کوے سے سکیھیں گناہ چھپانے کا ہنر

محمد یاسین قاسمی جہازی

9871552408
ہمارے سماج میں گناہوں کے تعلق سے مختلف طبقے اور نظریے کے لوگ پائے جاتے ہیں۔
(۱) ایک طبقہ تو وہ ہے جو گناہ کو گناہ سمجھ کر ظاہری و باطنی ، ہر طرح سے خود بھی بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اہل اللہ اور ولی صفت طبقہ ہے ، جو ہمارے معاشرے میں اتنی ہی تعداد میں رہ گئے ہیں، جتنی کہ آٹے میں نمک کی مقدار ہوتی ہے۔
(۲) دوسرے وہ لوگ ہیں، جو خود تو بچتے ہیں ، لیکن دوسروں کو بچانے کی فکر یا کوشش نہیں کرتے۔ اس کی تعداد پہلے کی تعداد کے ہی برابر ہے، تھوڑی بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔
(۳) تیسرے ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کو گناہ سے بچنے کی تلقین تو کرتے ہیں، لیکن خود نہیں بچتے۔ ایسے لوگ موقع اور وقت کی مناسبت سے اپنا طرز عمل بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی ظاہری اعتبار سے بھی اور باطنی اعتبار سے بھی تقویٰ کا مجسمہ بن جاتے ہیں، تو کبھی گناہ کی چلتی پھرتی مشین۔ انھیں جب ذکر و فکر کی مجلس نصیب ہوتی ہے تو متقی بن جاتے ہیں اور جہاں ذرا اس سے ہٹتے ہیں تو اپنی سابقہ فطرت کا رنگ دکھانے سے نہیں چونکتے۔ یا پھر ظاہری طور پر طہارت و تقویٰ کا مرجع نظر آتے ہیں، لیکن جب تنہائی میں ہوتے ہیں، تو معاملہ بالکل الٹا ہوجاتا ہے۔
(۴) چوتھا طبقہ وہ ہے، جس کے لیے گناہ اور ثواب کے کاموں میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ یہ طبقہ اگر کنارہ کشی اختیار کرتا ہے ، تو گناہ اور ثواب کی تفریق کیے بغیر دونوں سے منھ موڑ لیتا ہے ، یا پھر جب کرنے پر آتا ہے، تو بھی کوئی فرق نہیں کرتا، البتہ اس طبقے کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ گناہ کو گناہ اور ثواب کو ثواب سمجھتا ہے۔
ان چاروں طبقوں کو دیکھا جائے تو ان میں جہاں خرابیاں ہیں ، وہیں کچھ نہ کچھ خوبیوں سے بھی لبریز ہیں، اور اسی وجہ سے ان کو ’’بساغنیمت ‘‘ کے خانے میں رکھا جاسکتا ہے۔
(۵)لیکن ان کے علاوہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جس کے لیے ثواب کے کام ، فضول اور بیہودہ کام ہیں ، جب کہ گناہ کے کام عزت، عظمت اور دولت کے لیے سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ثواب سے نفرت اور گناہوں سے محبت ہی ان کی زندگی کا محبوب مشغلہ ہے۔ ایسے لوگ رات کی تاریکی میں جو کچھ کرتے ہیں، اسے دن کے اجالے میں پھیلانا اپنے لیے عزت و افتخار کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔چنانچہ پردہ سیمیں کی حرکتیں اور بادہ رنگیں کے مناظر میں مثالیں آپ ڈھونڈھ سکتے ہیں
گناہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا؛ بذات خود مہلک اور زہر قاتل ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت ستاریت و غفاریت کے پیش نظر ہمارے ساتھ عفو و درگذر کا معاملہ کیا ہوا ہے۔اسلامی تعلیم اور آقا کریم ﷺ کی ہدایت بھی یہی ہے کہ گناہ خواہ کسی کا ہو ؛ اپنا ہو یا کسی اور کا ہو ؛ اسے چھپانا ضروری ہے ۔ اگر دوسروں کا گناہ ہے، تو اسے تو بالکلیہ چھپانا چاہیے ، کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ
عن ابی ھریرۃؓ قال : قال رسول اللّٰہ ﷺ : إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أکْذَبُ الْحَدیثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللّہِ إِخْوَانًا۔ (صحیح بخاری، کتاب الادب، باب ما ینھی عن التحاشد والتدابر)
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدگمانی سے بچتے رہو ، کیوں کہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے ۔ اور دوسروں کے عیب تلاش نہ کیا کرو، اور نہ ان کی چھپی باتوں کا کھوج لگایا کرو، اور نہ کسی کو بھڑکا کر کسی برائی پر آمادہ کیا کرو۔ نہ ایک دوسرے سے حسد کرو، نہ آپس میں بغض رکھا کرو۔نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر چلا کرو۔ سب ایک اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ۔
بلکہ جو کوئی اپنے بھائی کے گناہوں کو چھپاتا ہے تو زبان رسالت سے اس کے لیے یہ خوش خبری ہے کہ
من ستر مسلما، سترہ اللّہ یوم القیامۃ۔ (بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب لایظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ)
جو کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کریں گے۔
اور اگر خود کا گناہ ہے، تو اس کے بار ے میں بھی اسلامی تعلیمات یہ ہے کہ اسے چھپانا چاہیے۔ اگر خود کے اس گناہ کو نہیں چھپائے گا، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی ستاریت کی وجہ سے چھپا رکھا تھااور خود ہی لوگوں کے سامنے ظاہر کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے گناہوں کو بالکل معاف نہیں کرے گا۔
کُلُّ أُمَّتِي مُعَافًی إِلَّا المُجَاھِرینَ، وَإِنَّ مِنَ المُجَاھَرَۃِ أَنْ یَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّیْلِ عَمَلًا، ثُمَّ یُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَہُ اللّہُ عَلَیْہِ، فَیَقُولَ: یَا فُلاَنُ، عَمِلْتُ البَارِحَۃَ کَذَا وکَذَا، وَقَدْ بَاتَ یَسْتُرُہُ رَبّہُ، وَیُصْبِحُ یَکْشِفُ سِتْرَ اللّہِ عَنْہُ۔ (صحیح بخاری،کتاب الادب، باب ستر المؤمن نفسہ)
آج کے لوگ اپنے گناہ کو بھی اور بالخصوص دوسروں کے گناہ کو چھپانے کے بجائے اس کی تشہیر کرنا اپنااخلاق و کردارکا حصہ سمجھتے ہیں، جو سراسر انسانی سیرت اور انسانیت کے تقاضے کے خلاف ہے۔ گناہ تو ایسا جرم ہے جو جانور بھی نہیں چاہتاکہ اس کی تشہیر ہو؛ بلکہ وہ بھی اسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ الدر المنثور میں سورہ مائد کی آیت نمبر ۳۱ کی تفسیر میں ہے کہ شادی کے معاملہ کو لے کر قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔ روئے زمین پر چوں کہ پہلا قتل اور پہلی میت تھی، اس لیے قابیل کو سمجھ میں نہیں آیاکہ اس کے ساتھ کیا کریں۔ چنانچہ بہت پریشان ہوا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے یہ منظر دکھایا کہ ایک کوے نے ایک دوسرے کوے سے لڑائی کی اور پھر اسے قتل کردیا۔ کسی کو قتل کرنا گناہ عظیم ہے۔ اس کوے سے جب یہ گناہ عظیم ہوگیا تو اس نے مردہ کوے کی لاش کو دفن کردیا ، تاکہ اس کا یہ گناہ چھپ جائے اور کوئی دوسرا شخص اس کے گناہ سے واقف نہ ہوسکے۔ پرندوں کے ماہرین کہتے ہیں کہ کوے میں حیا بہت ہوتی ہے، وہ کبھی بھی کھلے میں جنسی تعلقات نہیں بناتا۔ اور جب اس سے کوئی غلط کام ہوجاتا ہے تو اسے فورا چھپاتے ہیں، اس کی تشہیر نہیں کرتے۔
ایک پرندہ گناہ کی شناعت و قباحت کو سمجھتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کے گناہ سے کوئی واقف نہ ہو؛ لیکن ایک ہم انسان ہیں جو گناہ کی جرات بھی کرتے ہیں، اور پھر جسے اللہ نے اپنی صفت ستاریت سے چھپا دیا تھا، خود ہی اس کی تشہیر کرکے ذلیل و رسوا ہوتے ہیں۔
جب ایک صاحب عقل و شعور رکھنے والے انسان کے لیے انسانی کردار کے نمونے عبرت سے خالی ہوجائیں تو سمجھ لیجیے کہ انسان انسانیت کی سطح سے گرچکا ہے ۔ ایسے میں ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ کم از کم کوے کے ہی کردار سے سبق حاصل کرتے ہوئے یہ سبق لے کہ اپنے گناہ کو کیسے چھپایا جاتا ہے۔