ملک کے سنگین حالات کے پس منظر میں دعوت فکروعمل

پاسباں مل جائیں گے کعبہ کواسی صنم خانے سے

محمد الیاس ندوی بھٹکلی nadviacademy@hotmail.com

ہمارے ملک میں اندلس کی تاریخ کا ریہرسل :۔

آج سے نصف صدی قبل ہی مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ نے اپنی نگاہ بصیرت سے اس کی پیشین گوئی کی تھی کہ ہمارے ملک کی سرزمین پر اندلس کی تاریخ دہرانے کی پوری تیاری ہوچکی ہے،اگر مسلمان بالخصوص علماء اپنی فراست کا ثبوت دیتے ہوئے اس آنے والے طوفان بلاخیز پر بند باندھنے کی کوشش نہیں کریں گے اور امتِ مسلمہ کو خوابِ غفلت سے بیدار نہیں کریں گے تو انھیں اپنی آنکھوں سے اس ملک میں اندلس میں اسلامی حکومت کے خاتمہ کے بعد رونما ہونے والے دلخراش مناظر کو دیکھنے میں دیر نہیں لگے گی۔

ملک کے موجودہ ناگفتہ بہ حالات جس کی مثال ماضی قریب کیا ماضی بعید میں بھی نہیں ملتی اس پر جب ہم مفکر اسلامؒ کی مؤمنانہ پیشین گوئی کے تناظر میں نظر دوڑاتے ہیں تو ایک عام مسلمان اور مؤمن کی طرح ہم پر بھی افسردگی اور مایوسی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے، لیکن جب ہم عالم اسلام بالخصوص برصغیر کے مسلمانوں کی ماضی قریب کی تاریخ خاص کر 1857 ؁ء اورملک کی تقسیم و آزادی کے موقع پر مسلمانوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کے دل دہلادینے والے جو واقعات پیش آئے اس کا تجزیہ ملک کی موجودہ صورتِ حال سے کرتے ہیں تو یک گونہ اطمینان ہوجاتاہے کہ اس ملک میں ان شاء اللہ اندلس کی تاریخ دہرانا آسان نہیں ہے، جب مسلمانان ِہند اس سے بدتر حالات میں بھی اپنی ایمانی طاقت کے ساتھ الحمدللہ اس کا کامیاب مقابلہ کرکے دنیا کے سامنے اپنی مؤمنانہ زندگی کا ثبوت دے چکے ہیں تو ان شاء اللہ ان موجودہ تشویش ناک حالات میں بھی اپنی توحیدی شان کے ساتھ پھر ایک بار ابھر کردنیاکے سامنے آنے میں کامیاب ہوں گے اور اس ملک میں اپنے دینی تشخص کے ساتھ اپنے وجود کو ثابت کرنے میں بھی کامیاب ہوں گے۔

لیکن ماضی کے اور موجودہ حالات میں فرق ہے : ۔

لیکن ہمیں یہ بات بھی سمجھنا چاہیے کہ ہمارے ملک کے مسلمانوں کو ماضی میں درپیش حالات اور موجودہ صورتِ حال میں بنیادی فرق ہے،ماضی میں نشانہ مسلمان تھے اور اب اسلام ہے،سابق میں مسلمانوں ہی کو عملاً ختم کرنے اور ان کو پوری طرح جانی ومالی نقصانات سے دو چار کرنے کی منصوبہ بندکوشش کی گئی تھی اور اس میں ان کو تھوڑی بہت کامیابی بھی ملی تھی،لیکن اب وہ اس سرزمین سے مسلمانوں کے بجائے اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے 1857؁ء سے 1947ء؁ تک نوے سال کے وقفہ میں اور اس کے بعد بابری مسجد کی شہادت تک مسلمانوں کی جان ومال کو نشانہ بنایاگیاجس کے نتیجہ میں اس دوران وقفہ وقفہ سے رونماہونے والے فسادات میں جامِ شہادت نوش کرنے والوں کی تعداد مجموعی طور پر دس لاکھ کے آس پاس پہنچ گئی جو پوری اسلامی تاریخ میں بغیرجنگ کے کسی بھی ایک ملک میں یک طرفہ شہید ہونے والوں کی بہت بڑی تعداد تھی جس کی مثال ہمیں صرف بغداد میں تاتاریوں کے حملہ کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتی، اب صورت حال اس کے برخلاف ہے، عالم اسلام میں اب اسلام دشمن طاقتوں کو اندازہ ہوگیاہے کہ وہ قیامت تک اس سرزمین سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے تواس وقت یہ فیصلہ کیا گیاہے کہ ان کو عملاً نام کے مسلمان رکھتے ہوئے اندورن سے ان کی ایمانی قوت کو ختم کیاجائے یاپھرایمانی جذبہ کو کم ازکم سرد کرتے ہوئے انھیں صرف جسمانی اعتبار سے باقی رہنے دیاجائے ۔

ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ایک حدتک اس میں ان کو کامیابی بھی ملی ہے، چنانچہ عالمی سطح پر نظام تعلیم میں ایسی تبدیلی کی گئی ہے کہ ایک طرف اس سے اخلاقی انارکی بھی آئے اوردوسری طرف اس سے استفادہ کرنے والے طلبہ وفارغین یا تو اپنے مذہب سے دور ہوجائیں یا کم از کم اپنے گھر کی چہاردیواری تک اپنے دین کو محدود رکھیں اور مغربی تہذیب وثقافت کو اپناتے ہوئے خود ساختہ روشن خیالی اور ترقی کے نام سے وہ ایک دن خود اپنے دین کے باغی اور معترض بن کر سامنے آئیں،چنانچہ آج عالم اسلام بالخصوص عالم عرب میں جو نئی تعلیم یافتہ نسل حکمرانی کے فرائض انجام دے رہی ہے ان کے نظریات وافکار،اسلام پر ان کے اعتماد کی کمی، یہودو نصاریٰ سے ان کی قربت اوردین پسند تحریکات و اداروں اور اسلامی شخصیات سے ان کی دوری بلکہ نفرت اورالرجی ان ہی مذموم عزائم میں ان کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

ہمارے ملک میں بھی اسی کامیاب منصوبہ کو درآمد کیا گیا ہے :۔

عالم اسلام اور عالم عرب کی طرح ان یہود نواز تنظیموں اور صہیونی ومشنری اداروں کو تہذیبی یلغار اور فکری ارتداد کے حوالہ سے خود ہمارے ملک میں بھی غیر متوقع کامیابی مل رہی ہے،چنانچہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج سے دس سال قبل تک وقفہ وقفہ سے ملک کے کسی بھی صوبہ یا خطہ سے فرقہ وارانہ فسادات کی خبریں آتی تھیں لیکن آٹھ دس سال سے یہ سلسلہ تقریباًرک گیا ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اعلیٰ سطح پر موجود پالیسی ساز شخصیات اور یہودیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھنے والے برہمن واداداروں کو عالمی سطح پر ہونے والے اس کامیاب منصوبہ و تجربہ کو ہمارے ملک میں بھی درآمد کرنے میں کامیابی ملی ہے، چنانچہ اس ملک سے مسلمانوں کو ختم کرنے کی ناکام کوششوں کے بعدمسلمانان ہند وبرصغیر پر بھی اب اس آخری حربہ کو آزمایاگیا ہے جس کے مطابق مسلمان نام کے مسلمان رہ جائیں اور چاہے تو نماز،روزے اور حج وزکاۃ کے بھی پابندرہیں لیکن زندگی کے مختلف شعبوں اور انفرادی و اجتماعی زندگی میں اپنے ملّی تشخصات کو چھوڑکراپنے دین کے زیراثر رہنے کے ارادوں اورخیالات سے دستبردار ہوجائیں اور ایک ایسے متحدہ کلچر میں ضم ہوجائیں جس میں ایمان تو دور کی بات اخلاق اورحیاکا بھی دوردور تک نام ونشان نہ رہے۔

اسلام دشمن طاقتوں کو اس معاملہ میں مجموعی طور پر ماضی قریب میں اتنی کامیابی نہیں ملی ہے جتنی ان کو پچھلے دس سالوں میں عالم اسلام بالخصوص برِصغیر میں ملی ہے،جس کے نتیجہ میں ادھر چندسالوں میں فکری ارتداد والحاد کے جوواقعات مسلم معاشرہ میں پیش آئے ہیں وہ پچھلے پچاس سالوں میں پیش نہیں آئے ہیں، اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ 2005ء؁ تک اسلام کے عائلی قوانین کے خلاف عدالتوں میں رٹ داخل کرنے والے اکثر غیر مسلم ہوا کرتے تھے اور اس میں اکاّدکاّہی کوئی مسلمان ہوتا تھا،لیکن اب حال یہ ہے کہ مسلم پرسنل لا بو رڈ کروڑوں کے صرفہ سے جن عائلی قوانین کے سلسلہ میں عدالتوں میں مقدمات کا سامناکررہا ہے وہ اکثر خود ہمارے مسلمان بھائی بہنوں کی طرف سے داخل کردہ ہیں، اسی طرح اسلام پر اعتراضات کرنے والے ٹی وی چینلوں کے ڈیبیٹ میں اس وقت غیرمسلموں سے زیادہ ہمیں خود عصری تعلیم یافتہ مسلم مرد وخواتین نظر آرہے ہیں۔

ہمارے ملک میں اسپین کی تاریخ دہرانا ناممکن نہیں مشکل ضرور ہے :۔

اس احساس کے باوجود کہ ہمارے ملک کو دوسرا اسپین بنانے کی بڑی حکمت عملی کے ساتھ منصوبہ بندی کی گئی ہے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز بھی ہوچکاہے لیکن تاریخ کے جن طالب علموں کی اسپین میں مسلمانوں کے انخلا کے وقت اس وقت کے وہاں کے دینی واخلاقی حالات اور ہمارے ملک کی موجودہ صورتِ حال پر نظر ہے ان کا کہنا ہے کہ دونوں جگہ کے حالات میں بنیادی فرق ہے جس کی بنا پر ہندوستان میں اس تاریخ کو دہرانے کاقوی امکان تو ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں، مسلمانوں کواسپین سے ہجرت کرانے اور اپنے دین سے دستبردار کرانے میں کامیابی ان کواس لیے ملی تھی کہ وہاں اس وقت علما اور عوام کا آپسی ربط نہ ہونے کے برابر تھا،مذہبی قائدین خودآپس میں دست وگریباں تھے اور فقہی مسالک کو مذہب کا درجہ دیے ہوئے تھے، آپسی انتشار وافتراق اور گروہ بندی آخری حد تک پہنچ گئی تھی جس کی وجہ سے عوام دینی قیادت سے بدظن تھے،شریعت کے تحفظ میں اہم رول اداکرنے والے دینی مدارس کا وجودوہاں اُس وقت نہ ہونے کے برابر تھا، نئی نسل کے ایمان پر باقی رکھنے کی کوششیں بھی جو دینی مکاتب کی شکل میں ممکن تھیں نہ ہونے کے برابر تھی، دوسری طرف غیر اسلامی تہذیب جس طرح خاموشی سے مسلمانوں کے اندرون سے ایمان وتوحید کو کھوکھلاکررہی تھی اس کا احساس عوام تو عوام خواص کوبھی نہیں تھا اور نہ اس کے سدّ باب کے لیے اجتماعی کوششیں ہورہی تھیں، برادرانِ وطن تک دین کے پیغام کو پہنچانے اور ان میں اسلام کا تعارف کرانے کا دعوتی کام بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔

لیکن اس کے برخلاف الحمدللہ ہمارے ملک کوہزاروں کمیوں اور کوتاہیوں کے باوجودجس کا ہمیں خود الحمدللہ احساس بھی ہے اور اعتراف بھی، اب تک اس ناگفتہ بہ صورتِ حال سے مجموعی طور پر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے محفوظ رکھا ہے، اسپین میں ان کوکامیابی اس لیے بھی ملی تھی کہ ایک طرف خارج میں دشمنوں کی حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی تھی تو دوسری طرف اندرون میں اس کے لیے میدان بھی ہموار تھااور زمین بھی نرم تھی، ہمارے یہاں اگرچہ اس کے لیے نہ صرف کوششیں ہورہی ہیں بلکہ اسپین سے زیادہ بڑے پیمانے پر اور بڑی چالاکی اور مکاّری سے اس کو عملی جامہ پہنانے پر توجہ بھی مبذول کرائی جارہی ہے، لیکن ہزار کوششوں کے باوجود ان کو اس میں کامیابی کا ملنا ناممکن نہیں تو بہت دشوارضرورہے، اس لیے کہ ہمارے ملک کے طول وعرض میں الحمدللہ دینی مدارس کا جال مضبوط اسلامی قلعوں کی شکل میں آج بھی موجود ہے جس کی مثالیں پورے عالم اسلام میں اس وقت نہیں ملتیں، دین وشریعت سے عوام وخواص کو مربوط رکھنے میں اہم رول ادا کرنے والی سدّسکندری کی طرح قائم یہ ایمانی چہاردیواریں اور تحفظ ِ شریعت کے مراکز جس کی اہمیت کا اندازہ ہم سے زیادہ ہمارے دشمنوں کو ہے اپنا دعوتی فریضہ کسی نہ کسی صورت میں انجام دے رہے ہیں،اسی کے ساتھ دین اسلام کو انحرافی نظریات سے محفوظ رکھنے اور نت نئے فتنوں کے تعاقب کا فریضہ بھی ہمارے یہی دینی مدارس کے فارغین ہی انجام دے رہے ہیں، الحمدللہ علماء پر عوام ہی نہیں خواص کا بھی اعتماد ابھی بھی باقی ہے، ان کی ایک آواز پر لاکھوں کا جو مجمع آج بھی اپنے دین کے تحفظ کے لیے میدان میں آکر اپنی زندگی کا ثبوت دیتا ہے اس کا تصور اس وقت آپ کسی اسلامی ملک میں بھی نہیں کرسکتے، اپنے ہزار مسلکی اختلافات کے باوجود دینی حلقوں اور مذہبی قیادت میں آج بھی ملت کے مشترکہ مسائل میں تال میل کسی نہ کسی صورت میں پایاجاتا ہے، علماء اوردینی قیادت پر امت کا یہی اعتماد، ان دینی مدارس اوراسلامی قلعوں کی برکت سے مسلمانوں کا توحیدِ خالص کے ساتھ اپنی شریعت پر زندہ رہنے کا یہی پختہ عزم اور شریعت سے ان کی وابستگی ووارفتگی کی یہی عظیم نعمت دشمنوں کی نظر میں اس وقت کھٹک رہی ہے، ان کو اب یقین ہوگیا ہے کہ ہم اس ملک میں اسلام کو زندہ رکھنے والے ان مدارس کے پھیلتے اس وسیع جال کو نہ ختم کرسکتے ہیں اور نہ علما ء سے عوام کے اس مستحکم ربط کو ختم کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں، اس لیے اب ان کی کوششیں یہی ہیں کہ کم از کم دینی قیادت پرعوام وخواص کے اعتماد میں خاموشی سے کمی لانے کی کوشش کی جائے اور دینی مدارس سے عوامی ربط کو کمزور کیا جائے اور خود ان مدارس کو خالص دینی تعلیم کے بنیادی مقصد سے ہٹا کر عصری تعلیم کی آمیزش کے ساتھ اس کی حقیقی روح سے اس کو دور کرکے برائے نام مدرسہ یا جامعہ رہنے دیاجائے۔

اس پورے پس منظر میں اب برصغیر کے مسلمانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اگر اپنے اس ملک میں اسپین کی تاریخ کو دہرانے سے اس کو بچاناچاہتے ہیں تو اپنے ان مدارس ومکاتب اور دینی قلعوں کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اس کو پہلے سے زیادہ مستحکم ومضبوط کریں اور دشمنوں کی چالوں کو سمجھتے ہوئے مدارس کی روح کو باقی رکھتے ہوئے اس کو اپنے حقیقی وبنیادی مقاصد سے ہٹنے نہ دیں۔

