خشوع وخضوع والی نماز

مولانا محمد نجیب سنبھلی قاسمی، ریاض
(najeebqasmi)

قیام، قرآن کی تلاوت، رکوع، سجدہ اور قعدہ وغیرہ نماز کا جسم ہیں اور اسکی روح خشوع وخضوع ہے۔ چونکہ جسم بغیر روح کے بے حیثیت ہوتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ نمازوں کو اس طرح ادا کریں کہ جسم کے تمام اعضاء کی یکسوئی کے ساتھ دل کی یکسوئی بھی ہو تاکہ ہماری نمازیں روح یعنی خشوع وخضوع کے ساتھ ادا ہوں۔ دل کی یکسوئی یہ ہے کہ نماز کی حالت میں بہ قصد خیالات ووساوس سے دل کو محفوظ رکھیں اور اللہ کی عظمت وجلال کا نقش اپنے دل پر بٹھانے کی کوشش کریں۔ جسم کے اعضاء کی یکسوئی یہ ہے کہ اِدھر اُدھر نہ دیکھیں، بالوں اور کپڑوں کو سنوارنے میں نہ لگیں بلکہ خوف وخشیت اور عاجزی وفروتنی کی ایسی کیفیت طاری کریں جیسے عام طور پربادشاہ کے سامنے ہوتی ہے۔
قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں نماز کو خشوع وخضوع اور اطمینان وسکون کے ساتھ ادا کرنے کی بار بار تعلیم دی گئی ہے کیونکہ اصل نماز وہی ہے جو خشوع وخضوع اور اطمینان وسکون کے ساتھ ادا کی جائے اور ایسی ہی نماز پر اللہ تعالیٰ انسان کو دنیا اور آخرت کی کامیابی عطا فرماتے ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل قرآن کریم کی آیات اور احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے:
یقینا وہ ایمان والے کامیاب ہوگئے جن کی نمازوں میں خشوع ہے۔ (سورہٴ الموٴمنون ۱، ۲)
صبر اور نماز کے ذریعہ مدد حاصل کیا کرو۔ بیشک وہ نماز بہت دشوار ہے مگر جن کے دلوں میں خشوع ہے ان پر کچھ بھی دشوار نہیں۔ ( البقرہ ۴۵)
تمام نمازوں کی خاص طور پر درمیان والی نماز (یعنی عصر کی) پابندی کیا کرو اور اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہا کرو۔ (سورہٴ البقرہ ۲۴۸)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: جب اقامت سنو تو پورے وقار، اطمینان اور سکون سے چل کر نماز کے لئے آؤ اور جلدی نہ کرو۔ جتنی نماز پالو پڑھ لو اور جو رہ جائے وہ بعد میں پوری کرلو۔ (صحیح بخاری )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے۔ ایک اور صاحب بھی مسجد میں آئے اور نماز پڑھی پھر (رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کے پاس آئے اور) رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: جاؤ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ گئے اور جیسے نماز پہلے پڑھی تھی ویسے ہی نماز پڑھکر آئے، پھررسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو آکر سلام کیا۔ آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس طرح تین مرتبہ ہوا۔ اُن صاحب نے عرض کیا: اُس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے نماز سکھائیے۔ آپ صلی اللہ وعلیہ وسلمنے ارشاد فرمایا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھرقرآن مجید میں سے جو کچھ پڑھ سکتے ہو پڑھو۔ پھر رکوع میں جاؤ تو اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے کھڑے ہو تو اطمینان سے کھڑے ہو، پھر سجدہ میں جاؤ تو اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سجدہ سے اٹھو تو اطمینان سے بیٹھو۔ یہ سب کام اپنی پوری نماز میں کرو۔ (صحیح بخاری)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جو مسلمان بھی فرض نماز کا وقت آنے پر اسکے لئے اچھی طرح وضو کرتاہے پھر خوب خشوع کے ساتھ نماز پڑھتا ہے جسمیں رکوع بھی اچھی طرح کرتا ہے تو جب تک کوئی کبیرہ (بڑا) گناہ نہ کرے یہ نماز اس کے لئے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور یہ فضیلت ہمیشہ کے لئے ہے۔ (صحیح مسلم)

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرتاہے پھر دو رکعت اس طرح پڑھتا ہے کہ دل نماز کی طرف متوجہ رہے اور اعضاء میں بھی سکون ہو تو اسکے لئے یقینا جنت واجب ہوجاتی ہے۔ (ابوداوٴد)

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ بندہ کی طرف اس وقت تک توجہ فرماتے ہیں جب تک وہ نماز میں کسی اور طرف متوجہ نہ ہو۔ جب بندہ اپنی توجہ نماز سے ہٹالیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی توجہ ہٹالیتے ہیں۔ (نسائی)

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بدترین چوری کرنے والا شخص وہ ہے جو نماز میں سے چوری کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نماز میں کس طرح چوری کرے گا؟ آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کا رکوع اور سجدہ اچھی طرح سے ادا نہ کرنا۔ ( غرض اطمینان و سکون کے بغیر نماز ادا کرنے کو نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم نے بدترین چوری قرار دیا)۔ (مسند احمد، طبرانی)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: آدمی نماز سے فارغ ہوتا ہے اور اس کے لئے ثواب کا دسواں حصہ لکھا جاتا ہے، اسی طرح بعض کے لئے نواں حصہ، بعض کے لئے آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھائی، تہائی، آدھا حصہ لکھا جاتا ہے۔ (ابوداوٴد، نسائی، صحیح ابن حبان)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کی نماز کی طرف دیکھتے ہی نہیں جو رکوع اور سجدہ کے درمیان یعنی قومہ میں اپنی کمر کو سیدھا نہ کرے۔ (مسند احمد)

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھاجو رکوع اور سجدہ کو پوری طرح سے ادا نہیں کررہا تھا۔ جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوگیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اگر تو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مرگیا تو محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم کے دین کے بغیر مرے گا۔ (بخاری)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمانے لگے کہ میں تم لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ نماز میں گھوڑے کی دُم کی طرح اپنے ہاتھ اٹھاتے ہو۔ نماز میں سکون اختیار کرو۔ (مسلم)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ وعلیہ وسلم نے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا، اور نیز اس بات کا حکم فرمایا کہ نماز میں کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں۔ (بخاری، مسلم)

حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے منع فرمایا کوّے کی طرح ٹھونگے مارنے سے (یعنی جلدی جلدی نماز پڑھنے سے) اور درندہ کی کھال بچھاکر نماز پڑھنے سے اور اس سے کہ کوئی شخص مسجد میں نماز کی کوئی خاص جگہ مقرر کرلے جیسے کہ اونٹ (اپنے اصطبل) میں ایک خاص جگہ مقرر کرلیتاہے۔ (مسند احمد، ابوداوٴد، نسائی، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جس چیز کا علم لوگوں سے اٹھا لیا جائیگا وہ خشوع کا علم ہے۔ عنقریب مسجد میں بہت سے لوگ آئیں گے، تم ان میں ایک شخص کو بھی خشوع والا نہ پاؤگے۔ (ترمذی)

نماز میں خشوع وخضوع پیدا کرنے کا طریقہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان بآواز ہوا خارج کرتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سنے پھر جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو وہ واپس آجاتا ہے۔ جب اقامت کہی جاتی ہے تو وہ پھر بھاگ جاتا ہے اور اقامت پوری ہونے کے بعد پھر واپس آجاتا ہے تاکہ نمازی کے دل میں وسوسہ ڈالے۔ چنانچہ نمازی سے کہتا ہے یہ بات یاد کر اور یہ بات یاد کر۔ ایسی ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جو باتیں نمازی کو نماز سے پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ نمازی کو یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں ہوئیں۔ (مسلم۔ باب فضل الاذان )
شیطان کی پہلی کوشش مسلمان کو نماز سے ہی دور رکھنا ہے کیونکہ نماز اللہ کی اطاعت کے تمام کاموں میں سب سے افضل عمل ہے۔ لیکن جب اللہ کا بندہ‘ شیطان کی تمام کوششوں کو ناکام بناکر اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ محبوب عمل نماز کو شروع کردیتا ہے تو پھر وہ نماز کی روح یعنی خشوع وخضوع سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے، چنانچہ وہ نماز میں مختلف دنیاوی امور کو یاد دلاکر نماز کی روح سے غافل کرتا ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔ لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ایسے اسباب اختیار کرے کہ جن سے نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا ہوں ۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں نماز میں خشوع وخضوع پیدا کرنے کے چند اسباب ذکر کئے جارہے ہیں۔ اگر ان مذکورہ اسباب کو اختیار کیا جائیگا تو انشاء اللہ شیاطین سے حفاظت رہے گی اور ہماری نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا ہوں گی۔

نماز شروع کرنے سے پہلے:

۱) جب مؤذن کی آواز کان میں پڑے تو دنیاوی مشاغل کو ترک کرکے اذان کے کلمات کا جواب دیں اور اذان کے اختتام پر نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم پر درود پڑھکر اذان کے بعد کی دعا پڑھیں۔
۲) پیشاب وغیرہ کی ضروریات سے فارغ ہوجائیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم کا فرمان ہے: کھانے کی موجودگی میں(اگر واقعی بھوک لگی ہو) نماز نہ پڑھی جائے اور نہ ہی اس حالت میں جب پیشاب پائخانہ کا شدید تقاضہ ہو۔ (صحیح مسلم)
۳) بسم اللہ پڑھکر سنت کے مطابق اس یقین کے ساتھ وضو کریں کہ ہر عضو سے آخری قطرے کے گرنے کے ساتھ اس عضو کے ذریعہ کئے جانے والے صغائر گناہ بھی معاف ہورہے ہیں اور وضو کی وجہ سے اعضاء قیامت کے دن روشن اور چمکدار ہوں گے جن سے تمام نبیوں کے سردار حضرت محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم اپنے امت کے افراد کی شناخت فرمائیں گے۔
۴) صاف ستھرہ لباس پہن لیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (یَا بَنِی آدَمَ خُذُوا زِینَتَکُم عِندَ کُلِّ مَسجِد) اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت ایسا لباس زیبِ تن کرلیا کرو جسمیں ستر پوشی کے ساتھ زیبائش بھی ہو۔ (سورہٴ الاعراف ۳۱) نیز نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک وتعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ (مسلم)
﴿وضاحت﴾: تنگ لباس ہرگز استعمال نہ کریں، احادیث میں تنگ لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔ نیز مرد حضرات پائجامہ یا کوئی دوسرا لباس ٹخنوں سے نیچے نہ پہنیں ، احادیث میں ٹخنوں سے نیچے پائجامہ وغیرہ پہننے والوں کے لئے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
۵) جو چیزیں نماز میں اللہ کی یاد سے غافل کریں، ان کو نماز سے قبل ہی دور کردیں۔
۶) اپنی وسعت کے مطابق سخت سردی اور سخت گرمی سے بچاؤ کے اسباب اختیار کریں۔
۷) شور وغل کی جگہ نماز پڑھنے سے حتی الامکان بچیں۔
۸) مرد حضرات فرض نماز جماعت کے ساتھ مسجدوں میں اور مستورات گھر میں ادا کریں۔
۹) صرف حلال روزی پر اکتفا کریں اگرچہ بظاہر کم ہی کیوں نہ ہو ۔
۱۰) نماز میں خشوع وخضوع پیدا ہوجائے ، اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہیں۔

نماز شروع کرنے کے بعد:
۱) نہایت ادب واحترام کے ساتھ اپنی عاجزی وفروتنی اور اللہ جلّ شانہ کی بڑائی، عظمت اور علو شان کا اقرار کرتے ہوئے دونوں ہاتھ اٹھاکر زبان سے اللہ اکبر کہیں، دل سے یقین کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی بڑا ہے اور وہی جی لگانے کے لائق ہے اس کے علاوہ ساری دنیا حقیر اور چھوٹی ہے، اور دنیا سے بے تعلق ہوکر اپنی تمام تر توجہ صرف اسی ذات کی طرف کریں جس نے ہمیں ایک ناپاک قطرے سے پیدا فرماکر خوبصورت انسان بنادیا اور مرنے کے بعد اسی کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی اس دنیاوی زندگی کا حساب دینا ہے۔
۲) ثنا، سورہٴ فاتحہ، سورہ، رکوع وسجدہ کی تسبیحات، جلسہ وقومہ کی دعائیں، التحیات، نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم پر درود اور دعاؤں وغیرہ کو سمجھ کر اور غور وفکر کرتے ہوئے اطمینان کے ساتھ پڑھیں، اگر تدبر وتفکر نہیں کرسکتے تو کم از کم اتنا معلوم ہو کہ نماز کے کس رکن میں ہیں اور کیا پڑھ رہے ہیں۔
۳) اس یقین کے ساتھ نماز پڑھیں کہ نماز میں اللہ جلّ شانہ سے مناجات ہوتی ہے جیسا کہ حضرت انس کی حدیث میں گزرا ۔ نیز دوسری حدیث میں ہے کہ سورہ ٴفاتحہ کی تلاوت کے دوران اللہ تبارک و تعالیٰ ہر آیت کے اختتام پر بندہ سے مخاطب ہوتا ہے۔
۴) اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں، نیز بالوں اور کپڑوں کو سنوارنے میں نہ لگیں۔
۵) سجدہ کے وقت یہ یقین ہو کہ میں اس وقت اللہ کے بہت زیادہ قریب ہوں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا: بندہ نماز کے دوران سجدہ کی حالت میں اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ (مسلم)
۶) نماز کے تمام ارکان واعمال کو اطمینان اور سکون کے ساتھ ادا کریں۔
۷) نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز ادا کریں۔
۸) نماز میں خشوع وخضوع کی کوشش کے باوجود اگر بلا ارادہ دھیان کسی اور طرف چلا جائے تو خیال آتے ہی فوراً نماز کی طرف توجہ کریں۔ اس طرح بلا ارادہ کسی طرف دھیان چلا جانا نماز میں نقصان دہ نہیں ہے (انشاء اللہ) ، لیکن حتی الامکان کوشش کریں کہ نماز میں دھیان کسی اور طرف نہ جائے۔
﴿وضاحت﴾: نماز میں خشوع وخضوع پیدا کرنے کے لئے کثرت سے اللہ کے ذکر کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے اس لئے صبح وشام پابندی سے اللہ کا ذکر کرتے رہیں کیونکہ ذکر شیطان کو دفع کرتا ہے اور اس کی قوت کو توڑتا ہے نیز دل کو گناہوں کے زنگ سے صاف کرتا ہے۔

اہم گزارش: نماز میں خشوع وخضوع پیدا کرنے اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے اہم اور بنیادی شرط اخلاص ہے کیونکہ اعمال کی قبولیت کا انحصار نیت اور ارادہ پر ہوتا ہے جیسا کہ بخاری شریف کی پہلی حدیث میں ہے: اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے، ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔۔۔ لہذا نماز کی ادائیگی سے خواہ فرض ہو یا نفل صرف اللہ جل شانہ کی رضامندی مطلوب ہو۔ دوسروں کو دکھانے کے لئے نماز نہ پڑھیں کیونکہ دوسروں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھنے کو احادیث میں فتنہٴ دجال سے بھی بڑا فتنہ اور شرک قرار دیا ہے۔

  1. حضرت ابو سعید خدری  فرماتے ہیں کہ ہم لوگ مسیح دجال کا ذکر کررہے تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہیں دجال کے فتنے سے زیادہ خطرناک بات سے آگاہ نہ کردوں؟ ہم نے عرض کیا : ضرور۔ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا: شرکِ خفی‘ دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نماز کے لئے کھڑا ہو اور نماز کو اس لئے لمبا کرے کہ کوئی آدمی اسے دیکھ رہا ہے۔ (ابن ماجہ ۔ باب الریاء والسمعہ)
  2. حضرت شداد بن اوس  فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دکھاوے کی نماز پڑھی اس نے شرک کیا۔ (مسند احمد ۔ج ۴، ص۱۲۵)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنے والا بنائے۔ آمین۔ ثم آمین۔

اسلام اور تعمیر شخصیت

از: مولانا محمداللہ خلیلی قاسمی

اسلام سے پہلے کے عرب کی تاریخ جو کچھ دستیاب ہے، اس سے عرب کی مجموعی سیاسی و سماجی اور اخلاقی و معاشرتی صورت حال کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔ اس وقت کی ترقی یافتہ قومیں عربوں کو نہایت جاہل، اجڈ اور گنوار سمجھتی تھیں۔ شام و یمن کے کچھ شمالی و جنوبی علاقوں کو چھوڑ کر پورا جزیرہ نمائے عرب کا صحرائی علاقہ دنیا کے فاتحین و حکمرانوں کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پوری معلوم تاریخ میں عرب کے علاقہ میں نہ کوئی باقاعدہ سیاسی نظام قائم ہوا اور نہ کسی سیاسی طاقت نے عربوں کو اپنے زیر نگیں رکھنے کی کوشش کی۔

شاید عرب وہ قوم تھی جسے اللہ نے تکوینی طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ عرب کے سنگلاخ اور صحرائی علاقوں میں آباد کرایا اور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی عَلَم برداری کے لیے ان کو تیار کیا۔ یہی وجہ رہی کہ وہ فطری ماحول میں پرورش پاتے رہے اور ان کے اندر فطری صلاحتیں بدرجہٴ اتم موجود رہیں۔ نہ کسی سیاسی نظام نے ان کو متاثر کیا اور نہ کسی ثقافتی یلغار نے ان کی فطری صلاحیتوں کو گدلا کیا۔

عرب اپنے قدرتی اور فطری انداز میں زندگی گزار رہے تھے ۔ ان کی اس فطری اور آزاد زندگی میں جہاں کچھ قدرتی حسن موجود تھا ، ان کے اندر شجاعت و بہادری ، جرأت وبے باکی، سخاوت و فیاضی، غیرت و حمیت اور فصاحت و بلاغت، جیسے اوصاف موجود تھے، وہیں ان کے اندر اخلاق و کردار کی بہت ساری برائیاں بھی پیدا ہوگئی تھیں۔ ان کی شجاعت و بہادری کو صحیح رخ نہ ملنے سے ان کے اندر بے جا قتل و قتال ، خانہ جنگی اور قبائلی عصبیت کی قباحتیں پیدا ہوگئی تھیں ۔ ایسی ہی قبائلی عصبیت کی خونیں لڑائیاں بہت ہی معمولی باتوں پر چھڑ جاتی تھیں اور پشُتہا پشت چلتی تھیں۔ حرب بسوس ، حرب داجس اور حرب بعاث وغیرہ جیسی تقریباً سوا سو مشہور جنگوں میں ایسی کوئی جنگ نہیں ملتی جو کسی معقول اور اہم سبب کی بناء پر شروع ہوئی ہو۔

