مسجدیں اور حنبلی نقطۂ نظر(۱)

فقیہ العصر حضرت مولاناخالد سیف اللہ رحمانی
ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
ملک کے ایک صاحب نظر عالم، مقبول خطیب اور علوم اسلامی کے کہنہ مشق مدرس نے بابری مسجد کے پس منظر میں فقہ حنبلی کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد کی دوسری جگہ منتقل کرنے کی رائے پیش کی ہے؛ تاکہ مسلمانوں کو جانی ومالی نقصان سے بچایا جا سکے، اور باہمی منافرت کو کم کرنے کی کوشش کی جائے، اس پس منظر میں حنبلی نقطۂ نظر کو سمجھنے کے لئے بہت سے لوگ بے چین ہیں اور ان کا فکرمند ہونا فطری بات ہے۔
اس پس منظر میں عرض ہے کہ مسجد کی منتقلی یا مسجد کی مسجدیت ختم ہونے کے سلسلہ میں حنبلی مسلک کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کے لئے چند نکات پیش نظر رکھنا ضروری ہے:
(۱) اس سلسلہ میں امام احمد بن حنبلؒ سے ایک ہی قول منقول ہے یا ایک سے زیادہ؟
(۲) مسجد کی منتقلی کے سلسلہ میں جو رائے منقول ہے، اس کا خود فقہ حنبلی میں کیا درجہ ہے؟
(۳) اس رائے کے پیچھے جو دلیل ہے، وہ کس حد تک معتبر اور قابل قبول ہے؟
(۴) حنابلہ کا یہ نقطۂ نظر اُمت سواد اعظم کے خلاف تو نہیں ہے؟
(۵) کیا فقہ حنبلی میں اس بات کی گنجائش ہے کہ مسجد کو اس طور پر چھوڑ دیا جائے کہ وہاں غیر اللہ کی عبادت کی جانے لگے؟
الف: جہاں تک فقہاء حنابلہ کے نقطۂ نظر کی بات ہے تو اس سلسلے میں ان کے دو اقوال ہیں، ایک یہ کہ اگر کوئی مسجد ویران ہوجائے، وہاں سے آبادی ختم ہو جائے تب بھی مسجد مسجد باقی رہے گی؛ البتہ اس بات کی گنجائش ہوگی کہ مسجد کا ملبہ یا اس کا قابل استعمال سامان دوسری مسجد کو منتقل کر دیا جائے گا:
وعنہ الاتّباع؛ المسجد لکن تنقل آلٰتھا الی مسجد أخر ویجوز بیع بعض الآلۃ وصرفھا في عمارتہ (الانصاف علی ھامش المقنع:۱۶؍۵۲۲)
امام احمدؒ سے مروی ہے کہ مسجدیں بیچی نہیں جا سکتیں؛ البتہ اس کا سامان دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے، نیز ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بعض سامان فروخت کر دیا جائے، اور اسے اسی مسجد کی تعمیر میں خرچ کیا جائے۔ (الانصاف علی ھامش المقنع:۱۶؍۵۲۲)
علامہ محمد ابن قدامہ مقدسی ؒ فقہ حنبلی کے بڑے معتبر ترجمان سمجھے گئے ہیں، انہوں نے متعدد مواقع پر لکھاہے :
! ن المساجد لاتباع و! نما تنقل آلاتھا۔(المغنی:۵؍۳۶۷)
مسجدیں فروخت نہیں کی جائیں گی؛ البتہ اس کے آلات منتقل کئے جا سکتے ہیں۔
