مولانا غلام نبی کشمیری رحمۃ اللہ علیہ

گلستان ِوادی لولاب کا تازہ گلاب

مفتی امانت علی قاسمی استاذ و مفتی دارالعلوم وقف دیوبند*

فروغ شمع تو باقی رہے گا صبح محشر تک
مگر محفل تو پروانوں سے خالی ہوتی جاتی

حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالی علم کو ایک بارگی اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ لوگوں کے سینے اچانک علم سے خالی کردے گا؛ بلکہ علم اٹھانے کی صورت یہ ہوگی کہ اہل علم دھیرے دھیرے اٹھالیے جائیں گے، اس طرح اہل علم کے اٹھ جانے سے علم اٹھ جائے گا ۔ آپ ﷺ کی اس پیش گوئی کو موجودہ حالات پر منطبق کیا جائے تو صاف ہوجاتا ہے کہ علم کے اٹھائے جانے کا ایک تسلسل ہے؛ ا س لیے کہ جو لوگ قرآن و سنت کا صحیح علم رکھتے ہیں ، جن کے پاس قرآن و حدیث کا صحیح فہم ہے ، جن کے سوز دروں میں امت کی فکر ، قوم کا درد ،اوراسلام کی ترجمانی کا جذبہ ہے ،اورجن کے پاس اسلامی علوم کا ذخیرہ ہے اس طرح کے لوگ ہمارے درمیان سے اس طرح غائب ہورہے ہیں جیسے روشن آسمان کے تابندہ ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے ہو ں۔ آسمان اگر چہ نظام قدرت کے تحت اپنی ظاہر ی روشنی بکھیر رہا ہے لیکن ہمیں جس فکری اور روحانی روشنی کی ضرورت ہے ہم اس سے محروم ہوتے جارہے ہیں ، یہ اس وقت کا المیہ ہے اور ہمارے لیے لمحہ فکریہ بھی،حضرت مولانا غلام نبی صاحب کشمیری کی رحلت کو بھی اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے ۔

ابتدائے آفرینش سے ہی جانے آنے کا سلسلہ ہے ،اور یہ نظام قدرت کے مطابق بھی ہے ،کہ جو بھی اس عالم وجود میں آیا ہے اسے عالم آخرت کا سفر کرنا ہے، اس میں کسی کو شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، موت ایک ایسا مرض ہے جس کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے اور نہ میڈیکل کی ترقیاتی دور میں اس کا دعوی کیا گیا ہے ،ہر بیماری کے علاج ڈھونڈنے کا دعوی پایا جاتا ہے لیکن آپ کو کوئی حکیم ، طبیب اور سرجن ایسا نہیں ملے گا جو موت کے علاج کا دعوی کرتاہو۔یہ بھی نظام قدرت اور ایک حقیقت ہے کہ آنے والے پر خوشی و مسرت کے شادیانے بجائے جاتے ہیں اور جانے والے پر درد وغم کا اظہار ہوتا ہے۔ بعض کے جانے پر صرف اس کے گھر کے لوگ کراہتے ہیں ، بعض کے رخصت ہونے پر اس کے خاندان کے لوگ ماتم کناں ہوتے ہیں ، بعض کے عالم لاہوت کا سفر کرنے پر ایک قبیلہ اور ایک شہر غم و اندو ہ میں ڈوب جاتا ہے بعض کے مٹی کی چادر تان لینے پر ایک صوبہ ہی نہیں ، بلکہ پورا ملک ، اورپوری ملت کو رنج و غم ہوتا ہے ، مولانا غلام نبی صاحب کشمیری کا شمار انہی اصحاب فضل و کمال میں تھا جن کے پیوند خاک ہونے پر پوری ملت اسلامیہ نے دکھ کا اظہار کیا ہے ، پوری قاسمی برادری نے تکلیف محسوس کی ہے ، آپ نے سفر آخرت سے خاص طورپر دارالعلوم وقف کے درو دیوار اوریہاں کے بام و درنے ایک خلا محسوس کیا ہے ، جیسے کہ ان کی گنج گراں مایہ گم ہوگئی ہو، یہاں کی فضاء میں سناٹا، اداسی اور خاموشی چھاگئی ہے۔ یہاں کے طلبہ نے محسوس کیا ہے کہ گویا ان کا مربی و سرپرست ان سے بچھڑ گیا ہے ، یہاں کے اساتذہ نے محسوس کیا ہے کہ ان کا مخلص ،بے ضرر ساتھی ،ان کواپنی ظرافتوں اور اپنی ملن ساری و خوش اخلاقی سے محظوظ کرنے والاان کا ہم دم و غمخوار ان سے رخصت ہوگیا ۔سچ پوچھئے تو دارالعلوم وقف کے لیے ایک بڑا علمی خسارہ ہے ایک ایسے وقت میں جب کہ درالعلوم وقف کے کبارِ اساتذہ ، یہاں کے مہ و انجم ، یہاں کی مسند حدیث کے نیر ناتاں ،گلستانِ حدیث کے گل بار اور فقہ و فتاوی کے شناور اور علمی اور ملی میدانوں میں عظیم خدمات انجام دینے والی عبقری صفات شخصیات کے رخصت ہوجانے کی وجہ سے یہاں جو ایک بڑا خلا پیدا ہوگیاتھا ، مولانا غلام نبی صاحب کی رحلت سے اس میں اور اضافہ ہوگیا ہے ۔
مولانا غلام نبی صاحب کشمیری کی پیدائش صوبہ کشمیرکے مرغزار شہرپونچھ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم علاقہ کے معروف ادارہ میں حاصل کی پھر اعلی تعلیم کے لیے دارالعلوم وقف کا رخ کیا یہاں آپ نے ۱۹۸۳ء میں فراغت حاصل کی ، گویا مولانا مرحوم دارالعلوم وقف کے ابتدائی دور کے فضلاء میں ہیں ، آپ نے اپنے علاقے میں ابتدائی عصری تعلیم بھی تھی اس کے بعدعلی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے ایم ایے (عربی ) اور آگر ہ یونیورسٹی سے ایم اے ( اردو ) کیا۔ پھر ۱۹۸۵ء میں اسی مادر علمی درالعلوم وقف سے اپنی تدریس کا آغاز کیا ،او رتاحیات اس سے وابستہ رہے ، اگر چہ درمیان کچھ انقطاع بھی رہا ہے ۔تاہم تین دہائی سے زائد مدت تک آپ نے درالعلوم وقف کی تعلیمی تعمیر میں گراں قدر خدمات انجام دی ہے ۔دوسال قبل مہلک بیماری میں مبتلا ہوگئے تھے،علاج ہوتا رہا،کبھی افاقہ ہوتا اور کبھی مرض دوبارہ اپنی لپیٹ میں لے لیتا ، بیماری و صحت کی یہ آنکھ مچولی قریب دیڑھ دو سال تک جاری رہی بالآخر بیماری کی جیت ہوئی اور اس نے مولانا غلام نبی کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا ، ۷/نومبر ۲۰۱۹ بروز جمعرات جس وقت کہ آفتاب طلوع ہونا چاہتا تھا کہ علم کا یہ آفتاب ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا،جمعہ کی شب رات آٹھ بجے احاطہ مولسری میں آپ کے جنازہ کی نماز اداکی گئی اور مرقد اولیاء،مزار قاسمی میں آپ کو سپرد خاک کردیا گیا،آپ نے گلستان ارضی وادی کشمیر میں آنکھیں کھولی، گلستانِ علم، دیوبند کو اپنا عارضی وطن بنایا،گلستان ِ قاسمی آپ کا مرقد بنا لیکن ہماری دعا ہے کہ گلستان ِ خلدآپ کی دائمی آرام گاہ ہو اور آپ گلستانِ آشیاں ہو ں ۔
مولانا مرحوم ،علم و عمل کے پیکر ، اخلاق و آداب کے خوگر تھے، سادگی آپ کی طبیعت تھی ،اور اس کا اظہار آپ کے چال ڈھال ، رفتار ،و گفتار ،لباس و ضع داری ہر چیز سے ہویدہ تھی ، آپ کے علم میں گہرائی و گیرائی تھی، فیض کے منتقل کرنے کے بظارہر تین اسباب زیادہ قوی ہیں تدریس ، تقریر ، تحریر ۔ تدریس کے ذریعہ طالبین کو مستفید کیا جاتا ہے ، تقریر کے ذریعہ حاضرین و سامعین کے قلوب کو گرمانے او ردل کو مائل حق کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، اور تحریر کے ذریعہ ایک دیر پاانقلاب برپاکیا جاسکتاہے ،تحریر کے اثرات دو رتک اور دیر تک محسوس کئے جاتے ہیں ، آدمی کے دنیا سے روپورش ہو جانے کے بعد بھی تحریر کی سحر انگیزی برقرار رہتی ہے ۔مولانا مرحوم نے انتقال فیضان کے ان تینوں راستوں سے حظ وافرپایاتھا،آپ ایک کامیاب مدرس تھے ، ہزاروں کی تعداد میں پھیلے ان کے شاگروں کے حلقے میں ان کی شہرت، بوئے گل کی طرح پھیلی ہوئی ہے،ان کی تقریر یں سحر آگیں ہوتی تھیں ،آواز میں لطافت و شیرینی تھی ، ایک ٹھہراوٴ تھا،ایک پختہ اورقادر الکلام کا انداز تخاطب تھا،اور تحریر کی شہادت تو اب بھی موجود ہے جو چاہے ان کی تحریریں پڑھ لے ۔

