مولانا علاٶالدین قریشی پیپاڑوی جودھپوریؒ شاگرد علّ امہ انور شاہ کشمیریؒ

محمدعارف جیسلمیری
مقیم لدھیانہ پنجاب

پیپاڑ یہ راجستھان کے معروف صنعتی شہر جودھپور کے مضافات میں واقع ہے اور اس شہر کو گزشتہ ایک ڈیڑھ صدی سے یہ عظیم شرف حاصل ہے کہ دیوبندی المسلک متبحر علماء اور ان کے تربیت یافتہ صحیح العقیدہ تجارت پیشہ لوگ یہاں تشریف لاتے رہے ہیں۔

حافظ عبدالھادی تھانوی ثم جودھپوریؒ کے والد ماجد کسب معاش کی غرض سے آج سے تقریباً نوے سال پہلے پیپاڑ وارد ہوے تھے۔اس سے بہت پہلے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ،سیٹھ شیخ غلام محمد صاحبؒ کی دعوت و تحریک پر چند ایک مرتبہ سرزمینِ پیپاڑ کو اپنے قدومِ میمنت لزوم سے رونق بخش چکے تھے۔

مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ جن کا ذکرِخیر اس تحریر کا موضوع ہے اور جو اپنے کارناموں اور حاصل شدہ علمی و روحانی نسبتوں کے تناظر میں ہمارے صوبے کی ایک مثالی شخصیت ہیں،وہ بھی ایسے ہی ایک خانوادے کے فرد تھے،جس کی اسلام اور پیغمرِاسلام کے ساتھ گہری وابستگی رہی تھی اور جس کا اصل آباٸی وطن شہر ”قنوّج“ تھا،جو اس وقت یوپی کا معروف ضلع ہے اور سیاسی لحاظ سے جسے کافی حساس گردانا جاتا ہے۔قنّوج میں ایک زمانے تک راجاٶں کی حکمرانی رہی تھی،ایسے ہی ایک راجہ نے،جو خاندانی طور پر غیرمسلم تھا، مذھبِ اسلام قبول کر لیا تھا۔مولانا علاٶالدین صاحبؒ کا چندیل خاندان اسی راجہ کی نسل سے ہے۔اس خانوادے کے کسی بزرگ نے نامعلوم اسباب کے تحت پیپاڑ کو اپنا مسکن بنایا اور اس طرح اس خاندان کی ایک شاخ مستقل طور پر یہاں آباد ہوٸی۔اس خاندان کی دینِ متین کے ساتھ مضبوط و مستحکم وابستگی نے یہاں کے قدیم مسلم باشندوں کے عقاٸد و اعمال پر بڑے اچھے اثرات مرتب کیے اور اسی خانوادے کے فرد مولانا علاٶالدین صاحبؒ کو،بانیِ دارالعلوم پوکرن مولانا محمد عالم صاحب گومٹویؒ کے بعد،علاقے بھر میں دوسرا دیوبندی عالمِ دین ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔وذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء

متفرق صوبہ جات اور بالخصوص یوپی سے تشریف لانے والے علماء ہوں یا ان کے دست گرفتہ صحیح الفکر عام لوگ،ان کی یہ آمد اھالیانِ جودھپور و پیپاڑ کے حق میں نعمتِ غیرمترقبہ ثابت ہوٸی اور جہالت و ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کسی حدتک حق و اھلِ حق کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام پاتا رہا اور اسی مخالف ماحول میں بدعات کی جانب راغب کرنے والے خاندانی و ظاہری تمام تر اسباب و وسائل کے علی الرغم علماۓ دیوبند اور اور ان کے قاٸم فرمودہ مراکز و مدارس سے انہیں انس پیدا ہوا اور یہی قرب و انس آگے چل کر اصلاحِ اعمال کا ذریعہ بنا۔ایسے خوش نصیب مقامی لوگ اگرچہ معدودے چند ہی تھے؛لیکن ان کی خدمات کسی جماعت و تنظیم سے کیا کم ہوگی۔

اپنے عہد کے ولی کامل حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوریؒ کی حضرت والا تھانویؒ تک رساٸی بھی انھیں افراد کی رھینِ منت ہے،جو حضرت تھانویؒ کے واقف کار اور ان کی کتب و مواعظ سے استفادہ کرنے والے تھے اور جن کا وطنی تعلق بھی مغربی یوپی سے تھا۔

غرض اکابر کے ورود مسعود اور کچھ جلیل القدر علماء کے مستقل و عارضی قیام کی برکت سے خیالات میں صالح تبدیلی کے حسیں دور کا آغاز ہوا۔حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوریؒ اور حاجی سیٹھ غلام محمد صاحبؒ ایسے کچھ نصیب بندگانِ خدا نے حضرت والا تھانویؒ سے ذاتی اصلاح کے ساتھ اپنی اولاد و احفاد اور اعزہ و متعلقین کو دینی تعلیم دلوانے کا خصوصی اھتمام فرمایا۔

مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ بڑے باتوفیق رجل رشید تھے،انہیں ابتداء ہی سے حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوریؒ اور حاجی سیٹھ غلام محمد صاحب سے عقیدت و محبت کا تعلق تھا،جب تک یہ دونوں بزرگ حیات تھے،مولانا مرحوم نے ان کی خدمت میں حاضری کا سلسلہ برقرار رکھا۔حاجی عبدالغفور صاحبؒ کے احترام میں اس نسبت کا خاص دخل تھا،جو انہیں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے حاصل تھی۔جہاں تک حاجی غلام محمد صاحبؒ کا تعلق ہے،تو وہ تو ان کے سرپرست کے درجے میں تھے، انہوں نے ہی پہلے پہل مولانا علاٶالدین صاحبؒ کو تحصیلِ علم کی جانب راغب فرمایا تھا اور مولانا احمداللہ صاحب مدظلہم کی روایت کے مطابق حاجی غلام محمد صاحبؒ نے ہی مولانا علاٶالدین صاحبؒ کا سارا تعلیمی خرچ بھی اٹھایا تھا۔

حاجی غلام صاحبؒ کو باری عزاسمہ نے دین و علمِ دین کی نسبت پر خرچ کرنے کی سعادت سے نوازا تھا۔پیپاڑ شہر کی قدیمی عیدگاہ،اچھے خاصے رقبے پر مشتمل قبرستان اور جامعہ مدینة العلوم؛یہ سب حاجی غلام محمد صاحبؒ کے جذبۂ انفاق فی سبیل اللہ کا مظہر ہیں۔یہ بزرگ پیپاڑ ہی کے قبرستان میں مدفون ہیں؛جب کہ ان کی اولاد تقسیم کے موقع پر پاکستان ہجرت کر گٸی۔

حاجی غلام محمد صاحب مرحوم کے قاٸم فرمودہ اس ادارے ”مدرسہ مدینة العلوم پیپاڑ“ میں کسی زمانے میں عربی کتب کی تدریس کا نظم بھی قاٸم تھا،لکھنٶ کے چندایک علماءایک زمانے تک اس مدرسے میں مدرس رہے اور مولانا شفیق صاحب قریشی مدظلہم کے بیان کے مطابق ”تقسیمِ ھندوپاک سے پہلے،مولانامنظور احمد صاحب نعمانیؒ کے کوٸی عزیز بھی یہاں تدریسی خدمت پر مامور رہے تھے“۔ مولانا شفیق صاحب مدظلہم نے اس حقیر کو دورانِ گفتگو یہ بھی بتایا کہ ”١٩٧٣یا ٧٤ عیسوی میں،انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے کتب خانے میں،درجہ موقوف علیہ کی کچھ کتابیں دیکھی تھیں،جن پر ”مدینہ العلوم پیپاڑ“ کی مہر ثبت تھی۔تقسیم ھندوپاک کے معاً بعد ہی یہ ادارہ حالات سے دوچار ہوا اور اسی موقع پر بعض سلیم الفطرت و دوراندیش منتظمین نے،مدرسے کی کتابیں کتب خانہ دارالعلوم دیوبند کے حوالے کرنے کا فیصلہ فرمایا۔آج کل یہ مدرسہ مکتب کی شکل میں قاٸم ہے اور اپنے تابناک ماضی کی جانب لوٹنے کے لیے پھر سے کسی حاجی غلام محمد کا منتظر ہے۔خدا کرے کوٸی مردِخدا اس جانب متوجہ ہو اور اس کی سابقہ روایات اور اختصاصات وامتیازات پھر سے بہ حال ہوں۔

مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ کی اردو دینیات اور فارسی و عربی کی ابتداٸی تعلیم پیپاڑ کے اسی ادارے میں ہوٸی۔مدینة العلوم میں جاری نصابِ تعلیم کی تکمیل کے بعد،عربی کے منتہی درجات کی تعلیم کے لیے آپ عازمِ دیوبند ہوے۔یہ اس عہد کی بات ہے،جب علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ،صاحبِ فتح الملہم شیخ الاسلام مولانا شبیراحمد صاحب عثمانیؒ،سلسلہ چشتیہ مجددیہ کے فقیہ النفس بزرگ اور دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کی خشتِ اول مفتی عزیزالرحمٰن صاحب عثمانیؒ،عارف باللہ مولانا سیداصغر حسین صاحبؒ،شیخ الادب و الفقہ مولانا اعزار علی امروھوی صاحبؒ،مولانا حبیب الرحمٰن صاحب عثمانیؒ اور صاحبِ معارف القرآن مفتی محمد شفیع صاحب عثمانیؒ ایسے ربانی علماء وہاں مصروفِ تدریس تھے۔

معلوم تاریخ کے مطابق مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ مغربی راجستھان کے پہلے سعادت مند شخص ہیں،جنہوں نے تحصیلِ علم کی غرض سے دارالعلوم دیوبند کا سفر کیا اور اس دور کی جلیل القدر علمی و روحانی شخصیات سے خوب خوب کسبِ فیض کیا۔علاقے کے مخصوص حالات اور جہالت و گم راہی کی محیطِ عام فضا ان کے پیشِ نظر تھی،دارالعلوم کے اس شہرۂ آفاق علمی سرچشمے سے سیرابی حاصل کرنے والے اپنے خطے کے پہلے فرد ہونے کی حیثیت سے،میدانِ عمل کی ذمے داریوں سے بھی وہ بہ خوبی واقف و آگاہ تھے،اس لیے انہوں نے دارالعلوم کے قیام کو غنیمت جانا اور جاں فشانی و تن دہی کے ساتھ تحصیلِ علم کا سفر طے فرمایا۔دارالعلوم دیوبند و مدینة العلوم پیپاڑ کے مخلص اساتذہ کی توجہات،دعاٶں اور خود اپنی جہدِمسلسل کی بہ دولت،انہوں نے چند ہی سالوں میں دارالعلوم میں اپنی پہچان بنا لی تھی اور اس عہد کے دارالعلوم کے کبار علماء و مفتیان کی جانب سے آپ کے علم و تحقیق پر اطمینان کا اظہار ہوا۔مولانا مرحوم کی فراغت کے بعد ایک دفعہ جودھپور کے کسی صاحب نے دارالعلوم کے دارالافتاء میں استفتاء داخل کیا،تو وہاں سے جوابِ استفتاء کے ساتھ ہی مستفتی اور اس کی وساطت سے باشندگانِ مغربی راجستھان سے کہا گیا کہ”آپ کے ہاں علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے لاٸق و فاٸق شاگرد اور ایک معتمد و مستند عالمِ دین مولانا علاٶالدین صاحبؒ موجود ہیں۔روزمرہ پیش آمدہ فقہی مساٸل کے حل کے حوالے سے ان کا پایہ کافی بلند ہے؛لہذا وقتاً فوقتاً ان کے یہاں حاضرِ خدمت ہوکراپنے مساٸل کا حل کرا لینا مناسب ہے ۔“ یہ اس دور کی عام قدریں تھیں۔چھوٹوں کی حوصلہ افزاٸی اور ان کے معمولی و غیرمعمولی کارناموں پر مسرت و شادمانی کا اظہار بڑوں کا ایک طرح سے وطیرہ و شعار تھا۔

واقعہ یہ ہے کہ مولانا علاٶالدین صاحبؒ وقت کی قدر کرنے والے دارالعلوم دیوبند کے مایۂ ناز شاگرد تھے،اور پھر جو نسبتیں ان کا نصیبہ بنیں،مغربی راجستھان کی حد تک تو وہی ان نسبتوں کے خاتم بھی ٹھہرے۔مولانا مرحوم کے بعد،دارالعلوم دیوبند میں تعلیمی دورانیہ طے کرنے والے مولانا دوست محمدصاحبؒ مہتمم اول دارالعلوم پوکرن،مولانا حسن صاحب،مولانا حسین صاحب متوطن حاجی خاں کی ڈھانی پوکرن وغیرہ حضرات ہیں اور ان حضرات کے داخلۂ دارالعلوم کے وقت وہ اکثر شخصیات دارالعلوم سے مستعفی ہو چکی تھیں،جن کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرنے کا شرف مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ کو حاصل ہوا تھا۔

دارالعلوم دیوبند کے دو تین سالہ دورِ طالب علمی میں، مولانا علاٶالدین صاحب مرحوم نے اپنے جملہ اساتذہ سے خادمانہ تعلق برقرار رکھا اور سب ہی کے یہاں وقتاً فوقتاً حاضری دیتے رہے؛لیکن آپؒ کی عقیدت و محبت کا اصل مرکز،خاتم الفقہا ٕ والمحدثین علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی ذاتِ اقدس تھی،جن کی درسی و علمی مجالس میں شرکت آپؒ کی عادتِ ثانیہ تھی،انہیں علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ کے درس میں عبارت خوانی کے مواقع خوب حاصل ہوے،شاہ صاحبؒ کے درس میں عبارت خوانی کا یہ شرف اس بات کا غماز ہے کہ مولانا علاٶالدین صاحبؒ کو باری عزاسمہ نے،ان کی کوششوں میں خاطرخواہ کام یابی عطا فرماٸی تھی اور انہوں نے وقت کے ایک ایسے عظیم اور مثالی شیخ و محدث کا اعتماد حاصل کیا تھا،جن کے قوت حافظہ و تبحرعلمی کا شہرہ غیرمنقسم ھندوستان،عرب،ایران،عراق،افغانستان،چین،مصر،جنوبی افریقہ،انڈونیشیا اور ملاٸشیا وغیرہ کٸی ممالک تک ممتد تھا۔ شاہ صاحب کا قرب و اعتماد ان کے جن جن تلامذہ کو حاصل ہوا،لا ریب میدانِ عمل میں ان سے لاٸقِ رشک دینی و علمی اور قومی و ملی خدمات ظہور پذیر ہوٸیں۔شاہ صاحبؒ کے ایسے نیک نام اور بافیض تلامذہ میں مولانا جودھپوریؒ کا اسمِ گرامی بھی شامل ہے۔

مولانا علاٶالدین صاحب مرحوم کا دارالعلوم دیوبند کا سہ سالہ دورِطالب علمی،١٩٢٦ سے شروع ہوکر ١٩٢٨ عیسوی پر ختم ہوا اور اختتام کا واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا،جس کے بارے میں مولانا مرحوم نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔دراصل ان تینوں ہی سال دارالعلوم دیوبند میں سخت اختلاف و انتشار کی فضا قاٸم رہی تھی۔علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے تقریباً ہر سوانح نگار نے اس دورِاختلاف اور اس کے کربناک نتاٸج کا اجمالاً یا تفصیلاً ذکر کیا ہے۔یہ واقعہ مکمل تفصیل کے ساتھ مولانا انوارالحسن شیرکوٹی پاکستانیؒ نے اپنی کتاب ”حیاتِ عثمانی“ میں درج فرمایا ہے،جو ان دنوں دارالعلوم میں طالب علم رہے تھے اور بہ قولِ خود ان تین چار سالوں میں پیش آنے والے واقعات میں شریک و شامل بھی رہے تھے؛چوں کہ شاہ صاحبؒ کی شخصیت اور ان کی چار پانچ سالہ بافیض صحبت نے،مولانا علاٶالدین صاحبؒ کے افکار و خیالات اور ان کے رجحانات و احساسات پر بڑے گہرے صالح و مثبت اثرات و نتاٸج چھوڑے تھے،نیز مولانا علاٶالدین صاحبؒ کی سیرت و کردار کا عروج و ارتقاء بھی انھی کی کوششوں اور دعاٶں کا رھینِ منت تھا اور وہی دراصل ان کے سفرِ دیوبند پر جانے اور پھر دارالعلوم میں پیش آمدہ قضیۂ نا مرضیہ کے بعد جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈھابیل منتقل ہونے کا واحد سبب بنے تھے؛اس لیے ان کے اس عظیم محسن کے علمی و دینی احسانات کے پیشِ نظر اور ثانیاً ریکارڈ کی درستگی کے لیے وہ اختلافی واقعہ بڑے ہی اختصار کے ساتھ کچھ اپنی اور کچھ مولانا انظرشاہ کشمیریؒ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم و دارالعلوم وقف دیوبند کی زبانی سنایا جاتا ہے اور شاہ صاحبؒ کی حیاتِ طیبہ کے جامع مطالعے کے شاٸق،باذوق ارباب علم و فضل کے لیے ،شاہ صاحبؒ پر لکھی گٸی بیس کے قریب کتابوں میں سے،نو کتب اور ان کے مصنفین کے اسماۓ گرامی پیشگی پیشِ خدمت ہیں،جو حسبِ ذیل ہیں:

<١> نفحة العنبر فی حیاة امام العصر الشیخ انور
تالیف:مولانا محمد یوسف البنوری

<٢> العلامہ محمد انور شاہ الکشمیریؒ فی ضوء انتاجاتہ الادبیة و العلمیة
تالیف:السید شاھد رسول کاکاخیل

<٣> سوانح علامہ کشمیریؒ [انگلش]
تالیف:مولانا یونس قاسمی

<٤> نقشِ دوام
تصنیف:مولانا انظر شاہ کشمیریؒ

<٥> جمالِ انور تذکرہ و سوانح علامہ انور شاہ کشمیریؒ
تصنیف:مولانا عبدالقیوم حقانی

<٦> انوارِانوری
تصنیف:مولانا محمد انوریؒ

<٧> انوارالسوانح حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ حیات و خدمات
تصنیف:ڈاکٹر غلام محمد کھچی

