حضرت مولانا حسیب الرحمن کشن گنجی رحمت الہی کی آغوش میں

حضرت مولانا حسیب الرحمن کشن گنجی رحمت الہی کی آغوش میں
سابق شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ دارالعلوم /حیدر آباد

از :امدادالحق بختیار*

یوں تواس دنیا میں روزانہ لاکھوں کی تعداد میں انسانوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے ؛ لیکن بہت سی شخصیات ایسی ہوتی ہیں ، جن کے جانے پر بہت سے دل رنجیدہ اور بہت سی آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں ؛ کیوں کہ اس دنیا میں انسانوں کی کمی نہیں ؛ لیکن کام کے انسانوں کو کمی ہی نہیں ؛ بلکہ قحط ہے ، اقبال نے اس مفہوم کوخوب ادا کیاہے : ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے # بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ۔اور میر تقی میر کہتا ہے :مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں # تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں۔ اسی لیے ایسے عظیم انسان روئے زمین پر اللہ کی بڑی نعمت ہوتے ہیں ، وہ نادر ونایاب ہوتے ہیں ، ان کے چلے جانے سے ایک بڑا طبقہ متاثر ہوتا ہے ۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی  ، جن کے علم حدیث کا ڈنکا پورے بر صغیر میں بجتا ہے اور جن کی شاگردی پر بڑے بڑے علماء کو ناز ہے ،آپ کے شاگرد اپنے وقت کے آفتاب وماہتاب ہیں، برصغیر کے بڑے بڑے شیخ الحدیث آپ کے شاگرد ہیں، اسی لیے پورے بر صغیر میں شیخ الاسلام کے شاگردوں کو قدر، احترام اور رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،علم حدیث میں کسی کے پختہ اور ماہر ہونے کے لیے شیخ الاسلام کی شاگردی ہی معتبر اور بڑی سند مانی جاتی ہے ۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا حسیب الرحمان صاحب بھی گلشن مدنی کے گل سرسبد تھے، آپ نے اپنے استاذ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ، بڑی خاموشی ، سنجیدگی اور متانت کے ساتھ نصف صدی سے زائد عرصہ تک علم حدیث کی بے لوث خدمت انجام دی ، مگرحضرت مدنی کا یہ روشن علمی چراغ ۲۴ / دسمبر ۲۰۱۸ء =۱۶/ ربیع الثانی ۱۴۴۰ھ اتوار اور پیر کی درمیانی رات میں تقریباً سوا بجے رحمت خداوندی کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے محو خواب ہوگیا۔
آپ بلند پایہ محدث ، ماہر مدرس اور دل نشیں مقرر تھے ، آپ کی وفات بلاشبہ بڑا علمی خسارہ ہے،جس سے علمی دنیا میں افسوس وغم کی لہر دوڑ گئی ؛بالخصوص جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد، یہاں کے اساتذہ ،ذمہ داران، منسوبین ، متعلقین اور بے شمار فیض یافتگان کے قلب و دماغ پریہ خبر بجلی کی طرح گری کہ حضرت شیخ الحدیث اس دار فانی سے دار بقا اور رحمت الہی کی طرف کوچ کرگئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
ولادت
آپ کی ولادت صوبہ بہار کے ضلع کشن گنج ، تھانہ بہادر گنج ، پوسٹ خدا گنج کے موضع ڈابر میں۳۷ یا۱۹۳۶ء میں ہوئی،آپ کا گاوٴں شہر کشن گنج سے شمال کی جانب ۲۲ کلو میٹرکی دوری پر واقع ہے۔ آپ کے والدماجد الحاج شمس الحق بن محمد حسن علی (متوفی۶۳یا ۱۹۶۴ء)نسباً شیخ صدیقی ، دینداراور بڑے زمیندار تھے،حضرت مولانا محمد علی مونگیری  سے مرید تھے ،خیر کے کاموں میں بھر پور حصہ لیتے تھے ،انہوں نے ، بیوہ مسکین اورغریبوں کے لیے (۱۶)بھیگہ زمین وقف کی تھی،ایک مسجد اپنے خرچ سے بنوائی اور اس کے لیے (۲۲)ایکڑ زمین بھی وقف کی ،اس مسجد کا موجودہ نام آپ کے والد صاحب کی طرف نسبت کرتے ہوئے ” مسجد شمس “ ہے ، مولانا منت اللہ صاحب  کثرت سے آپ کے پاس تشریف لاتے تھے ،ان کی ضیافت میں ہمیشہ ایک گائے اور ایک بکرا ذبح ہوتا تھا ،ان کی زندگی میں ہر رمضان کو ایک گائے ذبح ہوتی اور( ۵۰۰) لوگوں کی دعوت کر تے تھے ۔
تعلیمی سفر
آپ نے اولاً دارالعلوم لطیفیہ کٹیہار(صوبہ بہار) میں تین سال ۴۸-۱۹۵۰ء تک ابتدائی تعلیم حاصل کی،بعد ازاں( ۱۱)یا (۱۲) سال کی عمر میں اعلی اور بہتر تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے، ۱۹۵۱ء میں دارالعلوم دیوبند میں آپ کا داخلہ ہوا اورچھ سال بعد ۱۹۵۶ء میں دورہ حدیث سے فراغت ہوئی ،بعد ازاں آپ نے دارالعلوم ہی میں ۱۹۵۷ء میں تکمیل علوم کیا اور ۱۹۵۸ء میں تکمیل افتاء بھی۔
دارالعلوم میں آپ کے اساتذہ
آپ نے دارالعلوم میں اپنے وقت کے آفتاب و ماہتاب ، علوم اسلامیہ کے ماہر ین اور میدان معرفت کے رمز شناس اساتذہ اور متبحر علماء سے کسب فیض کیا ، اس وقت اس گلشن قاسمی و رشیدی کی فضا عجیب روحانی اور عرفانی تھی ، اس گلشن نانوتوی میں مایہ ناز اساتذہ کے علوم کا دریا رواں دواں تھا ، جس سے ایک عالم علمی اور روحانی سیرابی حاصل کررہا تھا ،ایک طرف شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کی مسند حدیث کی جلوہ سامانی تھی ، تو دوسری طرف شیخ الادب والفقہ حضرت مولانا اعزاز علی امروہی کی شفقت ، محبت اور تربیت کے سایہ میں کتاب وسنت کے موتیوں کی تراش خراش ہورہی تھی، جہاں علامہ بلیاوی  کی نکتہ سنجیوں اور دقیقہ آفرینیوں سے طالبان علوم نبوت محظوظ ہورہے تھے ، وہیں حکیم الاسلام کے ذریعہ علوم نانوتوی کے چشمہ سے فیضان علم جاری وساری تھا ، اس عظیم درس گاہ میں مولانا حسیب الرحمان نے سالہا سال تک اسلامی علوم کے ان میناروں اور کتاب سنت کے معتبر شارحین سے بھر پور استفادہ کیا ۔
آپ کے دارالعلوم کے اساتذہ میں سرفہرست شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ،مولانا فخرالدین صاحب ،علامہ ابراہیم بلیاوی ، مولانا فخرالحسن صاحب ،مولانا نعیم صاحب ،مولانا بشیر احمد خان صاحب ، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہی ،مولانا معراج الحق دیوبندی صاحب ،حضرت مولانامحمد حسین ”ملا بہاری“ صاحب ، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمدطیب صاحب ،مولانا انظر شاہ صاحب ،مولانا محمدسالم صاحب ، مولاناسید حسن دیوبندی صاحب، مولانا ظہور صاحب والد مولانا خورشید صاحب اورمفتی مہدی حسن صاحب قابل ذکرہیں۔
تدریسی زندگی
دارالعلوم دیوبند سے تمام علوم متداولہ میں سند فراغ حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے وطن تشریف لے گئے ، آپ کے والد محترم چوں کہ حضرت مولانا منت اللہ رحمانی  کے خوشہ چیں اور ان سے تعلق رکھتے تھے ؛اس لیے ان کی خواہش تھی کہ مولانا حسیب الرحمان  بھی مولانا کی سرپرستی میں اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کریں ، حسن اتفاق کہ آپ ابھی اپنے دولت کدہ پر ہی تھے کہ جامعہ رحمانیہ مونگیر میں تدریس کے حوالے سے حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کا مکتوب گرامی قاضی مجاہد الاسلام قاسمی  کے ذریعہ آپ کے گھر پہنچا ، آپ نے والد صاحب کی خواہش اور حضرت مولانا کے حکم پر جامعہ رحمانیہ میں تدریس شروع فرمائی۔
آپ نے جامعہ رحمانیہ میں ۱۹۵۹ء -۱۹۸۰ء پورے ۲۲ سال تک تدریسی خد مات انجام دیں ،یہاں آپ نے علم الفقہ سے تدریس کا آغاز فرمایا اور تین سال بعد ہی آپ کو مشکاة شریف تفویض کی گئی ،جامعہ رحمانیہ میں بخاری کے علاوہ تمام کتابیں آپ کے زیر درس رہیں ، جامعہ رحمانیہ میں دورہ کی کتابوں میں سب سے پہلے نسائی اورابن ماجہ آپ سے متعلق ہوئیں پھر مسلم ،ابوداؤد ،ترمذی اور موطین بھی آپ کو تفویض کی گئیں۔
جس زمانہ میں آپ رحمانیہ میں ترمذی شریف وغیرہ حدیث کی کتابیں پڑھا رہے تھے ، اسی زمانہ میں دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ پر مشتمل ایک وفدرحمانیہ آیا ، مولانا منت اللہ رحمانی  کی عادت تھی کہ ایسے موقع پر اکابر سے اپنی جامعہ کے اساتذہ کے درس میں بیٹھنے کی خواہش کرتے تھے ، چنانچہ اس وفد میں شریک علامہ نعیم صاحب ،ملاحسن بہاری، مولاناعزیز گل صاحب ناظم تنظیم وترقی اور مفتی احمد سعید صاحب نائب مفتی دارالعلوم دیوبند،مولانا حسیب الرحمان صاحب کے ترمذی کے سبق میں تشریف لائے اور پورے سبق میں بیٹھے ، سبق کے بعد مولانا عزیز گل صاحب نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اب ایسی تعلیم تو دارالعلوم دیوبند میں بھی نہیں ہورہی“ واضح رہے کہ ایک زمانہ میں رحمانیہ کا تعلیمی معیار کافی بلند تھا۔
حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کے انتقال کے بعد آپ جامعہ رحمانیہ سے سبک دوش ہوگئے اوردارالعلوم رحمانیہ ارریہ میں تدریسی سلسلہ کو جاری فرمایا ،یہاں آپ نے ۱۹۸۱ء-۱۹۸۳ ء کل تین سال تک تدریسی خد مات انجام دیں ۔اسی طرح آپ نے مفتاح العلوم /مئومیں ۱۹۸۴ء میں صرف ایک سال تدریسی خد مات انجام دیں ۔
جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد، جو ملک کے مشہور اور نامور اداروں میں سے ایک ہے ، جس نے اپنے بانی کے اخلاص اور اپنے ناظم کی شبانہ روز جدوجہد سے تھوڑے ہی عرصہ میں نہ صرف پورے ملک بلکہ بیرون ملک بھی نمایاں مقام اور معتبر نام حاصل کیا، جب یہاں دروہ حدیث قائم کرنے کا عزم کیا گیا تواس مبارک شعبہ کے قیام اور افتتاح کے لیے شیخ الاسلام کے دو عظیم شاگردوں پر نگاہیں جاکر رک گئیں (۱)مولانا حسیب الرحمان صاحب (۲)اوردوسرے مولانا محمد انصار صاحب مد ظلہ العالی؛ چنانچہ دونوں حضرات ۱۹۸۵ء میں یہاں تشریف لائے اوردورہ حدیث شریف کا افتتاح فرمایا اور اس روز سے جامعہ میں مولانا حسیب الرحمان صاحب کے آخری سال تک بخاری شریف جلد اول کا درس آپ سے ہی متعلق رہا۔
آپ کو علم حدیث سے خصوصی لگاوٴ تھا ، ایک لمبے زمانے تک آپ علم حدیث سے وابستہ رہے، جو بڑی سعادت کی چیز ہے ، آپ نے ۱۹۶۲ء سے لے کر ۲۰۱۵ء تک تقریبا ً ۵۳ سال تک یعنی نصف صدی سے زائد علم حدیث کی خدمت انجام دی،طحاوی شریف اور شمائل ترمذی کے سوا آپ نے حدیث کی متداول تمام کتابیں پڑھائی ہیں ۔تقریباً چار دہائی تک آپ نے بخاری شریف پڑھائی ، امام بخاری ،صحیح بخاری اور اس کی شرحوں کے تعلق سے فرماتے تھے کہ حدیث کی کتابوں میں بخاری سے بہت دل چسپی ہے ،روایات سے استنباط اور اثبات تراجم میں بہت لطف آتا ہے، بخاری کا انداز کلام شاہانہ ہے ،امام بخاری اصحاب ظواہر میں سے ہیں ،شروح بخاری میں عینی سے بہت متأثر ہوں کیوں کہ اس میں تمام فنون کی تحقیق ہے ،یہ محقق کے لیے ہے اور مدرس کے لیے فتح الباری مناسب ہے ، دیگر فنون کے بارے میں فرمایا کہ فقہ میں ہدایہ اور تفسیر میں جلالین سے مناسبت رہی۔
شاید علم حدیث کی اسی خدمت کی وجہ سے ایک مرتبہ آپ کی بڑی صاحبزادی نے نبی پاک ﷺ کو خواب میں دیکھا تو کسی صاحب نے خواب میں ہی ان سے پوچھا کہ کیا حضور ﷺ سے آپ کی جان پہچان ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کے والد کی جان پہچان ہے ۔
تدریس اور تقریر میں آپ کا انداز
اپنی تدریسی زندگی میں وہ وقت کے بڑے پابند تھے ،بڑھاپہ اور کمزوری کے باوجود پابندی سے اسباق پڑھاتے ، ہم نے شاید ہی کبھی یہ سنا ہو کہ شیخ صاحب کا آج درس نہیں ہورہا ہے ، یہ چیز ہم جیسے فضلاء کے لیے لائق تقلید ہے ، آپ کا انداز بیان دل نشین ہوتا ، آپ کا درس مرتب اور مدلل ہوتا اور تسلسل کے ساتھ جاری وساری رہتا ، طلبہ آپ کے انداز درس کی تعریف کرتے ، جامعہ میں جب بھی کوئی بڑا پروگرام ہوتا؛ چاہے وہ ختم بخاری شریف کا اجلاس ہو یا طلبہ کی انجمن النادی العربی کا اختتامی جلسہ یا کوئی بھی مناسبت ہوتی ، شیخ الحدیث  کا بیان ضرور ہوتا اور اساتذہ اور طلبہ یکساں طور پر آپ کے بیان سے محظوظ ہوتے ، ترتیب ، تسلسل ، استدلال اور استنباط آپ کی تقریر کے نمایاں اوصاف تھے، بسا اوقات اساتذہ کو بھی آپ کی استنباطی تقریر پر عش عش کرتے ہوئے دیکھا گیا، حضرت مولاناحمید الدین عاقل حسامی  کی رفاقت میں بھی بہت سی جگہ آپ تقریر کرنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے ، ایک زمانہ میں شہر میں کسی جگہ تسلسل کے ساتھ علماء کے خطابات ہوتے تھے ، جن میں شہر کے صرف تعلیم یافتہ حضرات ہی ہوتے ، مولانا حسیب الرحمان صاحب  بھی پابندی کے ساتھ اس پروگرام میں شرکت فرماتے تھے ، ایک مرتبہ فرمار ہے تھے کہ ان تقریروں کے لیے میں بہت تیاری اور محنت کرتا تھا، وہ بہت اہم اور معلوماتی تقریریں ہیں کاش ان تقریروں کو بھی کوئی حاصل کرکے مرتب کرکے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اپنے تعزیتی بیان میں ارشاد فرماتے ہیں:
”حضرت مولانا حسیب الرحمان صاحب  بہت ہی مخلص، کامیاب اور بافیض استاذ تھے ، انہوں نے جامعہ رحمانیہ مونگیر بہار اور جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآبادمیں طویل عرصہ تک درس نظامی کی منتہی کتابوں کا درس دیا ، وہ ایک مایہ ناز استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے مقرر بھی تھے ، ان کی انکساری اور سادگی سے سلف صالحین کی یاد تازہ ہوجاتی تھی، انہوں نے پچاس سال سے زیادہ عرصہ تک حدیث نبوی کا درس دیا ، وہ ایک ماہر محدث اورمایہ ناز فقیہ تھے، وہ تدریس کے کام کو ایک عبادت کی طرح انجام دیتے تھے ، وہ شہرت سے بچتے ہوئے خاموش خدمت انجام دیتے تھے “۔
تلامذہ
ملک کے طول وعرض میں آپ کے بے شمار تلامذہ ہیں ، جن میں بہت سے بڑے ناموراور اس وقت ملک کے چوٹی کے علماء میں ان کا شمار ہے جیسے مولاناولی رحمانی صاحب ،مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب ،مولانا بدرالحسن صاحب ،مولانا رضوان القاسمی صاحبوغیرہ اور آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے بیشتر علماء اور فضلاء آپ کے شاگردیا شاگردوں کے شاگرد ہیں، یہاں مولانا سید احمد ومیض ندوی استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد ، مولانا عبد القوی صاحب ناظم ادارہ اشرف العلوم وغیرہ بھی آپ کے شاگرد ہیں ۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اپنے تعزیتی بیان میں فرماتے ہیں:
”ہندوستان اور بیرون ہند میں ان کے شاگرد پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں بہت ہی ممتاز اور اصحاب افتاء اور مصنفین شامل ہیں ،اس حقیر کو بھی مولانا سے حدیث وفقہ کی نہایت اہم کتابیں پڑھنے کا شرف حاصل ہے ، یقیناً ان کی وفات دنیائے علم کا بڑا حادثہ ہے “۔
فتاوی نویسی
آپ نے دارالعلوم دیوبند سے تکمیل افتا ء بھی کیا تھا اور حضرت مفتی مہدی حسن صاحب کی زیر نگرانی فتوی نویسی کی مشق کی تھی ؛ چنانچہ آپ کوجہاں علم حدیث میں تبحر حاصل تھا، وہیں فقہ و فتاوی پر بھی آپ کی گہری نظر تھی ، حضرت مولانا منت اللہ رحمانی  ،رجال شناسی جن کا خاصہ تھا انہوں نے آپ کی صلاحیتوں کے پیش نظر جامعہ رحمانیہ میں فتاوی نویسی کی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد کی ؛ چنانچہ۱۵ سال تک آپ نے وہاں یہ خدمت بھی انجام دی ،آپ کے تحریر کردہ فتاوی کی ایک بڑی تعداد ہے اور یہ تمام فتاوی آپ کے گھرپر موجوداور محفوظ ہیں ، خدا کرے کوئی ان کو مرتب کردے اور جدید قالب میں ڈھال دے ، یہ ایک بڑا کام ہوگا ، حضرت شیخ کے صاحبزادگان کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہیے ۔
جامعہ میں آخری ایام سے لے کر علالت و وفات تک
آخری سالوں میں آپ کے لیے سفر کافی دشوار ہوگیا تھا ، آپ کے ساتھ بہار سے آپ کے صاحبزادے آتے تھے اور پھر جب مکہ مکرمہ میں حج کے دوران آپ کی اہلیہ محترمہ کا انتقال ہوگیا ، تو اس کے بعد آپ کی طبیعت گھبرانے لگی اور تنہائی میں وحشت سی ہونے لگی ، بسا اوقات نماز عشاء کے بعد حضرت شیخ مجھے طلب فرماتے اور دیر تک باتیں کرتے رہتے،اس کیفیت کے ساتھ بھی کئی سال تک جامعہ تشریف لاتے رہے اور مسند حدیث کو رونق بخشتے رہے ، بالآخر ۲۰۱۵ء کے تعلیمی سال کے اختتام کے بعد جب گھر تشریف لے گئے تو نئے تعلیمی سال میں طبیعت کچھ ناساز ہوگئی اور آنے کے سلسلہ میں پس و پیش ہونے لگے ، جامعہ کی طرف سے انہیں کسی قسم کی پابندی نہیں تھی ؛ بلکہ جامعہ اور ناظم جامعہ کی یہ خواہش تھی کہ حضرت شیخ بس تشریف لے آئیں ، چاہے پڑھائیں یا نہ پڑھائیں ، جامعہ اپنے عظیم محسن کے انتظارمیں ہی رہی ؛ لیکن ادھر حضرت شیخ کی طبیعت مزید ناساز ہوتی رہی اور کمزوری بڑھتی رہی ۔
آپ لمبے عرصہ سے شوگر کے مریض تھے ، اخیر میں اس کا حملہ گردوں پر ہوا ، علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کیا گیا ؛ لیکن بقولے : مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، بالآخر ۲۴ / دسمبر ۲۰۱۸ء =۱۶/ ربیع الثانی ۱۴۴۰ھ اتوار اور پیر کی رات میں تقریباً سوا بجے علم حدیث کا یہ خادم اپنے رب حقیقی سے جاملا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔اور ظہر کے بعد آپ کے آبائی گاوٴں ڈابر میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور علوم اسلامیہ کے اس خزینہ کو سپرد خاک کردیا گیا ۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد انصار صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے تعزیتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا حسیب الرحمان کا انتقال پیر کے دن ہونا قابل رشک ہے ، یہ اللہ کا ان پربڑا انعام ہے ، جو موت سے ہی شروع ہوگیا ، اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آگے بھی ان پر اللہ کے انعامات کی بارش ہوتی رہے گی۔ شیخ الحدیث صاحب نے فرمایا کہ ویسے تو دنوں میں افضل جمعہ کا دن ہے ؛ لیکن موت کے اعتبار سے پیر کا دن افضل ہے ، اسی دن نبی پاک ﷺ کی بھی رحلت ہوئی ہے اور امام بخاری نے بھی بخاری شریف میں باب قائم کیا ہے کہ یوم الاثنین(یعنی پیر کا دن) موت کے لیے تمام دنوں میں افضل ہے ۔
پسماندگان
آپ کے پس ماندگان میں تین صاحبزادے ہیں اور ایک صاحبزادے کی وفات ہوچکی ہے:(۱) جناب مظفرحسن صاحب (IAS INCOME TAX OFFICER) (۲) مناظر سہیل (مرحوم) (۳)جناب محمد مظاہر الباری(سابق مکھیہ)(۴) جناب محمد محاسن احمد (لیکچرار)اور تین صاحبزادیاں:(۱)محترمہ نفیس فاطمہ (۲)محترمہ فرحت فاطمہ (۳)اورمحترمہ رفعت فاطمہ ہیں، آپ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضور پاک ﷺ کو اپنی صاحبزادیوں میں سب سے زیادہ سیدہ فاطمہ سے محبت تھی ؛ اسی لیے میں نے ” فاطمہ “ کواپنی تمام بیٹیوں کے نام کا جز رکھا ہے ۔
حضرت شیخ کے عام معمولات اوراد وظائف اور دعائیں
صبح وشام کی تلاوت:سورہ فاتحہ ، سورہ بقرہ کا پہلا رکوع ، سورہ حشر کا آخری رکوع ، سورہ یس مع سورہ دہر کا آخری رکوع اور تین مرتبہ یہ دعا : بسم اللہ الذی لایضر مع اسمہ شیء فی الارض ولا فی السماء وہو السمیع العلیم ۔
مغرب و عشا ء کے درمیان: تنزیل السجدة ، سورہ تبارک الذی ، سورہ دخان ، سور رحمن ، سورہ واقعہ ، سورہ حدید ، سورہ قیامہ ، سورہ جمعہ ، سورہ دہر۔
جمعہ کے روزسورہ کہف اور صلاة التسبیح۔
صبح و شام کی تسبیحات:سبحان اللہ ، الحمد للہ ، اللہ اکبر ، لاالہ الا اللہ ، استغفار اور درود شریف سو سو مرتبہ۔
صبح و شام کی دعائیں:اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم، اعوذ بکلمات اللہ التامة من شر ماخلق (تین مرتبہ )اللہم اجرنی من النار و ادخلنی فی جنة الفردوس بفضلک ومنک ورحمتک (تین بار) حسبنا اللہ ونعم الوکیل ونعم المولی ونعم النصیر (۲۵مرتبہ مغرب اور فجر کے بعد) اللہم اصبحنا واصبح الملک کلہ، للہ والحمد للہ، لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر(صبح تین بار) اللہم انی اسئلک خیر ما فی ہذا الیوم وخیر ما بعدہ (صبح تین بار)
حضرت شیخ الحدیث- کچھ یادیں کچھ باتیں
۲۰۱۰ء میں دارالعلوم دیوبند کے شعبہ افتاء سے تکمیل کے بعد حضرت مفتی حبیب الرحمان صاحب دامت برکاتہم العالیہ(صدر مفتی دارالعلوم دیوبند) کے حکم سے احقر تدریس کے لیے دارالعلوم حیدرآباد حاضر ہوا ، یہ میرے لیے بالکل نئی دنیا تھی ، طالب علمی کی زند گی سے نکل کر تدریس کے ماحول میں آناہر ایک کے لیے آسان نہیں اور میں بچپن سے ہی والد محترم  کے ساتھ رہتا تھا ، جن کی وجہ سے ڈر کی حد تک علماء کا احترام میرے دل میں بیٹھا ہوا تھا ، یہاں حضرت شیخ الحدیث مولانا حسیب الرحمان صاحب ، شیخ ثانی مولانا انصار صاحب ، مولانا نعمان الدین ندوی صاحب اور دیگر کئی اساتذہ میرے اساتذہ اورتقریباً والد محترم کی عمرکے تھے ، میں طالب علمانہ عادت کے اعتبار سے ان سے بے تکلف ہونے کی ہمت نہیں کرتا تھا اور ان کے سامنے زیادہ تر خاموش رہتا تھا ، ایک مرتبہ شیخ صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ مولانا آپ بہت خاموش رہتے ہیں ، کیا کوئی پریشانی ہے ؟ پھر خود ہی فرمانے لگے کہ آج کل خاموش رہنا اور کم بولنا ہی مناسب ہے ۔
شیخ الحدیث  اکابر و اسلاف کا نمونہ اوران کی جیتی جاگتی تصویر تھے ، پرانے بزرگان دین کی طرح سادگی پسند تھے ،آپ دو تہی ٹوپی ، سوتی کپڑے کا کرتہ اورہمیشہ تہبندمیں رہتے تھے ، اگر کبھی کسی پروگرام یا سفر میں جانا ہوتا تبھی پائجامہ پہنتے تھے، آپ کی مجلس میں بیٹھو تو ایسا لگتا کہ ہم اکابر واسلاف کے زمانہ؛ بالخصوص دارالعلوم دیوبند کے اکابر کے دور میں ہیں ، بات بات میں اکابر دیوبند کے واقعات ، ملفوظات و ارشادات موقع ومحل کی مناسبت سے سناتے ،اکابر دیوبند اور حضرت تھانوی  کے ملفوظات و ارشادات کا ایک بڑا ذخیرہ آپ کے سینہ میں محفوظ تھا،خود آپ کے اپنے بہت سے ملفوظات آج تک یہاں کے اساتذہ اور طلبہ کے زبان زد ہیں ، جنہیں مجلسوں میں دہراکرتازگی اور نصیحت حاصل کی جاتی ہے، نئے اساتذہ کوحضرت تھانوی کی کتابوں اور ملفوظات کے مطالعہ کی تاکید فرماتے۔
اساتذہ کو مفید مشوروں سے نوازتے ، اپنے طویل تجربات کی روشنی میں قیمتی نصیحت فرماتے ، جلوت سے زیادہ وہ خلوت پسند تھے ، جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد جہاں انھوں نے اپنی زندگی کے قیمتی(۳۳)سال گزارے ؛ لیکن اس طویل عرصہ میں سادگی کا دامن کبھی چھوٹنے نہیں دیا ،انہوں نے اپنی ضروریات بہت محدود رکھی تھیں ، وہ زندگی کو پھیلانے اور سامان تعیش کے بڑھانے کے روادار نہیں تھے؛ اسی لیے جامعہ میں ان کا مکمل سامان صرف ایک بیگ تھا # اس کی امیدیں قلیل ،اس کے مقاصد جلیل ۔
حضرت شیخ الحدیث اپنے معمولات کے بڑے پابند تھے ، جامعہ میں بڑی محتاط زندگی گزارتے تھے ،حالانکہ طویل عرصہ سے شوگر کے مریض تھے ؛ لیکن چہرے پر وہی تازگی اور صحت بھی اچھی معلوم ہوتی تھی ، بالیقین یہ علم حدیث کی خدمت کی برکت تھی۔آپ عصر کے بعد جامعہ کے دفتر کے سامنے والے چمن میں کرسی پر تشریف رکھتے تھے ، عشاء کے بعد تھوڑی دیر کے لیے دفتر کے پاس انتظار گاہ کی اپنے کمرہ سے متصل کسی کرسی پر بیٹھتے ، آپ جب تک تھے جامعہ میں رونق تھی ، آپ کے جانے کے بعد جامعہ اور بالخصوص یہ دونوں حصے بالکل سونے پڑگئے ، جہاں حضرت مولانا حمید الدین عاقل حسامی  کی وفات حسرت آیات اس جامعہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے ، وہیں حضرت شیخ الحدیث کی وفات بھی اس کے لیے خسارہ عظیم ہے ۔
دو طالب علم ہمیشہ آپ کی خدمت میں رہتے تھے ،کبھی ان طلبہ کو آپ کی ڈانٹ بھی سننی پڑتی تھی ؛ لیکن حضرت شیخ بعد میں ان طلبہ سے فرماتے کہ میری بات کا برا مت ماننا ، کبھی غصہ میں کہہ دیتا ہوں، آپ چائے اور پان کے عادی تھے ، دن بھر میں تقریباً آٹھ یا نو چائے پیتے تھے ، دن میں کئی بار چائے اپنے ہی ہاتھ سے بناتے تھے ، ہر وقت پان چباتے رہتے ، ایک دن میں تقریباً ۳۵ پان چبا جاتے ، اخیر میں آپ کی خوراک بہت کم ہوگئی تھی ، ایک سے ڈیڑھ چپاتی ہی آپ تناول فرماتے ، تنخواہ کی بڑی مقدار دوا پر خرچ ہوتی اور باقی پان اور چائے وغیرہ پر ، آپ تہجد ، نماز باجماعت اور اوراد وظائف کے بڑے پابند تھے، اخیر عمر میں جب قوی کمزور ہوگئے تو ایک طالب علم کو اپنا امام مقر فرمالیا تھا ، جو پانچوں وقت کی نماز آپ کو دفتر میں پڑھاتا تھا ۔جب گھر جانے کا موقع آتا تو حالانکہ آپ کا سامان بہت تھوڑا ہوتا لیکن آپ کئی روز پہلے سے سامان کی تیاری میں رہتے ۔
آپ پابندی سے مطالعہ کرتے تھے ، بلکہ جامعہ رحمانیہ کی تدریس کے زمانہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ رات کے دو ، تین بجے تک مطالعہ کرتا تھا اور مغرب کے بعد کا وقت تو اخیر عمر تک مطالعہ کے لیے مخصوص تھا ،آپ فرماتے تھے کہ جو مدرس بغیر مطالعہ کے درس میں جاتا ہے ، اس کی مثال چور کی ہے جو ڈرتے ڈرتے دوسرے کے گھر میں گھستا ہے اور جو مطالعہ کرکے سبق میں جاتا ہے اس کی مثال ایسی ہے ، جیساکہ کو ئی اپنے گھر میں داخل ہورہا ہو ،وہ بالکل بے خوف ہوتا ہے ۔
ہم نوجوان اساتذہ کی پوری ایک جماعت تھی ، ایک مرتبہ ہم سب نے حضرت شیخ سے عرض کیا کہ حضرت ہماری چائے کی دعوت کردیں، اس بار تو حضرت نے ہم سب کی عصر کے بعد دعوت کردی ،لیکن ایک بار پھر ہم سب نے کسی موقع سے یہی عرض کیا تو حضرت نے چائے کے پیسے دے دیے ۔ہم لوگوں کو دیکھ کر حضرت فرماتے تھے کہ مولانا ہم نے تو (مدرسہ کی زندگی)کاٹ لی ، اب آپ کی باری ہے ،کبھی فرماتے :میں نے مدرسہ کا جتنا کھانا کھایا ہے ، شاید کوئی کھاسکے ، حضرت شیخ مدرسہ میں ہمیشہ تنہا رہے ، کبھی اہلیہ کے ساتھ نہیں رہے۔
اخیر کے سالوں میں جب کمزوری زیادہ ہوگئی تو حضرت نے انتظامیہ سے مزید اسباق کم کرنے کے لیے فرمایا ، اس وقت بخاری اور ترمذی جلد اول زیر درس تھیں ؛ چنانچہ حضرت شیخ کی ترمذی اس نالائق ،ناکارہ زمان ، بے علم اور بے بضاعت کے سپرد کی گئی ، حضرت نے بلاکر
مبارک باد دی اور نصیحت کی کہ محنت سے پڑھانا ، میں سمجھتا ہوں کہ والدین اور اساتذہ کے بعد حضرت کی نصیحت کی برکت سے ہی اب تک کسی طرح دورہ حدیث کی یہ اہم کتاب پڑھانے کی سعادت حاصل ہورہی ہے ۔اللہ تبارک وتعالی حضرت شیخ کو اعلی علیین میں مقام عطا فرمائے ۔

*استاذ حدیث ورئیس تحریرعربی مجلہ” الصحوة الاسلامیہ“
جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد۔