دارالعلوم دیوبند اور جمعیة علمائے ہند

محمد اللہ خلیلی قاسمی فیض آبادی

دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد محض تعلیم و تعلم نہیں تھا، بلکہ دارالعلوم دیوبند ایک تحریک تھی جس کا مقصد ایک طرف علوم اسلامیہ کی حفاظت اور مسلم تہذیب و ثقافت کا تحفظ تھا تو دوسری جانب اس تحریک کا ایک اہم مقصد ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانا اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے دیوبند کی تاریخ سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ ان کا دائرہٴ عمل محض مذہبی اور تعلیمی میدان ہی تک محدود نہیں رہا، بلکہ انھوں نے ہمیشہ ملک و سماج سے جڑ کرتمام مسلمانوں اور عام انسانوں کی خدمت کو بھی اپنے دائرہٴ عمل میں شامل رکھا۔ علمائے دیوبند ہمیشہ سماج کے ہر طبقہ سے مربوط رہے اور ملت و سماج کی ضروریات کے پیش نظر انھوں نے حسب استطاعت اپنی خدمات پیش کرنے میں لیت و لعل سے کام نہیں لیا۔ عوام میں تعلیمی بیداری کا فروغ اور جہاد ِ آزادی میں سرگرم حصہ داری اسی احساس فرض کا نتیجہ تھی جس سے علمائے دیوبند نے کبھی پہلو تہی نہیں کی۔
۱۸۵۷ء میں انگریزی اقتدار سے ہندوستان کی آزادی کے لیے دارالعلوم کے اکابر بالخصوص حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی وغیرہ حضرات نے سرفروشانہ جد و جہد رقم کی۔لیکن یہ کوشش کام یاب نہ ہوسکی اور انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کرکے سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کا اعلان کردیا۔ سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد،مسلمان طبقہ خاص طور پر انگریزوں کی انتقامی کارروائی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا۔انگریزوں نے علماء و امراء کی ایک بڑی تعداد کو قتل کر دیا، مدارس و معاہد تباہ و برباد کردیے اور اسلامی تہذیب وثقافت کو ختم کرنے کا تہیہ کر لیا ۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں اکابرین دیوبند نے ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے مقصد سے تعلیمی تحریک برپا کرنے کا فیصلہ کیا اور دارالعلوم دیوبند اس سلسلہ کی پہلی کڑی تھی۔ سیاسی زوال نے مسلمانوں کو بے چارگی و مجبوری اور بے چینی و پریشانی کے جس عالم میں پہنچا دیا تھا، دارالعلوم دیوبند کے قیام سے انھیں سکون و اطمینان اور قرار نصیب ہوا۔اور پھر تاریخ نے ثابت کردیا کہ علماء نے فراست ایمانی سے جو فیصلہ کیا تھا اس کے بالکل صحیح نتائج برآمد ہونے شروع ہوگئے۔ جہاں ایک طرف دارالعلوم دیوبند نے دینی تعلیم کے فروغ ، عقائد صحیحہ و اسلامی تعلیمات کی اشاعت ، مسلمانوں کے دینی تشخص کی حفاظت اور اسلامی علوم و فنون کی ترقی و آبیاری میں بھرپور حصہ لیا وہیں دوسری طرف مجاہدین اور سرفروشوں کی ایک جماعت پیدا کی جس نے آزادی کے مبارک جذبہ کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ انگریزی سامراج کا اس وقت تک تعاقب کرتے رہے جب تک وہ اس ملک کو چھوڑ کر نہ چلا گیا۔