<٨> امام العصر علامہ سیدمحمد انور شاہ کشمیریؒ
از:مولانا عبدالحلیم چشتی

<٩> حیاتِ انور[مجموعہ مضامین]
مرتب:سید ازھر شاہ قیصر

آمدم برسرِمطلب:١٩٢٥ عیسوی کے آخر میں بعض انتظامی امور سے متعلق، اختلاف کا آغاز ہوا،جو شدہ شدہ شدت اختیار کر گیا اور آخر یہی اختلاف،بعض جلیل القدر علماء اور ان کے لاٸق و فاٸق شاگردان کی دارالعلوم سے علٰحدگی پر منتج ہوا۔

دارالعلوم کی اس عہد کی روداد میں اس اختلاف کا ذکر ملتا ہے۔

مولانا حبیب الرحمٰن عثمانیؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند،١٩٢٥ عیسوی کی روداد میں لکھتے ہیں:

”روداد ١٣٤٤ ھجری مطابق ١٩٢٥ عیسوی سے معلوم ہو چکا ہے۔اس سال ایک عظیم الشان فتنہ دارالعلوم میں رونما ہوا اور ١٣٤٥ ھجری مطابق ١٩٢٧ عیسوی میں بھی وہ فتنہ برابر جاری رہا“

اسی کا ذکر کرتے ہوۓ آگے لکھتے ہیں:

”یہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ دارالعلوم کے خوش کن حالات تو لکھے جاٸیں اور رنجیدہ واقعات پر پردہ ڈال دیا جاۓ;اس لیے گو رنجیدہ واقعات کا اظہار کتنا ہی خلافِ طبع اور ناگوار ہو،مگر ہم روداد کے صفحات ان حالات سے خالی نہیں چھوڑ سکتے“

اختلاف کا دورانیہ تو خاصا طویل ہے،بہ قول مولانا شیرکوٹیؒ اس کی مدت آٹھ سال کے قریب ہے؛مگر شدید اختلاف کا دور،آخر کے تین سال ہیں،ان تین سالوں میں ایسے واقعات رونما ہوے،جنہیں انتظامیہ کی کم زوری پر محمول کیا گیا اور یہ کوٸی باعثِ تعجب چیز نہیں کہ ہر اھتمام اپنے جلو میں ایسے واقعات کم یا زیادہ لیے ہوتا ہے،اپنے محدود مطالعے کی روشنی میں عاجز کو اب تک ایک بھی مثال کسی عہد و صدی کی ایسی نظر نہیں آ سکی کہ کسی عصری یا دینی تعلیم گاہ کے ناظم و مہتمم کے سارے ہی اقدامات حق بہ جانب قرار دیے گۓ ہوں اور اس کا دورِ انتظام و اھتمام نقاٸص سے یکسر خالی رہا ہو۔بعض اوقات یہ صورتِ حال غلط فہمی اور حقاٸق سے نا آشناٸی کا نتیجہ ہوتی ہے اور بعض دفعہ اس کا مبنی حقیقت و صداقت پر قاٸم ہوتا ہے۔ٹھیک یہی دور ہے،جب مولانا شبیراحمد عثمانیؒ نے ١٧ نکات پر مشتمل ایک تحریر لکھی،جس میں دارالعلوم کے انتظامی امور سے متعلق اہم اصلاحات درج تھیں،یہ تحریر علامہ انور شاہ صاحبؒ اور مفتی عزیزالرحمٰن عثمانیؒ کے تاٸیدی دستخط کے ساتھ ١٩٢٧ عیسوی میں منعقدہ شوری کے اجلاس میں پیش کی گٸی اور جزوی طور پر اس پر عمل درآمد بھی ہوا۔دارالعلوم کی روداد ١٣٤٥ ھجری مطابق ١٩٢٧ عیسوی میں،مولانا شبیر احمد صاحبؒ کی پیش کردہ ان ٧١ تجاویز کا پورا متن موجود ہے۔مفتی فضیل الرحمٰن ہلال عثمانی مدظلہم کی تالیف ”حیاتِ عزیز“ میں اسے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

١٩٢٥ عیسوی کے آخر میں طلبۂ دارالعلوم کا،دارالعلوم کے ناظمِ مطبخ مولانا گل محمد صاحبؒ کے ساتھ باہم دست و گریباں ہونے کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔امتحان کی نگرانی کا عمل بھی ان سے متعلق تھا اور اس حوالے سے بھی وہ کافی سخت گیر واقع ہوے تھے اور یہ بھی آپسی چشمک کی ایک بڑی وجہ تھی۔ اس حادثے کے بعد دارالعلوم کے چند طلبہ کا اخراج کیا گیا۔اس اختلاف نے بعد میں افسوس ناک صورت اختیار کرلی اور طلبہ نے اپنے قدیم مطالبات کی تعمیل و تکمیل کا پرزور مطالبہ کیا۔

١٩٢٧ عیسوی میں دارالعلوم میں شوری کا اجلاس ہوا اور اس مرتبہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ صدرالمدرسین و رکن مجلس شوری دارالعلوم دیوبند کی جانب سے،مفتی عزیرالرحمٰن عثمانیؒ کے تاٸیدی دستخط کے ساتھ ایک تجویر اراکینِ شوری کی خدمت میں پیش ہوٸی۔یہ تجویز مولانا شبیراحمد عثمانیؒ،مولانا حسین احمد مدنیؒ اور مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب شاہ جہاں پوری ثم دھلویؒ کے مجلسِ شوری کا رکن بناۓ جانے سے متعلق تھی۔

یہ تجویز اکثر اراکینِ شوری کی تاٸید حاصل نہ ہو سکنے کی بنیاد پر مسترد کر دی گٸی۔بہ قول شخصے”دراصل اختلاف کا نقطہ آغاز یہی بات ہوٸی“۔دونوں ہی جانب کے اکابر علماء کے احوال و واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہر طرح اس اختلاف کو ختم کرنے کے حق میں تھے،اس کا ثبوت اس خط سے بھی فراہم ہوتا ہے،جو تقسیمِ ھند و پاک کے بعد شیخ الھند کے کراچی میں واقع دولت خانے سے برآمد ہوا،جس پر علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ،مفتی عزیزالرحمٰن عثمانیؒ اور خود علامہ شبیراحمد عثمانیؒ کے دستخط ثبت ہیں،تحریر مولانا عثمانی کے قلم سے ہے اور اس میں مصالحت کی بھرپور تاٸید و ترجمانی کی گٸی ہے۔

وہ مکتوب درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بعدالحمد و الصلوة والسلام علی نبیہ الکریم

چوں کہ دارالعلوم دیوبند کے اختلافات و مناقشات نہایت ہی ناخوشگوار صورت اختیار کر چکے ہیں،جس میں دارالعلوم کے لیے نقصان عظیم ہے؛اس لیے ہم نے بارہا یہ چاہا اور کوشش کی کہ کوٸی معقول و معتدل اور طمانینت انگیز صورت اس نزاع اور اختلاف کے ختم کرنے کی نکل آۓ;چناں چہ اس سلسلے میں کٸی مرتبہ جدوجہد ہوٸی جو ناکام یاب رہی۔اب ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس اختلاف و نزاع کے تمام کرنے کی بہترین صورت تحکیم ہے،یعنی کوٸی ایسا بے لوث شخص جس پر فریقین کو دیانةً پورا اعتماد ہو،اس کو حکم ٹھہرا لیا جاۓ۔بنابریں ہم تینوں جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں،اس بات میں عالی جناب خواجہ ابوالمتین شیخ رشیداحمد صاحب میرٹھی ممبر دارالعلوم دیوبند کو بہ صدق و دل حکم قبول کرتے ہیں۔اگر مجلس شوری اور حضرت سرپرست صاحب دارالعلوم بھی اس تحکیم کو قبول فرمالیں،تو جو فیصلہ امور متنازع فیھا کا شیخ صاحب ممدوح فرماٸیں گے،ہمیں اس کے ماننے میں کسی طرح کا انکار نہ ہوگا۔اگر شیخ صاحب ممدوح اپنے ہمراہ کسی دوسرے صاحب کو بھی فریقین کے بیانات سننے اور حالات کی تحقیق کرنے میں شریک فرماٸیں،تو ہم کو اس میں بھی کوٸی عذر نہیں ہے“

عزیزالرحمٰن عفی عنہ
محمد انور عفا اللہ عنہ
شبیراحمد عثمانی عفااللہ عنہ
١٩ شوال ١٣٤٦ ھجری مطابق ١٩٢٧ عیسوی

غرض اکابرین کی جانب سے رفعِ نزاع کی ہر ممکن کوشش کی گٸی؛لیکن قادرِمطلق کے یہاں کچھ اور ہی منظور و مقدر تھا۔یہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔نامعلوم اسباب کے تحت،طلبہ کے مطالبات بھی ہنوز پورے نہیں کیے جا سکے تھے،جن میں سے بعض مطالبات بڑے حساس اور اہم تھے۔نتیجتاً ١٩٢٧ کے نصف آخر میں طلبہ نے اسٹراٸک کر دی اور سالانہ امتحان کے باٸیکاٹ کا اعلان کر دیا۔١٩٢٨ عیسوی کے آخر یا ١٩٢٩ کے اواٸل میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ،مولانا شبیراحمد عثمانیؒ،مفتی عزیزالرحمٰن عثمانیؒ،مولانا سراج احمد صاحبؒ،مولانا محمد ادریس صاحب سکروڈھویؒ،مولانا بدرعالم صاحب میرٹھیؒ،مولانا مفتی عتیق الرحمٰن عثمانیؒ اور بہت سے طلبۂ دارالعلوم،جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈھابیل منتقل ہو گۓ اور اس طرح ڈھابیل سملک ضلع سورت کی وہ غیر معروف بستی علم و روحانیت کا ایک عظیم مرکز بن گٸی اور اس کی یہ مرکزیت تادمِ تحریر باقی و برقرار ہے۔

نقشِ دوام میں مولانا انظر شاہ صاحب کشمیریؒ لکھتے ہیں:

”دیوبند میں حضرت شاہ صاحب کا وفورِعلم پورے شباب پر تھا کہ بدقسمتی سے دارالعلوم دیوبند میں ایک شورش برپا ہوٸی،جس کی تفصیلات دردانگیز ہیں۔اس فتنے کا اثر حضرت مرحوم کے قلب پر آخر تک رہا اور شاداب صحت کو ایک گھن لگ گیا۔بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ علم کے اس آفتاب منیر کو ہنگامۂ دارالعلوم اور فتنۂ قادیانیت نے وقت سے پہلے غروب کر دیا۔اس دور میں آپ کو دیکھنے والے اس کی تصدیق کریں گے کہ غم و اندوہ کی ایک آگ آپ کے اندر سلگ رہی تھی،جس نے صحت کے ڈھانچے کو خاکستر کر دیا۔سن ١٣٤٥ ھجری میں استعفاء دے دیا اور ایک مرتبہ پھر ارادہ فرمایا کہ گوشہ نشین ہوکر امت کی خدمت دوسرے شعبوں میں کی جاۓ؛مگر جس علم کی شہرت اقصاۓ عالم میں پھیل چکی تھی،اس سے استفادے کی محرومی کوٸی کب برداشت کر سکتا،چناں چہ دیوبند سے علٰحدگی کے ساتھ ہی علماء اور اہلِ مدارس کے وفود آپ کی خدمت میں پہونچے۔مگر گجرات کی زمین اس سعادت کو لے اڑی اور معمولی مشاہرے پر ضلع سورت کی ایک بستی ڈھابیل کی دینی درس گاہ میں درسِ حدیث کی ذمے داری کو قبول فرما لیا۔اس دور میں گجرات کے بعض اکابر نے مبشرات بھی دیکھے؛چناں چہ مولانا احمد بزرگ جو جامعہ اسلامیہ کے پاک نہاد مہتمم گزرے ہیں،انہوں نے سن ١٣٤٦ ھجری رمضان المبارک کے آخری عشرے میں خواب دیکھا کہ سرورِکاٸنات ﷺ کی دہلی میں وفات ہو گٸی۔اس وحشت اثر خبر سے ایک پریشانی پھیلی ہوٸی ہے۔آنحضور ﷺ کا جسدِ مبارک جنازہ پر ہے،جسے ڈابھیل لایا گیا۔زندگی کے آثار جسد مبارک پر نمایاں ہو رہے ہیں،لیکن بیماری کا غلبہ ہے۔میں ارادہ کرتا ہوں کہ جسدِ اطہر کو حجرے میں منتقل کر دیا جاۓ اور میں آپ کے بدن مبارک پر حصولِ برکت کے لیے اپنا ہاتھ پھیروں۔جسدِمبارک اٹھایا جاتا ہے،تو جتنا اٹھایا جاتا ہے اتنا ہی تندرست اور صحت یاب ہوتا جاتا ہے،اگرچہ بعض حصوں کو اٹھانے میں بڑی دشواری پیش آٸی۔

مولانا احمد بزرگ نے اپنا یہ خواب دیوبند حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمٰن صاحب کو لکھ کر بھیجا اور تعبیر چاہی۔مفتی صاحب نے تحریر فرمایا کہ ”افسوس کہ علمِ حدیث ان اطراف سے رخصت ہوا اور اس کی نشأةِ ثانیہ ڈابھیل میں ہوگی“ جس وقت یہ خواب دیکھا اس وقت شاہ صاحب دیوبند سے جدا نہیں ہوے تھے؛لیکن دیوبند کا قرضۂ نامرضیہ شباب پر تھا۔جب آپ کی دیوبند سے علٰحدگی کا اعلان ہوا تو مولانا احمد بزرگ گجرات کا ایک ذی اثر وفد لیکر دیوبند پہنچے اور ڈھابیل کے لیے دعوت پیش کی،مولانا محمد بن موسی افریقی جو شاہ صاحب کے خصوصی خادم بلکہ فداکار عاشق تھے،ڈابھیل کے لیے آمادہ کرنے میں بہت کارآمد ثابت ہوے؛چناں چہ ان کے اصرار و خواھش پر ڈابھیل کا قیام منظور فرما لیا۔ڈابھیل کی غیرمشہور درس گاہ مرحوم کی تشریف آوری کے بعد ”جامعہ اسلامیہ“ کے نام سے مشہور ہوٸی۔علامہ کے دور میں طلبہ کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ تھی۔تمام ھندوستان سے کھنچ کر طلبۂ حدیث ڈھابیل پہنچنے لگے اور آپ کی شہرتِ علمی کی وجہ سے اس درس گاہ کو وہ مرکزیت حاصل ہوٸی کہ ”جامعہ“ منتخب مدارس میں شمار ہونے لگا۔سن ١٣٤٧ ھجری سے تا سن ١٣٥١ ھجری یعنی پانچ سال آپ نے مسلسل حدیث کا درس دیا۔تدریس کے علاوہ تبلیغ کے فریضے سے بھی غفلت نہ کی؛چناں چہ بہت سی بدعات و محدثات جو اہلِ گجرات کے رگ و ریشے میں داخل ہو چکے تھے،آپ کی جدوجہد سے ختم ہوے۔کتنے ہی لوگ تھے،جن کے دلوں میں دین اور علماۓ دین کی محبت پیدا ہو گٸی اور کتنی وہ زندگیاں ہیں جو آپ کی پاکیزہ ہم نشینی سے صفاٸیِ باطن کی پیکر بنیں۔کتنے ہی وہ دماغ ہیں،جن میں زھدوقناعت کے اثرات جاگزیں ہوے۔تسلیم کرنا ہوگا کہ گجرات کی زمین پر خیروبرکت،رشدوھدایت کی یہ ضیا پاشیاں مرحوم کی مساعی کا کرشمہ ہیں۔“

مولانا علاٶالدین قریشیؒ کا ڈابھیل میں دو سال تک قیام رہا اور بالیقین وہاں کے ولی صفت جبالِ علم اساتذہ کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرنے ہی کا اثر تھا کہ مولانا جودھپوریؒ کی تدریسی صلاحیت بے حد پختہ تھی۔علاقۂ پیپاڑ کے معمرعالمِ دین اور صاحبِ تذکرہ مولانا پیپاڑویؒ ہی کے خاندان کی ایک دوسری شاخ کے فرد مولانا شفیق صاحب مدظلہم نے دورانِ گفتگو اس حقیر کو بتایا کہ حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوری کے سانحۂ رحلت کے بعد ایک دفعہ حاجی صاحب مرحوم کے صاحب زادۂ گرامی حکیم محمد علی صاحبؒ نے مولانا پیپاڑویؒ کو جامعہ عربیہ میں تدریس کی دعوت دی تھی اور حاجی صاحب کی نسبت سے دونوں کے بیچ چوں کہ ایک حد تک بے تکلفی بھی تھی؛اس لیے حکیم صاحب نے ازراہِ مزاح فرمایا تھا کہ:حضرت آپ چوں کہ ایک زمانے سے عربی کتب کی تدریس سے دور ہیں،تو کہیں آپ کو ہماری یہ دعوتِ تدریس قبول کرنے میں کوٸی پس و پیش تو نہ ہوگا۔؟مولانا علاٶالدین صاحبؒ نے اس سوال کے جواب میں بے تکلف و برجستہ جو بات کہی،اس کا حاصل یہ تھا کہ وہ عربی کتب کے تدریسی شغل سے اب تک دور ضرور رہے ہیں؛لیکن اللہ کے فضل سے اپنے اکابر اساتذہ کی جوتیاں سیدھی کرنے کے طفیل انہیں جو کچھ حاصل ہوا،وہ اب تک جوں کا توں ذھن و دل میں محفوظ ہے اور یہ کہ وہ ابتداء سے انتہاء تک عربی و فارسی کی نصاب میں داخل تمام کتابیں بلا مطالعہ پڑھانے کی کامل قدرت رکھتے ہیں۔

علامہ یوسف بنوریؒ بانی جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاون کراچی،جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل کے اولین فارغ التحصیل علماء میں سے ایک ہیں۔مولانا علاٶالدین صاحبؒ ان کے درسی ساتھی تو نہیں تھے،ہاں البتہ ڈابھیل کے دو سالہ قیام کے دوران ان کے ساتھ رفاقت و قربت ضرور رہی اور یہ قربت علمی اعتبار سے بہت سودمند ثابت ہوٸی۔مولانا حکیم عبدالمجید نابینا صاحب لائلپوری مولانا جودھپوری کے درسی ساتھی تھے،جن کی قوت حافظہ پر خود شاہ صاحبؒ کو ناز تھا اور فرمایا کرتے تھے کہ "جب معلوم ہوا کہ امام ترمذی نابینا ہونے کے باوجود حافظِ حدیث تھے،تو حیرت ہوتی تھی؛لیکن اب ان حافظ عبدالمجید کو دیکھ کر وہ حیرت جاتی رہی”۔

جیساکہ ذکر آیا،علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی بہ حیثیت شیخ الحدیث جامعہ ڈھابیل منتقلی کا واقعہ ۱۳۴۵ھجری کے اواخر میں پیش آیا۔مولانا علاؤالدین صاحبؒ اس سال دارالعلوم کے سالِ ششم کے طالب علم تھے،پھر وہ اختلافی واقعہ پیش آیا،جس پر گذشتہ سطور میں مختصراً روشنی ڈالی گئی۔راقم سطور نے اس دورِاختلاف کا تفصیلی مطالعہ کیاہے،اختلاف کے وجوہ و اسباب،اس میں حصہ لینے والے ھندوپاک کے طلبہ کے نام،پھر آخر میں طلبہ و اساتذہ کی ایک معتدبہ تعداد کے جامعہ ڈھابیل ھجرت کر جانے اور اس کے ثمرات و برکات کا بیان بارہا نظر سے گزرا ہے؛مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تاریخِ دارالعلوم کے اس سلسلے کا دستیاب تحریری ریکارڈ مولاناجودھپوریؒ کے نام سے یکسر خالی ہے،اس کی بنیادی وجہ غالباً ان کی طولِ صمت اور خلوت نشینی کی عادت بنی اور ایسے خاموش طلبۂ دارالعوم کی ایک اچھی خاصی تعداد تھی،جنہیں شاہ صاحبؒ کی عقیدت ڈھابیل کھینچ لے گئی اور وہیں سے ان کی فراغت عمل میں آئی۔

مولانا پیپاڑویؒ نے قیامِ ڈابھیل کے دوسرے سال دورۂ حدیث پڑھنے کی سعادت حاصل کی،آپ کے رفقائے دورۂ حدیث میں متحدہ ھندوستان کے کئی ایسے طلبہ کے نام شامل ہیں،جن سے باری عزاسمہ نے دینِ متین کی خدمت کا لائقِ رشک کام لیا اور ھند و پاک کے علمی و دینی افق وہ حضرات آفتاب و ماھتاب بن کر چمکے۔مولانا عبدالقیوم صاحب راجکوٹی مدظلہم اور مفتی عرفان صاحب مالیگاؤں اساتذہ جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل کے دلی شکریے کے ساتھ،آپؒ کے پینتالیس رفقائے گرامی کے اسماء ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں:

۱ مولانا فضل کریم نواکھالی

۲ مولانا صالح چاٹگامی

۳ مولانا غلام محمد چترالوی

۴ مولانا احمدشاہ ہزاروی

۵ مولانا مقصود علی کمرلائی

٦ مولانا عبدالعزیز کمرلائی

۷ مولانا علی اعظم عمرپوری

۸ مولانا ریاض الدین بگراوی

۹ مولاناعبدالمجید[خورشیداحمد]لائل پوری

۱۰ مولانا علی نواز میمن سنگی

۱۱ مولانا عبدالاوّل سندھی

۱۲ مولانا فضل الرحمٰن نواکھالی

۱۳ مولانا مطیع اللہ ہزاروی

١٤ مولانا نعمت اللہ مرشدآبادی

۱۵ مولانا منصوراحمد نواکھالی

١٦ مولانا امین اللہ نواکھالی

۱۷ مولانا عبدالحی جونپوری

۱۸ مولانا محمد اسماعیل لاجپوری

۱۹ مولانا عبدالمجید نابینا لائل پوری

۲۰ مولانا محمد قلندرشاہ پشاوری

۲۱ مولانا مطلب الدین میمن سنگی

۲۲ مولانا عبدالصمد کمرلائی

۲۳ مولانا حامدحسن دیوبندی

(٢٤) مولانا علاؤالدین جودھپوری

۲۵ مولانا علی اعظم رتنپوری

٢٦ مولانا آفتاب الدین ڈھاکوی

۲۷ مولانا محمد یوسف شرقی منگلوری

۲۸ مولانا زین العابدین دیناجپوری

۲۹ مولانا عبدالرشید بجنوری

۳۰ مولانا محمود چاٹگامی

۳۱ مولانا عبدالکریم میمن سنگی

۳۲ مولانا عبدالرب بریسالی

۳۳ مولانا سراج الدین کچھاڑی

٣٤ مولانا عبدالقادر افریقی

۳۵ مولانا عبدالحی بنارسی

٣٦ مولانا مقبول احمد بریسالی

۳۷ مولانا رئیس الدین میمن سنگی

۳۸ مولانا دلیل الدین بریسالی

۳۹ مولانا محمد سعید لاجپوری

٤٠ مولانا اعجب الدین میمن سنگی

٤١ مولانا احمدابراھیم کھٹوری

٤٢ مولانا عبدالحق میمن سنگی

٤٣ مولانا عبدالعلی میمن سنگی

١٣٤٨ ھجری کے ان فارغین نے بخاری شریف و ترمذی شریف حضرت علاّمہ انور شاہ کشمیریؒ سے،مسلم شریف شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ سے اور دیگر کتبِ حدیث حضرت مولانا سراج احمد رشیدیؒ،حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمٰن عثمانیؒ اور حضرت مولانا بدرعالم میرٹھیؒ سے پڑھیں اور سب ہی فارغین کو جامعہ ھٰذا کی جانب سے کتاب نفائس الازھار انعام میں دی گئی۔

شاہ صاحب کے جامعہ اسلامیہ ڈھابیل کے پانچ سالہ زمانۂ قیام میں یہ دوسری جماعت تھی،جس نے اپنے علمی و مطالعاتی انہماک اور جہدِمسلسل کے ذریعے شاہ صاحب کا دل جیتا اور آگے چل کر مختلف شعبہ ہائے حیات میں علم و عمل کے وہ چراغ روشن کیے،جن کا سلسلہ نسل در نسل دنیا کے مختلف اطراف و اکناف میں جاری ہے اور ان شاءاللہ جاری ہی رہے گا۔

اس وقت جب کہ یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں،شاہ صاحب کا کوئی بھی شاگرد بہ قیدِحیات نہیں ہے۔تقسیم سے قبل آپ کے شاگردوں نے مختلف علاقوں کو خدمتِ دین کا میدان بنائے رکھا،
بعض نے یکے بعد دیگرے کئی ایسے علاقوں میں خدمت انجام دی،جو اب دو تین ملکوں میں منقسم ہیں۔تقسیم کے بعد جس نے جس ملک کو اپنایا،اس نے وہیں پر خدمتِ دین متین کا شغل جاری رکھا۔

مولانا علاؤالدین صاحبؒ نے کسی اور ریاست کا رخ کرنے کے بجائے، علاقائی ضرورت کے پیشِ نظر فراغت کے معاً بعد پیپاڑ کا قیام اختیار کیا۔مولانا نے اسّی یا اس سے کچھ زائد عمر پائی اور فراغت کے بعد سے تادمِ واپسیں پیپاڑ ہی میں دینی خدمات انجام دیتے رہے۔مولانا کی مضبوط تدریسی صلاحیت کی بنیاد پر انہیں بڑے بڑے مدارس کی جانب سے اپنے ہاں تدریس کی پیش کش کرنا بالکل قرینِ قیاس تھا اور یقیناً ایسا ہوا بھی ہوگا؛لیکن علاقۂ پیپاڑ کے خواص کے مطابق انہوں نے اہالیانِ پیپاڑ کی دینی رھنمائی کے لیے اپنے کو وقف کیے رکھا؛البتہ دارالعلوم العربیہ الاسلامیہ جودھپور اس کلیے سے مستثنیٰ ہے،جہاں مولانا مرحوم نے پانچ چھ مہینے عربی کتب کا درس دیا۔مولانا شفیق صاحب مدظلہم،مولانا حکیم محمدمسلم صاحب جودھپوری اور مولانا ظہور احمد صاحب جودھپوری وغیرہ متعدد احباب،دارالعلوم العربیہ الاسلامیہ جودھپور میں آپ کے شاگرد رہے ہیں،ان حضرات نے عربی دوم کے سال نورالایضاح،فصولِ اکبری اور پنج گنج مولاناؒ سے پڑھیں۔شرحِ وقایہ اور کنزالدقائق وغیرہ مختلف علوم و فنون کی کتابوں کی تدریس بھی آپ سے متعلق رہی تھی اور یہ چند ماہ کا ان کا قیامِ جودھپور طلبہ کے حق میں کسی نعمتِ غیرمترقبہ سے کم نہ تھا،جس کے انمٹ فوائد و منافع کا احساس و اعتراف،ان کے بہ قیدِحیات شاگردان رشیدان کو آج بھی ہے۔مولانا مرحوم کی ذات سے یہاں بھی بہت بڑا کام انجام پا سکتا تھا اور خود ان کی تدریسی صلاحیت بھی اس عمل کے تسلسل سے مزید جلاء پا سکتی تھی؛مگر انہوں نے ایک وقتی ضرورت کے تحت یہ دعوت قبول کی اور کسی حد تک اس ضرورت کی تکمیل ہو جانے پر،اپنے وطن مالوف منتقل ہو گئے۔پیپاڑ کے عوام بھی ان کی علٰحدگی پر کسی صورت تیار نہ تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مولانا مرحوم نے اپنے ہم وطنوں کی کامل اصلاح کی راہ میں کسی بھی ایسے اقدام کو ایک مانع سمجھا۔یہ وہ دور تھا جب نمازِ جنازہ پڑھانے والا دور دور تک نظر نہ آتا تھا،نمازِجنازہ کے انتظار میں دو دو تین تین روز تک مردے دفن نہیں ہو پاتے تھے اور بعض اوقات انتظار کا دورانیہ طویل ہو جانے پر بلا نمازِجنازہ مردے دفن کر دیے جاتے تھے۔مولانا مرحوم کی خدا مغفرت فرمائے،ان حالات میں انہوں نے ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر اپنی قوم کی ہرممکن دینی خدمت کی اور قوم کی جانب سے چندایک مواقع پر ناقدری و احسان فراموشی کے مظاہرے کے باوجود اپنے مشن پر دل و جان سے قائم رہے۔

جامع مسجد اور مسجد بیوپاریان میں مختلف اوقات میں امامت و خطابت کے علاوہ مدینۃ العلوم میں درس و تدریس کا کام ایک لمبے زمانے تک کیا۔مدینۃ العلوم کا ابتمام و انتظام بھی آپ سے متعلق رہا۔اس تاریک فضا میں مولانا مرحوم نے امامت و خطابت،دعوت و تبلیغ اور درس و تدریس کے ذریعے اپنی قوم کی جو مخلصانہ خدمت انجام دی،علاقے کے موجودہ مدارس و مکاتب اور دعوتی امور سے علاقائی لوگوں کا دلی تعلق،اسی کا طفیل و مظہر ہیں۔

آپؒ بڑے خوش نویس تھے،راقم کو ان کی قلمی تحریر کا نمونہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہے۔

بیت اللہ و مدینۃ الرسول حاضری کی خواھش ہر مومن کے دل میں موجزن رھتی ہے۔مولانا مرحوم اس حوالے سے بھی خوش نصیب واقع ہوے تھے،غالباً جوانی ہی میں ان کے سفرِبیت اللہ کی راہ ہم وار ہو گئی تھی،جس کی صورت یہ ہوئی کہ رنسی گاؤں کے باشندے حاجی رحیم بخش صاحب مرحوم نے مولانا مرحوم سے،اپنے متوفی صاحب زادے فتح محمد صاحب کی طرف سے حج بدل کرنے کی درخواست کی۔مولانا کی جانب سے فوری طور پر اس درخواست کو منظوری دی گئی اور متعینہ وقت پر سفرِحرمین کیا گیا۔حج بدل کے اس واقعے سے ذھن اس جانب ملتفت ہوتا ہے کہ اس سے پہلے وہ اپنے حج سے سبکدوش ہو گئے تھے۔

کم ہی لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ مولاناؒ قرآن کریم کے ایک جید حافظ تھے اور حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کی طرح تلاوتِ قرآن کا ان کے یہاں حددرجہ اھتمام تھا،آخر کے ضعف و عوارض کے سال چھوڑکر باقی ساری زندگی انہوں نے تراویح میں قرآن کریم سنایا تھا۔

اللہ تعالٰی نے انہیں بڑی محبوبیت و مقبولیت عطا فرمائی تھی،ان کی حینِ حیات باشندگانِ پیپاڑ نے اپنے ہر طرح کے مسائل کے حل کے لیے انھی کی ذات والا صفات کو مرجع قرار دیے رکھا،مدارس کے علماء و طلبہ نے بھی انہیں اپنے علمی سرپرست کے درجے میں رکھا،مولانا کی حیات میں پیپاڑ یا قرب و جوار کے علاقوں میں جب کسی عالمِ دین کی تشریف آوری ہوتی،تو پھر ایسا شاذ و نادر ہی ہوا ہوگا کہ وہ مہمان محترم ان کی زیارت و ملاقات کے بغیر واپس روانہ ہو گئے ہوں،احقر کے نانا مرحوم مولانا قاری محمد ھاشم صاحب خلیلی گومٹویؒ مدرسہ اصلاح المسلمین بیلاڑہ کے چودہ سالہ قیام میں،سلام و دعا کی غرض سے بارہا حضرتؒ کے یہاں تشریف لے گئے۔مولانا دوست محمد صاحب مہتمم اول دارالعلوم پوکرن،مولانا رشید احمد صاحب قاسمیؒ سابق صدرالمدرسین دارالعلوم پوکرن کی ان سے پیپاڑ میں ہونے والی ملاقاتوں کا تذکرہ بھی سامعہ نواز ہوا ہے،مولانا احمداللہ صاحب مدظلہم امام و خطیب تکیہ مسجد سبزی منڈی پیپاڑ بھی جن کا وطنی تعلق شایرپورہ کاپرڑہ سے ہے، آپؒ کے خصوصی متعلقین میں سے رہے ہیں اور انہوں نے ہی مولانا کے مشورے سے ١٩٧٦ یا ٧٧ عیسوی میں مدینۃ العلوم کی سابقہ اقامتی حیثیت بہ حال کرنے کی کوشش کی تھی اور تقریباً دو سال تک بیرونی طلبہ کا قیام و طعام مدرسے کی جانب سے جاری رہا تھا۔مولانا شفیق صاحب مدظلہم کی دعوت پر وہ پچیاک کے مدرسے بھی تشریف لے گئے۔مولاناؒ علاقائی و صوبائی مدارس کے عروج و ارتقاء کی خبریں سن کر خوش ہوتے تھے اور حوصلہ افزائی کے علاوہ منتظمین و مدرسین اور مبلغین و ائمہ کو اپنی بزرگانہ دعاؤں سے بھی خوب نوازتے تھے۔

مولاناؒ،ان کے والدماجد خدابخش صاحبؒ اور مولانا کے جملہ برادران نورمحمد صاحب،جناب محمد صاحب،اشرف علی صاحب،قمرالدین صاحب اور دیگر بہت سے افرادِخاندان پیپاڑ شہر کے قدیمی قبرستان میں مدفون ہیں۔مولاناؒ کے دو صاحب زادگان محمد اسلم صاحب اور ادریس احمد صاحب میں سے اول الذکر کراچی پاکستان ھجرت کر گئے تھے اور ان کی اولاد آج بھی وہیں سکونت پذیر ہے؛جب کہ ثانی الذکر ادریس احمد صاحب پیپاڑ ہی میں رہے اور یہیں آسودۂ خاک ہوے۔

اب ایک یادگار واقعے پر اس تحریر کو ختم کیا جاتا ہے،قاری حاجی محمد صاحب مدظلہم نائب مہتمم جامعہ خادم الاسلام بھاکری پیپاڑ کے والدبزرگوار عبداللہ صاحب مرحوم اس واقعے کے چشم دید گواہ تھے اور وہی اس کے راوی بھی،یہ بزرگ مولانا مرحوم کے خصوصی قدردانوں میں سے ایک تھے،مولانا مرحوم سے ان کی ملاقات و شناسائی کا عرصہ،ظاہر ہے کئی دھائیوں پر مشتمل رہا ہوگا،یہ بزرگ مولانا کے علمی و اصلاحی بیان سے استفادے کی غرض سے،جمعے کی نماز اکثروبیشتر جامع مسجد پیپاڑ ہی میں ادا کیا کرتے تھے۔عبداللہ صاحب کا بیان ہے کہ حسبِ معمول وہ ایک مرتبہ جمعے کے روز جامع مسجد پیپاڑ میں حاضر تھے اور مولاناؒ کا وعظ جاری تھا کہ دیہی علاقوں کے کچھ سندھی برادری کے لوگ اپنے مخصوس لباس و پوشاک کے ساتھ مسجد کے وضوخانے پر آئے اور انہیں دیکھ کر شہر کے مسلمانوں نے کچھ تفریحی جملے ادا کیے،جن کا خلاصہ کچھ اس طرح تھا کہ میلے کچیلے لباس ہی کے ساتھ مسجد میں آ حاضر ہونے کا ان سندھیوں کا حوصلہ باعثِ تعجب امر ہے اور یہ کہ انسانی اقدار اور ان کے پاس و لحاظ سے ان کا کوئی دور دور کا تعلق نہیں۔یہ تفریحی جملے مولانا مرحوم نے سنے،تو آپ نے سلسلۂ بیان کو موقوف کرکے،وضوخانے کے قریب کھڑے لوگوں کو مخاطب بناکر،وہیں منبر پر سے فرمایا کہ ان سندھی بھائیوں کے ساتھ تمسخرواستہزاء کا معاملہ نہ کیا جائے،میرے یہ بھائی خلوصِ دل کے ساتھ خدا کے گھر میں حاضر ہوے ہیں،انہیں اسی حال میں مسجد میں آنے دیجیے،ان کا خلوص ضرور رنگ لائے گا اور یہ نہ سہی ان کی نسل میں علماء و حفاظ اور دعاۃ و مبلغین پیدا ہوں گے اور ان کے ذریعے دین متین کی نشرواشاعت کا کام انجام پائے گا۔

قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید،اس مردِحق آگاہ کی زبان سے نکلی ہوئی یہ بات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔علاقۂ پیپاڑ میں آباد اس سندھی قوم نے مدارس و مکاتب کے قیام اور دین متین کی دعوت و تبلیغ کے حوالے سے جو عظیم قربانیاں پیش کیں،وہ راجستھان کی دینی و علمی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور اسی قوم کے بعض نوجوان علماء تحریری و تحقیقی میدان میں جس تسلسل و استقلال کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں،وہ تو ہم اہالیانِ راجستھان کے لیے باعثِ فخر اور لائقِ صدستائش چیز ہے۔

اللہ تعالٰی مولانا کی مغفرت فرمائے،ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور ان کی حسنات میں ہمیں ان کے کامل اتباع کی توفیق مرحمت فرمائے۔

٢٣ جولاٸی ٢٠١٩ عیسوی

ایم ایم ای آر سی کا پچی س سالہ جشن اور قیام وخدمات

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

مرکز المعارف (این جی او):
اپنے والد گرامی کے رفاہی وخیراتی کاموں سے تحریک پاکر، دار العلوم، دیوبند کے اس وقت کے نوجوان فاضل مولانا بدر الدین اجمل صاحب قاسمی (حفظہ اللہ) نے سن 1983 میں، ایک تنظیم بنام "مرکز المعارف” قائم کیا؛ تاکہ مفلوک الحال لوگوں کے لیے کام کرسکیں۔ اس تنظیم کے قیام کا اہم مقصد سماج کے تعلیمی ومعاشی طور پر پچھڑے ہوئے لوگوں کی ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔ اس کا صدر دفتر آسام کے شہر "ہوجائی” میں ہے۔ اس تنظیم نے اپنے قیام کے روز اول سے خاص طور پر تعلیمی میدان کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ اس نے درجنوں اسکول اور کالجز قائم کیا۔ تعلیم کے علاوہ اس تنظیم نے متعدد ہسپتال اور یتیم خانے قائم کیے۔ بہت سے ایسے لوگ جن کو سر چھپانے کے لیے ایک گھر میسر نہیں تھا، گھر بنواکر ان لوگوں کے حوالے کیا۔ تنظیم نے آفاتِ سماوی کے موقع سے راحت رسانی کا کام انجام دیا۔ وہ جوان لڑکیاں جن کے والدین تنگ حالی کی وجہہ ان کی شادی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، یہ تنظیم شادی کے لیے ان کو تعاون پیش کرتی ہے۔ یہ تنظیم صرف آسام کے قرب وجوار میں ہی کام نہیں کرتی؛ بلکہ ہندوستان کے متعدد علاقے، مثلا منی پور، نئی دہلی، دیوبند اور ممبئی وغیرہ میں قائم اپنے دفاتر کے تحت بھی کام کرتی ہے۔ اس کے تعلیمی کارناموں میں ایک اہم مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (ایم ایم ای آر سی) کے تحت نئے فارغین علما کو انگریزی زبان سے مسلح کرنا ہے۔

علما کے لیے انگریزی زبان کی ضرورت:
عصر حاضر میں انگریزی زبان کی حیثیت ایک بین الاقوامی زبان کی ہے۔ اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس کے افکار وخیالات بین الاقوامی سطح پر پہنچیں اور سنے جائیں یا وہ یہ چاہتا ہے کہ وہ ایسی زبان استعمال کرے جسے عام طور پرعالمی سطح پر قارئین وسامعین سمجھ سکیں؛ تو اس شخص کے لیے انگریزی زبان سیکھنا ضروری ہے؛ کیوں کہ بغیر انگریزی زبان کے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔ اسلام کی ترجمانی اور اسلام کے پیغامِ امن کوعالمی سطح پر پہنچانے کے لیے علماء کرام کی شخصیت بہت ہی موزوں ہے، مگر عام طور پر علماء کرام انگریزی زبان سے ناواقف ہوتے تھے۔ ان کے لیے اپنے افکار وخیالات اور پیغامِ اسلام کو عالمی سطح پر پہنچانا، بہت مشکل تھا؛ جب کہ متعصب ذرائع ابلاغ اسلام مخالف بہت سی غلط فہمیاں عالمی سطح پر پھیلارہے ہیں۔ سب کے نزدیک آج کی تاریخ میں انگریزی زبان کی اہمیت مسلم ہے؛ مگر کچھ سالوں قبل تک علماء کرام انگریزی زبان کے سمجھنے، بولنے اور لکھنے سے بالکل معذور تھے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ایک آدھ عالم ایسے ضرور تھے جو انگریزی زبان پر قادر تھے؛ مگر انھوں نے ذاتی طور پر محنت ومشقت اور مشق وتمرین سے یہ حاصل کیا تھا۔ باضابطہ کوئی ادارہ ایسا نہیں تھا، جہاں علما کو داخلہ دے کر، انگریزی زبان سیکھائی جاتی تھی۔ بہت سے لوگوں کو اس بات کا احساس تھا کہ علماء کرام کو انگریزی زبان سے واقف ہونا چاہیے؛ مگر ان کے سامنے کوئی مثال نہیں تھی کہ ان کو کس طرح انگریزی زبان سیکھائی جائے۔

مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کا قیام:
انگریزی زبان کی اہمیت اور وقت کے تقاضے کو سمجھتے ہوئے، دار العلوم دیوبند کے فاضل اور کامیاب تاجر، محسن ملت حضرت مولانا بدر الدین اجمل صاحب قاسمی (حفظہ اللہ)، بانی وصدر: "مرکز المعارف” نے سن 1994 میں ایک ادارہ بہ نام: "مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر” (ایم ایم ای آر سی) قائم کیا۔ قاسمی صاحب دار العلوم، دیوبند کے رکن شوری، اے آئی یو ڈی ایف کے صدر اور آسام کے دھبری حلقہ سے لوک سبھا کے ایم پی ہیں۔ ایم ایم ای آر سی کا مقصد نئے فارغین مدارس کو انگریزی زبان اور کمپیوٹر سائنس سے مسلح کرنا تھا؛ تاکہ یہ علماء کرام بہ سہولت زمانے کے چیلنجیز کا سامناکرسکیں اور اسلام کی اشاعت اور قوم وملت کی خدمات قومی وبین الاقوامی سطح پر انجام دے سکیں۔ اس طرح ایم ایم ای آر سی پورے ہندوستان میں اپنی طرز کا پہلا ادارہ ہوگیا، جس نے زمانے کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے علما کی ٹریننگ کا آغاز کیا۔

ابتدائی طور پر ایم ایم ای آر سی کا قیام دہلی میں ہوا۔ جناب محمد عمر گوتم صاحب، مشہور داعی وسابق لکچرر، شعبہ اسلامیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کو بحیثیت ڈائریکٹر اس ادارہ کو چلانے کی ذمےداری سونپی گئی۔ اس کورس کا نام: "ڈپلوما ان انگلش لنگویج اینڈ لٹریچر” (ڈیل) رکھا گیا۔ مدت تعلیم دو سال متعین کی گئی۔ پھر جناب گوتم صاحب کی ڈائرکٹرشپ میں اس ادارے نے اپنے اہم سفر کا آغاز کیا۔ انگریزی زبان سے دل چسپی رکھنے والے نئے فارغین مدارس کو، داخلہ امتحان کے بعد منتخب کیا گیا۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ درجن بھر سے زیادہ نئے فارغ علما ایک جگہ پر انگریزی زبان اور کمپیوٹر سیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ آغاز کے بعد، ادارہ بہت اچھے طریقے سے چلا، الحمدللہ۔ کچھ سالوں بعد، اس ادارہ کو دہلی سے ممبئی منتقل کردیا گیا۔ ممبئی میں اس ادارہ کی ذمے داری ایم ایم ای آر سی کے محترم فاضل مولانا محمد برہان الدین صاحب قاسمی کو سونپی گئی۔ مولانا قاسمی نے بحیثیت ڈائریکٹر اس ادارہ کی ترقی کے لیے بڑی جد وجہد کی۔ انھوں نے اس کورس میں بہت سے مفید اجزاء کا اضافہ کیا۔ ہرسال درجنوں علمااس کورس سے استفادہ کررہے ہیں اور فارغ ہوتے ہیں۔ یہ ادارہ دن بہ دن ترقی کی طرف گامزن ہے، الحمد للہ۔

ایم ایم ای آر سی کا پچیس سالہ جشن:
ایم ایم ای آر سی کے پچیس سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اب ایم ایم ای آر سی "پچیس سالہ جشن اور سہ روزہ بین الاقوامی سمینار بموضوع: مسلم نوجوان، علما اور معاصر چیلنجیز خاص طور پر مدرسہ کی تعلیم کے بعد اور ڈیل کورس کے تناظر میں”، 4-6 اکتوبر 2019 کو دہلی میں کرنے جارہا ہے۔ پچیس سال کوئی بہت ہی مختصر مدت نہیں ہے؛ مگر کسی نمایاں کامیابی کے لیے حصول کے لیے یہ کوئی بڑی لمبی مدت بھی نہیں ۔ بہرحال، ایم ایم ای آر سی اپنے قیام کے پچیس سالہ مدت میں، اپنے ہدف اور مقصد کے حصول میں نہایت ہی کامیاب رہا۔ کوئی بھی انصاف پسند مورخ ایم ایم ای آر سی کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس کی تاریخ سنہرے حروف سے لکھے گا کہ اس ادارہ نے علما کو انگریزی زبان اور کمپیوٹر سائنس سے مسلح کرکے زمانے کی تحدیات کو قبول کرنے کے راستے میں واقع رکاوٹ کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ایم ایم ای آر سی کے فضلاء:
مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر(ایم ایم ای آرسی) نے اب تک تقریبا 450 علما کو انگریز زبان اور کمپیوٹر کی تعلیم سے آراستہ کیا ہے۔ دو سالہ "ڈپلوما ان انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر” کی تکمیل کے بعد، کوئی چیز ان کو آگے بڑھنے میں مانع نہیں رہتی۔ یہ علما قوم وملت کی خدمت کے لیے کسی بھی میدان کو منتخب کرنے میں، خود کو پورے طور پر مسلح پاتے ہیں۔ جن میدان میں بھی وہ گئے، ان کی کارکردگی قابل تعریف رہی ہے۔ ان کی جدو جہد، صلاحیت وقابیلیت اور محنت ولگن قابل تقلید ہوتی ہیں۔ ایم ایم ای آر سی کے فضلاء نے تدریس وتعلیم، بحث وتحقیق، دعوت وتبلیغ، صحافت اور سماجی وانتظامی جیسے مختلف میدانوں میں اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ان سبھی میدانوں میں انھوں نے اہم کرادر اداکیے اور نمایاں خدمات انجام دیے ہیں۔ یہی وجہ ہےیہ حضرات جہاں بھی ہوں اور جو بھی خدمات انجام دے رہے ہوں، منتظمین انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ان ‌فضلا کرام میں سے چند کے اسماء گرامی مع ان کی سرگرمیوں کے ساتھ پیش کیے جارہے ہیں۔ مولانا محمد برہان الدین صاحب قاسمی، مشہور صحافی، "ایم ایم ای آر سی” کے موجودہ ڈائریکٹر اور مشہور انگریزی میگزین "ایسٹرن کریسینٹ” کے بانی وایڈیٹر ہیں۔ مولانا محمد عتیق الرحمن صاحب قاسمی مرکز المعارف کے ڈی آئی پی آر کے کورڈینیٹر اور یو این ای پی کی طرف ماحولیاتی خدمات پر ایوارڈ یافتہ ہیں۔ مولانا انصار اعظمی قاسمی کنگ سعود یونیورسیٹی، ریاض، سعودی عرب میں پروفیسر ہیں۔ مولانا افتخار احمد صاحب قاسمی انگریزی وعربی زبان کے قلم کار اور جامعہ اکل کوا میں استاذ حدیث ہیں۔ مولانا ڈاکٹر محمد رفیق صاحب قاسمی مولانا آزاد نیشنل یونیورسیٹی، حیدرآباد میں استاذ ہیں۔ مفتی ڈاکٹر محمد عبید اللہ صاحب قاسمی شعبہ عربی زبان وادب، ذاکر حسین کالج، دہلی یونیورسیٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اورہیڈ ہیں۔ آپ دار العلوم، دیوبند کے شعبہ انگریزی زبان وادب کے بھی ہیڈ رہ چکے ہیں۔ مولانا محمد افضل صاحب قاسمی الجامعۃ الاسلامیہ، بولٹن، انگلینڈ میں استاذ حدیث اور بلیکبرن کالج، یو کے میں لکچرر ہیں۔ آپ دار العلوم، دیوبند کے شعبہ انگریزی زبان وادب کے سابق استاذ ہیں۔ مفتی عبد الرشید صاحب قاسمی، استاذ حدیث اور حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن، کانپور کے نائب چیرمین ہیں۔ مفتی ڈاکٹر محمد اللہ صاحب قاسمی انگریزی واردو زبان وادب کے قلم کار، دار العلوم دیوبند کے شعبہ انٹرنیٹ کے ہیڈ اور آن لائن دار الافتا کے کورڈینیٹر ہیں۔ مولانا شمس الہدی صاحب قاسمی جامعہ اکل کوا کے شعبہ انگریزی زبان وادب کے ہیڈ اور وہاں سے شائع ہونے والا میگزین: "دی لائٹ” کے ایڈیٹر ہیں۔ مولانا اسماعیل صاحب ماکروڈ (رحمہ اللہ)نے سن 2003 میں، ایم ایم ای آر سی کے طرز پر ایک ادارہ بنام: مرکز اسلامی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، گجرات کے شہر انکلیشور میں قائم کیا، جہاں سے طلبہ کی ایک بڑی تعداد استفادہ کرکےملک وبیروں ملک میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ مولانا منظر امام قاسمی (پی ایچ ڈی)، انگریزی واردو زبان کے صحافی، ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی اور یونیورسیٹی آف نوٹرے ڈیم، یو ایس اے سے بھی منسلک ہیں۔ مولانا ڈاکٹر رفیق الاسلام صاحب قاسمی، اسسٹنٹ پروفیسر: یونیورسیٹی آف گوہاٹی، اے آئی یوڈی ایف کے جنرل سکریٹری اور سابق ایم ایل اےآسام ہیں۔ مولانا ڈاکٹر غفران نجیب قاسمی(بی یو ایم اسی) طبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مولانا ڈاکٹر عبد الرحمن صاحب قاسمی پوسٹ ڈوکٹرول ریسرچ میں مشغول ہیں اور آل انڈیا ریڈیو میں بحیثیت نیوز ریڈر کام کرچکے ہیں۔ مولانا ڈاکٹر رحمت علی قاسمی "حج میگزین”، حج کمیٹی، حکومت ہند کے معاون ایڈیٹر ہیں۔ مولانا غفران ساجد قاسمی بصیرت آن لائن اور ہفت روزہ ملی بصیرت، ممبئی کے بانی وچیف ایڈیٹر ہیں۔ مولانا ساجد قاسمی (ایم ایڈ: امریکن کالج آف ایجوکیشن، یو ایس اے) دار العلوم اٹلانٹا، یو ایس اے کے ناظم ہیں۔ مولانا خالد صاحب قاسمی جامعہ عبد اللہ بن مسعود میں استاذ حدیث اور الفاروق مسجد اٹلانٹا، یو ایس اے کے سابق ہیڈ امام ہیں۔ مولانا مدثر احمد قاسمی، ماہ نامہ ایسٹرن کریسنٹ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر، روزنامہ انقلاب کے کالم نگار اور الغزالی انٹرنیشنل اسکول، ارریہ، بہار کے ڈائریکٹر ہیں۔ مولانا توقیر احمد قاسمی کاندھلوی مشہور خطیب اور دار العلوم دیوبند کے شعبہ انگریزی زبان وادب کے ہیڈ ہیں۔ مولانا حفظ الرحمن قاسمی (پی ایچ ڈی) جے این یو، نئی دہلی میں ریسرچ اسکالر ہیں اور آپ نے معتدد اردو کتابوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے۔

جن حضرات کے اسمائے گرامی ذکر کیے گئے ہیں، وہ بطور مثال ہیں۔ اس سے فضلاء مرکز کا کوئی احصاء مقصود نہیں ہے۔ انھوں نے مختلف میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انھوں نے متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں اور درجنوں کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان حضرات نے مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر میں داخلہ لے کر، حضرت مولانا بدر الدین اجمل صاحب قاسمی (دامت برکاتہم) کی زیر سرپرستی، عالی جناب محمد عمر گوتم صاحب اور محترمی مولانا محمد برہان الدین صاحب قاسمی کی زیر نظامت جو انگریزی زبان وادب کی تعلیم حاصل کی، اس نے ان حضرات کی کامیابی وکامرانی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ماہ نامہ ایسٹرن کریسنٹ کا آغاز:
سن 2006 میں ایم ایم ای آر سی نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئےانگریزی زبان میں، ایک ماہ نامہ بہ نام: "ایسٹرن کریسنٹ” کا آغاز کیا۔ اس میگزین کا پہلا شمارہ مئی 2006 میں شائع ہوا۔ یہ ماہ نامہ روز اول سے مولانا محمد برہان الدین قاسمی کی ادارت میں شائع ہو رہا ہے۔ جہاں یہ ماہ نامہ ایم ایم ای آر سی کے فضلاء کے مضامین ومقالات کو اہمیت کے ساتھ چھاپتا ہے، وہیں بغیر کسی امتیاز کے عصری اداروں کے تعلیم یافتہ قلم کاروں کو بھی اپنے نظریات وخیالات بشکل مضامین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایسٹرن کریسنٹ فضلاء ایم ایم ای آر سی کو اپنے نظریات وخیالات اور افکار کو انگریزی جاننے والو تک پہنچانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ یہ میگزین عام طور پر حالات حاضرہ، ہندوستانی مسائل، ہندوستانی مسلمانوں کے حالات، اسلامی موضوعات وغیرہ کو نمایاں طور پر اپنی اشاعت میں جگہ دیتا ہے۔ عمدہ مضامین ومقالات کی شمولیت اور بہترین طباعت واشاعت کی وجہ سے اہل علم وقلم اور اساتذہ واسکالرز اس میگزین کو پسند کرتے ہیں۔ یہ میگزین چودہ سالوں سے مستقل چھپ رہا ہے۔ کسی بھی ماہ نامہ کا اتنی لمبی مدت تک چھپتے رہنا، میدان صحافت میں بڑی کامیابی وکامرانی ہے۔

