وہ اک سفینہ جوترجماں تھا بہت سی غرقاب كشتیوں كا: حضرت مفتی سعید احمد پالنپوری

مفتی محمداجمل قاسمی
استاذ تفسیر و ادب جامعہ قاسمیہ
مدرسہ شاہی ‏، مرادآباد

استاذ كوئی بھی ہو‏، تعلیم كے كسی بھی مرحلے میں اس نے پڑھایا ہو‏، وہ آدمی كا محسن اور كرم فرما ہے ‏؛ مگر محسنین كی اس فہرست میں كچھ ایسی ہستیاں بھی ہوتی ہیں جن كی طرف انتساب آدمی كے لیے وجہِ افتخار اور باعث امتیاز بنتا ہے ‏، میرے اور مجھ جیسے ہزاروں فیض یافتگان دارالعلوم دیوبند كے لیے جو ہستیاں وجہ افتخار ہیں ان میں ایک نمایاں اور جلی نام حضرت الاستاذ حضرت مولانا و مفتی سعید احمد صاحب صدرالمدرسین وشیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند كا ہے ( رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ) اردو شاعر فراق گوركھپوری نے كبھی اپنے معاصرین سے كہا تھا :
آنے والی نسلیں تم پر رشک كریں گی ہم عصرو!
جب یہ دھیان آئے گا ان کو، تم نے فراق كودیكھاہے

پتہ نہیں یہ فراق كی بڑھی ہوئی خوش فہمی تھی یا اس میں حقیقت كا عنصر بھی كسی قدر شامل تھا ؟ مگر حضرت مفتی صاحب كے نیاز مندوں كے بارے میں یہ بات پورے اطمینان كے ساتھ كہی جاسكتی ہے كہ آنے والی نسلیں ان پر ضرور رشک كریں گی كہ انہوں نے مفتی سعید احمد صاحب سے شرف تلمذ حاصل كیاہے۔

ہزارہا ہزار شاگردوں‏، عقیدت مندوں‏، وفا كیشوں اور نیاز مندوں كے دلوں میں حضرت مفتی صاحب كے لیے عقیدت ومحبت اور عظمت واحترام كے غیر معمولی جذبات تھے‏، آپ كی اچانک اور غیر متوقع رحلت نے ان جذبات میں ایک زبردست تلاطم برپا كردیا ہے ‏،آپ كی عقیدت ومحبت میں نوک قلم سے ٹپكنے والے الفاظ اور تحریریں سوشل میڈیا پر امڈتے سیلاب كا سماں پیش كررہی ہیں ، منظوم و منثور خراجہائے عقیدت كا سلسلہ ختم ہونے كا نام نہیں لے رہا ہے ۔

وادی ایمنِ ہند مادرعلمی دارالعلوم دیوبند كو اللہ سدا شاد وآباد ركھے ‏‘‘شاد باش و شاد ذی اے سرزمین دیوبند!’’ عنادل خوش نوا اس كی شاخِ نشیمن كو اپنی نغمہ سرائیوں سے معمور كرتے رہے ہیں اوران شاء اللہ العزیز صبح قیامت تک معمور كرتے رہیں گے‏؛ مگر جن بلبلان خوش الحان نے ہمارے كانوں میں رس گھولے ہیں یكے بعد دیگرے ان كے كوچ كرتے رہنے سے یہ فضا ہمیں سونی سونی سی نظر آنے لگی ہے ‏، پندرہ سال كے عرصہ میں كتنے اكابر رخصت ہوگئے جو اپنی طویل خدمات كی وجہ سے اس ادارے میں اپنا ایک مقام اور وقار ركھتے تھے ‏، لیجئے اب اس گلشن سے وہ گلِ سرسبد بھی رخصت ہوا جس كی بہارِ حسن اپنے رنگ كی رعنائی اور معطر شمیم سے دل وجان كو تازہ اورقلب ونظر كو مست كئے ركھتی تھی‏۔

جن خوش نصیبوں نے آپ كی مجلس درس كا رنگ دیكھا انہیں دكھانا كیا‏، جنہوں نے نہیں دیكھا واقعہ یہ ہے كہ انہیں دكھانا مشكل ہے ‏، قلم كو یارائےبیان كہاں جو منظر كی صحیح تصویر اتار سكے ‏، انگلیاں كیبورڈ پر حركت میں ہیں اور حضرت الاستاذ كا دل آویز سراپا اور آپ كی مجلس درس كا دلكش سین دماغ كی اسكرین پر متحرک ہے، یوں محسوس ہوتاہے كہ میں احاطہ مولسری میں نگاہوں كو فرش راہ كئے كھڑا ہوں‏، اورحضرت الاستاذ بعد نماز مغرب صدر گیٹ سے داخل ہو رہے ہیں‏، وجیہ شخصیت ‏، دراز قد وقامت ‏، باوقار سراپا‏، متین چال‏، صاف ستھرا لباس ‏، احاطہ مولسری میں پہنچ كر كنویں والے ہینڈ پائپ پر پان تھوک كرمنہ صاف كر رہے ہیں‏، پھر دارالحدیث كی طرف محو خرام ہورہے ہیں (وہی تاریخی سرخ رنگ والی دارالحدیث جودارالعلوم دیوبند كا حسن اور اس كی پہچان ہے ‏، جہاں پہنچ كر مجھ جیسے ہزاروں دل ادب واحترام میں جھكے اورفرط عقیدت سے كھنچے جاتے ہیں‏، جامع رشید كے تہ خانے یا زیرِ تعمیر شیخ الہند لائبریری كی نچلی منزل سے نہ ہمیں واسطہ پڑا اورنہ وہ جذباتی لگاؤ ہے‏)

