حضرت مولانا عبدالرشید خان بستوی: علم و عمل کی ایک ت ابندہ تصویر

مولانا شفیق احمد بستوی (فاضل دار العلوم دیوبند)

ہماری زندگی میں کچھ ایسی شخصیات نمایاں ہوتی ہیں جو اپنی گوناگوں خوبیوں اور ہمہ جہت کمالات کے سبب ہمارے ذہن و ضمیر میں اپنا انمٹ نقش چھوڑ جاتی ہیں، پھر وہ زمان و مکان کے فاصلاتی بُعد کے باوجود ہمہ وقت ہمارے ذہن و ضمیر کی دُنیا میں ایسی رچی بسی رہتی ہیں کہ اُن کو بھلایا نہیں جاسکتا اور بالخصوص جب کہ ان سے ذاتی نوعیت کی وابستگی اور تعلق داری قائم ہو، ایسی شخصیات کی جدائی اور ابدی مفارقت بلاشبہ سوہانِ رُوح بن جاتی ہے اور دل و دماغ ایک ناقابل بیان صدمہ و رنج کی کیفیت سے دو چار ہوجاتے ہیں، بعدازاں جب جب وہ یاد آئیں تو بس زیرلب دُعائیں اور سرد آہیں فقط قلب و رُوح کا ساتھ نبھاتی ہیں۔
کچھ اسی طرح کی شخصیت احقر کی زندگی میں حضرت مولانا عبدالرشید خان صاحب بستوی رحمة اللہ علیہ کی تھی جو تقریباً احقر کے ہم عمر اور ہم وطن و ہم زمانہ ہی صرف نہ تھے بلکہ بہت سے اساتذئہ کرام سے استفادہ میں بھی شریک تھے، خصوصاً وحید العصر و شیخ الادب دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا وحیدالزمان کیرانوی رحمة اللہ علیہ سے شرفِ تلمذ حاصل کرنے میں ہم دونوں ہی سابق و لاحق کے طور پر شریک رہے، یاد آتا ہے کہ غالباً ١٩٨٤ء میں انجمن تہذیب الکلام طلبہ ضلع بستی کے قلمی و علمی ترجمان ماہ نامہ ”عقاب” کی ایک ادارت مولانا عبدالرشید مرحوم کے پاس تھی اور انجمن کی نظامت احقر کے پاس تھی، اس دور سے ہی مولانا مرحوم اَدبی ذوق کا بہترین مظاہرہ فرمارہے تھے اور اچھوتے مضامین سپردِ قرطاس و قلم فرمارہے تھے، زمانۂ طالب علمی کا اِختتام ہوا تو احقر وطن سے دُور افتادگی کا ہدف ٹھہرا اور مولانا مرحوم تدریسی خدمات کی انجام دہی کے لیے دارالعلوم اسلامیہ بستی اور دارالعلوم ہوجائی آسام تشریف لے گئے، جہاں اُنہوں نے اپنی عمر عزیز کا ایک بیش قیمت اور طویل حصہ گزار کر بے شمار تشنگانِ علم دین کو اپنے علم و فن سے سیراب کیا، بعدازاں مادرِ علمی ازہرالہند دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات کے لیے تشریف لائے اور ایک زمانہ بھرپور جہد مسلسل کے ساتھ گزارا، جہاں اپنے کئی اساتذہ کرام کی معیت و شفقت سے بہرہ ور ہوئے اور پھر دیوبند ہی کے ہوکر رہ گئے، چناں چہ قدرتی اسباب کے تحت مولانا مرحوم حضرت العلام مولانا سیّد انظر شاہ کشمیری کے نو تأسیس عربی میڈیم ادارہ ”جامعة الامام انور شاہ دیوبند” میں اپنی خدمات کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے تشریف لے آئے اور پھر تاحیات اسی ادارہ سے وابستہ رہے۔ آج سے دس سال قبل احقر کو دیوبند کی حاضری کا موقع ہوا تو مولانا عبدالرشید کے ہاں ہی قیام رہا، اس موقع پر جامعة الامام انور شاہ دیکھنے کا بھی شرف حاصل ہوا، جہاں یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ درسِ نظامی کی مکمل تعلیم عربی زبان میں دی جارہی ہے یعنی دورانِ سبق افہام و تفہیم کی زبان خالص عربی ہے، چناں چہ اسی وجہ سے وہاں زیر تعلیم طلبہ کی عربی زبان بہت اچھی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں عصری تقاضوں کے پیش نظر انگریزی بھی سکھائی جاتی ہے، مولانا مرحوم اس ادارہ میں رہ کر حضرت علامہ سیّد انظر شاہ صاحب کشمیری کے سایۂ شفقت میں تدریسی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ اِدارہ کے قابل قدر وقیع مجلہ ماہ نامہ ”محدثِ عصر” کی اِدارت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے اور حضرت علامہ سیّد انظر شاہ کشمیری کے بعد ان کے صاحبزادئہ ذی وقار حضرت مولانا سیّد احمد خضر شاہ صاحب کشمیری مدظلہ کے دست راست رہے، مولانا مرحوم کے عربی اور اُردو مقالات مختلف جرائد و مجلات میں شائع ہوتے رہے۔
احقر سے مولانا مرحوم کا تعلق قلبی اور بڑا مثالی تھا۔ چناں چہ متعدد بار پاکستان تشریف لائے تو قیام احقر کے ہی غریب خانہ پر رہا، ایک سفر میں تو حضرت علامہ سیّد انظر شاہ کشمیری کے ہمراہ تشریف لائے تو بھی قیام کے لیے احقر کے غریب خانہ کو ہی ترجیح دی، جو کہ مولانا مرحوم کی احقر کے ساتھ قلبی وابستگی کی دلیل ہے۔ یہاں شہر کراچی کے مختلف مدارس و جامعات میں بھی مولانا کے بہت اچھے اور علمی بیانات ہوئے جن کی وجہ سے یہاں کافی لوگ مولانا مرحوم کو عقیدت و محبت سے یاد کرتے ہیں۔ مولانا نے احقر کی مسجد میں بھی کئی بار جمعہ کی نماز سے قبل بیان فرمایا جس سے لوگوں کو بڑا فیض پہنچا۔ بحمداللہ!!
یہاں دیارِ سندھ میں چند قدیم تاریخی مقامات ہیں جہاں مولانا کے ہمراہ احقر کو بھی جانے کا اِتفاق ہوا، چناں چہ ”دیبل” کا وہ تاریخی مقام جہاں محمد بن قاسم اپنی پوری جماعت سمیت کشتیوں سے اُترے تھے اور پھر سندھ کے مغرور و ظالم حکمراں راجہ داہر سے جنگ لڑی تھی، یہ ساحل ”دیبل” کے مقام پر ہے، جس کو اب ”بھنبھور” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مولانا کے ساتھ اس مقام پر جانا ہوا جہاں اب حکومت نے ایک تاریخی میوزیم بنادیا ہے، جس کو دیکھ کر تاریخی مطالعہ کے کچھ گوشے عیاں ہوتے ہیں، حضرت مولانا بڑی توجہ اور دلچسپی کے ساتھ وہاں کے تاریخی احوال و واقعات اپنی یادداشت کی ڈائری میں جمع فرماتے رہے، اندازہ یہ ہے کہ کم و بیش بیس سے پچیس صفحات کا مواد جمع کیا ہوگا، مگر کم قسمتی یا قسمت کی ستم ظریفی کہیے کہ جب مولانا مرحوم یہاں سے حضرت شاہ صاحب کے ہمراہ کراچی سے دہلی کی پرواز پر تشریف لے گئے تو دہلی اِیئر پورٹ پر مولانا مرحوم کا وہ بیگ بھی نہیں مل سکا جس میں وہ تاریخی احوال پر مشتمل مواد اکٹھا کیا تھا، مولانا مرحوم کو اس کا بڑا افسوس بھی ہوا۔ بہرحال یہ بھنبھور کا تاریخی مقام حضرت مولانا مرحوم نے بڑی دلچسپی سے دیکھا، محمد بن قاسم کے ہاتھوں تعمیر کی گئی طویل و عریض مسجد کی باقیات اور قطعۂ بھنبھور کے کھنڈرات اور دیبل کا ساحل بڑی تسلی اور اِطمینان کی کیفیت میں دیکھا، پھر ہم نے ٹھٹھہ شہر کی شاہ جہانی مسجد دیکھی جو کہ شاہ جہاں بادشاہ نے تعمیر کروائی ہے، یہ بھی دہلی اور لاہور کی شاہی مسجدوں کی طرح شاہی مسجد ہے جو فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔ ہم مولانا کے ساتھ ضلع ٹھٹھہ کے ایک تاریخی قصبہ میں گئے جہاں دیوبند کے رُوحانی آثار و انوار محسوس ہوتے ہیں، جس کا نام ”سونڈہ” ہے، یہاں کی جامع مسجد میں ایک حجرہ ہے جس میں حضرت شیخ الہند نے دورانِ سفر قیام فرمایا تھا، اسی بنا پر اس کے دروازہ کے اُوپر ”حجرئہ شیخ الہند” کی تختی لگی ہوئی ہے، یہاں دارالعلوم دیوبند کے چند فضلا آج سے تقریباً ڈیڑھ صدی قبل تشریف لائے تھے جو زمانہ کے اعتبار سے کچھ متقدم و متأخر تھے، تاہم یہ سب لوگ دارالعلوم دیوبند کے اِبتدائی یا پہلی نصف صدی کے فضلا کرام تھے، کیوں کہ ان حضرات کی جو اکابر دارالعلوم سے مکاتبت و مراسلت ہوئی اس کے خطوط اور تحریری مواد تاہنوز محفوظ ہیں، جنہیں راقم الحروف نے دیکھا ہے، ان خطوط میں حضرت مولانا رفیع الدین اور حضرت شیخ الہند اور بعد کے مشائخ و اکابر کے خطوط ان کے دستخطوں کے ساتھ ہیں، اس حجرہ اور مسجد میں واقعتا اللہ والوں کے انوار و برکات محسوس ہوتے ہیں۔
اس قصبہ سے ملحقہ قبرستان میں ایسے آثار نمایاں ہیں جو اِسلام کی اِبتدائی صدیوں کی علامات معلوم ہوتے ہیں، چناں چہ حضرت مولانا عبدالرشید کے ہمراہ ہی اس قبرستان میں جاکر دیکھا تو قبروں پر لگے ہوئے پتھروں، نیزے، تلواروں اور ڈھال کے نقوش کندہ ہیں، جنہیں دیکھ کر ماہرین آثارِ قدیمہ یہی کہتے ہیں کہ یہ قبرستان اور اس سے ملحقہ میدان محمد بن قاسم ثقفی اور راجہ داہر کے مابین برپا ہونے والے ایک معرکہ کی جگہ اور میدان ہے اور اس میں شہید ہونے والے لوگ یہیں مدفون ہیں، اس زمانہ میں یہ رواج تھا کہ جہادی معرکوں میں شہید ہونے والوں کی قبروں پر آلاتِ حرب کے نقش کندہ کردیئے جاتے تھے۔
مولانا عبدالرشید بستوی کے ہمراہ اندرونِ سندھ کے ایک قدیم شہر نصرپور جانا ہوا، جہاں احقر پہلے بھی جاچکا تھا مگر مولانا مرحوم کی معیت میں جاکر ایک علمی فائدہ ہوا کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی کہ یہ نصر پور وہ تاریخی شہر ہے جہاں اِسلام کی اِبتدائی صدیوں میں چار سو محدثین تھے، علاوہ ازیں بڑے بڑے فقہا اور علما بھی گزرے ہیں، جن میں سے کئی حضرات اصحابِ تصانیف کثیرہ ہیں، یہ بات مولانا مرحوم کے ذریعہ معلوم ہوئی اور مزید ایک بات یہ بھی مولانا نے تاریخی حوالوں سے بتائی کہ نصر پور ہی وہ جگہ ہے، جہاں ہاتھوں سے ٹائلیں بھٹی میں تیار کی جاتی ہیں، جو کہ ہند و پاک و اِیران اور دیگر اِسلامی ریاستوں میں بنی ہوئی تاریخی عمارات میں اِستعمال ہوئی ہیں، حتیٰ کہ ٹھٹھہ کی شاہی مسجد میں جو ٹائلیں نیلی و سفید رنگت والی لگی ہوئی ہیں، وہ ساری اسی نصر پور کی بھٹیوں میں تیار ہوئی ہیں، چناں چہ ہم اپنے میزبان مولانا ڈاکٹر تاج محمود قاضی صاحب کے ساتھ ایک بھٹی دیکھنے کے لیے گئے، جہاں یہ ٹائلیں تیار ہوتی ہیں، بھٹی والے نے خاطر داری کرتے ہوئے ہمیں ایسی دو ٹائلیں ہدیہ میں پیش کیں جن میں سے ایک پر لفظ ”اللہ ” اور دوسری پر لفظ ”محمد” لکھا ہوا تھا اور اس نے بتایا کہ یہ ٹائل سازی کی صنعت نصر پور میں صدیوں پرانی صنعت ہے، یہاں سے کئی ممالک میں یہ ٹائلیں جاتی ہیں اور زمانۂ ماضی میں بھی جاتی تھیں۔
یہ چھوٹا سا شہر نصر پور عہد رفتہ کی ایک یادگار اور ہمارے اِسلامی علوم و فنون کی عظمت و برتری کی پُرانی تصویر ہے جس میں ہم اگر غورو خوض کریں تو بہت ساری علمی تحقیقات کے گوشے عیاں ہوں گے۔ میں نے مولانا عبدالرشید بستوی کو وہاں پہنچتے ہی یہ کہا: مولانا یہاں کی زمین کا پانی بہت ہی شان دار، شیریں اور شفاف ہے، یہ بات ایک مجلس میں ہوئی تو نصر پور کے ہمارے میزبان ڈاکٹر مولانا تاج محمودقاضی صاحب نے بتایا کہ جے پور کے راجہ مان سنگھ کے پینے کے لیے پانی یہیں نصر پور سے سواریوں پر لے جایا جاتا تھا، میں نے اس پانی کی شیرینی اور شفافیت کا سبب جاننے کے لیے سوال کیا تو بتایا گیا کہ دریائے سندھ کسی زمانہ میں یہیں سے گزرتا تھا، جہاں اب نصر پور کی آبادی کا بڑا حصہ آباد ہے، رفتہ رفتہ دریا نے اپنا راستہ کافی دُور کرلیا ہے جو کہ دریائی بہائو کے لیے قدرتی عمل ہوتا ہے۔
حضرت مولانا عبدالرشید بستوی کو اندرونِ سندھ کی کچھ مزید تاریخی جگہوں کو دیکھنے کا شوق تھا تو ہم نے ایک دن مولانا کے ساتھ لمبے سفر کا پروگرام بنایا، چناں چہ ہم کراچی سے چل کر نوشہرہ فیروز ضلع کے ایک شہر کنڈیارو پہنچے، جہاں دو جلیل القدر علمی شخصیتوں سے ملاقات ہوئی حضرت مولانا محمد قاسم سومرو اور ان کے صاحبزادہ مولانا ڈاکٹر محمد ادریس سومرو جو کہ آج کل اسلامی نظریاتی کونسل آف پاکستان کے ممبر بھی ہیں۔ ایک رات ہم نے ڈاکٹر سومرو صاحب کے گھر پر قیام کیا اور ان کے والد ماجد مولانا قاسم سومرو صاحب مدظلہ کے گھر قائم اُن کی ذاتی لائبریری دیکھی، جس میں ہزاروں کتب و رسائل کا ذخیرہ موجود ہے۔ ڈاکٹر سومرو نے بتایا کہ انہوں نے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنے کے لیے ١٩٤٧ء سے لے کر مقالہ لکھنے کے زمانہ غالباً ٢٠٠٠ء تک کے سندھی زبان میں جتنے رسائل شائع ہوئے ہیں، سب کا ذخیرہ اکٹھا کیا جن کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے، یہ لائبریری قاسمی لائبریری کے نام سے موسوم ہے، جس سے کافی اہل تحقیق و ریسرچ استفادہ کرتے ہیں۔
ہم دُوسرے دن صبح کو ناشتہ کرکے شکارپور اور پھر اس کے آگے شہداد کوٹ ”سیرت لائبریری” کی زیارت کے قصد سے نکلے۔ سکھر سے جب شکارپور کے راستہ پر گامزن ہوئے تو کچھ دیر بعد ایک مقام آیا جہاں مولانا ادریس سومرو صاحب نے مولانا عبدالرشید بستوی کو بتایا کہ اس مقام پر ہم کچھ دیر رُکنا چاہتے ہیں، کیوں کہ یہاں چند قبریں ہیں جن کے بارے میں اہل علم لوگوں میں معروف ہے کہ یہ حضرات صحابہ کرام کی قبریں ہیں، مگر ان کے نام صراحت کے ساتھ ہمارے علم میں نہیں ہیں، چناں چہ ہم لوگ گاڑی سے اُترے اور ان پانچ قبروں کے پاس پہنچے تو وہاں کچھ مزید قبریں بھی تھیں جو ان کے خاندان کے دیگر افراد کی قبریں بتائی جاتی ہیں، بالکل ہی سادہ جگہ دائیں بائیں جنگلی درختوں کی موجودگی کچھ عجیب سی وحشت ناکی کا نقشہ کھینچ رہی تھی، مگر سچ یہ ہے کہ اس جنگل میں بھی ان نیک نفوسِ قدسیہ کی موجودگی کے سبب بڑے انوارات محسوس ہوئے، وہاں ہم کچھ دیر فاتحہ خوانی کرنے کے بعد شکارپور کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ بھی پاکستان کا ایک معروف مگر چھوٹا سا شہر ہے، یہاں کی کوئی قابل ذکر خاص چیز تو ہمیں نہیں معلوم؛ البتہ یہاں اچار سازی کی صنعت پورے ملک میں مشہور ہے، چناں چہ درجنوں قسم کے اچار یہاں بنائے جاتے ہیں جن میں گوشت کا اچار، مچھلی کا اچار اور تمام ہی اقسام کی سبزیوں کے اچار یہاں بنائے جاتے ہیں، بہرحال آگے چل کر ہم لوگ عصر کے قریب شہداد پور پہنچے۔ ”سیرت لائبریری” کے قریب ہی مسجد میں نماز ادا کی گئی، پھر سیرت لائبریری میں داخل ہوئے، یہ لائبریری بھی قاسمی لائبریری کے برابر یا اس سے کچھ بڑی ہوگی، اس کی خاص بات کتب سیرت کا ذخیرہ ہے۔ چناں چہ لائبریری کے مالک نے ہند و پاک میں شائع ہونے والی سیرتِ پاک پر ہر کتاب بلاامتیاز مکتب فکر اپنے اس ذخیرہ میں اکٹھا فرمائی ہوئی ہے۔ مولانا عبدالرشید صاحب کا تعارف ڈاکٹر ادریس سومرو نے کرایا تو اِتفاق سے ”رجال السند والہند” کا ترجمہ جو مولانا موصوف نے کیا اور احقر کے اِدارہ سے شائع ہوا ہے وہ بالکل قریب ہی رکھا ہوا تھا تو مالک سیرت لائبریری مولانا کی ملاقات سے بہت خوش ہوئے۔ احقر کے لیے یہ معلوماتی سفر مولانا عبدالرشید بستوی کی برکت سے ہوا، وقت کی کمی تھی ورنہ اندرونِ سندھ کی کچھ قدیم تاریخی جگہیں بھی مولانا دیکھتے جاتے، مگر مولانا فرماتے کہ چلیں بقیہ مقامات کی زیارت ان شاء اللہ! آئندہ سفر میں کریں گے۔
مولانا مرحوم نے احقر کی خواہش پر ”رجال السند والہند” کا ترجمہ فرمایا۔ اسی طرح شیخ عبدالفتاح ابوغدہ رحمة اللہ علیہ کے ایک رسالہ کا ترجمہ ”اِسلامی آدابِ زندگی” کے نام سے فرمایا، یہ دونوں احقر کے مکتبہ خدیجة الکبریٰ، اُردو بازار، کراچی سے شائع ہوئے ہیں، علاوہ ازیں مولانا کی تالیف ”امثال و محاورات” عربی، اُردو، اسی طرح ”درحدیث دیگراں” بھی شائع ہوکر مقبولیت پاچکی ہیں، مولانا کی چند کتب احقر کے پاس کمپوز شدہ طباعت کے لیے تیار صورت میں موجود ہیں، ان شاء اللہ! اُن کو بھی شائع کیا جائے گا، ان میں ”امثال و محاورات” اُردو سے اُردو، ”شہرِ رسول” شامل ہیں، ان کتب و مسودات کے تذکرہ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مولانا مرحوم کا احقر سے کیسا سچا اور علمی ذوق کا تعلق تھا۔
یہاں شہر کراچی میں مولانا عبدالرشید بستوی سے محبت و عقیدت کا تعلق رکھنے والے حضرات کافی سارے ہیں، ان میں سے چند قابل ذکر شخصیات یہ ہیں: حضرت الاستاذ مولانا مفتی عبدالرؤف خان غزنوری مدظلہ جو کہ مولانا عبدالرشید بستوی کے زمانۂ تدریس دارالعلوم میں خود بھی مدرّس تھے، یہاں دورانِ سفر مولانا مرحوم سے بڑی محبت اور شگفتہ مزاجی کا برتائو فرمایا، گھر پر کھانے کی دعوت اور ہدیہ و تحفہ کی صورت میں شفقت و محبت کا اِظہار فرمایا، جب حضرت غزنوی صاحب مدظلہ کو مولانا مرحوم کے اِنتقالِ پُرملال کی خبر ملی تو بڑی افسردگی اور غم و رنج کی حالت محسوس کی اور کافی دیر تک مولانا مرحوم کا تذکرہ فرماتے رہے، یہاں جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹائون میں بخاری شریف جزو ٢ کا سبق پڑھاتے ہیں، حضرت نے سبق کے دوران طلبہ کے سامنے مولانا مرحوم کا متعدد بار تفصیل سے ذکر کیا اور ان کے لیے طلبہ کے ساتھ اِیصالِ ثواب اور دُعائے مغفرت کا اہتمام فرمایا۔ واضح رہے کہ کراچی کی مقتدر دینی درس گاہوں میں جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹائون کا شمار صف اَوّل میں ہوتا ہے، دورئہ حدیث میں تقریباً چھ سو طلبہ ہوتے ہیں۔ اس کے بانی و مؤسس محدث العصر حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوری؛ صاحب ”معارف السنن” ہیں، جو کہ حضرت امام العصر علامہ سیّد محمد انورشاہ کشمیری کے اجل تلامذہ میں سے ہیں۔
اسی طرح جناب حضرت قاری عبدالستار صاحب محمود کوٹی مدظلہ بھی مولانا مرحوم سے بڑا قلبی اور عقیدت مندانہ تعلق رکھتے ہیں، موصوف شعبۂ حفظ و تجوید میں مہارتِ تامہ کے علاوہ حفظ و ناظرہ اور قاعدہ کے شعبوں میں تعلیم کے ساتھ تربیت کی محنت بہت شان دار طریقہ سے کررہے ہیں۔ چناں چہ موصوف نے ”تحفة المدرسین”، ”تجوید کی اہمیت” اور ”فیض رحمانی یعنی طریقۂ تدریس قاعدہ نورانی” جیسی بیش قیمت کتابیں تالیف فرمائی ہیں اور ان پر مولانا مرحوم کے قلم سے تقاریظ موجود ہیں۔ قاری صاحب تجوید و قرأت کی تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ تربیت کا بڑا عمدہ اور طویل تجربہ رکھتے ہیں، مختلف مدارس و جامعات میں تدریسی دورۂ جات کا اہتمام فرماتے ہیں، جن سے مدرّسین کو بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ آج کل حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی مسجد خاتم النبیین میں تدریس و تربیت کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مولانا کے اِنتقال کی خبر سن کر حیرت و افسوس کی گویا تصویر بن گئے اور بتانے لگے کہ مولانا مرحوم سے میری تقریباً ہر مہینہ ٹیلی فون پر گفتگو ہوتی تھی، قاری صاحب نے اپنے مدرسہ میں اور تلامذہ سے اُن کی درس گاہوں میں مولانا مرحوم کے لیے قرآنِ کریم پڑھواکر اِیصالِ ثواب کا اہتمام کیا اور دیگر تلامذہ سے بھی کرایا، ہمارے ادارہ میں بھی مولانا کے اِیصالِ ثواب کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت اور دُعاکا اہتمام کیا گیا۔
مولانا مرحوم کی معیت میں ایک علمی لطیفہ اس وقت سننے اور دیکھنے کا موقع ہوا، جب کہ راقم الحروف مولانا بستوی کو ایک بڑے عالم دین مفسر قرآن و محدث ذی شان سے ملاقات کرانے لے گیا تو مولانا نے مذکورہ عالم دین بلکہ علامہ صاحب سے دورانِ گفتگو ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جی ہاں حضرت علامہ کشمیری کی سیرت و سوانح پر ایک کتاب احقر نے لکھی ہے، جس کا نام ”علامہ انور شاہ کشمیری کی ہشت پہلو شخصیت” ہے، تو وہ علامہ صاحب بول پڑے کہ ہشت پہلو کے بجائے درست تعبیر ”ہشت جہت” ہے۔ مولانا مرحوم نے پلٹ کر جواب دیا کہ حضرت اُردو لغت میں ”ہشت پہلو” ہی دُرست ہے نہ کہ ”ہشت جہت” مگر علامہ صاحب نے اس کو تسلیم نہ کیا، وہ بزعم خویش اُردو دانی میں مہارت رکھتے ہیں، حالاں کہ وہ صاحب زبان بھی نہیں ہیں، بلکہ پشتو زبان والے ہیں، خیر ہم اس ملاقات سے فارغ ہوکر رات کو واپس آگئے۔ مولانا کا قیام احقر کے آفس میں تھا، جہاں ٹیلی فون لگا ہوا تھا، جب صبح ہم نے فجر کی نماز ادا کرلی تو احقر نے فیروز اللغات اُردو میں ”ہشت پہلو” کی تعبیر دیکھی تو وہاں درج تھی، لیکن ”ہشت جہت” والی تعبیر قطعی طور پر نہیں ملی، تو میں نے مولانا سے عرض کیا کہ رات کو علامہ صاحب اپنی اُردو دانی پر ناز کرتے ہوئے ”ہشت جہت” والی تعبیر کی دُرستگی پر مصر تھے، حالاں کہ ان کی تعبیر تو اُردو لغت میں ہے ہی نہیں! تو مولانا نے بتایا کہ رات واپس آتے ہی میں نے لغت میں یہ تعبیر دیکھ کر علامہ صاحب کو رات ہی فون کر دیا تھا کہ دُرست تعبیر ”ہشت پہلو” ہی ہے، مجھے یہ سن کر بڑا تعجب ہوا کیوںکہ علامہ صاحب اصلی پٹھان اور گرم مزاج والے ہیں، عام طور پر ان سے لوگ بے تکلف بات کرنے کا حوصلہ نہیں کر پاتے، مگر مولانا عبدالرشید بستوی نے ان علامہ صاحب کو ”قائل و قانع کرکے چھوڑا” دراصل یہ علامہ صاحب حضرت علامہ انور شاہ کشمیری سے بڑی عقیدت رکھتے ہیں، چناں چہ اُنہوں نے بیٹے کا نام انور شاہ رکھا ہے، چوں کہ یہ علامہ بنوری کے شاگردِ رشید ہیں، اس لیے علامہ کشمیری سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔
مولانا مرحوم کے لیے یہاں اندرونِ سندھ اور پنجاب کے مختلف مدارس میں دُعائوں اور اِیصالِ ثواب کا سلسلہ رہا اور کئی لوگ تعزیت کے جذبہ سے احقر سے فون پر رابطہ کرتے رہے، چند بار مولانا نے پاکستان آکر محبتوں کی وہ سوغات لوگوں میں تقسیم فرمائی کہ یہاں دورانِ قیام اجنبیت کا قطعی احساس نہیں ہوتا تھا اور مولانا بھی اپنائیت محسوس کرتے تھے۔ مولانا کے ایک ہم سبق اور بے تکلف دوست بھی ایک مدرسہ کے مدیر و مہتمم ہیں جنہوں نے دورئہ حدیث مولانا کے ساتھ ہی دارالعلوم دیوبند سے کیا ہے، وہ مولانا اسعد زکریا قاسمی صاحب ہیں۔ موصوف بھی مولانا کے اِنتقال سے بڑے غمزدہ ہوئے اور اپنے مدرسہ میں اِیصالِ ثواب کا اہتمام کیا۔ اسی طرح ایک برمی نژاد فاضل دیوبند بھی مولانا کے درسی ساتھی یہاں کراچی میں ہی مقیم ہیں اور ایک مدرسہ البنات چلارہے ہیں اور دیگر مدرسہ میں تدریس فرماتے ہیں ان کا نام نورحسین قاسمی ہے۔ موصوف نے بھی بڑے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے گراں قدر دُعائوں سے مولانا مرحوم کو یاد کرتے رہے۔
مولانا مرحوم کی شخصیت سادگی، سنجیدگی، متانت کے ساتھ خوش طبعی اور ہمہ وقت علم دوستی سے عبارت ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی ہمہ جہت علمی و قلمی مشغولیات کے تناظر میں اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ تدریس کے ساتھ ساتھ صحافتی خدمات، ترجمہ و تالیف کے کام کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں میں دروس و مواعظ کا سلسلہ بھی قائم رکھتے تھے، کئی مدارس و جامعات کے مشیر ایڈوائزر کی حیثیت سے بھی کام کرتے تھے۔ بہرحال! اللہ رب العزت نے مولانا مرحوم سے علمی حلقوں میں بڑا گراں قدر کام لیا ہے اور احقر یہ اُمید کرتا ہے کہ مولانا بستوی کے علمی و قلمی کارنامے اور خدمات ان کے لیے عظیم صدقہ جاریہ ہیں اور آخرت کے لیے بہترین ذخیرہ ہیں، ملک و بیرون ملک پھیلے ہوئے مولانا کے سینکڑوں تلامذہ بھی ان کا علمی سرمایہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں احقر دست بہ دعا ہے کہ وہ اپنی شانِ کریمی کے صدقہ مولانا مرحوم کو بھرپور اعزاز و اکرام سے نوازے اور تمام تر صغائر و کبائر کو معاف فرماکر رفع درجات سے ہمکنار فرمائے اور آخرت کی تمام منازل میں کامرانی و سرخ روئی عطا فرمائے اور جملہ پسماندگان بالخصوص اہلِ خانہ اور تمام اعزہ و اقربا کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین!
ایں دُعا از من واز جملہ جہاں آمین باد