مولانا کی صلاحیت متنوع تھی ، آپ جامع کمالات تھے ،آپ کی صلاحیت میں پختگی اور علم میں گہرائی تھی۔اس کا اندازہ آپ کی تحریروں سے ہوتاہے ؛اس لیے کہ آپ نے مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی ہے ، اور متعدد میدانوں میں طبع آزمائی کی ہے۔ آپ کی تحریروں پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کی علمی قابلیت اور فکری جامعیت کا اندازہ لگاناآسان ہوگا۔ذیل میں آپ کی تحریری کاوشوں کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے ۔(۱) التعلیقات علی تنظیم الاشتات :بنگلادیش کے مولانا محمد ابوالحسن چاٹگامی کی کتاب تنظیم الاشتات نام سے ہے، کتاب کا مقصد نام سے ظاہر ہے کہ حدیث کی جو منتشر چیزیں کتابوں میں ہے اس کو ایک جگہ ترتیب سے محفوظ کر دیا جائے، واقعہ یہ ہے مولف نے مواد کا تو بہت بڑا ذخیرہ جمع کیا البتہ اس کی تنظیم صحیح طور پر نہیں ہوسکی ، کچھ لسانی سقم کی وجہ سے اورکچھ اس وقت کے ماحول کی مناسبت سے؛ اس لیے کتاب میں اغلاق تھااور پڑھنے میں قاری کو دشواری ہوتی ،ضبط کرنا مشکل ہوتا تھا، مولانا غلام نبی صاحب کشمیری نے قیمتی اضافات اور مفیدتشریحات کے ذریعہ، ”التعلیقات علی تنظیم الاشتات“ کے نام سے اس کواہل علم کے لیے مفید تر بنانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے ۔ اس کتاب پر فخر المحدثین ،ابن الانور مولاناسید انظرشاہ صاحب کشمیری کی وقیع تقریظ ہے، جس میں انہوں نے کتاب کے ساتھ، صاحب کتاب کے مقام و مرتبہ کے لیے چند توصیفی کلمات کہے ہیں ،ملاحظہ کیجئے جس سے مولانا مرحوم کی علمی اور قلمی قابلیت کاا ندازہ لگانا آسان ہوگا۔فرماتے ہیں :” مولانا غلام نبی صاحب کی استعداد ٹھوس ، نگارش آب دار ، اور جدید قدیم علمی ذخیرے پر اچھی خاصی بصیرت کے حامل ہیں“(التعلیقات علی تنظیم الاشتات ص :۱۹) (۲)تسہیل المتنبی :قصائد منتخہ من دیوان متنبی کی یہ اردو شرح ، دیوان متنی ہمارے عربی مدارس میں داخل نصاب ایک اہم کتاب ہے، عربی اشعار پر مشتمل یہ کتاب طلبہ مدارس کے لیے مغلق اور دشورا سمجھی جاتی ہے ؛اس لیے مختلف حضرات نے اس کی اردو شر ح لکھی ہے ،مولانا نے بھی اس موضوع پر قلم اٹھایا اور ایک بہترین شرح اس موضوع پر لکھی ہے ،جس سے مولانا کے عربی ادب کے کمال ذوق کا پتہ چلتاہے ۔(۳) بارہ مہینوں کی بارہ تقریر یں : یہ تقریر ی مجموعہ ہے جس میں ہر مہینہ کی مناسبت سے تقریر ہے ، زبان سہل اور خطابت کے اسلوب سے ہم آہنگ ہے اور ان کی دیگر تصنیفات کی طرح مقبول بھی ہے ۔(۴)لبرل ازم اور اسلام :دارالعلوم وقف میں سلسلہ محاضرات کے لیے لکھی گئی ایک اہم کتاب ہے ، جس کا موضوع نیا بھی ہے اور اہم بھی ،فکری آزادی کے نام پر لوگوں کو الحاد ولادینیت کے جس عمیق دلدل میں ڈالنے کی کوشش اس وقت کی جارہی ہے یہ درحقیقت لبرل ازم کاموضوع ہے ، مولانا نے اس کے اسباب اور تدارک کا بہترین جائزہ پیش کیا ہے ۔( ۵) حیات طیب : حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کی مکمل سوانح ، اور غیر شائع شدہ دستاویزات کو منظر عام پر لانے کے لیے حجة الاسلام اکیڈمی نے حیات طیب شائع کرنے کا ارادہ کیا تو اکیڈمی کے جواں سال،جواں مرد اور جواں عزم ڈائریکٹر ،اوردارالعلوم وقف کے نائب مہتمم مولانا شکیب قاسمی کی رفاقت اور اشتراک سے مولانا غلام نبی صاحب نے اس کام کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا ۔(۶)تشریح تقریر دلپذیر :حجة الاسلام حضرت الامام محمد قاسم النانوتوی  کے علوم و افکار میں جو گہرائی او رمعنویت ہے وہ اظہر من الشمس ہے اس کی فکری معنویت کا یہ حال ہے کہ اردو کتابوں کو بھی ان کے شاگرد سبقا سبقا پڑھا کرتے تھے ، آج ایسے لوگ خال خال ملیں گے جو حضرت نانوتوی کے علوم و افکار کو بڑی آسانی سے سمجھتے ہوں اور لوگو ں کو سمجھاسکتے ہوں ،اس لیے ضرورت ہے کہ حضرت نانوتوی کے علوم و افکار کی تسہیل و تشریح کی جائے تاکہ ہر شخص اس درّ بیش بہا سے فائدہ اٹھاسکے ، حضرت مولانا غلام نبی صاحب کی ژرف نگاہ نے اس فریضہ کو انجام دینے کا بیڑا اٹھایا تھا او رتقریر دلپذیر کی تشریح و تسہیل کا کا م مکمل کیا ، جس کی ۴۷ قسطیں ندائے درالعلوم وقف میں شائع ہوچکی ہیں ۔(۷) مجموعہ مقالات : انہوں نے ایک زمانہ تک لکھا ہے اور ندائے دارالعلوم کے اداریہ کے لیے بھی لکھا اس طرح ان کے مقالات ومضامین کا ایک ذخیر ہ جمع ہوگیا تھا اور غالبا وہ اس کو شائع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن،اس کی تکمیل نہیں ہوسکی ، اس کے علاوہ بھی ان کے بعض علمی کاموں کا تذکرہ کیا جاتا ہے ، یہاں پر ان کی تحریروں کا جائز ہ لینا مقصود نہیں ہے بلکہ قارئین کو ان کی علمی اور قلمی عبقریت کی ایک جھلک دکھانا مقصود ہے کہ آپ کاگہر بار قلم علم حدیث کی وسیع صحرا میں بھی سفرکررہا ہے، تو عربی ادب کی پرشوکت اور پرلطف وادی میں اپنی خوشبو بکھیر رہا ہے ،تو کبھی ،اردو ادب کے تاج محل میں گل کاری و میناکاری کرتا نظر آتاہے ، کبھی فکر اسلامی کے محاذ پر بر سر جنگ ہے تو کبھی بزرگوں کی خانقاہوں میں سلوک کی منزلیں طے کررہا ہے ۔یہ آپ کے قلم کی عظمت کی گواہی ہے ۔

*Email: aaliqasmi1985
07207326738 Mob:

دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء کا باہمی ربط

عبدالمالک بلندشہری
بر صغیر کے معروف اداروں و تربیت گاہوں میں سر فہرست دو ادارہ آتے ہیں ایک دیوبند میں واقع دارالعلوم اور دوسرا لکھنؤ میں واقع ندوة العلماء ۔۔یہ دونوں ادارہ تاریخ کا تابناک و درخشاں باب ہیں ۔۔غیر منقسم ہندوستان میں جب الحاد و دہریت اور بے دینی و ضلالت کی آندھیاں چل رہی تھیں اس وقت اصحاب علم و فضل کے صف اول کے بعض دور اندیش و اولوالعزم علماء نے ان طاغوتی تھپیڑوں سے قندیل رہبانی و شمع آلہی کی حفاظت کے خاطر جن دونوں قلعوں کی داغ بیل ڈالی تھی انہوں نے روز اول سے تا امروز دین حق کے چراغ روشن رکھے اور ہر طرح کے نامساعد حالات و مخالف فضا کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کی دینی، ایمانی اور روحانی تشنگی کو سیراب کیا اور دین الہی مذہب خدائی کے متعلق ان کے قلوب و اذہان میں پنپنے والے شکوک و شبہات کا بڑی حسن و خوبی کے ساتھ ازالہ کیا ۔۔۔۔۔دونوں اداروں کا جس طرح علمی نسب اور فکری منہج مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ پر منتج ہوتا ہے اسی طرح روحانی سلسلہ بھی شخص واحد پر منتھی ہوتا ہے ۔۔۔۔یاد رہے اگر حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خاص خلیفہ و مجاز الامام قاسم ناناتوی علیہ الرحمة نے دارالعلوم دیوبند قائم کیا تھا تو وہیں حاجی صاح ہی کے دوسرے خلیفہ مجاز بیعت فاتح قادیانیت مولانا سید محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ نے ندوة العلماء کی داغ بیل ڈالی تھی ۔۔اگر حاجی صاحب کے دو خلیفہ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ و مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے دیوبند کی عرصہ دراز تک بے لوث سرپرستی و عظیم خدمت کی تھی تو دوسری طرف حاجی صاحب ہی کے دوسرے دو ممتاز خلیفہ مولانا سید عبدالحئی حسنی رحمۃ اللہ علیہ و مولانا حیدر حسن خان ٹونکوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خون جگر سےندوة العلماء کی آبیاری کی ۔۔۔۔جس طرح حاجی صاحب دیوبند کے متعلق فکر مند رہتے تھے بلکل اسی طرح ندوہ کی ترقی و رفعت کے لئے بھی ہمہ دم متفکر و دعا گو رہتے ۔۔۔یہ باتیں بلا دلیل و برہان کے نہیں کہیں جارہی ہیں دونوں اداروں کی تاریخ سے ہر باخبر شخص اس بات سے سو فیصد اتفاق کرے گا ۔۔۔۔۔خود ندوة العلماء کے قیام میں جو حضرات معاون رہے ان میں حضرت شیخ الہند قدس سرہ و حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ بھی شامل تھے ۔۔۔۔دونوں اداروں میں ہمیشہ اپنائیت و محبت کا تعلق رہا ہے ۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ جانشین شبلی علامہ سلیمان ندوی رحمہ اللہ ، و معروف ندوی فاضل مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ نے اپنی باطنی اصلاح و تزکیہ نفس کے لئے قاسمی النسبت ، سرپرست دارالعلوم دیوبند حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کے آستانہ پر حاضری دے کر اپنی جبین نیاز خم کی اور بے خوف و خطر اپنے اس عمل سے اس بات کا بین ثبوت دیا کہ ندوہ اور دیوبند دونوں فکری و روحانی طور پر ایک ہی ادارہ ہیں ۔۔اسی طرح ڈاکٹر عبدالعلی حسنی رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرے اسی تعلق کو مضبوط کیا پھر آگے چل کر اسی روایت کو مفکر اسلام مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے برقرار رکھا۔۔وہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے صرف شاگرد رشید ہی نہیں تھی بلکہ خلیفہ مجاز بھی تھے ۔۔حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے از خود علی میاں صاحب رح کو بیعت کرنا چاہا تھا اور آپ پر مکمل اعتماد ظاہر کیا تھا ۔۔۔اسی طرح قاسمی عالم دین مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو تو ندوہ کے در و بام سے حد درجہ عشق تھا ۔۔۔معروف مناظر اور دیوبند کے رکن شوری علامہ انور شاہ کشمیری رح کے نامور شاگرد علامہ منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ و مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی طویل رفاقت اور مثالی معاصرت سے آگاہ تو ہر عالم دین ضرور ہوں گے ۔۔۔۔۔۔ .