عربوں میں بے جا غیرت و حمیت کی وجہ سے بعض قبائل میں لڑکیوں کے قتل اور زندہ در گور کرنے کی وبا درآئی تھی۔ فصاحت و بلاغت کی اعلیٰ صلاحیت کو کسی تعمیری و اخلاقی پہلو میں استعمال کرنے کے بجائے وہ باہمی قبائلی منافست اور فخر وریا حتی کہ جنگ و جدال میں صرف کیا کرتے تھے۔ ان کی شعر و شاعری کی ساری توانائیاں فخر و مباہات میں صرف ہورہی تھیں۔ زبان و بیان کی ساری زور آزمائی کا محور ذاتی و قبائلی بڑائی تھا۔ ان کی نگاہوں کے سامنے ان کی ساری زندگی کا کوئی بڑا تعمیری مقصد نظر نہیں آتا جس کے لیے وہ اپنی فطری اعلی صلاحیتوں کو استعمال کرتے۔ فطری اور آزاد ماحول میں پرورش کی وجہ سے ان کے اندر اطاعت حق کا جوہر موجود تھا، لیکن ملت براہیمی کے صحیح خد وخال کے مٹ جانے کی وجہ سے ان کے اندر شرک و بت پرستی سرایت کر گئی تھی، یہی ان کی سب سے بڑی بیماری بن گئی۔ شرک و مظاہر پرستی نے ان کی قوت فکری کو مفلوج کرکے رکھ دیا اور وہ اپنے نفس اور قبیلہ سے اوپر اٹھ کر کچھ اور سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہ گئے تھے۔

اسلام کی کردار سازی اور تعمیر شخصیت

اسلام نے سب سے پہلے عربوں کی اسی کمزوری کو نشانہ بنایا۔ شرک و بت پرستی کو سب سے بڑا جرم قرار دیا گیااور توحید کو تمام نیکیوں اور اچھائیوں کی اساس قرار دیا گیا۔ توحید سے عربوں کے فکری جمود کاپتھر چکنا چور ہوگیا۔اسلام کی دعوت توحید نے عربوں کے بے جان لاشہ میں حرکت و اضطراب اور جہد و عمل کی خوشگوار روح پھونک دی، جس سے ان کی خوابیدہ صلاحیتوں میں زندگی کی توانائیاں دوڑ گئیں۔اس طرح اسلام نے عربوں کو خواب غفلت سے بیدار کر کے مردم سازی کی بے نظیر تاریخ پیش کی ۔ اس نے غلاموں کو شہنشاہ، بوریہ نشینوں کو حاکم و مدبر اور وحشیوں کو اعلیٰ ترین تہذیب وتمدن کا علم بردار بنا دیا۔

عربوں میں بہت سی ایسی قابل قدر صفات موجود تھیں، جن کا وہ صحیح استعمال نہیں کرتے تھے۔ وہ جنگ جو واقع ہوئے تھے، ان کی صحرائی اور غیرتمدنی زندگی کا تقاضہ بھی یہی تھا ۔ جنگ ان کے لیے ایک ضرورت سے زیادہ تفریح اور دل بستگی کا سامان تھی۔ بہادری ان کے محل سرا کی کنیز تھی؛لیکن وہ جنگ کا غلط استعمال کرتے تھے، قبیلہ اور وطن کے نام پر لڑتے تھے۔ اسلام نے انھیں اعلاء کلمة اللہ اور اشاعتِ حق کے جذبہ سے لڑنے کا سبق دیا۔

وہ نہایت حق گو، بے باک، فیاض، تیز فہم اور عہد کے پکے تھے؛ مگر ان کے یہ اوصاف حمیدہ غلط رخ پر محو سفر تھے۔ قرآن نے آکر ان کی خرابیوں کو اچھائیوں سے بدل دیا اور اچھی صفات کو صحیح سمت پر ڈال دیا۔ اسلام نے اس طرح ان کو متحرک کیا کہ وہ دنیا کے اندھیروں کو ختم کرنے والے اور ہر طرف اجالا پھیلانے والے بن گئے، ان سے لوگوں کو رہ نمائی ملی۔ یہ اسلامی انقلاب کا تعمیری مرحلہ تھا۔

ان کی زندگی کا کوئی مقصد اور مطمح نظر نہ تھا۔ عربوں نے قرآن پڑھ کر اس میں عظیم ترین سچائی کو پالیا۔ قرآن نے ان کے سامنے اعلی مقصد آخرت کو پیش کیا؛ چنانچہ وہ ان کے لیے حقائق کی دریافت کا ذریعہ بن گیا۔ اسلام نے ان کے ذہن کے بند دروازوں کوکھول دیا۔ ان کے سینوں میں حوصلوں کے چشمے جاری کردیے۔ اسلام نے ان کی سوچ کی سطح کو بدل دیا اور اسی کے ساتھ کردار و عمل کے معیار کو بھی اونچا کردیا۔ اہل ایمان کو اسلام کا عطا کردہ مقصدِ حیات اتنا عظیم تھا کہ اس کی حد کہیں ختم نہیں ہوئی؛ اس لیے ان کی ذات سے ایسے کارنامے ظاہر ہوئے جو کسی حد پر بھی رکنا نہیں جانتے تھے۔ اسلام نے ان کے ذہن کو جگا کر اس کے اندر سوچ کی بے پناہ محبت بھردی ۔

اسلام کی معجزاتی تاثیر نے ہی اخلاق و اقدار سے بیگانہ عرب قوم کو تہذیب اور اعلی اخلاق کا آئیڈیل بنادیا۔ درس گاہ قرآنی کے اولین فضلاء یعنی صحابہ دین و اخلاق اور سیاست و قوت کے مکمل پیکر تھے۔ ان میں انسانیت کی اپنے تمام گوشوں، شعبوں اور محاسن کے ساتھ نمود تھی۔ ان کی اعلی روحانی تربیت، بے مثال اعتدال، غیر معمولی جامعیت اور وسیع عقل کی بنا پر ان کے لیے ممکن ہوا کہ وہ انسانی گروہ کی بہتر طور پر اخلاقی اور روحانی قیادت کرسکیں۔ ان کے اعلی اخلاقی نمونے معیار کا کام دیتے تھے اور ان کی اخلاقی تعلیمات عام زندگی اور نظام حکومت کے لیے میزان کا درجہ رکھتی تھیں۔ ان میں فرد وجماعت کا تعلق حیرت انگیز طور پر روادارانہ اور برادرانہ تھا۔ وہ ایک معیاری دور تھا جس میں عدل و انصاف، صدق و سادگی، خلوص ووفا اور محبت و الفت کی خوشگوار ہوائیں چلتی تھیں۔ اس سے زیادہ ترقی یافتہ دور کا انسان خواب نہیں دیکھ سکتا اور اس سے زیادہ مبارک و پُر بہار زمانہ فرض نہیں کیا جاسکتا۔

حضرات صحابہ کے حیرت انگیز انقلابی کارنامے

یہ اسلام کے عظیم الشان انقلابی پیغام کا کرشمہ تھا کہ صحابہٴ کرام کا ایک ایسا منتخب طبقہ دنیا میں پیدا ہوا جن کی نظیر روئے زمین پر کبھی موجود نہیں رہی۔ تمام انبیاء و رسل اور فلاسفہ و مفکرین میں یہ فخر صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے ۔ دیگر بڑے بڑے انبیاء و رسل اور فلاسفہ و مفکرین کو اس کا عشر عشیر بھی نہیں ملا۔ تعداد کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے مذہب عیسائیت کے رہ نما حضرت عیسی (علیہ السلام) کو صرف چند حواری ملے، ان میں ایک ایسا بھی تھا جس نے دشمنوں سے خود ان کی مخبری کردی اور عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق ان کو صلیب پر چڑھا دیا گیا۔ حضرت موسی علیہ السلام کے اصحاب بنو اسرائیل نے میدان جنگ میں انھیں ٹکا سا جواب دیدیا کہ تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو ، اور ہم یہیں بیٹھے ہیں۔

اس کے برعکس اسلام کی بے مثال انقلابی تعلیمات سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جاں نثار پیروکاروں کی ایک جماعت میسرہوئی جس نے آپ سے محبت و تعلق کا حق ادا کیا اور آپ کے مشن کو آگے بڑھایا۔ حضرات صحابہ کے اندر وہ تمام صفات و کمالات بدرجہ اتم پیداہوئیں جن کی اس مشن کی تکمیل کے لیے ضرورت تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جو قوم میسر آئی وہ جانبازی و جاں نثاری، قدسی صفات، اعلی انسانی اخلاقی، بلند کرداری اور شاندار فطری صلاحتیوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔ پوری انسانی تاریخ میں ایسی عظیم الشان جماعت روئے زمین پر نہیں پائی گئی، اپنی تعداد کے اعتبار سے بھی اور اپنی گوناگوں خوبیوں اور خصوصیات کے اعتبار سے بھی۔ تاریخ عرب کا مشہور مصنف پروفیسر ’فلپ کے حتی ‘ (Philip K Hitti) اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کے انتقال کے بعد عرب کی بنجر زمین گویا جادو کے ذریعہ ہیروٴں کی نرسری میں تبدیل ہوگئی۔ ایسے ہیرو کہ اتنی تعداد اور ان جیسی صفات کا حامل کہیں اور پایا جانا بہت مشکل ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

After the death of the Prophet, the sterile Arabia seems to have been converted as if by magic into a nursery of heroes the like of whom both in number and quality is hard to find anywhere. (Philip K Hitti, History of Arabs, 142)

حضرات صحابہ کی جاہلیت اور اسلام کی زندگی پر اگر نظر ڈالی جائے، تو معلوم ہوگا کہ ایام جاہلیت میں تمام اکابر صحابہ جن کی کوئی امتیازی شناخت نہیں تھی اور جو عام انسانوں کی طرح سمجھے جاتے تھے؛ لیکن قبول اسلام کے بعد ان کے اندر علم و عمل کی بے پناہ قوت ودیعت کردی گئی ۔ ان میں سے کتنے اسلام کے وسیع و عریض امپائر کے حکمراں ہوئے۔ کوئی مشہور عالم فوجی جرنیل، کوئی نامی گرامی فاتح، کوئی اولوالعزم اور طالع آزما مجاہد، کوئی میدان علم و تقوی کا شہسوار اور کوئی اعلی انسانی اخلاق کا پیکر۔ ایک ایک صحابی کی زندگی کا ورق اٹھا کردیکھ لیجیے کہ ان کی زندگی میں کتنے ہمہ گیر انقلابات آئے اور اسلام نے ان کی خوابیدہ فطری صلاحتیوں کو جگا کر انھیں کہاں سے کہاں پہنچادیا اور ان کا نام رہتی دنیا تک کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ گیا۔ رضی اللہ عنہم وارضاہم ۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہٴ خلافت میں (۱۸ھ میں ) شام کے محاذ پر مسلمان فوج میں طاعون کی وبا پھیل گئی جو تاریخ میں طاعون عمواس کے نام سے مشہور ہے۔ علامہ شبلی نعمانی نے اپنی شہرہٴ آفاق اور معیاری تصنیف ”الفاروق“ میں لکھا ہے کہ پچیس ہزار مسلم فوج اس وبا کا نشانہ بن گئی ، ورنہ پچیس ہزار کی یہ جیالی فوج آدھی دنیا فتح کرنے کے لیے کافی ہوسکتی تھی۔

اسلام کی آفاقی تعلیمات نے شخصیات کی تعمیر اور کردار سازی میں جو انقلابی رول ادا کیا ہے وہ تاریخ کے ہر دور کاایک نمایاں باب ہے۔ اسلام نے خدا جانے کتنے لوگوں کی زندگی کی کایا پلٹ دی اور نہ جانے کتنے دلوں میں ہلچل مچادی۔ اسلام کی پوری تاریخ عبقری شخصیات سے پُر ہے۔ علم و اخلاق، فکر وفلسفہ اور سیاست و حکومت کے ہر میدان میں ایسی بے شمار عالمی شخصیات پیداہوئیں جن کی نظیر کسی اور مذہب میں مل ہی نہیں سکتی ۔ حضرات صحابہ کے بعد تابعین اور بعد کے ادوار میں عالم اسلام کے اندر کتنے عباقرہ ، اکابر علماء و زعماء، محدثین و مفسرین اور مشہور عالم شخصیات پیدا ہوئیں یہ یقینا اسلام کی انھیں انقلابی تعلیمات کی پیدوار تھیں۔ ان کی زندگی میں حرکت وعمل کی انقلاب آفریں روح تھی جو اسلام نے ہی ان میں پھونکی تھی اور ان کی زندگی میں جس رفتار سے برقی لہر دوڑرہی تھی اس کی سپلائی اسلام ہی کے پاور ہاؤس سے ہورہی تھی۔

