یو پی اسمبلی انتخابات مسلما نوں کی دور اندیشی کا امتحان

By: Muddassir Ahmad Qasmi

محدّث جلیل حضرت الاستاذشیخ عبد الحق صاحب اعظمی –نو ر اللہ مرقدہ– (1928-2016)

موت تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے

محدّث جلیل حضرت الاستاذشیخ عبد الحق صاحب اعظمی –نور اللہ مرقدہ– (1928-2016)

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

30/دسمبر کو جہاں سن 2016 اپنا آخری سانس لے رہا تھا اور وہ صرف ایک دن کا مہمان تھا کہ مغرب وعشاء کے درمیان، محمد رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم- کی احادیث شریفہ کا عظیم خادم، علوم نبویّہ کا حقیقی وارث اور ایشیاء کی ممتاز دینی درس گاہ، امّ المدارس: دارالعلوم، دیوبند کا محدّث جلیل، حضرت الاستاذ شیخ عبد الحق صاحب اعظمی –نور اللہ مرقدہ– ایک تھکے ماندے مسافر کی طرح خاموشی سے دائمی نیند سو گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔ موت ایک ایسی حقیقت جسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں؛ لہذا سب لوگوں کی طرح بندہ نے بھی حضرت الاستاذ کی موت کو”مرضی مولی از ہمہ اولی” کہتے ہوئے قبول کیا۔ یہ خبر منٹوں میں،دنیا کے گوشے گوشے میں، جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر شخص نے بڑے افسوس کے ساتھ اس خبر کو پڑھا اور سنا اور بھاری دل کے ساتھ دوسروں کے ساتھ شیئر کیا۔

موت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ موت ایک ایسی حقیقت ہےکہ جس سے کسی کو بھی مفر نہیں۔ جب پیارے نبی محمد- صلی اللہ علیہ وسلم- کو موت آکر رہی؛ تو پھر دوسرے کی کیا بات! موت تو پاک پوتر مالک کے دیدار کا ایک ذریعہ ہے؛ اگر آدمی کا انتقال نہ ہو؛ تو اپنے رحیم وکریم رب کا دیدار کیسے کرے گا! یہی تو وجہ تھی کہ نبی اکرم -صلی اللہ علیہ وسلم- نے اپنے لیے موت کو پسند فرماکر، اپنے منبر سے اپنی موت کا یوں اشارہ دیا: "إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ”. فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا. (بخاری شریف، حدیث: 3904) ترجمہ: اللہ تعالی نے ایک بندے کو اس کے درمیان اختیار دیا ہے کہ اللہ تعالی ان کو دنیا کی رونق دیں، جتنی وہ چاہے اوران (نعمتوں )کے درمیان جو اللہ تعالی کے پاس ہے؛ لہذا اس بندے نے ان (نعمتوں) کو اختیار کیا جو اللہ تعالی کے پاس۔ ابوبکر –رضی اللہ عنہ – (سمجھ گئے کہ نبی -صلی اللہ علیہ وسلم -نے اپنے لیے موت کو پسند کیا؛ لہذا ) رونے لگے اور فرمایا: آپ پر ہم اپنے ماں باپ قربان کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو ایمان کی حالت میں اس دنیا سے اٹھائے! آمین!

موت نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ چاہے انسان ہویا حیوان یا پھر چرند وپرند ہو، سب جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ نظام اس سنسار کے پیدا کرنے والے کا ہی بنایا ہوا ہے۔ سچے مالک نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: "كُلّ نَفْس ذَائِقَة الْمَوْت”(سورہ آل عمران، آیت: 185) ترجمہ: (تم میں) ہر جان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ چناں چہ سب کے سب انبیاء ورسل، صحابہ وتابعن اوراولیاء وصلحا کو اس جہان سے کوچ کرنا پڑا۔ ہم سب کو بھی ایک دن جانا ہوگا۔ حضرت شیخ صاحب –نور اللہ مرقدہ – بھی اپنے مقررہ وقت پر، پاک پروردگار کے حکم کا اتباع کرتے ہوئے اس جہاں سے کوچ کرگئے۔ اللہ تعالی حضرت الاستاذ کو جنّت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے! آمین!

