دنیا بھر میں متون حدیث میں شائع شدہ پہلی کتاب… نسائی

تحریر: مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

نوٹ: چند روز قبل علم و کتاب واٹس اپ گروپ پر ایک استفسار آیا تھا کہ مولانا نور الحسن راشد صاحب کے پاس موجود سنن نسائی کے نسخے کو کتب حدیث کی پہلی کتاب کہا جاتا ہے، کیا اس سے زیادہ قدیم کوئی مطبوعہ کتاب کسی کے علم میں ہے، مطبوعہ کتابوں سے متعلق کتابوں کی تلاش کے بعد ہمیں ڈاکٹر احمد خان کی کتاب معجم المطبوعات العربیۃ فی شبہ القارۃ الھندیۃ و الباکستانیۃ میں ایک دوسری کتاب کا اندراج ملا، اس کی اطلاع جب مولانا کو ملی تو بڑی محنت کے ساتھ سنن نسائی کے پہلے ایڈیش اور متعلقہ معلومات ایک مراسلہ میں ہمیں ارسال کی ہیں، جس پر ہم مولانا کے تہ دل سے ممنون و مشکور ہیں، اور افادہ عام کے لئے مولانا کی یہ تحریر پوسٹ کررہے ہیں۔

ہمارے یہاں بفضلہ تعالیٰ جو کتابیں موجود ہیں ، ان میں پوری دنیا میں متون حدیث میں سے سب سے پہلے شائع مکمل کتاب، سنن نسائی[ جو صحاح ستہ کا ایک اہم جزء ہے]بھی موجود ہے۔یہ کتاب حضرت شاہ محمد اسحاق کی تصحیح ، توجہ او رکوشش سے، ہندوستان کے آخری مغل مسندنشیں، بہادر شاہ ظفر کے ذاتی مطبع ، مطبع سلطانی سے، جو قلعۂ معلی میں تھا ۱۲۵۷ھ [۱۸۴۱ء] میں شائع ہوئی تھی،اس کے آخر میں درج، خاتمۃ الطبع کے الفاظ یہ ہیں:’’وکان الفراغ من ہذہ النسخۃ المبارکۃ المیمونۃ، المسمیٰ بالنسائي، سنۃ ست وخمسین بعد الألف والمائتین من الہجرۃ النبویۃ، علی صاحبہا الصلٰوۃ والتحیۃ في دارالخلافۃ شاہ جہاں آباد في عہد بہادر شاہ ‘‘ [۱۲۵۶ھ مطابق ہے ۴۱۔۱۸۴۰ء کے]اس طباعت کے کل چھ سو ستّر[۶۷۰] صفحات ہیں، آخر میں چود ہ صفحات کاصحت نامہ اغلاط بھی شامل ہے، آغاز کتاب پر، ایک صفحہ میں حضرت شاہ محمد اسحاق کی سنن نسائی کی حضرت امام نسائی تک سند ہے،جس کا آغاز اس طرح ہوا ہے:
’’ یقول العبد الضعیف، خادم علماء الآفاق، محمد اسحاق أخبرنا وأجازنا شیخنا و مولانا الشیخ الأجل المحدث الشاہ عبدالعزیز الدہلوي، لہٰذا الکتاب……‘‘
یہ نسخہ مکرمی مولانا طلحہ نعمت ندوی [نالندہ، بہار] نے دیکھا اور شیخ جمعہ ماجددبئی کے ادارہ کے مجلہ آفاق التراثکے مدیر صاحب کو ایک مراسلہ کے ذریعہ سے اس کی اطلاع دی، انہوںنے فوراً ہی اس کو اپنی اور جمعہ ماجد کی ویب سائٹ پر ڈال دیاتھا، جس سے یہ بات پوری دنیا میں پھیل گئی، لیکن اس کے جواب میں کسی نے لکھا کہ یہ اطلاع صحیح نہیں، دہلی سے سنن نسائی کی طباعت سے پہلے ۱۲۳۳ھ [۱۸۔۱۸۱۷ء] میںسنن ابن ماجہ شائع ہوچکی تھی۔ یہ اطلاع ملی تو تعجب ہوا کہ یہ کہاں سے آئی، اس کا اب تک نہ کسی کتب خانہ اور لائبریری میں سراغ ملا، نہ کسی فہرست اور معجم مطبوعات میں اس کا اشارہ اور حوالہ ہے، نہ کسی محقق نے اس کاتذکرہ کیاہے۔ بہرحال یہ تردید نیٹ پر چلتی رہی، کئی لوگوں سے اس کا علم ہوا، اب سننے میں آیاہے کہ یہ تردید آں مکرم کی جانب سے تھی اور یہ بھی کہ آںمکرم اس اطلاع کو صحیح خیال فرماتے ہیں، اس لئے دو تین باتیں لکھنے کی اجازت چاہتاہوں:
l میری ناچیز معلومات میں دنیا بھر میں امہات کتب حدیث میں سے جو کتاب افق طباعت پر سب سے پہلے جلوہ گر ہوئی وہ یہی سنن نسائی ہے[ جس کا تعارف
شروع میں گذرا] او رجس کو حضرت شاہ محمد اسحاق نے مرتب کرکے مطبع سلطانی [قلعہ معلی] شاہ جہاں آباد [دہلی] سے ۱۲۵۶ھ میں شائع کرادیاتھا۔ اس طباعت کا ایک عمدہ نسخہ ہمارے یہاں محفوظ ہے،جس میں حضرت مولانا نورالحسن [وفات:۱۲۸۵ھ ۔۱۸۶۸ء] نے حضرت شاہ محمد اسحاق سے اور حضرت مولانامحمد یحییٰ کاندھلوی نے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے ۱۳۱۴ھ میںپڑھا، ان دونوں حضرات نے اپنے اساتذہ کے درس میں اس کی تصحیح کی بھی کوشش کی ہے، اس پر دونوں کے قلم سے تصحیحات اور مختصر مختصر افادات درج ہیں۔ اس طباعت کے دو نسخے اوربھی میری نظر سے گذرے ہیں، جن میں سے ایک حضرت شاہ عبدالعزیز اورشاہ رفیع الدین، نیز شاہ محمد اسحاق کے مشترک شاگرد، مولانامنشی جمال الدین کتانوی [مدارالمہام، ریاست، بھوپال، جو بعد
میں نواب صدیق حسن خاں کے خسر بھی ہوگئے تھے، ] کا مملوکہ ہے، اس پر منشی جی کی مہر بھی ہے، اس میں انہوںنے پڑھایا بھی ہے، اوراس پر ان کے قلم سے تصحیحات بھی ہیں۔
سنہ ۱۲۳۳ھ[۱۸۔۱۸۱۷ء] میں دہلی میں کیا، تقریباً پورے شمالی ہندوستان میں، کوئی قابل ذکر مطبع یا طباعتی ادارہ نہیں تھا، دہلی میں، جہاں تک معلوم ہے سب سے پہلا مطبع مولوی محمد حیات کا تھا، دوسرا مطبع سلطانی تھا، جو لا ل قلعہ میں قائم ہوا تھا، پھر اور مطابع قائم ہوتے چلے گئے، اس وقت بلکہ اس کے بعد بھی کم سے کم پچیس سال تک، مطبع مجتبائی کا کہیں پتہ نشان نہیںتھا۔
سنہ ۱۲۳۳ھ[۱۸۔۱۸۱۷ء] میں نہ دہلی میں پریس آیا تھا، نہ وہاں سے کوئی کتاب چھپی ، نہ اس وقت مطبع مجتبائی کا تذکرہ تھا، اس وقت شاید اس کے بانی بھی تولد نہیں ہوئے تھے، اس لئے یہ اطلاع سراسر غلط اور تصحیح طلب ہے۔
یہ غلط فہمی بروکلمان سے چلی،ان کی کتاب میں غلطی سے ۱۳۳۳ھ کی جگہ ۱۲۳۳ھ چھپ گیا،۱؂ بعد والوں کے پاس غالباً اس کی تحقیق کا ذریعہ نہیں تھا، اس لئے انہوںنے اس کو جوں کا توں نقل کردیا، علامہ فواد سزگین کے یہاں بھی یہی ہوا۲؂ اور وہیں سے یہ غلطی ڈاکٹر احمد خاں کے یہاں آئی ہے۔۳؂ ڈاکٹر احمد خاں صاحب نے، اس کے ساتھ مطبع مجتبائی کا اضافہ کرکے ،غلط فہمی میں کچھ اور اضافہ کردیا ۔ وجوہات عرض ہیں۔
l دہلی سے کسی بھی کتاب ،خصوصاً سنن ابن ماجہ جیسی بڑی کتاب کی طباعت، ۱۲۳۳ھ میں ممکن ہی نہیں تھی، کیوںکہ اس وقت تک دہلی ، بلکہ شمالی ہندوستان میں کہیں پر یس نہیں آیاتھا، دہلی میں ۱۲۳۳ھ یا [۱۸۱۸ء] میں کسی طباعتی سرگرمی کی ، کسی بھی زبان میں ہو، کوئی اطلاع نہیں ہے۔
l کتاب یا اخبارات ورسائل کی طباعت تو دور کی بات ہے، اس وقت تک دہلی سے کوئی سرکاری رپورٹ بھی نہیں چھپتی تھی، اس دوران جو سرکاری رپورٹیں یا کوئی انگریزی کتاب چھپی، وہ کلکتہ یا بنگال کے کسی اور شہر ،یالندن کی مطبوعہ ہے۔ دہلی میں [۱۸۱۸ء]میں کسی طباعتی سرگرمی اور پریس کا اب تک تذکرہ نہیں ملا۔دہلی میں پہلا پریس تقریباً ۱۸۴۰ء [۱۲۵۶ھ
میں] یا اس کے قریب آیاتھا، دینیات یا اردو کتابوں کی پہلی اشاعت، مطبع مولوی محمد حیات کی ہے، اس کے بعد قلعۂ معلی [لا ل قلعہ میں] سلطانی پریس قائم ہوا، اس کے بعد مولانا وجیہ الدین احمد سہارنپوری کا مطبع احمدی [جس کو بعد میں حضرت مولانا احمد
علی محدث نے خرید لیا تھا] وجود میں آیاتھا۔
اس کی اس سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ جب کلکتہ سے مولوی امین الدین احمد نے، جو حضرت شاہ عبدالعزیز [وفات: ۱۲۳۹ھ۔۱۸۲۴ء] اور حضرت سید احمد شہید [شہادت:۱۲۴۵ھ۔۱۸۲۹ء] کے متوسلین اور وابستگان میں سے تھے، حضرت شاہ صاحب کو اطلاع دی، کہ بنگال وکلکتہ میں اس طرح کی کچھ مشینیں آئی ہیں، جن سے کتابوں کے بہت سے نسخے، ایک ساتھ تیار ہوجاتے ہیں[ چھپ جاتے ہیں]تواس پر حضرت شاہ صاحب نے بہت خوشی کا اظہار فرمایاتھا اور حضرت شاہ ولی اللہ کی تصانیف میں سے تین کتابوں: الفوز الکبیر، حجۃ اللّٰہ البالغۃ اور الخیر الکثیر کی طباعت کی کوشش کرنے پر توجہ دلائی تھی، کہ اگر ہوسکے تو ان کتابوں کے چھپوانے کی کوشش کریں۔
اگر ۱۲۳۳ھ میں دہلی میں، طباعت کا کام شروع ہوگیا ہوتا، تو حضرت شاہ صاحب ان سے کیوں فرماتے اور کیوں نہ دہلی میں ان کتابوں کی طباعت کے لئے کوشش فرمالیتے۔ بہرحال اب تک اس بات کی کوئی شہادت نہیں ملی کہ دہلی میں ۱۲۳۳ھ [۱۸۱۷ء] میں پریس آگیا تھا، اس لئے اس اطلاع کی تصدیق مشکل ہے۔
l اگر بالفرض ۱۲۳۳ھ میں سنن ابن ماجہ چھپی تھی، تو دنیا بھر کے اہل علم میں سے کوئی ایک تو اس کے دیکھنے یا اس کی موجود گی کا تذکرہ کرتا او رکوئی فاضل یا محقق، اس کی دید سے ضرور مشرف ہوتا، لیکن اس طرح کی کوئی اطلاع ، جہاں تک میرے ناچیز علم میں ہے ، سامنے نہیں آئی۔
سنہ ۱۲۳۳ھ میں تو بنگال کے ان مرکزی مقامات میں، جہاں سے طباعت کے عمل کا آغاز ہوا، فورٹ ولیم کالج بندرہوگلی، مرشدآباد اور کلکتہ تھے، وہاں بھی طباعت کی ابتدانہیں ہوئی تھی، بڑے پریس یا سامان طباعت وجود میں نہیں آئے تھے، فورٹ ولیم کالج کی غالباً پہلی اشاعت’’رسائل اخوان الصفا‘‘ کے اردو ترجمہ کی طباعت ہے، جو پہلی مرتبہ۱۲۲۵ھ [ ۱۸۱۰ء]میں چھپی تھی۔[اس
اشاعت کا ایک نسخہ ہمارے ذخیرہ میں محفوظ ہے] کلکتہ سے اسلامی، دینی عربی کتابوں کی اشاعت ۱۲۳۰ھ [۱۸۱۵ء] میں شروع ہوئی تھی،جہاں تک مجھے معلو م ہے ، دینی علوم کی سب سے پہلی کتاب، جو برصغیر ہندیا پوری دنیا میں شائع ہوکر، عام ہوئی ،وہ ۱۸۱۵ء کی مطبوعہ سراجی ہے، اس سے پہلے غالباً کوئی بھی دینی متن یا عربی کتاب، برصغیر ہند میں شائع نہیںہوئی۔ کلکتہ سے فقہ، اصول، کلام اور عربی ادب کی متعدد کتابیں مسلسل چھپیں، لیکن مشکوٰۃ المصابیح اور علامہ شیخ عبدالحق کی شرح مشکوٰۃ کے علاوہ، حدیث کی کسی بڑی کتاب کی ۱۲۵۶ھ [۱۸۴۰ء] تک، بنگال کے مطابع سے طباعت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ مشکوٰۃ المصابیح بھی بہت بعد میں چھپی تھی، لیکن فقہ حنفی کی بڑی کتابیں ہدایہ، وقایہ ، مختصر وقایہ ، شروحات ہدایہ، درمختار ، فصول عمادی، فتاویٰ حمادیہ ،فتاویٰ عالمگیری وغیرہ مختلف مطابع سے وقتاً فوقتاً چھپتی رہیں۔
ان تمام وجوہات کی وجہ سے بلاتأمل کہاجاسکتاہے کہ ۱۲۳۳ھ میں یا اس کے قریب، دہلی سے سنن ابن ماجہ یا کسی بڑی کتاب کی طباعت کی اطلاع ناقابل قبول اور تمام تاریخی آثار وشواہد کے خلاف ہے۔
سنن نسائی کی طباعت کے بعد، جو حدیث شریف کی مکمل کتاب سب سے پہلے شائع ہوکر سامنے آئی، وہ سنن ترمذی ہے، جس کو حضرت مولانا مملوک العلی کے تعاون سے، حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری نے مرتب کیا تھا، اس کی طباعت کا سید اشرف علی کے مطبع اشرف العلوم، دہلی میں، صفر۱۲۶۵ھ[جنوری ۱۸۴۹ء] میں آغاز ہوا تھا، مگر اس مطبع کا سلسلہ طباعت بہت سست تھا، اس لئے اس کی طباعت حضرت مولانا احمدعلی نے ،اپنے مطبع احمدی میں منتقل فرمالی تھی،جو ۱۲۶۶ھ [۱۸۵۰ء] میں مکمل ہوئی، اس طباعت کے تین نسخے میری نظر میں ہیں،مفصل معلومات کے لئے دیکھئے: راقم کی تالیف: استاذ الکل حضرت مولانا مملوک العلی ص:۲۳۸،۲۴۱، [۱۴۳۰ھ۔۲۰۰۹ء]
سنن ترمذی کی طباعت کے ساتھ ہی، حضرت مولانا احمد علی کے مطبع احمدی سے حدیث شریف کی امہات کتب کی طباعت، تصحیح اور تحقیق وتعلیق کے ساتھ شروع ہوگئی تھی، جس سے سنن نسائی کے علاوہ کتب خمسہ چھپیں، جس میں صحیح بخاری کا بے نظیر وبے مثال نسخہ سرفہرست ہے، اس کے بعد ہی ہندوستان میں کتب حدیث کی طباعت کا سلسلہ عام ہوا اور مختلف مطابع سے طرح طرح کی اشاعتیں سامنے آنی شروع ہوگئیں۔ یہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ عالم اسلام اور دنیا کے عرب میں طباعت کتب کے سلسلہ کا ہندوستان کے بہت بعد آغاز ہوا اور خصوصاً کتب حدیث، صحاح ستہ وغیرہ تو اس کے تیس پینتیس سال بعد چھپنی شروع ہوئی تھیں۔
l سنن ابن ماجہ کی سب سے پہلی طباعت وہ ہے، جو حضرت شاہ عبدالغنی مجددی، دہلوی[مہاجر مدنی
] کی تصحیح اور حاشیہ [انجاح الحاجہ] سے مزین ہوکر، عمدۃ المطابع دہلی سے باہتمام مولوی محمد حسین ۱۲۷۳ھ [۵۷۔۱۸۵۶ء] میں شائع ہوئی تھی، اس طباعت میں اصل کتاب کے آغاز سے پہلے ایک فاضل صفحہ ہے، جس میں حضرت شاہ عبدالغنی مجددی نے اپنی سنن نسائی کی اجازات اور سندوں کا تذکرہ فرمایاہے،جو یہ ہیں:
(الف)اپنے والد ، شیخ ابوسعید دہلوی سے، جو ۱۲۵۰ھ میں حاصل ہوئی ۔ (ب)شیخ محمد عابد سندھی المدینۃ المنورۃ
سنن ابن ماجہ ایک مرتبہ مولانا فخرالحسن گنگوہی کے حاشیہ مرتب ہوکر،مطبع فاروقی دہلی سے چھپی تھی، اس پر طباعت درج نہیں۔
l مطبع مجتبائی مولوی منشی ممتاز علی صاحب نے میرٹھ میں قائم کیا تھا، اول اول حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، اسی مطبع میں ملازم تھے۔
سنہ ۱۹۴۷ء تک مطبع مجتبائی ، جامع مسجد دہلی کے، جنوبی دروازہ کے سامنے، گلی سے اندرجاکر جنوب مغرب میں واقع تھا، وہ بڑی حویلی جس میں مطبع مجتبائی تھا، خلیق منزل کے نام سے معروف ہے اور اب بھی موجود ہے۔
l مطبع مجتبائی منشی ممتاز علی صاحب نزہت رقم نے قائم کیاتھا، منشی ممتاز علی جو خط نسخ کے اپنے عہد کے نادرہ کارخطاط اور بہادرشاہ ظفر کے خاص شاگرد تھے، خصوصاً قرآن کریم کی تحریر وتزئین میں بے مثال تھے۔ مطبع مجتبائی کے نام سے دو بڑے اشاعتی ادارے دہلی اور میرٹھ میں قائم کئے تھے، جس میں شائع ہر ایک کتاب، حسن تحریر اور صحت کانمونہ ہوتی تھی۔
l ہندوستان میں قرآن کریم کی اعلیٰ سے اعلیٰ طباعتوں اور بہترین ترجموں کی مختلف انداز اور اعلیٰ معیارات پر طباعت میں قدیم مطبع مجتبائی کا بہت بڑا اور خاص حصہ ہے۔ اس مطبع نے جو قرآن کریم چھاپے، وہ صحت متن ، صحت الفاظ اور حسن کتابت وطباعت میں بے نظیر ہیں، ایک دو نہیں بلکہ مطبع مجتبائی کے چھپے ہوئے تقریباً بیس قرآن کریم میری نظرسے گذرے ہیں، اس کے علاوہ اور بھی ہوںگے اور ان میں سے ہرایک ایسا دیدہ زیب ہے کہ اس کود یکھ کر ، یہی کہنے کو جی چاہتاہے: جا ایں جا است!
اس مطبع نے سنن نسائی کا ایک اہم نسخہ بھی شائع کیا تھا، جس میں مولانا شیخ محمد محدث تھانوی کا حاشیہ تھا، یہ نسخہ جو ۱۳۱۵ھ [ستمبر۱۸۹۸ء] میں شائع ہوا تھا، مطبع مجتبائی کی او رطباعتوں کی طرح، بہت عمدہ اور قابل دید ہے، اس کا ایک نسخہ ہمارے ذخیرہ میں ہے۔
l مطبع مجتبائی کی ایک بڑی شاخ میرٹھ میں بھی قائم ہوگئی تھی، اس نے بھی بڑی بڑی بنیادی اور اہم کتابیں شائع کیں، اس میں بھی حضرت مولانا قاسم نانوتوی نے کام کیا۔
مطبع مجتبائی دہلی کی اہم اور بڑی خاص مطبوعات میں شامی ممتاز ہے،جو بہت عمدہ ، نفیس کاغذ پر بڑے سائز کی پانچ جلدو ں میں چھپی تھی، تحریری صراحت تو نہیں ملی، لیکن اپنے اساتذہ خصوصاً ،مولانا مفتی مظفر حسین صاحب سے سناتھا کہ شامی کے اس نسخہ کی تصحیح بھی، مولانا قاسم صاحب نے فرمائی تھی، اہل علم کا خیال ہے کہ شامی کا یہ نسخہ سب سے زیادہ صحیح ہے۔
بہرحال قدیم مطبع مجتبائی کی طباعت کا ایک بڑا سلسلہ دہلی سے بھی جاری رہا، چند سال بعد مطبع مجتبائی کے مالک منشی ممتاز علی صاحب نے ہندوستان سے ہجرت کرکے حرمین شریفین میں قیام کا ارادہ کرلیاتھا، اس وقت اپنا یہ دارالاشاعت مطبع مجتبائی مولوی عبدالاحد صاحب کو ۱۸۸۶ء میں فروخت کردیا تھا۔منشی جی نے مکہ معظمہ میں بھی مطبع مجتبائی کے نام سے ایک پریس لگایا تھا، مکہ معظمہ کے اس مطبع سے بھی دو تین چھوٹی چھوٹی کتابیں شائع کی تھیں، مگر وہ مطبع دیر تک نہیں چلا۔
مولوی عبدالاحد صاحب نے مطبع مجتبائی خریدلینے کے بعداس پر بڑی توجہ کی اور اس کوتجارتی مرکز سے بڑھا کر بڑا علمی، تصنیفی ادارہ بنادیا تھا، جہاں سے حدیث وتفسیر، فقہ اصول وکلامیات اور بیسیوں موضوعات پر، بہت عمدہ اعلیٰ درجہ کی بے شمارکتابیں ،تصحیح کے اہتمام ، حواشی اور تعلیقات کے ساتھ چھاپیں ،جس میں سے بہت سی کتابیں عصر حاضرتک تصحیح وتنقیح کی مثال بنی ہوئی ہیں۔
مطبع مجتبائی نے اس دور میںبھی، حدیث شریف کی اعلیٰ کتابیں، صحیحین اور سنن نسائی وغیرہ شائع کیں،مگر یہ ۱۳۰۰ھ کے کسی قدر پہلے اور بعد کی بات ہے۔بہرحال مولانا عبدالاحد صاحب کی نگرانی میں، مطبع مجتبائی نے طباعت واشاعت کابہت وسیع اوراعلیٰ درجہ کا کام شروع کیا تھا، جو ۱۹۴۷ء تک جاری رہا۔۱۹۴۷ء میں مولوی عبدالاحد کے اخلاف پاکستان چلے گئے تھے، کراچی میں مطبع مجتبائی کا احیاء کیا ، جو غالباً اب تک کام کررہاہے۔
سنن نسائی کی ایک اور قابل ذکرطباعت وہ ہے ،جس پر مولانا ڈپٹی نذیر احمد صاحب[مشہور مصنف اور ناول نگار] کا عمدہ حاشیہ ہے، اس حاشیہ کی مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب نے تکمیل کی تھی، یہ نسخہ بھی سال۱۳۱۵ھ [۱۸۹۸ء] میں مطبع انصاری، دہلی سے چھپاتھا، یہ بھی ہمارے ذخیرہ میں موجودہے۔
l جہاں تک معجم المطبوعات العربیۃ فی شبہ القارۃ الہندیۃ [طبع اول، ریاض]کی بات ہے ، تواس کی اکثر اطلاعات بغیر حوالہ کے یوسف سرکیس سے منقول ہیں،جناب مرتب کی اپنی معلومات کم ہیں اور جو معلومات ہیں، اس میں خصوصاً ۱۸۵۷ء [۱۲۷۳ھ] سے قبل کی اور بنگال کے مطابع کی مطبوعات کا، جو غالباً کئی سو ہیں، بہت کم تذکرہ ہے اور جو تذکرے ہیں، ان میں اغلاط کی کمی نہیںہے، میں اپنی جسارت کی معافی چاہتاہوں، کہ اس کی تقریباً ایک چوتھائی اطلاعات بالکل غلط ہیں، کتابوں، مصنفین،مطابع، سنین طباعت وغیرہ ہر طرح کی غلطیاں خاصی مقدار میں ہیں، مزید یہ کہ اس میں فارسی کتابوں ، اردو ترجموں اور بعض بالکل غیرمتعلق اشاعتوں،کتابوں کے نام بھی آگئے ہیں۔
میںنے تقریباً بیس سال قبل جب سب سے پہلے یہ کتاب دیکھی پڑھی تھی اس وقت اس کی فروگذاشتوں کی مفصل نشان زد کیا تھا، مگر اس کی اشاعت کا خیال نہیں ہوا۔ تاہم اس فہرست پر بہت اعتماد درست نہیں۔ آخر میں طول بیانی کے لئے معذرت خواہ ہوں کہ چھوٹی سی بات کی وضاحت میں کئی صفحے سیاہ ہوئے ،مگر کیا کرتا :