پوری اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب جب مسلمانوں نے خود کو اسلام کی انقلاب آفریں تعلیمات سے مکمل طور ہم آہنگ کیا ہے ان میں اسی طرح کی انقلابی روح پیدا ہوئی ہے اور ان سے حیرت انگیر انقلابی کارنامے وجود میں آئے ہیں۔ زوال و ادبار کا جو طوفانِ بلاخیز اس وقت مسلمانوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، اس کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔ کاش یہ عظیم حقیقت ہمیں دریافت ہوجاتی کہ ہماری کامیابی کی کنجی مغرب کی خیرہ کن تہذیب میں نہیں؛ بلکہ ان سادہ اسلامی تعلیمات میں ہے جس کا ایک علم بردار (حضرت ربعی بن عامر) رستم ایران کے زرق برق ایوان کے قالینوں اور غالیچوں کو نیزہ کی نوک سے چھیدتے ہوئے پہنچا اور یہ اعلان کیا کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد انسانوں کو دنیا کی تنگی سے کشادگی کی طرف اور باطل مذاہب کی بے اعتدالیوں سے اسلام کے عدل کی طرف لانا ہے۔ (الکامل فی التاریخ)

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی

نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہہ و بالا

اسلام جس طرح کل مسلمانوں کی عظمت و رفعت کا ضامن تھا ، اسی طرح آج بھی ہے، اس میں وہ قوت ہے کہ مسلم قوم کو ذلت و نکبت کے گڑھے سے نکال کر کامیابی و ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردے۔

***

(ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 8-9 ‏، جلد: 96 ‏، رمضان-ذیقعدہ 1433 ہجری مطابق اگست-ستمبر 2012ء)

فتویٰ– ماضی اور حال کے تناظر میں

                                مولانا محمداللہ قاسمی، دیوبند

”فقہ“ علوم اسلامیہ میں سب سے زیادہ وسیع اور دقیق علم ہے۔ یہ ایک طرف قرآن و علوم قرآن ، حدیث و متعلقات حدیث، اقوال صحابہ، اجتہادات فقہاء ، جزئیات و فروع ، مرجوح و غیر مرجوح اور امت کی واقعی ضروریات کے ادراک کے ساتھ زمانے کے بدلتے حالات کے تناظر میں دین کی روح کو ملحوظ رکھ کر تطبیق دینے کا نام ہے۔ دوسری طرف فقہ ایسا علم ہے جو طہارت و نظافت کے جزوی مسائل سے لے کر عبادات، معاملات، معاشرت، آداب و اخلاق اور ان تمام امور کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، جن کا تعلق حلال و حرام اور اباحت و حرمت سے ہے۔
فتاوی کا میدان فقہ سے زیادہ وسیع ہے؛ اس لیے کہ فتاوی میں ایمانیات و عقائد، فرق وملل، تاریخ و سیرت، تصوف و سلوک، اخلاق و آداب، عبادات و معاملات، معاشرت و سیاسیات کے ساتھ قدیم و جدید مسائل کا حل، اصولی و فروعی مسائل کی تشریح و تطبیق وغیرہ جیسے امور بھی شامل ہوتے ہیں ۔

فتوی کیا ہے؟
فتوی کے لغوی معنی ہیں: کسی سوال کا جواب دینا، سوال خواہ شرعی یا غیر شرعی ؛ لیکن بعد میں فتوی شرعی حکم معلوم کرنے کے معنی میں خاص ہوگیا۔ قرآن و حدیث میں فتوی، افتاء، استفتاء کے الفاظ متعدد مواقع پر وارد ہوئے ہیں۔ قرآن پاک میں سورہ یوسف آیت نمبر ۴۱، ۴۲، ۴۳ ، سورہ نمل آیت نمبر ۲۷ میں یہ الفاظ مطلق جواب حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں، جب کہ سورئہ نساء آیت نمبر ۱۲، ۱۷۶میں شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے اس کا استعمال ہوا ہے۔ مسند احمد کی حدیث 17313 (الاثم ما حَاکَ فِي صَدْرِکَ وَانْ أَفْتَاکَ الناسُ عنہ) اور مسند دارمی کی حدیث159 (أَجْرَوٴُکُمْ عَلی الْفُتْیَا أَجْرَوٴُکم عَلی النارِ)میں بھی فتوی کا لفظ مذکور ہے۔

شریعت کی اصطلاح میں زندگی کے کسی بھی شعبہ سے متعلق پیش آمدہ مسائل میں دینی رہنمائی کا نام فتویٰ ہے، بالفاظِ دیگر کسی بھی مسلمان کو کوئی مشکل مسئلہ درپیش ہو تو اس کے استفسار پر قرآن و حدیث اور ان سے اخذ کیے ہوئے اصول و تشریحات کی روشنی میں علمائے دین اور مفتیانِ کرام جو حکمِ شرعی بتاتے ہیں،اسی کا نام فتوی ہے۔

فتوی کسی عالم یا مفتی کی ذاتی رائے کا نام نہیں کہ جس پر عمل کرنا ضروری نہ ہو؛ بلکہ فتوی قرآن و سنت کی تشریح کا نام ہے ،جو ایک مسلمان کے لیے واجب العمل اور لائقِ تقلید ہے۔

فتوی کا تاریخی پس منظر
دورِ رسالت مآب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود مفتی الثقلین تھے اور منصبِ افتاء پر فائز تھے۔ آپ وحی کے ذریعہ اللہ تعالی کی طرف سے فتوی دیا کرتے تھے۔ آپ کے فتاوی (احادیث) کا مجموعہ ، شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا ماخذ ہے۔ ہر مسلمان کے لیے اس پر عمل ضروری ہے اور اس سے سرِ مو انحراف کی اجازت نہیں۔آپ نے فتاوی کے ذریعہ ہر باب میں رہ نمائی کی ہے۔ عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاقیات و آداب وغیرہ میں آپ کے فتاوی مشعلِ راہ ہیں۔ آپ کے عہدِ زریں میں کوئی دوسرا فتوی دینے والا نہیں تھا؛ البتہ آپ کبھی کبھی کسی صحابی کو کسی دور دراز علاقہ میں مفتی بنا کر بھیجتے تو وہ منصب افتاء و قضا پر فائز ہوتے اور لوگوں کی رہ نمائی کرتے۔ جیسے حضرت معاذ بن جبل کو آپ نے یمن بھیجااور انھیں قرآن و حدیث اور قیاس و اجتہاد کے ذریعہ فتوی دینے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

آپ کے بعد فتوی کی ذمہ داری کو صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے سنبھالا اور احسن طریقے سے انجام دیا۔ حضرات صحابہ کرام میں جو فتوی دیا کرتے تھے، اس کی مجموعی تعداد ایک سوتیس سے بھی زائد ہے ، جن میں مرد بھی شامل ہیں اور عورتیں بھی؛ البتہ زیادہ فتوی دینے والے سات تھے: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ۔

اس کے بعد تعلیم و تربیت اور فقہ و فتوی کا سلسلہ حضرات صحابہ کے شاگردوں نے سنبھالا اور دل و جان سے اس کی حفاظت کر کے اسے اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔ صحابہٴ کرام کے زمانے میں فتوحات ہوئیں ، اسی وجہ سے وہ دور دراز علاقوں میں پھیل گئے؛چناں چہ ہر جگہ ان کے شاگرد تیار ہوئے۔ مدینہ میں حضرات سعید بن المسیب، عروة بن زبیر، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، قاسم بن محمد، سلیمان بن یسار، خارجہ بن زید ، ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رحمہم اللہ تعالی۔ ان حضرات کو فقہائے مدینہ یا فقہائے سبعہ کہا جاتا تھا۔ مکہ مکرمہ میں عطاء بن ابی رباح، عبد الملک بن جریج، علی بن ابی طلحہ ۔ کوفہ میں ابراہیم نخعی، علقمہ، عامر بن شراحیل شعبی، بصرہ میں حسن بصری، یمن میں طاؤس بن کیسان، شام میں مکحول وغیرہ (رحمہم اللہ رحمة واسعة) ۔ ان حضرات کے فتاوی مصنفات، سنن اور مسندات وغیرہ میں موجود ہیں۔

امام ابوحنیفہ تابعین میں سے ہیں۔ آپ کی پیدائش کے وقت متعدد صحابہٴ کرام کوفہ میں موجود تھے۔ آپ نے آٹھ صحابہ سے روایت بھی فرمائی۔ (رد المحتار 1:149) آپ استنباطِ مسائل میں حد درجہ احتیاط فرماتے تھے۔ آپ کے پاس علمائے کرام کی ایک جماعت جمع ہوتی اور اس میں ہر فن کے ماہرین ہوتے تھے، جو اپنے علم و فن میں کا مل رسوخ کے ساتھ خدا ترسی، فرض شناسی وغیرہ اوصاف حمیدہ سے متصف تھے۔ خود امام صاحب اس جماعت کے صدر کی حیثیت سے شریک ہوتے۔ کوئی مسئلہ پیش آتا تو سب مل کر بحث و مباحثہ اور غور و خوض کرتے۔ جب سب علماء ایک بات پر متفق ہوجاتے تو امام ابو حنیفہ اپنے تلمیذِ خاص امام ابویوسف کو حکم دیتے کہ اس کو فلاں باب میں لکھ لو۔ اللہ تعالی نے آپ کو ایسے لائق شاگرد عطا فرمائے کہ جنھوں نے آپ کے علوم کو دنیا کے چاروں اطراف میں پھیلادیا۔ علامہ شامی کی تحقیق کے مطابق یہ تعداد چار ہزار تک ہے؛ چناں چہ خلفائے عباسیہ کے دور سے لے کر گذشتہ صدی کے شروع ہونے تک اکثر اسلامی ممالک میں فقہِ حنفی قانونی شکل میں نافذ و رائج رہا۔

ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کے زوال اور برطانوی آبادکاروں کے تسلط کے بعد فتوی کا کام دینی مدارس کی طرف منتقل ہوگیا اوراب یہ کام دینی مدارس کے ذریعہ ہی انجام پارہا ہے۔ دینی مدارس نے فقہ و فتوی کی اس عظیم ذمہ داری نہات احسن طریقے سے نبھائی۔ فقہ و فتوی کے سلسلے میں مدارس کے علماء و مفتیان کرام خصوصاً حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت مولانا خلیل احمد سہارن پوری، حضرت مفتی عزیز الرحمن عثمانی، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی،حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی، حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہم اللہ نے فقہ و فتوی کے سلسلے میں عظیم الشان خدمات انجام دیں اور ان حضرات کے فتاوی اور فقہی رہ نمائی نے مسلمانان برصغیر؛ بلکہ عالم اسلام تک کو فائدہ پہنچایا۔

فتوی اور مفتی کی اہمیت و ذمہ داری
ہرمسلمان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ قطعی حکم ملا ہے کہ اپنے قول و عمل (جس کو وہ انجام دینا چاہتا ہے) کے متعلق اگر اسے نہیں معلوم کہ خدائی قانون (شریعت) کہاں تک اس کی اجازت دیتا ہے، اور اجازت کی صورت میں اس کے کیا حدود و شرائط ہیں تو اپنے عقلی گھوڑے دوڑانے کے بجائے اس کے لیے لازم ہے کہ قانونِ الٰہی کے ان واقف کاروں و تجربہ کاروں سے رجوع کرے جن کومسلم سماج میں اعتماد حاصل ہے، ان سے اپنے مسئلہ کی نوعیت بتلاکر حکمِ شرعی معلوم کرلے جس کو ”استفتاء“ کہتے ہیں۔

قرآن کریم میں (سورة النساء 59 اور 83) اولو الامر کی طرف مراجعت اور ان کی اطاعت کو واجب اور ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ایک تفسیر کے مطابق اولو الامر سے مراد حضرات علماء و فقہاء ہیں۔ علامہ ابوبکر جصاص نے حضرات جابر بن عبد اللہ، عبد اللہ بن عباس وغیرہم سے نقل کیا ہے کہ اولوا الامر سے مراد علماء و فقہاء ہیں۔ (احکام القرآن 2:210)

اسی طرح بعض دیگر آیات سے بھی علماء کی اتباع اور شرعی احکام کو معلوم کرنے کے لیے ان کی طرف مراجعت کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ہے: فَاسْاَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن ”سو پوچھو یاد رکھنے والوں سے اگر تم کو معلوم نہیں“ (سورة النحل43)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيّ ”اور راہ چل اس کی جو رجوع ہوا میری طرف“ (سورة لقمان 15)

لہٰذا ان آیات کی روشنی میں علمائے کرام نے لکھا ہے کہ عام مسلمان پر ضروری ہے کہ جب کسی معاملہ میں دینی رہ نمائی مطلوب ہوتو حکمِ خداوندی معلوم کرنے کے لیے مفتیانِ کرام کی طرف رجوع کریں؛ جیسا کہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم درپیش دینی معاملات میں حضرت نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتے تھے اور جس طرح حضرات صحابہ کے زمانہ میں دیگر صحابہ و تابعین فقہائے صحابہ سے دینی مسائل میں رہ نمائی حاصل کرتے تھے۔

فتوی دینے کا منصب بہت اہم اور نازک ہے۔ فقہائے کرام اور مفتیان عظام کی وہ جماعت جنھوں نے خود کو استنباطِ احکام، استخراجِ مسائل کے لیے مختص کیا اور حلال و حرام کو معلوم کرنے کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کیے ، وہ انبیائے کرام کے حقیقی وارث ہیں۔ (العُلَمَاءُ وَرَثَةُ الأنبِیَاءِ۔ ترمذی 2:97)

فتویٰ دینے کے کچھ اصول و ضوابط ہیں، جن کی روشنی میں مرکزی دینی مدارس اور جامعات میں باقاعدہ تخصص کرایا جاتاہے۔ فتویٰ دینے کے لیے عملی مشق کرائی جاتی ہے، اور جب تک تخصص کرانے والے اساتذہ کو تخصص کرنے والوں کی صلاحیت پر اعتماد نہیں ہوجاتا، افتاء کی سند نہیں دی جاتی۔ مفتی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں متقی، پرہیزگار اور شریعت کا پابند ہو، ہرقابلِ ذکر مدرسہ فتویٰ دینے کے لیے ایسے ہی عالم کاانتخاب کرتا ہے، جو مذکورہ بالا صفات کا حامل ہوتا ہے۔ مفتی جو کچھ بھی فتویٰ دیتا ہے، اس میں پوری دیانت ملحوظ رکھتا ہے، وہ بحیثیت نائبِ رسول حکم شرعی کی نشاندہی کرنے والا ہوتا ہے۔ مفتی فتویٰ صادر کرکے کوئی نیا قانون نہیں بناتا، نہ وہ اس کی ذاتی رائے ہوتی ہے؛ بلکہ وہ تو صرف قانون اسلامی کی مقرر دفعہ کو بتلاتا ہے یا وضاحت کرتا ہے جو دفعات اپنے موقع پر کتب فقہ وفتاویٰ میں قرآن وحدیث سے ثابت ہوتی ہے؛ اس لیے اسلام کے جس قانون کو مفتی بتلاتا ہے، اس کا قرآن وحدیث اور کتبِ فقہ سے ثابت ہونا کافی ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص مستند فتوے پر طعن کرتا ہے تو درحقیقت وہ قانونِ اسلام کو نشانہ بنارہا ہے۔

فتوی اور میڈیا
عصرِ حاضر میں فتوی ہماری قومی اور عالمی میڈیا کا ایک اہم عنوان بن گیا ہے۔بسا اوقات میڈیا میں شائع ہونے والے فتاوی کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے یا اس سے غلط اور بے بنیاد نتائج نکالے جاتے ہیں اور اس طرح فتوی کا اصل مفہوم خبروں کی بھیڑ میں کھوجاتا ہے اور اس سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں میڈیا کو یہ بات محسوس کرنی چاہیے کہ فتوی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آج منظرِ عام پر آیا ہے ؛بلکہ وہ فقہ اسلامی کی کوئی دفعہ ہے جو ہمیشہ سے مسلم اور منقح ہے۔ فتوی کوئی شاہی فرمان بھی نہیں کہ ہر کس و ناکس سے اس پر جبری طور پر عمل کروایا جائے۔ فتوی در اصل کسی شخص کے خاص معاملہ میں حکم شرعی دریافت کیے جانے کے وقت اس معاملے کے حکم شرعی سے آگاہ کرنے کا نام ہے۔ اس کا تعلق براہ راست اس شخص سے ہوتا ہے جو سوال کرتا ہے، فتوی کے ذریعہ اس شخص کی رہ نمائی کردی جاتی ہے۔

میڈیا میں شائع ہونے والے فتاویٰ سے عام طور یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ یہ نیا فتوی اور فرمان ہے جو حال ہی میں جاری ہوا ہے ۔ اس سے عموماً یہ تاثر پھیلتا ہے کہ اب تک اسلام یا مسلمانوں کے یہاں اس سلسلے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی؛ لیکن اب یہ کام منع ہے ۔ جب کہ حقیقتِ واقعہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ فتوی کے ذریعہ اسلام کے ہمیشہ سے طے شدہ مسلمہ مسائل کی کسی دفعہ کو سامنے لایا جاتا ہے اور وہ کسی بھی معنی میں کوئی نیا معاملہ نہیں ہوتا۔

تیسری بات یہ ہے کہ اگر میڈیا کسی فتوی کو شائع ہی کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کی دیانت وامانت کا تقاضہ ہے کہ پورا فتویٰ من وعن مع سوال وجواب اور فتویٰ نمبر کے حوالے کے ساتھ پبلک کے سامنے پیش کرے۔ میڈیا کو سوال وجواب کے الفاظ میں تصرف کرنا یعنی کمی بیشی کرنا، تقدیم وتاخیر کرکے الٹ پلٹ کرنا، اپنے طورپر اس کا مفہوم متعین کرکے اپنے الفاظ میں پیش کرنا ہرگز درست نہیں؛ کیونکہ یہ خیانت ہے؛ بلکہ سوال وجواب کا پورا متن بعینہ شائع کرنا چاہیے ۔ اسی طرح کبھی کسی گفتگو یا موبائل پر بات چیت کو فتوی کے عنوان سے شائع کردیا جاتا ہے ، یہ بھی سراسر اصول صحافت سے انحراف اور زیادتی ہے۔

اس سلسلے میں خصوصاً مسلمانوں کو چند باتیں ذہن میں ضرور رکھنی چاہئیں۔ میڈیا میں شائع ہونے والے ہر فتوی کو آنکھ بند کر کے صحیح اور مستند تسلیم نہیں کرنا چاہیے؛ بلکہ جب تک پورا فتوی مع حوالہ سوال و جواب سامنے نہ آجائے یا متعلقہ ادارہ کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی وضاحت نہ آجائے ، اس وقت تک اس سلسلے میں کوئی رائے زنی یا تبصرہ نہیں کرنا چاہیے ۔ پورا فتوی یا اس کی وضاحت سامنے آجانے کے بعد جب کہ وہ مسئلہ قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کی روشنی میں ثابت و مسلم ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ بر سرِ عام اس فتوی کو تنقید کا نشانہ بنائے اور مفتیانِ کرام یا اسلامی ادارہ کو طعن و تشنیع کرے۔ ہاں ! کسی علمی و اجتہادی مسئلہ میں علمی اختلاف کا حق ان علماء و مفتیان کو ضرور ہے جو علم و اجتہاد کی ان شرائط کو پورا کرتے ہوں۔
###