مولانا اسرار الحق قاسمی: آہ!قوم و ملت کے عظیم محسن و رہنما

نوشیر احمد*
(خادم حضرت مولانااسرارالحق قاسمی رحمةاللہ علیہ)

سیاسی اورملی قیادت کے موجودہ منظرنامے پرجن شخصیات کواپنی سماجی،تعلیمی اور مذہبی خدمات کی بدولت ہر طبقے کا اعتبارحاصل تھا،ان میں حضرت مولانا محمد اسرارالحق قاسمی کا نام نمایاں تھا۔ان کی خدمات کا سلسلہ ہر اس طبقے سے جڑاہواتھا جو معاشی،تعلیمی اور سماجی طور پر پچھڑا ہوا ہے۔ انھوں نے ان طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیاجوسماج میں حاشیائی حیثیت کے حامل ہیں۔ حضرت نے بڑی خاموشی کے ساتھ ان طبقات کی زندگی کے معیار کو بلند کرنے اورانھیں زیورِعلم سے آراستہ کرنے کی کوشش کی۔خاص طور پر انھوں نے ان دورافتادہ علاقوں کواپنامیدانِ عمل بنایا، جہاں علم اورتہذیب و دانش کی روشنی آزادی کے بعدبھی نہیں پہنچ سکی تھی۔روشن اورتاب ناک علاقوں کوسجانا سنوارنا اتنا مشکل نہیں ہوتاجتناکہ تاریک اور اندھیرے علاقوں کوروشن کرنا۔ مولانا نے اس سمت میں سوچ کر یقیناً ایک ایسا کارنامہ انجام دیا، جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی اور نہ ہی ان علاقوں کے عوام انھیں بھول سکتے ہیں۔جن کے نصیب میں محرومیاں،تاریکیاں ہی لکھی ہوئی تھیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت کواپنے علاقے میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل تھی اورلوگ انھیں ایم پی صاحب کہنے کے بجائے حضرت صاحب ہی کہتے تھے،خاص طور پرخواتین کے درمیان حضرت کاغیر معمولی احترام تھا اور الیکشن کے دنوں میں وہ مولاناکی کامیابی روزے بھی رکھتی تھیں ، حضرت جنازے میں جہاں دوردورسے لوگوں نے شرکت کی وہیں خواتین کی بہت بڑی تعدادبھی اظہارغم کرتے ہوئے اکٹھاہوئیں ۔
مولانا کی شخصیت بین الاقوامی سطح پر بھی متعارف ہے اور ان کی فعال قیادت کوصرف برصغیر نہیں،بلکہ برطانیہ اوردیگرممالک کے باشعورلوگ بھی تسلیم کرتے اور خراجِ تحسین پیش کرتے تھے۔ان کی شخصیت کسی ایک دائرے میں قید نہیں تھی،بلکہ انھوں نے مختلف محاذپراپنی فعالیت کاثبوت دیااوراپنی شخصیت کے تحرک سے مسلم قیادت کوبھی ایک مثالی نمونہ پیش کیا۔
مولانا کو عملی طورپرمیدانِ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل ہی مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا اندازہ ہوگیا تھا،اسی لیے نامساعدحالات کے باوجودبھی انھوں نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد ڈالی،جس نے آگے چل کرایک تحریک اور مشن کی شکل اختیار کرلی۔آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن مولانا کے خوابوں کی وہ تعبیر ہے،جس نے بہت سے پژمردہ آنکھوں میں مستقبل کے خواب روشن کردیے اوراسی ادارے کی وجہ سے بہت سے وہ افراد بھی تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کر رہے ہیں جومعمولی تعلیم کا بھی تصور نہیں کر سکتے تھے۔آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن نے روزبروز اپنے دائرہ کار کو وسعت دے کر ان علاقوں کو بھی اپنی تعلیمی بیداری مہم میں شامل کیا جہاں سرکاری سطح پرتعلیم اور تدریس کے انتظامات نہیں تھے۔اس طرح مولانا نے اپنے فاؤنڈیشن کے ذریعے تعلیم کی روشنی ان پسماندہ علاقوں تک بھی پہنچائی جہاں آزادی کی نصف صدی کے بعد بھی تاریکی ہی تاریکی تھی۔
حضرت نے باضابطہ میدان سیاست میں سرگرم ہونے کے بعد بھی اپنے تعلیمی مشن کو ترک نہیں کیا،بلکہ اس کے دائرے کو اور وسعت دینے کے لیے انھوں نے بھر پور کوشش کی اور آج اللہ کا فضل ہے کہ اس تعلیمی مشن کی وجہ سے طلباء اور طالبات عصری اور دینی علوم سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔کشن گنج میں ملی گرلس اسکول اس کا جیتا جاگتاثبوت ہے۔جہاں تقریباً 500 لڑکیاں زیر تعلیم ہیں،جنہیں دینی ماحول میں عصری تعلیم سے آراستہ کیاجاتاہے ۔ اس کے علاوہ ملک کے چار صوبوں جھارکھنڈ، مغربی بنگال،بہار اور یوپی کی غریب و خستہ حال مسلم بستیوں میں سیکڑوں مکاتب قائم کیے،جن میں ہزاروں طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں،غازی آباد،مغربی بنگال اور کشن گنج میں درج? حفظ کے مدرسے قائم کیے جہاں سیکڑوں غریب طلباکو مفت طعام وقیام کی سہولیات میسر ہیں۔فاؤنڈیشن کے زیراہتمام مولانانے ملک کے مختلف پسماندہ علاقوں میں تین سوسے زائدمساجدبھی تعمیرکروائیں ۔ مولاناکی تعلیمی جدوجہد کا ایک اور کارنامہ ملک کے سب سے زیادہ پسماندہ ضلع کشن گنج میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی شاخ کا قیام ہے۔ اس کے لیے سخت جدوجہدسے کام لیا، بہت سے لوگوں نے سیاسی وجوہات کی بناپرآپس میں ہی انتشارپیداکرنے کی کوشش کی، مگرمولانانے نہایت بصیرت اوردوراندیشی سے کام لیتے ہوئے نہ صرف علاقے کے تمام مسلمانوں کومتحدکیابلکہ اپنی ہی پارٹی کی حکومت کے خلاف مظاہرات کیے اوربالآخر حکومت نے ان کامطالبہ تسلیم کرتے ہوئے کشن گنج میں اے ایم یوشاخ قائم کیا ۔ اسی طرح گزشتہ سال تین طلاق بل کے سلسلے میں بھی حضرت نے زبردست دینی وملی غیرت وبصیرت کامظاہرہ کیااورلوک سبھامیں بل پاس ہوجانے کے بعد مولانانے پارٹی کودھمکی دی کہ اگرراجیہ سبھامیں بل کی مخالفت نہیں کی گئی تووہ پارٹی سے استعفادے دیں گے، مولاناکے اس رویے کاپارٹی پرغیرمعمولی اثرہوااوربالآخرکانگریس نے راجیہ سبھامیں پوری قوت سے اس بل کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں تین طلاق بل پاس نہیں ہوسکا۔
حضرت مولانا1942 میں موضع ٹپو ضلع کشن گنج بہار میں پیدا ہوئے،ابتدائی تعلیم اپنے علاقے کے مدارس میں حاصل کرنے کے بعد 1964ء میں ہندوستان کے مشہوردینی ادارہ دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔ دوران تعلیم مولانا ہمیشہ ممتاز طالب علموں میں سر فہرست رہے۔ فراغت کے بعد ملی و سماجی کاموں میں پورے جو ش و جذبہ کے ساتھ مشغول ہوگئے۔مولانا اپنی محنت، لگن اور اخلاص کی بدولت ہر محاذپر نمایاں نظر آئے۔ دینی، ملّی، سماجی امور میں ان کی بے پناہ دلچسپی کی وجہ سے ہی جمعیة علماء ہند جیسی مقتدر تنظیم کے اکابرین نے جمعیة کے لیے ان کی خدمات حاصل کیں اورایک طویل عرصہ تک جمعیة سے وابستہ رہتے ہوئے حضرت مولانا نے جمعیت کے دائرہ تعارف اور حلقہٴ اثر کو وسعت عطا کی اور مختلف سطحوں پر ایسے کارہائے نمایاں انجام دےئے جوجمعیة کی تاریخ کا روشن حصہ ہیں۔
مولانا نے ملت کی فلاح وبہبود اور رہنمائی کے تعلق سے سیاسی سطح پر بھی اہم خدمات انجام دیں ? ملک کے مسلمانوں کی آواز کو پارلیمنٹ میں بلند کرنے کے لئے انہوں نے متعدد بار کشن گنج سے پارلیمانی انتخابات میں بھی حصہ لیا۔ان کی ایمانداری، دیانت داری، لگن ومحنت اور کارہائے نمایاں کو دیکھتے ہوئے عوام نے محدود وسائل کے باوجود انہیں2009ء کے عام انتخابات میں بڑی کامیابی سے ہمکنار کیا۔پہلی مدت کارمیں ان کی خدمات اور سماجی و سیاسی خدمات کو دیکھتے ہوئے 2014ء کے عام انتخابات میں،جبکہ بہارہی نہیں،پورے ہندوستان میں کانگریس کو مجموعی طورپربدترین شکست کا سامناکرناپڑا،ایسے میں مولانانے تقریباً دولاکھ ووٹوں سے ریکارڈ کامیابی حاصل کی۔ مولانا موصوف واحدایسے ممبرپارلیمنٹ تھے جو حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کی یادکو تازہ کرتے ہوئے ان کے نقش قدم پرچل کر پوری جرأت وبے باکی کے ساتھ ملت کے مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھاتے تھے اورمسلمانوں کو درپیش مشکلات کے تئیں ہمہ وقت فکر مند رہتے تھے۔
ملی اتحاد اور قومی یکجہتی کے لیے حضرت کی طویل جدوجہد کے تابندہ نقوش عوامی ذہنوں میں محفوظ ہیں۔ مولانا کی کوششوں سے ہندوستانی مسلمانوں کو ہی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ ان کی قیادت سے برادرانِ وطن بھی فیضیاب ہوئے۔ان کا ذہن مذہبی اور مسلکی تعصب سے پاک تھا۔ انھوں نے ہمیشہ انسانی جذبے، احترام آدمیت اور خدمت خلق کے تحت سیاسی اور سماجی قیادت کی ہے اور ان کی راہ میں کبھی مذہب یا مسلک حائل نہیں ہوا۔انھوں نے ہر کام انسانی دردمندی و جذبے کے تحت کیا۔ ان کے اندر بے پناہ عجز و انکساری بھی تھی اور خلوص و استغنا بھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوستانی عوام کی نظر میں مولاناکو ہردلعزیز رہنما کی حیثیت حاصل تھی۔مولانانے کبھی شرافت نفسی کا دامن نہیں چھوڑا،ہمیشہ سادگی و خلوص کا اعلی نمونہ پیش کیا،یہی وجہ ہے کہ نہ صرف آپ کے معاصر علمائے کرام آپ کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے بلکہ آپ کے سیاسی مخالفین بھی آپ کی قدر کرتے تھے۔خود حضرت مولانانے بھی کبھی کسی سیاسی مخالف کے خلاف طعن و تشنیع کی زبان استعمال نہیں کی،آپ نے ہمیشہ اپنے مخالفین کے سامنے بھی اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش کیا،یہ آپ کا ایسا وصف تھاجس کی ہر طبقے میں قدر کی جاتی تھی۔ اسی طرح شب وروزسیاسی وسماجی مصروفیات میں سرگرم رہنے کے باوجودآپ کی عملی زندگی پرکوئی فرق نہیں پڑتاتھا، چنانچہ آپ فرائض ونوافل کی پابندی کے ساتھ تاعمر تہجدکے بھی پابندرہے، بلکہ آخرشب میں بیدارہوتے اورتہجدپڑھنے کے بعدکچھ دیر تلاوتِ قرآن کریم فرماتے پھرفجرکی نمازاول وقت میں پڑھ کراستراحت فرماتے تھے ، ان کی وفات بھی اسی وقت ہوئی جب تہجدکے لیے بیدارہوئے تھے اوروضوکے بعدنمازکی تیاری کررہے تھے۔
حضرت مولانا نے ملک و ملت کی خدمت کا ایک اورطریقہ یہ اختیار کیا تھاکہ انھو ں نے اپنے قلم سے ملک و معاشرے کی رہنمائی کی اور عوام کو بیدار کیا۔ تصنیفی محاذ پر مولانا مستقل سرگرم رہے اور مختلف سیاسی، سماجی اور اسلامی موضوعات پر انھوں نے نہ صرف ہندوستان کے مقتدر اخبارات میں مضامین اورکالم لکھے بلکہ کتابیں بھی تصنیف کیں اور ان کتابوں کو عوام و خواص دونوں حلقوں میں محبوبیت اور مقبولیت بھی نصیب ہوئی۔ ان کی کتابوں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ ان کی کتابوں کے ترجمے انگریزی زبان کے علاوہ ہندی، گجراتی،مراٹھی اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں بھی شائع ہوئے۔ مولانا محمد اسرارالحق قاسمی سیاسی، سماجی اور تصنیفی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سلسل? تصوف وسلوک سے بھی وابستہ تھے اورفقیہ الاسلام حضرت مفتی شاہ مظفر حسین مظاہری رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز تھے۔ ان کی وفات کے بعدانہوں نے نمون? سلف حضرت مولانا قمر الزماں الٰہ آبادی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ مولانا کو ان سے اجازت و خلافت بھی حاصل تھی۔مولانا محمد اسرار الحق قاسمی کے اندر جو خاکساری وانکساری تھی وہ انہی پاک باز بزرگوں کی صحبتوں کا فیض تھا۔ وفات کے حضرت کی عمر بیاسی سال تھی، پسماندگان میں تین بیٹے اوردوبیٹیاں
ہیں ۔ حضرت مولاناکی اچانک سانحہٴ وفات ہندوستان ہی نہیں تمام امت مسلمہ کا عظیم خسارہ ہے، خاص طورپر ملک کے موجودہ ماحول میں آپ کے جیسے صاحب بصیرت قائد و رہنما کی مسلمانوں کو شدید ضرورت تھی،مگر ظاہر ہے کہ قضائے الہی کے مطابق ہر شخص کاایک وقت مقرر ہے جس کی آمد کے بعد اسے اس دنیاکو خیرباد کہناہے۔ لہذاہم اللہ عزوجل کے اس فیصلے پرراضی برضاہیں ۔ دعاء ہے کہ اللہ حضرت مولانا کی تمام حسنات کو قبول فرمائے اور لغزشوں سے درگذر کرتے ہوئے ان کے درجات کو بلند فرمائے۔

*رابطہ نمبر: 9818893994

مولانا اسرار الحق قاسمی: دارالعلوم دیوبند کا عظیم سپوت نہ رہا

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی*

ملت کے تئیں نرم وگداز دل رکھنے، رات ودن ملت کے لئے تڑپنے والا، اپنے دائرہ علمی ، اپنی گوں ناگوں صلاحیتوں سے آراستہ وپیراستہ، دار العلوم کا عظیم سپوت، ہوشمند عالم، کہنہ مشق قلم نگار، ملت کا عظیم ہمدرد ورہنما، سیاسی خاردار وادیوں کا عظیم رہرو، خطیب شعلہ بیان ، جس کی کاخطاب تاریخ واقعات سے بھر پور ہوتا،اب ہمارے درمیان نہ رہا، جب دار العلوم دیوبند میں ۲۰۰۲ م میں زیر تعلیم تھا، تو اس وقت موصوف کا پر مغز وپر اثر خطاب سننے کو ملا، دل پر ضرب پڑی، مولانا کی صلاحیت اور خوبیوں اور گوں ناگوں لیاقتوں ، تاریخ اور واقعات کے سن وار بیان کرنے پر قدرت ورطہ نے حیرت میں ڈال دیا، تب سے مولانا کے نقوش وخدو خال اور ان کا علمی اور سیاسی وملی ولولہ اور جذبہ دل کے نہاں خانوں میں رچ بس گیا، مولانا ذات والا صفات کی گوں گوں خوبیوں کا قائل ہوگیا، یہی مولانا کی عظیم ذات سے تعارف کا پہلا وقت تھا، اس کے علاوہ اس وقت سے لے کر اب تک ، بلکہ کل شام میں ماہنامہ ”اشرف الجرائد“ کا مطالعہ کررہا تھا کہ ناگاہ نگاہ مولانا محترم کی مضمون پر پڑ گئی، صبح ہوتے ہوتے واٹساپ پر مولانا کی رحلت کی اندوہناک خبر نے وششدر کردیا، بظاہر تو عمر کے اس مرحلے میں نظر نہیں آتے تھے کہ ملت اسلامیہ کا ایک سیاسی وسماجی ، دار العلوم دیوبند کا ایک عظیم سپوٹ جس نے ہر میدان میں اپنے انمٹ اورگہرے نقوش چھوڑے ، اس کی رحلت کا وقت ہو، لیکن تقدیر تدبیر غالب آجاتی ہے ، شب جمعہ مولانا نے اپنی جان جانِ آفرین حوالہ کردیا، اور راہی دار البقاء ہوگئے ، جانا تو ہر ایک کو ہے ، لیکن ایسی شخصیات ہوتی ہیں ، جن کے جانے کی وجہ سے ملت میں ایک بڑا خلا نظر آتا ہے ، با صلاحیت اوردور بین نگاہ ، دورس اثرات کے حامل شخصیات کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا، خصوصا جن کا ملک کے موجودہ میں سیاست ان کا عمل ودخل بھی ہو بڑا حیرت انگیز اور نہایت مشقت کن مرحلہ ہوا کرتاہے ، مولانا جیسا دوربین نگاہ عالم دین ، سیاست داں کا ملک کے موجودہ حالات میں ہمارے درمیان سے چلا جانا یہ مسلمانوں کے لئے بڑا سانحہ اور مسلم سیاست کے ایک عظیم باب کا خاتمہ ہے ،اس کے علاوہ مولانا کی یادیں شاید ذہن ودماغ کے گوشوں سے نہ جائیں، اس لئے کہ بحیثیت ایک چھوٹے موٹے مضمون نگار کے ہر دم ہر جگہ روزناموں، ماہناموں اور اردو رسائل وجرائد میں بکثرت مضامین دیکھنے ملتے ، عجیب حیرت کن بات یہ ہوتی جہاں مولانا سیاست کی خادار وادیوں میں ہوتے ہوئے بھی سیاسی وسماجی اور اصلاحی مضامین برملا برجستہ لکھا کرتے ، ہر دم آپ کے مضامین اخبارات ورسائل وجرائد کی زینب بنتے ، ابھی کچھ دن قبل ہی ”الداعی “ دار العلوم دیوبند کے سارے پچھلے شماروں کی ورق گردانی اور مطالعہ کا موقع ملا، مولانا کے بہت سارے مضامین کا دار العلوم کے فارغین نے اردو سے عربی میں ترجمہ کیا ہے، جس کی تعداد بھی پچاس ساٹھ مضامین سے کم نہیں ہوگی، اگر ان مضامین کو یکجا جاتا ہے تو یہ بھی مولانا کی حیات” مجلہ داعی“ کے حوالے سے ایک روشن باب ہوگا، ان مضامین کی افادیت کے خاطر مختلف ابناء دار العلوم نے مختلف مواقع سے ان کے مختلف موضوعات اور ضرورت اور موقع کے لحاظ سے عربی میں ترجمہ کیا جس کو دار العلوم کے عظیم او ر موٴقر روزنامہنے شامل اشاعت کیا ۔
مختصر حالات زندگی ۔
دینی وملی وسیاسی وتحریری وتدریسی خدمات انجام دینے والے دار العلوم دیوبند کے اس عظیم سپوت نے تقریبا نصف صدی سے زائد ملک وملت اور دین کے تئے عظیم خدمات روشن باب ہمارے سامنے چھوڑا، مولانا کی جائے ولادت موضع ”ٹپو“ کشن گنج بہار رہی ہے ، مولانا نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ کے متعدد مدارس میں حاصل کی اور اعلی تعلیم میں دار العلوم دیوبند سے ۱۹۶۴ء میں سند فضیلت حاصل کی ، فراغت ، فراغت کے بعد مدرسہ رحیمیہ مدھے پورہ اور مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے سے بسلسلہ تدریس وابستہ ہوگئے ، مولانا کا ابتداء ہی رجحان ملک وملت کی تئیں زبوحالی اور انحطاط کی وجہ سے ملی وسماجی کا خدمات کا تھا، چنانچہ مولانا نے فراغت کے بعد تدریس کے دوران کے دس سال باضابطہ کسی علاقائی یا ملکی تنظیم سے وابستگی اور رہ ورسم نہ رکھی، بلکہ اس دوران اپنے پیمانے پر ملک وملت اور سماج کی خدمت کے تئیں ہمہ تن گوش ہوگئے ۔
انہیں سماجی اور ملی خدمات اور اس کے تئیں ان کی تڑپ اور جذبہ اور عاطفت کو دیکھ کر ملک کی قدیم اور موقر تنظیم جمعیت علماء ہند نے ۱۹۷۴ء میں مولانا کی خدمات کو حاصل کرنا چاہا، پھر چار سال بعد ان کی صلاحیت ولیاقت اور ان کی دروبین نگاہی اور دورسی اور نگاہ عقاب ملک ووطن اور ملت کی تئیں بے پایاں خدمات اور جذبہ وعاطفت کو دیکھ ۱۹۸۱ء میں ان کو جمعیت کا جنر ل سریٹری بنایا، دس سال تک مولانا اس خدمت کو انجام دیتے رہے ، اس کے بعد مولانا نے جمعیت سے بچند وجوہ سبکدوشی اختیار کر کے حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے ایماء پر ” آل انڈیا ملی کونسل “‘ کی بنیاد رکھی جس کے لئے انہوں نے ملک کے طول وعرض میں اسفار کئے ، مسلمانوں کی پسماندگی اور بے مائیگی اور نہایت بدحالی اور نکبت کا اندازہ کیا کہ مسلمانوں کی حد درجہ پستی اور نحطاط کی صرف اور صرف برادران وطن کے مقابلہ میں تعلیمی میدان میں ان کا پیچھے رہ جانا ہے ، اس لئے جب تک مسلمانوں کو دیگر برادران وطن کے ہم پلہ زیور تعلیم سے آراستہ وپیراستہ نہیں کیا جاسکتا اس وقت تک ان کی پسماندگی اور انحطاط کا علاج ممکن نہیں، اس لئے مولانا نے ۲۰۰۰ میں ” آل انڈیا تعلیمی وملی فاوٴنڈیشن “ کی بنیاد رکھی، جس کے تحت مولانا جگہ جگہ مدارس ،مکاتب اور اسکولس وکالجس کی بنیاد رکھی اورتعلیم کے تئیں مسلمانوں میں شعور بیدار کیا، مولاناکے قائم کردہ تعلیمی اداروں سے اب اس وقت بھی بے شمار طلباء وطالبات اپنی تشنگیٴ علم کو بجھارہے ہیں، ایسی ایسی جگہ طلباء زیور تعلیم سے آراستہ ہوئے جہاں کے لوگ بالکل جہالت کی وادیوں میں گم کردہ راہ ہوگئے تھے ۔
مولانا کی اسی بے لوث اور مخلصانہ خدمات اور تعلیمی میدان میں شعوری بیداری کے تئیں جدوجہد کی وجہ سے انہیں ۲۰۰۹ء میں کانگریس نے ایم کے کے انتخابات میں حلقہ کشن گنج سے امیدوار مقرر کیا، نمایاں اکثریت سے کامیاب ہوتے رہے، بلکہ گذشتہ انتخابات میں جب کہ بہار میں کانگریس کا بالکل صفایا ہوچکا تھا مولانا نے اپنی ساکھ براقر رکھی اور اس سیٹ سے بھاری اکثریت کامیابی حاصل کی ۔(مستفاد بتغییر کثیر، واضافہ : دار العلوم دیوبند کا صحافتی منظر نامہ : ۲۲۶، از نایاب حسن قاسمی)
مولانا بحیثیت صحافی ومضمون نگار:
مولاناجہاں اسطرح کی ملی وسماجی خدمات سے وابستہ تھے ، سیاسیت کی خار دار وادیوں میں بھی قدم رکھا تھا، لیکن ان کی زندگی کا ایک خاص اور نمایاں وصف یہ تھا کہ انہوں نے زندگی کے کسی مرحلے میں قلم سے اپنی وابستگی نہیں چھوڑی ، برابر ہر ہفتہ مولانا کی مختلف موضوعات ملکی حالات اور مسلمانوں کی ذمہ داریوں اور سماجی اور دینی واصلاحی مضامین منظر عام پر آتی، جو مختصر ہونے کے باوجود نہایت پرمغز اور اور غنچہ بہاراں ہوتے ، مولانا کے مضامین کی شان امتیازی اور خصوصیت کی وجہ سے ہر جگہ کے اخبارات اور مجلات کی وہ زینت بنتے ، مولانا نے ابتداء دار العلوم کے قیام کے دروان” سجاد لائبریری“ کے ماہنامہ ترجمان ’ البیان “ سے اپنی صحافتی دور کا آغاز کیا، پھر زندگی کے کسی مرحلے میں اس میں اس پر ادنی سا اضمحلال نہیں دیکھنے کو ملا، صحافی بھی انسان ہوتا ہے ، قلم نگار بھی مصائب ومشکلات ، زندگی کے نشیب وفراز سے دوچار ہوتا ہے ، لیکن مولانا کا نہ تھکنے والا قلم بالکل رواں ہر دم جواں کے مصداق سفر آخرت کو کوچ کرنے سے پہلے تک جنبش وحرکت پذیررہا، اور اپنے قیمتی مونگی وموتی بکھیرتے رہا، مولانا جمعیت سے وابستگی کے دوران جمعیت کے ترحمان ہفت روزہ ” الجمعیة “ کی ادارت سنبھالی، ”ملی اتحاد“ دہلی کے مدیر اعلی رہے ، اس کے بعد مختلف کے مختلف اخبارات خصوصا سہار ا کے ہفتہ وار کالم نگار اس کے علاوہ کئی ایک عربی اور انگریزی اخبارات میں مولانا کے مضامین کا ترجمہ شائع ہوتا ۔
ملک کے حالات خوا ہ کچھ ہوں ، مولانا قلم کے ذریعے ملک وملت کی رہنمائی کا فریضہ نہایت بے باکی ، صداقت اور شجاعت کے ساتھ انجام دیتے رہے ، کبھی حق کی آواز کو مولانا نے نیچے ہونے نہیں دیا، انہوں نے جو کچھ لکھا وہ قلم کی صرف سیاسی نہیں ؛ بلکہ ان کی ضمیر کی آواز تھی، انہوں نے کبھی بھی اپنا دینی مزاج اور عالمانہ شان اور وقار کو ٹھیس پہنچنے نہیں دیا، گرچہ طلاق ثلاثہ کے موقع سے لوک سبھا میں بل کے پاس ہونے پر مولانا کو مورد الزام ٹھہرایا گیا، لیکن بعد میں مولانا ہی کی جدوجہد اور کانگریس ہائی کمان پر زور کی وجہ سے یہ بل راجیہ سبھا لٹکارہا، مولانا نے اس حوالے سے بڑی جدوجہد کی ، مولانا بے باک بے لاگ اور بغیر کسی ملامت کی پرواہ کئے بغیر ملک وملت کے تئیں کڑھ کر لکھتے ، مولانا کی خصوصیت یہ رہی کہ مولانا نے کبھی اپنی شخصیت کو اختلافات اور مسلکی انتہاپسندیوں سے اور اپنے قلم کو ہمیشہ مثبت اور حق گوئی اور بے باکی پر باقی رکھا، مولانا کی مثبت اور ملک وملت کے تئیں ہمدردی او ردینی وسطیت واعتدال اور علماء دیوبند کے مزاج وفکر کو اپنے اندر لئے ہوئے ان کا سیال قلم ہر سلگتے مسئلہ کونہایت شستگی اور برجستگی کے ساتھ لکھتا جس میں خصوصا مسلمانوں کے تئیں آپسی اتحاد اور باہمی یگانگت کی دعوت وتلقین ہوتی، افتراق تشتت اور تخرب وتفرقہ بازی سے ہمیشہ اجتناب کی دعوت دی جاتی ، مولانا کی تحریریں نہایت سادگی ، سلاست ، روانی ، برجستگی وبے تکلفی کی حامل ہوتی ، جس کا سمجھنا اور پڑھنا ہر کے لئے سہل تر ہوتا۔
مولانا کے مقالات کے کئے ایک مجموعے زیور طباعت سے آراستہ وپیراستہ ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں، جن میں مسلمانان ہند کی گوں نا گوں سیاسی ومعاشرتی مسائل اوران کی تجزیوں پر مشتمل ” سلگتے مسائل“ ”ہندوستانی مسلمان: مسائل اور مزاحمتیں “ اور اسلام کے مطالبات کی عصری تشریح کے متعلق ” اسلام اور ہماری ذمہ داریاں“ اور اسلامی معاشرے کے خدو خال اور اس کی تشکیل اور تعمیر ی عناصر کی توضیح وتشریح پر مشتمل مقالات کا مجموعہ ” معاشرہ اور اسلام انگریزی ترجمہ ”Islam and society“اسلام کی عورتوں کے مقام ومرتبہ اور ان کی قدر ومنزلت کو اجاگر کرنے والی کتاب ”عورت اور مسلم معاشرہ “ اور اس کا انگریزی ترجمہ ” Justice in Islam“ وغیرہ قابل مطالعہ ہیں ۔
اس کے علاوہ مولانا کی گوں نہ گوں اور ہمہ جہت خدمات کا وسیع بات اور ایک روشن اور تابناک تاریخ اور ان کی ملکی ، وطنی ، ملی اور سماجی خدمات اور بطور دار العلوم کے سپوت کے ان کے یہ عظیم کارنامے ساری زندگی یادگار رہیں گے ۔
ارباب چمن مجھ کو بہت یاد کریں گے
ہر شاخ پہ اپنا ہی نشاں چھوڑا ہے

