دورِ فاروقی میں دورِحاضر کا حل

22 لاکھ 51 ہزار 30 مربع میل پر حکمرانی کرنے والے انصاف پرور حکمران کے مبارک عہد کی ضو فشانیاں

متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
مرکزی امیر: عالمی اتحاد اہل السنة والجماعة

اللہ تعالیٰ کے مہینہ محرم الحرام کا آغاز ہے۔ محرم الحرام ان چار محترم مہینوں میں شامل ہے جن کو قرآن کریم نے قابل احترام قرار دیا ہے ، حسن اتفاق دیکھیے کہ اسلامی سال کے آغاز میں اللہ کے نام پر قربانی کے داستانیں رقم ہیں اور اسلامی سال کے آخر میں بھی قربانی کا درس موجود ہے۔اسلامی تاریخ میں محرم الحرام کی مناسبت سے دو ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن سے ہمیں معاشرتی زندگی گزارنے کی بہت ساری باتوں کا عملی درس ملتا ہے: پہلا واقعہ خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت جبکہ دوسرا واقعہ نواسہ رسول سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے چند ان پہلووٴں پر روشنی ڈالی جاتی ہے جن کا ہماری عملی زندگی سے بہت گہرا تعلق ہے ، یہ تذکرہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔
قیام امن کی عملی کاوشیں: اسلام میں امن کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جو علاقے اسلامی سلطنت کے زیر نگیں آئے یا جو پہلے سے موجود تھے ان میں عدالتی نظام کو فعال کیا ، مفتوحہ علاقوں میں بنیادی طور پر دو کام کیے جاتے وہاں کے باسیوں کو دین اسلام کی تعلیم سے آشنا کیا جاتا اور دوسرا وہاں عدالتیں قائم کر کے قیام امن اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا۔ آپ نے قانون کے علمی ماخذ کے طور پر قرآن و سنت کے بعد قضائے صالحین کو درجہ دیا چنانچہ سنن نسائی میں آپ کا وہ خط بھی موجود ہے جو آپ نے قاضی شریح کے نام لکھا تھا اور اس میں قانون کے علمی مآخذ کے طور پر قرآن وسنت اور قضائے صالحین کا تذکرہ موجود ہے۔
اس سے ہمیں قرآن و سنت کے بعد صالحین یعنی دین کے ماہرین کے فیصلوں پر عمل کرنے کا درس ملتا ہے۔
کمال دیانت: اسلام باہمی مشاورت پر زور دیتا ہے تاکہ خیر کے پہلو زیادہ سے زیادہ سامنے آئیں اور نقصان دہ پہلو سے بچا جا سکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی اس کی عملی نمونہ تھی، خلیفہ وقت میں عدالت ، دیانت ، تقویٰ ، علم دین سے واقفیت ، انتظامی امور میں اہلیت اور احکام شریعت کے نفاذ کی صلاحیت موجود ہوتی ہے جو اسے عوام ممتاز کر دیتی ہے۔لیکن اس کے باوجود آپ اپنے مشیروں کی بات کو اہمیت دیتے تھے ، اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسے الفاظ ذکر فرماتے جس سے آپ کی کمال دیانت اور عاجزی چھلکتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چنانچہ سنن دار قطنی ، کتاب النکاح میں ہے کہ حضرت ابو سفیان کہتے ہیں کہ مجھے میرے مشائخ نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا اے امیر المومنین میں اپنی اہلیہ سے دوسال غائب رہا ہوں اور جب واپس آیا ہوں تو وہ حاملہ ہے (اس وجہ سے میری اہلیہ شرعی سزا کی مستحق قرار پاتی ہے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے اس کے رجم کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرمانے لگے امیر المومنین !آپ کو عورت کے رجم کرنے کا تو حق ہے لیکن اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس پر آپ کو اختیار حاصل نہیں وہ بے گناہ ہے لہذا اس حکم کو بچے کی ولادت تک موخر کر دیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو بچے کی ولادت تک موخر کر دیا پھر اس خاتون نے بچے کو جنم دیا ، جب اس بچے کے سامنے کے دانت نکل آئے تو اس شخص نے اس بچے میں اپنی مشابہت پائی اور کہنے لگا رب کعبہ کی قسم یہ بچہ میرا ہی ہے۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورتیں معاذ بن جبل جیسا شخص پیدا کرنے سے عاجز ہوچکی ہیں اور اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔اسی طرح لولا علی لھلک عمر کے الفاظ بھی ملتے ہیں کہ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ یہ الفاظ آپ کے کمال دیانت ،انصاف پسندی ، بلندی اخلاق کی علامت ہیں باوجودیکہ آپ بڑے تھے لیکن چھوٹوں کی جو بات درست نظر آئی اسے قبول فرمایا۔ اس میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ ہم بھی چھوٹوں کی آراء کو اہمیت دیں اگر وہ زیادہ بہتر ہوں تو انہیں قبول کریں۔
اس سے ہمیں دیانت و انصاف پسندی کا درس ملتا ہے۔
سربراہ کا سادہ معیار زندگی: سربراہ کے طرز زندگی کے اثرات رعایا پر پڑتے ہیں ، اگر حکمران انصاف پسند ، قناعت پسند اور سادگی پسند ہو تو عوام میں ظلم وتشدد ، خواہش پرستی اور فیشن پرستی جنم نہیں لیتی جس کی وجہ سے معاشرہ سکون و راحت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ باوجودیکہ کہ بہت بڑی سلطنت کے فرمانروا تھے لیکن مزاجاً سادگی اورقناعت پسندی کے خوگر تھے۔ تاریخ ایسے کئی واقعات کی شہادت دیتی ہیچنانچہ ہرمزان سلطنت اہواز کا حکمران جب قید ہو کر آیا تو اس نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ مسجد کے فرش پر لیٹے ہوئے آرام فرما رہے ہیں۔ بیت المقدس کی فتح کا مشہور واقعہ سیرت و تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے : سن 46 ھ میں جب حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیت المقدس کا محاصرہ کیا تو وہاں کے اہل کتاب علماء نے کہا:تم بلاوجہ تکلیف اٹھاتے ہو ، بیت المقدس کو فتح کرنے والا کا حلیہ اور علامات ہماری کتابوں میں موجود ہے اگر تمہارے امام میں وہ سب باتیں موجود ہیں تو ہم آپ کو بیت المقدس حوالے کر دیں گے ، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کو اس بارے اطلاع کی گئی، آپ اپنے ایک غلام کے ہمراہ ایک اونٹ پر سوار ہو کر عازم سفر ہوئے ، زادراہ میں چھوہارے اور جو کے سوا کچھ نہ تھا ، اونٹ پر سوار ہونے کی باریاں مقرر کیں ، کبھی آپ خود سوار ہوتے اور غلام پیدل چلتا اور کبھی غلام سواری پر سوار ہوتا اور آپ پیدل چلتے ، آپ نے جو کرتہ زیب تن کیا ہوا تھا اس میں پیوند لگے ہوئے تھے ، جب بیت المقدس کے قریب پہنچے تو مسلمانوں نے آپ کے لیے ایک عمدہ جوڑے اور گھوڑے کا انتظام کیا ، آپ نے نیا لباس پہنا ، گھوڑے پر سوار ہوئے چند قدم کے بعد فرمانے لگے کہ میرے نفس پر اس کا برا اثر پڑ رہا ہے لہذا مجھے میرے وہی کپڑے اور اونٹ واپس کرو، چنانچہ اسی پر سوار ہوئے اور بیت المقدس پہنچے ، اہل کتاب علماء نیآپ کا حلیہ مبارک اور علامات دیکھی تو برملا کہہ اٹھے کہ ہاں فاتح بیت المقدس یہی ہیں اور آپ کے لیے اس کے دروازے کھول دیے۔