مکتب مرکز المعارف:
مسلم بچوں کے لیے مکاتب اسلامیہ کی جو اہمیت ہے اس سے ہر کوئی واقف ہے۔ یہ مکاتب اسلامیہ جہاں ایک طرف چھوٹے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے واقف کراتے ہیں؛ وہیں دوسری طرف اخلاقی اقدار کو بھی ان بچوں کو ذہن نشیں کراتے ہیں۔ جو بچے مکاتب میں پڑھنے جاتے ہیں، وہ اپنے ایمان ودین کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ وہ بچے وضو کرنے اور پنج گانہ نماز کے طریقے وغیرہ سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ ان باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مکاتب کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے کہ ایم ایم ای آر سی کی انتظامیہ، بچوں کے لیے قابل اساتذہ کرام کی زیر نگرانی، ایک کامیاب مکتب بہ نام: "مکتب مرکز المعارف” چلاتی ہے۔ اس مکتب سے ابھی تقریبا 170 بچے استفادہ کرتے ہیں۔ مکتب کے بچے ممتاز نمبرات سے کامیاب ہوتے ہیں۔ اس سماجی خدمات کے لیے انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا جانا چاہیے۔

اسکولی بچوں کے لیے ورکشاپ:
کسی بھی شخص کے لیے یہ بات بڑی اہم ہے کہ وہ ضروریاتِ دین سے واقفیت رکھتا ہو۔ جب ایک شخص اپنے دین کی ضروریات سے واقف ہوگا، تو اس سے جہاں اس کو روحانی طاقت محسوس ہوگی، وہیں اس سے اس شخص کو دین پر عمل کرے میں اعتماد پیدا ہوگا۔ ان دنوں ہمارے وہ بچے جو اسکول جاتے ہیں، انھیں بمشکل ہی اسلامی تعلیمات اور اس کی اہمیت کے حوالے سے کچھ پڑھایا جاتا ہے۔ ان بچوں میں سے اکثر عقائد اور ضروریاتِ دین سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔ اسکولوں کے تعطیلی ایام میں، ایم ایم ای آر سی ایسے بچوں کی تربیت کے لیے گاہے بہ گاہے ورکشاپ کا انعقاد کرتی ہے۔ یہ ورکشاپ اسلامی ماحول میں منعقد کیا جاتا ہے؛ تاکہ وہ معصوم بچے جو مختلف اسکولوں میں جاتے ہیں، ان کے ذہنوں میں اسلامی معلومات کی اہمیت وافادیت کو بیٹھایا جاسکے اور ان کو دینی باتیں سیکھائی جاسکیں۔ اس ورکشاپ کے ذریعے انتظامیہ ان بچوں کو حوصلہ دیتی ہے کہ وہ ان چیزں کی جانکاری حاصل کریں اور اپنی یومیہ زندگی میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرسکیں۔

ایم ایم ای آر سی کے ڈیل کورس کی مقبولیت:
جب آج سے ڈھائی دہائی قبل، ایم ایم ای آر سی کا ڈپلوما ان انگلش لنگویج اینڈ لٹریچر (ڈیل) کورس متعارف کرایا گيا؛ تو اس وقت کسی نے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ یہ کورس اس طرح کام یاب ہوگا، جس کا مشاہدہ آج سیکڑوں لوگ اپنی کھلی آنکھوں کر رہے ہیں۔ مگر انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کی محنتیں، اخلاص، جدو جہد اور انتھک کوششیں کامیاب ہوئیں۔ آج یہ کورس نئے فارغین مدارس کو انگریزی زبان اور کمپیوٹر کی تعلیم سے مسلح کرنے کے حوالے ایک کامیاب ترین نمونہ سمجھاتا جاتا ہے۔ اس کورس کی کامیابی کا مشاہدہ کرتے ہوئے متعدد دینی مدارس کے منتظمین نے اسے قبول کیا اور اپنے اپنے اداروں میں اس کورس کا آغاز کیا۔ پھر دینی مدارس کے بعد، وطن عزیز کی ایک مشہور یونیورسیٹی: علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی (اے ایم یو) نے بھی اپنے یہاں اس کورس کو جگہ دی۔ اے ایم یو میں اس کورس کو "برج کورس” سے جانا جاتا ہے۔

خاتمہ:
مختصر یہ ہے کہ ایم ایم ای آر سی نے نئے فارغین مدارس کو زمانے کے چیلنجیز سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب یہ علما بسہولت قومی وبین الاقوامی سطح پر قوم وملت کی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ بحیثیت ادارہ، ایم ایم ای آر سی ایک نمونہ ہے۔ فی الحال ہندوستان میں اس طرح کی خدمات پیش کرنے والے تقریبا ایک درجن ادارے ہیں۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں جہاں ہر سال مدارس سے ہزاروں کی تعداد میں علما فارغ ہوتے ہیں، یہ ادارے ناکافی ہیں؛ کیوں کہ ان اداروں میں بہت ہی محدود طلبہ کا داخلہ ہوپاتا ہے۔ بہت سے علما اپنی خواہش کے باوجود بھی سیٹ محدود ہونے کی وجہ سے داخلہ نہیں لے پاتے ہیں۔ حالات حاضرہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے علما کی ایک بڑی تعداد کو انگریزی زبان سے واقف کرانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے مزید ادارے قائم کیے جانے چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ ان اداروں میں کمپیوٹر وڈپلوما ان انگلش لنگویج اینڈ لٹریچر کے ساتھ ساتھ ماہرین فن سے عصر حاضر کے اہم مختلف موضوعات پر مہینہ میں کم از کم ایک محاضرہ بھی پیش کیا جانا چاہیے!❁❁❁

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ

زلزلے کیوں آتے ہیں؟

از:مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی

24؍ستمبر2019ء کا سورج تما م تر رعنائیوں اور تا بانیوں کے ساتھ طلوع ہو چکا تھا ،حسبِ معمول تاجرین اپنی تجارت ،کاشت کار اپنی زراعت،مزدور اپنی مزدور ی اور مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے اپنے پیشے میں منہمک و مصروف تھے،کسی کے ذہن ودماغ میں غفلت سے بھی اس بات کا خطرہ نہیں گزرا تھا کہ ڈوبنے والا یہ سورج کوئی اندوہ ناک سانحہ اپنے پیچھے چھوڑ جائے گااور تقریباً 4؍ بجے کے آس پاس کوئی زبردست بھونچال آئے گا اور زمین پوری قوت وشدت کےساتھ دھل جائے گی ؛مگر ہونی کو کون ٹال سکتاتھا؟ وہی ہوا جو خدا کو منظو ر تھا،بھارت کےدارالحکومت دہلی سمیت پورے شمالی ہندوستان اورپاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں بالخصوص مقبوضہ کشمیر میں زلزلے کےزبردست جھٹکےمحسوس کیے گئے؛ امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز مقبوضہ کشمیر کا شہر میرپور تھا ؛جس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کے بعد گھروں، دفاتر اور عمارتوں میں موجود لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر آ گئے؛جبکہ رپورٹس کے مطابق زلزلے کا یہ دورانیہ 8 سے 10 سیکنڈ تک تھا۔

سر زمین کشمیر تو سخت اچھاڑ پچھاڑ کے نتیجہ میں تہہ وبالا ہو کر رہ گئی ،کئی گھر منہدم ہوگئے، سڑکیں تباہ وبرباد ہو گئیں اور اخباری اطلاع کے مطابق درجنوں افراد ِ انسانی موت کا لقمہ تر بن گئے ۔

درسِ عبرت دے گیا ہے زلزلہ کشمیر کا

بس نہیں چلتا خدا کے قہر پر تدبیر کا

جب زمین پر بڑھتا جاتا ہے گناہوں کا وبال

دفعتہً یوں جوش میں آتا ہے قدرت کا جلال

جب زمین لرزتی ہے تو آدمی پر اپنی حقیقت آشکار ہو جاتی ہے،اپنی بے بسی ،بےکسی اور لا چار ی کا شدید احساس ہو تا ہے ،گھمنڈ ،تکبر اور نخوت کے بت پاش پاش ہوجاتے ہیں ،اسبابِ ظاہری کی فراوانی؛بلکہ تر قی یافتہ ایجادات اور نت نئی اختراعات کے باوجود اس قادرِ مطلق کی قدرت کا ملہ کا ادراک ہو نے لگتا ہے۔کوئی کسی وقت کتنا ہی تکلف وتصنع سے کام لے؛ مگر ایسے ہو لناک ،روح فرسا اور زہرہ گداز موقع پر ہر ہر متنفس وسعت بھر ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کر تا ہوا دکھائی دیتا ہے ،رجوع الی اللہ ہونے والوں کا تناسب بھی پہلے کے مقابلہ میں کئی گنابڑھ جاتا ہے ،ہر فرد بشر خشیت وانابت کے جذبات سے معمورــــــــ وقتی طور پر ہی سہیــــــــ اپنے اعمال کی اصلاح میں لگ جاتا ہے؛لیکن حیف صد حیف کہ مادیت پر ست قوم میں کچھ نام نہاد روشن خیال ایسے بھی ہو تے ہیں جو معرفت الہی اور بصیرت ایمانی سے محروم، حالیہ تباہیوں اور بر بادیوں پر ظاہری اسباب وذرائع کے تحت تبصرہ کر تے ہیں جن کے تجزئیے اس بات سے آگے نہیں جاتے کہ ’’زیرِ زمیں آگ کا ایک جہنم دھک رہا ہے اس کی بے پناہ حرارت کی وجہ سے زمین غبارے کی طرح پھیل پڑتی ہے اور پھٹ جاتی ہے ‘‘۔زمین ٹھنڈی ہو رہی ہے اور اس کے نتیجہ میں غلافِ زمین کہیں کہیں چٹخ جاتا ہے ۔علاوہ ازیں آج کا سب سے مقبول نظر یہ ہے کہ ’’زمین کی بالائی پر ت اندرونی طور پر مختلف پلیٹوں میں منقسم ہے ،جب زمیں کے اندرونی کُرے میں موجود پگھلے ہوئے مادّے میں کر نٹ پیدا ہو تا ہے تو یہ پلیٹیں بھی اس کے جھٹکے سے متحرک ہو جاتی ہیں جس کو زلزلہ سے تعبیر کیا جاتا ہے ‘‘وغیرہ وغیرہ مختلف سائنسی تحقیقات پیش ہو نے لگتی ہیں؛جبکہ اہلِ اسلام کا اس بارے میں وہی نظریہ ہے جو قرآن وسنت سے ماخوذ ہے اور سائنسی اسباب وجوہات کا دار ومدار بھی خود احکم الحاکمین کی حکمت ومشیت پر ہے اس لئے محض سائنسی اسباب وجوہات کو تلاش کر نے کے بجائے "ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس "کے قرآنی فرمان پر بھی ہماری نظر ہو نی چاہیے۔اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس عظیم سانحے اور بالیقین وقوع پذیر ہونے والے حادثے یعنی قیامت کامختلف مقامات پر صراحتاً و اشارتاً کئی جگہ تذکرہ فرمایا،ایک مقام پر اس کی یوں منظر کشی کی گئی:جب زمیں اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائیگی،ور زمین اپنا تمام بوجھ باہر نکال دے گی اورانسان کہے گا : اسے کیاہوا؟ (سورۃ الزلزال) مفسرین اس آیت سے یہ معنی لیتے ہیں کہ اس وقت زمین کا کوئی مخصوص حصہ نہیں؛بلکہ پورے کا پورا کرہ ارض ہلا دیا جائیگا جسکے نتیجے میں دنیا کا وجود ختم ہو جائے گا۔ مگر اس عظیم زلزلے کے واقع ہو نے سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق زمین کے مختلف حصوں پر زلزلوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوجائےگا۔جیساکہ آپﷺ نےزلزلوں کے بہ کثرت آنے کی و جوہات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب مالِ غنیمت کو اپنی ذاتی دولت سمجھا جانے لگے ،زکوٰۃ، تاوان سمجھ کر نا گواری کے ساتھ ادا کی جائے ، علم کا حصول دنیوی اغراض ومقاصد کے تحت ہو نے لگے ،آدمی والدین کے بجائے بیوی کا فرماں بر دار ہو جائے ، والدین کے مقابلہ میں دوست احباب کو تر جیح دی جائے ،مساجد میں کھلم کھلا شور مچا یاجائے ،قوم کی سر داری فاسق وفاجر افراد کر نے لگیں ،قوم کا سر براہ قوم کا ذلیل ترین شخص بن جائے ،گانے والی عورتوں اور ساز وباجے کا رواج ہو جائے ،شراب نوشی عام ہو جائے اور امت کے بعد والے پہلے لوگوں کو برا بھلا کہنے لگیں تو اس وقت تم سرخ آندھی ،زلزلے ،زمین کے دھنسنے ،صورتوں کے مسخ ہو نے اور آسمان سے پتھروں کی بارش ہو نے کا انتظار کرو۔(تر مذی شریف )

ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے : میری امت پر اللہ کی جانب سے رحم کیا گیا ہے آخرت میں اس کو کوئی عذاب (اجتماعی شکل میں )نہیں ہو گا البتہ فتنوں ،زلزلوں اور قتل وقتال کی شکل میں دنیا میں ہو گا ۔(مسند احمد)

آج جب ہم حدیث کی رو سےاپنا جائزہ لیتےہیں اوراجتماعی طور پر احتساب کرتے ہیں تویہ تمام نشانیاں پوری ہوتی نظر آتی ہیں ۔کیا یہ سچ نہیں کہ آج اہل ثروت کا ایک بڑا طبقہ زکوٰۃ کو تاوان اور ٹیکس سمجھ رہا ہے، امانت ودیانت کا تصور رفتہ رفتہ ختم ہوچکاہے،علم دنیا تو درکنارعلم دین بھی حطام دنیا کمانے کے لیے حاصل کیا جارہاہے، دوست اتنے عزیز ہوچکے ہیں کہ باپ کی حیثیت صرف ایک کھوسٹ بوڑھے کی ہوکر رہ گئی ہے ،گانے بجانےکے اسباب اس طرح عام ہوگئے ہیں کہ لوگ قرآن کی تلاوت بھول گئے، صبح میوزک سے اٹھتے ہیں اور شام بھی میوزک ہاؤس میں ہوتی ہے،زناکاری اور قمار بازی کا حال تو یہ ہے کہ روشن خیال طبقہ میں یہ کوئی بری بات ہی نہیں رہ گئی ہے ،صحابہ اور اسلاف امت کو برا بھلا کہنے والوں کی ایک جماعت آج بھی موجود ہے جو وقفہ وقفہ سے بڑوں کی شان میں دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتی رہتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے جب امت اس ابتر صورت حال سے دوچار ہوگی تو پھر وہ سب کچھ ہوگا؛جس کی مخبر صادقﷺنے پیشین گوئی دی ہے اور اس طرح پے درپے ہوگاجیسے کسی لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور لگاتار اس کے دانے گرنے لگیں ۔پہلے سونامی آئی ، گردابی آندھی آئی ، پتھر برسے، زلزلے کے جھٹکے ایک دن میں کئی کئی بار محسوس کیے گئے، تودے گرے۔ اور پتہ نہیں کیا کیا ہونے کو باقی ہے۔

مختصر یہ کہ زلزلے،ہماری شامتِ اعمال کا نتیجہ ،خوابِ غفلت سے بیداری کا الارم اور ساری انسانیت کے لئے عبرت وموعظت کا ایک پیغام ہیں ۔

کر نے کے کچھ کام :

خوف ناک اور ہول ناک حالات میں بھی ضروری ہے کہ ہم عہد ِ صحابہؓ وتابعین سے رہنمائی حاصل کر یں اور ان کے بتلائے ہوئے خطوط ونقوش پر گامزن رہ کر فلاح دارین سے سر فراز ہوں چنانچہ سیدنا عمرؓ کے عہد خلافت میں ایک مر تبہ شدید زلزلہ آیا کہ چار پائیاں ایک دوسرے ٹکرا گئیں تو حضرت عمرؓ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:تم نے دین میں نئے نئے کام ایجاد کر رکھے ہیں اور اس میں بہت جلدی مچار رکھی ہے اور اگر اس قسم کا زلزلہ دوبارہ آیا تو میں تمہارے درمیان سے نکل جاؤں گا ،ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ زلزلہ تو جب ہی آتا ہے جب تم لوگ دین میں کوئی نئی چیز پیدا کرو،اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر دوبارہ ایسا ہوا تو میں کبھی تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا ۔(مصنف بن ابی شیبہ)

جلیل القدر صحابی سیدنا عبدا للہ ابن مسعودؓ کے زمانہ میں ایک مر تبہ سر زمین کوفہ دھل گئی تو آپ نے بر ملایہ اعلان فرمایا کہ : اے لوگو! یقیناً رب تم سے ناراض ہو چکا ہے تم اسے اپنی رضامندی چاہتا ہے لہذا تم اس کو راضی کر لو اور اس کی طرف رجوع کر تے ہوئے توبہ کر لوورنہ اسے یہ پر واہ نہ ہو گی کہ تم کس وادی میں ہلا ک ہو تے ہو ۔(العقوبا ت لا بن ابی الدنیا )

سر زمین شام جب زلزلہ سے دھل گئی تو حضرت عمربن عبدا لعزیز نے وہاں یہ پیغام بھیجا کہ راہ خدا میں خرچ کرو! جو شخص صدقہ کر سکتا ہے تو وہ ایسا ضرور کر ے اس لئے کہ اللہ کا ارشاد ہے با مراد ہوا وہ شخص جس نے تزکیہ کیا ۔

ان دو چار واقعات سے زلزلوں کی وجوہات اور ان حوادث کے مواقع پر کر نے کے کچھ کام بھی معلوم ہوگئے بہر کیف ان لرزہ خیز زلزلوں سے بر بادیوں اور ویرانیوں کی جو مایوس کن دستانیں بنیں وہ مدت مدید تک خون کے آنسو رلاتی رہیں گی ،کرب واضطراب کے روح فر سا نظارے قلب وروح کو چھلنی کر تے رہیں گے متاثرین کی آہ وبکا اور چیخ وپکار رہ رہ کر یہ احساس دلاتی رہے گی کہ چشمِ زدن میں یہ کیا کچھ ہوا ؟کیسے ہو ا ؟ کہاں کہاں ہوا ؟اور کیوں ہوا ؟

یاد رہے کہ دنیوی زندگی میں آلام ومصائب انسانی فطرت وسر شت کو آزمانے اور مخلوق کو خالق کی جانب متوجہ کر نے کے لئےہی آتے ہیں اور قرآنِ حکیم کی لَعَلَّھُمْ يَرْجِعُوْنَ، لَعَلَّہُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ کی صدائے بازگشت ہمیں ان تباہیوں کے بیچ جھنجھوڑ کراس بات کا پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں ،اپنے نفوس کا محاسبہ کریں ،اور اوامر کی بجا آوری اور نواہی سے اجتناب میں کو تاہی سے احتراز کریں ،ساتھ ہی ساتھ یہ المناک صورتحال میں سب کے لئے فردا ً فرداً امتحان ہے ہمارے ایثار کا ہمارے انفاق کا انسان دوستی کا ،صبر وثبات کا اور فہم ودانش کا ۔

حق تعالی ہمیں حالات سے عبرت لےکر زندگیوں میں انقلاب لانے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

دورِ فاروقی میں دورِحاضر کا حل

22 لاکھ 51 ہزار 30 مربع میل پر حکمرانی کرنے والے انصاف پرور حکمران کے مبارک عہد کی ضو فشانیاں

متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
مرکزی امیر: عالمی اتحاد اہل السنة والجماعة

اللہ تعالیٰ کے مہینہ محرم الحرام کا آغاز ہے۔ محرم الحرام ان چار محترم مہینوں میں شامل ہے جن کو قرآن کریم نے قابل احترام قرار دیا ہے ، حسن اتفاق دیکھیے کہ اسلامی سال کے آغاز میں اللہ کے نام پر قربانی کے داستانیں رقم ہیں اور اسلامی سال کے آخر میں بھی قربانی کا درس موجود ہے۔اسلامی تاریخ میں محرم الحرام کی مناسبت سے دو ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن سے ہمیں معاشرتی زندگی گزارنے کی بہت ساری باتوں کا عملی درس ملتا ہے: پہلا واقعہ خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت جبکہ دوسرا واقعہ نواسہ رسول سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے چند ان پہلووٴں پر روشنی ڈالی جاتی ہے جن کا ہماری عملی زندگی سے بہت گہرا تعلق ہے ، یہ تذکرہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔
قیام امن کی عملی کاوشیں: اسلام میں امن کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جو علاقے اسلامی سلطنت کے زیر نگیں آئے یا جو پہلے سے موجود تھے ان میں عدالتی نظام کو فعال کیا ، مفتوحہ علاقوں میں بنیادی طور پر دو کام کیے جاتے وہاں کے باسیوں کو دین اسلام کی تعلیم سے آشنا کیا جاتا اور دوسرا وہاں عدالتیں قائم کر کے قیام امن اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا۔ آپ نے قانون کے علمی ماخذ کے طور پر قرآن و سنت کے بعد قضائے صالحین کو درجہ دیا چنانچہ سنن نسائی میں آپ کا وہ خط بھی موجود ہے جو آپ نے قاضی شریح کے نام لکھا تھا اور اس میں قانون کے علمی مآخذ کے طور پر قرآن وسنت اور قضائے صالحین کا تذکرہ موجود ہے۔
اس سے ہمیں قرآن و سنت کے بعد صالحین یعنی دین کے ماہرین کے فیصلوں پر عمل کرنے کا درس ملتا ہے۔
کمال دیانت: اسلام باہمی مشاورت پر زور دیتا ہے تاکہ خیر کے پہلو زیادہ سے زیادہ سامنے آئیں اور نقصان دہ پہلو سے بچا جا سکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی اس کی عملی نمونہ تھی، خلیفہ وقت میں عدالت ، دیانت ، تقویٰ ، علم دین سے واقفیت ، انتظامی امور میں اہلیت اور احکام شریعت کے نفاذ کی صلاحیت موجود ہوتی ہے جو اسے عوام ممتاز کر دیتی ہے۔لیکن اس کے باوجود آپ اپنے مشیروں کی بات کو اہمیت دیتے تھے ، اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسے الفاظ ذکر فرماتے جس سے آپ کی کمال دیانت اور عاجزی چھلکتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چنانچہ سنن دار قطنی ، کتاب النکاح میں ہے کہ حضرت ابو سفیان کہتے ہیں کہ مجھے میرے مشائخ نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا اے امیر المومنین میں اپنی اہلیہ سے دوسال غائب رہا ہوں اور جب واپس آیا ہوں تو وہ حاملہ ہے (اس وجہ سے میری اہلیہ شرعی سزا کی مستحق قرار پاتی ہے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے اس کے رجم کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرمانے لگے امیر المومنین !آپ کو عورت کے رجم کرنے کا تو حق ہے لیکن اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس پر آپ کو اختیار حاصل نہیں وہ بے گناہ ہے لہذا اس حکم کو بچے کی ولادت تک موخر کر دیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو بچے کی ولادت تک موخر کر دیا پھر اس خاتون نے بچے کو جنم دیا ، جب اس بچے کے سامنے کے دانت نکل آئے تو اس شخص نے اس بچے میں اپنی مشابہت پائی اور کہنے لگا رب کعبہ کی قسم یہ بچہ میرا ہی ہے۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورتیں معاذ بن جبل جیسا شخص پیدا کرنے سے عاجز ہوچکی ہیں اور اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔اسی طرح لولا علی لھلک عمر کے الفاظ بھی ملتے ہیں کہ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ یہ الفاظ آپ کے کمال دیانت ،انصاف پسندی ، بلندی اخلاق کی علامت ہیں باوجودیکہ آپ بڑے تھے لیکن چھوٹوں کی جو بات درست نظر آئی اسے قبول فرمایا۔ اس میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ ہم بھی چھوٹوں کی آراء کو اہمیت دیں اگر وہ زیادہ بہتر ہوں تو انہیں قبول کریں۔
اس سے ہمیں دیانت و انصاف پسندی کا درس ملتا ہے۔
سربراہ کا سادہ معیار زندگی: سربراہ کے طرز زندگی کے اثرات رعایا پر پڑتے ہیں ، اگر حکمران انصاف پسند ، قناعت پسند اور سادگی پسند ہو تو عوام میں ظلم وتشدد ، خواہش پرستی اور فیشن پرستی جنم نہیں لیتی جس کی وجہ سے معاشرہ سکون و راحت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ باوجودیکہ کہ بہت بڑی سلطنت کے فرمانروا تھے لیکن مزاجاً سادگی اورقناعت پسندی کے خوگر تھے۔ تاریخ ایسے کئی واقعات کی شہادت دیتی ہیچنانچہ ہرمزان سلطنت اہواز کا حکمران جب قید ہو کر آیا تو اس نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ مسجد کے فرش پر لیٹے ہوئے آرام فرما رہے ہیں۔ بیت المقدس کی فتح کا مشہور واقعہ سیرت و تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے : سن 46 ھ میں جب حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیت المقدس کا محاصرہ کیا تو وہاں کے اہل کتاب علماء نے کہا:تم بلاوجہ تکلیف اٹھاتے ہو ، بیت المقدس کو فتح کرنے والا کا حلیہ اور علامات ہماری کتابوں میں موجود ہے اگر تمہارے امام میں وہ سب باتیں موجود ہیں تو ہم آپ کو بیت المقدس حوالے کر دیں گے ، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کو اس بارے اطلاع کی گئی، آپ اپنے ایک غلام کے ہمراہ ایک اونٹ پر سوار ہو کر عازم سفر ہوئے ، زادراہ میں چھوہارے اور جو کے سوا کچھ نہ تھا ، اونٹ پر سوار ہونے کی باریاں مقرر کیں ، کبھی آپ خود سوار ہوتے اور غلام پیدل چلتا اور کبھی غلام سواری پر سوار ہوتا اور آپ پیدل چلتے ، آپ نے جو کرتہ زیب تن کیا ہوا تھا اس میں پیوند لگے ہوئے تھے ، جب بیت المقدس کے قریب پہنچے تو مسلمانوں نے آپ کے لیے ایک عمدہ جوڑے اور گھوڑے کا انتظام کیا ، آپ نے نیا لباس پہنا ، گھوڑے پر سوار ہوئے چند قدم کے بعد فرمانے لگے کہ میرے نفس پر اس کا برا اثر پڑ رہا ہے لہذا مجھے میرے وہی کپڑے اور اونٹ واپس کرو، چنانچہ اسی پر سوار ہوئے اور بیت المقدس پہنچے ، اہل کتاب علماء نیآپ کا حلیہ مبارک اور علامات دیکھی تو برملا کہہ اٹھے کہ ہاں فاتح بیت المقدس یہی ہیں اور آپ کے لیے اس کے دروازے کھول دیے۔
اس سے ہمیں سربراہ کے عام معیار زندگی ،عوام میں گھل میں کر رہنے اور صبر وشکر کا درس ملتا ہے۔
انسانی حقوق میں مساوات: آپ نے اسلام کی نافذ شدہ تعلیم مساوات کو مزید آگے بڑھایا ، چنانچہ کسی علاقے کے حاکم ، گورنر بلکہ خود خلیفة المسلمین کو یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں پر ترجیح دے جو وظیفہ بدریوں کو ملتا وہی آپ لیتے تھے۔
اس سے ہمیں مساوات کا درس ملتا ہے۔
حقوق نسواں کا حقیقی تصور: اسلام میں خواتین کو بہت بلند مقام حاصل ہے اور خواتین میں سب سے اہم عنصر حیا اور تقدس کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے عزت اور حقوق کو محفوظ کرنے کے لیے حجاب کو لازمی سمجھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی رائے کی موافقت میں قرآن کریم نازل فرما کر حجاب کو ضروری قرار دیا۔خواتین کے لیے رائے کی آزادی بھی حقوق نسواں کے ذیل میں آتی ہے چنانچہ ایک مرتبہ جب آپ نے دوران خطبہ خواتین کے مہنگے مہنگے حق مہر کے بارے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا تو ایک عورت نے کہا : اے عمرآپ ہمارے مہروں کو کس طرح کم کرسکتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سونے کے ڈھیر تک مہر لینے کا حق دیا ہے۔ اور قرآن کریم سورة النساء کی آیت نمبر 20 بھی تلاوت کی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس پر بہت خوش ہوئے اور خاتون کو عزت بخشتے ہوئے فرمایا:نساء المدینة افقہ من عمر۔ مدینہ کی خواتین عمر سے زیادہ دین کی سمجھ رکھتی ہیں۔
اس سے ہمیں حجاب، آزدی اظہار رائے اور خواتین کی سماجی عزت و احترام کا درس ملتا ہے۔
مفتوحہ علاقوں کے نظم و نسق: آپ 22 لاکھ 51 ہزار 30 مربع میل زمین پر حکمرانی کرنے والے انصاف پرور حکمران تھے۔ اس کے باوجود آپ مفتوحہ علاقوں کی کثرت پر زور دینے کے بجائے ان کے باسیوں کی تربیت کو ترجیح دیتے۔ آپ نے دمشق ،بصرہ، بعلبک، شرق ،اْردن ، یرموک ، قادسیہ، اہواز، مدائن ، ایران ،عراق ، تکیت، انطاکیہ ،حلب ،بیت ا لمقدس، نیشاپور ، الجزیرہ ، قیساریہ ، مصر ، اسکندریہ ،نہاوند اور دیگر علاقوں کو فتح کیا۔ ان میں تربیتی اور تعلیمی مراکز قائم کیے ، کھلی کچہریاں لگوائیں ، فوری انصاف کو یقینی بنایا ، عوام الناس کی شکایات کو دور کرنے کے لیے احکامات جاری کئے۔ روٹی کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضرورتوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچایا۔
اس سے ہمیں اپنے نظام زندگی میں انصاف ، تعلیم اور نظم و نسق کا درس ملتا ہے۔
اقلیتوں سے حسن سلوک: ایسے کفار جو مسلمانوں سے نہ لڑیں ان سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حمص کو حاصل کرنے کے لیے بطور سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ کو مقرر فرمایا، انہوں نے اسے فتح کیا اور غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا لیکن جب انہیں جنگ یرموک کے لیے حمص چھوڑنا پڑا تو انہوں نے یہ کہہ کر جزیہ واپس کر دیا کہ اب جب ہم آپ کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے تو ہمیں جزیہ لینے کا بھی حق نہیں۔ جب مسلمان حمص سے لوٹنے لگے تو وہاں کے غیر مسلم بھی اس عادلانہ نظام سے محروم ہونے پر رونے لگے۔ بیت المقدس کی فتح ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب کے مذہبی پیشوا کے ساتھ شہر کی متعدد عبادت گاہوں کو دیکھا ،آپ معائنہ فرما رہے تھے کہ اتفاق سے نماز کا وقت ہوگیا انہوں نے آپ اور آپ کے رفقاء کے لیے صفیں بھی بچھا دیں کہ آپ یہاں نماز ادا کرلیں۔ لیکن آپ نے یہ کہہ کر انکار فرمادیا کہ اگر ہم نے یہاں نماز پڑھ لی تو کل کو کوئی یہاں مسجد بنانا نہ شروع کردے میں نہیں چاہتا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں ہم کسی طرح کا حق قائم کریں۔ اسی طرح اہل ایلیا کے غیر مسلموں سے آپ نے معاہدہ امن کیا کہ یہ امن جو ان کو دیا جاتا ہے ، ان کی جانوں ، مالوں ، ان کے گرجاؤں اور ان کی صلیبوں ، ان کے بیماروں ، تندرستوں اور ان کے جملہ اہل مذاہب کے لیے ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کے گرجا گھروں میں رہائش نہ رکھی جائے ، ان کو گرایا نہ جائے ، انہیں اور ان کے احاطوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور نہ ہی ان پر دین کے بارے جبر کیا جائے۔
اس سے ہمیں اقلیتوں سے حسن سلوک کا درس ملتا ہے۔لیکن یہاں یہ بات اچھی طرح ملحوظ خاطر رہے کہ اگر اقلیتیں اپنی حیثیت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو پھر انہیں قانون کے شکنجے میں جکڑنا ضروری ہے۔
سماجی ورفاہی خدمات: قرآن کریم کی تعلیم کے لیے مکاتب و مدارس قائم کیے، قاری صاحبان اور ائمہ مساجد کی تنخواہیں مقرر فرمائیں ، اسلامی تقویم کا آغاز ہجرت نبوی سے شروع فرمایا اور اس کا ابتدا محرم سے فرمائی ، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع فرمائی ، عرب و عجم کے سنگم پر مرکز علم کوفہ کو آباد فرمایا،دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملانے کے لیے نہر سویز کھدوائی جس کی وجہ سے نفع بخش تجارت نے فروغ پایا، محکمہ ڈاک قائم کیا ، شہر کے اندرونی حالات کو درست رکھنے کے لیے محکمہ پولیس قائم کیا ، فوج کو سرحدیں اور محاذ سپرد کیے ، بیت المال تعمیر کرائے ،اپاہج ، معذور اور ضعیف لوگوں کے وظائف بیت المال سے مقرر فرمائے ، مسافروں کے لیے شاہراہوں پر مسافر خانے تعمیر کرائے ، لاوارث بچوں کے تربیتی مراکز قائم کیے ، دریائے نیل کے نام خط جاری فرمایا، اورقیصر و کسری جیسی سپر پاور طاقتیں پاش پاش ہوئیں۔ مورخین کے محتاط اندازے کے مطابق آپ کے زمانہ خلافت میں 3600علاقے فتح ہوئے۔900جامع مساجد اور4000عام مساجد تعمیر ہوئیں۔
اس سے ہمیں تعمیر وطن ، خوشحالی اور ترقی ، اہل علم کی قدر ، مستحق افراد کی معاونت ، یتیموں کی کفالت کا درس ملتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ دور حاضر کے مسائل کا حل دور فاروقی میں موجود ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے عملی زندگی میں لائیں ایسا گے تو ہمارا دنیا بھی سنور جائے گی ، ترقی بھی کریں گے ، ہدایت بھی عام ہو گی ، ضرورت مندوں کی معاونت بھی ہو گی اور معاشرے میں انصاف بھی عام ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مزاج فاروقی اپنانے کی توفیق دے ہمارے معاشرے کو انصاف پسند معاشرہ بنائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم

دنیا بھر میں متون حدیث میں شائع شدہ پہلی کتاب… نسائی

تحریر: مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

نوٹ: چند روز قبل علم و کتاب واٹس اپ گروپ پر ایک استفسار آیا تھا کہ مولانا نور الحسن راشد صاحب کے پاس موجود سنن نسائی کے نسخے کو کتب حدیث کی پہلی کتاب کہا جاتا ہے، کیا اس سے زیادہ قدیم کوئی مطبوعہ کتاب کسی کے علم میں ہے، مطبوعہ کتابوں سے متعلق کتابوں کی تلاش کے بعد ہمیں ڈاکٹر احمد خان کی کتاب معجم المطبوعات العربیۃ فی شبہ القارۃ الھندیۃ و الباکستانیۃ میں ایک دوسری کتاب کا اندراج ملا، اس کی اطلاع جب مولانا کو ملی تو بڑی محنت کے ساتھ سنن نسائی کے پہلے ایڈیش اور متعلقہ معلومات ایک مراسلہ میں ہمیں ارسال کی ہیں، جس پر ہم مولانا کے تہ دل سے ممنون و مشکور ہیں، اور افادہ عام کے لئے مولانا کی یہ تحریر پوسٹ کررہے ہیں۔

ہمارے یہاں بفضلہ تعالیٰ جو کتابیں موجود ہیں ، ان میں پوری دنیا میں متون حدیث میں سے سب سے پہلے شائع مکمل کتاب، سنن نسائی[ جو صحاح ستہ کا ایک اہم جزء ہے]بھی موجود ہے۔یہ کتاب حضرت شاہ محمد اسحاق کی تصحیح ، توجہ او رکوشش سے، ہندوستان کے آخری مغل مسندنشیں، بہادر شاہ ظفر کے ذاتی مطبع ، مطبع سلطانی سے، جو قلعۂ معلی میں تھا ۱۲۵۷ھ [۱۸۴۱ء] میں شائع ہوئی تھی،اس کے آخر میں درج، خاتمۃ الطبع کے الفاظ یہ ہیں:’’وکان الفراغ من ہذہ النسخۃ المبارکۃ المیمونۃ، المسمیٰ بالنسائي، سنۃ ست وخمسین بعد الألف والمائتین من الہجرۃ النبویۃ، علی صاحبہا الصلٰوۃ والتحیۃ في دارالخلافۃ شاہ جہاں آباد في عہد بہادر شاہ ‘‘ [۱۲۵۶ھ مطابق ہے ۴۱۔۱۸۴۰ء کے]اس طباعت کے کل چھ سو ستّر[۶۷۰] صفحات ہیں، آخر میں چود ہ صفحات کاصحت نامہ اغلاط بھی شامل ہے، آغاز کتاب پر، ایک صفحہ میں حضرت شاہ محمد اسحاق کی سنن نسائی کی حضرت امام نسائی تک سند ہے،جس کا آغاز اس طرح ہوا ہے:
’’ یقول العبد الضعیف، خادم علماء الآفاق، محمد اسحاق أخبرنا وأجازنا شیخنا و مولانا الشیخ الأجل المحدث الشاہ عبدالعزیز الدہلوي، لہٰذا الکتاب……‘‘
یہ نسخہ مکرمی مولانا طلحہ نعمت ندوی [نالندہ، بہار] نے دیکھا اور شیخ جمعہ ماجددبئی کے ادارہ کے مجلہ آفاق التراثکے مدیر صاحب کو ایک مراسلہ کے ذریعہ سے اس کی اطلاع دی، انہوںنے فوراً ہی اس کو اپنی اور جمعہ ماجد کی ویب سائٹ پر ڈال دیاتھا، جس سے یہ بات پوری دنیا میں پھیل گئی، لیکن اس کے جواب میں کسی نے لکھا کہ یہ اطلاع صحیح نہیں، دہلی سے سنن نسائی کی طباعت سے پہلے ۱۲۳۳ھ [۱۸۔۱۸۱۷ء] میںسنن ابن ماجہ شائع ہوچکی تھی۔ یہ اطلاع ملی تو تعجب ہوا کہ یہ کہاں سے آئی، اس کا اب تک نہ کسی کتب خانہ اور لائبریری میں سراغ ملا، نہ کسی فہرست اور معجم مطبوعات میں اس کا اشارہ اور حوالہ ہے، نہ کسی محقق نے اس کاتذکرہ کیاہے۔ بہرحال یہ تردید نیٹ پر چلتی رہی، کئی لوگوں سے اس کا علم ہوا، اب سننے میں آیاہے کہ یہ تردید آں مکرم کی جانب سے تھی اور یہ بھی کہ آںمکرم اس اطلاع کو صحیح خیال فرماتے ہیں، اس لئے دو تین باتیں لکھنے کی اجازت چاہتاہوں:
l میری ناچیز معلومات میں دنیا بھر میں امہات کتب حدیث میں سے جو کتاب افق طباعت پر سب سے پہلے جلوہ گر ہوئی وہ یہی سنن نسائی ہے[ جس کا تعارف
شروع میں گذرا] او رجس کو حضرت شاہ محمد اسحاق نے مرتب کرکے مطبع سلطانی [قلعہ معلی] شاہ جہاں آباد [دہلی] سے ۱۲۵۶ھ میں شائع کرادیاتھا۔ اس طباعت کا ایک عمدہ نسخہ ہمارے یہاں محفوظ ہے،جس میں حضرت مولانا نورالحسن [وفات:۱۲۸۵ھ ۔۱۸۶۸ء] نے حضرت شاہ محمد اسحاق سے اور حضرت مولانامحمد یحییٰ کاندھلوی نے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے ۱۳۱۴ھ میںپڑھا، ان دونوں حضرات نے اپنے اساتذہ کے درس میں اس کی تصحیح کی بھی کوشش کی ہے، اس پر دونوں کے قلم سے تصحیحات اور مختصر مختصر افادات درج ہیں۔ اس طباعت کے دو نسخے اوربھی میری نظر سے گذرے ہیں، جن میں سے ایک حضرت شاہ عبدالعزیز اورشاہ رفیع الدین، نیز شاہ محمد اسحاق کے مشترک شاگرد، مولانامنشی جمال الدین کتانوی [مدارالمہام، ریاست، بھوپال، جو بعد
میں نواب صدیق حسن خاں کے خسر بھی ہوگئے تھے، ] کا مملوکہ ہے، اس پر منشی جی کی مہر بھی ہے، اس میں انہوںنے پڑھایا بھی ہے، اوراس پر ان کے قلم سے تصحیحات بھی ہیں۔
سنہ ۱۲۳۳ھ[۱۸۔۱۸۱۷ء] میں دہلی میں کیا، تقریباً پورے شمالی ہندوستان میں، کوئی قابل ذکر مطبع یا طباعتی ادارہ نہیں تھا، دہلی میں، جہاں تک معلوم ہے سب سے پہلا مطبع مولوی محمد حیات کا تھا، دوسرا مطبع سلطانی تھا، جو لا ل قلعہ میں قائم ہوا تھا، پھر اور مطابع قائم ہوتے چلے گئے، اس وقت بلکہ اس کے بعد بھی کم سے کم پچیس سال تک، مطبع مجتبائی کا کہیں پتہ نشان نہیںتھا۔
سنہ ۱۲۳۳ھ[۱۸۔۱۸۱۷ء] میں نہ دہلی میں پریس آیا تھا، نہ وہاں سے کوئی کتاب چھپی ، نہ اس وقت مطبع مجتبائی کا تذکرہ تھا، اس وقت شاید اس کے بانی بھی تولد نہیں ہوئے تھے، اس لئے یہ اطلاع سراسر غلط اور تصحیح طلب ہے۔
یہ غلط فہمی بروکلمان سے چلی،ان کی کتاب میں غلطی سے ۱۳۳۳ھ کی جگہ ۱۲۳۳ھ چھپ گیا،۱؂ بعد والوں کے پاس غالباً اس کی تحقیق کا ذریعہ نہیں تھا، اس لئے انہوںنے اس کو جوں کا توں نقل کردیا، علامہ فواد سزگین کے یہاں بھی یہی ہوا۲؂ اور وہیں سے یہ غلطی ڈاکٹر احمد خاں کے یہاں آئی ہے۔۳؂ ڈاکٹر احمد خاں صاحب نے، اس کے ساتھ مطبع مجتبائی کا اضافہ کرکے ،غلط فہمی میں کچھ اور اضافہ کردیا ۔ وجوہات عرض ہیں۔
l دہلی سے کسی بھی کتاب ،خصوصاً سنن ابن ماجہ جیسی بڑی کتاب کی طباعت، ۱۲۳۳ھ میں ممکن ہی نہیں تھی، کیوںکہ اس وقت تک دہلی ، بلکہ شمالی ہندوستان میں کہیں پر یس نہیں آیاتھا، دہلی میں ۱۲۳۳ھ یا [۱۸۱۸ء] میں کسی طباعتی سرگرمی کی ، کسی بھی زبان میں ہو، کوئی اطلاع نہیں ہے۔
l کتاب یا اخبارات ورسائل کی طباعت تو دور کی بات ہے، اس وقت تک دہلی سے کوئی سرکاری رپورٹ بھی نہیں چھپتی تھی، اس دوران جو سرکاری رپورٹیں یا کوئی انگریزی کتاب چھپی، وہ کلکتہ یا بنگال کے کسی اور شہر ،یالندن کی مطبوعہ ہے۔ دہلی میں [۱۸۱۸ء]میں کسی طباعتی سرگرمی اور پریس کا اب تک تذکرہ نہیں ملا۔دہلی میں پہلا پریس تقریباً ۱۸۴۰ء [۱۲۵۶ھ
میں] یا اس کے قریب آیاتھا، دینیات یا اردو کتابوں کی پہلی اشاعت، مطبع مولوی محمد حیات کی ہے، اس کے بعد قلعۂ معلی [لا ل قلعہ میں] سلطانی پریس قائم ہوا، اس کے بعد مولانا وجیہ الدین احمد سہارنپوری کا مطبع احمدی [جس کو بعد میں حضرت مولانا احمد
علی محدث نے خرید لیا تھا] وجود میں آیاتھا۔
اس کی اس سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ جب کلکتہ سے مولوی امین الدین احمد نے، جو حضرت شاہ عبدالعزیز [وفات: ۱۲۳۹ھ۔۱۸۲۴ء] اور حضرت سید احمد شہید [شہادت:۱۲۴۵ھ۔۱۸۲۹ء] کے متوسلین اور وابستگان میں سے تھے، حضرت شاہ صاحب کو اطلاع دی، کہ بنگال وکلکتہ میں اس طرح کی کچھ مشینیں آئی ہیں، جن سے کتابوں کے بہت سے نسخے، ایک ساتھ تیار ہوجاتے ہیں[ چھپ جاتے ہیں]تواس پر حضرت شاہ صاحب نے بہت خوشی کا اظہار فرمایاتھا اور حضرت شاہ ولی اللہ کی تصانیف میں سے تین کتابوں: الفوز الکبیر، حجۃ اللّٰہ البالغۃ اور الخیر الکثیر کی طباعت کی کوشش کرنے پر توجہ دلائی تھی، کہ اگر ہوسکے تو ان کتابوں کے چھپوانے کی کوشش کریں۔
اگر ۱۲۳۳ھ میں دہلی میں، طباعت کا کام شروع ہوگیا ہوتا، تو حضرت شاہ صاحب ان سے کیوں فرماتے اور کیوں نہ دہلی میں ان کتابوں کی طباعت کے لئے کوشش فرمالیتے۔ بہرحال اب تک اس بات کی کوئی شہادت نہیں ملی کہ دہلی میں ۱۲۳۳ھ [۱۸۱۷ء] میں پریس آگیا تھا، اس لئے اس اطلاع کی تصدیق مشکل ہے۔
l اگر بالفرض ۱۲۳۳ھ میں سنن ابن ماجہ چھپی تھی، تو دنیا بھر کے اہل علم میں سے کوئی ایک تو اس کے دیکھنے یا اس کی موجود گی کا تذکرہ کرتا او رکوئی فاضل یا محقق، اس کی دید سے ضرور مشرف ہوتا، لیکن اس طرح کی کوئی اطلاع ، جہاں تک میرے ناچیز علم میں ہے ، سامنے نہیں آئی۔
سنہ ۱۲۳۳ھ میں تو بنگال کے ان مرکزی مقامات میں، جہاں سے طباعت کے عمل کا آغاز ہوا، فورٹ ولیم کالج بندرہوگلی، مرشدآباد اور کلکتہ تھے، وہاں بھی طباعت کی ابتدانہیں ہوئی تھی، بڑے پریس یا سامان طباعت وجود میں نہیں آئے تھے، فورٹ ولیم کالج کی غالباً پہلی اشاعت’’رسائل اخوان الصفا‘‘ کے اردو ترجمہ کی طباعت ہے، جو پہلی مرتبہ۱۲۲۵ھ [ ۱۸۱۰ء]میں چھپی تھی۔[اس
اشاعت کا ایک نسخہ ہمارے ذخیرہ میں محفوظ ہے] کلکتہ سے اسلامی، دینی عربی کتابوں کی اشاعت ۱۲۳۰ھ [۱۸۱۵ء] میں شروع ہوئی تھی،جہاں تک مجھے معلو م ہے ، دینی علوم کی سب سے پہلی کتاب، جو برصغیر ہندیا پوری دنیا میں شائع ہوکر، عام ہوئی ،وہ ۱۸۱۵ء کی مطبوعہ سراجی ہے، اس سے پہلے غالباً کوئی بھی دینی متن یا عربی کتاب، برصغیر ہند میں شائع نہیںہوئی۔ کلکتہ سے فقہ، اصول، کلام اور عربی ادب کی متعدد کتابیں مسلسل چھپیں، لیکن مشکوٰۃ المصابیح اور علامہ شیخ عبدالحق کی شرح مشکوٰۃ کے علاوہ، حدیث کی کسی بڑی کتاب کی ۱۲۵۶ھ [۱۸۴۰ء] تک، بنگال کے مطابع سے طباعت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ مشکوٰۃ المصابیح بھی بہت بعد میں چھپی تھی، لیکن فقہ حنفی کی بڑی کتابیں ہدایہ، وقایہ ، مختصر وقایہ ، شروحات ہدایہ، درمختار ، فصول عمادی، فتاویٰ حمادیہ ،فتاویٰ عالمگیری وغیرہ مختلف مطابع سے وقتاً فوقتاً چھپتی رہیں۔
ان تمام وجوہات کی وجہ سے بلاتأمل کہاجاسکتاہے کہ ۱۲۳۳ھ میں یا اس کے قریب، دہلی سے سنن ابن ماجہ یا کسی بڑی کتاب کی طباعت کی اطلاع ناقابل قبول اور تمام تاریخی آثار وشواہد کے خلاف ہے۔
سنن نسائی کی طباعت کے بعد، جو حدیث شریف کی مکمل کتاب سب سے پہلے شائع ہوکر سامنے آئی، وہ سنن ترمذی ہے، جس کو حضرت مولانا مملوک العلی کے تعاون سے، حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری نے مرتب کیا تھا، اس کی طباعت کا سید اشرف علی کے مطبع اشرف العلوم، دہلی میں، صفر۱۲۶۵ھ[جنوری ۱۸۴۹ء] میں آغاز ہوا تھا، مگر اس مطبع کا سلسلہ طباعت بہت سست تھا، اس لئے اس کی طباعت حضرت مولانا احمدعلی نے ،اپنے مطبع احمدی میں منتقل فرمالی تھی،جو ۱۲۶۶ھ [۱۸۵۰ء] میں مکمل ہوئی، اس طباعت کے تین نسخے میری نظر میں ہیں،مفصل معلومات کے لئے دیکھئے: راقم کی تالیف: استاذ الکل حضرت مولانا مملوک العلی ص:۲۳۸،۲۴۱، [۱۴۳۰ھ۔۲۰۰۹ء]
سنن ترمذی کی طباعت کے ساتھ ہی، حضرت مولانا احمد علی کے مطبع احمدی سے حدیث شریف کی امہات کتب کی طباعت، تصحیح اور تحقیق وتعلیق کے ساتھ شروع ہوگئی تھی، جس سے سنن نسائی کے علاوہ کتب خمسہ چھپیں، جس میں صحیح بخاری کا بے نظیر وبے مثال نسخہ سرفہرست ہے، اس کے بعد ہی ہندوستان میں کتب حدیث کی طباعت کا سلسلہ عام ہوا اور مختلف مطابع سے طرح طرح کی اشاعتیں سامنے آنی شروع ہوگئیں۔ یہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ عالم اسلام اور دنیا کے عرب میں طباعت کتب کے سلسلہ کا ہندوستان کے بہت بعد آغاز ہوا اور خصوصاً کتب حدیث، صحاح ستہ وغیرہ تو اس کے تیس پینتیس سال بعد چھپنی شروع ہوئی تھیں۔
l سنن ابن ماجہ کی سب سے پہلی طباعت وہ ہے، جو حضرت شاہ عبدالغنی مجددی، دہلوی[مہاجر مدنی
] کی تصحیح اور حاشیہ [انجاح الحاجہ] سے مزین ہوکر، عمدۃ المطابع دہلی سے باہتمام مولوی محمد حسین ۱۲۷۳ھ [۵۷۔۱۸۵۶ء] میں شائع ہوئی تھی، اس طباعت میں اصل کتاب کے آغاز سے پہلے ایک فاضل صفحہ ہے، جس میں حضرت شاہ عبدالغنی مجددی نے اپنی سنن نسائی کی اجازات اور سندوں کا تذکرہ فرمایاہے،جو یہ ہیں:
(الف)اپنے والد ، شیخ ابوسعید دہلوی سے، جو ۱۲۵۰ھ میں حاصل ہوئی ۔ (ب)شیخ محمد عابد سندھی المدینۃ المنورۃ
سنن ابن ماجہ ایک مرتبہ مولانا فخرالحسن گنگوہی کے حاشیہ مرتب ہوکر،مطبع فاروقی دہلی سے چھپی تھی، اس پر طباعت درج نہیں۔
l مطبع مجتبائی مولوی منشی ممتاز علی صاحب نے میرٹھ میں قائم کیا تھا، اول اول حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، اسی مطبع میں ملازم تھے۔
سنہ ۱۹۴۷ء تک مطبع مجتبائی ، جامع مسجد دہلی کے، جنوبی دروازہ کے سامنے، گلی سے اندرجاکر جنوب مغرب میں واقع تھا، وہ بڑی حویلی جس میں مطبع مجتبائی تھا، خلیق منزل کے نام سے معروف ہے اور اب بھی موجود ہے۔
l مطبع مجتبائی منشی ممتاز علی صاحب نزہت رقم نے قائم کیاتھا، منشی ممتاز علی جو خط نسخ کے اپنے عہد کے نادرہ کارخطاط اور بہادرشاہ ظفر کے خاص شاگرد تھے، خصوصاً قرآن کریم کی تحریر وتزئین میں بے مثال تھے۔ مطبع مجتبائی کے نام سے دو بڑے اشاعتی ادارے دہلی اور میرٹھ میں قائم کئے تھے، جس میں شائع ہر ایک کتاب، حسن تحریر اور صحت کانمونہ ہوتی تھی۔
l ہندوستان میں قرآن کریم کی اعلیٰ سے اعلیٰ طباعتوں اور بہترین ترجموں کی مختلف انداز اور اعلیٰ معیارات پر طباعت میں قدیم مطبع مجتبائی کا بہت بڑا اور خاص حصہ ہے۔ اس مطبع نے جو قرآن کریم چھاپے، وہ صحت متن ، صحت الفاظ اور حسن کتابت وطباعت میں بے نظیر ہیں، ایک دو نہیں بلکہ مطبع مجتبائی کے چھپے ہوئے تقریباً بیس قرآن کریم میری نظرسے گذرے ہیں، اس کے علاوہ اور بھی ہوںگے اور ان میں سے ہرایک ایسا دیدہ زیب ہے کہ اس کود یکھ کر ، یہی کہنے کو جی چاہتاہے: جا ایں جا است!
اس مطبع نے سنن نسائی کا ایک اہم نسخہ بھی شائع کیا تھا، جس میں مولانا شیخ محمد محدث تھانوی کا حاشیہ تھا، یہ نسخہ جو ۱۳۱۵ھ [ستمبر۱۸۹۸ء] میں شائع ہوا تھا، مطبع مجتبائی کی او رطباعتوں کی طرح، بہت عمدہ اور قابل دید ہے، اس کا ایک نسخہ ہمارے ذخیرہ میں ہے۔
l مطبع مجتبائی کی ایک بڑی شاخ میرٹھ میں بھی قائم ہوگئی تھی، اس نے بھی بڑی بڑی بنیادی اور اہم کتابیں شائع کیں، اس میں بھی حضرت مولانا قاسم نانوتوی نے کام کیا۔
مطبع مجتبائی دہلی کی اہم اور بڑی خاص مطبوعات میں شامی ممتاز ہے،جو بہت عمدہ ، نفیس کاغذ پر بڑے سائز کی پانچ جلدو ں میں چھپی تھی، تحریری صراحت تو نہیں ملی، لیکن اپنے اساتذہ خصوصاً ،مولانا مفتی مظفر حسین صاحب سے سناتھا کہ شامی کے اس نسخہ کی تصحیح بھی، مولانا قاسم صاحب نے فرمائی تھی، اہل علم کا خیال ہے کہ شامی کا یہ نسخہ سب سے زیادہ صحیح ہے۔
بہرحال قدیم مطبع مجتبائی کی طباعت کا ایک بڑا سلسلہ دہلی سے بھی جاری رہا، چند سال بعد مطبع مجتبائی کے مالک منشی ممتاز علی صاحب نے ہندوستان سے ہجرت کرکے حرمین شریفین میں قیام کا ارادہ کرلیاتھا، اس وقت اپنا یہ دارالاشاعت مطبع مجتبائی مولوی عبدالاحد صاحب کو ۱۸۸۶ء میں فروخت کردیا تھا۔منشی جی نے مکہ معظمہ میں بھی مطبع مجتبائی کے نام سے ایک پریس لگایا تھا، مکہ معظمہ کے اس مطبع سے بھی دو تین چھوٹی چھوٹی کتابیں شائع کی تھیں، مگر وہ مطبع دیر تک نہیں چلا۔
مولوی عبدالاحد صاحب نے مطبع مجتبائی خریدلینے کے بعداس پر بڑی توجہ کی اور اس کوتجارتی مرکز سے بڑھا کر بڑا علمی، تصنیفی ادارہ بنادیا تھا، جہاں سے حدیث وتفسیر، فقہ اصول وکلامیات اور بیسیوں موضوعات پر، بہت عمدہ اعلیٰ درجہ کی بے شمارکتابیں ،تصحیح کے اہتمام ، حواشی اور تعلیقات کے ساتھ چھاپیں ،جس میں سے بہت سی کتابیں عصر حاضرتک تصحیح وتنقیح کی مثال بنی ہوئی ہیں۔
مطبع مجتبائی نے اس دور میںبھی، حدیث شریف کی اعلیٰ کتابیں، صحیحین اور سنن نسائی وغیرہ شائع کیں،مگر یہ ۱۳۰۰ھ کے کسی قدر پہلے اور بعد کی بات ہے۔بہرحال مولانا عبدالاحد صاحب کی نگرانی میں، مطبع مجتبائی نے طباعت واشاعت کابہت وسیع اوراعلیٰ درجہ کا کام شروع کیا تھا، جو ۱۹۴۷ء تک جاری رہا۔۱۹۴۷ء میں مولوی عبدالاحد کے اخلاف پاکستان چلے گئے تھے، کراچی میں مطبع مجتبائی کا احیاء کیا ، جو غالباً اب تک کام کررہاہے۔
سنن نسائی کی ایک اور قابل ذکرطباعت وہ ہے ،جس پر مولانا ڈپٹی نذیر احمد صاحب[مشہور مصنف اور ناول نگار] کا عمدہ حاشیہ ہے، اس حاشیہ کی مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب نے تکمیل کی تھی، یہ نسخہ بھی سال۱۳۱۵ھ [۱۸۹۸ء] میں مطبع انصاری، دہلی سے چھپاتھا، یہ بھی ہمارے ذخیرہ میں موجودہے۔
l جہاں تک معجم المطبوعات العربیۃ فی شبہ القارۃ الہندیۃ [طبع اول، ریاض]کی بات ہے ، تواس کی اکثر اطلاعات بغیر حوالہ کے یوسف سرکیس سے منقول ہیں،جناب مرتب کی اپنی معلومات کم ہیں اور جو معلومات ہیں، اس میں خصوصاً ۱۸۵۷ء [۱۲۷۳ھ] سے قبل کی اور بنگال کے مطابع کی مطبوعات کا، جو غالباً کئی سو ہیں، بہت کم تذکرہ ہے اور جو تذکرے ہیں، ان میں اغلاط کی کمی نہیںہے، میں اپنی جسارت کی معافی چاہتاہوں، کہ اس کی تقریباً ایک چوتھائی اطلاعات بالکل غلط ہیں، کتابوں، مصنفین،مطابع، سنین طباعت وغیرہ ہر طرح کی غلطیاں خاصی مقدار میں ہیں، مزید یہ کہ اس میں فارسی کتابوں ، اردو ترجموں اور بعض بالکل غیرمتعلق اشاعتوں،کتابوں کے نام بھی آگئے ہیں۔
میںنے تقریباً بیس سال قبل جب سب سے پہلے یہ کتاب دیکھی پڑھی تھی اس وقت اس کی فروگذاشتوں کی مفصل نشان زد کیا تھا، مگر اس کی اشاعت کا خیال نہیں ہوا۔ تاہم اس فہرست پر بہت اعتماد درست نہیں۔ آخر میں طول بیانی کے لئے معذرت خواہ ہوں کہ چھوٹی سی بات کی وضاحت میں کئی صفحے سیاہ ہوئے ،مگر کیا کرتا :

مقطع میں آپڑی تھی ، سخن گسترانہ

بشکریہ

مولانا عبد المتین منیری

http://www.bhatkallys.com/ur/articles/nurulhasanrashid/

مسلمان سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں

محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ

یہ ایک حقیقت ہے کہ 2014 کے بعد ہمارا عزیز ملک ہندوستان خاصا بدل سا گیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے. یہ تبدیلیاں مسلمانوں کے حق میں مجموعی طور پر بہت منفی ہے،جو بہرحال ملک کے لیے اور آگے آنے والی نسلوں کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتی ہیں.

موجودہ حالات مسلمانوں کے لئے تقریباً ایسا ہی ہے جیسا کہ1857 کے بعدکا ہندوستان. 2017 کے ہندوستان کے مسلمانوں کے حالات سے 1860 کے ہندوستان کا موازنہ کرنا کافی حدتک درست ہوگا. یعنی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے مذہبی، جذباتی، تعلیمی اور سماجی و بلکل ذاتی مسائل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا، ہندوں اور مسلمانوں میں نفرت پیدا کرنا اور مسلمانوں میں گروہی و مسلکی اختلافات کو ہوا دینا تاکہ یہ آپس میں لڑتے، مرتے رہیں اور حکومت میں بیٹھے لوگ اپنے حوارین کے ساتھ اپنے مقاصد کے انجام دہی میں مشغول رہیں.

آج ہندوستان میں جو کچھ بھی ہورہا ہے- بات بات پر بھیڑ کے ذریعہ معصوموں کا قتل، ٹوپی، داڑھی اور برقہ کے ساتھ نفرت اور کسی کو دکان سے اٹھا کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نام نہاد جیت کی خوشی منانے پر ملک کے خلاف بغاوت(Sedition)کے کیس میں جیل بھیجدنا؛ یہ سب اچھی خاصی پلاننگ اور انتھک محنت کا حصہ ہے، جس پر آر ایس ایس(RSS) اور اسکی ذیلی تنظیمیں گزشتہ تقریباً سو سالوں سے کام کرہی ہیں. یہ لوگ تو انگریزوں کے ساتھی تھے اور ملک کی آزادی اور تقسیم کے ساتھ ہندوستان پر ہندو راشٹرکے آقاؤں کےطور پر قابض ہونا چاہتے تھے. لیکن جنگِ آزادی کے حقیقی راہنماؤں جیسے مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، مولانا ابوالکلام آزاد اور انکے جیسے وطن پرست، اتحاد و باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے متوالوں کی فراست اور قائدانہ صلاحیت کی وجہ سے ناکام ہوگئے.

اب2014 میں جا کر ان کو ہندوستان کی سیاست میں جس طرح کی کامیابی چاہیے تھی وہ ملی، اور انہوں نے اپنے ایجنڈے پر کام کرنا شروع بھی کردیا. ہندوستان کی عوام کو 1857 کے بعد بھی کامیابی ملی، اگرچہ کافی قربانیوں کے بعداور اب بھی ملیگی انشاءاللہ. لیکن اس کے لئے بےحد محنت اور لگن کے ساتھ بہت اچھی پلاننگ اور اٹوٹ اتحاد کا مظاہرہ کرنا پڑے گا. اب کی بار لڑائی ہندوستان کےاندر موجود برہمنواد کے ناسور سے ہے. اور یہ خطرناک وائرس(Virus) ہے جس نے یورپ، امریکہ میں مسلمانوں کےخلاف بےحد متشدد(Extreme Right) گروپس اور مسلمانوں کے ابدی دشمن اسرائیل کے ساتھ ملکر ایک برمودا ٹرائنگل(Bermuda Triangle) جیسا ہلاکت خیر ٹرائنگل اتحاد کیا ہوا ہے.

اس صورت حال میں سیکولر ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دلت میں سے کوئی بھی گروپ تنہا میدان میں اترےگا تو کامیاب ہونا بہت مشکل ہے. یاد رہے کہ 1857 اور 2017 میں 160 سال کا لمبا فاصلہ بھی ہے. حالات، تقاضے، انداز، سوچ، طریقہء کار اور آلات سب میں بہت فرق ہے. آج سرحدیں جیتی نہیں جاتی حکومتیں بدلی جاتی ہے جسکو رجیم چینج (Regime Change) کا نام دیا جاتا ہے. آج پروپیگنڈہ صرف انسان کے ذریعہ نہی بلکہ زیادہ تر میڈیا کے ذریعہ کیا جاتا ہے. اور آج میڈیا صرف اخبارات اور ٹی وی چینلز کا نام نہیں بلکہ سوشل میڈیا ان سب سے آزاد، سستا اور ہر شخص کے اپنے کنٹرول میں بھی ہے.

گزشتہ دس سالوں کے اندر دنیا بھر میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ سوشل میڈیا عوامی تحریک اور حکومتوں اور عوام کے درمیان تبادلہ خیال میں زیادہ کارگر ثابت ہوا ہے. تو پھر ہندوستان کے 25 کروڑ مسلمان اس نعمت کو اپنے لیے اور اپنے ملک کے مفاد میں مثبت اور مؤثر انداز میں کیوں نہ استعمال کریں؟

آرایس ایس کے تنخواہ یافتہ اور بغیر تنخواہ کے رضاکار مرد و خواتین دو کام خاص طور پر کرتے ہیں. ایک اپنے اغراض و مقاصد کی تشہیر اور دفاع کے لیے سوشل میڈیا پر بہت فعال ہوتے ہیں، کچھ بھی لکھتے اور شیئر کرتے ہیں. جن کو ان کے مخالفین اور سنجیدہ دنیا ٹرولز (Trolls) یعنی پریشان کرنے والا نامعقول گروپ کے نام سے پہچانتی ہے. دوسرا ان کا ایک گروپ خاص طور پر خواتین پر مشتمل چھوٹے چھوٹے جتھہ کی شکل میں گاؤں گاؤں اور گھر گھر جاتا ہے. الیکشن کے ایام میں یہ بہت فعال ہوتا ہے اور پھر یہی لوگ بی جی پی کے بوتھ (Booth) کمیٹی کے اہم ممبر ہوتے اور الیکشن کے دن ان ہی میں سے کوئی بی جی پی کا پولنگ ایجنٹ بھی ہوتا ہے.

لہذا صرف تین سالوں میں درجنوں بڑی بڑی ناکامیاں – ڈیمونیٹائزیشن، (Demonitization) کالا دھن، کرپشن، قیمتوں میں مسلسل اضافہ، GDP میں گراؤٹ، FDI میں کمی، کسانوں کی خودکشی، کشمیر کا مسئلہ، نظم و نسق اور امن آمان تقریباً ہر سمت ناکام ہونےْکے باوجود اگر بی جی پی الیکشن پر الیکشن جیت رہی ہے تو اس کے لئیے اس کے مائکروپلانگس(Micro Plannings) اور سخت محنت کو کریڈٹ دینا پڑے گا. BJP کے پاس صرف trolls ہی نہیں بلکہ اچھی طرح سے تربیت یافتہ، قربانی دینے والے لوگ ہر میدان؛ تعلیم، صحت، پولیس، کورٹ اور تجارت میں کروڑوں کے تعداد میں موجود ہیں.

برہمنواد ایک سوچ (Ideology) کا نام ہے. اس نے بہت کوشش اور مسلسل جد و جہد کے بعد ہندوستان پر اپنا پنجہ جما یا ہے. اس کا مقابلہ سست، سطحی اور محض جذباتی انداز سے بالکل نہیں ہو سکتا. ایک سوچ کو دوسرے سوچ سے ہی بہتر طریقے سے مارا جا سکتا ہے. اس کے لیے1916 کے بعد والی پلاننگ و اتحاد جیسی پلاننگ واتحادا کے ساتھ ساتھ 2017 والی ٹیکنیک اور دماغ کو بیک وقت بروئے کار لانا پڑے گا.

سوشل میڈیا کے ذریعہ ملک میں جمہوریت، محبت، آپس میں بھائی چارگی اور امن و سکون کے حامی ہر طبقہ اور ہر مذہب کے لوگوں کو پکارنا پڑےگا. پھر گاؤں گاؤں اور گھر گھر تک ہندوستانیت کا تعارف کے ساتھ ساتھ برہمنواد کے نقصانات کو بھی پہونچانا پڑے گا.

کیا ہم یہ سب کر سکتے ہیں؟ کیوں نہیں، آپ کو کرنا ہی پڑے گا. نہیں تو آج جنید، پہلوخان اور محمد اخلاق کا نمبر تھا کل آپ، آپکا بھائی اور آپکے بیٹے کا بھی نمبر آسکتا ہے. آج آپ کا ہندوستان بہت پیارا ہے، اس کے دستور پر آپ کو فخر ہے اور ہونا بھی چاہیے، لیکن اگر آپ آج بھی ہوش کے ناخن نہیں لیں گےتو کیا معلوم کل یہی ملک ہم سب کے لئے اور ہمارے بچوں کے لئے کوئی برما، کوئی اسرائیل نہ بن جائے. تاریخ گواہ ہے کہ الحمراء (موجودہ اسپین کا ایک شہر) سےایک ساتھ تقریباً پچاس لاکھ مسلمانوں کا انخلاء ہوا ہے. اندلس (موجودہ اسپین) کی مسجدیں، وہاں کے باغات اور نہریں، وہاں کی لائبریریاں اور تعلیمی ادارے ہمارے جامع مسجد، لال قلعہ، قطب منار اور تاج محل، ہماری خدا بخش لائبریری، ہمارے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دارالعلوم دیوبند کے جیسے یا اس سے عظیم تھے. چنانچہ آپ کو، ہم سب کو آج ہی مورچہ سنبھالنا پڑےگا. عقلمند وہی ہے جوطوفان سے پہلے تیاری کرتا ہے.

سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹوئٹر (Twitter) اور فیس بک (Facebook) پر ھشٹگ(Hashtag) # نشان کے استعمال کا بہت فائدہ ہے. اس لئے خاص موضوعات پر ھشٹگ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں. #Hashtag ہمیشہ الفاظ کے درمیان بغیر اسپیس(Space) کے استعمال کیا جاتا ہے. مثلاً آپ جب Not In My Name کو ھشٹگ کرنا چاہتے ہیں تو آپ #NotInMyName لکھیں گے. Capital(بڑے) یا Small (چھوٹے) حروف کے ساتھ لکھنے سے کوئی فرق نہیں ہوتا، بس درمیان میں اسپس (خلا) یا دوسرا کچھ نقطہ وغیرہ نہیں ہونا چاہیے.

ٹؤئٹر اور فیس بک میں @ (at) کا نشان استعمال کیا جاتا ہے جب آپ کوئی پیغام کسی خاص شخص کو بھیجنا چاہتے ہیں یا کسی عمومی پیغام میں ایک خاص شخص یا کچھ شخصیات کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں. لیکن اس کے لیے آپ کو اس شخص یا شخصیات کا Twitter اور Facebook ہینڈل معلوم ہونا چاہیے، اور یہ بھی ہمیشہ بغیر اسپیس کے لکھا جاتا ہے. مثلاً میرا ٹوئٹر اور فسبک دونوں ہنڈیلس mb.qasmi@ ہے. اب اگر آپ نے کسی پیغام کے بالکل شروع میں…mb.qasmi@ لکھا تو یہ پیغام صرف میں اور آپ دیکھیں گے اور اگر آپ نے پیغام کے درمیان یا آخیر میں مثلاً آپ نے میسج لکھا India against #MobLynching We demand #JusticeforJunaid
@mb.qasmi @EC_Editor
اس صورت میں آپ کا یہ پیغام آپ کے تمام دوست جو آپ کی لسٹ میں ہیں وہ تو دیکھیں گے ہی، شیئر بھی کر پائیں گے اور ساتھ ساتھ MB.Qasmi اور Easter Crescent کے ایڈیٹر کو بھی ارسال ہوگا جو اگرچہ آپ کے Friends’ List میں شامل نہیں ہیں.

سوشل میڈیا میں عوامی پیغام بھیجنے کے لئے چاہے Text, Image یا Video کی شکل میں ہو ٹوئٹر اور فیس بک ہی بہترین ذریعہ ہے. ان کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہونا چاہیے. تجارت یا پروفیشنل ترسیل و ارسال کے لئے Linkedin، فوٹو شیر کے لیے Instagram اور Flickr اور ذاتی یا چھوٹے گروپ میں کمیونیکیشن کے لئے WhatsApp بہترین ذریعہ ہے.

چنانچہ ان تمام سوشل ذرائع ابلاغ کا سمجھ بوجھ کراور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سماجی اور ملکی مفاد عامہ کے لئے زیادہ سے زیادہ استعمال ہونا چاہیے. یہ وقت کا ایک اہم تقاضہ بھی ہے اور پڑھے لکھے لوگوں کی ذمہ داری بھی. جوش اور محض جذبات سے آگے معقول انداز میں سب کو جوڑنے کی باتیں کی جائے. جدید سائبر جرائم قانون (Cyber Crime Act) کی خلاف ورزی نہ کی جائے اور بلا وجہ خون خرابہ کی تصاویر یا وڈیوز شیر کرکے امن و امان کو بگڑنے بھی نہ دیا جائے .

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا. آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا.