دورِ فاروقی میں دورِحاضر کا حل

22 لاکھ 51 ہزار 30 مربع میل پر حکمرانی کرنے والے انصاف پرور حکمران کے مبارک عہد کی ضو فشانیاں

متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
مرکزی امیر: عالمی اتحاد اہل السنة والجماعة

اللہ تعالیٰ کے مہینہ محرم الحرام کا آغاز ہے۔ محرم الحرام ان چار محترم مہینوں میں شامل ہے جن کو قرآن کریم نے قابل احترام قرار دیا ہے ، حسن اتفاق دیکھیے کہ اسلامی سال کے آغاز میں اللہ کے نام پر قربانی کے داستانیں رقم ہیں اور اسلامی سال کے آخر میں بھی قربانی کا درس موجود ہے۔اسلامی تاریخ میں محرم الحرام کی مناسبت سے دو ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن سے ہمیں معاشرتی زندگی گزارنے کی بہت ساری باتوں کا عملی درس ملتا ہے: پہلا واقعہ خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت جبکہ دوسرا واقعہ نواسہ رسول سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے چند ان پہلووٴں پر روشنی ڈالی جاتی ہے جن کا ہماری عملی زندگی سے بہت گہرا تعلق ہے ، یہ تذکرہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔
قیام امن کی عملی کاوشیں: اسلام میں امن کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جو علاقے اسلامی سلطنت کے زیر نگیں آئے یا جو پہلے سے موجود تھے ان میں عدالتی نظام کو فعال کیا ، مفتوحہ علاقوں میں بنیادی طور پر دو کام کیے جاتے وہاں کے باسیوں کو دین اسلام کی تعلیم سے آشنا کیا جاتا اور دوسرا وہاں عدالتیں قائم کر کے قیام امن اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا۔ آپ نے قانون کے علمی ماخذ کے طور پر قرآن و سنت کے بعد قضائے صالحین کو درجہ دیا چنانچہ سنن نسائی میں آپ کا وہ خط بھی موجود ہے جو آپ نے قاضی شریح کے نام لکھا تھا اور اس میں قانون کے علمی مآخذ کے طور پر قرآن وسنت اور قضائے صالحین کا تذکرہ موجود ہے۔
اس سے ہمیں قرآن و سنت کے بعد صالحین یعنی دین کے ماہرین کے فیصلوں پر عمل کرنے کا درس ملتا ہے۔
کمال دیانت: اسلام باہمی مشاورت پر زور دیتا ہے تاکہ خیر کے پہلو زیادہ سے زیادہ سامنے آئیں اور نقصان دہ پہلو سے بچا جا سکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی اس کی عملی نمونہ تھی، خلیفہ وقت میں عدالت ، دیانت ، تقویٰ ، علم دین سے واقفیت ، انتظامی امور میں اہلیت اور احکام شریعت کے نفاذ کی صلاحیت موجود ہوتی ہے جو اسے عوام ممتاز کر دیتی ہے۔لیکن اس کے باوجود آپ اپنے مشیروں کی بات کو اہمیت دیتے تھے ، اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسے الفاظ ذکر فرماتے جس سے آپ کی کمال دیانت اور عاجزی چھلکتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چنانچہ سنن دار قطنی ، کتاب النکاح میں ہے کہ حضرت ابو سفیان کہتے ہیں کہ مجھے میرے مشائخ نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا اے امیر المومنین میں اپنی اہلیہ سے دوسال غائب رہا ہوں اور جب واپس آیا ہوں تو وہ حاملہ ہے (اس وجہ سے میری اہلیہ شرعی سزا کی مستحق قرار پاتی ہے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے اس کے رجم کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرمانے لگے امیر المومنین !آپ کو عورت کے رجم کرنے کا تو حق ہے لیکن اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس پر آپ کو اختیار حاصل نہیں وہ بے گناہ ہے لہذا اس حکم کو بچے کی ولادت تک موخر کر دیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو بچے کی ولادت تک موخر کر دیا پھر اس خاتون نے بچے کو جنم دیا ، جب اس بچے کے سامنے کے دانت نکل آئے تو اس شخص نے اس بچے میں اپنی مشابہت پائی اور کہنے لگا رب کعبہ کی قسم یہ بچہ میرا ہی ہے۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورتیں معاذ بن جبل جیسا شخص پیدا کرنے سے عاجز ہوچکی ہیں اور اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔اسی طرح لولا علی لھلک عمر کے الفاظ بھی ملتے ہیں کہ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ یہ الفاظ آپ کے کمال دیانت ،انصاف پسندی ، بلندی اخلاق کی علامت ہیں باوجودیکہ آپ بڑے تھے لیکن چھوٹوں کی جو بات درست نظر آئی اسے قبول فرمایا۔ اس میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ ہم بھی چھوٹوں کی آراء کو اہمیت دیں اگر وہ زیادہ بہتر ہوں تو انہیں قبول کریں۔
اس سے ہمیں دیانت و انصاف پسندی کا درس ملتا ہے۔
سربراہ کا سادہ معیار زندگی: سربراہ کے طرز زندگی کے اثرات رعایا پر پڑتے ہیں ، اگر حکمران انصاف پسند ، قناعت پسند اور سادگی پسند ہو تو عوام میں ظلم وتشدد ، خواہش پرستی اور فیشن پرستی جنم نہیں لیتی جس کی وجہ سے معاشرہ سکون و راحت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ باوجودیکہ کہ بہت بڑی سلطنت کے فرمانروا تھے لیکن مزاجاً سادگی اورقناعت پسندی کے خوگر تھے۔ تاریخ ایسے کئی واقعات کی شہادت دیتی ہیچنانچہ ہرمزان سلطنت اہواز کا حکمران جب قید ہو کر آیا تو اس نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ مسجد کے فرش پر لیٹے ہوئے آرام فرما رہے ہیں۔ بیت المقدس کی فتح کا مشہور واقعہ سیرت و تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے : سن 46 ھ میں جب حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیت المقدس کا محاصرہ کیا تو وہاں کے اہل کتاب علماء نے کہا:تم بلاوجہ تکلیف اٹھاتے ہو ، بیت المقدس کو فتح کرنے والا کا حلیہ اور علامات ہماری کتابوں میں موجود ہے اگر تمہارے امام میں وہ سب باتیں موجود ہیں تو ہم آپ کو بیت المقدس حوالے کر دیں گے ، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کو اس بارے اطلاع کی گئی، آپ اپنے ایک غلام کے ہمراہ ایک اونٹ پر سوار ہو کر عازم سفر ہوئے ، زادراہ میں چھوہارے اور جو کے سوا کچھ نہ تھا ، اونٹ پر سوار ہونے کی باریاں مقرر کیں ، کبھی آپ خود سوار ہوتے اور غلام پیدل چلتا اور کبھی غلام سواری پر سوار ہوتا اور آپ پیدل چلتے ، آپ نے جو کرتہ زیب تن کیا ہوا تھا اس میں پیوند لگے ہوئے تھے ، جب بیت المقدس کے قریب پہنچے تو مسلمانوں نے آپ کے لیے ایک عمدہ جوڑے اور گھوڑے کا انتظام کیا ، آپ نے نیا لباس پہنا ، گھوڑے پر سوار ہوئے چند قدم کے بعد فرمانے لگے کہ میرے نفس پر اس کا برا اثر پڑ رہا ہے لہذا مجھے میرے وہی کپڑے اور اونٹ واپس کرو، چنانچہ اسی پر سوار ہوئے اور بیت المقدس پہنچے ، اہل کتاب علماء نیآپ کا حلیہ مبارک اور علامات دیکھی تو برملا کہہ اٹھے کہ ہاں فاتح بیت المقدس یہی ہیں اور آپ کے لیے اس کے دروازے کھول دیے۔