دارالعلوم دیوبند سے علی میاں رحمۃ اللہ علیہ و اکابرین ندوہ کا بڑا گہرا تعلق رہا ہے یہی وجہ تھی کہ جشن صد سالہ کے مبارک موقع پر ناظم ندوہ مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کو بھی خطاب عام کا موقع دیا گیا تھا ۔۔۔ان کی یہ تقریر کافی مشہور بھی ہوئی اور آگے چل کر کتابی شکل میں بھی شائع ہوئی۔۔اسی طرح علی میاں رح کو دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کا ممبر بھی نامزد کیا گیا تھا ۔۔ایک عرصہ تک حضرت نے وہاں کی انتظامیہ کو اپنے مفید مشوروں و بے لاگ تبصروں سے نوازا تھا۔۔آخری دور میں جب قضیہ نا مرضیہ پیش آیا تو حضرت قاری صدیق باندوی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا شاہ عبدالحلیم جونپوری رحمۃ اللہ علیہ مولانا منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح علی میاں رح نے بھی غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا اور آخر دم تک دونوں دھڑوں میں اتحاد کرنے کی بے لوث کوشش کرتے رہے ۔۔۔۔۔نیز مولانا علی میاں رح کی اکابر دیوبند کے ہاں بڑی قدر و منزلت تھی ۔۔۔ حضرت شیخ زکریا رحمۃ اللہ علیہ کو تو حضرت علی میاں پر حد درجہ اعتماد تھا اسی طرح حضرت تھانوی رح کے خلیفہ مصلح الامت مولانا شاہ وصی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ جملہ تو کتابوں میں بھی مذکور ہے کہ بہت سے لوگوں سے ملنا ہوا سب کو دیکھا لیکن جو دل کی صفائی علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں دیکھی وہ کہیں نا ملی علی میاں کا دل آئینہ کی طرح صاف و شفاف اور بے داغ و غبار ہے ۔۔۔ اسی طرح حضرت رائےپوری قدس سرہ کا ارشاد علی میاں مثل آفتاب و ماہتاب ہے جس کی ضوفشانی سے سارا عالم تابندہ ہے ان کے علاوہ مولانا الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت ندوی سے جو تعلق تھا وہ سب پر عیاں ہے تبلیغی جماعت کو آفاقیت و ہمہ گیریت سے شادکام کرانے میں حضرت علی میاں رح کے علاوہ فضلائے ندوہ مولانا عمران خان ازہری بھوپالی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا محمد حسنی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا معین اللہ اندوری رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا سید رابع حسنی مدظلہ (1929)، مولانا عبداللہ حسنی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا غزالی بھٹکلی رحمۃ اللہ علیہ کا جو کردار رہا ہے وہ جگ ظاہر ہے ۔۔اس میدان میں فضلائے ندوہ نے جو لازوال نقوش ثبت کئے ہیں وہ اظہر من الشمس ہیں ۔۔ اور نا صرف کل بلکہ ہنوز علمائے ندوہ کا دیوبند و مظاہر علوم سے ربط اسی طرح مستحکم و پائیدار ہے ۔۔خود ناظم ندوہ مولانا سید رابع حسنی مدظلہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں اسی طرح حضرت مدنی رح کے آخری دور کے شاگرد اور 1957 میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کرنے والے ملک کے عظیم فقیہ مولانا برہان الدین سنبھلی مدظلہ ندوہ کے قدیم و موقر استاذوں میں سے ہیں بلکہ شیخ التفسیر کے عہدہ پر بھی فائز رہ چکے ہیں ۔۔اسی طرح دوسرے استاذ مولانا عتیق احمد بستوی مدظلہ (1954)بھی دیوبند ہی کے فیض یافتہ ہیں ۔۔ شیخ الحدیث ندوہ مولانا زکریا سنبھلی مدظلہ(1943) نے بھی ابتدا دارالعلوم دیوبند سے 1966 میں فراغت حاصل کی اور شیخ فخر الدین مرادآبادی رح سے بخاری شریف پڑھی ۔۔۔اسی طرح استاذ محترم مولانا مظہر الحق کریمی مدظلہ بھی دیوبند کے فارغ ہیں ۔۔۔۔۔ .

دوسری طرف دیوبند کے مایہ ناز ادیب مولانا نور عالم خلیل امینی مدظلہ(1952) نے ایک طویل عرصہ تک ندوة العلماء میں تدریسی فرائض انجام دئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مولانا علی میاں ندوی رح سے کسب فیض کیا ۔۔ان کے علاوہ دارالعلوم وقف دیوبند کے سابق مہتمم خطیب الاسلام مولانا سالم قاسمی رحمۃ اللہ علیہ (1926۔2017) بھی طویل عرصہ تک ندوة العلماء کی مجلس انتظامیہ کے معتبر رکن رہے ہیں ۔۔۔ان سب تصریحات کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ندوہ و دیوبند کوئی علیحدہ یا مختلف ادارہ نہیں ہیں بلکہ دونوں ایک ہی مشن کے علمبردار اور ایک ہی مقصد کے تحت سرگرم عمل ہیں ۔۔۔مگر افسوس بعض عاقبت نااندیش لوگ دونوں کے درمیان خلیج قائم کرنے کی ناپاک کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔۔یہ متعصب لوگ دونوں طرف ہی پائے جاتے ہیں جو ادارہ کی شبیہ کو مسخ کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں ۔۔انہی کی وجہ سے دونوں کے محبین کی درمیان وہ جنگ چھڑتی ہے جس کا نتیجہ ایک دوسرے کی کمیوں ، کوتاہیوں کو بیان کرکے ان پر سب و شتم کرنا ہوتا ہے ۔۔۔خبردار رہئے ایسے لوگوں سے ۔۔۔یہ آپ کو آپس میں لڑائیں گے ۔۔۔ایسے لوگوں کو منھ نہیں لگانا چاہئے ۔۔چاہے ادھر کے ہوں چاہے ادھر کے اور چاہے کتنے ہی ذی علم اور با اخلاق مانے جاتے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی لئے تمام لوگوں سے درخواست ہے ان کے بہکاوے میں آکر ان کا آلہ کار نا بنیں اس سے اپنا تو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا البتہ اغیار کو ہنسنے کا ضرور موقع ملے گا ۔۔۔۔ندوہ اور دیوبند دونوں ہماری آنکھیں ہیں ۔۔ہماری شان اور پہچان ہیں ۔۔ہمارے علماء کی یادگار ہیں جو ان دونوں کے درمیان دوری کو بڑھاوا دے گا اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔۔۔فرد واحد کی رائے کی وجہ سے اگر ادارہ کو مطعون کیا جائے تو خدا کی قسم نا تو ندوة العلماء محفوظ رہے گا اور نا دارالعلوم دیوبند ۔۔کمیاں دونوں میں ہیں ۔۔اچھائیاں دونوں میں ہیں ۔۔بہتر ہے کمیوں کو نا اچھالا جائے اور اچھائوں کا پرچار کیا جائے ورنہ اگر حقائق کے نام پر کمیاں بیان کی جانے لگیں نا تو ہوگیا بس اتحاد ۔۔۔۔۔۔خدا را اس جانب التفات کیجئے ۔۔جلدی توجہ کیجئے مبادا ایسا نا ہو کہ بہت دیر ہو جائے اور ہمارے پاس کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نا رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ .
(بصیرت فیچرس)

مسجدیں اور حنبلی نقطۂ نظر(۱)

فقیہ العصر حضرت مولاناخالد سیف اللہ رحمانی
ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
ملک کے ایک صاحب نظر عالم، مقبول خطیب اور علوم اسلامی کے کہنہ مشق مدرس نے بابری مسجد کے پس منظر میں فقہ حنبلی کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد کی دوسری جگہ منتقل کرنے کی رائے پیش کی ہے؛ تاکہ مسلمانوں کو جانی ومالی نقصان سے بچایا جا سکے، اور باہمی منافرت کو کم کرنے کی کوشش کی جائے، اس پس منظر میں حنبلی نقطۂ نظر کو سمجھنے کے لئے بہت سے لوگ بے چین ہیں اور ان کا فکرمند ہونا فطری بات ہے۔
اس پس منظر میں عرض ہے کہ مسجد کی منتقلی یا مسجد کی مسجدیت ختم ہونے کے سلسلہ میں حنبلی مسلک کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کے لئے چند نکات پیش نظر رکھنا ضروری ہے:
(۱) اس سلسلہ میں امام احمد بن حنبلؒ سے ایک ہی قول منقول ہے یا ایک سے زیادہ؟
(۲) مسجد کی منتقلی کے سلسلہ میں جو رائے منقول ہے، اس کا خود فقہ حنبلی میں کیا درجہ ہے؟
(۳) اس رائے کے پیچھے جو دلیل ہے، وہ کس حد تک معتبر اور قابل قبول ہے؟
(۴) حنابلہ کا یہ نقطۂ نظر اُمت سواد اعظم کے خلاف تو نہیں ہے؟
(۵) کیا فقہ حنبلی میں اس بات کی گنجائش ہے کہ مسجد کو اس طور پر چھوڑ دیا جائے کہ وہاں غیر اللہ کی عبادت کی جانے لگے؟
الف: جہاں تک فقہاء حنابلہ کے نقطۂ نظر کی بات ہے تو اس سلسلے میں ان کے دو اقوال ہیں، ایک یہ کہ اگر کوئی مسجد ویران ہوجائے، وہاں سے آبادی ختم ہو جائے تب بھی مسجد مسجد باقی رہے گی؛ البتہ اس بات کی گنجائش ہوگی کہ مسجد کا ملبہ یا اس کا قابل استعمال سامان دوسری مسجد کو منتقل کر دیا جائے گا:
وعنہ الاتّباع؛ المسجد لکن تنقل آلٰتھا الی مسجد أخر ویجوز بیع بعض الآلۃ وصرفھا في عمارتہ (الانصاف علی ھامش المقنع:۱۶؍۵۲۲)
امام احمدؒ سے مروی ہے کہ مسجدیں بیچی نہیں جا سکتیں؛ البتہ اس کا سامان دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے، نیز ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بعض سامان فروخت کر دیا جائے، اور اسے اسی مسجد کی تعمیر میں خرچ کیا جائے۔ (الانصاف علی ھامش المقنع:۱۶؍۵۲۲)
علامہ محمد ابن قدامہ مقدسی ؒ فقہ حنبلی کے بڑے معتبر ترجمان سمجھے گئے ہیں، انہوں نے متعدد مواقع پر لکھاہے :
! ن المساجد لاتباع و! نما تنقل آلاتھا۔(المغنی:۵؍۳۶۷)
مسجدیں فروخت نہیں کی جائیں گی؛ البتہ اس کے آلات منتقل کئے جا سکتے ہیں۔
اس کے مقابلہ میں دوسرا قول یہ ہے کہ اگر مسجد ویران ہو جائے، وہاں مسلمانوں کی آبادی ختم ہو جائے،آئندہ بھی اس کے آباد ہونے کی امید نہ ہو تو مجبوری کے درجہ میں اس کو فروخت کرنے کی گنجائش ہے:
فان قطعت منافعہ بالکلیۃ کدارانھدمت۔۔۔۔۔أو مسجد انتقل أھل القریۃ عنہ۔۔۔۔۔ جاز بیع البعض و!ن لم یمکن الانتفاع بشیء منہ بیع جمیعہ۔
اگر وقف کے منافع بالکلیہ ختم ہو گئے، جیسے کوئی مکان تھا، منہدم ہوگیا، یا مسجد تھی، اوراس آبادی کے مسلمان وہاں سے منتقل ہو گئے، تو اگر یہ ممکن ہو کہ اس کا کچھ حصہ بیچ کر بقیہ کی تعمیر کی جائے، تو کچھ حصہ کو فروخت کرنا جائز ہوگا، اور اگر اس سے بالکل نفع اٹھانا ممکن نہ ہو تو اس پورے کو بیچا جا سکتا ہے۔ (الشرح الکبیر:۱۶؍۵۲۲)
ب: مسجد کی منتقلی کے سلسلے میں امام احمدؒ کے اس قول کو خود فقہاء حنابلہ نے امام احمدؒ کا تفرد قرار دیا ہے؛ چنانچہ علامہ مرداوی حنبلی (متوفی ۸۸۵ھ) جو فقہ حنبلی کے معتبر شارحین میں ہیں، نے اس قول کو نقل کرتے ہوئے کہا ہے: ” ھو من المفردات” (الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف علی مذہب الامام احمد بن حنبلؒ۷؍۷۸)
یعنی یہ امام احمد بن حنبلؒ کے تفردات میں سے ہے؛اس لئے اس قول کو بہت سے محقق فقہاء حنابلہ نے بھی قبول نہیں کیا ہے، اور اس بات کو ترجیح دی ہے کہ ویران مسجد میں جو قابل استعمال چیزیں ہیں ، صرف ان کو دوسری مسجد کو منتقل کرنے یا دوسری مسجد کو حوالہ کرنے کی گنجائش ہے؛ چنانچہ ایک حنبلی قاضی نے مسجد کی منتقلی کا فیصلہ کیا تو دوسرے حنبلی المسلک قاضی نے اس پر سخت اعتراض کیا،ایک حنبلی فقیہ ہی سے اس بات کو سنئے:
۔۔فعارضہ القاضی جمال الدین المرداوی صاحب” الانتصار ” وقال: حکمہ باطل علی قواعد المذھب وصنف في ذالک مصنفا رد فیہ علی الحاکم سماہ ” الواضح الجلي في نقض حکم ابن قاضی الجلیل الحنبلي” ووافقہ صاحب ” الفروع ” علیٰ ذالک- (الانصاف علی المقنع:۱۶؍۵۲۴)
-تو قاضی جمال الدین مرداوی مصنف’ ‘ الانتصار” نے اس سے سخت اختلاف کیا اور کہا کہ مذہب حنبلی کے قواعدکے لحاظ سے یہ فیصلہ غلط ہے، اور انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے ” الواضح الجلي في نقض حکم ابن قاضی الجلي الحنبلي” کے نام سے ایک کتاب بھی تالیف فرمائی ،نیز فقہ حنبلی کی ایک اہم کتاب ”الفروع ” کے مصنف نے بھی ان کی موافقت کی ہے۔
یہ بات کہ جب ایک جگہ مسجد بن جائے تو اب اس کی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی، وقف کے سلسلہ میں حنابلہ کے مقررہ اصول سے بھی مطابقت رکھتی ہیں؛ کیوں کہ امام احمد کے نزدیک جب کوئی چیز ایک بار وقف کر دی جاتی ہے تو وہ ہمیشہ وقف ہی باقی رہتی ہے، جب عام اوقاف کے لئے یہ حکم ہے تو مسجد کے لئے تو بدرجۂ اولی یہ حکم ہونا چاہئے؛ چنانچہ علامہ ابن قدامہ حنبلی مقدسی فرماتے ہیں:
ولایجوز التصرف في الوقف بما ینقل الملک في الرقبۃ لقول النبي صلی اللہ علیہ وسلم في حدیث عمرؓ لا یباع أصلھا، ولا یوھب، ولا یورث؛ لأن مقتضی الوقف التابید وتحبیس الأصل؛ بدلیل أن ذالک من بعض ألفاظہ والتصرف في رقبتہ ینافي ذالک۔( الکافی: ۳؍۵۸۰)
وقف میں ایسا تصرف جائز نہیں ہے،جس کا تعلق اصل شئی کی ملکیت منتقل کرنے سے ہو؛ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: اس کی اصل نہ فروخت کی جائے نہ ہبہ، اور نہ اس میں میراث جاری ہوگی، اور اس لئے بھی کہ وقف ہونے کا تقاضہ یہی ہے کہ اس کی حیثیت ابدی ہو، اور اصل شئی کو باقی رکھا جائے کہ یہی بات حضورﷺ کے الفاظ سے مستنبط ہوتی ہے، اور اصل شئی میں تصرف کرنا اس کے منافی ہے۔
اس لئے امام احمدؒ کے یہاں اسی قول کو ترجیح ہونی چاہئے، جو دوسرے فقہاء کی رائے کے مطابق ہے؛ کیوں کہ یہ وقف کے عمومی اور بنیادی قاعدہ کے مطابق ہے۔
پھرحنابلہ کا یہ قول کہ” مسجد کی حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے”- جیسا کہ مذکور ہوا- اس وقت ہے، جب وہاں مسلمانوں کی آبادی ختم ہو گئی ہو، اور مسجد کی آبادی کی کوئی شکل نہ ہو؛ لیکن بابری مسجد او ر ایودھیا کی صورت حال یہ نہیں ہے؛ کیوں کہ ایودھیا میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی ہے، اور متعدد مسجدیں وہاں موجود بھی ہیں اور آباد بھی؛ بلکہ جس شب مسجد میں مورتی رکھی گئی، اس روز بھی وہاں عشاء کی نماز ادا کی گئی تھی، اوراگر وہ جگہ مسلمانوں کو واپس مل جائے تو دوبارہ مسجد آباد ہو سکتی ہے؛ اس لئے فقہ حنبلی کی رو سے بھی یہ اس صورت میں داخل نہیں ہے،جس میں مسجد کو منتقل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
(ج) فقہاء حنابلہ نے مسجد کی منتقلی کے جائز ہونے پر جو دلیل پیش کی ہے، وہ یہ ہے کہ جب کوفہ میں بیت المال میں نقب زنی ہوئی تو حضرت عمرؓ نے مسجد کو کھجور مارکیٹ میں منتقل کرنے اور اور مسجد کے سمت قبلہ میں بیت المال بنانے کا حکم فرمایا: (المغنی:۶؍۲۵۰) لیکن یہ روایت محدثین کے نزدیک سند کے اعتبار سے ضعیف ہے؛ اس لئے یہ نقطۂ نظر دلیل کے اعتبار سے بھی کمزور ہے، (مسند احمد:۴؍۲۷۸،حدیث نمبر:۱۸۴۰۹؍۳۷۵، حدیث نمبر:۱۹۲۹۹، ابن ماجہ، حدیث نمبر:۳۹۵۰ )