آج کا مولوی اور انگریزی

ڈاکٹر محمد عبید اللہ قاسمی

اب طنز کرنے والوں کی زبانیں گونگی ہوگئیں کیونکہ جن پر طنز کیا جاتا تھا انہیں وہ زبان آگئی جن کے نہ آنے سے انہیں کسی دوسرے سیارے کی نامانوس مخلوق، دقیانوس، تنگ نظر، نابالغ الفکر، طرزِ کہن کا اڑیل، ذہن ودماغ کا سڑیل، زمانے کی گردشوں سے ناواقف، تہذیبِ نو سے نابلد، جدید فلسفہِ حیات سے نا آشنا، اور دنیائے عجم کا ابو العجم، مغرب کے آسمانِ فکر وفن تک رسائی نہ کرسکنے والا، گوروں کی زبانِ انگریزی سے جاہل سمجھا جاتا تھا۔ آج وہ گونگی مخلوق آسمانِ انگریزی پر کمندیں ڈال رہی ہے، اسے سیکھ رہی ہے اور اس انداز سے سیکھ کر اس پر قدرت حاصل کررہی ہے، فراٹے دار تقریریں کر رہی ہے، ان کے قلم سے انگریزی مضامین اور تحریریں ڈھل ڈھل کر نکل رہے ہیں کہ ملامت کرنے والے اب یہ زبان ان کی زبان سے سنکر اپنے دانتوں میں انگلیاں دبائے جارہے ہیں۔ کل تک جو بھانت بھانت انداز سے طعنہ زن تھے آج وہ مہر بلب ہیں۔ کل تک جو یہ کہتے تھے کہ مولوی کی کھونپڑی میں اتنی طاقتِ پرواز نہیں اور اس کے منھ میں ایسی زبان نہیں جو انگریزی جیسی عظیم الشان زبان کے تکلم اور اداء پر قادر ہو آج وہ اپنی اس بچکانہ ادا پر پشیمان ہیں اور اپنے کہے پر منھ چھپا رہے ہیں۔ انہوں نے اب دیکھ لیا کہ یہ مولوی قوم جب انگریزی سیکھنے پر آئی تو اس میدان میں بھی اپنا لوہا منوالیا۔ انگریزی میں بہتیرے رسالے نکال ڈالے، مقالے رقم کر دیے، کتابوں پر کتابیں لکھ ڈالیں، کتابوں کے انگریزی ترجمے شائع کردیے، عصری یونیورسٹیوں تک میں جا جا کر انگریزی میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کے تمغے اٹھا لے آئے، سات سمندر پار انگریزوں کے ملکوں تک میں جاکر ان کے بچوں کو نہیں چھوڑا اور انہیں انگریزی پڑھاکر ہی دم لیا، امریکہ وافریقہ کے ملکوں میں مسجدوں کے منبروں سے انگریزی میں اپنے جوہرِ خطابت سے دھوم مچادی۔ بعضوں کو یہ حیرت ستارہی ہے کہ ایسا محض دو سالوں کی تعلیم میں کیسے ممکن ہوگیا۔ انہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ مدرسوں کی تعلیم جس محنت، جذبے، جاں فشانی سے یہ حاصل کرتے ہیں اور مدرسے کا نصاب انہیں رگڑ رگڑ کر جس طرح کندن بنادیتا ہے ان کے لئے انگریزی سیکھ لینا اور اس میں مہارت حاصل کرلینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ مدرسوں کی عربی گردانوں کی تعلیم نے انہیں tenses پر کمانڈ حاصل کرنے کا طریقہ سکھادیا، عربی الفاظ ومعانی کو یاد کرنے کی مشق نے انگریزی vocabulary کی تحصیل کو بازیچہِ اطفال بنادیا، عربی جملوں کی تراکیب کی مہارت نے گرامر کی غلطیوں سے فانوس بن کر حفاظت کردی، عربی کتابوں میں حفظِ تعبیرات کی خُو نے انہیں idioms اور phrases کا خوگر بنادیا، ہفت اقسام (معتل،لفیف،ناقص وغیرہ) کے تحلیل وتجزیے نے انگریزی الفاظ اور ان کے مشتقات میں جھانک کر ان کی اصلیت کو پہچاننے کا skill فراہم کردیا، عربی کے صلات سے واقفیت نے انگریزی کے نازک نگینہِ preposition کو سنبھالنے کا سلیقہ سکھادیا، مدرسوں کے عربی گرامر نے انگریزی گرامر کے چیلنجز کو چٹکیوں میں حل کردیا۔ آخر کوئی تو وجہ تھی کہ کیمبرج یونیورسٹی نے اپنے celta کورس کی سرٹیفکیٹ میں گرامر میں امتیازی حیثیت اپنے لندنی اسٹوڈنٹ کو لکھ کر نہیں دی، دہلی یونیورسٹی کے سینٹ اسٹیفن کالج کے انگریزی گریجویٹس کو نہیں دی بلکہ دار العلوم دیوبند کے دو فرزندوں کو یہ اعزاز بخشا۔ شاید یہی وجہ ہو کہ وقت کے حکیم الامت بھی فرما گئے کہ اگر عربی کو اسلام کے لئے نہیں پڑھنا چاہتے ہو نہ پڑھو، اسے انگریزی کو بہتر کرنے کے ارادے سے ہی پڑھ لو تب بھی بڑا فائدہ ہوگا کہ عربی کی استعداد انگریزی کی استعداد کو بہتر کرنے کے لئے بے حد مفید ہے۔ اس کا عملی تجربہ دار العلوم دیوبند کے فرزند ادارہ مرکز المعارف نے کرکے دکھادیا۔ محض دو سال کی مختصر مدت میں انگریزی کے حروف تک سے ناواقفوں کے لئے انگریزی کی اعلیٰ تعلیم کو ممکن بنا دیا۔ بعدہ دار العلوم دیوبند نے اس تجربے سے فائدہ اٹھاکر ایسی طرح ڈالی اور اس انداز میں آواز بلند کی کہ اب ملک کے تمام بڑے ادارے اس ضرورت کو تسلیم کرکے انگریزی کو فتح کرنے، اس میں دعوتِ دین کا کام کرنے، اسلام کا دفاع اور اشاعت کرنے، دینی کتابوں کا ترجمہ کرنے کی جانب متوجہ ہوگئے اور اپنے اداروں میں، اپنی سرپرستی میں انگریزی کا دوسالہ کل وقتی کورس شروع کردیا اور انگریزی زبان وادب کے شعبے قائم کرنے میں دلچسپی لینے لگے۔ بانیِ دار العلوم حضرت نانوتوی کا خواب، حضرت تھانوی کی خواہش، علامہ انور شاہ کشمیری کی نصیحت اور دار العلوم دیوبند کے اراکینِ شوریٰ کی 119 سالہ پرانی تجویز میں اب رنگ بھرے جانے لگے ہیں اور الحمد لله نوجوان فارغینِ مدارس کی کھیپ انگریزی زبان سے مسلح ہوکر میدانِ عمل میں آرہی ہے۔ خدا کرے کہ اس سلسلے پر کبھی خزاں نہ آئے اور کبھی اس میں ضعف پیدا نہ ہو، انگریزی سے لیس یہ قافلے دین کے دفاع کے کام کرسکیں اور ان میں اخلاص اور جذبہِ دین ہمہ دم قائم رہے! جن لوگوں نے یہ خواب دیکھے تھے، اس کی طرف متوجہ کیا تھا اور جنہوں نے عملی طور پر اس کی بنیاد ڈالی تھی ان کو اپنی شایانِ شان جزائے خیر مرحمت فرمائے!

نورانی قاعدہ

حامد محمود راجا

قاری نور محمد حقانی 1272ھ مطابق 1856ء کو لدھیانہ میں پید اہوئے ۔یہ شہر موجودہ بھارتی پنجاب کا حصہ ہے جو لودھی سلطنت کے دوسرے حکمران سکندر لودھی (وفات: 21 نومبر 1517ء ) کی طرف منسوب ہے۔یہ لودھی خاندان سے تعلق رکھنے والے بہلول لودھی کے بیٹے اور جانشین تھے۔سکندر لودھی کا دور حکومت 17 جولائی 1489ء تا 21 نومبر 1517ئ( 28 سال 4 ماہ 4 دن) پر محیط ہے ۔قطب مینار کی بالائی دو منزلیں سکندر لودھی نے تعمیر کروائیں۔سکندر لودھی علم وادب کے رسیا تھے۔ انہوں نے حکام کا انتخاب ذاتی قابلیت کے بنا پہ کیا لہذا اعلی عہدوں کے حصول کے لیے ہندوؤں نے فارسی زبان سیکھنا شروع کردی۔ وہ ایک قابل، عقل مند اور عادل بادشاہ تھے۔ صوفیا کرام کا خاص ادب کرتے۔ اپنے لیے مراتب نہ لیتے، بادشاہ ہو نے کے باوجود عام گھوڑے پہ سواری کرتے اور سادگی اختیار کرتے سخاوت اُن کی عادت تھی اور متانت مزاج کا حصہ۔ سکندر لودھی،لودھی باغ دہلی میں مدفون ہیں۔ اُن کا مقبرہ اُن کے بیٹے ابراہیم لودھی نے تعمیر کروایا۔
سکندر لودھی کا بسایا شہر”لدھیانہ” اپنے علماء کے لیے معروف رہا ہے ۔ لدھیانوی نسبت کے علماء کی ایک بڑی تعدادنے برصغیر پاک وہند میں شہرت پائی ۔پاکستان میں جامعة الرشید کے بانی مفتی رشید احمد لدھیانوی اور مولانا یوسف لدھیانویشاید اس نسبت کے حامل علماء میں آخری بڑے نام تھے ۔ یہ خطہ جنگِ آزادی 1857کے مجاہدین کے حوالے سے بھی معروف رہا ہے ۔( عہماء امجاہدین کی فہہرست ۔) اس مردم خیز خطہ کے موضع مانگٹ میںمحمد علی لدھیانوی کے ہاں نور محمدکی پیدائش ہوئی۔ قاری نور محمد نے اپنی ابتدائی تعلیم لدھیانہ کے مدارس سے حاصل کی جب کہ اعلی سطحی تعلیم کے لیے انہوں نے دہلی ، کان پور اور لکھنؤ کے مدارس کا رخ کیا ۔ قاری نور محمد نے حدیث کی تعلیم مولانا احمد علی سہارن پوری اور مظہر علی نانوتوی سے حاصل کی ۔ قاری نور محمد کے والدعلی محمد لدھیانوی نے بنات (طالبات) کا ایک مدرسہ بھی قائم کیا تھا۔ جب اس کی دیکھ بھال قاری نور محمدحقانی کے ہاتھ میں آئی تو انہوںنے اس کا نام مدرسہ حقانیہ تجویز کیاجو تعلیم قرآن، تربیت اور افراد سازی میں مثالی نمونہ تھا۔ اس زمانے میں عیسائی مشنریاں اپنی ارتدادی سرگرمیوں میں بڑے زورو شور سے مصروف تھیں جس کا مقابلہ علماء نے بھر پور طریقے سے کیا ۔ قاری نور محمد نے بھی اس مدرسہ کے ذریعے ان ارتدادی سرگرمیوں کا بھر پور تدارک کیا ۔قاری نور محمدنے ایک کتب خانہ ”مطبع حقانیہ بھی قائم کیاتھا۔قاری نور محمد علیہ الرحمة نے”نماز اور عقائد ” پر ایک منظوم کتاب بھی تصنیف کی تھی۔قاری نور محمد اپنا تخلص حقانی پسند کرتے تھے اسی وجہ سے انہوںنے اپنے مدرسہ اور مکتبہ کانام بھی حقانیہ تجویز کیا۔
” قاری نور محمد حقانی،عبد الرحیم سہارن پوری کے خلیفہ مجاز بھی تھے، اس مناسبت سے عبد الرحیم رائے پوری ان کے پیر بھائی اور ساتھیوں میں سے تھے۔ان دونوں حضرات کو یکے بعد دیگرے حضرت میاں عبدالرحیم سہارن پوری سے اجازت حاصل ہوئی تھی، پہلے یہ (قاری نور محمد )حضرت میاں عبدالرحیم سرساوی کے مدرسہ تعلیم القرآن کے ناظم تھے، پھر 1303ھ میں ان کے انتقال کے بعد لدھیانہ میں مدرسہ حقانی بنایا تھا۔ 1328ھ میں حضرت اقدس عالی رائے پوری کے ساتھ سفر حج پر تشریف لے گئے اور اس کے بعد مستقل رائے پور میں قیام رہا۔ حضرت عالی رائے پوری کے سلسلہ مدارس” تعلیم القرآن” کے نگران اعلی اور ناظم آپ ہی تھے، حضرت اقدس رائے پوری نے اردو اور عربی سیکھنے کے لیے الگ الگ آپ سے قاعدہ لکھوایا جس کا نام آپ نے ”نورانی قاعدہ ”رکھا اور اپنے مکاتب قرآنیہ کے نصاب میں شامل کیا اور آج ہر مکتب قرآن کا حصہ ہے ۔(اردو والا قاعدہ راقم کی نظر سے نہیں گزرا)۔ قاری نور محمد نے رمضان 1338ھ مطابق اپریل 1920ء میں مدرسہ” ام المدارس” قائم فرمایا، آپ کا مزار فیل گنج قبرستان لدھیانہ میں ہے ”۔ (راقم نے یہ اقتباس کسی کتاب میں سے فوٹو کاپی کروایا تھا ، لیکن سرورق کی کاپی نہیں ہوسکی ۔اس لیے کتاب کا عنوان معلوم نہیں ،غالباً حضرت عبدالرحیم رائے پوری کے خلفاء اور متعلقین پر کوئی تصنیف ہے ۔ حامد)
انہوں نے ایک پرچا بھی جاری کیا جس کا نام ”نور علی نور” رکھا،یہ نام سورة نور کی آیت سے ماخوذ ہے ۔ارشاد باری ہے:
اللَّہُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِہِ کَمِشْکَاةٍ فِیْہَا مِصْبَاح الْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ کَأَنَّہَا کَوْکَب دُرِّیّ یُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَکَةٍ زَیْْتُونِةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَلَا غَرْبِیَّةٍ یَکَادُ زَیْْتُہَا یُضِیْء ُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَار نُّور عَلَی نُورٍ یَہْدِیْ اللَّہُ لِنُورِہِ مَن یَشَاء ُ وَیَضْرِبُ اللَّہُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّہُ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْم (35)
ترجمہ:”۔ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اُس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے، اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون، کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اُسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (بڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) اللہ اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور اللہ جو مثالیں بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے ”۔
یہ (غالباً)وہی پرچہ ہے جس میں نظم ”بہشتی زیور ” کے عنوان سے شائع ہوئی تو مولانا اشرف علی تھانوی نے اس نظم کو اپنی معروف کتاب کے دیباچے کے عنوان کے آخر میں لکھا ۔مولانا اشرف علی تھانوی بہشتی زیور کے مقدمہ میں رقم طراز ہیں :”میں جس وقت یہ دیباچہ لکھنے کو تھا ، پرچہ” نور علی نور” میں ایک نظم اس کتاب کے نام مضمون کے مناسب نظر سے گزری جو دل کو بھلی معلوم ہوئی ، جی چاہا کہ اپنے دیباچہ کو اسی پر ختم کروں تاکہ ناظرین خصوصاً لڑکیاں دیکھ کر خوش ہوں اور مضامین کتاب ہذامیں ان کو زیادہ رغبت ہو بلکہ اگر یہ نظم اس کتاب کے ہر حصے کے شروع پر ہوتو قند ِمکرر کی حلاوت بخشے ، وہ نظم یہ ہے :
اصلی انسانی زیور
ایک لڑکی نے یہ پوچھا اپنی اماں جان سے
آپ زیور کی کریں تعریف مجھ انجان سے
کون سے زیور ہیں اچھے یہ جتا دیجیے مجھے
اور جو بد زیب ہیں وہ بھی بتا دیجیے مجھے
تاکہ اچھے اور برے میں مجھ کو بھی ہو امتیاز
اور مجھ پر آپ کی برکت سے کھل جائے یہ راز
یوںکہا ماں نے محبت سے کہ اے بیٹی مری
گوش دل سے بات سن لو زیوروں کی تم ذری
سیم و زر کے زیوروں کو لوگ کہتے ہیں بھلا
پر نہ میری جان ہونا تم کبھی ان پر فدا
سونے چاندی کی چمک بس دیکھنے کی بات ہے
چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات ہے
تم کو لازم ہے کہ کرو مرغوب ایسے زیورات
دین و دنیا کی بھلائی جس سے اے جاں آئے ہاتھ
سر پہ جھومر عقل کا رکھنا تم اے بیٹی مدام
چلتے ہیں جس کے ذریعہ سے ہی سب انساں کے کام
بالیاں ہوں کان میں اے جان گوش ، ہوش کی
اور نصیحت لاکھ تیرے جھمکوں میں ہو بھری
اور آویزے نصائح ہوں کہ دل آویز ہوں
گر کرے ان پر عمل تیرے نصیبے تیز ہوں
کان کے پتے دیا کرتے ہیں کانوں کو عذاب
کان میں رکھو نصیحت دیں جو اوراق کتاب
اور زیور گر گلے کے کچھ تجھے درکار ہوں
نیکیاں پیاری مری تیرے گلے کا ہار ہوں
قوت بازو کا حاصل تجھ کو بازو بند ہو
کامیابی سے سدا تو خرم و خرسند ہو
ہیں جو سب بازو کے زیور، سب کے سب بے کار ہیں
ہمتیں بازو کی اے بیٹی تری درکار ہیں
ہاتھ کے زیور سے پیاری دستکاری خوب ہے
دستکاری وہ ہنر ہے سب کو جو مرغوب ہے
کیا کرو گی اے مری جاں زیور خلخال کو
پھینک دینا چاہیے بیٹی بس اس جنجال کو
سب سے اچھا پائوں کا زیور یہ ہے نور بصر
تم رہو ثابت قدم ہر وقت راہ نیک پر
سیم و زر کا پائوں میں زیور نہ ہو تو ڈر نہیں
راستی سے پائوں پھسلے گر نہ میری جاں کہیں
قاری نور محمد حقانی کا انتقال 1343 ہجری مطابق 1925 عیسوی میں ہوا۔ان کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے احمد حسن نے مدرسے کے نظم و نسق کو سنبھالا ۔ احمد حسن 1947کے بعد پاکستان کے شہر فیصل آبا د منتقل ہو گئے اوروہاں بھی انہوںنے ایک مدرسہ قائم کیاجواب تک قرآنی علوم کی اشاعت میں اپنا کردار ادا کررہا ہے ۔(اشتیاق کے باوجود راقم کافیصل آباد میں مقیم اس خانوادے سے براہ راست تعارف نہ ہو سکا ۔)قاری صاحب عمر بھر مدرسہ ، مکتبہ اور رسالہ کی مفید اور جان دار سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ قاری نور محمد حقانی کو شہرت دوام اُن کے قاعدے سے حاصل ہوئی ۔ قاعدہ عربی زبان میں بنیاد کے لیے استعمال ہوتاہے ۔ اس کی جمع قواعد ہے ۔ چونکہ اس طرح لکھے گئے قاعدہ جات ناظرہ قرآن کی نبیاد بنتے ہیں اس وجہ سے ان کو قاعدہ کہا جاتا ہے ۔ نورانی قاعدہ سے قبل بھی متعدد قاعدہ جات معروف رہے ہیںجن میں بغدادی قاعدہ سر فہرست تھا ۔بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس کے والد مولانا اسماعیل کاندھلوی نے مولانارشید احمد گنگوہی سے بیعت کی درخواست کی۔ حضرت گنگوہی نے ان کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی کہ”آپ کو اس کی حاجت نہیں، جو اس طریق سلوک اور ان ذکر و اذکارکامقصود ہے ، وہ آپ کو حاصل ہے، اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص قرآن مجید پڑھنے کے بعد یوںکہے کہ قاعدہ بغدادی میں نے نہیں پڑھا ، اس کو بھی پڑھ لوں”(بحوالہ مولانا الیاس اور اُن کی دینی دعوت) ۔مولانا اسماعیل کاندھلوی کا انتقال 26فروری 1898ء کو ہوا ۔ بغدادی قاعدہ اس کے بعد بھی مکاتب کا حصہ رہا ہے ۔ مفتی تقی عثمانی 1947ء کے آس پاس کا واقعہ تحریر کرتے ہیں:
”پھوپی امة الحنان کا گھریلو مکتب :
ہم جس محلے میں آباد تھے ، اس میں اُس چوک کے قریب جس کا ذکر میں نے پہلے کیا ہے ، ہمارے خاندان کی ایک بزرگ خاتون کا قیام تھا جن کا نام امة الحنان تھا، اور ہم انہیں پھوپی کہا کرتے تھے،(مصنف نے پھوپھی کے بجائے پھوپی ہی لکھا ہے ،حامد) کیونکہ وہ حضرت والد صاحب ، رحمة اللہ علیہ ، کی رشتے کی بہن تھیں ۔ اُن کا گھر کیا تھا؟ خاندان بھر کے ، بلکہ دور دور کے بچوں کی ایسی تعلیم گاہ تھی جس میں کئی کئی پشتوں نے اُن سے تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ کہنے کو تو بچیوں اور بہت چھوٹے بچوں کو قرآن شریف ناظرہ پڑھاتی تھیں ،لیکن در حقیقت وہ بچیوں کو قرآن شریف کے علاوہ بہشتی زیور کے ذریعے وہ سب کچھ پڑھادیتی تھیں جس کی انہیں شادی کے بعد تک ضرورت ہوتی، اور نہ صرف نظریاتی طور پر پڑھا دیتی تھیں ، بلکہ اُس کی عملی تربیت بھی دیتی تھیں۔ یہی اُن کا مشغلہ تھا، اور یہی اُن کاشوق ، جس کے ذریعے انہوں نے سینکڑوں بچوں اور بچیوں کوانسانیت سکھادی تھی۔ ہماری سب بڑی بہن س لے کر مجھ تک ، سب نے اُن سے پڑھا تھا۔ میں ابھی اسی قابل تو نہ ہوا تھا کہ اس تعلیم گاہ کا باقاعدہ شاگرد بنوں ، لیکن میرے والدین مجھے غیر رسمی طور پر قاعدۂ بغدادی دے کر اُن کے گھر بھیج دیتے تھے ، اور اس طرح قاعدہ ٔبغدادی کا آغاز میں نے اس گھریلو مکتب میں کیا، جہاں محترمہ امة الحنان صاحبہ، رحمة اللہ علیہا ، اپنی کڑک دار آواز میں تعلیم و تربیت کے فرائض بڑی تندہی سے انجام دیتی تھیں۔یہ ساری باتیں مجھے یاد ہیں ، اور اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں جوشاید قارئین لے لیے کسی دل چسپی یا فائدے کی حامل نہ ہوں۔ اس وقت میر ی عمر کیا تھی؟ میں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا، لیکن ساڑھے چار سال سے یقینا کم تھی، کیونکہ پانچ سال کی عمر پوری ہونے سے پہلے ہی ہم دیوبند سے پاکستان روانہ ہو گئے تھے۔ (ماہنامہ البلاغ 1439 ھ)۔
راقم کو تلاش کے باوجود قاعدہ بغدادی کا کوئی نسخہ نہ مل سکا۔نورانی قاعدے کی ترویج کے بعد یہ قاعدہ اب دیکھنے کو بھی نہیں ملتا۔ نورانی قاعدے کے مصنف نے ہر باب کو ایک تختی کانام دیا ہے اور ا س میںکل 17 تختیاں ہیں جن میں حروف تہجی، مفردات اور مرکبات کے تمام بنیادی اصول شامل ہیں۔ نورانی قاعدہ بہت نافع تھا لیکن مشقیں اجمالی تھیں۔ ایک ہی زمین پر متعدد امور کی مشقیں درج تھیں، اس کے علاوہ مزید ضروری قواعد و فوائد کے اضافہ کے ساتھ اسے محمد ابرار الحق حقی نے مرتب کیا۔محمد ابرار الحق حقی (پیدائش: 1339ھ مطابق 20 دسمبر 1920ء )شاہ عبد الحق محدث دہلوی کی اولاد میں نمایاں فرزندتھے۔ یہ خاندان علاؤ الدین خلجی کے زمانے میں ترکی سے ہندوستان آیا تھا۔ ابرار الحق کی ولادت قصبہ پلول میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں انوار احمد انبیٹھوی سے حاصل کی، یہیں ناظرہ و حفظ قرآن کی تکمیل کی اور بعدہ مظاہر علوم میں داخلہ لیا۔ 1357 ہجری میں اعلی نمبرات سے کامیابی حاصل کی۔مظاہر علوم سہارن پور کے درخشاں فاضل اور سلسلہ چشتیہ کے مشہور زمانہ عالم و داعی ، نیز مشرب تھانوی کے قولی و عملی ترجمان اور نمونہ حقیقی سمجھے جاتے تھے۔ ہندستانی مسلمانوں میں متعدد فکری، تعلیمی و اصلاحی کاموں کے محرک و بانی تھے۔محمد زکریا کاندھلوی، منظور احمد خاں، عبد الرحمن کیملپوری، اسعد اللہ رامپوری ان کے مشہور اساتذہ میں سے ہیں۔مولانا محمد یوسف کاندھلوی اورمولانا انعام الحسن کاندھلوی، محمد ابرار الحق کے درسی ساتھی تھے۔ ان کے والد محمود الحق ہردوئی خانقاہی ذہن کے تھے اورمولانا اشرف علی تھانوی کے مجاز صحبت خلیفہ تھے، اس لیے گھر کا ماحول بھی دین دارانہ تھے۔ طالب علمی میںمحمد ابرار الحق، مولانا اشرف علی تھانوی سے بیعت ہو گئے تھے۔ چونکہ خانقاہ میں بے ریش نوجوانوں کو ٹھہرنے کی اجازت نہ تھی، اس لیے تھانہ بھون میں کسی عزیز کے یہاں قیام کرتے۔ فطری صلاحیت اور وہبی کمالات اعلی درجہ کے تھے اس لیے 22 سال کی عمر میں ہی خلافت سے نوازے گئے۔ انتقال کے بعدخواجہ عزیز الحسن مجذوب، وصی اللہ الہ آبادی، محمد احمد پرتاب گڑھی اور محمود الحسن گنگوہی رحمہم اللہ سے یکے بعد دیگرے استفادہ کا تعلق رہا اور نیاز مندانہ ان کے یہاں حاضری دیتے رہے۔فراغت کے بعد اولا مظاہر علوم سہارن پور میں بحیثیت معین مدرس منتخب ہوئے۔ وہاں سے نکل کر مدرسہ اسلامیہ فتح پور میں منصب تدریس پر فائز رہے۔ اس کے بعد جامع العلوم کان پور میں تدریس کے لیے چلے آئے۔ انداز تدریس و طریق تعلیم نہایت سہل و د ل نشیں تھا جس کی وجہ سے خاصے مقبول رہے۔بیرون وطن چند سال تدریس کے بعد اپنے مرشد مولانا اشرف علی تھانوی کے مشورہ سے ہردوئی میں شوال 1362 ہجری میں مدرسہ اشرف المدارس کی بنیاد رکھی اور خلوص کی برکت اور تعلیم و تربیت کے معیار کے سبب مدرسہ چند سالوں میں معیاری مدراس کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ دوران طالب علمی میں ابرار الحق حقی نے مشہور زمانہ قاری عبد الخالق مکی سے سات آٹھ برس مسلسل فن تجوید کو حاصل کیا تھا۔ نیز اشرف علی تھانوی کے یہاں بھی اس کا نہایت اہتمام تھا۔ اس لیے انہوں نے بھی میدان عمل میں آکر قرآن کی خدمت کا بیڑا اٹھایا، اس کی اہمیت و عظمت اور ادائے حقوق کی مسلسل تحریک چلائی اور اسی کے مد نظر نورانی قاعدہ کو ترمیم و اضافہ کے ساتھ شائع کیا اور تادم آخر خدمت قرآن کی اس تحریک کے داعی رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے چھوٹے تمام مدارس نے اس نظام کی نقل کی یا کم از کم اس پر حساس ہوکر خود عمدہ نظام تجویز کرنے پر آمادہ ہوئے۔محی السنہ مولاناابرارالحق 8 ربیع الثانی 1426 ہجری مطابق 17 مئی 2005 شب 8 بجے ہردوئی میں انتقال کیا اور ہردوئی کے عام قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔
حضرت مولانا ابرار الحق حقی کے کیے گئے اضافوں کے بعد اس کی کل 28 تختیاں ہوگئیں۔ چونکہ یہ ترمیم و اضافہ جدید طرز اور بچوں کی نفسیات سے ہم آہنگ اور قریب تر تھا، اس لیے اب پورے ہندوستان میں انہی کا مرتب کردہ نورانی قاعدہ رائج ہے۔ بھارت میں اس کی افادیت و مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ دار العلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، دار العلوم ندوة العلماء اور مجلس دعوة الحق ہردوئی جیسے بڑے تعلیمی اداروں اور اِن کے تمام ملحقہ مدارس میں یہی قاعدہ طلبہ میں رائج ہے۔نورانی قاعدہ کی افادیت کو محسوس کرتے ہوئے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی اورحضرت عبد الرحیم رائے پوری نے اپنے متعلقین کو اسی نظام اور قاعدہ کو اپنے یہاں رائج کرنے کا پابند کیا اور اس طرح اس قاعدے کے مقبولیت میں مزید اضافہ ہو گیا۔
پاکستان کے دینی مدارس اور مساجد میں یہی قاعدہ ناظرہ قرآن کی بنیاد ہے ۔ متعدد مشاہیر نے نورانی قاعدہ سے ہی اپنی دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ حال ہی میں شہید کیے گئے معذور اورمعروف عالم دین مولانا اسلم شیخوپوری شہید اپنی بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:” میں تین سال کا تھاجب مجھ پر فالج کا اٹیک ہوا اور میں ہمیشہ کے لیئے چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا۔ سارا بچپن فالج سے مقابلہ کر تے ہو ئے گزر گیا ، حملہ بہت سخت تھا اور میں زندگی بھر کے لیئے وہیل چیئر پر منتقل ہو گیا۔پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا، میں ہر لمحہ پڑھنے کے لیئے بے چین رہتا تھا ، اپنی فالج زدہ ٹانگوں کے ساتھ کئی کئی کلو میٹر دور اسکول پڑھنے کے لیئے جاتا تھا۔ میں اپنی معذوری کی بنا پر سب سے الگ تھلگ رہتا تھا ، دوست اور ساتھی اکثر اسے نظر انداز کر دیتے تھے مگر کبھی کسی سے گلہ شکوہ نہیں کرتا تھا۔ اپنی معذوری کامجھے احساس تھا لیکن میں نے کبھی اس احسا س کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ میں ایک رسمی مسلمان گھرانے میں پیدا ہو اتھا ،اسکول کے ساتھ محلے کی مسجد میں نورانی قاعدہ بھی پڑھنا شروع کر دیاتھا۔اس نے چوتھی جماعت سے اسکول چھوڑ کر قرآن حفظ کر نا شروع کر دیا ،وہ اس میدان میں بھی سب سے آگے تھا ،وہ سب سے پہلے سبق،سبقی اور منزل سنا کر فارغ ہو جاتا تھا”۔
صحافی محمد شجاع الدین اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: نویں جماعت کے طالب علم کا اعتکاف میں بیٹھنا فی زمانہ کچھ عجیب لگتا ہے، لیکن بات آج سے قریباً چالیس پینتالیس برس پرانی ہے، جب مسجد کو محلے کا ایک حصہ گردانا جاتا تھا نہ کہ مقفل عبادت گاہ۔ میں زندگی میں پہلی مرتبہ اعتکاف بیٹھا تھا۔ عشرہ مبارک میں عبادتوں کی کثرت معمول رہی۔ روزے کے ساتھ گرمی کی دوپہر میں اینٹوں سے بنا مسجد کا فرش دھونا، اذان سے پہلے لاوڈ اسپیکر کے مائیک پر قبضہ جمالینا، تکبیر اولیٰ کے لیے عین امام صاحب کے پیچھے صف میں کھڑا ہونا بھی فرض سمجھ کر پورا کیا۔ عید کا چاند نظر آیا تو والد مرحوم کی خوشی دیدنی تھی۔ گلاب اور موتیے کے ہار لیے مسجد پہنچے، گلے لگایا، ماتھا چوما اور خوبصورت ریشمی رومال تحفے میں دیا۔ بزرگ ہستیوں کی نسبت ایمان کی حرارت کو جلا بخشتی ہے۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے خانوادے سے تعلق کی اثر پذیری تھی کہ گھر میں مذہبی ماحول غالب رہا۔ کلمہ اور قرآن کا اک اک حرف جیسے سانس کی لڑی کا جزولاینفک بن گیا۔ ددھیال اور ننھیال کے ہم عمر لڑکوں میں، مَیں مولوی سمجھا جاتا۔ اسکول کے زمانے میں ناشتہ چھوٹ جائے تو خیر لیکن ہر صبح نماز فجر کے بعد سورة یٰس، سورة رحمٰن، نوح، مزمل اور سورة التغابن کی قرأت ضروری تھی۔ آیت الکرسی میرا اوڑھنا بچھونا بن گئی۔ کوئی ناغہ نہ ہونے کے باعث سبق حفظ ہوگیا۔ سانس کی رفتار کے ساتھ زبان کا ورد جاری رہتا۔شعور کی پہلی منزل پر نظر دوڑائوں تو تین چار برس عمر ہوگی، جب ایک روز بادل جم کر برسے۔ والد صاحب گھر سے باہر تھے۔ میرے ننھے دل کو دھڑکا لگا کہ ابا جی واپس کیسے آئیں گے۔ اللہ کے نام والا نورانی قاعدہ ہاتھ میں لیے برآمدے میں آن کھڑا ہوا۔ آسمان کی طرف منہ کرکے کلمہ پڑھا اور پکارا۔ اللہ میاں جی بارش تھم جائے۔ اور پھر، آسمان سے برستا پانی دور فضا میں ہی کہیں تحلیل ہوگیا۔ کم سنی میں کہے کلمے کی طاقت دل کو تقویت بخشتی ہے۔
پاکستان کے سرکاری تعلیمی نظام میں ناظرہ قرآن کے لیے بھی نورانی قاعدہ کو ہی شامل نصاب کیا گیا ہے ۔ 29جون 2016 کی ایک خبر کے مطابق وزیرمملکت وفاقی تعلیم و تربیت بلیغ الرحمن نے پرائمری تعلیم تک ناظرہ قرآن کی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا ہے اور چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک قرآن پاک بمع ترجمہ لازمی قرار دے دیا۔ بلیغ الرحمن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہبلیغ الرحمن نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں پر اس کی کوئی پابندی نہیں ہو گی لیکن ہم ایکٹ آف پارلیمنٹ بنا رہے ہیں جس میں تمام پرائیویٹ اور گورنمنٹ سکولوں میں قرآنی تعلیم لازمی کر دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پہلی جماعت میں نورانی قاعدہ پڑھایا جائے گا۔ دوسری جماعت میں پہلے دو پارے پڑھائے جائیں گے، تیسری جماعت میں 6پارے چوتھی جماعت میں اگلے 10سپارے پانچویں جماعت میں آخری 12پارے پڑھائے جائیں گے اور اسطرح ایک طالب علم پرائمری تک ناظرہ قرآن مکمل پڑھ لے گا اور چھٹی جماعت سے طلبا کو قرآن پاک کا ترجمہ شروع کروایا جائے گا اور بارہویں جماعت تک مکمل کر لیا جائے گا اور یہ تعلیم امتحانات کا حصہ نہیں بنے گی۔
پاکستان میں متعدد غیر سرکاری ادارے بھی اپنے مکاتب اور مدارس میں نورانی قاعدہ کی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں ۔پاکستان میں بھی متعدد ادارے نورانی قاعدے کی تدریس کے حوالے سے تربیتی کورسز کا انعقاد کرتے رہتے ہیں ۔ جمعیت تعلیم القرآن ٹرسٹ (کراچی )نے اس حوالے سے قابل قدر کام کیا ہے ۔ٹرسٹ جمعیت تعلیم القرآن کا بنیادی مقصد امت مسلمہ کے بچوں کو تجوید اور دست مخارج کے ساتھ ناظرہ حفظ القرآن پڑھانا اور ابتدائی دینی تعلیم و تربیت دینا ہے۔ ساتھ ہی اخلاق اور اصلاح پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ 1969ء سے ایک مکتب سے آغاز ہوا اور آج ا س کے صوبہ سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبر پختون خواہ، گلگت و بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاوہ ملک کی 72جیلوں میں 2000سے زائد مدارس ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد بچے، بچیاں، مرد، خواتین اور بچہ قیدی ٹرسٹ کے زیر اہتمام قرآن مجید کی تعلیم کے ساتھ ابتدائی تعلیم و تربیت حاصل کررہے ہیں۔ کراچی کی خواتین جیل میں ٹرسٹ کے شعبہ خواتین کے ذریعہ قیدی خواتین کو تعلیم القرآن دی جاتی اور ان کی اخلاقی تربیت کی جاتی ہے۔گزشتہ دنوں اڈیالہ جیل میں جمعیت تعلیم القرآن ٹرسٹ کے زیر اہتمام اسیران کا سالانہ امتحان ناظرہ قرآن پاک ، ترجمہ قرآن ، حفظ قرآن اور دیگر کورسزکے امتحان منعقد ہوئے جن میں 351 اسیران نے شرکت کی۔ سزائے موت کے چھ اسیران نے ترجمہ ، 15 نے ناظرہ کورس مکمل کیے۔ جمعیت کے زیر انتظام معلمین کے لئے طریقہ تدریس پر مبنی کورسز کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔ مکتب تعلیم القرآن (کراچی)کے زیر انتظام تربیتی نشستوں میں اساتذہ کو بلیک بورڈ اپر نورانی قاعدہ کی تدریس کی تربیت دی جاتی ہے ۔ قاری محمد غفران(جہلم)بھی متعدد مدارس میں یہ تربیتی کورسز جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بھارت کے بھی مشہور مدارس میں یہی قاعدہ نصاب کا حصہ ہے ۔ معروف عالم دین مولانا اسرار الحق( ایم پی اے) نے دارالعلوم اسراریہ، فقیر باڑہ میں خطاب کے دوران کہا کہ قرآن کریم سے دوری کی وجہ سے آج مسلمان ہر محاذ پر ناکامی سے دوچارہورہے ہیں ۔ریاستی وزیر و صدر جمعیة مولانا صدیق اللہ چودھری نے اپنے سبق آموز خطاب کے دوران کہا کہ اس مدرسہ کے کم عمر طلبہ نے علمائ، ائمہ اور ہزاروں کے مجمع میں ٹھوس یاد داشت اور صحت قواعد و مخارج کے ساتھ مختلف سوالا ت کے جوابات دیے ہیں جس سے قلبی خوشی ہوئی۔ انہوںنے کہا کہ شہر اور سہولتوں سے دور پس ماندہ آبادی میں قائم اس طرح کے اداروں پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ٹیپو سلطان مسجد کے امام مفتی عبدالشکور مظاہری نے کہایہاں نورانی قاعدہ اور تجوید کی رعایت کے ساتھ حفظ قرآن کا ٹھوس نظام ہے ۔
قوم وملت کے ہر فرد کو تجوید کے ساتھ قرآن مجید سکھلانے اور دین کی ابتدائی بنیادی باتوں سے واقف کرانے کی غرض سے شہر نظام آباد میں جید مفتیان کرام اور علماء وحفاظ پر مشتمل جماعت نے گذشتہ دوسال قبل اس تنظیم کی بنیاد ڈالی اور ریاست وشہر کے اکابرعلماء کی نگرانی میں اپنے تمام امور انجام دیتے ہوئے آج پورے شہر کے مختلف علاقوں میں 14سنٹرز قائم کیے۔ روزآنہ ایک گھنٹہ بعد نماز مغرب تا عشاء 269طلبہ وطالبات کو تجوید کے ساتھ نورانی قاعدہ وناظرہ قرآن کے علاوہ اسلامی جنرل نالج کی ضروری تعلیم کا انتظام ماہر اساتذہ کے ذریعہ کررہی ہے واضح رہے کہ اس ادارہ میں یونیفام اور فیس کا لزوم ہے گھر گھر جاکر دینی تعلیم پڑھانے کو یہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔
نورانی قاعدہ اس وقت ہندستان ، پاکستان ، افغانستان ، بنگلا دیش ، سری لنکا اور جنوبی افریقا میں پڑھایا جارہا ہے۔ انٹر نیٹ پر یورپ کے طلبہ وطالبات کو بھی قران سکھانے کے لیے اسی قاعدے کی مدد لی جاتی ہے ۔دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ انٹر نیٹ پر پڑھانے والے اساتذہ اکثر و بیشتر پاک و ہند سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے قاعدہ کو پڑھایا بھی اردو میں جاتا ہے ۔ جیسے” بَ ”کو با زبر بَ پڑھا یا جاتا ہے چاہے طالب علم کی مادری زبان کوئی بھی ہو۔نورانی قاعدہ کو دیگر عالمی اور زندہ زبانوں میں بھی منتقل کیا گیا اوراس پر مزید کام بھی جاری ہے۔ ادارہ اشاعت دینیات (دہلی) نے اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کیا ہے، جس سے انگریزی خواں طبقہ کو بہت سہولت ہو گئی ہے۔بھارت کے شہر چینائی میں ایک تنظیم نے اسے بریل کوڈ میں بھی شائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ تامل، گجراتی اور بنگلہ زبانوں میں بھی اس کے تراجم ہو چکے ہیں۔اب تک اسے دو لوگوں نے معمولی فرق کے ساتھ عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ پہلا عربی ترجمہ”قاعدة النور” کے نام سے 1415ھ میں مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاد سعید احمد عنایت اللہ نے کیا جو مکتبہ امدادیہ مکہ سے شائع ہوا، اس کے اب تک متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
دوسرا عربی ترجمہ”القاعدة النورانی” کے نام سے محمد فاروق الراعی ( پیدائش 1386ھ ) نے کیا ہے جو مصنف کے نواسے لگتے ہیں ۔ محمدفاروق کی والدہ ، قاری نور محمدکی پوتی ہیں ۔ انہوں نے 11سا ل کی عمر میں مدینہ میں حفظ قرآن کی سعاد ت حاصل کی ۔ محمدفاروق نورانی قاعدہ کی اہمیت سے آگاہ ہونے کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں : ”میں کچھ علماء سے ملا جو جدہ میں حفظ قرآن کے ایک مدرسہ کے مہتمم ہیں ۔ وہ کسی ایسی کتا ب کی تلاش میں تھے جو قرآن کریم ناظرہ سیکھنے میں معاون ثابت ہو ۔ دوسری جانب میں خود بھی دبئی میںایسے عرب افرادسے مل چکا تھا جو عرب ہوتے ہوئے بھی عربی کی بجائے انگریزی بولتے۔ وہ عربی پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی بول سکتے ہیں۔ میں نے اپنی والدہ سے مشاورت کی تو انہوںنے مجھے نورانی قاعدہ دیکھنے کا مشورہ دیا۔ جب میںنے اس کو دیکھا تو بہت ہی مسرور ہوا، یہ قاعدہ ہمارے بچوں کو عربی زبان میں ابتداکرنے میں بہت معاون ثابت ہوا۔ میں تب آج تک اس قاعدہ کی تدریس کررہا ہوں ۔ا س کے بعد میںنے اس قاعدہ کے بارہ میں شیخ ابراھیم الاخضر (مسجد نبوی) اور جدہ کے معروف قاری دکتور ایمن رشدی سوید سے بھی مشاورت کی ۔ انہوںنے بھی اس قاعدہ کو پسند کیاا ور اس کی تدریس جاری رکھنے کا حکم دیا۔ میں تب سے اپنے ادارے ”مرکز الفرقان لتعلیم القرآن” میں ا سں کی تدریس جاری رکھے ہوئے ہوں” ۔ محمد فاروق الراعی نے اس کا پہلا ایڈیشن 1419ھ میں طبع کیا، اس کے بھی اب تک متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ محمد فاروق الراعی اس حوالے سے مختصر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد بھی کرتے رہتے ہیں۔
قرآن مجید کو سیکھنے سکھانے کے لیے جو قاعدے مرتب کیے گئے ہیں، ان سب میں نورانی قاعدہ نہایت مقبول و معروف کتابچہ ہے ۔ کوئی شخص اگر اہل علم کو دین سکھلائے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مفتیان کرام کو بھی نورانی قاعدہ پڑھانے سے باز نہیں آتے۔قاعدے کی یہ مقبولیت متعدد وجوہ کی بناء پر ہے ۔ (1)نورانی قاعدے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ا س کے اسباق میں ایک تدریجی تسلسل موجود ہے ۔ سب سے پہلے الگ الگ حروف کی تختی ہے ۔ پھر حروف کو دوسرے کے ساتھ جوڑ کر ا س کی مختلف شکلیں واضح کی گئی ہیں۔ اس کے بعد اعراب والاحصہ شروع ہو جاتا ہے جس میں زیر ، زبر اور پیش شامل ہیں۔ اعراب والے حصے کو ہجے اور جوڑ والا حصہ کہا جاتا ہے ۔اس کے بعد جزم سکون ، شد اور مد کا حصہ شامل ہے ۔ آخر میں یہ تسلسل بڑھتا ہوا مشکل ترین الفاظ تک جا پہنچتا ہے ۔ان میں متعدد ایسے الفاظ بھی شامل ہیں جن کو جوڑ کر ہم اب تک ایک طریقے سے نہیں پڑھ سکتے ۔ ایک دفعہ ایک طریقے سے جوڑ کرتے ہیں اور دوسری دفعہ دوسرے طریقے سے۔ (2)مؤلف نے اس قاعدے میں تمام الفاظ قراٰن کریم سے لیے ہیں۔ اس کے برعکس بغدادی قاعدہ کے تما م الفاظ قرآن کریم سے نہیں لیے گئے بلکہ کچھ الفاظ تو ایسے بھی ہیں جو سرے سے عربی زبان میں ہی موجود نہیں ۔ (3) لیکن بغدادی قاعدہ کے مصنف کا نام وغیرہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کس کی تصنیف ا ور کاوش ہے۔اہل علم کے ہاں اصول ہے کہ علم اہل اور معروف لوگوں سے حاصل کرنا چاہیے ۔(4)نیز اس کی خصوصیت ہے کہ یہ تجویدی احکام کو بھی جامع ہے ۔ تجوید کے اہم مسائل اس قاعدہ کو پڑھنے کے بعد خود بخود زبان پر جاری ہو جاتے ہیں ۔لاہور سے تعلق رکھنے والے قاری سید حبیب اللہ شاہ نے ادارہ سادات کے زیر اہتمام نورانی قاعدہ کو رنگوں میں شائع کیا ۔ انہوں نے پہلی مرتبہ تجویدی قوانین کو رنگوں سے واضح کیا ۔راقم سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتلایا کہ” ہمارے اسا تذہ مختلف رنگوں کے قلموں سے تجویدی قوانین کی تفہیم کے لیے نشان لگا کردیا کرتے تھے ۔ جب میں نے تدریس کا آغاز کیا تو سوچا کہ اب کمپیوٹر کا زمانہ ہے ، کیوں نہ اس طرز تدریس کو کمپیوٹر کے ذریعے واضح کیا جائے ۔ چنانچہ میں نے دوستوں سے اس موضوع پر مشاورت شروع کردی لیکن اکثر اکثر نے اس منصوبے کی کام یابی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ البتہ میں نے ہمت نہ ہاری اورمیں اس سلسلے کو آگے بڑھاتا رہا۔ پھر جب رنگین نورانی قاعدہ شائع ہو کر عوام کے سامنے آیا تو ہا تھوں ہاتھ لیاگیا”۔ اس کے بعد یہ اشاعت مروج ہوگئی اور شہری علاقوں میں آج کل یہی اشاعت رائج ہے ۔
طلبہ کو نورانی قاعدہ پڑھانے میں مدد و سہولت کے لیے متعدد کتب بھی تصنیف کی گئی ہیں، خود مولف نے ایک کتاب تحریر کی تھی جس کا نام ”نورانی قاعدہ مع طریقہ تعلیم” رکھا۔ علاوہ ازیں ”طریقہ تعلیم” کے نام سے محمد بلال میرٹھی نے ایک کتاب لکھی ہے جو اسے پڑھنے پڑھانے والوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ نیز محمد عبد القادر جیلانی نے بھی ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام”نورانی قاعدہ کیسے پڑھیں اور پڑھائیں”ہے، یہ کتاب مکتبہ صدیقیہ (رائے ونڈ، لاہور) سے شائع ہوئی ہے۔

فقیہِ ملت حضرت مولانا زبیر ا حمد صاحبؒ قاسمی کی نمایاں خدمات

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

Email: qasmikhursheed

آپ کی خدمات:
حقیقت یہ ہے کہ فقیہِ ملت حضرت مولانا زبیر احمد قاسمی صاحبؒ (یکم جنوری 1936 – 13/جنوری 2019) ایک ممتاز اور بافیض مدرس تھے۔ ہر موقع سے یہ رنگ آپ میں غالب نظر آتا تھا، چاہے آپ کوئی تحریر لکھ رہے ہوں یا پھر مجمع عام میں عوام سے خطاب کر رہے ہوں، گرچہ آپ جلسہ جلوس میں شرکت سے بہت حد تک اجتناب کرتے تھے۔ آپ نے مختلف مدارس وجامعات میں تقریبا پچاس سالوں تدریسی خدمات انجام دی۔ اس خدمات کے دوران آپ دار العلوم سبیل السلام، حیدر آباد کے شیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز رہے۔ آپ جامعہ اشرف العلوم، کنہواں، کے صدر مدرس اور ناظم رہےاورانتظامی امور سنبھالا۔ آپ کو فن فقہ میں تخصص کا درجہ حاصل تھا اور آپ اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا کے رکن تاسیسی تھے۔ مختصر یہ ہے کہ آپ کی نمایاں خدمات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ (1) تدریسی خدمات، (2) انتظامی خدمات اور (3) فقہی خدمات۔ ہم ذیل میں آپ کی ان نمایاں خدمات پر مختصرا روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تدریسی خدمات:
فقیہِ ملتؒ نے علم دین کی نشر واشاعت کے لیے تدریس کو منتخب کیا ۔ آپ نے اپنی تدریسی خدمات کا آغاز مدرسہ بشارت العلوم، کھرایاں پتھرا سے کیا۔ یہ تدریسی خدمات کا سفر آپ نے جو جوانی میں شروع کیا وہ پھر رکا نہیں۔ آپ تقریبا پانچ دہائیوں تک پوری محنت اور لگن کے ساتھ تدریسی خدمات سے لگے رہے۔ آپ نے ابتدائی کتابوں سے لے کر دورۂ حدیث شریف تک کی کتابیں، بلکہ بخاری شریف بھی پڑھائی۔ ہزاروں طالبان علوم نبوت نے آپ سے استفادہ کیا۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آپ سب سے پہلے ایک ممتاز،کامیاب اور مقبول مدرس اور استاذ تھے۔ اس لمبی مدت میں آپ کو کبھی کسی ادارہ میں تدریسی خدمات کے لیے درخواست دینے کی ضرورت نہیں پیش آئی؛ بلکہ آپ کی صلاحیت وصالحیت، علمی گہرائی وگیرائی اور انداز تدریس وتفہیم کی وجہ سے آپ کو مدارس کی انتظامیہ خود مدعو کرتی تھی؛ تاکہ آپ کے علم سے اس ادارہ کے طلبہ استفادہ کرسکیں۔ آپ جہاں بھی تدریسی خدمات کے لیے تشریف لے گئے، آپ اپنی شرائط وقیود کے ساتھ تشریف لے گئے۔ جب دیکھا کہ حالات موافق نہیں ہیں، تو قبل اس کے کہ انتظامیہ کے ساتھ ناخوشگوار حالات پیدا ہوں، آپ نے استعفی دینے کو ترجیح دی۔ یہی وجہ تھی کہ پھر دوبارہ کسی ادارہ میں جانے میں آپ کو کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوئی اور انتظامیہ کو بھی آپ کو دوبارہ بلانے میں کوئی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

یہ بات قابل فخر ہے کہ اکابرِ اساتذہ کی موجودگی میں، آپ نے تدریس کے پہلے سال میں ہی ابتدائی درجات سے ثانوی درجات تک کی کتابیں پڑھائی۔ اللہ نے آپ کو ایسی صلاحیت سے نوازا تھا کہ آپ کسی بھی فن کی کسی کتاب کو بخوبی آسانی کے ساتھ پڑھانے اور طلبہ کو سمجھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ کے طریقہ تدریس کی بڑی تعریف ہوتی تھی۔ درسِ نظامی کے اساتذہ کو بخاری شریف کی تدریس کا موقع ملنا، ان کی علمی صلاحیت کا اعتراف ہوتا ہے۔ الحمد للہ، آپ کو یہ موقع بھی ملا اور آپ نے بخاری پڑھانے کا حق ادا کردیا۔ اہلِ علم اس بات کا اعتراف ضرور کریں گے کہ آپ ایک قابل، مقبول اور کامیاب مدرس تھے اور آپ نے ہزاروں شاگر پیدا کیے۔

فقیہِ ملتؒ کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ وہ مختلف میدانوں میں قوم وملت کی خدمت کر رہے ہیں۔ آپ کے چند شاگردوں کے اسماء گرامی یہاں درج کیے جاتے ہیں۔ مولانا مطلوب الرحمان مظاہری (ناظم: مدرسہ مصباح العلوم، مکیا، مدھوبنی)، مولانا محمد مرتضی صاحبؒ (سابق ناظم: جامعہ اسلامیہ قاسمیہ، بالاساتھ، سیتامڑھی)، مولانا ذاکر حسین قاسمی (صدر مدرس: مدرسہ محبوبیہ، چین پور، مظفرپور)، مولانا محی الدین مظاہری نیپالی، مفتی سہیل احمد قاسمی (مفتی امارت شرعیہ، پٹنہ)، مفتی اعجاز احمد قاسمی (ناظم: محمود العلوم، دملہ، مدھوبنی)، مولانا سعید احمد قاسمی، سیتامڑھی، مولانا خالد صدیقی سبیلی، صدر: جمعیت علماء نیپال، مفتی تنویر عالم قاسمی (ناظم: مدرسہ اشاعت القرآن، بارہ ٹولہ، مدھوبنی) وغیرہم۔

انتظامی خدمات:
جس ادارے میں بھی فقیہِ ملتؒ تشریف لے گئے عام طور پر اس ادارہ میں آپ تدریسی خدمات سے منسلک رہے سوائے اشرف العلوم کے کہ وہاں آپ نے تقریبا 35/ سالوں تک بحیثیت صدر مدرس اور بحیثیت ناظم انتظامی خدمات پیش کی۔ آپ جامعہ اشرف العلوم میں صدر مدرس اور ناظم کے عہدہ پر فائز تھے اور ادارہ کو بحسن وخوبی چلانے کے لیے آپ کوئی بھی فیصلے لینے میں بہت حد تک آزاد تھے۔ متعینہ اصول وضوابط کی روشنی میں چاہے طلبہ کے داخلہ کی منظوری ہو یا اساتذہ کی تقرری، چاہے اساتذہ کی تن خواہ کا مسئلہ ہو یا پھر ادارہ کی بوسیدہ عمارت کی تعمیر جدید کے کام کی انجام دہی، آپ کو پوری آزادی تھی اور آپ اپنی مرضی سے یہ کام انجام دیتے تھے۔

فقیہِ ملتؒ نے ادارہ میں داخلہ کا جو اصول وضابطہ متعین کر رکھا تھا، اس کی روشنی میں طلبہ کو تعلیمی سال کے شروع میں یعنی شوال کے مہینہ میں داخلہ امتحان کے بعد ہی داخلہ دیا جاتا تھا۔ اگر کوئی طالب علم داخلہ امتحان میں ناکام ہوجائے، تو اسے داخلہ نہیں دیا جاتا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ جب ہم وہاں زیر تعلیم تھے اس وقت فقیہِ ملت کے کوئی جاننے والے، درمیانِ سال میں، اپنے لڑکے کو لے کر جامعہ آئے اور داخلہ کروانا چاہتے تھے۔ جب اس شخص نے آپ سے ملاقات کی اور داخلہ کی فرمائش کی؛ تو آپ نے بالکل منع کردیا اور ان سے کہا کہ وہ اپنے لڑکے کوشوال میں لے کر آئیں۔ وہ درخواست کرتے رہے، مگر آپ نے جو کہہ دیا وہی قول فیصل ثابت اور آپ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ آخر ان کو واپس جانا پڑا۔

یہ اشرف العلوم کےلیے ہمیشہ اچھی بات رہی کہ اس ادارہ میں عام طور پر محنتی، قابل، ذی استعداد، باصلاحیت اور مخلص اساتذہ کی ٹیم تدریسی خدمات پر مامور رہی ہے۔ اساتذہ آپس میں ایک دوسرے سے تنافسی طور پر محنت ومطالعہ کرتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ گہرا مطالعہ کرکے، عمدہ اور سہل انداز میں طلبہ کو سبق پڑھائیں اور طلبہ بسہولت ان کی باتیں سمجھ سکیں۔ اس کے باوجود اگر کبھی استاذ کے تقرری کی ضرورت پیش آتی؛ تو فقیہِ ملت ہمیشہ محتاط رہتے کہ قابل اور باصلاحیت استاذ کی ہی تقرری کی جائے۔ اگر کوئی امیدوار ان کی نظر میں باصلاحیت نہیں ہوتا؛ تو آپ ان کی تقرری نہیں کرتے۔ آپ کا یہ بھی معمول تھا کہ دن میں ایک آدھ بار باہر کی وزٹ کرتے اور کبھی کبھی کسی درجہ کے سامنے کھڑے ہوکر، یہ جاننے کی بھی کوشش کرتے کہ فلاں استاذ کیسے پڑھا رہے ہیں۔
بحیثیت ایک منتظم اور قائد آپ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ قائد وہ ہے جسے پہلے راستہ کی معلومات ہو، پھر وہ خود اس راستے پر چلنا جانتا ہو، اس کے بعد اپنے ماتحتوں کو اس راستہ کی رہنمائی کرے کہ کیسے اس راستے پر چلا جائے (A leader is the one who knows the way, goes the way and shows the way)۔ چناں چہ آپ کبھی بھی کسی علمی موضوع پر اپنے اساتذہ وطلبہ کے ساتھ مباحثہ ومناقشہ سے دامن بچانے کی کوشش نہیں کرتے تھے، ان کو جو اشکال ہوتا اس کا جواب دیتے؛ کیوں کہ آپ خود ایک علمی شخص تھے۔ آپ کی یہ عادت تھی کہ عصر کی نماز کے بعد، مسجد کے صحن کے سامنے بیٹھ جاتے۔ یہاں بیٹھنے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ کوئی آئے، بیٹھے اور گپ شپ شروع ہوجائے؛ بلکہ عام طور پر آپ کی اس مجلس میں کسی علمی موضوع پر مباحثہ ومناقشہ ہوتا تھا۔ اس مجلس میں عام طور پر حضرت الاستاذ مولانا اظہار الحق صاحب مظاہری آپ کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ کبھی کبھار کوئی اور استاذ بھی بیٹھتے اور آپ سے کسی علمی موضوع پر استفادہ کرتے۔ جب آپ سے کوئی علمی موضوع پر بات چیت کرتا، تو آپ کو خوشی ہوتی۔

فقیہِ ملت کی نگرانی اور با صلاحیت اساتذہ کی محنت کی وجہ سے اشرف العلوم کے تعلیمی معیار کو اہل علم نے ہمیشہ سراہا ہے۔ جدید طالب علموں کو مطالعہ ومذاکرہ کے لیے اساتذہ کو ڈانٹ ڈپٹ اور زجر وتوبیخ کی ضروت نہیں پڑتی ہے؛ بلکہ وہاں کا ماحول خود جدید طلبہ کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ مطالعہ ومذاکرہ کے عادی بن جائيں۔ مطالعہ ومذاکرہ کے حوالے سے طلبہ کا آپسی تقابل وتنافس بھی قابل رشک ہے۔ ہمیشہ ایک طالب علم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے آگے بڑھے۔الحمد للہ، ہر سال اشرف العلوم کے درجنوں طلبہ مقابلہ جاتی داخلہ امتحان پاس کرکے، دار العلوم میں داخل حاصل کرتے ہیں۔ یہ عمدہ تعلیم وتربیت کا نتیجہ ہے کہ بہت سے والدین اور خود طلبہ کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح ان کا داخلہ جامعہ میں ہوجائے۔ میرے علم کے مطابق سن 2000ء کے آس پاس، جامعہ میں طلبہ کی تعداد، ساڑھے تین چار سو ہوا کرتی تھی، اب وہ تعداد بڑھ تقریبا 790 ہوگئی۔ یہ سب کچھ حضرت فقیہِ ملت کی قیادت اور نگرانی میں اب تک ہو رہا تھا۔ دعا ہے کہ اس ادارہ کا مستقبل اور اچھا رہے اور ادارہ ہر طرح کے شرور وفتن سے محفوظ رہے!

جس وقت فقیہِ ملتؒ نے جامعہ کی نظامت کی ذمہ داری سنبھالی تھی، اس وقت ادارہ میں، جانب شمال میں جو دار الاقامہ تھا تقریبا ایک درجن کھپرے والے حجروں پر مشتمل تھا؛ جب کہ جانب مشرق میں تقریبا چھ روم ایسے تھے جن پر چھت تھی۔ ما بقیہ تقریبا ایک درجن اور بھی کمرے تھے جن میں اساتذۂ کرام رہتے تھے اور طلبہ کی کلاس بھی اساتذہ کے روم میں ہوتی تھی۔ طلبہ تکرار ومطالعہ کے لیے اپنے رہائشی کمرہ کا استعمال کرتے تھے یا پھر مسجد کے صحن کا استعمال کرتے تھے۔ جو بھی عمارت تھی نہایت ہی مخدوش سالوں پرانی تھیں۔ موسم برسات میں، طلبہ کو اپنی کتابیں اور بستر کو پانی سے محفوظ رکھنا ایک اہم مسئلہ تھا۔ پھر آپ نے تھوڑا تھوڑا تعمیری کام شروع کیا۔ پہلے آپ نے مطبخ کی عمارت کی مرمت کروائی۔ پھر آپ نے جامعہ کی مسجد جو پہلے سے زیر تعمیر تھی، اس پر فرسٹ فلور پر چھت کا کام کروایا۔ اس کے بعد، گراؤنڈ فلور کو درجہ حفظ کے لیے خاص کردیا گیا اور فرسٹ فلور پر پنج وقتہ نماز پڑھی جانے لگی۔ پھر دار الاقامہ کا کام شروع ہوا اور درجنوں حجروں پر مشتمل دو منزلہ خوب صورت عمارت تعمیر کرائی گئی۔ دار الاقامہ میں طلبہ کو آج جو سکون واطمینان ہے، وہ ہم لوگوں کے وقت میں یکسر مفقود تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جامعہ نے آپ کی نظامت میں ہی اپنا سو سال مکمل کیا۔ اس مناسبت سے سہ روزہ صدسالہ جشن، 24-26 مارچ 2018 کو آپ کی سرپرستی میں منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں ہندوستان کے اکثر معروف اداروں اور تنظیموں کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ الحمد للہ، ان حضرات نے پروگرام شرکت کرکے جامعہ کی خدمات کا اعتراف کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں عوام نے اس صد سالہ جشن میں شرکت کی۔ ہزاروں ان قدیم وجدید طلبہ کے سر پر دستار باندھی گئی جنھوں نے اشرف العلوم سے حفظ القرآن الکریم کی تکمیل کی تھی۔ پروگرام بہت ہی کام یاب رہا۔ اس پروگرام کا میڈیا میں بھی چرچا رہا۔

آپ کی فقہی خدمات:
فقیہِ ملتؒ کوئی باضابطہ مفتی نہیں تھے۔ آپ شروع میں استفتا وغیرہ کا جواب نہیں لکھتے تھے۔ جب آپ جامعہ مونگیر پہنچے؛ تو حضرت امیر شریعت رابعؒ حضرت مولانا منت اللہ رحمانی (1912-1991) نے آپ کی فقہی بصیرت کا اندازہ لگا لیا۔ جب آپ کے پاس کوئی اہم خط آتا جس میں کسی اہم مسئلہ کا جواب مطلوب ہوتا؛ تو آپ فقیہِ ملت کو اس کا جواب لکھنے کا پابند بناتے۔ جواب تحریر کرنے کے بعد، آپ اسے امیر شریعت کی خدمت میں پیش کرتے۔ امیر شریعت اس پر نظر ثانی کرکے، اس شخص کو ارسال کردیتے۔ اس طرح آپ نے فقہی سوالوں کے جوابات لکھنے شروع کیے۔

جب حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحبؒ (1936-2002)نے سن 1988ء میں اسلامی فقہ اکیڈمی، انڈیا قائم کیا، تو آپ شروع سے اکیڈمی کے قافلے میں شامل رہے۔ آپ اکیڈمی کے رکن تاسیسی تھے۔ آپ اکیڈمی کے سیمینار میں پابندی سے شرکت کرتے اور جس موضوع پر سیمینار ہوتا اس پر مقالہ لکھتے۔ فقہ میں آپ کو دسترس حاصل ہونے کی وجہ سے شرکاءِ سیمینار آپ کی رائے کا احترام کرتے اور خود قاضی صاحب آپ کی رائے کو بڑی وقعت دیتے۔ آپ کو اکیڈمی کے سیمینار اور ادارہ مباحث فقہیہ، جمعیت علماء ہند کے فقہی سیمینار میں شرکت کی دعوت دی جاتی اور آپ ان دونوں ادارے کے سیمیناروں میں شرکت کرتے۔

فقیہِ ملت مطالعہ کے بہت ہی عادی تھے۔ آپ علوم فقہ وحدیث کا بہت گہرا مطالعہ کرچکے تھے۔ گرچہ آپ کا مطالعہ بڑا گہرا تھا، مگر آپ نے تصنیف وتالیف کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ مگر جب آپ کے سامنے کچھ اہم فقہی سوالات پیش کیے جاتے، آپ ان کے جوابات ضرور تحریر فرماتے۔ اس طرح حضرت امیر شریعت رابع کی ایماء پر، آپ نے دو اہم کتابچے: "وراثت میں پوتے کا حصہ” اور "معاشرتی مسائل کا حل یا دار القضاء” کی تصنیف فرمائی۔ دورانِ مطالعہ آپ نے جن جزئیے یا کسی نکتے کو ضروری سمجھا، اسے اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیا۔ اس ڈائری کا ایک حصہ گزشتہ سال (2018)، "علمی یاد داشتیں” کے نام سے منظر عام پر آیا ۔ اس پر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی حفظہ اللہ کا بڑا قیمتی "پیشِ لفظ” ہے۔ اس پیش لفظ میں جہاں آپ نے فقیہِ ملت کی علمی گہرائی وگیرائی کو بیان کیا، وہیں آپ نے اپنی تمنا کا اظہار کیا ہے کہ کاش مولانا کے شاگرد ان کی تحریروں (فقہی مقالات اور دوسری تحریریں جو گاہے بگاہے لکھی گئيں) کو مرتب کردیتے۔ جب راقم نے یہ مضمون لکھنا شروع؛ تو اپنے پاس موجود اسلامک فقہی اکیڈمی کی ان چند مطبوعات پر ایک نظر ڈالا، جن میں اکیڈمی کے سیمیناروں کے فقہی مقالات چھپے ہوئے ہیں۔ ان چند کتابوں میں مندرجہ ذیل موضوعات پر حضرت فقیہِ ملتؒ کے مقالات ملے۔ ان مقالات کے عنوانات یہ ہیں: "شیئرز: فقہ اسلامی کی روشنی میں”، "استثمار باموال الزکاۃ”، "انٹرنیٹ اور جدید ذرائع مواصلات کے ذریعہ عقود ومعاملات”، "بینک کے اے ٹی ایم ودیگر کارڈ سے استفادہ”، "قبضہ سے پہلے خرید وفروخت کا شرعی حکم”، "اعضاء کی پیوند کاری”، "خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل تدابیر کا استعمال”، "نوٹ کی شرعی حیثیت”، "مسئلہ ربوا” اور "نشہ کی طلاق کا مسئلہ”۔

اللہ تعالی نے اس راقم کو اشرف العلوم میں حضرت کی زیر نظامت چار سالوں تک تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بندہ کو فقیہِ ملت سے فن منطق کی معروف کتاب: "شرح التہذیب” سبقا سبقا پڑھنے کی سعادت حاصل ہے۔ جس سال آپ ہماری جماعت والوں کو یہ کتاب پڑھاتے تھے، آپ کے ذہین وفطین صاحبزادے مولانا ظفر صدیقی قاسمی بھی اسی جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ اب استاذ محترم اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کی یادیں آتی رہیں گی۔ بندہ دعا گو ہے کہ اللہ تعالی حضرت الاستاذ کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے۔ آمین! •••

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا

ہندی کا اٹھتا شور اور دینی مدارس کے لیے اعتدال کی را ہ!

مفتی اظہارالحق قاسمی بستوی*

ہندی اور اردو کا جھگڑا نیانہیں ہے۔ تقسیم وطن سے لے کر آج تک اردو پر یہ الزام عائد کیا جاتارہاہے کہ اردو بھارت کی زبان نہیں بل کہ؛ پاکستانیوں اورمسلمانوں کی زبان ہے،نیز یہ کہ اردو کا فروغ ملک کو تقسیم کی طرف ہی لے جائے گاجس کا اظہار مختلف اوقات میں فرقہ پرست تنظیموں کی طرف سے کیا جاتارہاہے۔ اردو کے ساتھ تقسیم کا نام جڑ جانے کی وجہ سے ہمیشہ اس کے ساتھ تعصب برتاگیااور اردو کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا گیا حالانکہ سچائی یہ ہے کہ اردو بھارت میں ہی پیداہوئی اور بھارت ہی میں پروان چڑھی اور آج بھارت میں ہی بوڑھی ہو رہی ہے۔
بھارتی پارلیمنٹ میں اکثریت کے ووٹ سے ہندی کو قومی زبان قرار دے دیے جانےکے بعد مولانا آزاد ؒ جو کہ اس وقت کے وزیر تعلیم تھے نے ہندی کو قومی زبان تسلیم کرتے ہوئے کہاتھا: "اب یہ سوال اٹھتاہی نہیں کہ پورے ملک کی زبان کون سی ہوگی؟ہندی کو جو جگہ ملنا تھی وہ مل گئی ۔اب ہر ہندوستانی کا فرض ہے کہ اس کے آگے سر جھکائے۔ لیکن اس کے ساتھ اردو کی جو جگہ ہے وہ اسے ملنی چاہیے۔اردو ایک ایسی زبان ہے جو کثرت کے ساتھ بولی جاتی ہے نہ صرف شمال میں بل کہ ؛جنوب میں بھی!( مظلوم اردو کی داستان غم بحوالہ الجمعیۃ آزاد نمبرصفحہ 6 بتاریخ 4/دسمبر 1958)
مولانا آزاد کے ہندی کو قومی زبان ماننے کے برملا اعتراف کےباوجود اس وقت تعجب اور افسوس کی انتہا ہو جاتی ہےجب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم پر بھی اردو کے سلسلے میں ایک غیر ملکی (بزعم دشمناں) زبان کی حمایت کا الزام عائد کیا گیا۔چناں چہ مولانافدا حسین صاحب مرحوم اپنی کتاب "مظلوم اردو کی داستان غم صفحہ 13 "میں رقم طراز ہیں:”سیٹھ گوبند داس (ایم پی) نے کہا:فرقہ پرست تو وہ لوگ ہیں جو ہندوستانی کلچر کے خلاف انگریزی یا اردو کی سرپرستی کرنا چاہتے ہیں۔درحقیقت انھیں پر فرقہ پرستی کا الزام عائد کرنا چاہیے۔اردو ملک کی تقسیم کی بنیاد ہے اور اردو کی علاقائی حیثیت تسلیم کرلینا ایساہے جیسے انگلی دےکر پہونچا پکڑوالینا”۔(الجمعیۃ آزاد نمبر صفحہ 115)
ظاہر ہے کہ ہندی کے حامی جب مولاناآزاد جیسے مضبوط قائدکے سامنے اس طرح کی بات کہہ سکتے ہیں اور وہ بھی اُس وقت جب کہ آرایس ایس اور اس کی حامی تنظیمیں اس قدر مضبوط نہیں ہوئی تھیں توپھر اِس وقت جب کہ ملک میں ا ن کی تہذیب و ثقافت کا بول بالا ہو چکاہے اور ملک کے چپہ چپہ پر انھیں کی چھاپ بنتی جارہی ہےوہ ماحول میں لسانی زہرکیوں نہیں گھولیں گے؟اور ہندی کا راگ کیوں نہیں الاپیں گے؟
ہندی کوتھوپنے کی بھی کوشش کوئی نئی نہیں ہے۔ ہندو مہاسبھا نے اپنے چوالیسویں اجلاس منعقدہ بنارس بتاریخ 20 /فروری 1959 کو ہی ہندی ، ہندو ، ہندوستان کانعرہ دیتے ہوئے کہا تھا:”ہندی ہی ایک ایسی زبان ہے جس کو ہم قومی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں۔ (حوالہ بالا صفحہ21)
اب گزشتہ کچھ زمانے سے مسلسل ایسی باتیں سامنے آرہی ہیں کہ بھارت کے مدارس میں اہل مدارس کو اپنا ذریعہ تعلیم و ذریعہ ریکارڈ صرف ہندی و انگریزی یا اردو کے ساتھ ہندی وانگریز ی کو بنالیناچاہیے۔ حکومت اپنے مدارس میں شاید عنقریب اس قانون کو نافذالعمل قرار دے دے۔ ہمارے اپنے حلقو ں سے بھی اسی طرح کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔چناں چہ مدارس میں ہندی زبان کے فروغ کےحوالے سے 24 /جنوری 2019 کو دو اہم پوسٹیں نظر نواز ہوئیں۔ ایک علی گڑھ کے صاحب کی اور دوسری ہمارے استاذمحترم مولانا محمد برہان الدین قاسمی صاحب کی۔موصوف امام الدین صاحب علیگ نے کہا:
"اس وقت اردو کا جھنڈا اہل مدارس کے ہاتھوں میں ہےاور انھیں کے کندھوں پر دین کی دعوت وتبلیغ کی ذمہ داری بھی ہے۔یہ دونوں کام ایک ساتھ دو ناؤ میں سواری کے جیسا ہے۔۔۔۔ اہل مدارس نے خود کو اردو کے خول میں بند کرکے اور اس کی حدبندی کو اپنے لیے لازم سمجھ کر بڑی غلطی کی ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ اردو کے ساتھ علماء کا دائرہ بھی دن بدن سکڑتاجارہاہے۔جب کہ اس کے برعکس مسلمانوں کی اکثریت اردو کو چھوڑ کر ہندی میں منتقل ہو چکی ہے۔ اس وقت اکثر مسلمان فارسی رسم الخط کے بجائے دیوناگری رسم الخط میں پڑھتے اور سمجھتے ہیں۔
ہندو بھائی تو پہلے سے ہی مجموعی طور پر ہندی میں منتقل ہو چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ علماء اور اہل مدارس سماج سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں جس کی وجہ سے دین کی دعوت کا کام بھی کافی حد تک متاثر ہواہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے مدارس اردو ذریعہ تعلیم اور فارسی رسم الخط کو چھوڑ کرہندی ذریعہ تعلیم اور دیوناگری رسم الخط کو اپنائیں۔
یہ انتہائی حیرت کی بات ہے کہ ہندی کے اتنی بڑی زبان ہونے کے باوجود ہندی میڈیم کا کوئی ایک بھی مدرسہ موجود نہیں ہے۔جب کہ آپ کو بنگالی، ملیالی اور دیگر کئی علاقائی زبانوں میں کئی مدرسے مل جائیں گے۔ وغیرہ”(ایشیاٹائمز 24/1/19)
موصوف علی گڑھی صاحب کے انداز گفتگوکی تصویب اورتمام باتوں کی تائید قطعانہیں کی جاسکتی کیوں کہ ان کی کئی باتیں سچائی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ لیکن یہ امر واقعی ہے کہ اس وقت اردو کا جھنڈا اہل مدارس کے ہاتھوں میں ہے۔لیکن ہندی کے حوالے سے بھی اہل مدارس بالکل لاعلم و نابلدنہیں ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق شمال کے تقریبا پچاس فیصد مدرسوں کے طلبہ کو ہندی آتی ہے لہذا موصوف کا یہ کہنا کہ ہندی میڈیم کا کوئی مدرسہ نہیں ہے یہ نرا بہتان ہےکیوں کہ اہل مدارس کے کسی قدر ہندی جاننے کی وجہ سے اس طرح کے مدرسوں کی ضرورت نہیں ہوئی۔شمال کے مدرسوں کے اکثر اساتذہ و طلبہ کو کسی نہ کسی حد تک اور بعضوں کو تو بہت اچھی بھی ہندی آتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شمالی ہند کے مدرسوں کے ماتحت چلنے والے پرائمری درجات اور مکاتب میں ہندی کی تعلیم لازمادی جاتی ہے۔ جہاں تک مہارت کا تعلق ہے تو یہ سچائی ہے کہ اکثر اہل مدارس اس سلسلے میں کم ہی ماہر ہوتے ہیں۔سماج سے کٹ جانے کا الزام بھی موصوف کی طرف سے علماپر زیادتی ہے کیوں کہ عوام تحریرچاہے وہ کسی بھی زبان کی ہو کم ہی پڑھتی ہے اور عوام سے علماء کا عمومی رابطہ چونکہ اکثر گفتگو کے ذریعے ہوتاہے اس لیے عوام علماء سے اب تک جڑی ہوئی ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ بھاری بھرکم اردو بولنے والے علماء کی زبان عوام کو کسی قدر کم سمجھ میں آتی ہے لیکن پھربھی عوام علماء سے کٹی نہیں ہے۔ البتہ موصوف کی اس بات سے قطعا انکار نہیں کیاجاسکتا کہ (شمال میں )مسلمانوں کی اکثر تعداد دیوناگری رسم الخط کو اردو کی بنسبت زیادہ سمجھتی ہے۔راقم الحروف جس علاقے میں خدمت کررہاہے وہاں کی عمومی صورت حال بھی یہی ہے کہ مسلم عوام کی اکثریت ہندی پڑھ اور سمجھ سکتی ہے جب کہ اردو سے مناسبت کم ہی ہے۔البتہ جنوب کے اہل مدارس ومسلمانوں کا نوے فیصد طبقہ ہندی توبالکل نہیں سمجھتا۔مدارس والے صرف اردو جب کہ جدید تعلیم یافتہ مسلمان صرف انگریزی سمجھتے ہیں اور کچھ کچھ ہندی کو سمجھتے ہیں۔بہرحال محترم امام الدین صاحب کی نیت پر شک کرنے کا کوئی جواز نہیں کہ شاید انھیں مدارس کے حوالے سے ان تفصیلات کا علم نہ ہو۔
آج یہ بات روز روشن کی طرح عیاں وبیاں ہے کہ درست اردو کی تعلیم کافی حدتک اب صرف مدرسوں میں رہ گئی ہے۔اور اگر میں یہ کہوں کہ یہ صرف مدارس اسلامیہ ہی ہیں جن کا ذریعہ تعلیم (میڈیم آف انسٹرکشن) مکمل طورپر اردو ہے ورنہ کسی بھی اسکول کاذریعہ تعلیم اردو نہیں بچاہے۔ دیگر تعلیم گاہوں میں کسی نہ کسی زبان کا تسلط اردو پر لازما پایاجاتاہے۔ جیسے یہی کہ اردو میڈیم اسکولوں میں پڑھانے والے اکثر اساتذہ اردو کی درست ابجد سے بھی واقف نہیں ہوتے ۔حکومتوں نے بھی اردو میڈیم اسکولوں کا براحال دیکھ کر یاتو انھیں بند کر دیا یا انھیں ہندی میڈیم کے ساتھ ضم کردیا؛ لیکن المیہ یہ ہے کہ مدارس کی اردوکے تئیں اس بے لوث خدمت کے نتیجے میں انھیں اردو کی خدمت کرنے والا تک تسلیم نہیں کیا جاتا۔خود ساختہ اہل اردو مدارس والوں کی اردو خدمت کو یکسر نظر انداز کرتے رہے ہیں۔جب کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اردو کے حوالے سے اہل مدارس کی خدمات کے بقدر انھیں حقوق دیے جاتے۔انھیں اعتبار کی نگا ہ سے دیکھا جاتا۔ان کی اسناد کو نہ صرف کچھ جگہوں پر بل کہ ؛ملک کے تمام محکموں میں قابل اعتبار سمجھا جاتالیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ گو کہ یہ بات درست ہے کہ مدارس میں پڑھائی جانے والی اردو میں اردو کے فنون :جیسے شعر وشاعری، قصہ گوئی ، ناول و افسانہ نگاری وغیرہ کے اصول واقعتا نہیں پڑھائے جاتےکیوں کہ اس میں کئی ایک اصناف سخن کو اہل مدارس درست نہیں سمجھتےاور اردو زبان کے سیکھنے اور جاننے کے لیے یہ فنون بنیادی طور پر ضروری بھی نہیں ہیں (حالاں کہ اگر اہل مدارس ان چیزوں کو جزئی طور پر ہی رکھ دیں تو ان کے طلبہ کے لیے یہ فنون بائیں ہاتھ کا کھیل ہیں)لیکن صرف اس وجہ سے اہل مدارس کی اردو خدمت کا انکار روز روشن کے انکار کے مرادف ہے کیوں کہ اہل مدارس کی جملہ تصنیفات اردو میں ہی ہوتی ہیں اور ان کی زبان کا معیار بھی اکثر انتہائی اعلی ہوتاہے۔
دوسری طرف اہل مدارس کو اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے اور ہندی کو اہمیت نہ دینے کے سبب تعلیم کے قومی دھارے سے کٹا ہوا سمجھا گیااور اردو کی خدمت کے باعث انھیں مشکوک نظروں سے دیکھا گیااور ہمیشہ انھیں انتہائی پڑھالکھا ہونے کے باوجود ان پڑھ اور گنوار سمجھا گیا۔ حکومت نے بھی ان کے جائز حقوق کے ساتھ ناانصافی کو روا رکھا۔ اردو اور مسلم دشمن خیمے میں مدارس کے خلاف نفرت کی بھٹی سلگائی جاتی رہی جس کے من جملہ اسباب میں سے ایک سبب اردو کو لازم پکڑنا بھی رہاہے۔ حالاں کہ اگر اہل مدارس نے اردو کے ساتھ ہندی کو اپنا لیا ہوتاتو شاید ان کے اوپر ہو رہی کیچڑ اچھالی میں کسی قدر کمی ضرور ہوتی۔
اس کا تیسرا پہلو یہ بھی رہا کہ مدارس سے نکلنے والے والے طلبہ کی اکثر یت اپنی معیاری قومی زبان سے ناواقف ہے اور اب تک اچھی طرح سے واقف نہ ہونے کی راہ چل رہی ہے اس کی بنیادی وجہ اہل مدارس کا صرف اردو کو لازم پکڑنا ہے ۔ اگر اردو کے ساتھ ہندی کو ہمارے مدارس میں وسعت دی جاتی تو بہت سے بہت صرف یہ نقصان ہوتاکہ اردو کےساتھ ساتھ ہندی بھی ہمارے مافی الضمیر کے اظہار کا ذریعہ ہوتی اورمجھے کہنے دیجیےکہ !اردوقطعا اسلام کی زبان نہیں ہے۔ اسلام کے لیے اردو بھی تمام زبانوں کی طرح ایک زبان ہے۔اسلام کی زبان صرف اور صرف عربی ہے۔ کیاایسا ہمارے اسی ملک میں نہیں ہوا ہے کہ پہلے اس ملک کی زبان فارسی بھی رہی لیکن گزرتے وقت کے ساتھ فارسی دم توڑ گئی اور اردو نے اس کی جگہ لے لی۔اور اب جب کہ اردو کو لے کر چلنا نہ صرف مشکل بل کہ بہت سارے نقصانات کا بھی ذریعہ ہو رہاہے تو کیوں نہ اردو کے ساتھ ہندی کو بھی اہل مدارس اختیار کریں۔اور ہندی کو اپنے اداروں میں مناسب جگہ دیں جیسا کہ مرکزالمعارف جیسے اداروں کے ذریعے انگریزی کو جگہ دی گئی ۔ جس کے نتیجے میں آج سیکڑوں علماء انگریزی زبان لکھنے اور بولنے پر قادر ہیں اور اس کے ذریعے مختلف جہات سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ہندی کے حوالے سے اب تک کوئی مناسب پیش رفت نظرنہیں آتی ۔
دوسری طرف ہمارے استاذاور معروف عالم دین حضرت مولانابرہان الدین صاحب (ڈائریکٹر مرکزالمعارف ممبئی و ایڈیٹر انگریزی ماہنامہ ایسٹرن کریسنٹ) نے بھی ہمارے دوست مفتی محمد طہ جونپوری کی ایک ہندی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: "بہت اچھا!میں نے اس پوسٹ کو اپنے فیس بک وال پر بھی شیر کیا ہے۔ مزید ہندی کتابیں پڑھو،زبان بہتر ہو جائے گی۔۔۔ بہتر ہے کہ صرف ہندی یا انگلش میں لکھو۔یہی دونوں زبانیں اب ہمارے مخاطبین کی زبانیں ہیں اور ہمیں جلد سے جلد ان کی طر ف منتقل ہونے کی ضرورت ہے۔(ایم ایم ای آر سی المنی گروپ ،نشر کردہ بتاریخ 24 جنوری 2019)
اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ اب ضرورت آن پڑی ہے کہ اہل مدارس ہندی کی تعلیم کے لیے سنجید ہ ہوں اور لازمی ہے کہ ہندی کافروغ اردو کی قربانی کی بساط پر نہ ہو۔کیوں کہ اہل مدارس کے لیے دونوں ضروری ہیں۔ اردو تو اس لیے کہ وہ اس سے مانوس بھی ہیں اور پوراعلمی اور دینی ذخیرہ اسی میں موجود ہےاور اس لیے بھی کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک ثقافت بھی ہےاوراس کی شیرینی من کو موہنے والی ہے۔ اور ہندی اس لیے کہ حالات اور دعوت دین کا تقاضا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس کو عملی جامہ کیسے پہنایاجائے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہرمدرسہ اپنے یہاں ہندی زبان کے سبجیکٹ کو باقاعد ہ طور شعبہ عالمیت کے سال اول سے کم از کم سال پنجم تک رکھے۔ اور پانچ سال میں گھنٹہ وائز کم از کم بارہویں تک کی ہندی پڑھادیں ۔شعبہ حفظ میں درجہ ہفتم تک کی ہندی سیکھنے کو لازم قرار دیں۔ اپنی دیگر تعلیم کے لیے اردو کو چاہیں توحسب معمول لازم پکڑیں اوراسی کو ذریعہ تعلیم بنا کر رکھیں۔
میں قطعا اس بات کا حامی نہیں کہ اردو کو قربان کردیا جائے لیکن مجھے محسوس ہورہاہے اور شاید میرے جیسے بہت سے لوگوں کو بھی کہ ارباب مدارس کو اب ہندی کو بھی اردو کی طرح اپنا لینا چاہیے۔اس سے میرے خیال میں ان کا کوئی دینی نقصان نہیں ہوگا؛ بل کہ مدارس میں پڑھنے والے بچوں کے ساتھ ساتھ ملک میں رہنے والے دوسرے لوگوں کا بھی فائدہ ہی ہوگا۔ شاید ہندی کے حوالے سے اہل مدارس کے لیے یہی اعتدال کی راہ ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان ہمارا ملک ہےاور یہی ہم اہل مدارس کے لئے حقیقی میدان عمل بھی ہے۔ اگر واقعتاہم نے اس ملک میں رہنے کا فیصلہ کیا ہےاور اس کی تقدیربدلنا چاہتے ہیں توہمیں اس سلسلے میں سوچنا ہوگااور ہندی کو اس کی مناسب جگہ دینی ہوگی ۔

*استاذ ومفتی مدرسہ عربیہ قرآنیہ ، اٹاوہ، اترپردیش
izhar.azaan@gmail.com

فقیہِ ملت حضرت مولانا زبیر احمد قاسمی صاحبؒ (1936-2019) کا علمی سفر

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

سوہان ِروح خبر:
جہاں ایک طرف 13/جنوری 2019 کی صبح کا سورج آہستہ آہستہ اپنی شعائیں بکھیر کر، پورے عالم میں اپنی روشنی پھیلا رہاتھا، موسم سرما میں کپکپا اور تھر تھرا رہے لوگوں کو اپنی تمازت سے گرمی پہنچا رہا تھا، وہیں دوسری طرف علوم وفنون کا ایک سورج جس کی روشنی چند سال پہلے سے ہی مدھم ہورہی تھی غروب ہوگیا۔ یہ خبر میرے لیے، بلکہ سیکڑوں اہل علم وفضل کے لیے سوہانِ روح بن کر پہنچی کہ علوم فقہ وحدیث اور منطق وفلسفہ کا ممتاز اسکالر تین سالہ لمبی علالت کے بعد، ہمیں داغ مفارقت دے کر، اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ آپ کی علمی گہرائی وگیرائی کی وجہ سے آپ کی رائے کو معاصر اہل علم بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ علم فقہ میں آپ کے نظریہ کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ (1936-2002) جیسی فقہ کی عبقری شخصیت آپ کی رائے کا احترام کرتے اور اس میں وزن محسوس کرتے تھے۔ ان بے ربط چند جملوں سے میری مراد حضرت الاستاذ فقیہِ ملت مولانا زبیر احمد قاسمیؒ کی عظیم شخصیت ہے۔ تین سالوں سے آپ جس طرح رہین فراش تھے کہ لوگوں کو ہر وقت یہ خدشہ لگا رہتا تھا کہ کسی وقت بھی آپ داغ مفارقت دے جائیں گے؛ چناں چہ ایسا ہی ہوا اور آپ خالق حقیقی سے جا ملے۔ یہ اللہ تعالی کا فیصلہ تھا۔ اسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ بہر کیف آپ کی موت کی خبر سے بہت صدمہ اور غم ہوا۔ اس خبر کے ملتے ہی ہم نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر اپنا غم ہلکا کیا۔

فقیہِ ملت کی پیدائش:
فقیہِ ملت کی پیدائش چندرسین، ضلع: مدھوبنی کے ایک متوسط خاندان میں یکم جنوری 1936 کو ہوئی۔ آپ کے والد ماجد جناب عبد الشکور صاحبؒ تھے۔ آپ کے والد ماجد کی وفات آپ کے بچپن میں ہی ہوگئی اور آپ یتیم ہوگئے۔ چندرسین پور میں کچھ ایسے باصلاحیت اور نیک وصالح علماء کرام گزرے ہیں کہ ان کی دینداری اور علمی صلاحیت کی وجہ سے یہ گاؤں اہل علم کے حلقہ میں خاصا معروف ہے۔

فقیہِ ملت کا تعلیمی سفر:
فقیہِ ملتؒ کے تعلیمی سفر کا آغاز گاؤں کے مکتب سے ہوا۔ آپ نے گاؤں کے مکتب میں جناب مولانا امیر الحق صاحب مفتاحیؒ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ مکتب میں آپ نے قرآن کریم اور اردو کی ابتدائی کتابوں کی تکمیل کے بعد، علاقے کی دینی درس گاہ: مدرسہ بشارت العلوم، کھرایاں پتھرا، دربھنگہ میں داخلہ لیا۔

اس ادارہ میں آپ نے فارسی کی جماعت سے پڑھنا شروع کیا۔ پھر آپ نے عالمیت کورس شروع کیا۔ یہاں آپ نے فقہ حنفی کی مشہور کتاب: ہدایہ اولین اور جلالین شریف تک کی تعلیم حاصل کی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مدرسہ میں آپ نے ساری کتابیں حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ (1897-1957) کے شاگرد، حضرت مولانا سعید احمد صاحب قاسمیؒ سے پڑھی جو آپ کے رشتے کے چچا اور آپ کے گاؤں کے تھے۔ مولانا سعید احمد صاحب درس نظامی کے مشہور معلم اور نیک طینت، پاک خصلت انسان تھے۔

فقیہِ ملتؒ نے اپنے تعلیمی سفر کی تکمیل کے لیے ایشیاء کی عظیم دینی درس گاہ: دار العلوم دیوبند کا رخ کیا اور سن 1377ھ میں دار العلوم میں داخلہ لیا۔ آپ دو سال تک دار العلوم میں رہے۔ اس دوران آپ نے علومِ فقہ، حدیث اور تفسیر حاصل کیا اورسن 1379ھ میں فضیلت کی تکمیل کی۔ آپ نے بخاری شریف علامہ فخر الدینؒ (1307-1393) مراد آبادی سے پڑھی۔ دار العلوم، دیوبند میں آپ نے علامہ محمد ابراہیم بلیاویؒ (1886-1967)، شیخ بشیر احمد خانؒ (وفات: 1966)، قاری محمد طیّب صاحبؒ (1897-1983)، شیخ ظہور احمد دیوبندیؒ(1900-1963)، شیخ فخر الحسنؒ، شیخ سید حسنؒ وغیرہم جیسے اساتذۂ کرام سے استفادہ کیا۔

تدریسی سفر:
تعلیم سے رسمی فراغت کے بعد، اسی سال یعنی 1379ھ میں فقیہِ ملت کی تقرری بحیثیت مدرس مدرسہ بشارت العلوم، کھرایاں پتھرا میں ہوئی۔ ڈیڑھ سال تک اپنی خدمات پیش کرنے کے بعد، آپ نے 15/ ربیع الاول 1380ھ کو استعفی دے دیا۔ پھر آپ تدریسی خدمات کے لیے مدرسہ اسلامیہ، مغلہ کھار، ضلع: نوادہ تشریف لے گئے۔ آپ بشارت العلوم میں وسطی جماعت کے طلبہ کو پڑھا چکے تھے اور یہاں ابتدائی درجات کے طلبہ تھے؛ اس لیے آپ نے چند ہی مہینے کے بعد، اس ادارہ سے استعفی دے دیا۔ بشارت العلوم کی انتظامیہ نے آپ کو دوبارہ ادارہ سے منسلک ہونے کو کہا؛ چناں چہ آپ پھر اس ادارہ سے منسلک ہوگئے۔ آپ یہاں تقریبا چھ سال رہے،جمادی الاخری 1387ھ میں مستعفی ہوگئے۔

جامعہ اشرف العلوم میں بحیثیت صدر مدرس:
شوال 1387ھ میں، جامعہ اشرف العلوم، کنہواں، سیتامڑھی کے متقی وپرہیزگار اور ولی صفت ناظم، حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ نے بحیثیت صدر مدرس آپ کی تقرری کی۔ آپ نے بتوفیق خداوندی اپنی جد وجہد اور کوشش سے، ادارہ کا تعلیمی معیار بہت بلند کیا۔ آپ کی صدارت میں جامعہ کی جو ترقی ہوئی، اسے اہل علم نے محسوس کیا۔ ذمہ داران نے آپ کی خدمات کو سراہا اور تعلیمی معیار کی تعریف کی۔ بحیثیت صدر مدرس، تقریبا دس سال تک بے لوث خدمات انجام دینے کے بعد، ذو الحجہ 1397ھ میں آپ مستعفی ہوگئے۔

فقیہِ ملت جامعہ رحمانی میں:
محرم 1398ھ میں حضرت امیر شریعت رابع مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ (1912-1991) نے آپ کو جامعہ رحمانی، مونگیر میں تدریسی خدمات کے لیے تشریف لانے کی دعوت دی۔ آپ نے ان کی دعوت قبول کی اور جامعہ رحمانی پہنچ گئے۔ جامعہ میں مختلف علوم وفنون کی کتابیں آپ کے زیر درس رہیں۔ امیر شریعت نے کچھ دنوں میں آپ کی تدریسی صلاحیت کو تاڑ لیا اور آپ کے طرز تدریس کو سراہتے اور تعریف کرتے۔ آپ بھی جامعہ میں تدریسی خدمات سے لطف اندوز ہوئے اور تقریبا نو سالوں تک اس ادارہ میں تدریسی خدمات انجام دیا۔ پھر کچھ عوارض کی وجہ سے 10/شوال 1406 ھ کو جامعہ سے مستعفی ہوگئے۔

جامعہ مفتاح العلوم میں:
جامعہ رحمانی سے مسعتفی ہونے کے بعد، جامعہ مفتاح العلوم، مئو کی انتظامیہ کی درخواست پر آپ وہاں 16/شوال 1406ھ کو پہنچے۔ انتظامیہ نے آپ کی شایان شان آپ کا استقبال کیا اور ہر ممکن سہولیات کا انتظام کیا۔ آپ کو بخاری شریف کی تدریس کا موقع دیا گیا، مگر آپ نے آئندہ سال کا وعدہ کرکے، اس سال بخاری پڑھانے سے معذرت کرلی۔ آپ اس ادارہ میں ایک سال تک درجہ علیا کی کتابوں کا درس دیا۔ مگر آب وہوا راس نہیں آئی اور مجبورا 5/شوال 1407 ھ کو استعفی نامہ انتظامیہ کے نام بھیجنا پڑا۔

سبیل السلام سے جامعہ رحمانی تک:
دار العلوم سبیل السلام، حیدر آباد کے ناظم حضرت مولانا رضوان القاسمیؒ (1944-2004) اور اس وقت کے صدر المدرسین حضرت خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ نے آپ کو سبیل السلام میں بحیثیت شیخ الحدیث آنے کی دعوت دی۔ آپ حیدر آباد کے لیے 15/شوال 1407ھ کو روانہ ہوگئے۔ اس وقت تک دورۂ حدیث شریف کی جماعت کے طلبہ نہیں تھے؛ لہذا اس صورت میں آپ کے لیے وہاں رہنا کچھ مشکل سا لگا۔ چند مہینے بعد، آپ وہاں سے واپس آگئے۔ پھر امیر شریعت رابع کا حکم ہوا کہ آپ جامعہ رحمانی میں پھر سے تدریسی خدمات شروع کردیں؛ لہذا دوبارہ آپ محرم 1408ھ میں جامعہ رحمانی سے منسلک ہوگئے۔

سبیل السلام میں بحیثیت شیخ الحدیث:
آئندہ تعلیمی سال، یعنی شوال 1408ھ میں سبیل السلام میں دورۂ حدیث شریف کا آغاز ہوا۔ ناظم اور صدر مدرس صاحبان نے پھر اصرار شروع کیا، ان کے اصرار کے بعد، آپ 21/شوال 1408 کو بحیثیت شیخ الحدیث سبیل السلام پہنچ گئے۔ آپ نے یہاں چار سالوں تک بخاری شریف کا درس دیا۔ اس مدت میں متعدد بار جامعہ اشرف العلوم، کنہواں کے ذمے داروں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ جامعہ تشریف لائیں اور ادارہ کی ترقیات میں تعاون فرماءیں؛ کیوں کہ جامعہ کی صورت حال دن بدن خراب ہوتی جارہی تھی۔ آپ نے اشرف العلوم میں خدمت کا ارادہ کرلیا؛ چناں چہ 14/شعبان 1412ھ کو سبیل السلام سے مستعفی ہوگئے۔ اپنی کچھ شرطوں کی منظوری کے بعد، آئندہ تعلیمی سال یعنی شوال 1412 میں، آپ جامعہ میں بحیثیت صدر مدرس تشریف لےگئے۔

چند سالوں کے بعد، جامعہ اشرف العلوم کے اس وقت کے ناظم حضرت مولانا انوار الحق صاحبؒ، نظرہ، مدھوبنی کی وفات ہوگئی۔ پھر فقیہِ ملت ناظم منتخب ہوئے۔ آپ نے بحیثیت ناظم تقریبا پچیس سالوں تک جامعہ میں اپنی خدمات پیش کی۔ تین سال قبل، سن 2016ء کے اواخر میں، آپ کی طبیعت کچھ زیادہ خراب ہوگئی۔ پھر 7/اکتوبر 2016ء کو پٹنہ کے ایک ہسپتال میں آپ کے قلب کا آپریشن ہوا۔ اس آپریشن کے بعد بھی آپ کی طبیعت سنبھل نہیں سکی اور آپ رہین فراش رہنے لگے؛ چناں چہ آپ اپنے وطن میں مقیم ہوگئے۔ مگر ہفتہ دس دن کےلیے گاہے بگاہے اشرف العلوم تشریف لے جاتے اور وہاں کی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کرتے۔ جہاں مشورہ اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی، رہنمائی کرتے اور پھر واپس آجاتے۔

اس تین سالہ مدت میں، مختلف جگہوں پر آپ کا علاج ہوا۔ کبھی مدھوبنی، کبھی پٹنہ اور کبھی آپ کو دہلی لے جایا گیا۔ مگر ایک بڑھتی عمر، دن بدن گرتی صحت اور کمزوری میں اضافہ ہوتا رہا۔ ابھی اخیرمیں جب آپ کی طبیعت خراب ہوئی؛ تو فورا آپ کو مدھوبنی لے جایا گیا۔ مدھوبنی کے اسپتال میں ہی 13/جنوری 2019 کی صبح کو، سات بجکر تیس منٹ پر، آپ نے آخری سانس لی۔ آپ کی وفات کی خبر جوں ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، قرب جوار سے علماء وعوام آپ کے گاؤں پہنچنے لگے۔ جامعہ اشرف العلوم کے موجودہ ناظم حضرت الاستاذ مولانا اظہار الحق صاحب مظاہری حفظہ اللہ اور دوسرے اساتذہ پر مشتمل ایک وفد آپ کے جنازہ میں شرکت کے لیے وہاں پہنچا۔ اسی طرح ایک وفد امارت شرعیہ، پٹنہ سے آیا۔ آپ کی نماز جنازہ اسی دن بعد نمازِ عصر ، آپ کے صاحبزادے، مولانا اویس انظر قاسمی صاحب نے پڑھائی۔ نماز جنازہ سے قبل، حضرت مولانا اظہار الحق صاحب نے مختصر تقریر کی۔ ہزاروں لوگوں نے علوم وفنون کے تھکے مسافر کو ان کے آبائی گاؤں کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا۔ اللہ تعالی آپ کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے۔ آمین!

آپ کے پس ماندگان:
فراغت کے متصلا بعد، مدھوبنی ضلع کے معروف قصبہ: "پرسونی” میں، جناب حاجی محمد ادریس صاحبؒ کی صاحبزادی سے آپ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ آپ کے پس ماندگان میں آپ کی اہلیہ محترمہ، دو لڑکیاں اور پانچ لڑکے ہیں۔ سب سے بڑے صاحبزادے جناب مولانا وحافظ اویس انظر قاسمی ہیں جو سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ حضرت کی وفات کے وقت، آپ گھر پر ہی تھے اور آپ نے ہی نماز جنازہ کی امامت کی۔ دوسرے صاحبزادے جناب حافظ اسید انظر صاحب ہیں جو علاقہ میں ہی کسی دینی مدرسہ میں تدریسی خدمات میں مشغول ہیں۔ پھر جناب محمد سجادصاحب ہیں جو گھر پر ہی مقیم ہیں۔ چوتھے صاحبزادے میرے رفیق درس جناب مولانا حافظ ظفر صدیقی قاسمی ہیں۔ آپ بڑے ہی ذہین وفطین ہیں۔ آپ کی بنیادی کتابوں کی صلاحیت قابل رشک ہے۔ آپ ہمیشہ اپنے ساتھیوں میں ممتاز رہے۔ آپ بہترین خطاط بھی ہیں، اس باوجود آپ نے خطاطی کا پیشہ اختیار نہیں کیا۔ آپ ان دنوں دہلی میں مدرسہ تعلیم القرآن میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حضرت کے سب سے چھوٹے صاحبزادے جناب افضل صاحب ہیں۔ انھوں نے ابتدائی اسلامی تعلیمات کے حصول کے بعد، اسکول سے منسلک ہوگئے۔ ان دنوں سعودی میں مقیم ہین۔ اللہ تعالی ان سب بھائی بہن کو صحت وعافیت کے ساتھ رکھے۔ •••

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

حجۃ الاسلام امام محمد قاسم…

حجۃ الاسلام امام محمد قاسم نانوتویؒ کی تصانیف
امام محمد قاسم نانوتویؒ نے مختلف موضوعات پر اپنا قلم اٹھایا ۔ آپ کی تصانیف نہایت علمی اور تحقیقی ہیں۔آپکی تصانیف علم کلام سے لبریز ہیں۔ اسکے علاوہ آپ نے اپنی تصانیف میں جدید فلسفۂ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ علم کلام کی گہرائی اور فلسفۂ دین کے سبب حضرت الامامؒ کی تصانیف عام فہم نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ علماء کا وہ طبقہ جو علمِ کلام پر گہری نظر نہیں رکھتا اس طبقے کے لئے بھی امام نانوتویؒ کی تصانیف کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔ امام نانوتویؒ کی باقاعدہ تصانیف کی علمی نوعیت اور علمی حلقے میں انکے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے ذاتی مکتوبات گرامی ہی کس قدر علم کی گہرائی لئے ہوئے ہیں، اکثر مکتوبات گرامی ہی بعد میں تالیفات اور تصانیف کی شکل میں شائع بھی کئے گئے اور انکو شائع کرنے والے ان مکتوبات کے مکتوب الیہ ہی ہیں جو ان مکتوبات کے انتہائی اعلی علمی مندرجات سے بے پناہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی کے الفاظ میں(قاسم العلوم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ،احوال و آثاروباقیات ومتعلقات ص۶۹۱):
’’علمی موضوعات پر جو گرامی نامے تحریر فرمائے ہیں انکے مباحث میں بڑا تنوع اور وسعت ہے، ان میں اسرار دین و شریعت کی گفتگوہے،تفسیر و حدیث کے نکات کی گرہ کشائی فرمائی گئی ہے،فقہی مسائل بھی زیر قلم آئے ہیں۔تراویح و قرأت ضاد(ض)،جمعہ اور اس دور میں موضوع بحث بنے ہوئے مسائل پر بھی توجہ فرمائی گئی ہے۔ہندوستان کی شرعی حیثیت اور اس کے دار الحرب ہونے نہ ہونے اور یہاں عقود فاسدہ پر بھی اظہار خیال فرمایا گیا ہے۔شرک و بدعت کے کلیدی مباحث کو بھی واضح کیا گیا ہے،مختلف دینی فرقوں کے نظریات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے،امکان نظیر کے واضح دلائل تفصیل سے لکھے ہیں،امتناع نظیر کے ماننے والوں کے دلائل کا علمی تجزیہ فرمایا ہے۔ردشیعت پر بھی خاص توجہ ہے،خلافت وامامت اور باغ فدک وغیرہ کے مشہور اختلافی موضوعات کا بھی علمی،عقلی جائزہ لیاہے۔مسلمانوں کے بگاڑ و زوال کے اسباب کا ذکر ،اوراپنوں کی اندرونی کمزوریوں پر بھی کہیں کہیں احتساب کیا ہے۔غرض بیسیوں موضوعات و مباحث ہیں جو ان مکتوبات میں زیر قلم آئے ہیں، لیکن ہر ایک کی جامعیت، مضامین کی فراوانی اور دلائل کی گہرائی وگیرائی کا یہ عالم ہے کہ ہر تجزیہ منفرد اور ہر بحث حرف آخر معلوم ہوتی ہے۔‘‘
حضرت الامامؒ کی زیادہ تر تصانیف کتب و رسائل کی شکل میں شائع ہو چکی ہیں۔اور کچھ تصانیف مخطوطات کی شکل میں محفوظ ہیں۔ شائع ہو چکی تصانیف کا تذکرہ حسب ذیل ہے:
۱۔بخاری شریف تصحیح وحواشی(طباعت اول ۱۲۶۴ ؁ھ): امام ؒ کے استاذمحترم حضرت مولانا احمد علی محد ث سہارنپوریؒ کے حکم پر الامام نانوتوی قدس سرہ العزیزنے بخاری شریف کے آخری ۳ پاروں کے حواشی کا تکملہ محض ۱۷ سال کی عمر میں فرمایا تھا۔
۲۔آب حیات(طباعت اول ۱۲۹۸ ؁ھ)
۳۔اجوبۂ اربعین(طباعت اول ۱۲۹۱ ؁ھ)
۴۔الاجوبۃ الکاملہ فی الاسولۃ الخاملۃ(طباعت اول ۱۳۲۲ ؁ھ)
۵۔الدلیل المحکم علی قراۃ الفاتحۃ للمؤتم(طباعت اول۱۳۰۲ ؁ھ)
۶۔توثیق الکلام فی الانصات خلف الامام(طباعت اول۱۳۰۲ ؁ھ) اس اشاعت کے آخر میں ایک فتوی بھی شامل ہے کہ غیر مسلم کے ذبح کئے ہوئے گوشت کا کیا حکم ہے۔دارالعلوم دیوبندکے شیخ الحدیث مولانا سعید احمد پالنپوری صاحب مدظلہ العالی نے الدلیل المحکم اورتوثیق الکلام کی مشترک شرح ’’کیا مقتدی پر فاتحہ واجب ہے؟‘‘ لکھی ہے۔
۷۔اسرار قرآنی(طباعت اول۱۳۰۴ ؁ھ)
۸۔انتباہ المومنین(طباعت اول۱۲۸۴ ؁ھ)
۹۔انتصارالاسلام(طباعت اول۱۲۹۸ ؁ھ)
۱۰۔تحذیر الناس (طباعت اول۱۲۹۱ ؁ھ)یہ کتاب حضرت الامام قدس سرہ العزیز کی معرکۃ الآرا ء تصانیف میں سے ایک ہے جسکا موضوع ختم نبوت ﷺہے۔ مگر یہ کوئی باقاعدہ تالیف نہیں تھی۔ یہ ایک ذاتی مکتوب تھا جو امامؒ نے اپنے قریبی عزیز اور معاصرمولانا محمد احسن نانوتویؒ کے ایک سوال کے جواب میں لکھا تھا۔مولانا احسن صاحب کو معقولات اور علم کلام پردسترس حاصل تھا لہذاامام نانوتویؒ نے فلسفہ دین اور کلامیات کے امتزاج کے ساتھ یہ جواب لکھاتھا اور اس بات کا کوئی خدشہ نہیں تھا کہ مولانا محمد احسن صاحب کو اس کے عنوانات اور بلند پایہ علمی بحث کو سمجھنے میں کوئی دشواری ہوگی۔ اور ایسا ہوا بھی۔ اس مکتوب کی بلندپایہ علمی بحث مولانااحسن صاحب کے ہی شایا ن شان تھی۔مولانا اس مکتوب سے اتنے متاثر ہوئے کہ اسے امام نانوتویؒ کو مطلع کئے بغیرتحذیر الناس کے نام سے شائع کردیا۔
اس کے شائع ہونے کے بعد چند ممتاز علماء نے (اہل علم کے اصول کے مطابق) تحذیر الناس کے مندرجات کی تحقیق کے لئے خود بانئ دارالعلوم دیوبند امام محمد قاسم النانوتویؒ کو مکتوب لکھے۔جن کے تشفی بخش جواب لکھ کر امام نانوتویؒ نے ان کو مطمئن کیا اور ان جید علماء نے تحذیر الناس کے بلند پایہ علمی بحث کو سمجھنے میں ہوئی غلطی کے لئے معذرت بھی کی۔مگر ایک مختصر سا طبقہ جو مولوی عبدالقادربدایونی کی سرکردگی میں کام کر رہا تھااور ولی اللہی مکتب فکر اور اس حلقے کے علماء کی تردید و مخالفت میں سرگرم عمل تھا اس نے امام نانوتویؒ کے خلاف بھی اپنی روش پر چلتے ہوئے انتہائی خیانت ومنافقت کے ساتھ غیر ذمہ داری کا ثبوت پیش کیا۔امام نانوتویؒ کے خلاف فتوے اور رسالے شائع کئے ۔ان فتووں اور رسالوں کا علم اور دیانت سے دور کا بھی رشتہ نہیں ۔ بعد میں اسی مسئلے کو انتہائی خیانت کے ساتھ جاہل اور بدعتی فرقہ رضاخانیہ بریلویہ کے بانی مولوی احمدرضا خان بریلوی نے علماء دیوبند کے خلاف تکفیری مہم کے لئے استعمال کیا۔ حالانکہ تحذیر الناس ختم نبوت پر اب تک کی سب سے معرکۃ الآراء تصنیف ہے ،جس کے بعد تکمیل نبوت کے عنوان پر کسی بحث کی ضرورت پیش نہیں آتی۔لیکن مخالفین اور معاندین جو امام نانوتویؒ کے بلند پایہ علمی طریقۂ بحث سے بالکل ناواقف ہیں اور اس مقامِ علم سے کوسوں دور ہیں انہوں نے امام ؒ کی اس معرکۃ الآراء تصنیف کو بالکل الٹا معنی پہنا کر امامؒ پر نعوذ باللہ ختم نبوت کے انکار کا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور منافقانہ الزام عائد کیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
۱۱۔تحفہ لحمیہ(طباعت اول بلاسنہ،طباعت دوم۱۳۱۲ ؁ھ)
۱۲۔تصفیۃ العقائد(طباعت اول۱۲۹۸ ؁ھ)
۱۳۔تقریر دل پزیر(طباعت اول۲۹۹ ؁۱ھ)
۱۴۔تقریر ابطال جزو لایتجزیٰ: یہ جزء لایتجزیٰ کے ابطال پر حضرت الامامؒ کی اس تقریر کی ترجمانی ہے جو امامؒ نے رامپورمیں ایک جلسہ عام میں کی تھی۔حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے یہ تقریر اس جلسے میں حاضر کسی شخص سے سنی تھی اور اس کو اپنے الفاظ میں مرتب کر کے صدرا کے حاشیے پر شائع کر دیا تھا۔
۱۵۔جواب ترکی بہ ترکی(طباعت اول۱۲۹۶ ؁ھ)
۱۶۔براہین قاسمیہ توضیح، جواب ترکی بہ ترکی(طباعت اول ۱۳۸۴ ؁ھ)
۱۷۔حجۃ الاسلام(طباعت اول۱۳۰۰ ؁ھ)
۱۸۔تتمہ حجۃ الاسلام(طباعت اول۱۲۸۹ ؁ھ)
۱۹۔حق الصریح فی اثبات التراویح(طباعت اول بلا سنہ)
۲۰۔قبلہ نما(طباعت اول۱۲۹۸ ؁ھ)
۲۱۔قصائد قاسمی(طباعت اول۱۳۰۹ ؁ھ)
۲۲۔گفتگوئے مذہبی(طباعت اول۱۲۹۳ ؁ھ)
۲۳۔مباحثہ شاہ جہاں پور(طباعت اول۱۲۹۹ ؁ھ)
۲۴۔مصابیح التراویح(طباعت اول۱۲۹۰ ؁ھ)
۲۵۔مناظرہ عجیبہ(طباعت اول بلاسنہ)
۲۶۔ہدیۃ الشیعہ(طباعت اول۱۲۸۴ ؁ھ): اس معرکۃ الارا تصنیف میں حجۃ الاسلام امام محمد قاسم نانوتویؒ نے کتب حدیث کے مراتب و طبقات اور اصول تنقید کی تحقیق امام الہند شاہ ولی اللہ محد ث دہلویؒ کے نظریات کی روشنی میں فر مائی ہے۔