اس سے ہمیں سربراہ کے عام معیار زندگی ،عوام میں گھل میں کر رہنے اور صبر وشکر کا درس ملتا ہے۔
انسانی حقوق میں مساوات: آپ نے اسلام کی نافذ شدہ تعلیم مساوات کو مزید آگے بڑھایا ، چنانچہ کسی علاقے کے حاکم ، گورنر بلکہ خود خلیفة المسلمین کو یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں پر ترجیح دے جو وظیفہ بدریوں کو ملتا وہی آپ لیتے تھے۔
اس سے ہمیں مساوات کا درس ملتا ہے۔
حقوق نسواں کا حقیقی تصور: اسلام میں خواتین کو بہت بلند مقام حاصل ہے اور خواتین میں سب سے اہم عنصر حیا اور تقدس کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے عزت اور حقوق کو محفوظ کرنے کے لیے حجاب کو لازمی سمجھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی رائے کی موافقت میں قرآن کریم نازل فرما کر حجاب کو ضروری قرار دیا۔خواتین کے لیے رائے کی آزادی بھی حقوق نسواں کے ذیل میں آتی ہے چنانچہ ایک مرتبہ جب آپ نے دوران خطبہ خواتین کے مہنگے مہنگے حق مہر کے بارے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا تو ایک عورت نے کہا : اے عمرآپ ہمارے مہروں کو کس طرح کم کرسکتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سونے کے ڈھیر تک مہر لینے کا حق دیا ہے۔ اور قرآن کریم سورة النساء کی آیت نمبر 20 بھی تلاوت کی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس پر بہت خوش ہوئے اور خاتون کو عزت بخشتے ہوئے فرمایا:نساء المدینة افقہ من عمر۔ مدینہ کی خواتین عمر سے زیادہ دین کی سمجھ رکھتی ہیں۔
اس سے ہمیں حجاب، آزدی اظہار رائے اور خواتین کی سماجی عزت و احترام کا درس ملتا ہے۔
مفتوحہ علاقوں کے نظم و نسق: آپ 22 لاکھ 51 ہزار 30 مربع میل زمین پر حکمرانی کرنے والے انصاف پرور حکمران تھے۔ اس کے باوجود آپ مفتوحہ علاقوں کی کثرت پر زور دینے کے بجائے ان کے باسیوں کی تربیت کو ترجیح دیتے۔ آپ نے دمشق ،بصرہ، بعلبک، شرق ،اْردن ، یرموک ، قادسیہ، اہواز، مدائن ، ایران ،عراق ، تکیت، انطاکیہ ،حلب ،بیت ا لمقدس، نیشاپور ، الجزیرہ ، قیساریہ ، مصر ، اسکندریہ ،نہاوند اور دیگر علاقوں کو فتح کیا۔ ان میں تربیتی اور تعلیمی مراکز قائم کیے ، کھلی کچہریاں لگوائیں ، فوری انصاف کو یقینی بنایا ، عوام الناس کی شکایات کو دور کرنے کے لیے احکامات جاری کئے۔ روٹی کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضرورتوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچایا۔
اس سے ہمیں اپنے نظام زندگی میں انصاف ، تعلیم اور نظم و نسق کا درس ملتا ہے۔
اقلیتوں سے حسن سلوک: ایسے کفار جو مسلمانوں سے نہ لڑیں ان سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حمص کو حاصل کرنے کے لیے بطور سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ کو مقرر فرمایا، انہوں نے اسے فتح کیا اور غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا لیکن جب انہیں جنگ یرموک کے لیے حمص چھوڑنا پڑا تو انہوں نے یہ کہہ کر جزیہ واپس کر دیا کہ اب جب ہم آپ کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے تو ہمیں جزیہ لینے کا بھی حق نہیں۔ جب مسلمان حمص سے لوٹنے لگے تو وہاں کے غیر مسلم بھی اس عادلانہ نظام سے محروم ہونے پر رونے لگے۔ بیت المقدس کی فتح ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب کے مذہبی پیشوا کے ساتھ شہر کی متعدد عبادت گاہوں کو دیکھا ،آپ معائنہ فرما رہے تھے کہ اتفاق سے نماز کا وقت ہوگیا انہوں نے آپ اور آپ کے رفقاء کے لیے صفیں بھی بچھا دیں کہ آپ یہاں نماز ادا کرلیں۔ لیکن آپ نے یہ کہہ کر انکار فرمادیا کہ اگر ہم نے یہاں نماز پڑھ لی تو کل کو کوئی یہاں مسجد بنانا نہ شروع کردے میں نہیں چاہتا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں ہم کسی طرح کا حق قائم کریں۔ اسی طرح اہل ایلیا کے غیر مسلموں سے آپ نے معاہدہ امن کیا کہ یہ امن جو ان کو دیا جاتا ہے ، ان کی جانوں ، مالوں ، ان کے گرجاؤں اور ان کی صلیبوں ، ان کے بیماروں ، تندرستوں اور ان کے جملہ اہل مذاہب کے لیے ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کے گرجا گھروں میں رہائش نہ رکھی جائے ، ان کو گرایا نہ جائے ، انہیں اور ان کے احاطوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور نہ ہی ان پر دین کے بارے جبر کیا جائے۔
اس سے ہمیں اقلیتوں سے حسن سلوک کا درس ملتا ہے۔لیکن یہاں یہ بات اچھی طرح ملحوظ خاطر رہے کہ اگر اقلیتیں اپنی حیثیت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو پھر انہیں قانون کے شکنجے میں جکڑنا ضروری ہے۔
سماجی ورفاہی خدمات: قرآن کریم کی تعلیم کے لیے مکاتب و مدارس قائم کیے، قاری صاحبان اور ائمہ مساجد کی تنخواہیں مقرر فرمائیں ، اسلامی تقویم کا آغاز ہجرت نبوی سے شروع فرمایا اور اس کا ابتدا محرم سے فرمائی ، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع فرمائی ، عرب و عجم کے سنگم پر مرکز علم کوفہ کو آباد فرمایا،دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملانے کے لیے نہر سویز کھدوائی جس کی وجہ سے نفع بخش تجارت نے فروغ پایا، محکمہ ڈاک قائم کیا ، شہر کے اندرونی حالات کو درست رکھنے کے لیے محکمہ پولیس قائم کیا ، فوج کو سرحدیں اور محاذ سپرد کیے ، بیت المال تعمیر کرائے ،اپاہج ، معذور اور ضعیف لوگوں کے وظائف بیت المال سے مقرر فرمائے ، مسافروں کے لیے شاہراہوں پر مسافر خانے تعمیر کرائے ، لاوارث بچوں کے تربیتی مراکز قائم کیے ، دریائے نیل کے نام خط جاری فرمایا، اورقیصر و کسری جیسی سپر پاور طاقتیں پاش پاش ہوئیں۔ مورخین کے محتاط اندازے کے مطابق آپ کے زمانہ خلافت میں 3600علاقے فتح ہوئے۔900جامع مساجد اور4000عام مساجد تعمیر ہوئیں۔
اس سے ہمیں تعمیر وطن ، خوشحالی اور ترقی ، اہل علم کی قدر ، مستحق افراد کی معاونت ، یتیموں کی کفالت کا درس ملتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ دور حاضر کے مسائل کا حل دور فاروقی میں موجود ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے عملی زندگی میں لائیں ایسا گے تو ہمارا دنیا بھی سنور جائے گی ، ترقی بھی کریں گے ، ہدایت بھی عام ہو گی ، ضرورت مندوں کی معاونت بھی ہو گی اور معاشرے میں انصاف بھی عام ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مزاج فاروقی اپنانے کی توفیق دے ہمارے معاشرے کو انصاف پسند معاشرہ بنائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم

دنیا بھر میں متون حدیث میں شائع شدہ پہلی کتاب… نسائی

تحریر: مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

نوٹ: چند روز قبل علم و کتاب واٹس اپ گروپ پر ایک استفسار آیا تھا کہ مولانا نور الحسن راشد صاحب کے پاس موجود سنن نسائی کے نسخے کو کتب حدیث کی پہلی کتاب کہا جاتا ہے، کیا اس سے زیادہ قدیم کوئی مطبوعہ کتاب کسی کے علم میں ہے، مطبوعہ کتابوں سے متعلق کتابوں کی تلاش کے بعد ہمیں ڈاکٹر احمد خان کی کتاب معجم المطبوعات العربیۃ فی شبہ القارۃ الھندیۃ و الباکستانیۃ میں ایک دوسری کتاب کا اندراج ملا، اس کی اطلاع جب مولانا کو ملی تو بڑی محنت کے ساتھ سنن نسائی کے پہلے ایڈیش اور متعلقہ معلومات ایک مراسلہ میں ہمیں ارسال کی ہیں، جس پر ہم مولانا کے تہ دل سے ممنون و مشکور ہیں، اور افادہ عام کے لئے مولانا کی یہ تحریر پوسٹ کررہے ہیں۔

ہمارے یہاں بفضلہ تعالیٰ جو کتابیں موجود ہیں ، ان میں پوری دنیا میں متون حدیث میں سے سب سے پہلے شائع مکمل کتاب، سنن نسائی[ جو صحاح ستہ کا ایک اہم جزء ہے]بھی موجود ہے۔یہ کتاب حضرت شاہ محمد اسحاق کی تصحیح ، توجہ او رکوشش سے، ہندوستان کے آخری مغل مسندنشیں، بہادر شاہ ظفر کے ذاتی مطبع ، مطبع سلطانی سے، جو قلعۂ معلی میں تھا ۱۲۵۷ھ [۱۸۴۱ء] میں شائع ہوئی تھی،اس کے آخر میں درج، خاتمۃ الطبع کے الفاظ یہ ہیں:’’وکان الفراغ من ہذہ النسخۃ المبارکۃ المیمونۃ، المسمیٰ بالنسائي، سنۃ ست وخمسین بعد الألف والمائتین من الہجرۃ النبویۃ، علی صاحبہا الصلٰوۃ والتحیۃ في دارالخلافۃ شاہ جہاں آباد في عہد بہادر شاہ ‘‘ [۱۲۵۶ھ مطابق ہے ۴۱۔۱۸۴۰ء کے]اس طباعت کے کل چھ سو ستّر[۶۷۰] صفحات ہیں، آخر میں چود ہ صفحات کاصحت نامہ اغلاط بھی شامل ہے، آغاز کتاب پر، ایک صفحہ میں حضرت شاہ محمد اسحاق کی سنن نسائی کی حضرت امام نسائی تک سند ہے،جس کا آغاز اس طرح ہوا ہے:
’’ یقول العبد الضعیف، خادم علماء الآفاق، محمد اسحاق أخبرنا وأجازنا شیخنا و مولانا الشیخ الأجل المحدث الشاہ عبدالعزیز الدہلوي، لہٰذا الکتاب……‘‘
یہ نسخہ مکرمی مولانا طلحہ نعمت ندوی [نالندہ، بہار] نے دیکھا اور شیخ جمعہ ماجددبئی کے ادارہ کے مجلہ آفاق التراثکے مدیر صاحب کو ایک مراسلہ کے ذریعہ سے اس کی اطلاع دی، انہوںنے فوراً ہی اس کو اپنی اور جمعہ ماجد کی ویب سائٹ پر ڈال دیاتھا، جس سے یہ بات پوری دنیا میں پھیل گئی، لیکن اس کے جواب میں کسی نے لکھا کہ یہ اطلاع صحیح نہیں، دہلی سے سنن نسائی کی طباعت سے پہلے ۱۲۳۳ھ [۱۸۔۱۸۱۷ء] میںسنن ابن ماجہ شائع ہوچکی تھی۔ یہ اطلاع ملی تو تعجب ہوا کہ یہ کہاں سے آئی، اس کا اب تک نہ کسی کتب خانہ اور لائبریری میں سراغ ملا، نہ کسی فہرست اور معجم مطبوعات میں اس کا اشارہ اور حوالہ ہے، نہ کسی محقق نے اس کاتذکرہ کیاہے۔ بہرحال یہ تردید نیٹ پر چلتی رہی، کئی لوگوں سے اس کا علم ہوا، اب سننے میں آیاہے کہ یہ تردید آں مکرم کی جانب سے تھی اور یہ بھی کہ آںمکرم اس اطلاع کو صحیح خیال فرماتے ہیں، اس لئے دو تین باتیں لکھنے کی اجازت چاہتاہوں:
l میری ناچیز معلومات میں دنیا بھر میں امہات کتب حدیث میں سے جو کتاب افق طباعت پر سب سے پہلے جلوہ گر ہوئی وہ یہی سنن نسائی ہے[ جس کا تعارف
شروع میں گذرا] او رجس کو حضرت شاہ محمد اسحاق نے مرتب کرکے مطبع سلطانی [قلعہ معلی] شاہ جہاں آباد [دہلی] سے ۱۲۵۶ھ میں شائع کرادیاتھا۔ اس طباعت کا ایک عمدہ نسخہ ہمارے یہاں محفوظ ہے،جس میں حضرت مولانا نورالحسن [وفات:۱۲۸۵ھ ۔۱۸۶۸ء] نے حضرت شاہ محمد اسحاق سے اور حضرت مولانامحمد یحییٰ کاندھلوی نے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے ۱۳۱۴ھ میںپڑھا، ان دونوں حضرات نے اپنے اساتذہ کے درس میں اس کی تصحیح کی بھی کوشش کی ہے، اس پر دونوں کے قلم سے تصحیحات اور مختصر مختصر افادات درج ہیں۔ اس طباعت کے دو نسخے اوربھی میری نظر سے گذرے ہیں، جن میں سے ایک حضرت شاہ عبدالعزیز اورشاہ رفیع الدین، نیز شاہ محمد اسحاق کے مشترک شاگرد، مولانامنشی جمال الدین کتانوی [مدارالمہام، ریاست، بھوپال، جو بعد
میں نواب صدیق حسن خاں کے خسر بھی ہوگئے تھے، ] کا مملوکہ ہے، اس پر منشی جی کی مہر بھی ہے، اس میں انہوںنے پڑھایا بھی ہے، اوراس پر ان کے قلم سے تصحیحات بھی ہیں۔