مقطع میں آپڑی تھی ، سخن گسترانہ

بشکریہ

مولانا عبد المتین منیری

http://www.bhatkallys.com/ur/articles/nurulhasanrashid/

مسلمان سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں

محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ

یہ ایک حقیقت ہے کہ 2014 کے بعد ہمارا عزیز ملک ہندوستان خاصا بدل سا گیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے. یہ تبدیلیاں مسلمانوں کے حق میں مجموعی طور پر بہت منفی ہے،جو بہرحال ملک کے لیے اور آگے آنے والی نسلوں کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتی ہیں.

موجودہ حالات مسلمانوں کے لئے تقریباً ایسا ہی ہے جیسا کہ1857 کے بعدکا ہندوستان. 2017 کے ہندوستان کے مسلمانوں کے حالات سے 1860 کے ہندوستان کا موازنہ کرنا کافی حدتک درست ہوگا. یعنی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے مذہبی، جذباتی، تعلیمی اور سماجی و بلکل ذاتی مسائل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا، ہندوں اور مسلمانوں میں نفرت پیدا کرنا اور مسلمانوں میں گروہی و مسلکی اختلافات کو ہوا دینا تاکہ یہ آپس میں لڑتے، مرتے رہیں اور حکومت میں بیٹھے لوگ اپنے حوارین کے ساتھ اپنے مقاصد کے انجام دہی میں مشغول رہیں.

آج ہندوستان میں جو کچھ بھی ہورہا ہے- بات بات پر بھیڑ کے ذریعہ معصوموں کا قتل، ٹوپی، داڑھی اور برقہ کے ساتھ نفرت اور کسی کو دکان سے اٹھا کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نام نہاد جیت کی خوشی منانے پر ملک کے خلاف بغاوت(Sedition)کے کیس میں جیل بھیجدنا؛ یہ سب اچھی خاصی پلاننگ اور انتھک محنت کا حصہ ہے، جس پر آر ایس ایس(RSS) اور اسکی ذیلی تنظیمیں گزشتہ تقریباً سو سالوں سے کام کرہی ہیں. یہ لوگ تو انگریزوں کے ساتھی تھے اور ملک کی آزادی اور تقسیم کے ساتھ ہندوستان پر ہندو راشٹرکے آقاؤں کےطور پر قابض ہونا چاہتے تھے. لیکن جنگِ آزادی کے حقیقی راہنماؤں جیسے مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، مولانا ابوالکلام آزاد اور انکے جیسے وطن پرست، اتحاد و باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے متوالوں کی فراست اور قائدانہ صلاحیت کی وجہ سے ناکام ہوگئے.

اب2014 میں جا کر ان کو ہندوستان کی سیاست میں جس طرح کی کامیابی چاہیے تھی وہ ملی، اور انہوں نے اپنے ایجنڈے پر کام کرنا شروع بھی کردیا. ہندوستان کی عوام کو 1857 کے بعد بھی کامیابی ملی، اگرچہ کافی قربانیوں کے بعداور اب بھی ملیگی انشاءاللہ. لیکن اس کے لئے بےحد محنت اور لگن کے ساتھ بہت اچھی پلاننگ اور اٹوٹ اتحاد کا مظاہرہ کرنا پڑے گا. اب کی بار لڑائی ہندوستان کےاندر موجود برہمنواد کے ناسور سے ہے. اور یہ خطرناک وائرس(Virus) ہے جس نے یورپ، امریکہ میں مسلمانوں کےخلاف بےحد متشدد(Extreme Right) گروپس اور مسلمانوں کے ابدی دشمن اسرائیل کے ساتھ ملکر ایک برمودا ٹرائنگل(Bermuda Triangle) جیسا ہلاکت خیر ٹرائنگل اتحاد کیا ہوا ہے.

اس صورت حال میں سیکولر ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دلت میں سے کوئی بھی گروپ تنہا میدان میں اترےگا تو کامیاب ہونا بہت مشکل ہے. یاد رہے کہ 1857 اور 2017 میں 160 سال کا لمبا فاصلہ بھی ہے. حالات، تقاضے، انداز، سوچ، طریقہء کار اور آلات سب میں بہت فرق ہے. آج سرحدیں جیتی نہیں جاتی حکومتیں بدلی جاتی ہے جسکو رجیم چینج (Regime Change) کا نام دیا جاتا ہے. آج پروپیگنڈہ صرف انسان کے ذریعہ نہی بلکہ زیادہ تر میڈیا کے ذریعہ کیا جاتا ہے. اور آج میڈیا صرف اخبارات اور ٹی وی چینلز کا نام نہیں بلکہ سوشل میڈیا ان سب سے آزاد، سستا اور ہر شخص کے اپنے کنٹرول میں بھی ہے.

گزشتہ دس سالوں کے اندر دنیا بھر میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ سوشل میڈیا عوامی تحریک اور حکومتوں اور عوام کے درمیان تبادلہ خیال میں زیادہ کارگر ثابت ہوا ہے. تو پھر ہندوستان کے 25 کروڑ مسلمان اس نعمت کو اپنے لیے اور اپنے ملک کے مفاد میں مثبت اور مؤثر انداز میں کیوں نہ استعمال کریں؟

آرایس ایس کے تنخواہ یافتہ اور بغیر تنخواہ کے رضاکار مرد و خواتین دو کام خاص طور پر کرتے ہیں. ایک اپنے اغراض و مقاصد کی تشہیر اور دفاع کے لیے سوشل میڈیا پر بہت فعال ہوتے ہیں، کچھ بھی لکھتے اور شیئر کرتے ہیں. جن کو ان کے مخالفین اور سنجیدہ دنیا ٹرولز (Trolls) یعنی پریشان کرنے والا نامعقول گروپ کے نام سے پہچانتی ہے. دوسرا ان کا ایک گروپ خاص طور پر خواتین پر مشتمل چھوٹے چھوٹے جتھہ کی شکل میں گاؤں گاؤں اور گھر گھر جاتا ہے. الیکشن کے ایام میں یہ بہت فعال ہوتا ہے اور پھر یہی لوگ بی جی پی کے بوتھ (Booth) کمیٹی کے اہم ممبر ہوتے اور الیکشن کے دن ان ہی میں سے کوئی بی جی پی کا پولنگ ایجنٹ بھی ہوتا ہے.

لہذا صرف تین سالوں میں درجنوں بڑی بڑی ناکامیاں – ڈیمونیٹائزیشن، (Demonitization) کالا دھن، کرپشن، قیمتوں میں مسلسل اضافہ، GDP میں گراؤٹ، FDI میں کمی، کسانوں کی خودکشی، کشمیر کا مسئلہ، نظم و نسق اور امن آمان تقریباً ہر سمت ناکام ہونےْکے باوجود اگر بی جی پی الیکشن پر الیکشن جیت رہی ہے تو اس کے لئیے اس کے مائکروپلانگس(Micro Plannings) اور سخت محنت کو کریڈٹ دینا پڑے گا. BJP کے پاس صرف trolls ہی نہیں بلکہ اچھی طرح سے تربیت یافتہ، قربانی دینے والے لوگ ہر میدان؛ تعلیم، صحت، پولیس، کورٹ اور تجارت میں کروڑوں کے تعداد میں موجود ہیں.

برہمنواد ایک سوچ (Ideology) کا نام ہے. اس نے بہت کوشش اور مسلسل جد و جہد کے بعد ہندوستان پر اپنا پنجہ جما یا ہے. اس کا مقابلہ سست، سطحی اور محض جذباتی انداز سے بالکل نہیں ہو سکتا. ایک سوچ کو دوسرے سوچ سے ہی بہتر طریقے سے مارا جا سکتا ہے. اس کے لیے1916 کے بعد والی پلاننگ و اتحاد جیسی پلاننگ واتحادا کے ساتھ ساتھ 2017 والی ٹیکنیک اور دماغ کو بیک وقت بروئے کار لانا پڑے گا.

سوشل میڈیا کے ذریعہ ملک میں جمہوریت، محبت، آپس میں بھائی چارگی اور امن و سکون کے حامی ہر طبقہ اور ہر مذہب کے لوگوں کو پکارنا پڑےگا. پھر گاؤں گاؤں اور گھر گھر تک ہندوستانیت کا تعارف کے ساتھ ساتھ برہمنواد کے نقصانات کو بھی پہونچانا پڑے گا.

کیا ہم یہ سب کر سکتے ہیں؟ کیوں نہیں، آپ کو کرنا ہی پڑے گا. نہیں تو آج جنید، پہلوخان اور محمد اخلاق کا نمبر تھا کل آپ، آپکا بھائی اور آپکے بیٹے کا بھی نمبر آسکتا ہے. آج آپ کا ہندوستان بہت پیارا ہے، اس کے دستور پر آپ کو فخر ہے اور ہونا بھی چاہیے، لیکن اگر آپ آج بھی ہوش کے ناخن نہیں لیں گےتو کیا معلوم کل یہی ملک ہم سب کے لئے اور ہمارے بچوں کے لئے کوئی برما، کوئی اسرائیل نہ بن جائے. تاریخ گواہ ہے کہ الحمراء (موجودہ اسپین کا ایک شہر) سےایک ساتھ تقریباً پچاس لاکھ مسلمانوں کا انخلاء ہوا ہے. اندلس (موجودہ اسپین) کی مسجدیں، وہاں کے باغات اور نہریں، وہاں کی لائبریریاں اور تعلیمی ادارے ہمارے جامع مسجد، لال قلعہ، قطب منار اور تاج محل، ہماری خدا بخش لائبریری، ہمارے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دارالعلوم دیوبند کے جیسے یا اس سے عظیم تھے. چنانچہ آپ کو، ہم سب کو آج ہی مورچہ سنبھالنا پڑےگا. عقلمند وہی ہے جوطوفان سے پہلے تیاری کرتا ہے.

سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹوئٹر (Twitter) اور فیس بک (Facebook) پر ھشٹگ(Hashtag) # نشان کے استعمال کا بہت فائدہ ہے. اس لئے خاص موضوعات پر ھشٹگ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں. #Hashtag ہمیشہ الفاظ کے درمیان بغیر اسپیس(Space) کے استعمال کیا جاتا ہے. مثلاً آپ جب Not In My Name کو ھشٹگ کرنا چاہتے ہیں تو آپ #NotInMyName لکھیں گے. Capital(بڑے) یا Small (چھوٹے) حروف کے ساتھ لکھنے سے کوئی فرق نہیں ہوتا، بس درمیان میں اسپس (خلا) یا دوسرا کچھ نقطہ وغیرہ نہیں ہونا چاہیے.

ٹؤئٹر اور فیس بک میں @ (at) کا نشان استعمال کیا جاتا ہے جب آپ کوئی پیغام کسی خاص شخص کو بھیجنا چاہتے ہیں یا کسی عمومی پیغام میں ایک خاص شخص یا کچھ شخصیات کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں. لیکن اس کے لیے آپ کو اس شخص یا شخصیات کا Twitter اور Facebook ہینڈل معلوم ہونا چاہیے، اور یہ بھی ہمیشہ بغیر اسپیس کے لکھا جاتا ہے. مثلاً میرا ٹوئٹر اور فسبک دونوں ہنڈیلس mb.qasmi@ ہے. اب اگر آپ نے کسی پیغام کے بالکل شروع میں…mb.qasmi@ لکھا تو یہ پیغام صرف میں اور آپ دیکھیں گے اور اگر آپ نے پیغام کے درمیان یا آخیر میں مثلاً آپ نے میسج لکھا India against #MobLynching We demand #JusticeforJunaid
@mb.qasmi @EC_Editor
اس صورت میں آپ کا یہ پیغام آپ کے تمام دوست جو آپ کی لسٹ میں ہیں وہ تو دیکھیں گے ہی، شیئر بھی کر پائیں گے اور ساتھ ساتھ MB.Qasmi اور Easter Crescent کے ایڈیٹر کو بھی ارسال ہوگا جو اگرچہ آپ کے Friends’ List میں شامل نہیں ہیں.

سوشل میڈیا میں عوامی پیغام بھیجنے کے لئے چاہے Text, Image یا Video کی شکل میں ہو ٹوئٹر اور فیس بک ہی بہترین ذریعہ ہے. ان کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہونا چاہیے. تجارت یا پروفیشنل ترسیل و ارسال کے لئے Linkedin، فوٹو شیر کے لیے Instagram اور Flickr اور ذاتی یا چھوٹے گروپ میں کمیونیکیشن کے لئے WhatsApp بہترین ذریعہ ہے.

چنانچہ ان تمام سوشل ذرائع ابلاغ کا سمجھ بوجھ کراور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سماجی اور ملکی مفاد عامہ کے لئے زیادہ سے زیادہ استعمال ہونا چاہیے. یہ وقت کا ایک اہم تقاضہ بھی ہے اور پڑھے لکھے لوگوں کی ذمہ داری بھی. جوش اور محض جذبات سے آگے معقول انداز میں سب کو جوڑنے کی باتیں کی جائے. جدید سائبر جرائم قانون (Cyber Crime Act) کی خلاف ورزی نہ کی جائے اور بلا وجہ خون خرابہ کی تصاویر یا وڈیوز شیر کرکے امن و امان کو بگڑنے بھی نہ دیا جائے .

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا. آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا.

علومِ اسلامیہ کی تاریخ کا ایک بے مثال علمی کارنامہ ”الموسوعة الحدیثیة لمرویات الإمام أبی حنیفة“ ۲۰ جلدوں میں

(ذخیرہ حدیث کے باب میں ایک بہترین اضافہ )

مولانا حذیفہ ابن مولانا غلام محمد صاحب وستانوی#

اللہ رب العزت نے قرآن کریم اور دین اسلام کی حفاظت کا وعدہ ﴿انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون﴾کے ذریعہ کیااور اپنے اس وعدہ کو سچ کر دکھایا، اس طور پر کہ شریعت ِمطہرہ کا مدار جن بنیادی نصوص پر ہے وہ دو ہیں ۔ ایک ” قرآن کریم“ اور دوسرا ”احادیثِ نبویہ “اور ان کی روشنی میں اجماع اور قیاس۔ خاص طور پر ان دونوں نصوص کی حفاظت کے لیے اللہ رب العزت نے ایسے انتظامات کیے، جس کی نظیر انسانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ۔ ہمارے علما نے لکھا ہے کہ قرآن کریم متنِ متین ہے، اللہ نے ہر زاویے سے اس کی حفاظت کی ؛کہیں تجوید کے ذریعہ اس کے تلفظ کی حفاظت کی ،کہیں تفسیر کے ذریعہ اس کے صحیح مفاہیم کی حفاظت کی تو کہیں احادیث کے ذریعہ اس کے معانی اور عملی تفاصیل کی حفاظت کی ۔
تدوین حدیث کا نقطہ آغاز
تدوینِ حدیث کا مبارک سلسلہ دورِ نبوی ہی سے شروع ہوچکا تھا، البتہ دورِتابعین میں اس کو مستقل حیثیت دی گئی۔ اللہ نے پہلے سیدنا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ذریعہ قرآن کو جمع کروایا، اس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ رسم الخط کو مجتمع فرمایا اور اس کی متعدد کاپیاں بنواکر عالم اسلام میں اسے پھیلا دیا، اس طرح بغیر کسی شبہِ اختلاط کے قرآنِ کریم محفوظ ہوگیا ۔
اس کے بعد دورِ علی رضی اللہ عنہ سے ”علم الاسناد اور علم اسماء الرجال“ کی بنیاد ڈلوائی؛ تاکہ قرآن کی تفسیر کے ساتھ احادیثِ مبارکہ کا ذخیرہ بھی خوب اچھی طرح محفوظ ہوجائے۔
تدوین حدیث کے باریے میں مستشرقین کی غلط بیانی
مستشرقین نے یہ شوشہ چھوڑا کہ احادیث کی تدوین بہت زمانے کے بعد عمل میں آئی اور اس کے دیکھا دیکھی نام نہاد مسلمان منکرینِ حدیث بھی اسے لے اڑے ، جب کہ محقق دوراں علامہ حمید اللہ مرحوم نے لکھا ہے کہ :
” عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی میں صحابہٴ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے ہاتھوں تدوین حدیث کے متعدد واقعات ملتے ہیں ،مثلاً: عبد اللہ بن عمروابن عاص ، حضرت ابو رافع ،خادم رسول حضرت انس اورایک انصاری صحابی جو آپ کی مجلس ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین قلمبند کرتے تھے ۔ اس کے بعد عہدِ صحابہ میں عام تدوین عمل میں آئی ۔ “(دنیا کا قدیم ترین مجموعہ احادیث صحیفہ ہمام ابن منبہ ص ۳۸-۳۹ سے مستفاد )
تدوین حدیث کی تاخیر میں حکمت الہی
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر قرآن کی طرح احادیث کی باقاعدہ تدوین دور نبوی اور دورِ ابی بکری وعمری میں کیوں نہیں عمل میں آئی ؟ تو اس کا بہترین جواب بقیة السلف والخلف، محققِ کبیر، محدثِ دوراں حضرت مولانا مفتی سعید صاحب پالنپوری مد ظلہ العالی نے دیا ہے :
”قرآن لوگوں کے گھروں میں محفوظ تھا۔اور متفرق چیزوں میں لکھا ہوا تھا۔اور اس لکھے ہوئے کی آئندہ ضرورت بھی پڑنے والی تھی ،پس اگر لوگوں کے گھروں میں حدیثیں بھی لکھی ہوئی ہوں گی تو قرآن کے ساتھ اشتباہ کا اندیشہ تھا۔
البتہ ایسا نہیں ہے کہ دور نبوی میں احادیث بالکل ہی نہیں لکھی گئی ۔ ” لکھی گئیں اور مخصوص لوگوں کو لکھنے کی اجازت بھی دی ، اس سے کتابت حدیث کا جواز ثابت ہوا ۔ جیسے ایک رمضان میں دویا تین راتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح جماعت سے پڑھائی ، پھر فرضیت کے اندیشہ سے بند کردی ، مگر اتنے عمل سے جواز ثابت ہوگیا ، چناں چہ جب فرضیت کا اندیشہ نہ رہا تو فاروقِ اعظم نے اس کا باقاعدہ نظام بنادیا ؛ اسی طرح جب ضرورت پیش آئی تو حدیثیں مدون کی گئیں ، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فی الجملہ حدیثیں لکھوائی بھی تھیں اور اس کی اجازت بھی مرحمت فرمائی تھی ۔“ (تحفة الالمعی:۶۶)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حدیثیں جمع کرنے کا ارادہ کیا مگر اشارہ نہ پایا :
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہٴ خلافت میں احادیث کو جمع کرنے کاارادہ فرمایا تھا ۔ حضرت ہی کو سب سے پہلے قرآن جمع کرنے کا خیال بھی آیا تھا اور ان کے مشورہ سے قرآن جمع کیا گیا تھا یعنی سرکاری ریکارڈ میں لیا گیا تھا ۔ یہی ارادہ آپ کا حدیثوں کو سرکاری ریکارڈ میں لینے کا بھی تھا ، چناں چہ آپ نے مشورہ کے لیے صحابہ کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ حدیثیں لکھ لی جائیں۔ سب نے مشورہ دیا : مبارک خیال ہے ایسا ضرور کرلیا جائے ، مگر آپ کو شرحِ صدر نہ ہوا تو آپ نے استخارہ شروع کیا ، ایک ماہ مسلسل استخارہ کرنے پر شرح صدر ہوگیا کہ حدیثوں کو مدون نہ کیا جائے ، چناں چہ آپ نے پھر صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا کہ ” مجھے یاد آگیا کہ گزشتہ امتوں نے جو اللہ کی کتابیں ضائع کردیں، تو اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی باتیں بھی لکھ لی تھیں ، وہ ان میں ایسے مشغول ہوگئے کہ اللہ کی کتابوں سے ان کی توجہ ہٹ گئی اور جب ان کا اہتمام نہ رہا تو وہ ضائع ہوگئیں، پس بخدا! میں اللہ کی کتاب کے ساتھ کسی چیز کو نہ رلاوٴں گا ! “ (تحفة الالمعی:۶۶-۶۷)
بہر حال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ احتیاط اس لیے تھی کہ لوگ قرآن میں مشغول رہیں ، چناں چہ حفظِ قرآن کا مسلمانوں میں ایسا رواج ہوگیا کہ دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے اور اس کی نظیر یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں یہ حکم نافذ کیا تھا کہ کوئی شخص حج کے ساتھ عمرہ نہ کرے ۔ عمرہ کے لیے مستقل سفر کر کے آئے ، چنا ں چہ سال بھر کعبہ شریف آباد ہوگیا ۔ اور دن بدن عمرہ کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔
اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے استخارہ میں جو تدوین حدیث نہیں آئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری عام مسلمانوں کی ہے ، حکومت ہی کی یہ ذمہ داری نہیں ہے۔ اسی طرح حدیثوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی عام مسلمانوں کی ہے ۔ اگر حدیثیں جمع کرلی جاتیں یعنی سرکاری ریکارڈ میں لے لی جاتیں تو عام مسلمانوں کی توجہ اس سے ہٹ جاتی اور حدیثوں کے ضائع ہونے کا امکان پیدا ہوجاتا ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کے سامنے جوبات فرمائی تھی کہ پچھلی امتوں نے اللہ کی کتابوں کو اس طرح ضائع کیا : اس کی تفصیل یہ ہے کہ محبت کی دو قسمیں ہیں : عقلی اور طبعی ۔ عقلی محبت : معنویات سے اور غائب سے ہوتی ہے ۔ اور طبعی محبت اپنی ذات اوربیوی بچوں سے ہوتی ہے اور وہ ظاہر احوال میں غالب نظر آتی ہے ۔ (تحفة الالمعی:۶۷-۶۸)
اسی طرح اس مسئلہ کو بھی سمجھنا چاہیے کہ مومن کو اللہ اور اللہ کی کتاب سے جو محبت ہے وہ عقلی ہے اور صحابہ کو جو اپنے نبی اور اس کی باتوں سے تعلق ہے وہ طبعی ہے ، چناں چہ گزشتہ امتوں نے اللہ کی کتابوں کے ساتھ اپنے انبیا کی باتیں بھی لکھ لیں تو ان کے صحابہ فطری محبت کی وجہ سے ان کی باتوں میں ایسے منہمک ہوگئے کہ اللہ کی کتابوں کا اہتمام باقی نہ رہا ، چناں چہ وہ ضائع ہوگئیں۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بھی دور صحابہ میں اور عہد فاروقی میں جمع کرلی جاتیں، تو اندیشہ تھا کہ صحابہ اس میں قرآن سے زیادہ مشغول ہوجاتے ، اس لیے عہد صحابہ تک حدیث مدون نہیں ہونے دی گئیں، عہد صحابہ کے بعد اس کی تدوین ہوئی ، کیوں کہ تابعین کے لیے اللہ اور اللہ کے رسول دونوں غیب ہیں، اورقرآن وحدیث دونوں معنویات ہیں ۔ پس دونوں سے محبت عقلی ہوگی اور عقلی محبت اللہ کی اور اس اللہ کی کتاب کی قوی تر ہے اللہ کے رسول اور ان کی حدیثوں کی محبت سے اس لیے وہ خطرہ اب باقی نہ رہا ۔ (تحفة الالمعی:۶۸)
جمع حدیث کے متعدد مراحل :
حضرت مولانا سعید صاحب نے ایک اور بڑی معقول بات لکھی ہے کہ پہلے دور میں علاقائی حدیثیں جمع ہوئیں مثلاً مدینہ ، بصرہ ، کوفہ ، شام اوریمن ۔ ہرعلاقے کے محدثیں نے اپنے علاقے کے مشاہیرکی حدیثیں جمع کرلی اودوسرے دور میں جوامع لکھی گئی ۔ دوسری صدی کے نصف ثانی میں جیسے جامع سفیان ثوری ، مصنف عبد الرزاق ،مصنف ابن ابی شیبہ ۔ اس کے بعد تیسرے دور میں احادیث صحیحہ کے مجموعے تیار کیے گئے ۔ اس طرح تیسری صدی تک تدوین حدیث کا کام مکمل ہوگیا ۔ اس کے بعد جو کچھ احادیث بچ گئی تھیں امام طبرانی ، امام بیہقی وغیرہ نے اسے بھی چوتھی صدی تک مکمل کرلیا ، گویا اب کتاب و سنت اور اس سے متعلق تمام علومِ عربیہ و اسلامیہ مدون ہوگئے ۔ وللہ الحمد علی ذالک!
خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ  کی اولاد اور تلامذہ یعنی تابعین نے احادیث کو قلمبند کرنا شروع کیا ۔ کسی نے ”صحیفہ صادقہ“ اپنے والد اور دادا کی احادیث سے حدیث بیان کی ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہمام ابن منبہ نے ”صحیفہٴ ہمام“ کی صورت میں احادیث کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ۔ اس کے بعد حضرت عمر بن عبد العزیز نے باقاعدہ اسے جمع کرنے کا بعض محدثین کو مکلف کیا ،جو علامہ حمید اللہ کی کاوش سے نشر بھی ہوا ۔ قرنِ اول کے اختتام تک قرآن و حدیث مکمل طور پر محفوظ کرلیے گئے ،اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مزید اپنے فضل سے قرآنی تعلیمات کی عملی صورت کو کما حقہ محفوظ رکھنے کے لیے بے شمار ائمہٴ فقہ کو کھڑا کیا، جن میں سے چار کو مقبولیت عامہ حاصل ہوئی ، جن کے پیشِ نظر مکمل قرآنی وحدیثی علوم تھے ؛ لہٰذا اصولِ فقہ اور فقہ کو دوسری صدی کے علما نے مدون کیا ۔
بہر کیف احادیث صحیحہ کو کتابی شکل دینے کا کام اللہ نے دوسری صدی کے اواخر کے محدثین کے ذریعہ کیا ، جن میں ابن ابی شیبہ، عبدالرزاق ، امام احمد وغیرہ پیش پیش تھے ۔ اور تیسری صدی میں تویہ کام اپنے عروج کو پہنچ گیا اور بے شمار محدثین نے احادیث صحیحہ کے نسخے تیار کیے؛ جن میں سے صحاح ستہ کو مقبولیتِ عامہ حاصل ہوئی ۔ غرض یہ کہ اسلامی اور عربی علوم پر خدمت کا کام مسلسل چودہ صدیوں سے جاری و ساری ہے بل کہ مرورِ زمانہ کے ساتھ اس میں ندرت آتی رہتی ہے ۔
علم الاسناد اور علم اصول فقہ اہم ترین:
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نے بڑی قیمتی بات ارشاد فرمائی کہ اللہ نے علمِ اصول فقہ کے ذریعہ اسلام میں عقلی راستے سے آنے والے فتنوں اور گمراہیوں پر روک لگوادی کہ عقلی طور پر اتنے دائرے تک جاسکتے ہیں اور علم الاسناد والرجال کے ذریعہ نقل کے راستے سے آنے والی گمراہیوں پر روک لگائی ؛ لہٰذا اسلام میں نہ عقل کے راستے سے گمراہی آنے کا امکان باقی رہا اور نہ نقل کے راستے سے ، اسلامی تعلیمات میں اب کہیں سے گمراہی داخل نہیں ہوسکتی ۔ اور ہو ئی بھی تو علما‘ اصولِ صحیحہ کی روشنی میں اس کا رد کردیں گے ۔الحمد للہ اسلام میں نہ عقل کے راستے سے گمراہی آنے کا امکان باقی رہااور نہ نقل کے راستے سے۔
آخری سوسال میں احادیث نبویہ کی عظیم خدمت :
انیسویں صدی میں انکارِ حدیث کے فتنے نے سراٹھایا ،توعلمائے حق میدان میں آئے اور الحمد للہ! جم کر حدیث کی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔بس پھر کیا تھا نئے نئے پہلووٴں سے علم ِحدیث پر جو کام ہوا اور ہورہا ہے وہ بے مثال ہے ۔ الحمدللہ حق کو جتنا دبانے کی کوشش کی گئی اتناہی ابھر ا، اس پر علما نے مزید نکھار پیدا کرنے کی کوشش کی اوریہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ مولانا سمیع اللہ صاحب سعدی نے ” دور جدید کا حدیثی ذخیرہ ایک تعارفی جائزہ “ کے عنوان سے تفصیلی مقالہ لکھا ہے جو ” الشریعہ“ گوجرانوالہ میں ۷/ قسطوں میں اگست ۲۰۱۷ء سے فروری ۲۰۱۸ء شائع ہوا ، جو قابل مطالعہ ہے ۔(الشریعہ کی ویب سائٹ پر دست یاب ہے www.alsharia.org) حدیث سے شغف رکھنے والوں کو ضرور اس کا مطالعہ کرنا چاہیے ، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ” علم حدیث کی تاریخ میں دور جدید بعض وجوہ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے ، کیوں کہ امت مسلمہ کے دور زوال میں علم حدیث مسلم اور غیر مسلم مفکرین کی توجہ کا مرکز رہا ہے “۔ اس کے بعد لکھا کہ ” دورجدید میں علم حدیث پر ہونے والے کام کے اہم جہات تین ہیں : (۱) ذخائر احادیث (۲) تاریخ حدیث (۳) علو م الحدیث۔ اور پھرہر جہت کے تحت دسیوں اقسام کو ذکر کی ہے ۔
اس مقالہ کی پانچویں قسط میں آپ نے لکھا ہے کہ اس دور میں حدیث پر ہونے والے کام میں ایک بڑا ذخیرہ احادیث پرموسوعة انسائیکلو پیڈیاکی شکل میں ہوا ہے ۔ زیر تعارف کتاب اسی قبیل سے ہے ۔
امام اعظم قلیل الحدیث نہیں ہوسکتے:
یہ بات مُسلَّم ہے کہ ہر ”فقیہ“ محدث، مفسر اور ادیب ہوتا ہے تو ہی و ہ اجتہاد کا ملکہ حاصل کرسکتا ہے ۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ متفقہ طور پر امت کے عظیم امام فقہ ہے، مگر افسوس کہ بعض حضرات ان پر قلیل الحدیث ہونے کی تہمت لگاتے ہیں، جو کہ نہ عقلاً درست ہے اور نہ شرعاً ، اس لیے کہ جب ذخیرہ ٴاحادیث پر نظر نہیں ہوگی تو اجتہاد کیسے کرسکتے ہیں!!!
شرعی اعتبار سے بھی اہلیت کے لیے عربی اور اسلامی علوم پر دسترس ضروری ہے ۔ تو ایک طرف آپ کو امام اعظم کہا جائے اور دوسری طرف انہیں قلیل الحدیث کہا جائے کسی صورت میں درست نہیں ہوسکتا ۔
امام صاحب کی روایتیں صحاح ستہ میں کیوں نہیں ؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام صاحب کی روایتیں احادیث صحاح ستہ میں کیوں نہیں ہے ؟!! تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام صاحب کے دور میں کتب ِاحادیث صحیحہ کا بالکل ابتدائی دور تھا، بل کہ آپ کے بعد اس کا دورشروع ہوا، لہٰذا آپ کی احادیث مشہور کتابوں میں کم نظر آتی ہیں ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے صحاح ستہ کے جامعین ایسی روایات کو جمع کرنے زیادہ التزام کیا جن کو مشاہیر کے تلامذہ نے جمع نہ کیا ہو اس لیے کہ ان کو تو ان ائمہ کے شاگردوں جمع کر ہی لیا تھا اسی لیے امام مسلم نے امام شافعی کی مرویات نہیں لی امام بخاری نے بھی تعلیقا لی ہے اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث کی دیگر کتابوںآ پ کا تذکرہ اور مرویات بکثرت موجود ہے تب ہی تو مولانا لطیف الرحمن صاحب کے لیے سند کے ساتھ اس موسوعة میں تقریبا گیارہ ہزار احادیث کا جمع کرنا ممکن ہوسکا !!!!
بلکہ محقق علم حدیث مولانا عبدالرشید نعمانی رحمہ اللہ نے ماتمس الیہ الحاجہ میں لکھا ہے کتاب الاثار اول ماصنف من الصیحح جمع فیہ الامام الاعظم صحاح السنن و مزجہ باقوال الصحابة و التابعین وقد تبعہ الامام مالک فی موٴطئہ و سفیان الثوری فی جامعہ وعلیہ بنی کل من جاء بعدہ ( ماتمس الیہ الحاجہ۱۸) امام صاحب کا شمارصرف محدث ہی کی حیثیت سے نہیں ہوتا ہے بلکہ امام جرح و تعدیل اور علم مصطلح الحدیث میں بھی آپ کے قول کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے جیسا کہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے شرح مسند ابی حنیفہ میں امام ذھبی کے حوالے سے نقل کیا ہے وابو حنیفة ممن تذکاآراء ہ فی مصطلح الحدیث وفی قواعد الحدیث ورجالہ حتی عدہ الذہبی فی تذکرتہ التی ہی ثبت الحفاظ(شرح مسند ابی حنیفہ۷)
دوسرا امام صاحب پر فقہی رنگ غالب تھا ، لہٰذا آپ اسی سے مشہور ہوگئے ؛ورنہ امام صاحب کے عالم بالحدیث ہونے کے بارے میں کیسے شک کیا جا سکتا ہے؛ جب کہ آپ کی دسیوں ہزار احادیث کتابوں میں اب بھی موجود ہیں ۔امام ابویو سف فرماتے ہیں کہ مارأیت احداً اعلم بتفسیر الحدیث ومواضع النکت التی فیہ من ابی احنیفة وکان ابصر بالحدیث الصحیح منی ۔ احادیث کی تفسیر کے بارے میں میں نے امام صاحب سے زیادہ ماہر کسی کو نہیں پایا اور امام صاحب مجھ سے زیادہ احادیث صحیحہ سے واقف تھے ۔اسی لیے بہت سارے بعد میں آنے والوں کے لیے آپ کی مسانید لکھنا آسان ہوا اور اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ مندرجہ ذیل محدثین نے یہ خدمت انجام دی ہے۔
۱- امام حارثی
۲-حافظ ابن ابی العوام
۳-حافظ ابن خسرو
۴-حافظ ابن المقری
۵-الامام الثعالبی
۶-حافظ ابو نعیم
۷-حافظ ابن عدی
۸- الامام ابو یوسف
۹-الإمام محمد الشیبانی وغیرہ
امام صاحب کی مرویات کو جمع کرنے کی علما کی تمنا اور آرزو:
مذکورہ علما ئے محدثین نے امام صاحب کی احادیث کو اپنے اپنے طور پر جمع کیا ، مگر ضرورت تھی ایک انسائیکلو پیڈیائی انداز میں امام صاحب کی احادیث کو جمع کرنے کی جس سے دو فائدے ہوں ، ایک تو امام صاحب پر جو بہتان ہے قلیل الحدیث ہونے کا وہ علمی انداز میں زائل ہو۔ اور دوسرا اسی بہانے امام صاحب کی منتشر دسیوں ہزار احادیث ایک جگہ جمع ہوجائے؛ تاکہ طاعنین اور حاسدین کی زبان بند ہوجائے۔ ویسے تو امام صاحب کے تلامذہ ہی سے اس کام کا آغاز ہوگیا تھا ، البتہ ہمارے آخری دور میں سلفیت کے دعوے داروں نے کچھ زیادہ ہی سر اٹھایا اور بہتان سے تمسخر تک پہنچ گئے ، تو پچھلے تقریباً سوسال سے علمائے احناف یہ تمنا کررہے تھے کہ اب تو یہ کام کسی بھی صورت میں ہونا چاہیے ۔ علامہ عبد الحی فرنگی محلی نور اللہ مرقدہ نے خاص طور پر اس جانب توجہ دلائی تھی اور اپنی کتاب ” تذکرة الراشد “ میں لکھا : ” اگر کوئی مصنف امام صاحب کے تلامذہ اور آپ کے قریبی دور میں لکھی گئی حدیث کی کتابوں پر نظر کرے، تو امام صاحب کی سیکڑوں نہیں بل کہ ہزاروں احادیث پائے گا ،جس کو آپ نے اپنے اساتذہ سے روایت کی ہیں ۔(مقدمة موسوعة لمرویات الامام ابی حنیفة)
علامہ ظفر احمد عثمانی نے بھی تحریر کیا کہ ” اگر امام صاحب کی منتشر احادیث کو جمع کیا جائے تو حدیث کی ضخیم کتاب وجود میں آسکتی ہے ۔
(مقدمہ اعلاء السنن )
مفتی مہدی حسن صاحب شاہ جہاں پوری نے تحریر کیا ،جو لوگ امام صاحب کی طرف صرف ۱۷/ احادیث کی نسبت کرتے ہیں وہ سراسر غلط ہے ، اس لیے کہ آپ کے تلامذہ ہی کی کتابوں میں سیکڑوں احادیث موجود ہیں اور حدیث کی دیگر کتابوں میں جوہیں وہ مستزاد ۔ (مقدمةقلائد الازہار)
مفتی فخر الدین الغلائی نے ”سعی السلام مجمع احادیث ابی حنیفة الإمام “ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ امام زاہد الکوثری نے کوشش کی کہ امام صاحب کی احادیث یکجا کی جائے ، مگروہ نہیں کرسکے بل کہ امام جلال الدین السیوطی نے بھی ” تبییض الصحیفہ “ میں تمنا ظاہر کی کہ میں امام صاحب کی احادیث کو جمع کروں گا ، مگر شاید وہ نہیں کرسکے۔
اسی طرح علامہ ابو الوفاء الأفغانی نے بھی کوشش کی مگر نہ ہوسکا ، اس کے بعد انہوں نے مولانا عبد الرشید النعمانی کو یہ کام سپرد کیا ، مولانانے کام شروع کیا مگر مکمل نہ کرسکے ۔ اس طرح یہ کام قرض کے طور پر علمائے احناف کے ذمہ باقی رہا ، یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے اس عظیم کام کو محدثِ عصر( تلمیذ محدث کبیر علامہ حبیب الرحمن الاعظمی) مولانا لطیف الرحمن صاحب بہرائچی دامت برکاتہم کے مقدر میں لکھ دیا اور الحمد للہ طویل جد و جہد کے بعد اب یہ کام مکمل ہوچکا ہے ، بس اب یہ طباعت کے مرحلہ میں ہے ۔ کام کی تفصیل کچھ یوں ہے :
موسوعہ کے مرتب اور جامع مولانا لطیف الرحمن صاحب بہرائچی دامت برکاتہم کا تعارف :
حضرت مولانا لطیف الرحمن صاحب قاسمی# در اصل ہمارے آخری دور کے بزرگوں کے منظور نظر رہے ہیں، حضرت نے اپنی عالمیت کی ابتدائی تعلیم جامعہ ہتھورہ باندہ سے حاصل کی ،جہاں عارف باللہ حضرت قاری صدیق صاحب باندوی نور اللہ مرقدہ کے آپ خاص توجہ کے مرکز رہے ۔ اس کے بعد دارالعلوم سے آپ نے دورہ ٴحدیث شریف کیا ۔ آپ کی صلاحیت اور صالحیت کی وجہ سے آپ اپنے اساتذہ کی توجہ اپنے جانب مرکوز کرنے میں کامیاب ہوئے۔اس کے بعد جب علم حدیث سے آپ کو شغف زیادہ ہوا تو آپ نے محدث کبیرحضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی نور اللہ مرقدہ سے استفادہ کیا۔ حضرت نے بھانپ لیا کہ یہ بندہ کام کا بنے گا ، لہٰذا آپ پر خاص توجہ دی اوراس طرح آپ کو علم حدیث اورمخطوطات کی تحقیق میں درک حاصل ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتے ، اللہ نے آپ کو آج سے تقریباً ۳۰/ سال قبل مکہ پہنچادیا اور آپ کا تعلق پیر طریقت حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی نور اللہ مرقدہ سے ہوگیا ، بس پھر کیاتھا اللہ نے آپ سے وہ کام لیا، جس کی عصر حاضر میں امت محمدیہ کو ضرورت تھی اوروہ یہ ہے :
” الموسوعة الحدیثیة لمرویات الامام ابی حنیفة “
در اصل آپ جامع شریعت وطریقت ہیں ، ہمارے متعدد بزرگوں سے آپ کواجازت خلافت حاصل ہے ۔ بندے کا حضرت سے تعلق کافی پرانا ہے ، بل کہ آپ کا عارف باللہ قاری صدیق صاحب باندوی  کی مناسبت سے والد صاحب سے بھی گہراربط رہا ہے ۔ بندے نے سالِ گزشتہ جب آپ ہمارے برادرِ کبیر مولانا سعید صاحب رحمة اللہ علیہ کے انتقال کے بعد تشریف لائے ،تو کہا کہ حضرت ہم الاستاذ الزائر کا سلسلہ شروع کرنا چاہتے ہیں، جس کا آغاز آپ سے کرتے ہیں ۔ حضرت نے وعدہ کیا اور شوال کے اخیرمیں تشریف لائے تو دورہٴ حدیث شریف میں ” امام ابو حنیفہ اور علم حدیث “ کے عنوان سے آپ کا محاضرہ رکھا ،جو الحمد للہ انتہائی مفید رہا ، جس میں آپ نے ”الموسوعة الحدیثیة لمرویات الامام ابی حنیفة “کا تذکرہ کیا تو بندے نے مناسب جانا کہ اس کا تعارف آنا چاہیے۔
موسوعہ پر کام کی نوعیت:
آپ نے اپنی تالیف کے مقدمہ میں اپنے کام کی نوعیت اس طرح بیان کی کہ امام صاحب رحمہ اللہ کی مرویات پر جو کام شروع کیاگیا تھا ،یہ اس سلسلہ کی پندرہویں کتاب ہے ۔ اس سے قبل جو مسانید پر تحقیق کا کام ہوا ہم اس کے مقدمہ میں یہ وعدہ کرتے چلے آئے ہیں کہ امام صاحب کی مسانید کی تحقیق در اصل آپ کی مرویات کے انسائیکلوپیڈیا کے پیش خیمہ کے طور پرہے ۔ ان شاء اللہ اپنے باب میں ایک خاص اضافہ کی حیثیت رکھے گا اوربعد میں آنے والوں کے لیے امام صاحب کی مرویات کے باب میں اہم مصدر اور مرجع بنے گا ؛ جس میں بندے نے احادیث کی تمام کتابوں کو کھنگالاہے،خواہ وہ مسانید ہوں یا سنن یاصحاح یاجوامع یا مصنفات یا مستدرکات یا معاجم یا اجزاء یا مشکل آثار یا کتب الزوائد یاکتب اطراف وغرائب یا کتب رجال یا تاریخ یا طبقات وتراجم وغیرہ ۔ غرض یہ کہ قرون اولی اور اس کے بعد احادیث پر جو بھی اور جس نوعیت کابھی کام ہوا ہو اس سے مکمل استفادہ کرکے امام صاحب کی مرویات کو وہاں سے ایک جگہ جمع کیا جائے گا ۔دونوں کاموں کی جلدوں کی مجموعی تعداد ۴۰/ سے متجاوز ہوگی ۔
علم حدیث کے باب میں ایک بے مثال اضافہ:
گویا امام صاحب کی مرویات کا اتنا عظیم ذخیرہ پہلی بار یکجا جمع ہوکر زیور طباعت سے آراستہ ہونے جارہا ہے ۔ اللہ اسے اس کے شایان شان طبع ہونے کے اسباب مہیا فرمائے ۔آمین !جب کہ یہ تو محض مرویات کا وہ حصہ ہے جو موجودہ مطبوعات اور مخطوطات میں ہے ، البتہ امالی ابو یوسف میں احادیث بکثرت تھی ، لیکن اس کا ایک معنی قلمی نسخہ تھا جومصر کے سفر میں علامہ کوثری کے ساتھ تھا وہ سمندر کی نذر ہوگیا ۔
موسوعہ کے محرک :
آپ نے مقدمہ میں تحریر کیا کہ در اصل علامہ عبد الرشید نعمانی نور اللہ مرقدہ نے آج سے تقریباً ۲۵/ سال قبل مکہ مکرمہ (زادہا اللّٰہ شرفا وکرماً )میں ایک ملاقات کے دوران یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ امام صاحب کی مرویات کو جمع کرنا چاہیے۔احیاء المعارف النعمانیہ حیدر آباد نے علامہ زاہد کوثری اورڈاکٹر حمید اللہ وغیرہ کو شامل کر کے اس کے لیے مسانید جمع کرنا شروع کیا اور کئی شیوخ کے نسخے جمع بھی کرلیے ، مگر اس وقت یہ کام کسی وجہ سے نہیں ہوسکا تھا ، البتہ مولانا لطیف الرحمن صاحب کے بیان کے مطابق احیاء المعارف النعمانیہ کے ذمہ داروں نے اس کام میں بھر پور تعاون کیا اور جو بھی مسانید کے نسخے ان کے پاس تھے سب فراخ دلی کے ساتھ استفادہ کے لیے مرحمت فرمائے ، جس پر میں ان کا بے حد ممنون ہوں ۔
کام کو دو مرحلوں میں انجام دیا گیا :
مولانا لطیف الرحمن صاحب بہرائچی دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں کہ در اصل میں نے اس کام کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا ۔
مرحلہ اولیٰ : پہلے مرحلے میں امام صاحب کی تمام مسانید پر تحقیق کرکے اس کی طباعت کے لیے تیار کیا، جس کے لیے آپ نے دنیا بھرکے کتب خانوں کی خاک چھانی، خاص طور پر ہندستان ، پاکستان ،مصر، ترکی، روس ، انڈونیشیااورسعودی وغیرہ جاکر مخطوطات کی فہرست کو کھنگالا اوراس فن کے ماہرین سے رابطہ کرکے استفادہ کیا ، جس کے نتیجے میں متعدد مسانید اور متعدد معبتر ترین نسخے ہاتھ لگے ، خاص طور پر(۱)مسند حارثی (۲) فضائل الامام ابی حنیفہ لابن ابی العوام (۳) مسند ابی حنیفہ لابن خسرو اور ان تینوں کی طباعت بھی الحمد للہ عمل میں آئی ۔ان کے ایسے نسخے حاصل کیے جو جامعین کے دور کے بالکل قریب ہو۔ اور اس کے علاوہ بھی امام صاحب کی مندرجہ ذیل دیگر مسانید پر تحقیق کا کام مکمل ہوچکا ہے۔
۱-المسند لابن المقری ․
۲-المسند للثعالبی ․
۳-المسند لابی نعیم ․
۴-کشف الاثار الشریفة للحارثی․
۵-جامع المسانید للخوارزمی․
۶-الآثار لابی یوسف․
۷-الآثار للإمام محمد بن الحسن الشیبانی․
مرحلہ ثانیہ : دوسرے مرحلے میں تمام کتب حدیث اور اس کے متعلقات کتب سے امام صاحب کی مرویات کو جمع کرنے کا کام کیا گیا۔
الحمدللہ ۱۵/ سالہ اس جہد مسلسل کے بعد تقریباً ۱۰۴/ کتابوں سے امام صاحب کی ۱۰۶۱۳/ (دس ہزار چھ سو تیرہ )مرویات جمع ہوگئیں ہیں۔
محدثین احناف پر جو قرض تھا گویا ادا ہوگیا :
اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اللہ رب العزت نے مولانا لطیف الرحمن صاحب سے ایک عظیم علمی خدمت لی ہے ، اللہ اسے شرف قبولیت سے نوازے ۔ علمائے احناف پر امام صاحب کا ایک قرض تھا گویا وہ ادا ہوگیا ۔ مولانا نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں اشارہ کیاہے کہ امام صاحب کے تلامذہ اور متبعین نے آپ کی مرویات پر کافی کام کیا ہے ، مگر افسوس کہ اس میں سے اکثر دنیا کے مختلف کتب خانوں میں مخطوطات کی صورت میں موجود ہیں اور مولانا ان میں الاہم فالاہم کی رعایت کرتے ہوئے اسے تحقیق کرکے شائع کرنے کے لیے تیار کررہے ہیں ۔اور بہت سارا ذخیرہ عالم اسلام پر مختلف زمانوں میں ہوئی یلغار کے نتیجہ میں ضائع ہوگیا ۔
امام صاحب کے پاس پانچ لاکھ احادیث کا ذخیرہ تھا :
ورنہ امام صاحب نے خود ایک موقعہ پر کہا ہے کہ” أن تعمل بخمسة أحادیث انتخبتہا من خمس مأئة الف حدیث ۔“
(وصیة للامام الاعظم ابی حنیفة لابنہ حماد: ۱۰۱)
اے میرے بیٹے حماد تو ان پانچ حدیثوں پر عمل کر، جن کو میں نے پانچ لاکھ احادیث میں سے چناہے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے پاس کم ازکم پانچ لاکھ تو احادیث تھیں۔ مولانا لطیف الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ پیر طریقت مولانا عبد الحفیظ مکی صاحب کو اس عبارت پر اطمینان نہیں تھا، تو بندے کو مکلف کیا کہ وہ اس کی تحقیق کرے۔الحمدللہ ! اس رسالہ کے دسیوں قلمی نسخوں سے تحقیق کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ امام صاحب نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے پانچ لاکھ احادیث سے پانچ کو منتخب کیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں اور یہ عبارت بے غبار ہے ۔
اب اگر کسی کو یہ اعتراض ہو کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس دعوے میں امام صاحب منفرد اور اکیلے نہیں ہیں ، بل کہ امام بخاری اور امام احمد بن حنبل نے بھی اس طرح کے دعوے کیے ہیں ۔مگر ہمیں تو کہیں ان کی کتابوں اور مرویات میں اتنی بڑی تعداد نہیں ملتی! تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ آپ نے جو زیادہ مستدل اور معتبر سمجھی ان کو جمع کیا بقیہ کو ترک کردیا ، تو امام صاحب کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا !!!۔ اور دوسری بات یہ بھی کہ تاتاری فتنہ کے زمانہ میں جو کتابیں دریابرد کی گئیں وہ سب سے زیادہ احناف کی رہی ہوں گی ، کیوں کہ کوفہ اور بغداد اس زمانہ میں فقہ حنفی کے مرکز تھے ، تو ہوسکتا ہے کہ بہت سی کتابیں اس میں ضائع ہوگئی ہوں ۔ واللہ اعلم بحقیقة الحال!
ایک اور موقع پر امام صاحب نے کہا یحی بن نصرابن حاجب کہتے ہیں : سمعت ابا حنیفة رحمہ اللہ یقول عندی صنادیق من الحدیث ما اخرجت منہا الا الیسیر الذی ینتفع بہ ۔(مناقب ابی حنیفة بحوالہ وصیة للامام الاعظم ابی حنیفة لابنہ حماد)
ایک اور موقعہ پر یحی کہتے ہیں : دخلت علی ابی حنیفة فی بیت مملوء کتباً فقلت ما ہذہ ؟ قال ہذہ احادیث کلہا وماحدثت بہ الا الیسر الذی ینتفع بہ فقلت حدثنی ببعضہا فاملی علی ۔ (بحوالہ مذکورہ بالا)
مولانا نے ایک انجمن سے زیادہ کام کیا :
حضرت مولانا علی میاں ندوی نور اللہ مرقدہ کہا کرتے تھے کہ اسلامی تاریخ میں بعض شخصیتیں ایسی گزری ہیں کہ جنہوں نے اکیلے اتنا کام کیا جسے پوری پوری انجمن بھی آسانی سے انجام نہیں دے سکتی ۔ میرا ماننا ہے (کا تب ھذہ السطور حذیفہ وستانوی)کہ مولانا لطیف الرحمن صاحب دامت برکاتہم بھی ایسی شخصیتوں میں سے ایک ہیں ۔
کتاب کا اسلوب اور منہج:
مولاناکے بیان کے مطابق کتاب کل ۲۰/ جلدوں میں ہے ، جس میں طویل مقدمہ ہے جو ۳/ جلدوں پر مشتمل ہے ، جس میں امام اعظم رحمة اللہ علیہ کا مکمل دفاع، علم حدیث میں آپ کا عظیم مقام اور آپ کی مرویات پر ہوئے کام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے ۔ بہت سی غلط فہمیاں اس بارے میں جوعلمی حلقوں میں رائج ہے اس کی نشان دہی کی گئی ہے اور اسے دور کیا ہے۔ ماشاء اللہ کتاب فقہی اور حدیثی دونوں ترتیب کی رعایت کے ساتھ مرتب کی گئی ہے ۔ کتاب کا آغاز ” باب ماجاء فی تصحیح النیة “سے کیا ہے ، جس کی پہلی روایت یہ ہے :
۱- اخبرنا أحمد بن محمد الہمداني، ثنا أحمد بن محمد بن یحیي الحازمي، حدثني حسین بن سعید اللخمي،عن أبیہ، عن زکریا بن أبي العتیک عن أبي حنیفة، عن یحیي بن سعید ، عن محمد بن إبراہیم التیمي، عن علقمة بن وقاص اللیثي، عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : (( الأعمال بالنیات ولکل امرئ ما نوی فمن کانت ہجرتہ إلی اللہ و رسولہ فہجرتہ إلی اللہ ورسولہ ، ومن کانت ہجرتہ إلی دنیا یصیبہا أو إلی امرأة ینکحہا، فہجرتہ إلی ما ہاجر إلیہ )) ۔(الموسوعة الحدیثیة )
اسی کے بعد حدیث کی تخریج کی ہے ، مثلاً اس پہلی حدیث پر تخریج اس طرح ہے :
(المسند للحارثی:۲۶۴)، والخبر أخرجہ ابن المبارک فی الزہد ۱۸۸، والطیالسي ۳۷، والحمیدي ۲۸، وأحمد ۱/۲۵، ۴۳، والبخاري۱/۲،۲۱،۳/۱۹۰، ۵/۷۲، ۷/۴،۸/۱۷۵،۹/۲۹، ومسلم ۶/۴۸، وأبوداوٴد ۲۲۰۱، والترمذي ۱۶۴۷، والنسائي ۱/۵۸، ۶/۱۵۸، ۷/۱۳، وابن ماجہ ۴۲۲۷، والبزار۲۵۷، وابن الجارود ۶۴، وابن خزیمة ۱۴۲، ۱۴۳، ۴۵۵، والطحاوي۳/۹۶، وابن حبان ۳۸۸، والدارقطني ۱/۵۰، والبیہقي ۱/۴۱، ۴/۲۳۵، ۶/۳۳۱، والبغوي -۱-۲۰۶ من طرق عن یحیي بن سعید عن محمد بن إبراہیم بہ۔(الموسوعة الحدیثیة)
موسوعةحدیثیہ کا آخری باب ” باب ماجاء فی صفة الجنة والحور “ اور آخری روایت یہ ہے :
حدثنا أحمد بن محمد، قال: أخبرني عبد اللہ بن بہلول قال: ہذا کتاب جدي فقرأت فیہ، قال: حدثني حفص بن عبد الرحمن التغلبي، عن مسلمة بن جعفر، قال: حدثت أبا حنیفةرحمة اللہ علیہ بحدیث فیہ ذکر الجنة فرأیت عینیہ تجریان حتی قطر دموعہ وأومی إلي، فأمسکت عن بقیة الحدیث۔(کشف الاسرار للحارثي (۴۳۲)
(الموسوعة الحدیثیة )
کتاب میں جتنے رواة ہیں ان سب کے تراجم ہیں، جن کی تعداد ۲۳۱۴/ہیں ۔ پوری کتاب کچھ اس طرح ہے :
(۱)۳/ جلدیں مقدمہ ۔(۲) ۳/ جلدیں تراجم رواة ۔(۳) ۲/ جلدیں فہرست ۔(۴) ۱۲/ جلدوں میں احادیث ۔ اس طرح کل ۲۰/ جلدوں میں کام پایہٴ تکمیل تک پہنچا ۔ بہر حال بڑی بے چینی سے اس کا انتظار رہے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس کی طباعت کے مرحلے بحسن خوبی عافیت کے ساتھ پورا فرمائے اور ہمیں اس سے استفادہ کی توفیق مرحمت فرمائے ۔ اورجامع کے لیے ذخیرہ ٴ آخرت بنائے اورقبول فرمائے اور علمی میدان میں مزید آپ سے کام لے۔ آمین !
اس موسوعہ کے علاوہ مولانا کی دیگر مطبوعہ وغیر مطبوعہ تالیفات وتحقیقات یہ ہیں :
(۱) کتاب الآثار للامام ابی یوسف (۲) کتاب الآثار للامام محمد ابن الحسن الشیبانی (۳) مسند الامام ابی حنیفہ لابن المقرئ (۴) مسند الامام حنیفہ للثعالبی (۵) مسند الامام ابی حنیفہ لأبی نعیم الاصفہانی (۶) کشف الآثار الشریفة فی مناقب ابی حنیفة للحارثی (۷) جامع المسانید للخوارزمی(یہ کل ۱۶/ جلدیں ہیں ۔ (۸) الموسوعة الحدیثیة لمرویات ابی حنیفة ۲۰ جلدیں (۹) مسند الامام ابی حنیفہ للحارثی (۱۰) مسند الامام ابی حنیفہ لابن خسرو (۱۱) فضائل ابی حنیفة لابن ابی العوام (۱۲) الرسائل الثلاث الحدیثیة (۱۳) مسند الطحاوی ۱۰/ جلدوں میں (۱۴) تحقیق المقال فی تحقیق احادیث فضائل الاعمال (۱۵) الدیباجہ شرح سنن ابن ماجہ (۱۶) المواہب اللطیفیة لملا عابد السندی (۱۷) المسائل الشریفة فی ادلة ابی حنیفة (۱۸) المعجم لرجال الطحاوی (۱۹) تکملة مسند الطحاوی (۲۰) الفتاوی التاتارخانیة (۲۱) معجم مصنفات
الاحناف (۲۲) شرح معانی الآثار للطحاوی ۱۰/ جلدوں میں ہے،جس میں۱۴/ قلمی نسخوں پر اعتماد کیا اور ساتھ ساتھ ساری حدیثوں پر حکم بھی لگایا ہے۔
مذکورہ کتابوں میں سے بعض پر کام مکمل ہوگیا ہے اوربعض پر جاری ہے ۔ ان شاء اللہ بہت جلد مکمل ہوجائے گا۔
اخیر میں مولانا کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ آپ نے معلومات فراہم کی ، اللہ اجر عظیم سے نوازے اور ہم سب کو آپ کی تحقیقات نفع پہنچائے ۔
عام طور پر ہمارے بر صغیر کے علما نے شرح کتب حدیث کا کام زیادہ کیاہے اور حدیث کی فنی خدمت بہت کم ہوئی ہے ۔ الحمد للہ مولانا لطیف الرحمن صاحب گویااس قرض کو بھی چکانے کی کوشش میں ہما تن مصروف عمل ہے اور الحمدللہ موفق من اللہ بھی ہے۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب بھی ” المدونة الجامعة “ کے ذریعہ ایک عظیم کام اپنے متعلقین کے ساتھ انجام دے رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ان اکابرین کی خدمات کو قبول فرمائے اور اس کے دائرے کو مزید وسیع فرمائے اور ہمیں اس سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر کچھ کرنے کا حوصلہ اور توفیق نصیب فرمائے۔آمین!
#…#…#

مسجدِ اقصی کی اہمیت وفضیلت

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

ہم جسے عام طور پر "مسجد اقصی” کہتے ہیں، اسے اور بھی دوسرے ناموں مثلا: "المسجد الأقصی” اور”الحرم القدسي الشریف” وغیرہ سے جانا جاتا ہے۔ یہ تاریخی مسجد، فلسطین کے شہر یروشلم (القدس) میں واقع ہے، جو ان دنوں غاصب صہیونی ریاست اسرائيل کے قبضے میں ہے۔ یہ مسجد مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے تقریبا سولہ یا سترہ مہینے تک مسجد اقصی کی طرف رخ کرکے نمازیں ادا کی۔ شرعی طور پر اہمیت وفضیلت کے اعتبار سے مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد، مسجد اقصی کا مقام ومرتبہ ہے۔ قرآن وحدیث میں مختلف جگہوں پر اس مبارک مسجد کا ذکر آیا ہے۔ اس مسجد کے ارد گرد کی جگہوں کو برکت والی جگہیں کہا گیا ہے۔ انھیں وجوہات کے پیش نظر دنیا بھر کے مسلمان مسجداقصی اور قدس کو بڑی عقیدت ومحبت سے دیکھتے ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے موقع سے مسجد حرام سے جس جگہ لے جایا گیا، وہ یہی مسجد اقصی ہے۔ آپؐ نے اس مسجد میں سارے انبیاء علیہم السلام کی امامت کی۔ آپؐ اسی مسجد سے سفر معراج پر روانہ ہوئے۔ مسجد حرام سے مسجد اقصی کے آپؐ کے اس مبارک سفر کو قرآن نے کریم نے یوں بیان کیا ہے:

﴿سُبْحانَ الَّذِي أَسْرى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بارَكْنا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آياتِنا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾. (سورۃ الاسراء:1) ترجمہ: "پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گئی، جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں، تاکہ ہم انھیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ ہر بات سننے والی اور ہر چیز دیکھنے والی ذات ہے”۔

مسجد اقصی کو مسلمانوں کا "قبلۂ اوّل” ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے، مدینہ منورہ تشریف لائے؛ تو آپؐ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پہلے مسجد اقصی کی جانب ہی رخ کرکے تقریبا سترہ مہینے تک نمازیں ادا کرتے رہے۔ صحابی رسول حضرت بَرَاء بن عازِب فرماتے ہیں: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَيْتِ المَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ البَيْتِ،….». (صحیح البخاری: 4486) ترجمہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی؛ جب کہ آپ یہ چاہتے تھے کہ آپؐ کا قبلہ بیت اللہ (کعبہ شریف) کی طرف ہو….”۔

مسجد اقصی وہ مسجد ہے جس کی بنیاد روئے زمین پر مسجد حرام کے تقریبا چالیس سال بعد رکھی گئی۔ اس حوالے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں : سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوَّلِ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ «الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى» قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: «أَرْبَعُونَ عَامًا، ثُمَّ الْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ، فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ». (صحیح مسلم: 520) ترجمہ: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روئے زمین پر سب سے پہلے تعمیر کی جانے والی مسجد کے حوالے سے سوال کیا۔ آپ نے جواب دیا: "مسجد حرام”۔ میں نے سوال کیا: پھر کون(اس کے بعد کون سی مسجد تعمیر کی گئی)؟ تو آپ نے جواب دیا: "مسجد اقصی”۔ میں نے سوال کیا: ان دونوں کی تعمیر کے دوران کتنا وقفہ ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: "چالیس سال، پھر پوری زمین تیرے لیے مسجد ہے،جہاں بھی تمھیں نماز کا وقت آجائے، نماز پڑھ لو”۔

اس حدیث شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السّلام نے "مسجد حرام” کی تاسیس کے 40/سال بعد مسجد اقصی کی بنیاد رکھی۔ محدثین نے مزید وضاحت یہ کی ہے کہ جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ مشرفہ کی تعمیری تجدید کی، اسی طرح مسجد اقصی کی تجدید یعقوب علیہ السلام یا داؤد علیہ السلام نے کی اور سلیمان علیہ السلام نے اس کی تکمیل کی۔

ایک حدیث شریف میں مسجد اقصی سے حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر، حج یا عمرہ ادا کرنے والے کو اگلے اور پچھلے گناہوں کے معافی کی بشارت دی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

«مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، أَوْ عُمْرَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَا تَأَخَّرَ – أَوْ – وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ». (سنن ابي داؤد: 1741) ترجمہ: "جس نے مسجد اقصی سے مسجد حرام کے لیے حج یا عمرہ کا احرام باندھا، اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے – یا – جنت اس کے لیے واجب ہوجائے گی”۔

مسجد اقصی ان تین مساجد میں سے ایک ہے جن میں عبادت کرنے اور نماز پڑھنے کی نیت سے سفر کرنا باعث ثواب ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث کو مختلف ابواب کے ذیل میں ذکر کیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

«لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: المَسْجِدِ الحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسْجِدِ الأَقْصَى». (صحیح بخاری:1189) ترجمہ: "(عبادت کی نیت سے) صرف تین مسجدوں کے لیے ہی سفر کیا جائے (اور وہ ہیں): مسجد حرام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد (مسجد نبوی) اور مسجد اقصی”۔

ایک حدیث شریف میں مسجد اقصی میں ایک پڑھی جانے والی نماز کا ثواب، پچاس ہزار نمازوں کے ثواب کے برابر بتایا گیا ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ بِصَلَاةٍ، وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِ الْقَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً، وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُجَمَّعُ فِيهِ بِخَمْسِ مِائَةِ صَلَاةٍ، وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ، وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِمِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ». (سنن ابن ماجہ: 1413) ترجمہ: "ایک آدمی کی ایک نماز اپنے گھر میں، (ثواب میں) ایک نماز کے برابر ہے، اس کی نمازمحلے کی مسجد میں، پچیس نمازوں کے برابر ہے، اس کی نماز جامع مسجد میں، پانچ سو نمازوں کے برابر ہے،اس کی نماز مسجد اقصی میں، پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے، (اسی طرح) اس کی نماز میری مسجد (مسجد نبوی) میں، پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور اسی شخص کی ایک نماز مسجد حرام میں، ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے”۔

مسجد اقصی کی یہ بھی ایک خصوصیت ہے کہ اسی مسجد سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر معراج ہوا۔ اسی سفر معراج میں آپ کو نماز کا تحفہ دیا گیا۔ یہ واقعہ بخاری شریف میں ایک لمبی حدیث میں آیا ہے۔نماز والے حصے کا حاصل یہ ہے کہ اوّلا اللہ تعالی نے اس سفر میں آپؐ کو پچاس نمازوں کا تحفہ دیا۔ پھر حضرت موسی علیہ السلام کے کہنے پرکہ آپؐ کی امت ان پچاس نمازوں کیادائیگی نہیں کرپائے گی۔ آپؐ نے اللہ تعالی سے نماز کی تعداد کی کمی کی درخواست کی۔ پھراللہ تعالی نے اس نماز کو کم کرتے کرتے پانچ نمازیں امت محمدیہ کے لیے باقی رکھی۔ (بخاری: 349)

پہلی صلیبی جنگ کے بعد، جب 15/جولائی 1099ء کوعیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہوا؛ تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ پھرصلاح الدین ایوبی نے 538ھ/1187ء میں بیت المقدس کو فتح کیا؛ تو مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے خرافات سے پاک کیا۔ 88 سالوں کے علاوہ، عہد فاروقی سے بیت المقدس اور مسجد اقصی مسلمانوں کے قبضے میں رہے ہیں۔ افسوس ہے کہ ادھر چند سالوں سے پھر قدس اور مسجد اقصی غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے قبضے میں ہیں؛ مگرآج بھی مسجد اقصی اس کا انتظام وانصرام اردن کی "وزارت ِاوقاف اور شئونِ مقدّساتِ اسلامیہ” کے تحت ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی قدس اور مسجد اقصی کو ان ظالم وجابر اور غاصب لوگوں کے قبضے سے آزاد کرادےاور فلسطینیوں کی قربانی بار آور ثابت ہو! آمین!

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا

حضرت مولانا عبدالرشید خان بستوی: علم و عمل کی ایک ت ابندہ تصویر

مولانا شفیق احمد بستوی (فاضل دار العلوم دیوبند)

