فقیہِ ملت حضرت مولانا زبیر ا حمد صاحبؒ قاسمی کی نمایاں خدمات

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

Email: qasmikhursheed

آپ کی خدمات:
حقیقت یہ ہے کہ فقیہِ ملت حضرت مولانا زبیر احمد قاسمی صاحبؒ (یکم جنوری 1936 – 13/جنوری 2019) ایک ممتاز اور بافیض مدرس تھے۔ ہر موقع سے یہ رنگ آپ میں غالب نظر آتا تھا، چاہے آپ کوئی تحریر لکھ رہے ہوں یا پھر مجمع عام میں عوام سے خطاب کر رہے ہوں، گرچہ آپ جلسہ جلوس میں شرکت سے بہت حد تک اجتناب کرتے تھے۔ آپ نے مختلف مدارس وجامعات میں تقریبا پچاس سالوں تدریسی خدمات انجام دی۔ اس خدمات کے دوران آپ دار العلوم سبیل السلام، حیدر آباد کے شیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز رہے۔ آپ جامعہ اشرف العلوم، کنہواں، کے صدر مدرس اور ناظم رہےاورانتظامی امور سنبھالا۔ آپ کو فن فقہ میں تخصص کا درجہ حاصل تھا اور آپ اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا کے رکن تاسیسی تھے۔ مختصر یہ ہے کہ آپ کی نمایاں خدمات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ (1) تدریسی خدمات، (2) انتظامی خدمات اور (3) فقہی خدمات۔ ہم ذیل میں آپ کی ان نمایاں خدمات پر مختصرا روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تدریسی خدمات:
فقیہِ ملتؒ نے علم دین کی نشر واشاعت کے لیے تدریس کو منتخب کیا ۔ آپ نے اپنی تدریسی خدمات کا آغاز مدرسہ بشارت العلوم، کھرایاں پتھرا سے کیا۔ یہ تدریسی خدمات کا سفر آپ نے جو جوانی میں شروع کیا وہ پھر رکا نہیں۔ آپ تقریبا پانچ دہائیوں تک پوری محنت اور لگن کے ساتھ تدریسی خدمات سے لگے رہے۔ آپ نے ابتدائی کتابوں سے لے کر دورۂ حدیث شریف تک کی کتابیں، بلکہ بخاری شریف بھی پڑھائی۔ ہزاروں طالبان علوم نبوت نے آپ سے استفادہ کیا۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آپ سب سے پہلے ایک ممتاز،کامیاب اور مقبول مدرس اور استاذ تھے۔ اس لمبی مدت میں آپ کو کبھی کسی ادارہ میں تدریسی خدمات کے لیے درخواست دینے کی ضرورت نہیں پیش آئی؛ بلکہ آپ کی صلاحیت وصالحیت، علمی گہرائی وگیرائی اور انداز تدریس وتفہیم کی وجہ سے آپ کو مدارس کی انتظامیہ خود مدعو کرتی تھی؛ تاکہ آپ کے علم سے اس ادارہ کے طلبہ استفادہ کرسکیں۔ آپ جہاں بھی تدریسی خدمات کے لیے تشریف لے گئے، آپ اپنی شرائط وقیود کے ساتھ تشریف لے گئے۔ جب دیکھا کہ حالات موافق نہیں ہیں، تو قبل اس کے کہ انتظامیہ کے ساتھ ناخوشگوار حالات پیدا ہوں، آپ نے استعفی دینے کو ترجیح دی۔ یہی وجہ تھی کہ پھر دوبارہ کسی ادارہ میں جانے میں آپ کو کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوئی اور انتظامیہ کو بھی آپ کو دوبارہ بلانے میں کوئی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

یہ بات قابل فخر ہے کہ اکابرِ اساتذہ کی موجودگی میں، آپ نے تدریس کے پہلے سال میں ہی ابتدائی درجات سے ثانوی درجات تک کی کتابیں پڑھائی۔ اللہ نے آپ کو ایسی صلاحیت سے نوازا تھا کہ آپ کسی بھی فن کی کسی کتاب کو بخوبی آسانی کے ساتھ پڑھانے اور طلبہ کو سمجھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ کے طریقہ تدریس کی بڑی تعریف ہوتی تھی۔ درسِ نظامی کے اساتذہ کو بخاری شریف کی تدریس کا موقع ملنا، ان کی علمی صلاحیت کا اعتراف ہوتا ہے۔ الحمد للہ، آپ کو یہ موقع بھی ملا اور آپ نے بخاری پڑھانے کا حق ادا کردیا۔ اہلِ علم اس بات کا اعتراف ضرور کریں گے کہ آپ ایک قابل، مقبول اور کامیاب مدرس تھے اور آپ نے ہزاروں شاگر پیدا کیے۔