اس کے مقابلہ میں دوسرا قول یہ ہے کہ اگر مسجد ویران ہو جائے، وہاں مسلمانوں کی آبادی ختم ہو جائے،آئندہ بھی اس کے آباد ہونے کی امید نہ ہو تو مجبوری کے درجہ میں اس کو فروخت کرنے کی گنجائش ہے:
فان قطعت منافعہ بالکلیۃ کدارانھدمت۔۔۔۔۔أو مسجد انتقل أھل القریۃ عنہ۔۔۔۔۔ جاز بیع البعض و!ن لم یمکن الانتفاع بشیء منہ بیع جمیعہ۔
اگر وقف کے منافع بالکلیہ ختم ہو گئے، جیسے کوئی مکان تھا، منہدم ہوگیا، یا مسجد تھی، اوراس آبادی کے مسلمان وہاں سے منتقل ہو گئے، تو اگر یہ ممکن ہو کہ اس کا کچھ حصہ بیچ کر بقیہ کی تعمیر کی جائے، تو کچھ حصہ کو فروخت کرنا جائز ہوگا، اور اگر اس سے بالکل نفع اٹھانا ممکن نہ ہو تو اس پورے کو بیچا جا سکتا ہے۔ (الشرح الکبیر:۱۶؍۵۲۲)
ب: مسجد کی منتقلی کے سلسلے میں امام احمدؒ کے اس قول کو خود فقہاء حنابلہ نے امام احمدؒ کا تفرد قرار دیا ہے؛ چنانچہ علامہ مرداوی حنبلی (متوفی ۸۸۵ھ) جو فقہ حنبلی کے معتبر شارحین میں ہیں، نے اس قول کو نقل کرتے ہوئے کہا ہے: ” ھو من المفردات” (الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف علی مذہب الامام احمد بن حنبلؒ۷؍۷۸)
یعنی یہ امام احمد بن حنبلؒ کے تفردات میں سے ہے؛اس لئے اس قول کو بہت سے محقق فقہاء حنابلہ نے بھی قبول نہیں کیا ہے، اور اس بات کو ترجیح دی ہے کہ ویران مسجد میں جو قابل استعمال چیزیں ہیں ، صرف ان کو دوسری مسجد کو منتقل کرنے یا دوسری مسجد کو حوالہ کرنے کی گنجائش ہے؛ چنانچہ ایک حنبلی قاضی نے مسجد کی منتقلی کا فیصلہ کیا تو دوسرے حنبلی المسلک قاضی نے اس پر سخت اعتراض کیا،ایک حنبلی فقیہ ہی سے اس بات کو سنئے:
۔۔فعارضہ القاضی جمال الدین المرداوی صاحب” الانتصار ” وقال: حکمہ باطل علی قواعد المذھب وصنف في ذالک مصنفا رد فیہ علی الحاکم سماہ ” الواضح الجلي في نقض حکم ابن قاضی الجلیل الحنبلي” ووافقہ صاحب ” الفروع ” علیٰ ذالک- (الانصاف علی المقنع:۱۶؍۵۲۴)
-تو قاضی جمال الدین مرداوی مصنف’ ‘ الانتصار” نے اس سے سخت اختلاف کیا اور کہا کہ مذہب حنبلی کے قواعدکے لحاظ سے یہ فیصلہ غلط ہے، اور انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے ” الواضح الجلي في نقض حکم ابن قاضی الجلي الحنبلي” کے نام سے ایک کتاب بھی تالیف فرمائی ،نیز فقہ حنبلی کی ایک اہم کتاب ”الفروع ” کے مصنف نے بھی ان کی موافقت کی ہے۔
