تمھیں ضرورآزمایا جائے گا خوف،بھوک اور مال و جان کے ذریعے

مولانا ندیم احمد انصاری

اس وقت امتِ مسلمہ کو جن حالات کا سامنا ہے اسے آزمائش کہتے ہیں۔ محبت میں آزمایا جانا ضروری ہے ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت کا جتنا بڑا دعوے دار ہوگا، اسے اسی قدر سخت آزمایا جاتا ہے ۔ ایسے موقعوں پر ثابت قدم رہنا اور اللہ تعالیٰ سے مکمل رجوع کرنا ضروری ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺپر وحی نازل فرمائی :(مفہوم) اور دیکھو ہم تمھیں آزمائیں گے ضرور (کبھی) خوف سے اور(کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے ۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوش خبری سنا دو ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔ (البقرۃ)

مصیبت پر صبر کی تدبیر
اللہ تعالیٰ نے ان آزمائشوں کے متعلق آج سے بہت پہلے ہی اپنے حبیب ﷺ پر وحی نازل فرما کر امت کو متنبہ کر دیا۔ حوادث کے واقع ہونے سے پہلے ان کی خبر دے دینے میں یہ فایدہ ہوا کہ صبر آسان ہوجاتا ہے ، ورنہ دفعتاً کوئی صدمہ پڑنے سے زیادہ پریشانی ہوتی ہے ۔ اور یہ خطاب ساری امت کو ہے تو سب کو سمجھ لینا چاہیے کہ دنیا دار المحن (یعنی محنتوں اور تکلیفوں کی جگہ) ہے ، اس لیے یہاں کے حوادث کو عجیب اور بعید نہ سمجھا جائے تو بے صبری نہ ہوگی اور چوں کہ یہ لوگ نفسِ عمل صبر میں سب مشترک ہیں، اس لیے اس کا صلہ مشترکہ تو عام رحمت ہے ، جو نفسِ صبر پر موعود ہے اور چوں کہ مقدار اور شان اور خصوصیت پر صابر کے صبر کی جدا ہے اس لیے ان خصوصیات کا صلہ جدا جدا خاص عنایتوں سے ہوگا، جو ان خاص خصوصیات پر موعود ہیں۔ جیسے دنیا میں مواقع انعام پر دعوتِ طعام تو عام ہوتی ہے ، پھر روپے اور جوڑے ہر ایک کو علی قدر الحیثیت والخدمت دیے جاتے ہیں۔ صابرین کی طرف نسبت کرکے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ مصیبت کے وقت انا للہ وانا الیہ راجعون کہا کرتے ہیں، حقیقت میں مقصود اس کی تعلیم سے یہ ہے کہ مصیبت والوں کو ایسا کہنا چاہیے ، کیوں کہ ایسا کہنے میں ثواب بھی بڑا ہے اور اگر دل سے سمجھ کر یہ الفاظ کہے جائیں تو غم ورنج کے دور کرنے اور قلب کو تسلی دینے کے معاملے میں بھی اکسیر کا حکم رکھتے ہیں۔ (معارف القرآن)

تسلّی اور تسکین کا سامان
ان آیات میں ایمان والوں سے کہا جا رہا ہے کہ مصیبتیں اور بلائیں ان پر ضرور بالضرور آئیں گی، لیکن ایسا سزا اور عذاب نہیں بلکہ ابتلا و امتحان کے طور پر ہوگا۔یہ بتا کر ایمان والوں کو تسلی دینا اور ان کے لیے تسکین کا سامان کرنا مقصود ہے ۔ساتھ ہی بشیئکہہ کر اس طرف بھی اشارہ کر دیا کہ یہ امتحان بہت سخت نہیں ہوگا،یعنی یہ آزمائشیں جزوی طور پر ہوں گی، کلی طور پر نہیں۔نیز خوف کا لفظ استعمال فرمایا، جس سے جان، مال اور عزت ہر چیز کا اندیشہ بیان کر دیا۔ جوع اس لیے کہا کہ کبھی رزق دے کر کہہ دیں گے کہ روزہ رکھو اور کبھی رزق ہی روک لیں گے ۔(تفسیرِ ماجدی)

مصیبت کا مفہوم
”مصیبۃ“کے لغوی معنی افتاد کے ہیں اور حدیث میں اس کی حقیقت بیان کی گئی ہے کل شیء سام المومن فھو مصیبۃ (جو شے بھی مسلمان کو ناگوار گزرے ، بس وہی اس کے حق میں مصیبت ہے )۔ گویا اس کا اطلاق نہایت وسیع اور عام ہے ، اور اس کے تحت میں چھوٹا بڑا ہر ناخوش گوار واقعۂ تکوینی آگیا۔ بیماری ہو، مالی نقصان ہو، دوستوں عزیزوں کی مفارقت کا صدمہ ہو، موت کا غم ہو، لاولدی ہو، توہین اور بے عزتی ہو، وقس علی ھذا۔(ایضاً)

سب سے زیادہ آزمائش کس کی؟
مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کون لوگ زیادہ آزمائش میں مبتلا کیے جاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: انبیا علیہم السلام۔ پھر ان کے مثل۔ پھر ان کے مثل۔ پھر انسان اپنے دین کے مطابق آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے ، اگر دین پر سختی سے کاربند ہو تو سخت آزمائش ہوتی ہے ، اور اگر دین میں نرم ہو تو آزمائش بھی اس کے مطابق ہوتی ہے ، پھر وہ آزمائش اسے اس وقت تک نہیں چھوڑتی جب تک وہ گناہوں سے پاک نہیں ہوجاتا ۔(ترمذی)

ہر حال میں راضی رہیں
اس لیے مومن کے لیے لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ جس حال میں رکھے ، اس حال میں راضی رہے ۔ابتلا و آمائش کے وقت رضا کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ثواب اتنا ہی زیادہ ہوگا جتنی آزمائش سخت ہوگی اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتے ہیں تو اس کی آزمائش کرتے ہیں، جو راضی ہو اس سے راضی ہوجاتے ، اور جو ناراض ہو اس سے ناراض۔(ابن ماجہ)

اللہ کی شکایت بندوں سے
آزمائش و ابتلا کے موقع پر رضا بر قضا کے ساتھ صبرکرنا بھی ضروری ہے اور صبر ابتدامیں ہوتا ہے ۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ تو انسان خود ہی تکلیف کو بھولنے لگتا ہے ۔ صبر کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے حالات کو شکایت کے انداز میں اس کے بندوں کے سامنے کہتا نہ پھرے ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو فاقے میں مبتلا کیا گیا اور اس نے اپنی حالت لوگوں سے بیان کرنی شروع کردی اور چاہا کہ لوگ اس کی حاجت پوری کردیں، تو ایسے شخص کا فاقہ دور نہیں کیا جائے گا۔اگر اس نے اپنی آزمائش پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ جلد یا دیر سے اسے رزق عطا فرمائے گا۔(ترمذی)

آزمائش پر صبر اور اس کا مفہوم
آزمائش پر صبر کا صلہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ کسی سے راضی ہوتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ بندے کی پریشانیاں ختم فرما دیتے ہیں، بلکہ پہلے سے بہتر رزق سے نوازتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں : جب میں مومن بندے کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہوں ، پھر وہ مجھ سے آزمائش ختم کرنے کی شکایت نہیں کرتا کہ میں اسے ٹھیک کر دوں ۔ میں اسے اس کے غم سے آزاد کردیتا ہوں، پھر میں اس کے گوشت کو اچھے گوشت میں بدل دیتا ہوں اور اس کے خون کو بہتر خون میں بدل دیتا ہوں تو پھر وہ نئے سرے سے اعمالِ صالحہ شروع کردیتا ہے ۔(سنن کبریٰ بیہقی)لیکن صبر کرنے کے معنی یہ نہیں کہ بندہ بالکل بے حس ہوجائے اور غم کو غم محسوس ہی نہ کرے ۔ اس کا نام صبر نہیں، بے حسی ہے ۔ صبر یہ ہے کہ انتہائی غم ناک ودردانگیز واقعے پر بندہ عقل کو نفس پر غالب رکھے ، زبان کو شکوہ اور ناشکری سے آلودہ نہ ہونے دے اور نظر مسبب الاسباب پر، اس کی مصلحت و حکمت پر اس کی شفقت و رحمت پر رکھے ۔(تفسیرِ ماجدی)

(مضمون نگار الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا کے ڈیریکٹر ہیں)
٭٭٭٭