دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء کا باہمی ربط

عبدالمالک بلندشہری
بر صغیر کے معروف اداروں و تربیت گاہوں میں سر فہرست دو ادارہ آتے ہیں ایک دیوبند میں واقع دارالعلوم اور دوسرا لکھنؤ میں واقع ندوة العلماء ۔۔یہ دونوں ادارہ تاریخ کا تابناک و درخشاں باب ہیں ۔۔غیر منقسم ہندوستان میں جب الحاد و دہریت اور بے دینی و ضلالت کی آندھیاں چل رہی تھیں اس وقت اصحاب علم و فضل کے صف اول کے بعض دور اندیش و اولوالعزم علماء نے ان طاغوتی تھپیڑوں سے قندیل رہبانی و شمع آلہی کی حفاظت کے خاطر جن دونوں قلعوں کی داغ بیل ڈالی تھی انہوں نے روز اول سے تا امروز دین حق کے چراغ روشن رکھے اور ہر طرح کے نامساعد حالات و مخالف فضا کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کی دینی، ایمانی اور روحانی تشنگی کو سیراب کیا اور دین الہی مذہب خدائی کے متعلق ان کے قلوب و اذہان میں پنپنے والے شکوک و شبہات کا بڑی حسن و خوبی کے ساتھ ازالہ کیا ۔۔۔۔۔دونوں اداروں کا جس طرح علمی نسب اور فکری منہج مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ پر منتج ہوتا ہے اسی طرح روحانی سلسلہ بھی شخص واحد پر منتھی ہوتا ہے ۔۔۔۔یاد رہے اگر حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خاص خلیفہ و مجاز الامام قاسم ناناتوی علیہ الرحمة نے دارالعلوم دیوبند قائم کیا تھا تو وہیں حاجی صاح ہی کے دوسرے خلیفہ مجاز بیعت فاتح قادیانیت مولانا سید محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ نے ندوة العلماء کی داغ بیل ڈالی تھی ۔۔اگر حاجی صاحب کے دو خلیفہ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ و مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے دیوبند کی عرصہ دراز تک بے لوث سرپرستی و عظیم خدمت کی تھی تو دوسری طرف حاجی صاحب ہی کے دوسرے دو ممتاز خلیفہ مولانا سید عبدالحئی حسنی رحمۃ اللہ علیہ و مولانا حیدر حسن خان ٹونکوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خون جگر سےندوة العلماء کی آبیاری کی ۔۔۔۔جس طرح حاجی صاحب دیوبند کے متعلق فکر مند رہتے تھے بلکل اسی طرح ندوہ کی ترقی و رفعت کے لئے بھی ہمہ دم متفکر و دعا گو رہتے ۔۔۔یہ باتیں بلا دلیل و برہان کے نہیں کہیں جارہی ہیں دونوں اداروں کی تاریخ سے ہر باخبر شخص اس بات سے سو فیصد اتفاق کرے گا ۔۔۔۔۔خود ندوة العلماء کے قیام میں جو حضرات معاون رہے ان میں حضرت شیخ الہند قدس سرہ و حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ بھی شامل تھے ۔۔۔۔دونوں اداروں میں ہمیشہ اپنائیت و محبت کا تعلق رہا ہے ۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ جانشین شبلی علامہ سلیمان ندوی رحمہ اللہ ، و معروف ندوی فاضل مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ نے اپنی باطنی اصلاح و تزکیہ نفس کے لئے قاسمی النسبت ، سرپرست دارالعلوم دیوبند حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کے آستانہ پر حاضری دے کر اپنی جبین نیاز خم کی اور بے خوف و خطر اپنے اس عمل سے اس بات کا بین ثبوت دیا کہ ندوہ اور دیوبند دونوں فکری و روحانی طور پر ایک ہی ادارہ ہیں ۔۔اسی طرح ڈاکٹر عبدالعلی حسنی رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرے اسی تعلق کو مضبوط کیا پھر آگے چل کر اسی روایت کو مفکر اسلام مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے برقرار رکھا۔۔وہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے صرف شاگرد رشید ہی نہیں تھی بلکہ خلیفہ مجاز بھی تھے ۔۔حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے از خود علی میاں صاحب رح کو بیعت کرنا چاہا تھا اور آپ پر مکمل اعتماد ظاہر کیا تھا ۔۔۔اسی طرح قاسمی عالم دین مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو تو ندوہ کے در و بام سے حد درجہ عشق تھا ۔۔۔معروف مناظر اور دیوبند کے رکن شوری علامہ انور شاہ کشمیری رح کے نامور شاگرد علامہ منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ و مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی طویل رفاقت اور مثالی معاصرت سے آگاہ تو ہر عالم دین ضرور ہوں گے ۔۔۔۔۔۔ .

دارالعلوم دیوبند سے علی میاں رحمۃ اللہ علیہ و اکابرین ندوہ کا بڑا گہرا تعلق رہا ہے یہی وجہ تھی کہ جشن صد سالہ کے مبارک موقع پر ناظم ندوہ مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کو بھی خطاب عام کا موقع دیا گیا تھا ۔۔۔ان کی یہ تقریر کافی مشہور بھی ہوئی اور آگے چل کر کتابی شکل میں بھی شائع ہوئی۔۔اسی طرح علی میاں رح کو دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کا ممبر بھی نامزد کیا گیا تھا ۔۔ایک عرصہ تک حضرت نے وہاں کی انتظامیہ کو اپنے مفید مشوروں و بے لاگ تبصروں سے نوازا تھا۔۔آخری دور میں جب قضیہ نا مرضیہ پیش آیا تو حضرت قاری صدیق باندوی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا شاہ عبدالحلیم جونپوری رحمۃ اللہ علیہ مولانا منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح علی میاں رح نے بھی غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا اور آخر دم تک دونوں دھڑوں میں اتحاد کرنے کی بے لوث کوشش کرتے رہے ۔۔۔۔۔نیز مولانا علی میاں رح کی اکابر دیوبند کے ہاں بڑی قدر و منزلت تھی ۔۔۔ حضرت شیخ زکریا رحمۃ اللہ علیہ کو تو حضرت علی میاں پر حد درجہ اعتماد تھا اسی طرح حضرت تھانوی رح کے خلیفہ مصلح الامت مولانا شاہ وصی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ جملہ تو کتابوں میں بھی مذکور ہے کہ بہت سے لوگوں سے ملنا ہوا سب کو دیکھا لیکن جو دل کی صفائی علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں دیکھی وہ کہیں نا ملی علی میاں کا دل آئینہ کی طرح صاف و شفاف اور بے داغ و غبار ہے ۔۔۔ اسی طرح حضرت رائےپوری قدس سرہ کا ارشاد علی میاں مثل آفتاب و ماہتاب ہے جس کی ضوفشانی سے سارا عالم تابندہ ہے ان کے علاوہ مولانا الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت ندوی سے جو تعلق تھا وہ سب پر عیاں ہے تبلیغی جماعت کو آفاقیت و ہمہ گیریت سے شادکام کرانے میں حضرت علی میاں رح کے علاوہ فضلائے ندوہ مولانا عمران خان ازہری بھوپالی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا محمد حسنی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا معین اللہ اندوری رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا سید رابع حسنی مدظلہ (1929)، مولانا عبداللہ حسنی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا غزالی بھٹکلی رحمۃ اللہ علیہ کا جو کردار رہا ہے وہ جگ ظاہر ہے ۔۔اس میدان میں فضلائے ندوہ نے جو لازوال نقوش ثبت کئے ہیں وہ اظہر من الشمس ہیں ۔۔ اور نا صرف کل بلکہ ہنوز علمائے ندوہ کا دیوبند و مظاہر علوم سے ربط اسی طرح مستحکم و پائیدار ہے ۔۔خود ناظم ندوہ مولانا سید رابع حسنی مدظلہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں اسی طرح حضرت مدنی رح کے آخری دور کے شاگرد اور 1957 میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کرنے والے ملک کے عظیم فقیہ مولانا برہان الدین سنبھلی مدظلہ ندوہ کے قدیم و موقر استاذوں میں سے ہیں بلکہ شیخ التفسیر کے عہدہ پر بھی فائز رہ چکے ہیں ۔۔اسی طرح دوسرے استاذ مولانا عتیق احمد بستوی مدظلہ (1954)بھی دیوبند ہی کے فیض یافتہ ہیں ۔۔ شیخ الحدیث ندوہ مولانا زکریا سنبھلی مدظلہ(1943) نے بھی ابتدا دارالعلوم دیوبند سے 1966 میں فراغت حاصل کی اور شیخ فخر الدین مرادآبادی رح سے بخاری شریف پڑھی ۔۔۔اسی طرح استاذ محترم مولانا مظہر الحق کریمی مدظلہ بھی دیوبند کے فارغ ہیں ۔۔۔۔۔ .

دوسری طرف دیوبند کے مایہ ناز ادیب مولانا نور عالم خلیل امینی مدظلہ(1952) نے ایک طویل عرصہ تک ندوة العلماء میں تدریسی فرائض انجام دئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مولانا علی میاں ندوی رح سے کسب فیض کیا ۔۔ان کے علاوہ دارالعلوم وقف دیوبند کے سابق مہتمم خطیب الاسلام مولانا سالم قاسمی رحمۃ اللہ علیہ (1926۔2017) بھی طویل عرصہ تک ندوة العلماء کی مجلس انتظامیہ کے معتبر رکن رہے ہیں ۔۔۔ان سب تصریحات کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ندوہ و دیوبند کوئی علیحدہ یا مختلف ادارہ نہیں ہیں بلکہ دونوں ایک ہی مشن کے علمبردار اور ایک ہی مقصد کے تحت سرگرم عمل ہیں ۔۔۔مگر افسوس بعض عاقبت نااندیش لوگ دونوں کے درمیان خلیج قائم کرنے کی ناپاک کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔۔یہ متعصب لوگ دونوں طرف ہی پائے جاتے ہیں جو ادارہ کی شبیہ کو مسخ کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں ۔۔انہی کی وجہ سے دونوں کے محبین کی درمیان وہ جنگ چھڑتی ہے جس کا نتیجہ ایک دوسرے کی کمیوں ، کوتاہیوں کو بیان کرکے ان پر سب و شتم کرنا ہوتا ہے ۔۔۔خبردار رہئے ایسے لوگوں سے ۔۔۔یہ آپ کو آپس میں لڑائیں گے ۔۔۔ایسے لوگوں کو منھ نہیں لگانا چاہئے ۔۔چاہے ادھر کے ہوں چاہے ادھر کے اور چاہے کتنے ہی ذی علم اور با اخلاق مانے جاتے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی لئے تمام لوگوں سے درخواست ہے ان کے بہکاوے میں آکر ان کا آلہ کار نا بنیں اس سے اپنا تو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا البتہ اغیار کو ہنسنے کا ضرور موقع ملے گا ۔۔۔۔ندوہ اور دیوبند دونوں ہماری آنکھیں ہیں ۔۔ہماری شان اور پہچان ہیں ۔۔ہمارے علماء کی یادگار ہیں جو ان دونوں کے درمیان دوری کو بڑھاوا دے گا اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔۔۔فرد واحد کی رائے کی وجہ سے اگر ادارہ کو مطعون کیا جائے تو خدا کی قسم نا تو ندوة العلماء محفوظ رہے گا اور نا دارالعلوم دیوبند ۔۔کمیاں دونوں میں ہیں ۔۔اچھائیاں دونوں میں ہیں ۔۔بہتر ہے کمیوں کو نا اچھالا جائے اور اچھائوں کا پرچار کیا جائے ورنہ اگر حقائق کے نام پر کمیاں بیان کی جانے لگیں نا تو ہوگیا بس اتحاد ۔۔۔۔۔۔خدا را اس جانب التفات کیجئے ۔۔جلدی توجہ کیجئے مبادا ایسا نا ہو کہ بہت دیر ہو جائے اور ہمارے پاس کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نا رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ .
(بصیرت فیچرس)