آئے عشّاق، گئے وعدۂ فردا لے کر ٭ اب انھیں ڈھونڈ چراغ ِرخِ زیبا لے کر

حضرت شیخ صاحب –نور اللہ مرقدہ– کی ولادت بہ روز: پیر، 6/رجب المرجب، سن 1345 ھ (سن 1928ء) کو ،اترپردیش کے معروف ضلع: "اعظم گڑھ” کے ایک گاؤں: "جگدیش پور” میں ہوئی۔ آپ چھ سال کے تھے کہ آپ کے والدماجدجناب عمر صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے۔ آپ کی کفالت وتربیت مشہور عالم دین، شیخ محمد مسلم صاحب جونپوری –قدس سرہ– نے کی۔ پھر ایک گاؤں میں پرورش پانے والے یتیم کو، اللہ تعالی نےایک نیّر تاباں بنایا۔ پھر آپ سے کیا ایشیا، کیا افریقہ، کیا یورپ اور کیا امریکہ، ہر جگہ کے لوگوں نے کسب فیض ۔ اللہ تعالی آپ کی خدمات کو قبول فرمائے اور اس کا اپنے شایان شان بدلہ عطا فرمائے! آمین!

حضرت شیخ صاحب –قدس سرہ– نے ابتدائی تعلیم، حضرت مولانا عبد الغنی صاحب پھولپوری (1876-1963) –رحمہ اللہ–، خلیفہ حضرت تھانوی (1863-1943) کے قائم کردہ ادارہ: "مدرسہ بیت العلوم”، سرائے میر، اعظم گڑھ میں حاصل کی۔ بیت العلوم میں آپ نے صرف ونحو، عربی اور فقہہ اسلامی کی کچھ کتابیں پڑھی۔ بیت العلوم میں آپ نے درس نظامی کی مشہور کتاب: "شرح وقایہ” تک کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد، آپ نےدارالعلوم، مئو ناتھ بھنجن میں داخلہ لیا اور "مشکاۃ المصابیح” تک کی تعلیم مکمل کی۔ پھر آپ نے دارالعلوم ،دیوبند کا رخ، جس کے جوار میں، آپ کی آخری آرام گاہ منجاب اللہ مقدر تھی۔

شیخ نے ایشیاء کی عظیم دینی واسلامی یونیورسیٹی دارالعلوم، دیوبندمیں تکمیل فضیلت کے لیے داخلہ لیا۔ آپ نے دارالعلوم میں شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی (1879-1957)، علامہ محمد ابراہیم بلیاوی (متوفی: 1967)، شیخ الادب شیخ محمد اعزاز علی امروہوی (1300-1373ھ)، شیخ فخرالحسن مرادآبادی اور مولانا ظہور احمد دیوبندی –نور اللہ مراقدہم– وغیرہم سے اکتساب فیض کیا۔ حضرت شیخ ثانی صاحب نے بخاری شریف مکمل اور ترمذی ،جلد: اوّل، شیخ الاسلام حضرت مدنی -قدس سرہ- سے پڑھی۔ آپ نے 1368ھ/1949ء میں رسمی تعلیم سے فراغت حاصل کی۔ حضرت شیخ ثانی کو اجازت حدیث، ان کے مذکورہ بالاشیوخ عظام کے ساتھ ساتھ، حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی (1897-1983)، سابق رئیس: دارالعلوم، دیوبند، محدث کبیرحضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی(1900-1992)، حضرت مولانا عبد الغنی پھولپوری (1876-1963) اور برکت العصر حضرت شیخ الحدیث محمد زکریا صاحب (1898-1982) –رحمہم اللہ– سے بھی حاصل تھی۔ آپ حضرت شیخ الحدیث کی مبارک سند سے احادیث مسلسلہ کی اجازت دیتے تھے۔ الحمد للہ، آپ نے ان عظیم المرتبت اساتذہ وشیوخ سے قرآن وحدیث کی تعلیم حاصل کی، جن میں سےہر ایک آفتاب وماہتاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔

نہ تخت وتاج میں نے لشکر وسپاہ میں ہے ٭ جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے

حضرت الاستاذ نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز "مدرسہ مطلع العلوم”، بنارس، یوپی سے کیا۔ اس ادارہ میں آپ نے تقریبا 16/سال تک تدریسی خدمات انجام دی۔ پھر "مدرسہ حسینیہ”، کولڈیہا،گریڈیہہ، جھارکھنڈ (بہار) میں تقریبا 9/مہینے تدریسی خدمات انجام دی۔ حضرت اس مدرسہ کا ذکر کرتے ہوئے کبھی کبھی فرماتے تھے کہ بقدر مدت حمل بہار میں رہ چکا ہوں۔ بہار کے لوگ بہت ہی ادب واحترام سے پیش آتے تھے۔ اس کے بعد، "دارالعلوم”، مئوناتھ بھنجن میں بھی حدیث کی کتابیں آپ کے زیر درس رہی۔ جہاں بھی آپ نے تدریسی خدمات انجام دی، عام طور پر حدیث کی کتابیں آپ سےمتعلق رہیں۔

