فقیہِ ملت حضرت مولانا زبیر ا حمد صاحبؒ قاسمی کی نمایاں خدمات

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

Email: qasmikhursheed

آپ کی خدمات:
حقیقت یہ ہے کہ فقیہِ ملت حضرت مولانا زبیر احمد قاسمی صاحبؒ (یکم جنوری 1936 – 13/جنوری 2019) ایک ممتاز اور بافیض مدرس تھے۔ ہر موقع سے یہ رنگ آپ میں غالب نظر آتا تھا، چاہے آپ کوئی تحریر لکھ رہے ہوں یا پھر مجمع عام میں عوام سے خطاب کر رہے ہوں، گرچہ آپ جلسہ جلوس میں شرکت سے بہت حد تک اجتناب کرتے تھے۔ آپ نے مختلف مدارس وجامعات میں تقریبا پچاس سالوں تدریسی خدمات انجام دی۔ اس خدمات کے دوران آپ دار العلوم سبیل السلام، حیدر آباد کے شیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز رہے۔ آپ جامعہ اشرف العلوم، کنہواں، کے صدر مدرس اور ناظم رہےاورانتظامی امور سنبھالا۔ آپ کو فن فقہ میں تخصص کا درجہ حاصل تھا اور آپ اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا کے رکن تاسیسی تھے۔ مختصر یہ ہے کہ آپ کی نمایاں خدمات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ (1) تدریسی خدمات، (2) انتظامی خدمات اور (3) فقہی خدمات۔ ہم ذیل میں آپ کی ان نمایاں خدمات پر مختصرا روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تدریسی خدمات:
فقیہِ ملتؒ نے علم دین کی نشر واشاعت کے لیے تدریس کو منتخب کیا ۔ آپ نے اپنی تدریسی خدمات کا آغاز مدرسہ بشارت العلوم، کھرایاں پتھرا سے کیا۔ یہ تدریسی خدمات کا سفر آپ نے جو جوانی میں شروع کیا وہ پھر رکا نہیں۔ آپ تقریبا پانچ دہائیوں تک پوری محنت اور لگن کے ساتھ تدریسی خدمات سے لگے رہے۔ آپ نے ابتدائی کتابوں سے لے کر دورۂ حدیث شریف تک کی کتابیں، بلکہ بخاری شریف بھی پڑھائی۔ ہزاروں طالبان علوم نبوت نے آپ سے استفادہ کیا۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آپ سب سے پہلے ایک ممتاز،کامیاب اور مقبول مدرس اور استاذ تھے۔ اس لمبی مدت میں آپ کو کبھی کسی ادارہ میں تدریسی خدمات کے لیے درخواست دینے کی ضرورت نہیں پیش آئی؛ بلکہ آپ کی صلاحیت وصالحیت، علمی گہرائی وگیرائی اور انداز تدریس وتفہیم کی وجہ سے آپ کو مدارس کی انتظامیہ خود مدعو کرتی تھی؛ تاکہ آپ کے علم سے اس ادارہ کے طلبہ استفادہ کرسکیں۔ آپ جہاں بھی تدریسی خدمات کے لیے تشریف لے گئے، آپ اپنی شرائط وقیود کے ساتھ تشریف لے گئے۔ جب دیکھا کہ حالات موافق نہیں ہیں، تو قبل اس کے کہ انتظامیہ کے ساتھ ناخوشگوار حالات پیدا ہوں، آپ نے استعفی دینے کو ترجیح دی۔ یہی وجہ تھی کہ پھر دوبارہ کسی ادارہ میں جانے میں آپ کو کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوئی اور انتظامیہ کو بھی آپ کو دوبارہ بلانے میں کوئی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

یہ بات قابل فخر ہے کہ اکابرِ اساتذہ کی موجودگی میں، آپ نے تدریس کے پہلے سال میں ہی ابتدائی درجات سے ثانوی درجات تک کی کتابیں پڑھائی۔ اللہ نے آپ کو ایسی صلاحیت سے نوازا تھا کہ آپ کسی بھی فن کی کسی کتاب کو بخوبی آسانی کے ساتھ پڑھانے اور طلبہ کو سمجھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ کے طریقہ تدریس کی بڑی تعریف ہوتی تھی۔ درسِ نظامی کے اساتذہ کو بخاری شریف کی تدریس کا موقع ملنا، ان کی علمی صلاحیت کا اعتراف ہوتا ہے۔ الحمد للہ، آپ کو یہ موقع بھی ملا اور آپ نے بخاری پڑھانے کا حق ادا کردیا۔ اہلِ علم اس بات کا اعتراف ضرور کریں گے کہ آپ ایک قابل، مقبول اور کامیاب مدرس تھے اور آپ نے ہزاروں شاگر پیدا کیے۔

فقیہِ ملتؒ کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ وہ مختلف میدانوں میں قوم وملت کی خدمت کر رہے ہیں۔ آپ کے چند شاگردوں کے اسماء گرامی یہاں درج کیے جاتے ہیں۔ مولانا مطلوب الرحمان مظاہری (ناظم: مدرسہ مصباح العلوم، مکیا، مدھوبنی)، مولانا محمد مرتضی صاحبؒ (سابق ناظم: جامعہ اسلامیہ قاسمیہ، بالاساتھ، سیتامڑھی)، مولانا ذاکر حسین قاسمی (صدر مدرس: مدرسہ محبوبیہ، چین پور، مظفرپور)، مولانا محی الدین مظاہری نیپالی، مفتی سہیل احمد قاسمی (مفتی امارت شرعیہ، پٹنہ)، مفتی اعجاز احمد قاسمی (ناظم: محمود العلوم، دملہ، مدھوبنی)، مولانا سعید احمد قاسمی، سیتامڑھی، مولانا خالد صدیقی سبیلی، صدر: جمعیت علماء نیپال، مفتی تنویر عالم قاسمی (ناظم: مدرسہ اشاعت القرآن، بارہ ٹولہ، مدھوبنی) وغیرہم۔

انتظامی خدمات:
جس ادارے میں بھی فقیہِ ملتؒ تشریف لے گئے عام طور پر اس ادارہ میں آپ تدریسی خدمات سے منسلک رہے سوائے اشرف العلوم کے کہ وہاں آپ نے تقریبا 35/ سالوں تک بحیثیت صدر مدرس اور بحیثیت ناظم انتظامی خدمات پیش کی۔ آپ جامعہ اشرف العلوم میں صدر مدرس اور ناظم کے عہدہ پر فائز تھے اور ادارہ کو بحسن وخوبی چلانے کے لیے آپ کوئی بھی فیصلے لینے میں بہت حد تک آزاد تھے۔ متعینہ اصول وضوابط کی روشنی میں چاہے طلبہ کے داخلہ کی منظوری ہو یا اساتذہ کی تقرری، چاہے اساتذہ کی تن خواہ کا مسئلہ ہو یا پھر ادارہ کی بوسیدہ عمارت کی تعمیر جدید کے کام کی انجام دہی، آپ کو پوری آزادی تھی اور آپ اپنی مرضی سے یہ کام انجام دیتے تھے۔

فقیہِ ملتؒ نے ادارہ میں داخلہ کا جو اصول وضابطہ متعین کر رکھا تھا، اس کی روشنی میں طلبہ کو تعلیمی سال کے شروع میں یعنی شوال کے مہینہ میں داخلہ امتحان کے بعد ہی داخلہ دیا جاتا تھا۔ اگر کوئی طالب علم داخلہ امتحان میں ناکام ہوجائے، تو اسے داخلہ نہیں دیا جاتا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ جب ہم وہاں زیر تعلیم تھے اس وقت فقیہِ ملت کے کوئی جاننے والے، درمیانِ سال میں، اپنے لڑکے کو لے کر جامعہ آئے اور داخلہ کروانا چاہتے تھے۔ جب اس شخص نے آپ سے ملاقات کی اور داخلہ کی فرمائش کی؛ تو آپ نے بالکل منع کردیا اور ان سے کہا کہ وہ اپنے لڑکے کوشوال میں لے کر آئیں۔ وہ درخواست کرتے رہے، مگر آپ نے جو کہہ دیا وہی قول فیصل ثابت اور آپ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ آخر ان کو واپس جانا پڑا۔

یہ اشرف العلوم کےلیے ہمیشہ اچھی بات رہی کہ اس ادارہ میں عام طور پر محنتی، قابل، ذی استعداد، باصلاحیت اور مخلص اساتذہ کی ٹیم تدریسی خدمات پر مامور رہی ہے۔ اساتذہ آپس میں ایک دوسرے سے تنافسی طور پر محنت ومطالعہ کرتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ گہرا مطالعہ کرکے، عمدہ اور سہل انداز میں طلبہ کو سبق پڑھائیں اور طلبہ بسہولت ان کی باتیں سمجھ سکیں۔ اس کے باوجود اگر کبھی استاذ کے تقرری کی ضرورت پیش آتی؛ تو فقیہِ ملت ہمیشہ محتاط رہتے کہ قابل اور باصلاحیت استاذ کی ہی تقرری کی جائے۔ اگر کوئی امیدوار ان کی نظر میں باصلاحیت نہیں ہوتا؛ تو آپ ان کی تقرری نہیں کرتے۔ آپ کا یہ بھی معمول تھا کہ دن میں ایک آدھ بار باہر کی وزٹ کرتے اور کبھی کبھی کسی درجہ کے سامنے کھڑے ہوکر، یہ جاننے کی بھی کوشش کرتے کہ فلاں استاذ کیسے پڑھا رہے ہیں۔
بحیثیت ایک منتظم اور قائد آپ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ قائد وہ ہے جسے پہلے راستہ کی معلومات ہو، پھر وہ خود اس راستے پر چلنا جانتا ہو، اس کے بعد اپنے ماتحتوں کو اس راستہ کی رہنمائی کرے کہ کیسے اس راستے پر چلا جائے (A leader is the one who knows the way, goes the way and shows the way)۔ چناں چہ آپ کبھی بھی کسی علمی موضوع پر اپنے اساتذہ وطلبہ کے ساتھ مباحثہ ومناقشہ سے دامن بچانے کی کوشش نہیں کرتے تھے، ان کو جو اشکال ہوتا اس کا جواب دیتے؛ کیوں کہ آپ خود ایک علمی شخص تھے۔ آپ کی یہ عادت تھی کہ عصر کی نماز کے بعد، مسجد کے صحن کے سامنے بیٹھ جاتے۔ یہاں بیٹھنے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ کوئی آئے، بیٹھے اور گپ شپ شروع ہوجائے؛ بلکہ عام طور پر آپ کی اس مجلس میں کسی علمی موضوع پر مباحثہ ومناقشہ ہوتا تھا۔ اس مجلس میں عام طور پر حضرت الاستاذ مولانا اظہار الحق صاحب مظاہری آپ کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ کبھی کبھار کوئی اور استاذ بھی بیٹھتے اور آپ سے کسی علمی موضوع پر استفادہ کرتے۔ جب آپ سے کوئی علمی موضوع پر بات چیت کرتا، تو آپ کو خوشی ہوتی۔

فقیہِ ملت کی نگرانی اور با صلاحیت اساتذہ کی محنت کی وجہ سے اشرف العلوم کے تعلیمی معیار کو اہل علم نے ہمیشہ سراہا ہے۔ جدید طالب علموں کو مطالعہ ومذاکرہ کے لیے اساتذہ کو ڈانٹ ڈپٹ اور زجر وتوبیخ کی ضروت نہیں پڑتی ہے؛ بلکہ وہاں کا ماحول خود جدید طلبہ کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ مطالعہ ومذاکرہ کے عادی بن جائيں۔ مطالعہ ومذاکرہ کے حوالے سے طلبہ کا آپسی تقابل وتنافس بھی قابل رشک ہے۔ ہمیشہ ایک طالب علم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے آگے بڑھے۔الحمد للہ، ہر سال اشرف العلوم کے درجنوں طلبہ مقابلہ جاتی داخلہ امتحان پاس کرکے، دار العلوم میں داخل حاصل کرتے ہیں۔ یہ عمدہ تعلیم وتربیت کا نتیجہ ہے کہ بہت سے والدین اور خود طلبہ کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح ان کا داخلہ جامعہ میں ہوجائے۔ میرے علم کے مطابق سن 2000ء کے آس پاس، جامعہ میں طلبہ کی تعداد، ساڑھے تین چار سو ہوا کرتی تھی، اب وہ تعداد بڑھ تقریبا 790 ہوگئی۔ یہ سب کچھ حضرت فقیہِ ملت کی قیادت اور نگرانی میں اب تک ہو رہا تھا۔ دعا ہے کہ اس ادارہ کا مستقبل اور اچھا رہے اور ادارہ ہر طرح کے شرور وفتن سے محفوظ رہے!

جس وقت فقیہِ ملتؒ نے جامعہ کی نظامت کی ذمہ داری سنبھالی تھی، اس وقت ادارہ میں، جانب شمال میں جو دار الاقامہ تھا تقریبا ایک درجن کھپرے والے حجروں پر مشتمل تھا؛ جب کہ جانب مشرق میں تقریبا چھ روم ایسے تھے جن پر چھت تھی۔ ما بقیہ تقریبا ایک درجن اور بھی کمرے تھے جن میں اساتذۂ کرام رہتے تھے اور طلبہ کی کلاس بھی اساتذہ کے روم میں ہوتی تھی۔ طلبہ تکرار ومطالعہ کے لیے اپنے رہائشی کمرہ کا استعمال کرتے تھے یا پھر مسجد کے صحن کا استعمال کرتے تھے۔ جو بھی عمارت تھی نہایت ہی مخدوش سالوں پرانی تھیں۔ موسم برسات میں، طلبہ کو اپنی کتابیں اور بستر کو پانی سے محفوظ رکھنا ایک اہم مسئلہ تھا۔ پھر آپ نے تھوڑا تھوڑا تعمیری کام شروع کیا۔ پہلے آپ نے مطبخ کی عمارت کی مرمت کروائی۔ پھر آپ نے جامعہ کی مسجد جو پہلے سے زیر تعمیر تھی، اس پر فرسٹ فلور پر چھت کا کام کروایا۔ اس کے بعد، گراؤنڈ فلور کو درجہ حفظ کے لیے خاص کردیا گیا اور فرسٹ فلور پر پنج وقتہ نماز پڑھی جانے لگی۔ پھر دار الاقامہ کا کام شروع ہوا اور درجنوں حجروں پر مشتمل دو منزلہ خوب صورت عمارت تعمیر کرائی گئی۔ دار الاقامہ میں طلبہ کو آج جو سکون واطمینان ہے، وہ ہم لوگوں کے وقت میں یکسر مفقود تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جامعہ نے آپ کی نظامت میں ہی اپنا سو سال مکمل کیا۔ اس مناسبت سے سہ روزہ صدسالہ جشن، 24-26 مارچ 2018 کو آپ کی سرپرستی میں منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں ہندوستان کے اکثر معروف اداروں اور تنظیموں کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ الحمد للہ، ان حضرات نے پروگرام شرکت کرکے جامعہ کی خدمات کا اعتراف کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں عوام نے اس صد سالہ جشن میں شرکت کی۔ ہزاروں ان قدیم وجدید طلبہ کے سر پر دستار باندھی گئی جنھوں نے اشرف العلوم سے حفظ القرآن الکریم کی تکمیل کی تھی۔ پروگرام بہت ہی کام یاب رہا۔ اس پروگرام کا میڈیا میں بھی چرچا رہا۔

آپ کی فقہی خدمات:
فقیہِ ملتؒ کوئی باضابطہ مفتی نہیں تھے۔ آپ شروع میں استفتا وغیرہ کا جواب نہیں لکھتے تھے۔ جب آپ جامعہ مونگیر پہنچے؛ تو حضرت امیر شریعت رابعؒ حضرت مولانا منت اللہ رحمانی (1912-1991) نے آپ کی فقہی بصیرت کا اندازہ لگا لیا۔ جب آپ کے پاس کوئی اہم خط آتا جس میں کسی اہم مسئلہ کا جواب مطلوب ہوتا؛ تو آپ فقیہِ ملت کو اس کا جواب لکھنے کا پابند بناتے۔ جواب تحریر کرنے کے بعد، آپ اسے امیر شریعت کی خدمت میں پیش کرتے۔ امیر شریعت اس پر نظر ثانی کرکے، اس شخص کو ارسال کردیتے۔ اس طرح آپ نے فقہی سوالوں کے جوابات لکھنے شروع کیے۔

جب حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحبؒ (1936-2002)نے سن 1988ء میں اسلامی فقہ اکیڈمی، انڈیا قائم کیا، تو آپ شروع سے اکیڈمی کے قافلے میں شامل رہے۔ آپ اکیڈمی کے رکن تاسیسی تھے۔ آپ اکیڈمی کے سیمینار میں پابندی سے شرکت کرتے اور جس موضوع پر سیمینار ہوتا اس پر مقالہ لکھتے۔ فقہ میں آپ کو دسترس حاصل ہونے کی وجہ سے شرکاءِ سیمینار آپ کی رائے کا احترام کرتے اور خود قاضی صاحب آپ کی رائے کو بڑی وقعت دیتے۔ آپ کو اکیڈمی کے سیمینار اور ادارہ مباحث فقہیہ، جمعیت علماء ہند کے فقہی سیمینار میں شرکت کی دعوت دی جاتی اور آپ ان دونوں ادارے کے سیمیناروں میں شرکت کرتے۔

فقیہِ ملت مطالعہ کے بہت ہی عادی تھے۔ آپ علوم فقہ وحدیث کا بہت گہرا مطالعہ کرچکے تھے۔ گرچہ آپ کا مطالعہ بڑا گہرا تھا، مگر آپ نے تصنیف وتالیف کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ مگر جب آپ کے سامنے کچھ اہم فقہی سوالات پیش کیے جاتے، آپ ان کے جوابات ضرور تحریر فرماتے۔ اس طرح حضرت امیر شریعت رابع کی ایماء پر، آپ نے دو اہم کتابچے: "وراثت میں پوتے کا حصہ” اور "معاشرتی مسائل کا حل یا دار القضاء” کی تصنیف فرمائی۔ دورانِ مطالعہ آپ نے جن جزئیے یا کسی نکتے کو ضروری سمجھا، اسے اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیا۔ اس ڈائری کا ایک حصہ گزشتہ سال (2018)، "علمی یاد داشتیں” کے نام سے منظر عام پر آیا ۔ اس پر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی حفظہ اللہ کا بڑا قیمتی "پیشِ لفظ” ہے۔ اس پیش لفظ میں جہاں آپ نے فقیہِ ملت کی علمی گہرائی وگیرائی کو بیان کیا، وہیں آپ نے اپنی تمنا کا اظہار کیا ہے کہ کاش مولانا کے شاگرد ان کی تحریروں (فقہی مقالات اور دوسری تحریریں جو گاہے بگاہے لکھی گئيں) کو مرتب کردیتے۔ جب راقم نے یہ مضمون لکھنا شروع؛ تو اپنے پاس موجود اسلامک فقہی اکیڈمی کی ان چند مطبوعات پر ایک نظر ڈالا، جن میں اکیڈمی کے سیمیناروں کے فقہی مقالات چھپے ہوئے ہیں۔ ان چند کتابوں میں مندرجہ ذیل موضوعات پر حضرت فقیہِ ملتؒ کے مقالات ملے۔ ان مقالات کے عنوانات یہ ہیں: "شیئرز: فقہ اسلامی کی روشنی میں”، "استثمار باموال الزکاۃ”، "انٹرنیٹ اور جدید ذرائع مواصلات کے ذریعہ عقود ومعاملات”، "بینک کے اے ٹی ایم ودیگر کارڈ سے استفادہ”، "قبضہ سے پہلے خرید وفروخت کا شرعی حکم”، "اعضاء کی پیوند کاری”، "خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل تدابیر کا استعمال”، "نوٹ کی شرعی حیثیت”، "مسئلہ ربوا” اور "نشہ کی طلاق کا مسئلہ”۔

اللہ تعالی نے اس راقم کو اشرف العلوم میں حضرت کی زیر نظامت چار سالوں تک تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بندہ کو فقیہِ ملت سے فن منطق کی معروف کتاب: "شرح التہذیب” سبقا سبقا پڑھنے کی سعادت حاصل ہے۔ جس سال آپ ہماری جماعت والوں کو یہ کتاب پڑھاتے تھے، آپ کے ذہین وفطین صاحبزادے مولانا ظفر صدیقی قاسمی بھی اسی جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ اب استاذ محترم اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کی یادیں آتی رہیں گی۔ بندہ دعا گو ہے کہ اللہ تعالی حضرت الاستاذ کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے۔ آمین! •••

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا

ہندی کا اٹھتا شور اور دینی مدارس کے لیے اعتدال کی را ہ!

