قبضہ کی حقیقیت اور انٹرنیٹ کے ذریعہ عقود کی بعض مرو جہ صورتیں

محمد اللہ خلیلی قاسمی

یہ اسلام کا امتیاز ہے کہ اس نے اپنے پیروکاروں کو زندگی کے دیگر میدانوں کی طرح اقتصاد ومالی معاملات کے سلسلہ میں بھی واضح ہدایات اور احکام دیے ہیں تاکہ معاشرہ کی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں اور معاشرہ کے افراد میں کسی قسم کا نزاع بھی نہ پیدا ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے عقود اور مالی معاملات میں ان امور کو ناجائز قرار دیا ہے جن کی وجہ سے فریقین کے درمیان نزاع و مخاصمت کا قوی امکان ہو یا ایک دوسرے کے مال کو ناجائز طور پر استعمال کرنا پایا جاتا ہو۔ ان ہی امور میں قبضہ علی المبیع کا معاملہ ہے یعنی بائع جس سامان کو بیچ رہا ہو اس پر اس کا قبضہ ہونا ضروری ہے تاکہ بیع مکمل ہونے کے بعد وہ اسے مشتری کے حوالہ کردے۔ جیسا کہ صحيح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ :

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ (صحیح مسلم 2807، ج 8 / ص 67)

اسی طرح ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ :

أن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: "لا یحل سلف وبیع ولا شرطان في بیع ولا ربح ما لم یضمن ولا بیع ما لیس عندک” (أخرجه الترمذي في باب کراهیة بیع ما لیس عنده، وقال:هذا حدیث حسن صحیح)

یہی وجہ ہے کہ اصولی طور پر حضرات فقہائے کرام اور ائمہ اربعہ اس امر پر متفق ہیں کہ بیع قبل القبض جائز نہیں ہے لیکن اس کی تفصیلات اور جزئیات میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔

ذیل میں سوال نامہ میں مذکور سوالات کا جواب عرض کیا جا رہا ہے۔

(۱) قبضہ کی حقیقت

احناف کے نزدیک شرعی اصطلاح میں قبضہ کا مفہوم یہ ہے کہ مبیع اور مشتری کے مابین ایسے طور پر تخلیہ کردیا جائے کہ مشتری کو قبضہ کرنے کی قدرت حاصل ہوجائے جس میں بائع کی طرف سے کوئی مانع اور حائل نہ رہے۔ جیسا علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

التسلیم والقبض عندنا هو التخلیة والتخلی وهو أن یخلي البائع بین المبیع والمشتري برفع الحائل بینهما علی وجه یتمکن المشتری من التصرف فیه فیجعل البائع مسلماً للمبیع والمشتری قابضاً له وکذا تسلیم الثمن من المشتري إلی البائع. (بدائع الصنائع 5/244)

قبضہ حسّی کبھی شی کو ہاتھوں میں لینے سے ہوتا ہے اور کبھی دوسرے طریقہ پر بھی۔ مختلف چیزوں کا قبضہ ان کے حسب حال ہوتا ہے۔ جیسا کہ علامہ شامی فرماتے ہیں:

قال في الدر ثم التسلیم یکون بالتخلیة علی وجهٍ یتمکن من القبض بلا مانع ولا حائل (شامي مع الدر، ج2، ص568)

وَفِي الاِصْطِلاَحِ: هُوَ حِيَازَةُ الشَّيْءِ وَالتَّمَكُّنُ مِنْهُ، سَوَاءٌ أَكَانَ مِمَّا يُمْكِنُ تَنَاوُلُهُ بِالْيَدِ أَمْ لَمْ يُمْكِنْ (الموسوعة الفقهية الكويتية)

اسی طرح علامہ کاسانی فرماتے ہیں:

معنی القبض هو التمکین والتخلي وارتفاع الموانع عرفاً وعادۃ حقیقة. (بدائع الصنائع 5/244)

قبضہ کی قدرت اور موقعہ دیدینا بھی قبضہ ہی کے برابر ہے:

والتمکن من القبض کالقبض (شامي، ج2، ص568)

أنه من شروط التخلیة التمکن من القبض بلا حائل ولا مانع (شامی 4/516)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں قبضہ کی کسی خاص ہیئت کو مقرر نہیں کیا گیا ہے بلکہ مختلف چیزوں کا قبضہ مختلف انداز سے ہوتا ہے۔ لہٰذا کسی خاص ہیئت کو مقرر نہیں کیا گیا ہے بلکہ جس طرح کا استیلاء عرفاً قبضہ سمجھا جاتا ہے اس کو شرعاً قبضہ کا مصداق سمجھا جائے گا۔

(۲) مروجہ تجارتی شکلوں میں تخلیہ کا معنی ومصداق

احناف کے نزدیک حسی قبضہ ضروری نہیں ہے، بلکہ مبیع کا تخلیہ بھی کافی ہے جیسا کہ درج بالا فقہی عبارات میں گزرا۔

مروجہ تجارتی شکلوں میں تخلیہ کا معنی ومصداق یہ ہوگا کہ مبیع کے حکمی قبضہ کا تحقق ہوجائے۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہونے والی مروجہ تجاری شکلوں میں قبضہ کا مطلب یہ ہے کہ ضروری کارروائی عمل میں لے آئی جائے اس طور پر کہ مبیع کا ضمان بائع سے مشتری کی طرف منتقل ہوجائے اور سامان کی ذمہ داریاں (Liabilities) اور فوائد (Profits) کا وہ حق دار بن جائے۔

اس طرح ضمانت میں آجانے اور رسک (Risk)کی منتقلی کو حکمی قبضہ مانا جائے گا۔ لہٰذا ضمان اور رسک کی منتقلی سے پہلے پہلے اگر مبیع ہلاک ہوجاتی ہے تو نقصان بائع کا ہوگا اور اگر ضمان کی منتقلی کے بعد مبیع ہلاک ہوتی ہے تو یہ مشتری کا نقصان مانا جائے گا۔

(۳) اشیائے غیر منقولہ میں قبضہ کا تحقق

احناف کے نزدیک اشیائے غیر منقولہ جیسے زمین جائیداد وغیرہ میں قبضہ کے بغیر بیع جائز ہے۔ اس میں منقولات کی طرح قبضے کی شرط نہیں ہے:

(صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار (الدر المختار، ج 5 / ص 271)

اشیائے غیر منقولہ میں بھی قبضہ کا تحقق ‘تخلیہ’ سے حاصل ہوگا اور تخلیہ یہ ہے کہ مشتری اور مبیع کے درمیان حائل اور رکاوٹ کو بائع ختم کردے اس طور پر کہ اگر مشتری مبیع میں کوئی تصرف کرنا چاہے تو کرسکے۔

وَالتَّخَلِّي وَهُوَ أَنْ يُخَلِّيَ الْبَائِعُ بَيْنَ الْمَبِيعِ وَبَيْنَ الْمُشْتَرِي بِرَفْعِ الْحَائِلِ بَيْنَهُمَا عَلَى وَجْهٍ يَتَمَكَّنُ الْمُشْتَرِي مِنْ التَّصَرُّفِ فِيهِ فَيُجْعَلُ الْبَائِعُ مُسَلِّمًا لِلْمَبِيعِ ، وَالْمُشْتَرِي قَابِضًا لَهُ(بدائع الصنائع 5/244)

تخلیہ کی ایک شکل یہ ہے کہ مالک مکان کہہ دے کہ اب مکان آپ کا ہے، آپ اپنے قبضہ میں لے لیجیے یا اپنے مکان کی چابی مشتری کے حوالہ کردے ۔ (فقہ البیوع، مفتی تقی عثمانی ، جلد اول، ص 398)

(۴) اشیائے غیر منقولہ کی رجسٹری کا حکم

اگر کوئی شخص اپنی مملوکہ زمین وجائیدادکسی کو فروخت کردے اور مشتری کے نام سے رجسٹری بھی کرادےتو موجودہ قانون میں مشتری زمین کا مالک سمجھا جاتا ہے اگر چہ بائع نے اس کو زمین حوالہ کرکے اس پر قابض نہ بنایا ہو، لیکن شرعاً صرف رجسٹری کو قبضہ قرار دینا مشکل ہے جب تک کہ رجسٹری کے ساتھ تخلیہ نہ بھی کیاگیا ہو کیوں کہ زمین کی رجسٹری بسا اوقات شرعاً ملک بھی مانی نہیں جاسکتی جیسا کہ بہت سے لوگ ٹیکس یا دیگر مجبوریوں کی وجہ سے زمین کا بیع نامہ کسی اور کے نام کرادیتے ہیں۔ لہٰذا شرعی طور پر صرف زمین کی رجسٹری کو قبضہ نہیں کہا جائے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تخلیہ بھی ضروری ہوگا:

فالذي يظهر أنه لا ينبغي أن يعتبر التسجيل قبضًا ناقلاً للضمان في الفقه الإسلامي، إلا إذا صاحبته التخلية بالمعنى الذي ذكرناه فيما سبق، ومنه أن يكون العقار مستغلاً بالإجارة، وعقد المشتري الإجارة مع المستاجر صراحةً أو اقتضاءً. (فقہ البیوع، جلد اول، 405)

اشیائے غیر منقولہ کی رجسٹری قبضہ کے حکم میں نہیں ہوگی، بلکہ تخلیہ سے ہی قبضہ ہوگا۔ لیکن زمین کی رجسٹری سے قبل مشتری اس زمین کو بیچ سکتا ہے کیوں کہ اشیائے غیر منقولہ میں بیع قبل القبض جائز ہے۔

(صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار (الدر المختار، ج 5 / ص 271)

(وَأَمَّا) بَيْعُ الْمُشْتَرِي الْعَقَارَ قَبْلَ الْقَبْضِ فَجَائِزٌ عَنْهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ ، وَأَبِي يُوسُفَ اسْتِحْسَانًا ، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ ، وَزُفَرَ ، وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمُ اللَّهُ لَا يَجُوزُ قِيَاسًا ، وَاحْتَجُّوا بِعُمُومِ النَّهْيِ الَّذِي رَوَيْنَا ؛ وَلِأَنَّ الْقُدْرَةَ عَلَى الْقَبْضِ عِنْدَ الْعَقْدِ شَرْطُ صِحَّةِ الْعَقْدِ لِمَا ذَكَرْنَا ، وَلَا قُدْرَةَ إلَّا بِتَسْلِيمِ الثَّمَنِ ، وَفِيهِ غَرَرٌ ، وَلَهُمَا عُمُومَاتُ الْبِيَاعَاتِ مِنْ الْكِتَابِ الْعَزِيزِ مِنْ غَيْرِ تَخْصِيصٍ، وَلَا يَجُوزُ تَخْصِيصُ عُمُومِ الْكِتَابِ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ عِنْدَنَا ، أَوْ نَحْمِلُهُ عَلَى الْمَنْقُولِ تَوْفِيقًا بَيْنَ الدَّلَائِلِ صِيَانَةً لَهَا عَنْ التَّنَاقُضِ ؛ وَلِأَنَّ الْأَصْلَ فِي رُكْنِ الْبَيْعِ إذَا صَدَرَ مِنْ الْأَهْلِ فِي الْمَحَلِّ هُوَ الصِّحَّةُ ، وَالِامْتِنَاعُ لِعَارِضِ الْغَرَرِ ، وَهُوَ غَرَرُ انْفِسَاخِ الْعَقْدِ بِهَلَاكِ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ وَلَا يُتَوَهَّمُ هَلَاكُ الْعَقَارِ فَلَا يَتَقَرَّرُ الْغَرَرُ فَبَقِيَ بَيْعُهُ عَلَى حُكْمِ الْأَصْلِ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج 11 / ص 259)

(۵) اشیائے منقولہ کی بیع قبل القبض باطل ہے یا فاسد؟

اشیائے منقولہ جیسے غلہ، فرنیچر، کمپیوٹر اور موبائل وغیرہ میں بیع قبل القبض ناجائز ہے ۔ مثلاً مروجہ آن لائن تجارت میں مشتری نے ضمان کی منتقلی سے پہلے ہی سامان کو بیچ دیا تو وہ بیع فاسد ہوگی ، باطل نہیں ہوگی کیوں کہ اس میں بیع کے ارکان پائے جارہے ہیں ، ہاں مبیع کے عدم مقبوض ہونے کی وجہ سے بیع میں فساد پیدا ہو رہاہے:

(ج) أن يكون المبيع غیر مقبوض للبائع، بحیث إنه لم ینتقل إلیه ضمانه، فمن باع ما لم یقبضه فبیعه فاسد.(فقه البیوع، جلد دوم،958، 1193)

(۶)اشیائے غیر منقولہ میں قبضہ کے تعلق سے بیع اور ہبہ کے درمیان فرق

اشیائے غیر منقولہ میں قبضہ کے تعلق سے بیع اور ہبہ کے درمیان فرق ہے۔ وہ یہ ہے کہ زمین کی بیع بلا قبضہ کے تام ہوجاتی ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص زمین خریدنے کے بعد قبضہ کرنے سے پہلے اس کو آگے بیچ دے تو اس کے جواز میں کلام نہیں ہے۔ لیکن ہبہ تام ہونے کی لیے ضروری ہے کہ ہبہ کرنے والا، شیٴ موہوب کو موہوب لہ کے حوالہ کردے اور اس پر اس کو مالک و قابض بنادے اور خود اس سے لاتعلق ہوجائے، صرف زبانی ہبہ کرنے سے جب کہ اس کے ساتھ قبضہ نہ کرایا گیا ہو، ہبہ تام نہیں ہوتا۔

اخْتَلَفَ الْفُقَهَاءُ فِي اشْتِرَاطِ الْقَبْضِ لِنَقْل مِلْكِيَّةِ الْعَيْنِ الْمَوْهُوبَةِ إلَى الْمَوْهُوبِ عَلَى قَوْلَيْنِ (أَحَدُهُمَا) لِلْحَنَفِيَّةِ وَالشَّافِعِيَّةِ وَالْحَنَابِلَةِ: وَهُوَ أَنَّهُ يُشْتَرَطُ الْقَبْضُ لاِنْتِقَال الْمِلْكِيَّةِ إلَى الْمَوْهُوبِ، وَأَنَّ الْهِبَةَ لاَ يَمْلِكُهَا الْمَوْهُوبُ إلاَّ بِقَبْضِهَا. (الموسوعة الفقهية الكويتية، 32/279)

وشرائط صحتها في الموهوب أن یکون مقبوضا غیر مشاع ممیزا غیر مشغول.(شامي: 8/489)

( وَتَتِمُّ ) الْهِبَةُ ( بِالْقَبْضِ ) الْكَامِلِ ( وَلَوْ الْمَوْهُوبُ شَاغِلًا لِمِلْكِ الْوَاهِبِ لَا مَشْغُولًا بِهِ ) وَالْأَصْلُ أَنَّ الْمَوْهُوبَ إنْ مَشْغُولًا بِمِلْكِ الْوَاهِبِ مُنِعَ تَمَامَهَا ، وَإِنْ شَاغِلًا لَا ، فَلَوْ وَهَبَ جِرَابًا فِيهِ طَعَامُ الْوَاهِبِ أَوْ دَارًا فِيهَا مَتَاعُهُ ، أَوْ دَابَّةً عَلَيْهَا سَرْجُهُ وَسَلَّمَهَا كَذَلِكَ لَا تَصِحُّ (أيضاً 493، 494)

اگر کسی نے صرف ملکی قانون کے مطابق رجسٹری کرکے ہبہ نامہ تیار کردیا اور اپنی زندگی میں موہوب لہ کو ہبہ کرکے اس پر قبضہ نہیں دلایا تو شرعا یہ ہبہ تام ومعتبر نہیں ہے۔ لہٰذا ، صرف رجسٹری کردینے سے شیٔ موہوب ، موہوب لہ کو ملک میں منتقل نہیں ہوگی اور اس بنیاد پر اس کی طرف سے بیع وغیرہ کا تصرف صحیح نہیں ہوگا۔

(۷) فاریکس ٹریڈنگ اور کموڈیٹی ٹریڈنگ

اس سوال میں انٹرنیٹ کے ذریعہ سونے چاندی ، کرنسی اور دیگر اشیاء و اجناس کی آن لائن تجارت کے متعلق ہے۔

میری ناقص فہم کی مطابق ، انٹرنیٹ کے ذریعہ آن لائن تجارت میں دو شکلیں ہیں : ایک فوریکس ٹریڈنگ جو مختلف ممالک کی کرنسیوں کی آن لائن تجارت سے عبارت ہے اور دوسرے کموڈیٹی مارکیٹ جس میں سونا چاندی، گیس ، تیل اور غذائی اجناس وغیرہ کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

جہاں تک کرنسی کے تبادلہ کا شرعی ضابطہ یہ ہے کہ دو مختلف ملکوں کی کرنسیاں دو جنسیں ہیں اور ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی کے بدلے فروخت کرنا شرعاً جائز ہے اور دونوں کے درمیان جو شرحِ تبادلہ باہمی رضامندی سے طے ہوجائے اس کا لین دین درست ہے؛ البتہ ثمنین میں سے کم ازکم ایک پر مجلسِ عقد میں بالفعل قبضہ ضروری ہے، خود قبضہ کیا جائے یا وکیل کے ذریعہ قبضہ کیا جائے:

وحاصله أنها أثمان عرفیة أو اصطلاحیة مثل الفلوس النافقة وعملة کل بلد جنس مستقل، فتجب فیها الزکاة وتتأدی بها، ویجوز أن تکون رأس مال في السلم ویجري فیها الربا فإن بیعت بجنسها وجب فیها التماثل بالقیمة ووجب التقابض في المجلس، لا لأنه صرف بل لأن الجنس بانفراده یحرم النسیئة علی قول الحنفیة کما سبق في حکم الفلوس، ولکن لا یجري علیها أحکام الصرف بمعنی أنه لاتجب فیها التقابض في المجلس ویجوز فیها النسیئة إن وقعت المبادلة بغیر جنسها، مثل أن تباع الدولارات الأمریکیة بالربیات الباکستانیة بشرط أن تکون المبادلة بسعر یوم المبادلة حتی لاتکون ذریعة للربا. (فقہ البیوع، جلد دوم، ص733)

لیکن فوریکس ٹریڈنگ میں مختلف ممالک کے کرنسیوں کی آن لائن تجارت کے سلسلہ میں یہ عام شرعی ضابطہ لاگو نہیں ہوتا کہ اس وقت جو فوریکس ٹریڈنگ ہورہی ہےیہ ایک مستقل ایک ایسی مارکیٹ ہے جس میں حصہ لینے والوں کا مقصد فی الواقع کرنسی کا تبادلہ نہیں ہوتا بلکہ کرنسی خرید وفروخت کے نام پر کھاتوں کے درمیان رقم کی منتقلی ہوتی ہے اور حقیقت میں کہیں بھی کرنسی کا تبادلہ نہیں ہوتا۔ اس طرح صرف پیسے کے ہیر پھیر سے اور ہوائی بیع سے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے جو کہ جوے کی ایک شکل ہے ۔دو مختلف کرنسیوں کی بیع میں مجلس عقد میں احد البدلین پر قبضہ ضروری ہوتا ہے اور فوریکس ٹریڈنگ میں اس کا تحقق نہیں ہوتا ۔ لہٰذا فوریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ کرنسیوں کی تجارت شرعاً جائز نہیں ہے۔

فوریکس ٹریڈنگ میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ اس میں کرنسیوں کو ہی سامان تجارت بنایا گیا جو ان کی وضع کے خلاف ہے اور شریعت اسلامیہ کی نظر میں ان کا باہمی تبادلہ کسی حقیقی ضرورت کی وجہ سے درست ہے جیسا کہ بیع صرف کی اجازت دی گئی ہے اور اس کا طریقہ عام اشیاء کی بیع سے مختلف ہے۔ لیکن فوریکس ٹریڈنگ میں کرنسیوں کو ہی محل تجارت بنا لیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے معاصر مالی نظام میں بڑا فساد پیدا ہوگیا ہے۔(فقہ البیوع، جلد اول، ص 763-765)

دوسری شکل کموڈیٹی مارکیٹ ہے جس میں غذائی اجناس، قیمتی دھاتوں جیسے سونا چاندی، مائعات جیسے گیس اور پٹرول وغیرہ کی آن لائن تجارت ہوتی ہے۔ کموڈیٹی مارکیٹ ، فوریکس ٹریڈنگ سے اس طور پر مختلف ہے کہ اس میں جن اشیاء کی خرید و فروخت ہوتی ہے وہ عام ضرورت کی چیزیں ہوتی ہیں ۔

فی نفسہ ان اشیاء کی تجارت میں کوئی حرج نہیں ہے اگر مبیع ایسی چیز ہو جس کی خرید وفروخت جائز ہو یا سونے چاندی کی خرید وفروخت ہونے شکل میں ان کی شرائط کا لحاظ کیا جائے۔ نیز جس چیز کی خرید وفروخت ہورہی ہو وہ چیز فی نفسہ موجود ہو اور اس پر قبضہ کرپانا ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، آگے بیچنے کے لیے مبیع پر بائع کا قبضہ ہوجاتا ہو ،اس کے بعد آگے بیچی جاتی ہو۔اسی طرح خرید وفروخت کی کوئی مدت مقرر نہ ہو؛ بلکہ خریدار ہمیشہ کے لیے اس چیز کا مالک ہوجاتا ہو ، اور بعد میں اس کو بیچنے یا نہ بیچنے کا کلی اختیار حاصل ہوجاتا ہو۔

لیکن ان اشیاء کی آن لائن تجارت میں جو شکل فی الحال پائی جاتی ہے اس میں جواز کی شرائط پائی نہیں جاتیں؛اولاً اس طرح کے معاملات میں اشیاء کی خرید و فروخت در حقیقت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ صرف پیسوں کے ہیر پھر سے کمائی مقصود ہوتی ہے ، حقیقی لین دین شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ جو اشیاء خریدی اور بیچی جاتی ہیں ان کا خارج میں وجود نہیں ہوتا، بلکہ محض بروکر کمپنی کے انڈیکس (اشاریہ) میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔ اس طرح یہ سٹہ کی ایک شکل ہے۔

اگر فرض کیا ہے جائے کہ کموڈیٹی مارکیٹ میں جن اشیاء کی تجارت ہوتی ہے وہ خارج میں موجود ہوتی ہیں اور ان کا بالفعل قبضہ بھی کا جاسکتا ہے، گو ایسا نادر الوقوع ہی ہوتا ہے، تب بھی اس میں ایک دوسری خرابی پائی جاتی ہے وہ یہ کہ اس تجارت میں خرید و فروخت کی مدت مقرر ہوتی ہے،یعنی اس میں یہ شرط فاسد ہوتی ہے کہ آپ نے جو سامان آج خریدا ہے اس کو ایک متعین مدت مثلاً ایک ہفتہ کے اندر حاصل کرکے قبضہ کرلیں ورنہ بروکر کمپنی اس سامان کو متعینہ مدت کے اختتام پر خود ہی فروخت کردے گی۔مثلاً اگر تیل کی ایک لاٹ (دس بیرل) کموڈیٹی مارکیٹ میں 15000 ڈالر میں 10 جنوری کو خریدی گئی تو اس کا معاہدہ یہ ہوتا ہے کہ اگلی 20 جنوری تک اس لاٹ کو فروخت کرنا ہے۔ اگر کلائنٹ نے اس لاٹ کو مدت کے درمیان نہیں بیچا تو کمپنی اس کو خود 20 جنوری کی تاریخ میں بیچ دے گی۔ اگر وہ لاٹ 16000 کی فروخت ہوگی تو کمپنی اپنا کمیشن لے کر نفع کلائنٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کردے گی اور اگر 14000 میں فروخت ہوگی تب بھی وہ کلائنٹ کے اکاؤنٹ سے اپنے کمیشن اور نقصان کی مقدار رقم وضع کرلے گی۔اس طرح کموڈیٹی مارکیٹ سے آن لائن تجارت کی یہ شکل شرط فاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بھی جائز نہیں ہے۔

(۸) روپیہ کے ذریعہ سونا چاندی خریدنا بیع صرف ہے؟

روپیہ عرفی ثمن ہے اور چاندی یا سونے کے حکم میں نہیں ہے؛ اس لیے روپئے کے ذریعہ سونے چاندی کی بیع ، بیع صرف کے زمرہ میں نہیں آئے گی۔ لہٰذا روپیہ سے سونا چاندی خریدنے کی صورت میں میں تفاضل و نسیئہ جائز ہوگا اور بدلین پر مجلس واحد میں قبضہ کرنا ضروری نہیں ہوگا، صرف ایک بدل پر قبضہ کافی ہوگا۔

تنبيه: سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة، فأجاب: بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين، لما في البزازية لو اشترى مائة فلس بدرهم يكفي التقابض من أحد الجانبين.قال: ومثله ما لو باع فضة أو ذهبا بفلوس كما في البحر عن المحيط. (حاشية رد المحتار ج 5 / ص 306)

قوله: (فلو باع النقدين) تفريع على قوله وإلا شرط التقابض فإنه يفهم منه أنه لا يشترط التماثل، وقيد بالنقدين لانه لو باع فضة بفلوس فإنه يشترط قبض أحد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما كما في البحر عن الذخيرة. (حاشية رد المحتار ج 5 / ص 390)

روپئے سے چاندی اور سونے کے زیورات خریدنے کی صورت میں قبضہ بھی شرط نہیں ہے بلکہ تعیین کافی ہے ، کیوں کہ زیورات متعین کرنے سے متعین ہوجاتے ہیں۔بس اس میں ایک شرط یہ ہے کہ یوم عقد کے بھاؤ اور قیمت پر معاملہ جائے: حضرت مفتی تقی عثمانی مدظلہ لکھتے ہیں:

فإنه يجوز شراء حلي الذهب والفضة بالنقود الورقية نسيئة بشرط أن يكون بسعر يوم العقد ولا يشترط فيه التقابض، بل لا يشترط قبض الحلي الحقيقي وإنما يكفي تعيين الحلي لأن النقود الورقية في حكم الفلوس في أحكام الصرف فقط، وشرء الحلي بالفلوس لا يشترط فيه التقابض عند الحنفية بل يكفي تعيين الحلي. (فقه البیوع، جلد دوم 763)

سونے چاندی خریدنے میں چیک، ڈرافٹ اور کریڈٹ کارڈ سے وغیرہ سے ادائیگی کے سلسلہ میں حکم یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ وغیرہ کے ذریعہ جو ادائیگی ہوتی ہے اس میں عموماً رقم فوری طور پر دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجاتی ہے؛ اس لیے اس کو مجلس میں قبضہ سمجھا جائے گا اور اس کے جواز میں کلام نہیں ہے۔ لیکن مشتری کی طرف سے بائع کو چیک اور ڈرافٹ دینے کی صورت میں رقم بائع کے اکاؤنٹ میں فوری طور پر منتقل نہیں ہوتی؛ البتہ ثمن کو بینک کے ذریعہ حاصل کرنے کا اس کو تیقن حاصل ہوجاتا ہےکیوں کہ چیک اور ڈرافٹ کے پشت پر بینک میں رقم جمع ہوتی ہے، اس لیے چیک یا ڈرافٹ کو حکمی قبضہ کہا جاسکتا ہے۔

(۹) ای-کومرس ویب سائٹوں سے سامان کی خریداری

اس وقت انٹرنیٹ پر آن لائن شاپنگ ویب سائٹوں سے خرید وفروخت کا دائرہ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ بڑے سامانوں سے لے کر چھوٹے اور معمولی سامان بھی آن لائن مارکٹ کے ذریعہ بیچے اور خریدے جا رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر خریداری کے لیے جو ویب سائٹیں (جیسے امیزون ڈاٹ کوم، ایبے ڈاٹ کوم، فلپ کارٹ ڈاٹ کوم وغیرہ) ہیں انھیں ای کومرس (E-commerce) کمپنیاں کہا جاتا ہے ۔

ای کومرس ویب سائٹوں کے ذریعہ سامان کی خریداری بالکل جائز اور درست ہے کیوں کہ ان میں سامان (مبیع) کی مکمل تفصیلات وصفات اور قیمت وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے بلکہ اس سامان کی مختلف زاویوں سے تصاویر بھی آن لائن ہوتی ہے۔ اس سامان کا آرڈر دینے اور قیمت کی ادائیگی کے بعد کمپنی اس سامان کو ڈاک یا کوریئر وغیرہ کے ذریعہ خریدار کو بھیج دیتی ہے۔

معتبر ویب سائٹوں کے ذریعہ خریدا گیا سامان عموماً بعینہ وہی ہوتا ہے جو ویب سائٹ پر موجود ہوتا ہے اور اس میں عموماً کوئی دھوکہ نہیں ہوتا۔ عموماً ان ویب سائٹوں پر یہ اوپشن بھی ہوتا ہے کہ بائع سامان کی وصولی سے پہلے بھی اپنا آرڈر کینسل کرسکتا ہے یا مبیع موصول ہونے کے بعد پسند نہ ہونے کی صورت میں اسے واپس کرسکتا ہے۔ اس لیے ای کومرس ویب سائٹوں سے آن لائن سامان کی خریداری جائز ہے۔

خلاصۂ جوابات:

(۱)احناف کے نزدیک شرعی اصطلاح میں قبضہ کا مفہوم یہ ہے کہ مبیع اور مشتری کے مابین ایسے طور پر تخلیہ کردیا جائے کہ مشتری کو قبضہ کرنے کی قدرت حاصل ہوجائے جس میں بائع کی طرف سے کوئی مانع اور حائل نہ رہے۔ قبضہ حسّی کبھی شی کو ہاتھوں میں لینے سے ہوتا ہے اور کبھی دوسرے طریقہ پر بھی۔ مختلف چیزوں کا قبضہ ان کے حسب حال ہوتا ہے۔

(۲) مروجہ تجارتی شکلوں میں تخلیہ کا معنی ومصداق یہ ہوگا کہ مبیع کے حکمی قبضہ کا تحقق ہوجائے۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہونے والی مروجہ تجاری شکلوں میں قبضہ کا عرف یہ ہے کہ ضروری کارروائی عمل میں لے آئی جائے اس طور پر کہ مبیع کا ضمان بائع سے مشتری کی طرف منتقل ہوجائے اور سامان کی ذمہ داریاں (Liabilities) اور فوائد (Profits) کا وہ حق دار بن جائے۔

(۳) اشیائے غیر منقولہ میں بھی قبضہ کا تحقق ‘تخلیہ’ سے حاصل ہوگا اور تخلیہ یہ ہے کہ مشتری اور مبیع کے درمیان حائل اور رکاوٹ کو بائع ختم کردے اس طور پر کہ اگر مشتری مبیع میں کوئی تصرف کرنا چاہے تو کرسکے۔

(۴) اشیائے غیر منقولہ کی رجسٹری قبضہ کے حکم میں نہیں ہوگی، بلکہ تخلیہ سے ہی قبضہ ہوگا۔ لیکن رجسٹری سے قبل مشتری اس زمین کو بیچ سکتا ہے کیوں کہ اشیائے غیر منقولہ میں بیع قبل القبض جائز ہے۔

(۵) اشیائے منقولہ کی بیع قبل القبض فاسد ہوگی کیوں کہ اس میں بیع کے ارکان پائے جارہے ہیں ، ہاں مبیع کے عدم مقبوض ہونے کی وجہ سے بیع میں فساد پیدا ہو رہاہے۔

(۶) اشیائے غیر منقولہ میں قبضہ کے تعلق سے بیع اور ہبہ کے درمیان فرق یہ ہے کہ زمین کی بیع بلا قبضہ کے تام ہوجاتی ہے لیکن ہبہ تام ہونے کی لیے ضروری ہے کہ ہبہ کرنے والا، شیٴ موہوب کو موہوب لہ کے حوالہ کرکے اس کو مالک و قابض بنادے ۔ میں صرف رجسٹری کرنے سے ہبہ تام نہیں ہوگا اور محض ہبہ کے کاغذات کی بنیاد پر قبضہ کے پہلے اسے دوسرے کے ہاتھ فروخت کرنا درست نہیں ہوگا۔

(۷)انٹرنیٹ کے ذریعہ سونے چاندی کی بیع کو فاریکس ٹریڈنگ کہاجاتا ہے اور دیگر اشیاء و اجناس کی آن لائن تجارت کو کموڈیٹی ٹریڈنگ کہاجاتا ہے۔

دو ملکوں کی کرنسی کا تبادلہ بنیادی طور پر جائز ہے کیوں کہ دو مختلف ملکوں کی کرنسیاں دو جنسیں ہیں اور ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی کے بدلے فروخت کرنا شرعاً جائز ہے البتہ ثمنین میں سے کم ازکم ایک پر مجلسِ عقد میں بالفعل قبضہ ضروری ہے۔ لیکن فوریکس ٹریڈنگ میں مختلف ممالک کے کرنسیوں کی آن لائن تجارت کے سلسلہ میں یہ عام شرعی ضابطہ لاگو نہیں ہوتا کہ اس وقت جو فوریکس ٹریڈنگ ہورہی ہےیہ ایک مستقل ایک ایسی مارکیٹ ہے جس میں حصہ لینے والوں کا مقصد فی الواقع کرنسی کا تبادلہ نہیں ہوتا بلکہ کرنسی خرید وفروخت کے نام پر کھاتوں کے درمیان رقم کی منتقلی ہوتی ہے اور حقیقت میں کہیں بھی کرنسی کا تبادلہ نہیں ہوتا۔ اس طرح صرف پیسے کے ہیر پھیر سے اور ہوائی بیع سے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے جو کہ جوے کی ایک شکل ہے ۔دو مختلف کرنسیوں کی بیع میں مجلس عقد میں احد البدلین پر قبضہ ضروری ہوتا ہے اور فوریکس ٹریڈنگ میں اس کا تحقق نہیں ہوتا ۔ لہٰذا فوریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ کرنسیوں کی تجارت شرعاً جائز نہیں ہے۔

فوریکس ٹریڈنگ میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ اس میں کرنسیوں کو ہی سامان تجارت بنایا گیا جو ان کی وضع کے خلاف ہے اور شریعت اسلامیہ کی نظر میں ان کا باہمی تبادلہ کسی حقیقی ضرورت کی وجہ سے درست ہے جیسا کہ بیع صرف کی اجازت دی گئی ہے اور اس کا طریقہ عام اشیاء کی بیع سے مختلف ہے۔ لیکن فوریکس ٹریڈنگ میں کرنسیوں کو ہی محل تجارت بنا لیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے معاصر مالی نظام میں بڑا فساد پیدا ہوگیا ہے۔

دوسری شکل کموڈیٹی مارکیٹ ہے جس میں غذائی اجناس، قیمتی دھاتوں جیسے سونا چاندی، مائعات جیسے گیس اور پٹرول وغیرہ کی آن لائن تجارت ہوتی ہے۔ فی نفسہ ان اشیاء کی تجارت میں کوئی حرج نہیں ہے اگر مبیع ایسی چیز ہو جس کی خرید وفروخت جائز ہو یا سونے چاندی کی خرید وفروخت ہونے شکل میں ان کی شرائط کا لحاظ کیا جائے۔ نیز جس چیز کی خرید وفروخت ہورہی ہو وہ چیز فی نفسہ موجود ہو اور اس پر قبضہ کرپانا ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، آگے بیچنے کے لیے مبیع پر بائع کا قبضہ ہوجاتا ہو ،اس کے بعد آگے بیچی جاتی ہو۔اسی طرح خرید وفروخت کی کوئی مدت مقرر نہ ہو؛ بلکہ خریدار ہمیشہ کے لیے اس چیز کا مالک ہوجاتا ہو ، اور بعد میں اس کو بیچنے یا نہ بیچنے کا کلی اختیار حاصل ہوجاتا ہو۔

لیکن کموڈیٹی مارکیٹ میں ان اشیاء کی آن لائن تجارت میں جو شکل فی الحال پائی جاتی ہے اس میں جواز کی شرائط پائی نہیں جاتیں؛اولاً اس طرح کے معاملات میں اشیاء کی خرید و فروخت در حقیقت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ صرف پیسوں کے ہیر پھر سے کمائی مقصود ہوتی ہے ، حقیقی لین دین شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ جو اشیاء خریدی اور بیچی جاتی ہیں ان کا خارج میں وجود نہیں ہوتا، بلکہ محض بروکر کمپنی کے انڈیکس (اشاریہ) میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔اس طرح یہ سٹہ کی ایک شکل ہے۔

اگر فرض کیا ہے جائے کہ کموڈیٹی مارکیٹ میں جن اشیاء کی تجارت ہوتی ہے وہ خارج میں موجود ہوتی ہیں اور ان کا بالفعل قبضہ بھی کاجاسکتا ہے، گو ایسا نادر الوقوع ہی ہوتا ہے، تب بھی اس میں ایک دوسری خرابی پائی جاتی ہے وہ یہ کہ اس تجارت میں خرید و فروخت کی مدت مقرر ہوتی ہے،یعنی اس میں یہ شرط فاسد ہوتی ہے کہ آپ نے جو سامان آج خریدا ہے اس کو ایک متعین مدت مثلاً ایک ہفتہ کے اندر حاصل کرکے قبضہ کرلیں ورنہ بروکر کمپنی اس سامان کو متعینہ مدت کے اختتام پر خود ہی فروخت کردے گی اور اپنا کمیشن لے کراگر نفع ہوگا تو کمیشن وضع کر کے کلائنٹ کے اکاؤنٹ میں ڈال دے گی اور اگر نقصان ہوا ہے تو نقصان اور کمیشن کی مقدار اکاؤنٹ سے وضع کرلے گی۔ اس طرح کموڈیٹی مارکیٹ سے آن لائن تجارت کی یہ شکل شرط فاسد پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔

(۸) روپیہ عرفی ثمن ہے اور چاندی یا سونے کے حکم میں نہیں ہے؛ اس لیے روپئے کے ذریعہ سونے چاندی کی بیع ، بیع صرف کے زمرہ میں نہیں آئے گی۔ اس صورت میں تفاضل و نسیئہ جائز ہوگا اور بدلین پر مجلس واحد میں قبضہ ضروری نہیں ہوگا، صرف ایک بدل پر قبضہ کافی ہوگا۔

سونے چاندی خریدنے میں چیک، ڈرافٹ اور کریڈٹ کارڈ سے وغیرہ سے ادائیگی کے سلسلہ میں حکم یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ وغیرہ کے ذریعہ جو ادائیگی ہوتی ہے اس میں عموماً رقم فوری طور پر دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجاتی ہے؛ اس لیے اس کو مجلس میں قبضہ سمجھا جائے ۔ لیکن مشتری کی طرف سے بائع کو چیک اور ڈرافٹ کے ذریعہ ادائیگی کی صورت میں رقم فوری طور پر بائع کے اکاؤنٹ میں فوری طور پر منتقل نہیں ہوتی؛ البتہ ثمن کو بینک کے ذریعہ حاصل کرنے کا اس کو تیقن حاصل ہوجاتا ہے، اس لیے چیک یا ڈرافٹ کو حکمی قبضہ کہا جاسکتا ہے۔

(۹) ای-کومرس ویب سائٹوں سے سامان کی خریداری کی خریداری بالکل جائز اور درست ہے کیوں کہ ان میں سامان (مبیع) کی مکمل تفصیلات وصفات اور قیمت وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے بلکہ اس سامان کی مختلف زاویوں سے تصاویر بھی آن لائن ہوتی ہے۔ اس سامان کا آرڈر دینے اور قیمت کی ادائیگی کے بعد کمپنی اس سامان کو ڈاک یا کوریئر وغیرہ کے ذریعہ خریدار کو بھیج دیتی ہے۔ معتبر ویب سائٹوں کے ذریعہ خریدا گیا سامان عموماً بعینہ وہی ہوتا ہے جو ویب سائٹ پر موجود ہوتا ہے اور اس میں عموماً کوئی دھوکہ نہیں ہوتا۔ عموماً ان ویب سائٹوں پر یہ اوپشن بھی ہوتا ہے کہ بائع سامان کی وصولی سے پہلے بھی اپنا آرڈر کینسل کرسکتا ہے یا مبیع موصول ہونے کے بعد پسند نہ ہونے کی صورت میں اسے واپس کرسکتا ہے۔ اس لیے ای کومرس ویب سائٹوں سے آن لائن سامان کی خریداری جائز ہے۔