محسن و مشفق استاذ محترم اور عظیم مربی و مردم ساز انسان کامل حضرت مفتی سعیداحمد پالنپوری

شفیق الرحمن بلند شہری
استاذ تجوید و قرأت دارالعلوم دیوبند

یوں تو مجھے اپنے تمام ہی اساتذۂ کرام سے ہمیشہ محبت و الفت اور خاص تعلق رہا. تاہم جن اساتذۂ ذی مرتبت سے زیادہ قربت اورمحبت رہی ان میں استاذگرامی قدر حضرت مولانا نصیراحمد خانصاحب بلندی شہری سابق شیخ الحدیث وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند اورحضرت اقدس مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نوراللہ مرقدہما ہیں۔اللہ تعالیٰ دونوں حضرات اورتمام اساتذہ کواپنی شایانِ شان جزاے خیر عطا فرمائے اور جو حضرات اساتذہ دنیا سے رخصت ہو گئےان کی مغفرت فرما کرجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے۔
حضرت مفتی سعید احمد صاحب سے میری قربت اس وقت سے بڑھی جب میں 1985ء میں مشکوٰۃ شریف کی جماعت میں تھا حضرت کے یہاں ہدایہ رابع کا سبق تھا میرے دوساتھی مولوی صغیر احمد بلندی شہری(جو اس وقت علی گڈھ میں ایک بڑے مدرسہ کے منتظم اعلیٰ ہیں) مولوی محمد عامر بلند شہری(جو آج کل بلند شہر کے قصبہ شکارپور ضلع بلند شہر کی جامع مسجد کے امام و خطیب ہیں اوروہاں تعلیمی اورتبلیغی سرگرمیو میں………… مصروف ہیں) ہم تینوں اکثر ایک ہی تپائی پر بیٹھ کر پڑھتے تھے.اور وہ بھی اگلی تپائ پر تاکہ استاذ محترم کی مکمل توجہ حاصل ہوسکے۔میں اس زمانہ میں محلہ بیرون کوٹلہ کی مسجد شاہ معرو ف میں امامت بھی کرتا تھا۔ حضرت اسی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا فرماتے اورخطبے میں .نماز میں. قرأت میں .اورارکان نماز میں پیش آنے والی غلطیوں کی اصلاح بھی فرماتے. اورمیری قرأت کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے تھے. حضرت اقدس سے اسی طرح قربت بڑھتی رہی اورپھر اس قربت میں اضافہ ہوتا گیا …اس زمانہ میں بعض شریر طلبہ حضرت کی درسی تقریر پر بھی بعض غیر مناسب باتیں کرتے تو مجھ کو شدید غصہ آتا اوران کی ان باتوں سے سخت اذیت ہوتی۔ ظاہر ہے کہ یہ حضرت سے حد درجہ تعلق ہی کا نتیجہ تھا ۔ اگلے سال دورہء حدیث شریف میں داخلہ ہوا تو امسال اگلی تپائیوں پر بیٹھنے والے طلبہ بہت تھے اس لئے تین چار تپائیوں کے بعد بیٹھنے کی جگہ ملی مگر پوری کوشش کے ساتھ سامنے ہی بیٹھتے اورترمذی شریف کی مکمل تقریر بھی لکھتے۔
درس میں حضرت کا انداز گفتگو :
حضرت کی سبق کی تقریر نہایت شاندار اورعمدہ ہوتی مدلل ہوتی مگر ساتھ ہی بہت آسان ہوتی گفتگو کی رفتار ایسی ہوتی کہ طلبہ بآسانی اس کو لکھ سکیں۔ چنانچہ دورے کے اکثر طلبہ حضرت کی تقریر مکمل لکھنے کی کوشش کرتے اگر کسی سے کچھ چھوٹ جاتا تو دوسرے ساتھی کی کاپی سے نقل کرنے کی کوشش کرتے۔صبح تیسرا گھنٹہ مکمل اورشام مغرب کے بعد دونوں وقتوں میں ترمذی جلد اول ہی کا سبق ہوتا سال کے آخر میں طحاوی شریف بعد مغرب پڑھاتے مگر تفصیلی مباحث ترمذی شریف ہی کے اندر بیان فرماتے تھے سال جب ختم کے قریب تھا میری آمد و رفت حضرت کے یہاں بعد عصر زیادہ ہونے لگی۔
دورہء حدیث شریف کے بعد قرأت میں داخلہ
دورہ کے سال ایک دن حضرت نے مجھ سے معلوم کیا کہ آئندہ کیا ارادے ہیں۔میں نے عرض کیا کہ میں قرأت پڑھنا چاہتاہوں مگر میرے حالات نہیں ہیں تو حضرت نے معلوم کیا کہ تمہاری شادی ہوگئی میں نے عرض کیا کہ حضرت میرے ۳بچے بھی ہیں۔اس پر حضرت نے تعجب کااظہار بھی فرمایااورغایت شفقت سے فرمایاکہ تم پڑھنے کا ارادہ کرلو انتظام ہوجائے گا اورپھر فرمایاکہ اپنے والد کو بلاکر لانا میں ان سے بھی بات کرلوں گا۔خیر رمضان کے آخر میں میں نے اپنے دادا جان اوراپنی والدہ محترمہ سے مشورہ کیا اورقرأت میں داخلہ کی اجازت چاہی اور یہ بھی کہا کہ میرے لئے خرچ کی فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ نظم فرمادیں گے۔والدہ محترمہ نے اجازت دے دی اورمیں نے قرأت سبعہ میں استاذ محترم جناب مولاناقاری ابوالحسن صاحب مدظلہ کے یہاں داخلہ لے لیا اورحضرت مفتی صاحب نے مجھے فرمایاکہ تم میرے بچوں کو ایک گھنٹے پڑھایاکرو چنانچہ دوپہر چھٹی کے بعد میں نے حضرت کے فرزندان مولوی رشید احمد مرحوم اورسعید احمد مرحوم اوروحید احمد سلمہ کو پڑھا نا شروع کیا اورحضرت نے ڈیڑھ سو روپئے میرا وظیفہ شروع فرمایا جو میرے لئے ضرورت پوری کرنے کے لئے کافی تھا پھر اسی سال درمیان میں (یہ 1987ء کا سال ہے) دیوبند کے مشہور قاری جناب قاری عبد الجلیل صاحب عثمانی اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے رٹائرڈ ہوگئے تھے ان کی جگہ سال پوراکرنے کے لئے طلبہ میں سے انتخاب ہونا طے ہوا جس میں میرا اورقاری زکریا صاحب گونڈوی کا انتخاب کرلیا گیا اوریہاں بھی ڈیڑھ سو روپئے ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا اس میں بھی حضرت مفتی صاحب ہی معین ثابت ہوئے۔اگلے سال بحیثیت معین کے میر اتقرر شعبہء تجوید میں ہوگیا وظیفہ میں اضافہ ہوگیامزید یہ کہ مسجد قدیم کی امامت بھی مجھے دے دی گئی جو دوسالوں تک چلی۔یہ 1988،1989کی بات ہے۔دوسال مدرسہ افضل العلوم تاج گنج آگرہ میں تجوید وقرأت وغیرہ کی خدمت انجام دی اورجب میں آگرہ کے لئے ایک مدرس لینے آیا تو حضرت نے فرمایا دارالعلوم میں شعبہء تجوید میں جگہ خالی ہے. قاری کی ضرورت ہے تم درخواست دے دو میں نے کچھ پس وپیش کی. کیون کہ آگرہ میں میرے احوال درست ہوگے تھے تو حضرت نے کاغذ اورقلم اٹھایا اوردرخواست کا مضمون اپنے مبارک ہاتھ سے لکھ کر مجھے عنایت فرمایاکہ اس کو نقل کرکے حضرت مہتمم صاحب مولانامرغوب الرحمن کو دے دو۔میں درخواست دے کر آگرہ چلاگیا.اورپھر شعبان کی شوریٰ میں میرا تجوید کے شعبہ میں باقاعدہ تقرر ہوگیا. اس تقرر میں بھی حضرت مفتی صاحب ؒ کی شفقتیں اورمحبت مسلسل کارفرمار رہی. اور پھر گھر پر بچوں کو تجوید پڑھا نے کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔جو تقریبا5، 6سال تک چلتا رہا۔اس ذریعہ سے روزحضرت سے ملاقات بھی ہوجاتی اورحضرت کا م کے سلسلہ میں راہنمائی بھی دیتے رہتے ادھر کئی سالوں سے مصروفیت کے باعث پابندی کے ساتھ جانے کا سلسلہ تو نہیں رہا تھا . مگر جب بھی زیارت کے لئے جانا ہوتا تو پہلی جیسی ہی محبت اورشفقت فرماتے ۔
سفر میں حضرت باغ و بہار رہتے
حضرت مفتی صاحب ؒ کے ساتھ متعدد اسفار میں بھی ساتھ رہنے کا موقع ملا. سب جانتے ہیں کہ حضرت کا درسگاہ میں طلبہ پر بہت رعب رہتا تھا درس شروع ہونے کے بعد کوئی طالب علم درسگاہ میں آنے کی جرأت نہیں کرتا تھا آپ کے تشریف لانےسے پہلے ہی تمام طلبہ درسگاہ میں حاضر ہوجاتے تھے. جہاں حضرت نےدارالحدیث میں قدم رکھا اورایک سکوت طاری ہوگیا اوردرس شروع ہونے کے بعد تو کان علیٰ رؤسھم الطیور کا مظہر ہوتا تھا۔مگر جب آپ سفر میں جاتے تو اس کے برعکس نہایت خوش و خرم اورساتھیوں کے ساتھ باغ و بہار اوربے تکلف ہوکے اپنے چھوٹوں اورخدام کے ساتھ بھی بے تکلف ہوجاتے کبھی فرماتے کوئی واقعہ سناؤ کبھی فرماتے کوئی نظم سناؤ اورخود بھی کبھی کوئی واقعہ سناتے اس بے تکلفی کا آغاز خودفرماتے جس سے ہمراہیوں کی جھجھک ختم ہوجاتی۔درسگاہ والا معاملہ سفر میں نہیں رہتا۔فرماتے درسگاہ کا معاملہ دوسرا ہے۔درسگاہ میں پورے سبق کے دوران. نہایت سکینت اوروقار کے ساتھ تشریف فرما ہوتے ۔
حضرت مفتی صاحب اورترمذی شریف کا درس
اہل علم جانتے ہیں کہ کتب حدیث میں جو حیثیت ابواب فقہ کی ترتیب کے لحاظ سے ترمذی شریف کی ہے وہ دوسری کتابوں کی نہیں ہے۔اس کتاب کا انداز ہی نرالا ہے۔اس میں ایک سے ایک ہم فقہی ابحاث آتی ہیں اوران پر کلام کے لئے حدیث اوراصول حدیث کے ساتھ ساتھ فقہ اوراصول فقہ اوراسی طرح محدثین اورفقہاء کے طبقات نیز اسماء الرجال پر کامل مہارت کی ضرورت ہوتی ہے اورالحمدللہ دارالعلوم دیوبند کا ہمیشہ سے امتیاز رہاہے کہ یہاں کے حضرات اساتذہ نے شروع ہی سے نہ صرف اس کی حیثیت کو اورمرکزیت کو باقی رکھا ہے بلکہ اس میں ہمیشہ چارچاند لگائے ہیں۔ حضرت شیخ الہند پھر حضرت علامہ کشمیری رحمہما اللہ،اسی طرح شیخ الاسلام حضرت مدنی ؒ حضرت علامہ ابراہیم صاحب بلیاویؒ ان حضرات کے یہاں جو بحثیں اورجو معرکۃ الآراء کلام ترمذی شریف کے ابواب پر ہوتا وہ دوسری کتب حدیث میں نہیں ہوتا تھا۔
آخر میں حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب ؒ کے یہاں بھی ترمذی شریف کے ابواب پر جو کلام اوربحثیں ہوتیں وہ نہایت عمدہ اورمدلل ہوتیں۔حضرت لمبی لمبی اورنہایت پر مغز علمی بحثیں فرماتے جن کے ذریعہ سے مسلک حنفی خوب منقح ہوجاتا اورمعلوم ہوتاکہ مسلک حنفی ہی اقرب الی الصواب ہے جو ایک حقیقت بھی ہے چونکہ حضرت والا کو جہاں تمام فنون اسلامیہ پر دسترس حاصل تھی وہیں آپ اعلیٰ درجہ کے فقیہ بھی تھے اورآپ کے درس میں حدیث کے ساتھ فقہ کا رنگ خوب نمایاں ہوتا تھا۔بعض مرتبہ ایک ایک مسئلہ پر کئی کئی روز سبق میں شاندار اورلاجواب تقریر فرماتے۔جس سے طلبہ اورسامعین کو مکمل تشفی اورتسلی ہوجاتی.اوردرس کے بعد طلبہ کے چہروں پر عجیب خوشی اورمسرت ظاہر ہوتی آپ کی یہ تقریریں اوردرس کی حلاوت ایک زمانہ تک اہل علم محسوس کرسکیں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات کو بلند فرمائے۔ اوردنیا کو آپ کے علوم سے استفادہ کی توفیق عطافرمائے۔آمین
حضرت مفتی صاحب نور اللہ مرقدہ نے دورہء حدیث میں درس ترمذی اوراسی طرح بخاری شریف کے درس کو جو استحکام بخشا وہ آپ کا خصوصی امتیاز تھا آپ کا درس آغاز سال سے آخرتک یکسانیت کے ساتھ چلتا اورپوری کتاب اسی وقار کے ساتھ مکمل فرماتے۔حضرت مفتی صاحب ؒ کے درس کو اللہ تعالیٰ نے وہ مقبولیت عطافرمائی تھی کہ جو علما ء باہر سے دیوبند کی زیارت کے لئے آتے وہ ایک دوگھنٹہ ضرور آپ کے درس میں شامل ہوتے اوراس شمولیت کو اپنے لئے سعادت سمجھتے۔
حقیقت یہ ہے کہ درس کی ان خصوصیات کے اعتبار سے آپ مادرعلمی کےدورہءحدیث کی عزت اورآبرو تھے اوردارالعلوم کے لئے سرتاج کی حیثیت رکھتے تھے آپ سے پورے دورہئ حدیث کا ایک بھر م تھا۔”ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے“۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جلد از جلد دارالعلوم کو آپ کا نعم البدل عطافرمادے۔آمین وماذالک علی اللہ بعزیز
حضرت کے یہاں عبارت خوانی اورانداز تفہیم
دارالعلوم دیوبند کا یہ بھی ایک امتیاز رہاہے کہ حدیث شریف کی عبارت عمدہ اورصاف پڑھنے پر ہمیشہ ترغیب دی جاتی ہے۔حضرت مفتی صاحب کے یہاں اس پر بطور خاص توجہ کی جاتی تھی۔حضرت سال کے آغاز میں طلبہ کو باقاعدہ اس کی تربیت دیتے تھے. حروف کی ادائیگی ٹھیک کراتے تاکہ حدیث کے الفاظ صحیح اداہوں۔صاف ادا ہوں۔عبارت خوانی کی رفتار پر بھی تنبیہ فرماتے کہ تدویر ًاعبارت پڑھی جائے درمیانی رفتار سے،نہ بہت تیز ہو اورنہ بہت سست رفتار سے ہو اس کے لئے بچوں کو گھربلاکر ان کو تیار کرتے اورپھر جو طلبہ حضرت کے ذوق کے مطابق تیار ہوجاتے تو پورے سال وہی عبارت پڑھتے۔اس لئے حضرت کے درس میں عبارت خوانی کا منظر انتہائی خوبصورت اوردلکش ہوتا اسی کے ساتھ حضرت کا انداز تفہیم بھی بہت عمدہ اورسہل ہوتا۔غبی سے غبی بچہ بھی اس کو سمجھ جاتا۔مشکل اورپیچیدہ مسائل کو نہایت آسان انداز میں سمجھانے کا اورحل کرنے کا ملکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطافرمایاتھا دورہئ حدیث شریف میں بہت سے مسائل کا حدیث کی کئی کتابوں میں تکرار ہوتاہے طلبہ انتظار کرتے کہ یہ مسئلہ حضرت کے یہاں کب آئے گا اورجب مسئلہ آتا آپ اس کو اس طرح سمجھاتے کہ طلبہ کو مکمل تشفی ہوجاتی۔
بہرحال! اب حضرت ہمارے درمیان نہیں رہے۔اللہ کی طرف سے مقرر کردہ وقت آپہنچا۔یوں تو کئی سالوں سے آپ علیل تھے مگر آپ کی ہمت ہمیشہ جوان رہی۔قلب کا عارضہ تھا اورکئی سالوں سے شوگر بھی زیادہ رہتی تھی علاج و معالجہ بھی چلتا رہتا متعدد مرتبہ بولتے بولتے آواز رک جانے کا عارضہ بھی پیش آرہاتھا۔اسی سلسلہ میں علاج کے لئے ممبئی تشریف لے گئے تھے اوراللہ تعالیٰ نے شفاء عطابھی فرمادی تھی آن لائن تفسیر قرآن پاک کا درس بھی شروع فرمادیا تھا مگر چند دن آپ کی علالت شدید ہوگئی اورممبئی کے ایک ہسپتال میں آپ اللہ کو پیارے ہوگئے اورہزاروں متعلقین اورتلامذہ اور عقیدت مندوں کو روتا بلکتا چھوڑگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔صدارہے نام اللہ کا۔
25/رمضان المبارک 1441ھ مطابق 19/مئی 2020ء کو بوقت صبح تقریباً سات بجے آپ کی رحلت ہوئ ۔اللہ تعالیٰ کروٹ کروٹ چین و سکون نصیب فرمائے۔درجات عالیہ سے نوازے تمام ہی متعلقین سے حضرت کے لئے ایصال ثواب کی درخواست ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s