مفتی اظہارالحق قاسمی بستوی*

ہندی اور اردو کا جھگڑا نیانہیں ہے۔ تقسیم وطن سے لے کر آج تک اردو پر یہ الزام عائد کیا جاتارہاہے کہ اردو بھارت کی زبان نہیں بل کہ؛ پاکستانیوں اورمسلمانوں کی زبان ہے،نیز یہ کہ اردو کا فروغ ملک کو تقسیم کی طرف ہی لے جائے گاجس کا اظہار مختلف اوقات میں فرقہ پرست تنظیموں کی طرف سے کیا جاتارہاہے۔ اردو کے ساتھ تقسیم کا نام جڑ جانے کی وجہ سے ہمیشہ اس کے ساتھ تعصب برتاگیااور اردو کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا گیا حالانکہ سچائی یہ ہے کہ اردو بھارت میں ہی پیداہوئی اور بھارت ہی میں پروان چڑھی اور آج بھارت میں ہی بوڑھی ہو رہی ہے۔
بھارتی پارلیمنٹ میں اکثریت کے ووٹ سے ہندی کو قومی زبان قرار دے دیے جانےکے بعد مولانا آزاد ؒ جو کہ اس وقت کے وزیر تعلیم تھے نے ہندی کو قومی زبان تسلیم کرتے ہوئے کہاتھا: "اب یہ سوال اٹھتاہی نہیں کہ پورے ملک کی زبان کون سی ہوگی؟ہندی کو جو جگہ ملنا تھی وہ مل گئی ۔اب ہر ہندوستانی کا فرض ہے کہ اس کے آگے سر جھکائے۔ لیکن اس کے ساتھ اردو کی جو جگہ ہے وہ اسے ملنی چاہیے۔اردو ایک ایسی زبان ہے جو کثرت کے ساتھ بولی جاتی ہے نہ صرف شمال میں بل کہ ؛جنوب میں بھی!( مظلوم اردو کی داستان غم بحوالہ الجمعیۃ آزاد نمبرصفحہ 6 بتاریخ 4/دسمبر 1958)
مولانا آزاد کے ہندی کو قومی زبان ماننے کے برملا اعتراف کےباوجود اس وقت تعجب اور افسوس کی انتہا ہو جاتی ہےجب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم پر بھی اردو کے سلسلے میں ایک غیر ملکی (بزعم دشمناں) زبان کی حمایت کا الزام عائد کیا گیا۔چناں چہ مولانافدا حسین صاحب مرحوم اپنی کتاب "مظلوم اردو کی داستان غم صفحہ 13 "میں رقم طراز ہیں:”سیٹھ گوبند داس (ایم پی) نے کہا:فرقہ پرست تو وہ لوگ ہیں جو ہندوستانی کلچر کے خلاف انگریزی یا اردو کی سرپرستی کرنا چاہتے ہیں۔درحقیقت انھیں پر فرقہ پرستی کا الزام عائد کرنا چاہیے۔اردو ملک کی تقسیم کی بنیاد ہے اور اردو کی علاقائی حیثیت تسلیم کرلینا ایساہے جیسے انگلی دےکر پہونچا پکڑوالینا”۔(الجمعیۃ آزاد نمبر صفحہ 115)
ظاہر ہے کہ ہندی کے حامی جب مولاناآزاد جیسے مضبوط قائدکے سامنے اس طرح کی بات کہہ سکتے ہیں اور وہ بھی اُس وقت جب کہ آرایس ایس اور اس کی حامی تنظیمیں اس قدر مضبوط نہیں ہوئی تھیں توپھر اِس وقت جب کہ ملک میں ا ن کی تہذیب و ثقافت کا بول بالا ہو چکاہے اور ملک کے چپہ چپہ پر انھیں کی چھاپ بنتی جارہی ہےوہ ماحول میں لسانی زہرکیوں نہیں گھولیں گے؟اور ہندی کا راگ کیوں نہیں الاپیں گے؟
ہندی کوتھوپنے کی بھی کوشش کوئی نئی نہیں ہے۔ ہندو مہاسبھا نے اپنے چوالیسویں اجلاس منعقدہ بنارس بتاریخ 20 /فروری 1959 کو ہی ہندی ، ہندو ، ہندوستان کانعرہ دیتے ہوئے کہا تھا:”ہندی ہی ایک ایسی زبان ہے جس کو ہم قومی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں۔ (حوالہ بالا صفحہ21)
اب گزشتہ کچھ زمانے سے مسلسل ایسی باتیں سامنے آرہی ہیں کہ بھارت کے مدارس میں اہل مدارس کو اپنا ذریعہ تعلیم و ذریعہ ریکارڈ صرف ہندی و انگریزی یا اردو کے ساتھ ہندی وانگریز ی کو بنالیناچاہیے۔ حکومت اپنے مدارس میں شاید عنقریب اس قانون کو نافذالعمل قرار دے دے۔ ہمارے اپنے حلقو ں سے بھی اسی طرح کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔چناں چہ مدارس میں ہندی زبان کے فروغ کےحوالے سے 24 /جنوری 2019 کو دو اہم پوسٹیں نظر نواز ہوئیں۔ ایک علی گڑھ کے صاحب کی اور دوسری ہمارے استاذمحترم مولانا محمد برہان الدین قاسمی صاحب کی۔موصوف امام الدین صاحب علیگ نے کہا:
"اس وقت اردو کا جھنڈا اہل مدارس کے ہاتھوں میں ہےاور انھیں کے کندھوں پر دین کی دعوت وتبلیغ کی ذمہ داری بھی ہے۔یہ دونوں کام ایک ساتھ دو ناؤ میں سواری کے جیسا ہے۔۔۔۔ اہل مدارس نے خود کو اردو کے خول میں بند کرکے اور اس کی حدبندی کو اپنے لیے لازم سمجھ کر بڑی غلطی کی ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ اردو کے ساتھ علماء کا دائرہ بھی دن بدن سکڑتاجارہاہے۔جب کہ اس کے برعکس مسلمانوں کی اکثریت اردو کو چھوڑ کر ہندی میں منتقل ہو چکی ہے۔ اس وقت اکثر مسلمان فارسی رسم الخط کے بجائے دیوناگری رسم الخط میں پڑھتے اور سمجھتے ہیں۔
ہندو بھائی تو پہلے سے ہی مجموعی طور پر ہندی میں منتقل ہو چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ علماء اور اہل مدارس سماج سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں جس کی وجہ سے دین کی دعوت کا کام بھی کافی حد تک متاثر ہواہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے مدارس اردو ذریعہ تعلیم اور فارسی رسم الخط کو چھوڑ کرہندی ذریعہ تعلیم اور دیوناگری رسم الخط کو اپنائیں۔
یہ انتہائی حیرت کی بات ہے کہ ہندی کے اتنی بڑی زبان ہونے کے باوجود ہندی میڈیم کا کوئی ایک بھی مدرسہ موجود نہیں ہے۔جب کہ آپ کو بنگالی، ملیالی اور دیگر کئی علاقائی زبانوں میں کئی مدرسے مل جائیں گے۔ وغیرہ”(ایشیاٹائمز 24/1/19)
موصوف علی گڑھی صاحب کے انداز گفتگوکی تصویب اورتمام باتوں کی تائید قطعانہیں کی جاسکتی کیوں کہ ان کی کئی باتیں سچائی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ لیکن یہ امر واقعی ہے کہ اس وقت اردو کا جھنڈا اہل مدارس کے ہاتھوں میں ہے۔لیکن ہندی کے حوالے سے بھی اہل مدارس بالکل لاعلم و نابلدنہیں ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق شمال کے تقریبا پچاس فیصد مدرسوں کے طلبہ کو ہندی آتی ہے لہذا موصوف کا یہ کہنا کہ ہندی میڈیم کا کوئی مدرسہ نہیں ہے یہ نرا بہتان ہےکیوں کہ اہل مدارس کے کسی قدر ہندی جاننے کی وجہ سے اس طرح کے مدرسوں کی ضرورت نہیں ہوئی۔شمال کے مدرسوں کے اکثر اساتذہ و طلبہ کو کسی نہ کسی حد تک اور بعضوں کو تو بہت اچھی بھی ہندی آتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شمالی ہند کے مدرسوں کے ماتحت چلنے والے پرائمری درجات اور مکاتب میں ہندی کی تعلیم لازمادی جاتی ہے۔ جہاں تک مہارت کا تعلق ہے تو یہ سچائی ہے کہ اکثر اہل مدارس اس سلسلے میں کم ہی ماہر ہوتے ہیں۔سماج سے کٹ جانے کا الزام بھی موصوف کی طرف سے علماپر زیادتی ہے کیوں کہ عوام تحریرچاہے وہ کسی بھی زبان کی ہو کم ہی پڑھتی ہے اور عوام سے علماء کا عمومی رابطہ چونکہ اکثر گفتگو کے ذریعے ہوتاہے اس لیے عوام علماء سے اب تک جڑی ہوئی ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ بھاری بھرکم اردو بولنے والے علماء کی زبان عوام کو کسی قدر کم سمجھ میں آتی ہے لیکن پھربھی عوام علماء سے کٹی نہیں ہے۔ البتہ موصوف کی اس بات سے قطعا انکار نہیں کیاجاسکتا کہ (شمال میں )مسلمانوں کی اکثر تعداد دیوناگری رسم الخط کو اردو کی بنسبت زیادہ سمجھتی ہے۔راقم الحروف جس علاقے میں خدمت کررہاہے وہاں کی عمومی صورت حال بھی یہی ہے کہ مسلم عوام کی اکثریت ہندی پڑھ اور سمجھ سکتی ہے جب کہ اردو سے مناسبت کم ہی ہے۔البتہ جنوب کے اہل مدارس ومسلمانوں کا نوے فیصد طبقہ ہندی توبالکل نہیں سمجھتا۔مدارس والے صرف اردو جب کہ جدید تعلیم یافتہ مسلمان صرف انگریزی سمجھتے ہیں اور کچھ کچھ ہندی کو سمجھتے ہیں۔بہرحال محترم امام الدین صاحب کی نیت پر شک کرنے کا کوئی جواز نہیں کہ شاید انھیں مدارس کے حوالے سے ان تفصیلات کا علم نہ ہو۔
آج یہ بات روز روشن کی طرح عیاں وبیاں ہے کہ درست اردو کی تعلیم کافی حدتک اب صرف مدرسوں میں رہ گئی ہے۔اور اگر میں یہ کہوں کہ یہ صرف مدارس اسلامیہ ہی ہیں جن کا ذریعہ تعلیم (میڈیم آف انسٹرکشن) مکمل طورپر اردو ہے ورنہ کسی بھی اسکول کاذریعہ تعلیم اردو نہیں بچاہے۔ دیگر تعلیم گاہوں میں کسی نہ کسی زبان کا تسلط اردو پر لازما پایاجاتاہے۔ جیسے یہی کہ اردو میڈیم اسکولوں میں پڑھانے والے اکثر اساتذہ اردو کی درست ابجد سے بھی واقف نہیں ہوتے ۔حکومتوں نے بھی اردو میڈیم اسکولوں کا براحال دیکھ کر یاتو انھیں بند کر دیا یا انھیں ہندی میڈیم کے ساتھ ضم کردیا؛ لیکن المیہ یہ ہے کہ مدارس کی اردوکے تئیں اس بے لوث خدمت کے نتیجے میں انھیں اردو کی خدمت کرنے والا تک تسلیم نہیں کیا جاتا۔خود ساختہ اہل اردو مدارس والوں کی اردو خدمت کو یکسر نظر انداز کرتے رہے ہیں۔جب کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اردو کے حوالے سے اہل مدارس کی خدمات کے بقدر انھیں حقوق دیے جاتے۔انھیں اعتبار کی نگا ہ سے دیکھا جاتا۔ان کی اسناد کو نہ صرف کچھ جگہوں پر بل کہ ؛ملک کے تمام محکموں میں قابل اعتبار سمجھا جاتالیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ گو کہ یہ بات درست ہے کہ مدارس میں پڑھائی جانے والی اردو میں اردو کے فنون :جیسے شعر وشاعری، قصہ گوئی ، ناول و افسانہ نگاری وغیرہ کے اصول واقعتا نہیں پڑھائے جاتےکیوں کہ اس میں کئی ایک اصناف سخن کو اہل مدارس درست نہیں سمجھتےاور اردو زبان کے سیکھنے اور جاننے کے لیے یہ فنون بنیادی طور پر ضروری بھی نہیں ہیں (حالاں کہ اگر اہل مدارس ان چیزوں کو جزئی طور پر ہی رکھ دیں تو ان کے طلبہ کے لیے یہ فنون بائیں ہاتھ کا کھیل ہیں)لیکن صرف اس وجہ سے اہل مدارس کی اردو خدمت کا انکار روز روشن کے انکار کے مرادف ہے کیوں کہ اہل مدارس کی جملہ تصنیفات اردو میں ہی ہوتی ہیں اور ان کی زبان کا معیار بھی اکثر انتہائی اعلی ہوتاہے۔
دوسری طرف اہل مدارس کو اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے اور ہندی کو اہمیت نہ دینے کے سبب تعلیم کے قومی دھارے سے کٹا ہوا سمجھا گیااور اردو کی خدمت کے باعث انھیں مشکوک نظروں سے دیکھا گیااور ہمیشہ انھیں انتہائی پڑھالکھا ہونے کے باوجود ان پڑھ اور گنوار سمجھا گیا۔ حکومت نے بھی ان کے جائز حقوق کے ساتھ ناانصافی کو روا رکھا۔ اردو اور مسلم دشمن خیمے میں مدارس کے خلاف نفرت کی بھٹی سلگائی جاتی رہی جس کے من جملہ اسباب میں سے ایک سبب اردو کو لازم پکڑنا بھی رہاہے۔ حالاں کہ اگر اہل مدارس نے اردو کے ساتھ ہندی کو اپنا لیا ہوتاتو شاید ان کے اوپر ہو رہی کیچڑ اچھالی میں کسی قدر کمی ضرور ہوتی۔
اس کا تیسرا پہلو یہ بھی رہا کہ مدارس سے نکلنے والے والے طلبہ کی اکثر یت اپنی معیاری قومی زبان سے ناواقف ہے اور اب تک اچھی طرح سے واقف نہ ہونے کی راہ چل رہی ہے اس کی بنیادی وجہ اہل مدارس کا صرف اردو کو لازم پکڑنا ہے ۔ اگر اردو کے ساتھ ہندی کو ہمارے مدارس میں وسعت دی جاتی تو بہت سے بہت صرف یہ نقصان ہوتاکہ اردو کےساتھ ساتھ ہندی بھی ہمارے مافی الضمیر کے اظہار کا ذریعہ ہوتی اورمجھے کہنے دیجیےکہ !اردوقطعا اسلام کی زبان نہیں ہے۔ اسلام کے لیے اردو بھی تمام زبانوں کی طرح ایک زبان ہے۔اسلام کی زبان صرف اور صرف عربی ہے۔ کیاایسا ہمارے اسی ملک میں نہیں ہوا ہے کہ پہلے اس ملک کی زبان فارسی بھی رہی لیکن گزرتے وقت کے ساتھ فارسی دم توڑ گئی اور اردو نے اس کی جگہ لے لی۔اور اب جب کہ اردو کو لے کر چلنا نہ صرف مشکل بل کہ بہت سارے نقصانات کا بھی ذریعہ ہو رہاہے تو کیوں نہ اردو کے ساتھ ہندی کو بھی اہل مدارس اختیار کریں۔اور ہندی کو اپنے اداروں میں مناسب جگہ دیں جیسا کہ مرکزالمعارف جیسے اداروں کے ذریعے انگریزی کو جگہ دی گئی ۔ جس کے نتیجے میں آج سیکڑوں علماء انگریزی زبان لکھنے اور بولنے پر قادر ہیں اور اس کے ذریعے مختلف جہات سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ہندی کے حوالے سے اب تک کوئی مناسب پیش رفت نظرنہیں آتی ۔
دوسری طرف ہمارے استاذاور معروف عالم دین حضرت مولانابرہان الدین صاحب (ڈائریکٹر مرکزالمعارف ممبئی و ایڈیٹر انگریزی ماہنامہ ایسٹرن کریسنٹ) نے بھی ہمارے دوست مفتی محمد طہ جونپوری کی ایک ہندی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: "بہت اچھا!میں نے اس پوسٹ کو اپنے فیس بک وال پر بھی شیر کیا ہے۔ مزید ہندی کتابیں پڑھو،زبان بہتر ہو جائے گی۔۔۔ بہتر ہے کہ صرف ہندی یا انگلش میں لکھو۔یہی دونوں زبانیں اب ہمارے مخاطبین کی زبانیں ہیں اور ہمیں جلد سے جلد ان کی طر ف منتقل ہونے کی ضرورت ہے۔(ایم ایم ای آر سی المنی گروپ ،نشر کردہ بتاریخ 24 جنوری 2019)
اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ اب ضرورت آن پڑی ہے کہ اہل مدارس ہندی کی تعلیم کے لیے سنجید ہ ہوں اور لازمی ہے کہ ہندی کافروغ اردو کی قربانی کی بساط پر نہ ہو۔کیوں کہ اہل مدارس کے لیے دونوں ضروری ہیں۔ اردو تو اس لیے کہ وہ اس سے مانوس بھی ہیں اور پوراعلمی اور دینی ذخیرہ اسی میں موجود ہےاور اس لیے بھی کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک ثقافت بھی ہےاوراس کی شیرینی من کو موہنے والی ہے۔ اور ہندی اس لیے کہ حالات اور دعوت دین کا تقاضا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس کو عملی جامہ کیسے پہنایاجائے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہرمدرسہ اپنے یہاں ہندی زبان کے سبجیکٹ کو باقاعد ہ طور شعبہ عالمیت کے سال اول سے کم از کم سال پنجم تک رکھے۔ اور پانچ سال میں گھنٹہ وائز کم از کم بارہویں تک کی ہندی پڑھادیں ۔شعبہ حفظ میں درجہ ہفتم تک کی ہندی سیکھنے کو لازم قرار دیں۔ اپنی دیگر تعلیم کے لیے اردو کو چاہیں توحسب معمول لازم پکڑیں اوراسی کو ذریعہ تعلیم بنا کر رکھیں۔
میں قطعا اس بات کا حامی نہیں کہ اردو کو قربان کردیا جائے لیکن مجھے محسوس ہورہاہے اور شاید میرے جیسے بہت سے لوگوں کو بھی کہ ارباب مدارس کو اب ہندی کو بھی اردو کی طرح اپنا لینا چاہیے۔اس سے میرے خیال میں ان کا کوئی دینی نقصان نہیں ہوگا؛ بل کہ مدارس میں پڑھنے والے بچوں کے ساتھ ساتھ ملک میں رہنے والے دوسرے لوگوں کا بھی فائدہ ہی ہوگا۔ شاید ہندی کے حوالے سے اہل مدارس کے لیے یہی اعتدال کی راہ ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان ہمارا ملک ہےاور یہی ہم اہل مدارس کے لئے حقیقی میدان عمل بھی ہے۔ اگر واقعتاہم نے اس ملک میں رہنے کا فیصلہ کیا ہےاور اس کی تقدیربدلنا چاہتے ہیں توہمیں اس سلسلے میں سوچنا ہوگااور ہندی کو اس کی مناسب جگہ دینی ہوگی ۔

*استاذ ومفتی مدرسہ عربیہ قرآنیہ ، اٹاوہ، اترپردیش
izhar.azaan@gmail.com

فقیہِ ملت حضرت مولانا زبیر احمد قاسمی صاحبؒ (1936-2019) کا علمی سفر

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

سوہان ِروح خبر:
جہاں ایک طرف 13/جنوری 2019 کی صبح کا سورج آہستہ آہستہ اپنی شعائیں بکھیر کر، پورے عالم میں اپنی روشنی پھیلا رہاتھا، موسم سرما میں کپکپا اور تھر تھرا رہے لوگوں کو اپنی تمازت سے گرمی پہنچا رہا تھا، وہیں دوسری طرف علوم وفنون کا ایک سورج جس کی روشنی چند سال پہلے سے ہی مدھم ہورہی تھی غروب ہوگیا۔ یہ خبر میرے لیے، بلکہ سیکڑوں اہل علم وفضل کے لیے سوہانِ روح بن کر پہنچی کہ علوم فقہ وحدیث اور منطق وفلسفہ کا ممتاز اسکالر تین سالہ لمبی علالت کے بعد، ہمیں داغ مفارقت دے کر، اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ آپ کی علمی گہرائی وگیرائی کی وجہ سے آپ کی رائے کو معاصر اہل علم بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ علم فقہ میں آپ کے نظریہ کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ (1936-2002) جیسی فقہ کی عبقری شخصیت آپ کی رائے کا احترام کرتے اور اس میں وزن محسوس کرتے تھے۔ ان بے ربط چند جملوں سے میری مراد حضرت الاستاذ فقیہِ ملت مولانا زبیر احمد قاسمیؒ کی عظیم شخصیت ہے۔ تین سالوں سے آپ جس طرح رہین فراش تھے کہ لوگوں کو ہر وقت یہ خدشہ لگا رہتا تھا کہ کسی وقت بھی آپ داغ مفارقت دے جائیں گے؛ چناں چہ ایسا ہی ہوا اور آپ خالق حقیقی سے جا ملے۔ یہ اللہ تعالی کا فیصلہ تھا۔ اسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ بہر کیف آپ کی موت کی خبر سے بہت صدمہ اور غم ہوا۔ اس خبر کے ملتے ہی ہم نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر اپنا غم ہلکا کیا۔

فقیہِ ملت کی پیدائش:
فقیہِ ملت کی پیدائش چندرسین، ضلع: مدھوبنی کے ایک متوسط خاندان میں یکم جنوری 1936 کو ہوئی۔ آپ کے والد ماجد جناب عبد الشکور صاحبؒ تھے۔ آپ کے والد ماجد کی وفات آپ کے بچپن میں ہی ہوگئی اور آپ یتیم ہوگئے۔ چندرسین پور میں کچھ ایسے باصلاحیت اور نیک وصالح علماء کرام گزرے ہیں کہ ان کی دینداری اور علمی صلاحیت کی وجہ سے یہ گاؤں اہل علم کے حلقہ میں خاصا معروف ہے۔

فقیہِ ملت کا تعلیمی سفر:
فقیہِ ملتؒ کے تعلیمی سفر کا آغاز گاؤں کے مکتب سے ہوا۔ آپ نے گاؤں کے مکتب میں جناب مولانا امیر الحق صاحب مفتاحیؒ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ مکتب میں آپ نے قرآن کریم اور اردو کی ابتدائی کتابوں کی تکمیل کے بعد، علاقے کی دینی درس گاہ: مدرسہ بشارت العلوم، کھرایاں پتھرا، دربھنگہ میں داخلہ لیا۔

اس ادارہ میں آپ نے فارسی کی جماعت سے پڑھنا شروع کیا۔ پھر آپ نے عالمیت کورس شروع کیا۔ یہاں آپ نے فقہ حنفی کی مشہور کتاب: ہدایہ اولین اور جلالین شریف تک کی تعلیم حاصل کی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مدرسہ میں آپ نے ساری کتابیں حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ (1897-1957) کے شاگرد، حضرت مولانا سعید احمد صاحب قاسمیؒ سے پڑھی جو آپ کے رشتے کے چچا اور آپ کے گاؤں کے تھے۔ مولانا سعید احمد صاحب درس نظامی کے مشہور معلم اور نیک طینت، پاک خصلت انسان تھے۔

فقیہِ ملتؒ نے اپنے تعلیمی سفر کی تکمیل کے لیے ایشیاء کی عظیم دینی درس گاہ: دار العلوم دیوبند کا رخ کیا اور سن 1377ھ میں دار العلوم میں داخلہ لیا۔ آپ دو سال تک دار العلوم میں رہے۔ اس دوران آپ نے علومِ فقہ، حدیث اور تفسیر حاصل کیا اورسن 1379ھ میں فضیلت کی تکمیل کی۔ آپ نے بخاری شریف علامہ فخر الدینؒ (1307-1393) مراد آبادی سے پڑھی۔ دار العلوم، دیوبند میں آپ نے علامہ محمد ابراہیم بلیاویؒ (1886-1967)، شیخ بشیر احمد خانؒ (وفات: 1966)، قاری محمد طیّب صاحبؒ (1897-1983)، شیخ ظہور احمد دیوبندیؒ(1900-1963)، شیخ فخر الحسنؒ، شیخ سید حسنؒ وغیرہم جیسے اساتذۂ کرام سے استفادہ کیا۔

تدریسی سفر:
تعلیم سے رسمی فراغت کے بعد، اسی سال یعنی 1379ھ میں فقیہِ ملت کی تقرری بحیثیت مدرس مدرسہ بشارت العلوم، کھرایاں پتھرا میں ہوئی۔ ڈیڑھ سال تک اپنی خدمات پیش کرنے کے بعد، آپ نے 15/ ربیع الاول 1380ھ کو استعفی دے دیا۔ پھر آپ تدریسی خدمات کے لیے مدرسہ اسلامیہ، مغلہ کھار، ضلع: نوادہ تشریف لے گئے۔ آپ بشارت العلوم میں وسطی جماعت کے طلبہ کو پڑھا چکے تھے اور یہاں ابتدائی درجات کے طلبہ تھے؛ اس لیے آپ نے چند ہی مہینے کے بعد، اس ادارہ سے استعفی دے دیا۔ بشارت العلوم کی انتظامیہ نے آپ کو دوبارہ ادارہ سے منسلک ہونے کو کہا؛ چناں چہ آپ پھر اس ادارہ سے منسلک ہوگئے۔ آپ یہاں تقریبا چھ سال رہے،جمادی الاخری 1387ھ میں مستعفی ہوگئے۔

جامعہ اشرف العلوم میں بحیثیت صدر مدرس:
شوال 1387ھ میں، جامعہ اشرف العلوم، کنہواں، سیتامڑھی کے متقی وپرہیزگار اور ولی صفت ناظم، حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ نے بحیثیت صدر مدرس آپ کی تقرری کی۔ آپ نے بتوفیق خداوندی اپنی جد وجہد اور کوشش سے، ادارہ کا تعلیمی معیار بہت بلند کیا۔ آپ کی صدارت میں جامعہ کی جو ترقی ہوئی، اسے اہل علم نے محسوس کیا۔ ذمہ داران نے آپ کی خدمات کو سراہا اور تعلیمی معیار کی تعریف کی۔ بحیثیت صدر مدرس، تقریبا دس سال تک بے لوث خدمات انجام دینے کے بعد، ذو الحجہ 1397ھ میں آپ مستعفی ہوگئے۔

فقیہِ ملت جامعہ رحمانی میں:
محرم 1398ھ میں حضرت امیر شریعت رابع مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ (1912-1991) نے آپ کو جامعہ رحمانی، مونگیر میں تدریسی خدمات کے لیے تشریف لانے کی دعوت دی۔ آپ نے ان کی دعوت قبول کی اور جامعہ رحمانی پہنچ گئے۔ جامعہ میں مختلف علوم وفنون کی کتابیں آپ کے زیر درس رہیں۔ امیر شریعت نے کچھ دنوں میں آپ کی تدریسی صلاحیت کو تاڑ لیا اور آپ کے طرز تدریس کو سراہتے اور تعریف کرتے۔ آپ بھی جامعہ میں تدریسی خدمات سے لطف اندوز ہوئے اور تقریبا نو سالوں تک اس ادارہ میں تدریسی خدمات انجام دیا۔ پھر کچھ عوارض کی وجہ سے 10/شوال 1406 ھ کو جامعہ سے مستعفی ہوگئے۔

جامعہ مفتاح العلوم میں:
جامعہ رحمانی سے مسعتفی ہونے کے بعد، جامعہ مفتاح العلوم، مئو کی انتظامیہ کی درخواست پر آپ وہاں 16/شوال 1406ھ کو پہنچے۔ انتظامیہ نے آپ کی شایان شان آپ کا استقبال کیا اور ہر ممکن سہولیات کا انتظام کیا۔ آپ کو بخاری شریف کی تدریس کا موقع دیا گیا، مگر آپ نے آئندہ سال کا وعدہ کرکے، اس سال بخاری پڑھانے سے معذرت کرلی۔ آپ اس ادارہ میں ایک سال تک درجہ علیا کی کتابوں کا درس دیا۔ مگر آب وہوا راس نہیں آئی اور مجبورا 5/شوال 1407 ھ کو استعفی نامہ انتظامیہ کے نام بھیجنا پڑا۔

سبیل السلام سے جامعہ رحمانی تک:
دار العلوم سبیل السلام، حیدر آباد کے ناظم حضرت مولانا رضوان القاسمیؒ (1944-2004) اور اس وقت کے صدر المدرسین حضرت خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ نے آپ کو سبیل السلام میں بحیثیت شیخ الحدیث آنے کی دعوت دی۔ آپ حیدر آباد کے لیے 15/شوال 1407ھ کو روانہ ہوگئے۔ اس وقت تک دورۂ حدیث شریف کی جماعت کے طلبہ نہیں تھے؛ لہذا اس صورت میں آپ کے لیے وہاں رہنا کچھ مشکل سا لگا۔ چند مہینے بعد، آپ وہاں سے واپس آگئے۔ پھر امیر شریعت رابع کا حکم ہوا کہ آپ جامعہ رحمانی میں پھر سے تدریسی خدمات شروع کردیں؛ لہذا دوبارہ آپ محرم 1408ھ میں جامعہ رحمانی سے منسلک ہوگئے۔

سبیل السلام میں بحیثیت شیخ الحدیث:
آئندہ تعلیمی سال، یعنی شوال 1408ھ میں سبیل السلام میں دورۂ حدیث شریف کا آغاز ہوا۔ ناظم اور صدر مدرس صاحبان نے پھر اصرار شروع کیا، ان کے اصرار کے بعد، آپ 21/شوال 1408 کو بحیثیت شیخ الحدیث سبیل السلام پہنچ گئے۔ آپ نے یہاں چار سالوں تک بخاری شریف کا درس دیا۔ اس مدت میں متعدد بار جامعہ اشرف العلوم، کنہواں کے ذمے داروں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ جامعہ تشریف لائیں اور ادارہ کی ترقیات میں تعاون فرماءیں؛ کیوں کہ جامعہ کی صورت حال دن بدن خراب ہوتی جارہی تھی۔ آپ نے اشرف العلوم میں خدمت کا ارادہ کرلیا؛ چناں چہ 14/شعبان 1412ھ کو سبیل السلام سے مستعفی ہوگئے۔ اپنی کچھ شرطوں کی منظوری کے بعد، آئندہ تعلیمی سال یعنی شوال 1412 میں، آپ جامعہ میں بحیثیت صدر مدرس تشریف لےگئے۔

چند سالوں کے بعد، جامعہ اشرف العلوم کے اس وقت کے ناظم حضرت مولانا انوار الحق صاحبؒ، نظرہ، مدھوبنی کی وفات ہوگئی۔ پھر فقیہِ ملت ناظم منتخب ہوئے۔ آپ نے بحیثیت ناظم تقریبا پچیس سالوں تک جامعہ میں اپنی خدمات پیش کی۔ تین سال قبل، سن 2016ء کے اواخر میں، آپ کی طبیعت کچھ زیادہ خراب ہوگئی۔ پھر 7/اکتوبر 2016ء کو پٹنہ کے ایک ہسپتال میں آپ کے قلب کا آپریشن ہوا۔ اس آپریشن کے بعد بھی آپ کی طبیعت سنبھل نہیں سکی اور آپ رہین فراش رہنے لگے؛ چناں چہ آپ اپنے وطن میں مقیم ہوگئے۔ مگر ہفتہ دس دن کےلیے گاہے بگاہے اشرف العلوم تشریف لے جاتے اور وہاں کی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کرتے۔ جہاں مشورہ اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی، رہنمائی کرتے اور پھر واپس آجاتے۔

اس تین سالہ مدت میں، مختلف جگہوں پر آپ کا علاج ہوا۔ کبھی مدھوبنی، کبھی پٹنہ اور کبھی آپ کو دہلی لے جایا گیا۔ مگر ایک بڑھتی عمر، دن بدن گرتی صحت اور کمزوری میں اضافہ ہوتا رہا۔ ابھی اخیرمیں جب آپ کی طبیعت خراب ہوئی؛ تو فورا آپ کو مدھوبنی لے جایا گیا۔ مدھوبنی کے اسپتال میں ہی 13/جنوری 2019 کی صبح کو، سات بجکر تیس منٹ پر، آپ نے آخری سانس لی۔ آپ کی وفات کی خبر جوں ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، قرب جوار سے علماء وعوام آپ کے گاؤں پہنچنے لگے۔ جامعہ اشرف العلوم کے موجودہ ناظم حضرت الاستاذ مولانا اظہار الحق صاحب مظاہری حفظہ اللہ اور دوسرے اساتذہ پر مشتمل ایک وفد آپ کے جنازہ میں شرکت کے لیے وہاں پہنچا۔ اسی طرح ایک وفد امارت شرعیہ، پٹنہ سے آیا۔ آپ کی نماز جنازہ اسی دن بعد نمازِ عصر ، آپ کے صاحبزادے، مولانا اویس انظر قاسمی صاحب نے پڑھائی۔ نماز جنازہ سے قبل، حضرت مولانا اظہار الحق صاحب نے مختصر تقریر کی۔ ہزاروں لوگوں نے علوم وفنون کے تھکے مسافر کو ان کے آبائی گاؤں کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا۔ اللہ تعالی آپ کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے۔ آمین!

آپ کے پس ماندگان:
فراغت کے متصلا بعد، مدھوبنی ضلع کے معروف قصبہ: "پرسونی” میں، جناب حاجی محمد ادریس صاحبؒ کی صاحبزادی سے آپ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ آپ کے پس ماندگان میں آپ کی اہلیہ محترمہ، دو لڑکیاں اور پانچ لڑکے ہیں۔ سب سے بڑے صاحبزادے جناب مولانا وحافظ اویس انظر قاسمی ہیں جو سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ حضرت کی وفات کے وقت، آپ گھر پر ہی تھے اور آپ نے ہی نماز جنازہ کی امامت کی۔ دوسرے صاحبزادے جناب حافظ اسید انظر صاحب ہیں جو علاقہ میں ہی کسی دینی مدرسہ میں تدریسی خدمات میں مشغول ہیں۔ پھر جناب محمد سجادصاحب ہیں جو گھر پر ہی مقیم ہیں۔ چوتھے صاحبزادے میرے رفیق درس جناب مولانا حافظ ظفر صدیقی قاسمی ہیں۔ آپ بڑے ہی ذہین وفطین ہیں۔ آپ کی بنیادی کتابوں کی صلاحیت قابل رشک ہے۔ آپ ہمیشہ اپنے ساتھیوں میں ممتاز رہے۔ آپ بہترین خطاط بھی ہیں، اس باوجود آپ نے خطاطی کا پیشہ اختیار نہیں کیا۔ آپ ان دنوں دہلی میں مدرسہ تعلیم القرآن میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حضرت کے سب سے چھوٹے صاحبزادے جناب افضل صاحب ہیں۔ انھوں نے ابتدائی اسلامی تعلیمات کے حصول کے بعد، اسکول سے منسلک ہوگئے۔ ان دنوں سعودی میں مقیم ہین۔ اللہ تعالی ان سب بھائی بہن کو صحت وعافیت کے ساتھ رکھے۔ •••

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

حجۃ الاسلام امام محمد قاسم…

حجۃ الاسلام امام محمد قاسم نانوتویؒ کی تصانیف
امام محمد قاسم نانوتویؒ نے مختلف موضوعات پر اپنا قلم اٹھایا ۔ آپ کی تصانیف نہایت علمی اور تحقیقی ہیں۔آپکی تصانیف علم کلام سے لبریز ہیں۔ اسکے علاوہ آپ نے اپنی تصانیف میں جدید فلسفۂ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ علم کلام کی گہرائی اور فلسفۂ دین کے سبب حضرت الامامؒ کی تصانیف عام فہم نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ علماء کا وہ طبقہ جو علمِ کلام پر گہری نظر نہیں رکھتا اس طبقے کے لئے بھی امام نانوتویؒ کی تصانیف کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔ امام نانوتویؒ کی باقاعدہ تصانیف کی علمی نوعیت اور علمی حلقے میں انکے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے ذاتی مکتوبات گرامی ہی کس قدر علم کی گہرائی لئے ہوئے ہیں، اکثر مکتوبات گرامی ہی بعد میں تالیفات اور تصانیف کی شکل میں شائع بھی کئے گئے اور انکو شائع کرنے والے ان مکتوبات کے مکتوب الیہ ہی ہیں جو ان مکتوبات کے انتہائی اعلی علمی مندرجات سے بے پناہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی کے الفاظ میں(قاسم العلوم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ،احوال و آثاروباقیات ومتعلقات ص۶۹۱):
’’علمی موضوعات پر جو گرامی نامے تحریر فرمائے ہیں انکے مباحث میں بڑا تنوع اور وسعت ہے، ان میں اسرار دین و شریعت کی گفتگوہے،تفسیر و حدیث کے نکات کی گرہ کشائی فرمائی گئی ہے،فقہی مسائل بھی زیر قلم آئے ہیں۔تراویح و قرأت ضاد(ض)،جمعہ اور اس دور میں موضوع بحث بنے ہوئے مسائل پر بھی توجہ فرمائی گئی ہے۔ہندوستان کی شرعی حیثیت اور اس کے دار الحرب ہونے نہ ہونے اور یہاں عقود فاسدہ پر بھی اظہار خیال فرمایا گیا ہے۔شرک و بدعت کے کلیدی مباحث کو بھی واضح کیا گیا ہے،مختلف دینی فرقوں کے نظریات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے،امکان نظیر کے واضح دلائل تفصیل سے لکھے ہیں،امتناع نظیر کے ماننے والوں کے دلائل کا علمی تجزیہ فرمایا ہے۔ردشیعت پر بھی خاص توجہ ہے،خلافت وامامت اور باغ فدک وغیرہ کے مشہور اختلافی موضوعات کا بھی علمی،عقلی جائزہ لیاہے۔مسلمانوں کے بگاڑ و زوال کے اسباب کا ذکر ،اوراپنوں کی اندرونی کمزوریوں پر بھی کہیں کہیں احتساب کیا ہے۔غرض بیسیوں موضوعات و مباحث ہیں جو ان مکتوبات میں زیر قلم آئے ہیں، لیکن ہر ایک کی جامعیت، مضامین کی فراوانی اور دلائل کی گہرائی وگیرائی کا یہ عالم ہے کہ ہر تجزیہ منفرد اور ہر بحث حرف آخر معلوم ہوتی ہے۔‘‘
حضرت الامامؒ کی زیادہ تر تصانیف کتب و رسائل کی شکل میں شائع ہو چکی ہیں۔اور کچھ تصانیف مخطوطات کی شکل میں محفوظ ہیں۔ شائع ہو چکی تصانیف کا تذکرہ حسب ذیل ہے:
۱۔بخاری شریف تصحیح وحواشی(طباعت اول ۱۲۶۴ ؁ھ): امام ؒ کے استاذمحترم حضرت مولانا احمد علی محد ث سہارنپوریؒ کے حکم پر الامام نانوتوی قدس سرہ العزیزنے بخاری شریف کے آخری ۳ پاروں کے حواشی کا تکملہ محض ۱۷ سال کی عمر میں فرمایا تھا۔
۲۔آب حیات(طباعت اول ۱۲۹۸ ؁ھ)
۳۔اجوبۂ اربعین(طباعت اول ۱۲۹۱ ؁ھ)
۴۔الاجوبۃ الکاملہ فی الاسولۃ الخاملۃ(طباعت اول ۱۳۲۲ ؁ھ)
۵۔الدلیل المحکم علی قراۃ الفاتحۃ للمؤتم(طباعت اول۱۳۰۲ ؁ھ)
۶۔توثیق الکلام فی الانصات خلف الامام(طباعت اول۱۳۰۲ ؁ھ) اس اشاعت کے آخر میں ایک فتوی بھی شامل ہے کہ غیر مسلم کے ذبح کئے ہوئے گوشت کا کیا حکم ہے۔دارالعلوم دیوبندکے شیخ الحدیث مولانا سعید احمد پالنپوری صاحب مدظلہ العالی نے الدلیل المحکم اورتوثیق الکلام کی مشترک شرح ’’کیا مقتدی پر فاتحہ واجب ہے؟‘‘ لکھی ہے۔
۷۔اسرار قرآنی(طباعت اول۱۳۰۴ ؁ھ)
۸۔انتباہ المومنین(طباعت اول۱۲۸۴ ؁ھ)
۹۔انتصارالاسلام(طباعت اول۱۲۹۸ ؁ھ)
۱۰۔تحذیر الناس (طباعت اول۱۲۹۱ ؁ھ)یہ کتاب حضرت الامام قدس سرہ العزیز کی معرکۃ الآرا ء تصانیف میں سے ایک ہے جسکا موضوع ختم نبوت ﷺہے۔ مگر یہ کوئی باقاعدہ تالیف نہیں تھی۔ یہ ایک ذاتی مکتوب تھا جو امامؒ نے اپنے قریبی عزیز اور معاصرمولانا محمد احسن نانوتویؒ کے ایک سوال کے جواب میں لکھا تھا۔مولانا احسن صاحب کو معقولات اور علم کلام پردسترس حاصل تھا لہذاامام نانوتویؒ نے فلسفہ دین اور کلامیات کے امتزاج کے ساتھ یہ جواب لکھاتھا اور اس بات کا کوئی خدشہ نہیں تھا کہ مولانا محمد احسن صاحب کو اس کے عنوانات اور بلند پایہ علمی بحث کو سمجھنے میں کوئی دشواری ہوگی۔ اور ایسا ہوا بھی۔ اس مکتوب کی بلندپایہ علمی بحث مولانااحسن صاحب کے ہی شایا ن شان تھی۔مولانا اس مکتوب سے اتنے متاثر ہوئے کہ اسے امام نانوتویؒ کو مطلع کئے بغیرتحذیر الناس کے نام سے شائع کردیا۔
اس کے شائع ہونے کے بعد چند ممتاز علماء نے (اہل علم کے اصول کے مطابق) تحذیر الناس کے مندرجات کی تحقیق کے لئے خود بانئ دارالعلوم دیوبند امام محمد قاسم النانوتویؒ کو مکتوب لکھے۔جن کے تشفی بخش جواب لکھ کر امام نانوتویؒ نے ان کو مطمئن کیا اور ان جید علماء نے تحذیر الناس کے بلند پایہ علمی بحث کو سمجھنے میں ہوئی غلطی کے لئے معذرت بھی کی۔مگر ایک مختصر سا طبقہ جو مولوی عبدالقادربدایونی کی سرکردگی میں کام کر رہا تھااور ولی اللہی مکتب فکر اور اس حلقے کے علماء کی تردید و مخالفت میں سرگرم عمل تھا اس نے امام نانوتویؒ کے خلاف بھی اپنی روش پر چلتے ہوئے انتہائی خیانت ومنافقت کے ساتھ غیر ذمہ داری کا ثبوت پیش کیا۔امام نانوتویؒ کے خلاف فتوے اور رسالے شائع کئے ۔ان فتووں اور رسالوں کا علم اور دیانت سے دور کا بھی رشتہ نہیں ۔ بعد میں اسی مسئلے کو انتہائی خیانت کے ساتھ جاہل اور بدعتی فرقہ رضاخانیہ بریلویہ کے بانی مولوی احمدرضا خان بریلوی نے علماء دیوبند کے خلاف تکفیری مہم کے لئے استعمال کیا۔ حالانکہ تحذیر الناس ختم نبوت پر اب تک کی سب سے معرکۃ الآراء تصنیف ہے ،جس کے بعد تکمیل نبوت کے عنوان پر کسی بحث کی ضرورت پیش نہیں آتی۔لیکن مخالفین اور معاندین جو امام نانوتویؒ کے بلند پایہ علمی طریقۂ بحث سے بالکل ناواقف ہیں اور اس مقامِ علم سے کوسوں دور ہیں انہوں نے امام ؒ کی اس معرکۃ الآراء تصنیف کو بالکل الٹا معنی پہنا کر امامؒ پر نعوذ باللہ ختم نبوت کے انکار کا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور منافقانہ الزام عائد کیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
۱۱۔تحفہ لحمیہ(طباعت اول بلاسنہ،طباعت دوم۱۳۱۲ ؁ھ)
۱۲۔تصفیۃ العقائد(طباعت اول۱۲۹۸ ؁ھ)
۱۳۔تقریر دل پزیر(طباعت اول۲۹۹ ؁۱ھ)
۱۴۔تقریر ابطال جزو لایتجزیٰ: یہ جزء لایتجزیٰ کے ابطال پر حضرت الامامؒ کی اس تقریر کی ترجمانی ہے جو امامؒ نے رامپورمیں ایک جلسہ عام میں کی تھی۔حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے یہ تقریر اس جلسے میں حاضر کسی شخص سے سنی تھی اور اس کو اپنے الفاظ میں مرتب کر کے صدرا کے حاشیے پر شائع کر دیا تھا۔
۱۵۔جواب ترکی بہ ترکی(طباعت اول۱۲۹۶ ؁ھ)
۱۶۔براہین قاسمیہ توضیح، جواب ترکی بہ ترکی(طباعت اول ۱۳۸۴ ؁ھ)
۱۷۔حجۃ الاسلام(طباعت اول۱۳۰۰ ؁ھ)
۱۸۔تتمہ حجۃ الاسلام(طباعت اول۱۲۸۹ ؁ھ)
۱۹۔حق الصریح فی اثبات التراویح(طباعت اول بلا سنہ)
۲۰۔قبلہ نما(طباعت اول۱۲۹۸ ؁ھ)
۲۱۔قصائد قاسمی(طباعت اول۱۳۰۹ ؁ھ)
۲۲۔گفتگوئے مذہبی(طباعت اول۱۲۹۳ ؁ھ)
۲۳۔مباحثہ شاہ جہاں پور(طباعت اول۱۲۹۹ ؁ھ)
۲۴۔مصابیح التراویح(طباعت اول۱۲۹۰ ؁ھ)
۲۵۔مناظرہ عجیبہ(طباعت اول بلاسنہ)
۲۶۔ہدیۃ الشیعہ(طباعت اول۱۲۸۴ ؁ھ): اس معرکۃ الارا تصنیف میں حجۃ الاسلام امام محمد قاسم نانوتویؒ نے کتب حدیث کے مراتب و طبقات اور اصول تنقید کی تحقیق امام الہند شاہ ولی اللہ محد ث دہلویؒ کے نظریات کی روشنی میں فر مائی ہے۔

قبضہ کی حقیقیت اور انٹرنیٹ کے ذریعہ عقود کی بعض مرو جہ صورتیں

محمد اللہ خلیلی قاسمی

یہ اسلام کا امتیاز ہے کہ اس نے اپنے پیروکاروں کو زندگی کے دیگر میدانوں کی طرح اقتصاد ومالی معاملات کے سلسلہ میں بھی واضح ہدایات اور احکام دیے ہیں تاکہ معاشرہ کی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں اور معاشرہ کے افراد میں کسی قسم کا نزاع بھی نہ پیدا ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے عقود اور مالی معاملات میں ان امور کو ناجائز قرار دیا ہے جن کی وجہ سے فریقین کے درمیان نزاع و مخاصمت کا قوی امکان ہو یا ایک دوسرے کے مال کو ناجائز طور پر استعمال کرنا پایا جاتا ہو۔ ان ہی امور میں قبضہ علی المبیع کا معاملہ ہے یعنی بائع جس سامان کو بیچ رہا ہو اس پر اس کا قبضہ ہونا ضروری ہے تاکہ بیع مکمل ہونے کے بعد وہ اسے مشتری کے حوالہ کردے۔ جیسا کہ صحيح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ :

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ (صحیح مسلم 2807، ج 8 / ص 67)

اسی طرح ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ :

أن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: "لا یحل سلف وبیع ولا شرطان في بیع ولا ربح ما لم یضمن ولا بیع ما لیس عندک” (أخرجه الترمذي في باب کراهیة بیع ما لیس عنده، وقال:هذا حدیث حسن صحیح)

یہی وجہ ہے کہ اصولی طور پر حضرات فقہائے کرام اور ائمہ اربعہ اس امر پر متفق ہیں کہ بیع قبل القبض جائز نہیں ہے لیکن اس کی تفصیلات اور جزئیات میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔

ذیل میں سوال نامہ میں مذکور سوالات کا جواب عرض کیا جا رہا ہے۔

(۱) قبضہ کی حقیقت

احناف کے نزدیک شرعی اصطلاح میں قبضہ کا مفہوم یہ ہے کہ مبیع اور مشتری کے مابین ایسے طور پر تخلیہ کردیا جائے کہ مشتری کو قبضہ کرنے کی قدرت حاصل ہوجائے جس میں بائع کی طرف سے کوئی مانع اور حائل نہ رہے۔ جیسا علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

التسلیم والقبض عندنا هو التخلیة والتخلی وهو أن یخلي البائع بین المبیع والمشتري برفع الحائل بینهما علی وجه یتمکن المشتری من التصرف فیه فیجعل البائع مسلماً للمبیع والمشتری قابضاً له وکذا تسلیم الثمن من المشتري إلی البائع. (بدائع الصنائع 5/244)

قبضہ حسّی کبھی شی کو ہاتھوں میں لینے سے ہوتا ہے اور کبھی دوسرے طریقہ پر بھی۔ مختلف چیزوں کا قبضہ ان کے حسب حال ہوتا ہے۔ جیسا کہ علامہ شامی فرماتے ہیں:

قال في الدر ثم التسلیم یکون بالتخلیة علی وجهٍ یتمکن من القبض بلا مانع ولا حائل (شامي مع الدر، ج2، ص568)

وَفِي الاِصْطِلاَحِ: هُوَ حِيَازَةُ الشَّيْءِ وَالتَّمَكُّنُ مِنْهُ، سَوَاءٌ أَكَانَ مِمَّا يُمْكِنُ تَنَاوُلُهُ بِالْيَدِ أَمْ لَمْ يُمْكِنْ (الموسوعة الفقهية الكويتية)

اسی طرح علامہ کاسانی فرماتے ہیں:

معنی القبض هو التمکین والتخلي وارتفاع الموانع عرفاً وعادۃ حقیقة. (بدائع الصنائع 5/244)

قبضہ کی قدرت اور موقعہ دیدینا بھی قبضہ ہی کے برابر ہے:

والتمکن من القبض کالقبض (شامي، ج2، ص568)

أنه من شروط التخلیة التمکن من القبض بلا حائل ولا مانع (شامی 4/516)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں قبضہ کی کسی خاص ہیئت کو مقرر نہیں کیا گیا ہے بلکہ مختلف چیزوں کا قبضہ مختلف انداز سے ہوتا ہے۔ لہٰذا کسی خاص ہیئت کو مقرر نہیں کیا گیا ہے بلکہ جس طرح کا استیلاء عرفاً قبضہ سمجھا جاتا ہے اس کو شرعاً قبضہ کا مصداق سمجھا جائے گا۔

(۲) مروجہ تجارتی شکلوں میں تخلیہ کا معنی ومصداق

احناف کے نزدیک حسی قبضہ ضروری نہیں ہے، بلکہ مبیع کا تخلیہ بھی کافی ہے جیسا کہ درج بالا فقہی عبارات میں گزرا۔

مروجہ تجارتی شکلوں میں تخلیہ کا معنی ومصداق یہ ہوگا کہ مبیع کے حکمی قبضہ کا تحقق ہوجائے۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہونے والی مروجہ تجاری شکلوں میں قبضہ کا مطلب یہ ہے کہ ضروری کارروائی عمل میں لے آئی جائے اس طور پر کہ مبیع کا ضمان بائع سے مشتری کی طرف منتقل ہوجائے اور سامان کی ذمہ داریاں (Liabilities) اور فوائد (Profits) کا وہ حق دار بن جائے۔

اس طرح ضمانت میں آجانے اور رسک (Risk)کی منتقلی کو حکمی قبضہ مانا جائے گا۔ لہٰذا ضمان اور رسک کی منتقلی سے پہلے پہلے اگر مبیع ہلاک ہوجاتی ہے تو نقصان بائع کا ہوگا اور اگر ضمان کی منتقلی کے بعد مبیع ہلاک ہوتی ہے تو یہ مشتری کا نقصان مانا جائے گا۔

(۳) اشیائے غیر منقولہ میں قبضہ کا تحقق

احناف کے نزدیک اشیائے غیر منقولہ جیسے زمین جائیداد وغیرہ میں قبضہ کے بغیر بیع جائز ہے۔ اس میں منقولات کی طرح قبضے کی شرط نہیں ہے:

(صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار (الدر المختار، ج 5 / ص 271)

اشیائے غیر منقولہ میں بھی قبضہ کا تحقق ‘تخلیہ’ سے حاصل ہوگا اور تخلیہ یہ ہے کہ مشتری اور مبیع کے درمیان حائل اور رکاوٹ کو بائع ختم کردے اس طور پر کہ اگر مشتری مبیع میں کوئی تصرف کرنا چاہے تو کرسکے۔

وَالتَّخَلِّي وَهُوَ أَنْ يُخَلِّيَ الْبَائِعُ بَيْنَ الْمَبِيعِ وَبَيْنَ الْمُشْتَرِي بِرَفْعِ الْحَائِلِ بَيْنَهُمَا عَلَى وَجْهٍ يَتَمَكَّنُ الْمُشْتَرِي مِنْ التَّصَرُّفِ فِيهِ فَيُجْعَلُ الْبَائِعُ مُسَلِّمًا لِلْمَبِيعِ ، وَالْمُشْتَرِي قَابِضًا لَهُ(بدائع الصنائع 5/244)

تخلیہ کی ایک شکل یہ ہے کہ مالک مکان کہہ دے کہ اب مکان آپ کا ہے، آپ اپنے قبضہ میں لے لیجیے یا اپنے مکان کی چابی مشتری کے حوالہ کردے ۔ (فقہ البیوع، مفتی تقی عثمانی ، جلد اول، ص 398)

(۴) اشیائے غیر منقولہ کی رجسٹری کا حکم

اگر کوئی شخص اپنی مملوکہ زمین وجائیدادکسی کو فروخت کردے اور مشتری کے نام سے رجسٹری بھی کرادےتو موجودہ قانون میں مشتری زمین کا مالک سمجھا جاتا ہے اگر چہ بائع نے اس کو زمین حوالہ کرکے اس پر قابض نہ بنایا ہو، لیکن شرعاً صرف رجسٹری کو قبضہ قرار دینا مشکل ہے جب تک کہ رجسٹری کے ساتھ تخلیہ نہ بھی کیاگیا ہو کیوں کہ زمین کی رجسٹری بسا اوقات شرعاً ملک بھی مانی نہیں جاسکتی جیسا کہ بہت سے لوگ ٹیکس یا دیگر مجبوریوں کی وجہ سے زمین کا بیع نامہ کسی اور کے نام کرادیتے ہیں۔ لہٰذا شرعی طور پر صرف زمین کی رجسٹری کو قبضہ نہیں کہا جائے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تخلیہ بھی ضروری ہوگا:

فالذي يظهر أنه لا ينبغي أن يعتبر التسجيل قبضًا ناقلاً للضمان في الفقه الإسلامي، إلا إذا صاحبته التخلية بالمعنى الذي ذكرناه فيما سبق، ومنه أن يكون العقار مستغلاً بالإجارة، وعقد المشتري الإجارة مع المستاجر صراحةً أو اقتضاءً. (فقہ البیوع، جلد اول، 405)

اشیائے غیر منقولہ کی رجسٹری قبضہ کے حکم میں نہیں ہوگی، بلکہ تخلیہ سے ہی قبضہ ہوگا۔ لیکن زمین کی رجسٹری سے قبل مشتری اس زمین کو بیچ سکتا ہے کیوں کہ اشیائے غیر منقولہ میں بیع قبل القبض جائز ہے۔

(صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار (الدر المختار، ج 5 / ص 271)

(وَأَمَّا) بَيْعُ الْمُشْتَرِي الْعَقَارَ قَبْلَ الْقَبْضِ فَجَائِزٌ عَنْهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ ، وَأَبِي يُوسُفَ اسْتِحْسَانًا ، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ ، وَزُفَرَ ، وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمُ اللَّهُ لَا يَجُوزُ قِيَاسًا ، وَاحْتَجُّوا بِعُمُومِ النَّهْيِ الَّذِي رَوَيْنَا ؛ وَلِأَنَّ الْقُدْرَةَ عَلَى الْقَبْضِ عِنْدَ الْعَقْدِ شَرْطُ صِحَّةِ الْعَقْدِ لِمَا ذَكَرْنَا ، وَلَا قُدْرَةَ إلَّا بِتَسْلِيمِ الثَّمَنِ ، وَفِيهِ غَرَرٌ ، وَلَهُمَا عُمُومَاتُ الْبِيَاعَاتِ مِنْ الْكِتَابِ الْعَزِيزِ مِنْ غَيْرِ تَخْصِيصٍ، وَلَا يَجُوزُ تَخْصِيصُ عُمُومِ الْكِتَابِ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ عِنْدَنَا ، أَوْ نَحْمِلُهُ عَلَى الْمَنْقُولِ تَوْفِيقًا بَيْنَ الدَّلَائِلِ صِيَانَةً لَهَا عَنْ التَّنَاقُضِ ؛ وَلِأَنَّ الْأَصْلَ فِي رُكْنِ الْبَيْعِ إذَا صَدَرَ مِنْ الْأَهْلِ فِي الْمَحَلِّ هُوَ الصِّحَّةُ ، وَالِامْتِنَاعُ لِعَارِضِ الْغَرَرِ ، وَهُوَ غَرَرُ انْفِسَاخِ الْعَقْدِ بِهَلَاكِ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ وَلَا يُتَوَهَّمُ هَلَاكُ الْعَقَارِ فَلَا يَتَقَرَّرُ الْغَرَرُ فَبَقِيَ بَيْعُهُ عَلَى حُكْمِ الْأَصْلِ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج 11 / ص 259)

(۵) اشیائے منقولہ کی بیع قبل القبض باطل ہے یا فاسد؟

اشیائے منقولہ جیسے غلہ، فرنیچر، کمپیوٹر اور موبائل وغیرہ میں بیع قبل القبض ناجائز ہے ۔ مثلاً مروجہ آن لائن تجارت میں مشتری نے ضمان کی منتقلی سے پہلے ہی سامان کو بیچ دیا تو وہ بیع فاسد ہوگی ، باطل نہیں ہوگی کیوں کہ اس میں بیع کے ارکان پائے جارہے ہیں ، ہاں مبیع کے عدم مقبوض ہونے کی وجہ سے بیع میں فساد پیدا ہو رہاہے:

(ج) أن يكون المبيع غیر مقبوض للبائع، بحیث إنه لم ینتقل إلیه ضمانه، فمن باع ما لم یقبضه فبیعه فاسد.(فقه البیوع، جلد دوم،958، 1193)

(۶)اشیائے غیر منقولہ میں قبضہ کے تعلق سے بیع اور ہبہ کے درمیان فرق

اشیائے غیر منقولہ میں قبضہ کے تعلق سے بیع اور ہبہ کے درمیان فرق ہے۔ وہ یہ ہے کہ زمین کی بیع بلا قبضہ کے تام ہوجاتی ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص زمین خریدنے کے بعد قبضہ کرنے سے پہلے اس کو آگے بیچ دے تو اس کے جواز میں کلام نہیں ہے۔ لیکن ہبہ تام ہونے کی لیے ضروری ہے کہ ہبہ کرنے والا، شیٴ موہوب کو موہوب لہ کے حوالہ کردے اور اس پر اس کو مالک و قابض بنادے اور خود اس سے لاتعلق ہوجائے، صرف زبانی ہبہ کرنے سے جب کہ اس کے ساتھ قبضہ نہ کرایا گیا ہو، ہبہ تام نہیں ہوتا۔

اخْتَلَفَ الْفُقَهَاءُ فِي اشْتِرَاطِ الْقَبْضِ لِنَقْل مِلْكِيَّةِ الْعَيْنِ الْمَوْهُوبَةِ إلَى الْمَوْهُوبِ عَلَى قَوْلَيْنِ (أَحَدُهُمَا) لِلْحَنَفِيَّةِ وَالشَّافِعِيَّةِ وَالْحَنَابِلَةِ: وَهُوَ أَنَّهُ يُشْتَرَطُ الْقَبْضُ لاِنْتِقَال الْمِلْكِيَّةِ إلَى الْمَوْهُوبِ، وَأَنَّ الْهِبَةَ لاَ يَمْلِكُهَا الْمَوْهُوبُ إلاَّ بِقَبْضِهَا. (الموسوعة الفقهية الكويتية، 32/279)

وشرائط صحتها في الموهوب أن یکون مقبوضا غیر مشاع ممیزا غیر مشغول.(شامي: 8/489)

( وَتَتِمُّ ) الْهِبَةُ ( بِالْقَبْضِ ) الْكَامِلِ ( وَلَوْ الْمَوْهُوبُ شَاغِلًا لِمِلْكِ الْوَاهِبِ لَا مَشْغُولًا بِهِ ) وَالْأَصْلُ أَنَّ الْمَوْهُوبَ إنْ مَشْغُولًا بِمِلْكِ الْوَاهِبِ مُنِعَ تَمَامَهَا ، وَإِنْ شَاغِلًا لَا ، فَلَوْ وَهَبَ جِرَابًا فِيهِ طَعَامُ الْوَاهِبِ أَوْ دَارًا فِيهَا مَتَاعُهُ ، أَوْ دَابَّةً عَلَيْهَا سَرْجُهُ وَسَلَّمَهَا كَذَلِكَ لَا تَصِحُّ (أيضاً 493، 494)

اگر کسی نے صرف ملکی قانون کے مطابق رجسٹری کرکے ہبہ نامہ تیار کردیا اور اپنی زندگی میں موہوب لہ کو ہبہ کرکے اس پر قبضہ نہیں دلایا تو شرعا یہ ہبہ تام ومعتبر نہیں ہے۔ لہٰذا ، صرف رجسٹری کردینے سے شیٔ موہوب ، موہوب لہ کو ملک میں منتقل نہیں ہوگی اور اس بنیاد پر اس کی طرف سے بیع وغیرہ کا تصرف صحیح نہیں ہوگا۔

(۷) فاریکس ٹریڈنگ اور کموڈیٹی ٹریڈنگ

اس سوال میں انٹرنیٹ کے ذریعہ سونے چاندی ، کرنسی اور دیگر اشیاء و اجناس کی آن لائن تجارت کے متعلق ہے۔

میری ناقص فہم کی مطابق ، انٹرنیٹ کے ذریعہ آن لائن تجارت میں دو شکلیں ہیں : ایک فوریکس ٹریڈنگ جو مختلف ممالک کی کرنسیوں کی آن لائن تجارت سے عبارت ہے اور دوسرے کموڈیٹی مارکیٹ جس میں سونا چاندی، گیس ، تیل اور غذائی اجناس وغیرہ کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

جہاں تک کرنسی کے تبادلہ کا شرعی ضابطہ یہ ہے کہ دو مختلف ملکوں کی کرنسیاں دو جنسیں ہیں اور ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی کے بدلے فروخت کرنا شرعاً جائز ہے اور دونوں کے درمیان جو شرحِ تبادلہ باہمی رضامندی سے طے ہوجائے اس کا لین دین درست ہے؛ البتہ ثمنین میں سے کم ازکم ایک پر مجلسِ عقد میں بالفعل قبضہ ضروری ہے، خود قبضہ کیا جائے یا وکیل کے ذریعہ قبضہ کیا جائے:

وحاصله أنها أثمان عرفیة أو اصطلاحیة مثل الفلوس النافقة وعملة کل بلد جنس مستقل، فتجب فیها الزکاة وتتأدی بها، ویجوز أن تکون رأس مال في السلم ویجري فیها الربا فإن بیعت بجنسها وجب فیها التماثل بالقیمة ووجب التقابض في المجلس، لا لأنه صرف بل لأن الجنس بانفراده یحرم النسیئة علی قول الحنفیة کما سبق في حکم الفلوس، ولکن لا یجري علیها أحکام الصرف بمعنی أنه لاتجب فیها التقابض في المجلس ویجوز فیها النسیئة إن وقعت المبادلة بغیر جنسها، مثل أن تباع الدولارات الأمریکیة بالربیات الباکستانیة بشرط أن تکون المبادلة بسعر یوم المبادلة حتی لاتکون ذریعة للربا. (فقہ البیوع، جلد دوم، ص733)

لیکن فوریکس ٹریڈنگ میں مختلف ممالک کے کرنسیوں کی آن لائن تجارت کے سلسلہ میں یہ عام شرعی ضابطہ لاگو نہیں ہوتا کہ اس وقت جو فوریکس ٹریڈنگ ہورہی ہےیہ ایک مستقل ایک ایسی مارکیٹ ہے جس میں حصہ لینے والوں کا مقصد فی الواقع کرنسی کا تبادلہ نہیں ہوتا بلکہ کرنسی خرید وفروخت کے نام پر کھاتوں کے درمیان رقم کی منتقلی ہوتی ہے اور حقیقت میں کہیں بھی کرنسی کا تبادلہ نہیں ہوتا۔ اس طرح صرف پیسے کے ہیر پھیر سے اور ہوائی بیع سے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے جو کہ جوے کی ایک شکل ہے ۔دو مختلف کرنسیوں کی بیع میں مجلس عقد میں احد البدلین پر قبضہ ضروری ہوتا ہے اور فوریکس ٹریڈنگ میں اس کا تحقق نہیں ہوتا ۔ لہٰذا فوریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ کرنسیوں کی تجارت شرعاً جائز نہیں ہے۔

فوریکس ٹریڈنگ میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ اس میں کرنسیوں کو ہی سامان تجارت بنایا گیا جو ان کی وضع کے خلاف ہے اور شریعت اسلامیہ کی نظر میں ان کا باہمی تبادلہ کسی حقیقی ضرورت کی وجہ سے درست ہے جیسا کہ بیع صرف کی اجازت دی گئی ہے اور اس کا طریقہ عام اشیاء کی بیع سے مختلف ہے۔ لیکن فوریکس ٹریڈنگ میں کرنسیوں کو ہی محل تجارت بنا لیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے معاصر مالی نظام میں بڑا فساد پیدا ہوگیا ہے۔(فقہ البیوع، جلد اول، ص 763-765)

دوسری شکل کموڈیٹی مارکیٹ ہے جس میں غذائی اجناس، قیمتی دھاتوں جیسے سونا چاندی، مائعات جیسے گیس اور پٹرول وغیرہ کی آن لائن تجارت ہوتی ہے۔ کموڈیٹی مارکیٹ ، فوریکس ٹریڈنگ سے اس طور پر مختلف ہے کہ اس میں جن اشیاء کی خرید و فروخت ہوتی ہے وہ عام ضرورت کی چیزیں ہوتی ہیں ۔

فی نفسہ ان اشیاء کی تجارت میں کوئی حرج نہیں ہے اگر مبیع ایسی چیز ہو جس کی خرید وفروخت جائز ہو یا سونے چاندی کی خرید وفروخت ہونے شکل میں ان کی شرائط کا لحاظ کیا جائے۔ نیز جس چیز کی خرید وفروخت ہورہی ہو وہ چیز فی نفسہ موجود ہو اور اس پر قبضہ کرپانا ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، آگے بیچنے کے لیے مبیع پر بائع کا قبضہ ہوجاتا ہو ،اس کے بعد آگے بیچی جاتی ہو۔اسی طرح خرید وفروخت کی کوئی مدت مقرر نہ ہو؛ بلکہ خریدار ہمیشہ کے لیے اس چیز کا مالک ہوجاتا ہو ، اور بعد میں اس کو بیچنے یا نہ بیچنے کا کلی اختیار حاصل ہوجاتا ہو۔

لیکن ان اشیاء کی آن لائن تجارت میں جو شکل فی الحال پائی جاتی ہے اس میں جواز کی شرائط پائی نہیں جاتیں؛اولاً اس طرح کے معاملات میں اشیاء کی خرید و فروخت در حقیقت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ صرف پیسوں کے ہیر پھر سے کمائی مقصود ہوتی ہے ، حقیقی لین دین شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ جو اشیاء خریدی اور بیچی جاتی ہیں ان کا خارج میں وجود نہیں ہوتا، بلکہ محض بروکر کمپنی کے انڈیکس (اشاریہ) میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔ اس طرح یہ سٹہ کی ایک شکل ہے۔

اگر فرض کیا ہے جائے کہ کموڈیٹی مارکیٹ میں جن اشیاء کی تجارت ہوتی ہے وہ خارج میں موجود ہوتی ہیں اور ان کا بالفعل قبضہ بھی کا جاسکتا ہے، گو ایسا نادر الوقوع ہی ہوتا ہے، تب بھی اس میں ایک دوسری خرابی پائی جاتی ہے وہ یہ کہ اس تجارت میں خرید و فروخت کی مدت مقرر ہوتی ہے،یعنی اس میں یہ شرط فاسد ہوتی ہے کہ آپ نے جو سامان آج خریدا ہے اس کو ایک متعین مدت مثلاً ایک ہفتہ کے اندر حاصل کرکے قبضہ کرلیں ورنہ بروکر کمپنی اس سامان کو متعینہ مدت کے اختتام پر خود ہی فروخت کردے گی۔مثلاً اگر تیل کی ایک لاٹ (دس بیرل) کموڈیٹی مارکیٹ میں 15000 ڈالر میں 10 جنوری کو خریدی گئی تو اس کا معاہدہ یہ ہوتا ہے کہ اگلی 20 جنوری تک اس لاٹ کو فروخت کرنا ہے۔ اگر کلائنٹ نے اس لاٹ کو مدت کے درمیان نہیں بیچا تو کمپنی اس کو خود 20 جنوری کی تاریخ میں بیچ دے گی۔ اگر وہ لاٹ 16000 کی فروخت ہوگی تو کمپنی اپنا کمیشن لے کر نفع کلائنٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کردے گی اور اگر 14000 میں فروخت ہوگی تب بھی وہ کلائنٹ کے اکاؤنٹ سے اپنے کمیشن اور نقصان کی مقدار رقم وضع کرلے گی۔اس طرح کموڈیٹی مارکیٹ سے آن لائن تجارت کی یہ شکل شرط فاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بھی جائز نہیں ہے۔

(۸) روپیہ کے ذریعہ سونا چاندی خریدنا بیع صرف ہے؟

روپیہ عرفی ثمن ہے اور چاندی یا سونے کے حکم میں نہیں ہے؛ اس لیے روپئے کے ذریعہ سونے چاندی کی بیع ، بیع صرف کے زمرہ میں نہیں آئے گی۔ لہٰذا روپیہ سے سونا چاندی خریدنے کی صورت میں میں تفاضل و نسیئہ جائز ہوگا اور بدلین پر مجلس واحد میں قبضہ کرنا ضروری نہیں ہوگا، صرف ایک بدل پر قبضہ کافی ہوگا۔

تنبيه: سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة، فأجاب: بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين، لما في البزازية لو اشترى مائة فلس بدرهم يكفي التقابض من أحد الجانبين.قال: ومثله ما لو باع فضة أو ذهبا بفلوس كما في البحر عن المحيط. (حاشية رد المحتار ج 5 / ص 306)

قوله: (فلو باع النقدين) تفريع على قوله وإلا شرط التقابض فإنه يفهم منه أنه لا يشترط التماثل، وقيد بالنقدين لانه لو باع فضة بفلوس فإنه يشترط قبض أحد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما كما في البحر عن الذخيرة. (حاشية رد المحتار ج 5 / ص 390)

روپئے سے چاندی اور سونے کے زیورات خریدنے کی صورت میں قبضہ بھی شرط نہیں ہے بلکہ تعیین کافی ہے ، کیوں کہ زیورات متعین کرنے سے متعین ہوجاتے ہیں۔بس اس میں ایک شرط یہ ہے کہ یوم عقد کے بھاؤ اور قیمت پر معاملہ جائے: حضرت مفتی تقی عثمانی مدظلہ لکھتے ہیں:

فإنه يجوز شراء حلي الذهب والفضة بالنقود الورقية نسيئة بشرط أن يكون بسعر يوم العقد ولا يشترط فيه التقابض، بل لا يشترط قبض الحلي الحقيقي وإنما يكفي تعيين الحلي لأن النقود الورقية في حكم الفلوس في أحكام الصرف فقط، وشرء الحلي بالفلوس لا يشترط فيه التقابض عند الحنفية بل يكفي تعيين الحلي. (فقه البیوع، جلد دوم 763)

سونے چاندی خریدنے میں چیک، ڈرافٹ اور کریڈٹ کارڈ سے وغیرہ سے ادائیگی کے سلسلہ میں حکم یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ وغیرہ کے ذریعہ جو ادائیگی ہوتی ہے اس میں عموماً رقم فوری طور پر دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجاتی ہے؛ اس لیے اس کو مجلس میں قبضہ سمجھا جائے گا اور اس کے جواز میں کلام نہیں ہے۔ لیکن مشتری کی طرف سے بائع کو چیک اور ڈرافٹ دینے کی صورت میں رقم بائع کے اکاؤنٹ میں فوری طور پر منتقل نہیں ہوتی؛ البتہ ثمن کو بینک کے ذریعہ حاصل کرنے کا اس کو تیقن حاصل ہوجاتا ہےکیوں کہ چیک اور ڈرافٹ کے پشت پر بینک میں رقم جمع ہوتی ہے، اس لیے چیک یا ڈرافٹ کو حکمی قبضہ کہا جاسکتا ہے۔

(۹) ای-کومرس ویب سائٹوں سے سامان کی خریداری

اس وقت انٹرنیٹ پر آن لائن شاپنگ ویب سائٹوں سے خرید وفروخت کا دائرہ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ بڑے سامانوں سے لے کر چھوٹے اور معمولی سامان بھی آن لائن مارکٹ کے ذریعہ بیچے اور خریدے جا رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر خریداری کے لیے جو ویب سائٹیں (جیسے امیزون ڈاٹ کوم، ایبے ڈاٹ کوم، فلپ کارٹ ڈاٹ کوم وغیرہ) ہیں انھیں ای کومرس (E-commerce) کمپنیاں کہا جاتا ہے ۔

ای کومرس ویب سائٹوں کے ذریعہ سامان کی خریداری بالکل جائز اور درست ہے کیوں کہ ان میں سامان (مبیع) کی مکمل تفصیلات وصفات اور قیمت وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے بلکہ اس سامان کی مختلف زاویوں سے تصاویر بھی آن لائن ہوتی ہے۔ اس سامان کا آرڈر دینے اور قیمت کی ادائیگی کے بعد کمپنی اس سامان کو ڈاک یا کوریئر وغیرہ کے ذریعہ خریدار کو بھیج دیتی ہے۔

معتبر ویب سائٹوں کے ذریعہ خریدا گیا سامان عموماً بعینہ وہی ہوتا ہے جو ویب سائٹ پر موجود ہوتا ہے اور اس میں عموماً کوئی دھوکہ نہیں ہوتا۔ عموماً ان ویب سائٹوں پر یہ اوپشن بھی ہوتا ہے کہ بائع سامان کی وصولی سے پہلے بھی اپنا آرڈر کینسل کرسکتا ہے یا مبیع موصول ہونے کے بعد پسند نہ ہونے کی صورت میں اسے واپس کرسکتا ہے۔ اس لیے ای کومرس ویب سائٹوں سے آن لائن سامان کی خریداری جائز ہے۔

خلاصۂ جوابات:

(۱)احناف کے نزدیک شرعی اصطلاح میں قبضہ کا مفہوم یہ ہے کہ مبیع اور مشتری کے مابین ایسے طور پر تخلیہ کردیا جائے کہ مشتری کو قبضہ کرنے کی قدرت حاصل ہوجائے جس میں بائع کی طرف سے کوئی مانع اور حائل نہ رہے۔ قبضہ حسّی کبھی شی کو ہاتھوں میں لینے سے ہوتا ہے اور کبھی دوسرے طریقہ پر بھی۔ مختلف چیزوں کا قبضہ ان کے حسب حال ہوتا ہے۔

(۲) مروجہ تجارتی شکلوں میں تخلیہ کا معنی ومصداق یہ ہوگا کہ مبیع کے حکمی قبضہ کا تحقق ہوجائے۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہونے والی مروجہ تجاری شکلوں میں قبضہ کا عرف یہ ہے کہ ضروری کارروائی عمل میں لے آئی جائے اس طور پر کہ مبیع کا ضمان بائع سے مشتری کی طرف منتقل ہوجائے اور سامان کی ذمہ داریاں (Liabilities) اور فوائد (Profits) کا وہ حق دار بن جائے۔

(۳) اشیائے غیر منقولہ میں بھی قبضہ کا تحقق ‘تخلیہ’ سے حاصل ہوگا اور تخلیہ یہ ہے کہ مشتری اور مبیع کے درمیان حائل اور رکاوٹ کو بائع ختم کردے اس طور پر کہ اگر مشتری مبیع میں کوئی تصرف کرنا چاہے تو کرسکے۔

(۴) اشیائے غیر منقولہ کی رجسٹری قبضہ کے حکم میں نہیں ہوگی، بلکہ تخلیہ سے ہی قبضہ ہوگا۔ لیکن رجسٹری سے قبل مشتری اس زمین کو بیچ سکتا ہے کیوں کہ اشیائے غیر منقولہ میں بیع قبل القبض جائز ہے۔

(۵) اشیائے منقولہ کی بیع قبل القبض فاسد ہوگی کیوں کہ اس میں بیع کے ارکان پائے جارہے ہیں ، ہاں مبیع کے عدم مقبوض ہونے کی وجہ سے بیع میں فساد پیدا ہو رہاہے۔

(۶) اشیائے غیر منقولہ میں قبضہ کے تعلق سے بیع اور ہبہ کے درمیان فرق یہ ہے کہ زمین کی بیع بلا قبضہ کے تام ہوجاتی ہے لیکن ہبہ تام ہونے کی لیے ضروری ہے کہ ہبہ کرنے والا، شیٴ موہوب کو موہوب لہ کے حوالہ کرکے اس کو مالک و قابض بنادے ۔ میں صرف رجسٹری کرنے سے ہبہ تام نہیں ہوگا اور محض ہبہ کے کاغذات کی بنیاد پر قبضہ کے پہلے اسے دوسرے کے ہاتھ فروخت کرنا درست نہیں ہوگا۔

(۷)انٹرنیٹ کے ذریعہ سونے چاندی کی بیع کو فاریکس ٹریڈنگ کہاجاتا ہے اور دیگر اشیاء و اجناس کی آن لائن تجارت کو کموڈیٹی ٹریڈنگ کہاجاتا ہے۔

دو ملکوں کی کرنسی کا تبادلہ بنیادی طور پر جائز ہے کیوں کہ دو مختلف ملکوں کی کرنسیاں دو جنسیں ہیں اور ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی کے بدلے فروخت کرنا شرعاً جائز ہے البتہ ثمنین میں سے کم ازکم ایک پر مجلسِ عقد میں بالفعل قبضہ ضروری ہے۔ لیکن فوریکس ٹریڈنگ میں مختلف ممالک کے کرنسیوں کی آن لائن تجارت کے سلسلہ میں یہ عام شرعی ضابطہ لاگو نہیں ہوتا کہ اس وقت جو فوریکس ٹریڈنگ ہورہی ہےیہ ایک مستقل ایک ایسی مارکیٹ ہے جس میں حصہ لینے والوں کا مقصد فی الواقع کرنسی کا تبادلہ نہیں ہوتا بلکہ کرنسی خرید وفروخت کے نام پر کھاتوں کے درمیان رقم کی منتقلی ہوتی ہے اور حقیقت میں کہیں بھی کرنسی کا تبادلہ نہیں ہوتا۔ اس طرح صرف پیسے کے ہیر پھیر سے اور ہوائی بیع سے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے جو کہ جوے کی ایک شکل ہے ۔دو مختلف کرنسیوں کی بیع میں مجلس عقد میں احد البدلین پر قبضہ ضروری ہوتا ہے اور فوریکس ٹریڈنگ میں اس کا تحقق نہیں ہوتا ۔ لہٰذا فوریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ کرنسیوں کی تجارت شرعاً جائز نہیں ہے۔

فوریکس ٹریڈنگ میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ اس میں کرنسیوں کو ہی سامان تجارت بنایا گیا جو ان کی وضع کے خلاف ہے اور شریعت اسلامیہ کی نظر میں ان کا باہمی تبادلہ کسی حقیقی ضرورت کی وجہ سے درست ہے جیسا کہ بیع صرف کی اجازت دی گئی ہے اور اس کا طریقہ عام اشیاء کی بیع سے مختلف ہے۔ لیکن فوریکس ٹریڈنگ میں کرنسیوں کو ہی محل تجارت بنا لیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے معاصر مالی نظام میں بڑا فساد پیدا ہوگیا ہے۔

دوسری شکل کموڈیٹی مارکیٹ ہے جس میں غذائی اجناس، قیمتی دھاتوں جیسے سونا چاندی، مائعات جیسے گیس اور پٹرول وغیرہ کی آن لائن تجارت ہوتی ہے۔ فی نفسہ ان اشیاء کی تجارت میں کوئی حرج نہیں ہے اگر مبیع ایسی چیز ہو جس کی خرید وفروخت جائز ہو یا سونے چاندی کی خرید وفروخت ہونے شکل میں ان کی شرائط کا لحاظ کیا جائے۔ نیز جس چیز کی خرید وفروخت ہورہی ہو وہ چیز فی نفسہ موجود ہو اور اس پر قبضہ کرپانا ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، آگے بیچنے کے لیے مبیع پر بائع کا قبضہ ہوجاتا ہو ،اس کے بعد آگے بیچی جاتی ہو۔اسی طرح خرید وفروخت کی کوئی مدت مقرر نہ ہو؛ بلکہ خریدار ہمیشہ کے لیے اس چیز کا مالک ہوجاتا ہو ، اور بعد میں اس کو بیچنے یا نہ بیچنے کا کلی اختیار حاصل ہوجاتا ہو۔

لیکن کموڈیٹی مارکیٹ میں ان اشیاء کی آن لائن تجارت میں جو شکل فی الحال پائی جاتی ہے اس میں جواز کی شرائط پائی نہیں جاتیں؛اولاً اس طرح کے معاملات میں اشیاء کی خرید و فروخت در حقیقت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ صرف پیسوں کے ہیر پھر سے کمائی مقصود ہوتی ہے ، حقیقی لین دین شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ جو اشیاء خریدی اور بیچی جاتی ہیں ان کا خارج میں وجود نہیں ہوتا، بلکہ محض بروکر کمپنی کے انڈیکس (اشاریہ) میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔اس طرح یہ سٹہ کی ایک شکل ہے۔

اگر فرض کیا ہے جائے کہ کموڈیٹی مارکیٹ میں جن اشیاء کی تجارت ہوتی ہے وہ خارج میں موجود ہوتی ہیں اور ان کا بالفعل قبضہ بھی کاجاسکتا ہے، گو ایسا نادر الوقوع ہی ہوتا ہے، تب بھی اس میں ایک دوسری خرابی پائی جاتی ہے وہ یہ کہ اس تجارت میں خرید و فروخت کی مدت مقرر ہوتی ہے،یعنی اس میں یہ شرط فاسد ہوتی ہے کہ آپ نے جو سامان آج خریدا ہے اس کو ایک متعین مدت مثلاً ایک ہفتہ کے اندر حاصل کرکے قبضہ کرلیں ورنہ بروکر کمپنی اس سامان کو متعینہ مدت کے اختتام پر خود ہی فروخت کردے گی اور اپنا کمیشن لے کراگر نفع ہوگا تو کمیشن وضع کر کے کلائنٹ کے اکاؤنٹ میں ڈال دے گی اور اگر نقصان ہوا ہے تو نقصان اور کمیشن کی مقدار اکاؤنٹ سے وضع کرلے گی۔ اس طرح کموڈیٹی مارکیٹ سے آن لائن تجارت کی یہ شکل شرط فاسد پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔

(۸) روپیہ عرفی ثمن ہے اور چاندی یا سونے کے حکم میں نہیں ہے؛ اس لیے روپئے کے ذریعہ سونے چاندی کی بیع ، بیع صرف کے زمرہ میں نہیں آئے گی۔ اس صورت میں تفاضل و نسیئہ جائز ہوگا اور بدلین پر مجلس واحد میں قبضہ ضروری نہیں ہوگا، صرف ایک بدل پر قبضہ کافی ہوگا۔

سونے چاندی خریدنے میں چیک، ڈرافٹ اور کریڈٹ کارڈ سے وغیرہ سے ادائیگی کے سلسلہ میں حکم یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ وغیرہ کے ذریعہ جو ادائیگی ہوتی ہے اس میں عموماً رقم فوری طور پر دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجاتی ہے؛ اس لیے اس کو مجلس میں قبضہ سمجھا جائے ۔ لیکن مشتری کی طرف سے بائع کو چیک اور ڈرافٹ کے ذریعہ ادائیگی کی صورت میں رقم فوری طور پر بائع کے اکاؤنٹ میں فوری طور پر منتقل نہیں ہوتی؛ البتہ ثمن کو بینک کے ذریعہ حاصل کرنے کا اس کو تیقن حاصل ہوجاتا ہے، اس لیے چیک یا ڈرافٹ کو حکمی قبضہ کہا جاسکتا ہے۔

(۹) ای-کومرس ویب سائٹوں سے سامان کی خریداری کی خریداری بالکل جائز اور درست ہے کیوں کہ ان میں سامان (مبیع) کی مکمل تفصیلات وصفات اور قیمت وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے بلکہ اس سامان کی مختلف زاویوں سے تصاویر بھی آن لائن ہوتی ہے۔ اس سامان کا آرڈر دینے اور قیمت کی ادائیگی کے بعد کمپنی اس سامان کو ڈاک یا کوریئر وغیرہ کے ذریعہ خریدار کو بھیج دیتی ہے۔ معتبر ویب سائٹوں کے ذریعہ خریدا گیا سامان عموماً بعینہ وہی ہوتا ہے جو ویب سائٹ پر موجود ہوتا ہے اور اس میں عموماً کوئی دھوکہ نہیں ہوتا۔ عموماً ان ویب سائٹوں پر یہ اوپشن بھی ہوتا ہے کہ بائع سامان کی وصولی سے پہلے بھی اپنا آرڈر کینسل کرسکتا ہے یا مبیع موصول ہونے کے بعد پسند نہ ہونے کی صورت میں اسے واپس کرسکتا ہے۔ اس لیے ای کومرس ویب سائٹوں سے آن لائن سامان کی خریداری جائز ہے۔

مصنوعی طریقہٴ تولید کی مختلف شکلیں اور ان میں ثبوت نسب کا حکم

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین۔ أما بعد:

محمد اللہ خلیلی قاسمی*

مغرب کی خداناآشنا اور اخلاق بیزار قوموں کی قیادت میں دنیا میں جو سائنسی ترقیات وجود میں آئی ہیں ان کی وجہ سے جہاں بہت سی سہولیات پیدا ہوئی ہیں وہیں اس کی وجہ سے بہت سے امور میں پیچیدگیاں اور مشکلات بھی وجود میں آئی ہیں۔افسوس کہ موجودہ مغربی تہذیب اس تصور پر منبی ہے کہ انسانی معاشرہ میں مذہب اور اخلاق کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فطرت سے بغاوت کی راہ چل پڑی ہے۔ ہم جنسی کی اجازت، ہم جنس جوڑوں کی شادی، بے نکاحی ماؤں کی کثرت، عریانیت کی کھلی آزادی، نسل انسانی کی افزائش پر پابندی وغیرہ بے شمار مسائل ہیں جن میں وہ قادر مطلق کی بنائی ہوئی فطرت سے آمادۂ جنگ ہے۔ ان امور کا ارتکاب نہ صرف اخلاقی نقطۂ نظر سے غلط ہے بلکہ اس کی وجہ سے بہت سے طبی اور معاشرتی مسائل اور پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ شیطان نے اپنے وعدہ کے مطابق انسانوں کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری ہے:

وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآَمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آَذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآَمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا (4:119)

میڈیکل سائنس کی غیر معمولی ترقی کے نتیجے میں کچھ ایسے مسائل پیدا ہوگئے ہیں جس میں انسانیت کا احترام اور فطرت کے اقدار داؤ پر لگ گئے ہیں۔ انہیں طرح کے غیر انسانی اور خلاف فطرت امور میں سے مصنوعی طریقۂ تولید بھی ہے جس میں عموماً کسی اخلاقی پابندی یا مذہبی قید وبند کا پاس ولحاظ نہیں رکھا جاتا ، بلکہ سروگیسی جیسے انسانیت سوز طریقہائے کار کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ سروگیسی میں عورت کی رحم کرایہ پر لی جاتی ہے اور بچوں کے خواہشمند جوڑے اپنے من پسند بچے حاصل کرنے کے لیے اس حد تک گرجاتے ہیں کہ دنیا کے مختلف علاقوں ، مختلف رنگ و نسل کے مردوں اور بسا اوقات مشاہیر کے نطفے حاصل کرکے کرایہ کی عورت (سروگیٹ مدر) کے رحم کے ذریعہ بچے پیدا کرتے ہیں اور اس عورت اور اس کو لانے والے ایجنٹ کو اس کے بدلے رقم فراہم کرتے ہیں۔ یہ یقیناً انسانی شرافت کے خلاف ہے کہ اس کسی عورت یا مرد کے صنفی اعضاء یا مادہ منویہ سامان تجارت بن جائیں۔ سروگیسی سے مادریت کا تقدس مجروح ہوتا ہے اور اس سے یہ محترم رشتہ بھی ایک تجارتی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں سروگیسی کا انسانیت سوز کاروبار کافی پھل پھول رہا ہے۔

اسلام میں نسب کی اہمیت اور مصنوعی طریقہٴ تولید

شریعت اسلامیہ میں نسب کی بڑی اہمیت ہے ۔ قرآن کریم میں نسب کو انسانوں کی بڑی نعمت اور خصوصیت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا [الفرقان/54]

دوسری طرف احادیث شریفہ میں نسب کی اہمیت اور اس کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ. (سنن أبي داود ج 6 / ص 62)

أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ فَلَيْسَتْ مِنْ اللَّهِ فِي شَيْءٍ وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ. (سنن أبي داود ج 6 / ص 182)

نسب نسل انسانی کی خصوصیات اور امتیازات میں سے ہے اور اسی کی وجہ سے وہ دیگر جانوروں سے ممتاز ہے۔ نسل انسانی کی تاریخ شاہد ہے کہ نسب کی حفاظت انسانی فطرت ہے اور دنیا کے ہرخطے اور ہر نسل کے انسانوں کا اس پر اتفاق رہا ہے جیساکہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فان النّسَب أحد مَا يتشاح بِهِ، ويطلبه الْعُقَلَاء، وَهُوَ من خَواص نوع الانسان، وَمِمَّا امتاز بِهِ من سَائِر الْحَيَوَان (حجۃ اللہ البالغۃ، باب العدۃ 2/220)

اعْلَم أَن النّسَب أحد الْأُمُور الَّتِي جبل على محافظتها الْبشر، فَلَنْ ترى إنْسَانا فِي إقليم من الأقاليم الصَّالِحَة لنشء النَّاس إِلَّا وَهُوَ يحب أَن ينْسب إِلَى أَبِيه وجده، وَيكرهُ أَن يقْدَح فِي نسبته إِلَيْهِمَا، اللَّهُمَّ إِلَّا لعَارض من دناءة النّسَب أَو غَرَض من دفع ضرّ أَو جلب نفع وَنَحْو ذَلِك، وَيجب أَيْضا أَن يكون لَهُ أَوْلَاد ينسبون إِلَيْهِ ويقومون بعده مقَامه، فَرُبمَا اجتهدوا اشد الِاجْتِهَاد، وبذلوا طاقاتهم فِي طلب الْوَلَد، فَمَا اتّفق طوائف النَّاس على هَذِه الْخصْلَة إِلَّا لِمَعْنى فِي جبلتهم”(حجۃ اللہ البالغۃ، تربية الْأَوْلَاد والمماليك 2/222)

نسب کی حفاظت سے صنفی اعتبار سے شوہر اور بیوی کی وفاداری قائم ہوتی ہے اور ان دونوں کی باہمی تعلق سے توالد و تناسل کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔ اسی سے خاندان وجود میں آتے ہیں، والدین اور اولاد کی شناخت قائم ہوتی ہے، ایک دوسرے کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین ہوتا ہے۔ نسب کے ساتھ حق پرورش، نان و نفقہ، حرمت ازدواج، حرمت مصاہرت اور میراث وغیرہ کے مسائل بھی اسی سے جڑے ہوئے ہیں۔

اسلام اصولی طور پر مصنوعی طریقہٴ تولید کی ہرگز حوصلہ افزائی نہیں کرتا کیوں کہ اس میں اختلاط نسب کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ مصنوعی طریقہٴ تولید کی اکثر شکلیں بلا شبہ ناجائز اور حرام ہیں جن میں اجنبی مرد کا نطفہ یا اجنبی عورت کا بویضہ استعمال کیا جاتاہے یا اجنبی عورت کے کوکھ کو کرایہ پر لیا جاتاہو۔ البتہ اگر کوئی مسلمان جوڑا لاولد ہو اور انھیں اولاد کی شدید خواہش ہو اور تو معتبر دین دار ماہر ڈاکٹر کی تشخیص ہو کہ اس کے علاوہ کوئی علاج نہیں ، نیز مصنوعی بارآوری کے ذریعہ بچہ ہونے کا قوی امکان موجود ہو تو ایسی صورت میں نطفوں یا ٹیوب کی تبدیلی یا اختلاط کے تمام خدشات کی عدم موجودگی کی صورت میں ایسا کرنے کی گنجائش ہوسکتی ہے گو اس کے لیے کچھ مکروہ اور ناپسندیدہ امور کا ارتکاب کرنا پڑے گا، لیکن چوں کہ انسان میں اولاد کی خواہش فطری ہوتی ہے اور اولاد نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی معاشرتی اور طبی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں؛ اس لیے بدرجہ شدید مجبوری اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ تمام طریقے نا جائز اور حرام ہیں۔ لیکن اگر کوئی ان طریقوں کو اپنا لے اور اس سے اولاد وجود میں آجائے تو اس اولاد کا پر کیا احکام جاری ہوں گے؟اس کا نسب کس سے ثابت ہوگا ؟ اس سلسلہ میں سوالات کے جوابات حسب ذیل ہیں:

پہلی صورت

زوجین اپنے نطفوں کو مصنوعی ٹیوب میں رکھوائیں اور ٹیوب ہی میں بچے کی نشو و نما ہو، اس کو بالکل بھی رحم میں نہ رکھا جائے اور مصنوعی رحم ہی سے بچہ پیدا ہوا۔

اس سلسلہ میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ مرد کے مادہٴ منویہ کو لے کر عورت کے بویضہ سے ملاکر مصنوعی بارآوری ٹیوب کے اندر کی جاتی ہے اور پھر اسے عورت کے رحم میں منتقل کرکے بچے کی پیدائش ہوتی ہے ، یہی شکل عملاً اب تک رائج رہی ہے، لیکن ابھی تک عملی طور پر ایسی کوئی شکل وجود میں نہیں آئی ہے کہ ٹیوب میں کو مصنوعی بارآوری کے بعد مصنوعی رحم میں رکھ کر پیدائش کرائی جائے۔ جانوروں کے بچوں کو مصنوعی رحم میں رکھ کر ولادت کے مرحلہ سے کامیابی کے ساتھ گزارا جاچکا ہے ، لیکن کسی انسانی جنین کو پورے طور پر مشین کے ذریعہ ولادت کا تجربہ ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔ گو سائنسی ترقی نے اس عمل کو ممکن بنادیا ہے لیکن بہت سی اخلاقی اور قانونی پاپندیوں کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا ہے۔ خدا کرے کے ایسا اخلاق باختہ اور انسانیت سوز عمل کبھی ظہور میں بھی نہ آئے کیوں کہ انسانیت کی بے انتہا توہین اور تذلیل کے مرادف ہوگا۔

بہر حال اگر ایسی صورت پیش آتی ہے تو شرعی اصولوں کی روشنی میں بظاہر وہ بچہ نہ عورت کی طرف منسوب ہوگا اور نہ ہی مرد کی طرف منسوب ہوگا؛ کیوں کہ ماں کی طرف نسب ونسبت حمل و دلادت سے ثابت ہوتی ہے اور اس صورت میں اس عورت کو نہ حمل ہوا اور نہ ہی اس نے بچہ کو جنم دیا، جیسا کہ قرآن میں ماں طرف حمل وولادت کو منسوب کیا گیا ہے:

إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ [المجادلة/2] حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا [الأحقاف/15]

وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ [النجم/32] وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ [النحل/78]

يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ [الزمر/6]

اسی طرح وہ بچہ شوہر کی طرف بھی منسوب نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ نسب فراش کے واسطے سے کسی مرد کے لیے ثابت ہوتا ہے اور اس صورت میں یہ بچہ مصنوعی رحم اور مشین سے تولد ہوا ہے جو مرد کا فراش بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اس طرح وہ بچہ صاحب نطفہ مرد کی طرف بھی منسوب نہیں ہونا چاہیے:

أَنَّ النَّسَبَ فِي جَانِبِ الرِّجَالِ يَثْبُتُ بِالْفِرَاشِ وَفِي جَانِبِ النِّسَاءِ يَثْبُتُ بِالْوِلَادَةِ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع – (ج 14 / ص 262)

اسی لیے یہ بچہ لقیط کے حکم میں ہوگا۔لیکن اس سلسلہ میں ایک دوسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ میں نسب کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے اور کسی بچے کے نسب کو ضائع ہونے سےحتی الامکان روکنے کی کوشش کی گئی ہے، اس لیے زوجین کے دعوی کی صورت میں استحساناً وہ بچہ ثابت النسب مانا جاسکتا ہے اور اسے انھیں زوجین سے ملحق کیا جائے گا ؛ کیوں کہ اس سے ایک طرف بچہ کے ضیاع نسب سے حفاظت ہے اور دوسری طرف کسی غیر کا حق باطل نہیں ہوتا اور کوئی منازعت بھی نہیں پائی جاتی۔ جیسا کہ اس فقہی جزئیہ سے اس کی تائید ہوتی ہے:

(وَلَوْ ادَّعَاهُ الْمُلْتَقِطُ ) أَيْ وَلَوْ ادَّعَى الْمُلْتَقِطُ نَسَبَ اللَّقِيطِ وَقَالَ هُوَ ابْنِي بَعْدَمَا قَالَ إنَّهُ لَقِيطٌ ، قِيلَ يَصِحُّ قِيَاسًا وَاسْتِحْسَانًا لِأَنَّهُ لَمْ يَبْطُلْ بِدَعْوَاهُ حَقُّ أَحَدٍ وَلَا مُنَازِعَ لَهُ فِي ذَلِكَ ( وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ عَلَى الْقِيَاسِ وَالِاسْتِحْسَانِ ) أَيْ عَلَى اخْتِلَافِ حُكْمِ الْقِيَاسِ مَعَ حُكْمِ الِاسْتِحْسَانِ : يَعْنِي فِي الْقِيَاسِ لَا يَصِحُّ وَفِي الِاسْتِحْسَانِ يَصِحُّ كَمَا فِي دَعْوَى غَيْرِ الْمُلْتَقِطِ ، لَكِنَّ وَجْهَ الْقِيَاسِ هَاهُنَا غَيْرُ وَجْهِ الْقِيَاسِ فِي دَعْوَى غَيْرِ الْمُلْتَقِطِ . (العناية شرح الهداية ج 8 / ص 187)

دوسری صورت

میاں بیوی کے اجزائے منویہ کو خارجی ٹیوب میں رکھ کر افزائش کی جائے اور کچھ وقت کے بعد اس کو بیوی کے رحم میں منتقل کیا جائے اور وہیں سے بچے کی پیدائش ہو۔ خارجی تلقیح (بارآوری) کی یہ شکل محتاط علماء کے یہاں ممنوع ہے ۔ لیکن دیگر بہت سے علماء نے انسان کے اندر اولاد کی شدید فطری خواہش اور اولاد کی ضرورت کی بنیاد پر کچھ شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دی ہے، مثلاً: (الف) کسی واقعی طبی ضرورت کی وجہ سے اس کو اختیار کیا جائے جیسے میاں یا بیوی میں سے کسی کو کسی نقص کی وجہ سے معتاد طریقہ پر تولید ممکن نہ ہو۔ (ب) کسی طبیب حاذق نے یہ تشخیص کی ہو کہ اس کے بغیر بچہ حاصل کرنے کی اور کوئی صورت نہیں ہے۔ (ج) قطعی طور پر یقینی ہو کہ میاں کا نطفہ اور بیوی کا بویضہ استعمال کیا جائے گا اور کسی اور کے مادہ تولید سے اس کے بدلنے اور مخلتط ہونے کا شبہ نہ ہو۔(د) اس کا بھی یقین ہو کہ تلقیح کے بعد جس ٹیوب میں میاں بیوی کے مادہائے تولید ہوں اس کی تبدیلی نہ ہو۔

جہاں تک ثبوت نسب کا معاملہ ہے تو اس صورت میں وہ بچہ ثابت النسب مانا جائے گا کیوں کہ اصولی طور پر بیوی کے فراش ہونے کی وجہ سے وہ بچہ مرد کی طرف منسوب ہوگا اور حمل وولادت کی وجہ سے اس عورت کی طرف بھی منسوب ہوگا:

أَنَّ النَّسَبَ فِي جَانِبِ الرِّجَالِ يَثْبُتُ بِالْفِرَاشِ وَفِي جَانِبِ النِّسَاءِ يَثْبُتُ بِالْوِلَادَةِ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ج 14 / ص 262)

دوسری طرف ثبوت نسب کے لیے بیوی کا شوہر کے نطفہ سے حاملہ ہوجانا کافی ہے، یہ ضروری نہیں کہ وہ جسمانی طور پر اس کے ساتھ مباشرت کرے۔ فقہ کی کتابوں میں ایسی جزئیات موجود ہیں جن میں وطی کے بغیر استقرار حمل کو ممکن تسلیم کیا گیا ہے اور نسب بھی ثابت مانا گیا ہے:

لِمَا فِي الْمُحِيطِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ إذَا عَالَجَ الرَّجُلُ جَارِيَتَهُ فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ فَأَنْزَلَ فَأَخَذَتْ الْجَارِيَةُ مَاءَهُ فِي شَيْءٍ فَاسْتَدْخَلَتْهُ فَرْجَهَا فِي حَدَثَانِ ذَلِكَ فَعَلِقَتْ الْجَارِيَةُ وَوَلَدَتْ فَالْوَلَدُ وَلَدُهُ وَالْجَارِيَةُ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ ا هـ البحر الرائق شرح كنز الدقائق – (ج 12 / ص 96)

تیسری صورت

کوئی شوہر یہ عمل کرے کہ اپنے نطفہ اور کسی اجنبی عورت کے انڈے کو ٹیوب میں بار آور کرائے اور پھر اس لقیحہ یا آمیزہ کو ایک مدت کے بعد اپنی بیوی کے رحم میں ڈلوادے اور بیوی کے رحم ہی سے اس کی ولادت ہو۔ یہ صورت قطعاً ناجائز اور حرام ہے کہ کسی مرد کے مادہ منویہ کو کسی اجنبی عورت کے بویضہ سے آبیدہ اور بارآور کیا جائے۔

جہاں تک اس نومولود بچہ کا نسب کا تعلق ہے وہ بچہ ثابت النسب مانا جائے گا کیوں کہ جس عورت کے رحم سے وہ پیدا ہوا ہے وہی عورت در اصل اس کی ماں ہےبقاعدہ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ [58:2] اور حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا [46:15] اوروہ عورت اس مرد کی فراش ہے ، لہذا یہ بچہ زوجین کا مانا جائے گا:

أَنَّ النَّسَبَ فِي جَانِبِ الرِّجَالِ يَثْبُتُ بِالْفِرَاشِ وَفِي جَانِبِ النِّسَاءِ يَثْبُتُ بِالْوِلَادَةِ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ج 14 / ص 262)

چوتھی صورت

شوہر کسی دوسرے شخص کے مادہٴ منویہ کو اپنی بیوی کے انڈوں سے ملاکر خارجی ٹیوب میں بارآور کرائے اور پھر اپنی بیوی کے رحم میں منتقل کرادے، اور بیوی کے رحم ہی سے بچہ کی پیدا ئش ہو۔یہ صورت بھی زنا کی طرح بے حیائی اور حرام امور پر مشتمل ہونے کی وجہ سے سخت ناجائز ہے۔ اس عمل میں اور زنا وبدکاری میں سوائے اس کے کوئی فرق نہیں کہ اس کام کے طبعی طریقے کے بجائے انجکشن یا کسی دوسرے آلہ کا استعمال ہوتا ہے، شرعی حکم دونوں کا یکساں ہے۔

جہاں تک نسب کا تعلق ہے تو بچہ کا نسب زوجین سے ہی ثابت مانا جائے گاکیوں کہ ثبوت نسب کے باب میں فقہی اصول یہی ہے کہ عقد نکاح کا قیام ہی ثبوت نسب کے لیے کافی مانا گیا ہے، عورت جس مرد کی فراش ہوگی بچہ اسی مرد کی طرف منسوب ہوگا بشرطیکہ نکاح پر کم از کم مدت حمل یعنی چھ ماہ کی مدت گذری ہو اور شوہر اس بچہ کا انکار نہ کرے، حتی کہ اگر حقیقت میں وطی وغیرہ نہ پائی گئی ہو تب بھی یہی حکم ہے:

( فَصْلٌ ) : وَمِنْهَا ثُبُوتُ النَّسَبِ ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ حُكْمَ الدُّخُولِ حَقِيقَةً لَكِنَّ سَبَبَهُ الظَّاهِرَ هُوَ النِّكَاحُ لِكَوْنِ الدُّخُولِ أَمْرًا بَاطِنًا ، فَيُقَامُ النِّكَاحُ مَقَامَهُ فِي إثْبَاتِ النَّسَبِ ، وَلِهَذَا قَالَ النَّبِيُّ : صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ { الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ } وَكَذَا لَوْ تَزَوَّجَ الْمَشْرِقِيُّ بِمَغْرِبِيَّةٍ ، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ يَثْبُتُ النَّسَبُ ، وَإِنْ لَمْ يُوجَدْ الدُّخُولُ حَقِيقَةً لِوُجُودِ سَبَبِهِ ، وَهُوَ النِّكَاحُ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ج 6 / ص 162)

إذَا زَنَى رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ فَادَّعَاهُ الزَّانِي لَمْ يَثْبُتْ نَسَبُهُ مِنْهُ لِانْعِدَامِ الْفِرَاشِ وَأَمَّا الْمَرْأَةُ فَيَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهَا لِأَنَّ الْحُكْمَ فِي جَانِبِهَا يَتْبَعُ الْوِلَادَة . (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع – (ج 14 / ص 226)

(قَوْلُهُ وَيُشْتَرَطُ أَنْ تَلِدَ إلَخْ ) قَالَ الْأَتْقَانِيُّ وَإِنَّمَا يَثْبُتُ النَّسَبُ فِيمَا إذَا جَاءَتْ بِالْوَلَدِ لِتَمَامِ سِتَّةٍ أَشْهُرٍ مِنْ وَقْتِ النِّكَاحِ لِأَنَّ قِيَامَ النِّكَاحِ مِمَّنْ يَحْتَمِلُ الْعُلُوقُ مِنْهُ قَائِمٌ مَقَامَ الْوَطْءِ فِي حَقِّ ثُبُوتِ النَّسَبِ لِأَنَّ النَّسَبَ مِمَّا يُحْتَاطُ فِي إثْبَاتِهِ ، وَقَدْ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ { الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجْرُ } أَيْ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ عَلَى حَذْفِ الْمُضَافِ كَذَا قَالَ الْمُطَرِّزِيُّ وَالْفِرَاشُ الْعَقْدُ كَذَا فَسَّرَ الْكَرْخِيُّ فِي إمْلَائِهِ لِشَرْحِ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ ، وَقَدْ ذَكَرْنَا نَحْنُ فِي فَصْلِ الْمُحَرَّمَاتِ أَنَّ الْفِرَاشَ كَوْنُ الْمَرْأَةِ بِحَالٍ لَوْ جَاءَتْ بِوَلَدٍ يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ فَيَكُونُ الْوَطْءُ زَمَانَ التَّزَوُّجِ ثَابِتًا حُكْمًا ، وَإِنْ لَمْ يُوجَدْ حَقِيقَةً ، وَالْعِبْرَةُ بِالْفِرَاشِ لَا بِالْمَاءِ لِلْحَدِيثِ ، وَلِهَذَا لَوْ كَانَ مِنْ مَائِهِ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ فِرَاشٌ لَا يَثْبُتُ النَّسَبُ .ا هـ . (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق ج 7 / ص 253)

پانچویں صورت

میاں بیوی کا مادہٴ منویہ ٹیوب میں بارآور کرکے لقیحہ کو کسی اجنبی عورت کے رحم میں پہنچادیا جائے اور اسی عورت کے رحم سے اس بچہ کی پیدائش ہو ۔ یہ شکل بھی ناجائز اور حرام ہے۔

جہاں تک بچہ کے نسب کا تعلق ہے وہ زوجین سے ثابت نہیں ہوگا کیوں کہ جس اجنبی عورت نے رحم میں بچے کی پرورش کی ہے اور بچہ کو جنم دیا ہے وہ اس مرد کی فراش نہیں ہے، لہذا بچہ کا نسب زوجین سے ثابت نہیں مانا جائے گا۔

إذَا زَنَى رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ فَادَّعَاهُ الزَّانِي لَمْ يَثْبُتْ نَسَبُهُ مِنْهُ لِانْعِدَامِ الْفِرَاشِ وَأَمَّا الْمَرْأَةُ فَيَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهَا لِأَنَّ الْحُكْمَ فِي جَانِبِهَا يَتْبَعُ الْوِلَادَة . (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ج 14 / ص 226)

اس صورت میں اگر وہ اجنبی عورت شادی شدہ ہے تو اس بچہ کا نسب اس کے شوہر سے ثابت ہوگا۔ اور اگر وہ غیرشادی شدہ ہے تو وہ بچہ صرف اسی کی طرف منسوب ہوگا۔

أَنَّ الْفِرَاشَ كَوْنُ الْمَرْأَةِ بِحَالٍ لَوْ جَاءَتْ بِوَلَدٍ يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ فَيَكُونُ الْوَطْءُ زَمَانَ التَّزَوُّجِ ثَابِتًا حُكْمًا ، وَإِنْ لَمْ يُوجَدْ حَقِيقَةً ، وَالْعِبْرَةُ بِالْفِرَاشِ لَا بِالْمَاءِ لِلْحَدِيثِ ، وَلِهَذَا لَوْ كَانَ مِنْ مَائِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ فِرَاشٌ لَا يَثْبُتُ النَّسَبُ .ا هـ . (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق ج 7 / ص 253)

چھٹی صورت

کوئی شوہر کسی اجنبی مرد اور اجنبی عورت کے نطفوں کو بارآور کرکے آمیزہ کو اپنی منکوحہ بیوی کے رحم میں منتقل کرکے دلادت کرائے ۔ یہ شکل بھی قطعاً حرام اور ناجائز ہے۔

جہاں تک نسب کا تعلق ہے فقہی اصولوں کی روشنی میں وہ بچہ ثابت النسب مانا جائے گا اور اس کا نسب میاں بیوی سے ثابت تسلیم کیا جائے گا؛ کیوں کہ بقاعدہ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ [58:2] اور حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا [46:15] وہ بیوی حمل اور ولادت کی وجہ سے اس بچے کی ماں ہے اور فراش کے توسط سے وہ بچہ اس کے شوہر سے ملحق کیا جائے گا:

أَنَّ النَّسَبَ فِي جَانِبِ الرِّجَالِ يَثْبُتُ بِالْفِرَاشِ وَفِي جَانِبِ النِّسَاءِ يَثْبُتُ بِالْوِلَادَةِ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ج 14 / ص 262)

ساتویں صورت

ایک شخص کی دو بیویاں ہیں جن میں سے ایک بیوی حمل کی متحمل نہیں ہے، جب کہ دوسری بیوی متحمل ہے، اب اس شخص نے غیر متحمل بیوی کے انڈے اور اپنے نطفہ کو لے کر خارج میں بار آور کرایا اور پھر اس لقیحہ کو دوسری بیوی (جو متحمل ہے) کے رحم میں ڈلواکر بچہ حاصل کیا۔ یہ صورت بھی شدید حاجت کے وقت اور تمام ضروری احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہی جائز ہوسکتی ہے۔

اس صورت میں بچہ کا نسب باپ سے ہر حال میں ثابت مانا جائے گا کیوں کہ دونوں عورتیں اس کی فراش ہیں اور وہ بچہ اسی کے مادۂ منویہ سے پیدا ہوا ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ان دو میں سے کون سی عورت سے بچہ کا نسب ثابت ہوگاتو اس صورت میں بھی بقاعدہ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ [58:2] اور حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا [46:15] اس عورت سے ثابت ہوگا جس کے ذریعہ حمل اور ولادت انجام پائی ہے۔

جہاںتک دوسری بیوی کا تعلق ہے جس کے بویضہ سے بارآوری عمل میں آئی ہے اس عورت سے جزئیت کی بنیاد پر مصاہرت اور حرمت نکاح کے احکامات متفرع ہوں گے، جیسا کہ اگلے عنوان کے تحت اس امر کو کچھ مزید تفصیل کے ساتھ عرض کیا جا رہا ہے۔

حرمت مصاہرت کا احتیاطی پہلو

اوپر ذکر کردہ تمام شکلوں میں جس میں کسی اجنبی مرد یا اجنبی عورت یا سوکن کا مادۂ تولید استعمال کیا گیا ہے اس کے نسب کا حکم تو اصولی طور پر مرد کی طرف سے فراش کی بنیاد پر اور عورت کی طرف سے حمل وولادت کی بنیاد پر ثابت مانا جائے گا۔ لیکن جس اجنبی مرد اور جس اجنبی عورت کا مادۂ تولید استعمال ہوا ہے اس سے بچہ کا نسب کا تو کوئی تعلق نہیں ہوگا، لیکن نسب کے علاوہ اس نومولود بچہ یا بچی کے ساتھ ان کا کوئی تعلق قائم ہوگا یا نہیں؟

اس سلسلہ میں یہ بات قابل غور ہے کہ طبی اور حیاتیاتی تجربات کی روشنی میں یہ بات یقینی ہے کہ مرد کا نطفہ یا عورت کا بویضہ کسی جنین کی اصل اور بنیاد ہوتاہے اور اس سے مولود کی نہ صرف جزئیت ثابت ہوتی ہے بلکہ وہ شباہت اور تمام خصوصیات واوصاف انھیں سے حاصل کرتا ہے۔ لہٰذا اس تعلق کو بلکلیہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کیوں حرمت نکاح میں غایت درجہ احتیاط برتی گئی ہے ۔ اسی وجہ سے حرمت مصاہرت کے باب میں جزئیت کو بنیاد بناکر مس اور نظر کے بعید اور دورازکار احتمالات کو مؤثر مانا گیا ہے اور حرمت مصاہرت ثابت کی گئی ہے:

وَلَنَا : أَنَّ الْوَطْءَ سَبَبُ الْجُزْئِيَّةِ بِوَاسِطَةِ الْوَلَدِ حَتَّى يُضَافَ إلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا كَمُلًا فَيَصِيرُ أُصُولُهَا وَفُرُوعُهَا كَأُصُولِهِ وَفُرُوعِهِ ، وَكَذَلِكَ عَلَى الْعَكْسِ وَالِاسْتِمْتَاعُ بِالْجُزْءِ حَرَامٌ إلَّا فِي مَوْضِعِ الضَّرُورَةِ وَهِيَ الْمَوْطُوءَةُ وَالْوَطْءُ مُحَرَّمٌ مِنْ حَيْثُ إنَّهُ سَبَبُ الْوَلَدِ لَا مِنْ حَيْثُ إنَّهُ زِنًا وَاللَّمْسُ وَالنَّظَرُ سَبَبٌ دَاعٍ إلَى الْوَطْءِ فَيُقَامُ مَقَامَهُ فِي مَوْضِعِ الِاحْتِيَاطِ. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ج 8 / ص 36)

تو اس باب میں جنین کی اصل ہونے کی وجہ سے جزئیت کو ثابت کیوں نہیں مانا جائے گا جس کی جزئیت مس اور نظر سےپیدا شدہ محتمل جزئیت سے بدرجہا بڑھ کر ہے۔ اس لیے محتاط بات یہی ہے کہ حرمت مصاہرت ثابت مانی جائے ۔ اس لیے ان شکلوں میں مولود کے لیے اس مرد کے خاندان اصول وفروع سے بھی حرمت قائم ہوگی جس کا مادۂ منویہ اس کی تخلیق میں استعمال ہوا ہے، اسی طرح اس عورت کے اصول وفروع سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہوگی جس کے رحم سے اس بچہ کے لیے بویضہ المنی حاصل کیا گیا ہے۔

اس معاملہ کی نزاکت کو ایک مثال کے ذریعہ سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ مثلاً ایک بیوی کے بویضہ کو ملقح کرکے دوسری بیوی کے رحم کے ذریعہ بیٹا حاصل کیا گیا۔ بچہ جننے والی بیوی کا مانا جائے گا۔ اب اگر بویضہ دینے والی بیوی کے یہاں سابق شوہر سے کوئی بیٹی ہے، تو اصولاً دونوں کا نکاح ہوسکتا ہے۔ لیکن نکاح اور مصاہرت کے باب میں فقہ حنفی میں جو احتیاطی پہلو اختیار کیے گئے ہیں کیا یہ صورتِ جواز اس سے میل کھاتی ہے؟

ھذا ما ظھر لي واللہ تعالی أعلم وعلمه أتم وأحكم

محمد اللہ خلیلی قاسمی، دارالعلوم دیوبند

خلاصۂ مقالہ:

مصنوعی طریقہٴ تولید کی مختلف شکلیں اور ان میں ثبوت نسب کا حکم

پہلی صورت یعنی میاں بیوی کے مادۂ تولید کو لے کر مصنوعی رحم کے ذریعہ بچہ حاصل کرنا۔ یہ شکل ابھی وجود میں نہیں آئی، البتہ حیوانات پر اس کا تجربہ کیا جاچکا ہے۔ بہر حال اگر ایسی صورت پیش آتی ہے تو شرعی اصولوں کی روشنی میں بظاہر وہ بچہ نہ عورت کی طرف منسوب ہوگا اور نہ ہی مرد کی طرف منسوب ہوگا؛ کیوں کہ ماں کی طرف نسب ونسبت حمل و دلادت سے ثابت ہوتی ہے اور اس صورت میں اس عورت کو نہ حمل ہوا اور نہ ہی اس نے بچہ کو جنم دیا۔ اسی طرح وہ بچہ شوہر کی طرف بھی منسوب نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ نسب فراش کے واسطے سے کسی مرد کے لیے ثابت ہوتا ہے اور اس صورت میں یہ بچہ مصنوعی رحم اور مشین سے تولد ہوا ہے جو مرد کا فراش بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اس طرح وہ بچہ لقیط کے حکم میں ہوگا۔لیکن اس سلسلہ میں ایک دوسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ میں نسب کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے اور کسی بچے کے نسب کو ضائع ہونے سےحتی الامکان روکنے کی کوشش کی گئی ہے، اس لیے زوجین کے دعوی کی صورت میں استحساناً وہ بچہ ثابت النسب مانا جاسکتا ہے اور اسے انھیں زوجین سے ملحق کیا جائے گا ؛ کیوں کہ اس سے ایک طرف بچہ کے ضیاع نسب سے حفاظت ہے اور دوسری طرف کسی غیر کا حق باطل نہیں ہوتا اور کوئی منازعت بھی نہیں پائی جاتی۔

دوسری صورت میں میاں بیوی کے اجزائے منویہ کو خارجی ٹیوب میں رکھ کر افزائش کی جائے اور کچھ وقت کے بعد اس کو بیوی کے رحم میں منتقل کیا جائے اور وہیں سے بچے کی پیدائش ہو۔ اس صورت میں وہ بچہ ثابت النسب مانا جائے گا کیوں کہ اصولی طور پر بیوی کے فراش ہونے کی وجہ سے وہ بچہ مرد کی طرف منسوب ہوگا اور حمل وولادت کی وجہ سے اس عورت کی طرف بھی منسوب ہوگا۔

تیسری صورت میں جب کوئی شوہر یہ عمل کرے کہ اپنے نطفہ اور کسی اجنبی عورت کے انڈے کو ٹیوب میں بار آور کرائے اور پھر اس لقیحہ یا آمیزہ کو ایک مدت کے بعد اپنی بیوی کے رحم میں ڈلوادے اور بیوی کے رحم ہی سے اس کی ولادت ہو، اس میں وہ بچہ ثابت النسب مانا جائے گا کیوں کہ جس عورت کے رحم سے وہ پیدا ہوا ہے وہی عورت حمل اور ولادت کی بنیاد پر اس کی ماں ہے اوروہ عورت اس مرد کی فراش ہے ، لہذا یہ بچہ زوجین کا مانا جائے گا۔

چوتھی صورت میں کہ شوہر کسی دوسرے شخص کے مادہٴ منویہ کو اپنی بیوی کے انڈوں سے ملاکر خارجی ٹیوب میں بارآور کرائے اور پھر اپنی بیوی کے رحم میں منتقل کرادے، اور بیوی کے رحم ہی سے بچہ کی پیدا ئش ہو، اس بچہ کا نسب زوجین سے ہی ثابت مانا جائے گاکیوں کہ ثبوت نسب کے باب میں فقہی اصول یہی ہے کہ عقد نکاح کا قیام ہی ثبوت نسب کے لیے کافی مانا گیا ہے، عورت جس مرد کی فراش ہوگی بچہ اسی مرد کی طرف منسوب ہوگا ۔

پانچویں صورت میں کہ میاں بیوی کا مادہٴ منویہ ٹیوب میں بارآور کرکے لقیحہ کو کسی اجنبی عورت کے رحم میں پہنچادیا جائے اور اسی عورت کے رحم سے اس بچہ کی پیدائش ہو ، اس بچہ کا نسب زوجین سے ثابت نہیں ہوگا کیوں کہ جس اجنبی عورت نے رحم میں بچے کی پرورش کی ہے اور بچہ کو جنم دیا ہے وہ اس مرد کی فراش نہیں ہے، لہذا بچہ کا نسب زوجین سے ثابت نہیں مانا جائے گا۔ اس صورت میں اگر وہ اجنبی عورت شادی شدہ ہے تو اس بچہ کا نسب اس کے شوہر سے ثابت ہوگا۔ اور اگر وہ غیرشادی شدہ ہے تو وہ بچہ صرف اسی کی طرف منسوب ہوگا۔

چھٹی صورت میں کہ شوہر کسی اجنبی مرد اور اجنبی عورت کے نطفوں کو بارآور کرکے آمیزہ کو اپنی منکوحہ بیوی کے رحم میں منتقل کرکے دلادت کرائے ، اس میں فقہی اصولوں کی روشنی میں وہ بچہ ثابت النسب مانا جائے گا اور اس کا نسب میاں بیوی سے ثابت تسلیم کیا جائے گا؛ کیوں کہ وہ بیوی حمل اور ولادت کی وجہ سے اس بچے کی ماں ہے اور فراش کے توسط سے وہ بچہ اس کے شوہر سے ملحق کیا جائے گا۔

ساتویں صورت یہ ہے کہ ایک شخص کی دو بیویاں ہیں جن میں سے ایک بیوی حمل کی متحمل نہیں ہے، جب کہ دوسری بیوی متحمل ہے، اب اس شخص نے غیر متحمل بیوی کے انڈے اور اپنے نطفہ کو لے کر خارج میں بار آور کرایا اور پھر اس لقیحہ کو دوسری بیوی (جو متحمل ہے) کے رحم میں ڈلواکر بچہ حاصل کیا۔ اس صورت میں بچہ کا نسب باپ سے ہر حال میں ثابت مانا جائے گا کیوں کہ دونوں عورتیں اس کی فراش ہیں اور وہ بچہ اسی کے مادۂ منویہ سے پیدا ہوا ہے۔ اسی طرح ان دو میں سے بچہ کا نسب اس بیوی سے ثابت ہوگا جس کے ذریعہ حمل اور ولادت انجام پائی ہے۔جہاں تک دوسری بیوی کا تعلق ہے جس کے بویضہ سے بارآوری عمل میں آئی ہے اس عورت سے جزئیت کی بنیاد پر مصاہرت اور حرمت نکاح کے احکامات متفرع ہوں گے، جیسا کہ اگلے عنوان کے تحت مزید تفصیل ہے۔

حرمت مصاہرت کا احتیاطی پہلو

اوپر ذکر کردہ تمام شکلوں میں جس میں کسی اجنبی مرد یا اجنبی عورت یا سوکن کا مادۂ تولید استعمال کیا گیا ہے اس کے نسب کا حکم تو اصولی طور پر مرد کی طرف سے فراش کی بنیاد پر اور عورت کی طرف سے حمل وولادت کی بنیاد پر ثابت مانا جائے گا۔ لیکن جس اجنبی مرد اور جس اجنبی عورت کا مادۂ تولید استعمال ہوا ہے اس سے بچہ کا نسب کا تو کوئی تعلق نہیں ہوگا، لیکن نسب کے علاوہ اس نومولود بچہ یا بچی کے ساتھ ان کا کوئی تعلق قائم ہوگا یا نہیں؟

اس سلسلہ میں یہ بات قابل غور ہے کہ طبی اور حیاتیاتی تجربات کی روشنی میں یہ بات یقینی ہے کہ مرد کا نطفہ یا عورت کا بویضہ کسی جنین کی اصل اور بنیاد ہوتاہے اور اس سے مولود کی نہ صرف جزئیت ثابت ہوتی ہے بلکہ وہ شباہت اور تمام خصوصیات واوصاف انھیں سے حاصل کرتا ہے۔ لہٰذا اس تعلق کو بلکلیہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کیوں حرمت نکاح میں غایت درجہ احتیاط برتی گئی ہے ۔ اسی وجہ سے حرمت مصاہرت کے باب میں جزئیت کو بنیاد بناکر مس اور نظر کے بعید اور دورازکار احتمالات کو مؤثر مانا گیا ہے اور حرمت مصاہرت ثابت کی گئی ہے۔ تو اس باب میں جنین کی اصل ہونے کی وجہ سے جزئیت کو ثابت کیوں نہیں مانا جائے گا جس کی جزئیت مس اور نظر سےپیدا شدہ محتمل جزئیت سے بدرجہا بڑھ کر ہے۔ اس لیے محتاط بات یہی ہے کہ حرمت مصاہرت ثابت مانی جائے ۔ اس لیے ان شکلوں میں مولود کے لیے اس مرد کے خاندان اصول وفروع سے بھی حرمت قائم ہوگی جس کا مادۂ منویہ اس کی تخلیق میں استعمال ہوا ہے، اسی طرح اس عورت کے اصول وفروع سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہوگی جس کے رحم سے اس بچہ کے لیے بویضہ حاصل کیا گیا ہے۔

*دارالعلوم دیوبند

۲؍ جمادی الاولی ۱۴۳۹ھ