جہاد ۱۸۵۷ء کے بعد پہلے مرحلے میں دارالعلوم کا قیام عمل میں آیا۔ دارالعلوم نے خاموشی سے تقریبا ً پون صدی تک افراد کی تیاری پر توجہ مرکوز رکھی۔ بالآخر دارالعلوم دیوبند کے پہلے سپوت شیخ الہند حضرت مولانامحمودحسن دیوبندیکی مجاہدانہ سرگرمیوں سے یہ تحریک دوسرے مرحلے میں داخل ہوئی جس کو تحریک شیخ الہند یا عرف عام میں تحریک ریشمی رومال کہا جاتا ہے۔ تحریک شیخ الہند کی ابتدا بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ہوئی جب شیخ الہند حضرت مولانامحمودحسن دیوبندی کے شاگردوں اور متوسلین کی ایک بڑی جماعت اس انقلابی تحریک سے وابستہ ہوگئی۔شیخ الہندکے نمائندے ملک کے اندر اور ملک کے باہر افغانستان، آزاد علاقہ، صوبہ سرحداورحجازکے اندرسرگرم اورفعال تھے۔ جنگ عظیم کی ابتدا، عربوں کی ترکوں کے خلاف بغاوت، امیر حبیب اللہ کی طوطا چشمی اور دوسرے اسباب کی بنیاد پر تحریک ریشمی رومال اپنے انقلابی مقاصد کو پورا کرنے میں ناکام رہی ، لیکن اس تحریک کی تفصیلات سے بوریہ نشین علماء کی بلندیٴ فکر، مجاہدانہ اولوالعزمی اور ان کے تدبر و سیاست کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی تحریک آزادی کی تاریخ میں ’تحریک ریشمی رومال‘ ایک تابناک باب کی حیثیت رکھتی ہے۔
شیخ الہندکی اس تحریک میں مولانامنصورانصاری، مولانا فضل ربی، مولانافضل محمود، مولانا محمد اکبر کا شمار اہم ارکان میں تھا۔ مولانا عبدالرحیم رائے پوری، مولانا محمداحمدچکوالی، مولانامحمدصادق کراچوی، شیخ عبدالرحیم سندھی، مولانا احمدالله پانی پتی، ڈاکٹرمختار احمدانصاری وغیرہ نے اپنا تعاون پیش کیا۔ ان کے علاوہ مولانا محمد علی جوہر، مولاناابواکلام آزاد، مولانا احمد علی لاہوری، حکیم اجمل خان وغیرہ بھی آپ کے مشیر ومعاون تھے ۔ مالٹا کے اسارت خانہ میں حضرت شیخ الہند کے ساتھ آپ کے دیگر رفقاء حضرت مولاناحسین احمد مدنی، مولانا عزیر گل پشاوری،مولانا حکیم نصرت حسین امروہوی، مولانا وحید احمدفیض آبادی وغیرہم بھی قید کیے گئے تھے ۔
جمعیة علمائے ہند کا قیام
حضرت شیخ الہند نے مالٹا سے واپسی کے بعد ملک کی آزادی میں سرگرم حصہ لیا۔ مالٹا میں اسارت کے زمانے میں حضرت شیخ ا لہند نے محسوس کرلیا تھا کہ ہندوستان کی آزادی صرف ایک قوم اپنی کوشش سے حاصل نہیں کر سکتی ہے۔ لہٰذا آپ نے انقلاب و تشدد کی پالیسی بد ل کر ہندوستان کی آزادی کوہندو اور مسلمان کی مشترکہ جد وجہد سے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اسی سلسلہ میں آپ نے نیشنلسٹ طاقتوں کا ساتھ دیا ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنا میں حصہ لیا اور آپ کے شاگردوں نے جمعیة علمائے ہند قائم کی۔
۱۹۱۹ء میں ہی تحریک خلافت شروع ہوئی جو جنگ عظیم اول کے بعد خلافت عثمانیہ کے تحفظ اور ہندوستان پر برطانوی تسلط کے خلاف ایک نہایت موٴثر اور ہمہ گیر تحریک تھی ۔ اس تحریک نے ہندوستان میں ہندومسلم اتحاد کا عظیم الشان نمونہ پیش کیا اور اس پلیٹ فارم سے مسلمان اور ہندو شانہ بشانہ انگریزی حکومت کے خلاف لڑے۔ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی و دیگر علمائے دیوبند اس تحریک میں شریک رہے۔ ۱۳/ نومبر ۱۹۱۹ء کو دہلی میں خلافت کمیٹی کا اجلاس مولانا فضل الحق کی صدارت میں ہوا جس میں برطانیہ کے جشنِ صلح کے بائیکاٹ کی تجویز مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب نے پیش کی جس کی تائید میں گاندھی جی نے بھی تقریر کی۔ اسی موقع پر انقلابی علماء نے ’جمعیة علمائے ہند‘ کے نام سے باضابطہ دستوری جماعت کی تشکیل کا فیصلہ کیا جس کے پہلے صدر مفتیٴ اعظم حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی منتخب ہوئے۔ جمعیة علمائے ہند کے قیام کے بعد علمائے دیوبند کی مجاہدانہ سرگرمیاں اسی پلیٹ فارم سے جاری رہیں اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک اس جماعت کا بنیادی مشن تھا۔
جمعیة علمائے ہند اور جہاد آزادی
جمعیة علمائے ہند ایک ایسے وقت میں قائم ہوئی جب انگریزی استبداد اپنی آخری حدوں کو چھو رہا تھا اور کسی میں جرأت موجود نہیں تھی کہ وہ سات سمندر پار کی اس اجنبی مخلوق کے خلاف کوئی آواز بلند کر سکے، لیکن جمعیة علمائے ہند اور اس کے بانیوں نے سب سے پہلی جو آواز لگائی وہ وہی تھی جسے سننے کے لیے ہر ہندوستانی گوش بر آواز تھا، اس نے مکمل آزادی کا نعرہ دیا اور کہنا چاہیے کہ اس نعرہ کے ذریعہ اس نے تحریک آزادی کے لیے قائم تمام تنظیموں، تحریکوں اور انجمنوں پر سبقت حاصل کرلی۔
جون ۱۹۲۰ء میں خلافت کانفرنس الہ آباد میں نان کوآپریشن(ترک موالات) شروع کرنے کا فیصلہ ہوا۔ جولائی ۱۹۲۰ء میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے ترک موالات کا فتوی دیاجس کو بعد میں مولانا ابوا لمحاسن سجاد بہاری نے مرتب کرکے جمعیة علمائے ہند کی طرف سے ۴۸۴ دستخطوں کے ساتھ شائع کیا۔ غیر ملکی مال کے بائیکاٹ اور برطانوی حکومت کے ساتھ عدم تعاون کی یہ تجویزبہت کارگر ہتھیار تھا جوجنگِ آزادی میں استعمال کیاگیا، انگریزی حکومت اس کاپورا پورا نوٹس لینے پر مجبورہوئی اوراس کاخطرہ پیدا ہو گیا کہ پوراملکی نظام مفلوج ہوجائے اورعام بغاوت پھیل جائے۔
نومبر ۱۹۲۰ء میں جمعیة علمائے ہند کا دوسرا اجلاسِ عام دہلی میں حضرت شیخ الہند کی صدارت میں ہوا ۔ آپ نے اپنے خطبہٴ صدارت میں سیاسی جد وجہد کی منتشر طاقت کو متحد وموٴثر بنانے کے لیے کانگریس کے مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دی۔ حضرت شیخ الہند کی اس کوشش نے جنگ آزادی کے نعرہ میں ایک روح پھونک دی ۔
جولائی ۱۹۲۱ء میں خلافت کانفرنس کراچی کے اجلاس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے صاف لفظوں میں اعلان کیا کہ حکومت برطانیہ کے ساتھ موالات و اعانت کے تمام تعلقات اور ملازمت حرام ہے۔ اس کے پاداش میں کراچی کا مشہور مقدمہ چلا جس میں آپ کے ساتھ مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، گرو شنکراچاریہ وغیرہ کو دو دو سال قید بامشقت کی سزا ہوئی۔
جنوری ۱۹۲۴ء میں جمعیة علمائے ہند کے پانچویں اجلاس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے خطبہ میں آزادیٴ کامل کی طرف سب سے پہلے توجہ دلائی۔ پھر جمعیة علمائے ہند نے حضرت مولانا سید سلیمان ندوی کے صدارت میں ہونے والے ساتویں اجلاس میں ۱۴/ مارچ ۱۹۲۶ء کو سب سے پہلے مکمل آزادی کی تجویز پاس کی۔ ہندوستان پر برطانوی قبضہ کے خلاف ہندوستانیوں کی طرف سے یہ پہلی تجویز تھی جس نے ببانگ دہل برطانیہ سے ملک کی مکمل آزادی کی حمایت کی ، ورنہ اس وقت کانگریس وغیرہ دیگر قومی جماعتیں حکومت سے محض کچھ مراعات کی طالب ہوا کرتی تھیں۔ بالآخر جمعیة علمائے ہند کی یہی تجویز ملک کے ہر فرد کی آواز بن گئی۔
۱۹۲۹ء میں گاندھی جی کے ’ڈانڈی مارچ‘ اور نمک سازی تحریک میں جمعیة علمائے ہند کے رہ نما مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مفتی عتیق الرحمن عثمانی وغیرہ نے شرکت کی اور دیگر قومی کارکنوں کے ساتھ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا سید فخر الدین مراد آبادی، مولانا سید محمد میاں دیوبندی اور مولانا بشیر احمد بھٹہ وغیرہ بھی گرفتار ہوئے۔
۱۹۳۰ء کی تحریک سول نافرمانی میں جمعیة علمائے ہند کے صدر حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی اور ناظم اعلی جمعیة علمائے ہند مولانا احمد سعید دہلوی کو قانونِ تحفظِ عا مہ اور بغاوت کے جرم میں گرفتار کر کے قید بامشت کی سزا دی گئی۔ ۱۹۳۲ء میں جب دوبارہ سول نافرمانی کی تحریک شروع کی گئی تو جمعیة علمائے ہند نے بھی کانگریس کی جنگی کونسل کی طرح ’ادارہ حربیہ‘ قائم کر کے ڈکٹیٹرانہ نظام جاری کیا جس کے ذمہ دار مولانا ابوالمحاسن سجاد صاحب تھے۔ مارچ ۱۹۳۴ء میں جمعیة علمائے ہند کے پہلے ڈکٹیٹر حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی ایک لاکھ افراد کا جلوس لے کر نکلے اور گرفتار کر لیے گئے۔ جمعیة علمائے ہند کے دوسرے ڈکٹیٹر حضرت مولانا حسین احمد مدنی کو بھی دیوبند سے دہلی آتے ہوئے راستے میں گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا محمد میاں دیوبندی، رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی وغیرہم ڈکٹیٹر منتخب ہوتے رہے اور گرفتاریاں دیتے رہے۔ اس تحریک میں تقریباً تیس ہزار مسلمان گرفتار کیے گئے۔
۱۹۳۵ء میں حکومت ہند کا جو دستور بنایا گیا تھا اس میں مسلمانوں کی مذہبی و ملی مشکلات کے حل کے لیے جمعیة علمائے ہند نے ایک فارمولا پیش کیا تھا جس کو ’مدنی فارمولا‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اگر اس فارمولے کے مطابق دستور بنایا جاتا تو کافی حد تک مسلمانوں کی مشکلات حل ہوجاتیں اور ملک تقسیم نہ ہوتا۔ بہر حال گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء کے ذریعہ مسلمانوں کو جو بھی مراعات حاصل ہوئیں وہ اسی فارمولے کی بنیاد پر شامل ہوئیں۔
۳۷-۱۹۳۶ء میں جمعیة علمائے ہند نے حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی کی رہ نمائی میں صوبہ سرحد کی اسمبلی میں شریعت بل کا مسودہ پیش کر کے پاس کرایا ، جو بالآخر شریعت ایکٹ بنا اور آج تک نافذ ہے۔ ۱۹۳۷ء میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے انگریزی اقتدار کے مقابلے میں بلا تفریق مذہب و ملت ہندوستانیوں کے لیے متحدہ قومیت کی وکالت کی اور اس کو قرآن وحدیث سے ثابت کیا۔ اُس وقت مسلم لیگ اور ہندو مہا سبھا کی جانب سے مذہب پر مبنی تصورات پیش کیے جارہے تھے۔
۴۰-۱۹۳۹ء میں دوسری جنگ عظیم کے موقع پر جمعیة علمائے ہند نے جبری بھرتی کی پرزور مخالفت کی اور اعلان کیا کہ جنگ کے سلسلہ میں ہم کسی طرح کا تعاون نہیں کریں گے، جس کی پاداش میں جمعیة کے رہ نماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ۔ ان میں مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا محمد قاسم شاہجہانپوری، مولانا ابوالوفا شاہجہانپوری، ، مولانا محمد اسماعیل سنبھلی، مولانا شاہد میاں فاخری الہ آبادی، مولانا اختر الاسلام مدرسہ شاہی مرادآباد وغیرہ شامل ہیں۔
اپریل ۱۹۴۲ء میں جمعیة علماء کی بچھرایوں کانفرنس میں آزادی کے مطالبہ کی پاداش میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی کو جون ۱۹۴۲ء میں گرفتار کر لیا گیا اور چھ ماہ کی مدت اسارت ختم ہونے کے وقت دو بارہ غیر محدود عرصہ کے لیے نظر بند کردیا گیا۔ ۵/ اگست ۱۹۴۲ء کو جمعیة علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے چار مقتدر ارکان حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا احمد سعید دہلوی اور مولانا عبد الحلیم صدیقی لکھنوی کے دستخطوں سے ایک اخباری بیان جاری کیا گیا جس میں کھلے لفظوں میں کہا گیا تھا کہ ”انگریز ہندوستان چھوڑ دے“۔ اس کے بعد ۸/ اگست کو کانگریس نے بمبئی کے اجلاس میں ’کوئٹ انڈیا‘ (انڈیا چھوڑ دو)کی تجویز پاس کی۔ اس کی پاداش میں کانگریس کی طرح جمعیة علمائے ہند کے رہ نما اور ہزاروں کارکن گرفتار ہوئے جن میں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا محمد میاں دیوبندی، مولانا نور الدین بہاری وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
جمعیة علمائے ہند نے مسلمانوں کے لیے الگ اسٹیٹ یعنی نظریہٴ قیامِ پاکستان کی ہمیشہ پوری قوت کے ساتھ مخالفت کی۔لیکن ۱۵/ اگست ۱۹۴۷ء کو مجاہدین ملت کی بیش بہا قربانیوں کی بدولت جب آفتابِ آزادی نصف شب کو طلوع ہوا، برطانوی شاطر حکمراں اپنی پھوٹ ڈالنے والے سیاست میں کامیاب ہوچکے تھے۔ اس مبارک گھڑی میں ہندو مسلم اتحاد کی وہ عمارت جس کی تعمیر جمعیة علماء کے اکابر نے کی تھی وہ لرزہ بر اندام ہوگئی ، نفرت کی آندھیوں میں صدیوں کے پروردہ رشتے کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹ گئے۔ اس وقت شمالی ہند کے مسلمانوں کے سامنے کربلا جیسے مناظر تھے۔ اس بھیانک تاریکی میں جمعیة علمائے ہند نے امید کا چراغ روشن کیا، لڑکھڑاتے قدموں کو سہارا دیا اور حوصلوں کو بحال کیا ۔
جمعیة علمائے ہند کی ملکی و ملی خدمات
۱۹۴۷ء میں ملک کی آزادی اور مسلم آبادی کی تقسیم کے بعد ہندوستان میں قیام کا فیصلہ کرنے والے مسلمانوں کے لیے زندگی بہت مشکل تھی، خصوصاً شمالی ہند اور دہلی و اطراف کے مسلمانوں پر ایک قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی تھی۔ ان پرخطر اور نازک حالات میں مسلمانوں کو تسکین و تسلی دینے اور ان کے پیروں کو جمانے میں اکابرِ جمعیة نے اہم کردار ادا کیا۔
اسی طرح ملک کے طول و عرض میں فرقہ وارانہ فسادات اورفرقہ پرستی کی روک تھام کے لیے طویل اور صبر آزما جد و جہد کی۔ اس سلسلہ میں جمعیة علماء نے پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ایوانوں سے لے کر عوامی مقامات اور جلسہ گاہوں سے فرقہ واریت کی مخالفت کی اور ملک دشمن طاقتوں کو آشکارا کیا۔ جمعیة علماء کے علماء و اکابر نے بڑی جرأت اور استقامت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا اور فساد زدہ مسلمانوں کی مدد اور باز آبادکاری میں جو خدمات انجام دیں وہ ہماری ملّی تاریخ کا روشن باب ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے جمعیة علمائے ہند کی سب سے اہم خدمت اور کارنامہ ہندوستانی دستور کا سیکولر ڈھانچہ ہے۔ دستور کے بہت سے اجزا جن کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق مسلمانوں سے ہے ، حالات و ماحول کے لحاظ سے جو بھی ممکن تھا مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے دستور ساز اسمبلی کے رکن ہونے کی حیثیت سے وہ کردکھایا۔ آج دستور میں اقلیتوں کو جو حقوق ، مراعات اور ضمانتیں دی گئی ہیں ان میں سے بیشتر جمعیة علمائے ہند کے رہ نماوٴں کی جدوجہد اور کوششوں کا ثمرہ ہیں۔ آج دستور کی وہی دفعات ہیں جو مسلمانوں کو ہندوستان میں سربلند رکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ اگر ان حقوق کو حاصل کرنے کی طاقت پیدا ہوجائے اور مسلمان احساسِ کمتری سے نکل آئیں تو ان کا مستقبل تابناک ہوسکتا ہے۔
جمعیة علمائے ہند نے ملک کے دستور اور اس کے سیکولر تانے بانے سے چھیڑ چھاڑ کرنے والی ہر کوشش اور سازش کے خلاف آواز اٹھائی۔ وہ خواہ پرارتھنا یا قومی گیت، وندے ماترم کا معاملہ ہو یا نصابی کتابوں میں مخصوص فرقہ وارانہ ذہنیت کی پرورش کا، خواہ یکساں سول کوڈ کامعاملہ ہو یا مذہبی عمارات بل کا، خواہ سرحدی علاقوں میں مسلمانوں کی شہریت کا مسئلہ ہو یا مسلم عائلی مسائل سے چھیڑ چھاڑکا، ہر معاملہ میں جمعیة علمائے ہند نے اپنے دستوری حق کے حصول اور سیکولزم کی بقا کے لیے پوری کوشش کی۔ جمعیة علمائے ہند کی انھیں کوششوں کی وجہ سے دستور اور سیکولرزم میں یقین نہ رکھنے والے افراد اور جماعتوں کی ناپاک سازشیں کام یابی سے ہم کنار نہ ہوسکیں۔
ہندوستان میں موقوفہ جائیدادوں اور مسلم اوقاف پر غاصبانہ قبضے، قبرستانوں اور مسجدوں تک کی فروخت ، نااہل متولیوں کی جارحانہ گرفت و خیانت ، زمینداری کے خاتمہ کے نتیجہ میں اوقاف کے سلسلہ میں پیش آمدہ دشواریاں ، وقف کمیٹیوں کی حالتِ زار اور اس طرح کے دوسرے بہت سے متعلقہ مسائل ایسے تھے جنھوں نے ملت کے لیے مالی، اقتصادی اور مذہبی دشواریاں پیدا کردی تھیں ۔ چناں چہ جمعیة علمائے ہند نے ان مسائل کی طرف بھرپور توجہ دی۔ جمعیة علماء نے مختلف مواقع پر موٴثر تجاویز، قانونی کارروائی اور اثر و رسوخ کے ذریعہ اوقاف کی بحالی اور اصلاح و درستگی کے لیے قدم اٹھایا۔ اس سلسلہ میں فروری ۱۹۷۹ء کو کل ہند اوقاف کانفرنس منعقد کی گئی اور جمعیة کی وقف کمیٹی کے مرتب کردہ مسودہ کو پارلیمنٹ میں پاس کرکے ایکٹ کی صورت دی گئی۔
بابری مسجد کا قضیہ ہندوستان کی تاریخ کا سب سے اہم اور حساس قضیہ ہے جس کی وجہ سے ملک میں فسادات ، قتل و خون ، بد امنی و بے چینی اور افتراق و انتشار کا ایک طوفان برپا ہو اور بالآخر فرقہ پرستوں نے حکومتی پشت پناہی میں ۶/ دسمبر ۱۹۹۲ء کو بابری مسجد کو شہید کرڈالا ۔ بابری مسجد کیس میں جمعیة علمائے ہند ۱۹۳۴ء ہی سے سرگرم عمل ہے جب انگریزوں نے ہندو مسلم کو باہم لڑانے اور اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے مقصد سے بابری مسجد کی جگہ کے سلسلہ میں من گھڑت واقعات کی بنیاد پر رام جنم بھومی کا شاخسانہ پیدا کیا جب کہ ساڑھے تین سو سال بابری مسجد کے تعلق سے کوئی جھگڑا نہیں تھا اور تاریخی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ رام مند توڑ کر بابری مسجد بنائی گئی۔
مارچ ۱۹۳۴ء میں دو فرقوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب صدر جمعیة علمائے ہند نے خود اجودھیا جاکر حالات کا جائزہ لیا اور ورکنگ کمیٹی کو رپورٹ پیش کی۔ دسمبر ۱۹۴۹ء کی جس رات کو مسجد میں بت رکھے گئے جمعیة علماء کے قائدین حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی اور مجاہدِ ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے اس جسارت کو ہندوستان کی جمہوریت کے لیے بدنما داغ اور سیکولزم کے لیے شرمناک حرکت قرار دیا ۔ جمعیة علماء نے موضوع کی نزاکت کے پیش نظر فیصلہ کیا کہ اس کو عوامی مسئلہ نہ بنایا جائے، بلکہ قانونی کارروائی اور حکومت کے ساتھ رابطہ سے اس مسئلہ کے حل کی کوشش کی جائے۔ اسی مقصد کے پیش نظر جمعیة نے قانونی انصاف کے حصول کے لیے ۱۹۴۹ء ہی میں عدالتی کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔ دوسری طرف جمعیة علماء نے برادران وطن کو مسئلہ کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور مبنی بر انصاف پالیسی اپنانے کے لیے بابری مسجد کے تعلق سے تاریخی حقائق کو آشکارا کرنا شروع کیا۔ اس کے لیے انھوں نے باہمی تبادلہٴ خیال کی راہ اپنائی اور بالآخر وہ برادران وطن کی ایک بڑی تعداد کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جمعیة کی یہ پالیسی نہ صرف مسجد کے تحفظ کے نقطہٴ نظر سے ضروری تھی بلکہ ملکی اتحاد اور قومی یکجہتی کے لیے بھی ضروری تھی۔لیکن حکومت کی منافقانہ پالیسیوں اور فرقہ پرستوں کی بڑھتی قوت کے پیش نظر بیسوی صدی کی آٹھویں دہائی میں بابری مسجد کا قضیہ ایک حساس سیاسی اور فرقہ وارانہ مسئلہ بن گیا اور آخر کار بابری مسجد کو فرقہ پرستوں نے حکومتی سرپرستی میں دن دہاڑے شہید کرڈالا۔ جمعیة علماء اس وقت سے لے کے اب تک بابری مسجد کیس میں مدعی ہے اور اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
جمعیة علماء کے اکابر و اسلاف نے ابتدا ہی سے جو معتدل پالیسی اپنائی تھی وقت کی کسوٹی نے اسے حرف بہ حرف صحیح ثابت کردکھایا ہے۔ جو لوگ جمعیةعلماء کو اس کی معتدل پالیسی کی وجہ سے مصلحت پسندی کا طعنہ دے کر بدنام کرتے تھے، آج وہ بھی اس اعتراف پر مجبور ہیں کہ اکابر جمعیة نے بابری مسجد کے تئیں جو پالیسی بنائی تھی اس پر عمل کیا جاتا اگر تو آج شاید وہ حالات رو نما نہیں ہوتے جو اس وقت ہندوستانی مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کے لیے باعثِ تشویش بنے ہوئے ہیں۔
جمعیة علمائے ہند کا دائرہٴ کار بہت وسیع ہے۔ اس نے اردو زبان کے تحفظ ، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے تحفظ اور دیگر بہت سے اہم مسائل میں ملک و ملت کی قیادت کی۔ جمعیة علماء نے ہندوستان میں مسلمانوں کو مذہبی طور پر متحد کرنے کے لیے امارت شرعیہ قائم کی اور دوسری طرف مسلمانوں کے اندر پیدا ہونے والی بہت سی مذہبی و سماجی برائیوں کے خاتمہ کے لیے اصلاح معاشرہ تحریک کی شروعات کی۔ آزاد ہندوستان میں امن وامان، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، جمہوریت کے فروغ اور سیکولزم کے تحفظ کے لیے اکابر جمعیة اور علمائے دیوبند کی کوششیں جدید ہندوستان کی تاریخ کا روشن باب ہے جنھیں کوئی انصاف پسند موٴرخ نظر انداز نہیں کرسکتا۔
جمعیة علمائے ہند اور دارالعلوم دیوبند
جمعیة علمائے ہند، آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کی سب سے قدیم اور بڑی تنظیم ہے جس نے مسلمانوں کے جان و مال اور دین و مذہب کے تحفظ ، فرقہ واریت کی مخالفت، تعلیم اور ریلیف و باز آبادکاری کے میدانوں میں عظیم الشان اور قابل فخر خدمات انجام دی ہیں۔ جمعیة علماء کے تقریباً تمام ہی مرکزی صدور اور صوبہ جات و اضلاع کے صدور و ذمہ داران دارالعلوم دیوبند کے اکابر و علماء رہے ہیں جن میں حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی، حضرت مولانا حسین احمد مدنی، حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، حضرت مولانا محمد میاں دیوبندی، حضرت مولانا سید فخر الدین مرادآبادی، حضرت مولانا سید اسعد مدنیوغیرہ جیسی شخصیات قابل ذکر ہیں۔ جمعیة علمائے ہند کی موجودہ قیادت (حضرت مولانا سید ارشد مدنی، حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری، حضرت مولانا محمود مدنی، حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی اور حضرت مولانا سید اشہد رشیدی وغیرہ ) بھی نہ صرف دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ بلکہ دونوں جمعیتوں کے صدور حضرات دارالعلوم دیوبند کے موقر اساتذہٴ حدیث ہیں۔
دارالعلوم دیوبند کی کوکھ سے جہاں مدارس اسلامیہ کا سلسلہ شروع ہوا جس نے پوری دنیا میں علوم دینیہ اور اسلامی تشخص کی بقا و ترقی کا سامان فراہم کیا ، وہیں ہندوستان میں ملکی و ملی اور سیاسی و سماجی خدمات کا عظیم الشان پلیٹ جمعیة علماء کی شکل میں سامنے آیا اور اسی کے طرز پر ہندوستان سے باہر پاکستان، بنگلہ دیش ، ساؤتھ افریقہ اور برطانیہ وغیرہ میں مسلمانوں نے اپنی جمعیتیں قائم کیں۔ علمائے دیوبند ہی کی کوششوں سے تبلیغی اور دعوتی سرگرمیوں کے لیے جماعت تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوا جو آج پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