دارالحدیث كی شمالی سمت سے جوں ہی آپ اندرداخل ہوتے ‏، طلبہ كے كچھا كھچ بھرے مجمع پر سناٹا پسر جاتا ، ہركوئی سنبھل كر باادب بیٹھ جاتا ‏، درس كو قلم بند كرنے والے سیكڑوں طلبہ اپنے كاغذ قلم ٹھیک كرنے لگتے ‏، پہلی تپائی پر بیٹھنے والے اپنے بال اور ٹوپی بھی اہتمام سے درست كرنے لگ جاتے ؛ اس لیے كہ كسی طالب علم كا الول جلول ہیئت میں قریب بیٹھنا حضرت كے لیے باعث تكدر تھا‏، مسند كے پاس پہنچ كرحضرت سروقد كھڑے ہوجاتے ، مجمع پر نظرڈالتے ہوئے خاص ادا سے سلام كرتے ‏‏، سال میں دوچار دفعہ ایسا ہوتا كہ مجمع كو ناموافق پا كر غصہ میں تنبیہاً یہیں سے الٹے قدم یہ كہتے ہوئے واپس چلے جاتے‘‘ كہ تمہیں اگر پڑھنے كا شوق نہیں رہا تو ہمارا بھی پڑھانے كا شوق پورا ہوچکا ہے’’ جس كا آئندہ طلبہ كے اہتمام درس پر اچھا اثر مرتب ہوتا‏، ورنہ عام معمول تھا كہ سلام كے بعد خاص لب ولہجے میں‘‘ لاالہ الا اللہ ’’ كہتے ہوئے مسند حدیث پر فروكش ہوجاتے، آپ كی زبان اس مبارک ورد كی عادی تھی، دوران درس جب بھی پہلو بدلتے، یا كسی مضمون كومكمل كرتے ‏، یاكوئی نئی بات شروع كرنے كا ارادہ كرتے تو بے اختیاریہ كلمہ آپ كی زبان پرجاری ہو جاتا‏۔
‘‘وہ آئے كب كے ، گئے بھی كب كے ‏،نظر میں اب بھی سمارہے ہیں’’

آپ كی چال ڈھال ‏، نشست وبرخاست‏ اور رفتار و گفتار میں عالمانہ وقار اور خاص قرینہ نظر آتا تھا‏،آپ مسند پر جب فروكش ہوتے توسامنے كتاب كی طرف كسی قدر جھک كر بیٹھتے، مائک والے كو ہدایت ہوتی كہ آواز بس اتنی ركھے جو دارالحدیث میں صاف سنائی دے، اس بارے میں اسے رہ رہ كر تنبیہ ہوتی رہتی‏،اس گھنٹے كی چوكسی اسے پورے دن كی ڈیوٹی پر بھاری تھی‏، دوران گفتگو سامنے مخاطب ہوتے، كسی قدر دائیں بائیں بھی متوجہ ہوتے ‏، مگر پوری طرح چہرہ نہ اِدھر پھیرتے نہ اُدھر‏، بات كہتے ہوئے ہاتھوں كے اشارے سے بھی مدد لیتے‏؛ مگر نہ اٹھاؤ پٹخ كرتے نہ زیر و زبر ہوتے‏، بس سینے تک ہی ہاتھ اٹھایا كرتے تھے، تدریس و تقریر دونوں كا انداز یكساں تھا‏۔

دوران درس طلبہ یا تو گوش بر آواز ہو كر بدیدہ و دل آپ كی طرف متوجہ ہوتے ‏، یا نظر نیچی كئے آپ كی تقریر قلمند بند كرنے میں جٹے ہوتے‏، ہرطرف سكوت وسكون كی ایسی حكمرانی ہوتی كہ صریرخامہ صاف سنائی دیتی، اوراق الٹنے كی آواز محسوس كی جاتی‏، دارالعلوم كی مسندحديث كویقیناً بہت سے ایسے اكابر نے زینت بخشی ہے جو علم و تحقیق اور صلاح وتقوی كے میدان میں حضرت مفتی صاحب سے بہت فائق ہوئے ہیں‏؛ مگر جس اہتمام اورشوق سےطلبہ كی جتنی بڑی تعداد نے حضرت كے درسی افادات قلم بند كئے كسی اور كے نہ كئے گئے( گرچہ یہ بھی واقعہ ہے كہ اكابركے دور میں طلبہ كی تعداد آج كے مقابلہ بہت ہی محدود تھی)

