حضرت مولانا محمد جمال صاحب بلند شہری


مفتی خلیل الرحمن قاسمی برنی


استاذ محترم حضرت مولانا محمد جمال صاحب صاحب بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔مولانا ایک عرصے سے بیمار چل رہے تھے گھر والے اور دیگر احباب ان کی دیکھ بھال میں میں پوری طرح مستعد تھے۔ ادھر ان کے معا لجین بھی پوری یکسوئی کے ساتھ ان کے علاج میں مشغول تھے مگر ان کی بھی تمام تدابیر ناکام رہیں اور اور موت و حیات کی کشمکش کا جو نتیجہ ہوتا ہے ظاہر ہوا۔17 محرم 1441؁ھ۔ مطابق.17ستمبر 2019؁ء بروز منگل کو مولانا محمد جمال صاحب قاسمی مولائے حقیقی سے جاملے۔اناللہ واناالیہ راجعون۔
استاد محترم بڑے نیک اور سادہ وضع انسان تھے۔میانہ قد،دوہرا بدن،کتابی چہرہ آنکھوں پے عینک ڈاڑھی خضاب شدہ،سرپے دوپلی ٹوپی،اخیر میں پیری کے باعث عصا بھی ہاتھ میں رہنے لگاتھا۔یہ آپ کا حلیہ تھا۔احاطہء مولسری میں متبرک نل کے پاس آپ کا حجرہ تھا۔وہی آپ کی آرام گاہ بھی تھا اورداراالمطالعہ ودارالتصنیف بھی۔آپ ان لوگوں میں سے تھے جن کے دل کینہ و حسد سے پاک ہوتے ہیں۔بہت صاف دل اورصاف نیت انسان تھے۔طلبہ کے حق میں کافی شفیق و مہربان۔آپ دارالعلوم دیوبند کے قدیم اساتذہ میں سے تھے۔۶۰۴۱؁ھ سے آپ دارالعلوم کی تدریسی خدمات پر مامور تھے۔مادرعلمی میں مدرس و سطی الف کی حیثیت سے آپ مدرس مقرر تھے۔آپ کے شاگرد گان رشید کا ایک وسیع سلسلہ اطراف عالم میں پھیلا ہوا ہے۔ہزاروں تشنگان علم نے آپ کے چشمہ علمی سے اپنی علمی پیاس بجھائی اورآج وہی طلبہ دنیا میں بھر میں آپ کے فیض کو عام کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
حضرت مولانامرحوم بلند شہر کے رہنے والے تھے .بعد میں آپ نے میرٹھ میں رہائش اختیار کرلی تھی،اس لئے آپ اپنے نام کے ساتھ بلندشہری ثم میرٹھی لکھتے تھے۔1936ء؁ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ابتدائی تعلیم مختلف مدارس سے حاصل کرتے ہوئے آپ سال پنجم میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے۔1955ء؁ اور1956ء؁ میں شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد سید حسین احمد مدنی ؒ سے بخاری شریف از اول تا آخر پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے۔فراغت کے بعد آپ نے تدریسی سلسلہ جاری رکھتے ہوئے گجرات اورمدراس کے مختلف مدارس میں اپنے فیض کو جاری رکھا۔درس نظامی کی تقریباً تمام ہی کتب کا درس دیا اوربالآخر 1984 ء؁ میں دارالعلوم دیوبند میں بحیثیت مدرس آپ کا تقرر ہوا۔
مادرعلمی میں آپ نے تفسیر،اصول تفسیر،فقہ اوراصول فقہ اورادب عربی کی مختلف کتابوں کا درس دیا۔اسی دوران آپ نے درسی کتابوں کی شرح و تبیین کا بیڑہ اٹھایااورمتعدد کتابوں کی شروحات لکھیں۔کمال یہ ہے کہ آپ کے درس کو وہ مقبولیت نہ مل سکی جو مقبولیت آپکی شروحات کے حصے میں آئی۔آپ کی تحریر کردہ شروحات میں حسامی،مبادی الاصول،مقامات حریری کی شروحات کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی،مگر آپ کی شہرت”جلالین“کی شرح جمالین سے زیادہ ہوئی۔یہ پوری شرح چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔آپ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہٗ کے آخری تلامذہ میں سے تھے۔آپ کے بعد دارالعلوم دیوبند میں صرف تین اساتذہ حضرت مدنی کے تلامذہ باقی رہ گئے ہیں۔ایک حضرت مولانانعمت اللہ صاحب اعظمی دامت برکاتہم،دوسرے حضرت مولانااصغر صاحب دیوبندی دامت برکاتہم،تیسرے حضرت مولاناقمرالدین صاحب گورکھپوری دامت برکاتہم۔
حضرت مولانامحمد جمال صاحب مرحوم اخلاق و اوصاف میں اکابر کی یاد گار تھے۔بہت ہی سادہ اورزاہدانہ زندگی گزارنے کے عادی تھے۔طلبہ کی جائز ضرورتوں کو پوراکرنے کے سلسلے میں آپ کافی کوشاں رہتے اورملنساری ووضعداری گویا آپ کی عادت ثانیہ تھی۔آپ ایک عرصہ تک دارالاقامہ دارالعلوم دیوبند کے ناظم بھی رہے۔اس عرصہ میں آپ نےطلبہ کو سہولتیں پہنچانے اوران کی ضروری تربیت کا جو خیال رکھا وہ آپ کا مثالی کارنامہ ہے۔اخیر میں آپ بیمار رہنے لگے تھے۔اور اس سال آپ رخصت علالت پر تھے۔بالآخر 17/ستمبر 2019ء؁ کو آپ واصل بحق ہوگئے۔آپ کےجانے سے علمی دنیا کا بہت عظیم نقصان ہواہے۔

ع:خدا رحمت کندایں عاشقان ِپاک طینت را

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s