اختیارِ آزادی کا مہاتما

مہاتما گاندھی کے دیڑھ سو سالہ جینتی کے موقع پر شہری احتجاج کو غیر قانونی نہ بنایا جائے
ساگاریکھا گھوش ( ٹائمز آف انڈیا 29/جنوری 2020)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ( مہاراشٹرا)

موجودہ جو بحران سٹیزن شپ کے قانون سے متعلق پیدا ہے اُسی طرح کا ایک بحران نونرمان تحریک کے نام سے 1970ء میں چلا تھا۔ جو بہت ہی ترش و آتشی تھا۔ اکثر وہ متشدد بھی ہوتا تھا جس کی وجہ سے گجرات حکومت چاک ہوگئی تھی۔ سو سے زائد لوگ مارے گئے۔ ہزاروں زخمی ہوئے۔ بسوں کو جلا دیا گیا۔ پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچا اور اس طرح وہاں کی ریاستی حکومت تحلیل ہوگئی۔
نونرمان کے احتجاج کا آغاز طلباء کے کالج کی فیس میں اضافہ کی وجہ سے شروع ہوا تھا جس میں جن سنگھ، آر ایس ایس اور اے بی وی پی والے تھے اور احتجاج کرنے والوں میں اُس وقت کے نوجوان جہدکار نریندر مودی تھے۔ وہ احتجاج کو اس وقت لوگوں کی رائے کا اظہار کے طرز پر دیکھا جاتا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ گورنمنٹ و ریاستی حکومت کو اپنے عہدہ سے ہٹنا پڑا۔
لیکن آج چار دہوں کے بعد جبکہ عظیم تر پیمانے پر CAA اور NRCکے احتجاج کرنے والوں کو غیر قانونی یکساں طو ر پر کہا جارہا ہے۔ گاندھی جی کے دیڑھ سو سالہ برسی منانے کے ہفتہ میں بھی ہمیں یاد رکھنا چاہیے ہمارے فادر آف نیشن بھی خود شہری احتجاج میں عدم تشدد کے فادر تھے۔
لیکن آج جب لوگوں کو مختلف القاب سے نوازنا، گالی گلوج کرنا، جنہوں نے سی سی اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج شروع کیا ہے انہیں جہادی، اینٹی نیشنل یا پاکستان کے ہمدرد وغیرہ وغیرہ کہا جارہا ہے۔ شاہین باغ کے احتجاج کی دہلی میں مثال کے طور پر اُن پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ ٹریفک میں مزاحم ہورہے ہیں اور وہ سیاست دانوں کے ایجنٹ ہیں اور ریاست کی حکومت کے دُشمن ہیں۔ جبکہ یونین منسٹر نے اُن کے خلاف تشدد کے الفاظ کا استعمال بھی کیا ہے۔ اور چند مہینے پہلے ہی اُن تمام نے گاندھی جی کو دیڑھ سو سال جشن منانے والی تقریب میں اُنہیں یاد کیا تھا۔ بلکہ اُن کے نام سے مختلف پروگرام بھی شروع کیے تھے۔ جس میں چرخے کا استعمال، عینک کا استعمال، گویا کہ وہ گاندھی کی روایت اور میراث پر عدم تشدد پر اور عدم تعاون تحریک پر قائم ہے۔
عدم تشدد کرنے والے احتجاجیوں کی جمہوریت کی کیوں ضرورت ہے؟ اس لیے کہ وہ جو منتخبہ نمائندے ہوتے ہیں اُنہیں چاہیے کہ وہ جن پر وہ حکمرانی کررہے ہیں اُن کی مرضی بھی حاصل کریں۔ اور یہ کلیدی اور بنیادی شہریوں کی آزادی کی ضرورت ہے کہ وہ اپنا اعتماد، اپنی رضامندی جسے وہ ضروری سمجھتے ہیں وہ جمہوریت کے لیے اکثریت خود فراہم کرے۔ ورنہ وہ اکثریت ہجومی حکومت ہوجائے گی۔
اکثریت زدہ ذہن یہ سوچتا ہے کہ ایک مرتبہ جب عوام نے انہیں ووٹ دے دیا ہے وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب عوام کو اُن سے اختلاف کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور نہ ہی وہ اُن کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرسکتے ہیں یا عدم تعاون کرسکتے ہیں۔ اور اس لیے ضروری ہے کہ لوگوں کی تائید و حمایت، مرضی، حکومت میں شامل ہو۔ تاریخ دان ایلے ٹیموتھی سائنڈر انتباہ دیتا ہے پہلا سبق ہمیں جو پڑھنا چاہیے کہ کوئی بھی شہری نہیں چاہتا ہے کہ وہ اپنی تمام تر آزادیوں کو چھوڑ دے۔ وہ اپنی مرضی پیشگی میں نہیں دیتا اور نہ ہی کاروبار سے بھاگ جاتا ہے اور نہ ہی اندھا بن جاتا ہے کہ گورنمنٹ جو چاہے کرے۔ اس لیے کہ وہ شہری نہیں چاہتا ہے جس باتوں سے وہ متفق نہیں ہے وہ اس پر حکمرانوں کے ذریعہ لادی نہ جائے۔ بجائے اس کے لیے اُن کے پاس سڑکوں پر، اُن کی آوازوں، اُن کے احتجاج کے ذریعہ ایک راستہ ہے جس کے ذریعہ وہ اپنی آزادی کا تحفظ کرسکتے ہیں۔
گاندھی جی کے نزدیک انفرادی آزادی بہت ہی اہم ہے۔ اُن کا یہ سوچنا تھا ریاستی حکومت کو تمام تر اختیارات مل جائیں، وہ مشکوک ہوجاتی ہے۔ گاندھی جی ہمیشہ سے متنبہ کرتے تھے کہ ریاستی حکومت کو لا محدود اختیارات ملنے سے وہ فرد کے خلاف تشدد کا استعمال کرنا شروع کرسکتی ہے۔وہ کہا کرتے تھے کہ ” ریاستی اختیارات میں اضافہ کا یہ مطلب ہے کہ انسانیت کو زبردست خطرہ پیدا ہو، اس لیے کہ اس کے ذریعہ سے فرد کی انفرادیت کو تباہ کیا جاتا ہے اور یہ فرد ہی ہے جو تمام ترقیاتی کاموں کی جڑ ہے۔ آزاد فرد اور شہری گاندھی جی کی ستیہ گرہ کا مرکز نگاہ ہوتا ہے۔ زیادہ شخصی پابندیاں، کنٹرول کی وجہ سے اخلاقی طور پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ اس لیے گاندھی جی کی جو عدم تعاون کی تحریک تھی وہ کوئی انارکی نہ تھی اور نہ کوئی تشدد والا جرم تھا۔ بجائے اس کے کہا جاتا ہے کہ وہ شہریوں کی جدوجہد صرف جمہوری اصولوں کی اور اخلاقی اقدار کے نفاذ کے لیے کی جاتی تھی۔
عدم تشدد کا احتجاج، دھرنا، ستیہ گرہ، ہندوستانی جمہوریت کے ماں باپ ہیں۔ اس لیے کہ ان تحریکات کی وجہ سے ہی آزادی پیدا ہوئی اور کئی دہوں تک احتجاج کرنے کے بعد ہی نئے لیڈر نے جنم لیا ہے۔
حالیہ دنوں میں جئے پرکاش نارائن کی مخالف ایمرجنسی تحریک نے مختلف ٹاپ سیاسی قائدین کو آج اقتدار میں پہنچادیا ہے۔ نتیش کمار، لالو پرساد یادو اس زمانہ کے احتجاج کی ہی پیداوار ہیں۔ احتجاج کرنے والے طلبہ میں سیتا رام یچوری اور آنجہانی ارون جیٹلی بنیادی قائدین ہیں۔ ممتابنرجی بھی سڑکوں پر احتجاج کرنے والی بنگالی خاتون ہیں۔
حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ ماضی قریب کی دیکھا جائے تو یہ انا ہزارے کا ہی احتجاج تھا جو 2011ء میں یو پی اے کے دورِ حکومت میں کھڑا ہوا تھا۔ جس نے ایک بڑا پلیٹ فارم مودی کی حکمرانی میں بی جے پی کے لیے تھا۔ انا ہزارے کی تحریک گویا ایک نئے طرز کا نیا جمہوری اسٹارٹ اپ تھا۔ عاپ کے سیاسی ایجنڈے پر بھی سوالیہ نشان اٹھایا گیا کہ کس طرح انہوں نے اس پبلک پلیٹ فارم کو جو کرپشن کے خلاف تھا اور جو عدم تشد د پر مشتمل تھا اس کا بھی استحصال کیا گیا ہے۔ جس طریقہ سے مندرجہ بالا تحریکوں اور احتجاجوں کو کسی نے بھی غیر قانونی نہیں قرار دیا تو کیونکر آج موجودہ حکمران مخالف CAA,NRCکے احتجاج کو حکومت کے خلاف قرار دے سکتے ہیں۔
یہ جو شہری احتجاج باضابطہ طورپرپُرامن طریقہ سے کیا جارہا ہے یہ تو دراصل مادرِ شکم کی طرح ہے جہاں سے سیاسی لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ہندوستان کی روایت ہی رہی ہے اس لیے ان گہری جڑوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے ملک بھر میں چیخ و پکار جب اندرا گاندھی کی حکومت کے خلاف تھی یعنی 1972ء سے 1974ء کے درمیان ، تو اس وقت اس تحریک کو عوامی آواز قرار دیا گیا تھا جو حکمرانی کے خلاف تھی۔ اس طرح 47 سال کے بعد کیونکر اس احتجاج کو یہ عوامی حکومت اپنے سیاسی کپڑوں کو کیونکر بدل سکتی ہے۔
اب اس احتجاجی تحریک کو مذہبی نقطہ نظر اور منشور سے دیکھا غلط ہے اور جان بوجھ کر اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جبکہ یہ سیکولر تحریک ہے۔ مثال کے طور پر اگر ناگالینڈ کے طلبہ جنہوں نے اپنے کالجز کو ریاست بھر میں بند کیا ہے کیا انہیں کسی مذہبی ذات یا جماعت کے طور پر لیبل لگایا جاسکتا ہے۔ اُسی طرح قبائلی اقوام نے جب سڑکوں پر آواز اٹھائی جو CAA کے خلاف تھی کیا یہ فرقہ واریت ہوسکتی ہے؟ اگر فرض بھی کرلیجیے کہ CAA کے احتجاج کرنے والوں میں ملک کے بعض علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت شامل ہے تو کیا ان کی تحریک کو غیر دستوری کہا جاسکتا ہے؟
جو قیادت امبیڈکر کےn Constitutio کے اقدار کی پابند ہے اور گاندھی کے اقوال کو مانتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ان شہریوں کی آواز کو پہلے سنے۔ چہ جائیکہ اُن کے خلاف ماردھاڑ، دھکا بکی یا پوری قوم کو گالی گلوج کیا جائے۔ دراصل یہ ووٹ بینک کے تقسیم کی سیاست ہے۔ اگر گاندھی جی ہوتے تو شاید ہوسکتا ہے کہ وہ شاہین باغ جاکر اُن سے بات چیت کا آغاز کرسکتے تھے۔ جبکہ حکمران بی جے پی نے ہر گھر پہنچ کر CAA کی تائید میں لوگوں کا دل و دماغ جیتنے کی کوشش کررہی ہے۔ یقینا ہوم منسٹر کو چاہیے کہ وہ شاہین باغ کو جاکر اُن شہریوں سے گفت و شنید کریں، جیسا کہ وہ ملک کے دیگر حصوں میں لوگوں سے بات کرنے جارہے ہیں۔ کیا یہ شہری اُن دیگر شہریوں کے برابر مساوی نہیں ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ( مہاراشٹرا)
Cell:9890245367

جب پنڈت نہرو کے عہد میں دستور خطرے میں تھا

ترجمہ و تلخیص ایڈوکیٹ محمد بہا ء الدین
ٹائمز آف انڈیا 26-01-2020

26 جنوری 1950کونئے دستور ہند کااآغاز نہایت ہی تزک واہتمام کے ساتھ نافذالعمل ہوا۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق موجودہ دستور بہت ہی واضح اور انسانی حقوق پر مشتمل ہے جو عام اور غریب لوگو ں کے لیے ہے جو نئی یونین آف ریپبلک انڈیا کے لیے بہت ہی اعتماد اور یقین کے ساتھ نافذہوا ۔دنیا کے سب سے بڑے دستور ساز آکسفورڈ ڈان سر کینیتھ اس دستور کے بارے میں کہا کہ․․․․․یہ سب سے بڑی اور روشن خیال جمہوریت حکومت کے لیے ایک تجربہ ہے۔۔۔۔
بی آر امبیڈ کر نے دستور ساز اسمبلی میں اس ے مستقبل کے بارے میں بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کی سیاسی و سماجی میدان میں ہیروورشپ موجود ہے اور یہاں سماجی و معاشی نابرابری ہے۔ یہ ساٹھ ستر برس پہلے کہی ہوئی بات آج پھر سے موضوع بحث معاملہ بنا ہوا ہے۔ اور اس بحث و مباحثہ میں بہت سے لوگ امبیڈکر کے ڈر و خوف اور خیالات سے متفق ہوتے ہیں۔
آج کے موجودہ نظریات میں جو بی جے پی کی جانب سے دستور کے سلسلے میں دھمکیاں ہیں اور جبکہ آر ایس ایس کا مستقل طور پر نظریہ ہے جس کی بناء پر وہ موجودہ احتجاج کو دیکھتے ہیں۔ اور اس طرح یہ کوشش کی جاتی ہے ان احتجاج کرنے والوں کی امیج کو وہ دستور کے مخالفین میں شمار کرتے ہیں جبکہ یہ حق انہیں اجتماعی طور پر دستور میں دیئے گئے دستور کے دیپاچہ خوانی کے ذریعہ ہی اپنے احتجاج کا آغاز کرتے ہیں۔ اور جس کی مخالفت مودی سرکار کی حکومت کرتی چلی آرہی ہے۔ جبکہ دیگر آوازیں جو اپوزیشن کی جانب سے آتی ہیں وہ مشترکہ و متفقہ طور پر یہ کہتے ہیں کہ ہم سب دستور کے محافظ و نگران کار ہیں۔ کئی برسوں کے بعد اختلاف رائے کے استعمال کو پھر سے قانونی طور پر اُسے بغاوت کا روپ دیئے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جبکہ یہ ساری چیخ و پکار صرف دستور کے تحفظ کے لیے ہورہی ہے اور ان کی یہ آواز پورے ہندوستان میں حرکیاتی طور پر عوامی آواز بن چکی ہے۔
سب سے آسان متوازی واقعہ جو اس سے مماثل قرار دیا جاتا ہے وہ ایمرجنسی کا واقعہ ہے۔ جو واقعی طور پر دستور پر وہ ایک حملہ تھا۔ جس میں اپوزیشن کے بنیادی حقوق کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اور اس وقت کی ریلی میں بھی یہ چیخ و پکار اُٹھتی تھی کہ دستور خطرے میں ہے۔ حالانکہ 1975ء کا معاملہ یا چیخ و پکار دستور کے خطرے میں ہونے کا یہ کوئی پہلی دفعہ نہ تھا۔ جبکہ اس قسم کی ریلیاں ہندوستانی سیاست میں داخلی طور پر شامل تھیں۔ جبکہ 1951ء کے 14/مہینے کے بعد ہی یعنی پہلے جنرل الیکشن کے چھ مہینے قبل ہندوستان کی پہلی حکومت جو جواہر لال نہرو کی قیادت میں بنی تھی جس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ بنیادی حقوق کو پہلی ترمیم کے ذریعہ ہی تبدیل کیا گیا ہے۔
1951ء میں آج ہی کی طرح سیاسی طاقت کا معاملہ بالکل اسی طرح تھا۔ جبکہ کانگریس کی سیاست طاقت پوری اکثریت سے پارلیمنٹ میں عمل پیرا تھی۔ ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس سیاسی طور پر حاشیہ پر تھے۔ جبکہ شاما پرساد مکھرجی، آچاریہ کرپلانی اور ہردے ناتھ کنزرو نے حزب مخالف کی بنچوں اعزاز بخشا تھا۔ اُس وقت پنڈت نہرو کی قدآور شخصیت اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کی بولتی تصویر تھی۔
مارچ 1950ء میں اختلاف کا آغاز اُس وقت ہوا جب رفیوجیوں کے داخلہ سے متعلق تنقیدیں شروع ہوچکی تھیں اور اسی طرح مغربی بنگال میں قتل و غارت گیری اور مدراس میں بھی بے چینی پھیلی ہوئی تھی، ا س لیے حکومت نے کوشش کی تھی کہ اُس وقت کے آر ایس ایس کے ہفتہ وار اخبار آرگنائزر کو سینسر کے قانون سے پابند کیا گیا۔ جس کے جواب میں اُس وقت کے طویل زمانہ سے مقرر ایڈیٹر آر کے ملکانی نے اُس بارے میں لکھا ہے کہ ” پریس کی آزادی کے لیے دھمکی دینا یہ اپاہج قانون کے ذریعہ کوشش کرنا خود ایک جرم ہے ، اور ظالمانہ طور پر استعمال کیا جانے والا یہ طریقہ کار جس کے ذریعہ شہری حقوق اور جمہوریت کی آزادی قتل کرنے کے مترادف ہے، جبکہ حکومت کو ہمیشہ ہی اپوزیشن کی تنقیدوں سے ہی زیادہ سیکھنے کو ملتا ہے، اس لیے کہ اپوزیشن کی سوچ آزادانہ شہریوں کی سوچ و فکر پر مشتمل ہوتی ہے نہ کہ اُن کے حکومت میں رہنے والے مکروہ چاپلوسی کرنے والوں کی سوچ۔“ ملکانی اور آر ایس ایس نے سینسرشپ کے آرڈر کو دستور کے آرٹیکل 19 کے تحت سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ اُس وقت اُن کے اس مقدمہ کی پیروی مشہور وکیل این سی چٹرجی جو سابق میں ہندو مہاسبھا کے صدر رہ چکے تھے اور مستقبل میں ہونے والے کمیونسٹ سالار سومناتھ چٹرجی کے والد تھے۔ سپریم کورٹ نے اُن کی بحث کے بعد سینسرشپ کے آرڈر کو غیر دستوری ہونے کی بناء پر کالعدم قرار دیا تھا۔
مذکورہ بالا مقدمہ کے بعد نہرو سرکار کو اُس کے بعد یکے بعد دیگرے آزادانہ تقریر و تحریر زمینداری جائیداد بغیر معاوضہ دیئے ہوئے حصول میں بھی ناکامی ملی تھی۔ جس کی وجہ سے راست طور پر پہلی ترمیم جو دستور میں کی گئی ہے جس میں تقریر کی آزادی وغیرہ کے معاملات جو بنیادی حقوق کے ابواب میں دیئے گئے ہیں اور جس میں بغاوت کے قانون کی منظوری دی گئی تھی یہ سب مسائل اُسی زمانہ میں آچکے تھے۔
شہری حقوق اور آزادی پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی مخالفت میں اُٹھنے والی آوازوں کو اپوزیشن نے نہرو حکومت کے خلاف اُٹھایا تھا۔ ہندو نیشنلسٹ جیسے ایس پی مکھرجی اور ایم آر جیاکر، گاندھیائی قائد جیسے آچاریہ کرپلانی، روشن خیال قائد جیسے ہردے ناتھ کنزرو، سوشلسٹ جیسے شبّن لال سک سنہہ اور جئے پرکاش نارائن اور کانگریس ہی کے باغی ایچ وی کامتھ اور شیامانندن اُس زمانہ میں پیش پیش رہے۔
پارلیمنٹ میں بھی قائد اپوزیشن کا چارج شیاما پرساد مکھرجی کو دیا گیا جو مستقبل کی بھارتیہ جن سنگھ کے فاؤنڈر تھے جن کے ذریعہ اُن کے کئی ساتھی وجود میں آئے۔ اور اُن کے کہنے کے مطابق ” مجھے یہ مشورہ دینے دیجئے کہ آپ کبھی بھی ڈھٹائی سے متاثر نہیں ہوسکتے ہیں بشرطیکہ آپ کا سیاسی طور پر دستور پر عبور ہو۔ حالانکہ دستور ایک منٹ کے لیے بھی ہم سے دور نہ ہونا چاہیے۔ تاکہ ہم اپنے افکار و خیالات کا تحفظ اور دفاع دستوری حدود میں رہ کر کرسکیں۔“
اُن کا یہ عہد تھا کہ ہمارے اختلاف کے باوجود ہم پہلی ترمیم کو نہ روک سکے۔ لیکن مکھرجی کی وارننگ جو نہرو کو دی گئی تھی اُس کی اصلیت نہرو کو پارلیمنٹ کے بحث و مباحثہ کے دوران متعلقہ امور پر محسوس ہوئی۔ مکھرجی کا یہ کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو اقتدار دائمی طور پر کیوں نہ حاصل ہو لیکن آنے والی نئی نسل اور جو نسلیں ابھی پیدا نہیں ہوئی ہیں انہیں ان تمام باتوں سے واقفیت ہوجائے گی اوریہ بالکلیہ طور پر ممکن ہے۔ لیکن اگر فرض کیجیے اگر دوسری پارٹی اقتدار میں آجائے تب؟ پھر کیا روایت آپ چھوڑ کر جانے والے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ( مہاراشٹرا)
Cell:9890245367

ظلم جب حد سے گزرتا ہے تومٹ جاتاہے!

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

اس بات میں کسی کو دورائےنہیں کہ معاشرے کی صلاح وفلاح کا مدار اور سماج کے عروج و ارتقاء کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اس معاشرے میں بسنے والے تمام افراد کو ادنی اور اعلی کے امتیاز،رنگ ونسل کی تفریق اور مذہب وملت کی ترجیح کے بغیر یکساں اور مساوی حقوق حاصل ہوں،کسی کو انسان ہونے کی حیثیت سے کسی پر کوئی فضیلت و برتری نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔لیکن افسوس صد افسوس کہ آج وطن عزیز میں انصاف اپنا حقیقی معنی کھوچکا ہے، ایک مخصوص قسم کی ذہنیت تمام باشندگان وطن پر تھوپنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں اور لفظ مساوات خود اپنے دوہرے معیار پر شرم سے پانی پانی ہے۔ ملک بھر میں ظلم کی حکمرانی اور لاقانونیت کا بول بولا ہے، برسراقتدار جماعت کی تانا شاہی اور من مانی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عوام کی بے چینی اور بے کلی کا کوئی احساس نہیں، گھروں سے بے گھر خواتین کا کوئی پاس نہیں،درجنوں افراد کی شہادت پر کوئی افسوس نہیں۔

ان سب کے باوجودــــــ ہمیں معلوم ہے کہ مظلوم کمزور و بے بس ہے ،جب کہ ظالم طاقت و اقتدار کا مالک ہے،ہم جانتے ہیں کہ مظلوم نہتا اور مغلوب ہے اور ظالم جاہ وسلطنت پر قابض ہے،ہم واقف ہیں کہ مظلوم لاچار وعاجز ہے،اس کے بالمقابل ظالم بااختیار وحاکم ہےــــــہمیں اس بات پر پورا یقین ہے کہ ظلم ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے،ظلم کو ہر حال میں مٹنا ہے،وہ مٹ کر رہے گا۔تاریخ انسانی میں کتنے ایسے سرکش و بدمست حکمراں گزرے ،جنہیں یہ خیال ہوچلا تھا کہ وہ فاتح عالم ہیں،ساری کائنات ان کی ہتھیلی میں پڑی ہے، وہ جب چاہیں، جہاں چاہیں،جسے چاہیں تختۂ دار تک پہونچا سکتے ہیں یا تاج خسروی پہنا سکتے ہیں؛مگر قدرت نے ان سے کیسا انتقام لیا؟تاریخ نے ان کے ساتھ کیسا کھیل کھیلا؟انہیں مظلوموں کے پیروں تلے ذلیل ہونا پڑا، اور خودان کے غلاموں نے ان کا وہ حشر کیا کہ وہ تاقیامت درس عبرت بن گئے۔

جب ظلم اپنی حدیں پار کرتا ہے تواللہ رب العزت اس کی روک تھام کےلیےکوئی بہترتدبیر مظلوموں کے حق میں پیدا فرمادیتاہے،اور ظالموں کو وہاں سے چوٹ پڑتی ہے کہ ان کی عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں، پھر وہ راہ فرار ڈھونڈنے پرمجبور ہوتے ہیں،اور اللہ رب العزت انہیں سرعام ذلیل و رسوا فرماتے ہیں اور ان کے تمام منصوبے چاہے وہ پہاڑوں سے بلندتر کیوں نہ ہوں، ناکام ہوجاتے ہیں۔ظلم کی قباحت کے لئے اس سے بڑھ کر سند اور کیا چاہیے کہ خود اللہ جل شانہ نے اپنی ذات والاصفات سے ظلم کی نفی فرمائی ہے۔ ایک دو جگہ نہیں؛بل کہ درجنوں مقامات پراس کا ذکرملتاہے، کہیں فرمایا:’’یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں فرماتا‘‘۔(یونس آیت: ۴۴)کہیں ارشاد ہوا:’’آپ کا پروردگار کسی پر ظلم نہیں ڈھاتا‘‘۔(کہف : ۴۹) اور کہیں یوں فرمایا:’’بلا شبہ اللہ تعالیٰ ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا‘‘۔(نساء)اور ظالموں کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا:’’اور انھوں نے (دولت واقتدارکے نشہ میں بدمست ہوکر)اپنی طرف سے بڑی فریب کاریاں کیں جبکہ اللہ کے پاس ان کے ہر فریب کا توڑ تھا، اگرچہ ان کی مکارانہ تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اکھڑ جائیں‘‘۔(ابراہیم)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں اپنی امت کے حق میں تین باتوں سے ڈرتا ہوں! ایک تو چاند کے منازل کے حساب سے بارش مانگنا، دوسرے بادشاہ کا ظلم کرنا اور تیسرے تقدیر کا جھٹلانا یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ تقدیر الہی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ انسان جو بھی فعل کرتا ہے وہ خود اس کا خالق ہوتا ہے۔(مشکوۃ)

نظام الملک طوسی سلطنت سلجوقیہ کا وزیر اعظم تھا- اس نے دو سلجوقی حکمرانوں، الپ ارسلان اور ملک شاه کے زمانہ میں نہایت کامیابی کے ساتھ حکومت کا نظام سنبھالا- وه حکومت کے معاملات میں اتنا زیاده دخیل تھاکہ کہا جاتا ہے کہ بادشاه وقت کا کام تخت پر بیٹھنا ره گیا تها یا شکار کھیلنا- سلجوقی حکومت کے حریفوں نے نظام الملک کو قتل کرادیا،جس کے مرتے ہی سلجوقی سلطنت کا شیرازه بکھر گیا–قصہ مختصریہ کہ نظام الملک نے طریق حکومت پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا فارسی نام سیاست نامہ ہے- اس کتاب میں اس نے لکھا ہے: ” حکومت کفر کے ساتھ باقی ره سکتی ہے مگر وه ظلم کے ساتھ باقی نہیں ره سکتی”-

یہ اصول بادشاه کے لئے بھی صحیح ہے اور ایک عام آدمی کے لئے بھی- ہر آدمی کا اپنا ایک دائره عمل هوتا ہے- بادشاه کا دائره بڑا هوتا ہے اور عام آدمی کا چھوٹا- جو آدمی کامیابی کے ساتھ زنده رہنا چاہتا هو اس کے لئے ضروری ہے کہ وه اپنے دائره میں ظلم کرنے سے بچے- اگر اس نے دوسروں پر ظلم کرنے سے اپنے کو نہ بچایا تو یقینی طور پر وه قدرت کی پکڑ میں آ جائے گا- خدا کی سنت ہے کہ آدمی کے دوسرے جرموں کی سزا تو اس کو آخرت میں دی جاتی ہے مگر جو شخص ظلم کرے اور ناحق دوسروں کو ستائے اس کی سزا اسی دنیا سے شروع هو جاتی ہے- ظلم کرنے والا خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا، خواه جلد پکڑا جائے یا دیر میں-ظلم ایک ایسی برائی ہے جس کا خمیازه اولاد تک کو بھگتنا پڑتا ہے- ظلم کرنے والا خواه کوئی حکمران هو یا غیر حکمران، اگر وه اپنے ظلم پر قائم رہتا ہے تو لازما ایسا هو گا کہ اس کے ظلم کا انجام اس کے خاندان تک پہنچے گا- آدمی اپنے بچوں کی خاطر ظلم کرتا ہے حالانکہ بچوں کے حق میں اس سے زیاده بری وراثت اور کوئی نہیں-(ملخص ازاسباق تاریخ)

ظالم کو ظلم سے روکنا ضروری ہے!

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مفاد پرست عناصر اور تشددپسندافرادکے ہاتھوں سیاست گندی اور گدلی ہوچکی ہے ، اس کوپاک وصاف کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ملت کاباوقار طبقہ علماء کرام ، پروفیسرزاور لکچرارز ، دانشوران اور خوفِ خدا رکھنے والے حضرات سیاست کے عملی میدان میں اترجائیں اوراپنی صدق بیانی اورخدا ترسی اورسچی خدمت کے ذریعہ سیاست کی موجودہ گندگی کودھونے کی سعی کریں اور متحد ہوکر خودغرض اوردہشت گردعناصر سے سیاسی قوت چھین لیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ اگرلوگ ظالم کے ظلم کودیکھ کر اس کاہاتھ نہ پکڑیں تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب پرا پنا عذاب نازل فرمادیں ، ظالم کو ظلم سے روکنا اور اس کے خلاف آواز اٹھانا معاشرے کے ہرفرد کے لئےلازم و ضروری ہے ۔نبی اکرمﷺنےصرف بیس سال کی عمر میں حلف الفضول کا قیام عمل میں لایا،یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی قبل از نبوت زندگی کا بہت روشن باب ہے، جولوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوچکاہے۔واقعہ یہ ہے کہ قبیلہ بنوزبید کا ایک فرد مکہ آیا، عاص بن وائل سے کچھ کاروباری معاملہ کیا، عاص نے وعدہ خلافی کی، اس کا واجب پیسہ نہیں دیا، زبیدی نے پریشان ہوکر مکے کے ہر در پر دستک دی کہ کوئی ہے جو میرا حق مجھے دلادے، جبل ابوقبیس پر چڑھ کر اس نے اپنی داستانِ مظلومیت بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا زبیر بن عبدالمطلب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سمیت چند نوجوانوں کے ساتھ اس مظلوم کی داد رسی کے لئے اکٹھے ہوئے، اور یہ معاہدہ طے ہواکہ:ہم سب مل کر ایک ہاتھ اور ایک قوت بنیں گے، ہر اس ظالم کے خلاف رہیں گے جو کسی کا حق مار لے، جب تک وہ حق ادا نہیں کردے گا اس وقت تک ہم اس کے خلاف ایک متحدہ قوت بن کر رہیں گے۔چناں چہ زبیدی کو اس کا حق مل کر رہا، اس معاہدے کو حلف الفضول (خوبیوں کا معاہدہ) کہا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم بعد میں فرمایا کرتے تھے کہ:’’آج بھی اگر کوئی یہ معاہدہ کرنا چاہے تو میں سب سے آگے آکر اس کو قبول کروں گا۔‘‘( سیرت ابن ہشام)

آپ غور کیجئے! یہ معاہدہ مکہ کے سماج کے چند ایسے نوجوانوں کا تھا، جو بہت زیادہ با اثر نہیں تھے، جو شخص ظلم کررہا تھا، دوسروں کا حق چھین رہا تھا وہ اپنے دور کا اور مکہ کا بہت بااثر اور مضبوط شخص تھا؛ لیکن حق اور انصاف وہ چیز ہے جو کسی طاقت والے کی طاقت، کسی اقتدار والے کے اقتدار، کسی قوت والے کی قوت کے سامنے نہیں جھکتی، ظالم کو ظلم سے روکنے کے لئے، مظلوم کو انصاف دلوانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ معاہدہ کیا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو نبوت نہیں ملی ہے، ابھی بیس سال باقی ہیں ، لیکن بنیاد قائم ہوگئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت ظالم کے ظلم کو ختم کرے گی، مظلوموں کو حق دلائے گی، پوری دنیا میں نظام انصاف آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ قائم ہوگا۔حضرت ابو سعید کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا سب سےافضل جہاد اس شخص کا ہے جو ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)

جابر و ظالم حکمران کے سامنے حق گوئی کو بہترین جہاد اس لئے فرمایا گیا کہ جو شخص کسی دشمن سے جہاد کرتا ہے وہ خوف و امید دونوں کے درمیان رہتا ہے اگر اس کو یہ خوف ہوتا کہ شاید دشمن مجھ پر غالب آ جائے اور میں مجروح یا شہید ہو جاؤں تو اس کے ساتھ ہی اس کو یہ امید ہوتی ہے کہ میں اس دشمن کو زیر کر کے اپنی جان کو پوری طرح بچا لوں گا۔ اس کے برخلاف جو شخص ظالم و جابر حکمران کے سامنے حق بات کہنے کا ارادہ رکھتا ہے اس کے لئے امید کی کوئی ہلکی سی کرن بھی نہیں ہوتی؛بلکہ خوف ہی خوف ہوتا ہے چنانچہ وہ اس حکمران کے مکمل اختیار و قبضہ میں ہونے کی وجہ سے اس یقین کے ساتھ احقاق حق کا فرض ادا کرتا ہے کہ اس کا انجام دنیا میں نری تباہی و نقصان کے علاوہ اور کچھ نہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جس مہم میں انسان کو اپنی زندگی اور اپنے مال و متاع کے باقی رہنے کی ہلکی سی امید بھی نہ ہو اس کو انجام دینا اس مہم کو انجام دینے سے کہیں زیادہ صبر آزما، ہمت طلب اور مردانگی کا کام اور بدرجہا افضل ہو گا جس کی انجام دہی میں اپنی زندگی اور اپنے مال و متاع کے باقی رہنے کی بہتر حد تک امید ہو۔ اس کو بہترین جہاد اس لئے فرمایا گیا ہے کہ حکمران کا ظلم و جور ان تمام لوگوں کو متاثر کرتا ہے جو اس کی رعیت میں ہوتے ہیں وہ کوئی دو چار دس آدمی نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں بندگان خدا ہوتے ہیں لہٰذا جب کوئی شخص اس حکمران کو اس کے ظلم و جور سے روکے گا وہ اپنے اس عمل سے خدا کی کثیر مخلوق کو فائدہ پہنچائے گا۔ جب کہ دشمن سے جہاد کرنے میں یہ بات اس درجہ نہیں پائی جاتی۔

ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مددہوتی ہے!

آج لوگوں کے درمیان اس بات کا شعور تو ہے کہ ظلم ایک قبیح عمل ہے، ظلم کو دوام حاصل نہیں، مگر وہ اس بات سے یکسر غافل رہتے ہیں کہ ظلم سہنا ،ستم پر خاموش رہنا، ظالم کی مذمت میں آواز بلند نہ کرنا بھی بہت بڑےفسادکا پیش خیمہ اور نہایت ناپسندیدہ عمل ہے ؛جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ستم قبول کرنا ستم کرنے سے زیادہ جرم نہیں تو کم بھی ہرگز نہیں– ستم پذیری ستم گری کو دعوت دیتی ہے، ستم گروں کو جرات فراہم کرتی ہے، ظالموں کو قوی اور مستحکم بناتی ہے- اس لحاظ سے ستمگری سے بڑا جرم ستم پذیری ہے۔ ظالم حکمرانوں اور ان کے حامیوں کی توصیف میں کچھ کہنا، لکھنا تو دور کی بات ہے، آقا علیہ السلام نے تو محبت بھری نظروں کے ساتھ ان کی طرف دیکھنے سے بھی منع فرمایاہے۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ اپنی آنکھوں کو ظالموں کے مددگاروں سے نہ بھرو(یعنی ان کی طرف نہ دیکھو) مگر اس حال میں کہ تمھارے دل ان کا انکار کررہے ہوں، ورنہ تمھارے نیک اعمال ضائع ہو جائیں گے‘‘۔یعنی اگر تم نے ظالموں اور ان کے حامیوں کو نفرت اور قلبی انکار کی نظر سے نہ دیکھا تو تمھارے اعمال ضائع کردیے جائیں گے۔ اسی طرح امام ذھبی نے ’’ کتاب الکبائر‘‘ میں لکھا ہے کہ :’’ ایک درزی حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں بادشاہ کے کپڑے سیتا ہوں، کیا میں بھی ظالموں کے مدد گاروں میں شامل ہوں؟ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ تو خود ظالموں میں سے ہے۔ ظالموں کے مدد گار تو وہ ہیں جو تجھے سوئی اور دھاگہ بیچتے ہیں‘‘۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر عہد میں جماعت ِمجاہدین کے ساتھ ساتھ منافقین کا ٹولہ بھی سرگرم عمل رہا۔ ایک طرف مجاہدین جرئت و بےباکی کے ساتھ باطل کا مقابلہ کرتے اور قید قفس یا جاں نثاری کےلیے تیاری رہتے تودوسری طرف منافقین دن بھر بادشاہ کی رضا جوئی اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سیاہ کو سفید اور دن کو رات کہتے نہ تھکتے۔ اکبر بادشاہ کا مشہور نورتن ابوالفضل فیضی جو اس کا دودھ شر یک بھائی بھی تھا، چاپلوسی اور خوش آمد کے مختلف طریقوں میں غیرمعمولی مہارت رکھتا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ تملق و چاپ لوسی کا فن سب سے زیادہ شاہی دربار میں پروان چڑھا کیونکہ بادشاہ کی ذات کو تمام اختیارات حاصل تھے؛ اس لیےخوشامد کرنے والے اپنی زبان میں شائستگی کے ساتھ خوبصورت اشعارپیش کرتے، ان کی شجاعت و بہادری کے قصے سناتے، زمین و آسمان کے قلابے ملاتے اور مال وزرکی وافر مقداراپنے ساتھ لے جاتے ۔

آج بھی جب ایک طرف ملک کے آئین کو تحفظ فراہم کرنے، اس کی جمہوریت کو بچانے،اس کی صدیوں پرانی تہذیب کو باقی رکھنے کےلیے قوم کی اکثریت مستقل احتجاج میں لگی ہوئی ہے تو دوسری طرف کچھ ایسے کاسہ لیس اور حاشیہ نشیں افراد بھی ہیں جو ظلم کی حمایت میں پیش پیش ہیں اور باشندگان وطن کے اس احتجاج کو بغاوت سے تعبیر کررہے ہیں ۔کسی شاعر نے ایسے ہی ضمیرفروشوں کے سلسلے میں کہا ؎

خوشامد بڑے کام کی چیز ہے

زمانے میں آرام کی چیز ہے

خوشامد پہ کچھ خرچ آتا نہیں

’’خوشامد کے سودے میں گھاٹا نہیں‘‘

ملک کی موجودہ صورت حال اور ارتداد کے خوفناک سائے

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

وطن عزیز ہندوستان پچھلے چالیس یوم سے رزم گاہِ حریت بنا ہوا ہے۔ملک کے طول وعرض سے مسلسل آزادی کی صدائیں گشت کررہی ہیں،ہر مذہب ماننے والا،ہر زبان جاننے والا ،ہر خطےاور پیشے سے تعلق رکھنے والاہوش مندانسان ملک کے جمہوری اقدار وسیکولر روایات کی حفاظت کےلیےسراپا احتجاج بناہوا ہے۔ان جاں بہ لب حالات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہورہاہے کہ ہندوستان میں ایک بار پھراسپین کی تاریخ دہرانے کی سازش رچی جارہی ہے،این آرسی اور شہریت ترمیمی قانون کے ذریعہ مسلمانوں کو ملک بدر کرنے یا کم از کم ارتداد کے گھاٹ اتارنے کے تانے بانے بنے جاچکے ہیں اور وزیر داخلہ بھی اپنے تازہ ترین متنازع بیانات کے ذریعہ اس پر یقین دلانے کی سعیِ نامشکورکرتے نظر آرہے ہیں ۔

‘اسپین’جس پر مسلمانوں نےتقریباً آٹھ سو سال تک اس شان وشوکت کے ساتھ حکم رانی کی کہ یورپ جیسی عظیم قوت بھی ورطۂ حیرت میں مبتلا ہوئے بغیر نہ رہ سکی، دنیا کی سب بڑی مسجد اندلس میں تھی جس کا نام جامع قرطبہ تھا، جہاں بہ یک وقت علم تفسیر،علم حدیث ،علم فقہ ،علم فلسفہ اور مختلف علوم وفنون پڑھائے جاتے تھے،جہاں ہزاروں مسجدیں اور مدرسے آباد تھے ، جہاں کی تہذیب وثقافت ،خوش حالی وزرخیزی کے ساری دنیا میں چرچے تھے،جہاں اسلام کے متوالوں نے جوش وجنوں اور عز م و استقلال کی روشن مثال قائم کی اوراسلام کی انسانیت نواز تعلیمات کو پیش نظر رکھ کر فتح کے پرچم گاڑھے ۔تاریخ گواہ ہے کہ طارق بن زیادکی جاں باز فوجوں نے اندلس کو فتح تو کرلیا؛ لیکن وہاں کے لوگوں کا کشت وخون نہیں کیا۔مگر جب کم وبیش آٹھ سو سال بعد مسلمانوں کی غفلت اور عیش وعشرت میں مبتلا ہوجانے کے سبب عیسائیوں نے دوبارہ اس ملک پر قبضہ کیا تو ایک بھی کلمہ گونہیں چھوڑا ،علماء کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا گیا ،عورتوں کی سرعام عزتیں لوٹی گئیں، بچوں کو اپنے گھروں میں رکھ کر عیسائی بنایا گیا، ایک طویل عرصہ تک وہاں کے بام ودر اذان کی آواز کےلیے ترستے رہے ۔ان کی اسلام دشمنی کا یہ عالم تھا کہ کوئی ڈاڑھی والا مسلمان کہیں نظر آتاتواس کو مجبور کیا جاتا کہ وہ عیسائی بن جائے،مسلمان عورتوں پرظلم ڈھایاجاتا کہ وہ مذہب تبدیل کرلیں، بچوں کا اغواکیا جاتا اور ان کے نام بدل کر عیسائیوں کے نام رکھ دیئے جاتے پھر ان کو بائبل پڑھا کر عیسائیت میں تبدیل کردیا جاتا ، لاکھوں مسلمانوں کو بالجبریاتو عیسائی بنا لیا گیا یا شہید کردیا گیا۔ وہاں کی مسجدیں کلیسا اور گرجا گھر وں میں تبدیل کردی گئیں۔ وہاں کی مسجد قرطبہ آج تک ماتم کررہی ہے اور نماز پڑھنے والوں کے انتظار میں ہے۔ اقبال مرحوم نے اس پریوں مرثیہ خوانی کی ہے۔ ؎

اے گلستان اندلس وہ دن ہے یاد تجھ کو

تھا تیری ڈالیوں پہ جب آشیاں ہمارا

اے موجِ دجلہ! تُو بھی پہچانتی ہے ہم کو

اب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارا

یہ قانون فطرت ہے کہ رب کائنات نے ہر دور میں حق و باطل کی آویزش رکھی، فرعون کے لئے موسی کو پیدا فرمایا ،جہاں بڑے بڑے ظالم ،جابر اور غاصب حکم راں آئے جنہوں اسلام کےشجر طوبی کو کاٹناچاہا، اس کی فطری مقبولیت کو کم کرنے کا ارادہ کیااور اس کو بیخ وبن سے اکھاڑپھینکنے کی سازش رچی ،وہیں اسلام پر اپنی جان ومال ،اپنی آل و اولاد اور اپنا گھر بار سب کچھ قربان کر کے اسلام کی شمع کو روشن کرنے والے بھی سر پر کفن باندھ کر میدان کار زار میں موجودرہے اور حق تعالی کا وہ وعدہ ناقابل تردیدسچائی بن کر سامنے آیا کہ حق آیا اور باطل ملیامیٹ ہوگیا۔

مسلمانانِ ہند کو درپیش خطرۂ ارتداد:

ان سیاہ قوانین کے نفاذ کے بعد(خداکرے کہ یہ نافذ ہی نہ ہوں اور ظالموں کے خلاف مظلوموں کو کامیابی نصیب ہو) بزرگان دین کو جس فتنے کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے وہ ارتداد کا فتنہ ہے؛ اس لیے کہ گاؤں دیہات سے تعلق رکھنے والے وہ کمزور و نادار مسلمان جو دین کی ابجد بھی نہیں جانتے بعید نہیں ہے کہ وہ شہریت حاصل کرنے کےلیے اسلام کو خیر باد کہہ دیں اور خوشی خوشی شرک و بت پرستی قبول کرلیں۔ پھرآج کا دورایمان داری کا دور نہیں ہے۔لوگ چند کوڑیوں کےلیے جھوٹ بولنے پر راضی ہوجاتے ہیں، چند ٹکوں کےلیے غلط گواہی دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، معمولی جائیداد کےلیے حقیقی بھائی کے قتل کو معمولی سمجھنے لگتے ہیں،ایسے دور میں جب اسلام کے ماننے والوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا جائے گا، انہیں ملک و جائیداد سے محروم کرنے کی بات ہوگی تو ایمان و یقین کی عمارت میں ضرورزلزلہ آئے گا اور وہ دھڑام کے ساتھ زمین بوس ہو جائے گی۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ صرف زبانی اندیشے اوراوہام وخیالات نہیں ہیں؛بل کہ برصغیر کی تقسیم سے قبل بھی انگریزی دور حکومت میں شدھی تحریک کے عنوان سے دیگر مذاہب کے لوگوں کو ہندومت میں شامل کرنے کی مذموم کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ شدھی کرن کے معنی ہیں پاک کرنا۔ ہندو اس سے مراد یہ لیتے ہیں کہ جو پہلے ہندو تھے، انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو وہ ناپاک ہوگئے۔ انہیں پھر ہندو بناکر پاک کیا جائے گا۔ اسی خیال سے انہوں نے تحریک کا نام ’’مسلم شدھی کرن تحریک‘‘ رکھا۔ پنڈت دیانند سرسوتی اور آگرہ میں سوامی شروھانند کی ’’بھارتی شدھی سبھا‘‘ کا صرف یہی مقصد تھا کہ مسلمانوں کو ذہنی طور پر باور کروایا جائے کہ تم لوگ ہندو ہو اور تمہارے باپ دادابھی ہندو تھے۔ تاہم مسلمانوں کو مرتد بناکر ہندو ازم میں داخل کرنے کی اس مذموم تحریک کا آغاز ۱۹۲۳ء میں ہوا ، گاؤں گاؤں،قریہ قریہ بھولے بھالے مسلمانوں کو شدھی ہونے کے لیے کہا جاتا تھااور جان ومال کےلیےلوگ تیزی کے ساتھ مرتد ہوتے چلے جاتے تھے۔

برسراقتدارجماعت کا اصل مقصدبھی ہندوستان کو ہندو راشٹریہ میں تبدیل کرنا اور مسلمانوں کو ہندو رنگ میں رنگنا ہے۔معروف ہندی روزنامے کیسری اور اجالا کی رپورٹ کے مطابق موہن بھاگوت نے وارنسی میں عیسائیوں کی گھر واپسی اور مسلمانوں کی شدھی کرن کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان بھر میں طے شدہ ہدف کے مطابق شدھی کرن پر کام ہو رہا ہے۔ اس ناپاک منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ۸۰۰ کے لگ بھگ تربیت یافتہ پرچارکوں اور ہندوسکالروں کی رہنمائی میں ۸۰ ہزار این جی اوز کی ذیلی تنظیموں کو تربیت دی گئی۔ اہداف شدہ علاقوں میں مذموم سرگرمیاں جاری ہیں۔ آر ایس ایس کے ترجمان روزنامہ پنج جینیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شدھی کرن کے اس نئے منصوبے کے پہلے مرحلے میں مسلمانوں میں اسلامی معاشرے سے ارتداد پر زور دیا جائے گا۔ اس مذموم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے قادیانیوں کا استعمال، مسلم نام نہاد تنظیموں اور انجمنوں کا قیام، مسلمانوں میں بابا گیری اور جادو ٹونے کا فروغ، مسلم راشٹریہ منچ جیسی تنظیموں کا ملک بھر میں جال بچھا دینا شامل ہے تاکہ مسلمان عمومی طور پر دھیرے دھیرے جمہوریت کے ساتھ ہندو توا کو بھی ذہنی طور پر قبول کر لیں۔

برطانوی جریدے پریمئر نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں آر ایس ایس اور اس کی آئیڈیالوجی سے وابستہ تنظمیں ایک طرف بھارت کو ہندو راشٹریہ میں تبدیل کرنے کے لیے عیسائی مشنری کو جبرو تشدد کا نشانہ بنارہی ہیں تو دوسری طرف ایک بڑے منصوبے کے تحت ’’مسلم شدھی کرن‘‘ پر بھی متواتر کام کیا جارہا ہے، جریدے کے مطابق مسلمانوں کے شدھی کرن کوسنگھ پریوار نے ایک چیلنج کی طرح قبول کیا ہے؛کیونکہ مسلمانوں میں اسلام سے وابستگی کا خاتمہ ناممکن ہے، اس لیے ناپاک منصوبے پر مرحلہ وار کام ہو رہا ہے۔(القلم آن لائن)

اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے!

جب فاران کی چوٹیوں سےاسلام کا نیر تاباں طلوع ہوا تو اولاًاعلان حق اور تبلیغ اسلام کی پاداش میں سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کو ستایا گیا اورجسمانی و قلبی اذیتیں دی گئیں، بعد ازاں صحابہ کرام کے ساتھ ہر قسم کا ظلم وستم روا رکھا گیا۔ ان کے ایمان پر ثابت قدمی کے درجنوں واقعات حدیث و تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں جو آج بھی ہمارے لیے ایمان میں تازگی اور یقین میں پختگی کا سبب ہیں۔بہ طور نمونہ ایک دو واقعات ذیل میں ملاحظہ فرمائیں!

یہ حضرت خباب بن ارت ہیں، جوزمانۂ جاہلیت میں قیدی بناکر مکۃ المکرمۃ لائے گئے اور انہیں مکہ مکرمہ کے بازارمیں بیچاگیا؛مگر جب آپ نے پیغام حق سنا توکھلم کھلا قبول اسلام کا اعلان کردیا، جس کی پاداش میں انہیں کئی اذتیوں سے گزرنا پڑا۔ان مظالم ومصائب کی داستان خود ان کی زبانی سنیے!ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت خباب سے ان پرہونے والے مظالم ومصائب کی خوں چکاں داستان پوچھی تو عرض کیا :اے امیر المؤمنین! میری کمر دیکھیے ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کمر دیکھ کر فرمایا کہ ایسی کمر تو آج تک کسی کی دیکھی ہی نہیں ۔ حضرت خباب نے عرض کیا! میرے لیے آگ دہکا ئی جاتی پھر مجھے آگ کے انگاروں پرڈال کر گھسیٹا جاتا اور میری چربی سے وہ آگ بجھ جاتی ۔

یہ حضرت بلال ہیں جنہوں نے امیہ بن خلف جیسے کٹر مشرک کی غلامی میں بائیس (22) برس گزارے، اسی اثناء میں آپ کے کانوں میں دعوت توحید کی صدا پہنچی، یہ بعثت کا ابتدائی زمانہ تھا اور سرور دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے بڑی رازداری کے ساتھ تبلیغ حق کا آغاز فرمایا تھا۔ چنانچہ دعوت اسلام ملتے ہی آپ نے بلا تائل لبیک کہا اور اپنا دل و جان آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر قربان کر بیٹھے۔ آپ ان سات سعید الفطرت ہستیوں میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔جب امیہ کے کانوں میں حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قبول اسلام کی بھنک پڑی تو وہ آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے آپ کو بلوا کر پوچھا کہ “ میں نے سنا ہے کہ تم نے کوئی اور معبود ڈھونڈ لیا ہے ؟ سچ سچ بتاؤ، تم کس کی پرستش کرتے ہو ؟ “ آپ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے جواب دیا، “ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے خدا عزوجل کی۔“ اس نے کہا کہ، “ محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے خدا کی پرستش کا مطلب ہے کہ تو، لات و عزی کا دشمن بن گیا ہے، سیدھی طرح راہ راست پر آجا، ورنہ ذلت کے ساتھ مارا جائے گا۔“ آپ نے جواب دیا کہ “ میرے جسم پر تیرا زور چل سکتا ہے، لیکن دل پر نہیں، اب اللہ تعالٰی کی عبادت و رضا ہی میری زندگی کا مقصود ہے، چنانچہ تمہارے خود ساختہ معبودوں کو درست سمجھنا اور پوجنا میرے بس کی بات نہیں۔“ اس اقرار کے بعد ظالم نے آپ پر ظلم و ستم کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کر دیا۔ مکہ مکرمہ میں حرہ کی زمین گرمی کے سبب سے مشہور ہے، یہ گرمی میں تانبے کی طرح گرم ہو جاتی ہے۔ امیہ دوپہر کے وقت، آپ کو اس جلتی ہوئی ریت پر لٹا کر ایک بھاری پتھر ان کے سینےپر رکھ دیتا تا کہ ہل بھی نہ سکیں۔ پھر کہتا، “ محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی سے باز آ جا، اور “ لات و عزی “ کے معبود برحق ہونے کا اقرار کر لے ورنہ اسی طرح پڑا رہے گا۔“ اس کے جواب میں شیدائے حق کی زبان سے احد احد کی آواز نکلتی تھی۔ امیہ غضب ناک ہو کر ان کو زدوکوب کرنا شروع کر دیتا، لیکن آپ “ احد، احد “ ہی کہتے چلے جاتے۔ ایک مرتبہ اس نے آپ کو ایک دن رات بھوکا پیاسا رکھا اور تپتی ہوئی ریت پر ان کا تماشہ دیکھتا رہا۔اللہ اکبر

آئے عشاق ,گئے وعدہ فردا لے کر

اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

خلاصۂ کلام :

اس وقت جہاں ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم پوری توانائی کے ساتھ احتجاج کا حصہ بنیں اور ان سیاہ قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کریں،وہیں ہمارا یہ بھی فریضہ ہے کہ ہم نعمت ایمان کا استحضار رکھیں اور عام مسلمانوں تک یہ پیغام پہنچائیں کہ چاہے جو بھی ہوجائے ہم دین اسلام سے پھرنے والے نہیں ہیں،ہم اسلام کی بقا کے بعد ملک کی سالمیت چاہتے ہیں اور ہمیں اس بات پر پورایقین ہے کہ ہم ملک و ملت کے دونوں محاذوں پر کامیاب و کامران رہیں گے۔اگر ہم میں سے ہر فرد یہ فیصلہ کرلے کہ اسے صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ بن کررہنا ہے،ایمان پر ثبات کو یقینی بناناہے، سب کی بھلائی چاہنا ہے، سب کے لئے سراسر خیر ثابت ہونا ہے ، ہر حرام سے بچنا ہے، رب ذوالجلال ،اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی کتاب مجید کی محبت کو دیگر تمام محبتوں پر غالب کردینا ہے اسے اپنی تمام ذمہ داریاں تن دہی اور جاں فشانی سے انجام دینا ہے، خود ہی راہ راست پر نہیں چلنا ہے؛بل کہ جہاں تک آواز پہنچتی ہے خیر کی اس آواز کو پہنچانا اور عام کرناہے ، اپنی سب سے قیمتی متاع یعنی وقت کا ایک ایک لمحہ رب کی قربت کا مستحق بننے کی سعی میں بسر کرنا ہے ،اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر امتی یہ پختہ فیصلہ کرلے ، پھر اللہ تعالیٰ سے مددطلب کرے تو یقینا آنے والا وقت ہمارا ہوگا اور آخرت کی سرخروئی اس سے بھی پہلے یقینی ہوجائے گی۔

کچھ رہے یا نہ رہے پر یہ تمنا ہے امیر

آخری وقت سلامت مرا ایمان رہے

جمہوریہ ہند کا آئین اور موجودہ حکومت

ملک کی آزادی کے لیے مسلمانوں نے کندھے سے کندھا ملاکر اپنے ہم وطنوں کے ساتھ بھرپور حصہ لیا ہے

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

ہندوستان میں مختلف رنگ کے، مختلف زبان بولنے والے اور مختلف مذاہب کی اتباع کرنے والے لوگ لمبے عرصہ سے رہتے چلے آرہے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے حضرت محمد مصطفیﷺ کو عالمی نبوت سے سرفراز کیا گیا یعنی آپ ﷺ کو پوری دنیا اور قیامت تک آنے والے تمام انس وجن کے لئے نبی بناکر بھیجا گیا۔ آخری نبی حضور اکرم ﷺ کی حیات میں تو اسلام کا پیغام ہندوستان تک نہیں پہنچ سکا مگر آپ ﷺ کی وفات کے صرف 82 سال بعد حضرت محمد بن قاسمؒ کے ذریعہ سندھ کے راستے سے اسلام ہندوستان میں ساتویں صدی یعنی 92 ہجری میں آگیا تھا، اُس وقت پاکستان اور بنگلادیش ہندوستان کا ہی حصہ تھے۔ حضرت محمد بن قاسمؒ کے سلوک اور اخلاق سے متاثر ہوکر آج سے تقریباً 1300 سال پہلے ہندوستان کی اچھی خاصی تعداد نے مذہب اسلام کو قبول کیا، اور تب سے ہی مسلمان اپنے دیگر ہم وطنوں کے ساتھ اس ملک میں رہتے چلے آرہے ہیں۔ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی پوری دنیا میں مثال پیش کی جاتی ہے کہ سینکڑوں سال سے مختلف مذاہب کے رہنے والے لوگ مل جل کر ملک کی ترقی میں حصہ لیتے ہیں۔

چھ سو سال سے زیادہ اس ملک میں مسلمانوں نے حکومت بھی کی ہے۔ 1526 سے 1857 تک مغلیہ سلطنت کا دور بابر بادشاہ سے شروع ہوکر بہادر شاہ ظفر تک رہا۔ اس سے پہلے خاندانِ غلاماں نے 1206 سے 1290 تک، خلیجی خاندان نے 1290 سے 1321 تک، تغلق خاندان نے 1321 سے 1412 تک، سید خاندان نے 1412 سے 1451 تک اور لودھی خاندان نے 1451 سے 1526 تک دہلی پر حکمرانی کی تھی۔ غرضیکہ ایک لمبے عرصہ تک مسلمانوں نے اس ملک پر حکومت کی لیکن کبھی بھی ہندو مسلم فساد برپا نہیں ہوا بلکہ گنگا جمنی تہذیب کے پیش نظر مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ تعصب کا برتاؤ نہیں کیا گیا اور ہر مذہب کے ماننے والے کو اس کے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرنے کی اجازت دی گئی۔

مغل بادشاہ جہانگیر کے دورِ حکومت میں انگریز ہندوستان آئے تھے اور شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں انگریزوں نے باقاعدہ طور پر تجارت شروع کردی تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت کی آڑ میں آہستہ آہستہ ہتھیار اور فوجیوں کو ہندوستان لانا شروع کردیا، مگر دہلی میں قائم مغل سلطنت اتنی مضبوط تھی کہ انگریزوں کو بہت زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ مگر ہندوستان میں سب سے بڑے رقبہ پر حکومت کرنے والے شاہ جہاں کے بیٹے اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد مغلیہ سلطنت کمزور ہونے لگی۔ چنانچہ اٹھارہویں صدی میں مغلیہ سلطنت کا جیسے ہی زوال شروع ہوا شاطر انگریزوں نے پورے ملک پر قبضہ کرنے کے پلان پر عمل کرنا شروع کردیا۔ انگریزوں کے خطرناک پلان کو بھانپ کر ہندوستان کے مجاہدوں نے انگریزوں کا مقابلہ کرنا شروع کردیا۔ شیر بنگلال نواب سراج الدولہ اور شیر میسور ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں کے مظالم اور بڑھ گئے اور رفتہ رفتہ دہلی کے ساتھ ملک کے اکثر حصوں پر اُن کا قبضہ ہوگیا۔ اسی دوران مشہور محدث شاہ ولی اللہؒ کے بڑے صاحبزادے شاہ عبدالعزیزؒ نے انگریزوں کے مظالم دیکھ کر اُن کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کردیا، جس کے بعد علماء حضرات میدان میں اتر آئے۔ سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ جیسے مجاہدین آزادی نے جام شہادت نوش کیا۔ آہستہ آہستہ ملک کی آزادی کے لئے آوازیں بلند ہونے لگیں۔ جب انگریزوں نے ہندوستانیوں کو اُن کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہیاں کرنی شروع کردیں اور عام لوگوں کو انگریزوں کی حکومت پر تشویش ہونے لگی تب ملک میں انگریزوں کو ہندوستان سے باہر نکالنے کی باقاعدہ مہم شروع ہوگئی اور 1857 میں ہندوستان کے لوگوں نے مل جل کر انگریزوں کے ساتھ جنگ لڑی، جس میں مسلم علماء انگریزوں کے خلاف فتوی جاری کرکے ڈٹ کر اُن کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے۔ 1857 کی انگریزوں کے ساتھ جنگ میں ملک آزاد تو نہیں ہوسکا لیکن ہندوستان کے رہنے والے خاص کر علماء حضرات آزادی کے لئے کھل کر میدان میں آگئے۔ 1857 کی جنگ کے وقت ہندوستان کے بادشاہ بہادر شاہ ظفر تھے جو انگریزوں سے پہلے‘ آخری ہندوستانی مغل حکمراں تھے، جن کے چاروں بیٹوں کا سر قلم کرکے انگریزوں نے ظلم کی انتہا کرکے تھال میں سجاکر اُن کے سامنے پیش کیا، اور پھر بہادر شاہ ظفر کو دھوکہ دے کر گرفتار کرکے ہندوستان کے سپوت کو ہمیشہ کے لئے رنگون بھیج دیا۔

1857 کی جنگ میں انگریزوں سے مقابلہ کرنے میں چونکہ علماء کرام سب سے آگے تھے، اس لئے انگریزوں نے بدلہ بھی علماء سے لیا، چنانچہ چالیس ہزار سے زیادہ علماء حضرات کو پھانسی کے پھندے پر لٹکادیا۔ علماء حضرات کے ساتھ اس وحشیانہ سلوک دیکھ کر علماء کرام کی ایک جماعت نے اپنے دین اور ملک کی حفاظت کے لئے 30 مئی 1866 کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی، جس کے پہلے طالب علم (شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ) نے تحریک ریشمی رومال کے ذریعہ انگریزوں کا تختہ پلٹنے کی کوشش کی۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے الہلال اور البلاغ اخبار کے ذریعہ آزادی کا صور پھونکا۔ مہاتما گاندھی نے ڈانڈی مارچ اور ستیہ گرہ تحریک چلائی۔ 1942 میں انگریزوں ہندوستان چھوڑوتحریک چلی۔

1857 سے ملک کی آزادی کے لئے جو جنگ انگریزوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی، آخر کار 15 اگست 1947 کو مکمل ہوئی۔ ہمارا ملک آزاد تو ہوا،مگر افسوس کہ ملک ایک نہ رہ سکا، پاکستان اور پھر بنگلادیش کی شکل میں ہندوستان سے الگ ہوگئے۔ خیر ہندو مسلم کی مشترکہ جد وجہد اور علماء کرام کی بے لوث قربانیوں سے یہ ملک آزاد ہوا۔ اس ملک کی آزادی کے لئے ہزاروں علماء کرام اور لاکھوں لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دی۔ ان ہی مجاہدین آزادی میں میرے دادا محترم حضرت مولانا محمد اسماعیل سنبھلی ؒ بھی ہیں جن کی تقریروں سے گھبراکر انگریزوں نے انہیں متعدد مرتبہ کئی سال جیل میں رکھ طرح طرح کی تکلیفیں دیں۔

15 اگست 1947 کو ہمارے ملک کو آزادی تو مل گئی تھی لیکن ملک کا اپنا قانون نہ ہونے کی وجہ سے ”حکومت ہند ایکٹ 1935“ کے مطابق ہی نظام چلا۔ 29 اگست 1947 کو ملک کا دستور تیار کرنے کے لئے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی سرپرستی میں 7 رکنی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی نے 4 نومبر 1947 کو ملک کے دستور کا مسودہ تیار کرکے پیش کردیا۔ دو سال 11 ماہ اور 18 دن کے بحث ومباحثہ اور اس میں متعدد تبدیلیوں کے بعد 26 نومبر 1949 کو دستور ساز اسمبلی نے ملک کے آئین کو منظوری دی۔ 24 جنوری 1950 کو تمام ارکان نے دستخط کئے اور 26 جنوری 1950 کو ہندوستان کا اپنا قانون پورے ملک میں نافذ ہوگیا۔ 26 جنوری 1950 کو ہندوستانی تاریخ میں اس لئے خاص اہمیت حاصل ہے کہ اس دن آئین کا نفاذ کیا گیا اور ہندوستان ایک خود مختار ملک اور مکمل طور پر جمہوری بن گیا، جس کا خواب ہمارے رہنماؤں نے دیکھا تھا، جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے گلستاں کی آبیاری کی تھی اور اپنے ملک کی خود مختاری کی حفاظت کے لئے جام شہادت بھی نوش کیا تھا۔ اس دن کا یہ بھی پس منظر ہے کہ 1930 میں لاہور میں انڈین نیشنل کانگریس نے پنڈت جواہر لال نہرو کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ڈومنین اسٹیٹس کے بجائے مکمل آزادی کے حصول کو اپنا نصب العین قرار دیا تھا۔ 26 جنوری 1950 کو ہی ڈاکٹر راجیندر پرساد ملک کے پہلے صدر جمہوریہ کے طور پر منتخب ہوئے۔

ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں ہر شخص کو اس کے حقوق دئے گئے ہیں۔ چنانچہ ہندوستان کے آئین کی ابتدا میں ہی وضاحت کے ساتھ تحریر ہے کہ ہندوستان ایک آزاد، سماجوادی، جمہوری ہندوستان کی حیثیت سے وجود میں لایا جائے جس میں تمام شہریوں کے لئے سماجی، معاشی، سیاسی، انصاف، آزادیئ خیال، آزادی اظہار رائے، آزادی عقیدہ ومذہب وعبادات، انفرادی تشخص اور احترام کو یقینی بنایا جائے گا اور ملک کی سالمیت ویکجہتی کو قائم ودائم رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر امبیڈکر کی سرپرستی میں تیارکردہ ملک کے دستور میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کا خیال رکھا گیا ہے، سب کو برابر کے حقوق دئے گئے ہیں، سب کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا ہے، سب کو اپنا لیڈر منتخب کرنے کا حق دیا گیا ہے، ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس دستور میں ہر شخص کو بنیادی حقوق دئے گئے ہیں، مگر ملک مخالف عناصر گنگا جمنی تہذیب کے برخلاف ملک کو ہندو مسلم میں تقسیم کرکے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے صدیوں سے حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار رہتے بستے ہیں۔ ہمارے ملک کا اتحاد اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب یہاں صحیح معنی میں جمہوری نظام رائج ہو، ہر نسل اور زبان وثقافت کو پھلنے پھولنے کی راہیں ہموار ہوں۔ مگر ان دنوں اقلیتوں خاص کر مسلمانوں میں خوف وہراس پیدا کرکے، اور اکثریت کو اقلیتوں سے ڈراکر جو سیاست کی جارہی ہے وہ ڈاکٹر امبیڈکر کی سرپرستی میں مرتب کئے گئے ہندوستانی دستور کے خلاف ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر ملک کو تقسیم کرنے والی طاقتوں سے مقابلہ کریں۔ ہندومسلم سکھ عیسائی اور پارسی کی ایکتا سے ہی ملک کو ترقی کی طرف گامزن کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کے لئے ہندوستان کے قانون میں تبدیلی کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ ہندوستانی آئین کی روح کے خلاف ہے کیونکہ ڈاکٹر امبیڈکر کی سرپرستی میں تیار کئے گئے دستور میں مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کا کوئی پہلو نہیں ہے، اسی وجہ سے موجودہ حکومت کے فیصلے کے خلاف پورے ملک میں جلسے وجلوس ومظاہرے ہورہے ہیں، حالانکہ موجودہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ہندوستانی آئین کی حفاظت کرے اور ”سب کا ساتھ سب کا وکاس“ کے نعرہ کو عملی جامہ پہنائے۔

آخر میں، میں اپنے تمام بھائیوں سے عرض کرتا ہوں کہ ہ��یں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، ملکی قوانین کا لحاظ رکھ کر آئین کی حفاظت کے لئے احتجاج کرنا ہم سب کا حق ہے۔ یہ ملک کسی مخصوص مذہب کی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور پارسی سب کا ہے، اور اس پر سب کا یکساں حق ہے۔ اس ملک کی آزادی کے لیے مسلمانوں نے کندھے سے کندھا ملاکر اپنے ہم وطنوں کے ساتھ بھرپور حصہ لیا ہے، اور آج بھی اس کی تعمیر وترقی میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسی سمت میں ہمیں سوچ سمجھ کر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو سماجی بھائی چارہ کو مضبوط کریں اور دوسری اقوام کے ساتھ ساتھ ہماری روز مرہ کی زندگی کو بہتر بنانے کی جدوجہد میں معاون ہوں۔ نیز ہم اپنی تاریخ کو نہ بھولیں، اس سے زیادہ خراب حالات میں بھی اللہ تعالیٰ اچھے حالات پیدا کرتا ہے، اس لئے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط کریں، فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں۔ اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق مکمل طور پر ادا کریں۔ آپس میں اتحاد واتفاق کو قائم رکھیں۔ غیر مسلم حضرات کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں تاکہ نفرت کے بادلوں کو پیار ومحبت سے چھانٹا جاسکے۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)

شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد برہان الدین سنبھلی حیات اور کارنامے (1938 ۔ 2020)

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

سنبھل صوبہ اترپردیش کا ایک تاریخی شہر ہے جو اپنی تعلیمی اور ثقافتی روایات کی بناء پر ہندوستان میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ ہندوستان کی جہاں مختلف مایہ ناز ہستیوں نے حصول علم کی غرض سے سنبھل کے لئے رخت سفر باندھا ہے، وہیں اس سرزمین سے پیدا ہونے والی بعض شخصیات نے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی پیمانہ پر دین اسلام کی خدمات پیش فرمائی ہیں۔ ان شخصیات میں حضرت مولانا محمد برہان الدین سنبھلی کا نام نامی بھی ہے جن کے ہزاروں ہزار شاگرد دنیا کے چپہ چپہ میں قرآن وحدیث کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مرحوم طویل علالت کے بعد 82 سال کی عمر میں 21 جمادی الاول 1440 مطابق 17 جنوری 2020 بروز جمعہ عصر کے وقت لکھنؤ میں انتقال فرماگئے۔ انَّا لِلّٰہ وَاِنَّا اِلَيہ رَاجِعون

مولانا محمد برہان الدین سنبھلی 4 ذی الحجہ 1356 مطابق 5 فروری 1938 کو سنبھل شہر کے میاں سرائے محلہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد بھی ایک عالم دین تھے، جن کا نام مولانا حافظ قاری حکیم محمد حمید الدین ہے۔ آپ کا پورا خاندان کم از کم چار پانچ پشتوں سے علم دین سے وابستہ رہا ہے۔ مرد تو مرد عورتیں بھی دینی تعلیم وتدریس میں مشغول رہی ہیں بالخصوص آپ کی والدہ اور دادی محترمہ۔ آپ کے والد دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد تھے۔ مولانا مرحوم نے حفظ قرآن، قرأت اور عربی وفارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے ہی حاصل کی۔ اس کے بعد سنبھل کے مشہور تعلیمی اداروں (مدرسہ سراج العلوم، مدرسہ الشرع کٹرہ موسیٰ خان اور مدرسہ دارالعلوم المحمدیہ) سے قرآن وحدیث کی مزید تعلیم حاصل کرکے ایشیا کی عظیم دینی یونیورسٹی ”دارالعلوم دیوبند“ میں 1956 میں داخلہ لیا۔ دارالعلوم دیوبند میں دو سال رہ کرکے 1957۔1958 میں فراغت حاصل کی۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کے علاوہ مولانا فخر الدینؒ، مولانا محمد ابراہیم بلیاویؒ، مولانا سید فخر الحسن مرادآبادیؒ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ، مولانا معراج الحقؒ، مولانا محمد حسین بہاری اور حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیبؒ سے استفادہ فرمایا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ (مظاہر العلوم سہارن پور) سے ”احادیث مسلسلات“ پڑھ کر شرف تلمذ حاصل کیا۔

دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کرنے کے بعد دو ماہ سنبھل کے قدیم ادارہ ”مدرسہ سراج العلوم“ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد دہلی کا رخ کرکے مدرسہ عالیہ فتح پوری میں ابتدا سے ہدایہ آخرین تک مختلف سطح کی متعدد درسی کتابیں تقریباً 12 سال پڑھائیں۔ دہلی کے قیام کے دوران ایک مسجد میں تقریباً 12 سال درس قرآن وحدیث دیا، خاص طور پر مرحوم کا درس قرآن عام لوگوں میں کافی مقبول ہوا۔

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی دعوت پر 1390 مطابق 1970 میں مولانا محمد برہان الدین سنبھلی دہلی چھوڑ کر دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ تشریف لے گئے اور درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔ ندوۃ العلماء میں تفسیر، اصول تفسیر، حدیث اور فقہ کی کتابیں خاص طور پر آپ سے متعلق رہیں۔ بعد میں ندوۃ العلماء میں شعبہ تفسیر کے صدر کے منصب پر فائض ہوئے۔ ہندوستان کی عظیم علمی درسگاہ ”ندوۃ العلماء لکھنؤ“ میں موصوف نے 45 سال سے زیادہ علوم قرآن وحدیث کا درس دیا۔ مرحوم نے پوری زندگی کمال دیانت اور ایمانداری کے ساتھ قرآن وحدیث کی خدمات پیش کیں۔ اس طرح آپ کے ہزاروں ہزار شاگرد آپ سے استفادہ کرکے جگہ جگہ تعلیمی وعلمی مشغولیات میں مصروف ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں بعض شاگرد ندوۃ العلماء لکھنؤ میں بھی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ندوۃ العلماء لکھنؤ میں مجلس تحقیقات شرعیہ میں اہم ذمہ داری نبھانے کی وجہ سے عصر حاضر کے نئے مسائل پر کام کرنے کا موقع ملا، چنانچہ مرحوم کے عربی اور اردو زبان میں سو سے زیادہ علمی وتحقیقی مقالے اور مضامین مختلف کانفرنسوں میں پڑھے گئے اور متعدد رسائل میں شائع ہوئے۔ نہ صرف برصغیر سے شائع ہونے والی تقریباً تمام ہی عربی میگزینوں میں آپ کے مضامین شائع ہوئے بلکہ بیرون ملک میں بھی آپ کے علمی وتحقیقی مضامین ومقالات کو بڑی قدر کی نگاہ سے شائع کیا جاتا رہا۔

مولانا محمد برہان الدین سنبھلی اپنے علمی کاموں میں اتنا مصروف رہتے تھے کہ عوامی جلسوں میں شرکت کرنا آپ کے لئے آسان نہیں تھا لیکن اندرون وبیرون ممالک میں علمی وتحقیقی مقالات پیش کرنے اور مختلف موضوعات پر بحث ومباحثہ کے لئے آپ کی کوشش رہا کرتی کہ اس میں ضرور تشریف لے جائیں، خاص کر نئے وپیچیدہ مسائل کے حل کے لئے منعقد ہونی والی کانفرنسوں میں خاص دلچسپی سے شرکت فرماتے تھے۔ مرحوم کو سعودی عرب، الجزائر، ملیشیا، امریکہ، جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں منعقد ہونے والی علمی مجالس واجتماعات میں شرکت کرنے، قیمتی مقالے پیش کرنے اور بحث ومذاکرہ میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء لکھنؤ، دارالعلوم حیدرآباد، جامعہ سلفیہ بنارس، خدا بخش لائبریری (پٹنہ) اور جمعیت علماء ہند میں منعقد ہونے والے علمی سیمناروں میں آپ مکمل تیاری کے ساتھ شرکت فرماتے تھے۔

متعدد علمی وملی اداروں نے مرحوم کو رکنیت کا شرف بخشا تھا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڑ کے آپ تاسیسی ممبر اور مجلس عاملہ کے رکن رہے۔ آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کی ترقی کے لئے بنے مشاورتی بورڑ کے ممبر بنائے گئے۔ آپ مرکزی دارالقضاء (یوپی) کی قاضی کونسل کی صدارت (قاضی القضاۃ) کے عہدہ پر فائض رہے۔ مرحوم مجمع الفقہ الاسلامی (الہند) کے نائب صدر، ندوۃ العلماء میں مجلس تحقیقات شرعیہ کے ناظم، دارالعلوم دیوبند میں نصاب کمیٹی کے رکن اور دینی تعلیمی کونسل اترپردیش کے رکن رہے۔ 2008 میں عربی زبان کی بے لوث خدمات کے پیش نظر آپ کو صدر جمہوریہ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

جہاں ایک طرف مولانا مرحوم کے ہزاروں کی تعداد میں شاگرد قرآن وحدیث کی خدمات میں مصروف ہیں، جن کا اجروثواب آپ کو پہنچتا رہے گا، وہیں آپ کی علمی وتحقیقی مضامین وکتابوں سے عرصہ دراز تک استفادہ کیا جاتا رہے گا جو اُن کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔ ان کی بعض کتابیں شائع ہوکر عوام وخواص میں کافی مقبولیت حاصل کرچکی ہیں۔ مولانا سنبھلی نے اپنے قیمتی مقالوں اور مضامین کے علاوہ بہت سی کتابیں بھی لکھیں جو زیادہ تر فقہی اور مسائل حاضرہ کی شرعی حیثیت سے متعلق ہیں۔ ان کی چند مشہور تصانیف حسب ذیل ہیں: قضایا فقہیہ معاصرہ: عربی کی یہ کتاب دمشق (سوریا) سے شائع ہوئی ہے، اس میں عصر حاضر کے نئے مسائل مثلاً بینکنگ سسٹم، حق تصنیف وتالیف کی خریدو فروخت، انسانی خون اور اعضاء کا استعمال اور رویت ہلال جیسے اہم موضوعات پر مدلل بحث کرکے ان کا موجودہ زمانہ میں شرعی حل پیش کیا گیا ہے۔ رؤیت ہلال کا مسئلہ: ندوۃ العلماء لکھنؤ کی مجلس تحقیقات سے شائع شدہ اس کتاب میں مستند کتابوں کے حوالوں کے ساتھ چاند کی رؤیت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور موجودہ دور میں اس کا شرعی حل بتایا گیا ہے۔ معاشرتی مسائل: نکاح، طلاق، تعدد ازواج اور وراثت جیسے مسائل پر مغرب کے اسلام مخالف عناصر کی طرف سے جو اعتراضات کئے گئے ہیں، مولانا مرحوم نے اس کتاب میں ان کے مدلل جوابات تحریر فرمائے ہیں۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس کتاب کے متعدد ایڈیشن اندرون وبیرون ملک شائع ہوچکے ہیں۔ بینک انشورنس اور سرکاری قرضے: مجلس تحقیقات اسلامی حیدرآباد سے شائع شدہ اس کتاب میں موجودہ دور میں بینک سے قرضے لینے اور انشورنس وغیرہ کرانے پر مدلل بحث کرکے مرحوم نے زمانہ کے تقاضے کو سامنے رکھ کر حل پیش فرمائے ہیں۔ جدید طبی مسائل: مجلس تحقیقات اسلامی حیدرآباد کی سرپرستی میں شائع شدہ اس کتاب میں عصر حاضر کے میڈیکل مسائل پر مدلل گفتگو کرکے ان کا شرعی حل بتایا گیا ہے۔ جہیز یا نقد رقم کا مطالبہ شرعی احکام کی روشنی میں: ہمارے معاشرہ میں جہیز جیسی مہلک بیماری بہت زیادہ رائج ہوگئی ہے، جس کے نقصانات کو اس کتاب میں بیان کرکے اس سے بچنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ کتابچہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے شائع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے متعدد کتابیں تحریر فرمائی ہیں۔ اختصار کے پیش نظر ان میں سے صرف چند کا نام ذکر کردیتا ہوں۔ یونیفارم سول کوڈ اور عورت کے حقوق،،، اصلاح معاشرہ،،، نفقہئ مطلقہ،،، موجودہ دور میں کار نبوت انجام دینے والے،،، مسلمانوں کی پریشانیوں کے حقیقی اسباب اور علاج،،، چند اہم کتب تفسیر اور قرآن کریم کے ترجمے،،، خواتین کے لئے اسلام کے تحفے،،، چند اہم دینی مباحث،،، موجودہ زمانے کے مسائل کا شرعی حل،،، اور درس قرآن کریم۔

مولانا مرحوم تقریباً 12 سال سے فالج زدہ تھے، وہیل چیئر پر چلتے تھے، مگر اس آزمائش کے دور میں بھی چہرے کی بشاشت اور طبیعت کی لطافت قابل دید تھی۔ بیماری کی حالت میں بھی آپ طلبہ کو پڑھانے کی ہر ممکن کوشش فرماتے تھے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں انہوں نے علم وتحقیق کے میدان میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ بلاشبہ ان کے انتقال سے ایک بڑا علمی خسارہ پیدا ہوا ہے جو ہمیں مل جل کر پورا کرنا چاہئے۔ آپ کی دیگر خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی تھی کہ آپ انتہائی سادہ صفت بشر تھے۔ آپ نے غیبت اور کسی کی تنقیص سے ہمیشہ اپنا دامن بچائے رکھا۔

مولانا محمد برہان الدین سنبھلی کی علمی خدمات عرصہئ دراز تک یاد رکھی جائیں گی۔ اس سادہ صفت شخص کی بے شمار خوبیوں کو سالوں سال لکھا، پڑھا اور سنا جائے گا۔ مگر اس موقع پر ہمیں یہ غور وفکر کرنا چاہئے کہ انسان کتنی بھی بلندیوں پر پہنچ جائے اور کتنی بھی کامیابیوں کو حاصل کرلے لیکن ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ اس کی آنکھ دیکھ نہیں سکتی، زبان بول نہیں سکتی، کان سن نہیں سکتے، ہاتھ پیر کام نہیں کرسکتے، غرضیکہ ہر شخص کا دنیاوی سفر ایک دن ختم ہوجائے گا، یعنی اس کو موت آجائے گی۔ پوری کائنات میں سب سے افضل واعلیٰ مخلوق انبیاء کرام کو بھی اس مرحلہ سے گزرنا پڑا ہے۔ موت نام ہے روح کا بدن سے تعلق ختم ہونے کا اور انسان کا دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرنے کا۔ ترقی یافتہ سائنس بھی روح کو سمجھنے سے قاصر ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر اعلان فردیا ہے: روح صرف اللہ کا حکم ہے۔ ہمیں بھی ایک روز مرنا ہے اور اپنے خالق، مالک اور رازق کائنات کے سامنے اپنی دنیاوی زندگی کا حساب دینا ہے۔ لہذا ہم اس موقع پر یہ عہدوپیمان کریں کہ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزاریں گے اور جھوٹ، سود، رشوت خوری، دھوکہ دھڑی، شراب نوشی، عیاشی اور بے حیائی جیسی معاشرہ کی عام برائیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ نیز سچائی، امانت داری، معاملات میں صفائی، تعلیم، عمدہ اخلاق، بڑوں کا احترام،چھوٹوں پر شفقت، پڑوسیوں کا خیال، دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اور اپنی ذمہ داریوں کو بحسن خوبی انجام دینا جیسی خوبیوں کو اپنی زندگی میں لاکر اپنے معاشرہ کو خوب سے خوب تر بنائیں گے تاکہ ہم اس دنیاوی زندگی میں بھی سرخ روئی حاصل کریں اور اور مرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی میں ایسی کامیابی وکامرانی حاصل کریں کہ جس کے بعد ناکامی نہیں۔

آخر میں مولانا مرحوم کے لئے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنائے، انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے اور اُن کے اہل خانہ اور دیگر لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ آپ کے صاحبزاے مولانا نعمان الدین صاحب ندوی بھی اہل قلم میں سے ہیں اور مشہور شاعر قمر سنبھلی مولانا مرحوم کے حقیقی بھائی ہیں۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)

ملک کی موجودہ صورت حال اور ارتداد کے خوفناک سائے