ہماری زندگی میں کچھ ایسی شخصیات نمایاں ہوتی ہیں جو اپنی گوناگوں خوبیوں اور ہمہ جہت کمالات کے سبب ہمارے ذہن و ضمیر میں اپنا انمٹ نقش چھوڑ جاتی ہیں، پھر وہ زمان و مکان کے فاصلاتی بُعد کے باوجود ہمہ وقت ہمارے ذہن و ضمیر کی دُنیا میں ایسی رچی بسی رہتی ہیں کہ اُن کو بھلایا نہیں جاسکتا اور بالخصوص جب کہ ان سے ذاتی نوعیت کی وابستگی اور تعلق داری قائم ہو، ایسی شخصیات کی جدائی اور ابدی مفارقت بلاشبہ سوہانِ رُوح بن جاتی ہے اور دل و دماغ ایک ناقابل بیان صدمہ و رنج کی کیفیت سے دو چار ہوجاتے ہیں، بعدازاں جب جب وہ یاد آئیں تو بس زیرلب دُعائیں اور سرد آہیں فقط قلب و رُوح کا ساتھ نبھاتی ہیں۔
کچھ اسی طرح کی شخصیت احقر کی زندگی میں حضرت مولانا عبدالرشید خان صاحب بستوی رحمة اللہ علیہ کی تھی جو تقریباً احقر کے ہم عمر اور ہم وطن و ہم زمانہ ہی صرف نہ تھے بلکہ بہت سے اساتذئہ کرام سے استفادہ میں بھی شریک تھے، خصوصاً وحید العصر و شیخ الادب دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا وحیدالزمان کیرانوی رحمة اللہ علیہ سے شرفِ تلمذ حاصل کرنے میں ہم دونوں ہی سابق و لاحق کے طور پر شریک رہے، یاد آتا ہے کہ غالباً ١٩٨٤ء میں انجمن تہذیب الکلام طلبہ ضلع بستی کے قلمی و علمی ترجمان ماہ نامہ ”عقاب” کی ایک ادارت مولانا عبدالرشید مرحوم کے پاس تھی اور انجمن کی نظامت احقر کے پاس تھی، اس دور سے ہی مولانا مرحوم اَدبی ذوق کا بہترین مظاہرہ فرمارہے تھے اور اچھوتے مضامین سپردِ قرطاس و قلم فرمارہے تھے، زمانۂ طالب علمی کا اِختتام ہوا تو احقر وطن سے دُور افتادگی کا ہدف ٹھہرا اور مولانا مرحوم تدریسی خدمات کی انجام دہی کے لیے دارالعلوم اسلامیہ بستی اور دارالعلوم ہوجائی آسام تشریف لے گئے، جہاں اُنہوں نے اپنی عمر عزیز کا ایک بیش قیمت اور طویل حصہ گزار کر بے شمار تشنگانِ علم دین کو اپنے علم و فن سے سیراب کیا، بعدازاں مادرِ علمی ازہرالہند دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات کے لیے تشریف لائے اور ایک زمانہ بھرپور جہد مسلسل کے ساتھ گزارا، جہاں اپنے کئی اساتذہ کرام کی معیت و شفقت سے بہرہ ور ہوئے اور پھر دیوبند ہی کے ہوکر رہ گئے، چناں چہ قدرتی اسباب کے تحت مولانا مرحوم حضرت العلام مولانا سیّد انظر شاہ کشمیری کے نو تأسیس عربی میڈیم ادارہ ”جامعة الامام انور شاہ دیوبند” میں اپنی خدمات کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے تشریف لے آئے اور پھر تاحیات اسی ادارہ سے وابستہ رہے۔ آج سے دس سال قبل احقر کو دیوبند کی حاضری کا موقع ہوا تو مولانا عبدالرشید کے ہاں ہی قیام رہا، اس موقع پر جامعة الامام انور شاہ دیکھنے کا بھی شرف حاصل ہوا، جہاں یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ درسِ نظامی کی مکمل تعلیم عربی زبان میں دی جارہی ہے یعنی دورانِ سبق افہام و تفہیم کی زبان خالص عربی ہے، چناں چہ اسی وجہ سے وہاں زیر تعلیم طلبہ کی عربی زبان بہت اچھی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں عصری تقاضوں کے پیش نظر انگریزی بھی سکھائی جاتی ہے، مولانا مرحوم اس ادارہ میں رہ کر حضرت علامہ سیّد انظر شاہ صاحب کشمیری کے سایۂ شفقت میں تدریسی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ اِدارہ کے قابل قدر وقیع مجلہ ماہ نامہ ”محدثِ عصر” کی اِدارت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے اور حضرت علامہ سیّد انظر شاہ کشمیری کے بعد ان کے صاحبزادئہ ذی وقار حضرت مولانا سیّد احمد خضر شاہ صاحب کشمیری مدظلہ کے دست راست رہے، مولانا مرحوم کے عربی اور اُردو مقالات مختلف جرائد و مجلات میں شائع ہوتے رہے۔
احقر سے مولانا مرحوم کا تعلق قلبی اور بڑا مثالی تھا۔ چناں چہ متعدد بار پاکستان تشریف لائے تو قیام احقر کے ہی غریب خانہ پر رہا، ایک سفر میں تو حضرت علامہ سیّد انظر شاہ کشمیری کے ہمراہ تشریف لائے تو بھی قیام کے لیے احقر کے غریب خانہ کو ہی ترجیح دی، جو کہ مولانا مرحوم کی احقر کے ساتھ قلبی وابستگی کی دلیل ہے۔ یہاں شہر کراچی کے مختلف مدارس و جامعات میں بھی مولانا کے بہت اچھے اور علمی بیانات ہوئے جن کی وجہ سے یہاں کافی لوگ مولانا مرحوم کو عقیدت و محبت سے یاد کرتے ہیں۔ مولانا نے احقر کی مسجد میں بھی کئی بار جمعہ کی نماز سے قبل بیان فرمایا جس سے لوگوں کو بڑا فیض پہنچا۔ بحمداللہ!!
یہاں دیارِ سندھ میں چند قدیم تاریخی مقامات ہیں جہاں مولانا کے ہمراہ احقر کو بھی جانے کا اِتفاق ہوا، چناں چہ ”دیبل” کا وہ تاریخی مقام جہاں محمد بن قاسم اپنی پوری جماعت سمیت کشتیوں سے اُترے تھے اور پھر سندھ کے مغرور و ظالم حکمراں راجہ داہر سے جنگ لڑی تھی، یہ ساحل ”دیبل” کے مقام پر ہے، جس کو اب ”بھنبھور” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مولانا کے ساتھ اس مقام پر جانا ہوا جہاں اب حکومت نے ایک تاریخی میوزیم بنادیا ہے، جس کو دیکھ کر تاریخی مطالعہ کے کچھ گوشے عیاں ہوتے ہیں، حضرت مولانا بڑی توجہ اور دلچسپی کے ساتھ وہاں کے تاریخی احوال و واقعات اپنی یادداشت کی ڈائری میں جمع فرماتے رہے، اندازہ یہ ہے کہ کم و بیش بیس سے پچیس صفحات کا مواد جمع کیا ہوگا، مگر کم قسمتی یا قسمت کی ستم ظریفی کہیے کہ جب مولانا مرحوم یہاں سے حضرت شاہ صاحب کے ہمراہ کراچی سے دہلی کی پرواز پر تشریف لے گئے تو دہلی اِیئر پورٹ پر مولانا مرحوم کا وہ بیگ بھی نہیں مل سکا جس میں وہ تاریخی احوال پر مشتمل مواد اکٹھا کیا تھا، مولانا مرحوم کو اس کا بڑا افسوس بھی ہوا۔ بہرحال یہ بھنبھور کا تاریخی مقام حضرت مولانا مرحوم نے بڑی دلچسپی سے دیکھا، محمد بن قاسم کے ہاتھوں تعمیر کی گئی طویل و عریض مسجد کی باقیات اور قطعۂ بھنبھور کے کھنڈرات اور دیبل کا ساحل بڑی تسلی اور اِطمینان کی کیفیت میں دیکھا، پھر ہم نے ٹھٹھہ شہر کی شاہ جہانی مسجد دیکھی جو کہ شاہ جہاں بادشاہ نے تعمیر کروائی ہے، یہ بھی دہلی اور لاہور کی شاہی مسجدوں کی طرح شاہی مسجد ہے جو فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔ ہم مولانا کے ساتھ ضلع ٹھٹھہ کے ایک تاریخی قصبہ میں گئے جہاں دیوبند کے رُوحانی آثار و انوار محسوس ہوتے ہیں، جس کا نام ”سونڈہ” ہے، یہاں کی جامع مسجد میں ایک حجرہ ہے جس میں حضرت شیخ الہند نے دورانِ سفر قیام فرمایا تھا، اسی بنا پر اس کے دروازہ کے اُوپر ”حجرئہ شیخ الہند” کی تختی لگی ہوئی ہے، یہاں دارالعلوم دیوبند کے چند فضلا آج سے تقریباً ڈیڑھ صدی قبل تشریف لائے تھے جو زمانہ کے اعتبار سے کچھ متقدم و متأخر تھے، تاہم یہ سب لوگ دارالعلوم دیوبند کے اِبتدائی یا پہلی نصف صدی کے فضلا کرام تھے، کیوں کہ ان حضرات کی جو اکابر دارالعلوم سے مکاتبت و مراسلت ہوئی اس کے خطوط اور تحریری مواد تاہنوز محفوظ ہیں، جنہیں راقم الحروف نے دیکھا ہے، ان خطوط میں حضرت مولانا رفیع الدین اور حضرت شیخ الہند اور بعد کے مشائخ و اکابر کے خطوط ان کے دستخطوں کے ساتھ ہیں، اس حجرہ اور مسجد میں واقعتا اللہ والوں کے انوار و برکات محسوس ہوتے ہیں۔
اس قصبہ سے ملحقہ قبرستان میں ایسے آثار نمایاں ہیں جو اِسلام کی اِبتدائی صدیوں کی علامات معلوم ہوتے ہیں، چناں چہ حضرت مولانا عبدالرشید کے ہمراہ ہی اس قبرستان میں جاکر دیکھا تو قبروں پر لگے ہوئے پتھروں، نیزے، تلواروں اور ڈھال کے نقوش کندہ ہیں، جنہیں دیکھ کر ماہرین آثارِ قدیمہ یہی کہتے ہیں کہ یہ قبرستان اور اس سے ملحقہ میدان محمد بن قاسم ثقفی اور راجہ داہر کے مابین برپا ہونے والے ایک معرکہ کی جگہ اور میدان ہے اور اس میں شہید ہونے والے لوگ یہیں مدفون ہیں، اس زمانہ میں یہ رواج تھا کہ جہادی معرکوں میں شہید ہونے والوں کی قبروں پر آلاتِ حرب کے نقش کندہ کردیئے جاتے تھے۔
مولانا عبدالرشید بستوی کے ہمراہ اندرونِ سندھ کے ایک قدیم شہر نصرپور جانا ہوا، جہاں احقر پہلے بھی جاچکا تھا مگر مولانا مرحوم کی معیت میں جاکر ایک علمی فائدہ ہوا کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی کہ یہ نصر پور وہ تاریخی شہر ہے جہاں اِسلام کی اِبتدائی صدیوں میں چار سو محدثین تھے، علاوہ ازیں بڑے بڑے فقہا اور علما بھی گزرے ہیں، جن میں سے کئی حضرات اصحابِ تصانیف کثیرہ ہیں، یہ بات مولانا مرحوم کے ذریعہ معلوم ہوئی اور مزید ایک بات یہ بھی مولانا نے تاریخی حوالوں سے بتائی کہ نصر پور ہی وہ جگہ ہے، جہاں ہاتھوں سے ٹائلیں بھٹی میں تیار کی جاتی ہیں، جو کہ ہند و پاک و اِیران اور دیگر اِسلامی ریاستوں میں بنی ہوئی تاریخی عمارات میں اِستعمال ہوئی ہیں، حتیٰ کہ ٹھٹھہ کی شاہی مسجد میں جو ٹائلیں نیلی و سفید رنگت والی لگی ہوئی ہیں، وہ ساری اسی نصر پور کی بھٹیوں میں تیار ہوئی ہیں، چناں چہ ہم اپنے میزبان مولانا ڈاکٹر تاج محمود قاضی صاحب کے ساتھ ایک بھٹی دیکھنے کے لیے گئے، جہاں یہ ٹائلیں تیار ہوتی ہیں، بھٹی والے نے خاطر داری کرتے ہوئے ہمیں ایسی دو ٹائلیں ہدیہ میں پیش کیں جن میں سے ایک پر لفظ ”اللہ ” اور دوسری پر لفظ ”محمد” لکھا ہوا تھا اور اس نے بتایا کہ یہ ٹائل سازی کی صنعت نصر پور میں صدیوں پرانی صنعت ہے، یہاں سے کئی ممالک میں یہ ٹائلیں جاتی ہیں اور زمانۂ ماضی میں بھی جاتی تھیں۔
یہ چھوٹا سا شہر نصر پور عہد رفتہ کی ایک یادگار اور ہمارے اِسلامی علوم و فنون کی عظمت و برتری کی پُرانی تصویر ہے جس میں ہم اگر غورو خوض کریں تو بہت ساری علمی تحقیقات کے گوشے عیاں ہوں گے۔ میں نے مولانا عبدالرشید بستوی کو وہاں پہنچتے ہی یہ کہا: مولانا یہاں کی زمین کا پانی بہت ہی شان دار، شیریں اور شفاف ہے، یہ بات ایک مجلس میں ہوئی تو نصر پور کے ہمارے میزبان ڈاکٹر مولانا تاج محمودقاضی صاحب نے بتایا کہ جے پور کے راجہ مان سنگھ کے پینے کے لیے پانی یہیں نصر پور سے سواریوں پر لے جایا جاتا تھا، میں نے اس پانی کی شیرینی اور شفافیت کا سبب جاننے کے لیے سوال کیا تو بتایا گیا کہ دریائے سندھ کسی زمانہ میں یہیں سے گزرتا تھا، جہاں اب نصر پور کی آبادی کا بڑا حصہ آباد ہے، رفتہ رفتہ دریا نے اپنا راستہ کافی دُور کرلیا ہے جو کہ دریائی بہائو کے لیے قدرتی عمل ہوتا ہے۔
حضرت مولانا عبدالرشید بستوی کو اندرونِ سندھ کی کچھ مزید تاریخی جگہوں کو دیکھنے کا شوق تھا تو ہم نے ایک دن مولانا کے ساتھ لمبے سفر کا پروگرام بنایا، چناں چہ ہم کراچی سے چل کر نوشہرہ فیروز ضلع کے ایک شہر کنڈیارو پہنچے، جہاں دو جلیل القدر علمی شخصیتوں سے ملاقات ہوئی حضرت مولانا محمد قاسم سومرو اور ان کے صاحبزادہ مولانا ڈاکٹر محمد ادریس سومرو جو کہ آج کل اسلامی نظریاتی کونسل آف پاکستان کے ممبر بھی ہیں۔ ایک رات ہم نے ڈاکٹر سومرو صاحب کے گھر پر قیام کیا اور ان کے والد ماجد مولانا قاسم سومرو صاحب مدظلہ کے گھر قائم اُن کی ذاتی لائبریری دیکھی، جس میں ہزاروں کتب و رسائل کا ذخیرہ موجود ہے۔ ڈاکٹر سومرو نے بتایا کہ انہوں نے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنے کے لیے ١٩٤٧ء سے لے کر مقالہ لکھنے کے زمانہ غالباً ٢٠٠٠ء تک کے سندھی زبان میں جتنے رسائل شائع ہوئے ہیں، سب کا ذخیرہ اکٹھا کیا جن کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے، یہ لائبریری قاسمی لائبریری کے نام سے موسوم ہے، جس سے کافی اہل تحقیق و ریسرچ استفادہ کرتے ہیں۔
ہم دُوسرے دن صبح کو ناشتہ کرکے شکارپور اور پھر اس کے آگے شہداد کوٹ ”سیرت لائبریری” کی زیارت کے قصد سے نکلے۔ سکھر سے جب شکارپور کے راستہ پر گامزن ہوئے تو کچھ دیر بعد ایک مقام آیا جہاں مولانا ادریس سومرو صاحب نے مولانا عبدالرشید بستوی کو بتایا کہ اس مقام پر ہم کچھ دیر رُکنا چاہتے ہیں، کیوں کہ یہاں چند قبریں ہیں جن کے بارے میں اہل علم لوگوں میں معروف ہے کہ یہ حضرات صحابہ کرام کی قبریں ہیں، مگر ان کے نام صراحت کے ساتھ ہمارے علم میں نہیں ہیں، چناں چہ ہم لوگ گاڑی سے اُترے اور ان پانچ قبروں کے پاس پہنچے تو وہاں کچھ مزید قبریں بھی تھیں جو ان کے خاندان کے دیگر افراد کی قبریں بتائی جاتی ہیں، بالکل ہی سادہ جگہ دائیں بائیں جنگلی درختوں کی موجودگی کچھ عجیب سی وحشت ناکی کا نقشہ کھینچ رہی تھی، مگر سچ یہ ہے کہ اس جنگل میں بھی ان نیک نفوسِ قدسیہ کی موجودگی کے سبب بڑے انوارات محسوس ہوئے، وہاں ہم کچھ دیر فاتحہ خوانی کرنے کے بعد شکارپور کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ بھی پاکستان کا ایک معروف مگر چھوٹا سا شہر ہے، یہاں کی کوئی قابل ذکر خاص چیز تو ہمیں نہیں معلوم؛ البتہ یہاں اچار سازی کی صنعت پورے ملک میں مشہور ہے، چناں چہ درجنوں قسم کے اچار یہاں بنائے جاتے ہیں جن میں گوشت کا اچار، مچھلی کا اچار اور تمام ہی اقسام کی سبزیوں کے اچار یہاں بنائے جاتے ہیں، بہرحال آگے چل کر ہم لوگ عصر کے قریب شہداد پور پہنچے۔ ”سیرت لائبریری” کے قریب ہی مسجد میں نماز ادا کی گئی، پھر سیرت لائبریری میں داخل ہوئے، یہ لائبریری بھی قاسمی لائبریری کے برابر یا اس سے کچھ بڑی ہوگی، اس کی خاص بات کتب سیرت کا ذخیرہ ہے۔ چناں چہ لائبریری کے مالک نے ہند و پاک میں شائع ہونے والی سیرتِ پاک پر ہر کتاب بلاامتیاز مکتب فکر اپنے اس ذخیرہ میں اکٹھا فرمائی ہوئی ہے۔ مولانا عبدالرشید صاحب کا تعارف ڈاکٹر ادریس سومرو نے کرایا تو اِتفاق سے ”رجال السند والہند” کا ترجمہ جو مولانا موصوف نے کیا اور احقر کے اِدارہ سے شائع ہوا ہے وہ بالکل قریب ہی رکھا ہوا تھا تو مالک سیرت لائبریری مولانا کی ملاقات سے بہت خوش ہوئے۔ احقر کے لیے یہ معلوماتی سفر مولانا عبدالرشید بستوی کی برکت سے ہوا، وقت کی کمی تھی ورنہ اندرونِ سندھ کی کچھ قدیم تاریخی جگہیں بھی مولانا دیکھتے جاتے، مگر مولانا فرماتے کہ چلیں بقیہ مقامات کی زیارت ان شاء اللہ! آئندہ سفر میں کریں گے۔
مولانا مرحوم نے احقر کی خواہش پر ”رجال السند والہند” کا ترجمہ فرمایا۔ اسی طرح شیخ عبدالفتاح ابوغدہ رحمة اللہ علیہ کے ایک رسالہ کا ترجمہ ”اِسلامی آدابِ زندگی” کے نام سے فرمایا، یہ دونوں احقر کے مکتبہ خدیجة الکبریٰ، اُردو بازار، کراچی سے شائع ہوئے ہیں، علاوہ ازیں مولانا کی تالیف ”امثال و محاورات” عربی، اُردو، اسی طرح ”درحدیث دیگراں” بھی شائع ہوکر مقبولیت پاچکی ہیں، مولانا کی چند کتب احقر کے پاس کمپوز شدہ طباعت کے لیے تیار صورت میں موجود ہیں، ان شاء اللہ! اُن کو بھی شائع کیا جائے گا، ان میں ”امثال و محاورات” اُردو سے اُردو، ”شہرِ رسول” شامل ہیں، ان کتب و مسودات کے تذکرہ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مولانا مرحوم کا احقر سے کیسا سچا اور علمی ذوق کا تعلق تھا۔
یہاں شہر کراچی میں مولانا عبدالرشید بستوی سے محبت و عقیدت کا تعلق رکھنے والے حضرات کافی سارے ہیں، ان میں سے چند قابل ذکر شخصیات یہ ہیں: حضرت الاستاذ مولانا مفتی عبدالرؤف خان غزنوری مدظلہ جو کہ مولانا عبدالرشید بستوی کے زمانۂ تدریس دارالعلوم میں خود بھی مدرّس تھے، یہاں دورانِ سفر مولانا مرحوم سے بڑی محبت اور شگفتہ مزاجی کا برتائو فرمایا، گھر پر کھانے کی دعوت اور ہدیہ و تحفہ کی صورت میں شفقت و محبت کا اِظہار فرمایا، جب حضرت غزنوی صاحب مدظلہ کو مولانا مرحوم کے اِنتقالِ پُرملال کی خبر ملی تو بڑی افسردگی اور غم و رنج کی حالت محسوس کی اور کافی دیر تک مولانا مرحوم کا تذکرہ فرماتے رہے، یہاں جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹائون میں بخاری شریف جزو ٢ کا سبق پڑھاتے ہیں، حضرت نے سبق کے دوران طلبہ کے سامنے مولانا مرحوم کا متعدد بار تفصیل سے ذکر کیا اور ان کے لیے طلبہ کے ساتھ اِیصالِ ثواب اور دُعائے مغفرت کا اہتمام فرمایا۔ واضح رہے کہ کراچی کی مقتدر دینی درس گاہوں میں جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹائون کا شمار صف اَوّل میں ہوتا ہے، دورئہ حدیث میں تقریباً چھ سو طلبہ ہوتے ہیں۔ اس کے بانی و مؤسس محدث العصر حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوری؛ صاحب ”معارف السنن” ہیں، جو کہ حضرت امام العصر علامہ سیّد محمد انورشاہ کشمیری کے اجل تلامذہ میں سے ہیں۔
اسی طرح جناب حضرت قاری عبدالستار صاحب محمود کوٹی مدظلہ بھی مولانا مرحوم سے بڑا قلبی اور عقیدت مندانہ تعلق رکھتے ہیں، موصوف شعبۂ حفظ و تجوید میں مہارتِ تامہ کے علاوہ حفظ و ناظرہ اور قاعدہ کے شعبوں میں تعلیم کے ساتھ تربیت کی محنت بہت شان دار طریقہ سے کررہے ہیں۔ چناں چہ موصوف نے ”تحفة المدرسین”، ”تجوید کی اہمیت” اور ”فیض رحمانی یعنی طریقۂ تدریس قاعدہ نورانی” جیسی بیش قیمت کتابیں تالیف فرمائی ہیں اور ان پر مولانا مرحوم کے قلم سے تقاریظ موجود ہیں۔ قاری صاحب تجوید و قرأت کی تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ تربیت کا بڑا عمدہ اور طویل تجربہ رکھتے ہیں، مختلف مدارس و جامعات میں تدریسی دورۂ جات کا اہتمام فرماتے ہیں، جن سے مدرّسین کو بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ آج کل حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی مسجد خاتم النبیین میں تدریس و تربیت کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مولانا کے اِنتقال کی خبر سن کر حیرت و افسوس کی گویا تصویر بن گئے اور بتانے لگے کہ مولانا مرحوم سے میری تقریباً ہر مہینہ ٹیلی فون پر گفتگو ہوتی تھی، قاری صاحب نے اپنے مدرسہ میں اور تلامذہ سے اُن کی درس گاہوں میں مولانا مرحوم کے لیے قرآنِ کریم پڑھواکر اِیصالِ ثواب کا اہتمام کیا اور دیگر تلامذہ سے بھی کرایا، ہمارے ادارہ میں بھی مولانا کے اِیصالِ ثواب کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت اور دُعاکا اہتمام کیا گیا۔
مولانا مرحوم کی معیت میں ایک علمی لطیفہ اس وقت سننے اور دیکھنے کا موقع ہوا، جب کہ راقم الحروف مولانا بستوی کو ایک بڑے عالم دین مفسر قرآن و محدث ذی شان سے ملاقات کرانے لے گیا تو مولانا نے مذکورہ عالم دین بلکہ علامہ صاحب سے دورانِ گفتگو ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جی ہاں حضرت علامہ کشمیری کی سیرت و سوانح پر ایک کتاب احقر نے لکھی ہے، جس کا نام ”علامہ انور شاہ کشمیری کی ہشت پہلو شخصیت” ہے، تو وہ علامہ صاحب بول پڑے کہ ہشت پہلو کے بجائے درست تعبیر ”ہشت جہت” ہے۔ مولانا مرحوم نے پلٹ کر جواب دیا کہ حضرت اُردو لغت میں ”ہشت پہلو” ہی دُرست ہے نہ کہ ”ہشت جہت” مگر علامہ صاحب نے اس کو تسلیم نہ کیا، وہ بزعم خویش اُردو دانی میں مہارت رکھتے ہیں، حالاں کہ وہ صاحب زبان بھی نہیں ہیں، بلکہ پشتو زبان والے ہیں، خیر ہم اس ملاقات سے فارغ ہوکر رات کو واپس آگئے۔ مولانا کا قیام احقر کے آفس میں تھا، جہاں ٹیلی فون لگا ہوا تھا، جب صبح ہم نے فجر کی نماز ادا کرلی تو احقر نے فیروز اللغات اُردو میں ”ہشت پہلو” کی تعبیر دیکھی تو وہاں درج تھی، لیکن ”ہشت جہت” والی تعبیر قطعی طور پر نہیں ملی، تو میں نے مولانا سے عرض کیا کہ رات کو علامہ صاحب اپنی اُردو دانی پر ناز کرتے ہوئے ”ہشت جہت” والی تعبیر کی دُرستگی پر مصر تھے، حالاں کہ ان کی تعبیر تو اُردو لغت میں ہے ہی نہیں! تو مولانا نے بتایا کہ رات واپس آتے ہی میں نے لغت میں یہ تعبیر دیکھ کر علامہ صاحب کو رات ہی فون کر دیا تھا کہ دُرست تعبیر ”ہشت پہلو” ہی ہے، مجھے یہ سن کر بڑا تعجب ہوا کیوںکہ علامہ صاحب اصلی پٹھان اور گرم مزاج والے ہیں، عام طور پر ان سے لوگ بے تکلف بات کرنے کا حوصلہ نہیں کر پاتے، مگر مولانا عبدالرشید بستوی نے ان علامہ صاحب کو ”قائل و قانع کرکے چھوڑا” دراصل یہ علامہ صاحب حضرت علامہ انور شاہ کشمیری سے بڑی عقیدت رکھتے ہیں، چناں چہ اُنہوں نے بیٹے کا نام انور شاہ رکھا ہے، چوں کہ یہ علامہ بنوری کے شاگردِ رشید ہیں، اس لیے علامہ کشمیری سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔
مولانا مرحوم کے لیے یہاں اندرونِ سندھ اور پنجاب کے مختلف مدارس میں دُعائوں اور اِیصالِ ثواب کا سلسلہ رہا اور کئی لوگ تعزیت کے جذبہ سے احقر سے فون پر رابطہ کرتے رہے، چند بار مولانا نے پاکستان آکر محبتوں کی وہ سوغات لوگوں میں تقسیم فرمائی کہ یہاں دورانِ قیام اجنبیت کا قطعی احساس نہیں ہوتا تھا اور مولانا بھی اپنائیت محسوس کرتے تھے۔ مولانا کے ایک ہم سبق اور بے تکلف دوست بھی ایک مدرسہ کے مدیر و مہتمم ہیں جنہوں نے دورئہ حدیث مولانا کے ساتھ ہی دارالعلوم دیوبند سے کیا ہے، وہ مولانا اسعد زکریا قاسمی صاحب ہیں۔ موصوف بھی مولانا کے اِنتقال سے بڑے غمزدہ ہوئے اور اپنے مدرسہ میں اِیصالِ ثواب کا اہتمام کیا۔ اسی طرح ایک برمی نژاد فاضل دیوبند بھی مولانا کے درسی ساتھی یہاں کراچی میں ہی مقیم ہیں اور ایک مدرسہ البنات چلارہے ہیں اور دیگر مدرسہ میں تدریس فرماتے ہیں ان کا نام نورحسین قاسمی ہے۔ موصوف نے بھی بڑے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے گراں قدر دُعائوں سے مولانا مرحوم کو یاد کرتے رہے۔
مولانا مرحوم کی شخصیت سادگی، سنجیدگی، متانت کے ساتھ خوش طبعی اور ہمہ وقت علم دوستی سے عبارت ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی ہمہ جہت علمی و قلمی مشغولیات کے تناظر میں اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ تدریس کے ساتھ ساتھ صحافتی خدمات، ترجمہ و تالیف کے کام کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں میں دروس و مواعظ کا سلسلہ بھی قائم رکھتے تھے، کئی مدارس و جامعات کے مشیر ایڈوائزر کی حیثیت سے بھی کام کرتے تھے۔ بہرحال! اللہ رب العزت نے مولانا مرحوم سے علمی حلقوں میں بڑا گراں قدر کام لیا ہے اور احقر یہ اُمید کرتا ہے کہ مولانا بستوی کے علمی و قلمی کارنامے اور خدمات ان کے لیے عظیم صدقہ جاریہ ہیں اور آخرت کے لیے بہترین ذخیرہ ہیں، ملک و بیرون ملک پھیلے ہوئے مولانا کے سینکڑوں تلامذہ بھی ان کا علمی سرمایہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں احقر دست بہ دعا ہے کہ وہ اپنی شانِ کریمی کے صدقہ مولانا مرحوم کو بھرپور اعزاز و اکرام سے نوازے اور تمام تر صغائر و کبائر کو معاف فرماکر رفع درجات سے ہمکنار فرمائے اور آخرت کی تمام منازل میں کامرانی و سرخ روئی عطا فرمائے اور جملہ پسماندگان بالخصوص اہلِ خانہ اور تمام اعزہ و اقربا کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین!
ایں دُعا از من واز جملہ جہاں آمین باد

آج کا مولوی اور انگریزی

ڈاکٹر محمد عبید اللہ قاسمی

اب طنز کرنے والوں کی زبانیں گونگی ہوگئیں کیونکہ جن پر طنز کیا جاتا تھا انہیں وہ زبان آگئی جن کے نہ آنے سے انہیں کسی دوسرے سیارے کی نامانوس مخلوق، دقیانوس، تنگ نظر، نابالغ الفکر، طرزِ کہن کا اڑیل، ذہن ودماغ کا سڑیل، زمانے کی گردشوں سے ناواقف، تہذیبِ نو سے نابلد، جدید فلسفہِ حیات سے نا آشنا، اور دنیائے عجم کا ابو العجم، مغرب کے آسمانِ فکر وفن تک رسائی نہ کرسکنے والا، گوروں کی زبانِ انگریزی سے جاہل سمجھا جاتا تھا۔ آج وہ گونگی مخلوق آسمانِ انگریزی پر کمندیں ڈال رہی ہے، اسے سیکھ رہی ہے اور اس انداز سے سیکھ کر اس پر قدرت حاصل کررہی ہے، فراٹے دار تقریریں کر رہی ہے، ان کے قلم سے انگریزی مضامین اور تحریریں ڈھل ڈھل کر نکل رہے ہیں کہ ملامت کرنے والے اب یہ زبان ان کی زبان سے سنکر اپنے دانتوں میں انگلیاں دبائے جارہے ہیں۔ کل تک جو بھانت بھانت انداز سے طعنہ زن تھے آج وہ مہر بلب ہیں۔ کل تک جو یہ کہتے تھے کہ مولوی کی کھونپڑی میں اتنی طاقتِ پرواز نہیں اور اس کے منھ میں ایسی زبان نہیں جو انگریزی جیسی عظیم الشان زبان کے تکلم اور اداء پر قادر ہو آج وہ اپنی اس بچکانہ ادا پر پشیمان ہیں اور اپنے کہے پر منھ چھپا رہے ہیں۔ انہوں نے اب دیکھ لیا کہ یہ مولوی قوم جب انگریزی سیکھنے پر آئی تو اس میدان میں بھی اپنا لوہا منوالیا۔ انگریزی میں بہتیرے رسالے نکال ڈالے، مقالے رقم کر دیے، کتابوں پر کتابیں لکھ ڈالیں، کتابوں کے انگریزی ترجمے شائع کردیے، عصری یونیورسٹیوں تک میں جا جا کر انگریزی میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کے تمغے اٹھا لے آئے، سات سمندر پار انگریزوں کے ملکوں تک میں جاکر ان کے بچوں کو نہیں چھوڑا اور انہیں انگریزی پڑھاکر ہی دم لیا، امریکہ وافریقہ کے ملکوں میں مسجدوں کے منبروں سے انگریزی میں اپنے جوہرِ خطابت سے دھوم مچادی۔ بعضوں کو یہ حیرت ستارہی ہے کہ ایسا محض دو سالوں کی تعلیم میں کیسے ممکن ہوگیا۔ انہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ مدرسوں کی تعلیم جس محنت، جذبے، جاں فشانی سے یہ حاصل کرتے ہیں اور مدرسے کا نصاب انہیں رگڑ رگڑ کر جس طرح کندن بنادیتا ہے ان کے لئے انگریزی سیکھ لینا اور اس میں مہارت حاصل کرلینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ مدرسوں کی عربی گردانوں کی تعلیم نے انہیں tenses پر کمانڈ حاصل کرنے کا طریقہ سکھادیا، عربی الفاظ ومعانی کو یاد کرنے کی مشق نے انگریزی vocabulary کی تحصیل کو بازیچہِ اطفال بنادیا، عربی جملوں کی تراکیب کی مہارت نے گرامر کی غلطیوں سے فانوس بن کر حفاظت کردی، عربی کتابوں میں حفظِ تعبیرات کی خُو نے انہیں idioms اور phrases کا خوگر بنادیا، ہفت اقسام (معتل،لفیف،ناقص وغیرہ) کے تحلیل وتجزیے نے انگریزی الفاظ اور ان کے مشتقات میں جھانک کر ان کی اصلیت کو پہچاننے کا skill فراہم کردیا، عربی کے صلات سے واقفیت نے انگریزی کے نازک نگینہِ preposition کو سنبھالنے کا سلیقہ سکھادیا، مدرسوں کے عربی گرامر نے انگریزی گرامر کے چیلنجز کو چٹکیوں میں حل کردیا۔ آخر کوئی تو وجہ تھی کہ کیمبرج یونیورسٹی نے اپنے celta کورس کی سرٹیفکیٹ میں گرامر میں امتیازی حیثیت اپنے لندنی اسٹوڈنٹ کو لکھ کر نہیں دی، دہلی یونیورسٹی کے سینٹ اسٹیفن کالج کے انگریزی گریجویٹس کو نہیں دی بلکہ دار العلوم دیوبند کے دو فرزندوں کو یہ اعزاز بخشا۔ شاید یہی وجہ ہو کہ وقت کے حکیم الامت بھی فرما گئے کہ اگر عربی کو اسلام کے لئے نہیں پڑھنا چاہتے ہو نہ پڑھو، اسے انگریزی کو بہتر کرنے کے ارادے سے ہی پڑھ لو تب بھی بڑا فائدہ ہوگا کہ عربی کی استعداد انگریزی کی استعداد کو بہتر کرنے کے لئے بے حد مفید ہے۔ اس کا عملی تجربہ دار العلوم دیوبند کے فرزند ادارہ مرکز المعارف نے کرکے دکھادیا۔ محض دو سال کی مختصر مدت میں انگریزی کے حروف تک سے ناواقفوں کے لئے انگریزی کی اعلیٰ تعلیم کو ممکن بنا دیا۔ بعدہ دار العلوم دیوبند نے اس تجربے سے فائدہ اٹھاکر ایسی طرح ڈالی اور اس انداز میں آواز بلند کی کہ اب ملک کے تمام بڑے ادارے اس ضرورت کو تسلیم کرکے انگریزی کو فتح کرنے، اس میں دعوتِ دین کا کام کرنے، اسلام کا دفاع اور اشاعت کرنے، دینی کتابوں کا ترجمہ کرنے کی جانب متوجہ ہوگئے اور اپنے اداروں میں، اپنی سرپرستی میں انگریزی کا دوسالہ کل وقتی کورس شروع کردیا اور انگریزی زبان وادب کے شعبے قائم کرنے میں دلچسپی لینے لگے۔ بانیِ دار العلوم حضرت نانوتوی کا خواب، حضرت تھانوی کی خواہش، علامہ انور شاہ کشمیری کی نصیحت اور دار العلوم دیوبند کے اراکینِ شوریٰ کی 119 سالہ پرانی تجویز میں اب رنگ بھرے جانے لگے ہیں اور الحمد لله نوجوان فارغینِ مدارس کی کھیپ انگریزی زبان سے مسلح ہوکر میدانِ عمل میں آرہی ہے۔ خدا کرے کہ اس سلسلے پر کبھی خزاں نہ آئے اور کبھی اس میں ضعف پیدا نہ ہو، انگریزی سے لیس یہ قافلے دین کے دفاع کے کام کرسکیں اور ان میں اخلاص اور جذبہِ دین ہمہ دم قائم رہے! جن لوگوں نے یہ خواب دیکھے تھے، اس کی طرف متوجہ کیا تھا اور جنہوں نے عملی طور پر اس کی بنیاد ڈالی تھی ان کو اپنی شایانِ شان جزائے خیر مرحمت فرمائے!