*رفیق تصنیف دار الدعوة والارشاد ، یوسف گوڑہ ، حیدرآباد
واستاذ حدیث دار العلوم دیودرگ، کرناٹک

بابری مسجد کی شہادت کے المناک سانحہ پر

قاری عبد السلام مضطر ہنسوری

کوے سے سکیھیں گناہ چھپانے کا ہنر

محمد یاسین قاسمی جہازی

9871552408
ہمارے سماج میں گناہوں کے تعلق سے مختلف طبقے اور نظریے کے لوگ پائے جاتے ہیں۔
(۱) ایک طبقہ تو وہ ہے جو گناہ کو گناہ سمجھ کر ظاہری و باطنی ، ہر طرح سے خود بھی بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اہل اللہ اور ولی صفت طبقہ ہے ، جو ہمارے معاشرے میں اتنی ہی تعداد میں رہ گئے ہیں، جتنی کہ آٹے میں نمک کی مقدار ہوتی ہے۔
(۲) دوسرے وہ لوگ ہیں، جو خود تو بچتے ہیں ، لیکن دوسروں کو بچانے کی فکر یا کوشش نہیں کرتے۔ اس کی تعداد پہلے کی تعداد کے ہی برابر ہے، تھوڑی بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔
(۳) تیسرے ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کو گناہ سے بچنے کی تلقین تو کرتے ہیں، لیکن خود نہیں بچتے۔ ایسے لوگ موقع اور وقت کی مناسبت سے اپنا طرز عمل بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی ظاہری اعتبار سے بھی اور باطنی اعتبار سے بھی تقویٰ کا مجسمہ بن جاتے ہیں، تو کبھی گناہ کی چلتی پھرتی مشین۔ انھیں جب ذکر و فکر کی مجلس نصیب ہوتی ہے تو متقی بن جاتے ہیں اور جہاں ذرا اس سے ہٹتے ہیں تو اپنی سابقہ فطرت کا رنگ دکھانے سے نہیں چونکتے۔ یا پھر ظاہری طور پر طہارت و تقویٰ کا مرجع نظر آتے ہیں، لیکن جب تنہائی میں ہوتے ہیں، تو معاملہ بالکل الٹا ہوجاتا ہے۔
(۴) چوتھا طبقہ وہ ہے، جس کے لیے گناہ اور ثواب کے کاموں میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ یہ طبقہ اگر کنارہ کشی اختیار کرتا ہے ، تو گناہ اور ثواب کی تفریق کیے بغیر دونوں سے منھ موڑ لیتا ہے ، یا پھر جب کرنے پر آتا ہے، تو بھی کوئی فرق نہیں کرتا، البتہ اس طبقے کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ گناہ کو گناہ اور ثواب کو ثواب سمجھتا ہے۔
ان چاروں طبقوں کو دیکھا جائے تو ان میں جہاں خرابیاں ہیں ، وہیں کچھ نہ کچھ خوبیوں سے بھی لبریز ہیں، اور اسی وجہ سے ان کو ’’بساغنیمت ‘‘ کے خانے میں رکھا جاسکتا ہے۔
(۵)لیکن ان کے علاوہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جس کے لیے ثواب کے کام ، فضول اور بیہودہ کام ہیں ، جب کہ گناہ کے کام عزت، عظمت اور دولت کے لیے سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ثواب سے نفرت اور گناہوں سے محبت ہی ان کی زندگی کا محبوب مشغلہ ہے۔ ایسے لوگ رات کی تاریکی میں جو کچھ کرتے ہیں، اسے دن کے اجالے میں پھیلانا اپنے لیے عزت و افتخار کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔چنانچہ پردہ سیمیں کی حرکتیں اور بادہ رنگیں کے مناظر میں مثالیں آپ ڈھونڈھ سکتے ہیں
گناہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا؛ بذات خود مہلک اور زہر قاتل ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت ستاریت و غفاریت کے پیش نظر ہمارے ساتھ عفو و درگذر کا معاملہ کیا ہوا ہے۔اسلامی تعلیم اور آقا کریم ﷺ کی ہدایت بھی یہی ہے کہ گناہ خواہ کسی کا ہو ؛ اپنا ہو یا کسی اور کا ہو ؛ اسے چھپانا ضروری ہے ۔ اگر دوسروں کا گناہ ہے، تو اسے تو بالکلیہ چھپانا چاہیے ، کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ
عن ابی ھریرۃؓ قال : قال رسول اللّٰہ ﷺ : إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أکْذَبُ الْحَدیثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللّہِ إِخْوَانًا۔ (صحیح بخاری، کتاب الادب، باب ما ینھی عن التحاشد والتدابر)
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدگمانی سے بچتے رہو ، کیوں کہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے ۔ اور دوسروں کے عیب تلاش نہ کیا کرو، اور نہ ان کی چھپی باتوں کا کھوج لگایا کرو، اور نہ کسی کو بھڑکا کر کسی برائی پر آمادہ کیا کرو۔ نہ ایک دوسرے سے حسد کرو، نہ آپس میں بغض رکھا کرو۔نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر چلا کرو۔ سب ایک اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ۔
بلکہ جو کوئی اپنے بھائی کے گناہوں کو چھپاتا ہے تو زبان رسالت سے اس کے لیے یہ خوش خبری ہے کہ
من ستر مسلما، سترہ اللّہ یوم القیامۃ۔ (بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب لایظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ)
جو کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کریں گے۔
اور اگر خود کا گناہ ہے، تو اس کے بار ے میں بھی اسلامی تعلیمات یہ ہے کہ اسے چھپانا چاہیے۔ اگر خود کے اس گناہ کو نہیں چھپائے گا، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی ستاریت کی وجہ سے چھپا رکھا تھااور خود ہی لوگوں کے سامنے ظاہر کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے گناہوں کو بالکل معاف نہیں کرے گا۔
کُلُّ أُمَّتِي مُعَافًی إِلَّا المُجَاھِرینَ، وَإِنَّ مِنَ المُجَاھَرَۃِ أَنْ یَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّیْلِ عَمَلًا، ثُمَّ یُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَہُ اللّہُ عَلَیْہِ، فَیَقُولَ: یَا فُلاَنُ، عَمِلْتُ البَارِحَۃَ کَذَا وکَذَا، وَقَدْ بَاتَ یَسْتُرُہُ رَبّہُ، وَیُصْبِحُ یَکْشِفُ سِتْرَ اللّہِ عَنْہُ۔ (صحیح بخاری،کتاب الادب، باب ستر المؤمن نفسہ)
آج کے لوگ اپنے گناہ کو بھی اور بالخصوص دوسروں کے گناہ کو چھپانے کے بجائے اس کی تشہیر کرنا اپنااخلاق و کردارکا حصہ سمجھتے ہیں، جو سراسر انسانی سیرت اور انسانیت کے تقاضے کے خلاف ہے۔ گناہ تو ایسا جرم ہے جو جانور بھی نہیں چاہتاکہ اس کی تشہیر ہو؛ بلکہ وہ بھی اسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ الدر المنثور میں سورہ مائد کی آیت نمبر ۳۱ کی تفسیر میں ہے کہ شادی کے معاملہ کو لے کر قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔ روئے زمین پر چوں کہ پہلا قتل اور پہلی میت تھی، اس لیے قابیل کو سمجھ میں نہیں آیاکہ اس کے ساتھ کیا کریں۔ چنانچہ بہت پریشان ہوا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے یہ منظر دکھایا کہ ایک کوے نے ایک دوسرے کوے سے لڑائی کی اور پھر اسے قتل کردیا۔ کسی کو قتل کرنا گناہ عظیم ہے۔ اس کوے سے جب یہ گناہ عظیم ہوگیا تو اس نے مردہ کوے کی لاش کو دفن کردیا ، تاکہ اس کا یہ گناہ چھپ جائے اور کوئی دوسرا شخص اس کے گناہ سے واقف نہ ہوسکے۔ پرندوں کے ماہرین کہتے ہیں کہ کوے میں حیا بہت ہوتی ہے، وہ کبھی بھی کھلے میں جنسی تعلقات نہیں بناتا۔ اور جب اس سے کوئی غلط کام ہوجاتا ہے تو اسے فورا چھپاتے ہیں، اس کی تشہیر نہیں کرتے۔
ایک پرندہ گناہ کی شناعت و قباحت کو سمجھتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کے گناہ سے کوئی واقف نہ ہو؛ لیکن ایک ہم انسان ہیں جو گناہ کی جرات بھی کرتے ہیں، اور پھر جسے اللہ نے اپنی صفت ستاریت سے چھپا دیا تھا، خود ہی اس کی تشہیر کرکے ذلیل و رسوا ہوتے ہیں۔
جب ایک صاحب عقل و شعور رکھنے والے انسان کے لیے انسانی کردار کے نمونے عبرت سے خالی ہوجائیں تو سمجھ لیجیے کہ انسان انسانیت کی سطح سے گرچکا ہے ۔ ایسے میں ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ کم از کم کوے کے ہی کردار سے سبق حاصل کرتے ہوئے یہ سبق لے کہ اپنے گناہ کو کیسے چھپایا جاتا ہے۔

دارالعلوم دیوبند اور جمعیة علمائے ہند

محمد اللہ خلیلی قاسمی فیض آبادی

دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد محض تعلیم و تعلم نہیں تھا، بلکہ دارالعلوم دیوبند ایک تحریک تھی جس کا مقصد ایک طرف علوم اسلامیہ کی حفاظت اور مسلم تہذیب و ثقافت کا تحفظ تھا تو دوسری جانب اس تحریک کا ایک اہم مقصد ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانا اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے دیوبند کی تاریخ سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ ان کا دائرہٴ عمل محض مذہبی اور تعلیمی میدان ہی تک محدود نہیں رہا، بلکہ انھوں نے ہمیشہ ملک و سماج سے جڑ کرتمام مسلمانوں اور عام انسانوں کی خدمت کو بھی اپنے دائرہٴ عمل میں شامل رکھا۔ علمائے دیوبند ہمیشہ سماج کے ہر طبقہ سے مربوط رہے اور ملت و سماج کی ضروریات کے پیش نظر انھوں نے حسب استطاعت اپنی خدمات پیش کرنے میں لیت و لعل سے کام نہیں لیا۔ عوام میں تعلیمی بیداری کا فروغ اور جہاد ِ آزادی میں سرگرم حصہ داری اسی احساس فرض کا نتیجہ تھی جس سے علمائے دیوبند نے کبھی پہلو تہی نہیں کی۔
۱۸۵۷ء میں انگریزی اقتدار سے ہندوستان کی آزادی کے لیے دارالعلوم کے اکابر بالخصوص حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی وغیرہ حضرات نے سرفروشانہ جد و جہد رقم کی۔لیکن یہ کوشش کام یاب نہ ہوسکی اور انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کرکے سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کا اعلان کردیا۔ سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد،مسلمان طبقہ خاص طور پر انگریزوں کی انتقامی کارروائی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا۔انگریزوں نے علماء و امراء کی ایک بڑی تعداد کو قتل کر دیا، مدارس و معاہد تباہ و برباد کردیے اور اسلامی تہذیب وثقافت کو ختم کرنے کا تہیہ کر لیا ۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں اکابرین دیوبند نے ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے مقصد سے تعلیمی تحریک برپا کرنے کا فیصلہ کیا اور دارالعلوم دیوبند اس سلسلہ کی پہلی کڑی تھی۔ سیاسی زوال نے مسلمانوں کو بے چارگی و مجبوری اور بے چینی و پریشانی کے جس عالم میں پہنچا دیا تھا، دارالعلوم دیوبند کے قیام سے انھیں سکون و اطمینان اور قرار نصیب ہوا۔اور پھر تاریخ نے ثابت کردیا کہ علماء نے فراست ایمانی سے جو فیصلہ کیا تھا اس کے بالکل صحیح نتائج برآمد ہونے شروع ہوگئے۔ جہاں ایک طرف دارالعلوم دیوبند نے دینی تعلیم کے فروغ ، عقائد صحیحہ و اسلامی تعلیمات کی اشاعت ، مسلمانوں کے دینی تشخص کی حفاظت اور اسلامی علوم و فنون کی ترقی و آبیاری میں بھرپور حصہ لیا وہیں دوسری طرف مجاہدین اور سرفروشوں کی ایک جماعت پیدا کی جس نے آزادی کے مبارک جذبہ کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ انگریزی سامراج کا اس وقت تک تعاقب کرتے رہے جب تک وہ اس ملک کو چھوڑ کر نہ چلا گیا۔
جہاد ۱۸۵۷ء کے بعد پہلے مرحلے میں دارالعلوم کا قیام عمل میں آیا۔ دارالعلوم نے خاموشی سے تقریبا ً پون صدی تک افراد کی تیاری پر توجہ مرکوز رکھی۔ بالآخر دارالعلوم دیوبند کے پہلے سپوت شیخ الہند حضرت مولانامحمودحسن دیوبندیکی مجاہدانہ سرگرمیوں سے یہ تحریک دوسرے مرحلے میں داخل ہوئی جس کو تحریک شیخ الہند یا عرف عام میں تحریک ریشمی رومال کہا جاتا ہے۔ تحریک شیخ الہند کی ابتدا بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ہوئی جب شیخ الہند حضرت مولانامحمودحسن دیوبندی کے شاگردوں اور متوسلین کی ایک بڑی جماعت اس انقلابی تحریک سے وابستہ ہوگئی۔شیخ الہندکے نمائندے ملک کے اندر اور ملک کے باہر افغانستان، آزاد علاقہ، صوبہ سرحداورحجازکے اندرسرگرم اورفعال تھے۔ جنگ عظیم کی ابتدا، عربوں کی ترکوں کے خلاف بغاوت، امیر حبیب اللہ کی طوطا چشمی اور دوسرے اسباب کی بنیاد پر تحریک ریشمی رومال اپنے انقلابی مقاصد کو پورا کرنے میں ناکام رہی ، لیکن اس تحریک کی تفصیلات سے بوریہ نشین علماء کی بلندیٴ فکر، مجاہدانہ اولوالعزمی اور ان کے تدبر و سیاست کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی تحریک آزادی کی تاریخ میں ’تحریک ریشمی رومال‘ ایک تابناک باب کی حیثیت رکھتی ہے۔
شیخ الہندکی اس تحریک میں مولانامنصورانصاری، مولانا فضل ربی، مولانافضل محمود، مولانا محمد اکبر کا شمار اہم ارکان میں تھا۔ مولانا عبدالرحیم رائے پوری، مولانا محمداحمدچکوالی، مولانامحمدصادق کراچوی، شیخ عبدالرحیم سندھی، مولانا احمدالله پانی پتی، ڈاکٹرمختار احمدانصاری وغیرہ نے اپنا تعاون پیش کیا۔ ان کے علاوہ مولانا محمد علی جوہر، مولاناابواکلام آزاد، مولانا احمد علی لاہوری، حکیم اجمل خان وغیرہ بھی آپ کے مشیر ومعاون تھے ۔ مالٹا کے اسارت خانہ میں حضرت شیخ الہند کے ساتھ آپ کے دیگر رفقاء حضرت مولاناحسین احمد مدنی، مولانا عزیر گل پشاوری،مولانا حکیم نصرت حسین امروہوی، مولانا وحید احمدفیض آبادی وغیرہم بھی قید کیے گئے تھے ۔
جمعیة علمائے ہند کا قیام
حضرت شیخ الہند نے مالٹا سے واپسی کے بعد ملک کی آزادی میں سرگرم حصہ لیا۔ مالٹا میں اسارت کے زمانے میں حضرت شیخ ا لہند نے محسوس کرلیا تھا کہ ہندوستان کی آزادی صرف ایک قوم اپنی کوشش سے حاصل نہیں کر سکتی ہے۔ لہٰذا آپ نے انقلاب و تشدد کی پالیسی بد ل کر ہندوستان کی آزادی کوہندو اور مسلمان کی مشترکہ جد وجہد سے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اسی سلسلہ میں آپ نے نیشنلسٹ طاقتوں کا ساتھ دیا ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنا میں حصہ لیا اور آپ کے شاگردوں نے جمعیة علمائے ہند قائم کی۔
۱۹۱۹ء میں ہی تحریک خلافت شروع ہوئی جو جنگ عظیم اول کے بعد خلافت عثمانیہ کے تحفظ اور ہندوستان پر برطانوی تسلط کے خلاف ایک نہایت موٴثر اور ہمہ گیر تحریک تھی ۔ اس تحریک نے ہندوستان میں ہندومسلم اتحاد کا عظیم الشان نمونہ پیش کیا اور اس پلیٹ فارم سے مسلمان اور ہندو شانہ بشانہ انگریزی حکومت کے خلاف لڑے۔ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی و دیگر علمائے دیوبند اس تحریک میں شریک رہے۔ ۱۳/ نومبر ۱۹۱۹ء کو دہلی میں خلافت کمیٹی کا اجلاس مولانا فضل الحق کی صدارت میں ہوا جس میں برطانیہ کے جشنِ صلح کے بائیکاٹ کی تجویز مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب نے پیش کی جس کی تائید میں گاندھی جی نے بھی تقریر کی۔ اسی موقع پر انقلابی علماء نے ’جمعیة علمائے ہند‘ کے نام سے باضابطہ دستوری جماعت کی تشکیل کا فیصلہ کیا جس کے پہلے صدر مفتیٴ اعظم حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی منتخب ہوئے۔ جمعیة علمائے ہند کے قیام کے بعد علمائے دیوبند کی مجاہدانہ سرگرمیاں اسی پلیٹ فارم سے جاری رہیں اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک اس جماعت کا بنیادی مشن تھا۔
جمعیة علمائے ہند اور جہاد آزادی
جمعیة علمائے ہند ایک ایسے وقت میں قائم ہوئی جب انگریزی استبداد اپنی آخری حدوں کو چھو رہا تھا اور کسی میں جرأت موجود نہیں تھی کہ وہ سات سمندر پار کی اس اجنبی مخلوق کے خلاف کوئی آواز بلند کر سکے، لیکن جمعیة علمائے ہند اور اس کے بانیوں نے سب سے پہلی جو آواز لگائی وہ وہی تھی جسے سننے کے لیے ہر ہندوستانی گوش بر آواز تھا، اس نے مکمل آزادی کا نعرہ دیا اور کہنا چاہیے کہ اس نعرہ کے ذریعہ اس نے تحریک آزادی کے لیے قائم تمام تنظیموں، تحریکوں اور انجمنوں پر سبقت حاصل کرلی۔
جون ۱۹۲۰ء میں خلافت کانفرنس الہ آباد میں نان کوآپریشن(ترک موالات) شروع کرنے کا فیصلہ ہوا۔ جولائی ۱۹۲۰ء میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے ترک موالات کا فتوی دیاجس کو بعد میں مولانا ابوا لمحاسن سجاد بہاری نے مرتب کرکے جمعیة علمائے ہند کی طرف سے ۴۸۴ دستخطوں کے ساتھ شائع کیا۔ غیر ملکی مال کے بائیکاٹ اور برطانوی حکومت کے ساتھ عدم تعاون کی یہ تجویزبہت کارگر ہتھیار تھا جوجنگِ آزادی میں استعمال کیاگیا، انگریزی حکومت اس کاپورا پورا نوٹس لینے پر مجبورہوئی اوراس کاخطرہ پیدا ہو گیا کہ پوراملکی نظام مفلوج ہوجائے اورعام بغاوت پھیل جائے۔
نومبر ۱۹۲۰ء میں جمعیة علمائے ہند کا دوسرا اجلاسِ عام دہلی میں حضرت شیخ الہند کی صدارت میں ہوا ۔ آپ نے اپنے خطبہٴ صدارت میں سیاسی جد وجہد کی منتشر طاقت کو متحد وموٴثر بنانے کے لیے کانگریس کے مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دی۔ حضرت شیخ الہند کی اس کوشش نے جنگ آزادی کے نعرہ میں ایک روح پھونک دی ۔
جولائی ۱۹۲۱ء میں خلافت کانفرنس کراچی کے اجلاس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے صاف لفظوں میں اعلان کیا کہ حکومت برطانیہ کے ساتھ موالات و اعانت کے تمام تعلقات اور ملازمت حرام ہے۔ اس کے پاداش میں کراچی کا مشہور مقدمہ چلا جس میں آپ کے ساتھ مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، گرو شنکراچاریہ وغیرہ کو دو دو سال قید بامشقت کی سزا ہوئی۔
جنوری ۱۹۲۴ء میں جمعیة علمائے ہند کے پانچویں اجلاس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے خطبہ میں آزادیٴ کامل کی طرف سب سے پہلے توجہ دلائی۔ پھر جمعیة علمائے ہند نے حضرت مولانا سید سلیمان ندوی کے صدارت میں ہونے والے ساتویں اجلاس میں ۱۴/ مارچ ۱۹۲۶ء کو سب سے پہلے مکمل آزادی کی تجویز پاس کی۔ ہندوستان پر برطانوی قبضہ کے خلاف ہندوستانیوں کی طرف سے یہ پہلی تجویز تھی جس نے ببانگ دہل برطانیہ سے ملک کی مکمل آزادی کی حمایت کی ، ورنہ اس وقت کانگریس وغیرہ دیگر قومی جماعتیں حکومت سے محض کچھ مراعات کی طالب ہوا کرتی تھیں۔ بالآخر جمعیة علمائے ہند کی یہی تجویز ملک کے ہر فرد کی آواز بن گئی۔
۱۹۲۹ء میں گاندھی جی کے ’ڈانڈی مارچ‘ اور نمک سازی تحریک میں جمعیة علمائے ہند کے رہ نما مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مفتی عتیق الرحمن عثمانی وغیرہ نے شرکت کی اور دیگر قومی کارکنوں کے ساتھ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا سید فخر الدین مراد آبادی، مولانا سید محمد میاں دیوبندی اور مولانا بشیر احمد بھٹہ وغیرہ بھی گرفتار ہوئے۔
۱۹۳۰ء کی تحریک سول نافرمانی میں جمعیة علمائے ہند کے صدر حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی اور ناظم اعلی جمعیة علمائے ہند مولانا احمد سعید دہلوی کو قانونِ تحفظِ عا مہ اور بغاوت کے جرم میں گرفتار کر کے قید بامشت کی سزا دی گئی۔ ۱۹۳۲ء میں جب دوبارہ سول نافرمانی کی تحریک شروع کی گئی تو جمعیة علمائے ہند نے بھی کانگریس کی جنگی کونسل کی طرح ’ادارہ حربیہ‘ قائم کر کے ڈکٹیٹرانہ نظام جاری کیا جس کے ذمہ دار مولانا ابوالمحاسن سجاد صاحب تھے۔ مارچ ۱۹۳۴ء میں جمعیة علمائے ہند کے پہلے ڈکٹیٹر حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی ایک لاکھ افراد کا جلوس لے کر نکلے اور گرفتار کر لیے گئے۔ جمعیة علمائے ہند کے دوسرے ڈکٹیٹر حضرت مولانا حسین احمد مدنی کو بھی دیوبند سے دہلی آتے ہوئے راستے میں گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا محمد میاں دیوبندی، رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی وغیرہم ڈکٹیٹر منتخب ہوتے رہے اور گرفتاریاں دیتے رہے۔ اس تحریک میں تقریباً تیس ہزار مسلمان گرفتار کیے گئے۔
۱۹۳۵ء میں حکومت ہند کا جو دستور بنایا گیا تھا اس میں مسلمانوں کی مذہبی و ملی مشکلات کے حل کے لیے جمعیة علمائے ہند نے ایک فارمولا پیش کیا تھا جس کو ’مدنی فارمولا‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اگر اس فارمولے کے مطابق دستور بنایا جاتا تو کافی حد تک مسلمانوں کی مشکلات حل ہوجاتیں اور ملک تقسیم نہ ہوتا۔ بہر حال گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء کے ذریعہ مسلمانوں کو جو بھی مراعات حاصل ہوئیں وہ اسی فارمولے کی بنیاد پر شامل ہوئیں۔
۳۷-۱۹۳۶ء میں جمعیة علمائے ہند نے حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی کی رہ نمائی میں صوبہ سرحد کی اسمبلی میں شریعت بل کا مسودہ پیش کر کے پاس کرایا ، جو بالآخر شریعت ایکٹ بنا اور آج تک نافذ ہے۔ ۱۹۳۷ء میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے انگریزی اقتدار کے مقابلے میں بلا تفریق مذہب و ملت ہندوستانیوں کے لیے متحدہ قومیت کی وکالت کی اور اس کو قرآن وحدیث سے ثابت کیا۔ اُس وقت مسلم لیگ اور ہندو مہا سبھا کی جانب سے مذہب پر مبنی تصورات پیش کیے جارہے تھے۔
