حضرت مولانا معراج الحق صاحب دیوبندی سابق صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند

    مفتی خلیل الرحمن قاسمی برنی  بنگلور9611021347   

راقم الحروف پانچ سال کا تھا جب دارالعلوم دیوبند کے احاطہ میں داخلہ کی سعادت حاصل ہوئی۔اس وقت والد محترم حضرت مولانا قاری شفیق الرحمن صاحب بلندی شہری استاذ دارالعلوم دیوبند مادرعلمی میں معین المدرسین تھے۔دارالعلوم کے احاطہء دارجدید میں والد محترم کا کمرہ تھا۔اس کمرہ میں والد محترم کے علاوہ عم محترم جناب مشیر عالم صاحب اوربلند شہرکے ایک طالب علم (جواب اپنے علاقہ کے قابل احترام عالم دین ہیں اوراپنی نیک سیرت اورخوش اخلاقی کے باعث پورے علاقے میں ہر ایک کے محبوب وپسندیدہ انسان ہیں) فروکش تھے۔یہ پاک طینت عالم دین مولانا شاہد صاحب بلند شہری کے نا م سے موسوم ہیں۔میں اس وقت باشعور نہیں تھا اس لئے والد محترم کی خدمت کے ساتھ میری خدمت بھی اس وقت کے لحاظ سے یہی حضرات انجام دیاکرتے تھے۔عم محترم حضرت مولانامشیر صاحب بلندشہری نے میرے ساتھ شفقت و رأفت اورمحبت مؤدت کا جو سلوک روا رکھا آج آنکھیں ان مناظر اوراس برتاؤ کو سوچ کر ہی نم ہوجاتی ہیں۔
احاطہئ دارالعلوم میں بیتے ہوئے بچپن کے وہ ایام بہت یاد آتے ہیں۔والد محترم کا اس وقت سے ہی معمول تھا کہ اپنے اساتذہ کرام کے یہاں کثرت سے حاضری دیتے اوراس وقت مجھے بھی ساتھ رکھتے۔جن اساتذہ کے یہاں والد محترم کی بار بار اورکثرت سے حاضری ہوتی تھی ان میں شیخ الحدیث حضرت مولانانصیر احمد خانصاحب قدس سرہٗ،حضرت مولانا معراج الحق قدس سرہٗ اورحضرت مولانامفتی سعید صاحب قدس سرہٗ بطور خاص شامل تھے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ والد صاحب کے اساتذہ کے سامنے حاضری دیتے وقت مجھے سب سے زیادہ ڈر حضرت مولانامعراج الحق صاحب دیوبندی قدس سرہٗ کے سامنے محسوس ہوتا تھا۔کبھی انہوں نے ڈاٹا نہیں۔گھورا نہیں۔بلکہ جب بھی حاضری ہوئی اپنے بیگ میں سے ایک ٹافی یا چھوٹی چاکلیٹ نکال کر دی ۔لیکن قدرتی طورپر انکا بہت زیادہ رعب تھا۔
دارالعلوم دیوبند کی تاریخ میں جن اصول پسند ہستیوں نے اپنی انفرادیت کے نقوش چھوڑے ہیں ان میں ایک واضح نام آپ کو حضرت مولانامعراج الحق صاحب دیوبندی قدس سرہٗ کا ملے گا۔بلاشبہ آپ ایشیاء کی ا س عظیم درسگاہ کے ان اساتذہ کے سلسلۃ الذھب کی خوبصورت کڑی تھے۔جو اپنے علم و فضل اورتقویٰ میں یگانہئ روزگار تھے۔آپ اسلاف عظام کے صحیح اورسچے جانشین تھے۔ان کی ستودہ صفات،علم و صلاح ایثاروقربانی اورتعلیم و تربیت کے میدان میں ان کی امتیازی شان کے امین تھے۔مولانامرحوم کی شانِ اصول پسندی اس درجہ معروف تھی کہ آپ کے رہتے کوئی بھی شخص دارالعلوم کے نظام و قانون کی خلاف ورزی نہیں کرسکتاتھا۔آپ دارالعلوم کے قانون اورلائحہء عمل کی دفعات و تصریحات کو دیانت دارانہ طورپر نافذکرنے میں سخت گیر تھے اور اس میں اس طرح مشہور ہوگئے تھے کہ بڑے سے بڑے منتظم کو ان کے سامنے جرأت نہ ہوتی کہ وہ اصول و ضوابط سے ہٹ کر کوئی کام کرے۔
یہ کہنا بجاہوگا کہ آپ کی اصول پسندی والی عادت آپ کی فطرتِ سلیمہ کا اثر تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ کو حضرت مولاناؒ کی زندگی کے تمام شعبوں اورگوشوں میں یہ چیز بہت نمایاں طورپر نظر آئی گی۔یہ سطور مولاناعلیہ الرحمہ کی وفات کے بہت بعد لکھی جارہی ہیں اوراحاطہء دارالعلوم سے بہت دور تقریباً 2700کیلو میٹر دور بنگلور میں بیٹھ کر لکھی جارہی ہیں لیکن مجھے خود حیرت ہے کہ آج بھی میں حضرت کے سراپے کو تصور میں لاکر ایک عجیب سارعب محسوس کررہاہوں۔
حضرت مولانا علیہ الرحمہ خوبصورت اورخوب سیرت انسان تھے۔لباس ووضع کے اعتبار سے خوش ذوقی ان کی مسلم تھی۔مجھے حضرت کا سراپا اورحلیہ شیروانی کے ساتھ یاد ہے۔آپ کسی بھی موسم میں باہرنکلتے تو شیروانی کے ساتھ نکلتے۔صفائی ستھرائی،ترتیب خوش وضعی اورنستعلیقیت. تمام امور زندگی میں نمایاں نظرآتی۔حضرت رحمہ اللہ کا سراپا کچھ اس طرح تھا:
دراز قد،کشادہ پیشانی،بڑی بڑی اورخوبصورت آنکھیں،بیضوی چہرہ،سرخ وسفید اورمتوازن بدن،آواز قدرے بلند اوربہت صاف،ہاتھ میں خوبصورت سی چھڑی ہر اعتبار سے وجیہ وشکیل،حق گو،حق پسند اورحق شناس،صاحب رائے اورصائب الرائے،عزم کے پختہ،دل کے صاف،عزم واستقامت کے پہاڑ،کم گو،کم خور،کم خواب اوربہت ہی بارعب شخصیت کے حامل تھے۔طلبہ ان کے رعب کی وجہ سے اپنا راستہ بدل لیا کرتے تھے۔
حضرت مولاناعلیہ الرحمہ بہت ہی خوش اطوار اورسلیقہ شعار ہونے کے ساتھ صاحب ِ ذوق لطیف بھی تھے۔اسی کا اثر تھاکہ آپ کا کمرہ سینکڑوں نوادرات اورنفیس اشیاء سے مزین رہتا۔علاوہ ازیں وہ تمام چیزیں انتہائی سلیقے اورقرینے سے رکھی ہوتیں۔چائے پان کا بھی آپ کے یہاں بہت نظافت وستھرائی کے ساتھ اہتمام تھا۔انہیں مرغیاں،کبوتر اوربطخ پالنے کا بھی شوق تھا۔کئی ایک بطخ ان کی وفات کے بعد بھی کئی سال تک موجود رہیں دارجدید کے احاطے میں جب وہ کائیں کائیں کرتی تھیں تو مولانارحمہ اللہ کی یاد تازہ اورزخم ِ دل ہراہوجاتاتھا۔
حضرت مولانارحمہ اللہ کو مدارس میں مروج ومتدال تمام علوم وفنون اوران میں شامل تمام تفصیلی مضامین و مباحث پر قابل ذکر دسترس حاصل تھا۔لیکن ان پر فقہ و ادب کا رنگ غالب تھا۔دیوان حماسہ اورہدایہ اخیرین زمانہء تدریس کے آغاز سے وفات تک ان کے زیر درس رہیں۔دیوان حماسہ کے اکثر اشعار ان کو اس طرح یا د تھے کہ گفتگو کے درمیان برموقع سنایاکرتے تھے۔یہ وہ اشعار ہوتے جو اخلاقی واجتماعی پہلو کے حامل اورسیرت سازی میں معین ہوسکتے تھے۔
جہاں تک ہدایہ اخیرین کی بات ہے تو اس میں آپ استاذ زمانہ تھے۔ہدایہ کے مضامین ومباحث اورمتعلقہ فن پر مولاناکو اس قدر عبور حاصل تھاکہ دارالعلوم دیوبند میں ان کا لقب ہی صاحب ہدایہ ہوگیا تھا۔طلبہ بڑے شوق سے ان کے درس ہدایہ میں شریک ہوتے تھے۔حضرت مولانا کی درسی تقریریں عام فہم،مربوط ومسلسل اورمدلل ہواکرتی تھیں۔انداز بہت جازب اوردل رباتھا،جس کی وجہ سے طلبہ کو بھی مضامین آسانی سے سمجھ میں آجاتے۔بے جاتفصیل،یعنی تفصیل لا حاصل،دراز بیانی ،مقررانہ شعر اوربلاضرورت کو ئی بات یاطنزومزاج جیسی چیزیں آپ کے درس میں نہیں ہوتی تھیں۔آپ تفہیم درس میں اس طرح اختصار وسہولت سے کام لیتے کہ نفسِ مسئلہ طلبہ کے ذہن میں آسانی سے بیٹھ جاتا۔
تدریسی صلاحیتوں کے ساتھ خدائے کریم نے ان کو بہترین انتظامی صلاحیتوں سے بھی نوازا تھا۔انہوں نے پچاس سال کا طویل عرصہ مادرعلمی کی چہاردیواری میں گذارا۔اس عرصے میں تدریس کے ساتھ وقفے وقفے سے مختلف انتظامی امور کے بھی ذمہ دار رہے۔کبھی ناظم دارالاقامہ کبھی نائب مہتمم اورکبھی بحیثیت صدر مدرس رہے۔انہوں نے تعلیمی اورانتظامی شعبوں میں بہت سی مفید اورکارآمد اصلاحات کیں۔جن سے دارالعلوم کو کافی فائدہ ہوا۔دارالعلوم میں موجود درجہ بندی کی تحریک اوراسے عملی طورپر وجود میں لانے والے حضرت مولانا ہی تھے۔اس کے لئے آپ نے بے حد محنت کی۔
حضرت مولانارحمہ اللہ نے شادی نہیں کی تھی اورنہ ان کے کوئی اولاد تھی،جو ان کی محبت اورتوجہات کو اپنی طرف مبذول کرتی۔اسی لئے ان کی تمام تر دلچسپیوں کا مرکز مادرعلمی دارالعلوم تھا۔اسی کے لئے انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اورتوانائیاں صرف فرمادیں۔دارالعلوم کی رفتار ترقی کو تیز کرنے اوراکابر کے حسین خوابوں کی خوبصورت تعبیر برآمد کرنے کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو تج دیا تھا۔اس کے لئے دیوبند کی تاریخ انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔
حضرت مولاناکا وطن دیوبند تھا ۔اسی کے ایک محلہ بیرون کوٹلہ،میں منشی نورالحق کے گھر میں (1910ء-1328ھ)میں پیداہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی پھر درجہء متوسطات میں مادرعلمی میں (1930ء-1349ھ)کو باقاعدہ داخلہ لے کر پڑھنا شروع کیا(1351ھ-1932ء)میں فارغ ہوئے۔فراغت کے بعد مزید ایک سال اور مختلف علوم و فنون کی امہات الکتب پڑھیں۔آپ پڑھائی کے زمانے میں اپنی محنت لگن اوریکسوئی کے ساتھ شرافت و اخلاق کے باعث اپنے واساتذہ کے معتمد تھے۔
آپ کے اساتذہ کی فہرست میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین مدنی ؒ،حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمد طیب صاحبؒ،شیخ الادب والفقہ حضرت مولانااعزاز علی امروہویؒ،علامہ محمد ابراہیم بلیاویؒ،مولانامبارک علیؒ،اورمولانا عبدالسمیع دیوبندی ؒ جیسے اصحاب علم و فضل شامل ہیں۔
آپ نے فراغت کے بعد کئی مدرسوں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔یکم محرم 1392ھ مطابق 29/دسمبر 1943ء کو دارالعلوم میں بحیثیت مدرس مقرر ہوئے۔ابتدائی کتابوں سے لے کر امہات کتب تک اکثر کتابیں آپ نے پڑھائیں۔حدیث کی بھی کئی کتابیں آپ نے حسن و خوبی کے ساتھ پڑھائی۔1967ء سے 1976ء تک نائب مہتمم بھی رہے۔پھر 1982ء سے تاحین وفات صدر مدرس کے عہدہ پر رہے۔
مادرعلمی دارالعلوم دیوبند اوراپنی محبوب جامعہ کے لئے مسلسل قربانی دینے والی یہ عظیم شخصیت اورباکمال استاذ ومربی بروز اتوار7/صفر 1412ھ مطابق 18/اگست1991ءکو دنیائے فانی کو الوادع کہہ کر رب ذوالجلال کے حضور پہنچ گئے۔رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ دوسرے دن دارالحدیث تحتانی میں جب جلسہ تعزیت ہورہاتھا تو کئی طلبہ نے مرثیے پڑھے،ایک طالب کے مرثیہ کی آواز آج بھی کانوں میں گونج رہی ہے۔
رحلت کرگئے حضرت اقدس مولانا معراج……./مقبرہ قاسمیہ میں اپنے بزرگوں کے ساتھ آسودۂ خواب ہیں.

خلیل الرحمن قاسمی برنی 9611021347

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s