نورانی قاعدہ

حامد محمود راجا

قاری نور محمد حقانی 1272ھ مطابق 1856ء کو لدھیانہ میں پید اہوئے ۔یہ شہر موجودہ بھارتی پنجاب کا حصہ ہے جو لودھی سلطنت کے دوسرے حکمران سکندر لودھی (وفات: 21 نومبر 1517ء ) کی طرف منسوب ہے۔یہ لودھی خاندان سے تعلق رکھنے والے بہلول لودھی کے بیٹے اور جانشین تھے۔سکندر لودھی کا دور حکومت 17 جولائی 1489ء تا 21 نومبر 1517ئ( 28 سال 4 ماہ 4 دن) پر محیط ہے ۔قطب مینار کی بالائی دو منزلیں سکندر لودھی نے تعمیر کروائیں۔سکندر لودھی علم وادب کے رسیا تھے۔ انہوں نے حکام کا انتخاب ذاتی قابلیت کے بنا پہ کیا لہذا اعلی عہدوں کے حصول کے لیے ہندوؤں نے فارسی زبان سیکھنا شروع کردی۔ وہ ایک قابل، عقل مند اور عادل بادشاہ تھے۔ صوفیا کرام کا خاص ادب کرتے۔ اپنے لیے مراتب نہ لیتے، بادشاہ ہو نے کے باوجود عام گھوڑے پہ سواری کرتے اور سادگی اختیار کرتے سخاوت اُن کی عادت تھی اور متانت مزاج کا حصہ۔ سکندر لودھی،لودھی باغ دہلی میں مدفون ہیں۔ اُن کا مقبرہ اُن کے بیٹے ابراہیم لودھی نے تعمیر کروایا۔
سکندر لودھی کا بسایا شہر”لدھیانہ” اپنے علماء کے لیے معروف رہا ہے ۔ لدھیانوی نسبت کے علماء کی ایک بڑی تعدادنے برصغیر پاک وہند میں شہرت پائی ۔پاکستان میں جامعة الرشید کے بانی مفتی رشید احمد لدھیانوی اور مولانا یوسف لدھیانویشاید اس نسبت کے حامل علماء میں آخری بڑے نام تھے ۔ یہ خطہ جنگِ آزادی 1857کے مجاہدین کے حوالے سے بھی معروف رہا ہے ۔( عہماء امجاہدین کی فہہرست ۔) اس مردم خیز خطہ کے موضع مانگٹ میںمحمد علی لدھیانوی کے ہاں نور محمدکی پیدائش ہوئی۔ قاری نور محمد نے اپنی ابتدائی تعلیم لدھیانہ کے مدارس سے حاصل کی جب کہ اعلی سطحی تعلیم کے لیے انہوں نے دہلی ، کان پور اور لکھنؤ کے مدارس کا رخ کیا ۔ قاری نور محمد نے حدیث کی تعلیم مولانا احمد علی سہارن پوری اور مظہر علی نانوتوی سے حاصل کی ۔ قاری نور محمد کے والدعلی محمد لدھیانوی نے بنات (طالبات) کا ایک مدرسہ بھی قائم کیا تھا۔ جب اس کی دیکھ بھال قاری نور محمدحقانی کے ہاتھ میں آئی تو انہوںنے اس کا نام مدرسہ حقانیہ تجویز کیاجو تعلیم قرآن، تربیت اور افراد سازی میں مثالی نمونہ تھا۔ اس زمانے میں عیسائی مشنریاں اپنی ارتدادی سرگرمیوں میں بڑے زورو شور سے مصروف تھیں جس کا مقابلہ علماء نے بھر پور طریقے سے کیا ۔ قاری نور محمد نے بھی اس مدرسہ کے ذریعے ان ارتدادی سرگرمیوں کا بھر پور تدارک کیا ۔قاری نور محمدنے ایک کتب خانہ ”مطبع حقانیہ بھی قائم کیاتھا۔قاری نور محمد علیہ الرحمة نے”نماز اور عقائد ” پر ایک منظوم کتاب بھی تصنیف کی تھی۔قاری نور محمد اپنا تخلص حقانی پسند کرتے تھے اسی وجہ سے انہوںنے اپنے مدرسہ اور مکتبہ کانام بھی حقانیہ تجویز کیا۔
” قاری نور محمد حقانی،عبد الرحیم سہارن پوری کے خلیفہ مجاز بھی تھے، اس مناسبت سے عبد الرحیم رائے پوری ان کے پیر بھائی اور ساتھیوں میں سے تھے۔ان دونوں حضرات کو یکے بعد دیگرے حضرت میاں عبدالرحیم سہارن پوری سے اجازت حاصل ہوئی تھی، پہلے یہ (قاری نور محمد )حضرت میاں عبدالرحیم سرساوی کے مدرسہ تعلیم القرآن کے ناظم تھے، پھر 1303ھ میں ان کے انتقال کے بعد لدھیانہ میں مدرسہ حقانی بنایا تھا۔ 1328ھ میں حضرت اقدس عالی رائے پوری کے ساتھ سفر حج پر تشریف لے گئے اور اس کے بعد مستقل رائے پور میں قیام رہا۔ حضرت عالی رائے پوری کے سلسلہ مدارس” تعلیم القرآن” کے نگران اعلی اور ناظم آپ ہی تھے، حضرت اقدس رائے پوری نے اردو اور عربی سیکھنے کے لیے الگ الگ آپ سے قاعدہ لکھوایا جس کا نام آپ نے ”نورانی قاعدہ ”رکھا اور اپنے مکاتب قرآنیہ کے نصاب میں شامل کیا اور آج ہر مکتب قرآن کا حصہ ہے ۔(اردو والا قاعدہ راقم کی نظر سے نہیں گزرا)۔ قاری نور محمد نے رمضان 1338ھ مطابق اپریل 1920ء میں مدرسہ” ام المدارس” قائم فرمایا، آپ کا مزار فیل گنج قبرستان لدھیانہ میں ہے ”۔ (راقم نے یہ اقتباس کسی کتاب میں سے فوٹو کاپی کروایا تھا ، لیکن سرورق کی کاپی نہیں ہوسکی ۔اس لیے کتاب کا عنوان معلوم نہیں ،غالباً حضرت عبدالرحیم رائے پوری کے خلفاء اور متعلقین پر کوئی تصنیف ہے ۔ حامد)
انہوں نے ایک پرچا بھی جاری کیا جس کا نام ”نور علی نور” رکھا،یہ نام سورة نور کی آیت سے ماخوذ ہے ۔ارشاد باری ہے:
اللَّہُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِہِ کَمِشْکَاةٍ فِیْہَا مِصْبَاح الْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ کَأَنَّہَا کَوْکَب دُرِّیّ یُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَکَةٍ زَیْْتُونِةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَلَا غَرْبِیَّةٍ یَکَادُ زَیْْتُہَا یُضِیْء ُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَار نُّور عَلَی نُورٍ یَہْدِیْ اللَّہُ لِنُورِہِ مَن یَشَاء ُ وَیَضْرِبُ اللَّہُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّہُ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْم (35)
ترجمہ:”۔ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اُس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے، اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون، کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اُسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (بڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) اللہ اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور اللہ جو مثالیں بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے ”۔
یہ (غالباً)وہی پرچہ ہے جس میں نظم ”بہشتی زیور ” کے عنوان سے شائع ہوئی تو مولانا اشرف علی تھانوی نے اس نظم کو اپنی معروف کتاب کے دیباچے کے عنوان کے آخر میں لکھا ۔مولانا اشرف علی تھانوی بہشتی زیور کے مقدمہ میں رقم طراز ہیں :”میں جس وقت یہ دیباچہ لکھنے کو تھا ، پرچہ” نور علی نور” میں ایک نظم اس کتاب کے نام مضمون کے مناسب نظر سے گزری جو دل کو بھلی معلوم ہوئی ، جی چاہا کہ اپنے دیباچہ کو اسی پر ختم کروں تاکہ ناظرین خصوصاً لڑکیاں دیکھ کر خوش ہوں اور مضامین کتاب ہذامیں ان کو زیادہ رغبت ہو بلکہ اگر یہ نظم اس کتاب کے ہر حصے کے شروع پر ہوتو قند ِمکرر کی حلاوت بخشے ، وہ نظم یہ ہے :
اصلی انسانی زیور
ایک لڑکی نے یہ پوچھا اپنی اماں جان سے
آپ زیور کی کریں تعریف مجھ انجان سے
کون سے زیور ہیں اچھے یہ جتا دیجیے مجھے
اور جو بد زیب ہیں وہ بھی بتا دیجیے مجھے
تاکہ اچھے اور برے میں مجھ کو بھی ہو امتیاز
اور مجھ پر آپ کی برکت سے کھل جائے یہ راز
یوںکہا ماں نے محبت سے کہ اے بیٹی مری
گوش دل سے بات سن لو زیوروں کی تم ذری
سیم و زر کے زیوروں کو لوگ کہتے ہیں بھلا
پر نہ میری جان ہونا تم کبھی ان پر فدا
سونے چاندی کی چمک بس دیکھنے کی بات ہے
چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات ہے
تم کو لازم ہے کہ کرو مرغوب ایسے زیورات
دین و دنیا کی بھلائی جس سے اے جاں آئے ہاتھ
سر پہ جھومر عقل کا رکھنا تم اے بیٹی مدام
چلتے ہیں جس کے ذریعہ سے ہی سب انساں کے کام
بالیاں ہوں کان میں اے جان گوش ، ہوش کی
اور نصیحت لاکھ تیرے جھمکوں میں ہو بھری
اور آویزے نصائح ہوں کہ دل آویز ہوں
گر کرے ان پر عمل تیرے نصیبے تیز ہوں
کان کے پتے دیا کرتے ہیں کانوں کو عذاب
کان میں رکھو نصیحت دیں جو اوراق کتاب
اور زیور گر گلے کے کچھ تجھے درکار ہوں
نیکیاں پیاری مری تیرے گلے کا ہار ہوں
قوت بازو کا حاصل تجھ کو بازو بند ہو
کامیابی سے سدا تو خرم و خرسند ہو
ہیں جو سب بازو کے زیور، سب کے سب بے کار ہیں
ہمتیں بازو کی اے بیٹی تری درکار ہیں
ہاتھ کے زیور سے پیاری دستکاری خوب ہے
دستکاری وہ ہنر ہے سب کو جو مرغوب ہے
کیا کرو گی اے مری جاں زیور خلخال کو
پھینک دینا چاہیے بیٹی بس اس جنجال کو
سب سے اچھا پائوں کا زیور یہ ہے نور بصر
تم رہو ثابت قدم ہر وقت راہ نیک پر
سیم و زر کا پائوں میں زیور نہ ہو تو ڈر نہیں
راستی سے پائوں پھسلے گر نہ میری جاں کہیں
قاری نور محمد حقانی کا انتقال 1343 ہجری مطابق 1925 عیسوی میں ہوا۔ان کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے احمد حسن نے مدرسے کے نظم و نسق کو سنبھالا ۔ احمد حسن 1947کے بعد پاکستان کے شہر فیصل آبا د منتقل ہو گئے اوروہاں بھی انہوںنے ایک مدرسہ قائم کیاجواب تک قرآنی علوم کی اشاعت میں اپنا کردار ادا کررہا ہے ۔(اشتیاق کے باوجود راقم کافیصل آباد میں مقیم اس خانوادے سے براہ راست تعارف نہ ہو سکا ۔)قاری صاحب عمر بھر مدرسہ ، مکتبہ اور رسالہ کی مفید اور جان دار سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ قاری نور محمد حقانی کو شہرت دوام اُن کے قاعدے سے حاصل ہوئی ۔ قاعدہ عربی زبان میں بنیاد کے لیے استعمال ہوتاہے ۔ اس کی جمع قواعد ہے ۔ چونکہ اس طرح لکھے گئے قاعدہ جات ناظرہ قرآن کی نبیاد بنتے ہیں اس وجہ سے ان کو قاعدہ کہا جاتا ہے ۔ نورانی قاعدہ سے قبل بھی متعدد قاعدہ جات معروف رہے ہیںجن میں بغدادی قاعدہ سر فہرست تھا ۔بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس کے والد مولانا اسماعیل کاندھلوی نے مولانارشید احمد گنگوہی سے بیعت کی درخواست کی۔ حضرت گنگوہی نے ان کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی کہ”آپ کو اس کی حاجت نہیں، جو اس طریق سلوک اور ان ذکر و اذکارکامقصود ہے ، وہ آپ کو حاصل ہے، اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص قرآن مجید پڑھنے کے بعد یوںکہے کہ قاعدہ بغدادی میں نے نہیں پڑھا ، اس کو بھی پڑھ لوں”(بحوالہ مولانا الیاس اور اُن کی دینی دعوت) ۔مولانا اسماعیل کاندھلوی کا انتقال 26فروری 1898ء کو ہوا ۔ بغدادی قاعدہ اس کے بعد بھی مکاتب کا حصہ رہا ہے ۔ مفتی تقی عثمانی 1947ء کے آس پاس کا واقعہ تحریر کرتے ہیں:
”پھوپی امة الحنان کا گھریلو مکتب :
ہم جس محلے میں آباد تھے ، اس میں اُس چوک کے قریب جس کا ذکر میں نے پہلے کیا ہے ، ہمارے خاندان کی ایک بزرگ خاتون کا قیام تھا جن کا نام امة الحنان تھا، اور ہم انہیں پھوپی کہا کرتے تھے،(مصنف نے پھوپھی کے بجائے پھوپی ہی لکھا ہے ،حامد) کیونکہ وہ حضرت والد صاحب ، رحمة اللہ علیہ ، کی رشتے کی بہن تھیں ۔ اُن کا گھر کیا تھا؟ خاندان بھر کے ، بلکہ دور دور کے بچوں کی ایسی تعلیم گاہ تھی جس میں کئی کئی پشتوں نے اُن سے تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ کہنے کو تو بچیوں اور بہت چھوٹے بچوں کو قرآن شریف ناظرہ پڑھاتی تھیں ،لیکن در حقیقت وہ بچیوں کو قرآن شریف کے علاوہ بہشتی زیور کے ذریعے وہ سب کچھ پڑھادیتی تھیں جس کی انہیں شادی کے بعد تک ضرورت ہوتی، اور نہ صرف نظریاتی طور پر پڑھا دیتی تھیں ، بلکہ اُس کی عملی تربیت بھی دیتی تھیں۔ یہی اُن کا مشغلہ تھا، اور یہی اُن کاشوق ، جس کے ذریعے انہوں نے سینکڑوں بچوں اور بچیوں کوانسانیت سکھادی تھی۔ ہماری سب بڑی بہن س لے کر مجھ تک ، سب نے اُن سے پڑھا تھا۔ میں ابھی اسی قابل تو نہ ہوا تھا کہ اس تعلیم گاہ کا باقاعدہ شاگرد بنوں ، لیکن میرے والدین مجھے غیر رسمی طور پر قاعدۂ بغدادی دے کر اُن کے گھر بھیج دیتے تھے ، اور اس طرح قاعدہ ٔبغدادی کا آغاز میں نے اس گھریلو مکتب میں کیا، جہاں محترمہ امة الحنان صاحبہ، رحمة اللہ علیہا ، اپنی کڑک دار آواز میں تعلیم و تربیت کے فرائض بڑی تندہی سے انجام دیتی تھیں۔یہ ساری باتیں مجھے یاد ہیں ، اور اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں جوشاید قارئین لے لیے کسی دل چسپی یا فائدے کی حامل نہ ہوں۔ اس وقت میر ی عمر کیا تھی؟ میں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا، لیکن ساڑھے چار سال سے یقینا کم تھی، کیونکہ پانچ سال کی عمر پوری ہونے سے پہلے ہی ہم دیوبند سے پاکستان روانہ ہو گئے تھے۔ (ماہنامہ البلاغ 1439 ھ)۔
راقم کو تلاش کے باوجود قاعدہ بغدادی کا کوئی نسخہ نہ مل سکا۔نورانی قاعدے کی ترویج کے بعد یہ قاعدہ اب دیکھنے کو بھی نہیں ملتا۔ نورانی قاعدے کے مصنف نے ہر باب کو ایک تختی کانام دیا ہے اور ا س میںکل 17 تختیاں ہیں جن میں حروف تہجی، مفردات اور مرکبات کے تمام بنیادی اصول شامل ہیں۔ نورانی قاعدہ بہت نافع تھا لیکن مشقیں اجمالی تھیں۔ ایک ہی زمین پر متعدد امور کی مشقیں درج تھیں، اس کے علاوہ مزید ضروری قواعد و فوائد کے اضافہ کے ساتھ اسے محمد ابرار الحق حقی نے مرتب کیا۔محمد ابرار الحق حقی (پیدائش: 1339ھ مطابق 20 دسمبر 1920ء )شاہ عبد الحق محدث دہلوی کی اولاد میں نمایاں فرزندتھے۔ یہ خاندان علاؤ الدین خلجی کے زمانے میں ترکی سے ہندوستان آیا تھا۔ ابرار الحق کی ولادت قصبہ پلول میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں انوار احمد انبیٹھوی سے حاصل کی، یہیں ناظرہ و حفظ قرآن کی تکمیل کی اور بعدہ مظاہر علوم میں داخلہ لیا۔ 1357 ہجری میں اعلی نمبرات سے کامیابی حاصل کی۔مظاہر علوم سہارن پور کے درخشاں فاضل اور سلسلہ چشتیہ کے مشہور زمانہ عالم و داعی ، نیز مشرب تھانوی کے قولی و عملی ترجمان اور نمونہ حقیقی سمجھے جاتے تھے۔ ہندستانی مسلمانوں میں متعدد فکری، تعلیمی و اصلاحی کاموں کے محرک و بانی تھے۔محمد زکریا کاندھلوی، منظور احمد خاں، عبد الرحمن کیملپوری، اسعد اللہ رامپوری ان کے مشہور اساتذہ میں سے ہیں۔مولانا محمد یوسف کاندھلوی اورمولانا انعام الحسن کاندھلوی، محمد ابرار الحق کے درسی ساتھی تھے۔ ان کے والد محمود الحق ہردوئی خانقاہی ذہن کے تھے اورمولانا اشرف علی تھانوی کے مجاز صحبت خلیفہ تھے، اس لیے گھر کا ماحول بھی دین دارانہ تھے۔ طالب علمی میںمحمد ابرار الحق، مولانا اشرف علی تھانوی سے بیعت ہو گئے تھے۔ چونکہ خانقاہ میں بے ریش نوجوانوں کو ٹھہرنے کی اجازت نہ تھی، اس لیے تھانہ بھون میں کسی عزیز کے یہاں قیام کرتے۔ فطری صلاحیت اور وہبی کمالات اعلی درجہ کے تھے اس لیے 22 سال کی عمر میں ہی خلافت سے نوازے گئے۔ انتقال کے بعدخواجہ عزیز الحسن مجذوب، وصی اللہ الہ آبادی، محمد احمد پرتاب گڑھی اور محمود الحسن گنگوہی رحمہم اللہ سے یکے بعد دیگرے استفادہ کا تعلق رہا اور نیاز مندانہ ان کے یہاں حاضری دیتے رہے۔فراغت کے بعد اولا مظاہر علوم سہارن پور میں بحیثیت معین مدرس منتخب ہوئے۔ وہاں سے نکل کر مدرسہ اسلامیہ فتح پور میں منصب تدریس پر فائز رہے۔ اس کے بعد جامع العلوم کان پور میں تدریس کے لیے چلے آئے۔ انداز تدریس و طریق تعلیم نہایت سہل و د ل نشیں تھا جس کی وجہ سے خاصے مقبول رہے۔بیرون وطن چند سال تدریس کے بعد اپنے مرشد مولانا اشرف علی تھانوی کے مشورہ سے ہردوئی میں شوال 1362 ہجری میں مدرسہ اشرف المدارس کی بنیاد رکھی اور خلوص کی برکت اور تعلیم و تربیت کے معیار کے سبب مدرسہ چند سالوں میں معیاری مدراس کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ دوران طالب علمی میں ابرار الحق حقی نے مشہور زمانہ قاری عبد الخالق مکی سے سات آٹھ برس مسلسل فن تجوید کو حاصل کیا تھا۔ نیز اشرف علی تھانوی کے یہاں بھی اس کا نہایت اہتمام تھا۔ اس لیے انہوں نے بھی میدان عمل میں آکر قرآن کی خدمت کا بیڑا اٹھایا، اس کی اہمیت و عظمت اور ادائے حقوق کی مسلسل تحریک چلائی اور اسی کے مد نظر نورانی قاعدہ کو ترمیم و اضافہ کے ساتھ شائع کیا اور تادم آخر خدمت قرآن کی اس تحریک کے داعی رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے چھوٹے تمام مدارس نے اس نظام کی نقل کی یا کم از کم اس پر حساس ہوکر خود عمدہ نظام تجویز کرنے پر آمادہ ہوئے۔محی السنہ مولاناابرارالحق 8 ربیع الثانی 1426 ہجری مطابق 17 مئی 2005 شب 8 بجے ہردوئی میں انتقال کیا اور ہردوئی کے عام قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔
حضرت مولانا ابرار الحق حقی کے کیے گئے اضافوں کے بعد اس کی کل 28 تختیاں ہوگئیں۔ چونکہ یہ ترمیم و اضافہ جدید طرز اور بچوں کی نفسیات سے ہم آہنگ اور قریب تر تھا، اس لیے اب پورے ہندوستان میں انہی کا مرتب کردہ نورانی قاعدہ رائج ہے۔ بھارت میں اس کی افادیت و مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ دار العلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، دار العلوم ندوة العلماء اور مجلس دعوة الحق ہردوئی جیسے بڑے تعلیمی اداروں اور اِن کے تمام ملحقہ مدارس میں یہی قاعدہ طلبہ میں رائج ہے۔نورانی قاعدہ کی افادیت کو محسوس کرتے ہوئے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی اورحضرت عبد الرحیم رائے پوری نے اپنے متعلقین کو اسی نظام اور قاعدہ کو اپنے یہاں رائج کرنے کا پابند کیا اور اس طرح اس قاعدے کے مقبولیت میں مزید اضافہ ہو گیا۔
پاکستان کے دینی مدارس اور مساجد میں یہی قاعدہ ناظرہ قرآن کی بنیاد ہے ۔ متعدد مشاہیر نے نورانی قاعدہ سے ہی اپنی دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ حال ہی میں شہید کیے گئے معذور اورمعروف عالم دین مولانا اسلم شیخوپوری شہید اپنی بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:” میں تین سال کا تھاجب مجھ پر فالج کا اٹیک ہوا اور میں ہمیشہ کے لیئے چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا۔ سارا بچپن فالج سے مقابلہ کر تے ہو ئے گزر گیا ، حملہ بہت سخت تھا اور میں زندگی بھر کے لیئے وہیل چیئر پر منتقل ہو گیا۔پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا، میں ہر لمحہ پڑھنے کے لیئے بے چین رہتا تھا ، اپنی فالج زدہ ٹانگوں کے ساتھ کئی کئی کلو میٹر دور اسکول پڑھنے کے لیئے جاتا تھا۔ میں اپنی معذوری کی بنا پر سب سے الگ تھلگ رہتا تھا ، دوست اور ساتھی اکثر اسے نظر انداز کر دیتے تھے مگر کبھی کسی سے گلہ شکوہ نہیں کرتا تھا۔ اپنی معذوری کامجھے احساس تھا لیکن میں نے کبھی اس احسا س کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ میں ایک رسمی مسلمان گھرانے میں پیدا ہو اتھا ،اسکول کے ساتھ محلے کی مسجد میں نورانی قاعدہ بھی پڑھنا شروع کر دیاتھا۔اس نے چوتھی جماعت سے اسکول چھوڑ کر قرآن حفظ کر نا شروع کر دیا ،وہ اس میدان میں بھی سب سے آگے تھا ،وہ سب سے پہلے سبق،سبقی اور منزل سنا کر فارغ ہو جاتا تھا”۔
صحافی محمد شجاع الدین اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: نویں جماعت کے طالب علم کا اعتکاف میں بیٹھنا فی زمانہ کچھ عجیب لگتا ہے، لیکن بات آج سے قریباً چالیس پینتالیس برس پرانی ہے، جب مسجد کو محلے کا ایک حصہ گردانا جاتا تھا نہ کہ مقفل عبادت گاہ۔ میں زندگی میں پہلی مرتبہ اعتکاف بیٹھا تھا۔ عشرہ مبارک میں عبادتوں کی کثرت معمول رہی۔ روزے کے ساتھ گرمی کی دوپہر میں اینٹوں سے بنا مسجد کا فرش دھونا، اذان سے پہلے لاوڈ اسپیکر کے مائیک پر قبضہ جمالینا، تکبیر اولیٰ کے لیے عین امام صاحب کے پیچھے صف میں کھڑا ہونا بھی فرض سمجھ کر پورا کیا۔ عید کا چاند نظر آیا تو والد مرحوم کی خوشی دیدنی تھی۔ گلاب اور موتیے کے ہار لیے مسجد پہنچے، گلے لگایا، ماتھا چوما اور خوبصورت ریشمی رومال تحفے میں دیا۔ بزرگ ہستیوں کی نسبت ایمان کی حرارت کو جلا بخشتی ہے۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے خانوادے سے تعلق کی اثر پذیری تھی کہ گھر میں مذہبی ماحول غالب رہا۔ کلمہ اور قرآن کا اک اک حرف جیسے سانس کی لڑی کا جزولاینفک بن گیا۔ ددھیال اور ننھیال کے ہم عمر لڑکوں میں، مَیں مولوی سمجھا جاتا۔ اسکول کے زمانے میں ناشتہ چھوٹ جائے تو خیر لیکن ہر صبح نماز فجر کے بعد سورة یٰس، سورة رحمٰن، نوح، مزمل اور سورة التغابن کی قرأت ضروری تھی۔ آیت الکرسی میرا اوڑھنا بچھونا بن گئی۔ کوئی ناغہ نہ ہونے کے باعث سبق حفظ ہوگیا۔ سانس کی رفتار کے ساتھ زبان کا ورد جاری رہتا۔شعور کی پہلی منزل پر نظر دوڑائوں تو تین چار برس عمر ہوگی، جب ایک روز بادل جم کر برسے۔ والد صاحب گھر سے باہر تھے۔ میرے ننھے دل کو دھڑکا لگا کہ ابا جی واپس کیسے آئیں گے۔ اللہ کے نام والا نورانی قاعدہ ہاتھ میں لیے برآمدے میں آن کھڑا ہوا۔ آسمان کی طرف منہ کرکے کلمہ پڑھا اور پکارا۔ اللہ میاں جی بارش تھم جائے۔ اور پھر، آسمان سے برستا پانی دور فضا میں ہی کہیں تحلیل ہوگیا۔ کم سنی میں کہے کلمے کی طاقت دل کو تقویت بخشتی ہے۔
پاکستان کے سرکاری تعلیمی نظام میں ناظرہ قرآن کے لیے بھی نورانی قاعدہ کو ہی شامل نصاب کیا گیا ہے ۔ 29جون 2016 کی ایک خبر کے مطابق وزیرمملکت وفاقی تعلیم و تربیت بلیغ الرحمن نے پرائمری تعلیم تک ناظرہ قرآن کی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا ہے اور چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک قرآن پاک بمع ترجمہ لازمی قرار دے دیا۔ بلیغ الرحمن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہبلیغ الرحمن نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں پر اس کی کوئی پابندی نہیں ہو گی لیکن ہم ایکٹ آف پارلیمنٹ بنا رہے ہیں جس میں تمام پرائیویٹ اور گورنمنٹ سکولوں میں قرآنی تعلیم لازمی کر دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پہلی جماعت میں نورانی قاعدہ پڑھایا جائے گا۔ دوسری جماعت میں پہلے دو پارے پڑھائے جائیں گے، تیسری جماعت میں 6پارے چوتھی جماعت میں اگلے 10سپارے پانچویں جماعت میں آخری 12پارے پڑھائے جائیں گے اور اسطرح ایک طالب علم پرائمری تک ناظرہ قرآن مکمل پڑھ لے گا اور چھٹی جماعت سے طلبا کو قرآن پاک کا ترجمہ شروع کروایا جائے گا اور بارہویں جماعت تک مکمل کر لیا جائے گا اور یہ تعلیم امتحانات کا حصہ نہیں بنے گی۔
پاکستان میں متعدد غیر سرکاری ادارے بھی اپنے مکاتب اور مدارس میں نورانی قاعدہ کی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں ۔پاکستان میں بھی متعدد ادارے نورانی قاعدے کی تدریس کے حوالے سے تربیتی کورسز کا انعقاد کرتے رہتے ہیں ۔ جمعیت تعلیم القرآن ٹرسٹ (کراچی )نے اس حوالے سے قابل قدر کام کیا ہے ۔ٹرسٹ جمعیت تعلیم القرآن کا بنیادی مقصد امت مسلمہ کے بچوں کو تجوید اور دست مخارج کے ساتھ ناظرہ حفظ القرآن پڑھانا اور ابتدائی دینی تعلیم و تربیت دینا ہے۔ ساتھ ہی اخلاق اور اصلاح پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ 1969ء سے ایک مکتب سے آغاز ہوا اور آج ا س کے صوبہ سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبر پختون خواہ، گلگت و بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاوہ ملک کی 72جیلوں میں 2000سے زائد مدارس ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد بچے، بچیاں، مرد، خواتین اور بچہ قیدی ٹرسٹ کے زیر اہتمام قرآن مجید کی تعلیم کے ساتھ ابتدائی تعلیم و تربیت حاصل کررہے ہیں۔ کراچی کی خواتین جیل میں ٹرسٹ کے شعبہ خواتین کے ذریعہ قیدی خواتین کو تعلیم القرآن دی جاتی اور ان کی اخلاقی تربیت کی جاتی ہے۔گزشتہ دنوں اڈیالہ جیل میں جمعیت تعلیم القرآن ٹرسٹ کے زیر اہتمام اسیران کا سالانہ امتحان ناظرہ قرآن پاک ، ترجمہ قرآن ، حفظ قرآن اور دیگر کورسزکے امتحان منعقد ہوئے جن میں 351 اسیران نے شرکت کی۔ سزائے موت کے چھ اسیران نے ترجمہ ، 15 نے ناظرہ کورس مکمل کیے۔ جمعیت کے زیر انتظام معلمین کے لئے طریقہ تدریس پر مبنی کورسز کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔ مکتب تعلیم القرآن (کراچی)کے زیر انتظام تربیتی نشستوں میں اساتذہ کو بلیک بورڈ اپر نورانی قاعدہ کی تدریس کی تربیت دی جاتی ہے ۔ قاری محمد غفران(جہلم)بھی متعدد مدارس میں یہ تربیتی کورسز جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بھارت کے بھی مشہور مدارس میں یہی قاعدہ نصاب کا حصہ ہے ۔ معروف عالم دین مولانا اسرار الحق( ایم پی اے) نے دارالعلوم اسراریہ، فقیر باڑہ میں خطاب کے دوران کہا کہ قرآن کریم سے دوری کی وجہ سے آج مسلمان ہر محاذ پر ناکامی سے دوچارہورہے ہیں ۔ریاستی وزیر و صدر جمعیة مولانا صدیق اللہ چودھری نے اپنے سبق آموز خطاب کے دوران کہا کہ اس مدرسہ کے کم عمر طلبہ نے علمائ، ائمہ اور ہزاروں کے مجمع میں ٹھوس یاد داشت اور صحت قواعد و مخارج کے ساتھ مختلف سوالا ت کے جوابات دیے ہیں جس سے قلبی خوشی ہوئی۔ انہوںنے کہا کہ شہر اور سہولتوں سے دور پس ماندہ آبادی میں قائم اس طرح کے اداروں پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ٹیپو سلطان مسجد کے امام مفتی عبدالشکور مظاہری نے کہایہاں نورانی قاعدہ اور تجوید کی رعایت کے ساتھ حفظ قرآن کا ٹھوس نظام ہے ۔
قوم وملت کے ہر فرد کو تجوید کے ساتھ قرآن مجید سکھلانے اور دین کی ابتدائی بنیادی باتوں سے واقف کرانے کی غرض سے شہر نظام آباد میں جید مفتیان کرام اور علماء وحفاظ پر مشتمل جماعت نے گذشتہ دوسال قبل اس تنظیم کی بنیاد ڈالی اور ریاست وشہر کے اکابرعلماء کی نگرانی میں اپنے تمام امور انجام دیتے ہوئے آج پورے شہر کے مختلف علاقوں میں 14سنٹرز قائم کیے۔ روزآنہ ایک گھنٹہ بعد نماز مغرب تا عشاء 269طلبہ وطالبات کو تجوید کے ساتھ نورانی قاعدہ وناظرہ قرآن کے علاوہ اسلامی جنرل نالج کی ضروری تعلیم کا انتظام ماہر اساتذہ کے ذریعہ کررہی ہے واضح رہے کہ اس ادارہ میں یونیفام اور فیس کا لزوم ہے گھر گھر جاکر دینی تعلیم پڑھانے کو یہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔
نورانی قاعدہ اس وقت ہندستان ، پاکستان ، افغانستان ، بنگلا دیش ، سری لنکا اور جنوبی افریقا میں پڑھایا جارہا ہے۔ انٹر نیٹ پر یورپ کے طلبہ وطالبات کو بھی قران سکھانے کے لیے اسی قاعدے کی مدد لی جاتی ہے ۔دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ انٹر نیٹ پر پڑھانے والے اساتذہ اکثر و بیشتر پاک و ہند سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے قاعدہ کو پڑھایا بھی اردو میں جاتا ہے ۔ جیسے” بَ ”کو با زبر بَ پڑھا یا جاتا ہے چاہے طالب علم کی مادری زبان کوئی بھی ہو۔نورانی قاعدہ کو دیگر عالمی اور زندہ زبانوں میں بھی منتقل کیا گیا اوراس پر مزید کام بھی جاری ہے۔ ادارہ اشاعت دینیات (دہلی) نے اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کیا ہے، جس سے انگریزی خواں طبقہ کو بہت سہولت ہو گئی ہے۔بھارت کے شہر چینائی میں ایک تنظیم نے اسے بریل کوڈ میں بھی شائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ تامل، گجراتی اور بنگلہ زبانوں میں بھی اس کے تراجم ہو چکے ہیں۔اب تک اسے دو لوگوں نے معمولی فرق کے ساتھ عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ پہلا عربی ترجمہ”قاعدة النور” کے نام سے 1415ھ میں مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاد سعید احمد عنایت اللہ نے کیا جو مکتبہ امدادیہ مکہ سے شائع ہوا، اس کے اب تک متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
دوسرا عربی ترجمہ”القاعدة النورانی” کے نام سے محمد فاروق الراعی ( پیدائش 1386ھ ) نے کیا ہے جو مصنف کے نواسے لگتے ہیں ۔ محمدفاروق کی والدہ ، قاری نور محمدکی پوتی ہیں ۔ انہوں نے 11سا ل کی عمر میں مدینہ میں حفظ قرآن کی سعاد ت حاصل کی ۔ محمدفاروق نورانی قاعدہ کی اہمیت سے آگاہ ہونے کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں : ”میں کچھ علماء سے ملا جو جدہ میں حفظ قرآن کے ایک مدرسہ کے مہتمم ہیں ۔ وہ کسی ایسی کتا ب کی تلاش میں تھے جو قرآن کریم ناظرہ سیکھنے میں معاون ثابت ہو ۔ دوسری جانب میں خود بھی دبئی میںایسے عرب افرادسے مل چکا تھا جو عرب ہوتے ہوئے بھی عربی کی بجائے انگریزی بولتے۔ وہ عربی پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی بول سکتے ہیں۔ میں نے اپنی والدہ سے مشاورت کی تو انہوںنے مجھے نورانی قاعدہ دیکھنے کا مشورہ دیا۔ جب میںنے اس کو دیکھا تو بہت ہی مسرور ہوا، یہ قاعدہ ہمارے بچوں کو عربی زبان میں ابتداکرنے میں بہت معاون ثابت ہوا۔ میں تب آج تک اس قاعدہ کی تدریس کررہا ہوں ۔ا س کے بعد میںنے اس قاعدہ کے بارہ میں شیخ ابراھیم الاخضر (مسجد نبوی) اور جدہ کے معروف قاری دکتور ایمن رشدی سوید سے بھی مشاورت کی ۔ انہوںنے بھی اس قاعدہ کو پسند کیاا ور اس کی تدریس جاری رکھنے کا حکم دیا۔ میں تب سے اپنے ادارے ”مرکز الفرقان لتعلیم القرآن” میں ا سں کی تدریس جاری رکھے ہوئے ہوں” ۔ محمد فاروق الراعی نے اس کا پہلا ایڈیشن 1419ھ میں طبع کیا، اس کے بھی اب تک متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ محمد فاروق الراعی اس حوالے سے مختصر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد بھی کرتے رہتے ہیں۔
قرآن مجید کو سیکھنے سکھانے کے لیے جو قاعدے مرتب کیے گئے ہیں، ان سب میں نورانی قاعدہ نہایت مقبول و معروف کتابچہ ہے ۔ کوئی شخص اگر اہل علم کو دین سکھلائے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مفتیان کرام کو بھی نورانی قاعدہ پڑھانے سے باز نہیں آتے۔قاعدے کی یہ مقبولیت متعدد وجوہ کی بناء پر ہے ۔ (1)نورانی قاعدے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ا س کے اسباق میں ایک تدریجی تسلسل موجود ہے ۔ سب سے پہلے الگ الگ حروف کی تختی ہے ۔ پھر حروف کو دوسرے کے ساتھ جوڑ کر ا س کی مختلف شکلیں واضح کی گئی ہیں۔ اس کے بعد اعراب والاحصہ شروع ہو جاتا ہے جس میں زیر ، زبر اور پیش شامل ہیں۔ اعراب والے حصے کو ہجے اور جوڑ والا حصہ کہا جاتا ہے ۔اس کے بعد جزم سکون ، شد اور مد کا حصہ شامل ہے ۔ آخر میں یہ تسلسل بڑھتا ہوا مشکل ترین الفاظ تک جا پہنچتا ہے ۔ان میں متعدد ایسے الفاظ بھی شامل ہیں جن کو جوڑ کر ہم اب تک ایک طریقے سے نہیں پڑھ سکتے ۔ ایک دفعہ ایک طریقے سے جوڑ کرتے ہیں اور دوسری دفعہ دوسرے طریقے سے۔ (2)مؤلف نے اس قاعدے میں تمام الفاظ قراٰن کریم سے لیے ہیں۔ اس کے برعکس بغدادی قاعدہ کے تما م الفاظ قرآن کریم سے نہیں لیے گئے بلکہ کچھ الفاظ تو ایسے بھی ہیں جو سرے سے عربی زبان میں ہی موجود نہیں ۔ (3) لیکن بغدادی قاعدہ کے مصنف کا نام وغیرہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کس کی تصنیف ا ور کاوش ہے۔اہل علم کے ہاں اصول ہے کہ علم اہل اور معروف لوگوں سے حاصل کرنا چاہیے ۔(4)نیز اس کی خصوصیت ہے کہ یہ تجویدی احکام کو بھی جامع ہے ۔ تجوید کے اہم مسائل اس قاعدہ کو پڑھنے کے بعد خود بخود زبان پر جاری ہو جاتے ہیں ۔لاہور سے تعلق رکھنے والے قاری سید حبیب اللہ شاہ نے ادارہ سادات کے زیر اہتمام نورانی قاعدہ کو رنگوں میں شائع کیا ۔ انہوں نے پہلی مرتبہ تجویدی قوانین کو رنگوں سے واضح کیا ۔راقم سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتلایا کہ” ہمارے اسا تذہ مختلف رنگوں کے قلموں سے تجویدی قوانین کی تفہیم کے لیے نشان لگا کردیا کرتے تھے ۔ جب میں نے تدریس کا آغاز کیا تو سوچا کہ اب کمپیوٹر کا زمانہ ہے ، کیوں نہ اس طرز تدریس کو کمپیوٹر کے ذریعے واضح کیا جائے ۔ چنانچہ میں نے دوستوں سے اس موضوع پر مشاورت شروع کردی لیکن اکثر اکثر نے اس منصوبے کی کام یابی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ البتہ میں نے ہمت نہ ہاری اورمیں اس سلسلے کو آگے بڑھاتا رہا۔ پھر جب رنگین نورانی قاعدہ شائع ہو کر عوام کے سامنے آیا تو ہا تھوں ہاتھ لیاگیا”۔ اس کے بعد یہ اشاعت مروج ہوگئی اور شہری علاقوں میں آج کل یہی اشاعت رائج ہے ۔
طلبہ کو نورانی قاعدہ پڑھانے میں مدد و سہولت کے لیے متعدد کتب بھی تصنیف کی گئی ہیں، خود مولف نے ایک کتاب تحریر کی تھی جس کا نام ”نورانی قاعدہ مع طریقہ تعلیم” رکھا۔ علاوہ ازیں ”طریقہ تعلیم” کے نام سے محمد بلال میرٹھی نے ایک کتاب لکھی ہے جو اسے پڑھنے پڑھانے والوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ نیز محمد عبد القادر جیلانی نے بھی ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام”نورانی قاعدہ کیسے پڑھیں اور پڑھائیں”ہے، یہ کتاب مکتبہ صدیقیہ (رائے ونڈ، لاہور) سے شائع ہوئی ہے۔