ہمیں اپنی دعوتی کوتاہیوں کا بھی جائزہ لینا ہے :۔

عالم اسلام کے ان تشویشناک حالات اور خود اپنے ملک کی ناگفتہ بہ صورت حال میں اسپین کی تاریخ کے مطالعہ کی روشنی میں ہمیں اب ان کو تاہیوں اور غفلتوں سے بھی بچ کر رہنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے الحاد وارتداد کی شکل میں وہاں اللہ کا عذاب نازل ہواتھا،تاریخ بتاتی ہے کہ دعوتی فرائض سے غفلت اوربرادران ِ وطن تک اسلام کا پیغام نہ پہنچانا ان کا سب سے بڑا اور بنیادی جرم تھا،آج ہم سے بھی اس ملک میں پھر وہی غلطی سرزد ہورہی ہے چنانچہ ہمیں شکوہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی طرف سے ظلم پر ظلم کے باو جود ان کی پکڑ کیوں نہیں ہورہی ہے اور ہم مظلوموں کے لیے آسمان سے اللہ کی مدد کیوں نہیں آرہی ہے، دراصل قرآن وحدیث کی روشنی میں ظالم وہ نہیں ہم ہیں اور مظلوم ہم نہیں وہ ہیں،عادۃاللہ یہ رہی ہے کہ جب بندگانِ خدا تک دعوت کاپیغام پہنچ جاتاہے اور وہ مسلسل انکار کر کے پھراہلِ ایمان پر ظلم کرتے ہیں توان کی پکڑ ہوتی ہے، اپنے ملک کے اسّی فیصد برادرانِ وطن کے تعلق سے اس وقت ہم اہلِ ایمان کیایہ کہنے کی پوزیشن میں ہیں کہ ہم نے توحید ورسالت کی عظیم امانت کو ان تک پہنچادیاہے یا کم از کم ان کی نظروں سے گزار دیاہے؟ یقینا ہم سب کا جواب نفی میں ہے،کتنے ہمارے مسلم سرمایہ دار، صنعت کار اور تجاّر ہیں جن کی ماتحتی میں سینکڑوں نہیں ہزاروں غیر مسلم برادرانِ وطن سالوں سے ان کی کمپنیوں میں خدمت انجام دے رہے ہیں یا ان کے تعلیمی وسماجی اداروں میں ملازمت کررہے ہیں، لیکن اس دوران کبھی ہم نے بھول کر بھی زندگی میں ایک دفعہ ہی سہی خود ان کی خیر خواہی کرتے ہوئے ان کوآخرت کے ہمیشہ ہمیش کے عذاب سے ڈرا کر شرک وکفر سے باز آنے کی ترغیب دی ہے؟ ہم فخرسے کہتے ہیں کہ ہماری دکانوں، آفسوں اور کمپنیوں میں ہمارے سامانِ تجارت کے خریدار مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم ہیں، ان کی گھریلو تقریبات میں ہم شریک ہوتے ہیں اور خوشی کی ہماری محفلوں میں وہ بھی آتے ہیں، لیکن کل قیامت میں جب انھیں شرک کی وجہ سے ہمیشہ ہمیش کی جہنم کی سزاملے گی اور اس موقع پر ہماراحوالہ دے کروہ اللہ تعالیٰ سے انصاف طلب کریں گے کہ اے اللہ! اگر ہمارے ان کے بھائیوں نے ایک بار ہی سہی آپ کے اس پیغام کو ہم تک پہنچایا ہوتا تو شاید آج ہمارے لیے یہ نوبت نہیں آتی،تواس وقت ہمارا کیا جواب ہوگا؟ یہ سوچ کر ہی ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

بعض خوش کن تجربات :۔

ہمیں ڈر لگارہتاہے کہ اگر ہم ان کو براہ ِ راست اسلام کی دعوت دیں گے تو اس کا منفی ردِ عمل ہوگا اور مسائل کھڑے ہوں گے، لیکن پوری اسلامی اور دعوتی تاریخ بتاتی ہے کہ خوش اسلوبی اور خلوص نیت سے جب اس فریضہ کو انجام دیا گیا تو اس کے نتائج حیرت انگیز طورپرخلاف توقع ہی سامنے آئے،سخت سے سخت دل انسان کے سامنے بھی جب حکمت کے ساتھ اسلام کا تعارف کرایا گیا تو ان کے دل پسیج گئے اوروہ یا توحلقہ بگوش اسلام ہوئے یا پھر ان کی اسلام کے تعلق سے غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا،خود ہمارے ملک کے ذیل کے بعض واقعات سے جس کا راقم الحروف خود عینی شاہد ہے ان مثبت دعوتی نتائج کی مزید وضاحت ہوسکتی ہے۔

اڈپی کرناٹک کا ساحلی ضلع ہے، پورے ملک میں برہمنوں کا سب سے بڑا مٹھ یہیں واقع ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ ہندوستان کے تقریباً تمام صدورا وروزرائے اعظم کسی نہ کسی بہانے یہاں ضرور حاضری دیتے ہیں،یہاں کے مذہبی رہنما وشویشھ تیرتھ سوامی جی کے تعلق سے یہ بات عام ہے کہ آخری درجہ کے متعصّب مذہبی رہنما ہیں، 1992ء کے آس پاس مخدوم گرامی مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی بھٹکل آمد کی مناسبت سے عوامی سطح پر ایک بڑا ساحلی اضلاع پرمشتمل پیام انسانیت کا جلسہ تھا، مذکورہ سوامی جی کے نام سے عوام کی بھیڑجمع ہوسکتی تھی اس لیے ہم نے ان کو بطورِ مہمان ِ خصوصی اس میں مدعوکرنے کا فیصلہ کیا لیکن ہمارے بعض ساتھیوں کا خیال ہی نہیں بلکہ اصرار تھا کہ ان کو مدعونہ کیا جائے اس لیے کہ وہ اگر جلسہ میں کوئی سخت بات کہہ دیں تو معاملہ الٹ سکتاہے،ہم نے اس امکانی ضرر سے بچنے کے لیے حضرت مولاناؒ سے اجازت لے کر بی جے پی کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر چترنجن جو بعد میں ممبر اسمبلی بھی بنے خود ان کے گھر میں جلسہ سے پہلے مفکراسلامؒ کی سوامی جی سے خیر سگالی ملاقات کا اہتمام کروایا،وقت مقررہ پر عصر سے قبل خوشگوار ماحول میں یہ ملاقات ہوئی،اس میں سوامی جی کے سامنے حضرت مولانا نے پیام ِ انسانیت کی تحریک پر روشنی ڈالی اور یہ بات صاف کردی کہ آج کے اس جلسہ عام میں ہماری گفتگو صرف انسانی واخلاقی پہلوؤں پر ہونی چاہیے، پھر حضرت مولانا نے پیام انسانیت کی تحریک کے پس منظر میں اسلام کا بھی مختصرتعارف کرادیا، اس سے سوامی جی بہت خوش ہوئے اور جاتے ہوئے خود حضرت مولانا سے پیر چھو کر آشیرواد لیا، پھر ایک دو سال کے بعد ہم نے ان کو ایک اور جلسہ میں جامعہ اسلامیہ بلایا،ان کے ساتھ احترام واکرام کا معاملہ کیا اورپورے مدرسہ کا دورہ کرایا،اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے ساتھ آنے والے اخباری نمائندوں نے دوسرے دن جامعہ، دینی مدارس اور مسلمانوں کے تعلق سے جو رپورٹیں شائع کیں اور مثبت مضامین لکھے وہ ہم لاکھوں روپیہ اشتہار دے کر بھی شائع نہیں کرسکتے تھے،سوامی جی سے مسلسل اس رابطہ اور ان کو اپنے یہاں بلاکر اعزاز واکرام اور تقریر کروانے کا فائدہ یہ ہوا کہ گزشتہ سال رمضان المبارک میں انھوں نے اپنے مٹھ میں مسلمانوں کو بلاکر افطار کی دعوت کی اور اپنے مندر میں ہی ان کے لیے مغرب کی نماز باجماعت کااہتمام کروایا،اس پرایک نہ تھمنے والا طوفان فرقہ پرستوں نے کھڑا کردیا، لیکن سوامی جی نے صاف کہہ دیا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے بلکہ اگلے سال بھی مسلمانوں کو بلاکر اس سے زیادہ اکرام کروں گا اور عملاً اس سال بھی انھوں نے افطارکے لیے مسلمانوں کو دوبارہ مدعوکرکے دکھایا،اب خود ان کے اپنے لوگوں کا کہنا ہے کہ سوامی جی کے بیانات پہلے کی طرح شدت والے نہیں رہے بلکہ مسلمانوں کے تعلق سے وہ ہمدردانہ وخیر خواہانہ خیالات کا اظہار کررہے ہیں.

چارسال قبل ہمارے شہر میں ملک کی ایک اہم تفتیشی ایجنسی کی ایک ٹیم مقیم تھی، ہمارے بعض ساتھیوں کے اصرار پر سابق مہتمم جامعہ حضرت مولانا عبدالباری صاحب ندوی ؒ کے ساتھ ہماری ان سے ملاقات ہوئی،دوسرے دن ہم نے ان کو جامعہ آنے کی دعوت دی، خصوصی طور پر شعبہ حفظ لے گئے اور وہاں موجود نابینا استاد حافظ محمد اشفاق صاحب سے وہ آیتیں پڑھوائیں جس میں کسی بھی ناحق انسان کو مارنے پر پوری انسانیت کو مارنے کی بات کہی گئی ہے،پھر ان کے سامنے ترجمہ کر کے اس کی تشریح بھی کی،اس پر اس پوری ٹیم کا کہنا تھاکہ اسلام میں ہرانسان کے احترام کے تعلق سے یہ حیرت انگیزباتیں ہم نے پہلی دفعہ سنیں،اس کے بعد ان کی تفتیشی کاروائی میں اس ملاقات کا صاف اثر ہمیں نظر آیا۔

تیسرا واقعہ ابھی تین چار سال قبل کا ہے،اس وقت کے نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری صاحب کی صدارت میں دہلی میں ایک بین المذاہب سیمینار تھا جس میں پڑوسی ممالک سری لنکا، بھوٹان اور نیپال وغیرہ کے مذہبی پیشوا بھی شریک تھے، میں خود بھی مقالہ نگار کی حیثیت سے اس میں مدعو تھا، لیکن مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی جھجک نہیں کہ پورے سمینار میں مدعو دوسرے مسلم نمائندوں سے زیادہ اچھی ترجمانی اسلا م کی سوامی لکشمی شنکر اچاریہ نے کی،انھوں نے توحید ورسالت کا تعارف کرتے ہوئے جہاد سے متعلق قرآنی آیات کی ایسی د ل نشیں تشریح کی کہ اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کابڑی حدتک ازالہ ہوگیا،یاد رہے کہ یہ وہی سوامی لکشمی شنکر اچاریہ تھے جنھوں نے دس بارہ سال پہلے قرآن مجید کی انیس یا بیس جہاد کی آیتوں کا حوالہ دے کر اسلام کے خلاف ایک سخت ترین کتاب لکھی تھی لیکن بعد میں کچھ اللہ کے بندوں نے ان سے ربط کرکے پورا قرآن مجید پڑھنے اور سیرت کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دی تووہ کچھ دنوں کے بعد اسلام کے سب سے بڑے وکیل بن کر سامنے آئے اور خود اپنی گزشتہ کتاب کی تردید کرتے ہوئے دوسری کتاب اسلام کے حق میں لکھ کر اپنے رجوع کا اعلان کیا، آج بھی جگہ جگہ وہ اسلام سے متعلق غلط فہمی دورکرنے والے بڑے مقرر بن کرہمارے درمیان موجود ہیں جس کا اندازہ یوٹیوب پر موجود ان کی تقاریر سے بھی ہوسکتاہے۔

چوتھا واقعہ بھی ابھی دو تین ماہ قبل کا ہے،دہلی میں برطانوی ہائی کمیشن سے میرے ایک شناسا کا فون آیا کہ برطانوی نائب سفیر کرناٹک کے ساحلی اضلاع کے سرکاری دورہ کے دوران مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی میں بھی حاضر ہوناچاہتے ہیں،میں نے ان سے درخواست کی کہ جب شہر آہی رہے ہیں تو ہمارے مدرسہ جامعہ اسلامیہ میں بھی ہم ان کو لے جائیں گے اور ایک استقبالیہ جلسہ رکھ کر مدرسہ اور اسلام کا بھی تعارف کرائیں گے، ہماری درخواست پر انھو ں نے دوگھنٹے کے بجائے چھ گھنٹہ کا وقت دیا، اکیڈمی اور علی پبلک اسکول کے دورے کے بعد ہم نے جامعہ کا دورہ کرایا، پورے کیمپس، مسجد اورکتب خانہ وغیرہ کے معائنہ کے بعداخیرمیں کانفرنس ہال میں ان کے اعزاز میں استقبالیہ جلسہ رکھاگیا، اس تاریخی ودعوتی موقع سے فائدہ اٹھانے کی جب الحمدللہ ذہن میں بات آئی تو خود میں نے استقبالیہ کلمات کے دوران ان سے مخاطب ہوکرکہا: جناب:۔ آج کی یہ کتنی خوبصورت، پُررونق اور یادگارتقریب ہے جس میں اکرام واعزاز کرکے آپ کی عزت افزائی کی جارہی ہے، کاش! مرنے کے بعد بھی جنت میں آپ کی اسی طرح عزت افزائی ہواور ہم اور آپ سب اسی طرح جنت میں بھی استقبالیہ تقریب میں شامل رہیں، پھر میں نے کہا جناب: مرنے کے بعد اس طرح کے اعزاز کے لیے آپ ہمارے سامنے صرف یہ مختصر جملہ دہرائیں کہ اللہ تعالی ہی خالق بھی ہے اور مدبّر بھی یعنی کائنات کے ذرہ ذرہ کے پیدا کرنے میں جس طرح وہ تنہاہے، اس کو چلانے میں بھی وہ اکیلاہے،الوہیت اور عبادت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں،آپ صرف یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں، اگر اس جملہ کو آپ ہمارے سامنے دہرائیں گے تو آپ کے حق میں کل مرنے کے بعد ہم خود گواہی دیں گے اور ہم سب جنت میں ان شاء اللہ ایک ساتھ ہوں گے، میں نے یہ کہتے ہوئے اسٹیج سے مڑ کر ان کی جانب دیکھا تو وہ زیرِ لب مسکرارہے تھے اور سرہلاکر غالباً اپنی آمادگی کا اظہار کررہے تھے،جلسہ کے بعد اخباری نمائندوں نے جب اس دورہ کے تعلق سے ان سے سوالات کیے تو انھوں نے صاف کہا ”یہاں آکر اسلام اور دینی مدارس کے تعلق سے میری غلط فہمیوں کا بڑی حد تک ازالہ ہوا،کسی بھی مدرسہ کا یہ میرا پہلا دورہ تھا“ واپسی میں ہم نے ان کو توحید ورسالت پر انگریزی میں کتابیں بھی دیں جس کو انھوں نے بڑی ممنونیت کے ساتھ قبول ہی نہیں کیا بلکہ مطالعہ کا وعدہ بھی کیا، کچھ اسی طرح کلمہ طیبہ کے اقرار کی دعوت ہم نے آج سے پندرہ سال پہلے ہمارے ملک کے نامور شاعر جگن ناتھ آزاد کو بھی ہمارے شہر میں ان کی آمد اور ان کے اعزاز میں جامعہ اسلامیہ میں منعقدہ جلسہ میں دی تھی۔

ایک اہم ترین دعوتی پہلو سے امت کی عمومی غفلت :۔

اس طرح کے خوش کن سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں واقعات کی روشنی میں جو پورے ملک میں وقتاً فوقتاً مختلف اداروں اورشخصیات وتحریکات کے ذریعے الحمدللہ روز سامنے آرہے ہیں ملت اسلامیہ ہندیہ کو اپنی اس اہم دعوتی ذمہ داری کا جائزہ لینا چاہیے جس کی طرف سے اب بھی عمومی غفلت برتی جارہی ہے، عالمی سطح پر بالعموم اور ملکی سطح پر بالخصوص الحمدللہ دعوتی میدان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے بڑے پیمانہ پر بہت اچھے کام ہورہے ہیں اور اللہ تعالی کے فضل سے اس کے بڑے اچھے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں لیکن افسوس کہ ایک اہم اور بنیادی دعوتی پہلو کی طرف ابھی ملت اسلامیہ کی توجہ بالعموم مبذول نہیں ہوئی ہے اور وہ ہے ” سربراہانِ مملکت اور امت کے حکمرانوں تک دعوت ِ دین پہنچانے کا فریضہ“، سیرت نبوی میں مکاتیب نبوی ایک مستقل باب ہے، عہد نبوی میں مسافت کی بے پناہ دوری کے باوجودرحمت عالمﷺنے اس وقت کے اکثر حکمرانوں اورعرب وعجم کے مختلف بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط کے ساتھ اپنے وفودبھی بھیجے اور ان تک براہِ راست توحید ورسالت اور آخرت کا پیغام پہنچایا،بعض سیرت نگاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کے جو دعوتی خطوط روانہ کیے گئے ان کی تعداد سو سے زائد تھی جن میں سرفہرست ایران،روم،مصر،حبشہ،یمامہ،بحرین اور یمن وشام وغیرہ کے حکمراں تھے جو مختلف عیسائی،یہودی اورمجوسی مذاہب سے تعلق رکھتے تھے، اس کے علاوہ مشرکین عرب کے قبائلی سرداران کوبھی آپ ﷺ نے دعوتی خطوط لکھے،ان خطوط کو لے جانے والے نمایاں سفراء وقاصدین میں حضرت دحیہ کلبیؓ، حضرت حاطبؓ بن ابی بلتعہ،حضرت سلیط بن عمرو اورحضرت شجاع بن وھبؓ اسدی وغیرھم کے نام ملتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ براہِ راست آپ ﷺ کے ان دور دراز علاقوں اور ملکوں میں نہ جاسکنے کے باوجود الحمدللہ عالمی سطح پر اسلام کا تعارف ہوگیا اور ان میں سے ایک بڑی تعداد نے اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو دائرہ اسلام میں داخل بھی کیا۔

لیکن افسوس کہ اس وقت امت کی طرف سے ہرطرح کے طبقات میں دعوتی کام کے باوجود یہ ایک اہم ترین شعبہ مجموعی طورپر پورے عالمِ اسلام میں تقریباًخالی ہی نظر آرہاہے، جب تک خلافت قائم رہی اور عثمانی ترکوں نے اپنی سادگی سے خلافت کی قباکو چاک نہیں کیا تو اس وقت تک عالمی سطح پر امت کی عمومی قیادت کے منصب پرفائز ہونے کی بِناپر یہ فریضہ ان ہی خلفاء سلطنت عثمانیہ کاتھا جس کو انھوں نے انجام نہیں دیا، لیکن اب تو عالمی سطح پر خلافتِ اسلامیہ کے نہ ہونے کی بنا پر مسلم وغیرمسلم ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ وہاں موجود علمااور دُعاۃ کا یہ فرضِ منصبی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی دعوتی حکمت کو اپنا کر عالمِ انسانیت کے ایک ایک حکمرانِ وقت،صدر ِ مملکت اور وزیر اعظم و بادشاہ وغیرہ تک اسلام کی دعوت پہنچائیں۔

خود ہمارے ملک میں علماء اور دینی ومذہبی قیادت کی اب یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کم از کم اپنے ملک کی حد تک ملکی وصوبائی سطح پر موجود سربراہوں،وزراء،گورنروں اور اعلیٰ سطحی قیادت سے بالواسطہ یا بلاواسطہ مل کران کو توحید کے پیغام سے آشناکرائیں۔

ان سے ملاقاتیں اپنے مسائل کو لے کر ہوتی ہیں، لیکن ان کے مسئلہ کے خاطر نہیں:۔ کم از کم اپنے ملک کی سطح پر ہی مذکورہ بالا دعوتی پہلوکے تعلق سے ہم غورکریں تو مجموعی طور پر پوری امتِ مسلمہ ہندیہ کو ہم قصوروار پائیں گے، سال بھر میں مختلف مناسبتوں سے اپنے ملک اورصوبہ کے حکمرانوں،وزراء اورممبرانِ پارلیمان وممبرانِ اسمبلی وغیرہم سے ہم یا ہمارے قائدین و علماء ملتے ہیں، اپنے مسائل لے کر ان کے پاس جاتے ہیں، مختلف اداروں کی طرف سے ان کے پاس جاکر اپنے مطالبات پر مشتمل میمورنڈم دیے جاتے ہیں، حتی کہ ہمارے بعض قائدین وعلماء کے ذاتی طور پر بڑے مناصب پرفائز ان حکمرانوں اور وزراء سے ایسے گہرے ذاتی تعلقات بھی ہیں کہ ان کے گھر شادی بیاہ وغیرہ کی تقریبات تک میں ا ن کی آمد ہوتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے ذاتی مسئلہ یعنی آخرت میں ہمیشگی کی آگ سے ان کو بچانے کے خاطر ان کی ہمدردی وخیرخواہی میں کبھی ہم نے ان سے ملاقات کی ہے؟ ہمارے ادارہ کی طرف سے کبھی خالص دعوتی مقصدلے کر کوئی وفدان کے پاس پہنچاہے؟ کبھی بھول کر بھی ہم نے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی ہے؟ کبھی ان سے مل کر اسلام کے فطری پیغام سے براہِ راست آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے؟ اس کا جواب یقینا نفی میں ہے، محشرکے میدا ن میں ہمارے یہی حکمراں اورقائدین اگر ہمارے علما ء اور دعاۃ کا گریباں پکڑ کر اللہ کے دربار میں یہ سوال کریں کہ اے اللہ: یہ حضرات دسیوں مرتبہ ہمارے دربار میں اپنے اور اپنی قوم کے ذاتی اورملّی مسائل کو لے کر حاضر ہوتے تھے، متعدد بار ان کی دعوت پر ہم خود ان کے اداروں میں بھی گئے تھے، لیکن اے اللہ! آپ کے ان بندوں نے کبھی بھول کر بھی ایمان واسلام کی حقانیت اور کفر وشرک کی قباحتوں کا ہمارے سامنے ذکر نہیں کیا،ہمارے پاس اس وقت کیا جواب ہوگا اور کس طرح ہم اپنی اس غفلت اور کوتاہی کی تاویل کرسکیں گے؟ یہ سوال ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور اس کے جواب کے لیے ہمیں ابھی سے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔

اعلیٰ سطحی قیادت تک دعوت پہنچانے کا ایک امکانی طریقہ :۔

ملک کے حکمراں طبقہ اور اعلیٰ سطحی قائدین تک ہمارا دعوت پہنچانے کافریضہ صرف اس حدتک ہے کہ کبھی ہم اپنے جلسوں میں ان کو مدعو کرکے قرآن مجید کے نسخے دیتے ہیں جس کو وہ بڑے احترام کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور اسی وقت ان کا سکریٹری یا محافظ اس کو اٹھاکر گاڑی میں رکھ دیتاہے اور وہاں سے وہ اس کواپنے سرکار ی بنگلہ کے کتب خانہ کی زینت بنادیتے ہیں، اسی طرح اسلام کے نام سے ہمارے یا ان کے جلسوں میں ان کی موجودگی میں جو زیادہ سے زیادہ ہماری تقریریں ہوتی ہیں وہ دفاعی انداز کی ہوتی ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے،دہشت گردی سے اس کا کوئی تعلق نہیں وغیرہ وغیرہ،لیکن ان کے تعلق سے ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ جلسہ یا ہمارے ادارہ میں ان کی آمد پرہمارا ہدیہ کیاہواقرآن مجید یا سیرت نبوی کا نسخہ ان کی نظر وں سے گزرا ہے اور اس میں موجودتوحید ورسالت اور آخرت کے عقلی دلائل کو انھوں نے پڑھا ہے یا اس کا مطالعہ انھوں نے کیا ہے، اس کے لیے ایک امکانی ترکیب ذیل میں دی جارہی ہے جس سے کم از کم یقینی طورپر ان کی نظروں سے ان شاء اللہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ وسیرت نبوی میں موجود اسلام کی معقولیت کے فطری دلائل گزرجائیں گے اور غیر جانب دار ہوکر اس کے مطالعہ اوراس پر غور کرنے سے ان کی ہدایت پانے کے ان شاء اللہ امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

ملک کے تمام بڑے حکمرانوں بشمول صدر ووزیر اعظم اور کابینی وزراء،صوبائی گورنرس،ممبرانِ پارلیمنٹ وممبرانِ اسمبلی،آئی اے یس اور آئی پی یس افسران وغیرہم کو اپنے ادارہ کی طرف سے اس طرح خطوط لکھے جائیں کہ ہم عالمی سطح پر ایک ضخیم کتاب تین چار جلدوں میں شائع کرنے جارہے ہیں جس کا عنوان ہے.

۱)" حضرت محمدﷺ بحیثیت پیغمبر امن بھارت کے بیسویں صدی کے حکمرانوں کی نظر میں "ملک کے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز اور نامور وکلاء کو یہ عنوان دیا جائے .

۲) "حضرت محمدﷺ بحیثیت ایک کامیاب قانون داں بھارت کے نامور قانون دانوں کی نظر میں ملک کی تمام یونیورسیٹیوں کے وائس چانسلروں اور کالجزکے پرنسپلوں کے لیے یہ عنوان رکھا جائے.

۳) "حضرت محمدﷺ بحیثیت کامیاب معلّم ومربیّ ہندوستان کے نامورماہرین ِ تعلیم کی نظر میں،مرسلہ خط میں ان کو لکھاجائے کہ اس سلسلہ میں ہمیں حضرت محمدﷺ کے تعلق سے دو تین صفحات پرمشتمل آپ کے تاثرات مطلوب ہیں.

ان کے ذاتی نام اپنے لیٹر ہیڈ پر ٹائپ کرکے ان حضرات کو یہ خطوط خود جاکر دئیے جائیں اور ساتھ میں سیرت نبوی کی کوئی معیاری کتاب بھی یہ کہہ کر ان کو دی جائے کہ اس سلسلہ میں آپ ہماری ہدیہ کردہ اس کتاب سے بھی مدد لے سکتے ہیں یا دوسرے کتب خانوں میں موجود کتابوں یا انٹرنیٹ پر موجود مواد سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں،اس کے لیے آپ کو دو تین ماہ کا موقع ہے،جب آپ کا تاثراتی مضمون حضرت محمدﷺ کے تعلق سے ہمیں موصول ہوگا تو اس کو ہم آپ کے یعنی مضمون نگار کے مختصر تعارفی نوٹ کے ساتھ اس تاریخی اور عالمی سطح پر شائع ہونے والی کتاب میں شامل کریں گے اور اس کتاب کے تراجم دنیا کی بڑی زبانوں مثلاً عربی،انگریزی،ہندی،اردواور چینی وغیرہ میں بھی ترجمہ شائع کریں گے اورملکی سطح پر ایک بڑے جلسہ میں اس کتاب کا اجراء بھی ہوگا۔

ظاہر با ت ہے اس خط کا سب سے پہلا نفسیاتی اثر مدعو اور مخاطب پر یہ پڑے گاکہ وہ سوچنے لگے گاکہ مجھے اس ادارہ نے بیسویں صدی کے ملک کے کامیاب حکمرانوں، قانون دانوں اور ماہرین تعلیم میں شامل کرکے میرا سرفخر سے اونچا کردیا ہے،دوم یہ کہ یہ کتاب عالمی زبانوں میں شائع ہوگی اور بین الاقوامی سطح پر اس کا تعارف ہوگا اور اس میں خود میرا آرٹیکل بھی شامل ہوگا اس لیے مجھے بہتر سے بہتر انداز میں حضرت محمدﷺ کے تعلق سے لکھنا اور ان کی خوبیوں کو بیان کرناہے، اس کے لیے وہ سب سے پہلے خود سیرت نبوی کا اطمینان سے مطالعہ کرے گا اور ہمارے لیے یہ بات یقینی ہوجائے گی کہ ان شاء اللہ اس دوران توحید ورسالت کا ابدی پیغام اس کی نظر سے گزرجائے گا اور ہم اپنی دعوتی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائیں گے،دو چار ماہ کے بعد جب یہ کتاب شائع ہوگی جس کی طباعت پر دو تین لاکھ روپے سے زیادہ خرچ نہیں ہوں گے،اس کے اجراء میں خود ان تمام حضرات کو مدعو کیاجائے گا اور وہ خود اس جلسہ میں شریک ہوکر رحمت عالمﷺ کے تعلق سے اپنے مثبت تاثرات کا اظہار کریں گے،اگر ہم نے ملکی سطح پر ایک ہزار کے قریب ان اعلیٰ سطحی شخصیات تک خود جاکر یا کسی معتبر شخص کے ذریعے اپنا یہ پیغام پہنچادیا اور ان میں دو تین سو لوگوں نے بھی اپنے دو تین صفحہ کے تاثرات ارسال کیے تو یہ دو تین سو افراد لاکھوں نہیں کروڑوں لوگوں کے نمائندے اور ترجمان ہوں گے اور خود ان کے ذریعے اسلام کے تعلق سے شائع ہونے والی اس کتاب کو دوسرے لوگو ں تک پہنچانابھی ہمارے لیے آسان ہوگا،اس امکانی طریقہ دعوت کے تجربات ملکی سطح پر بھی ہوسکتے ہیں یا پھرصوبائی یا ضلعی سطح پر بھی،کسی بھی ادارہ یا جمعیت وتحریک کی طرف سے اس کو بآسانی انجام دیاجاسکتاہے۔

ہم نے اس امکانی دعوتی طریقہ کو ہمارے ملک کے کئی چوٹی کے علما وقائدین کے سامنے رکھا جن کا ملک کی اعلیٰ قیادت سے ذاتی تعارف بھی تھا اورربط وتعلق بھی، وہ اس دعوتی کام کو بآسانی اور بخوبی انجام بھی دے سکتے تھے، ایک نامور ملّی قائد کے پاس دہلی میں خود اسی مقصد کے خاطر دو تین دفعہ خودگیا اور ان کو اپنے شہر اور اداروں میں مدعو کرکے اس دعوتی پہلو کو روبعمل لانے کی شدید ضرورت کے تعلق سے ان کی ذہن سازی بھی کی،لیکن ان کی طرف سے باربار یاددہانی کے باوجود ہنوز دلّی دور است کا معاملہ ہے،ہم نے حضرت مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی ؒ کو بھی اپنے ادارہ میں بلاکریہ دعوتی منصوبہ ان کے سامنے رکھاتھا، الحمدللہ انھوں نے اس کو بہت پسند کیا اوردہلی واپس جاکراس پرکام بھی شروع کردیا اور کئی پارلیمانی ممبران کے نام اس طرح کے دعوتی خطوط بھی لکھے لیکن اسی دوران وہ اللہ کو پیارے ہوگئے،سپریم کورٹ میں پریکٹس کرنے والے ملک کے ایک نامور مسلم وکیل جو ماضی قریب میں حکومت کے ایک بڑے عہدہ پر بھی فائز تھے ان سے بھی ہم نے مسلسل ایک سال تک زبانی وتحریری رابطہ کر کے اور ان کو اپنے یہاں بلاکر اور خود ان کے شہر جاکر بھی ترغیب دی کہ وہ ملکی سطح پرججز اور وکلاء کے درمیان اس کا دعوتی کام تجربہ کریں،لیکن وہ بھی وعدہ پر وعدہ کے باوجود اب تک اس کام کو شروع نہیں کرسکے ہیں،لیکن میں اب بھی اللہ تعالی کی ذات سے ناامید نہیں ہوں اورروزانہ اس کے لیے دعاکے ساتھ کوشش بھی کررہاہوں کہ ملکی یا ریاستی سطح پر مختلف سیاسی، قانونی،تعلیمی اور تجارتی میدانوں میں کام کرنے والے اعلیٰ سطح کے کچھ افراد میسر آجائیں تو ان کے توسط سے بآسانی اس امکانی دعوتی تجربہ کو آگے بڑھایاجاسکے۔

پاسباں مل جائیں گے کعبہ کواسی صنم خانہ سے :۔

ہمیں رحمت عالم ﷺ کی ناامیدی ومایوسی اور اتمام حجت کے بعد آخری مرحلہ میں اپنے دشمنوں کے حق میں کی گئی بدعا اللہم دمّراعداء الدین اعداء الاسلام والمسلمین " اے اللہ! تو اسلام اور مسلمان دشمنوں کو نیست ونابود کر"یادرہتی ہے لیکن آسمان سے فرشتوں کے ذریعہ دشمنوں کی ہلاکت کی پیش کش باوجود اللہم اھد قومی فانّھم لایعلمون والی مشفقانہ کیفیت یاد نہیں رہتی کہ اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے،بے شک وہ جانتی نہیں پوری اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ جب بھی ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبہ سے اخلاصِ نیت کے ساتھ سخت سے سخت انسان کے سامنے بھی معقول بات رکھی گئی ہے تو بالعموم اس کا اثر ضرور ہوا ہے،بالعموم ہم کہتے ہیں کہ فلاں حکمراں تو ظالم ہے،سفاک ہے،اس کے پاس جانے کاکیافائدہ؟ فرعون سے بڑھ کر شاید ہی انسانی تاریخ میں کوئی ظالم وجابرحکمراں تھا، اس نے ہزاروں معصوم بچوں کو ذبح کرکے سفاکیت کی ناقابل یقین تاریخ رقم کی تھی، خود کو أناربّکم الاعلیٰ کہتا تھا، ایسے سخت ترین بادشاہ کے پاس بھی وقت کے نبی کو جانے کا حکم ہوا اور یہ بات علیم وخبیر رب العالمین کو معلوم ہونے کے باوجود کہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئے گا اور اس کے مقدر میں ہدایت نہیں ہے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونؑ کو حکم دیاگیا کہ آپ دونوں اس سرکش فرعون سے مل کر نرمی سے بات کریں اور اس کو سمجھائیں،شاید کہ وہ مان جائے،اسی طرح آج ہم بھی اپنا دعوتی فریضہ سمجھ کر اگرہمارے ملک کے حکمرانوں اور اعلیٰ سطحی قیادت سے مل کر ان کی ہمدردی کے جذبہ سے ان کو ہمیشہ کی ہلاکت سے بچانے کے لیے حکمت کے ساتھ دعوت کا پیغام دیں گے اور اسلام کی حقانیت اور توحید ورسالت کی معقولیت کو سمجھانے کی کوشش کریں گے تو تین میں سے ایک نتیجہ ہر حال میں ان شاء اللہ سامنے آنے والا ہے،اول یاتووہ فضل خداوندی سے ان شاء اللہ ہدایت پائیں گے، دوم اگر حلقہ بگوشِ اسلام نہ بھی ہوئے تو کم از کم اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے ان کے نفرت کے جذبات میں کمی آئے گی اور اسلام سے متعلق ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا، سوم اگریہ دونوں مذکورہ نتائج مرتب نہیں بھی ہوئے تو اس اہم فریضہ دعوت کی ادائیگی کے بعد مسلمانوں کے خلاف ان کی ظلم وزیادتی پر ان کی اس دنیا ہی میں پکڑ کے خداوندی فیصلے سامنے آئیں گے اور مسلمانوں کے حق میں اللہ کی مدد کا ظہور ہوگا،ہمارے ملک کے بگڑتے ماحول،سنگین صورتِ حال اورتشویشناک حالات کے باوجود ہمیں اللہ پاک کی ذات سے امید قوی ہے کہ ان شاء اللہ کچھ فیصدپہلانتیجہ بھی برآمد ہوگا اور ہم خود زبان حال سے کہیں گے"پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے"،پھر دنیا اسلام کا یہ معجزہ بھی دیکھے گی کہ کل کے ہمارے سب سے زیادہ اسلام دشمن سمجھے جانے والے یہ حکمراں اور اعلیٰ سطحی قائدین اسلام کے نہ صرف حامی ووکیل بلکہ داعی ومبلغ بن کر سامنے آئیں گے۔ وَماَذٰلِکَ عَلٰی اللّہِ بِعَزِیْزٍ

ظلمتِ شب میں نظر آئی امید کی کرن :۔

ہمارے ملک کے حالات مسلمانوں کے لیے اس وقت جس قدرپریشان کن، سنگین اور تشویشناک ہوں لیکن اس گئی گزری حالت میں بھی دعوتی میدان میں کام کرنے والوں کے لیے بے پناہ مواقع ہیں، پانی ابھی سرسے اونچا نہیں ہوا ہے، پوری اسلامی تاریخ میں سب سے کامیاب دعوت کا کام ناموافق حالات ہی میں ہوا ہے،سلطنت بغداد میں تاتاریوں کے حملے اور اٹھارہ لاکھ مسلمانوں کی شہادت کے بعد جب پوری دنیا اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے ناامیدہوگئی تھی اسی صنم خانہ سے کعبہ کو پاسبان ملے تھے اور ظالم ترین وحشی سمجھے جانے والے یہی تاتاری حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے، آپ کو یہ جان کر مسرت آمیز حیرت ہوگی کہ آج چیچینیا، افغانستان،ترکمانستان اور وسط ایشیا کے اکثر ملکوں میں موجود مسلم مجاہدین اسی تاتاری نسل سے تعلق رکھتے ہیں جوکسی زمانہ میں اسلام کے سب سے بڑے دشمن سمجھے جاتے تھے،اسی طرح ہمیں معلوم ہوناچاہیے کہ1857ء؁ کے ناگفتہ بہ حالات کے بعد ہی برِصغیر میں سب سے بڑے اسلامی قلعے دینی مدارس کی شکل میں وجود میں آئے تھے،تاریخ نے یہ بھی دیکھا ہے کہ1947ء؁ کے بعد رونماہونے والے بھیانک فسادات کے بعد ہی مسلمان سنبھلے تھے اور اپنی دعوتی کوتاہیوں سے سبق لیتے ہوئے نئے عزم اور ایمانی شناخت کے ساتھ اپنی منزل کی طرف از سرِ نو رواں دواں ہوئے تھے، قرآن مجید کے مطالعہ سے بھی صاف معلوم ہوتاہے کہ اہلِ ایمان کے حق میں نصرتِ خداوندی کے فیصلے ناگفتہ بہ حالات اور ناامیدی کے گھٹاٹوپ اندھیرے ہی میں آتے ہیں،لیکن دوسری طرف اسلام کی دعوتی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اہل ایمان کے اجتماعی گناہوں اور ان کے کرتوتوں کی بنا پر ہی ا ن پر ظالم حکمراں مسلط کیے جاتے ہیں اور ان کو آزمائشوں میں ڈالاجاتاہے، درحقیقت اس وقت کے یہ تشویشناک حالات ہماری بداعمالیوں کی وجہ سے ہی ہیں،یہ عادت اللہ ہے کہ امت جب اجتماعی طور پرتوبہ کرتی ہے تو حالات یکسر بدل جاتے ہیں اور فیصلے ان کے حق میں ہوتے ہیں، اگر ہم نے ماضی کی اپنی دعوتی کوتاہیوں سے سبق لیتے ہوئے آج بھی بحیثیت امت دعوت خارجی محاذ پر اس اہم پہلو یعنی اعلیٰ سطحی قیادت تک دین کے پیغام کو پہنچانے میں کامیابی حاصل کی اوراسی کے ساتھ اپنے وطنی بھائیوں اور عوام وخواص تک بھی اللہ کا پیغام پہنچادیااوردوسری طرف داخلی محاذ پراپنی بداعمالیوں سے سبق لیتے ہوئے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے امیدقوی ہے کہ چند ہی سالوں میں ہمارے ملک کا نقشہ ہی بدل جائے گااور آج کے ہمارے حریف وفریق سمجھے جانے والے ہمارے یہ برادرانِ وطن ہم سے بڑھ کر اسلام کی وکالت اور ترجمانی میں پیش پیش نظر آئیں گے،دراصل سیاہ بادلوں کی آمد کے بعد ہی بارانِ رحمت کانزول ہوتا ہے،گھٹاٹوپ اندھیرے کے بعد ہی سحر ہوتی ہے، عُسر کے بعد ہی یُسر آتاہے، آزمائشوں کے بعدہی فتوحات کے دروازے کھلتے ہیں،ابتلاء کی آگ میں تپائے جانے کے بعد ہی کندن بن کر اہل ایمان منظر پر آکراپنی شناخت کراتے ہیں، ناامیدی کے بعد ہی امید کی کرن سامنے آتی ہے،اسی طرح ان تشویشناک اورکربناک حالات کے درمیان ہی سے انشاء اللہ اس ملک میں مسلمانوں کی سرخروئی اور فتح مندی اور کامیابی وکامرانی کی نوید پوری دنیائے انسانیت کے کانوں سے ٹکرانے والی ہے۔

شب گریزاں ہوگی آخرجلوہئ خورشید سے یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے

مولانا علاٶالدین قریشی پیپاڑوی جودھپوریؒ شاگرد علّ امہ انور شاہ کشمیریؒ

محمدعارف جیسلمیری
مقیم لدھیانہ پنجاب

پیپاڑ یہ راجستھان کے معروف صنعتی شہر جودھپور کے مضافات میں واقع ہے اور اس شہر کو گزشتہ ایک ڈیڑھ صدی سے یہ عظیم شرف حاصل ہے کہ دیوبندی المسلک متبحر علماء اور ان کے تربیت یافتہ صحیح العقیدہ تجارت پیشہ لوگ یہاں تشریف لاتے رہے ہیں۔

حافظ عبدالھادی تھانوی ثم جودھپوریؒ کے والد ماجد کسب معاش کی غرض سے آج سے تقریباً نوے سال پہلے پیپاڑ وارد ہوے تھے۔اس سے بہت پہلے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ،سیٹھ شیخ غلام محمد صاحبؒ کی دعوت و تحریک پر چند ایک مرتبہ سرزمینِ پیپاڑ کو اپنے قدومِ میمنت لزوم سے رونق بخش چکے تھے۔

مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ جن کا ذکرِخیر اس تحریر کا موضوع ہے اور جو اپنے کارناموں اور حاصل شدہ علمی و روحانی نسبتوں کے تناظر میں ہمارے صوبے کی ایک مثالی شخصیت ہیں،وہ بھی ایسے ہی ایک خانوادے کے فرد تھے،جس کی اسلام اور پیغمرِاسلام کے ساتھ گہری وابستگی رہی تھی اور جس کا اصل آباٸی وطن شہر ”قنوّج“ تھا،جو اس وقت یوپی کا معروف ضلع ہے اور سیاسی لحاظ سے جسے کافی حساس گردانا جاتا ہے۔قنّوج میں ایک زمانے تک راجاٶں کی حکمرانی رہی تھی،ایسے ہی ایک راجہ نے،جو خاندانی طور پر غیرمسلم تھا، مذھبِ اسلام قبول کر لیا تھا۔مولانا علاٶالدین صاحبؒ کا چندیل خاندان اسی راجہ کی نسل سے ہے۔اس خانوادے کے کسی بزرگ نے نامعلوم اسباب کے تحت پیپاڑ کو اپنا مسکن بنایا اور اس طرح اس خاندان کی ایک شاخ مستقل طور پر یہاں آباد ہوٸی۔اس خاندان کی دینِ متین کے ساتھ مضبوط و مستحکم وابستگی نے یہاں کے قدیم مسلم باشندوں کے عقاٸد و اعمال پر بڑے اچھے اثرات مرتب کیے اور اسی خانوادے کے فرد مولانا علاٶالدین صاحبؒ کو،بانیِ دارالعلوم پوکرن مولانا محمد عالم صاحب گومٹویؒ کے بعد،علاقے بھر میں دوسرا دیوبندی عالمِ دین ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔وذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء

متفرق صوبہ جات اور بالخصوص یوپی سے تشریف لانے والے علماء ہوں یا ان کے دست گرفتہ صحیح الفکر عام لوگ،ان کی یہ آمد اھالیانِ جودھپور و پیپاڑ کے حق میں نعمتِ غیرمترقبہ ثابت ہوٸی اور جہالت و ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کسی حدتک حق و اھلِ حق کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام پاتا رہا اور اسی مخالف ماحول میں بدعات کی جانب راغب کرنے والے خاندانی و ظاہری تمام تر اسباب و وسائل کے علی الرغم علماۓ دیوبند اور اور ان کے قاٸم فرمودہ مراکز و مدارس سے انہیں انس پیدا ہوا اور یہی قرب و انس آگے چل کر اصلاحِ اعمال کا ذریعہ بنا۔ایسے خوش نصیب مقامی لوگ اگرچہ معدودے چند ہی تھے؛لیکن ان کی خدمات کسی جماعت و تنظیم سے کیا کم ہوگی۔

اپنے عہد کے ولی کامل حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوریؒ کی حضرت والا تھانویؒ تک رساٸی بھی انھیں افراد کی رھینِ منت ہے،جو حضرت تھانویؒ کے واقف کار اور ان کی کتب و مواعظ سے استفادہ کرنے والے تھے اور جن کا وطنی تعلق بھی مغربی یوپی سے تھا۔

غرض اکابر کے ورود مسعود اور کچھ جلیل القدر علماء کے مستقل و عارضی قیام کی برکت سے خیالات میں صالح تبدیلی کے حسیں دور کا آغاز ہوا۔حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوریؒ اور حاجی سیٹھ غلام محمد صاحبؒ ایسے کچھ نصیب بندگانِ خدا نے حضرت والا تھانویؒ سے ذاتی اصلاح کے ساتھ اپنی اولاد و احفاد اور اعزہ و متعلقین کو دینی تعلیم دلوانے کا خصوصی اھتمام فرمایا۔

مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ بڑے باتوفیق رجل رشید تھے،انہیں ابتداء ہی سے حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوریؒ اور حاجی سیٹھ غلام محمد صاحب سے عقیدت و محبت کا تعلق تھا،جب تک یہ دونوں بزرگ حیات تھے،مولانا مرحوم نے ان کی خدمت میں حاضری کا سلسلہ برقرار رکھا۔حاجی عبدالغفور صاحبؒ کے احترام میں اس نسبت کا خاص دخل تھا،جو انہیں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے حاصل تھی۔جہاں تک حاجی غلام محمد صاحبؒ کا تعلق ہے،تو وہ تو ان کے سرپرست کے درجے میں تھے، انہوں نے ہی پہلے پہل مولانا علاٶالدین صاحبؒ کو تحصیلِ علم کی جانب راغب فرمایا تھا اور مولانا احمداللہ صاحب مدظلہم کی روایت کے مطابق حاجی غلام محمد صاحبؒ نے ہی مولانا علاٶالدین صاحبؒ کا سارا تعلیمی خرچ بھی اٹھایا تھا۔

حاجی غلام صاحبؒ کو باری عزاسمہ نے دین و علمِ دین کی نسبت پر خرچ کرنے کی سعادت سے نوازا تھا۔پیپاڑ شہر کی قدیمی عیدگاہ،اچھے خاصے رقبے پر مشتمل قبرستان اور جامعہ مدینة العلوم؛یہ سب حاجی غلام محمد صاحبؒ کے جذبۂ انفاق فی سبیل اللہ کا مظہر ہیں۔یہ بزرگ پیپاڑ ہی کے قبرستان میں مدفون ہیں؛جب کہ ان کی اولاد تقسیم کے موقع پر پاکستان ہجرت کر گٸی۔

حاجی غلام محمد صاحب مرحوم کے قاٸم فرمودہ اس ادارے ”مدرسہ مدینة العلوم پیپاڑ“ میں کسی زمانے میں عربی کتب کی تدریس کا نظم بھی قاٸم تھا،لکھنٶ کے چندایک علماءایک زمانے تک اس مدرسے میں مدرس رہے اور مولانا شفیق صاحب قریشی مدظلہم کے بیان کے مطابق ”تقسیمِ ھندوپاک سے پہلے،مولانامنظور احمد صاحب نعمانیؒ کے کوٸی عزیز بھی یہاں تدریسی خدمت پر مامور رہے تھے“۔ مولانا شفیق صاحب مدظلہم نے اس حقیر کو دورانِ گفتگو یہ بھی بتایا کہ ”١٩٧٣یا ٧٤ عیسوی میں،انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے کتب خانے میں،درجہ موقوف علیہ کی کچھ کتابیں دیکھی تھیں،جن پر ”مدینہ العلوم پیپاڑ“ کی مہر ثبت تھی۔تقسیم ھندوپاک کے معاً بعد ہی یہ ادارہ حالات سے دوچار ہوا اور اسی موقع پر بعض سلیم الفطرت و دوراندیش منتظمین نے،مدرسے کی کتابیں کتب خانہ دارالعلوم دیوبند کے حوالے کرنے کا فیصلہ فرمایا۔آج کل یہ مدرسہ مکتب کی شکل میں قاٸم ہے اور اپنے تابناک ماضی کی جانب لوٹنے کے لیے پھر سے کسی حاجی غلام محمد کا منتظر ہے۔خدا کرے کوٸی مردِخدا اس جانب متوجہ ہو اور اس کی سابقہ روایات اور اختصاصات وامتیازات پھر سے بہ حال ہوں۔

مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ کی اردو دینیات اور فارسی و عربی کی ابتداٸی تعلیم پیپاڑ کے اسی ادارے میں ہوٸی۔مدینة العلوم میں جاری نصابِ تعلیم کی تکمیل کے بعد،عربی کے منتہی درجات کی تعلیم کے لیے آپ عازمِ دیوبند ہوے۔یہ اس عہد کی بات ہے،جب علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ،صاحبِ فتح الملہم شیخ الاسلام مولانا شبیراحمد صاحب عثمانیؒ،سلسلہ چشتیہ مجددیہ کے فقیہ النفس بزرگ اور دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کی خشتِ اول مفتی عزیزالرحمٰن صاحب عثمانیؒ،عارف باللہ مولانا سیداصغر حسین صاحبؒ،شیخ الادب و الفقہ مولانا اعزار علی امروھوی صاحبؒ،مولانا حبیب الرحمٰن صاحب عثمانیؒ اور صاحبِ معارف القرآن مفتی محمد شفیع صاحب عثمانیؒ ایسے ربانی علماء وہاں مصروفِ تدریس تھے۔

معلوم تاریخ کے مطابق مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ مغربی راجستھان کے پہلے سعادت مند شخص ہیں،جنہوں نے تحصیلِ علم کی غرض سے دارالعلوم دیوبند کا سفر کیا اور اس دور کی جلیل القدر علمی و روحانی شخصیات سے خوب خوب کسبِ فیض کیا۔علاقے کے مخصوص حالات اور جہالت و گم راہی کی محیطِ عام فضا ان کے پیشِ نظر تھی،دارالعلوم کے اس شہرۂ آفاق علمی سرچشمے سے سیرابی حاصل کرنے والے اپنے خطے کے پہلے فرد ہونے کی حیثیت سے،میدانِ عمل کی ذمے داریوں سے بھی وہ بہ خوبی واقف و آگاہ تھے،اس لیے انہوں نے دارالعلوم کے قیام کو غنیمت جانا اور جاں فشانی و تن دہی کے ساتھ تحصیلِ علم کا سفر طے فرمایا۔دارالعلوم دیوبند و مدینة العلوم پیپاڑ کے مخلص اساتذہ کی توجہات،دعاٶں اور خود اپنی جہدِمسلسل کی بہ دولت،انہوں نے چند ہی سالوں میں دارالعلوم میں اپنی پہچان بنا لی تھی اور اس عہد کے دارالعلوم کے کبار علماء و مفتیان کی جانب سے آپ کے علم و تحقیق پر اطمینان کا اظہار ہوا۔مولانا مرحوم کی فراغت کے بعد ایک دفعہ جودھپور کے کسی صاحب نے دارالعلوم کے دارالافتاء میں استفتاء داخل کیا،تو وہاں سے جوابِ استفتاء کے ساتھ ہی مستفتی اور اس کی وساطت سے باشندگانِ مغربی راجستھان سے کہا گیا کہ”آپ کے ہاں علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے لاٸق و فاٸق شاگرد اور ایک معتمد و مستند عالمِ دین مولانا علاٶالدین صاحبؒ موجود ہیں۔روزمرہ پیش آمدہ فقہی مساٸل کے حل کے حوالے سے ان کا پایہ کافی بلند ہے؛لہذا وقتاً فوقتاً ان کے یہاں حاضرِ خدمت ہوکراپنے مساٸل کا حل کرا لینا مناسب ہے ۔“ یہ اس دور کی عام قدریں تھیں۔چھوٹوں کی حوصلہ افزاٸی اور ان کے معمولی و غیرمعمولی کارناموں پر مسرت و شادمانی کا اظہار بڑوں کا ایک طرح سے وطیرہ و شعار تھا۔

واقعہ یہ ہے کہ مولانا علاٶالدین صاحبؒ وقت کی قدر کرنے والے دارالعلوم دیوبند کے مایۂ ناز شاگرد تھے،اور پھر جو نسبتیں ان کا نصیبہ بنیں،مغربی راجستھان کی حد تک تو وہی ان نسبتوں کے خاتم بھی ٹھہرے۔مولانا مرحوم کے بعد،دارالعلوم دیوبند میں تعلیمی دورانیہ طے کرنے والے مولانا دوست محمدصاحبؒ مہتمم اول دارالعلوم پوکرن،مولانا حسن صاحب،مولانا حسین صاحب متوطن حاجی خاں کی ڈھانی پوکرن وغیرہ حضرات ہیں اور ان حضرات کے داخلۂ دارالعلوم کے وقت وہ اکثر شخصیات دارالعلوم سے مستعفی ہو چکی تھیں،جن کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرنے کا شرف مولانا علاٶالدین صاحب قریشیؒ کو حاصل ہوا تھا۔

دارالعلوم دیوبند کے دو تین سالہ دورِ طالب علمی میں، مولانا علاٶالدین صاحب مرحوم نے اپنے جملہ اساتذہ سے خادمانہ تعلق برقرار رکھا اور سب ہی کے یہاں وقتاً فوقتاً حاضری دیتے رہے؛لیکن آپؒ کی عقیدت و محبت کا اصل مرکز،خاتم الفقہا ٕ والمحدثین علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی ذاتِ اقدس تھی،جن کی درسی و علمی مجالس میں شرکت آپؒ کی عادتِ ثانیہ تھی،انہیں علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ کے درس میں عبارت خوانی کے مواقع خوب حاصل ہوے،شاہ صاحبؒ کے درس میں عبارت خوانی کا یہ شرف اس بات کا غماز ہے کہ مولانا علاٶالدین صاحبؒ کو باری عزاسمہ نے،ان کی کوششوں میں خاطرخواہ کام یابی عطا فرماٸی تھی اور انہوں نے وقت کے ایک ایسے عظیم اور مثالی شیخ و محدث کا اعتماد حاصل کیا تھا،جن کے قوت حافظہ و تبحرعلمی کا شہرہ غیرمنقسم ھندوستان،عرب،ایران،عراق،افغانستان،چین،مصر،جنوبی افریقہ،انڈونیشیا اور ملاٸشیا وغیرہ کٸی ممالک تک ممتد تھا۔ شاہ صاحب کا قرب و اعتماد ان کے جن جن تلامذہ کو حاصل ہوا،لا ریب میدانِ عمل میں ان سے لاٸقِ رشک دینی و علمی اور قومی و ملی خدمات ظہور پذیر ہوٸیں۔شاہ صاحبؒ کے ایسے نیک نام اور بافیض تلامذہ میں مولانا جودھپوریؒ کا اسمِ گرامی بھی شامل ہے۔

مولانا علاٶالدین صاحب مرحوم کا دارالعلوم دیوبند کا سہ سالہ دورِطالب علمی،١٩٢٦ سے شروع ہوکر ١٩٢٨ عیسوی پر ختم ہوا اور اختتام کا واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا،جس کے بارے میں مولانا مرحوم نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔دراصل ان تینوں ہی سال دارالعلوم دیوبند میں سخت اختلاف و انتشار کی فضا قاٸم رہی تھی۔علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے تقریباً ہر سوانح نگار نے اس دورِاختلاف اور اس کے کربناک نتاٸج کا اجمالاً یا تفصیلاً ذکر کیا ہے۔یہ واقعہ مکمل تفصیل کے ساتھ مولانا انوارالحسن شیرکوٹی پاکستانیؒ نے اپنی کتاب ”حیاتِ عثمانی“ میں درج فرمایا ہے،جو ان دنوں دارالعلوم میں طالب علم رہے تھے اور بہ قولِ خود ان تین چار سالوں میں پیش آنے والے واقعات میں شریک و شامل بھی رہے تھے؛چوں کہ شاہ صاحبؒ کی شخصیت اور ان کی چار پانچ سالہ بافیض صحبت نے،مولانا علاٶالدین صاحبؒ کے افکار و خیالات اور ان کے رجحانات و احساسات پر بڑے گہرے صالح و مثبت اثرات و نتاٸج چھوڑے تھے،نیز مولانا علاٶالدین صاحبؒ کی سیرت و کردار کا عروج و ارتقاء بھی انھی کی کوششوں اور دعاٶں کا رھینِ منت تھا اور وہی دراصل ان کے سفرِ دیوبند پر جانے اور پھر دارالعلوم میں پیش آمدہ قضیۂ نا مرضیہ کے بعد جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈھابیل منتقل ہونے کا واحد سبب بنے تھے؛اس لیے ان کے اس عظیم محسن کے علمی و دینی احسانات کے پیشِ نظر اور ثانیاً ریکارڈ کی درستگی کے لیے وہ اختلافی واقعہ بڑے ہی اختصار کے ساتھ کچھ اپنی اور کچھ مولانا انظرشاہ کشمیریؒ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم و دارالعلوم وقف دیوبند کی زبانی سنایا جاتا ہے اور شاہ صاحبؒ کی حیاتِ طیبہ کے جامع مطالعے کے شاٸق،باذوق ارباب علم و فضل کے لیے ،شاہ صاحبؒ پر لکھی گٸی بیس کے قریب کتابوں میں سے،نو کتب اور ان کے مصنفین کے اسماۓ گرامی پیشگی پیشِ خدمت ہیں،جو حسبِ ذیل ہیں:

<١> نفحة العنبر فی حیاة امام العصر الشیخ انور
تالیف:مولانا محمد یوسف البنوری

<٢> العلامہ محمد انور شاہ الکشمیریؒ فی ضوء انتاجاتہ الادبیة و العلمیة
تالیف:السید شاھد رسول کاکاخیل

<٣> سوانح علامہ کشمیریؒ [انگلش]
تالیف:مولانا یونس قاسمی

<٤> نقشِ دوام
تصنیف:مولانا انظر شاہ کشمیریؒ

<٥> جمالِ انور تذکرہ و سوانح علامہ انور شاہ کشمیریؒ
تصنیف:مولانا عبدالقیوم حقانی

<٦> انوارِانوری
تصنیف:مولانا محمد انوریؒ

<٧> انوارالسوانح حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ حیات و خدمات
تصنیف:ڈاکٹر غلام محمد کھچی

<٨> امام العصر علامہ سیدمحمد انور شاہ کشمیریؒ
از:مولانا عبدالحلیم چشتی

<٩> حیاتِ انور[مجموعہ مضامین]
مرتب:سید ازھر شاہ قیصر

آمدم برسرِمطلب:١٩٢٥ عیسوی کے آخر میں بعض انتظامی امور سے متعلق، اختلاف کا آغاز ہوا،جو شدہ شدہ شدت اختیار کر گیا اور آخر یہی اختلاف،بعض جلیل القدر علماء اور ان کے لاٸق و فاٸق شاگردان کی دارالعلوم سے علٰحدگی پر منتج ہوا۔

دارالعلوم کی اس عہد کی روداد میں اس اختلاف کا ذکر ملتا ہے۔

مولانا حبیب الرحمٰن عثمانیؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند،١٩٢٥ عیسوی کی روداد میں لکھتے ہیں:

”روداد ١٣٤٤ ھجری مطابق ١٩٢٥ عیسوی سے معلوم ہو چکا ہے۔اس سال ایک عظیم الشان فتنہ دارالعلوم میں رونما ہوا اور ١٣٤٥ ھجری مطابق ١٩٢٧ عیسوی میں بھی وہ فتنہ برابر جاری رہا“

اسی کا ذکر کرتے ہوۓ آگے لکھتے ہیں:

”یہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ دارالعلوم کے خوش کن حالات تو لکھے جاٸیں اور رنجیدہ واقعات پر پردہ ڈال دیا جاۓ;اس لیے گو رنجیدہ واقعات کا اظہار کتنا ہی خلافِ طبع اور ناگوار ہو،مگر ہم روداد کے صفحات ان حالات سے خالی نہیں چھوڑ سکتے“

اختلاف کا دورانیہ تو خاصا طویل ہے،بہ قول مولانا شیرکوٹیؒ اس کی مدت آٹھ سال کے قریب ہے؛مگر شدید اختلاف کا دور،آخر کے تین سال ہیں،ان تین سالوں میں ایسے واقعات رونما ہوے،جنہیں انتظامیہ کی کم زوری پر محمول کیا گیا اور یہ کوٸی باعثِ تعجب چیز نہیں کہ ہر اھتمام اپنے جلو میں ایسے واقعات کم یا زیادہ لیے ہوتا ہے،اپنے محدود مطالعے کی روشنی میں عاجز کو اب تک ایک بھی مثال کسی عہد و صدی کی ایسی نظر نہیں آ سکی کہ کسی عصری یا دینی تعلیم گاہ کے ناظم و مہتمم کے سارے ہی اقدامات حق بہ جانب قرار دیے گۓ ہوں اور اس کا دورِ انتظام و اھتمام نقاٸص سے یکسر خالی رہا ہو۔بعض اوقات یہ صورتِ حال غلط فہمی اور حقاٸق سے نا آشناٸی کا نتیجہ ہوتی ہے اور بعض دفعہ اس کا مبنی حقیقت و صداقت پر قاٸم ہوتا ہے۔ٹھیک یہی دور ہے،جب مولانا شبیراحمد عثمانیؒ نے ١٧ نکات پر مشتمل ایک تحریر لکھی،جس میں دارالعلوم کے انتظامی امور سے متعلق اہم اصلاحات درج تھیں،یہ تحریر علامہ انور شاہ صاحبؒ اور مفتی عزیزالرحمٰن عثمانیؒ کے تاٸیدی دستخط کے ساتھ ١٩٢٧ عیسوی میں منعقدہ شوری کے اجلاس میں پیش کی گٸی اور جزوی طور پر اس پر عمل درآمد بھی ہوا۔دارالعلوم کی روداد ١٣٤٥ ھجری مطابق ١٩٢٧ عیسوی میں،مولانا شبیر احمد صاحبؒ کی پیش کردہ ان ٧١ تجاویز کا پورا متن موجود ہے۔مفتی فضیل الرحمٰن ہلال عثمانی مدظلہم کی تالیف ”حیاتِ عزیز“ میں اسے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

١٩٢٥ عیسوی کے آخر میں طلبۂ دارالعلوم کا،دارالعلوم کے ناظمِ مطبخ مولانا گل محمد صاحبؒ کے ساتھ باہم دست و گریباں ہونے کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔امتحان کی نگرانی کا عمل بھی ان سے متعلق تھا اور اس حوالے سے بھی وہ کافی سخت گیر واقع ہوے تھے اور یہ بھی آپسی چشمک کی ایک بڑی وجہ تھی۔ اس حادثے کے بعد دارالعلوم کے چند طلبہ کا اخراج کیا گیا۔اس اختلاف نے بعد میں افسوس ناک صورت اختیار کرلی اور طلبہ نے اپنے قدیم مطالبات کی تعمیل و تکمیل کا پرزور مطالبہ کیا۔

١٩٢٧ عیسوی میں دارالعلوم میں شوری کا اجلاس ہوا اور اس مرتبہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ صدرالمدرسین و رکن مجلس شوری دارالعلوم دیوبند کی جانب سے،مفتی عزیرالرحمٰن عثمانیؒ کے تاٸیدی دستخط کے ساتھ ایک تجویر اراکینِ شوری کی خدمت میں پیش ہوٸی۔یہ تجویز مولانا شبیراحمد عثمانیؒ،مولانا حسین احمد مدنیؒ اور مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب شاہ جہاں پوری ثم دھلویؒ کے مجلسِ شوری کا رکن بناۓ جانے سے متعلق تھی۔

یہ تجویز اکثر اراکینِ شوری کی تاٸید حاصل نہ ہو سکنے کی بنیاد پر مسترد کر دی گٸی۔بہ قول شخصے”دراصل اختلاف کا نقطہ آغاز یہی بات ہوٸی“۔دونوں ہی جانب کے اکابر علماء کے احوال و واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہر طرح اس اختلاف کو ختم کرنے کے حق میں تھے،اس کا ثبوت اس خط سے بھی فراہم ہوتا ہے،جو تقسیمِ ھند و پاک کے بعد شیخ الھند کے کراچی میں واقع دولت خانے سے برآمد ہوا،جس پر علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ،مفتی عزیزالرحمٰن عثمانیؒ اور خود علامہ شبیراحمد عثمانیؒ کے دستخط ثبت ہیں،تحریر مولانا عثمانی کے قلم سے ہے اور اس میں مصالحت کی بھرپور تاٸید و ترجمانی کی گٸی ہے۔

وہ مکتوب درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بعدالحمد و الصلوة والسلام علی نبیہ الکریم

چوں کہ دارالعلوم دیوبند کے اختلافات و مناقشات نہایت ہی ناخوشگوار صورت اختیار کر چکے ہیں،جس میں دارالعلوم کے لیے نقصان عظیم ہے؛اس لیے ہم نے بارہا یہ چاہا اور کوشش کی کہ کوٸی معقول و معتدل اور طمانینت انگیز صورت اس نزاع اور اختلاف کے ختم کرنے کی نکل آۓ;چناں چہ اس سلسلے میں کٸی مرتبہ جدوجہد ہوٸی جو ناکام یاب رہی۔اب ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس اختلاف و نزاع کے تمام کرنے کی بہترین صورت تحکیم ہے،یعنی کوٸی ایسا بے لوث شخص جس پر فریقین کو دیانةً پورا اعتماد ہو،اس کو حکم ٹھہرا لیا جاۓ۔بنابریں ہم تینوں جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں،اس بات میں عالی جناب خواجہ ابوالمتین شیخ رشیداحمد صاحب میرٹھی ممبر دارالعلوم دیوبند کو بہ صدق و دل حکم قبول کرتے ہیں۔اگر مجلس شوری اور حضرت سرپرست صاحب دارالعلوم بھی اس تحکیم کو قبول فرمالیں،تو جو فیصلہ امور متنازع فیھا کا شیخ صاحب ممدوح فرماٸیں گے،ہمیں اس کے ماننے میں کسی طرح کا انکار نہ ہوگا۔اگر شیخ صاحب ممدوح اپنے ہمراہ کسی دوسرے صاحب کو بھی فریقین کے بیانات سننے اور حالات کی تحقیق کرنے میں شریک فرماٸیں،تو ہم کو اس میں بھی کوٸی عذر نہیں ہے“

عزیزالرحمٰن عفی عنہ
محمد انور عفا اللہ عنہ
شبیراحمد عثمانی عفااللہ عنہ
١٩ شوال ١٣٤٦ ھجری مطابق ١٩٢٧ عیسوی

غرض اکابرین کی جانب سے رفعِ نزاع کی ہر ممکن کوشش کی گٸی؛لیکن قادرِمطلق کے یہاں کچھ اور ہی منظور و مقدر تھا۔یہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔نامعلوم اسباب کے تحت،طلبہ کے مطالبات بھی ہنوز پورے نہیں کیے جا سکے تھے،جن میں سے بعض مطالبات بڑے حساس اور اہم تھے۔نتیجتاً ١٩٢٧ کے نصف آخر میں طلبہ نے اسٹراٸک کر دی اور سالانہ امتحان کے باٸیکاٹ کا اعلان کر دیا۔١٩٢٨ عیسوی کے آخر یا ١٩٢٩ کے اواٸل میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ،مولانا شبیراحمد عثمانیؒ،مفتی عزیزالرحمٰن عثمانیؒ،مولانا سراج احمد صاحبؒ،مولانا محمد ادریس صاحب سکروڈھویؒ،مولانا بدرعالم صاحب میرٹھیؒ،مولانا مفتی عتیق الرحمٰن عثمانیؒ اور بہت سے طلبۂ دارالعلوم،جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈھابیل منتقل ہو گۓ اور اس طرح ڈھابیل سملک ضلع سورت کی وہ غیر معروف بستی علم و روحانیت کا ایک عظیم مرکز بن گٸی اور اس کی یہ مرکزیت تادمِ تحریر باقی و برقرار ہے۔

نقشِ دوام میں مولانا انظر شاہ صاحب کشمیریؒ لکھتے ہیں:

”دیوبند میں حضرت شاہ صاحب کا وفورِعلم پورے شباب پر تھا کہ بدقسمتی سے دارالعلوم دیوبند میں ایک شورش برپا ہوٸی،جس کی تفصیلات دردانگیز ہیں۔اس فتنے کا اثر حضرت مرحوم کے قلب پر آخر تک رہا اور شاداب صحت کو ایک گھن لگ گیا۔بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ علم کے اس آفتاب منیر کو ہنگامۂ دارالعلوم اور فتنۂ قادیانیت نے وقت سے پہلے غروب کر دیا۔اس دور میں آپ کو دیکھنے والے اس کی تصدیق کریں گے کہ غم و اندوہ کی ایک آگ آپ کے اندر سلگ رہی تھی،جس نے صحت کے ڈھانچے کو خاکستر کر دیا۔سن ١٣٤٥ ھجری میں استعفاء دے دیا اور ایک مرتبہ پھر ارادہ فرمایا کہ گوشہ نشین ہوکر امت کی خدمت دوسرے شعبوں میں کی جاۓ؛مگر جس علم کی شہرت اقصاۓ عالم میں پھیل چکی تھی،اس سے استفادے کی محرومی کوٸی کب برداشت کر سکتا،چناں چہ دیوبند سے علٰحدگی کے ساتھ ہی علماء اور اہلِ مدارس کے وفود آپ کی خدمت میں پہونچے۔مگر گجرات کی زمین اس سعادت کو لے اڑی اور معمولی مشاہرے پر ضلع سورت کی ایک بستی ڈھابیل کی دینی درس گاہ میں درسِ حدیث کی ذمے داری کو قبول فرما لیا۔اس دور میں گجرات کے بعض اکابر نے مبشرات بھی دیکھے؛چناں چہ مولانا احمد بزرگ جو جامعہ اسلامیہ کے پاک نہاد مہتمم گزرے ہیں،انہوں نے سن ١٣٤٦ ھجری رمضان المبارک کے آخری عشرے میں خواب دیکھا کہ سرورِکاٸنات ﷺ کی دہلی میں وفات ہو گٸی۔اس وحشت اثر خبر سے ایک پریشانی پھیلی ہوٸی ہے۔آنحضور ﷺ کا جسدِ مبارک جنازہ پر ہے،جسے ڈابھیل لایا گیا۔زندگی کے آثار جسد مبارک پر نمایاں ہو رہے ہیں،لیکن بیماری کا غلبہ ہے۔میں ارادہ کرتا ہوں کہ جسدِ اطہر کو حجرے میں منتقل کر دیا جاۓ اور میں آپ کے بدن مبارک پر حصولِ برکت کے لیے اپنا ہاتھ پھیروں۔جسدِمبارک اٹھایا جاتا ہے،تو جتنا اٹھایا جاتا ہے اتنا ہی تندرست اور صحت یاب ہوتا جاتا ہے،اگرچہ بعض حصوں کو اٹھانے میں بڑی دشواری پیش آٸی۔

مولانا احمد بزرگ نے اپنا یہ خواب دیوبند حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمٰن صاحب کو لکھ کر بھیجا اور تعبیر چاہی۔مفتی صاحب نے تحریر فرمایا کہ ”افسوس کہ علمِ حدیث ان اطراف سے رخصت ہوا اور اس کی نشأةِ ثانیہ ڈابھیل میں ہوگی“ جس وقت یہ خواب دیکھا اس وقت شاہ صاحب دیوبند سے جدا نہیں ہوے تھے؛لیکن دیوبند کا قرضۂ نامرضیہ شباب پر تھا۔جب آپ کی دیوبند سے علٰحدگی کا اعلان ہوا تو مولانا احمد بزرگ گجرات کا ایک ذی اثر وفد لیکر دیوبند پہنچے اور ڈھابیل کے لیے دعوت پیش کی،مولانا محمد بن موسی افریقی جو شاہ صاحب کے خصوصی خادم بلکہ فداکار عاشق تھے،ڈابھیل کے لیے آمادہ کرنے میں بہت کارآمد ثابت ہوے؛چناں چہ ان کے اصرار و خواھش پر ڈابھیل کا قیام منظور فرما لیا۔ڈابھیل کی غیرمشہور درس گاہ مرحوم کی تشریف آوری کے بعد ”جامعہ اسلامیہ“ کے نام سے مشہور ہوٸی۔علامہ کے دور میں طلبہ کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ تھی۔تمام ھندوستان سے کھنچ کر طلبۂ حدیث ڈھابیل پہنچنے لگے اور آپ کی شہرتِ علمی کی وجہ سے اس درس گاہ کو وہ مرکزیت حاصل ہوٸی کہ ”جامعہ“ منتخب مدارس میں شمار ہونے لگا۔سن ١٣٤٧ ھجری سے تا سن ١٣٥١ ھجری یعنی پانچ سال آپ نے مسلسل حدیث کا درس دیا۔تدریس کے علاوہ تبلیغ کے فریضے سے بھی غفلت نہ کی؛چناں چہ بہت سی بدعات و محدثات جو اہلِ گجرات کے رگ و ریشے میں داخل ہو چکے تھے،آپ کی جدوجہد سے ختم ہوے۔کتنے ہی لوگ تھے،جن کے دلوں میں دین اور علماۓ دین کی محبت پیدا ہو گٸی اور کتنی وہ زندگیاں ہیں جو آپ کی پاکیزہ ہم نشینی سے صفاٸیِ باطن کی پیکر بنیں۔کتنے ہی وہ دماغ ہیں،جن میں زھدوقناعت کے اثرات جاگزیں ہوے۔تسلیم کرنا ہوگا کہ گجرات کی زمین پر خیروبرکت،رشدوھدایت کی یہ ضیا پاشیاں مرحوم کی مساعی کا کرشمہ ہیں۔“

مولانا علاٶالدین قریشیؒ کا ڈابھیل میں دو سال تک قیام رہا اور بالیقین وہاں کے ولی صفت جبالِ علم اساتذہ کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرنے ہی کا اثر تھا کہ مولانا جودھپوریؒ کی تدریسی صلاحیت بے حد پختہ تھی۔علاقۂ پیپاڑ کے معمرعالمِ دین اور صاحبِ تذکرہ مولانا پیپاڑویؒ ہی کے خاندان کی ایک دوسری شاخ کے فرد مولانا شفیق صاحب مدظلہم نے دورانِ گفتگو اس حقیر کو بتایا کہ حاجی عبدالغفور صاحب جودھپوری کے سانحۂ رحلت کے بعد ایک دفعہ حاجی صاحب مرحوم کے صاحب زادۂ گرامی حکیم محمد علی صاحبؒ نے مولانا پیپاڑویؒ کو جامعہ عربیہ میں تدریس کی دعوت دی تھی اور حاجی صاحب کی نسبت سے دونوں کے بیچ چوں کہ ایک حد تک بے تکلفی بھی تھی؛اس لیے حکیم صاحب نے ازراہِ مزاح فرمایا تھا کہ:حضرت آپ چوں کہ ایک زمانے سے عربی کتب کی تدریس سے دور ہیں،تو کہیں آپ کو ہماری یہ دعوتِ تدریس قبول کرنے میں کوٸی پس و پیش تو نہ ہوگا۔؟مولانا علاٶالدین صاحبؒ نے اس سوال کے جواب میں بے تکلف و برجستہ جو بات کہی،اس کا حاصل یہ تھا کہ وہ عربی کتب کے تدریسی شغل سے اب تک دور ضرور رہے ہیں؛لیکن اللہ کے فضل سے اپنے اکابر اساتذہ کی جوتیاں سیدھی کرنے کے طفیل انہیں جو کچھ حاصل ہوا،وہ اب تک جوں کا توں ذھن و دل میں محفوظ ہے اور یہ کہ وہ ابتداء سے انتہاء تک عربی و فارسی کی نصاب میں داخل تمام کتابیں بلا مطالعہ پڑھانے کی کامل قدرت رکھتے ہیں۔

علامہ یوسف بنوریؒ بانی جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاون کراچی،جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل کے اولین فارغ التحصیل علماء میں سے ایک ہیں۔مولانا علاٶالدین صاحبؒ ان کے درسی ساتھی تو نہیں تھے،ہاں البتہ ڈابھیل کے دو سالہ قیام کے دوران ان کے ساتھ رفاقت و قربت ضرور رہی اور یہ قربت علمی اعتبار سے بہت سودمند ثابت ہوٸی۔مولانا حکیم عبدالمجید نابینا صاحب لائلپوری مولانا جودھپوری کے درسی ساتھی تھے،جن کی قوت حافظہ پر خود شاہ صاحبؒ کو ناز تھا اور فرمایا کرتے تھے کہ "جب معلوم ہوا کہ امام ترمذی نابینا ہونے کے باوجود حافظِ حدیث تھے،تو حیرت ہوتی تھی؛لیکن اب ان حافظ عبدالمجید کو دیکھ کر وہ حیرت جاتی رہی”۔

جیساکہ ذکر آیا،علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی بہ حیثیت شیخ الحدیث جامعہ ڈھابیل منتقلی کا واقعہ ۱۳۴۵ھجری کے اواخر میں پیش آیا۔مولانا علاؤالدین صاحبؒ اس سال دارالعلوم کے سالِ ششم کے طالب علم تھے،پھر وہ اختلافی واقعہ پیش آیا،جس پر گذشتہ سطور میں مختصراً روشنی ڈالی گئی۔راقم سطور نے اس دورِاختلاف کا تفصیلی مطالعہ کیاہے،اختلاف کے وجوہ و اسباب،اس میں حصہ لینے والے ھندوپاک کے طلبہ کے نام،پھر آخر میں طلبہ و اساتذہ کی ایک معتدبہ تعداد کے جامعہ ڈھابیل ھجرت کر جانے اور اس کے ثمرات و برکات کا بیان بارہا نظر سے گزرا ہے؛مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تاریخِ دارالعلوم کے اس سلسلے کا دستیاب تحریری ریکارڈ مولاناجودھپوریؒ کے نام سے یکسر خالی ہے،اس کی بنیادی وجہ غالباً ان کی طولِ صمت اور خلوت نشینی کی عادت بنی اور ایسے خاموش طلبۂ دارالعوم کی ایک اچھی خاصی تعداد تھی،جنہیں شاہ صاحبؒ کی عقیدت ڈھابیل کھینچ لے گئی اور وہیں سے ان کی فراغت عمل میں آئی۔

مولانا پیپاڑویؒ نے قیامِ ڈابھیل کے دوسرے سال دورۂ حدیث پڑھنے کی سعادت حاصل کی،آپ کے رفقائے دورۂ حدیث میں متحدہ ھندوستان کے کئی ایسے طلبہ کے نام شامل ہیں،جن سے باری عزاسمہ نے دینِ متین کی خدمت کا لائقِ رشک کام لیا اور ھند و پاک کے علمی و دینی افق وہ حضرات آفتاب و ماھتاب بن کر چمکے۔مولانا عبدالقیوم صاحب راجکوٹی مدظلہم اور مفتی عرفان صاحب مالیگاؤں اساتذہ جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل کے دلی شکریے کے ساتھ،آپؒ کے پینتالیس رفقائے گرامی کے اسماء ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں:

۱ مولانا فضل کریم نواکھالی

۲ مولانا صالح چاٹگامی

۳ مولانا غلام محمد چترالوی

۴ مولانا احمدشاہ ہزاروی

۵ مولانا مقصود علی کمرلائی

٦ مولانا عبدالعزیز کمرلائی

۷ مولانا علی اعظم عمرپوری

۸ مولانا ریاض الدین بگراوی

۹ مولاناعبدالمجید[خورشیداحمد]لائل پوری

۱۰ مولانا علی نواز میمن سنگی

۱۱ مولانا عبدالاوّل سندھی

۱۲ مولانا فضل الرحمٰن نواکھالی

۱۳ مولانا مطیع اللہ ہزاروی

١٤ مولانا نعمت اللہ مرشدآبادی

۱۵ مولانا منصوراحمد نواکھالی

١٦ مولانا امین اللہ نواکھالی

۱۷ مولانا عبدالحی جونپوری

۱۸ مولانا محمد اسماعیل لاجپوری

۱۹ مولانا عبدالمجید نابینا لائل پوری

۲۰ مولانا محمد قلندرشاہ پشاوری

۲۱ مولانا مطلب الدین میمن سنگی

۲۲ مولانا عبدالصمد کمرلائی

۲۳ مولانا حامدحسن دیوبندی

(٢٤) مولانا علاؤالدین جودھپوری

۲۵ مولانا علی اعظم رتنپوری

٢٦ مولانا آفتاب الدین ڈھاکوی

۲۷ مولانا محمد یوسف شرقی منگلوری

۲۸ مولانا زین العابدین دیناجپوری

۲۹ مولانا عبدالرشید بجنوری

۳۰ مولانا محمود چاٹگامی

۳۱ مولانا عبدالکریم میمن سنگی

۳۲ مولانا عبدالرب بریسالی

۳۳ مولانا سراج الدین کچھاڑی

٣٤ مولانا عبدالقادر افریقی

۳۵ مولانا عبدالحی بنارسی

٣٦ مولانا مقبول احمد بریسالی

۳۷ مولانا رئیس الدین میمن سنگی

۳۸ مولانا دلیل الدین بریسالی

۳۹ مولانا محمد سعید لاجپوری

٤٠ مولانا اعجب الدین میمن سنگی

٤١ مولانا احمدابراھیم کھٹوری

٤٢ مولانا عبدالحق میمن سنگی

٤٣ مولانا عبدالعلی میمن سنگی

١٣٤٨ ھجری کے ان فارغین نے بخاری شریف و ترمذی شریف حضرت علاّمہ انور شاہ کشمیریؒ سے،مسلم شریف شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ سے اور دیگر کتبِ حدیث حضرت مولانا سراج احمد رشیدیؒ،حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمٰن عثمانیؒ اور حضرت مولانا بدرعالم میرٹھیؒ سے پڑھیں اور سب ہی فارغین کو جامعہ ھٰذا کی جانب سے کتاب نفائس الازھار انعام میں دی گئی۔

شاہ صاحب کے جامعہ اسلامیہ ڈھابیل کے پانچ سالہ زمانۂ قیام میں یہ دوسری جماعت تھی،جس نے اپنے علمی و مطالعاتی انہماک اور جہدِمسلسل کے ذریعے شاہ صاحب کا دل جیتا اور آگے چل کر مختلف شعبہ ہائے حیات میں علم و عمل کے وہ چراغ روشن کیے،جن کا سلسلہ نسل در نسل دنیا کے مختلف اطراف و اکناف میں جاری ہے اور ان شاءاللہ جاری ہی رہے گا۔

اس وقت جب کہ یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں،شاہ صاحب کا کوئی بھی شاگرد بہ قیدِحیات نہیں ہے۔تقسیم سے قبل آپ کے شاگردوں نے مختلف علاقوں کو خدمتِ دین کا میدان بنائے رکھا،
بعض نے یکے بعد دیگرے کئی ایسے علاقوں میں خدمت انجام دی،جو اب دو تین ملکوں میں منقسم ہیں۔تقسیم کے بعد جس نے جس ملک کو اپنایا،اس نے وہیں پر خدمتِ دین متین کا شغل جاری رکھا۔

مولانا علاؤالدین صاحبؒ نے کسی اور ریاست کا رخ کرنے کے بجائے، علاقائی ضرورت کے پیشِ نظر فراغت کے معاً بعد پیپاڑ کا قیام اختیار کیا۔مولانا نے اسّی یا اس سے کچھ زائد عمر پائی اور فراغت کے بعد سے تادمِ واپسیں پیپاڑ ہی میں دینی خدمات انجام دیتے رہے۔مولانا کی مضبوط تدریسی صلاحیت کی بنیاد پر انہیں بڑے بڑے مدارس کی جانب سے اپنے ہاں تدریس کی پیش کش کرنا بالکل قرینِ قیاس تھا اور یقیناً ایسا ہوا بھی ہوگا؛لیکن علاقۂ پیپاڑ کے خواص کے مطابق انہوں نے اہالیانِ پیپاڑ کی دینی رھنمائی کے لیے اپنے کو وقف کیے رکھا؛البتہ دارالعلوم العربیہ الاسلامیہ جودھپور اس کلیے سے مستثنیٰ ہے،جہاں مولانا مرحوم نے پانچ چھ مہینے عربی کتب کا درس دیا۔مولانا شفیق صاحب مدظلہم،مولانا حکیم محمدمسلم صاحب جودھپوری اور مولانا ظہور احمد صاحب جودھپوری وغیرہ متعدد احباب،دارالعلوم العربیہ الاسلامیہ جودھپور میں آپ کے شاگرد رہے ہیں،ان حضرات نے عربی دوم کے سال نورالایضاح،فصولِ اکبری اور پنج گنج مولاناؒ سے پڑھیں۔شرحِ وقایہ اور کنزالدقائق وغیرہ مختلف علوم و فنون کی کتابوں کی تدریس بھی آپ سے متعلق رہی تھی اور یہ چند ماہ کا ان کا قیامِ جودھپور طلبہ کے حق میں کسی نعمتِ غیرمترقبہ سے کم نہ تھا،جس کے انمٹ فوائد و منافع کا احساس و اعتراف،ان کے بہ قیدِحیات شاگردان رشیدان کو آج بھی ہے۔مولانا مرحوم کی ذات سے یہاں بھی بہت بڑا کام انجام پا سکتا تھا اور خود ان کی تدریسی صلاحیت بھی اس عمل کے تسلسل سے مزید جلاء پا سکتی تھی؛مگر انہوں نے ایک وقتی ضرورت کے تحت یہ دعوت قبول کی اور کسی حد تک اس ضرورت کی تکمیل ہو جانے پر،اپنے وطن مالوف منتقل ہو گئے۔پیپاڑ کے عوام بھی ان کی علٰحدگی پر کسی صورت تیار نہ تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مولانا مرحوم نے اپنے ہم وطنوں کی کامل اصلاح کی راہ میں کسی بھی ایسے اقدام کو ایک مانع سمجھا۔یہ وہ دور تھا جب نمازِ جنازہ پڑھانے والا دور دور تک نظر نہ آتا تھا،نمازِجنازہ کے انتظار میں دو دو تین تین روز تک مردے دفن نہیں ہو پاتے تھے اور بعض اوقات انتظار کا دورانیہ طویل ہو جانے پر بلا نمازِجنازہ مردے دفن کر دیے جاتے تھے۔مولانا مرحوم کی خدا مغفرت فرمائے،ان حالات میں انہوں نے ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر اپنی قوم کی ہرممکن دینی خدمت کی اور قوم کی جانب سے چندایک مواقع پر ناقدری و احسان فراموشی کے مظاہرے کے باوجود اپنے مشن پر دل و جان سے قائم رہے۔

جامع مسجد اور مسجد بیوپاریان میں مختلف اوقات میں امامت و خطابت کے علاوہ مدینۃ العلوم میں درس و تدریس کا کام ایک لمبے زمانے تک کیا۔مدینۃ العلوم کا ابتمام و انتظام بھی آپ سے متعلق رہا۔اس تاریک فضا میں مولانا مرحوم نے امامت و خطابت،دعوت و تبلیغ اور درس و تدریس کے ذریعے اپنی قوم کی جو مخلصانہ خدمت انجام دی،علاقے کے موجودہ مدارس و مکاتب اور دعوتی امور سے علاقائی لوگوں کا دلی تعلق،اسی کا طفیل و مظہر ہیں۔

آپؒ بڑے خوش نویس تھے،راقم کو ان کی قلمی تحریر کا نمونہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہے۔

بیت اللہ و مدینۃ الرسول حاضری کی خواھش ہر مومن کے دل میں موجزن رھتی ہے۔مولانا مرحوم اس حوالے سے بھی خوش نصیب واقع ہوے تھے،غالباً جوانی ہی میں ان کے سفرِبیت اللہ کی راہ ہم وار ہو گئی تھی،جس کی صورت یہ ہوئی کہ رنسی گاؤں کے باشندے حاجی رحیم بخش صاحب مرحوم نے مولانا مرحوم سے،اپنے متوفی صاحب زادے فتح محمد صاحب کی طرف سے حج بدل کرنے کی درخواست کی۔مولانا کی جانب سے فوری طور پر اس درخواست کو منظوری دی گئی اور متعینہ وقت پر سفرِحرمین کیا گیا۔حج بدل کے اس واقعے سے ذھن اس جانب ملتفت ہوتا ہے کہ اس سے پہلے وہ اپنے حج سے سبکدوش ہو گئے تھے۔

کم ہی لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ مولاناؒ قرآن کریم کے ایک جید حافظ تھے اور حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کی طرح تلاوتِ قرآن کا ان کے یہاں حددرجہ اھتمام تھا،آخر کے ضعف و عوارض کے سال چھوڑکر باقی ساری زندگی انہوں نے تراویح میں قرآن کریم سنایا تھا۔

اللہ تعالٰی نے انہیں بڑی محبوبیت و مقبولیت عطا فرمائی تھی،ان کی حینِ حیات باشندگانِ پیپاڑ نے اپنے ہر طرح کے مسائل کے حل کے لیے انھی کی ذات والا صفات کو مرجع قرار دیے رکھا،مدارس کے علماء و طلبہ نے بھی انہیں اپنے علمی سرپرست کے درجے میں رکھا،مولانا کی حیات میں پیپاڑ یا قرب و جوار کے علاقوں میں جب کسی عالمِ دین کی تشریف آوری ہوتی،تو پھر ایسا شاذ و نادر ہی ہوا ہوگا کہ وہ مہمان محترم ان کی زیارت و ملاقات کے بغیر واپس روانہ ہو گئے ہوں،احقر کے نانا مرحوم مولانا قاری محمد ھاشم صاحب خلیلی گومٹویؒ مدرسہ اصلاح المسلمین بیلاڑہ کے چودہ سالہ قیام میں،سلام و دعا کی غرض سے بارہا حضرتؒ کے یہاں تشریف لے گئے۔مولانا دوست محمد صاحب مہتمم اول دارالعلوم پوکرن،مولانا رشید احمد صاحب قاسمیؒ سابق صدرالمدرسین دارالعلوم پوکرن کی ان سے پیپاڑ میں ہونے والی ملاقاتوں کا تذکرہ بھی سامعہ نواز ہوا ہے،مولانا احمداللہ صاحب مدظلہم امام و خطیب تکیہ مسجد سبزی منڈی پیپاڑ بھی جن کا وطنی تعلق شایرپورہ کاپرڑہ سے ہے، آپؒ کے خصوصی متعلقین میں سے رہے ہیں اور انہوں نے ہی مولانا کے مشورے سے ١٩٧٦ یا ٧٧ عیسوی میں مدینۃ العلوم کی سابقہ اقامتی حیثیت بہ حال کرنے کی کوشش کی تھی اور تقریباً دو سال تک بیرونی طلبہ کا قیام و طعام مدرسے کی جانب سے جاری رہا تھا۔مولانا شفیق صاحب مدظلہم کی دعوت پر وہ پچیاک کے مدرسے بھی تشریف لے گئے۔مولاناؒ علاقائی و صوبائی مدارس کے عروج و ارتقاء کی خبریں سن کر خوش ہوتے تھے اور حوصلہ افزائی کے علاوہ منتظمین و مدرسین اور مبلغین و ائمہ کو اپنی بزرگانہ دعاؤں سے بھی خوب نوازتے تھے۔

مولاناؒ،ان کے والدماجد خدابخش صاحبؒ اور مولانا کے جملہ برادران نورمحمد صاحب،جناب محمد صاحب،اشرف علی صاحب،قمرالدین صاحب اور دیگر بہت سے افرادِخاندان پیپاڑ شہر کے قدیمی قبرستان میں مدفون ہیں۔مولاناؒ کے دو صاحب زادگان محمد اسلم صاحب اور ادریس احمد صاحب میں سے اول الذکر کراچی پاکستان ھجرت کر گئے تھے اور ان کی اولاد آج بھی وہیں سکونت پذیر ہے؛جب کہ ثانی الذکر ادریس احمد صاحب پیپاڑ ہی میں رہے اور یہیں آسودۂ خاک ہوے۔

اب ایک یادگار واقعے پر اس تحریر کو ختم کیا جاتا ہے،قاری حاجی محمد صاحب مدظلہم نائب مہتمم جامعہ خادم الاسلام بھاکری پیپاڑ کے والدبزرگوار عبداللہ صاحب مرحوم اس واقعے کے چشم دید گواہ تھے اور وہی اس کے راوی بھی،یہ بزرگ مولانا مرحوم کے خصوصی قدردانوں میں سے ایک تھے،مولانا مرحوم سے ان کی ملاقات و شناسائی کا عرصہ،ظاہر ہے کئی دھائیوں پر مشتمل رہا ہوگا،یہ بزرگ مولانا کے علمی و اصلاحی بیان سے استفادے کی غرض سے،جمعے کی نماز اکثروبیشتر جامع مسجد پیپاڑ ہی میں ادا کیا کرتے تھے۔عبداللہ صاحب کا بیان ہے کہ حسبِ معمول وہ ایک مرتبہ جمعے کے روز جامع مسجد پیپاڑ میں حاضر تھے اور مولاناؒ کا وعظ جاری تھا کہ دیہی علاقوں کے کچھ سندھی برادری کے لوگ اپنے مخصوس لباس و پوشاک کے ساتھ مسجد کے وضوخانے پر آئے اور انہیں دیکھ کر شہر کے مسلمانوں نے کچھ تفریحی جملے ادا کیے،جن کا خلاصہ کچھ اس طرح تھا کہ میلے کچیلے لباس ہی کے ساتھ مسجد میں آ حاضر ہونے کا ان سندھیوں کا حوصلہ باعثِ تعجب امر ہے اور یہ کہ انسانی اقدار اور ان کے پاس و لحاظ سے ان کا کوئی دور دور کا تعلق نہیں۔یہ تفریحی جملے مولانا مرحوم نے سنے،تو آپ نے سلسلۂ بیان کو موقوف کرکے،وضوخانے کے قریب کھڑے لوگوں کو مخاطب بناکر،وہیں منبر پر سے فرمایا کہ ان سندھی بھائیوں کے ساتھ تمسخرواستہزاء کا معاملہ نہ کیا جائے،میرے یہ بھائی خلوصِ دل کے ساتھ خدا کے گھر میں حاضر ہوے ہیں،انہیں اسی حال میں مسجد میں آنے دیجیے،ان کا خلوص ضرور رنگ لائے گا اور یہ نہ سہی ان کی نسل میں علماء و حفاظ اور دعاۃ و مبلغین پیدا ہوں گے اور ان کے ذریعے دین متین کی نشرواشاعت کا کام انجام پائے گا۔

قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید،اس مردِحق آگاہ کی زبان سے نکلی ہوئی یہ بات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔علاقۂ پیپاڑ میں آباد اس سندھی قوم نے مدارس و مکاتب کے قیام اور دین متین کی دعوت و تبلیغ کے حوالے سے جو عظیم قربانیاں پیش کیں،وہ راجستھان کی دینی و علمی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور اسی قوم کے بعض نوجوان علماء تحریری و تحقیقی میدان میں جس تسلسل و استقلال کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں،وہ تو ہم اہالیانِ راجستھان کے لیے باعثِ فخر اور لائقِ صدستائش چیز ہے۔

اللہ تعالٰی مولانا کی مغفرت فرمائے،ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور ان کی حسنات میں ہمیں ان کے کامل اتباع کی توفیق مرحمت فرمائے۔

٢٣ جولاٸی ٢٠١٩ عیسوی

ایم ایم ای آر سی کا پچی س سالہ جشن اور قیام وخدمات

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

مرکز المعارف (این جی او):
اپنے والد گرامی کے رفاہی وخیراتی کاموں سے تحریک پاکر، دار العلوم، دیوبند کے اس وقت کے نوجوان فاضل مولانا بدر الدین اجمل صاحب قاسمی (حفظہ اللہ) نے سن 1983 میں، ایک تنظیم بنام "مرکز المعارف” قائم کیا؛ تاکہ مفلوک الحال لوگوں کے لیے کام کرسکیں۔ اس تنظیم کے قیام کا اہم مقصد سماج کے تعلیمی ومعاشی طور پر پچھڑے ہوئے لوگوں کی ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔ اس کا صدر دفتر آسام کے شہر "ہوجائی” میں ہے۔ اس تنظیم نے اپنے قیام کے روز اول سے خاص طور پر تعلیمی میدان کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ اس نے درجنوں اسکول اور کالجز قائم کیا۔ تعلیم کے علاوہ اس تنظیم نے متعدد ہسپتال اور یتیم خانے قائم کیے۔ بہت سے ایسے لوگ جن کو سر چھپانے کے لیے ایک گھر میسر نہیں تھا، گھر بنواکر ان لوگوں کے حوالے کیا۔ تنظیم نے آفاتِ سماوی کے موقع سے راحت رسانی کا کام انجام دیا۔ وہ جوان لڑکیاں جن کے والدین تنگ حالی کی وجہہ ان کی شادی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، یہ تنظیم شادی کے لیے ان کو تعاون پیش کرتی ہے۔ یہ تنظیم صرف آسام کے قرب وجوار میں ہی کام نہیں کرتی؛ بلکہ ہندوستان کے متعدد علاقے، مثلا منی پور، نئی دہلی، دیوبند اور ممبئی وغیرہ میں قائم اپنے دفاتر کے تحت بھی کام کرتی ہے۔ اس کے تعلیمی کارناموں میں ایک اہم مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (ایم ایم ای آر سی) کے تحت نئے فارغین علما کو انگریزی زبان سے مسلح کرنا ہے۔

علما کے لیے انگریزی زبان کی ضرورت:
عصر حاضر میں انگریزی زبان کی حیثیت ایک بین الاقوامی زبان کی ہے۔ اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس کے افکار وخیالات بین الاقوامی سطح پر پہنچیں اور سنے جائیں یا وہ یہ چاہتا ہے کہ وہ ایسی زبان استعمال کرے جسے عام طور پرعالمی سطح پر قارئین وسامعین سمجھ سکیں؛ تو اس شخص کے لیے انگریزی زبان سیکھنا ضروری ہے؛ کیوں کہ بغیر انگریزی زبان کے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔ اسلام کی ترجمانی اور اسلام کے پیغامِ امن کوعالمی سطح پر پہنچانے کے لیے علماء کرام کی شخصیت بہت ہی موزوں ہے، مگر عام طور پر علماء کرام انگریزی زبان سے ناواقف ہوتے تھے۔ ان کے لیے اپنے افکار وخیالات اور پیغامِ اسلام کو عالمی سطح پر پہنچانا، بہت مشکل تھا؛ جب کہ متعصب ذرائع ابلاغ اسلام مخالف بہت سی غلط فہمیاں عالمی سطح پر پھیلارہے ہیں۔ سب کے نزدیک آج کی تاریخ میں انگریزی زبان کی اہمیت مسلم ہے؛ مگر کچھ سالوں قبل تک علماء کرام انگریزی زبان کے سمجھنے، بولنے اور لکھنے سے بالکل معذور تھے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ایک آدھ عالم ایسے ضرور تھے جو انگریزی زبان پر قادر تھے؛ مگر انھوں نے ذاتی طور پر محنت ومشقت اور مشق وتمرین سے یہ حاصل کیا تھا۔ باضابطہ کوئی ادارہ ایسا نہیں تھا، جہاں علما کو داخلہ دے کر، انگریزی زبان سیکھائی جاتی تھی۔ بہت سے لوگوں کو اس بات کا احساس تھا کہ علماء کرام کو انگریزی زبان سے واقف ہونا چاہیے؛ مگر ان کے سامنے کوئی مثال نہیں تھی کہ ان کو کس طرح انگریزی زبان سیکھائی جائے۔

مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کا قیام:
انگریزی زبان کی اہمیت اور وقت کے تقاضے کو سمجھتے ہوئے، دار العلوم دیوبند کے فاضل اور کامیاب تاجر، محسن ملت حضرت مولانا بدر الدین اجمل صاحب قاسمی (حفظہ اللہ)، بانی وصدر: "مرکز المعارف” نے سن 1994 میں ایک ادارہ بہ نام: "مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر” (ایم ایم ای آر سی) قائم کیا۔ قاسمی صاحب دار العلوم، دیوبند کے رکن شوری، اے آئی یو ڈی ایف کے صدر اور آسام کے دھبری حلقہ سے لوک سبھا کے ایم پی ہیں۔ ایم ایم ای آر سی کا مقصد نئے فارغین مدارس کو انگریزی زبان اور کمپیوٹر سائنس سے مسلح کرنا تھا؛ تاکہ یہ علماء کرام بہ سہولت زمانے کے چیلنجیز کا سامناکرسکیں اور اسلام کی اشاعت اور قوم وملت کی خدمات قومی وبین الاقوامی سطح پر انجام دے سکیں۔ اس طرح ایم ایم ای آر سی پورے ہندوستان میں اپنی طرز کا پہلا ادارہ ہوگیا، جس نے زمانے کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے علما کی ٹریننگ کا آغاز کیا۔

ابتدائی طور پر ایم ایم ای آر سی کا قیام دہلی میں ہوا۔ جناب محمد عمر گوتم صاحب، مشہور داعی وسابق لکچرر، شعبہ اسلامیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کو بحیثیت ڈائریکٹر اس ادارہ کو چلانے کی ذمےداری سونپی گئی۔ اس کورس کا نام: "ڈپلوما ان انگلش لنگویج اینڈ لٹریچر” (ڈیل) رکھا گیا۔ مدت تعلیم دو سال متعین کی گئی۔ پھر جناب گوتم صاحب کی ڈائرکٹرشپ میں اس ادارے نے اپنے اہم سفر کا آغاز کیا۔ انگریزی زبان سے دل چسپی رکھنے والے نئے فارغین مدارس کو، داخلہ امتحان کے بعد منتخب کیا گیا۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ درجن بھر سے زیادہ نئے فارغ علما ایک جگہ پر انگریزی زبان اور کمپیوٹر سیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ آغاز کے بعد، ادارہ بہت اچھے طریقے سے چلا، الحمدللہ۔ کچھ سالوں بعد، اس ادارہ کو دہلی سے ممبئی منتقل کردیا گیا۔ ممبئی میں اس ادارہ کی ذمے داری ایم ایم ای آر سی کے محترم فاضل مولانا محمد برہان الدین صاحب قاسمی کو سونپی گئی۔ مولانا قاسمی نے بحیثیت ڈائریکٹر اس ادارہ کی ترقی کے لیے بڑی جد وجہد کی۔ انھوں نے اس کورس میں بہت سے مفید اجزاء کا اضافہ کیا۔ ہرسال درجنوں علمااس کورس سے استفادہ کررہے ہیں اور فارغ ہوتے ہیں۔ یہ ادارہ دن بہ دن ترقی کی طرف گامزن ہے، الحمد للہ۔

ایم ایم ای آر سی کا پچیس سالہ جشن:
ایم ایم ای آر سی کے پچیس سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اب ایم ایم ای آر سی "پچیس سالہ جشن اور سہ روزہ بین الاقوامی سمینار بموضوع: مسلم نوجوان، علما اور معاصر چیلنجیز خاص طور پر مدرسہ کی تعلیم کے بعد اور ڈیل کورس کے تناظر میں”، 4-6 اکتوبر 2019 کو دہلی میں کرنے جارہا ہے۔ پچیس سال کوئی بہت ہی مختصر مدت نہیں ہے؛ مگر کسی نمایاں کامیابی کے لیے حصول کے لیے یہ کوئی بڑی لمبی مدت بھی نہیں ۔ بہرحال، ایم ایم ای آر سی اپنے قیام کے پچیس سالہ مدت میں، اپنے ہدف اور مقصد کے حصول میں نہایت ہی کامیاب رہا۔ کوئی بھی انصاف پسند مورخ ایم ایم ای آر سی کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس کی تاریخ سنہرے حروف سے لکھے گا کہ اس ادارہ نے علما کو انگریزی زبان اور کمپیوٹر سائنس سے مسلح کرکے زمانے کی تحدیات کو قبول کرنے کے راستے میں واقع رکاوٹ کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ایم ایم ای آر سی کے فضلاء:
مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر(ایم ایم ای آرسی) نے اب تک تقریبا 450 علما کو انگریز زبان اور کمپیوٹر کی تعلیم سے آراستہ کیا ہے۔ دو سالہ "ڈپلوما ان انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر” کی تکمیل کے بعد، کوئی چیز ان کو آگے بڑھنے میں مانع نہیں رہتی۔ یہ علما قوم وملت کی خدمت کے لیے کسی بھی میدان کو منتخب کرنے میں، خود کو پورے طور پر مسلح پاتے ہیں۔ جن میدان میں بھی وہ گئے، ان کی کارکردگی قابل تعریف رہی ہے۔ ان کی جدو جہد، صلاحیت وقابیلیت اور محنت ولگن قابل تقلید ہوتی ہیں۔ ایم ایم ای آر سی کے فضلاء نے تدریس وتعلیم، بحث وتحقیق، دعوت وتبلیغ، صحافت اور سماجی وانتظامی جیسے مختلف میدانوں میں اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ان سبھی میدانوں میں انھوں نے اہم کرادر اداکیے اور نمایاں خدمات انجام دیے ہیں۔ یہی وجہ ہےیہ حضرات جہاں بھی ہوں اور جو بھی خدمات انجام دے رہے ہوں، منتظمین انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ان ‌فضلا کرام میں سے چند کے اسماء گرامی مع ان کی سرگرمیوں کے ساتھ پیش کیے جارہے ہیں۔ مولانا محمد برہان الدین صاحب قاسمی، مشہور صحافی، "ایم ایم ای آر سی” کے موجودہ ڈائریکٹر اور مشہور انگریزی میگزین "ایسٹرن کریسینٹ” کے بانی وایڈیٹر ہیں۔ مولانا محمد عتیق الرحمن صاحب قاسمی مرکز المعارف کے ڈی آئی پی آر کے کورڈینیٹر اور یو این ای پی کی طرف ماحولیاتی خدمات پر ایوارڈ یافتہ ہیں۔ مولانا انصار اعظمی قاسمی کنگ سعود یونیورسیٹی، ریاض، سعودی عرب میں پروفیسر ہیں۔ مولانا افتخار احمد صاحب قاسمی انگریزی وعربی زبان کے قلم کار اور جامعہ اکل کوا میں استاذ حدیث ہیں۔ مولانا ڈاکٹر محمد رفیق صاحب قاسمی مولانا آزاد نیشنل یونیورسیٹی، حیدرآباد میں استاذ ہیں۔ مفتی ڈاکٹر محمد عبید اللہ صاحب قاسمی شعبہ عربی زبان وادب، ذاکر حسین کالج، دہلی یونیورسیٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اورہیڈ ہیں۔ آپ دار العلوم، دیوبند کے شعبہ انگریزی زبان وادب کے بھی ہیڈ رہ چکے ہیں۔ مولانا محمد افضل صاحب قاسمی الجامعۃ الاسلامیہ، بولٹن، انگلینڈ میں استاذ حدیث اور بلیکبرن کالج، یو کے میں لکچرر ہیں۔ آپ دار العلوم، دیوبند کے شعبہ انگریزی زبان وادب کے سابق استاذ ہیں۔ مفتی عبد الرشید صاحب قاسمی، استاذ حدیث اور حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن، کانپور کے نائب چیرمین ہیں۔ مفتی ڈاکٹر محمد اللہ صاحب قاسمی انگریزی واردو زبان وادب کے قلم کار، دار العلوم دیوبند کے شعبہ انٹرنیٹ کے ہیڈ اور آن لائن دار الافتا کے کورڈینیٹر ہیں۔ مولانا شمس الہدی صاحب قاسمی جامعہ اکل کوا کے شعبہ انگریزی زبان وادب کے ہیڈ اور وہاں سے شائع ہونے والا میگزین: "دی لائٹ” کے ایڈیٹر ہیں۔ مولانا اسماعیل صاحب ماکروڈ (رحمہ اللہ)نے سن 2003 میں، ایم ایم ای آر سی کے طرز پر ایک ادارہ بنام: مرکز اسلامی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، گجرات کے شہر انکلیشور میں قائم کیا، جہاں سے طلبہ کی ایک بڑی تعداد استفادہ کرکےملک وبیروں ملک میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ مولانا منظر امام قاسمی (پی ایچ ڈی)، انگریزی واردو زبان کے صحافی، ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی اور یونیورسیٹی آف نوٹرے ڈیم، یو ایس اے سے بھی منسلک ہیں۔ مولانا ڈاکٹر رفیق الاسلام صاحب قاسمی، اسسٹنٹ پروفیسر: یونیورسیٹی آف گوہاٹی، اے آئی یوڈی ایف کے جنرل سکریٹری اور سابق ایم ایل اےآسام ہیں۔ مولانا ڈاکٹر غفران نجیب قاسمی(بی یو ایم اسی) طبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مولانا ڈاکٹر عبد الرحمن صاحب قاسمی پوسٹ ڈوکٹرول ریسرچ میں مشغول ہیں اور آل انڈیا ریڈیو میں بحیثیت نیوز ریڈر کام کرچکے ہیں۔ مولانا ڈاکٹر رحمت علی قاسمی "حج میگزین”، حج کمیٹی، حکومت ہند کے معاون ایڈیٹر ہیں۔ مولانا غفران ساجد قاسمی بصیرت آن لائن اور ہفت روزہ ملی بصیرت، ممبئی کے بانی وچیف ایڈیٹر ہیں۔ مولانا ساجد قاسمی (ایم ایڈ: امریکن کالج آف ایجوکیشن، یو ایس اے) دار العلوم اٹلانٹا، یو ایس اے کے ناظم ہیں۔ مولانا خالد صاحب قاسمی جامعہ عبد اللہ بن مسعود میں استاذ حدیث اور الفاروق مسجد اٹلانٹا، یو ایس اے کے سابق ہیڈ امام ہیں۔ مولانا مدثر احمد قاسمی، ماہ نامہ ایسٹرن کریسنٹ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر، روزنامہ انقلاب کے کالم نگار اور الغزالی انٹرنیشنل اسکول، ارریہ، بہار کے ڈائریکٹر ہیں۔ مولانا توقیر احمد قاسمی کاندھلوی مشہور خطیب اور دار العلوم دیوبند کے شعبہ انگریزی زبان وادب کے ہیڈ ہیں۔ مولانا حفظ الرحمن قاسمی (پی ایچ ڈی) جے این یو، نئی دہلی میں ریسرچ اسکالر ہیں اور آپ نے معتدد اردو کتابوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے۔

جن حضرات کے اسمائے گرامی ذکر کیے گئے ہیں، وہ بطور مثال ہیں۔ اس سے فضلاء مرکز کا کوئی احصاء مقصود نہیں ہے۔ انھوں نے مختلف میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انھوں نے متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں اور درجنوں کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان حضرات نے مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر میں داخلہ لے کر، حضرت مولانا بدر الدین اجمل صاحب قاسمی (دامت برکاتہم) کی زیر سرپرستی، عالی جناب محمد عمر گوتم صاحب اور محترمی مولانا محمد برہان الدین صاحب قاسمی کی زیر نظامت جو انگریزی زبان وادب کی تعلیم حاصل کی، اس نے ان حضرات کی کامیابی وکامرانی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ماہ نامہ ایسٹرن کریسنٹ کا آغاز:
سن 2006 میں ایم ایم ای آر سی نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئےانگریزی زبان میں، ایک ماہ نامہ بہ نام: "ایسٹرن کریسنٹ” کا آغاز کیا۔ اس میگزین کا پہلا شمارہ مئی 2006 میں شائع ہوا۔ یہ ماہ نامہ روز اول سے مولانا محمد برہان الدین قاسمی کی ادارت میں شائع ہو رہا ہے۔ جہاں یہ ماہ نامہ ایم ایم ای آر سی کے فضلاء کے مضامین ومقالات کو اہمیت کے ساتھ چھاپتا ہے، وہیں بغیر کسی امتیاز کے عصری اداروں کے تعلیم یافتہ قلم کاروں کو بھی اپنے نظریات وخیالات بشکل مضامین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایسٹرن کریسنٹ فضلاء ایم ایم ای آر سی کو اپنے نظریات وخیالات اور افکار کو انگریزی جاننے والو تک پہنچانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ یہ میگزین عام طور پر حالات حاضرہ، ہندوستانی مسائل، ہندوستانی مسلمانوں کے حالات، اسلامی موضوعات وغیرہ کو نمایاں طور پر اپنی اشاعت میں جگہ دیتا ہے۔ عمدہ مضامین ومقالات کی شمولیت اور بہترین طباعت واشاعت کی وجہ سے اہل علم وقلم اور اساتذہ واسکالرز اس میگزین کو پسند کرتے ہیں۔ یہ میگزین چودہ سالوں سے مستقل چھپ رہا ہے۔ کسی بھی ماہ نامہ کا اتنی لمبی مدت تک چھپتے رہنا، میدان صحافت میں بڑی کامیابی وکامرانی ہے۔

مکتب مرکز المعارف:
مسلم بچوں کے لیے مکاتب اسلامیہ کی جو اہمیت ہے اس سے ہر کوئی واقف ہے۔ یہ مکاتب اسلامیہ جہاں ایک طرف چھوٹے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے واقف کراتے ہیں؛ وہیں دوسری طرف اخلاقی اقدار کو بھی ان بچوں کو ذہن نشیں کراتے ہیں۔ جو بچے مکاتب میں پڑھنے جاتے ہیں، وہ اپنے ایمان ودین کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ وہ بچے وضو کرنے اور پنج گانہ نماز کے طریقے وغیرہ سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ ان باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مکاتب کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے کہ ایم ایم ای آر سی کی انتظامیہ، بچوں کے لیے قابل اساتذہ کرام کی زیر نگرانی، ایک کامیاب مکتب بہ نام: "مکتب مرکز المعارف” چلاتی ہے۔ اس مکتب سے ابھی تقریبا 170 بچے استفادہ کرتے ہیں۔ مکتب کے بچے ممتاز نمبرات سے کامیاب ہوتے ہیں۔ اس سماجی خدمات کے لیے انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا جانا چاہیے۔

اسکولی بچوں کے لیے ورکشاپ:
کسی بھی شخص کے لیے یہ بات بڑی اہم ہے کہ وہ ضروریاتِ دین سے واقفیت رکھتا ہو۔ جب ایک شخص اپنے دین کی ضروریات سے واقف ہوگا، تو اس سے جہاں اس کو روحانی طاقت محسوس ہوگی، وہیں اس سے اس شخص کو دین پر عمل کرے میں اعتماد پیدا ہوگا۔ ان دنوں ہمارے وہ بچے جو اسکول جاتے ہیں، انھیں بمشکل ہی اسلامی تعلیمات اور اس کی اہمیت کے حوالے سے کچھ پڑھایا جاتا ہے۔ ان بچوں میں سے اکثر عقائد اور ضروریاتِ دین سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔ اسکولوں کے تعطیلی ایام میں، ایم ایم ای آر سی ایسے بچوں کی تربیت کے لیے گاہے بہ گاہے ورکشاپ کا انعقاد کرتی ہے۔ یہ ورکشاپ اسلامی ماحول میں منعقد کیا جاتا ہے؛ تاکہ وہ معصوم بچے جو مختلف اسکولوں میں جاتے ہیں، ان کے ذہنوں میں اسلامی معلومات کی اہمیت وافادیت کو بیٹھایا جاسکے اور ان کو دینی باتیں سیکھائی جاسکیں۔ اس ورکشاپ کے ذریعے انتظامیہ ان بچوں کو حوصلہ دیتی ہے کہ وہ ان چیزں کی جانکاری حاصل کریں اور اپنی یومیہ زندگی میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرسکیں۔

ایم ایم ای آر سی کے ڈیل کورس کی مقبولیت:
جب آج سے ڈھائی دہائی قبل، ایم ایم ای آر سی کا ڈپلوما ان انگلش لنگویج اینڈ لٹریچر (ڈیل) کورس متعارف کرایا گيا؛ تو اس وقت کسی نے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ یہ کورس اس طرح کام یاب ہوگا، جس کا مشاہدہ آج سیکڑوں لوگ اپنی کھلی آنکھوں کر رہے ہیں۔ مگر انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کی محنتیں، اخلاص، جدو جہد اور انتھک کوششیں کامیاب ہوئیں۔ آج یہ کورس نئے فارغین مدارس کو انگریزی زبان اور کمپیوٹر کی تعلیم سے مسلح کرنے کے حوالے ایک کامیاب ترین نمونہ سمجھاتا جاتا ہے۔ اس کورس کی کامیابی کا مشاہدہ کرتے ہوئے متعدد دینی مدارس کے منتظمین نے اسے قبول کیا اور اپنے اپنے اداروں میں اس کورس کا آغاز کیا۔ پھر دینی مدارس کے بعد، وطن عزیز کی ایک مشہور یونیورسیٹی: علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی (اے ایم یو) نے بھی اپنے یہاں اس کورس کو جگہ دی۔ اے ایم یو میں اس کورس کو "برج کورس” سے جانا جاتا ہے۔

خاتمہ:
مختصر یہ ہے کہ ایم ایم ای آر سی نے نئے فارغین مدارس کو زمانے کے چیلنجیز سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب یہ علما بسہولت قومی وبین الاقوامی سطح پر قوم وملت کی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ بحیثیت ادارہ، ایم ایم ای آر سی ایک نمونہ ہے۔ فی الحال ہندوستان میں اس طرح کی خدمات پیش کرنے والے تقریبا ایک درجن ادارے ہیں۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں جہاں ہر سال مدارس سے ہزاروں کی تعداد میں علما فارغ ہوتے ہیں، یہ ادارے ناکافی ہیں؛ کیوں کہ ان اداروں میں بہت ہی محدود طلبہ کا داخلہ ہوپاتا ہے۔ بہت سے علما اپنی خواہش کے باوجود بھی سیٹ محدود ہونے کی وجہ سے داخلہ نہیں لے پاتے ہیں۔ حالات حاضرہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے علما کی ایک بڑی تعداد کو انگریزی زبان سے واقف کرانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے مزید ادارے قائم کیے جانے چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ ان اداروں میں کمپیوٹر وڈپلوما ان انگلش لنگویج اینڈ لٹریچر کے ساتھ ساتھ ماہرین فن سے عصر حاضر کے اہم مختلف موضوعات پر مہینہ میں کم از کم ایک محاضرہ بھی پیش کیا جانا چاہیے!❁❁❁

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