آپ كے یہاں ہر چیز كا ایک معیارتھا جس پر مضبوطی سے قائم رہتے، ہركسی كو آپ كے یہاں عبارت خوانی كا شوق پوراكرنا ممكن نہ تھا‏، اس كے لیے سال كے شروع میں ایک جائزہ ہوتا‏، شوقین طلبہ درخواست دیتے‏، حضرت خود ان كا امتحان لیتےجس كو پاس كرتے اسی كو بس عبارت خوانی كی اجازت ہوتی‏، جب تک یہ مرحلہ طے نہ ہوجاتا عبارت بھی خود پڑھتے‏، شروع ہی میں یہ تاكید ہوتی كہ میرے دارالحدیث میں داخل ہونے كے بعد كوئی داخل نہ ہو‏،اس كا نتیجہ تھا كہ آپ كی تشریف آوری سے پہلے سبھی طلبہ موجود ہوتے، اتفاقیہ كوئی پچھڑ جاتا تو مفتی صاحب كی نظروں سے بچ بچاكر كسی گوشہ میں بیٹھتا یا پھر اوپر كی گیلری میں چلاجاتا‏، شخصیت كی مقناطیسیت تھی،حسن تدریس كا جادو تھا یا كوئی كرامت تھی كہ طلبہ پروانہ وار آپ پر نثار تھے، اور آپ كے آداب درس كو سعادت سمجھ كر بجا لاتے، صدائے احتجاج بلند كرنا تو كجا‏، شكوہ سنج بھی كم ہی دیكھے گئے ہوں گے۔

آپ درس دے رہے ہوں، تقریر كر رہے ہوں یا عام مجالس میں گفتگو كر رہے ہوں انداز یكساں ہوتا‏، موقع عجلت كا ہو یا اطمینان كا گفتگو میں ہمیشہ اطمینان اورٹھہراؤ ہوتا‏، بولنے كا ان كا اپنا لب و لہجہ تھا جوشاید ان كے علاقائی لب و لہجے سے متاثر تھا‏، اردو كے بہت سے الفاظ كے تلفظ كا بھی یہی حال تھا، ہم شمالی ہند كے لوگوں كی طرح وہ اردو نہیں بولتے تھے‏، آواز بھی كسی قدر پست تھی ‏؛ مگر اسی لب ولہجے میں جب بولتے تھے توعلم كے موتی رولتے تھے‏، محبوبیت ایسی تھی سب كچھ بھاتا اور بھلا لگتا تھا۔

تدریس میں ان كااپنا خاص نہج اور منفرد انداز تھا جوعلامہ ابن رشد مالكی كی معركہ الآراء تصنیف ‘‘ بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد ’’اور شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ كی مسوی شرح موطا كے نہج سے ملتا جلتا اوراس كے قریب تر تھا‏، عام طور پر ہمارے مدارس میں ائمہ كے مذاہب پر طویل بحث ہوتی ہے‏، دلائل كے درمیان موازنہ ومحاكمہ كیا جاتاہے ‏، اورمذہب حنفی كی وجہ ترجیح بیان كی جاتی ہے ‏، اس طریقے كی بنیاد حضرت گنگوہیؒ ونانوتویؒ سے ہوئی، شیخ الہند تک بات اختصار اور اشاروں تک محدود تھی، علامہ انورشاہ كشمیریؒ آئے توانہوں نے اپنے وسیع مطالعہ‏، بے پناہ علم‏، اور بے مثال قوت حافظہ سے اس نہج كو زبردست ترقی دی ‏، اور ان كے شاگردوں نے اس كوعام كیا اور پھیلایا‏، یہ نہج وقت كی ضرورت كے تحت سمجھ بوجھ كر اختیار كیا گیاتھا‏، ہندوستان میں غیرمقلدین نے یہ پروپیگنڈہ زور وشور سے كرنا شروع كر دیا تھا كہ فقہ حنفی احادیث صحیحہ كے بجائے قیاس اور ضعیف احادیث پر قائم ہے ‏،اس بے حقیقت پروپیگنڈے كاصحیح جواب یہی تھا كہ تدریس و تحریر كے ذریعہ یہ بات اہل علم پر واشگاف كی جائے كہ فقہ حنفی بھی دیگر مذاہب متبوعہ كی طرح كتاب اللہ اورسنت صحیحہ پر قائم ہے ‏؛ چنانچہ اس نہج پر درس وتدریس كے فوائد بھی سامنے آئے ( مزید تفصیل كے لیے ملاحظہ ہو نفحۃ العنبر اورنقش دوام)

حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ كا موقف تھا كہ جب چاروں مذاہب برحق ہیں تو دلائل میں موازنہ و محاكمہ اورترجیح كے قصوں كے دراز كرنے كی كوئی ضرورت نہیں‏، وہ ائمہ كے مذاہب اوران كےمستدلات كو پیش كرتے، ساتھ ہی یہ بھی واضح كرتے كہ یہ اختلاف نص فہمی كا ہے یا تعارض نصوص سے پیدا ہوا ہے‏، یہ بھی واضح كرتے كہ مسئلے كی اصل كتاب اللہ ہے یا سنت رسول اللہ، مثلاً ترمذی شریف میں جب ‘‘مس المرأۃ ’’ كا مشہور مسئلہ زیربحث آیا تو آپ نے فرمایا‏‏: یہ مسئلہ دراصل حدیث كا نہیں بلكہ قرآن كا ہے ‏، پھرآپ نے‘‘ اولامستم النساء الخ” آیت كریمہ تلاوت فرمائی ‏، اوریہ بھی بتایا كہ اس مسئلے میں اختلاف نص فہمی كی وجہ سے پیدا ہوا ہے‏، جن لوگوں نے‘‘ لامس’’ كو اس کے حقیقی معنی میں ركھا انہوں نے ‘‘مس’’ كو ناقض وضو قرار دیا‏، اورجن لوگوں نے ‏‘‘ملامسۃ’’ كو جماع سے كنایہ سمجھا انہوں اس كو جنابت سے متعلق قرار دیا ‏اور‘‘ مس’’ كوناقض وضو نہیں سمجھا‏‏۔

نصوص سے فقہاء كے طرز استدلال كو حدیث كے درس میں زیرِ بحث لانے كا فائدہ بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا كرتے‏ كہ جو مسائل فقہاء نے طے كردئے ان میں تو اب اجتہاد كی ضرورت نہیں‏، لیكن جونئے نئے مسائل پیش آتے رہتے ہیں ان میں اجتہاد كی ضرورت قیامت تک باقی رہے گی‏، جب آپ گذرے ہوئے مسائل میں فقہاء كے طرز استدلال سے واقف ہوں گے تو آئندہ اس میں پختگی پیدا كر كے آپ بھی اپنے دور كے مسائل اسی نہج پر حل كر سكیں گے‏،اور اگر واقفیت ہی نہیں ہوگی تو آپ فقہی بصیرت سے محروم رہیں گے اورنت نئے مسائل كا حل پیش كرنے سے عاجز ہوں گے۔

درس حدیث میں اسناد اور روایت كے مقابل میں درایت كے پہلو پر زیادہ توجہ فرماتے تھے‏، مختلف فیہ مسائل میں اپنی رائے بھی ركھتے تھے‏، اور اس كو بہت اہمیت اور قوت كے ساتھ پیش كرتے تھے‏،بہت سے علمی مسائل میں آپ كی اپنی آراء اور تفرادات ہیں جوآپ كے درسی تقریر كے مجموعوں میں دیكھے جا سكتے ہیں‏، آپ كی بعض آراء اور تفردات آپ كی حیات ہی میں بحث كا موضوع بنے، سوال وجواب اور بحث و مباحثے کا ایک طویل سلسلہ رہا ‏۔ناچیز كے دل میں آپ كی عظمت ومحبت كے جو نقوش دور طالب علمی میں قائم ہوئے الحمد للہ وہ اب تک مدھم نہیں پڑے‏، آپ كے دروس سے خاص شغف رہا ہے، سبق میں حاضری كا اہتمام اللہ كے فضل سے ہمیشہ رہا‏، دورے میں یہ اہتمام مزید بڑھ گیا‏، شاذ و نادر ہی كسی سبق میں ناغہ ہوا؛ مگر كچھ گھنٹے ایسے تھے جس میں الحمدللہ كوئی ناغہ نہیں ہوا ،ان میں ایک گھنٹہ حضرت مفتی صاحب كا بھی تھا‏؛ مگر بایں اہتمام وشغف حضرت كی آراء و تفرادات سے زیادہ مناسبت نہ پیدا ہوسكی ‏، آپ كی علمی آراء كے بارے میں مجھ جیسے كا كچھ اظہار خیال كرنا ‏چھوٹا منہ بڑی بات معلوم ہوتی ہے ‏‏؛ اس لیے ان سے صرف نظر ہی بہتر ہے۔

آپ كا نمایاں امتیاز آپ كی عمدہ تفہیم اور مباحث كی تسہیل وتبسیط ہے ‏، آپ گھول كر پلا دینے كے گُر سے واقف تھے‏‏، آپ كے سبق میں پیچیدہ مسائل كی گتھیاں سلجھتیں‏، اور سنگلاخ علمی مباحث پانی ہوجاتے‏، آپ كے اس انداز كو آپ كے سیكڑوں تلامذہ نے حسب ظرف واستعداد جذب كیا‏، اوركامیاب و باتوفیق مدرس بن گئے:
یہ بھی اعجاز ہے آپ كے نطق كا
بے زبانوں كوطرز كلام آگیا

آپ كےاسی خوبی وكمال كا نتیجہ تھا كہ ذہین وزیرک بھی آپ كی باتوں كوسمجھتے ‏، اورغبی وكند ذہن بھی ‏، سبھی كے لیے آپ كے درس میں دلچسپی كا سامان موجود تھا‏،طلبہ تو خیر طلبہ ہیں‏، مدرسہ اورمدرسے كی كتابوں سے ناآشنا كوئی عام پڑھا لكھا آدمی بھی اگر آپ كے سبق میں شامل ہوجاتا تو وہ بھی مستفید ہوتا اور بےمزہ نہ رہتا‏، ایک مرتبہ گاؤں اور علاقے كچھ لوگ دارالعلوم كی زیارت كے لیے تشریف لائے ‏، ان میں ایک دوكے علاوہ یاتواسكول كے ماسٹر تھے یاتاجر‏، ان كی خواہش حدیث كے سبق میں شركت ہوئی ‏، میں ان كو مغرب كے بعد حضرت مفتی صاحب كے درس میں لے گیا‏، اتفاق سے اس دن ترمذی كےسبق میں اعتكاف كے مسائل زیرِ بحث تھے ‏،ہمارے یہ زائرین دیندار لوگ تھے ‏،ان میں سے بعض اعتكاف وغیرہ كا بھی اہتمام كرتے تھے‏، حضرت مفتی صاحب نے دیر تک اعتكاف و معتكف كے مختلف مسائل بیان كئے ‏،معتكف كے لیے غسل نظافت وتبرید كا مسئلہ آج كل كے ماحول میں اہمیت اختیار كر چكاہے‏، مفتی صاحب نے اس پربھی بتفصیل روشنی ڈالی‏، زائرین بہت محظوظ اورمستفید ہوئے ‏،ایک صاحب توكہنے لگے مولانا بہت اچھا پڑھاتے ہیں‏، اگر یہ كتاب اتنی آسان ہےتوہم لوگ بھی پڑھ سكتے ہیں‏، غرض آپ كے سبق میں كس و ناكس كوئی بھی محروم نہیں رہتاتھا:
وللأرض من كأس الكرام نصيب

بعض احادیث  فكری و نظری كے بجائے عملی ہوتی ہیں‏، ایسی احادیث كی تشریح میں اگر علمی وفنی موشگافیوں كے بجائے عمل اورتجربہ پیش كیا جائے تومضمون زیادہ دلنشین ہوتا ہے اور ساتھ ہی عمل كا داعیہ بھی پیدا ہوتا ہے ‏،حضرت مفتی صاحب ایسی حدیث پر گفتگو كرتے ہوئے بہت سی دفعہ یہی دوسرا طریقہ اختیار كرتے‏، دوران درس كسی مناسبت سے رقیہ (جھاڑ پھونک )كا  مسئلہ زیرِ بحث آیا تو حضرت نے فرمایا: ‘‘كلمات میں اللہ نے اثر ركھاہے‏، اللہ پر بھروسہ كر كے اگر ان  كوپڑھ كرمریض كودم كیا جائے تو فائدہ ہوتا ہے‏،تجربہ كر كے دیكھو! ہاتھ كنگن كو آرسی كیا ہے’’ پھر فرمایا:‘‘بارہا ایسا ہوا كہ میرے والد كو دردِ سر ہوا‏، میں  نے احادیث میں وارد كلمات پڑھ كردم كیا اور الحمدللہ تھوڑی ہی دیر میں افاقہ ہوگیا‏، ایک مرتبہ فون كیا‏، پتہ چلا والد صاحب كو سر میں تكلیف ہے ‏، میں نے ان سے كہا ریسور سر پر ركھئے‏، میں نے ادھر سے ریسور میں دم كیا اورالحمدللہ افاقہ ہوگيا‏‏۔ اس طرح كے بعض اور واقعات بھی ذہن میں ہیں مگر طوالت  كاخوف دامن گیر ہے‏،اس طرح كی احادیث میں تجربہ پیش كرنے  سےحدیث پر اعتماد بڑھتا تھا ‏، اور عمل كا داعیہ بھی پیدا ہوتا تھا۔

آپ كی ایک بڑی خوبی یہ بھی تھی كہ اگر آپ مسلسل دوگھنٹے پڑھاتے، تو آواز انداز رفتار شروع آخر اور درمیان میں یكساں ہوتی‏، عام طور سے دورہ حدیث میں سال كے شروع میں طویل تقریریں ہوتی ہیں ‏، پھر وقت كی كمی كے باعث سرداً وروایۃ ًكتاب پوری كرادی جاتی ہے ‏؛ مگر حضرت اس معاملے میں بھی طاق تھے جوانداز اور رفتار شروع میں ہوتی وہی آخری سبق تک بحال رہتی ‏، ہر ہر حدیث پر حسب ضرورت كلام فرماتے۔

آپ كو اردو بالخصوص مغربی پوپی میں بولے جانے والے محاورات اور كہاوتوں پر دسترس تھی، احادیث كے ترجمہ میں كبھی اردو كا كوئی مناسب محاورہ نقل كرتے توطبیعت محظوظ ہوتی ‏، مانعین زكاۃ كے خلاف خلیفہ الرسول حضرت ابوبكر رضی اللہ عنہ كی رائے جہاد كی تھی‏، جب كہ دیگر بہت سے صحابہ كی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ كو جہاد میں تامل تھا‏، جس كا اظہار انہوں نے حضرت ابوبكر صدیق رضی اللہ عنہ سے كیا‏، اس پر حضرت ابوبكر رضی اللہ عنہ جو مومنانہ اور جوشیلے جملے ارشاد فرمائے ان میں ایک جملہ یہ بھی ہے ‘‘ياعمر!أجبار في الجاهلية وخوار في الإسلام’’ استاذ محترم نے اس كا ترجمہ فرمایا: ‘‘ عمر!جاہلیت میں توبڑے سورما تھے اسلام میں بھیگی بلی بن گئے؟؟’’ حضرت كے اس ترجمہ نے بہت محظوظ كیا ‏، آپ كے درسی افادات میں اس كی مثالیں امید ہے جا بجا دیكھنے كو ملیں گی۔

حضرت عزم كے سچے اوردھن كے پكے تھے ‏، جوٹھان لیتے اس میں جٹ جاتے ‏، اور كر گذرتے‏،آپ كی زندگی اور كارنامے اس كے شاہد اور گواہ ہیں‏،افتاء كرتے ہوئے حفظ قرآن كا شوق پیدا ہوگیا‏، توافتاء كی مصروفیات كے ساتھ ساتھ چند ماہ میں حفظ بھی كر ڈالا‏، معاشی حالات كچھ بہتر ہوئے تو بلامعاوضہ خدمت تدریس انجام دینے اوراب تک اس خدمت پر معاوضے میں جو كچھ لیا تھا اس كو واپس كرنے كا داعیہ پیدا ہوا‏، چنانچہ اللہ كے بھروسہ پر ٹھان لیا اور كر گذرے‏،حالاں كہ یہ عمل آسان ہرگز نہ تھا‏، اولوالعزمی كی یہ مثال اس دور میں مشكل سے ہی ملے گی‏، ہم طلبہ كو بھی نصیحت كی تھی كہ تنخواہ لے كر كام كرو‏، اور یہ نیت ركھو كہ اللہ دوسرے ذرائع پیدا كردے گا تو تنخواہ نہیں لیں گے‏، اور اگر ممكن ہوسكا تو لی ہوئی تنخواہ بھی واپس كردیں گے ؛ مگریہ فرہادی حوصلہ اوریہ آہنی ارادہ ہركس و ناكس میں كہاں‏، یقیناً یہ چیزیں مفتی صاحب كو بہت عظیم بناتی تھیں:
ایسا كہاں سے لائیں كہ تجھ سا كہیں جسے

آپ مضبوط جی گردے اور طاقتور شخصیت كے مالک تھے ‏، جھینپنا اور مرعوب ہونا جانتے ہی نہیں تھے ‏، اندرون دارالعلوم طلبہ واساتذہ كے مجمع كوخطاب كررہے ہوں یا باہر كسی سیمینار یا اہل علم كے مجمع سے مخاطب ہوں ‏، لہجے میں وہی ٹھہراؤ اوراطمینان ہوتا اور گفتگو كا وہی رنگ وآہنگ ہوتا جس سے وہ جانے اورپہچانے جاتے تھے‏،ایسا نہیں ہوتا تھا كہ مجمع سے متاثر ہوجائیں‏، اورانداز گفتگو میں فرق آجائے‏، جوموقف ركھتے مضبوطی سے پیش كرتے اوراس پر قائم رہتے۔

آپ مقبولیت اورمحبوبیت كی جس بلندی پر تھے وہاں پہنچ كر خواہی نہ خواہی آدمی كے اسفار نیز پروگراموں اورجلسوں میں شركت كا سلسلہ دراز ہوجاتاہے ‏، یہ آدمی كی مجبوری بھی ہوتی ہے اور لوگوں كی ضرورت بھی ‏‏‏، بلكہ دیكھا جائے تویہ ایک دینی ضرورت بھی ہے ؛ مگر اس مرحلے میں پہنچ كر اعتدال پر قائم رہنا مشكل ہوجاتاہے ‏،عموماً ہوتا یہ ہے كہ بیرونی پروگراموں كی كثرت كی وجہ سے اسباق كا حرج اورطلبہ كا نقصان ہوتا ہے‏؛ مگر مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ كا معاملہ اس سلسلے میں بالكل مختلف تھا‏،آپ كے نزدیک درس كوہمیشہ اولیت اور اہمیت حاصل رہی ‏، دوران تعلیم سفر سے مكمل پرہیز كرتے اور یکسو ہوكر پڑھنے لكھنے اور پڑھانے میں لگے رہتے‏، سفر كرنا ہوتا تو چھٹیوں كے ایام میں كرتے‏، عوامی جلسوں اور پروگراموں سے خود بھی پرہیز كرتے اور پڑھنے لكھنے كا ذوق ركھنے والے طلبہ كوبھی اسی کی تاكید كرتے ‏، فرماتے كہ عوامی جلسوں كی نذر ہو كر آدمی علم كے مطلب كا نہیں رہتا‏، مفتی صاحب كا یہ معمول جہاں ان كے علم دوست ہونے كا ثبوت ہے وہیں طلبہ كے تئیں ان كی خیرخواہی اور امانت داری كی بھی دلیل ہے۔ اور بلاشبہ ہم شاگردوں كے لیے ایک بہترین مشعل راہ بھی۔

آپ كی بڑی خوبی وقت كی حفاظت اور اس كی قدردانی تھی‏،آپ اپنے اوقات كا ایک ایک لمحہ وصول كرتے ‏، ہر وقت علمی مشاغل میں لگے رہتے ‏‏؛ آپ كے یہاں مجلس آرائی ‏، لایعنی مشاغل ‏، حد یہ ہے كہ جائز تفریحات كا بھی كوئی خانہ نہ تھا‏،عیادت وتعزیت كے علاوہ عام طور پر كسی كے یہاں آتے جاتے نہیں تھے‏، دو تین مرتبہ ایسا اتفاق ہواكہ ناچیز چھتہ مسجد كےقریب واقع افریقی منزل (جس میں اساتذہ كی رہائش گاہیں ہیں) سے گذر رہا تھا‏،كہ حضرت پر نظر پڑی ‏، دیكھا حضرت دارالعلوم كی طرف تیزگامی سے جارہے ہیں یا واپس ہورہے ہیں اور ہاتھ میں كوئی كتابچہ ہے جس كا مطالعہ بھی جاری ہے‏، میری حیرت كی انتہاء نہ رہی كہ اس مصروف راستے میں تیزگامی سے چلنا اور پھر مطالعہ بھی كرتے رہنا كیوں كر ممكن ہوا ، اور اگر ساتھ میں دیوبند كے ركشہ چلانے والوں كی ہٹو بچو اور طوفانی چال كوبھی ذہن میں ركھ لیا جائے تو استعجاب اور سوا ہوجاتاہے‏‏۔اسی طرح عصر بعد آپ كی مجلس میں جب پہلی بار حاضری ہوئی تو خیال تھا كہ حضرت طلبہ كو كچھ نصیحت فرماتے ہوں گے‏، مگر جب وہاں پہنچا تو قصہ بالكل مختلف تھا‏، ایک طالب سر میں تیل كی مالش كر رہا تھا‏، اور حضرت كسی كتاب كے مطالعہ میں مصروف ‏، حاضرین میں كسی نے كچھ پوچھا تو مطالعہ جاری ركھتے ہوئے جواب دے دیا اور پھر وہی خاموشی‏، وقت كی اس طرح قدردانی ہی كا نتیجہ تھا كہ آپ ترقی كے اس بام عروج پر پہنچنے میں كامیاب ہوئے۔

آپ حصول علم كی راہ میں مشقت اٹھانے كے عادی اورسخت كوش واقع ہوئے تھے ‏،اور اپنے شاگردوں كو بھی اسی طرح دیكھنا چاہتے تھے‏، فرماتے تھے كہ دینی پیشوائی اللہ كے وعدوں پر یقین اوردین كی راہ میں قربانی اور مشقتوں پر صبركئے بغیرنہیں ملتی ‏،اور اپنی بات كی تائید میں یہ آیت كریمہ پیش كرتے:‏ؔ‘‘وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ’’ (السجدۃ:24)‘‘اورہم نےان (بنی اسرائیل) میں سے كچھ لوگوں كو‏، جب انہوں نے صبركیا‏، ایسا پیشوا بنایا جو ہمارے حكم سے لوگوں كی رہنمائی كرتے تھے‏، اور وہ ہماری آیتوں پر یقین ركھتے تھے۔’’

علمی مشاغل میں اس درجہ اشتغال كا ایک ناخوشگوار نتیجہ بسا وقت یہ سامنے آتا ہے كہ آدمی كی معاشرت كمزور پڑجاتی ہے‏، لوگوں كے حقوق كا لحاظ نہیں ہوپاتا‏‏؛ مگر مفتی صاحب كا یہ پہلو بھی تشنہ نہیں تھا‏، اپنے بچوں كی تعلیم و تربیت پر جس طرح انہوں نے توجہ دی اس كی تفصیل آپ كے برادر خورد استاذ محترم حضرت مفتی امین صاحب دامت بركاتہم كے قلم سے ممدوح محترم كی زندگی میں منظر عام پر آچكی ہے‏، ایک دو واقعہ اور پیش كرنا مناسب سمجھتا ہوں جو دوران درس حضرت سے سنے۔ فرمایا : ‘‘میں اپنے گھر كی تعمیر كرا رہا تھا‏، كہ ایک پڑوسی نے مجھ سے كہا حضرت! میری طرف دیوار میں ایک طاق اگر نكلوادیں تو مہربانی ہوگی ‏، وہ میرے چراغ ركھنے كے كام آئے گا‏، میں نے كہا كہ بہترہے ‏، اور مستری كوكہہ كر پڑھانے چلاآیا ‏، واپس آیا تو دیوار اونچی ہوگئی تھی ‏، اورطاق نہیں نكلا تھا ‏، میں نے مستری سے وجہ پوچھی ‏، تواس نے كہا مولانا صاحب آپ سمجھتے نہیں ہیں‏، اگر آپ اس طرف طاق نكلوادیں گے توكل كو اُسے آدھی دیوار پر دعوے كا حق ہوجائے گا ‏؛ لہذا طاق نكالنے میں آپ كا نقصان ہے‏، میں نے كہا بھائی تمہاری خیرخواہی كا شكریہ‏، مگر تم نكال دو‏، اور میں نے اپنے بچوں سے كہہ دیا كہ اگر یہ پڑوسی كبھی دیوار پر دعوی كردے توآدھی دیوار اسے دے دینا‏‏‏۔

اسی طرح ایک مرتبہ دوران سبق وہ معروف حدیث كسی مناسبت سے زیرِ بحث آئی جس میں ہے ‘‘ إذا طبختَ مرقةً فأَكْثِر مَاءها، و تَعَاهَد جِيرانَك’’ (كہ جب ( گوشت كا ) شوربا پكاؤ تو پانی بڑھا لو‏، اور اپنے پڑوسیوں كا بھی خیال ركھو’’ آپ نے فرمایا كہ ایک مرتبہ اچار بنانے كے لیے گھر میں بڑے برتن كی ضرورت ہوئی ‏،پڑوسی كے گھر سے منگایا گیا‏، جب برتن واپس كرنے كی باری آئی تو میں نے كہا اس برتن میں اچار ركھ كر واپس كرو‏، اس كا نتیجہ یہ ہوا كہ جب اچار بنانے كا موسم آتاہے تووہ پڑوسی صاحب پوچھنے لگتے ہیں كہ برتن كب بھیجوں‏؟
اک دھوپ تھی جوساتھ گئی آفتاب كے

آپ قناعت پسندی ‏، سادگی‏، خودداری، وضع داری‏، عزت نفس‏، عالمانہ وقار‏، علم كے ساتھ عمل كی دولت سے نہ صرف مالا مال تھے‏؛ بلكہ ہم ایسوں كے لیے مثال بھی تھے‏، حرص وطمع اورتعلقات سازی كے فن سے ناآشنا تھے ‏،ان باتوں پر بھی دوچار سطر لكھنے كا ارادہ تھا مگرخوف طوالت مانع ہے ‏۔

حضرت سے سنہ 23 و24 14ہجری مطابق 2003 میں دورہ حدیث كے سال جامع ترمذی اورامام طحاوی كی شرح معانی الآثار پڑھنے كی سعادت ملی ‏،دورہ كے بعد مزید پانچ سال اوركل سات سال دارالعلوم میں رہنا ہوا‏، اس دوران حضرت كے بہت سے خطابات كوسننے اور ان سے مستفید ہونے كا موقع ملاجس پر ناچیز اللہ تعالی كا بے حد شكر گزار ہے‏، میرے تدریب فی الافتاء كے سال حضرت كو بخاری شریف كی جلد اول كی تدریس سونپی گئی ‏، چنانچہ ناچیز جناب مفتی فخرالاسلام صاحب نائب مفتی دارالعلوم زیدمجدہم كے ہمرا ہ آپ كے پہلے درس بخاری میں شریک ہوا‏، حضرت نے سبق شروع میں فرمایا ‏:‘‘ جس نے بخاری میں تین باتیں پڑھیں اس نے بخاری پڑھی ورنہ اس نے بخاری نہیں حدیث بخاری پڑھی‏،(1) فرمایا : امام بخاری خود مجتہد ہیں وہ اپنا موقف اورعلمی آراء ابواب كے تراجم كی شكل میں پیش كرتے ہیں؛ چنانچہ كہا گیاہے كہ ‘‘ فقہ البخاری فی تراجمہ ’’ لہذا بخاری پڑھنے میں پہلا كام تراجم میں پیش كردہ بخاری كی آراء اور مجتہدات كوسمجھنا ہے ‏،(2) امام بخاری ادنی ادنی مناسب سے تراجم كے تحت احادیث نقل كرتے ہیں‏، بخاری پڑھنے اور پڑھانے میں دوسرا اہم كام تراجم اوراس كے تحت نقل كی گئی احادیث میں مناسبت اور جوڑ كو سمجھنا ہے ‏،یہ موضوع بخاری كےحوالے سے اہم اور ارباب فن كی جولان گاہ رہا ہے۔ (3) تیسری بات جو حضرت نے فرمائی وہ ذہن میں نہیں رہی ‏، شاید مفتی فخرالاسلام صاحب كو یاد ہو‏، یا آپ كے درسی افادات میں موجود ہو‏‏۔ فرمایا ‏: اگر آپ نے ان تینوں باتوں كی رعایت كے ساتھ بخاری پڑھی توبخاری پڑھی ‏، ورنہ اس كی احادیث پڑھیں۔

اس مقالے میں حضرت كی شخصیت اوران كارناموں كا پیش كرنا مقصود نہیں ہے ‏، ان باتوں كے لیے تو مبسوط مقالہ درکار ہے ‏،سنا ہے كہ آپ كی حیات ہی میں اس پركام شروع ہوچكا ہے‏، ان سطور میں تو بس اپنی تسکین خاطر كے لئے مفتی صاحب سے وابستہ اپنے مشاہدات وتاثرات كو پیش كرنا ہے ‏،اب اگر اس حكایت میں دوسروں كو بھی اپنے مشاہدات و تاثرات كی جھلک مل جائے تو یہ میرے لیے خوشی اورسعادت كی بات ہوگی ‏،كچھ اور باتیں بھی پیش كرنے كا ارادہ تھا‏؛ مگر مضمون كی طوالت دیكھتے ہوئے ترک كرنا پڑا‏، امید ہے كہ جوباتیں رہ گئیں ہیں وہ بھی دوسروں كے مضامین یا آپ كے سوانحی خاكے یا افادات میں آگئی ہوں گی یا آجائیں گی ۔
ورق تمام ہوا اورمدح باقی ہے

اللہ تعالی حضرت الاستاذ كی حسنات وخدمات كوشرف قبولیت بخشے ‏،زلات كو معاف فرمائیں‏، مقام قرب میں جگہ عطافرمائے‏، اور دارالعلوم كو آپ كا نعم البدل عطا فرما كر آپ كے خلا كو جلد پر فرمائے ، اللهم لاتحرمنا اجره ، ولا تفتنا بعده، واغفرلنا و له، واجمعنا معه في جنات النعيم يارب العالمين ، آمين!!

بروزشنبہ بتاریخ 6 شوال 1441ھ مطابق 30 مئی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s