اس سے ہمیں سربراہ کے عام معیار زندگی ،عوام میں گھل میں کر رہنے اور صبر وشکر کا درس ملتا ہے۔
انسانی حقوق میں مساوات: آپ نے اسلام کی نافذ شدہ تعلیم مساوات کو مزید آگے بڑھایا ، چنانچہ کسی علاقے کے حاکم ، گورنر بلکہ خود خلیفة المسلمین کو یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں پر ترجیح دے جو وظیفہ بدریوں کو ملتا وہی آپ لیتے تھے۔
اس سے ہمیں مساوات کا درس ملتا ہے۔
حقوق نسواں کا حقیقی تصور: اسلام میں خواتین کو بہت بلند مقام حاصل ہے اور خواتین میں سب سے اہم عنصر حیا اور تقدس کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے عزت اور حقوق کو محفوظ کرنے کے لیے حجاب کو لازمی سمجھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی رائے کی موافقت میں قرآن کریم نازل فرما کر حجاب کو ضروری قرار دیا۔خواتین کے لیے رائے کی آزادی بھی حقوق نسواں کے ذیل میں آتی ہے چنانچہ ایک مرتبہ جب آپ نے دوران خطبہ خواتین کے مہنگے مہنگے حق مہر کے بارے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا تو ایک عورت نے کہا : اے عمرآپ ہمارے مہروں کو کس طرح کم کرسکتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سونے کے ڈھیر تک مہر لینے کا حق دیا ہے۔ اور قرآن کریم سورة النساء کی آیت نمبر 20 بھی تلاوت کی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس پر بہت خوش ہوئے اور خاتون کو عزت بخشتے ہوئے فرمایا:نساء المدینة افقہ من عمر۔ مدینہ کی خواتین عمر سے زیادہ دین کی سمجھ رکھتی ہیں۔
اس سے ہمیں حجاب، آزدی اظہار رائے اور خواتین کی سماجی عزت و احترام کا درس ملتا ہے۔
مفتوحہ علاقوں کے نظم و نسق: آپ 22 لاکھ 51 ہزار 30 مربع میل زمین پر حکمرانی کرنے والے انصاف پرور حکمران تھے۔ اس کے باوجود آپ مفتوحہ علاقوں کی کثرت پر زور دینے کے بجائے ان کے باسیوں کی تربیت کو ترجیح دیتے۔ آپ نے دمشق ،بصرہ، بعلبک، شرق ،اْردن ، یرموک ، قادسیہ، اہواز، مدائن ، ایران ،عراق ، تکیت، انطاکیہ ،حلب ،بیت ا لمقدس، نیشاپور ، الجزیرہ ، قیساریہ ، مصر ، اسکندریہ ،نہاوند اور دیگر علاقوں کو فتح کیا۔ ان میں تربیتی اور تعلیمی مراکز قائم کیے ، کھلی کچہریاں لگوائیں ، فوری انصاف کو یقینی بنایا ، عوام الناس کی شکایات کو دور کرنے کے لیے احکامات جاری کئے۔ روٹی کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضرورتوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچایا۔
اس سے ہمیں اپنے نظام زندگی میں انصاف ، تعلیم اور نظم و نسق کا درس ملتا ہے۔
اقلیتوں سے حسن سلوک: ایسے کفار جو مسلمانوں سے نہ لڑیں ان سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حمص کو حاصل کرنے کے لیے بطور سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ کو مقرر فرمایا، انہوں نے اسے فتح کیا اور غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا لیکن جب انہیں جنگ یرموک کے لیے حمص چھوڑنا پڑا تو انہوں نے یہ کہہ کر جزیہ واپس کر دیا کہ اب جب ہم آپ کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے تو ہمیں جزیہ لینے کا بھی حق نہیں۔ جب مسلمان حمص سے لوٹنے لگے تو وہاں کے غیر مسلم بھی اس عادلانہ نظام سے محروم ہونے پر رونے لگے۔ بیت المقدس کی فتح ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب کے مذہبی پیشوا کے ساتھ شہر کی متعدد عبادت گاہوں کو دیکھا ،آپ معائنہ فرما رہے تھے کہ اتفاق سے نماز کا وقت ہوگیا انہوں نے آپ اور آپ کے رفقاء کے لیے صفیں بھی بچھا دیں کہ آپ یہاں نماز ادا کرلیں۔ لیکن آپ نے یہ کہہ کر انکار فرمادیا کہ اگر ہم نے یہاں نماز پڑھ لی تو کل کو کوئی یہاں مسجد بنانا نہ شروع کردے میں نہیں چاہتا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں ہم کسی طرح کا حق قائم کریں۔ اسی طرح اہل ایلیا کے غیر مسلموں سے آپ نے معاہدہ امن کیا کہ یہ امن جو ان کو دیا جاتا ہے ، ان کی جانوں ، مالوں ، ان کے گرجاؤں اور ان کی صلیبوں ، ان کے بیماروں ، تندرستوں اور ان کے جملہ اہل مذاہب کے لیے ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کے گرجا گھروں میں رہائش نہ رکھی جائے ، ان کو گرایا نہ جائے ، انہیں اور ان کے احاطوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور نہ ہی ان پر دین کے بارے جبر کیا جائے۔
اس سے ہمیں اقلیتوں سے حسن سلوک کا درس ملتا ہے۔لیکن یہاں یہ بات اچھی طرح ملحوظ خاطر رہے کہ اگر اقلیتیں اپنی حیثیت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو پھر انہیں قانون کے شکنجے میں جکڑنا ضروری ہے۔
سماجی ورفاہی خدمات: قرآن کریم کی تعلیم کے لیے مکاتب و مدارس قائم کیے، قاری صاحبان اور ائمہ مساجد کی تنخواہیں مقرر فرمائیں ، اسلامی تقویم کا آغاز ہجرت نبوی سے شروع فرمایا اور اس کا ابتدا محرم سے فرمائی ، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع فرمائی ، عرب و عجم کے سنگم پر مرکز علم کوفہ کو آباد فرمایا،دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملانے کے لیے نہر سویز کھدوائی جس کی وجہ سے نفع بخش تجارت نے فروغ پایا، محکمہ ڈاک قائم کیا ، شہر کے اندرونی حالات کو درست رکھنے کے لیے محکمہ پولیس قائم کیا ، فوج کو سرحدیں اور محاذ سپرد کیے ، بیت المال تعمیر کرائے ،اپاہج ، معذور اور ضعیف لوگوں کے وظائف بیت المال سے مقرر فرمائے ، مسافروں کے لیے شاہراہوں پر مسافر خانے تعمیر کرائے ، لاوارث بچوں کے تربیتی مراکز قائم کیے ، دریائے نیل کے نام خط جاری فرمایا، اورقیصر و کسری جیسی سپر پاور طاقتیں پاش پاش ہوئیں۔ مورخین کے محتاط اندازے کے مطابق آپ کے زمانہ خلافت میں 3600علاقے فتح ہوئے۔900جامع مساجد اور4000عام مساجد تعمیر ہوئیں۔
اس سے ہمیں تعمیر وطن ، خوشحالی اور ترقی ، اہل علم کی قدر ، مستحق افراد کی معاونت ، یتیموں کی کفالت کا درس ملتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ دور حاضر کے مسائل کا حل دور فاروقی میں موجود ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے عملی زندگی میں لائیں ایسا گے تو ہمارا دنیا بھی سنور جائے گی ، ترقی بھی کریں گے ، ہدایت بھی عام ہو گی ، ضرورت مندوں کی معاونت بھی ہو گی اور معاشرے میں انصاف بھی عام ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مزاج فاروقی اپنانے کی توفیق دے ہمارے معاشرے کو انصاف پسند معاشرہ بنائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم