ہزاروں ظلم ہوں مظلوم پر تو چپ رہے دنیا

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے ریاستہائے متحدہ امریکہ کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے، فلسطین کے حوالے سے امریکہ کا جو ڈھکا چھپا موقف تھا وہ اب کھل کر سامنے آرہا ہے۔ ٹرمپ حکومت کی اب تک کی حرکت سے یہ واضح ہوتا نظر آرہا ہے کہ اب فلسطین نامی ریاست صرف تاریخ کے حصہ کے طور پر باقی رہ جائے گی؛ نہیں تو خارج میں کوئی وجود باقی نہیں رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس شخص سے پہلے تک امریکی رہنما اور حکام فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے اپنے منافقانہ چال کو بروئے کار لاتے ہوئے "دو علاحدہ ریاست” کی تھیوری پیش کرتے رہے ہیں؛ مگر ٹرمپ اب عملی طور پر اسرائیل کے حوالے سے جو کچھ کررہا ہے، وہ دو ریاستی فارمولے کے سراسر مخالف ہے۔ ٹرمپ حکومت کے ہر عمل سے یہ عیاں ہے کہ وہ یک طرفہ اور جانبدارانہ طور پر اسرائیل کی حمایت پوری طاقت وقوت کے ساتھ کر رہا ہے اور اسرائیل ہی نہیں؛ بل کہ "عظیم تر اسرائیل” کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے کی فکر میں لگا ہے۔

اس نظریہ کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے کہ ٹرمپ نے 16/فروری 2017 کو غاصب صہیونی ریاست کے وزیر اعظم، بنجامن نتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازع کے حل اورمشرق وسطی میں امن کے لیے جہاں دو ریاستی حل کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں”یک ریاستی حل” بھی زیر غور ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان سے جہاں امریکہ کی سالوں پرانی پالیسی سے انحراف واضح طور پر نظر آتا ہے، وہیں دوسری طرف اس سے ٹرمپ کی صہیونیت زدہ ذہن کی عکاسی بھی ہورہی ہے، جس کا نتیجہ اب کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔

ابھی چند دنوں پہلے یعنی 18/اکتوبر 2018 کو ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطین کے وجود کو مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ بیت المقدس میں قائم امریکی قونصل خانہ برائے فلسطین کو بند کرکے، اسے امریکی سفارت برائے اسرائیل کے ساتھ ضم کردیا جائے گا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے سکریٹری آف اسٹیٹ، مسٹر مائک پومپیو نے، قونصل خانہ کو سفارت خانہ میں ضم کیے جانے کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم امریکی سفارت خانہ برائے اسرائیل میں، ایک نئی یونٹ برائے فلسطینی امورقائم کرکے، مغربی کنارے، غزہ اور بیت المقدس کے فلسطینی شہریوں کے حوالے سے مستقل طور پر رہنمائی اور خبر گیری کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔ قونصل خانے کی بندی کے اعلان پر ٹرمپ حکومت کا یہ دعوی ہے کہ اس سے اس کے حکمت عملی میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی؛ بل کہ خدمات کی انجام دہی تشفی بخش طریقے سے ادا کی جائے گی۔ یہ امریکی دعوی کم از کم ہم جیسے لوگوں کے لیے تو مضحکہ خیز ہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی اس حرکت سے یہ بات کھل کر سامنے آرہی ہے کہ امریکہ دن بہ دن فلسطین کی حیثیت کو بتدریج کم کرنے کی پیہم کوشش میں لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابق اسرائیلی سفارتی نمائندہ برائے ریاستہائے متحدہ امریکہ مائیکل اورین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئےاس امریکی حرکت کو اسرائیل اور امریکہ کے لیے ایک "عظیم دن” سے تعبیر کیا ہے۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اقتدار سنبھالتے ہی ڈیوڈ فریڈمین کو اپنا سفیر بنا کر غاصب صہیونی ریاست اسرائیل میں بھیجا ہے۔ یہ شخص پہلے سے صہیونی مزاج ہے اور غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے حوالے سے جانب دار ہے۔ امریکی سفیر بننے سے پہلے، صہیونیت کا یہ علم بردار شخص ایک ایسے گروپ کی قیادت کرچکا ہے جو فلسطین کے "مغربی کنارے” میں، غیر قانونی طور پر آباد صہیونی نو آباد کے لیے ملینوں ڈالرس چندہ کرکے، ان کو امداد پہونچانے میں پیش پیش رہا ہے۔ ٹرمپ کا ایسے شخص کو سفیر بناکر، غاصب ریاست میں بھیجنے کا مقصد اسرائیل کو نظریاتی قوت فراہم کرنے کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے۔

امریکی قونصل خانہ برائے فلسطین کو بند کرنے سے قبل، 10/ستمبر 2018 کو مسٹر ٹرمپ نے واشنگٹن میں قائم فلسطینی مشن/فلسطین لبریشن آئرگنائزیشن کی سفارتی آفس کو بند کرکے، مشن کے ہیڈ، عزت مآب حسان زولمت اور ان کی بیوی بچے کا ویزا منسوخ کرکے، ان کو یو ایس اے سے نکال باہر کیا۔ مشن کو بند کرنے کی وضاحت پیش کرتے ہوئے یو ایس نیشنل سیکوریٹی مشیر مسٹر جون بولٹن نے کہا تھا کہ "فلسطینی انتظامیہ اسرائیل کے ساتھ بلاواسطہ معنی خیز گفت وشنید اور مذاکرات سے انکار کررہی ہے؛ اس لیے ہم فلسطینی مشن کو بند کررہے ہیں۔” واشنگٹن میں واقع فلسطینی مشن تقریبا 24/سالوں سے کام کر رہا تھا۔ اب ٹرمپ انتظامیہ کا اس کو بند کرنا اور اس طرح کا غیر معقول سبب پیش کرنا، کسی بھی عقلمند انسان کے حلق سے نیچے نہیں اتر رہا ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرلے، اسرائیل عالمی عدالت کے فرمان کی اپنے قدم سے روندتے ہوئے فلسطینیوں کی زمین قبضہ کرکے نئی کالونیاں تعمیر کرتا رہے اور اسرائیلی افواج روز وشب فلسطینیوں کو اپنی گولی سے بھونتا رہے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ فلسطینی انتظامیہ، امریکہ کی اطاعت وفرماں برداری کرتے ہوئے، اس کے اشارے پر اسرائیل سے معنی خیز مذاکرات کرے!

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کا معنی خیز گفت وشنید اور مذاکرات کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی انتظامیہ بغیر کسی شروط وقیود کے اسرائیل وامریکہ کے مطالبات کو قبول کرلے اور فلسطینی عوام بغیر کسی حدود اور بوڈرس کے ایک ایسے فلسطین کو قبول کرلے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہ ہویا دوسرے لفظوں میں وہ آنکھ بند کرکے جو کچھ بچا کھچا فلسطین ہے، اسے غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے حوالے کردے؛ تاکہ ان کا "عظیم تر اسرائیل” (Greater Israel) کا خواب بہ سہولت پورا ہوجائے۔ فلسطینی انتظامیہ ٹرمپ حکومت کی اس طرح کی من مانی کے سامنے سرنگوں ہونے کو تیار نہیں؛لہذا ٹرمپ حکومت مختلف طریقے سے فلسطینیوں کو گھیرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

گزشتہ سال 6/دسمبر 2017 کو مسٹر ٹرمپ نے اپنی تخریبی ذہن کا ثبوت دیتے ہوئے بیت المقدس (Jerusalem) کو غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کا دار الخلافت تسلیم کرلیا۔ پھر 14/مئی 2018 کو اس نے اپنے سفارت خانہ کو تیل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کردیا۔ مسٹر ٹرمپ نے سفارت خانے کی منتقلی کو "اسرائیل کے لیے ایک عظیم دن” سے تعبیر کیا۔ جب کہ تاریخ کا یہ وہ سیاہ دن ہے کہ جس میں 60/معصوم فلسطینیوں کو، سفارت خانے کی منتقلی کی وجہ سے مظاہرے کے دوران، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پرا تھا۔ یہ سب کچھ ٹرمپ نے اپنے حکم سے کروایا؛ جب کہ اقوامِ عالم فلسطینیوں کے اِس دعوی پر متفق ہیں کہ بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصّہ ہے۔ اسے صہیونی ریاست نے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اسے فلسطین کو واپس کیا جانا چاہیے۔

"اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجینسی” (UNRWA) جو اردن، لبنان، شام وغیرہ میں لاکھوں کی تعداد میں غربت وافلاس کی زندگی گزار رہےفلسطینی مہاجرین اور پناہ گزینوں کی ترقیاتی اور انسانی بنیادوں پر امداد کرتی ہے، ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے اس کو دی جانی والی امداد میں کٹوتی کیا۔ پھر اگست 2018 میں، اُس نے حکم صادر کیا کہ اب اُس ایجینسی کو دی جانی والی مالی امداد مکمل طور پر ختم کردی جائے۔ اس کا اثر ان فلسطینیوں پر واضح طور پردکھائی دے رہا ہے، جن کو زبردستی طور پر غاصب صہیونی ریاست اسرائیل نے ہجرت پر مجبور کیا۔ خدا بھلا کرے سعودی، قطر، امارات وغیرہ کے حکمرانوں کا کہ انھوں نے بروقت ہنگامی طور پر ایجینسی کو اضافی امداد فراہم کرکے کسی حد تک حالات کو سدھارنے کی کوشش کی۔بہرحال، ٹرمپ کی اس حرکت کو اقوام متحدہ اور متعدد یورپی ممالک نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے؛ لیکن ٹرمپ حکومت نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

ان سارے مظالم کو روا رکھنے کے باوجود، ریاستہائے متحدہ امریکہ کا یہ دعوی ہے کہ فلسطین کے حوالے سے اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے؛ بل کہ وہ ایسے دیر پا، جامع اور پر امن حل کے حصول کی کوشش میں ہے جس سے فلسطینیوں اور اسرائیلوں کا مستقبل روشن ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ فلسطینیوں کو اس بات کی سزا دے رہی کہ وہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے، جس حد تک ممکن ہے، مستقل اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ مقام تاسف تو یہ ہے کہ صہیونی ذہن ٹرمپ، اسرائیل کے حوالے سے کھلے عام جانبداری کامظاہرہ کر رہا ہے؛ مگر دنیا کے سیکڑوں ممالک کے حکام وقائدین ٹرمپ حکومت کے ان مظالم کو روکنے اور مظلوم فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلوانے سےعاجز وقاصر نظر آرہے ہیں!
ہزاروں ظلم ہوں مظلوم پر تو چپ رہے دنیا
اگر مظلوم کچھ بولے تو دہشت گرد کہتی ہے
٭٭٭
٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا۔

فلسطینیوں کی آہ وفریاد کوئی سننے والا نہیں!

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

اس سال "قَومی یومُ الارض” کے موقع سے 30/ مارچ سےفلسطینیوں نے "تحریک حق واپسی” کے عنوان سے، غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے خلاف جو احتجاجی مظاہرے شروع کیے ہیں وہ اب تک جاری ہیں۔ اس مظاہرے میں، اسرائیلی فوج کی دہشت گردانہ کاروائی سے ہر جمعہ کچھ نہ کچھ فلسطینی جام شہادت نوش کرتے ہیں؛ جب کہ درجنوں زخمی ہوتے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے فلسطین کا ایک بڑا حصہ: "غزہ کی پٹی” کے شہریوں کو سن 2007ء سے معمول کی زندگی گزارنا دشوار ہورہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں ایک طرف غاصب صہیونی ریاست نے "غزہ کی پٹی” کا آہنی فصیل سے محاصرہ کر رکھا ہے، وہیں دوسری طرف برادر ملک: مصر نے غزہ بین الاقوامی گزرگاہ رفح کی ناکہ بندی کرکے غزہ کے شہریوں کی آمد ورفت پر پابندی لگا رکھا ہے۔ فلسطینی شہری اس احتجاجی مظاہرے کو طول دے کر، جہاں اپنی مقبوضہ اراضی کے حصول اور اپنے وطن (وہ جگہ جہاں وہ پہلے آباد تھے اور صہیونی ریاست نے ان کو جبرا وہاں سے بھگا کر، ان کی جگہوں کو قبضہ کرلیا) میں واپسی کی بھرپور کوشش میں لگےہیں، وہیں دوسری طرف اقوام عالم کے حکمرانوں کی توجہ کے طلب گار ہیں کہ وہ کھل کر، فلسطینیوں کی ابتر حالات پر گفتگو کریں اور فلسطینیوں کو ان کا حق دلائیں۔

جب سے "عظیم تحریک حق واپسی” شروع ہوئی ہے، صہیونی غاصب ریاست کو اس سے بہت تکلیف ہے کہ کہیں یہ غزہ کے شہری اقوام عالم کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کام یاب نہ ہوجائے اور اس کے نتیجے میں صہیونی ریاستی ظلم وجبر اور دہشت گردی کے خلاف عالمی دباؤ نہ شروع ہوجائے؛ چناں چہ اس مظاہرے کو روکنے کے لیے ان پر امن مظاہرین پر،دن بہ دن حملے میں تیزی لارہی ہے۔ اس پر امن احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے والے مظاہرین کے ساتھ ساتھ ابتدائی طبی امداد مہیا کرنے والے اطباء اور صحافی حضرات پر بھی حملے کرنے میں یہ صہیونی افواج دریغ نہیں کرتی ہے۔ "اقوام متحدہ آفس برائے رابطۂ امور انسانی” (UNO-CHA) کی رپورٹ کے مطابق اب تک تقریبا 217 افراد شہید ہوچکے ہیں؛ جب کہ 22897 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ابھی گزشتہ جمعہ یعنی 26/ اکتوبر 2018 کو پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے مظاہرین پر فائرنگ کرکے، صہیونی افواج نے پانچ افراد کو غزہ میں اور ایک شخص کو مغربی کنارے میں قتل کیا اور 100 سے زیادہ افراد کو زخمی کیا۔ اس کے جواب میں جب "حماس” اور "اسلامی جہاد” والوں کی طرف سے مقبوضہ اسرائیلی علاقے میں چند راکٹ داغے گئے؛ تو اس کے جواب میں صہیونی بزدل افواج نے لڑاکا طیارے کی مدد سے بمباری شروع کردی۔

حقیقت یہ ہے کہ صہیونی ریاست یہ چاہتی ہے کسی طرح بھی غزہ کے شہری "حماس” سے متنفر ہوکر، احتجاجی مظاہرے سے خود کو الگ کرلیں؛ اسی لیے مختلف طریقے سے غزہ کی پٹی کو محاصرے میں لے رکھا ہے؛مگر صہیونی ریاست کی یہ چال کام یاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ پھر صہیونی ریاست نے "حماس” اور "اسلامی جہاد” پر اسرائیلی علاقے میں راکٹ داغنے کا الزام لگاکر، پچھلے ہفتے ایک خطرناک جنگ کے ارادے سےمیدان میں کودنے کو تیار تھی، جو کسی طرح ٹل گئی۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ صہیونی ریاست نے "حماس” اور "اسلامی جہاد” کی طرف سے راکٹ داغے جانے سے قبل 20/ اکتوبر سے ہی غزہ کی پٹی سے متصل اپنے ٹینک اور فوجیوں کو جمع کرنا شروع کردیا تھا۔

پھر سنیچر 27/اکتوبر کی صبح کو اسرائیلی جنگی طیارے اور ہیلی کوپٹر نے دو گھنٹے سے زیادہ تک، غزہ کی پٹی میں متعدد مقامات پر بمباری کی اور کئی عمارتوں کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ ان عمارتوں میں "حماس” کی جنرل سیکوریٹی کا چار منزلہ ہیڈکواٹر اور شمالی غزہ میں واقع انڈونیشین ہسپتال بھی ہے۔ طاقت کے نشے میں چور صہیونی ریاست یہ سب کر رہی ہے،مگر حقوق انسانی کے چمپینوں کی زبان نہیں کھل رہی ہے کہ وہ غاصب اسرائیلی ریاست کے حکام سے پوچھ سکیں کہ اس کے پاس اس ظلم وبربریت، ضرب وحرب اور قتل ودہشت گردی کا کیا جواز ہے؟

ابھی 12/اکتوبر کی بات ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نوآباد صہیونی نے ایک "عائشہ محمد” نامی خاتون کو پتھر سے کچل کر موت کی کے آغوش میں پہونچادیا۔ وہ خاتون اپنے خاوند کے ساتھ اپنی کار ڈرائیو کر رہی تھی۔ دہشت گرد نو آباد صہیونی نے اس کار میں ایک مسلم خاتون کو دیکھتے ہی ایک وزنی پتھر اٹھا اور اس کی کار پر حملہ کردیا۔ پھر اس نے کار کی کھڑکی کو توڑا اور اس خاتون اور اس کے شوہر پر پتھروں سے حملے شروع کردیا۔ زخموں کی تاب نہ لاکر، عائشہ اسی جگہ اپنے مالک حقیقی سے جاملی؛ جب کہ عائشہ کا شوہر بری طرح زخمی ہے۔

عائشہ کے قتل ناحق سے صرف دو دن پہلے کی بات ہے کہ کچھ صہیونی نو آبادوں نے جنوبی نابلس میں واقع "عوریف” نامی بستی کے ہائی اسکول میں زبردستی داخل ہوکر، کلاس میں تعلیم حاصل کررہے طلبہ پر پتھر برسانا شروع کردیا۔ اس حملے میں درجنوں طلبہ زخمی ہوئے اور اسکول کے متعدد سامانوں کو نقصان پہنچا۔ اس حادثے کے فورا چند منٹ کے بعد، صہیونی افواج اسکول کے احاطے میں داخل ہوکر، ان صہیونیوں کو بہ حفاظت باہر لے گئی اور طلبہ پر آنسو گیس اور گن سےفائرنگ شروع کردی۔

غاصب صہیونی ریاست اسرائیل ظلم وجبر کے سارے حدود پار کرچکی ہے۔ آج کے مہذب دور میں بھی فلسطینیوں پر اس طرح ظلم کیا جاتا ہے کہ صہیونی فوج اور پولس مسلمانوں کی آبادی والے مقامات جیسے: جبل المکبر، الخلیل، خان الاحمر وغیرہ میں پہنچتی ہے اور اہل خانہ کو گھر سے باہر نکال کر، بلڈوزر (Bulldozer) سے مکان کو مسمار کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 17/اکتوبر کو عالمی عدالت نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مشرقی بیت المقدس کے نواحی قصبے خان الاحمر کو مسمار کرنے اور وہاں فلسطینی شہریوں کو ہجرت پر مجبور کرنے سے باز آئے۔ اگر اسرائیل عالمی عدالت کی اس تنبیہ کے باوجود بھی اس طرح کی حرکت کرتاہے؛ تو یہ جنگی جرم (War Crime) سمجھا جائے گا۔
یہ بات بغرض تسجیل لکھی جارہی ہے کہ 1967 کے بعد سے، فلسطینی علاقے: "مغربی کنارے” اور "مشرقی بیت المقدس” کو صہیونی ریاست نے قبضہ کرکے،فلسطینیوں کے مکانوں کو مسمار کرکے، ان میں اب تک تقریبا 230 غیر قانونی نوآبادیات (Settlements) تعمیر کرچکی ہے جس میں چھ لاکھ کے قریب نو آباد صہیونی رہتے ہیں۔

اس صہیونی غاصب ریاست اسرائیل میں ناجائز طریقے سے سکونت پذیر قاتلوں اور دہشت گردوں کے درمیان اقوام عالم نے بالعموم اورمسلم ممالک نے بالخصوص فلسطینیوں کو سسکتا، روتا اور مظلوم ومقہور چھوڑ دیا ہے۔ شب وروز فلسطینیوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ ان کے سامنے دنیوی اسباب بالکل معدوم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ فلسطینیوں کی آہ وفریاد کوئی سننے والا نہیں۔یہ ظلم وستم کی داستان جوضبط تحریر میں لائی جارہی ہے کوئی الفاظ کی صنعت گری نہیں ہے؛ بل کہ یہ ایک حقیقت ہے جس کے بے شمار ثبوت ہیں۔ ان ثبوت کا اعتراف خود غاصب صہیونی ریاست کے اہم ذمے داروں کے منھ سے گاہے بہ گاہے ہوتا رہا ہے۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ ابھی چند دنوں قبل غاصب صہیونی ریاست کا قاتل وسفاک سابق وزیر دفاع ووزیر اعظم: ایہود باراک نے 19/اکتوبر 2018 کو بڑے فخر سے، اپنے کارنامے کے طور پر،عبرانی زبان میں نشر ہونے والے ایک ٹی وی چینل کوآن رکارڈ انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے صرف تین منٹ میں، تین سو فلسطینیوں کو قتل کردیا جو حماس کے کارکن تھے۔ ایک سابق وزیر اعظم اور وزیر دفاع ٹی وی چینل پر اس طرح کھلے عام نہتے شہریوں کے قتل عام کی کہانی انٹرویو میں سنا رہا ہے، مگر کوئی اس کا گریبان پکڑ کر، قانون کے حوالے کرنے والا نہیں ہے۔ کیاتاریخ نے اپنے صفحات پر اس سے بھی بڑھ ظلم وزیادتی کی کوئی تاریخ رقم کی ہے؟!

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