یہ بات کہ جب ایک جگہ مسجد بن جائے تو اب اس کی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی، وقف کے سلسلہ میں حنابلہ کے مقررہ اصول سے بھی مطابقت رکھتی ہیں؛ کیوں کہ امام احمد کے نزدیک جب کوئی چیز ایک بار وقف کر دی جاتی ہے تو وہ ہمیشہ وقف ہی باقی رہتی ہے، جب عام اوقاف کے لئے یہ حکم ہے تو مسجد کے لئے تو بدرجۂ اولی یہ حکم ہونا چاہئے؛ چنانچہ علامہ ابن قدامہ حنبلی مقدسی فرماتے ہیں:
ولایجوز التصرف في الوقف بما ینقل الملک في الرقبۃ لقول النبي صلی اللہ علیہ وسلم في حدیث عمرؓ لا یباع أصلھا، ولا یوھب، ولا یورث؛ لأن مقتضی الوقف التابید وتحبیس الأصل؛ بدلیل أن ذالک من بعض ألفاظہ والتصرف في رقبتہ ینافي ذالک۔( الکافی: ۳؍۵۸۰)
وقف میں ایسا تصرف جائز نہیں ہے،جس کا تعلق اصل شئی کی ملکیت منتقل کرنے سے ہو؛ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: اس کی اصل نہ فروخت کی جائے نہ ہبہ، اور نہ اس میں میراث جاری ہوگی، اور اس لئے بھی کہ وقف ہونے کا تقاضہ یہی ہے کہ اس کی حیثیت ابدی ہو، اور اصل شئی کو باقی رکھا جائے کہ یہی بات حضورﷺ کے الفاظ سے مستنبط ہوتی ہے، اور اصل شئی میں تصرف کرنا اس کے منافی ہے۔
اس لئے امام احمدؒ کے یہاں اسی قول کو ترجیح ہونی چاہئے، جو دوسرے فقہاء کی رائے کے مطابق ہے؛ کیوں کہ یہ وقف کے عمومی اور بنیادی قاعدہ کے مطابق ہے۔
پھرحنابلہ کا یہ قول کہ” مسجد کی حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے”- جیسا کہ مذکور ہوا- اس وقت ہے، جب وہاں مسلمانوں کی آبادی ختم ہو گئی ہو، اور مسجد کی آبادی کی کوئی شکل نہ ہو؛ لیکن بابری مسجد او ر ایودھیا کی صورت حال یہ نہیں ہے؛ کیوں کہ ایودھیا میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی ہے، اور متعدد مسجدیں وہاں موجود بھی ہیں اور آباد بھی؛ بلکہ جس شب مسجد میں مورتی رکھی گئی، اس روز بھی وہاں عشاء کی نماز ادا کی گئی تھی، اوراگر وہ جگہ مسلمانوں کو واپس مل جائے تو دوبارہ مسجد آباد ہو سکتی ہے؛ اس لئے فقہ حنبلی کی رو سے بھی یہ اس صورت میں داخل نہیں ہے،جس میں مسجد کو منتقل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
(ج) فقہاء حنابلہ نے مسجد کی منتقلی کے جائز ہونے پر جو دلیل پیش کی ہے، وہ یہ ہے کہ جب کوفہ میں بیت المال میں نقب زنی ہوئی تو حضرت عمرؓ نے مسجد کو کھجور مارکیٹ میں منتقل کرنے اور اور مسجد کے سمت قبلہ میں بیت المال بنانے کا حکم فرمایا: (المغنی:۶؍۲۵۰) لیکن یہ روایت محدثین کے نزدیک سند کے اعتبار سے ضعیف ہے؛ اس لئے یہ نقطۂ نظر دلیل کے اعتبار سے بھی کمزور ہے، (مسند احمد:۴؍۲۷۸،حدیث نمبر:۱۸۴۰۹؍۳۷۵، حدیث نمبر:۱۹۲۹۹، ابن ماجہ، حدیث نمبر:۳۹۵۰ )

(د) پھر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواد اعظم کی اتباع کا حکم دیا ہے،علیکم بالسواد الاعظم: اور سواد اعظم سے مراد مسلمانوں کی غالب اکثریت ہے؛ چنانچہ ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں: والمراد ما علیہ أکثر المسلمین، (مرقاۃ المفاتیح:۱؍۲۴۹) اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسجد کے سلسلے میں سواد اعظم کا نقطۂ نظر یہی ہے کہ مسجد کی جگہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہوتی ہے ؛ چنانچہ حنفیہ نے صراحت کی ہے کہ مسجد کی تبدیلی کسی حال میں جائز نہیں، علامہ حصکفیؒ فرماتے ہیں:

إن الفتویٰ علی أن المسجد لا یعود میراثا ولا یجوز نقلہ ونقل مالہ إلیٰ مسجد اٰخر ۔(الدرالمختارمع الرد:۶؍۵۴۸–۵۴۹)

فتویٰ اس بات پر ہے کہ مسجد میراث نہیں بنے گی، نہ اس کی منتقلی جائز ہوگی، اور نہ اس کا مال دوسری مسجد میں لگانا درست ہوگا۔

یہی نقطۂ نظر امام مالکؒ کا ہے؛ چنانچہ علامہ قرطبی ؒ( متوفیٰ ۶۷۱ھ) فرماتے ہیں:

لایجوز نقض المسجد ولا بیعہ ولا تعطیلہ وإن خربت المحلۃ( الجامع لأحکام القرآن:۲؍۷۸)

مسجد کو توڑنا، اُسے بیچنا اور اسے ختم کر دینا جائز نہیں ہے،اگرچہ محلہ ویران ہو گیا ہو۔

یہی نقطۂ نظر فقہاء شوافع کا بھی ہے؛ چنانچہ معروف شافعی فقیہ علامہ نوویؒ فرماتے ہیں:

أما المسجد فانہ إذا انھدم وتعذرت إعادتہ فانہ لایباع بحال لامکان الإنتفاع بہ حالا بالصلوٰۃ فی أرضہ۔(شرح المہذب: ۱۵؍۳۶۱)

جب مسجد منہدم ہو جائے او ر اس کو دوبارہ بنانا دشوار ہو، جب بھی اسے فروخت نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ اس زمین میں نماز کی ادائیگی کے ذریعہ فی الحال بھی اس سے نفع اٹھانا ممکن ہے۔

ظاہر ہے اس اتفاق کے مقابلہ ایک ایسا قول جو خود حنابلہ کے یہاں متفق علیہ نہیں ہو اور اس کو امام احمد بن حنبلؒ کے تفردات میں شمار کیا گیا ہو، کیا قابل ترجیح ہو سکتا ہے؟

(ہ) پھر یہ کہ جمہور کا مذہب دلائل کے اعتبار سے بھی قوی ہے، قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ کسی زمین کو مسجد کے لئے وقف کرنا، اس حصۂ زمین کو براہ راست اللہ کے حوالہ کر دینا ہے، اب گویا وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہے۔؛چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وأنّ المساجد للہ فلا تدعوا مع اللّہ أحد اتوبہ: (۱۰۸)، بے شک مسجدیں اللہ کے لئے ہیں؛ اس لئے (مسجدوں میں ) اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔

اس آیت میں اولاََ تو تاکید اور قوت کے لئے’’ أنّ‘ ‘کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جو عربی قواعد کے مطابق قوت وتاکید کے معنیٰ کے لئے ہے، پھر مسجد کے بجائے’’مساجد‘‘ یعنی واحد کے بجائے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، اور اس پر جو ’’الف، لام‘‘ آیا ہے، وہ عربی گرامر کی رو سے ’’ استغراق‘‘ کے معنیٰ میں ہے، اس طرح اب اس کے معنیٰ ’’ تمام مسجدوں ‘‘ کے ہوگئے، یعنی جو حکم بیان کیا جا رہا ہے، وہ کسی ایک مسجد کا نہیں ہے؛ بلکہ تمام ہی مسجدوں کا ہے؛ اسی لئے مشہور مفسر عکرمہؒ نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت تمام ہی مسجدوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے (مختصر تفسیر ابن کثیر:۳؍۵۸۶) پھر فرمایا گیا’’ للہ‘‘ عربی گرامر کی رو سے ’’ل ‘‘ ملکیت اور اختصاص کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے، یعنی مسجدیں اللہ ہی کی ملکیت ہیں،آگے اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی واضح فرما دی ہے کہ مسجد کے اللہ کی ملکیت میں ہونے کا مطلب کیا ہے؟—اور وہ یہ ہے کہ یہ جگہ ہمیشہ کے لئے اللہ کی عبادت کے لئے مخصوص ہے؛ لہٰذا اس مخصوص حصہ زمین میں غیر اللہ کی عبادت کی اجازت نہیں دی جاسکتی، فلا تدعوا مع اللّہ أحدا ( جن: ۱۸) تفسیر ثعالبی میں اس ٹکڑے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا گیا ہے: فیصلح أن تفرد للعبادۃ وکل ماھو خالص للّہ تعالیٰ ولا یجعل فیھا لغیر اللہ نصیب (تفسیر ثعالبی:۵؍۴۹۷) مسجدوں کی شان یہ ہے کہ ان کو عبادت اور ایسے ہی کاموں کے لئے مخصوص رکھا جائے، جو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہیں، اور ان میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کا کوئی حصہ نہ ہو۔

اسی طرح کی بات علامہ زمخشریؒ نے بھی لکھی ہے (دیکھئے: الکشاف، ۴؍۶۳) پھر یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ ’’ أنّ المساجد للّہ ‘‘ (بے شک مسجدیں اللہ ہی کے لئے ہیں) عربی قواعد کے اعتبار سے جملہ اسمیہ ہے، اور جملہ اسمیہ میں ثبوت واستمرار اور بقاء ودوام کی کیفیت پائی جاتی ہے، ان تفصیلات سے جو بات منقح ہو کر سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے:

دنیا کی تمام وہ جگہیں جہاں مسجد بنا دی گئی ہو اور جنہیں مالکانِ زمین نے نماز پڑھنے کے لئے مخصوص کر دیا ہو، براہ راست اللہ کی ملکیت ہیں،وہ اللہ ہی کی عبادت کے لئے مخصوص ہیں، اور اس میں غیر اللہ کی عبادت کرنے کی کوئی گنجائش نہیںہے۔

اسی طرح ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ما کان للمشرکین أن یعمروا مساجد اللہ۔ (توبہ: ۱۷) مشرکین کے لئے درست نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں۔

یہاں مساجد کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے، عربی قواعد کے اعتبار سے یہ نسبت واضافت ملکیت کے رشتہ کو ظاہر کرتی ہے، جیسے کہا جائے، ’’ بیت رشید‘‘ (رشید کا گھر) اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ رشید اس گھر کا مالک ہے، یا کہا جائے ’’ قلم حمید‘‘ تو معنیٰ یہ ہوئے کہ قلم حمید کی ملکیت ہے، اسی طرح نماز پڑھنے کی مخصوص جگہ ’’ مسجدیں‘‘ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، اور ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں تو وہ ہمیشہ مسجد ہی رہیں گی؛ کیوں کہ مالک جب تک اپنی ملکیت سے کسی چیز کو نکال نہ دے، اس سے اس کی ملکیت کا رشتہ ختم نہیں ہو سکتا، پھر اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے، اس کا تعلق تمام مسجدوں سے ہے کہ کوئی بھی مسجد مشرکین کے حوالہ نہیں کی جاسکتی؛ چنانچہ علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں:

الظاھر أن المراد شیئاََ من المساجد ؛ لأنہ جمع مضاف فیعم ویدخل فیہ المسجد الحرام دخولاََ أوّلیّاََ ۔ (روح المعانی: ۴؍۹۴)

ظاہر ہے کہ اس سے مراد کوئی بھی مسجد ہے؛ اس لئے کہ یہ جمع ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے؛ لہٰذا یہ تمام مسجدوں کو شامل ہوگا، اور مسجد حرام اس میں اولین طور پر داخل ہوگی۔

ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے:

ومن أظلم ممّن منع مساجد اللہ أن یذکر فیھا اسمہ وسعیٰ فی خرابھا۔ (بقرہ: ۱۱۴)

اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا، جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کا نام لینے سے روک دے، اور اس کو ویران کرنے کے درپے ہو؟

اس آیت میں بھی مساجد کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے، اور جو جگہ اللہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہو، اس میں اللہ کی عبادت کے روک دینے کو بہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے،یہ آیت گو مسجد حرام سے متعلق نازل ہوئی ہے؛ لیکن جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمام مسجدوں کا یہی حکم ہے، المراد سائر المساجد (تفسیر قرطبی:۲؍۵۳، تفسیر طبری:۱؍۳۵۲) اسی لئے مولانا ثناء اللہ پانی پتیؒ نے فرمایا کہ گو یہ آیت ایک خاص واقعہ کے پس منظر میں نازل ہوئی ہے؛ لیکن یہ حکم عام ہے—– الحکم عام وان کان المورد خاصا (تفسیر مظہری: ۱؍۱۱۶) —-اور مسجد کو ویران کرنے سے مراد اس کو منہدم کرنا اور اس میں عبادت کو معطل کر دینا ہے۔ (تفسیر ابی السعود: ۱؍۱۴۹)

یہ بات اہم ہے کہ مسجد عمارت کا نام نہیں ہے؛ بلکہ زمین کا نام ہے، اس سلسلہ میں یہ حدیث بڑی چشم کشا ہے:

عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تذھب الأرضون کلھا یوم القیامۃ إلا المساجد فإنھا یضم بعضھا إلیٰ بعض ۔ (مجمع الزوائد ، بہ حوالہ طبرانی، حدیث نمبر:۱۹۳۰)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن تمام زمینیں ختم ہو جائیں گی، سوائے مسجدوں کے، کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ضم ہو جائیں گی۔

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ مسجدیں قیامت تک مسجد ہی کی حیثیت سے باقی رہیں گی، یہاں تک کہ قیامت میں بھی باقی رکھی جائیں گی۔

(و) بابری مسجد کے مسئلے کی ایک خاص صورت ہے، اور وہ یہ کہ یہاں صرف مسجد سے دستبردار ہونے کا مسئلہ نہیں ہے؛ بلکہ اس کو غیر اللہ کی عبادت کے لئے دینے کا مسئلہ ہے، اور مسجد تو کجا امام احمد ؒ کے نزدیک تو اپنا ذاتی مکان بھی غیر اللہ کی عبادت کے لئے دینا جائز نہیں ہے؛ چنانچہ فقہ حنبلی کی ایک مشہور ومعتبر کتاب میں ہے:

ولا إجارۃ الدار لتجعل کنیسہ أو بیت نار أو لبیع الخمر،أو القمار؛ لأن ذالک إعانۃ علی معصیۃ وقال تعالیٰ: ولا تعاونوا علی ا لإثم والعدوان (کشاف القناع: ۳؍۵۵۹)

مکان کو چرچ یا آتش پرستوں کی عبادت گاہ یا شراب کی دوکان یا جوئے کے مرکز کے لئے کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے؛ اس لئے کہ یہ گناہ میں مدد کرنا ہے۔

نیز علامہ ابن قدامہ مقدسیؒ فرماتے ہیں:

ولا یجوز للرجل إجارۃ دارہ لمن یتخذھا کنیسۃ، أو بیعۃََ أو یتخذھا لبیع الخمر أو القمار۔ (المغنی لابن قدامہ: ۵؍۴۰۸)

کسی کے لئے اپنا گھر ایسے شخص کو دینا جائز نہیں ہے، جو اسے عیسائی یا یہودی عبادت گاہ بنالے، یا اس میں شراب کی دوکان یا جوئے کا مرکز بنائے۔

یہ صراحت فقہائے حنابلہ کی کتابوں میں بکثرت موجود ہے، غور کیجئے کہ جب ذاتی مکان اور وہ بھی بطور ملکیت کے نہیں؛ بلکہ بطور کرایہ بھی غیر اللہ کے لئے دینا جائز نہیں ہے تو اللہ کے گھر کو جو مسلمانوں کی ملکیت نہیںہے؛ بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، بت خانہ بنانے کے لئے دینا کیسے جائز ہوگا؟

رہ گئی مصلحت تو جو لوگ سوچتے ہیں کہ بابری مسجد کے قضیہ میں مسلمانوں کے پیچھے ہٹ جانے کی وجہ سے فرقہ وارنہ ہم آہنگی پیدا ہوگی، اور مسلمانوں کے جان ومال کا تحفظ ہوگا، ہمیں حق نہیں ہے کہ ہم ان کی نیت پر شبہ کریں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے لئے بالکل خلاف مصلحت عمل ہوگا، ملک کے آزاد ہونے کے بعد سے ہزاروں فسادات ہو چکے ہیں، ان میں شاید ۵؍فیصد فسادات بھی بابری مسجد کے تنازع کی وجہ سے نہیں ہوئے، نفرت کے ایجنڈے کو فروغ دینا آر ایس ایس کا سیاسی ایجنڈا ہے، ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور ایسا مسئلہ ہے ہی نہیں ،جس کے ذریعہ ووٹ مانگ سکیں؛ اس لئے اگر ایک مسجد کا معاملہ ختم ہو جائے تو دوسری مسجد کا معاملہ کھڑا ہوگا، اور ’’وی، ایچ، پی‘‘ کے پاس ابھی تقریباََ 3500مسجدوں، عیدگاہوں اور درگاہوں کی فہرست موجود ہے، اگر ایک گروہ وعدہ بھی کر لے کہ ہم اس مسجد کے بعد دوسری مسجد کا سوال نہیں اٹھائیں گے تو کوئی اور گروہ کسی اور مسجد کا مسئلہ لے کر اُٹھ کھڑا ہوگا، اور پھر مسجدپر کیا موقوف ؟سوریہ نمسکار، وندے ماترم، لَو جہاد، گھر واپسی وغیرہ کتنے ہی زہر میں بجھائے ہوئے تیر سنگھ پریوار کے ترکش میں موجود ہیں اور موقع کے لحاظ سے نکالے جاتے ہیں۔

اس لئے اس کا کوئی فائدہ تو نہیں ہوگا؛ لیکن اصولی اعتبار سے مسلمانوں کی بہت بڑی شکست ہوگی؛ کیوں کہ جب ایک جگہ آپ اس بات کو تسلیم کر لیں گے کہ مسجد سے دست بردارہوا جا سکتا ہے تو پھر کسی بھی مسجد، عیدگاہ اور مقبرہ کے معاملہ میں آپ کی یہ دلیل مانی نہیں جائے گی کہ اس کو بدلا نہیں جا سکتا؛ اس لئے جو لوگ ایسا سوچتے ہیں کہ بابری مسجد کو حوالہ کردینے سے امن وامان قائم ہو جائے گا اور نفرت کی آگ بجھ جائے گی، ان سے عاجزانہ اور دردمندانہ درخواست ہے کہ آپ ملک کی تاریخ کو دیکھئے، تجربات کو سامنے رکھنے اور سوچئے کہ کیا اس قسم کا عمل ملت اسلامیہ کے لئے مفید ہو سکتا ہے؟ اور اس بات کو بھی پیش نظر رکھئے کہ مسجد کا مسئلہ دنیا سے آخرت تک کا ہے، اگر ہم متبادل جگہ، تعلیمی ادارے یا مسلمانوں کے کچھ مفادات کے بدلے میں مسجد سے دست بردار ہو جائیں تو عند اللہ کیا جواب دیں گے؟ اگر حکومت نے زور زبردستی کی اور کچھ فرقہ پرستوں نے دہشت گردی سے مسجد پر قبضہ کر لیا، یا عدالت انصاف کے تقاضوں تک نہیں پہنچ پائی، تو ہم آخرت میں معذورسمجھے جائیں گے؛ لیکن اگر ہم نے اپنا گھر بچانے کے لئے اللہ کا گھر حوالہ کر دیا تو اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے، اور میدان حشر میں کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کریں گے؟