سن 1982عیسوی میں، آپ کو امّ المدارس دارالعلوم، دیوبند میں علیاء کے استاذ کی حیثیت سے منتخب کیا گيا ۔ آپ نے اس وقت سے اپنی زندگی کے اخیر لمحہ تک اس عظیم ادارے میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ صحیح بخاری، جلد: ثانی اور مشکاۃ شریف کے اسباق آپ سے متعلق تھے۔ آپ بخاری جلد ثانی پڑھانے کی وجہ سے، طلبہ واساتذہ دارالعلوم، دیوبند کے درمیان "شیخ ثانی” سے معروف تھے۔ آپ نے تقریبا34 سال تک دارالعلوم میں، بخاری جیسی حدیث کی عظیم کتاب کا درس دیا۔ اس طرح کل ملا کر ، آپ تقریبا 60/سالوں تک قرآن وحدیث کی خدمت میں مصروف رہے۔ اس دوران ہزاروں طلبہ نے آپ سے پڑھا اور استفادہ کیا۔ آپ کے شاگردوں میں ہزاروں علماء اور فقہاء ومحدثین شامل ہیں؛ جن کو بجا طور پر آپ کا شاگرد ہونے پر فخر ہے۔

آپ کا بخاری شریف کا درس بعد نمازِعشاء ہوتا تھا۔ ترجمان کے ساتھ کچھ طلبہ آپ کو "مسجد چھتہ” سے لانے جاتے تھے۔ چھتہ مسجدکی ہی چھت پر بنے گھر میں، آپ رہتے تھے۔ طلبہ آپ کے اردگرد ہوتے اور آپ ایک ہاتھ میں عصا لیے،دارالحدیث تک بڑے ہی سکون واطمینان سے آتے۔ جو طلبہ آپ کے آتے وقت، آپ کے پیچھےچلتے تھے، ان کو کبھی کبھی منع کرتے کہ آپ میرے پیچھے اس طرح نہ چلیں، یہ سنت نبوی کے خلاف ہے۔ سنا ہے کہ ان دنوں، کمزوری اور ضعف کے سبب حضرت وِیل چیر (Wheelchair) سے اسباق پڑھانے آتے تھے۔ آپ اسباق کے بڑے پابند تھے۔ دیوبند کا موسم سرما ہویا موسم گرما، آپ کو درس گاہ آنا تھا اور سبق پڑھانا تھا۔ یہ ناممکن تھا کہ آپ دیوبند میں ہوں اور سبق نہ پڑھائیں۔ آپ کا بخاری شریف کا سبق عام طور پر تقریبا دو ڈھائی گھنٹے کا ہوتا تھا۔ مگر تعب وتھکان کا احساس تک نہ ہونے دیتے۔

ہاں دکھا دے، اے تصوّر! پھر وہ صبحُ وشام تو ٭ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تو

بندہ راقم الحروف کو شیخ ثانی صاحب کی سب سے پہلی زیارت سن 1997 یا 1998 میں اس وقت ہوئی، جب نیپال کی مرکزی درس گاہ:فیض الاسلام، پَرسا، نیپال کے ایک پروگرام میں شرکت کے لیے تشریف لے جارہے تھے اور راستہ سے گزرتے ہوئے، آپ نے مدرسہ اشرف العلوم، کنہواں، سیتامڑھی کے سابق ناظم: قاری محمد طیّب صاحب –رحمہ اللہ– کے مزار پر فاتحہ خوانی کے لیے تشریف لے گئے۔ اس وقت راقم الحروف اشرف العلوم میں عربی دوم یا عربی سوم کا طالب علم تھا۔ "پرسا” نیپال میں واقع ہے اور کنہواں ہندوستان میں واقع ہے۔ مگر ان دونوں جگہوں کے درمیان صرف چند کلو میٹرس کا فاصلہ ہے؛ لہذا حضرت شیخ صاحب کی زیارت اور ان کی تقریر سننے کے لیے اشرف العلوم کے طلبہ "پرسا”جارہے تھے؛ چناں چہ میں بھی سب کے ساتھ گیا اور شیخ صاحب کی تقریر سے پہلے، ہم سب نے جاکر حضرت سے سلام ومصافحہ کیا۔