(د) پھر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواد اعظم کی اتباع کا حکم دیا ہے،علیکم بالسواد الاعظم: اور سواد اعظم سے مراد مسلمانوں کی غالب اکثریت ہے؛ چنانچہ ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں: والمراد ما علیہ أکثر المسلمین، (مرقاۃ المفاتیح:۱؍۲۴۹) اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسجد کے سلسلے میں سواد اعظم کا نقطۂ نظر یہی ہے کہ مسجد کی جگہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہوتی ہے ؛ چنانچہ حنفیہ نے صراحت کی ہے کہ مسجد کی تبدیلی کسی حال میں جائز نہیں، علامہ حصکفیؒ فرماتے ہیں:

إن الفتویٰ علی أن المسجد لا یعود میراثا ولا یجوز نقلہ ونقل مالہ إلیٰ مسجد اٰخر ۔(الدرالمختارمع الرد:۶؍۵۴۸–۵۴۹)

فتویٰ اس بات پر ہے کہ مسجد میراث نہیں بنے گی، نہ اس کی منتقلی جائز ہوگی، اور نہ اس کا مال دوسری مسجد میں لگانا درست ہوگا۔

یہی نقطۂ نظر امام مالکؒ کا ہے؛ چنانچہ علامہ قرطبی ؒ( متوفیٰ ۶۷۱ھ) فرماتے ہیں:

لایجوز نقض المسجد ولا بیعہ ولا تعطیلہ وإن خربت المحلۃ( الجامع لأحکام القرآن:۲؍۷۸)

مسجد کو توڑنا، اُسے بیچنا اور اسے ختم کر دینا جائز نہیں ہے،اگرچہ محلہ ویران ہو گیا ہو۔

یہی نقطۂ نظر فقہاء شوافع کا بھی ہے؛ چنانچہ معروف شافعی فقیہ علامہ نوویؒ فرماتے ہیں:

أما المسجد فانہ إذا انھدم وتعذرت إعادتہ فانہ لایباع بحال لامکان الإنتفاع بہ حالا بالصلوٰۃ فی أرضہ۔(شرح المہذب: ۱۵؍۳۶۱)

جب مسجد منہدم ہو جائے او ر اس کو دوبارہ بنانا دشوار ہو، جب بھی اسے فروخت نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ اس زمین میں نماز کی ادائیگی کے ذریعہ فی الحال بھی اس سے نفع اٹھانا ممکن ہے۔

ظاہر ہے اس اتفاق کے مقابلہ ایک ایسا قول جو خود حنابلہ کے یہاں متفق علیہ نہیں ہو اور اس کو امام احمد بن حنبلؒ کے تفردات میں شمار کیا گیا ہو، کیا قابل ترجیح ہو سکتا ہے؟

(ہ) پھر یہ کہ جمہور کا مذہب دلائل کے اعتبار سے بھی قوی ہے، قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ کسی زمین کو مسجد کے لئے وقف کرنا، اس حصۂ زمین کو براہ راست اللہ کے حوالہ کر دینا ہے، اب گویا وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہے۔؛چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وأنّ المساجد للہ فلا تدعوا مع اللّہ أحد اتوبہ: (۱۰۸)، بے شک مسجدیں اللہ کے لئے ہیں؛ اس لئے (مسجدوں میں ) اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔

اس آیت میں اولاََ تو تاکید اور قوت کے لئے’’ أنّ‘ ‘کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جو عربی قواعد کے مطابق قوت وتاکید کے معنیٰ کے لئے ہے، پھر مسجد کے بجائے’’مساجد‘‘ یعنی واحد کے بجائے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، اور اس پر جو ’’الف، لام‘‘ آیا ہے، وہ عربی گرامر کی رو سے ’’ استغراق‘‘ کے معنیٰ میں ہے، اس طرح اب اس کے معنیٰ ’’ تمام مسجدوں ‘‘ کے ہوگئے، یعنی جو حکم بیان کیا جا رہا ہے، وہ کسی ایک مسجد کا نہیں ہے؛ بلکہ تمام ہی مسجدوں کا ہے؛ اسی لئے مشہور مفسر عکرمہؒ نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت تمام ہی مسجدوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے (مختصر تفسیر ابن کثیر:۳؍۵۸۶) پھر فرمایا گیا’’ للہ‘‘ عربی گرامر کی رو سے ’’ل ‘‘ ملکیت اور اختصاص کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے، یعنی مسجدیں اللہ ہی کی ملکیت ہیں،آگے اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی واضح فرما دی ہے کہ مسجد کے اللہ کی ملکیت میں ہونے کا مطلب کیا ہے؟—اور وہ یہ ہے کہ یہ جگہ ہمیشہ کے لئے اللہ کی عبادت کے لئے مخصوص ہے؛ لہٰذا اس مخصوص حصہ زمین میں غیر اللہ کی عبادت کی اجازت نہیں دی جاسکتی، فلا تدعوا مع اللّہ أحدا ( جن: ۱۸) تفسیر ثعالبی میں اس ٹکڑے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا گیا ہے: فیصلح أن تفرد للعبادۃ وکل ماھو خالص للّہ تعالیٰ ولا یجعل فیھا لغیر اللہ نصیب (تفسیر ثعالبی:۵؍۴۹۷) مسجدوں کی شان یہ ہے کہ ان کو عبادت اور ایسے ہی کاموں کے لئے مخصوص رکھا جائے، جو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہیں، اور ان میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کا کوئی حصہ نہ ہو۔

اسی طرح کی بات علامہ زمخشریؒ نے بھی لکھی ہے (دیکھئے: الکشاف، ۴؍۶۳) پھر یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ ’’ أنّ المساجد للّہ ‘‘ (بے شک مسجدیں اللہ ہی کے لئے ہیں) عربی قواعد کے اعتبار سے جملہ اسمیہ ہے، اور جملہ اسمیہ میں ثبوت واستمرار اور بقاء ودوام کی کیفیت پائی جاتی ہے، ان تفصیلات سے جو بات منقح ہو کر سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے:

دنیا کی تمام وہ جگہیں جہاں مسجد بنا دی گئی ہو اور جنہیں مالکانِ زمین نے نماز پڑھنے کے لئے مخصوص کر دیا ہو، براہ راست اللہ کی ملکیت ہیں،وہ اللہ ہی کی عبادت کے لئے مخصوص ہیں، اور اس میں غیر اللہ کی عبادت کرنے کی کوئی گنجائش نہیںہے۔

اسی طرح ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ما کان للمشرکین أن یعمروا مساجد اللہ۔ (توبہ: ۱۷) مشرکین کے لئے درست نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں۔

یہاں مساجد کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے، عربی قواعد کے اعتبار سے یہ نسبت واضافت ملکیت کے رشتہ کو ظاہر کرتی ہے، جیسے کہا جائے، ’’ بیت رشید‘‘ (رشید کا گھر) اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ رشید اس گھر کا مالک ہے، یا کہا جائے ’’ قلم حمید‘‘ تو معنیٰ یہ ہوئے کہ قلم حمید کی ملکیت ہے، اسی طرح نماز پڑھنے کی مخصوص جگہ ’’ مسجدیں‘‘ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، اور ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں تو وہ ہمیشہ مسجد ہی رہیں گی؛ کیوں کہ مالک جب تک اپنی ملکیت سے کسی چیز کو نکال نہ دے، اس سے اس کی ملکیت کا رشتہ ختم نہیں ہو سکتا، پھر اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے، اس کا تعلق تمام مسجدوں سے ہے کہ کوئی بھی مسجد مشرکین کے حوالہ نہیں کی جاسکتی؛ چنانچہ علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں:

الظاھر أن المراد شیئاََ من المساجد ؛ لأنہ جمع مضاف فیعم ویدخل فیہ المسجد الحرام دخولاََ أوّلیّاََ ۔ (روح المعانی: ۴؍۹۴)

ظاہر ہے کہ اس سے مراد کوئی بھی مسجد ہے؛ اس لئے کہ یہ جمع ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے؛ لہٰذا یہ تمام مسجدوں کو شامل ہوگا، اور مسجد حرام اس میں اولین طور پر داخل ہوگی۔

ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے:

ومن أظلم ممّن منع مساجد اللہ أن یذکر فیھا اسمہ وسعیٰ فی خرابھا۔ (بقرہ: ۱۱۴)

اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا، جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کا نام لینے سے روک دے، اور اس کو ویران کرنے کے درپے ہو؟

اس آیت میں بھی مساجد کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے، اور جو جگہ اللہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہو، اس میں اللہ کی عبادت کے روک دینے کو بہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے،یہ آیت گو مسجد حرام سے متعلق نازل ہوئی ہے؛ لیکن جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمام مسجدوں کا یہی حکم ہے، المراد سائر المساجد (تفسیر قرطبی:۲؍۵۳، تفسیر طبری:۱؍۳۵۲) اسی لئے مولانا ثناء اللہ پانی پتیؒ نے فرمایا کہ گو یہ آیت ایک خاص واقعہ کے پس منظر میں نازل ہوئی ہے؛ لیکن یہ حکم عام ہے—– الحکم عام وان کان المورد خاصا (تفسیر مظہری: ۱؍۱۱۶) —-اور مسجد کو ویران کرنے سے مراد اس کو منہدم کرنا اور اس میں عبادت کو معطل کر دینا ہے۔ (تفسیر ابی السعود: ۱؍۱۴۹)

یہ بات اہم ہے کہ مسجد عمارت کا نام نہیں ہے؛ بلکہ زمین کا نام ہے، اس سلسلہ میں یہ حدیث بڑی چشم کشا ہے:

عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تذھب الأرضون کلھا یوم القیامۃ إلا المساجد فإنھا یضم بعضھا إلیٰ بعض ۔ (مجمع الزوائد ، بہ حوالہ طبرانی، حدیث نمبر:۱۹۳۰)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن تمام زمینیں ختم ہو جائیں گی، سوائے مسجدوں کے، کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ضم ہو جائیں گی۔

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ مسجدیں قیامت تک مسجد ہی کی حیثیت سے باقی رہیں گی، یہاں تک کہ قیامت میں بھی باقی رکھی جائیں گی۔

(و) بابری مسجد کے مسئلے کی ایک خاص صورت ہے، اور وہ یہ کہ یہاں صرف مسجد سے دستبردار ہونے کا مسئلہ نہیں ہے؛ بلکہ اس کو غیر اللہ کی عبادت کے لئے دینے کا مسئلہ ہے، اور مسجد تو کجا امام احمد ؒ کے نزدیک تو اپنا ذاتی مکان بھی غیر اللہ کی عبادت کے لئے دینا جائز نہیں ہے؛ چنانچہ فقہ حنبلی کی ایک مشہور ومعتبر کتاب میں ہے:

ولا إجارۃ الدار لتجعل کنیسہ أو بیت نار أو لبیع الخمر،أو القمار؛ لأن ذالک إعانۃ علی معصیۃ وقال تعالیٰ: ولا تعاونوا علی ا لإثم والعدوان (کشاف القناع: ۳؍۵۵۹)

مکان کو چرچ یا آتش پرستوں کی عبادت گاہ یا شراب کی دوکان یا جوئے کے مرکز کے لئے کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے؛ اس لئے کہ یہ گناہ میں مدد کرنا ہے۔

نیز علامہ ابن قدامہ مقدسیؒ فرماتے ہیں:

ولا یجوز للرجل إجارۃ دارہ لمن یتخذھا کنیسۃ، أو بیعۃََ أو یتخذھا لبیع الخمر أو القمار۔ (المغنی لابن قدامہ: ۵؍۴۰۸)

کسی کے لئے اپنا گھر ایسے شخص کو دینا جائز نہیں ہے، جو اسے عیسائی یا یہودی عبادت گاہ بنالے، یا اس میں شراب کی دوکان یا جوئے کا مرکز بنائے۔

یہ صراحت فقہائے حنابلہ کی کتابوں میں بکثرت موجود ہے، غور کیجئے کہ جب ذاتی مکان اور وہ بھی بطور ملکیت کے نہیں؛ بلکہ بطور کرایہ بھی غیر اللہ کے لئے دینا جائز نہیں ہے تو اللہ کے گھر کو جو مسلمانوں کی ملکیت نہیںہے؛ بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، بت خانہ بنانے کے لئے دینا کیسے جائز ہوگا؟

رہ گئی مصلحت تو جو لوگ سوچتے ہیں کہ بابری مسجد کے قضیہ میں مسلمانوں کے پیچھے ہٹ جانے کی وجہ سے فرقہ وارنہ ہم آہنگی پیدا ہوگی، اور مسلمانوں کے جان ومال کا تحفظ ہوگا، ہمیں حق نہیں ہے کہ ہم ان کی نیت پر شبہ کریں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے لئے بالکل خلاف مصلحت عمل ہوگا، ملک کے آزاد ہونے کے بعد سے ہزاروں فسادات ہو چکے ہیں، ان میں شاید ۵؍فیصد فسادات بھی بابری مسجد کے تنازع کی وجہ سے نہیں ہوئے، نفرت کے ایجنڈے کو فروغ دینا آر ایس ایس کا سیاسی ایجنڈا ہے، ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور ایسا مسئلہ ہے ہی نہیں ،جس کے ذریعہ ووٹ مانگ سکیں؛ اس لئے اگر ایک مسجد کا معاملہ ختم ہو جائے تو دوسری مسجد کا معاملہ کھڑا ہوگا، اور ’’وی، ایچ، پی‘‘ کے پاس ابھی تقریباََ 3500مسجدوں، عیدگاہوں اور درگاہوں کی فہرست موجود ہے، اگر ایک گروہ وعدہ بھی کر لے کہ ہم اس مسجد کے بعد دوسری مسجد کا سوال نہیں اٹھائیں گے تو کوئی اور گروہ کسی اور مسجد کا مسئلہ لے کر اُٹھ کھڑا ہوگا، اور پھر مسجدپر کیا موقوف ؟سوریہ نمسکار، وندے ماترم، لَو جہاد، گھر واپسی وغیرہ کتنے ہی زہر میں بجھائے ہوئے تیر سنگھ پریوار کے ترکش میں موجود ہیں اور موقع کے لحاظ سے نکالے جاتے ہیں۔

اس لئے اس کا کوئی فائدہ تو نہیں ہوگا؛ لیکن اصولی اعتبار سے مسلمانوں کی بہت بڑی شکست ہوگی؛ کیوں کہ جب ایک جگہ آپ اس بات کو تسلیم کر لیں گے کہ مسجد سے دست بردارہوا جا سکتا ہے تو پھر کسی بھی مسجد، عیدگاہ اور مقبرہ کے معاملہ میں آپ کی یہ دلیل مانی نہیں جائے گی کہ اس کو بدلا نہیں جا سکتا؛ اس لئے جو لوگ ایسا سوچتے ہیں کہ بابری مسجد کو حوالہ کردینے سے امن وامان قائم ہو جائے گا اور نفرت کی آگ بجھ جائے گی، ان سے عاجزانہ اور دردمندانہ درخواست ہے کہ آپ ملک کی تاریخ کو دیکھئے، تجربات کو سامنے رکھنے اور سوچئے کہ کیا اس قسم کا عمل ملت اسلامیہ کے لئے مفید ہو سکتا ہے؟ اور اس بات کو بھی پیش نظر رکھئے کہ مسجد کا مسئلہ دنیا سے آخرت تک کا ہے، اگر ہم متبادل جگہ، تعلیمی ادارے یا مسلمانوں کے کچھ مفادات کے بدلے میں مسجد سے دست بردار ہو جائیں تو عند اللہ کیا جواب دیں گے؟ اگر حکومت نے زور زبردستی کی اور کچھ فرقہ پرستوں نے دہشت گردی سے مسجد پر قبضہ کر لیا، یا عدالت انصاف کے تقاضوں تک نہیں پہنچ پائی، تو ہم آخرت میں معذورسمجھے جائیں گے؛ لیکن اگر ہم نے اپنا گھر بچانے کے لئے اللہ کا گھر حوالہ کر دیا تو اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے، اور میدان حشر میں کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کریں گے؟

نبی اکرمؐ کی مکّی زندگی اور مصائب وآلام

تحریر: خورشید عالم داؤد قاسمی

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم:
اللہ سبحانہ وتعالی نے نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– کو 40/سال کی عمر میں نبوت ورسالت سے سرفراز فرمایا۔ نبوت سے نوازے جانے کے بعد، آپؐ 13/سالوں تک مکّہ مکرمہ میں رہے۔ یہ زمانہ آپؐ کی مکی زندگی کہلاتا ہے۔ آپؐ نے مکی زندگی میں، تین سالوں تک خفیہ طور پر، اپنے قریبی لوگوں کے سامنے اسلام پیش کیا۔ پھر آپؐ نےدس سال تک،کھلم کھلا اشاعتِ اسلام کا کام کیا۔ اس کے بعدآپؐ یثرب ہجرت کرگئے۔ اشاعتِ اسلام کی وجہہ سے کفارِ مکہ آپؐ کے جانی دشمن ہوگئے۔جوں جوں لوگ آپؐ کے دستِ حق پرست پر اسلام کی بیعت کرتے رہے اوراسلام کی شعائیں پھیلتی رہی، کفارومشرکین کے غیض وغضب میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ وہ مسلمان جو کچھ حیثیت رکھتے تھے یا ان کا کوئی حامی ومددگارتھا، ان پر کفار ومشرکین اپنے غصے اور ظلم وجور کا اظہار کرنے سے قاصروعاجز تھے، مگر جو مسلمان غریب ونادار تھے، ان کا کوئی حامی ومددگار نہ تھا اور نہ وہ خود کوئی خاندانی وقبائلی حیثیت رکھتے تھے، ان پر کفار ومشرکین نے ظلم وستم کا لامتناہی سلسلہ شروع کردیا۔ کفار نے ان کو طرح طرح سے پریشان کیااور ستایا؛ مگر ان کے ایمان میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا رہا۔ نبی اکرمؐ کے دادا، پھر چچا ابوطالب قریش کی نظر میں بڑے شرف واعزاز کے مالک سے تھے اور آپؐ کی خاندانی اور قبائلی وجاہت واہمیت بھی سب کے نزدیک مسلم تھی؛ اس لیے آپؐ پر حملہ آور ہونا، ایک بڑی جنگ کو دعوت دینا تھا؛ اس لیے کچھ لوگ آپؐ کو گزند پہونچانے سے گریز کرتے تھے؛ مگر اس کے باوجود بھی بہت سے حرماں نصیبوں نےنبی اکرمؐ کو طرح طرح سے ستایا اور آپؐ کومختلف مصائب وآلام سے دوچار ہونا پڑا۔ ذیل میں آپؐ کو "مکی زندگی میں پیش آنے والے مصائب وآلام میں سے چند” پر، ہم نظر ڈالتے ہیں۔

ساحر وکاہن:
جب تک نبی کریم –صلی اللہ علیہ وسلم– نے اپنی نبوّت و رسالت کا اعلان نہیں کیا تھا، اس وقت آپؐ مکّہ میں ایک عقل مند ودانشور، امین وصادق اور اچھےانسان سےجانے جاتے تھے۔ جب آپؐ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا؛ تو لوگوں نے آپؐ کوجادوگر اور کاہن وساحر جیسے معیوب لقب سے مشہور کرنے کی کوشش کی؛ تاکہ لوگ آپؐ کے قریب نہ آئیں اور آپؐ کی باتیں نہ سنیں۔ مگر اللہ نے جن کے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا، ان حضرات کو اس کا کوئی اثر نہیں ہوا؛ بل کہ تکلیف ومشقت برداشت کرکے، آپؐ کے پاس تشریف لاتے تھے اور جلوۂ انوار ربّانی سے اپنے قلوب کو منور کرکے جاتے تھے۔

کفار ومشرکین جب نبی اکرمؐ کے کسی معجزہ کا مشاہدہ کرتے؛ تو اسے قبول کرنے کے بجائے یہ کہتے کہ یہ ایک جادو ہے جو ابھی ختم ہوجائےگا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ”. (سورہ قمر: 2) ” اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں؛ تو ٹال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے جو ابھی ختم ہوا جاتا ہے”۔ یعنی یہ جادو کا اثر ہے جو دیر تک نہیں چلا کرتا، خود ہی گزر جائے گا اور ختم ہوجائے گا۔ (معارف القرآن 8/227)

ایک دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے: وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ”. (سورہ ص: 4) ترجمہ: "اور ان کفار (قریش) نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس ان (ہی) میں سے (یعنی جو ان کی طرح بشر ہے) ایک (پیغمبر) ڈرانے والا آگیا(تعجب کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی جہالت سے بشریت کو نبوت کے منافی سمجھتے تھے) اور (اس انکار رسالت میں یہاں تک پہنچ گئے کہ آپ کے معجزات اور دعوی نبوت کے بارے میں) کہنے لگے کہ (نعوذ باللہ) یہ شخص (خوارق عادت کے کے معاملہ میں) ساحر اور (دعوی نبوت کے معاملے میں) کذّاب ہے”۔

حضرت ابوذر غفاری –رضی اللہ عنہ– اپنے بھائی انیس کی زیارتِ مکہ اور اللہ کےرسولؐ سے ملاقات کی کہانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "میں نے اس (انیس) سے پوچھا: تم نے (مکہ میں) کیا کیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں نے مکہ میں ایک ایسے شخص (محمدؐ) سے ملاقات کی جو تمھارے دین پر ہے۔ اسے (اس بات کا) یقین ہے کہ اللہ نے اسے (رسول بناکر) بھیجا ہے۔ میں نے پوچھا: ان کے بارے میں لوگوں کا کیا خیال ہے؟ انھوں نے فرمایاکہ لوگ کہتے ہیں کہ (وہ) شاعر، کاہن اور ساحر ہے؛ جب کہ انیس (خود) ایک شاعر تھے۔ انیس نے کہا میں نے کاہنوں کی بات سنی ہے، مگر (اس کا) کلام کاہنوں کی بات (جیسا ) نہیں ہے۔ میں نے ان کے کلام کو شعر کے بحروں پر پڑکھا،؛ تو وہ کسی کی زبان پر میرے بعد نہیں جڑے گا شعر کی طرح۔ خداکی قسم وہ سچا ہے اور لوگ جھوٹے ہیں۔ (مسلم شریف، حدیث: 2473)

مجنون ودیوانہ :
نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– جیسا قابل ولائق انسان، جس نے کبھی کسی غیرمناسب کام کا ارتکاب نہیں کیا، لوگوں کے ساتھ شبّ وشتم سے بات نہیں کی اور کسی بڑے اور چھوٹے کے احترام میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھا؛مگراعلان نبوت کے بعد، کفارنے انھیں مجنون ودیوانہ کہنا شروع کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس نے اس عظیم معلمِ انسانیت، رہبر ِرشد وہدایت اور عقل ودانش کے مینار کو مجنون ودیوانہ کہا وہ خود مجنون ، پاگل، دیوانے،معاند ومتعصب اورسرکش وہٹ دھرم تھے۔

اللہ تعالی نے ان کی حقیقت کو واشگاف کرتے ہوئے فرمایا: "أَنَّى لَهُمُ الذِّكْرَى، وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِينٌ، ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ، وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ”. (سورہ دخان: 12-14) ان کو (اس سے ) کب نصیحت ہوتی ہے (جس سے ان کے ایمان کی توقع کی جاوے)؛ حال آں کہ (اس سے قبل) ان کے پاس ظاہرشان کا پیغمبر آیا۔ پھر بھی یہ لوگ ان سے سرتابی کرتے رہےاور یہی کہتے رہے کہ کسی دوسرے بشر کا سکھایا ہوا ہے (اور) دیوانہ ہے۔ (معارف القرآن، ج: 7، ص: 759)

اللہ تعالی نے دوسری جگہ ارشاد فرمایا: "وَقَالُوا يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ”. (سورہ حجر: 6) اور ان کفار (مکہ) نے(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے یوں کہا کہ اے وہ شخص جس پر (اس کے دعوے کے مطابق) قرآن نازل کیا گیا ہے، تم (نعوذ باللہ) مجنوں ہو (اور نبوت کا غلط دعوی کرتے ہو)۔

روایت میں ہے کہ ضماد (رضی اللہ عنہ) مکّہ مکرمہ آئے، ان کا تعلق (قبیلہ) ازدشنوءہ سے تھا۔ وہ جنوں اور آسیب وغیرہ کا جھاڑ پھونک کرتے تھے۔ انھوں نے مکہ کے چند بیوقوفوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ محمدؐ مجنون ہیں۔ تو انھوں نے کہا کہ میں اس شخص کو دیکھوں، شاید اللہ ان کو میرے ہاتھ سے شفا عطا فرمائے! وہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے ان سے ملاقات کی اور کہا: اے محمدؐ! میں جنون کو جھاڑتا ہوں اور اللہ تعالی میرے ہاتھ سے جس کو چاہتا ہے شفا دیتا ہے۔ تو کیا آپؐ کی خواہش ہے (کہ آپ جھڑوائیں)؟ پھر اللہ کےرسولؐ نے فرمایا: "سب تعریفیں اللہ کے لیے ہے۔ ہم اسی ذات کی تعریف میں رطب اللسان ہیں اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے اللہ گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائے کوئی معبودنہیں ، وہ یکتا ہے اور اس کا کوئی ساجھی نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اب حمدوشہادتین کے بعد، جو چاہو کہو!” وہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ آپؐ اپنے ان کلمات کو پھر سے کہیں! چناں چہ رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– نے ان کلمات کو تین بار ان کے سامنے دہرایا۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: میں نے کاہنوں کی باتیں، جادوگروں کے اقوال اور شعرا کے اشعار سنے ہیں؛ مگر میں نے آپؐ کے ان کلمات کے مثل نہیں سنا۔ یہ کلمات تو دریائے بلاغت کی تہہ تک پہنچ گئے ہیں۔ پھر ضماد نے کہا: اپنا ہاتھ لائے میں اسلام کی بیعت کرتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ پھر انھوں نے بیعت کی۔ پھر اللہ کےرسولؐ نے فرمایا: "اور میں تمھاری قوم کی بھی بیعت لیتا ہوں”۔ انھوں نے کہا: (ہاں) میری قوم کی طرف سے (بھی)۔ (مسلم شریف، حدیث: 868)

بازار ذوالمجاز میں آپؐ پر ابو لہب کی سنگ باری:
طارق بن عبد اللہ المحاربی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اللہ کے رسولؐ کو بازار” ذی المجاز” میں دیکھا؛ جب کہ میں خرید وفروخت میں مشغول تھا۔ آپؐ سرخ جبہ زیب تن کیے ہوےتھے اور بلند آواز سے یہ فرماتے جاتے تھے: "اے لوگو! لا الہ اللہ کہو، فلاح پاؤگے” ۔ ایک شخص آپ کے پیچھے پیچھےپتھر مارتا جاتا تھا، جس سے آپ کی پنڈلی اور ایڑی خون آلود ہوگئے۔ وہ شخص ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جاتا تھا: ” اے لوگو!اس کی بات نہ سننا یہ جھوٹا ہے”۔ محاربی فرماتے ہیں کہ میں سے پوچھا کہ یہ شخص (آپؐ) کون ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ یہ لڑکا بنی عبد المطلب سے ہے۔ (پھر) میں پوچھا: وہ شخص کون ہے جو اس کا پیچھا کررہا ہے اور پتھر مار رہا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ آپؐ کا چچا عبد العزی یعنی ابو لہب ہے۔ (مصنف ابن أبی شيبہ، حدیث: 36565)

بازار ذوالمجاز میں آپؐ پر ابوجہل کا مٹی پھیکنا:
بنو مالک بن کنانہ کے ایک شیخ کہتے ہیں کہ میں اللہ کے رسولؐ کو بازار "ذی المجاز” میں دیکھاکہ یہ فرماتے تھے: "اے لوگو! لا الہ اللہ کہو، فلاح پاؤگے”۔ راوی فرماتے ہیں کہ ابوجہل آپؐ پر مٹی پھیکتا تھا اور یہ کہتا تھا: اے لوگو! خیال رکھنا یہ شخص تم کو تمھارے دین کے حوالے سے دھوکہ نہ دیدے؛ کیوں کا اس کا ارادہ ہے کہ تم لات وعزی کو چھوڑ دو! جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف ذرہ برابر بھی التفات نہیں فرماتے تھے۔ (مسند احمد، حدیث: 16603)

اونٹ کی اوجھڑی آپؐ کی پشت پر:
ایک دفعہ نبی کریمؐ کعبہ شریف کے پاس نماز ادا کررہے تھے۔ ابو جہل اور اس کے ساتھی (وہاں) بیٹھے تھے۔ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: تم میں سے کون ہے جو فلاں قبیلے کی اونٹنی کی اوجھڑی لائے اور جب محمدؐ سجدے میں جائیں؛ تو وہ اسے اس کی پشت پر رکھ دے؟ عقبہ بن ابی معیط جو نہایت ہی بدبخت، شقی القلب اور ملعون تھا، وہاں سے اٹھا اور اوجھڑی لے کر آیا۔ پھر وہ آپؐ کے سجدہ کرنے کا انتظار کرنے لگا۔ جب آپؐ نے سجدہ کے لیے اپنے چہرہ مبارک کو زمین بوس کیا؛ تو اس نالائق نے اس اوجھڑی کو آپؐ کے پیٹھ پر کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔ آپؐ اس کے بوجھ کی وجہ سے اٹھ نہیں پارہے تھے۔ سجدہ کی ہی حالت میں پریشان تھے۔ دوسری طرف ابو جہل اور اس کے بے غیرت ساتھی سب کے سب ہنسنے اور ٹھٹھا مارنے لگے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود –رضی اللہ عنہ– یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے، مگر اپنی کمزوری وضعف اور ان ظالموں کے خوف سے رسولِ خدا –صلی اللہ علیہ وسلم– کا دفاع کرنے سےعاجزتھے۔ پھر آپؐ کی لخت جگر حضرت فاطمہ –رضی اللہ عنہا– آئی اور اوجھڑی کو آپؐ کے پشت مبارک سے ہٹایا۔ (صحیح بخاری ، حدیث : 240/ 3185/3854)

سودے بازی کی کوشش:
کفار قریش نے محمدؐ کوقتل کرنے کے لیے سودے بازی کی بھی کوشش کی۔ کفار نے چاہا کہ عمارہ بن ولید کو ابوطالب کے سپرد کردیں اور اس کے عوض، ابوطالب محمدؐ کو ان کے حوالے کردیں، تاکہ وہ آپؐ کو قتل کردیں؛ چناں چہ کفار قریش نے ابوطالب کی خدمت میں عرض کیا:

"اے ابو طالب! یہ (عمارہ) قریش کا سب سے بانکا اور خوب صورت نوجوان ہے۔ آپ اسے لے لیں۔ اس کی دیت اور نصرت کے آپ حق دار ہوں گے۔ آپ اسے اپنا لڑکا بنالیں۔ یہ آپ کا ہوگا اور اپنے اس بھتیجے کو ہمارے حوالے کردیں، جس نے آپ کے آباء و اجداد کے دین کی مخالفت کی ہے، آپ کی قوم کا شیرازہ منتشر کررکھا ہے اور ان کی عقلوں کو حماقت سے دوچار بتلاتا ہے۔ ہم اسے قتل کریں گے ۔ بس یہ ایک آدمی کے بدلے ایک آدمی کا حساب ہے”۔ ابو طالب نے کہا: "خدا کی قسم! کتنا برا سودا ہے جو تم لوگ مجھ سے کررہے ہو! تم اپنا بیٹا مجھے دیتے ہو کہ میں اسے کھلاؤں پلاؤں، پالوں پوسوں اور میرا بیٹا مجھ سے طلب کرتے ہو کہ اسے قتل کردو۔ خداکی قسم! یہ نہیں ہوسکتا”۔ (الرحیق المختوم، ص: 140)

ابوجہل کا آپؐ کے قتل کا ارادہ:
ایک دن ابوجہل نے قریشیوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ محمدؐ ہمارے دین میں عیب نکالتا ہے۔ہمارے آباء واجداد اور معبودوں کی توہین کرتا ہے؛ ا س لیے میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ کل ایک بھاری پتھر لے کر بیٹھوں گااور جب وہ سجدہ کرے گا تو اسی پتھر سے اس کا سر کچل دوں گا…. جب صبح ہوئی تو وہ ویسا ہی پتھر جیسا کہ اس نے بیان کیا تھا، لے کر انتظار میں بیٹھ گیا۔رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– آئے جیسا کہ آیا کرتے تھے….پھر رسول اللہ–صلی اللہ علیہ وسلم– نماز میں مشغول ہوگئے…. جیسے ہی آپؐ سجدے میں گئے، ابو جہل نے پتھر اٹھاکر، آپؐ کی طرف بڑھا۔ جب وہ آپؐ کے قریب ہوا؛ تو شکشت خوردہ حالت میں لوٹا، اس کا رنگ فق تھا اور وہ ایسا مرعوب تھا کہ اس کے دونوں ہاتھ، اس کے پتھر سے چپک گئے تھے کہ وہ بمشکل اپنے ہاتھ سے پتھر پھیک سکا۔

قریش کے کچھ لوگ اس کے پاس آئے اور پوچھنے لگے:”اے ابوجہل! تمھیں کیا ہوا؟ ” اس نے کہا: "میں نے گزشتہ رات جو بات کہی تھی، وہی کرنے کے لیے کھڑا ہوا تھا؛ جب میں ان کے قریب پہنچا؛ تو ایک اونٹ آڑے آگیا۔ خدا کی قسم! میں کبھی بھی کسی اونٹ کی کھوپڑی، گردن اور دانت اس اونٹ کے طرح نہیں دیکھا۔ وہ مجھے کھانا چاہ رہا تھا”۔ (سیرت ابن ہشام 1/ 298-299)

گردن مبارک میں کپڑے کا پھندا:
مکہ کے کفار ومشرکین آپؐ کو آرام سے نماز بھی ادا نہیں کردینے دیتے تھے۔ آپؐ نماز میں ہوتے تو کبھی وہ آپؐ کی پشت مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی ڈالتے، تو کبھی آپؐ کے مبارک گردن میں کپڑا کا پھندا لگاتے۔ بخاری شریف میں ایک روایت ہے:

حضرت عروہ بن زبیر–رحمہ اللہ– نے (عبد اللہ) ابن عمرو بن عاص (رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: مجھے اس سخت ترین تکلیف سے باخبر کیجیے جس سے مشرکین نے آپؐ کو دوچار کیا۔ انھوں نے فرمایا: ایک بار نبیؐ حطیم میں نماز ادا کررہے تھے، اچانک عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپؐ کی گردن میں اپنا کپڑا ڈال دیا۔ پھر اس نے سخت طریقے سے آپؐ کا گلا گھونٹا۔ پھر ابو بکر –رضی اللہ عنہ– آئے اور انھوں نے عقبہ کا مونڈھا پکڑا اور اس کو نبیؐ سے ہٹایا اور فرمایا: "کیا تم مار ڈالوگے ایک شخص کو اس وجہ سے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟” [سورہ غافر: 28] (صحیح بخاری، حدیث: 3856)

سر اور ڈاڑھی کے بال کھینچنا:
مشرکوں نے آں حضرت –صلی اللہ علیہ وسلم– کے سر اور ڈاڑھی کے بال پکڑکےاتنے زور سے کھینچے کہ آپؐ کے اکثر بال اکھڑ گئے۔ (سیرت حلبیہ اردو، ج: اول نصف آخر: 276)

آپؐ کی بیٹیوں کو طلاق:
نبی اکرمؐ کی دو صاحبزادیاں: حضرت امّ کلثوم اور رقیّہ –رضی اللہ عنہما– کا نکاح، دشمنِ اسلام، ابو لہب کے دو لڑکے: عتیبہ اور عتبہ سے ہو چکا تھا۔ لیکن یہ نکاح صرف نکاح ہی تھا۔ ابھی رخصتی باقی تھی”۔سورۃ لہب” کے نزول کے بعد، آپؐ کو بے عزت کرنے کی نیت سے، ابو لہب اور اس کی بیوی نے اپنے لڑکوں کو یہ حکم دیا کہ وہ آپؐ کی صاحبزادیوں کو طلاق دیدے؛ چناں چہ انھوں نے ان کو طلاق دے دیا۔

امام طبرانی قتادہ –رضی اللہ عنہ– سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– کی صاحبزادی ام کلثوم –رضی اللہ عنہا– کی شادی عتیبہ بن ابی لہب کے ساتھ ہوئی تھی۔ حضرت رقیّہ –رضی اللہ عنہا– کی شادی، اس کے بھائی عتبہ بن ابی لہب کے ساتھ ہوئی تھی۔ جب اللہ تعالی نے تبت يدا أبي لَهب (سورہ لہب) نازل فرمائی؛ تو ابو لہب نے اپنے دونوں بیٹوں: عتیبہ اور عتبہ کو کہا: ” اگر تم نے محمدؐ کی بیٹیوں کو طلاق نہ دی؛ تو تم دونوں کے سر کے لیے میرا سر حرام ہے”۔ ان دونوں کی ماں: بنت حرب بن امیّہ نے کہا: "یہی ایندھن اٹھانے والی ہے کہ تم دونوں انھیں طلاق دے دو؛ کیوں کہ وہ دونوں صابی (اپنا دین بدلے ہوئے) ہیں؛” چناں چہ ان دونوں نے انھیں طلاق دے دی۔ (تفسیر درّ منثور 8/667)

طلاق کا عمل جیسا کہ آج کے کچھ شریف گھرانوں میں، بڑی بے عزتی کی بات سمجھا جاتا ہے، اسی طرح اس وقت بھی عرب سماج کے شریف گھرانوں میں، طلاق کو بے عزتی سمجھا جاتا تھا۔ پھر ایک ایسے باپ کے لیے جو شرافت کا اعلی نمونہ ہو اور اس کی دو لڑکیوں کو بیک وقت طلاق ہوجانا اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں؛ جب کہ وہ باپ ہر طرف سے مصائب وآلام جھیل رہا ہو؛ تو کتنے تکلیف کا باعث ہوسکتا ہے،اسے بیان کرنا مشکل ہے۔

تین سالہ معاشرتی بائیکاٹ:
کفار قریش نے مل جل کر رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– کے قتل کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ: "اس نے ہماری اولاد اور ہماری عورتوں تک کو ہم سے برگشتہ کردیا ہے”۔ پھر ان لوگوں نے آپؐ کے خاندان والے سے کہا: "تم ہم سے دوگنا خون بہا لے لو اور اس کی اجازت دے دو کہ قریش کا کوئی شخص اس کوقتل کردے؛ تاکہ ہمیں سکون مل جائے اور تمھیں فائدہ پہنچ جائے”۔ جب کفار قریش کی یہ تجویز منظور نہیں ہوئی؛ اس پر انھوں نے غصہ میں آکر یہ طے کیا کہ بنی ہاشم اور بنی عبد المطلب، جو نبی اکرمؐ کے مددگار تھے، کا معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے اور انھیں مکے سے نکال کر، شعب ابوطالب نامی گھاٹی میں محصور اور مقید کردیا جائے۔

ایک روایت کے مطابق یہ بھی طے پایا کہ: "نہ بنی ہاشم کی لڑکیوں کو بیاہ کر لاؤ اور نہ اپنی لڑکیوں کی ان کے یہاں شادی کرو، نہ ان کو کوئی چیز فروخت کرو اور نہ ان سے کوئی چیز خریدو اور نہ ان کی طرف سے کوئی صلح قبول کرو”۔ چناں چہ جب بھی مکے میں باہر سے کوئی قافلہ آتا؛ تو یہ مجبور اور بے کس لوگ فورا ان کے پاس پہنچتے؛ تاکہ ان سے کھانے پینے کا کچھ سامان خرید لیں۔ مگر جب بھی ایسا ہوتا تو فورا وہاں ابولہب پہنچ جاتا اور کہتا کہ "دام اتنے بڑھادو کہ وہ تم سے کچھ نہ خرید سکیں۔ پھر تاجر کی طرف سے ایسا ہی ہوتا؛ لہذا لوگ مایوس ہوکر، اپنے بچوں کے پاس واپس آجاتے، جو بھوک سے بیتاب تڑپتے اور بلکتے ہوتے تھے اور ان کو خالی ہاتھ دیکھ کر، وہ بچے سسک سسک کر رونے لگتے تھے۔

اس گھاٹی میں مسلمانوں نے بڑا سخت وقت گزارا۔ قریش کے بائیکاٹ کی وجہ سے ان کو کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ملتی تھی، لوگ بھوک سے بے حال ہوگئے؛ یہاں تک کہ گھاس پھونس اور درختوں کے پتے اور چمرے کھا کھا کر گزارہ کرنے لگے۔ یہ سلسلہ مستقل تین سالوں تک جاری رہا۔ (تلخیص از: سیرت حلبیہ اردو، ج: 1 نصف آخر، ص: 393-394)

اہل طائف کا ظلم وستم:
ابوطالب کی وفات کے بعد، نبی اکرمؐ نے شوال، سن دس نبوي میں، اپنے آزاد کردہ غلام: زید بن حارِثہ کی معیت میں،ثقیف سے مدد کی التماس کے لیے طائف کا (پیدل) سفر کیا۔ امید تھی کہ اللہ کے جس پیغام کے ساتھ آپؐ ان کے پاس آئے ہیں، اہل طائف اسے قبول کریں گے۔ جب طائف پہنچے؛ تو ثقیف کے تین سراداران: عید یالیل، مسعود اور حبیب سے ملاقات کا ارادہ کیا۔ یہ تینوں آپس میں بھائی تھے۔ آپؐ ان کے پاس بیٹھے اور اسلام کے لیے مدد کرنے اور آپؐ کی قوم میں سے جو آپؐ کی مخالفت کرے، اس کے خلاف خود کی مدد کرنے کے حوالے سے گفتگو کی۔

نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– کی بات سن کر، سرداران ثقیف نے نہایت ہی غیر سنجیدہ جوابات دیے۔ ایک نے کہا: "وہ کعبہ کا غلاف پھاڑے گا، اگر اللہ نے تمھیں رسول بنایا ہو(اگر تم نبی ہو؛ تو اللہ مجھے غارت کرے)!” دوسرے نے کہا: "کیا اللہ تعالی کو تمھارے علاوہ کوئی اور نہیں ملا جسے وہ بھیجے؟” تیسرے نے کہا: "بخدا، میں تم سے کبھی بات نہیں کرسکتا۔ اگر تم سچ مچ اللہ کے نبی ہو جیسا کہ تم کہتے ہو؛ تو تمھاری بات میرےلیے رد کرنا انتہائی خطرناک ہے اور اگرتم اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہو؛ تو پھر مجھے تم سے بات نہیں کرنی چاہیے”۔ ثقیف سے ناامید ہوکر، رسول اللہ–صلی اللہ علیہ وسلم– وہاں سے کھڑے ہوئے اور ان سے کہا: "تم لوگوں نے جو کچھ کیاکیا ، بہرحال اسے خفیہ ہی رکھنا”۔

جب رسول اللہ–صلی اللہ علیہ وسلم– نے وہاں سے واپسی کا ارادہ کیا؛ تو ان سرداروں نے اپنے غلاموں اور اوباشوں کو شہہ دیدی۔ انھوں نے آپؐ کو گالیاں دی، تالیاں بجائے اور شور مچائے؛ تاآں کہ لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ آپؐ کے راستے کے دونوں کنارے، لوگوں کی لائن لگ گئی۔ وہاں سے گزرتے وقت، جوں ہی اللہ کے رسولؐ ایک قدم اٹھاتے کہ وہ آپؐ کے قدموں پر پتھر مارتے؛ تا آں کہ آپؐ کے گھٹنے چور ہوگئے، پنڈلیاں گھائل ہوگئیں اور جوتے خون آلود ہوگئے۔ جب آپؐ کو پتھر لگتا؛ تو آپؐ زمین پر بیٹھ جاتے۔ وہ اوباش اور حرمان نصیب آپؐ کے بازو پکڑ کر اٹھاتےاور جب چلنا شروع کرتے؛ تو وہ پتھر مارتے اور ہنستے۔ زید بن حارِثہ آپؐ کو خود ڈھال بن کر بچاتے تھے؛ تا آں کہ ان کا سر بھی زخمی ہوگیا۔ (عیون الأثر 1/155-156)

آپؐ کسی طرح ابنائے ربیعہ کے باغ میں پہنچے۔ تھوڑی دیر بعد، وہاں سے رخصت ہوئے۔ پھر آگے کیا ہوا، بنی –صلی اللہ علیہ وسلم– کی مبارک زبان میں ہی ملاحظہ فرمائے: "میں غم سے نڈھال اپنے رخ پر چل پڑا اور مجھے قرن ثعالب میں ہی پہنچ کر افاقہ ہوا۔ جب میں نے اپنا سر اٹھایا؛ تو اچانک دیکھا کہ بادل کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ فگن ہے۔ جب میں نے اس میں دیکھا؛ تو حضرت جبرئیل موجود تھے۔ انھوں نے مجھے پکار کر کہا: "آپ کی قوم نے آپ سے جو بات کہی، اسے اللہ نے سن لیا۔ اب اللہ نے آپ کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے؛ تاکہ آپ ان کے بارے میں جو حکم چاہیں اس فرشتہ کو دیں! پھر پہاڑ کے فرشتے نے مجھے آواز دی، سلام کیا پھر کہا: اے محمدؐ! ان کے حوالے سے آپ جو چاہیں۔ اگر آپ چاہیں کہ میں ان کو دو پہاڑوں کے درمیان کچل دوں؟ (تو یہی ہوگا)۔ نبی کریمؐ نے جواب دیا: "(نہیں) بل کہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی پشتوں سے ایسی نسل پیدا کریں گے، جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گی”۔ (بخاری شریف، حدیث: 3231)

دارالندوہ میں قتل کا منصوبہ اور ہجرت کا حکم:
رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– نے اپنے صحابۂ کرام –رضی اللہ عنہم–کو مکہ میں ظلم وجور کی چکی میں اس طرح پستے دیکھ رہے تھے جو ناقابل برداشت تھا؛ لہذا ان کو مدینہ منورہ ہجرت کی اجازت دیدی، سوائے رفیق غار ابوبکر رضی اللہ عنہ کے۔ ابوطالب جیسے حامی ومددگاربھی وفات پاچکے تھے۔ اب قریش شدید غصے میں تھے کہ کب تک ہم اس شخص (محمدؐ) کو برداشت کریں اور وہ ہمارے معبودوں اور آباء واجداد کی توہین کرتا رہے؛ چناں چہ ہمیں ان کو قید کردینا چاہیے، یا جلا وطن کردینا چاہیے یا پھر قتل کردینا چاہیے؛ تاکہ ہم ان سے چھٹکارا حاصل کرلیں۔ پھر قریش کےسرداران اپنے مشورہ گاہ: دار الندوہ میں خفیہ طور پر نبیؐ کے خلاف فیصلہ لینے کو جمع ہوئے۔ کسی نے کہا کہ اسے لوہے کی زنجیر میں باندھ کر، دروازہ بند کردو۔ کسی نے کہا کہ انھیں جلا وطن کردو۔ مگر نجدی شیخ کے روپ میں، دار الندوہ میں بیٹھا مردود ابلیس نے ان رایوں کے نقص کو اجاگر کیا اور کہا کہ یہ کوئی رائے نہیں ہے۔ پھر ابوجہل بن ہشام نے یہ رائے دی کہ "ہم ہر قبیلے سے ایک قوی جوان کو منتخب کریں۔ ہم ان میں سے ہر ایک جوان کو ایک تیز تلوار دیں۔ وہ سب کے سب بیک ضرب، ان کو قتل کردیں۔ جب وہ اسے اس طرح قتل کریں گے؛ تو ان کا خون مختلف قبائل میں بنٹ جائے گا؛ پھر میں نہیں سمجھتا کہ بنوہاشم سارے قریش سے جنگ کریں گے۔ جب اس صورت حال کا بنو ہاشم مشاہدہ کریں گے؛ تو دیت لینے پر راضی ہوجائیں گے۔ پھر ہم ان کو دیت دیدیں گے”۔ نجدی شیخ کی صورت میں بیٹھا ابلیس نے کہا کہ بات تو یہ ہے جو اس آدمی نے کہی اور اس رائے کے بعد کوئی رائے نہیں ہے؛ لہذا پوری قوم اس پر تیار ہوگئی ۔

رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– اور کسی مسلمان کو اس منصوبہ کا علم نہیں تھا۔ جبرئیل –علیہ السلام– آپؐ کے پاس آئے اور کہا: آپؐ اپنے جس بستر پر رات گزارتے تھے، اس پر رات نہ گزاریں۔ جب رات تاریک ہوئی؛ تو سب کے سب (قتل کے ارادےسے) آپؐ کا انتظار کررہے تھے کہ آپؐ کب سوتے ہیں؛ تاکہ وہ سب آپ پر ٹوٹ پڑیں۔ رسول اللہ – صلی اللہ علیہ وسلم– نے حضرت علی – رضی اللہ عنہ– سے کہا: میرے بستر پرلیٹ کر، میری اس حضرمی ہری چادرکو اوڑھ کر سوجاؤ۔ کوئی ناپسندیدہ عمل ان کی طرف سے تمھیں پیش نہیں آئے گا۔ جب رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– سوتے تھے؛ تو اسی چادر میں سوتے۔ پھر آپؐ اپنے ہاتھ میں، لپ بھر مٹی لے کر ان کے سامنے سے نکلے۔ پھر آپؐ وہ مٹی ان تمام کے سر پر ڈالتے ہوئے سورہ یس کی آیات 1-5کی تلاوت کررہے تھے۔ پھر اللہ تعالی نے ان کی قوت بینائی لےلی وہ آپ کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔ جب آپؐ ان آیات کی تلاوت سے فارغ ہوئے؛ تو کوئی ایسا نہیں بچا تھا جس کے سر پر مٹی نہ پڑی ہو۔ پھر آپؐ وہاں سے رخصت ہوئے، جہاں آپؐ کو رخصت ہونا تھا۔ (سیرت ابن ہشام1/482-483)

خلاصہ یہ ہے کہ تیرہ سالہ مکی دور میں نبی اکرمؐ کومختلف قسم کے ذہنی وجسمانی مصائب وآلام سے دوچار ہونا پڑا۔ کبھی آپؐ کے قتل کا ارادہ کیا گیا، کبھی آپؐ پر پتھر پھیکا گیا، کبھی مٹی پھیکی گئی، کبھی گرد وغبار پھیکا گیا، کبھی راستے میں کانٹے ڈالے گئے، کبھی ڈاڑھی اور سر کے بال نوچے گئے اور کبھی آپؐ کے چہرہ مبارک پر تھوکنے کی بدبختانہ کوشش کی گئی ؛ مگر آپؐ اسلام کی اشاعت کی خاطر، سب کچھ برداشت کرتے ہوئے دین کی دعوت میں، ہمہ تن مشغول رہ کر، اپنی امت کو بہترین نمونہ فراہم کرگئے۔ ارشاد خداوندی ہے: (ترجمہ) "تم لوگوں کے لیے یعنی ایسے شخص کے لیے جو اللہ سے اور روزِ آخرت سے ڈرتا ہواور کثرت سے ذکر الہی کرتا ہو(یعنی مومن کامل ہو اس کے لیے)، رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا (ہے)”۔ (سورہ أحزاب:21) ***