سنہ ۱۲۳۳ھ[۱۸۔۱۸۱۷ء] میں دہلی میں کیا، تقریباً پورے شمالی ہندوستان میں، کوئی قابل ذکر مطبع یا طباعتی ادارہ نہیں تھا، دہلی میں، جہاں تک معلوم ہے سب سے پہلا مطبع مولوی محمد حیات کا تھا، دوسرا مطبع سلطانی تھا، جو لا ل قلعہ میں قائم ہوا تھا، پھر اور مطابع قائم ہوتے چلے گئے، اس وقت بلکہ اس کے بعد بھی کم سے کم پچیس سال تک، مطبع مجتبائی کا کہیں پتہ نشان نہیںتھا۔
سنہ ۱۲۳۳ھ[۱۸۔۱۸۱۷ء] میں نہ دہلی میں پریس آیا تھا، نہ وہاں سے کوئی کتاب چھپی ، نہ اس وقت مطبع مجتبائی کا تذکرہ تھا، اس وقت شاید اس کے بانی بھی تولد نہیں ہوئے تھے، اس لئے یہ اطلاع سراسر غلط اور تصحیح طلب ہے۔
یہ غلط فہمی بروکلمان سے چلی،ان کی کتاب میں غلطی سے ۱۳۳۳ھ کی جگہ ۱۲۳۳ھ چھپ گیا،۱؂ بعد والوں کے پاس غالباً اس کی تحقیق کا ذریعہ نہیں تھا، اس لئے انہوںنے اس کو جوں کا توں نقل کردیا، علامہ فواد سزگین کے یہاں بھی یہی ہوا۲؂ اور وہیں سے یہ غلطی ڈاکٹر احمد خاں کے یہاں آئی ہے۔۳؂ ڈاکٹر احمد خاں صاحب نے، اس کے ساتھ مطبع مجتبائی کا اضافہ کرکے ،غلط فہمی میں کچھ اور اضافہ کردیا ۔ وجوہات عرض ہیں۔
l دہلی سے کسی بھی کتاب ،خصوصاً سنن ابن ماجہ جیسی بڑی کتاب کی طباعت، ۱۲۳۳ھ میں ممکن ہی نہیں تھی، کیوںکہ اس وقت تک دہلی ، بلکہ شمالی ہندوستان میں کہیں پر یس نہیں آیاتھا، دہلی میں ۱۲۳۳ھ یا [۱۸۱۸ء] میں کسی طباعتی سرگرمی کی ، کسی بھی زبان میں ہو، کوئی اطلاع نہیں ہے۔
l کتاب یا اخبارات ورسائل کی طباعت تو دور کی بات ہے، اس وقت تک دہلی سے کوئی سرکاری رپورٹ بھی نہیں چھپتی تھی، اس دوران جو سرکاری رپورٹیں یا کوئی انگریزی کتاب چھپی، وہ کلکتہ یا بنگال کے کسی اور شہر ،یالندن کی مطبوعہ ہے۔ دہلی میں [۱۸۱۸ء]میں کسی طباعتی سرگرمی اور پریس کا اب تک تذکرہ نہیں ملا۔دہلی میں پہلا پریس تقریباً ۱۸۴۰ء [۱۲۵۶ھ
میں] یا اس کے قریب آیاتھا، دینیات یا اردو کتابوں کی پہلی اشاعت، مطبع مولوی محمد حیات کی ہے، اس کے بعد قلعۂ معلی [لا ل قلعہ میں] سلطانی پریس قائم ہوا، اس کے بعد مولانا وجیہ الدین احمد سہارنپوری کا مطبع احمدی [جس کو بعد میں حضرت مولانا احمد
علی محدث نے خرید لیا تھا] وجود میں آیاتھا۔
اس کی اس سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ جب کلکتہ سے مولوی امین الدین احمد نے، جو حضرت شاہ عبدالعزیز [وفات: ۱۲۳۹ھ۔۱۸۲۴ء] اور حضرت سید احمد شہید [شہادت:۱۲۴۵ھ۔۱۸۲۹ء] کے متوسلین اور وابستگان میں سے تھے، حضرت شاہ صاحب کو اطلاع دی، کہ بنگال وکلکتہ میں اس طرح کی کچھ مشینیں آئی ہیں، جن سے کتابوں کے بہت سے نسخے، ایک ساتھ تیار ہوجاتے ہیں[ چھپ جاتے ہیں]تواس پر حضرت شاہ صاحب نے بہت خوشی کا اظہار فرمایاتھا اور حضرت شاہ ولی اللہ کی تصانیف میں سے تین کتابوں: الفوز الکبیر، حجۃ اللّٰہ البالغۃ اور الخیر الکثیر کی طباعت کی کوشش کرنے پر توجہ دلائی تھی، کہ اگر ہوسکے تو ان کتابوں کے چھپوانے کی کوشش کریں۔
اگر ۱۲۳۳ھ میں دہلی میں، طباعت کا کام شروع ہوگیا ہوتا، تو حضرت شاہ صاحب ان سے کیوں فرماتے اور کیوں نہ دہلی میں ان کتابوں کی طباعت کے لئے کوشش فرمالیتے۔ بہرحال اب تک اس بات کی کوئی شہادت نہیں ملی کہ دہلی میں ۱۲۳۳ھ [۱۸۱۷ء] میں پریس آگیا تھا، اس لئے اس اطلاع کی تصدیق مشکل ہے۔
l اگر بالفرض ۱۲۳۳ھ میں سنن ابن ماجہ چھپی تھی، تو دنیا بھر کے اہل علم میں سے کوئی ایک تو اس کے دیکھنے یا اس کی موجود گی کا تذکرہ کرتا او رکوئی فاضل یا محقق، اس کی دید سے ضرور مشرف ہوتا، لیکن اس طرح کی کوئی اطلاع ، جہاں تک میرے ناچیز علم میں ہے ، سامنے نہیں آئی۔
سنہ ۱۲۳۳ھ میں تو بنگال کے ان مرکزی مقامات میں، جہاں سے طباعت کے عمل کا آغاز ہوا، فورٹ ولیم کالج بندرہوگلی، مرشدآباد اور کلکتہ تھے، وہاں بھی طباعت کی ابتدانہیں ہوئی تھی، بڑے پریس یا سامان طباعت وجود میں نہیں آئے تھے، فورٹ ولیم کالج کی غالباً پہلی اشاعت’’رسائل اخوان الصفا‘‘ کے اردو ترجمہ کی طباعت ہے، جو پہلی مرتبہ۱۲۲۵ھ [ ۱۸۱۰ء]میں چھپی تھی۔[اس
اشاعت کا ایک نسخہ ہمارے ذخیرہ میں محفوظ ہے] کلکتہ سے اسلامی، دینی عربی کتابوں کی اشاعت ۱۲۳۰ھ [۱۸۱۵ء] میں شروع ہوئی تھی،جہاں تک مجھے معلو م ہے ، دینی علوم کی سب سے پہلی کتاب، جو برصغیر ہندیا پوری دنیا میں شائع ہوکر، عام ہوئی ،وہ ۱۸۱۵ء کی مطبوعہ سراجی ہے، اس سے پہلے غالباً کوئی بھی دینی متن یا عربی کتاب، برصغیر ہند میں شائع نہیںہوئی۔ کلکتہ سے فقہ، اصول، کلام اور عربی ادب کی متعدد کتابیں مسلسل چھپیں، لیکن مشکوٰۃ المصابیح اور علامہ شیخ عبدالحق کی شرح مشکوٰۃ کے علاوہ، حدیث کی کسی بڑی کتاب کی ۱۲۵۶ھ [۱۸۴۰ء] تک، بنگال کے مطابع سے طباعت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ مشکوٰۃ المصابیح بھی بہت بعد میں چھپی تھی، لیکن فقہ حنفی کی بڑی کتابیں ہدایہ، وقایہ ، مختصر وقایہ ، شروحات ہدایہ، درمختار ، فصول عمادی، فتاویٰ حمادیہ ،فتاویٰ عالمگیری وغیرہ مختلف مطابع سے وقتاً فوقتاً چھپتی رہیں۔
ان تمام وجوہات کی وجہ سے بلاتأمل کہاجاسکتاہے کہ ۱۲۳۳ھ میں یا اس کے قریب، دہلی سے سنن ابن ماجہ یا کسی بڑی کتاب کی طباعت کی اطلاع ناقابل قبول اور تمام تاریخی آثار وشواہد کے خلاف ہے۔
سنن نسائی کی طباعت کے بعد، جو حدیث شریف کی مکمل کتاب سب سے پہلے شائع ہوکر سامنے آئی، وہ سنن ترمذی ہے، جس کو حضرت مولانا مملوک العلی کے تعاون سے، حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری نے مرتب کیا تھا، اس کی طباعت کا سید اشرف علی کے مطبع اشرف العلوم، دہلی میں، صفر۱۲۶۵ھ[جنوری ۱۸۴۹ء] میں آغاز ہوا تھا، مگر اس مطبع کا سلسلہ طباعت بہت سست تھا، اس لئے اس کی طباعت حضرت مولانا احمدعلی نے ،اپنے مطبع احمدی میں منتقل فرمالی تھی،جو ۱۲۶۶ھ [۱۸۵۰ء] میں مکمل ہوئی، اس طباعت کے تین نسخے میری نظر میں ہیں،مفصل معلومات کے لئے دیکھئے: راقم کی تالیف: استاذ الکل حضرت مولانا مملوک العلی ص:۲۳۸،۲۴۱، [۱۴۳۰ھ۔۲۰۰۹ء]
سنن ترمذی کی طباعت کے ساتھ ہی، حضرت مولانا احمد علی کے مطبع احمدی سے حدیث شریف کی امہات کتب کی طباعت، تصحیح اور تحقیق وتعلیق کے ساتھ شروع ہوگئی تھی، جس سے سنن نسائی کے علاوہ کتب خمسہ چھپیں، جس میں صحیح بخاری کا بے نظیر وبے مثال نسخہ سرفہرست ہے، اس کے بعد ہی ہندوستان میں کتب حدیث کی طباعت کا سلسلہ عام ہوا اور مختلف مطابع سے طرح طرح کی اشاعتیں سامنے آنی شروع ہوگئیں۔ یہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ عالم اسلام اور دنیا کے عرب میں طباعت کتب کے سلسلہ کا ہندوستان کے بہت بعد آغاز ہوا اور خصوصاً کتب حدیث، صحاح ستہ وغیرہ تو اس کے تیس پینتیس سال بعد چھپنی شروع ہوئی تھیں۔
l سنن ابن ماجہ کی سب سے پہلی طباعت وہ ہے، جو حضرت شاہ عبدالغنی مجددی، دہلوی[مہاجر مدنی
] کی تصحیح اور حاشیہ [انجاح الحاجہ] سے مزین ہوکر، عمدۃ المطابع دہلی سے باہتمام مولوی محمد حسین ۱۲۷۳ھ [۵۷۔۱۸۵۶ء] میں شائع ہوئی تھی، اس طباعت میں اصل کتاب کے آغاز سے پہلے ایک فاضل صفحہ ہے، جس میں حضرت شاہ عبدالغنی مجددی نے اپنی سنن نسائی کی اجازات اور سندوں کا تذکرہ فرمایاہے،جو یہ ہیں:
(الف)اپنے والد ، شیخ ابوسعید دہلوی سے، جو ۱۲۵۰ھ میں حاصل ہوئی ۔ (ب)شیخ محمد عابد سندھی المدینۃ المنورۃ
سنن ابن ماجہ ایک مرتبہ مولانا فخرالحسن گنگوہی کے حاشیہ مرتب ہوکر،مطبع فاروقی دہلی سے چھپی تھی، اس پر طباعت درج نہیں۔
l مطبع مجتبائی مولوی منشی ممتاز علی صاحب نے میرٹھ میں قائم کیا تھا، اول اول حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، اسی مطبع میں ملازم تھے۔
سنہ ۱۹۴۷ء تک مطبع مجتبائی ، جامع مسجد دہلی کے، جنوبی دروازہ کے سامنے، گلی سے اندرجاکر جنوب مغرب میں واقع تھا، وہ بڑی حویلی جس میں مطبع مجتبائی تھا، خلیق منزل کے نام سے معروف ہے اور اب بھی موجود ہے۔
l مطبع مجتبائی منشی ممتاز علی صاحب نزہت رقم نے قائم کیاتھا، منشی ممتاز علی جو خط نسخ کے اپنے عہد کے نادرہ کارخطاط اور بہادرشاہ ظفر کے خاص شاگرد تھے، خصوصاً قرآن کریم کی تحریر وتزئین میں بے مثال تھے۔ مطبع مجتبائی کے نام سے دو بڑے اشاعتی ادارے دہلی اور میرٹھ میں قائم کئے تھے، جس میں شائع ہر ایک کتاب، حسن تحریر اور صحت کانمونہ ہوتی تھی۔
l ہندوستان میں قرآن کریم کی اعلیٰ سے اعلیٰ طباعتوں اور بہترین ترجموں کی مختلف انداز اور اعلیٰ معیارات پر طباعت میں قدیم مطبع مجتبائی کا بہت بڑا اور خاص حصہ ہے۔ اس مطبع نے جو قرآن کریم چھاپے، وہ صحت متن ، صحت الفاظ اور حسن کتابت وطباعت میں بے نظیر ہیں، ایک دو نہیں بلکہ مطبع مجتبائی کے چھپے ہوئے تقریباً بیس قرآن کریم میری نظرسے گذرے ہیں، اس کے علاوہ اور بھی ہوںگے اور ان میں سے ہرایک ایسا دیدہ زیب ہے کہ اس کود یکھ کر ، یہی کہنے کو جی چاہتاہے: جا ایں جا است!
اس مطبع نے سنن نسائی کا ایک اہم نسخہ بھی شائع کیا تھا، جس میں مولانا شیخ محمد محدث تھانوی کا حاشیہ تھا، یہ نسخہ جو ۱۳۱۵ھ [ستمبر۱۸۹۸ء] میں شائع ہوا تھا، مطبع مجتبائی کی او رطباعتوں کی طرح، بہت عمدہ اور قابل دید ہے، اس کا ایک نسخہ ہمارے ذخیرہ میں ہے۔
l مطبع مجتبائی کی ایک بڑی شاخ میرٹھ میں بھی قائم ہوگئی تھی، اس نے بھی بڑی بڑی بنیادی اور اہم کتابیں شائع کیں، اس میں بھی حضرت مولانا قاسم نانوتوی نے کام کیا۔
مطبع مجتبائی دہلی کی اہم اور بڑی خاص مطبوعات میں شامی ممتاز ہے،جو بہت عمدہ ، نفیس کاغذ پر بڑے سائز کی پانچ جلدو ں میں چھپی تھی، تحریری صراحت تو نہیں ملی، لیکن اپنے اساتذہ خصوصاً ،مولانا مفتی مظفر حسین صاحب سے سناتھا کہ شامی کے اس نسخہ کی تصحیح بھی، مولانا قاسم صاحب نے فرمائی تھی، اہل علم کا خیال ہے کہ شامی کا یہ نسخہ سب سے زیادہ صحیح ہے۔
بہرحال قدیم مطبع مجتبائی کی طباعت کا ایک بڑا سلسلہ دہلی سے بھی جاری رہا، چند سال بعد مطبع مجتبائی کے مالک منشی ممتاز علی صاحب نے ہندوستان سے ہجرت کرکے حرمین شریفین میں قیام کا ارادہ کرلیاتھا، اس وقت اپنا یہ دارالاشاعت مطبع مجتبائی مولوی عبدالاحد صاحب کو ۱۸۸۶ء میں فروخت کردیا تھا۔منشی جی نے مکہ معظمہ میں بھی مطبع مجتبائی کے نام سے ایک پریس لگایا تھا، مکہ معظمہ کے اس مطبع سے بھی دو تین چھوٹی چھوٹی کتابیں شائع کی تھیں، مگر وہ مطبع دیر تک نہیں چلا۔
مولوی عبدالاحد صاحب نے مطبع مجتبائی خریدلینے کے بعداس پر بڑی توجہ کی اور اس کوتجارتی مرکز سے بڑھا کر بڑا علمی، تصنیفی ادارہ بنادیا تھا، جہاں سے حدیث وتفسیر، فقہ اصول وکلامیات اور بیسیوں موضوعات پر، بہت عمدہ اعلیٰ درجہ کی بے شمارکتابیں ،تصحیح کے اہتمام ، حواشی اور تعلیقات کے ساتھ چھاپیں ،جس میں سے بہت سی کتابیں عصر حاضرتک تصحیح وتنقیح کی مثال بنی ہوئی ہیں۔
مطبع مجتبائی نے اس دور میںبھی، حدیث شریف کی اعلیٰ کتابیں، صحیحین اور سنن نسائی وغیرہ شائع کیں،مگر یہ ۱۳۰۰ھ کے کسی قدر پہلے اور بعد کی بات ہے۔بہرحال مولانا عبدالاحد صاحب کی نگرانی میں، مطبع مجتبائی نے طباعت واشاعت کابہت وسیع اوراعلیٰ درجہ کا کام شروع کیا تھا، جو ۱۹۴۷ء تک جاری رہا۔۱۹۴۷ء میں مولوی عبدالاحد کے اخلاف پاکستان چلے گئے تھے، کراچی میں مطبع مجتبائی کا احیاء کیا ، جو غالباً اب تک کام کررہاہے۔
سنن نسائی کی ایک اور قابل ذکرطباعت وہ ہے ،جس پر مولانا ڈپٹی نذیر احمد صاحب[مشہور مصنف اور ناول نگار] کا عمدہ حاشیہ ہے، اس حاشیہ کی مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب نے تکمیل کی تھی، یہ نسخہ بھی سال۱۳۱۵ھ [۱۸۹۸ء] میں مطبع انصاری، دہلی سے چھپاتھا، یہ بھی ہمارے ذخیرہ میں موجودہے۔
l جہاں تک معجم المطبوعات العربیۃ فی شبہ القارۃ الہندیۃ [طبع اول، ریاض]کی بات ہے ، تواس کی اکثر اطلاعات بغیر حوالہ کے یوسف سرکیس سے منقول ہیں،جناب مرتب کی اپنی معلومات کم ہیں اور جو معلومات ہیں، اس میں خصوصاً ۱۸۵۷ء [۱۲۷۳ھ] سے قبل کی اور بنگال کے مطابع کی مطبوعات کا، جو غالباً کئی سو ہیں، بہت کم تذکرہ ہے اور جو تذکرے ہیں، ان میں اغلاط کی کمی نہیںہے، میں اپنی جسارت کی معافی چاہتاہوں، کہ اس کی تقریباً ایک چوتھائی اطلاعات بالکل غلط ہیں، کتابوں، مصنفین،مطابع، سنین طباعت وغیرہ ہر طرح کی غلطیاں خاصی مقدار میں ہیں، مزید یہ کہ اس میں فارسی کتابوں ، اردو ترجموں اور بعض بالکل غیرمتعلق اشاعتوں،کتابوں کے نام بھی آگئے ہیں۔
میںنے تقریباً بیس سال قبل جب سب سے پہلے یہ کتاب دیکھی پڑھی تھی اس وقت اس کی فروگذاشتوں کی مفصل نشان زد کیا تھا، مگر اس کی اشاعت کا خیال نہیں ہوا۔ تاہم اس فہرست پر بہت اعتماد درست نہیں۔ آخر میں طول بیانی کے لئے معذرت خواہ ہوں کہ چھوٹی سی بات کی وضاحت میں کئی صفحے سیاہ ہوئے ،مگر کیا کرتا :

مقطع میں آپڑی تھی ، سخن گسترانہ

بشکریہ

مولانا عبد المتین منیری

http://www.bhatkallys.com/ur/articles/nurulhasanrashid/

مسلمان سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں

محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ

یہ ایک حقیقت ہے کہ 2014 کے بعد ہمارا عزیز ملک ہندوستان خاصا بدل سا گیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے. یہ تبدیلیاں مسلمانوں کے حق میں مجموعی طور پر بہت منفی ہے،جو بہرحال ملک کے لیے اور آگے آنے والی نسلوں کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتی ہیں.

موجودہ حالات مسلمانوں کے لئے تقریباً ایسا ہی ہے جیسا کہ1857 کے بعدکا ہندوستان. 2017 کے ہندوستان کے مسلمانوں کے حالات سے 1860 کے ہندوستان کا موازنہ کرنا کافی حدتک درست ہوگا. یعنی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے مذہبی، جذباتی، تعلیمی اور سماجی و بلکل ذاتی مسائل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا، ہندوں اور مسلمانوں میں نفرت پیدا کرنا اور مسلمانوں میں گروہی و مسلکی اختلافات کو ہوا دینا تاکہ یہ آپس میں لڑتے، مرتے رہیں اور حکومت میں بیٹھے لوگ اپنے حوارین کے ساتھ اپنے مقاصد کے انجام دہی میں مشغول رہیں.

آج ہندوستان میں جو کچھ بھی ہورہا ہے- بات بات پر بھیڑ کے ذریعہ معصوموں کا قتل، ٹوپی، داڑھی اور برقہ کے ساتھ نفرت اور کسی کو دکان سے اٹھا کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نام نہاد جیت کی خوشی منانے پر ملک کے خلاف بغاوت(Sedition)کے کیس میں جیل بھیجدنا؛ یہ سب اچھی خاصی پلاننگ اور انتھک محنت کا حصہ ہے، جس پر آر ایس ایس(RSS) اور اسکی ذیلی تنظیمیں گزشتہ تقریباً سو سالوں سے کام کرہی ہیں. یہ لوگ تو انگریزوں کے ساتھی تھے اور ملک کی آزادی اور تقسیم کے ساتھ ہندوستان پر ہندو راشٹرکے آقاؤں کےطور پر قابض ہونا چاہتے تھے. لیکن جنگِ آزادی کے حقیقی راہنماؤں جیسے مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، مولانا ابوالکلام آزاد اور انکے جیسے وطن پرست، اتحاد و باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے متوالوں کی فراست اور قائدانہ صلاحیت کی وجہ سے ناکام ہوگئے.

اب2014 میں جا کر ان کو ہندوستان کی سیاست میں جس طرح کی کامیابی چاہیے تھی وہ ملی، اور انہوں نے اپنے ایجنڈے پر کام کرنا شروع بھی کردیا. ہندوستان کی عوام کو 1857 کے بعد بھی کامیابی ملی، اگرچہ کافی قربانیوں کے بعداور اب بھی ملیگی انشاءاللہ. لیکن اس کے لئے بےحد محنت اور لگن کے ساتھ بہت اچھی پلاننگ اور اٹوٹ اتحاد کا مظاہرہ کرنا پڑے گا. اب کی بار لڑائی ہندوستان کےاندر موجود برہمنواد کے ناسور سے ہے. اور یہ خطرناک وائرس(Virus) ہے جس نے یورپ، امریکہ میں مسلمانوں کےخلاف بےحد متشدد(Extreme Right) گروپس اور مسلمانوں کے ابدی دشمن اسرائیل کے ساتھ ملکر ایک برمودا ٹرائنگل(Bermuda Triangle) جیسا ہلاکت خیر ٹرائنگل اتحاد کیا ہوا ہے.

اس صورت حال میں سیکولر ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دلت میں سے کوئی بھی گروپ تنہا میدان میں اترےگا تو کامیاب ہونا بہت مشکل ہے. یاد رہے کہ 1857 اور 2017 میں 160 سال کا لمبا فاصلہ بھی ہے. حالات، تقاضے، انداز، سوچ، طریقہء کار اور آلات سب میں بہت فرق ہے. آج سرحدیں جیتی نہیں جاتی حکومتیں بدلی جاتی ہے جسکو رجیم چینج (Regime Change) کا نام دیا جاتا ہے. آج پروپیگنڈہ صرف انسان کے ذریعہ نہی بلکہ زیادہ تر میڈیا کے ذریعہ کیا جاتا ہے. اور آج میڈیا صرف اخبارات اور ٹی وی چینلز کا نام نہیں بلکہ سوشل میڈیا ان سب سے آزاد، سستا اور ہر شخص کے اپنے کنٹرول میں بھی ہے.

گزشتہ دس سالوں کے اندر دنیا بھر میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ سوشل میڈیا عوامی تحریک اور حکومتوں اور عوام کے درمیان تبادلہ خیال میں زیادہ کارگر ثابت ہوا ہے. تو پھر ہندوستان کے 25 کروڑ مسلمان اس نعمت کو اپنے لیے اور اپنے ملک کے مفاد میں مثبت اور مؤثر انداز میں کیوں نہ استعمال کریں؟

آرایس ایس کے تنخواہ یافتہ اور بغیر تنخواہ کے رضاکار مرد و خواتین دو کام خاص طور پر کرتے ہیں. ایک اپنے اغراض و مقاصد کی تشہیر اور دفاع کے لیے سوشل میڈیا پر بہت فعال ہوتے ہیں، کچھ بھی لکھتے اور شیئر کرتے ہیں. جن کو ان کے مخالفین اور سنجیدہ دنیا ٹرولز (Trolls) یعنی پریشان کرنے والا نامعقول گروپ کے نام سے پہچانتی ہے. دوسرا ان کا ایک گروپ خاص طور پر خواتین پر مشتمل چھوٹے چھوٹے جتھہ کی شکل میں گاؤں گاؤں اور گھر گھر جاتا ہے. الیکشن کے ایام میں یہ بہت فعال ہوتا ہے اور پھر یہی لوگ بی جی پی کے بوتھ (Booth) کمیٹی کے اہم ممبر ہوتے اور الیکشن کے دن ان ہی میں سے کوئی بی جی پی کا پولنگ ایجنٹ بھی ہوتا ہے.

لہذا صرف تین سالوں میں درجنوں بڑی بڑی ناکامیاں – ڈیمونیٹائزیشن، (Demonitization) کالا دھن، کرپشن، قیمتوں میں مسلسل اضافہ، GDP میں گراؤٹ، FDI میں کمی، کسانوں کی خودکشی، کشمیر کا مسئلہ، نظم و نسق اور امن آمان تقریباً ہر سمت ناکام ہونےْکے باوجود اگر بی جی پی الیکشن پر الیکشن جیت رہی ہے تو اس کے لئیے اس کے مائکروپلانگس(Micro Plannings) اور سخت محنت کو کریڈٹ دینا پڑے گا. BJP کے پاس صرف trolls ہی نہیں بلکہ اچھی طرح سے تربیت یافتہ، قربانی دینے والے لوگ ہر میدان؛ تعلیم، صحت، پولیس، کورٹ اور تجارت میں کروڑوں کے تعداد میں موجود ہیں.

برہمنواد ایک سوچ (Ideology) کا نام ہے. اس نے بہت کوشش اور مسلسل جد و جہد کے بعد ہندوستان پر اپنا پنجہ جما یا ہے. اس کا مقابلہ سست، سطحی اور محض جذباتی انداز سے بالکل نہیں ہو سکتا. ایک سوچ کو دوسرے سوچ سے ہی بہتر طریقے سے مارا جا سکتا ہے. اس کے لیے1916 کے بعد والی پلاننگ و اتحاد جیسی پلاننگ واتحادا کے ساتھ ساتھ 2017 والی ٹیکنیک اور دماغ کو بیک وقت بروئے کار لانا پڑے گا.

سوشل میڈیا کے ذریعہ ملک میں جمہوریت، محبت، آپس میں بھائی چارگی اور امن و سکون کے حامی ہر طبقہ اور ہر مذہب کے لوگوں کو پکارنا پڑےگا. پھر گاؤں گاؤں اور گھر گھر تک ہندوستانیت کا تعارف کے ساتھ ساتھ برہمنواد کے نقصانات کو بھی پہونچانا پڑے گا.

کیا ہم یہ سب کر سکتے ہیں؟ کیوں نہیں، آپ کو کرنا ہی پڑے گا. نہیں تو آج جنید، پہلوخان اور محمد اخلاق کا نمبر تھا کل آپ، آپکا بھائی اور آپکے بیٹے کا بھی نمبر آسکتا ہے. آج آپ کا ہندوستان بہت پیارا ہے، اس کے دستور پر آپ کو فخر ہے اور ہونا بھی چاہیے، لیکن اگر آپ آج بھی ہوش کے ناخن نہیں لیں گےتو کیا معلوم کل یہی ملک ہم سب کے لئے اور ہمارے بچوں کے لئے کوئی برما، کوئی اسرائیل نہ بن جائے. تاریخ گواہ ہے کہ الحمراء (موجودہ اسپین کا ایک شہر) سےایک ساتھ تقریباً پچاس لاکھ مسلمانوں کا انخلاء ہوا ہے. اندلس (موجودہ اسپین) کی مسجدیں، وہاں کے باغات اور نہریں، وہاں کی لائبریریاں اور تعلیمی ادارے ہمارے جامع مسجد، لال قلعہ، قطب منار اور تاج محل، ہماری خدا بخش لائبریری، ہمارے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دارالعلوم دیوبند کے جیسے یا اس سے عظیم تھے. چنانچہ آپ کو، ہم سب کو آج ہی مورچہ سنبھالنا پڑےگا. عقلمند وہی ہے جوطوفان سے پہلے تیاری کرتا ہے.

سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹوئٹر (Twitter) اور فیس بک (Facebook) پر ھشٹگ(Hashtag) # نشان کے استعمال کا بہت فائدہ ہے. اس لئے خاص موضوعات پر ھشٹگ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں. #Hashtag ہمیشہ الفاظ کے درمیان بغیر اسپیس(Space) کے استعمال کیا جاتا ہے. مثلاً آپ جب Not In My Name کو ھشٹگ کرنا چاہتے ہیں تو آپ #NotInMyName لکھیں گے. Capital(بڑے) یا Small (چھوٹے) حروف کے ساتھ لکھنے سے کوئی فرق نہیں ہوتا، بس درمیان میں اسپس (خلا) یا دوسرا کچھ نقطہ وغیرہ نہیں ہونا چاہیے.

ٹؤئٹر اور فیس بک میں @ (at) کا نشان استعمال کیا جاتا ہے جب آپ کوئی پیغام کسی خاص شخص کو بھیجنا چاہتے ہیں یا کسی عمومی پیغام میں ایک خاص شخص یا کچھ شخصیات کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں. لیکن اس کے لیے آپ کو اس شخص یا شخصیات کا Twitter اور Facebook ہینڈل معلوم ہونا چاہیے، اور یہ بھی ہمیشہ بغیر اسپیس کے لکھا جاتا ہے. مثلاً میرا ٹوئٹر اور فسبک دونوں ہنڈیلس mb.qasmi@ ہے. اب اگر آپ نے کسی پیغام کے بالکل شروع میں…mb.qasmi@ لکھا تو یہ پیغام صرف میں اور آپ دیکھیں گے اور اگر آپ نے پیغام کے درمیان یا آخیر میں مثلاً آپ نے میسج لکھا India against #MobLynching We demand #JusticeforJunaid
@mb.qasmi @EC_Editor
اس صورت میں آپ کا یہ پیغام آپ کے تمام دوست جو آپ کی لسٹ میں ہیں وہ تو دیکھیں گے ہی، شیئر بھی کر پائیں گے اور ساتھ ساتھ MB.Qasmi اور Easter Crescent کے ایڈیٹر کو بھی ارسال ہوگا جو اگرچہ آپ کے Friends’ List میں شامل نہیں ہیں.

سوشل میڈیا میں عوامی پیغام بھیجنے کے لئے چاہے Text, Image یا Video کی شکل میں ہو ٹوئٹر اور فیس بک ہی بہترین ذریعہ ہے. ان کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہونا چاہیے. تجارت یا پروفیشنل ترسیل و ارسال کے لئے Linkedin، فوٹو شیر کے لیے Instagram اور Flickr اور ذاتی یا چھوٹے گروپ میں کمیونیکیشن کے لئے WhatsApp بہترین ذریعہ ہے.

چنانچہ ان تمام سوشل ذرائع ابلاغ کا سمجھ بوجھ کراور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سماجی اور ملکی مفاد عامہ کے لئے زیادہ سے زیادہ استعمال ہونا چاہیے. یہ وقت کا ایک اہم تقاضہ بھی ہے اور پڑھے لکھے لوگوں کی ذمہ داری بھی. جوش اور محض جذبات سے آگے معقول انداز میں سب کو جوڑنے کی باتیں کی جائے. جدید سائبر جرائم قانون (Cyber Crime Act) کی خلاف ورزی نہ کی جائے اور بلا وجہ خون خرابہ کی تصاویر یا وڈیوز شیر کرکے امن و امان کو بگڑنے بھی نہ دیا جائے .

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا. آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا.