مولانا علاٶالدین قریشی پیپاڑوی جودھپوریؒ شاگرد علّ امہ انور شاہ کشمیریؒ

محمدعارف جیسلمیری
مقیم لدھیانہ پنجاب

پیپاڑ یہ راجستھان کے معروف صنعتی شہر جودھپور کے مضافات میں واقع ہے اور اس شہر کو گزشتہ ایک ڈیڑھ صدی سے یہ عظیم شرف حاصل ہے کہ دیوبندی المسلک متبحر علماء اور ان کے تربیت یافتہ صحیح العقیدہ تجارت پیشہ لوگ یہاں تشریف لاتے رہے ہیں۔

حافظ عبدالھادی تھانوی ثم جودھپوریؒ کے والد ماجد کسب معاش کی غرض سے آج سے تقریباً نوے سال پہلے پیپاڑ وارد ہوے تھے۔اس سے بہت پہلے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ،سیٹھ شیخ غلام محمد صاحبؒ کی دعوت و تحریک پر چند ایک مرتبہ سرزمینِ پیپاڑ کو اپنے قدومِ میمنت لزوم سے رونق بخش چکے تھے۔

مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ جن کا ذکرِخیر اس تحریر کا موضوع ہے اور جو اپنے کارناموں اور حاصل شدہ علمی و روحانی نسبتوں کے تناظر میں ہمارے صوبے کی ایک مثالی شخصیت ہیں،وہ بھی ایسے ہی ایک خانوادے کے فرد تھے،جس کی اسلام اور پیغمرِاسلام کے ساتھ گہری وابستگی رہی تھی اور جس کا اصل آباٸی وطن شہر ”قنوّج“ تھا،جو اس وقت یوپی کا معروف ضلع ہے اور سیاسی لحاظ سے جسے کافی حساس گردانا جاتا ہے۔قنّوج میں ایک زمانے تک راجاٶں کی حکمرانی رہی تھی،ایسے ہی ایک راجہ نے،جو خاندانی طور پر غیرمسلم تھا، مذھبِ اسلام قبول کر لیا تھا۔مولانا علاٶالدین صاحبؒ کا چندیل خاندان اسی راجہ کی نسل سے ہے۔اس خانوادے کے کسی بزرگ نے نامعلوم اسباب کے تحت پیپاڑ کو اپنا مسکن بنایا اور اس طرح اس خاندان کی ایک شاخ مستقل طور پر یہاں آباد ہوٸی۔اس خاندان کی دینِ متین کے ساتھ مضبوط و مستحکم وابستگی نے یہاں کے قدیم مسلم باشندوں کے عقاٸد و اعمال پر بڑے اچھے اثرات مرتب کیے اور اسی خانوادے کے فرد مولانا علاٶالدین صاحبؒ کو،بانیِ دارالعلوم پوکرن مولانا محمد عالم صاحب گومٹویؒ کے بعد،علاقے بھر میں دوسرا دیوبندی عالمِ دین ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔وذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء

متفرق صوبہ جات اور بالخصوص یوپی سے تشریف لانے والے علماء ہوں یا ان کے دست گرفتہ صحیح الفکر عام لوگ،ان کی یہ آمد اھالیانِ جودھپور و پیپاڑ کے حق میں نعمتِ غیرمترقبہ ثابت ہوٸی اور جہالت و ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کسی حدتک حق و اھلِ حق کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام پاتا رہا اور اسی مخالف ماحول میں بدعات کی جانب راغب کرنے والے خاندانی و ظاہری تمام تر اسباب و وسائل کے علی الرغم علماۓ دیوبند اور اور ان کے قاٸم فرمودہ مراکز و مدارس سے انہیں انس پیدا ہوا اور یہی قرب و انس آگے چل کر اصلاحِ اعمال کا ذریعہ بنا۔ایسے خوش نصیب مقامی لوگ اگرچہ معدودے چند ہی تھے؛لیکن ان کی خدمات کسی جماعت و تنظیم سے کیا کم ہوگی۔

اپنے عہد کے ولی کامل حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوریؒ کی حضرت والا تھانویؒ تک رساٸی بھی انھیں افراد کی رھینِ منت ہے،جو حضرت تھانویؒ کے واقف کار اور ان کی کتب و مواعظ سے استفادہ کرنے والے تھے اور جن کا وطنی تعلق بھی مغربی یوپی سے تھا۔

غرض اکابر کے ورود مسعود اور کچھ جلیل القدر علماء کے مستقل و عارضی قیام کی برکت سے خیالات میں صالح تبدیلی کے حسیں دور کا آغاز ہوا۔حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوریؒ اور حاجی سیٹھ غلام محمد صاحبؒ ایسے کچھ نصیب بندگانِ خدا نے حضرت والا تھانویؒ سے ذاتی اصلاح کے ساتھ اپنی اولاد و احفاد اور اعزہ و متعلقین کو دینی تعلیم دلوانے کا خصوصی اھتمام فرمایا۔

مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ بڑے باتوفیق رجل رشید تھے،انہیں ابتداء ہی سے حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوریؒ اور حاجی سیٹھ غلام محمد صاحب سے عقیدت و محبت کا تعلق تھا،جب تک یہ دونوں بزرگ حیات تھے،مولانا مرحوم نے ان کی خدمت میں حاضری کا سلسلہ برقرار رکھا۔حاجی عبدالغفور صاحبؒ کے احترام میں اس نسبت کا خاص دخل تھا،جو انہیں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے حاصل تھی۔جہاں تک حاجی غلام محمد صاحبؒ کا تعلق ہے،تو وہ تو ان کے سرپرست کے درجے میں تھے، انہوں نے ہی پہلے پہل مولانا علاٶالدین صاحبؒ کو تحصیلِ علم کی جانب راغب فرمایا تھا اور مولانا احمداللہ صاحب مدظلہم کی روایت کے مطابق حاجی غلام محمد صاحبؒ نے ہی مولانا علاٶالدین صاحبؒ کا سارا تعلیمی خرچ بھی اٹھایا تھا۔

حاجی غلام صاحبؒ کو باری عزاسمہ نے دین و علمِ دین کی نسبت پر خرچ کرنے کی سعادت سے نوازا تھا۔پیپاڑ شہر کی قدیمی عیدگاہ،اچھے خاصے رقبے پر مشتمل قبرستان اور جامعہ مدینة العلوم؛یہ سب حاجی غلام محمد صاحبؒ کے جذبۂ انفاق فی سبیل اللہ کا مظہر ہیں۔یہ بزرگ پیپاڑ ہی کے قبرستان میں مدفون ہیں؛جب کہ ان کی اولاد تقسیم کے موقع پر پاکستان ہجرت کر گٸی۔

حاجی غلام محمد صاحب مرحوم کے قاٸم فرمودہ اس ادارے ”مدرسہ مدینة العلوم پیپاڑ“ میں کسی زمانے میں عربی کتب کی تدریس کا نظم بھی قاٸم تھا،لکھنٶ کے چندایک علماءایک زمانے تک اس مدرسے میں مدرس رہے اور مولانا شفیق صاحب قریشی مدظلہم کے بیان کے مطابق ”تقسیمِ ھندوپاک سے پہلے،مولانامنظور احمد صاحب نعمانیؒ کے کوٸی عزیز بھی یہاں تدریسی خدمت پر مامور رہے تھے“۔ مولانا شفیق صاحب مدظلہم نے اس حقیر کو دورانِ گفتگو یہ بھی بتایا کہ ”١٩٧٣یا ٧٤ عیسوی میں،انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے کتب خانے میں،درجہ موقوف علیہ کی کچھ کتابیں دیکھی تھیں،جن پر ”مدینہ العلوم پیپاڑ“ کی مہر ثبت تھی۔تقسیم ھندوپاک کے معاً بعد ہی یہ ادارہ حالات سے دوچار ہوا اور اسی موقع پر بعض سلیم الفطرت و دوراندیش منتظمین نے،مدرسے کی کتابیں کتب خانہ دارالعلوم دیوبند کے حوالے کرنے کا فیصلہ فرمایا۔آج کل یہ مدرسہ مکتب کی شکل میں قاٸم ہے اور اپنے تابناک ماضی کی جانب لوٹنے کے لیے پھر سے کسی حاجی غلام محمد کا منتظر ہے۔خدا کرے کوٸی مردِخدا اس جانب متوجہ ہو اور اس کی سابقہ روایات اور اختصاصات وامتیازات پھر سے بہ حال ہوں۔

مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ کی اردو دینیات اور فارسی و عربی کی ابتداٸی تعلیم پیپاڑ کے اسی ادارے میں ہوٸی۔مدینة العلوم میں جاری نصابِ تعلیم کی تکمیل کے بعد،عربی کے منتہی درجات کی تعلیم کے لیے آپ عازمِ دیوبند ہوے۔یہ اس عہد کی بات ہے،جب علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ،صاحبِ فتح الملہم شیخ الاسلام مولانا شبیراحمد صاحب عثمانیؒ،سلسلہ چشتیہ مجددیہ کے فقیہ النفس بزرگ اور دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کی خشتِ اول مفتی عزیزالرحمٰن صاحب عثمانیؒ،عارف باللہ مولانا سیداصغر حسین صاحبؒ،شیخ الادب و الفقہ مولانا اعزار علی امروھوی صاحبؒ،مولانا حبیب الرحمٰن صاحب عثمانیؒ اور صاحبِ معارف القرآن مفتی محمد شفیع صاحب عثمانیؒ ایسے ربانی علماء وہاں مصروفِ تدریس تھے۔

معلوم تاریخ کے مطابق مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ مغربی راجستھان کے پہلے سعادت مند شخص ہیں،جنہوں نے تحصیلِ علم کی غرض سے دارالعلوم دیوبند کا سفر کیا اور اس دور کی جلیل القدر علمی و روحانی شخصیات سے خوب خوب کسبِ فیض کیا۔علاقے کے مخصوص حالات اور جہالت و گم راہی کی محیطِ عام فضا ان کے پیشِ نظر تھی،دارالعلوم کے اس شہرۂ آفاق علمی سرچشمے سے سیرابی حاصل کرنے والے اپنے خطے کے پہلے فرد ہونے کی حیثیت سے،میدانِ عمل کی ذمے داریوں سے بھی وہ بہ خوبی واقف و آگاہ تھے،اس لیے انہوں نے دارالعلوم کے قیام کو غنیمت جانا اور جاں فشانی و تن دہی کے ساتھ تحصیلِ علم کا سفر طے فرمایا۔دارالعلوم دیوبند و مدینة العلوم پیپاڑ کے مخلص اساتذہ کی توجہات،دعاٶں اور خود اپنی جہدِمسلسل کی بہ دولت،انہوں نے چند ہی سالوں میں دارالعلوم میں اپنی پہچان بنا لی تھی اور اس عہد کے دارالعلوم کے کبار علماء و مفتیان کی جانب سے آپ کے علم و تحقیق پر اطمینان کا اظہار ہوا۔مولانا مرحوم کی فراغت کے بعد ایک دفعہ جودھپور کے کسی صاحب نے دارالعلوم کے دارالافتاء میں استفتاء داخل کیا،تو وہاں سے جوابِ استفتاء کے ساتھ ہی مستفتی اور اس کی وساطت سے باشندگانِ مغربی راجستھان سے کہا گیا کہ”آپ کے ہاں علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے لاٸق و فاٸق شاگرد اور ایک معتمد و مستند عالمِ دین مولانا علاٶالدین صاحبؒ موجود ہیں۔روزمرہ پیش آمدہ فقہی مساٸل کے حل کے حوالے سے ان کا پایہ کافی بلند ہے؛لہذا وقتاً فوقتاً ان کے یہاں حاضرِ خدمت ہوکراپنے مساٸل کا حل کرا لینا مناسب ہے ۔“ یہ اس دور کی عام قدریں تھیں۔چھوٹوں کی حوصلہ افزاٸی اور ان کے معمولی و غیرمعمولی کارناموں پر مسرت و شادمانی کا اظہار بڑوں کا ایک طرح سے وطیرہ و شعار تھا۔

واقعہ یہ ہے کہ مولانا علاٶالدین صاحبؒ وقت کی قدر کرنے والے دارالعلوم دیوبند کے مایۂ ناز شاگرد تھے،اور پھر جو نسبتیں ان کا نصیبہ بنیں،مغربی راجستھان کی حد تک تو وہی ان نسبتوں کے خاتم بھی ٹھہرے۔مولانا مرحوم کے بعد،دارالعلوم دیوبند میں تعلیمی دورانیہ طے کرنے والے مولانا دوست محمدصاحبؒ مہتمم اول دارالعلوم پوکرن،مولانا حسن صاحب،مولانا حسین صاحب متوطن حاجی خاں کی ڈھانی پوکرن وغیرہ حضرات ہیں اور ان حضرات کے داخلۂ دارالعلوم کے وقت وہ اکثر شخصیات دارالعلوم سے مستعفی ہو چکی تھیں،جن کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرنے کا شرف مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ کو حاصل ہوا تھا۔

دارالعلوم دیوبند کے دو تین سالہ دورِ طالب علمی میں، مولانا علاٶالدین صاحب مرحوم نے اپنے جملہ اساتذہ سے خادمانہ تعلق برقرار رکھا اور سب ہی کے یہاں وقتاً فوقتاً حاضری دیتے رہے؛لیکن آپؒ کی عقیدت و محبت کا اصل مرکز،خاتم الفقہا ٕ والمحدثین علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی ذاتِ اقدس تھی،جن کی درسی و علمی مجالس میں شرکت آپؒ کی عادتِ ثانیہ تھی،انہیں علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ کے درس میں عبارت خوانی کے مواقع خوب حاصل ہوے،شاہ صاحبؒ کے درس میں عبارت خوانی کا یہ شرف اس بات کا غماز ہے کہ مولانا علاٶالدین صاحبؒ کو باری عزاسمہ نے،ان کی کوششوں میں خاطرخواہ کام یابی عطا فرماٸی تھی اور انہوں نے وقت کے ایک ایسے عظیم اور مثالی شیخ و محدث کا اعتماد حاصل کیا تھا،جن کے قوت حافظہ و تبحرعلمی کا شہرہ غیرمنقسم ھندوستان،عرب،ایران،عراق،افغانستان،چین،مصر،جنوبی افریقہ،انڈونیشیا اور ملاٸشیا وغیرہ کٸی ممالک تک ممتد تھا۔ شاہ صاحب کا قرب و اعتماد ان کے جن جن تلامذہ کو حاصل ہوا،لا ریب میدانِ عمل میں ان سے لاٸقِ رشک دینی و علمی اور قومی و ملی خدمات ظہور پذیر ہوٸیں۔شاہ صاحبؒ کے ایسے نیک نام اور بافیض تلامذہ میں مولانا جودھپوریؒ کا اسمِ گرامی بھی شامل ہے۔

مولانا علاٶالدین صاحب مرحوم کا دارالعلوم دیوبند کا سہ سالہ دورِطالب علمی،١٩٢٦ سے شروع ہوکر ١٩٢٨ عیسوی پر ختم ہوا اور اختتام کا واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا،جس کے بارے میں مولانا مرحوم نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔دراصل ان تینوں ہی سال دارالعلوم دیوبند میں سخت اختلاف و انتشار کی فضا قاٸم رہی تھی۔علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے تقریباً ہر سوانح نگار نے اس دورِاختلاف اور اس کے کربناک نتاٸج کا اجمالاً یا تفصیلاً ذکر کیا ہے۔یہ واقعہ مکمل تفصیل کے ساتھ مولانا انوارالحسن شیرکوٹی پاکستانیؒ نے اپنی کتاب ”حیاتِ عثمانی“ میں درج فرمایا ہے،جو ان دنوں دارالعلوم میں طالب علم رہے تھے اور بہ قولِ خود ان تین چار سالوں میں پیش آنے والے واقعات میں شریک و شامل بھی رہے تھے؛چوں کہ شاہ صاحبؒ کی شخصیت اور ان کی چار پانچ سالہ بافیض صحبت نے،مولانا علاٶالدین صاحبؒ کے افکار و خیالات اور ان کے رجحانات و احساسات پر بڑے گہرے صالح و مثبت اثرات و نتاٸج چھوڑے تھے،نیز مولانا علاٶالدین صاحبؒ کی سیرت و کردار کا عروج و ارتقاء بھی انھی کی کوششوں اور دعاٶں کا رھینِ منت تھا اور وہی دراصل ان کے سفرِ دیوبند پر جانے اور پھر دارالعلوم میں پیش آمدہ قضیۂ نا مرضیہ کے بعد جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈھابیل منتقل ہونے کا واحد سبب بنے تھے؛اس لیے ان کے اس عظیم محسن کے علمی و دینی احسانات کے پیشِ نظر اور ثانیاً ریکارڈ کی درستگی کے لیے وہ اختلافی واقعہ بڑے ہی اختصار کے ساتھ کچھ اپنی اور کچھ مولانا انظرشاہ کشمیریؒ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم و دارالعلوم وقف دیوبند کی زبانی سنایا جاتا ہے اور شاہ صاحبؒ کی حیاتِ طیبہ کے جامع مطالعے کے شاٸق،باذوق ارباب علم و فضل کے لیے ،شاہ صاحبؒ پر لکھی گٸی بیس کے قریب کتابوں میں سے،نو کتب اور ان کے مصنفین کے اسماۓ گرامی پیشگی پیشِ خدمت ہیں،جو حسبِ ذیل ہیں:

<١> نفحة العنبر فی حیاة امام العصر الشیخ انور
تالیف:مولانا محمد یوسف البنوری

<٢> العلامہ محمد انور شاہ الکشمیریؒ فی ضوء انتاجاتہ الادبیة و العلمیة
تالیف:السید شاھد رسول کاکاخیل

<٣> سوانح علامہ کشمیریؒ [انگلش]
تالیف:مولانا یونس قاسمی

<٤> نقشِ دوام
تصنیف:مولانا انظر شاہ کشمیریؒ

<٥> جمالِ انور تذکرہ و سوانح علامہ انور شاہ کشمیریؒ
تصنیف:مولانا عبدالقیوم حقانی

<٦> انوارِانوری
تصنیف:مولانا محمد انوریؒ

<٧> انوارالسوانح حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ حیات و خدمات
تصنیف:ڈاکٹر غلام محمد کھچی

<٨> امام العصر علامہ سیدمحمد انور شاہ کشمیریؒ
از:مولانا عبدالحلیم چشتی

<٩> حیاتِ انور[مجموعہ مضامین]
مرتب:سید ازھر شاہ قیصر

آمدم برسرِمطلب:١٩٢٥ عیسوی کے آخر میں بعض انتظامی امور سے متعلق، اختلاف کا آغاز ہوا،جو شدہ شدہ شدت اختیار کر گیا اور آخر یہی اختلاف،بعض جلیل القدر علماء اور ان کے لاٸق و فاٸق شاگردان کی دارالعلوم سے علٰحدگی پر منتج ہوا۔

دارالعلوم کی اس عہد کی روداد میں اس اختلاف کا ذکر ملتا ہے۔

مولانا حبیب الرحمٰن عثمانیؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند،١٩٢٥ عیسوی کی روداد میں لکھتے ہیں:

”روداد ١٣٤٤ ھجری مطابق ١٩٢٥ عیسوی سے معلوم ہو چکا ہے۔اس سال ایک عظیم الشان فتنہ دارالعلوم میں رونما ہوا اور ١٣٤٥ ھجری مطابق ١٩٢٧ عیسوی میں بھی وہ فتنہ برابر جاری رہا“

اسی کا ذکر کرتے ہوۓ آگے لکھتے ہیں:

”یہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ دارالعلوم کے خوش کن حالات تو لکھے جاٸیں اور رنجیدہ واقعات پر پردہ ڈال دیا جاۓ;اس لیے گو رنجیدہ واقعات کا اظہار کتنا ہی خلافِ طبع اور ناگوار ہو،مگر ہم روداد کے صفحات ان حالات سے خالی نہیں چھوڑ سکتے“

اختلاف کا دورانیہ تو خاصا طویل ہے،بہ قول مولانا شیرکوٹیؒ اس کی مدت آٹھ سال کے قریب ہے؛مگر شدید اختلاف کا دور،آخر کے تین سال ہیں،ان تین سالوں میں ایسے واقعات رونما ہوے،جنہیں انتظامیہ کی کم زوری پر محمول کیا گیا اور یہ کوٸی باعثِ تعجب چیز نہیں کہ ہر اھتمام اپنے جلو میں ایسے واقعات کم یا زیادہ لیے ہوتا ہے،اپنے محدود مطالعے کی روشنی میں عاجز کو اب تک ایک بھی مثال کسی عہد و صدی کی ایسی نظر نہیں آ سکی کہ کسی عصری یا دینی تعلیم گاہ کے ناظم و مہتمم کے سارے ہی اقدامات حق بہ جانب قرار دیے گۓ ہوں اور اس کا دورِ انتظام و اھتمام نقاٸص سے یکسر خالی رہا ہو۔بعض اوقات یہ صورتِ حال غلط فہمی اور حقاٸق سے نا آشناٸی کا نتیجہ ہوتی ہے اور بعض دفعہ اس کا مبنی حقیقت و صداقت پر قاٸم ہوتا ہے۔ٹھیک یہی دور ہے،جب مولانا شبیراحمد عثمانیؒ نے ١٧ نکات پر مشتمل ایک تحریر لکھی،جس میں دارالعلوم کے انتظامی امور سے متعلق اہم اصلاحات درج تھیں،یہ تحریر علامہ انور شاہ صاحبؒ اور مفتی عزیزالرحمٰن عثمانیؒ کے تاٸیدی دستخط کے ساتھ ١٩٢٧ عیسوی میں منعقدہ شوری کے اجلاس میں پیش کی گٸی اور جزوی طور پر اس پر عمل درآمد بھی ہوا۔دارالعلوم کی روداد ١٣٤٥ ھجری مطابق ١٩٢٧ عیسوی میں،مولانا شبیر احمد صاحبؒ کی پیش کردہ ان ٧١ تجاویز کا پورا متن موجود ہے۔مفتی فضیل الرحمٰن ہلال عثمانی مدظلہم کی تالیف ”حیاتِ عزیز“ میں اسے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

١٩٢٥ عیسوی کے آخر میں طلبۂ دارالعلوم کا،دارالعلوم کے ناظمِ مطبخ مولانا گل محمد صاحبؒ کے ساتھ باہم دست و گریباں ہونے کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔امتحان کی نگرانی کا عمل بھی ان سے متعلق تھا اور اس حوالے سے بھی وہ کافی سخت گیر واقع ہوے تھے اور یہ بھی آپسی چشمک کی ایک بڑی وجہ تھی۔ اس حادثے کے بعد دارالعلوم کے چند طلبہ کا اخراج کیا گیا۔اس اختلاف نے بعد میں افسوس ناک صورت اختیار کرلی اور طلبہ نے اپنے قدیم مطالبات کی تعمیل و تکمیل کا پرزور مطالبہ کیا۔

١٩٢٧ عیسوی میں دارالعلوم میں شوری کا اجلاس ہوا اور اس مرتبہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ صدرالمدرسین و رکن مجلس شوری دارالعلوم دیوبند کی جانب سے،مفتی عزیرالرحمٰن عثمانیؒ کے تاٸیدی دستخط کے ساتھ ایک تجویر اراکینِ شوری کی خدمت میں پیش ہوٸی۔یہ تجویز مولانا شبیراحمد عثمانیؒ،مولانا حسین احمد مدنیؒ اور مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب شاہ جہاں پوری ثم دھلویؒ کے مجلسِ شوری کا رکن بناۓ جانے سے متعلق تھی۔

یہ تجویز اکثر اراکینِ شوری کی تاٸید حاصل نہ ہو سکنے کی بنیاد پر مسترد کر دی گٸی۔بہ قول شخصے”دراصل اختلاف کا نقطہ آغاز یہی بات ہوٸی“۔دونوں ہی جانب کے اکابر علماء کے احوال و واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہر طرح اس اختلاف کو ختم کرنے کے حق میں تھے،اس کا ثبوت اس خط سے بھی فراہم ہوتا ہے،جو تقسیمِ ھند و پاک کے بعد شیخ الھند کے کراچی میں واقع دولت خانے سے برآمد ہوا،جس پر علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ،مفتی عزیزالرحمٰن عثمانیؒ اور خود علامہ شبیراحمد عثمانیؒ کے دستخط ثبت ہیں،تحریر مولانا عثمانی کے قلم سے ہے اور اس میں مصالحت کی بھرپور تاٸید و ترجمانی کی گٸی ہے۔

وہ مکتوب درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بعدالحمد و الصلوة والسلام علی نبیہ الکریم

چوں کہ دارالعلوم دیوبند کے اختلافات و مناقشات نہایت ہی ناخوشگوار صورت اختیار کر چکے ہیں،جس میں دارالعلوم کے لیے نقصان عظیم ہے؛اس لیے ہم نے بارہا یہ چاہا اور کوشش کی کہ کوٸی معقول و معتدل اور طمانینت انگیز صورت اس نزاع اور اختلاف کے ختم کرنے کی نکل آۓ;چناں چہ اس سلسلے میں کٸی مرتبہ جدوجہد ہوٸی جو ناکام یاب رہی۔اب ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس اختلاف و نزاع کے تمام کرنے کی بہترین صورت تحکیم ہے،یعنی کوٸی ایسا بے لوث شخص جس پر فریقین کو دیانةً پورا اعتماد ہو،اس کو حکم ٹھہرا لیا جاۓ۔بنابریں ہم تینوں جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں،اس بات میں عالی جناب خواجہ ابوالمتین شیخ رشیداحمد صاحب میرٹھی ممبر دارالعلوم دیوبند کو بہ صدق و دل حکم قبول کرتے ہیں۔اگر مجلس شوری اور حضرت سرپرست صاحب دارالعلوم بھی اس تحکیم کو قبول فرمالیں،تو جو فیصلہ امور متنازع فیھا کا شیخ صاحب ممدوح فرماٸیں گے،ہمیں اس کے ماننے میں کسی طرح کا انکار نہ ہوگا۔اگر شیخ صاحب ممدوح اپنے ہمراہ کسی دوسرے صاحب کو بھی فریقین کے بیانات سننے اور حالات کی تحقیق کرنے میں شریک فرماٸیں،تو ہم کو اس میں بھی کوٸی عذر نہیں ہے“

عزیزالرحمٰن عفی عنہ
محمد انور عفا اللہ عنہ
شبیراحمد عثمانی عفااللہ عنہ
١٩ شوال ١٣٤٦ ھجری مطابق ١٩٢٧ عیسوی

غرض اکابرین کی جانب سے رفعِ نزاع کی ہر ممکن کوشش کی گٸی؛لیکن قادرِمطلق کے یہاں کچھ اور ہی منظور و مقدر تھا۔یہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔نامعلوم اسباب کے تحت،طلبہ کے مطالبات بھی ہنوز پورے نہیں کیے جا سکے تھے،جن میں سے بعض مطالبات بڑے حساس اور اہم تھے۔نتیجتاً ١٩٢٧ کے نصف آخر میں طلبہ نے اسٹراٸک کر دی اور سالانہ امتحان کے باٸیکاٹ کا اعلان کر دیا۔١٩٢٨ عیسوی کے آخر یا ١٩٢٩ کے اواٸل میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ،مولانا شبیراحمد عثمانیؒ،مفتی عزیزالرحمٰن عثمانیؒ،مولانا سراج احمد صاحبؒ،مولانا محمد ادریس صاحب سکروڈھویؒ،مولانا بدرعالم صاحب میرٹھیؒ،مولانا مفتی عتیق الرحمٰن عثمانیؒ اور بہت سے طلبۂ دارالعلوم،جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈھابیل منتقل ہو گۓ اور اس طرح ڈھابیل سملک ضلع سورت کی وہ غیر معروف بستی علم و روحانیت کا ایک عظیم مرکز بن گٸی اور اس کی یہ مرکزیت تادمِ تحریر باقی و برقرار ہے۔

نقشِ دوام میں مولانا انظر شاہ صاحب کشمیریؒ لکھتے ہیں:

”دیوبند میں حضرت شاہ صاحب کا وفورِعلم پورے شباب پر تھا کہ بدقسمتی سے دارالعلوم دیوبند میں ایک شورش برپا ہوٸی،جس کی تفصیلات دردانگیز ہیں۔اس فتنے کا اثر حضرت مرحوم کے قلب پر آخر تک رہا اور شاداب صحت کو ایک گھن لگ گیا۔بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ علم کے اس آفتاب منیر کو ہنگامۂ دارالعلوم اور فتنۂ قادیانیت نے وقت سے پہلے غروب کر دیا۔اس دور میں آپ کو دیکھنے والے اس کی تصدیق کریں گے کہ غم و اندوہ کی ایک آگ آپ کے اندر سلگ رہی تھی،جس نے صحت کے ڈھانچے کو خاکستر کر دیا۔سن ١٣٤٥ ھجری میں استعفاء دے دیا اور ایک مرتبہ پھر ارادہ فرمایا کہ گوشہ نشین ہوکر امت کی خدمت دوسرے شعبوں میں کی جاۓ؛مگر جس علم کی شہرت اقصاۓ عالم میں پھیل چکی تھی،اس سے استفادے کی محرومی کوٸی کب برداشت کر سکتا،چناں چہ دیوبند سے علٰحدگی کے ساتھ ہی علماء اور اہلِ مدارس کے وفود آپ کی خدمت میں پہونچے۔مگر گجرات کی زمین اس سعادت کو لے اڑی اور معمولی مشاہرے پر ضلع سورت کی ایک بستی ڈھابیل کی دینی درس گاہ میں درسِ حدیث کی ذمے داری کو قبول فرما لیا۔اس دور میں گجرات کے بعض اکابر نے مبشرات بھی دیکھے؛چناں چہ مولانا احمد بزرگ جو جامعہ اسلامیہ کے پاک نہاد مہتمم گزرے ہیں،انہوں نے سن ١٣٤٦ ھجری رمضان المبارک کے آخری عشرے میں خواب دیکھا کہ سرورِکاٸنات ﷺ کی دہلی میں وفات ہو گٸی۔اس وحشت اثر خبر سے ایک پریشانی پھیلی ہوٸی ہے۔آنحضور ﷺ کا جسدِ مبارک جنازہ پر ہے،جسے ڈابھیل لایا گیا۔زندگی کے آثار جسد مبارک پر نمایاں ہو رہے ہیں،لیکن بیماری کا غلبہ ہے۔میں ارادہ کرتا ہوں کہ جسدِ اطہر کو حجرے میں منتقل کر دیا جاۓ اور میں آپ کے بدن مبارک پر حصولِ برکت کے لیے اپنا ہاتھ پھیروں۔جسدِمبارک اٹھایا جاتا ہے،تو جتنا اٹھایا جاتا ہے اتنا ہی تندرست اور صحت یاب ہوتا جاتا ہے،اگرچہ بعض حصوں کو اٹھانے میں بڑی دشواری پیش آٸی۔

مولانا احمد بزرگ نے اپنا یہ خواب دیوبند حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمٰن صاحب کو لکھ کر بھیجا اور تعبیر چاہی۔مفتی صاحب نے تحریر فرمایا کہ ”افسوس کہ علمِ حدیث ان اطراف سے رخصت ہوا اور اس کی نشأةِ ثانیہ ڈابھیل میں ہوگی“ جس وقت یہ خواب دیکھا اس وقت شاہ صاحب دیوبند سے جدا نہیں ہوے تھے؛لیکن دیوبند کا قرضۂ نامرضیہ شباب پر تھا۔جب آپ کی دیوبند سے علٰحدگی کا اعلان ہوا تو مولانا احمد بزرگ گجرات کا ایک ذی اثر وفد لیکر دیوبند پہنچے اور ڈھابیل کے لیے دعوت پیش کی،مولانا محمد بن موسی افریقی جو شاہ صاحب کے خصوصی خادم بلکہ فداکار عاشق تھے،ڈابھیل کے لیے آمادہ کرنے میں بہت کارآمد ثابت ہوے؛چناں چہ ان کے اصرار و خواھش پر ڈابھیل کا قیام منظور فرما لیا۔ڈابھیل کی غیرمشہور درس گاہ مرحوم کی تشریف آوری کے بعد ”جامعہ اسلامیہ“ کے نام سے مشہور ہوٸی۔علامہ کے دور میں طلبہ کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ تھی۔تمام ھندوستان سے کھنچ کر طلبۂ حدیث ڈھابیل پہنچنے لگے اور آپ کی شہرتِ علمی کی وجہ سے اس درس گاہ کو وہ مرکزیت حاصل ہوٸی کہ ”جامعہ“ منتخب مدارس میں شمار ہونے لگا۔سن ١٣٤٧ ھجری سے تا سن ١٣٥١ ھجری یعنی پانچ سال آپ نے مسلسل حدیث کا درس دیا۔تدریس کے علاوہ تبلیغ کے فریضے سے بھی غفلت نہ کی؛چناں چہ بہت سی بدعات و محدثات جو اہلِ گجرات کے رگ و ریشے میں داخل ہو چکے تھے،آپ کی جدوجہد سے ختم ہوے۔کتنے ہی لوگ تھے،جن کے دلوں میں دین اور علماۓ دین کی محبت پیدا ہو گٸی اور کتنی وہ زندگیاں ہیں جو آپ کی پاکیزہ ہم نشینی سے صفاٸیِ باطن کی پیکر بنیں۔کتنے ہی وہ دماغ ہیں،جن میں زھدوقناعت کے اثرات جاگزیں ہوے۔تسلیم کرنا ہوگا کہ گجرات کی زمین پر خیروبرکت،رشدوھدایت کی یہ ضیا پاشیاں مرحوم کی مساعی کا کرشمہ ہیں۔“

مولانا علاٶالدین قریشیؒ کا ڈابھیل میں دو سال تک قیام رہا اور بالیقین وہاں کے ولی صفت جبالِ علم اساتذہ کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرنے ہی کا اثر تھا کہ مولانا جودھپوریؒ کی تدریسی صلاحیت بے حد پختہ تھی۔علاقۂ پیپاڑ کے معمرعالمِ دین اور صاحبِ تذکرہ مولانا پیپاڑویؒ ہی کے خاندان کی ایک دوسری شاخ کے فرد مولانا شفیق صاحب مدظلہم نے دورانِ گفتگو اس حقیر کو بتایا کہ حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوری کے سانحۂ رحلت کے بعد ایک دفعہ حاجی صاحب مرحوم کے صاحب زادۂ گرامی حکیم محمد علی صاحبؒ نے مولانا پیپاڑویؒ کو جامعہ عربیہ میں تدریس کی دعوت دی تھی اور حاجی صاحب کی نسبت سے دونوں کے بیچ چوں کہ ایک حد تک بے تکلفی بھی تھی؛اس لیے حکیم صاحب نے ازراہِ مزاح فرمایا تھا کہ:حضرت آپ چوں کہ ایک زمانے سے عربی کتب کی تدریس سے دور ہیں،تو کہیں آپ کو ہماری یہ دعوتِ تدریس قبول کرنے میں کوٸی پس و پیش تو نہ ہوگا۔؟مولانا علاٶالدین صاحبؒ نے اس سوال کے جواب میں بے تکلف و برجستہ جو بات کہی،اس کا حاصل یہ تھا کہ وہ عربی کتب کے تدریسی شغل سے اب تک دور ضرور رہے ہیں؛لیکن اللہ کے فضل سے اپنے اکابر اساتذہ کی جوتیاں سیدھی کرنے کے طفیل انہیں جو کچھ حاصل ہوا،وہ اب تک جوں کا توں ذھن و دل میں محفوظ ہے اور یہ کہ وہ ابتداء سے انتہاء تک عربی و فارسی کی نصاب میں داخل تمام کتابیں بلا مطالعہ پڑھانے کی کامل قدرت رکھتے ہیں۔

علامہ یوسف بنوریؒ بانی جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاون کراچی،جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل کے اولین فارغ التحصیل علماء میں سے ایک ہیں۔مولانا علاٶالدین صاحبؒ ان کے درسی ساتھی تو نہیں تھے،ہاں البتہ ڈابھیل کے دو سالہ قیام کے دوران ان کے ساتھ رفاقت و قربت ضرور رہی اور یہ قربت علمی اعتبار سے بہت سودمند ثابت ہوٸی۔مولانا حکیم عبدالمجید نابینا صاحب لائلپوری مولانا جودھپوری کے درسی ساتھی تھے،جن کی قوت حافظہ پر خود شاہ صاحبؒ کو ناز تھا اور فرمایا کرتے تھے کہ "جب معلوم ہوا کہ امام ترمذی نابینا ہونے کے باوجود حافظِ حدیث تھے،تو حیرت ہوتی تھی؛لیکن اب ان حافظ عبدالمجید کو دیکھ کر وہ حیرت جاتی رہی”۔

جیساکہ ذکر آیا،علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی بہ حیثیت شیخ الحدیث جامعہ ڈھابیل منتقلی کا واقعہ ۱۳۴۵ھجری کے اواخر میں پیش آیا۔مولانا علاؤالدین صاحبؒ اس سال دارالعلوم کے سالِ ششم کے طالب علم تھے،پھر وہ اختلافی واقعہ پیش آیا،جس پر گذشتہ سطور میں مختصراً روشنی ڈالی گئی۔راقم سطور نے اس دورِاختلاف کا تفصیلی مطالعہ کیاہے،اختلاف کے وجوہ و اسباب،اس میں حصہ لینے والے ھندوپاک کے طلبہ کے نام،پھر آخر میں طلبہ و اساتذہ کی ایک معتدبہ تعداد کے جامعہ ڈھابیل ھجرت کر جانے اور اس کے ثمرات و برکات کا بیان بارہا نظر سے گزرا ہے؛مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تاریخِ دارالعلوم کے اس سلسلے کا دستیاب تحریری ریکارڈ مولاناجودھپوریؒ کے نام سے یکسر خالی ہے،اس کی بنیادی وجہ غالباً ان کی طولِ صمت اور خلوت نشینی کی عادت بنی اور ایسے خاموش طلبۂ دارالعوم کی ایک اچھی خاصی تعداد تھی،جنہیں شاہ صاحبؒ کی عقیدت ڈھابیل کھینچ لے گئی اور وہیں سے ان کی فراغت عمل میں آئی۔

مولانا پیپاڑویؒ نے قیامِ ڈابھیل کے دوسرے سال دورۂ حدیث پڑھنے کی سعادت حاصل کی،آپ کے رفقائے دورۂ حدیث میں متحدہ ھندوستان کے کئی ایسے طلبہ کے نام شامل ہیں،جن سے باری عزاسمہ نے دینِ متین کی خدمت کا لائقِ رشک کام لیا اور ھند و پاک کے علمی و دینی افق وہ حضرات آفتاب و ماھتاب بن کر چمکے۔مولانا عبدالقیوم صاحب راجکوٹی مدظلہم اور مفتی عرفان صاحب مالیگاؤں اساتذہ جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل کے دلی شکریے کے ساتھ،آپؒ کے پینتالیس رفقائے گرامی کے اسماء ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں:

۱ مولانا فضل کریم نواکھالی

۲ مولانا صالح چاٹگامی

۳ مولانا غلام محمد چترالوی

۴ مولانا احمدشاہ ہزاروی

۵ مولانا مقصود علی کمرلائی

٦ مولانا عبدالعزیز کمرلائی

۷ مولانا علی اعظم عمرپوری

۸ مولانا ریاض الدین بگراوی

۹ مولاناعبدالمجید[خورشیداحمد]لائل پوری

۱۰ مولانا علی نواز میمن سنگی

۱۱ مولانا عبدالاوّل سندھی

۱۲ مولانا فضل الرحمٰن نواکھالی

۱۳ مولانا مطیع اللہ ہزاروی

١٤ مولانا نعمت اللہ مرشدآبادی

۱۵ مولانا منصوراحمد نواکھالی

١٦ مولانا امین اللہ نواکھالی

۱۷ مولانا عبدالحی جونپوری

۱۸ مولانا محمد اسماعیل لاجپوری

۱۹ مولانا عبدالمجید نابینا لائل پوری

۲۰ مولانا محمد قلندرشاہ پشاوری

۲۱ مولانا مطلب الدین میمن سنگی

۲۲ مولانا عبدالصمد کمرلائی

۲۳ مولانا حامدحسن دیوبندی

(٢٤) مولانا علاؤالدین جودھپوری

۲۵ مولانا علی اعظم رتنپوری

٢٦ مولانا آفتاب الدین ڈھاکوی

۲۷ مولانا محمد یوسف شرقی منگلوری

۲۸ مولانا زین العابدین دیناجپوری

۲۹ مولانا عبدالرشید بجنوری

۳۰ مولانا محمود چاٹگامی

۳۱ مولانا عبدالکریم میمن سنگی

۳۲ مولانا عبدالرب بریسالی

۳۳ مولانا سراج الدین کچھاڑی

٣٤ مولانا عبدالقادر افریقی

۳۵ مولانا عبدالحی بنارسی

٣٦ مولانا مقبول احمد بریسالی

۳۷ مولانا رئیس الدین میمن سنگی

۳۸ مولانا دلیل الدین بریسالی

۳۹ مولانا محمد سعید لاجپوری

٤٠ مولانا اعجب الدین میمن سنگی

٤١ مولانا احمدابراھیم کھٹوری

٤٢ مولانا عبدالحق میمن سنگی

٤٣ مولانا عبدالعلی میمن سنگی

١٣٤٨ ھجری کے ان فارغین نے بخاری شریف و ترمذی شریف حضرت علاّمہ انور شاہ کشمیریؒ سے،مسلم شریف شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ سے اور دیگر کتبِ حدیث حضرت مولانا سراج احمد رشیدیؒ،حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمٰن عثمانیؒ اور حضرت مولانا بدرعالم میرٹھیؒ سے پڑھیں اور سب ہی فارغین کو جامعہ ھٰذا کی جانب سے کتاب نفائس الازھار انعام میں دی گئی۔

شاہ صاحب کے جامعہ اسلامیہ ڈھابیل کے پانچ سالہ زمانۂ قیام میں یہ دوسری جماعت تھی،جس نے اپنے علمی و مطالعاتی انہماک اور جہدِمسلسل کے ذریعے شاہ صاحب کا دل جیتا اور آگے چل کر مختلف شعبہ ہائے حیات میں علم و عمل کے وہ چراغ روشن کیے،جن کا سلسلہ نسل در نسل دنیا کے مختلف اطراف و اکناف میں جاری ہے اور ان شاءاللہ جاری ہی رہے گا۔

اس وقت جب کہ یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں،شاہ صاحب کا کوئی بھی شاگرد بہ قیدِحیات نہیں ہے۔تقسیم سے قبل آپ کے شاگردوں نے مختلف علاقوں کو خدمتِ دین کا میدان بنائے رکھا،
بعض نے یکے بعد دیگرے کئی ایسے علاقوں میں خدمت انجام دی،جو اب دو تین ملکوں میں منقسم ہیں۔تقسیم کے بعد جس نے جس ملک کو اپنایا،اس نے وہیں پر خدمتِ دین متین کا شغل جاری رکھا۔

مولانا علاؤالدین صاحبؒ نے کسی اور ریاست کا رخ کرنے کے بجائے، علاقائی ضرورت کے پیشِ نظر فراغت کے معاً بعد پیپاڑ کا قیام اختیار کیا۔مولانا نے اسّی یا اس سے کچھ زائد عمر پائی اور فراغت کے بعد سے تادمِ واپسیں پیپاڑ ہی میں دینی خدمات انجام دیتے رہے۔مولانا کی مضبوط تدریسی صلاحیت کی بنیاد پر انہیں بڑے بڑے مدارس کی جانب سے اپنے ہاں تدریس کی پیش کش کرنا بالکل قرینِ قیاس تھا اور یقیناً ایسا ہوا بھی ہوگا؛لیکن علاقۂ پیپاڑ کے خواص کے مطابق انہوں نے اہالیانِ پیپاڑ کی دینی رھنمائی کے لیے اپنے کو وقف کیے رکھا؛البتہ دارالعلوم العربیہ الاسلامیہ جودھپور اس کلیے سے مستثنیٰ ہے،جہاں مولانا مرحوم نے پانچ چھ مہینے عربی کتب کا درس دیا۔مولانا شفیق صاحب مدظلہم،مولانا حکیم محمدمسلم صاحب جودھپوری اور مولانا ظہور احمد صاحب جودھپوری وغیرہ متعدد احباب،دارالعلوم العربیہ الاسلامیہ جودھپور میں آپ کے شاگرد رہے ہیں،ان حضرات نے عربی دوم کے سال نورالایضاح،فصولِ اکبری اور پنج گنج مولاناؒ سے پڑھیں۔شرحِ وقایہ اور کنزالدقائق وغیرہ مختلف علوم و فنون کی کتابوں کی تدریس بھی آپ سے متعلق رہی تھی اور یہ چند ماہ کا ان کا قیامِ جودھپور طلبہ کے حق میں کسی نعمتِ غیرمترقبہ سے کم نہ تھا،جس کے انمٹ فوائد و منافع کا احساس و اعتراف،ان کے بہ قیدِحیات شاگردان رشیدان کو آج بھی ہے۔مولانا مرحوم کی ذات سے یہاں بھی بہت بڑا کام انجام پا سکتا تھا اور خود ان کی تدریسی صلاحیت بھی اس عمل کے تسلسل سے مزید جلاء پا سکتی تھی؛مگر انہوں نے ایک وقتی ضرورت کے تحت یہ دعوت قبول کی اور کسی حد تک اس ضرورت کی تکمیل ہو جانے پر،اپنے وطن مالوف منتقل ہو گئے۔پیپاڑ کے عوام بھی ان کی علٰحدگی پر کسی صورت تیار نہ تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مولانا مرحوم نے اپنے ہم وطنوں کی کامل اصلاح کی راہ میں کسی بھی ایسے اقدام کو ایک مانع سمجھا۔یہ وہ دور تھا جب نمازِ جنازہ پڑھانے والا دور دور تک نظر نہ آتا تھا،نمازِجنازہ کے انتظار میں دو دو تین تین روز تک مردے دفن نہیں ہو پاتے تھے اور بعض اوقات انتظار کا دورانیہ طویل ہو جانے پر بلا نمازِجنازہ مردے دفن کر دیے جاتے تھے۔مولانا مرحوم کی خدا مغفرت فرمائے،ان حالات میں انہوں نے ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر اپنی قوم کی ہرممکن دینی خدمت کی اور قوم کی جانب سے چندایک مواقع پر ناقدری و احسان فراموشی کے مظاہرے کے باوجود اپنے مشن پر دل و جان سے قائم رہے۔

جامع مسجد اور مسجد بیوپاریان میں مختلف اوقات میں امامت و خطابت کے علاوہ مدینۃ العلوم میں درس و تدریس کا کام ایک لمبے زمانے تک کیا۔مدینۃ العلوم کا ابتمام و انتظام بھی آپ سے متعلق رہا۔اس تاریک فضا میں مولانا مرحوم نے امامت و خطابت،دعوت و تبلیغ اور درس و تدریس کے ذریعے اپنی قوم کی جو مخلصانہ خدمت انجام دی،علاقے کے موجودہ مدارس و مکاتب اور دعوتی امور سے علاقائی لوگوں کا دلی تعلق،اسی کا طفیل و مظہر ہیں۔

آپؒ بڑے خوش نویس تھے،راقم کو ان کی قلمی تحریر کا نمونہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہے۔

بیت اللہ و مدینۃ الرسول حاضری کی خواھش ہر مومن کے دل میں موجزن رھتی ہے۔مولانا مرحوم اس حوالے سے بھی خوش نصیب واقع ہوے تھے،غالباً جوانی ہی میں ان کے سفرِبیت اللہ کی راہ ہم وار ہو گئی تھی،جس کی صورت یہ ہوئی کہ رنسی گاؤں کے باشندے حاجی رحیم بخش صاحب مرحوم نے مولانا مرحوم سے،اپنے متوفی صاحب زادے فتح محمد صاحب کی طرف سے حج بدل کرنے کی درخواست کی۔مولانا کی جانب سے فوری طور پر اس درخواست کو منظوری دی گئی اور متعینہ وقت پر سفرِحرمین کیا گیا۔حج بدل کے اس واقعے سے ذھن اس جانب ملتفت ہوتا ہے کہ اس سے پہلے وہ اپنے حج سے سبکدوش ہو گئے تھے۔

کم ہی لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ مولاناؒ قرآن کریم کے ایک جید حافظ تھے اور حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کی طرح تلاوتِ قرآن کا ان کے یہاں حددرجہ اھتمام تھا،آخر کے ضعف و عوارض کے سال چھوڑکر باقی ساری زندگی انہوں نے تراویح میں قرآن کریم سنایا تھا۔

اللہ تعالٰی نے انہیں بڑی محبوبیت و مقبولیت عطا فرمائی تھی،ان کی حینِ حیات باشندگانِ پیپاڑ نے اپنے ہر طرح کے مسائل کے حل کے لیے انھی کی ذات والا صفات کو مرجع قرار دیے رکھا،مدارس کے علماء و طلبہ نے بھی انہیں اپنے علمی سرپرست کے درجے میں رکھا،مولانا کی حیات میں پیپاڑ یا قرب و جوار کے علاقوں میں جب کسی عالمِ دین کی تشریف آوری ہوتی،تو پھر ایسا شاذ و نادر ہی ہوا ہوگا کہ وہ مہمان محترم ان کی زیارت و ملاقات کے بغیر واپس روانہ ہو گئے ہوں،احقر کے نانا مرحوم مولانا قاری محمد ھاشم صاحب خلیلی گومٹویؒ مدرسہ اصلاح المسلمین بیلاڑہ کے چودہ سالہ قیام میں،سلام و دعا کی غرض سے بارہا حضرتؒ کے یہاں تشریف لے گئے۔مولانا دوست محمد صاحب مہتمم اول دارالعلوم پوکرن،مولانا رشید احمد صاحب قاسمیؒ سابق صدرالمدرسین دارالعلوم پوکرن کی ان سے پیپاڑ میں ہونے والی ملاقاتوں کا تذکرہ بھی سامعہ نواز ہوا ہے،مولانا احمداللہ صاحب مدظلہم امام و خطیب تکیہ مسجد سبزی منڈی پیپاڑ بھی جن کا وطنی تعلق شایرپورہ کاپرڑہ سے ہے، آپؒ کے خصوصی متعلقین میں سے رہے ہیں اور انہوں نے ہی مولانا کے مشورے سے ١٩٧٦ یا ٧٧ عیسوی میں مدینۃ العلوم کی سابقہ اقامتی حیثیت بہ حال کرنے کی کوشش کی تھی اور تقریباً دو سال تک بیرونی طلبہ کا قیام و طعام مدرسے کی جانب سے جاری رہا تھا۔مولانا شفیق صاحب مدظلہم کی دعوت پر وہ پچیاک کے مدرسے بھی تشریف لے گئے۔مولاناؒ علاقائی و صوبائی مدارس کے عروج و ارتقاء کی خبریں سن کر خوش ہوتے تھے اور حوصلہ افزائی کے علاوہ منتظمین و مدرسین اور مبلغین و ائمہ کو اپنی بزرگانہ دعاؤں سے بھی خوب نوازتے تھے۔

مولاناؒ،ان کے والدماجد خدابخش صاحبؒ اور مولانا کے جملہ برادران نورمحمد صاحب،جناب محمد صاحب،اشرف علی صاحب،قمرالدین صاحب اور دیگر بہت سے افرادِخاندان پیپاڑ شہر کے قدیمی قبرستان میں مدفون ہیں۔مولاناؒ کے دو صاحب زادگان محمد اسلم صاحب اور ادریس احمد صاحب میں سے اول الذکر کراچی پاکستان ھجرت کر گئے تھے اور ان کی اولاد آج بھی وہیں سکونت پذیر ہے؛جب کہ ثانی الذکر ادریس احمد صاحب پیپاڑ ہی میں رہے اور یہیں آسودۂ خاک ہوے۔

اب ایک یادگار واقعے پر اس تحریر کو ختم کیا جاتا ہے،قاری حاجی محمد صاحب مدظلہم نائب مہتمم جامعہ خادم الاسلام بھاکری پیپاڑ کے والدبزرگوار عبداللہ صاحب مرحوم اس واقعے کے چشم دید گواہ تھے اور وہی اس کے راوی بھی،یہ بزرگ مولانا مرحوم کے خصوصی قدردانوں میں سے ایک تھے،مولانا مرحوم سے ان کی ملاقات و شناسائی کا عرصہ،ظاہر ہے کئی دھائیوں پر مشتمل رہا ہوگا،یہ بزرگ مولانا کے علمی و اصلاحی بیان سے استفادے کی غرض سے،جمعے کی نماز اکثروبیشتر جامع مسجد پیپاڑ ہی میں ادا کیا کرتے تھے۔عبداللہ صاحب کا بیان ہے کہ حسبِ معمول وہ ایک مرتبہ جمعے کے روز جامع مسجد پیپاڑ میں حاضر تھے اور مولاناؒ کا وعظ جاری تھا کہ دیہی علاقوں کے کچھ سندھی برادری کے لوگ اپنے مخصوس لباس و پوشاک کے ساتھ مسجد کے وضوخانے پر آئے اور انہیں دیکھ کر شہر کے مسلمانوں نے کچھ تفریحی جملے ادا کیے،جن کا خلاصہ کچھ اس طرح تھا کہ میلے کچیلے لباس ہی کے ساتھ مسجد میں آ حاضر ہونے کا ان سندھیوں کا حوصلہ باعثِ تعجب امر ہے اور یہ کہ انسانی اقدار اور ان کے پاس و لحاظ سے ان کا کوئی دور دور کا تعلق نہیں۔یہ تفریحی جملے مولانا مرحوم نے سنے،تو آپ نے سلسلۂ بیان کو موقوف کرکے،وضوخانے کے قریب کھڑے لوگوں کو مخاطب بناکر،وہیں منبر پر سے فرمایا کہ ان سندھی بھائیوں کے ساتھ تمسخرواستہزاء کا معاملہ نہ کیا جائے،میرے یہ بھائی خلوصِ دل کے ساتھ خدا کے گھر میں حاضر ہوے ہیں،انہیں اسی حال میں مسجد میں آنے دیجیے،ان کا خلوص ضرور رنگ لائے گا اور یہ نہ سہی ان کی نسل میں علماء و حفاظ اور دعاۃ و مبلغین پیدا ہوں گے اور ان کے ذریعے دین متین کی نشرواشاعت کا کام انجام پائے گا۔

قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید،اس مردِحق آگاہ کی زبان سے نکلی ہوئی یہ بات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔علاقۂ پیپاڑ میں آباد اس سندھی قوم نے مدارس و مکاتب کے قیام اور دین متین کی دعوت و تبلیغ کے حوالے سے جو عظیم قربانیاں پیش کیں،وہ راجستھان کی دینی و علمی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور اسی قوم کے بعض نوجوان علماء تحریری و تحقیقی میدان میں جس تسلسل و استقلال کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں،وہ تو ہم اہالیانِ راجستھان کے لیے باعثِ فخر اور لائقِ صدستائش چیز ہے۔

اللہ تعالٰی مولانا کی مغفرت فرمائے،ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور ان کی حسنات میں ہمیں ان کے کامل اتباع کی توفیق مرحمت فرمائے۔

٢٣ جولاٸی ٢٠١٩ عیسوی