کیا تحذیرالناس قادیانیوں کے لیے تریاق ہے؟

عاطف سہیل صدیقی

بانئ دارالعلوم دیوبند وارث علوم ولی اللہی حجۃ الاسلام امام محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ العزیز کی معرکۃ الارا تصنیف تحذیرالناس کا موضوع ختم نبوت ہے۔ اور یہ کتاب ختم نبوت پر حرف آخرہے، یعنی اس کتاب میں ختم نبوت پر وہ تمام دلائل پیش کردیے گیے ہیں جس کے بعد اب اور کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کتاب کے ذریعے امام نانوتوی علیہ الرحمہ کے نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کے لئے سبھی چور دروازوں پر تالا ڈال دیا ہے، بلکہ ان دروازوں کو بند کردیا ہے۔ امام محمد قاسم نانوتوی فاضل دہلویؒ نے اپنے مشہور فلسفیانہ کلامی انداز میں اس کتاب میں ختم نبوت پر کلام فرمایا ہے۔ جس کو سمجھنا ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔ چونکہ اس کے مندرجات انتہائی عمیق ہیں اور خالص فلسفیانہ ہیں تو حقیقتا کوئی شخص اپنی کم علمی کی وجہ سے اسکو نہ سمجھ سکے تو اسمیں امام عالی مقامؒ کا قصور نہیں بلکہ سمجھنے والے کی سمجھ کا قصور ہے۔ اور اپنی کم فہمی اور علمی کمزوری کے اسی قصور کی وجہ سے ایک طبقہ اس کتاب کے بلند پایہ مندرجات کو سمجھنے سے قاصر رہا اور اس طبقے نے انتہائی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امام زمانہ مجدد ملت امام محمد قاسم نانوتویؒ پر ختم نبوت کے عقیدے کے انکار کا بر مبنئ خیانت الزام عائد کردیا۔ یہ قصہ بلکل ایسا ہی ہے جیسے کہ احقاق حق کے باوجود شیعوں کا صحابہ رضی اللہ عنھم پر بہتان اور کفر کی تہمت لگانا ہے.

حجۃ الاسلام امام اہلسنت حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سے بغض رکھنے والوں نے اسی شیعی طریقے کو اختیار کرتے ہوئے ان کے ساتھ اسی دجل و مکر سے کام لیا جس دجل کا ارتکاب شیعہ آج تک صحابہ بالخصوص شیخین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف کر رتے آ رہے ہیں، طوالت کے خوف سے صرف ایک مثال پر اکتفاء کروں گا کہ واقعہ قرطاس کو لیکر شیعوں نے امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خلاف جیسے الزامات اور افترا و بہتان کا بازار گرم کر رکھا ہے اسکے لیے شیعوں نے جعلی دلائل پیدا کیے ہیں۔ یہی معاملہ امام ولی اللہ کے علمی وارث حجۃ اللہ فی الارض شیخ الاسلام والمسلمین امام محمد قاسم النانوتوی قدس سرہ العزیزکے ساتھ کیا گیا، جس کا اعتراف بریلویوں کے چوٹی کے علماء میں سے مولانا خلیل الرحمن صاحب اور مولانا مہرعلی شاہ گولڑی نے تو کھل کر کیا ہی ہے۔

امام نانوتوی علیہ الرحمہ پر ختم نبوت کے انکار کا الزام جس بددیانتی کے ساتھ لگایا گیا ہے وہ واقعی بہت افسوس ناک ہے، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ امام علیہ الرحمہ نے مناظرہؑ عجیبہ میں اپنے مسلک اور ختم نبوت کے متعلق عقیدے کو واضح کر دیا ہے کہ امام الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر طرح سے آخری نبی اور رسول ہیں اور جو انکے بعد کسی اور نبی یا رسول کی آمد کا عقیدہ رکھے وہ کافر ہے، امام کی یہی وضاحت ختم نبوت کے ان کے عقیدے کے متعلق کافی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب مولانا عبد العزیز امروہی رحمۃ اللہ علیہ کو تحذیر الناس کے مندرجات پر اعتراض کا علم ہوا تو انہوں نے امام نانوتوی علیہ الرحمہ و رضوان پر براہ راست کفر کا فتوی صادر نہیں کر دیا تھا بلکہ انہوں نے امام نانوتوی علیہ الرحمہ سے خط و کتابت کی اور اس خط و کتابت کے ذریعے تحذیر پر اٹھائے جا رہے اعتراضات کا تشفی بخش جواب طلب کیا۔ یہی خط و کتابت بعد میں مناظرہؑ عجیبہ کے نام سے شائع ہوئی، اسی کتاب میں امام عبد الحی فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ نے امام نانوتویؒ کے عقیدہؑ ختم نبوت کی تصدیق کی، جبکہ اس کے برخلاف امامؒ پر ختم نبوت کے عقیدے کے انکار کا الزام لگانے والے حضرات کے منھ سے کبھی بھی مناظرہؑ عجیبہ کا تذکرہ نہیں سنا گیا، بلکہ یہ حضرات جب امام عالی مقامؒ کی تحذیر کو لیکر غیر علمی انداز میں اور انتہائی غیر ذمہ داری کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں تو امام نانوتویؒ اور مولانا امروہی رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان تحذیر کے مندرجات پر ہوئی خط و کتابت کا تذکرہ تک نہیں کرتے اور نہ ہی فرنگی محلی کی تصدیقات عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں، بلکہ ان لوگوں میں سے 99 فیصد افراد کو شاید اسکا علم بھی نہی ہوگا کیوں کہ انہیں کبھی حقیقت بتائی ہی نہیں گئی ہے۔

اسکے علاوہ تاویل بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور موقف کی وضاحت میں تاویل کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ تحذیر میں کسی تحریر سے خدانخواستہ ختم نبوت کے انکار کا کوئی شبہ پیدا ہورہا ہو تو مصنف سے ہی یہ پوچھا جائیگا کہ کیا واقعی آپکا یہ عقیدہ ہے؟ جیسا کہ دیانت داری اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ مولانا عبدالعزیز ؒ نے امام نانوتویؒ سے اس انتہائی حساس موضوع پرانکی وضاحت طلب کی تھی۔ اسکے بعد اگر اسکا مصنف یا اسکے تمام متبعین اس عقیدے سے انکار کردیں اور اسکی تاویل کریں تو انصاف کیجے کہ کیا اس مصنف اور پوری جماعت پر کفر کا فتوی لگانا جائز ہوگا؟

اگر تاویل کا دروازہ بالکل بند ہے تو ابن عربی کے اس قول کو جو قادیانی سیاق سباق سے ہٹا کر پیش کرتے ہیں ‘النبوّۃ ساریۃٌ الیٰ یوم القیامۃ فی الخلق و ان کان التشریع قد انقطع۔ فالتشریع جزءٌ من اجزاء النبوّۃ۔‘ پر تاویل نہیں کریں گے؟ اسکے سیاق سباق کو نہیں دیکھیں گے؟ اور ابن عربی کی جو اصل منشا ہے اسے واضح کرکے ابن عربی کا دفاع نہیں کریں گے؟ یا فورا ابن عربی پر کفر کا فتوی چسپاں کر دیں گے۔ ہمارے پاس علماء متقدمین کے اقوال میں سے ایسے متعدد اقوال ہیں جو کہ بظاہر ختم نبوت کا انکار کرنے والے لگتے ہیں اور قادیانی دجل کے ساتھ اپنے حق میں انکا استعمال بھی کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم مثال جو کہ قادیانی مرزا کے حق میں پیش کرتے ہیں وہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا قول ہے جسے نقل کرکے پوری دنیا کو گمراہ کرتے ہیں، ‘قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبي بعده، کیا نعوذوباللہ بغیر تحقیق ام المومنینؓ کو ختم نبوت کا منکر قرار دے دیا جائیگا؟ جب کہ مکمل وضاحت اس روایت کے ساتھ اس طرح سے ہے’فَإِنَّهُ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلا وَإِمَامًا مُقْسِطًا ، فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ ، وَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ ، وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا’، اس طرح دجل و مکر سے کام لیکر کسی کے بھی قول کو نعوذوباللہ ختم نبوت کے منکر کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے اور قادیانی اسی قسم کے دجل و مکر کرتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر امام نانوتویؒ کی ختم نبوت سے متعلق اپنی خود کی وضاحت، امام فرنگی محلیؒ جیسے محدث کی توثیق و تصدیق اور پھر دارالعلوم دیوبند اورپوری جماعت دیوبند کی وضاحت کے باوجود آخر مخالفین مجدد اور امام زمانہ کی تکفیر پر کیوں مصر ہیں؟ بہرحال امام قدس سرہ العزیز کی معرکۃ الارا تصنیف تحذیرالناس ختم نبوت پر حرف آخر ہے اور اگر کوئی اس کتاب کے ساتھ دجل کرکے اس کتاب کے اقتباس کتربیونت کے ساتھ اپنی بدعقیدگی کو تقویت دینے کے لیے پیش کرتا ہے تو اس سے اس کتاب کا مصنف پوری طرح سے بری ہے۔ جیسے کہ کوئی فویل اللمصلین کہہ کر نماز کا انکار کردے اور پھر اس پر مصر ہوجائے۔

یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ عقیدہؑ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے علمائے اہلسنت والجماعت نے جس قدر کام کیا ہے وہ لامثال ہے، یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اپنے جہل اور حسد یا بغض کی بنیاد پر ختم نبوت پر حرف آخر کتاب تحذیر الناس کو انتہائی غیر ذمہ داری کے ساتھ ختم نبوت کا منکر بتا کر غیر ذمہ دار حضرات نے اسے قادیانیوں کے لیے مواد کے طور پر فراہم کیا ہے۔ جبکہ غلام احمد قادیانی جو کتاب کی اشاعت کے بعد ۳۰ سال کے عرصے تک زندہ رہا اس نے اپنی نبوت کاذبہ اور اپنے دجل کی تائید میں تحذیر کو کبھی پیش نہیں کیا۔ یعنی یہ بات بلکل واضح ہے کہ مرزا کے مرنے کے بعد قادیانیوں کو تحذیر الناس کی من مانی تشریحات مخالفین نے ہی مہیا کرائی ہیں ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s