۴۰-۱۹۳۹ء میں دوسری جنگ عظیم کے موقع پر جمعیة علمائے ہند نے جبری بھرتی کی پرزور مخالفت کی اور اعلان کیا کہ جنگ کے سلسلہ میں ہم کسی طرح کا تعاون نہیں کریں گے، جس کی پاداش میں جمعیة کے رہ نماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ۔ ان میں مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا محمد قاسم شاہجہانپوری، مولانا ابوالوفا شاہجہانپوری، ، مولانا محمد اسماعیل سنبھلی، مولانا شاہد میاں فاخری الہ آبادی، مولانا اختر الاسلام مدرسہ شاہی مرادآباد وغیرہ شامل ہیں۔
اپریل ۱۹۴۲ء میں جمعیة علماء کی بچھرایوں کانفرنس میں آزادی کے مطالبہ کی پاداش میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی کو جون ۱۹۴۲ء میں گرفتار کر لیا گیا اور چھ ماہ کی مدت اسارت ختم ہونے کے وقت دو بارہ غیر محدود عرصہ کے لیے نظر بند کردیا گیا۔ ۵/ اگست ۱۹۴۲ء کو جمعیة علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے چار مقتدر ارکان حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا احمد سعید دہلوی اور مولانا عبد الحلیم صدیقی لکھنوی کے دستخطوں سے ایک اخباری بیان جاری کیا گیا جس میں کھلے لفظوں میں کہا گیا تھا کہ ”انگریز ہندوستان چھوڑ دے“۔ اس کے بعد ۸/ اگست کو کانگریس نے بمبئی کے اجلاس میں ’کوئٹ انڈیا‘ (انڈیا چھوڑ دو)کی تجویز پاس کی۔ اس کی پاداش میں کانگریس کی طرح جمعیة علمائے ہند کے رہ نما اور ہزاروں کارکن گرفتار ہوئے جن میں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا محمد میاں دیوبندی، مولانا نور الدین بہاری وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
جمعیة علمائے ہند نے مسلمانوں کے لیے الگ اسٹیٹ یعنی نظریہٴ قیامِ پاکستان کی ہمیشہ پوری قوت کے ساتھ مخالفت کی۔لیکن ۱۵/ اگست ۱۹۴۷ء کو مجاہدین ملت کی بیش بہا قربانیوں کی بدولت جب آفتابِ آزادی نصف شب کو طلوع ہوا، برطانوی شاطر حکمراں اپنی پھوٹ ڈالنے والے سیاست میں کامیاب ہوچکے تھے۔ اس مبارک گھڑی میں ہندو مسلم اتحاد کی وہ عمارت جس کی تعمیر جمعیة علماء کے اکابر نے کی تھی وہ لرزہ بر اندام ہوگئی ، نفرت کی آندھیوں میں صدیوں کے پروردہ رشتے کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹ گئے۔ اس وقت شمالی ہند کے مسلمانوں کے سامنے کربلا جیسے مناظر تھے۔ اس بھیانک تاریکی میں جمعیة علمائے ہند نے امید کا چراغ روشن کیا، لڑکھڑاتے قدموں کو سہارا دیا اور حوصلوں کو بحال کیا ۔
جمعیة علمائے ہند کی ملکی و ملی خدمات
۱۹۴۷ء میں ملک کی آزادی اور مسلم آبادی کی تقسیم کے بعد ہندوستان میں قیام کا فیصلہ کرنے والے مسلمانوں کے لیے زندگی بہت مشکل تھی، خصوصاً شمالی ہند اور دہلی و اطراف کے مسلمانوں پر ایک قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی تھی۔ ان پرخطر اور نازک حالات میں مسلمانوں کو تسکین و تسلی دینے اور ان کے پیروں کو جمانے میں اکابرِ جمعیة نے اہم کردار ادا کیا۔
اسی طرح ملک کے طول و عرض میں فرقہ وارانہ فسادات اورفرقہ پرستی کی روک تھام کے لیے طویل اور صبر آزما جد و جہد کی۔ اس سلسلہ میں جمعیة علماء نے پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ایوانوں سے لے کر عوامی مقامات اور جلسہ گاہوں سے فرقہ واریت کی مخالفت کی اور ملک دشمن طاقتوں کو آشکارا کیا۔ جمعیة علماء کے علماء و اکابر نے بڑی جرأت اور استقامت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا اور فساد زدہ مسلمانوں کی مدد اور باز آبادکاری میں جو خدمات انجام دیں وہ ہماری ملّی تاریخ کا روشن باب ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے جمعیة علمائے ہند کی سب سے اہم خدمت اور کارنامہ ہندوستانی دستور کا سیکولر ڈھانچہ ہے۔ دستور کے بہت سے اجزا جن کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق مسلمانوں سے ہے ، حالات و ماحول کے لحاظ سے جو بھی ممکن تھا مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے دستور ساز اسمبلی کے رکن ہونے کی حیثیت سے وہ کردکھایا۔ آج دستور میں اقلیتوں کو جو حقوق ، مراعات اور ضمانتیں دی گئی ہیں ان میں سے بیشتر جمعیة علمائے ہند کے رہ نماوٴں کی جدوجہد اور کوششوں کا ثمرہ ہیں۔ آج دستور کی وہی دفعات ہیں جو مسلمانوں کو ہندوستان میں سربلند رکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ اگر ان حقوق کو حاصل کرنے کی طاقت پیدا ہوجائے اور مسلمان احساسِ کمتری سے نکل آئیں تو ان کا مستقبل تابناک ہوسکتا ہے۔
جمعیة علمائے ہند نے ملک کے دستور اور اس کے سیکولر تانے بانے سے چھیڑ چھاڑ کرنے والی ہر کوشش اور سازش کے خلاف آواز اٹھائی۔ وہ خواہ پرارتھنا یا قومی گیت، وندے ماترم کا معاملہ ہو یا نصابی کتابوں میں مخصوص فرقہ وارانہ ذہنیت کی پرورش کا، خواہ یکساں سول کوڈ کامعاملہ ہو یا مذہبی عمارات بل کا، خواہ سرحدی علاقوں میں مسلمانوں کی شہریت کا مسئلہ ہو یا مسلم عائلی مسائل سے چھیڑ چھاڑکا، ہر معاملہ میں جمعیة علمائے ہند نے اپنے دستوری حق کے حصول اور سیکولزم کی بقا کے لیے پوری کوشش کی۔ جمعیة علمائے ہند کی انھیں کوششوں کی وجہ سے دستور اور سیکولرزم میں یقین نہ رکھنے والے افراد اور جماعتوں کی ناپاک سازشیں کام یابی سے ہم کنار نہ ہوسکیں۔
ہندوستان میں موقوفہ جائیدادوں اور مسلم اوقاف پر غاصبانہ قبضے، قبرستانوں اور مسجدوں تک کی فروخت ، نااہل متولیوں کی جارحانہ گرفت و خیانت ، زمینداری کے خاتمہ کے نتیجہ میں اوقاف کے سلسلہ میں پیش آمدہ دشواریاں ، وقف کمیٹیوں کی حالتِ زار اور اس طرح کے دوسرے بہت سے متعلقہ مسائل ایسے تھے جنھوں نے ملت کے لیے مالی، اقتصادی اور مذہبی دشواریاں پیدا کردی تھیں ۔ چناں چہ جمعیة علمائے ہند نے ان مسائل کی طرف بھرپور توجہ دی۔ جمعیة علماء نے مختلف مواقع پر موٴثر تجاویز، قانونی کارروائی اور اثر و رسوخ کے ذریعہ اوقاف کی بحالی اور اصلاح و درستگی کے لیے قدم اٹھایا۔ اس سلسلہ میں فروری ۱۹۷۹ء کو کل ہند اوقاف کانفرنس منعقد کی گئی اور جمعیة کی وقف کمیٹی کے مرتب کردہ مسودہ کو پارلیمنٹ میں پاس کرکے ایکٹ کی صورت دی گئی۔
بابری مسجد کا قضیہ ہندوستان کی تاریخ کا سب سے اہم اور حساس قضیہ ہے جس کی وجہ سے ملک میں فسادات ، قتل و خون ، بد امنی و بے چینی اور افتراق و انتشار کا ایک طوفان برپا ہو اور بالآخر فرقہ پرستوں نے حکومتی پشت پناہی میں ۶/ دسمبر ۱۹۹۲ء کو بابری مسجد کو شہید کرڈالا ۔ بابری مسجد کیس میں جمعیة علمائے ہند ۱۹۳۴ء ہی سے سرگرم عمل ہے جب انگریزوں نے ہندو مسلم کو باہم لڑانے اور اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے مقصد سے بابری مسجد کی جگہ کے سلسلہ میں من گھڑت واقعات کی بنیاد پر رام جنم بھومی کا شاخسانہ پیدا کیا جب کہ ساڑھے تین سو سال بابری مسجد کے تعلق سے کوئی جھگڑا نہیں تھا اور تاریخی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ رام مند توڑ کر بابری مسجد بنائی گئی۔
مارچ ۱۹۳۴ء میں دو فرقوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب صدر جمعیة علمائے ہند نے خود اجودھیا جاکر حالات کا جائزہ لیا اور ورکنگ کمیٹی کو رپورٹ پیش کی۔ دسمبر ۱۹۴۹ء کی جس رات کو مسجد میں بت رکھے گئے جمعیة علماء کے قائدین حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی اور مجاہدِ ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے اس جسارت کو ہندوستان کی جمہوریت کے لیے بدنما داغ اور سیکولزم کے لیے شرمناک حرکت قرار دیا ۔ جمعیة علماء نے موضوع کی نزاکت کے پیش نظر فیصلہ کیا کہ اس کو عوامی مسئلہ نہ بنایا جائے، بلکہ قانونی کارروائی اور حکومت کے ساتھ رابطہ سے اس مسئلہ کے حل کی کوشش کی جائے۔ اسی مقصد کے پیش نظر جمعیة نے قانونی انصاف کے حصول کے لیے ۱۹۴۹ء ہی میں عدالتی کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔ دوسری طرف جمعیة علماء نے برادران وطن کو مسئلہ کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور مبنی بر انصاف پالیسی اپنانے کے لیے بابری مسجد کے تعلق سے تاریخی حقائق کو آشکارا کرنا شروع کیا۔ اس کے لیے انھوں نے باہمی تبادلہٴ خیال کی راہ اپنائی اور بالآخر وہ برادران وطن کی ایک بڑی تعداد کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جمعیة کی یہ پالیسی نہ صرف مسجد کے تحفظ کے نقطہٴ نظر سے ضروری تھی بلکہ ملکی اتحاد اور قومی یکجہتی کے لیے بھی ضروری تھی۔لیکن حکومت کی منافقانہ پالیسیوں اور فرقہ پرستوں کی بڑھتی قوت کے پیش نظر بیسوی صدی کی آٹھویں دہائی میں بابری مسجد کا قضیہ ایک حساس سیاسی اور فرقہ وارانہ مسئلہ بن گیا اور آخر کار بابری مسجد کو فرقہ پرستوں نے حکومتی سرپرستی میں دن دہاڑے شہید کرڈالا۔ جمعیة علماء اس وقت سے لے کے اب تک بابری مسجد کیس میں مدعی ہے اور اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
جمعیة علماء کے اکابر و اسلاف نے ابتدا ہی سے جو معتدل پالیسی اپنائی تھی وقت کی کسوٹی نے اسے حرف بہ حرف صحیح ثابت کردکھایا ہے۔ جو لوگ جمعیةعلماء کو اس کی معتدل پالیسی کی وجہ سے مصلحت پسندی کا طعنہ دے کر بدنام کرتے تھے، آج وہ بھی اس اعتراف پر مجبور ہیں کہ اکابر جمعیة نے بابری مسجد کے تئیں جو پالیسی بنائی تھی اس پر عمل کیا جاتا اگر تو آج شاید وہ حالات رو نما نہیں ہوتے جو اس وقت ہندوستانی مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کے لیے باعثِ تشویش بنے ہوئے ہیں۔
جمعیة علمائے ہند کا دائرہٴ کار بہت وسیع ہے۔ اس نے اردو زبان کے تحفظ ، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے تحفظ اور دیگر بہت سے اہم مسائل میں ملک و ملت کی قیادت کی۔ جمعیة علماء نے ہندوستان میں مسلمانوں کو مذہبی طور پر متحد کرنے کے لیے امارت شرعیہ قائم کی اور دوسری طرف مسلمانوں کے اندر پیدا ہونے والی بہت سی مذہبی و سماجی برائیوں کے خاتمہ کے لیے اصلاح معاشرہ تحریک کی شروعات کی۔ آزاد ہندوستان میں امن وامان، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، جمہوریت کے فروغ اور سیکولزم کے تحفظ کے لیے اکابر جمعیة اور علمائے دیوبند کی کوششیں جدید ہندوستان کی تاریخ کا روشن باب ہے جنھیں کوئی انصاف پسند موٴرخ نظر انداز نہیں کرسکتا۔
جمعیة علمائے ہند اور دارالعلوم دیوبند
جمعیة علمائے ہند، آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کی سب سے قدیم اور بڑی تنظیم ہے جس نے مسلمانوں کے جان و مال اور دین و مذہب کے تحفظ ، فرقہ واریت کی مخالفت، تعلیم اور ریلیف و باز آبادکاری کے میدانوں میں عظیم الشان اور قابل فخر خدمات انجام دی ہیں۔ جمعیة علماء کے تقریباً تمام ہی مرکزی صدور اور صوبہ جات و اضلاع کے صدور و ذمہ داران دارالعلوم دیوبند کے اکابر و علماء رہے ہیں جن میں حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی، حضرت مولانا حسین احمد مدنی، حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، حضرت مولانا محمد میاں دیوبندی، حضرت مولانا سید فخر الدین مرادآبادی، حضرت مولانا سید اسعد مدنیوغیرہ جیسی شخصیات قابل ذکر ہیں۔ جمعیة علمائے ہند کی موجودہ قیادت (حضرت مولانا سید ارشد مدنی، حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری، حضرت مولانا محمود مدنی، حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی اور حضرت مولانا سید اشہد رشیدی وغیرہ ) بھی نہ صرف دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ بلکہ دونوں جمعیتوں کے صدور حضرات دارالعلوم دیوبند کے موقر اساتذہٴ حدیث ہیں۔
دارالعلوم دیوبند کی کوکھ سے جہاں مدارس اسلامیہ کا سلسلہ شروع ہوا جس نے پوری دنیا میں علوم دینیہ اور اسلامی تشخص کی بقا و ترقی کا سامان فراہم کیا ، وہیں ہندوستان میں ملکی و ملی اور سیاسی و سماجی خدمات کا عظیم الشان پلیٹ جمعیة علماء کی شکل میں سامنے آیا اور اسی کے طرز پر ہندوستان سے باہر پاکستان، بنگلہ دیش ، ساؤتھ افریقہ اور برطانیہ وغیرہ میں مسلمانوں نے اپنی جمعیتیں قائم کیں۔ علمائے دیوبند ہی کی کوششوں سے تبلیغی اور دعوتی سرگرمیوں کے لیے جماعت تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوا جو آج پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔

جمعیۃ : ہند میں سرمایہ ملت کی نگہبان

۲۳؍ نومبر۱۹۱۹ مطابق یکم ربیع الاول ۱۳۳۸ھ یوم تاسیس جمعیۃ علماء ہند؛ ملت اسلامیہ ہند کے لیے عظیم تاریخی انقلاب کا دن ہے

محمد یاسین قاسمی جہازی، شعبہ دعوت اسلام جمعیۃ علماء ہند

چوں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت پورا عرب ترکوں کے زیر حکومت تھا، اس لییعالم اسلام کی نگاہوں میں ترکی حکومت کو ’حکومت اسلامیہ‘ اور اس کے خلیفہ کو ’خلیفۃ المسلمین‘ کہاجاتا تھا۔ پہلی جنگ عظیم (۲۸؍ جولائی ۱۹۱۴ء ، ۱۱؍ نومبر ۱۹۱۸ء)میں ترکی نے برطانیہ کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا تھا۔ترکی کے جنگ میں شامل ہونے کی وجہ سے بھارتی مسلمانوں کو تشویش ہوئی کہ اگر برطانیہ کامیاب ہو گیا تو ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ بھارتی مسلمانوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم لائیڈ جارج سے وعدہ لیا کہ جنگ کے دوران مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی بے حرمتی نہیں کی جائے گی اور جنگ کے بعد مسلمانوں کی خلافت محفوظ رہے گی؛ لیکن برطانیہ نے فتح ملنے کے بعد وعدہ خلافی کرتے ہوئے عربوں کو ترکی کے خلاف جنگ پر اکسایا ، جس کے نتیجے میں بہت سے عرب مقبوضات ترک سلطان کے ہاتھ سے نکل گئے ، جس پر بعد میں انگریزوں نے قبضہ کرلیا اور پھر ترکی کو تقسیم کرکے خلافت اسلامیہ کا خاتمہ کردیا۔ انگریزوں کی اس بد عہدی نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو غم و غصہ سے بھر دیا،جس کے نتیجے میں ’تحریک خلافت‘ رونمائی ۔ اسی تحریک کا پہلا اجلاس’’آل انڈیا خلافت کانفرنس‘‘ کے نام سے بروز اتوار، پیر، ۲۳؍ ۲۴؍ نومبر ۱۹۱۹ء مطابق ۲۹؍ صفر و یکم ربیع الاول ۱۳۳۸ھ کوبمقام کرشنا تھیٹر، پتھر والا کنواں دہلی میں ہورہا تھا ، جس میں بھارت کے کونے کونے سے مختلف مسلک و مشرب کے علمائے کرام شریک تھے۔
علمائے کرام کے باہمی مسلکی اختلاف سے امت مسلمہ کی جو نازک حالت بنی ہوئی تھی، اس نے انھیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اگر ہم یوں ہی عقیدہ و فرقہ کا کھیل کھیلتے رہے ، تووہ دن دور نہیں، جب خلافت کی طرح ہمارا وجود بھی صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ وقت کی اسی نزاکت و ضرورت کو سمجھتے ہوئے مولانا عبد الباری صاحب فرنگی محل، یا مفتی اعظم حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے علماء کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ۲۲؍ نومبر ۱۹۱۹ء بروز سنیچرحضرت مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ کی ہدایت کے مطابق مولانا احمد سعید اور مولانا آزاد سبحانی صاحبان نے خلافت کانفرنس میں تشریف لائے علمائے کرام کی قیام گاہوں پر جاکر فردا فردا ملاقات کی اور بڑی راز داری کے ساتھ انھیں ایک تنظیم کی نیو رکھنے کی دعوت دی۔ حکومت برطانیہ چوں کہ علماء پر بہت زیادہ نظر رکھے ہوئے تھی ، اس لیے خطرہ تھا کہ اگر کہیں انگریزوں کو بھنک بھی پڑ گئی تو علماء پر حکومت کے قہر و جبر کی قیامت ٹوٹ پڑے گی، اس لیے ۲۳؍ نومبر ۱۹۱۹ بروز اتوار بعد نماز فجرپچ کوئیاں روڈ دہلی میں واقع سید حسن رسول نما کے مزار پرحاضر ہوکر سب نے مل کریہ قول و قرار لیا کہ
’’ہم سب دہلی کے مشہور ومقدس بزرگ کے مزار کے سامنے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر یہ عہد کرتے ہیں کہ مشترک قومی و ملی مسائل میں ہم سب آپس میں متحد ومتفق رہیں گے اور فروعی و اختلافی مسائل کی وجہ سے اپنے درمیان کوئی اختلاف پیدا نہیں کریں گے، نیز قومی و ملکی جدوجہد کے سلسلے میں گورنمنٹ کی طرف سے جو سختی اور تشدد ہوگا، اس کو صبرو رضا کے ساتھ برداشت کریں گے اور ثابت قدم رہیں گے۔ جماعت کے معاملہ میں پوری پوری رازداری اورامانت سے کام لیں گے۔ (تحریک خلافت، ص؍۴۰: قاضی عدیل عباسی)
جو علمائے کرام فروعی اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے سے اس قدر دور ہوگئے تھے کہ ایک دوسرے کی تکفیر کرتے نہیں تھکتے تھے اور ایک دوسرے کو سلام تک کرنا گوارا نہیں کرتے تھے؛ حلف راز داری کے بعد اسی روز، یعنی ۲۳؍ نومبر ۱۹۱۹ء مطابق یکم ربیع الاول بروز پیر بعد نماز عشا مسجد درگاہ سید حسن رسول نما میں ایک ساتھ ایک دل اور ایک جان ہوکر بیٹھے اور پوری قوت کے ساتھ میدان عمل تیار کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم تشکیل دی، جس کو ایک خوبصورت نام دیا ، یعنی جمعیۃ علماء ہند۔ اس کے عارضی صدر حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب کوعارضی ناظم بنایا گیا۔ اس تاسیسی اجلاس میں مختلف العقائد کے درج ذیل ۲۵؍علمائے کرام شریک تھے:
(۱) حضرات مولانا عبد الباری ،(۲) مولانا سلامت اللہ، (۳)مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ، (۴) پیر محمد امام سندھی،(۵) مولانا اسد اللہ سندھی،(۶) مولانا سید محمد فاخر، (۷) مولانا محمد انیس، (۸)مولانا خواجہ غلام نظام الدین،(۹) مولانا محمد کفایت اللہ، (۱۰) مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی، (۱۱) مولانا احمد سعیددہلوی،(۱۲) مولانا سید کمال الدین،(۱۳) مولانا قدیر بخش، (۱۴)مولانا تاج محمود،(۱۵)مولانا محمد ابراہیم دربھنگوی،(۱۶) مولانا خدا بخش مظفر پوری، (۱۷)مولانا مولا بخش امرتسری،(۱۸) مولانا عبد الحکیم گیاوی،(۱۹) مولانا محمد اکرام،(۲۰) مولانا محمد منیرالزماں،(۲۱) مولانا محمد صادق،(۲۲) مولانا سید محمد داؤد،(۲۳) مولانا سید محمد اسماعیل،(۲۴) مولانا محمد عبداللہ ،(۲۵) مولانا آزاد سبحانی۔
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ (اسیر مالٹا) کو مستقل صدر، اور حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کو نائب صدراور مولانا احمد سعید صاحب کو مستقل ناظم اعلیٰ بنایاگیا ۔اس میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ دسمبر میں چوں کہ خلافت کانفرنس امرتسر میں ہونے والی ہے، اس لیے اسی موقع پر جمعیۃ علماء ہند کا بھی اجلاس کرلیا جائے۔
جمعیۃ علماء ہند کا پہلا اجلاس
جمعیۃ علماء ہند کے قیام کے محض ۳۵؍ دن بعد،۲۸، ۳۱؍ دسمبر۱۹۱۹ء اور یکم جنوری ۱۹۲۰ء کی الگ الگ تاریخوں میں تین نشستوں پر مشتمل اسلامیہ مسلم ہائی اسکول امرتسر میں جمعیۃ علماء ہند کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ پہلی نشست میں باون علمائے کرام شریک ہوئے اور جمعیۃ علمائے ہند کے قیام کی ضرورت و اہمیت پر بحث و گفتگو ہوئی۔ ۳۱؍ دسمبر ۱۹۱۹ کو دوسری نشست ہوئی جس میں تیس علمائے کرام نے شرکت کی۔ اس میں کل تین تجویزیں منظور ہوئیں، جن میں خلافت اسلامیہ کے خلیفہ سلطان عبد الحمید کے نام کا خطبہ پڑھنے، صلح کانفرنس میں بھارتی مسلمانوں کے وفد کے بھیجنے اور اس تجویز کو ملک معظم کی خدمت میں بھیجنے کی تجاویز تھیں۔تیسری نشست یکم جنوری ۱۹۲۰ء کو ہوئی ، جس میں چوبیس علمائے کرام شریک ہوئے ۔اس میں بھی کئی تجاویز پاس ہوکر منظور ہوئیں اور سب سے پہلی مجلس منتظمہ کی تشکیل عمل میں آئی، اور تئیس درج ذیل اراکین منتخب کیے گئے:
(۱) مفتی محمد کفایت اللہ صاحب دہلوی، (۲) مولانا احمد سعید صاحب دہلوی، (۳)حکیم محمد اجمل خان صاحب دہلوی، (۴) مولانا عبد الماجد صاحب بدایونی،(۵) مولانا محمد فاخر صاحب الٰہ آبادی، (۶) مولانا محمد سلامت اللہ صاحب، (۷) مولانا حسرت موہانی صاحب، (۸) مولانا مظہر الدین صاحب، (۹) مولانا محمد اکرام خاں صاحب، (۱۰) مولانا منیر الزماں صاحب، (۱۱)مولانا محمد سجاد صاحب، (۱۲) مولانا رکن الدین صاحب دانا، (۱۳) مولانا خدا بخش صاحب، (۱۴) مولوی پیر تراب صاحب، (۱۵) مولانا عبد اللہ صاحب، (۱۶) مولانا محمد صادق صاحب، (۱۷) مولانا ثناء اللہ صاحب، (۱۸) مولانا سید داؤد صاحب، (۱۹) مولانا محمد ابراہیم صاحب، (۲۰) مولانا عبد اللہ صاحب، (۲۱) مولانا عبدالمنعم صاحب، (۲۲) مولانا سیف الدین صاحب، (۲۳) حکیم ابو یوسف اصفہانی صاحب۔
جمعیۃ علماء ہند کے پہلے دن، پہلی میٹنگ، پہلے اجلاس اور پہلی مجلس منتظمہ کی تفیصلات آ پ نے مطالعہ کرلیا، آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں، اس کے اب تک کی دو اعلیٰ قیادت صدور و نظما کی فہرست پر:
صدور
(۱) حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ؒ (پہلے عارضی صدر۲۳؍ نومبر ۱۹۱۹)
(۲) شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندؒ (پہلے مستقل صدر۲۳؍ نومبر ۱۹۱۹، تا ۲۰؍ نومبر ۱۹۲۰)
(۳) حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ۔ (۷؍ ستمبر ۱۹۲۱، تا ۷؍ جون ۱۹۴۰ء)
(۴) شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ (جون ۱۹۴۰)
(۵)حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ (۱۹۵۷)
(۶) حضرت مولانا سید فخر الدین صاحبؒ (۱۹۵۹)
(۷) حضرت مولانا عبد الوہاب صاحب ؒ (عبوری صدر)(۱۹۷۲)
(۸) حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحبؒ (اگست ۱۹۷۳)
(۹) حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب (۲۰۰۶)
(۱۰) حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب (۶؍ مارچ۲۰۰۸، تا حال)
نظما
(۱) حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ (پہلے عارضی ناظم۲۳؍ نومبر ۱۹۱۹ء)
(۲) حضرت مولانا احمد سعید صاحب ؒ (پہلے مستقل ناظم عمومی، نومبر ۱۹۲۰)
(۳) حضرت مولانا سجاد بہاری صاحبؒ (جولائی ۱۹۴۰ء )
(۴) حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحبؒ (مارچ ۱۹۴۲)
(۵)حضرت مولانا محمد میاں صاحبؒ (اگست ۱۹۶۲)
(۶) حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحبؒ (جون ۱۹۶۳ء)
(۷) حضرت مولانا سید احمد ہاشمی صاحبؒ (اگست ۱۹۷۳ء)
(۸) حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی صاحب (۱۹۸۱)
(۹) حضرت مفتی عبد الرزاق صاحب (۱۹۹۱)
(۱۰) حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب (اپریل ۱۹۹۵)
(۱۱) حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب (۲۰۰۲)
(۱۲) حضرت مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب (۹؍ مئی۲۰۰۸)
(۱۳) حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب (۲۰۱۱ء تاحال)
اس فہرست سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ جمعیۃ علماء ہند کی قیادت ہمیشہ وقت کی بزرگ اور معتبر شخصیات کی ہاتھوں میں رہی ہے، جنھوں نے اپنی ایمانی فراست اور سیاسی بصیرت سے ہمیشہ مسلمانوں کے لیے تعمیری اور مثبت کارنامے انجام دیے ہیں ، جو تاریخ عالم پر ثبت ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کی خدمات کے جلی عنوانات
آج بتاریخ ۲۳؍ نومبر ۲۰۱۸ء اس جماعت کی تشکیل کو ننانوے سال پورے ہورہے ہیں ، اگر اس قدیم سالہ جماعت کی خدمات کو تفصیلی طورپر شمار کرایا جائے ، تو یہ اب ناممکن ہے ۔ ناممکن اس لیے نہیں ہے کہ کوئی لکھنے والا نہیں ہے؛ بلکہ ماضی میں جمعیۃ کی خدمات کا جتنا تذکرہ کتابوں میں ملتا ہے، اس سے کہیں زیادہ خدمات وہ ہیں جنھیں کبھی لکھا ہی نہیں گیا ہے۔ اور نہ لکھنے کی ایک لمبی کہانی ہے ۔ مختصرا یہ عرض ہے کہ سید الملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب کے بقول جمعیۃ علماء ہند پر انگریزجاسوسوں کی گہری نظر رہتی تھی ، اس لیے جو فیصلے اور لائحۂ عمل طے کیے جاتے تھے ، وہ لکھنے کے بجائے زبانی ہوتے تھے اور یہ زبانی فیصلے بھی کوڈ میں ہوا کرتے تھے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ کا بڑا حصہ حیطۂ تحریر میں نہیں لایاجاسکا۔ اب موجودہ وقت میں ان کا ماخذ صرف اس زمانے سے وابستہ جمعیۃ علماء ہند کے خادمین اور مخدومین ہیں اور ان کے پاس بھی جو سرمایہ ملے گا، وہ زبانی روایتیں ہی ہوں گی اورویسے بھی اب ان کو زندوں میں تلاش کریں، تو ان کی تعداد آٹے میں نمککے برابر بھی نہیں ملے گی، اس لیے ہم پوری تفصیلات پیش کرنے سے عاجزی کے اظہار کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے؛تاہم جو خدمات تاریخ کے صفحات میں قید ہیں، اگر ہم ان کے صرف عنوانات کا جائزہ لیتے ہیں، تو وہ کچھ اس طرح ہیں:
(۱) ہندستان کی مکمل آزادی کے لیے بھرپور جدوجہد۔
(۲) تعلیمی اداروں کا قیام اور تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر مکاتب کا نیٹ ورک پھیلانے کی کوششیں۔
(۳)جمہوری نظام حکومت میں برادران وطن کے ساتھ مل کر کام کرنے اور ان سے کام لینے کی حکمت عملی اپنانے پر زور۔
(۴)مسلمانوں کے شرعی مسائل میں کسی بھی طرح کی مداخلت کے خلاف انقلابی کوشش۔
(۵)مساجد، مدارس ، مکاتب، مقابر،خانقاہوں اور دیگر اسلامی اداروں کے تحفظات کے لیے لازوال جدوجہد۔
(۶) اردو کی بقا کے لیے مناسب اقدامات۔
(۷)مسلمانوں کی صلاح و اصلاح کے لیے اصلاح معاشرہ کے پروگرام۔
(۸)اوقاف کے تحفظ کی کوششیں۔
(۹)فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف سخت جدوجہد۔
(۱۰)مسلمانوں کی ملی شناخت کو مٹانے کی سازشوں کو ناکام بنانے کی بھرپور جدوجہد۔
(۱۱) دستور میں مسلمانوں کو ان کے دینی ، ملی، سیاسی اور تعلیمی حقوق سے محروم کرنے یا نقصان پہچانے کی غرض سے کی جانے والی ترمیموں کے خلاف سخت ایکشن۔
(۱۲) پاکستان کے نام سے مسلمانوں کو ایک الگ ملک دینے کی شدید مخالفت اور اس کے بجائے متحدہ قومیت کی وکالت۔
(۱۳) تقسیم ہند کے نتیجے میں آبادی کی تبدیلی کی ہولناک تباہی و بربادی اور فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کی انتھک جدوجہد اور مسلمانوں کو اس ملک میں عزت کے ساتھ رہنے کی حوصلہ افزائی۔
(۱۴) انخلاکنندگان کی جائیدادوں کے سلسلے میں جاری مبہم آرڈی ننس کی وجہ سے مسلمانوں کی جائیدادوں کو درپیش خطرہ اور کسٹوڈین کے من مانی کے خلاف جنگی جدوجہد۔
(۱۵) فرقہ پرست تخریبی طاقتیں اور ایڈمنسٹریشن کے ایک مخصوص طبقہ کا مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت حالات پیدا کردینے کے پیش نظر تمام سنجیدہ اور بااثر حضرات سے مل بیٹھ کر غورو فکر کرنے کی دعوت۔
(۱۶) جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونی ورسیٹی علی گڑھ کے اقلیتی کردار کی بحالی کی کوشش۔
(۱۷)فلسطین اور پوری دنیا میں انسانیت پرہورہے مظالم کے خلاف سخت احتجاج۔
(۱۸)اکابر کی خدمات سے نئی نسل کو روشناس کرانے کے لیے سیمنار اور پروگراموں کا انعقاد۔
(۱۹)حرمین شریفین کے تحفظ کی کوشش۔
(۲۰) حجاج کرام کی پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش۔
(۲۱)ارتداتی سرگرمیوں پر روک لگانے کے لیے حالات کے تقاضے کے مطابق کمیٹیوں کی تشکیل اور عیسائی مشنریز کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے موثر اقدامات
(۲۲)توہین رسالت کے معاملے پر سخت ایکشن۔
(۲۳) مسلمانوں کے شرعی مسائل کے حل کے لیے مباحث فقہیہ اور امارت شرعیہ کا قیام۔
(۲۴)دہشت گردی مخالف کانفرنسوں کا انعقاد۔
(۲۵) قدرتی آفات اور فرقہ وارانہ فسادات میں اجڑے اور برباد ہوئے لوگوں کے لیے وسیع پیمانے پر ریلیف ورک اور باز آباکاری کی انتھک کوششیں۔
(۲۶)جیلوں میں بے قصور بند افراد کی رہائی کے لیے قانونی چارہ جوئی۔
(۲۷) عالم اسلام کے مسائل پر گہری نظر ۔
(۲۸) مسلمانوں کے سیاسی مفادات کا تحفظ۔
(۲۹) مسلمانوں کی ملی وحدت برقرار رکھنے کی کوشش۔
(۳۰) مسلمانوں اور برادران وطن کی سماجی اور اقتصادی خدمات۔
( ۳۱) علمی و اشاعتی کارنامے۔
(۳۲) حالات اور وقت کے تقاضے کے مد نظر کانفرنسوں اور جلسہ ہائے عام کا انعقاد۔
یہ وہ جلی عنوانات ہیں ، جن پر جمعیۃ علماء ہند نے اپنی خدمات سے ایک تاریخ رقم کی ہے۔اور جن سے آپ بہ خوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ بھارتی مسلمانوں کے لیے جمعیۃ علماء ہند کا وجود کیا حیثیت رکھتا ہے ۔ تاریخ کی شہادت کی روشنی میں یہ دعویٰ کرنا نہ مبالغہ آرائی ہوگی اور نہ ہی خلاف واقعہ حکایت کہ ماضی میں جس قسم کی سیاست ہوئی ہے اور حال میں جس قسم کی سیاست ہورہی ہے، اگر جمعیۃ نہ ہوتی، تو بھارتی مسلمانوں کے لیے یہ ملک برما سے بھی زیادہ بدتر ہوتا ۔
موجودہ حالات میں بھی جب کہ ہر طرف خوف و ہراس اور دہشت گردی ناچ رہی ہے، کچھ لوگ بھیڑ کے مذہبی جذبات کو بھڑکاکر انسانیت کے چہرے کو نوچ رہے ہیں، اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے عرصہ حیات کو تنگ کرنے کی ہر گھڑی سازشیں ہورہی ہیں، جن سے ہمہ وقت یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ مشترک قومی سماج میں نہ جانے کب ایک پڑوسی دوسرے کے لیے بھیڑیہ بن جائے اور انسان اپنے ہی بھائیوں کے خون کا پیاسا ہوجائے، ایسے حالات میں سیکولرازم اور جمہوریت کی فضا کو قائم رکھنا ،اکثریتی سماج میں اقلیت کی حفاظت کو یقینی بنانا ،ظلم و بربریت کے پہاڑ ٹوٹنے کے باوجود مایوسی سے بچائے رکھنااور حق داری کے دعویٰ کے ساتھ سر اٹھاکر جینے کاحوصلہ بخشنا ؛ یہ صرف اور صرف جمعیۃ علماء ہند کا کارنامہ ہے۔سردست حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری صدر جمعیۃ علماء ہند اور قائد جمعیۃ حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کی بصیرت افروز قیادت کے تلے جمعیۃ علماء ہند ، ہند میں سرمایہ ملت کی نگہبانی کا فریضہ انجام دینے میں پیہم رواں دواں ہے۔

