 کے پارلیمنٹ کے الیکشن میں جیت کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی امن وسلامتی کی فضا میں گھناؤنے بادلوں کو منڈلانے کی غرض سے ملک کے بڑے بڑے مسائل کو پس پشت ڈال کر ضرورت سے زیادہ تیزی دکھاکر ہندوستانی قوانین کے مطابق ملی مذہبی آزادی پر قدغن لگاکر ایک مجلس میں تین طلاق دینے والے شخص کو شہر میں دنگا وفساد برپا کرنے والے شخص سے بھی زیادہ سخت سزا دلانے کے لیے وہ بل جو پارلیمنٹ میں بی جے پی کی اکثریت ہونے کی وجہ سے تو پاس ہوگیا تھا لیکن راجیہ سبھا میں معلق تھا۔ راجیہ سبھا کے مانسون اجلاس کے دوران اس موضوع پر بحث کرنے کے بجائے صرف آخری دن اس پر گفتگو کی گئی جو ظاہر ہے کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہوگئی تھی۔ آئندہ ہونے والے سردیوں کے اجلاس میں اس پر بحث کی جاسکتی تھی، مگر بی جے پی حکومت نے صرف اور صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اس پر مزید بحث ومباحثہ کرنے کے بجائے اپنی من مانی کرتے ہوئے19 ستمبر کو مرکزی کابینہ کے ذریعہ تین طلاق بل کو نافذ کرنے کے لیے آرڈیننس کو منظوری دے دی جو صدر جمہوریہ کے دستخط کرنے کے بعدپورے ملک میں نافذ ہوجائے گا۔ یہ بل مسلم معاشرہ کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوگا کیونکہ یہ بل جس نام اور جن مقاصد کے تحت لایا جارہا ہے، نافذ ہونے کے بعد تین طلاق تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خواتین کے حقوق کے نام سے ایک سے زیادہ نکاح اور بچوں کی تعداد کو محدود کرنے جیسے سینکڑوں مسائل ا س کی زد میں آئیں گے۔

اِس موقع پر امت مسلمہ کے قائدین کی سخت آزمائش ہوگی کہ اس بل کی مخالفت کے ساتھ انہیں ایسی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی کہ بی جے پی اس سے سیاسی فائدہ نہ اٹھاسکے۔ جس کے لیے فوری طور پر سڑکوں پر آنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ سب سے پہلے مسجدوں کے ممبروں ومحراب سے یہ پیغام عام کیا جائے کہ مسلمان تین طلاق ایک مجلس میں نہ دیں۔ بعض حالات میں یقیناًطلاق دی جاسکتی ہے لیکن انہیں بتایا جائے کہ طلاق دینے میں عجلت سے کام نہ لے کر پہلے میاں بیوی کے اختلافات کو آپس میں دور کرنے کی کوشش کریں۔ اور اگر طلاق دینی ہی پڑے تو صرف ایک طلاق دے دی جائے ،صرف ایک طلاق دینے پر عدت کے دوران رجعت بھی کی جاسکتی ہے، یعنی میاں بیوی والے تعلقات کسی نکاح کے بغیر دوبارہ بحال کئے جاسکتے ہیں۔عدت گزرنے کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو نکاح بھی ہوسکتا ہے۔نیز عورت عدت کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح بھی کرسکتی ہے۔ غرضیکہ اس طرح طلاق واقع ہونے کے بعد بھی ازدواجی سلسلہ کو بحال کرنا ممکن ہے اور عورت عدت کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرنے کا مکمل اختیار بھی رکھتی ہے۔ دوسرے نمبر پر سب کو یہ بتانے کی کوشش کی جائے کہ حکومت کا یہ قدم غیر جمہوری ہے، جمہوری ملک میں ہندوستانی قوانین کے مطابق ہر مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔ ایک ساتھ تین طلاق دینے کی صورت میں امت مسلمہ کا بڑا طبقہ تین ہی واقع ہونے، جبکہ ایک طبقہ ایک واقع ہونے کا قائل ہے لیکن مودی حکومت کے اس آرڈیننس کے ذریعہ نہ صرف یہ کہ ایک بھی واقع نہیں ہوئی بلکہ شوہر کو تین سال جیل میں جانا ہوگا ، جس کی ضمانت بھی آسان نہیں ہے، جو مذہبی امور میں مداخلت نہیں تو اور کیا ہے۔ موجودہ حکومت جب اس بل کو جمہوری اقدار سے نافذ کرنے میں ناکام ہوگئی تو پھر اُس نے آرڈیننس کا سہارا لیا، جس میں ایک ہی سوچ کے حامل چند حضرات بیٹھ کر ایک فیصلہ کردیتے ہیں، جو صدر جمہوریہ ہند کے دستخط ہونے کے بعد نافذ ہوجاتا ہے۔ تیسرے نمبر پر ہندوستانی قوانین کے ماہرین سے صلاح ومشورے کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں سے اس مسئلہ کے حل کے لیے کوششیں کی جائیں۔

تین طلاق کے نام پر اس آرڈیننس کے چند نقصانات: آرڈیننسکے نقصانات جاننے سے پہلے سمجھیں کہ حکومت کے مجوزہ طلاقِ ثلاثہ بل کے تین اہم عناصر کیا ہیں: (1) ایک مجلس کی تین طلاق چاہے وہ کسی بھی طریقہ سے مسلم مرد کے ذریعہ دی جائے وہ کالعدم ہے۔ (2) تین طلاق دینے والے مسلم مرد کو مجرمانہ سزا (تین سال کی جیل) دی جائے گی۔ (3) یہ جرم ناقابلِ سماعت اور غیرِ ضمانتی بھی ہے۔ ضمانت کے لیے جو شرائط بعد میں بڑھائے گئے ہیں وہ عام آدمی کی وسعت سے باہر ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ یہ بل تین طلاق کے نام سے نہیں بلکہ ’’مسلم خواتین(ازدواجی زندگی کے حقوق کا تحفظ) بل‘‘ کے نام سے پیش کیا جارہا ہے۔

اس آرڈیننس کے چند نقصانات حسب ذیل ہیں:

(1) مذہبی امور میں دخل اندازی ۔ (2) مذہب پر عمل کرنے کی آزادی پر پابندی۔ ہندوستانی قوانین کے مطابق ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہے۔ (3) قرآن وحدیث کے علوم کے ماہرین یعنی علماء کرام سے رجوع کئے بغیر حکومت نے یہ بل تیار کیا ہے۔ (4) ہندوستانی قوانین کے ماہرین سے بھی کوئی رائے زنی نہیں کی گئی۔ (5) جب سپریم کورٹ نے ایک مرتبہ کی تین طلاق کو کالعدم قرار دیا تو پھر اس پر سزاکیوں؟ (6) اس بل کو پاس کرانے کے لیے اتنی جلدی کیوں؟ بے روزگاری، بجلی، پانی، تعلیم، کرپشن اور چیزوں میں ملاوٹ جیسے بے شمار ضروری مسائل چھوڑ کر صرف تین طلاق کے مسئلہ پر پورے ہندوستان کی طاقت لگانا کونسی عقلمندی ہے؟ آزادی کے بعد سے یعنی ستر سال میں مسلمانوں کے تین طلاق کے گنتی کے چند واقعات ہی عدالت میں پہنچے ہیں۔ (7) مسلم خواتین کے مقابلہ میں ہندو خواتین میں طلاق کے واقعات بہت زیادہ ہیں، حکومت کو مسلم خواتین کی اتنی فکر کیوں، ہندو خواتین کی فکر کیوں نہیں؟ (8) سپریم کورٹ کے فیصلہ کی رو سے ایک مرتبہ کی تین طلاق کو مجرمانہ عمل نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ (9) سوال یہ ہے کہ جب طلاق نہیں ہوئی تو پھر شوہر جیل کیوں جارہا ہے؟ (10) دنگے فساد کرانے والے شخص کو دو سال کی جیل اور کرپشن اور چارسوبیسی کرنے والے شخص کو ایک سال کی جیل، لیکن تین طلاق دینے والے شخص کو تین سال کی جیل؟ دنیا کا کوئی امن پسند بشر اس فیصلہ کو کیا صحیح قرار دے سکتا ہے؟ (11) جب شوہر تین سال کے لیے جیل چلا گیا تو بیوی اور بچوں کے نان ونفقہ کون برداشت کرے گا؟ اپوزیشن پارٹیوں نے جب کہا کہ موجودہ حکومت برداشت کرے تو مسلم خواتین کے لیے مگرمچھ کے آنسو بہانے والی موجودہ حکومت اس کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ (12) موجودہ حکومت اس بل میں معمولی سی تبدیلی کرانے کے لیے بھی تیار نہیں ہے، جس سے اُس کے مذموم ارادے واضح ہوتے ہیں۔ بل فی الحال راجیہ سبھا میں معلق ہے، لیکن پھر بھی اس بل کو کسی بھی صورت سے نافذ کرنے پر موجودہ حکومت آخر کار کیوں مصر ہے؟ (13) شوہر کے جیل کاٹنے کے بعد کیا وہ اُس عورت کے ساتھ رہنا پسند کرے گا جس کی وجہ سے وہ تین سال جیل میں رہ کر آیا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ بل مسلم خواتین کے حقوق کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ اُن کو اور مسلم معاشرہ کو تباہ کرنے کے لیے ہے۔

1400سال میں آج تک کسی بھی مسلم حکومت نے تین طلاق دینے والے شخص کو ایسی سزا کی تجویز تک پیش نہیں کی اور نہ ہی آج بھی کسی بھی مسلم ملک بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایک مرتبہ میں تین طلاق دینے والے شخص کو ایسا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ جو تاثر پیش کیا گیا ہے کہ مسلم ممالک میں تین طلاق پر پابند ی ہے، یہ بات حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ اور جن حضرات نے ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک تسلیم کیا ہے، انہوں نے بھی اس نوعیت کی کوئی سزا 1400 سالہ زندگی میں پیش نہیں کی ۔ ہندوستان میں کئی سو سال مسلمانوں کی حکومت رہی، تین طلاق کے واقعات بھی پیش آئے لیکن ایک مرتبہ میں تین طلاق دینے والے شخص کو کوئی سزا نہیں دی گئی بلکہ مغلیہ دور میں پورے ہندوستان (جس میں پاکستان اور بنگلادیش بھی شامل تھا)کے سینکڑوں مفتیان کرام اور علماء دین پر مشتمل بورڑ نے جو فتاوے تیار کیے جن کو پوری دنیا میں فتاوی عالمگیری کے نام سے جانا جاتا ہے، اس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بات بھی متفقہ طور پر طے کی گئی کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی واقع ہوں گی۔ ہندوستان میں جب سے اسلام آیا ہے ہندوستانی مسلمان کی اکثریت جمہور علماء خاص کر چاروں ائمہ (حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کی طرح قرآن وحدیث کی روشنی میں یہی سمجھتی آئی ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی واقع ہوں گی تو موجودہ حکومت کو اچانک اِس وقت قرآن وحدیث سمجھنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟

www.najeebqasmi.com*

شیعہ، خوجے اور بوہرے ـــــــــ ایک جائزہ

محمود دریابادی

کچھ دنوں قبل بوہرہ فرقے کے تعلق سے ایک تحریر نظر سے گزری تھی.اسی وقت سے خیال تھا کہ اس پر کچھ لکھوں گا….مگرہجومِ کار نے اجازت نہیں دی…. آج شب عاشور وقت نکال کر چند سطریں..سپرد موبائیل.. کررہا ہوں…
یہ تواکثر احباب جانتے ہوں گے یہ تشیع کے بطن سے نکلا ہوا ایک.فرقہ ہے….وہی شیعیت جس کا آغاز خلافت عثمانی میں ابن سبا اور اس کے متبعین کے ذریعئے ہواتھا ان کے جہاں اوربہت سےغلط عقائد تھے وہیں بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ حضرت علی حضور کے بلا فصل جانشین.وصی اور حقیقی وارث ہیں…
اگلے کچھ برسوں میں یہی شیعیت اس قدر تقسیم در تقسیم سے دوچار ہوئی ہےکہ اصل کی شناخت مشکل ہوگئی…
مثلا شیعوں کے نزدیک حضور کے بعد حضرت علی پہلے .حضرت حسن دوسرے.حضرت حسین تیسرے.زین العابدین چوتھے اور امام باقر پانچویں امام ہیں..
اختلاف کا آغاز
پانچویں امام تک سارے شیعہ متفق نظر آتے ہیں.مگر چھٹے امام سے اختلاف شروع ہوتا ہے…اثنا عشری شیعے. بوہرے اور خوجے وغیرہ باقر کے لڑکے جعفر صادق کو امام مانتے ہیں..مگر ایک طبقہ باقر کے دوسرے لڑکے زید کو امام تسلیم کرتا ہے.یہ زیدی فرقہ کہلاتا ہے. اگرچہ یہ فرقہ اعتقادی اور جذباتی طور پرشیعوں کے مقابلے میں ہمیشہ اہل سنت سے قریب رہاہے .. مشہور مصنف قاضی شوکانی اسی فرقے سے تعلق رکھتے تھے…یمن کے حوثی بھی زیدی ہیں مگر آجکل ایرانی اثرات نے انھیں شیعوں سے زیادہ قریب کردیا ہے….
اگلا اختلاف
امام جعفر کو چھٹا امام ماننے والے اثنا عشری.بوہرے اور خوجے ساتویں امام میں پھر مختلف ہوگئےہیں.اثنا عشری جعفر صادق کے لڑکے موسی کاظم کو ساتواں امام مانتے ہیں.مگر بوہرے خوجے جعفر صادق کے دوسرے لڑکے اسماعیل کو اپناامام تسلیم کرتے ہیں..
اس کے بعد بالترتیب امام رضا.علی نقی.علی تقی اور حسن عسکری.اثنا عشریوں کے آٹھویں نویں دسویں آور گیارہویں امام ہیں…..مگرحسن عسکری کے فرزند بارہویں امام مہدی اثناعشری عقیدے کے مطابق چھ سال کی عمر میں اصلی قران.عصائے موسی.انگشتری سلیماں اور تابوت سکینہ جیسے انبیا کے موروثی تبرکات لے کر سامرّہ (سرّمن راء) کے غار میں غائب ہوگئے…مبینہ طور پر اس وقت تک غائب رہیں گے جبتک دنیا میں ۳۱۳پکے اور مخلص شیعہ نہ ہوجائیں….چنانچہ بارہ صدیاں گزر گئیں ساری دنیا کے شیعوں کی زبانیں ..عجل اللہ فرجہ.. عجل اللہ فرجہ..کہتے کہتے خشک ہوئی جارہی ہیں مگر غالبااب تک مطلوبہ مقدار میں مخلص شیعے فراہم نہیں ہوسکے ہیں..جبکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ حسن عسکری لاولد فوت ہوئے تھے….
اسی فرضی بارہویں امام کو امام زمانہ.امام غائب.مہدی موعود وغیرہ بھی کہتے ہیں….اسی مہدی موعودنےمسلمانوںکےاندربابیت، بہائیت.مہدویت،قادیانیت،دینداریت اور شکیل حنیف جیسے گمراہوں کو جنم دیا ہے….

بارہواں امام
تو خیر ! ذکر شیعوں کے بارہویں امام کا تھا جو کمسنی میں اپنے وزن سے کہیں زیادہ بھاری بھرکم اشیا لے کرپردہ غیب میں”تشریف بری” کرگئے… ا بتدا میں موصوف کی غیبت "غیبوبت صغری "تھی.یعنی مخصوص افراد کو ان سے ملنے اور عام شیعوں کے پیغامات عریضے وغیرہ پہونچانے کی اجازت تھی….انھیں مخصوصین میں یعقوب کلینی بھی تھے…اسی زمانے میں کلینی نے..اصول کافی..نامی کتاب مرتب کی.جو اثنا عشری شیعوں کے نزدیک صحیح ترین آحادیث کا مجموعہ ہے…اس کتاب کو امام غائب کا سرٹیفکٹ بھی حاصل ہے.اسی کتاب میں امام غائب کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں… "ھذا کافٍ لشیعتنا”.. اسی بنیاد پر اس کتاب کا نام اصول کافی رکھا گیا ہے…..
اس زمانے کی حکومت کو جب پتہ چلا کہ کچھ لوگ کسی غائب کا نمائندہ بن کر خلق خدا کو ٹھگ رہے ہیں تو تحقیقات شروع ہوئی، نام نہاد نمائندوں کو تلاش کیا جانے لگاتو سارے نمائندے خود بھی انڈر گراونڈ ہوگئے… اور امام کی غیبت صغری اب "غیبوبت کبری ” میں بدل گئی جو تاہنوز جاری ہے…..اس کے بعد سے شیعوں کی درخواستیں اور عریضے امام زمانہ تک پہونچانے کا کام سمندر کے سپرد کردیا گیا ہے…چنانچہ شعبان کی پندرہویں شب کو شیعے اپنی تمنائیں مرادیں اور ضروریات لکھ کر سمندر میں ڈالتےنظر آتے ہیں.جن علاقوں میں سمندر نہیں ہے وہاں عریضوں کوبہتے پانی دریا نہر وغیرہ میں اس امید کےساتھ پوسٹ کیا جاتا ہے کہ یہ بالاخربہتے ہوئے سمندر تک پہونچ جائیں گے……

بوہرے اور خوجے.
پہلے گزر چکا کہ چھٹےامام جعفر تک اثنا عشری.بوہرے اور خوجے متفق تھے البتہ ساتویں امام شیعہ اثنا عشریوں کے نزدیک موسی کاظم بن جعفراور بوہروں خوجوں کے نزدیک اسماعیل بن جعفر ہیں….
اب آگے مستنصر باللہ تک بوہرے اور خوجے متفق نظر آتے ہیں جو ان کا اٹھارواں امام ہے…مستنصر کے دو لڑکے تھے.”مستعلی” جس کو بوہرے انیسواں امام اور "نزار ” جس کو خوجے انیسواں امام مانتے ہیں…
آج کل کریم آغا خان خوجوں کا انچاسواں امام ہے …پیرس میں رہتا ہے انتہائی دولت مند ہے.مغربی معاشرت کا عادی ہے ریس کے گھوڑوں کاشوقین ہے…کسی دوسرے ملک میں جاتا ہے تو وہاں اسےکسی سربراہ مملکت جیسا سرکاری پٹروکول دیا جاتا ہے…خوجے عام طور پر تجارت پیشہ اور متمول ہوتے ہیں.کچھ دنوں قبل تک ہندوستان کی سب سے مالدار شخصیت کہےجانے والے "پریم جی ” بھی خوجہ ہیں…

باطنی مذاہب.
یوں تو شیعہ بوہرہ اور خوجہ سارے "باطنی ” مذہب ہیں…جس میں نصوص کے ظاہری معنی جو بھی ہوں مگر امام کی طرف سے ملنے والی سینہ بسینہ تعلیم کی بنیاد پر بتائے جانے والے باطنی معنی ہی معتبر سمجھے جاتے ہیں…چنانچہ نماز روزہ حج زکوۂٰ سے لے کر شیطان فرعون ہامان وغیرہ تک کے حقیقی معنی وہی سمجھے جاتے ہیں جو امام نے خاموشی سے بتائے ہوں….
ان میں سب زیادہ باطنیت کا شکار خوجہ فرقہ نظر آتا ہے…چنانچہ خوجے نہ تو نماز پڑھتے ہیں.نہ روزہ حج زکات سے انھیں کوئی مطلب ہے….ان کی مسجدیں نہیں ہوتیں….جہاں ان کی قابل ذکر آبادی ہوتی ہے وہاں پر ایک عمارت جماعت خانہ کے نام سے ضرور ہوتی ہے..جہاں مختلف موقعوں پر کئی طرح کے پروگرام ہوتے ہیں جن میں مرد وعورتیں مشترکہ طور پر شامل ہوتے ہیں.میوزک وغیرہ بھی ہوتا ہے….جماعت خانے کے ایک گوشے میں گرجاوں اور مندروں کی طرح موم بتیاں اور ناریل بھی دکھائی دیتے ہیں…..
مجموعی طور پر خوجے صلح کلی مزاج رکھنے والے ہوتے ہیں.ان کےسربراہ آغا خاں کی طرف سے ان لوگوں کے لئے ہاوسنگ سوسائیٹاں، کوآپریٹو بنک،مفت علاج ومعالجہ کے لئے شاندار اسپتال وغیرہ کی سہولتیں دی جاتی ہیں…
مذہب کے بارے میں عام خوجوں کو خود بھی کوئی معلومات نہیں ہوتی.اور نہ ہی ان مذہبی کتابیں ملتی ہیں ان کے پڑھے لکھے لوگ بھی اپنے مذہب پر کبھی بات نہیں کرتے….
ان لوگوں کے درمیان اصلاحی کام کرنے کی شدیدضرورت ہے…کچھ لوگوں نے ان کے درمیان کام کیا ہے الحمداللہ اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں ایک بڑی تعداد مذہب حق اختیار کرچکی ہے.ان کو سنی خوجہ کہا جاتا ہے..الحمد اللہ سنی خوجوں کی مسجدیں ہیں قبرستان بھی ہیں…..لیکن افسوس یہ بھی ہے کہ ان کے درمیان اثنا عشریوں نے بھی محنت کی اور ایک تعداد شیعہ خوجہ بن گئی ہے..ان شیعہ خوجوں کی بھی اپنی مسجدیں اور قبرستان ہیں…ممبئی جیسے شہر میں شیعوں کی سرگرمیوں کے لئے سرمایہ فراہم کرنے والے یہی شیعہ خوجہ ہیں…

بوہرے
اب آتے ہیں ایک اور باطنی فرقے بوہروں کی طرف…. پہلے گزر چکا کہ اٹھارویں امام کے بعد بوہرے اور خوجے الگ ہوگئے تھے.خوجوں نے نزار اور بوہروں نے مستعلی کو انیسواں امام مانا تھا…آگےبوہروں کا اکیسواں امام "طیب عامر ” غائب ہوگیا….بوہروں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس کے بعد بھی امامت کا سلسلہ جاری رکھتا ہے اور چھبیسویں ویں امام سلیمان کو غائب مانتا ہے یہ سلیمانی بوہرہ کہلاتے ہیں…یہ بوہروں میں ایک چھوٹی سی ناقابل ذکر جماعت ہے…اس لئے ہم آگے اسی بوہرہ جماعت کا ذکر کریں گے جو اکیسویں کو غائب مانتے ہیں یہ داودی بوہرہ ہیں جو تعداد میں بھی زیادہ ہیں…

داعی مطلق
اکیسویں امام کی غیبت کے بعد داودی بوہروں میں "داعی مطلق ” کا سلسلہ شروع ہوتا ہے….. یہ امام کے بعد ان ہی کے نامزد کردہ ان کے نمائندے اور نائب ہوتے ہیں…ہر داعی اپنے بعد کا داعی نامزد کرتا ہے جس کو "نص ” کرنا کہتے ہیں….بوہرے اپنے داعی کو ” سیدنا "کا لقب دیتے ہیں..ان داعیوں کو تمام بوہروں کے جان مال کا مالک اور بڑی حد تک خدائی اختیارات کا حامل بھی سمجھا جانے لگا ہے……داعی کی اجازت کے بغیر کوئی بوہرہ نہ تو شادی کرسکتا ہے نہ اپنے بچے کا نام رکھ سکتا ہے…حج وعمرے کے لئے بھی اجازت جس کو "رضا "کہتے لینا ضروری ہے…ہر موقعے پر داعی کی خدمت میں "نذرانہ ” دینا لازم ہے….میت کی تدفین کے لئے بھی داعی کی اجازت درکار ہوتی ہے…..چنانچہ باغیوں کو ان کے قبرستانوں میں دفن نہیں کیا جاسکتا. غرض بوہرہ داعیوں کی ایک اپنی ریاست ہوتی ہے عرب ممالک میں انھیں ” سلطان البواھر ” بھی کہا جاتا ہے…
بوہرہ داعی ہر علاقے میں عامل مقرر کرتا ہے جس کا کام مقامی.بوہروں کے مذہبی امور نکاح وغیرہ انجام دینا اور نذرانوں کو داعی کے دفتر تک پہونچاناہے…..چند عاملوں کے اوپر ایک "مکاثر ” ہوتا ہے جو عاملین کی کارکردی پر نظر رکھتا ہے …مکاثر کے اوپر "ماذون” ہوتا ہے….ماذون کے اختیارات بہت ذیادہ ہوتے ہیں…..داعی کا دفتر ایک سکریٹریٹ کے طور پر کام کرتا ہے.مختلف امور کے الگ الگ نگراں ہوتے ہیں…مثلا اہل سنت اور دیگر اسلامی فرقوں سے تعلقات کے لئے الگ ذمہ دار ہے جو وقت ضرورت مسلمان مشاہیر سے رابطے میں رہتا ہے اور داعی کے حکم کے مطابق مشترکہ مسلم معاملات میں بوہروں کی نمائندگی کرتا ہے….حکومتی سطح پر وزرا سے رابطے کا الگ ذمہ دار ہے جو آنے والی ہر حکومت تک بوہروں کی ہمدردی پہونچاتا ہے…..چنانچہ چند سال قبل ممبئی میں ان کے سیفی اسپتال کے افتتاح کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ آئے تھے.اور پچھلے دنوں وزیر اعظم مودی نے موجودہ داعی سے اس کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی…..اس سے قبل کے وزرائے اعظم نہرو،اندرا، راجیو گاندھی وغیرہ سے بھی اس وقت کے داعیوں کے اچھے تعلقات رہے ہیں….
حد تو تب ہوگئی جب موجودہ ترپن ویں داعی مفضل سیف الدین جو اس سال پاکستان میں محرم کی مجلسیں پڑھ رہا ہے.سے مشہور مبلغ مولانا طارق جمیل نے بھی اس کی قیام گاہ پر ملاقات کرکے اس کی اڑھائی ہوئی شال قبول کی ….. اس کا ویڈیوشوشل میڈیا پربھی دیکھا گیا…اسی سےاندازہ ہوتا ہے کہ بوہروں کاشعبہ رابطہ عامہ کتنا مضبوط اور مستعد ہے…..
بوہرہ داعی ہر سال الگ الگ ملک میں محرم کی مجلسیں پڑھتا ہے…جہاں بھی یہ مجلسیں ہوتی ہیں وہاں بڑی تعداد میں ساری دنیا سے بوہرے پہونچتے ہیں….ان مجلسوں میں تبرا بھی کیا جاتا ہے مگر چونکہ یہ مجلسیں گجراتی زبان میں ہوتی ہیں اس لئے عموما مسلمانوں کے سمجھ میں نہیں آتیں….
دراصل غالبا ۱۹۹۰ میں اس وقت کے داعی برہان الدین نے ممبئی میں محرم منایا تھا اور آخری مجلس میں اس نے ام المومنین اور خلفاء ثلاثہ پر تبرا کیا…چونکہ ممبئی میں گجراتی عام طور پر سمجھی جاتی ہے اس لئے اسی وقت ہنگامہ ہوگیا…کچھ مسلمان اس کی مجلس میں گھس گئے مار پیٹ ہوئی…دوسرے دن بڑا احتجاجی جلسہ ہوا تین دن کے اندر عوامی طور پر معافی کا مطالبہ کیا گیا…مگر معافی کے بجائے مضحکہ خیز وضاحتی بیان دے کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی …. پھر وہ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا…ہزاروں مسلمانوں نے بوہرہ علاقے کو گھیر لیا …توڑ پھوڑ ہنگامے ہوئے.دو بوہرے ہلاک بھی ہوئے….بہر حال بعد از خرابی بسیار برہان الدین نے ٹیلیویزن پر اس وقت کے وزیر اعلی شرد پوار کی موجودگی میں تحریری معافی مانگی….تب جاکر یہ معاملہ ختم ہوا….

بغیر نص کے دعوت
پہلے گزر چکا کہ داعی کے لئے انتہائی ضروری یہ ہے کہ اس کو اس سے پہلے کے داعی نے نامزد کیا ہو اسی کو "نص ” بھی کہتے ہیں…مگر بوہرہ تاریخ میں نص سے متعلق بھی ایک تنازعہ موجود ہے……
کہتے ہیں کہ چھیالیسویں داعی بدرالدین نے کی موت نص کرنے سے پہلے ہی ہوگئی تھی..اس لئے سینتالیسویں داعی عبد القادر نجم الدین کو شرعی داعی نہیں کہا جاسکتا…. سورت میں بوہروں کا سب سے بڑا مذہبی مدرسہ جامعہ سیفیہ ہے.اس کے ایک سینئر شیخ نے اپنے درس میں یہی بات کہہ دی تھی کہ موجودہ دعوت بغیر نص کے چل رہی ہے……نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ دنوں بعد پر اسرار طور پر ان کی موت ہوگئی….
موجودہ داعی مفضل سیف الدین کے بارے میں بھی تنازعہ ہے…پچھلے داعی برہان الدین کے بھائی حذیفہ نے باقاعدہ عدالت میں دعوی کیا ہے کہ نص میرے بارے میں ہے اس لئے داعی ہونے کا حق مجھے ہے….برہان الدین نے حذیفہ کو ماذون بھی بنایا تھا….مگر عام بوہروں نے اس دعوے کو قبول نہیں کیا…اور پھر حذیفہ کا انتقال بھی ہوگیا ہے…..
بوہرہ باغی گروپ
اکیاونویں داعی طاہر سیف الدین کے وقت سےجب عام بوہروں پر ان کی زیادتیاں،چیرہ دستیاں اور ناانصافیاں زیادہ ہونے لگیں تو بوہروں کے درمیان اصغرعلی انجینئر، نعمان کنٹراکٹر وغیرہ کی قیادت میں اصلاحی تحریک شروع ہوئی…اس دوران نعمان کی لڑکی کی شادی میں کوئی بوہرہ قاضی نکاح پڑھانے کو تیار نہیں ہوا…اس کے انتقال پر کسی بوہرہ قبرستان میں اسے دفن نہیں کرنے دیا گیاـ
ممبئی مرکنٹائل بنک ایک بوہرہ اللہ بخش نے قائم کیاتھا.زین الدین رنگون والا مینجگ ڈائرکٹر بھی بوہرہ تھے .یہ لوگ بھی بوہرہ سربراہ کے مظالم سے تنگ آکر اصلاحی تحریک کے ساتھ ہوگئے…چنانچہ داعی مطلق نے فرمان جاری کردیا کہ سارے بوہرے اس بنک کا بائیکاٹ کریں اپنا سارا سرمایہ نکال لیں…اس کی ملازمت چھوڑدیں…. تقریبا سارے بوہروں نے وہاں کے اپنے اکاونٹ بند کردئے…سرمایہ دوسری بنکوں میں منتقل کردیا…نوکریاں چھوڑدیں…..اس کا دوسرا فائدہ یہ ہواکہ یہ نوکریاں دوسرے مسلم نوجوانوں کو مل گئیں…
اس اصلاحی تحریک کو عام مسلمانوں کی ہمدردیاں اور انصاف پسند غیر مسلموں کی حمائت بھی حاصل تھی یہ تحریک اور بھی کامیاب ہوتی مگر بوہرہ داعیوں کی دولت ان کی دادودہش نے بہتوں کو خاموش کردیا نیـز یہ تحریک بوہروں تک محدود رہنے کے بجائے چھاگلہ، حمید دلوائی وغیرہ کے اٹرات کا شکار ہوکر مسلم پرسنل لا اور کامن سول کوڈ وغیرہ کے سلسلے میں عام مسلمانوں کی مخالفت کرنے لگی جس کی وجہ سے مسلمان بھی اس سے دور ہوتے چلے گئے…
بوہرہ کالونی..
اکیاون ویں داعی طاہر سیف الدین کی موت کے بعد اسیے بھنڈی بازارممبئی کےبوہری محلہ میں دفن کیا گیا…پھر اسکی قبر پر عالیشان مقبرہ تعمیر ہوا….۱۹۷۸ میں اس کے افتتاح کے لئے صدرجمہوریہ فخرالدین علی احمد، شیخ الازہر ڈاکٹر عبد الحلیم، قاری باسط مصری، قاری خلیل الحصری.متعدد مسلم ممالک کے وزرا اور سفرا بھی شریک ہوئے…کچھ اورعلما کا نام بھی لیا جاتا ہے مگر مجھے اس کی تحقیق نہیں ہے….
پچھلے سال باونویں داعی برہان الدین کو بھی وہیں دفن کیا گیاہے….
اب مقبرے کی آس پاس کی تمام عمارتیں بوہروں نے زبردستی زور دباو اور لالچ دے کر خرید لی ہیں…ساری بلڈگیں توڑ کر از سر نو تعمیر کی جارہی ہیں…..حکومت سے پلان منظور کرالیا گیا ہے….آس پاس کی مساجد اور مزارات کو بھی ہٹانے کا پروگرام تھا مگر مقامی لوگوں کی مخالفت کے ڈر سے ایسا نہیں ہوپایا ہے…..وہ دن دور نہیں جب بھنڈی بازار جیسا مسلم اکثریتی علاقہ بوہرہ اکثریتی علاقہ ہوجائے گا…
حرف آخر
ابتدا میں صرف بوہروں پر ہی لکھنے کا ارادہ تھا مگر لکھتے لکھتے پوری شیعت بیان ہوگئی…
شیعوں اور بوہروں کے کچھ اور چھوتے چھوٹے فرقے ہیں جیسے "نصیری ” جو حضرت علی کو خدا مانتے ہیں انھیں علوی بھی کہا جاتا ہے….شام کا” بشار رجیم "اسی فرقے سے تعلق رکھتا ہے…..اسی طرح شیعوں کا ایک فرقہ "اخباری” کہلاتا ہے…یہ تقلید کے بجائے ظاہری روایات پر عمل کرتے ہیں…..بوہروں کا ایک فرقہ” دروزی ” اور ایک "علوی” بھی ہے….. یہ سب چھوٹے فرقے ہیں اور ان کے بارے میں معلومات بھی دستیاب نہیں ہے….

طب یونانی کا عظیم الشان آن لائن کتب خانہ

پوری لائبریری حاضر خدمت ہے۔ بہت قدیم کتب ہیں ہمارے بزرگوں کی۔ بہت محنت سے جمع کی گئیں ہیں، براہ کرم قدر کریں۔

گلدستہ شاھی (رسالہ قوت باہ :-http://bit.ly/2iPDKIh

معالجات امراض نسواں :-http://bit.ly/2pru37G

دلچسپ جنسی معلومات :-http://bit.ly/2qpiFYn

ھمدرد صحت دھلی (1936ء اور 1937ء کے شمارے) :-"اشاعت خصوصی عورت”http://bit.ly/2qs6QzO

قرابادین اعظم (قدیم اردو نسخہ) :-http://bit.ly/2puc3YF

رفیق بیماران از حکیم غلام حسین :-http://bit.ly/2oVRGCP

علم و عمل طب 1915ء (اردو) :-http://bit.ly/2qg0Ttw

بیاض کریمی :-http://bit.ly/2qdvrw9

اسرار الکیمیا (اردو ترجمہ آثارالاسخیاء) :-http://bit.ly/2qjSVvS

ترجمہ کبیر "شرح اسباب” کا اردو ترجمہ 1935ء (حکیم محمد کبیر الدین) :-http://bit.ly/2q4vwPI

ہمدرد صحت دھلی 1945،46،47ء (متفرق شمارے) :-http://bit.ly/2oViS7e

لیکوڈرما (برص سفید): خالص ھومیوپیتھی علاج :-http://bit.ly/2q3AbAE

رسالہ سونف :-http://bit.ly/2hZB0Xj

خواص شہد :-http://bit.ly/2isj212

صحیفہ طب اکبر 1854ء (فارسی) :-http://bit.ly/2ozwzGd

گھر کا دواخانہ (حکیم عبدالقدوس انڈیا) :-http://bit.ly/2oVWuun

خزینتہ المجربات از پنڈت کرشن کنوردت شرما :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2lCyDLX
حصہ دوم :-http://bit.ly/2lvMoLH
حصہ سوم :-http://bit.ly/2mwOMHd

بیماریاں اور ان کا علاج مع طب نبوی :-http://bit.ly/2pWWMm8

ھمدرد صحت دھلی 1960ء (مکمل شمارے) :-http://bit.ly/2pWxPnH

چھ نبضیں کل امراض :-http://bit.ly/2q2dNaR

عجوہ کھجور سے علاج :-http://bit.ly/2oqW4Jy

کشتہ جات کی پہلی کتاب :-http://bit.ly/2omLhiY

مخزن مفردات و مرکبات معروف بہ خواص الادویہ (1905ء) :-http://bit.ly/2ojFdrj

کیمیا کی کہانی :-http://bit.ly/2plJlLV

قانون مفرد اعضاء کے طبی مشورے :-http://bit.ly/2ojHH9e

سبزیوں سے علاج :-http://bit.ly/2oCc2TY

کیمیا گری ترجمہ الکیمسٹ (ناول) :-http://bit.ly/2oyeE3j

جسم کے عجائبات :-http://bit.ly/2pD9e6F

مجربات مبارکہ (سالنامہ طبیب حاذق 2015) :-http://bit.ly/2hHIGRW

پرکاش بوٹی (سنیاسی بوٹی پرکاش) :-http://bit.ly/2iM9Fro

کلید شفاء :-http://bit.ly/2hcAi8e

بیاض حبان :-http://bit.ly/2hmWelM

علم الادویہ یونانی دوا سازی :-http://bit.ly/2oXDGvB

یونانی طب میں مانع حمل اودیہ اور تدابیر :-http://bit.ly/2oXM1PG

ڈینگی وائرس :-http://bit.ly/2oPun15

علاج نبوی (ص) اور جدید سائنس (پیٹ کی بیماریاں) :-http://bit.ly/2on4CUX

امراض جلد اور علاج نبوی (ص) :-http://bit.ly/2on9tVR

طب نبوی اور جدید سائنس :-

جلد اول :-http://bit.ly/2oFeiLl
جلد دوم :-http://bit.ly/2oFewlB

گنجینہ عطاری المعروف دوا سازی :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2oHzy2Q
حصہ دوم :-http://bit.ly/2nKfI2g
حصہ سوم :-http://bit.ly/2nKu1DU
حصہ چارم :-http://bit.ly/2nucaFP

ادویاتی پودے :-http://bit.ly/2oPT7Ga

طبی فارما کوپیا ( یونانی) :-

جلد اول :-http://bit.ly/2idwb03
جلد دوم :-http://bit.ly/2hK3nZO
جلد سوم :-http://bit.ly/2hKhn5u

اسرار سینہ بسینہ (کشتہ جات مع خواص) :-http://bit.ly/2imO9ge

الحجامہ طب نبوی (ص) :-http://bit.ly/2ojCYbo

پچاس صدری مجربات :-http://bit.ly/2oPC30b

مجربات ذکائی :-http://bit.ly/2iNGpF0

کنزالمفردات :-http://bit.ly/2iqkj88

مجربات صحرا نشین :-http://bit.ly/2iPQpO9

کمزوری اور نامردی کا شرطیہ علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iDL8cv

نانی اماں کے ٹوٹکے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nhFuPX

نوجوانوں کے جنسی امراض اور ان کا علاج (ھومیو) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jNS034

مجربات حیات :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2jIqcS0
حصہ دوم :-http://bit.ly/2lCBveW

تحقیقات اسرار النبض:-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ifdshk

لقمانی نسواں گائیڈ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2p4NG2C

صحت کا انسائیکلو پیڈیا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2oyGLlj

صحت کی حفاظت :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nYRVip

حلفیہ مجربات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2o4vtVn

نسائیات (گائینکولوجی) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nRCxCO

فطری علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ousbLD

سو بیماریاں ایک سو ایک علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2oCoAIF

طب رحیمی (1888ء) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2opRzCd

رسالہ بسکھپرا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nZjEQh

تحفہ جمیل :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hHhgtX

رسالہ جودیہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lcZiyQ

علاج الغرباء :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iii88W

یونانی ادویہ مفردہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iTDQNH

علاج الامراض اردو :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2npuhJ3

قانون مفرد اعضاء غذائی چارٹ:-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2oBh4gi

مخ الکیمیا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nxULJ6

چوٹی کے مجربات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iiemwz

تحقیقات جمیل :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hF0GfL

میزان الطب (اردو) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hI805z

ہند و پاک کی جڑی بوٹیاں اور ان کے عجیب و غریب فوائد :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2hHCGXN
حصہ دوم :-http://bit.ly/2isC9YA
حصہ سوم :-http://bit.ly/2hDEFZW
حصہ چارم :-http://bit.ly/2hHs9vQ
حصہ پنجم :-http://bit.ly/2hHlYbg

جانوروں کے طبی اور روحانی فائدے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nhJpsO

کنز العلاج (طبع نہم 1978) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2o3LNU5

کتاب المرکبات بطرز جدید (مکمل) :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2nvjPT5
حصہ دوم :-http://bit.ly/2ohIEmS

نشاط شباب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mwRvkd

مفید گھریلو دوائیں :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mT0qHV

پھولوں سے علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mX8bOF

کلونجی کے کرشمات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nSclqm

عبقری بتائے جڑی بوٹیوں کے کرشمات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nShcI4

عورت شادی سے زچگی تک :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2n23IMC

مکمل سنیاسی جڑی بوٹی (بوٹی پرکاش) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nvIxjU

اچار، حلوے، مربے، چٹنییاں :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mJMX8r

میزان الادویہ (ہومیو پیتھی) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mk33TI

ہندوستان کی جڑی بوٹیاں اور ان کی عجیب و غریب فوائد :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lNlwf7

حکمت کے مفید ٹوٹکے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lNxJRd.

جدید طبی فارما کوپیا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mcYOt2

بلڈ پریشر سے نجات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2na4Yei

مفید النساء و الصبیان :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2m3yBwc

کلینکل پریکٹس (سحر ہومیو پیتھی) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2n8YjRP

حیرت انگیز حافظہ ناممکن نہیں :-

ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iMkoGx

جدید طبیب ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2n99A4D

مجربات اقبال (قانون مفرد اعضاء) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lDZIT0

رہنمائے نوجوانی:- ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lTIZXi

گھر کا دواخانہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mwdXZl

طب اسلامی اور جدید میڈیکل سائنس کے انکشافات :-

ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mgsNm8

ام الغذا کلونجی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mWqaV1

نسخہ جات ہومیو پیتھی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2n4JNtn

میرا کلینک (ہومیو پیتھی) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mKqc5p

کتاب عجیب المعروف عملیہ جالینوس :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lszF1n

مجربات گپتا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mDwl3s

قدرتی غذاوں کا انسائیکلوپیڈیا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lI9pLz

جوس تھراپی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lIhDDc

مجربات لقمانی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lHJhAB

زیتون سے علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2m3qJOt

قوت مردانہ بڑھانے کی ادویات -ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mj3Xmh

نبض شناسی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2luag2h

شادی اور ازدواجی تعلقات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2m9B6kG

کتاب المفردات المعروف خواص الادویہ (بطرز جدید) :-ڈاونلوڈ لنک:-http://bit.ly/2hsfkSX

طب اور جنسیات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lq4obg

معالجات :-ڈانلوڈ لنک :-

جلد اول :-http://bit.ly/2lnAeoY
جلد دوم :-http://bit.ly/2lJGzfg

شفابخش جڑی بوٹیوں کے اثرات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mjfTW3

قانون مفرد اعضاء اور امراض جلدڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lXbxlQ

آزمودہ ہومیو پیتھک نسخہ جات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lU4uLD

طب نبوی شاہ جہان آباد :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2moedXi

مسیحائے عالم موسوم بہ تحفہ مخلصان :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2oaYjF0

چیدہ چیدہ مجربات از بیاض فیض-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lvNkzJ

دولت کی کان یعنی قارون کا خزانہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mf2lHH

اکسیر اجملی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2muzxhk

گنجینہء روزگار :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mg2Jog

حلفیہ مجربات حکیم انقلاب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2m7oXNk

سلک معجزنما :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lmvTF5

تحقیقات علم الامراض مع بیاض یاسین :-

ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2kwxclK
حصہ دوم :-http://bit.ly/2m1aRZV
حصہ سوم :-http://bit.ly/2lSjQR5
حصہ چارم :-http://bit.ly/2o9Wckb

جامع الحکمت :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lPwDRd

مفتاح التشخیص (1923) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lL0mxY

اکسیری نسخے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kOiqp1

ماہنامہ شمارہ الطب و الکیمیا (جلد اول 2017) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kZvW7Y

گھریلو دوائیں (ھومیو) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2l8j6Gm

جلد کی نگہداشت :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kGCE3Y

ذیابطیس (آپ ہر چیز کھاسکتے ہیں) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jpODnB

علاج الانسان با جذاء الحیوان :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kzKxcb

گھریلو علاج (ھومیو) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jQLUPx

مخزن العلاج المعروف بیاض جیلانی :-ڈاونلوڈ لنک :-

جلد اول :-http://bit.ly/2kKv6M4
جلد دوم :-http://bit.ly/2kSRmn2

گھر کا ڈاکٹر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kH01sB

شوگر کا کامیاب علاج (حصہ اول) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2k2cMME

مخزن المفردات معروف بہ جامع الادویہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2l0feaB

اپنا دواخانہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kTgJ8p

علم الادویہ نفیسی 1924ء (حکیم محمد کبیر الدین) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2l4uGT0

غزائیں دوائیں :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2l0fUgs

اسلام اور جدید میڈیکل سائنس :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jQpCy5

بیماریاں اور ان کا نباتاتی علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2m35EnB

سبزیوں سے علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jizk01

دولت، صحت، خوشی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iVfFCX

کولیسٹرال :- http://bit.ly/2k87GiR

اخلاق شادی ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kjf1eL

خواتین کی صحت :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jTfuYE

ابتدائی طبی امداد کے اصول :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kx3rNw

خشک میوہ جات سے علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kwWBaz

دھوپ سے علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2k7rZjy

کتاب پرہیز و غذا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kGw3rE

قارورہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jFC4CY

قدرتی جڑی بوٹیوں کے مفید استعمالات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kJGwT4

مکمل صحت کا راز:-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jIRLYA

رسالہء ہیضہ (1891) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2k3f1Ae

حقیقت کشتہ سازی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jAZRT5

تدابیر مانع حمل (برتھ کنٹرول) :-ڈاونلوڈ لنک –http://bit.ly/2jrqJVB

تحفہ حیدر آباد دکن (طبی رسالہ سانامہ 1955) :-ڈاونلوڈ لنک : –http://bit.ly/2jJYiEA

سحر قانون مفرد اعضاء :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jKnxX8

معمولات مطب (خواجہ شمس الدین عظیمی) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jMhp16

امراض الاطفال :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jc6Zo3

خواتین کے مسائل :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iM9exU

مردانہ قوت باہ بڑھائیے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jeEedF

آسامی بنگالی طلسمی راز :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2itvsc9

رسالہء دافع آتشک و سوزاک (1896) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jMwaAN

اکسٹرا فارما کوپیا (1897) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2k89KaV

حفط صحت اور پانی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jEjzAi

مخزن الاکسیر :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2iigTDV

جنسی امراض اور ان کا علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hViK5w

جڑی بوٹیوں کے کمالات اور جدید سائنسی تحقیق :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iFtfsR

اپنے دل کی حفاظت کیجئیے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ifgp1t

حفظان صحت (کتابیات) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2i2xgsh

مردانہ طاقت :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2hE43Ck
حصہ دوم :-http://bit.ly/2jqdYO2

تشخیص صابر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iHAtgt

خزینتہ الادویہ :-ڈاونلوڈ لنک :-

جلد اول :-http://bit.ly/2i3y14s
جلد دوم :-http://bit.ly/2i7R8sj

کتاب التشخیص :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hWo5YW

درج گوہر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jeF8XK

حفظان صحت کا علمی سرمایہ اور مصادر و مراجع :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iwE6T2

جنسی مشورے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jvSqLA

ذیابیطس کنٹرول کیجیئے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iU6r6v

سوزش و اورام (تحقیقات) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iMavZa

طب الصادق :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ifg6nw

دل کی بیماریاں :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iI6baQ

مجرب نسخے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iU4Cqa

صحت اور زندگی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hVbo2d

دل کی بیماریاں اور علاج نبوی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hVwEod

اعادہ شباب و درازئ عمر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iIa0wn

طلسمی نسخے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kOxd39

کھندرات سے ملی خاندانی بیاض :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2imIkj8

ہومیو پیتھک تشخیص و تجویز دوا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iEq2Y2

طبی فارما کوپیا اسلامیہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iVBrWR

خواص سیب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hZDipL

مجربات امام غزالی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iTFNKf

ھمدرد فارما کوپیا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iEfBDQ

امراض معدہ کا علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hZzoNu

مجربات حکماء ھند و پاک :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hZuSPa

اصول طب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iSli0t

السر اور علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iTMkbF

مخزن منفعت معروف بہ ضروری المطب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iDd3WD

تبخیر اور علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iTZPIl

شوگر اپنا علاج خود کیجئے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iU9M8I

ممتاز الاکاسیر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hE9yRr

مشیر الاطباء :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2ip8Mq1
حصہ دوم :-http://bit.ly/2hWULPw

450 سوال و جواب براے صحت و علاج اور میڈیکل سٹاف :-ڈاونلوڈ لنک :-
http://bit.ly/2hAeGm9

تاج الحکمت (مصور ایڈیشن):-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iB073J

سات دواوں کے مرکبات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iRg2hx

قانون بقاء جوانی :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2iUb7fV
حصہ دوم :-http://bit.ly/2hCBh1y
حصہ سوم :-http://bit.ly/2iDgKLS

دستور المرکبات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iQu5Qp

سرعت انزال :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ip22bY

بائیو کیمک اور نظریہ مفرد اعضاء :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ilF2wr

کلونجی کے فوائد :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iSmb95

قدرتی دوائیں :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iEM6lq

امراض دماغ و اعصاب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hUrwN3

مردانہ جنسی امراض اور ان کا علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hVY6OE

امرت ساگر (1878) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mcYFs8

طبی جواہرات :-ڈاونلوڈ لنک :-حصہ اول :-http://bit.ly/2iLvp6Y
حصہ دوم :-http://bit.ly/2iMhTEq
حصہ سوم :-http://bit.ly/2ikrQWA

عابد کمبی نیشن گائیڈ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iFMDpP

علاج الامراض :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hTiDTU

معمولات شیرانی :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2hnSlbx

علاج المویشی (1904):-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hT8k2u

جڑی بوٹیاں باتصویر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hvWeLs

قرابادین احسانی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ix1TCH

جڑی بوٹی لقمانی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2j0TWcB

گھریلو طبی نسخے :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2iA1NNI
حصہ دوم :-http://bit.ly/2iVRMXH
حصہ سوم :-http://bit.ly/2iA6hnk

علاج بالغذا اور آسان چٹکے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iXypgX

ذخیرہ خوارزم شاھی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iIcNF3

نفسیاتی امراض کا شافی علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iIuvta

جنسی امراض کا ھومیوپیتھک علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hKVF3M

دافع امراض عضو تناسل :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hVsaJk

حاذق مجربات باہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hAqOXz

کمزوری اور نامردی کا علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ifBlFA

قیمتی بٹوا (سالنامہ حکیم حاذق جنوری،فروری 1938) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hyJbxK

کارآمد نکتے الموسوم بہ صحت و تندرستی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2igNw5H

اشراح الادویہ (کلیات ادویہ):-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iaHg1C

رموز تشخیص :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2hpiUwX
حصہ دوم :-http://bit.ly/2j8mbCd

قانون مفرد اعضاء (تعارف) :-

ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2igVSdP

بیاض اجمل :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2igJCKj

قواے جسمانی پر غذا کا اثر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iHFLot

فوری طبی امداد :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ikiBbu

گنجینہ قوت باہ اصل :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iaPzue

بیاض سائیں بخش (حصہ اول):-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iHGJ4l

حاذق :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iN3C6c

معدن شفاء سادات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hQ3SRW

اعمال طوطیاء :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hrDnRK

بیاض کبیر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iaI6LC

نباتات اور نباتاتی خوراک (1927) :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2igVpby

عظیم کیمیاگر حضرت دڑکی شاہ کے کیمیاوئی تجربے :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2hvynio

چند عام بیماریاں :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2hyNvNx

پھلوں سے علاج :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2hwfIop

جنسی مسائل :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2i7d7Ak

حیوانی دنیا کے عجائبات (1941) :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2iE6hmG

کتاب الحلوی ( جلد اول)ڈاون لوڈ لنک :-

حصہ اول (امراض اعصاب):-http://bit.ly/2ihdE2U
حصہ دوم (امراض چشم):-http://bit.ly/2ikbuQe

بیاض مہتاب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hPZPVO

بیاض شہباز :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2itrZqn

غذا سے علاج کا انسائیکلو پیڈیا :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2iqD6R1

طب لقمانی :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2i77IZR

طبی قلمی بیاضوں کے منتشر اوراق :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2idTlkG

میرے طبی رازوں کا خزانہ :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2iDL9cg

عبقری لایا انوکھے اور لاجواب ٹوٹکے :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2igCIqM

مجربات صابر :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2iDMTCl

خواص گھیکوار :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2ho0k8k

3.بحر طب سے چند موتی :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2hU0Tux

2.صحت مند زندگی کے راز :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2idEsyk

طب یونانی میں نیا انقلاب (حصہ اول) :- http://bit.ly/2iOYinE

طب نبوی اور نباتات احادیث :-http://bit.ly/2iMYXWO

ہومیو پیھتک مکمل اور محفوظ علاج :-http://bit.ly/2vRONFK

تجربات طبیب :-http://bit.ly/2gygyB4

اسرالخفی 1924ء :-http://bit.ly/2wyQgVa

تیر بہدف سنیاسی چٹکلے :-http://bit.ly/2eYhqvm

عروج شباب :-http://bit.ly/2eHYX9y

شہد اور کلونجی :-http://bit.ly/2wD7gta

مجربات بشیر معروف بہ رسالہ قوت باہ :-http://bit.ly/2wGMqt4

رہبر علاج بالغذا :-http://bit.ly/2xUZSbs

تحقیقات خواص المفردات :-http://bit.ly/2gOJSzK

اکسیرات طب جدید :-http://bit.ly/2ffaDgU

بیاض مشہدی :-http://bit.ly/2y2IFwx

علاج بزریعہ غذا :-http://bit.ly/2xIRfUs

امراض قلب (طب نبوی اور جدید سائنس) :-http://bit.ly/2w226V5

ادویہ شناسی اور مٹیریا میڈیکا طب مشرقی :-http://bit.ly/2yi0EPS

جسمانی دردیں اور ان کا علاج :-http://bit.ly/2xbZBAX

سحر ہومیو پیتھی "ڈیزیز اینڈ میڈیسن” (حصہ اول) :-http://bit.ly/2hpiLvx

سحر ہومیو پیتھی "ڈیزیز اینڈ میڈیسن” (حصہ دوم) :-http://bit.ly/2fIn4SP

بایو کیمک سائینس :-http://bit.ly/2hqjL69

سلک معجزنما :-http://bit.ly/2g0pbVr

بیاض شہباز :-http://bit.ly/2z6PP3q

سحر قانون مفرد اعضاء :-http://bit.ly/2xpJXFo

چوٹی کے مجربات :-http://bit.ly/2s8O9Wu

خواص اندرائن (کوڑ تمہ) :-http://bit.ly/2xX3use

فیض سلیمانی :-http://bit.ly/2ykg3SE

رسالہ سلاجیت :-http://bit.ly/2pq6drq

خواص کیکر :-http://bit.ly/2yAaYpp

مجربات مبارکہ :-http://bit.ly/2hHIGRW

خواص آک (مدار) :-http://bit.ly/2yRyX0W

امرت ساگر 1884ء (اردو) :-http://bit.ly/2gJ6UIJ

خواص انڈا :-http://bit.ly/2zZy6eX

الیکٹرو ھومیو پیتھک طریقہ علاج :-http://bit.ly/2hdFlLH

معالجات الیکٹرو ھومیو پیتھی :-http://bit.ly/2zxKTaS

مجربات حکیم عبدالکریم آزاد (الطب و الکیمیاء گروپ) :-http://bit.ly/2zzQL3r

خواص کیلا :-http://bit.ly/2mvRKMM

خواص سنگترہ :-http://bit.ly/2zjJMJg

طب نفیس :-http://bit.ly/2jXlKQV

تحقیقات و علاج امراض معدہ و امعاء :-http://bit.ly/2hVyFi0

تحقیقات علم المجربات :-http://bit.ly/2AymJy6

خواص پیاز :-http://bit.ly/2AMaf64

سٹیتھو سکوپ گائیڈ :-http://bit.ly/2j6dWZN

اسراری مجربات :- http://bit.ly/2jA3cSU

رھنمائے مطب :-http://bit.ly/2iytaK7

دستور مطب :-http://bit.ly/2AXB7Qt

اسرار حسن :-http://bit.ly/2AX9R4e

مجربات مسیح الملک :-http://bit.ly/2y9yRQm

پیغام آیوروید "ماھنامہ شمارہ” 1957ء :-http://bit.ly/2Brc88e

قانون مفرد اعضاء :-http://bit.ly/2kPDZrC

خواص لہسن :-http://bit.ly/2l4CaqV

تصانیف استاذ الحکماء حکیم محمد عبداللہ صاحب :-

*کنزالمجربات(مکمل) :-http://bit.ly/2snNBwb
*کنزالمرکبات (مکمل) :-http://bit.ly/2sU6gzq
*کنزالمفردات (مکمل) :-http://bit.ly/2uAdKF1
*کشتہ جات کی پہلی کتاب :-http://bit.ly/2omLhiY
*معمولات شیرانی :-http://bit.ly/2hnSlbx
*حلفیہ مجربات :-http://bit.ly/2o4vtVn

  • ہندوستان کی جڑی بوٹیاں اور ان کی عجیب و غریب فوائد :-http://bit.ly/2lNlwf7

*کشتہ جات کی پہلی کتاب :-http://bit.ly/2omLhiY
*گنجینہء روزگار :-http://bit.ly/2mg2Jog
*امراض گردہ و مثانہ تشخیص و علاج :-http://bit.ly/2roZwtd
*کتاب پرہیز و غذا :-http://bit.ly/2rmM60r
*پھلوں سے علاج :-http://bit.ly/2hwfIop
*پھولوں سے علاج :-http://bit.ly/2mX8bOF
*خواص دھنیا :-http://bit.ly/2rn4qTy
*خواص برگد :-http://bit.ly/2hDM3EC
*خواص مولی :-http://bit.ly/2inQ564
*خواص ھلدی :-http://bit.ly/2iFFBRO
*خواص دھتورہ :-http://bit.ly/2nq0Ci2
*خواص تربوز :-http://bit.ly/2igELeI
*خواص سیب :-http://bit.ly/2hZDipL
*خواص کوڑی :-http://bit.ly/2ofcmrj
*خواص شہد :-http://bit.ly/2isj212
*خواص گھی :-http://bit.ly/2ngzpn4
*خواص کافور :-http://bit.ly/2qZUNK2
*خواص گھیکوار :-http://bit.ly/2ho0k8k
*خواص دودھ :-http://bit.ly/2iVVswv
خواص ستیاناسی :-http://bit.ly/2ijBQBo
خواص پھٹکری :-http://bit.ly/2vgH3OJ
خواص سونف :-http://bit.ly/2rEj6yC
خواص ریٹھہ :-http://bit.ly/2odvGWl
خواص اندرائن (کوڑ تمہ) :-http://bit.ly/2xX3use
خواص کیکر :-http://bit.ly/2yAaYpp
خواص آک (مدار) :-http://bit.ly/2yRyX0W
خواص سنگترہ :-http://bit.ly/2zjJMJg
خواص پیاز :-http://bit.ly/2AMaf64
خواص لہسن :-http://bit.ly/2l4CaqV

نانی اماں کے ٹوٹکے :-http://bit.ly/2nhFuPX
کسی بھی بیماری کی صورت میں ان دوست کتابوں سے مدد لیں ان شاءاللہ شفاء ملےگی۔
بہت ہی زیادہ قیمتی ہے۔ بہت قدیم کتب ہیں ہمارے بزرگوں کی۔ بہت محنت سے جمع کی گئیں ہیں برائے کرم قدر کریں۔

پوری لائبریری حاضر خدمت ہے اب کوئی قدر دان نہی تو کیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔سبحان جی

گلدستہ شاھی (رسالہ قوت باہ :-http://bit.ly/2iPDKIh

معالجات امراض نسواں :-http://bit.ly/2pru37G

دلچسپ جنسی معلومات :-http://bit.ly/2qpiFYn

ھمدرد صحت دھلی (1936ء اور 1937ء کے شمارے) :-"اشاعت خصوصی عورت”http://bit.ly/2qs6QzO

قرابادین اعظم (قدیم اردو نسخہ) :-http://bit.ly/2puc3YF

رفیق بیماران از حکیم غلام حسین :-http://bit.ly/2oVRGCP

علم و عمل طب 1915ء (اردو) :-http://bit.ly/2qg0Ttw

بیاض کریمی :-http://bit.ly/2qdvrw9

اسرار الکیمیا (اردو ترجمہ آثارالاسخیاء) :-http://bit.ly/2qjSVvS

ترجمہ کبیر "شرح اسباب” کا اردو ترجمہ 1935ء (حکیم محمد کبیر الدین) :-http://bit.ly/2q4vwPI

ہمدرد صحت دھلی 1945،46،47ء (متفرق شمارے) :-http://bit.ly/2oViS7e

لیکوڈرما (برص سفید): خالص ھومیوپیتھی علاج :-http://bit.ly/2q3AbAE

رسالہ سونف :-http://bit.ly/2hZB0Xj

خواص شہد :-http://bit.ly/2isj212

صحیفہ طب اکبر 1854ء (فارسی) :-http://bit.ly/2ozwzGd

گھر کا دواخانہ (حکیم عبدالقدوس انڈیا) :-http://bit.ly/2oVWuun

خزینتہ المجربات از پنڈت کرشن کنوردت شرما :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2lCyDLX
حصہ دوم :-http://bit.ly/2lvMoLH
حصہ سوم :-http://bit.ly/2mwOMHd

بیماریاں اور ان کا علاج مع طب نبوی :-http://bit.ly/2pWWMm8

ھمدرد صحت دھلی 1960ء (مکمل شمارے) :-http://bit.ly/2pWxPnH

چھ نبضیں کل امراض :-http://bit.ly/2q2dNaR

عجوہ کھجور سے علاج :-http://bit.ly/2oqW4Jy

کشتہ جات کی پہلی کتاب :-http://bit.ly/2omLhiY

مخزن مفردات و مرکبات معروف بہ خواص الادویہ (1905ء) :-http://bit.ly/2ojFdrj

کیمیا کی کہانی :-http://bit.ly/2plJlLV

قانون مفرد اعضاء کے طبی مشورے :-http://bit.ly/2ojHH9e

سبزیوں سے علاج :-http://bit.ly/2oCc2TY

کیمیا گری ترجمہ الکیمسٹ (ناول) :-http://bit.ly/2oyeE3j

جسم کے عجائبات :-http://bit.ly/2pD9e6F

مجربات مبارکہ (سالنامہ طبیب حاذق 2015) :-http://bit.ly/2hHIGRW

پرکاش بوٹی (سنیاسی بوٹی پرکاش) :-http://bit.ly/2iM9Fro

کلید شفاء :-http://bit.ly/2hcAi8e

بیاض حبان :-http://bit.ly/2hmWelM

علم الادویہ یونانی دوا سازی :-http://bit.ly/2oXDGvB

یونانی طب میں مانع حمل اودیہ اور تدابیر :-http://bit.ly/2oXM1PG

ڈینگی وائرس :-http://bit.ly/2oPun15

علاج نبوی (ص) اور جدید سائنس (پیٹ کی بیماریاں) :-http://bit.ly/2on4CUX

امراض جلد اور علاج نبوی (ص) :-http://bit.ly/2on9tVR

طب نبوی اور جدید سائنس :-

جلد اول :-http://bit.ly/2oFeiLl
جلد دوم :-http://bit.ly/2oFewlB

گنجینہ عطاری المعروف دوا سازی :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2oHzy2Q
حصہ دوم :-http://bit.ly/2nKfI2g
حصہ سوم :-http://bit.ly/2nKu1DU
حصہ چارم :-http://bit.ly/2nucaFP

ادویاتی پودے :-http://bit.ly/2oPT7Ga

طبی فارما کوپیا ( یونانی) :-

جلد اول :-http://bit.ly/2idwb03
جلد دوم :-http://bit.ly/2hK3nZO
جلد سوم :-http://bit.ly/2hKhn5u

اسرار سینہ بسینہ (کشتہ جات مع خواص) :-http://bit.ly/2imO9ge

الحجامہ طب نبوی (ص) :-http://bit.ly/2ojCYbo

پچاس صدری مجربات :-http://bit.ly/2oPC30b

مجربات ذکائی :-http://bit.ly/2iNGpF0

کنزالمفردات :-http://bit.ly/2iqkj88

مجربات صحرا نشین :-http://bit.ly/2iPQpO9

کمزوری اور نامردی کا شرطیہ علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iDL8cv

نانی اماں کے ٹوٹکے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nhFuPX

نوجوانوں کے جنسی امراض اور ان کا علاج (ھومیو) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jNS034

مجربات حیات :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2jIqcS0
حصہ دوم :-http://bit.ly/2lCBveW

تحقیقات اسرار النبض:-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ifdshk

لقمانی نسواں گائیڈ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2p4NG2C

صحت کا انسائیکلو پیڈیا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2oyGLlj

صحت کی حفاظت :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nYRVip

حلفیہ مجربات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2o4vtVn

نسائیات (گائینکولوجی) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nRCxCO

فطری علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ousbLD

سو بیماریاں ایک سو ایک علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2oCoAIF

طب رحیمی (1888ء) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2opRzCd

رسالہ بسکھپرا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nZjEQh

تحفہ جمیل :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hHhgtX

رسالہ جودیہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lcZiyQ

علاج الغرباء :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iii88W

یونانی ادویہ مفردہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iTDQNH

علاج الامراض اردو :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2npuhJ3

قانون مفرد اعضاء غذائی چارٹ:-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2oBh4gi

مخ الکیمیا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nxULJ6

چوٹی کے مجربات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iiemwz

تحقیقات جمیل :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hF0GfL

میزان الطب (اردو) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hI805z

ہند و پاک کی جڑی بوٹیاں اور ان کے عجیب و غریب فوائد :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2hHCGXN
حصہ دوم :-http://bit.ly/2isC9YA
حصہ سوم :-http://bit.ly/2hDEFZW
حصہ چارم :-http://bit.ly/2hHs9vQ
حصہ پنجم :-http://bit.ly/2hHlYbg

جانوروں کے طبی اور روحانی فائدے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nhJpsO

کنز العلاج (طبع نہم 1978) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2o3LNU5

کتاب المرکبات بطرز جدید (مکمل) :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2nvjPT5
حصہ دوم :-http://bit.ly/2ohIEmS

نشاط شباب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mwRvkd

مفید گھریلو دوائیں :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mT0qHV

پھولوں سے علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mX8bOF

کلونجی کے کرشمات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nSclqm

عبقری بتائے جڑی بوٹیوں کے کرشمات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nShcI4

عورت شادی سے زچگی تک :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2n23IMC

مکمل سنیاسی جڑی بوٹی (بوٹی پرکاش) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2nvIxjU

اچار، حلوے، مربے، چٹنییاں :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mJMX8r

میزان الادویہ (ہومیو پیتھی) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mk33TI

ہندوستان کی جڑی بوٹیاں اور ان کی عجیب و غریب فوائد :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lNlwf7

حکمت کے مفید ٹوٹکے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lNxJRd.

جدید طبی فارما کوپیا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mcYOt2

بلڈ پریشر سے نجات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2na4Yei

مفید النساء و الصبیان :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2m3yBwc

کلینکل پریکٹس (سحر ہومیو پیتھی) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2n8YjRP

حیرت انگیز حافظہ ناممکن نہیں :-

ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iMkoGx

جدید طبیب ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2n99A4D

مجربات اقبال (قانون مفرد اعضاء) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lDZIT0

رہنمائے نوجوانی:- ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lTIZXi

گھر کا دواخانہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mwdXZl

طب اسلامی اور جدید میڈیکل سائنس کے انکشافات :-

ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mgsNm8

ام الغذا کلونجی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mWqaV1

نسخہ جات ہومیو پیتھی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2n4JNtn

میرا کلینک (ہومیو پیتھی) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mKqc5p

کتاب عجیب المعروف عملیہ جالینوس :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lszF1n

مجربات گپتا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mDwl3s

قدرتی غذاوں کا انسائیکلوپیڈیا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lI9pLz

جوس تھراپی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lIhDDc

مجربات لقمانی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lHJhAB

زیتون سے علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2m3qJOt

قوت مردانہ بڑھانے کی ادویات -ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mj3Xmh

نبض شناسی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2luag2h

شادی اور ازدواجی تعلقات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2m9B6kG

کتاب المفردات المعروف خواص الادویہ (بطرز جدید) :-ڈاونلوڈ لنک:-http://bit.ly/2hsfkSX

طب اور جنسیات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lq4obg

معالجات :-ڈانلوڈ لنک :-

جلد اول :-http://bit.ly/2lnAeoY
جلد دوم :-http://bit.ly/2lJGzfg

شفابخش جڑی بوٹیوں کے اثرات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mjfTW3

قانون مفرد اعضاء اور امراض جلدڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lXbxlQ

آزمودہ ہومیو پیتھک نسخہ جات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lU4uLD

طب نبوی شاہ جہان آباد :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2moedXi

مسیحائے عالم موسوم بہ تحفہ مخلصان :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2oaYjF0

چیدہ چیدہ مجربات از بیاض فیض-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lvNkzJ

دولت کی کان یعنی قارون کا خزانہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mf2lHH

اکسیر اجملی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2muzxhk

گنجینہء روزگار :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mg2Jog

حلفیہ مجربات حکیم انقلاب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2m7oXNk

سلک معجزنما :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lmvTF5

تحقیقات علم الامراض مع بیاض یاسین :-

ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2kwxclK
حصہ دوم :-http://bit.ly/2m1aRZV
حصہ سوم :-http://bit.ly/2lSjQR5
حصہ چارم :-http://bit.ly/2o9Wckb

جامع الحکمت :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lPwDRd

مفتاح التشخیص (1923) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2lL0mxY

اکسیری نسخے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kOiqp1

ماہنامہ شمارہ الطب و الکیمیا (جلد اول 2017) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kZvW7Y

گھریلو دوائیں (ھومیو) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2l8j6Gm

جلد کی نگہداشت :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kGCE3Y

ذیابطیس (آپ ہر چیز کھاسکتے ہیں) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jpODnB

علاج الانسان با جذاء الحیوان :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kzKxcb

گھریلو علاج (ھومیو) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jQLUPx

مخزن العلاج المعروف بیاض جیلانی :-ڈاونلوڈ لنک :-

جلد اول :-http://bit.ly/2kKv6M4
جلد دوم :-http://bit.ly/2kSRmn2

گھر کا ڈاکٹر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kH01sB

شوگر کا کامیاب علاج (حصہ اول) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2k2cMME

مخزن المفردات معروف بہ جامع الادویہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2l0feaB

اپنا دواخانہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kTgJ8p

علم الادویہ نفیسی 1924ء (حکیم محمد کبیر الدین) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2l4uGT0

غزائیں دوائیں :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2l0fUgs

اسلام اور جدید میڈیکل سائنس :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jQpCy5

بیماریاں اور ان کا نباتاتی علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2m35EnB

سبزیوں سے علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jizk01

دولت، صحت، خوشی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iVfFCX

کولیسٹرال :- http://bit.ly/2k87GiR

اخلاق شادی ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kjf1eL

خواتین کی صحت :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jTfuYE

ابتدائی طبی امداد کے اصول :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kx3rNw

خشک میوہ جات سے علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kwWBaz

دھوپ سے علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2k7rZjy

کتاب پرہیز و غذا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kGw3rE

قارورہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jFC4CY

قدرتی جڑی بوٹیوں کے مفید استعمالات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kJGwT4

مکمل صحت کا راز:-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jIRLYA

رسالہء ہیضہ (1891) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2k3f1Ae

حقیقت کشتہ سازی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jAZRT5

تدابیر مانع حمل (برتھ کنٹرول) :-ڈاونلوڈ لنک –http://bit.ly/2jrqJVB

تحفہ حیدر آباد دکن (طبی رسالہ سانامہ 1955) :-ڈاونلوڈ لنک : –http://bit.ly/2jJYiEA

سحر قانون مفرد اعضاء :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jKnxX8

معمولات مطب (خواجہ شمس الدین عظیمی) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jMhp16

امراض الاطفال :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jc6Zo3

خواتین کے مسائل :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iM9exU

مردانہ قوت باہ بڑھائیے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jeEedF

آسامی بنگالی طلسمی راز :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2itvsc9

رسالہء دافع آتشک و سوزاک (1896) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jMwaAN

اکسٹرا فارما کوپیا (1897) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2k89KaV

حفط صحت اور پانی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jEjzAi

مخزن الاکسیر :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2iigTDV

جنسی امراض اور ان کا علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hViK5w

جڑی بوٹیوں کے کمالات اور جدید سائنسی تحقیق :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iFtfsR

اپنے دل کی حفاظت کیجئیے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ifgp1t

حفظان صحت (کتابیات) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2i2xgsh

مردانہ طاقت :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2hE43Ck
حصہ دوم :-http://bit.ly/2jqdYO2

تشخیص صابر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iHAtgt

خزینتہ الادویہ :-ڈاونلوڈ لنک :-

جلد اول :-http://bit.ly/2i3y14s
جلد دوم :-http://bit.ly/2i7R8sj

کتاب التشخیص :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hWo5YW

درج گوہر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jeF8XK

حفظان صحت کا علمی سرمایہ اور مصادر و مراجع :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iwE6T2

جنسی مشورے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2jvSqLA

ذیابیطس کنٹرول کیجیئے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iU6r6v

سوزش و اورام (تحقیقات) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iMavZa

طب الصادق :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ifg6nw

دل کی بیماریاں :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iI6baQ

مجرب نسخے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iU4Cqa

صحت اور زندگی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hVbo2d

دل کی بیماریاں اور علاج نبوی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hVwEod

اعادہ شباب و درازئ عمر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iIa0wn

طلسمی نسخے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2kOxd39

کھندرات سے ملی خاندانی بیاض :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2imIkj8

ہومیو پیتھک تشخیص و تجویز دوا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iEq2Y2

طبی فارما کوپیا اسلامیہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iVBrWR

خواص سیب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hZDipL

مجربات امام غزالی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iTFNKf

ھمدرد فارما کوپیا :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iEfBDQ

امراض معدہ کا علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hZzoNu

مجربات حکماء ھند و پاک :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hZuSPa

اصول طب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iSli0t

السر اور علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iTMkbF

مخزن منفعت معروف بہ ضروری المطب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iDd3WD

تبخیر اور علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iTZPIl

شوگر اپنا علاج خود کیجئے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iU9M8I

ممتاز الاکاسیر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hE9yRr

مشیر الاطباء :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2ip8Mq1
حصہ دوم :-http://bit.ly/2hWULPw

450 سوال و جواب براے صحت و علاج اور میڈیکل سٹاف :-ڈاونلوڈ لنک :-
http://bit.ly/2hAeGm9

تاج الحکمت (مصور ایڈیشن):-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iB073J

سات دواوں کے مرکبات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iRg2hx

قانون بقاء جوانی :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2iUb7fV
حصہ دوم :-http://bit.ly/2hCBh1y
حصہ سوم :-http://bit.ly/2iDgKLS

دستور المرکبات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iQu5Qp

سرعت انزال :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ip22bY

بائیو کیمک اور نظریہ مفرد اعضاء :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ilF2wr

کلونجی کے فوائد :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iSmb95

قدرتی دوائیں :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iEM6lq

امراض دماغ و اعصاب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hUrwN3

مردانہ جنسی امراض اور ان کا علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hVY6OE

امرت ساگر (1878) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2mcYFs8

طبی جواہرات :-ڈاونلوڈ لنک :-حصہ اول :-http://bit.ly/2iLvp6Y
حصہ دوم :-http://bit.ly/2iMhTEq
حصہ سوم :-http://bit.ly/2ikrQWA

عابد کمبی نیشن گائیڈ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iFMDpP

علاج الامراض :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hTiDTU

معمولات شیرانی :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2hnSlbx

علاج المویشی (1904):-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hT8k2u

جڑی بوٹیاں باتصویر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hvWeLs

قرابادین احسانی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ix1TCH

جڑی بوٹی لقمانی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2j0TWcB

گھریلو طبی نسخے :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2iA1NNI
حصہ دوم :-http://bit.ly/2iVRMXH
حصہ سوم :-http://bit.ly/2iA6hnk

علاج بالغذا اور آسان چٹکے :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iXypgX

ذخیرہ خوارزم شاھی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iIcNF3

نفسیاتی امراض کا شافی علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iIuvta

جنسی امراض کا ھومیوپیتھک علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hKVF3M

دافع امراض عضو تناسل :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hVsaJk

حاذق مجربات باہ :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hAqOXz

کمزوری اور نامردی کا علاج :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ifBlFA

قیمتی بٹوا (سالنامہ حکیم حاذق جنوری،فروری 1938) :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hyJbxK

کارآمد نکتے الموسوم بہ صحت و تندرستی :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2igNw5H

اشراح الادویہ (کلیات ادویہ):-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iaHg1C

رموز تشخیص :-ڈاونلوڈ لنک :-

حصہ اول :-http://bit.ly/2hpiUwX
حصہ دوم :-http://bit.ly/2j8mbCd

قانون مفرد اعضاء (تعارف) :-

ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2igVSdP

بیاض اجمل :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2igJCKj

قواے جسمانی پر غذا کا اثر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iHFLot

فوری طبی امداد :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2ikiBbu

گنجینہ قوت باہ اصل :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iaPzue

بیاض سائیں بخش (حصہ اول):-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iHGJ4l

حاذق :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iN3C6c

معدن شفاء سادات :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hQ3SRW

اعمال طوطیاء :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hrDnRK

بیاض کبیر :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2iaI6LC

نباتات اور نباتاتی خوراک (1927) :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2igVpby

عظیم کیمیاگر حضرت دڑکی شاہ کے کیمیاوئی تجربے :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2hvynio

چند عام بیماریاں :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2hyNvNx

پھلوں سے علاج :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2hwfIop

جنسی مسائل :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2i7d7Ak

حیوانی دنیا کے عجائبات (1941) :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2iE6hmG

کتاب الحلوی ( جلد اول)ڈاون لوڈ لنک :-

حصہ اول (امراض اعصاب):-http://bit.ly/2ihdE2U
حصہ دوم (امراض چشم):-http://bit.ly/2ikbuQe

بیاض مہتاب :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2hPZPVO

بیاض شہباز :-ڈاونلوڈ لنک :-http://bit.ly/2itrZqn

غذا سے علاج کا انسائیکلو پیڈیا :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2iqD6R1

طب لقمانی :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2i77IZR

طبی قلمی بیاضوں کے منتشر اوراق :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2idTlkG

میرے طبی رازوں کا خزانہ :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2iDL9cg

عبقری لایا انوکھے اور لاجواب ٹوٹکے :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2igCIqM

مجربات صابر :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2iDMTCl

خواص گھیکوار :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2ho0k8k

3.بحر طب سے چند موتی :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2hU0Tux

2.صحت مند زندگی کے راز :-ڈاون لوڈ لنک :-http://bit.ly/2idEsyk

طب یونانی میں نیا انقلاب (حصہ اول) :- http://bit.ly/2iOYinE

طب نبوی اور نباتات احادیث :-http://bit.ly/2iMYXWO

ہومیو پیھتک مکمل اور محفوظ علاج :-http://bit.ly/2vRONFK

تجربات طبیب :-http://bit.ly/2gygyB4

اسرالخفی 1924ء :-http://bit.ly/2wyQgVa

تیر بہدف سنیاسی چٹکلے :-http://bit.ly/2eYhqvm

عروج شباب :-http://bit.ly/2eHYX9y

شہد اور کلونجی :-http://bit.ly/2wD7gta

مجربات بشیر معروف بہ رسالہ قوت باہ :-http://bit.ly/2wGMqt4

رہبر علاج بالغذا :-http://bit.ly/2xUZSbs

تحقیقات خواص المفردات :-http://bit.ly/2gOJSzK

اکسیرات طب جدید :-http://bit.ly/2ffaDgU

بیاض مشہدی :-http://bit.ly/2y2IFwx

علاج بزریعہ غذا :-http://bit.ly/2xIRfUs

امراض قلب (طب نبوی اور جدید سائنس) :-http://bit.ly/2w226V5

ادویہ شناسی اور مٹیریا میڈیکا طب مشرقی :-http://bit.ly/2yi0EPS

جسمانی دردیں اور ان کا علاج :-http://bit.ly/2xbZBAX

سحر ہومیو پیتھی "ڈیزیز اینڈ میڈیسن” (حصہ اول) :-http://bit.ly/2hpiLvx

سحر ہومیو پیتھی "ڈیزیز اینڈ میڈیسن” (حصہ دوم) :-http://bit.ly/2fIn4SP

بایو کیمک سائینس :-http://bit.ly/2hqjL69

سلک معجزنما :-http://bit.ly/2g0pbVr

بیاض شہباز :-http://bit.ly/2z6PP3q

سحر قانون مفرد اعضاء :-http://bit.ly/2xpJXFo

چوٹی کے مجربات :-http://bit.ly/2s8O9Wu

خواص اندرائن (کوڑ تمہ) :-http://bit.ly/2xX3use

فیض سلیمانی :-http://bit.ly/2ykg3SE

رسالہ سلاجیت :-http://bit.ly/2pq6drq

خواص کیکر :-http://bit.ly/2yAaYpp

مجربات مبارکہ :-http://bit.ly/2hHIGRW

خواص آک (مدار) :-http://bit.ly/2yRyX0W

امرت ساگر 1884ء (اردو) :-http://bit.ly/2gJ6UIJ

خواص انڈا :-http://bit.ly/2zZy6eX

الیکٹرو ھومیو پیتھک طریقہ علاج :-http://bit.ly/2hdFlLH

معالجات الیکٹرو ھومیو پیتھی :-http://bit.ly/2zxKTaS

مجربات حکیم عبدالکریم آزاد (الطب و الکیمیاء گروپ) :-http://bit.ly/2zzQL3r

خواص کیلا :-http://bit.ly/2mvRKMM

خواص سنگترہ :-http://bit.ly/2zjJMJg

طب نفیس :-http://bit.ly/2jXlKQV

تحقیقات و علاج امراض معدہ و امعاء :-http://bit.ly/2hVyFi0

تحقیقات علم المجربات :-http://bit.ly/2AymJy6

خواص پیاز :-http://bit.ly/2AMaf64

سٹیتھو سکوپ گائیڈ :-http://bit.ly/2j6dWZN

اسراری مجربات :- http://bit.ly/2jA3cSU

رھنمائے مطب :-http://bit.ly/2iytaK7

دستور مطب :-http://bit.ly/2AXB7Qt

اسرار حسن :-http://bit.ly/2AX9R4e

مجربات مسیح الملک :-http://bit.ly/2y9yRQm

پیغام آیوروید "ماھنامہ شمارہ” 1957ء :-http://bit.ly/2Brc88e

قانون مفرد اعضاء :-http://bit.ly/2kPDZrC

خواص لہسن :-http://bit.ly/2l4CaqV

تصانیف استاذ الحکماء حکیم محمد عبداللہ صاحب :-

*کنزالمجربات(مکمل) :-http://bit.ly/2snNBwb
*کنزالمرکبات (مکمل) :-http://bit.ly/2sU6gzq
*کنزالمفردات (مکمل) :-http://bit.ly/2uAdKF1
*کشتہ جات کی پہلی کتاب :-http://bit.ly/2omLhiY
*معمولات شیرانی :-http://bit.ly/2hnSlbx
*حلفیہ مجربات :-http://bit.ly/2o4vtVn

  • ہندوستان کی جڑی بوٹیاں اور ان کی عجیب و غریب فوائد :-http://bit.ly/2lNlwf7

*کشتہ جات کی پہلی کتاب :-http://bit.ly/2omLhiY
*گنجینہء روزگار :-http://bit.ly/2mg2Jog
*امراض گردہ و مثانہ تشخیص و علاج :-http://bit.ly/2roZwtd
*کتاب پرہیز و غذا :-http://bit.ly/2rmM60r
*پھلوں سے علاج :-http://bit.ly/2hwfIop
*پھولوں سے علاج :-http://bit.ly/2mX8bOF
*خواص دھنیا :-http://bit.ly/2rn4qTy
*خواص برگد :-http://bit.ly/2hDM3EC
*خواص مولی :-http://bit.ly/2inQ564
*خواص ھلدی :-http://bit.ly/2iFFBRO
*خواص دھتورہ :-http://bit.ly/2nq0Ci2
*خواص تربوز :-http://bit.ly/2igELeI
*خواص سیب :-http://bit.ly/2hZDipL
*خواص کوڑی :-http://bit.ly/2ofcmrj
*خواص شہد :-http://bit.ly/2isj212
*خواص گھی :-http://bit.ly/2ngzpn4
*خواص کافور :-http://bit.ly/2qZUNK2
*خواص گھیکوار :-http://bit.ly/2ho0k8k
*خواص دودھ :-http://bit.ly/2iVVswv
خواص ستیاناسی :-http://bit.ly/2ijBQBo
خواص پھٹکری :-http://bit.ly/2vgH3OJ
خواص سونف :-http://bit.ly/2rEj6yC
خواص ریٹھہ :-http://bit.ly/2odvGWl
خواص اندرائن (کوڑ تمہ) :-http://bit.ly/2xX3use
خواص کیکر :-http://bit.ly/2yAaYpp
خواص آک (مدار) :-http://bit.ly/2yRyX0W
خواص سنگترہ :-http://bit.ly/2zjJMJg
خواص پیاز :-http://bit.ly/2AMaf64
خواص لہسن :-http://bit.ly/2l4CaqV

نانی اماں کے ٹوٹکے :-http://bit.ly/2nhFuPX

14.12.2017
📖📚📖📚
14.12.2017
📖📚📖📚