جب سن 2000عیسوی میں دارالعلوم، دیوبند میں داخلہ لیا؛ تو پھر اس کے بعد تو حضرت کی زیارت ہوتی ہی رہتی تھی۔ جب بندہ ششم سےترقی کرکے عربی ہفتم میں قدم رکھا؛ تو حضرت سے مشکاۃ شریف پڑھنے کا موقع نصیب ہوا۔ پھر”دورہ حدیث شریف” کے سال، سن 2003 میں، بخاری شریف ، جلد: ثانی، حضرت شیخ صاحب –قدس سرہ– سے پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

کہاں میں اور کہاں یہ نکہت گل ٭ نسیمِ صبح تیری مہربانی

حضرت شیخ تک رسائی حاصل کرنے اور آپ سے ملنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی۔ کوئی بھی شخص کبھی بھی جاکر مل سکتا تھا اور اپنی بات پیش کرسکتا تھا۔ آپ کسی بھی آنے والے کو مایوس نہیں کرتے تھے۔ جب بھی کوئی شخص آپ کے پاس دعوتی واصلاحی پرگرام میں شرکت کی دعوت لے کر آتا، چاہے وہ پروگرام دیہات میں ہورہا ہو یا شہرمیں، اندرون ملک کا پروگرام ہویا بیرون ملک کا، آپ اس کی دعوت قبول کرتے۔ اسی طرح اگر کسی دینی ادارے میں کوئی تقریب ہو، اجلاس ہو، آپ کو دعوت ملتی؛ تو اسے قبول فرماتے اور اپنی شرکت سے نوازتے۔ عام طور پر دوسرے مدارس وجامعات کے ذمے داران حضرات آپ کو افتتاح بخاری شریف اور ختم بخاری شریف کے لیے مدعو کرتے تھے۔ اس طرح آپ نے ہندوستان کے سیکڑوں شہروں، دیہاتوں اور کئی بیرونی ممالک کا اصلاحی ودعوتی دورہ کیا۔ اللہ تعالی نے آپ کی زبان میں بڑا اثردے رکھا تھا۔ آپ نہایت ہی متواضع ومنکسرالمزاج تھے۔ آپ مستجاب الدعوات تھے۔ اللہ تعالی اس امت کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے! آمین!

وہ فاقہ مست ہوں جس راہ سے گزرتا ہوں ٭ سلام کرتا ہے آشوب روزگار مجھے

حضرت شیخ صاحب نے یکے بعد دیگرے تین نکاح کیا۔ پہلی اہلیہ سے ایک لڑکا، جناب عبد الحکیم صاحب اور دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ پہلی اہلیہ کی وفات کے بعد،آپ نےدوسری شادی کی۔ دوسری بیوی سےایک بیٹا، جو بچپن میں ہی انتقال کرگیا اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ دوسری بیوی کی وفات کے بعد، تیسرا نکاح کیا۔ تیسری زوجہ سے پانچ لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی جو سب کے سب حیات سے ہیں۔ اللہ تعالی ان سب کو خوش وخرم رکھے اور ان کو حضرت شیخ صاحب -قدس سرہ- کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے! آمین!

حضرت شیخ صاحب –نور اللہ مرقدہ– عمرکی 88 بہاریں دیکھ چکے تھے۔ آپ پیرانہ سالی کی وجہ سےکمزور ہوگئے تھے۔ بہ روز: جمعہ 30/دسمبر 2016 کو شام میں، آپ کو متلی آئی پھر ناسازئ طبیعت کے شکایت کی۔ آپ کو دیوبند کے ہی ایک ہسپتال میں لے جایا گيا۔ ڈاکٹر نے جانچا اور ایکسرا وغیرہ کے بعد، اطمینان کا اظہار کیا۔ مگر جن کا وقت مقررہ آچکا ہو، اس کو طبیب وحکیم کیا کرسکتا ہے۔ آپ ہسپتال میں ہی مغرب وعشاء کے درمیان آخری سانس لی اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

موت تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے ٭ خواب کے پردے میں بیداری کا ایک پیغام ہے

حضرت شیخ کی نماز جنازہ،31/دسمبر 2016 کو، شام ساڑھے تین بجے دارالعلوم کے احاطۂ دارِجدیدمیں، استاذ محترم حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب –دامت برکاتہم– استاذ حدیث وسابق ناظم تعلیمات دارالعلوم، دیوبند کی امامت میں ادا کی گئی۔ عوام وخواص کی ایک بڑی تعدادنے آپ کے جنازہ میں شرکت کی۔ پھر ہزاروں طلبہ اور علماءنے اپنے کندھوں پر اٹھا کر ، "قبرستان قاسمی” میں ، اللہ تعالی کی امانت، اللہ کے سپرد کردی۔اللہ تعالی آپ کی قبر کو نور سے بھردے! آمین!

آسماں تیری لحد پرشبنم افشانی کرے ٭ سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

٭ ہیڈ: اسلامک اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ

یومِ جشن نہیں یومِ احتساب کہئے اسے۔۔۔

By: Muddassir Ahmad Qasmi

بقدر ضرورت علمِ دین سیکھنے کیلئے نصاب

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ نے ایک سائل کی درخواست پر عوام الناس کیلئے بقدر ضرورت علمِ دین سیکھنے کیلئے درج ذیل نصاب منتخب فرمایا، جو دو حصوں پر مشتمل ہے (ہر کتاب کے ساتھ آن لائن پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت دی گئی ہے):۔

حصہ اوّل:
سچا مسلمان بننے کیلئے ابتدائی ضروری معلومات پر مشتمل کتب یہ ہیں:
1۔حیاۃ المسلمین مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
2۔فروغ الایمان مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے۔۔ ڈانلوڈ کیجیے۔)
3۔تعلیم الدین مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
4۔مردوں کے لیے بہشتی گوہر …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
اور عورتوں کے لیے بہشتی زیور مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
5۔جزاء الاعمال مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
6۔سیرتِ خاتم الانبیاء ﷺ مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
7۔حکایات صحابہ مولانا محمد زکریا رحمہم اللہ …………… یہ رسالہ اکیلا نہیں ملا اور فضائلِ اعمال کے شروع میں یہ موجود ہے اس لیے اُسی کا ربط دیا گیا ہے (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
8۔تاریخ اسلام کامل حضرت مولانا محمد میاں رحمۃ اللہ علیہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
9۔اسوۂ رسول اکرم ﷺ ڈاکٹر عبد الحی عارفی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)

حصہ دوم:
گمراہ ہونے سے بچنے کیلئے دینی معلومات میں وسعت اور استحکام پیدا کرنے کیلئے کتب یہ ہیں:
1۔معارف القرآن مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ……………
(آن لائن پڑھیے: فہرست۔ جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم۔ جلد چہارم۔ جلد پنجم۔ جلد ششم۔ جلد ہفتم۔ جلد ہشتم۔ ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے: فہرست۔ جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم۔ جلد چہارم۔ جلد پنجم۔ جلد ششم۔ جلد ہفتم۔ جلد ہشتم۔)
یا تفسیرِعثمانی مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ ……………
(آن لائن پڑھیے: جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے: جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم)
2۔معارف الحدیث کامل مولانا منظوراحمد نعمانی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے: جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم و چہارم۔ جلد پنجم، ششم و ہفتم۔ جلد ہشتم ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے: جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم و چہارم۔ جلد پنجم، ششم و ہفتم۔ جلد ہشتم)
3۔بہشتی زیور کے مسائل اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈانلوڈ کیجیے)
یا علم الفقہ مولانا عبد الشکور لکھنوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
4۔عقائد اسلام مولانا ادریس کاندہلوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
5۔شریعت و طریقت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)

خصوصیت:۔ ان شاء اللہ ان کتابوں کے مطالعے سے دین کی اتنی ضروری معلومات حاصل ہوجائیں گی کہ ان کے بعد اپنی زندگی بھی سنور جائے اور انسان کسی باطل نظریئے سے گمراہ بھی نہ ہو۔ (مستفاد از فتاویٰ عثمانی:۱؍۱۵۸۔۱۶۰)

بقدر ضرورت علمِ دین سیکھنے کیلئے نصاب

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ نے ایک سائل کی درخواست پر عوام الناس کیلئے بقدر ضرورت علمِ دین سیکھنے کیلئے درج ذیل نصاب منتخب فرمایا، جو دو حصوں پر مشتمل ہے (ہر کتاب کے ساتھ آن لائن پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت دی گئی ہے):۔

حصہ اوّل:
سچا مسلمان بننے کیلئے ابتدائی ضروری معلومات پر مشتمل کتب یہ ہیں:
1۔حیاۃ المسلمین مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
2۔فروغ الایمان مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے۔۔ ڈانلوڈ کیجیے۔)
3۔تعلیم الدین مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
4۔مردوں کے لیے بہشتی گوہر …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
اور عورتوں کے لیے بہشتی زیور مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
5۔جزاء الاعمال مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
6۔سیرتِ خاتم الانبیاء ﷺ مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
7۔حکایات صحابہ مولانا محمد زکریا رحمہم اللہ …………… یہ رسالہ اکیلا نہیں ملا اور فضائلِ اعمال کے شروع میں یہ موجود ہے اس لیے اُسی کا ربط دیا گیا ہے (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
8۔تاریخ اسلام کامل حضرت مولانا محمد میاں رحمۃ اللہ علیہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
9۔اسوۂ رسول اکرم ﷺ ڈاکٹر عبد الحی عارفی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)

حصہ دوم:
گمراہ ہونے سے بچنے کیلئے دینی معلومات میں وسعت اور استحکام پیدا کرنے کیلئے کتب یہ ہیں:
1۔معارف القرآن مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ……………
(آن لائن پڑھیے: فہرست۔ جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم۔ جلد چہارم۔ جلد پنجم۔ جلد ششم۔ جلد ہفتم۔ جلد ہشتم۔ ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے: فہرست۔ جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم۔ جلد چہارم۔ جلد پنجم۔ جلد ششم۔ جلد ہفتم۔ جلد ہشتم۔)
یا تفسیرِعثمانی مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ ……………
(آن لائن پڑھیے: جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے: جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم)
2۔معارف الحدیث کامل مولانا منظوراحمد نعمانی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے: جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم و چہارم۔ جلد پنجم، ششم و ہفتم۔ جلد ہشتم ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے: جلد اوّل۔ جلد دوم۔ جلد سوم و چہارم۔ جلد پنجم، ششم و ہفتم۔ جلد ہشتم)
3۔بہشتی زیور کے مسائل اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈانلوڈ کیجیے)
یا علم الفقہ مولانا عبد الشکور لکھنوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
4۔عقائد اسلام مولانا ادریس کاندہلوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)
5۔شریعت و طریقت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ …………… (آن لائن پڑھیے ۔ ڈاؤن لوڈ کیجئے)

خصوصیت:۔ ان شاء اللہ ان کتابوں کے مطالعے سے دین کی اتنی ضروری معلومات حاصل ہوجائیں گی کہ ان کے بعد اپنی زندگی بھی سنور جائے اور انسان کسی باطل نظریئے سے گمراہ بھی نہ ہو۔ (مستفاد از فتاویٰ عثمانی:۱؍۱۵۸۔۱۶۰)

اسلام کے نظام طلاق، طریقۂ کار اور تین طلاق کے سلسل ہ میں کچھ اہم مضامین

طلاق شرعی رہنمائی (پہلی قسط)
طلاق شرعی رہنمائی (دوسری قسط)
کیاقرآن حکیم سے بیک وقت تین طلاق کا ثبوت نہیں؟
ایک مجلس کی تین طلاق: احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ کی روشنی میں

مسئلہ طلاق: جہالت اور میڈیا کی جانب داری کے تناظر میں

اسلامی معاشرے کے لیے راہِ نجات

تین طلاق کے سلسلہ میں سعودی عرب کی مجلس کبار علماء کا فیصلہ

ملکی قوانین اور مسلم پرسنل لاء

تعلم اللغۃ العربیۃ کے تبصرہ پر تبصرہ

ڈاکٹر مفتی عبید اللہ قاسمی
ہیڈ، عربک ڈیپارٹمنٹ، ذاکر حسین کالج، دہلی

تعلم اللغۃ العربیۃ کے تبصرہ پر تبصرہ
میرے خیال میں کسی کی خوبیوں کو نمایاں کرنے کے لئے دوسروں کی خامیوں کا تذکرہ ضروری نہیں ہوتا ہے بالخصوص جبکہ دوسروں میں وہ خامیاں پائی ہی نہ جاتی ہوں یا کم ازکم ان خامیوں کا خامی ہونا مختلف فیہ ہو. ہندوستان کے مدارس اسلامیہ کا مقصد تعلیمِ علومِ اسلامیہ ہے جس کے لئے عربی زبان و ادب اور بلاغت کی تعلیم ضروری ہوتی ہے۔ یعنی اصل مقصد دینی تعلیم ہوتا ہے اور اس کے حصول کے لئے واسطہ اور means کے طور پر عربی زبان ہوتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف عصری اداروں کے عربی شعبہ جات میں اصل مقصد عربی کی تعلیم ہوتی ہے. دونوں قسم کے اداروں کے عربی کی تدریس کے تئیں مختلف مقاصد کے پیشِ نظر دونوں کو ایک ہی کسوٹی پر پرکھنا ذرا غیر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس کے باوجود پریکٹیکلی دیکھا یہ گیا ہے کہ ہندوستان کے مدارسِ دینیہ کے فارغین تو باوجود عربی زبان کے مقصد نہ ہونے کے عربی زبان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے جاتے ہیں جبکہ عصری یونیورسٹیوں کے عربی شعبہ جات کے فارغین باوجود بڑی سہولیات اور بڑی تنخواہوں کے اس کا عشرِ عشیر بھی عربی میں نہیں کرپاتے اور جو تھوڑا بہت کر بھی لیتے ہیں وہ اولاً مدارس کے ہی فارغین ہوتے ہیں۔ خالص عصری اداروں کے فارغین میں سے میری معلومات کے مطابق اتنے بڑے ملک میں کوئی بھی فارغ تاہنوز کوئی قابلِ ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکا ہے. اس کے باوجود عصری اداروں کی عربی تدریس کے مقابلے میں دینی مدارس کی عربی تدریس پر تنقید کرنا, اسے نتیجہ خیزی میں کمتر گرداننا اور بیک ورڈ سمجھ بیٹھنا سمجھ سے بالاتر محسوس ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی عصری یونیورسٹیوں کے عربی شعبوں کے لئے یہ دینی مدارس ہی آکسیجن کا کام کرتے ہیں۔ اگر مدارس کے فارغین وہاں داخلہ نہ لیں تو یہ سارے شعبے اپنا وجود کھو بیٹھینگے. البتہ دینی مدارس کی عربی تدریس میں جزوی ترمیم کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ ان کا ہدفِ اصلی رسوخ في العلوم الإسلامية ہوتا ہے اور اس رسوخ کے لئے عربی کا جو نصاب بہتر طور پر معاون ہوسکتا ہے وہ نصاب ان مدارس میں رائج ہے. ان مدارس میں اکیڈمک عربی پڑھائی جاتی ہے اور Arabic for Specific Purpose پر فوکس ہوتا ہے نہ کہ Conversational یا Market oriented Arabic پر.

یہ حقیقت ہے کہ یہ مدارس بحمد اللہ اپنے مقصد میں کامیاب ہیں. ان مدارس پر یہ الزام لگانا کہ وہاں کے فارغین کو تحریر و تقریر تو آتی ہے مگر عربی بول چال نہیں آتی اور اسے مدارس کی ناقص نتیجہ خیزی قرار دینا باعثِ استعجاب ہے۔ واضح رہے کہ عربی بول چال عربی بول چال سے آتی ہے اور اس کے لیے ماحول زیادہ معاون ہوتا ہے. ایک عربی سے ناخواندہ جاہل عربی ممالک میں مزدوری کے لیے جاتا ہے اور وہاں چند مہینے یا سال گذارنے کے بعد فراٹے دار عربی بولنے لگتا ہے مگر وہی عربی بول چال کا ماہر شخص ہر نماز میں پڑھی جانیوالی سورہ فاتحہ حتی کہ بسم الله الرحمن الرحيم کا مفہوم بھی نہیں بتاسکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں مدارس کی عربی تدریس کے تجزییے یا تنقید کرتے وقت اس کے مقصدِ حقیقی کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

جہاں تک رہی بات عربی کی تدریسی کتابوں کا انگریزی کی نئی تدریسی کتابوں کے مطابق ہونے کی بہتریت کی تو میری رائے اس سے مختلف ہے۔ میرے ناقص علم کے مطابق انگریزی کی پرانی گرامر کی کتابیں مثلاً
Wren & Martin
لاطینی زبان کے طرز پر لکھی گئی ہیں جن میں قواعد, تعریف اور مثالیں دی گئی ہیں. جبکہ نئے طرز کی کتابوں میں مشق پر بہت زیادہ زور ہے اور گرامر ندارد یا آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہ طرزِ نصاب direct method کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ یہ طریقہ یقیناً بہت اچھا اور فطری ہے مگر اس میں وقت بھی فطری یعنی تین گنا یا چار گنا لگتا ہے۔ یعنی پانچ سال کی مدت کی بجائے پندرہ سال کی مدت طے کرنی ہوگی جو ناقابلِ عمل ہے۔ اس نہج کی کتابیں انگریزی ممالک کے لئے تو مفید ہیں مگر غیر انگریزی ممالک کے لئے مفید نہیں ہیں. ہندوستان جیسے غیر انگریزی ممالک کے لئے تیز رفتاری سے انگریزی سیکھنے کا طریقہ وہی پرانا لاطینی اور ٹرانسلیشن میتھڈ والا ہے کیونکہ یہاں انگریزی بول چال کا وہ ماحول نہیں ہے۔ اکسفورڈ یونیورسٹی پریس یا کیمبرج یونیورسٹی پریس کی گرامری کتابیں اسی نئی نوعیت کی ہیں. وہاں کی شائع شدہ بہت ساری کتابوں پر
For learners of English Language as a Second Language
لکھا ہوا رہتا ہے مگر میری سمجھ کے مطابق یہ تجارتی مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہوتا ہے کہ انگریزی ممالک کے انگریزی ٹیچرز کو ہی hire کیا جائے اور ان کو زیادہ سے زیادہ ملازمت مل سکے کیونکہ وہ لوگ Translation method پر قادر نہیں ہیں.
دوسری بات یہ ہے کہ عربی گرامر نہایت جامع, سائنٹفک اور استیعابی ہے, مستثنیات بہت کم ہیں. اس کے برعکس انگریزی زبان کا گرامر غیر سائنٹفک ہے اور مستثنیات کی بھر مار ہے جس کی وجہ سے کوئی قاعدہ پڑھ لینے کے بعد گارنٹی نہیں دی جاسکتی کہ اب اس پڑھنے والے کی انگریزی اس قاعدہ سے متعلق بالکل صحیح ہوجائے گی جب تک وہ بکھرے ہوئے سینکڑوں متعلقہ مستثنیات کا علم بھی حاصل نہ کرلے. جبکہ عربی زبان کے قواعد اپنے محتویات کو پورے طور پر شامل ہوتے ہیں اور انہیں حاصل کرکے انہیں اپلائی کرنے پر غلطی کا امکان بہت نادر رہتا ہے۔ اور شاید اسی وجہ سے عربی زبان کے گرامر پر مدارس میں زیادہ زور دیاجاتا ہے۔ لہٰذا میرے خیال میں عربی کی گرامری کتابوں کا اکسفورڈ یونیورسٹی پریس یا کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع شدہ انگریزی کی گرامری کتابوں کے طرز پر ہونا مفید نہیں بلکہ مضر ہے کیونکہ دونوں زبانوں کے گرامر کے احوال بالکل مختلف ہیں.

کتاب کا نام تعلم اللغة العربية للأطفال کی بجائے اللغة العربية للأطفال مجھے زیادہ موزوں محسوس ہورہا ہے کہ یہ زیادہ چست معلوم ہوتا ہے نیز اس وجہ سے بھی کہ قاری جب پڑھتے ہوئے تعلم اللغة العربية تک پہنچتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ لفظ تعلم صیغۂ امر ہے اور اللغة العربية منصوب ہے پھر جب آگے للأطفال پر نظر پڑتی ہے تو وہ اپنی غلطی پر جھینپ جاتا ہے اور اب اسے پتہ چلتا ہے کہ جسے امر سمجھا تھا وہ مصدر نکلا اور اللغة العربية مجرور ہے۔

بہر کیف, کتاب پر تبصرہ زوردار اور بھر پور ہے, زبان وبیان دلکش اور ساحرانہ ہے۔ ہندوستان جیسے عجم میں عربی زبان کی قحط سالی اور ناقدری کے ماحول میں عربی زبان کی خدمت کرنا اور کتابوں پر تبصرے لکھنا کوہ کنی سے کم نہیں ہے. دعاء ہے کہ اللہ تعالی مصنف کو اور تبصرہ نگار دونوں کو خوب خوب اجر سے نوازے, قلم میں مزید طاقت عطا کرے اور ہم سب کو اپنے دینِ متین کی خدمت کے لئے قبول فرمائے!

Tabsera Book.pdf