آئین ہند یا منوسمرتی: بھارت میں کس کی حکمرانی؟

عظیم اللہ صدیقی قاسمی

90 سال پہلے 25 دسمبر 1927کو کمزورطبقات ، دلت و خواتین کی عزت نفس اور تحفظ کے لیے خالق دستور ہند بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈ کرنے مہاراشٹر کے ساحلی علاقہ مہاڑ (کوکن) میں منوسمرتی دہن(نذرآتش) اور اسے باضابطہ دفن کرتے وقت جس دکھ کا اظہار کیا تھا، کیا وہ دکھ ختم ہو گیا اور کیا بھارت سے وہ سوچ مٹ گئی ؟ کیا بھارت اب ایک بار پھر ایسی سوچ کی گرفت میں نہیں آئے گا اور کیا بھارت کے لوگ اس تفریق اور جات پات کی لعنت سے پاک ہو گئے یا زخم ابھی بھی تازہ ہے ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کو 26؍ نومبر کو یوم دستور کے موقع پر ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت ہے ۔یہ سوال پوچھنے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کیوں کہ موجودہ حالات میں لوگ بری طرح کنفیوژن کے شکار ہیں ، وہ بدلنے منظر نامہ میں اپنے سیاسی رہ نماؤں کے بیانات کا کبھی مطلب سمجھ پاتے ہیں اور کبھی نہیں ۔ کبھی ان کی میٹھی باتیں سن کر خوش ہو جاتے ہیں او ر کبھی ان کی تیکھی باتیں غم زدہ کردیتی ہیں ۔

26؍نومبر کو بھارت میں یوم دستور منانے کی روایت بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے تقریبا تین سال قبل شروع کی تھی ،اس موقع پر خالق دستور بھیم راؤ امبیڈکر کو بھی یاد کیا جاتا ہے جنھوں نے تمام طبقات کے یکسا ں حق کے لیے دستور ہند کا معتدل اور معیاری نسخہ پیش کیا ۔انھوں نے ایسا کرکے بظاہر ملک میں منوسمرتی نظام لانے والوں سے جنگ جیت لی اور لوگوں نے یہ مان لیا کہ اب ملک میں دستور کی ہی حکمرانی رہے گی، لیکن ایسا سمجھنے والے دستور پر گوریلا حملہ آوروں سے ناواقف رہے جو دور موجود میں اوپن فائر کرر ہے ہیں ۔ایک طبقہ تو عوامی سطح پر منوسمرتی کی دوبارہ نمائش کرنے لگاہے ،خاص طور سے اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے منوسمرتی کو اپنی بنائی گئی عدالت کا حصہ بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ اسی طرح سوامی ویویکانند کی تقریر کے ایک سو پچیسویں سالگرہ کے موقع پر شکاگو میں منعقد ورلڈ ہندو کانگریس میں ڈاکٹر ناگاسوامی جیسی دانشور شخصیت نے منو دھرما شاستر ( منوسمرتی) کی تعریف میں پندرہ منٹ تک رطب اللسان رہ کر بہتوں کو چونکاد یا ، انھوں نے غیر منطقی طریقے سے ان تمام برائیوں کو درست ٹھہرانے کوشش کی اور اس کتاب کو دنیا کے لیے مثالی قرار دیا ۔
اگر ہم ماضی کی طرف لوٹتے ہیں جب ڈاکٹر امبیڈکر نے مہاڑ میں منوسمرتی دہن تقریب منعقد کی تھی ، تویہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس وقت دلتوں کے حالات کافی ابتر تھے، حالت یہاں تک خراب تھی کہ دلت عوام وہاں واٹر ٹینک سے پانی نہیں لے سکتے تھے ،حالاں کہ سرکاری طور سے یہ اجازت سب کو حاصل تھی مگر برہمن وادیوں کی جانب سے اس پر سخت بندش تھی ۔جس دن ڈاکٹر امبیڈکر یہ پروگرام کرنا چاہتے تھے ، اس دن اعلی ذات کے ہندوؤں نے ہر طرح کی رکاوٹ کھڑی کی ، کسی نے بھی پروگرام کے لیے جگہ نہیں دی ، مگر ایک باہمت مسلمان ’فتح خاں‘ نے تمام رکاوٹوں کے باو جود اپنا میدان پیش کیااور پھر لاکھوں کا مجمع جمع ہو گیا ۔

اس دن انسانوں کے جم غفیر میں امبیڈکر نے عہد لیا کہ (۱) ہم پیدائش کی بنیاد پر قائم ورنا سسٹم میں یقین نہیں رکھتے (۲) جات پات کی تفریق کو نہیں مانتے(۳)چھواچھوت کو ہم ہندوازم کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس نظام کو ہم تباہ کرنے کی پوری کوشش کریں گے (۴)ہمارا ماننا ہے کہ ہر آدمی کو مندر ، پانی اور اسکول سمیت دیگر سہولیات میں برابر کا حق ہے وغیرہ وغیرہ۔
منوسمرتی کو نذر آتش کرنا بھارت میں ایک نئے انقلاب کی بنیاد تھی،جب سب سے کمزور لوگوں نے طاقتوروں سے لڑنے کا عزم ظاہر کیاتھا۔ اس واقعہ سے برہمن وادی طبقہ چراغ پا ہوگیا اور اس نے ڈاکٹر امبیڈکر کو’بھیماسور‘ قرار دیا ، مگر ڈاکٹر امبیڈکر بھی قلم کے ہیرو تھے ، انھوں اپنے متعدد مضامین میں موثر استدلالی پیرایہ میں یہ ثابت کیا کہ آخرمنوسمرتی جلانے کی ضرورت کیوں پڑی ؟انھوں نے بتلایا کہ منوسمرتی کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذکرنے پر مجبور ہوں کہ اس کتاب نے دور دور تک سماجی مساوات کی حمایت نہیں کی ہے۔انھوں نے اس کے جلانے کو مہاتما گاندھی کے ذریعے بیرونی کپڑے جلانے کے مماثل قراردیا ۔

اب اس احتجاج کو 9دہائی گزرگئے ، اس بار پھر 26؍نومبر کو بھارت میں یوم دستور منایا جارہا ہے ۔مگر آج بھی حالات کا جائزہ لیا جائے تو حالات دلتوں کے لیے کچھ بہتر نہیں ہیں۔ ملک کا ایک طبقہ بالخصوص فرقہ پرست افراد منوسمرتی کو آج بھی اپنی فکر کی اہم بنیاد مانتے ہیں۔ یہ یک طرفہ تماشا ہے کہ وہ دوسری طرف دلتوں کو اپنا دوست بنانے کی بھی کوشش کررہے ہیں،اپنے ماضی کے گدلے چہرے پر اسنو پاؤڈر لگانے کے لیے چند سال قبل جے پی ترجمان وجے سونکر شاستری نے پہ درپہ تین کتابیں بھی لکھ ڈالیں : (۱) ہندو چرم کار جاتی (۲) ہندو کھٹک جاتی (۳)ہندو والمیکی جاتی جن میں ا نھوں نے بڑی بے شرمی سے ذات کی بنیاد پر تفریق کا الزام مسلم عہد کے حکمرانوں پر ڈال دیا۔ حالاں کہ یہ ایک مذاق سے کم نہیں ہے، کیوں کہ منوسمرتی کسی مسلم حملہ آور کے دور میں نہیں لکھی گئی۔ اس کتاب میں کھلے بندے دلت اور خواتین کی توہین کی گئی ہے،عورت کو شودر اور کتا کی طرح ذلیل اور محض ذریعہ خواہش نفسانی قراردیا گیا ہے ۔

منوسمرتی ایک ایسی کتاب ہے جس سے فرقہ پرست طاقتیں اپنا دامن نہیں چھڑاسکتیں، وہ آج بھی اسے اپنی قسمت کے لیے نیک فال سمجھتی ہیں، آرایس ایس کے نظریہ ساز ویر ساورکر منوسمرتی کو اپنی تہذیب کی بنیاد مانتے ہیں: چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ ’’ منوسمرتی ایک ایسی کتاب ہے جو ویدوں کے بعد ہندو قوم کے لیے سب سے زیادہ قابل پرستش ہے ،یہ کتاب ہماری تہذیب کے لیے صدیوں سے بنیاد رہی ہے ، دہائیوں سے یہ کتاب ہماری قوم کی روحانی اور مذہبی قیادت کررہی ہے ،یہاں تک کہ آج بھی ہندو منوسمرتی کی بنیاد پر اپنی زندگی گزارتے ہیں، آج منوسمرتی ہندو قانون ہے ۔‘‘ ( ساورکر وی۔دی وومن ان منوسمرتی ، جلد4نیو دہلی :پربھات ) یہی وجہ ہے کہ امبیڈکر اور نہرو نے 40کی دہائی کے آخر میں جب عورتوں کے لیے وراثت میں محدود حق کے لیے ہندو کوڈ بل کو منظوری دلائی تو آرایس ایس کے نظریہ ساز گولوالکر اور ان کے ساتھیوں نے اس کے خلاف تحریک چھیڑدی-

دستور ہند کے قیام و نفاذ کے بعد بھی ایسی تحریکیں مسلسل چھیڑی گئیں جن میں ا کثریت کے مذہب کو دستور سے اوپر بتانے کی کوشش کی گئی ۔۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کا انہدام اور اب باضابطہ دستور کی قسم کھانے والی سرکاروں کے ذریعہ ایک مذہب اور نظریہ کی کھلم کھلا حمایت بھی اسی زمرے میں آ تی ہے ۔ اترپردیش کی یوگی سرکارکھلے عام بابری مسجد کے مقابلے رام مندر کی طرف داری کرر ہی ہے ، غالبا اس کے اشارے پر ایودھیا میں ایک بار پھر انسانوں کا مجمع جمع ہو چکا ہے اور وہ بھی اس وقت جب ملک میں یوم دستور منانے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ یعنی بات صاف ہے کہ دستورڈے کے موقع پر دستور کی مخالفت کی تیاری ہورہی ہے ۔اس لیے ایسے حالات میں اگر کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ کیا ملک میں منوسمرتی کی سرکار چلے گی یا دستور کی،تو اس کا سوال بے جانہیں ہے اور یوں ہی اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔یہ اس لیے بھی کیوں کہ منوسمرتی ، درحقیقت دستور کی روح کی مقابل ہے ، اس کی حمایت کا مطلب آئین ہند کی تذلیل و تحقیرہے۔اس وقت یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا دستور صرف منانے کے لیے رہ جائے گا یا اس پر عمل بھی ہو گا ؟ کیا اس کے مقابل کتاب پیش کرنے والوں کی گرفت ہوگی یا صرف اسے نادانوں کا ٹولہ سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہے گا ؟میرے خیال سے دستور پر حملہ کرنے والوں کو نادان دوست سمجھ کر نظر انداز کرنا مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