فقیہِ ملتؒ کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ وہ مختلف میدانوں میں قوم وملت کی خدمت کر رہے ہیں۔ آپ کے چند شاگردوں کے اسماء گرامی یہاں درج کیے جاتے ہیں۔ مولانا مطلوب الرحمان مظاہری (ناظم: مدرسہ مصباح العلوم، مکیا، مدھوبنی)، مولانا محمد مرتضی صاحبؒ (سابق ناظم: جامعہ اسلامیہ قاسمیہ، بالاساتھ، سیتامڑھی)، مولانا ذاکر حسین قاسمی (صدر مدرس: مدرسہ محبوبیہ، چین پور، مظفرپور)، مولانا محی الدین مظاہری نیپالی، مفتی سہیل احمد قاسمی (مفتی امارت شرعیہ، پٹنہ)، مفتی اعجاز احمد قاسمی (ناظم: محمود العلوم، دملہ، مدھوبنی)، مولانا سعید احمد قاسمی، سیتامڑھی، مولانا خالد صدیقی سبیلی، صدر: جمعیت علماء نیپال، مفتی تنویر عالم قاسمی (ناظم: مدرسہ اشاعت القرآن، بارہ ٹولہ، مدھوبنی) وغیرہم۔

انتظامی خدمات:
جس ادارے میں بھی فقیہِ ملتؒ تشریف لے گئے عام طور پر اس ادارہ میں آپ تدریسی خدمات سے منسلک رہے سوائے اشرف العلوم کے کہ وہاں آپ نے تقریبا 35/ سالوں تک بحیثیت صدر مدرس اور بحیثیت ناظم انتظامی خدمات پیش کی۔ آپ جامعہ اشرف العلوم میں صدر مدرس اور ناظم کے عہدہ پر فائز تھے اور ادارہ کو بحسن وخوبی چلانے کے لیے آپ کوئی بھی فیصلے لینے میں بہت حد تک آزاد تھے۔ متعینہ اصول وضوابط کی روشنی میں چاہے طلبہ کے داخلہ کی منظوری ہو یا اساتذہ کی تقرری، چاہے اساتذہ کی تن خواہ کا مسئلہ ہو یا پھر ادارہ کی بوسیدہ عمارت کی تعمیر جدید کے کام کی انجام دہی، آپ کو پوری آزادی تھی اور آپ اپنی مرضی سے یہ کام انجام دیتے تھے۔

فقیہِ ملتؒ نے ادارہ میں داخلہ کا جو اصول وضابطہ متعین کر رکھا تھا، اس کی روشنی میں طلبہ کو تعلیمی سال کے شروع میں یعنی شوال کے مہینہ میں داخلہ امتحان کے بعد ہی داخلہ دیا جاتا تھا۔ اگر کوئی طالب علم داخلہ امتحان میں ناکام ہوجائے، تو اسے داخلہ نہیں دیا جاتا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ جب ہم وہاں زیر تعلیم تھے اس وقت فقیہِ ملت کے کوئی جاننے والے، درمیانِ سال میں، اپنے لڑکے کو لے کر جامعہ آئے اور داخلہ کروانا چاہتے تھے۔ جب اس شخص نے آپ سے ملاقات کی اور داخلہ کی فرمائش کی؛ تو آپ نے بالکل منع کردیا اور ان سے کہا کہ وہ اپنے لڑکے کوشوال میں لے کر آئیں۔ وہ درخواست کرتے رہے، مگر آپ نے جو کہہ دیا وہی قول فیصل ثابت اور آپ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ آخر ان کو واپس جانا پڑا۔

یہ اشرف العلوم کےلیے ہمیشہ اچھی بات رہی کہ اس ادارہ میں عام طور پر محنتی، قابل، ذی استعداد، باصلاحیت اور مخلص اساتذہ کی ٹیم تدریسی خدمات پر مامور رہی ہے۔ اساتذہ آپس میں ایک دوسرے سے تنافسی طور پر محنت ومطالعہ کرتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ گہرا مطالعہ کرکے، عمدہ اور سہل انداز میں طلبہ کو سبق پڑھائیں اور طلبہ بسہولت ان کی باتیں سمجھ سکیں۔ اس کے باوجود اگر کبھی استاذ کے تقرری کی ضرورت پیش آتی؛ تو فقیہِ ملت ہمیشہ محتاط رہتے کہ قابل اور باصلاحیت استاذ کی ہی تقرری کی جائے۔ اگر کوئی امیدوار ان کی نظر میں باصلاحیت نہیں ہوتا؛ تو آپ ان کی تقرری نہیں کرتے۔ آپ کا یہ بھی معمول تھا کہ دن میں ایک آدھ بار باہر کی وزٹ کرتے اور کبھی کبھی کسی درجہ کے سامنے کھڑے ہوکر، یہ جاننے کی بھی کوشش کرتے کہ فلاں استاذ کیسے پڑھا رہے ہیں۔
بحیثیت ایک منتظم اور قائد آپ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ قائد وہ ہے جسے پہلے راستہ کی معلومات ہو، پھر وہ خود اس راستے پر چلنا جانتا ہو، اس کے بعد اپنے ماتحتوں کو اس راستہ کی رہنمائی کرے کہ کیسے اس راستے پر چلا جائے (A leader is the one who knows the way, goes the way and shows the way)۔ چناں چہ آپ کبھی بھی کسی علمی موضوع پر اپنے اساتذہ وطلبہ کے ساتھ مباحثہ ومناقشہ سے دامن بچانے کی کوشش نہیں کرتے تھے، ان کو جو اشکال ہوتا اس کا جواب دیتے؛ کیوں کہ آپ خود ایک علمی شخص تھے۔ آپ کی یہ عادت تھی کہ عصر کی نماز کے بعد، مسجد کے صحن کے سامنے بیٹھ جاتے۔ یہاں بیٹھنے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ کوئی آئے، بیٹھے اور گپ شپ شروع ہوجائے؛ بلکہ عام طور پر آپ کی اس مجلس میں کسی علمی موضوع پر مباحثہ ومناقشہ ہوتا تھا۔ اس مجلس میں عام طور پر حضرت الاستاذ مولانا اظہار الحق صاحب مظاہری آپ کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ کبھی کبھار کوئی اور استاذ بھی بیٹھتے اور آپ سے کسی علمی موضوع پر استفادہ کرتے۔ جب آپ سے کوئی علمی موضوع پر بات چیت کرتا، تو آپ کو خوشی ہوتی۔

فقیہِ ملت کی نگرانی اور با صلاحیت اساتذہ کی محنت کی وجہ سے اشرف العلوم کے تعلیمی معیار کو اہل علم نے ہمیشہ سراہا ہے۔ جدید طالب علموں کو مطالعہ ومذاکرہ کے لیے اساتذہ کو ڈانٹ ڈپٹ اور زجر وتوبیخ کی ضروت نہیں پڑتی ہے؛ بلکہ وہاں کا ماحول خود جدید طلبہ کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ مطالعہ ومذاکرہ کے عادی بن جائيں۔ مطالعہ ومذاکرہ کے حوالے سے طلبہ کا آپسی تقابل وتنافس بھی قابل رشک ہے۔ ہمیشہ ایک طالب علم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے آگے بڑھے۔الحمد للہ، ہر سال اشرف العلوم کے درجنوں طلبہ مقابلہ جاتی داخلہ امتحان پاس کرکے، دار العلوم میں داخل حاصل کرتے ہیں۔ یہ عمدہ تعلیم وتربیت کا نتیجہ ہے کہ بہت سے والدین اور خود طلبہ کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح ان کا داخلہ جامعہ میں ہوجائے۔ میرے علم کے مطابق سن 2000ء کے آس پاس، جامعہ میں طلبہ کی تعداد، ساڑھے تین چار سو ہوا کرتی تھی، اب وہ تعداد بڑھ تقریبا 790 ہوگئی۔ یہ سب کچھ حضرت فقیہِ ملت کی قیادت اور نگرانی میں اب تک ہو رہا تھا۔ دعا ہے کہ اس ادارہ کا مستقبل اور اچھا رہے اور ادارہ ہر طرح کے شرور وفتن سے محفوظ رہے!

جس وقت فقیہِ ملتؒ نے جامعہ کی نظامت کی ذمہ داری سنبھالی تھی، اس وقت ادارہ میں، جانب شمال میں جو دار الاقامہ تھا تقریبا ایک درجن کھپرے والے حجروں پر مشتمل تھا؛ جب کہ جانب مشرق میں تقریبا چھ روم ایسے تھے جن پر چھت تھی۔ ما بقیہ تقریبا ایک درجن اور بھی کمرے تھے جن میں اساتذۂ کرام رہتے تھے اور طلبہ کی کلاس بھی اساتذہ کے روم میں ہوتی تھی۔ طلبہ تکرار ومطالعہ کے لیے اپنے رہائشی کمرہ کا استعمال کرتے تھے یا پھر مسجد کے صحن کا استعمال کرتے تھے۔ جو بھی عمارت تھی نہایت ہی مخدوش سالوں پرانی تھیں۔ موسم برسات میں، طلبہ کو اپنی کتابیں اور بستر کو پانی سے محفوظ رکھنا ایک اہم مسئلہ تھا۔ پھر آپ نے تھوڑا تھوڑا تعمیری کام شروع کیا۔ پہلے آپ نے مطبخ کی عمارت کی مرمت کروائی۔ پھر آپ نے جامعہ کی مسجد جو پہلے سے زیر تعمیر تھی، اس پر فرسٹ فلور پر چھت کا کام کروایا۔ اس کے بعد، گراؤنڈ فلور کو درجہ حفظ کے لیے خاص کردیا گیا اور فرسٹ فلور پر پنج وقتہ نماز پڑھی جانے لگی۔ پھر دار الاقامہ کا کام شروع ہوا اور درجنوں حجروں پر مشتمل دو منزلہ خوب صورت عمارت تعمیر کرائی گئی۔ دار الاقامہ میں طلبہ کو آج جو سکون واطمینان ہے، وہ ہم لوگوں کے وقت میں یکسر مفقود تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جامعہ نے آپ کی نظامت میں ہی اپنا سو سال مکمل کیا۔ اس مناسبت سے سہ روزہ صدسالہ جشن، 24-26 مارچ 2018 کو آپ کی سرپرستی میں منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں ہندوستان کے اکثر معروف اداروں اور تنظیموں کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ الحمد للہ، ان حضرات نے پروگرام شرکت کرکے جامعہ کی خدمات کا اعتراف کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں عوام نے اس صد سالہ جشن میں شرکت کی۔ ہزاروں ان قدیم وجدید طلبہ کے سر پر دستار باندھی گئی جنھوں نے اشرف العلوم سے حفظ القرآن الکریم کی تکمیل کی تھی۔ پروگرام بہت ہی کام یاب رہا۔ اس پروگرام کا میڈیا میں بھی چرچا رہا۔

آپ کی فقہی خدمات:
فقیہِ ملتؒ کوئی باضابطہ مفتی نہیں تھے۔ آپ شروع میں استفتا وغیرہ کا جواب نہیں لکھتے تھے۔ جب آپ جامعہ مونگیر پہنچے؛ تو حضرت امیر شریعت رابعؒ حضرت مولانا منت اللہ رحمانی (1912-1991) نے آپ کی فقہی بصیرت کا اندازہ لگا لیا۔ جب آپ کے پاس کوئی اہم خط آتا جس میں کسی اہم مسئلہ کا جواب مطلوب ہوتا؛ تو آپ فقیہِ ملت کو اس کا جواب لکھنے کا پابند بناتے۔ جواب تحریر کرنے کے بعد، آپ اسے امیر شریعت کی خدمت میں پیش کرتے۔ امیر شریعت اس پر نظر ثانی کرکے، اس شخص کو ارسال کردیتے۔ اس طرح آپ نے فقہی سوالوں کے جوابات لکھنے شروع کیے۔

جب حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحبؒ (1936-2002)نے سن 1988ء میں اسلامی فقہ اکیڈمی، انڈیا قائم کیا، تو آپ شروع سے اکیڈمی کے قافلے میں شامل رہے۔ آپ اکیڈمی کے رکن تاسیسی تھے۔ آپ اکیڈمی کے سیمینار میں پابندی سے شرکت کرتے اور جس موضوع پر سیمینار ہوتا اس پر مقالہ لکھتے۔ فقہ میں آپ کو دسترس حاصل ہونے کی وجہ سے شرکاءِ سیمینار آپ کی رائے کا احترام کرتے اور خود قاضی صاحب آپ کی رائے کو بڑی وقعت دیتے۔ آپ کو اکیڈمی کے سیمینار اور ادارہ مباحث فقہیہ، جمعیت علماء ہند کے فقہی سیمینار میں شرکت کی دعوت دی جاتی اور آپ ان دونوں ادارے کے سیمیناروں میں شرکت کرتے۔

فقیہِ ملت مطالعہ کے بہت ہی عادی تھے۔ آپ علوم فقہ وحدیث کا بہت گہرا مطالعہ کرچکے تھے۔ گرچہ آپ کا مطالعہ بڑا گہرا تھا، مگر آپ نے تصنیف وتالیف کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ مگر جب آپ کے سامنے کچھ اہم فقہی سوالات پیش کیے جاتے، آپ ان کے جوابات ضرور تحریر فرماتے۔ اس طرح حضرت امیر شریعت رابع کی ایماء پر، آپ نے دو اہم کتابچے: "وراثت میں پوتے کا حصہ” اور "معاشرتی مسائل کا حل یا دار القضاء” کی تصنیف فرمائی۔ دورانِ مطالعہ آپ نے جن جزئیے یا کسی نکتے کو ضروری سمجھا، اسے اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیا۔ اس ڈائری کا ایک حصہ گزشتہ سال (2018)، "علمی یاد داشتیں” کے نام سے منظر عام پر آیا ۔ اس پر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی حفظہ اللہ کا بڑا قیمتی "پیشِ لفظ” ہے۔ اس پیش لفظ میں جہاں آپ نے فقیہِ ملت کی علمی گہرائی وگیرائی کو بیان کیا، وہیں آپ نے اپنی تمنا کا اظہار کیا ہے کہ کاش مولانا کے شاگرد ان کی تحریروں (فقہی مقالات اور دوسری تحریریں جو گاہے بگاہے لکھی گئيں) کو مرتب کردیتے۔ جب راقم نے یہ مضمون لکھنا شروع؛ تو اپنے پاس موجود اسلامک فقہی اکیڈمی کی ان چند مطبوعات پر ایک نظر ڈالا، جن میں اکیڈمی کے سیمیناروں کے فقہی مقالات چھپے ہوئے ہیں۔ ان چند کتابوں میں مندرجہ ذیل موضوعات پر حضرت فقیہِ ملتؒ کے مقالات ملے۔ ان مقالات کے عنوانات یہ ہیں: "شیئرز: فقہ اسلامی کی روشنی میں”، "استثمار باموال الزکاۃ”، "انٹرنیٹ اور جدید ذرائع مواصلات کے ذریعہ عقود ومعاملات”، "بینک کے اے ٹی ایم ودیگر کارڈ سے استفادہ”، "قبضہ سے پہلے خرید وفروخت کا شرعی حکم”، "اعضاء کی پیوند کاری”، "خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل تدابیر کا استعمال”، "نوٹ کی شرعی حیثیت”، "مسئلہ ربوا” اور "نشہ کی طلاق کا مسئلہ”۔

اللہ تعالی نے اس راقم کو اشرف العلوم میں حضرت کی زیر نظامت چار سالوں تک تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بندہ کو فقیہِ ملت سے فن منطق کی معروف کتاب: "شرح التہذیب” سبقا سبقا پڑھنے کی سعادت حاصل ہے۔ جس سال آپ ہماری جماعت والوں کو یہ کتاب پڑھاتے تھے، آپ کے ذہین وفطین صاحبزادے مولانا ظفر صدیقی قاسمی بھی اسی جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ اب استاذ محترم اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کی یادیں آتی رہیں گی۔ بندہ دعا گو ہے کہ اللہ تعالی حضرت الاستاذ کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے۔ آمین! •••

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا