کوے سے سکیھیں گناہ چھپانے کا ہنر

محمد یاسین قاسمی جہازی

9871552408
ہمارے سماج میں گناہوں کے تعلق سے مختلف طبقے اور نظریے کے لوگ پائے جاتے ہیں۔
(۱) ایک طبقہ تو وہ ہے جو گناہ کو گناہ سمجھ کر ظاہری و باطنی ، ہر طرح سے خود بھی بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اہل اللہ اور ولی صفت طبقہ ہے ، جو ہمارے معاشرے میں اتنی ہی تعداد میں رہ گئے ہیں، جتنی کہ آٹے میں نمک کی مقدار ہوتی ہے۔
(۲) دوسرے وہ لوگ ہیں، جو خود تو بچتے ہیں ، لیکن دوسروں کو بچانے کی فکر یا کوشش نہیں کرتے۔ اس کی تعداد پہلے کی تعداد کے ہی برابر ہے، تھوڑی بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔
(۳) تیسرے ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کو گناہ سے بچنے کی تلقین تو کرتے ہیں، لیکن خود نہیں بچتے۔ ایسے لوگ موقع اور وقت کی مناسبت سے اپنا طرز عمل بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی ظاہری اعتبار سے بھی اور باطنی اعتبار سے بھی تقویٰ کا مجسمہ بن جاتے ہیں، تو کبھی گناہ کی چلتی پھرتی مشین۔ انھیں جب ذکر و فکر کی مجلس نصیب ہوتی ہے تو متقی بن جاتے ہیں اور جہاں ذرا اس سے ہٹتے ہیں تو اپنی سابقہ فطرت کا رنگ دکھانے سے نہیں چونکتے۔ یا پھر ظاہری طور پر طہارت و تقویٰ کا مرجع نظر آتے ہیں، لیکن جب تنہائی میں ہوتے ہیں، تو معاملہ بالکل الٹا ہوجاتا ہے۔
(۴) چوتھا طبقہ وہ ہے، جس کے لیے گناہ اور ثواب کے کاموں میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ یہ طبقہ اگر کنارہ کشی اختیار کرتا ہے ، تو گناہ اور ثواب کی تفریق کیے بغیر دونوں سے منھ موڑ لیتا ہے ، یا پھر جب کرنے پر آتا ہے، تو بھی کوئی فرق نہیں کرتا، البتہ اس طبقے کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ گناہ کو گناہ اور ثواب کو ثواب سمجھتا ہے۔
ان چاروں طبقوں کو دیکھا جائے تو ان میں جہاں خرابیاں ہیں ، وہیں کچھ نہ کچھ خوبیوں سے بھی لبریز ہیں، اور اسی وجہ سے ان کو ’’بساغنیمت ‘‘ کے خانے میں رکھا جاسکتا ہے۔
(۵)لیکن ان کے علاوہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جس کے لیے ثواب کے کام ، فضول اور بیہودہ کام ہیں ، جب کہ گناہ کے کام عزت، عظمت اور دولت کے لیے سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ثواب سے نفرت اور گناہوں سے محبت ہی ان کی زندگی کا محبوب مشغلہ ہے۔ ایسے لوگ رات کی تاریکی میں جو کچھ کرتے ہیں، اسے دن کے اجالے میں پھیلانا اپنے لیے عزت و افتخار کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔چنانچہ پردہ سیمیں کی حرکتیں اور بادہ رنگیں کے مناظر میں مثالیں آپ ڈھونڈھ سکتے ہیں
گناہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا؛ بذات خود مہلک اور زہر قاتل ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت ستاریت و غفاریت کے پیش نظر ہمارے ساتھ عفو و درگذر کا معاملہ کیا ہوا ہے۔اسلامی تعلیم اور آقا کریم ﷺ کی ہدایت بھی یہی ہے کہ گناہ خواہ کسی کا ہو ؛ اپنا ہو یا کسی اور کا ہو ؛ اسے چھپانا ضروری ہے ۔ اگر دوسروں کا گناہ ہے، تو اسے تو بالکلیہ چھپانا چاہیے ، کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ
عن ابی ھریرۃؓ قال : قال رسول اللّٰہ ﷺ : إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أکْذَبُ الْحَدیثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللّہِ إِخْوَانًا۔ (صحیح بخاری، کتاب الادب، باب ما ینھی عن التحاشد والتدابر)
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدگمانی سے بچتے رہو ، کیوں کہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے ۔ اور دوسروں کے عیب تلاش نہ کیا کرو، اور نہ ان کی چھپی باتوں کا کھوج لگایا کرو، اور نہ کسی کو بھڑکا کر کسی برائی پر آمادہ کیا کرو۔ نہ ایک دوسرے سے حسد کرو، نہ آپس میں بغض رکھا کرو۔نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر چلا کرو۔ سب ایک اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ۔
بلکہ جو کوئی اپنے بھائی کے گناہوں کو چھپاتا ہے تو زبان رسالت سے اس کے لیے یہ خوش خبری ہے کہ
من ستر مسلما، سترہ اللّہ یوم القیامۃ۔ (بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب لایظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ)
جو کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کریں گے۔
اور اگر خود کا گناہ ہے، تو اس کے بار ے میں بھی اسلامی تعلیمات یہ ہے کہ اسے چھپانا چاہیے۔ اگر خود کے اس گناہ کو نہیں چھپائے گا، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی ستاریت کی وجہ سے چھپا رکھا تھااور خود ہی لوگوں کے سامنے ظاہر کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے گناہوں کو بالکل معاف نہیں کرے گا۔
کُلُّ أُمَّتِي مُعَافًی إِلَّا المُجَاھِرینَ، وَإِنَّ مِنَ المُجَاھَرَۃِ أَنْ یَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّیْلِ عَمَلًا، ثُمَّ یُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَہُ اللّہُ عَلَیْہِ، فَیَقُولَ: یَا فُلاَنُ، عَمِلْتُ البَارِحَۃَ کَذَا وکَذَا، وَقَدْ بَاتَ یَسْتُرُہُ رَبّہُ، وَیُصْبِحُ یَکْشِفُ سِتْرَ اللّہِ عَنْہُ۔ (صحیح بخاری،کتاب الادب، باب ستر المؤمن نفسہ)
آج کے لوگ اپنے گناہ کو بھی اور بالخصوص دوسروں کے گناہ کو چھپانے کے بجائے اس کی تشہیر کرنا اپنااخلاق و کردارکا حصہ سمجھتے ہیں، جو سراسر انسانی سیرت اور انسانیت کے تقاضے کے خلاف ہے۔ گناہ تو ایسا جرم ہے جو جانور بھی نہیں چاہتاکہ اس کی تشہیر ہو؛ بلکہ وہ بھی اسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ الدر المنثور میں سورہ مائد کی آیت نمبر ۳۱ کی تفسیر میں ہے کہ شادی کے معاملہ کو لے کر قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔ روئے زمین پر چوں کہ پہلا قتل اور پہلی میت تھی، اس لیے قابیل کو سمجھ میں نہیں آیاکہ اس کے ساتھ کیا کریں۔ چنانچہ بہت پریشان ہوا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے یہ منظر دکھایا کہ ایک کوے نے ایک دوسرے کوے سے لڑائی کی اور پھر اسے قتل کردیا۔ کسی کو قتل کرنا گناہ عظیم ہے۔ اس کوے سے جب یہ گناہ عظیم ہوگیا تو اس نے مردہ کوے کی لاش کو دفن کردیا ، تاکہ اس کا یہ گناہ چھپ جائے اور کوئی دوسرا شخص اس کے گناہ سے واقف نہ ہوسکے۔ پرندوں کے ماہرین کہتے ہیں کہ کوے میں حیا بہت ہوتی ہے، وہ کبھی بھی کھلے میں جنسی تعلقات نہیں بناتا۔ اور جب اس سے کوئی غلط کام ہوجاتا ہے تو اسے فورا چھپاتے ہیں، اس کی تشہیر نہیں کرتے۔
ایک پرندہ گناہ کی شناعت و قباحت کو سمجھتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کے گناہ سے کوئی واقف نہ ہو؛ لیکن ایک ہم انسان ہیں جو گناہ کی جرات بھی کرتے ہیں، اور پھر جسے اللہ نے اپنی صفت ستاریت سے چھپا دیا تھا، خود ہی اس کی تشہیر کرکے ذلیل و رسوا ہوتے ہیں۔
جب ایک صاحب عقل و شعور رکھنے والے انسان کے لیے انسانی کردار کے نمونے عبرت سے خالی ہوجائیں تو سمجھ لیجیے کہ انسان انسانیت کی سطح سے گرچکا ہے ۔ ایسے میں ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ کم از کم کوے کے ہی کردار سے سبق حاصل کرتے ہوئے یہ سبق لے کہ اپنے گناہ کو کیسے چھپایا جاتا ہے۔

دارالعلوم دیوبند اور جمعیة علمائے ہند

محمد اللہ خلیلی قاسمی فیض آبادی

دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد محض تعلیم و تعلم نہیں تھا، بلکہ دارالعلوم دیوبند ایک تحریک تھی جس کا مقصد ایک طرف علوم اسلامیہ کی حفاظت اور مسلم تہذیب و ثقافت کا تحفظ تھا تو دوسری جانب اس تحریک کا ایک اہم مقصد ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانا اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے دیوبند کی تاریخ سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ ان کا دائرہٴ عمل محض مذہبی اور تعلیمی میدان ہی تک محدود نہیں رہا، بلکہ انھوں نے ہمیشہ ملک و سماج سے جڑ کرتمام مسلمانوں اور عام انسانوں کی خدمت کو بھی اپنے دائرہٴ عمل میں شامل رکھا۔ علمائے دیوبند ہمیشہ سماج کے ہر طبقہ سے مربوط رہے اور ملت و سماج کی ضروریات کے پیش نظر انھوں نے حسب استطاعت اپنی خدمات پیش کرنے میں لیت و لعل سے کام نہیں لیا۔ عوام میں تعلیمی بیداری کا فروغ اور جہاد ِ آزادی میں سرگرم حصہ داری اسی احساس فرض کا نتیجہ تھی جس سے علمائے دیوبند نے کبھی پہلو تہی نہیں کی۔
۱۸۵۷ء میں انگریزی اقتدار سے ہندوستان کی آزادی کے لیے دارالعلوم کے اکابر بالخصوص حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی وغیرہ حضرات نے سرفروشانہ جد و جہد رقم کی۔لیکن یہ کوشش کام یاب نہ ہوسکی اور انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کرکے سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کا اعلان کردیا۔ سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد،مسلمان طبقہ خاص طور پر انگریزوں کی انتقامی کارروائی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا۔انگریزوں نے علماء و امراء کی ایک بڑی تعداد کو قتل کر دیا، مدارس و معاہد تباہ و برباد کردیے اور اسلامی تہذیب وثقافت کو ختم کرنے کا تہیہ کر لیا ۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں اکابرین دیوبند نے ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے مقصد سے تعلیمی تحریک برپا کرنے کا فیصلہ کیا اور دارالعلوم دیوبند اس سلسلہ کی پہلی کڑی تھی۔ سیاسی زوال نے مسلمانوں کو بے چارگی و مجبوری اور بے چینی و پریشانی کے جس عالم میں پہنچا دیا تھا، دارالعلوم دیوبند کے قیام سے انھیں سکون و اطمینان اور قرار نصیب ہوا۔اور پھر تاریخ نے ثابت کردیا کہ علماء نے فراست ایمانی سے جو فیصلہ کیا تھا اس کے بالکل صحیح نتائج برآمد ہونے شروع ہوگئے۔ جہاں ایک طرف دارالعلوم دیوبند نے دینی تعلیم کے فروغ ، عقائد صحیحہ و اسلامی تعلیمات کی اشاعت ، مسلمانوں کے دینی تشخص کی حفاظت اور اسلامی علوم و فنون کی ترقی و آبیاری میں بھرپور حصہ لیا وہیں دوسری طرف مجاہدین اور سرفروشوں کی ایک جماعت پیدا کی جس نے آزادی کے مبارک جذبہ کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ انگریزی سامراج کا اس وقت تک تعاقب کرتے رہے جب تک وہ اس ملک کو چھوڑ کر نہ چلا گیا۔
جہاد ۱۸۵۷ء کے بعد پہلے مرحلے میں دارالعلوم کا قیام عمل میں آیا۔ دارالعلوم نے خاموشی سے تقریبا ً پون صدی تک افراد کی تیاری پر توجہ مرکوز رکھی۔ بالآخر دارالعلوم دیوبند کے پہلے سپوت شیخ الہند حضرت مولانامحمودحسن دیوبندیکی مجاہدانہ سرگرمیوں سے یہ تحریک دوسرے مرحلے میں داخل ہوئی جس کو تحریک شیخ الہند یا عرف عام میں تحریک ریشمی رومال کہا جاتا ہے۔ تحریک شیخ الہند کی ابتدا بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ہوئی جب شیخ الہند حضرت مولانامحمودحسن دیوبندی کے شاگردوں اور متوسلین کی ایک بڑی جماعت اس انقلابی تحریک سے وابستہ ہوگئی۔شیخ الہندکے نمائندے ملک کے اندر اور ملک کے باہر افغانستان، آزاد علاقہ، صوبہ سرحداورحجازکے اندرسرگرم اورفعال تھے۔ جنگ عظیم کی ابتدا، عربوں کی ترکوں کے خلاف بغاوت، امیر حبیب اللہ کی طوطا چشمی اور دوسرے اسباب کی بنیاد پر تحریک ریشمی رومال اپنے انقلابی مقاصد کو پورا کرنے میں ناکام رہی ، لیکن اس تحریک کی تفصیلات سے بوریہ نشین علماء کی بلندیٴ فکر، مجاہدانہ اولوالعزمی اور ان کے تدبر و سیاست کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی تحریک آزادی کی تاریخ میں ’تحریک ریشمی رومال‘ ایک تابناک باب کی حیثیت رکھتی ہے۔
شیخ الہندکی اس تحریک میں مولانامنصورانصاری، مولانا فضل ربی، مولانافضل محمود، مولانا محمد اکبر کا شمار اہم ارکان میں تھا۔ مولانا عبدالرحیم رائے پوری، مولانا محمداحمدچکوالی، مولانامحمدصادق کراچوی، شیخ عبدالرحیم سندھی، مولانا احمدالله پانی پتی، ڈاکٹرمختار احمدانصاری وغیرہ نے اپنا تعاون پیش کیا۔ ان کے علاوہ مولانا محمد علی جوہر، مولاناابواکلام آزاد، مولانا احمد علی لاہوری، حکیم اجمل خان وغیرہ بھی آپ کے مشیر ومعاون تھے ۔ مالٹا کے اسارت خانہ میں حضرت شیخ الہند کے ساتھ آپ کے دیگر رفقاء حضرت مولاناحسین احمد مدنی، مولانا عزیر گل پشاوری،مولانا حکیم نصرت حسین امروہوی، مولانا وحید احمدفیض آبادی وغیرہم بھی قید کیے گئے تھے ۔
جمعیة علمائے ہند کا قیام
حضرت شیخ الہند نے مالٹا سے واپسی کے بعد ملک کی آزادی میں سرگرم حصہ لیا۔ مالٹا میں اسارت کے زمانے میں حضرت شیخ ا لہند نے محسوس کرلیا تھا کہ ہندوستان کی آزادی صرف ایک قوم اپنی کوشش سے حاصل نہیں کر سکتی ہے۔ لہٰذا آپ نے انقلاب و تشدد کی پالیسی بد ل کر ہندوستان کی آزادی کوہندو اور مسلمان کی مشترکہ جد وجہد سے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اسی سلسلہ میں آپ نے نیشنلسٹ طاقتوں کا ساتھ دیا ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنا میں حصہ لیا اور آپ کے شاگردوں نے جمعیة علمائے ہند قائم کی۔
۱۹۱۹ء میں ہی تحریک خلافت شروع ہوئی جو جنگ عظیم اول کے بعد خلافت عثمانیہ کے تحفظ اور ہندوستان پر برطانوی تسلط کے خلاف ایک نہایت موٴثر اور ہمہ گیر تحریک تھی ۔ اس تحریک نے ہندوستان میں ہندومسلم اتحاد کا عظیم الشان نمونہ پیش کیا اور اس پلیٹ فارم سے مسلمان اور ہندو شانہ بشانہ انگریزی حکومت کے خلاف لڑے۔ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی و دیگر علمائے دیوبند اس تحریک میں شریک رہے۔ ۱۳/ نومبر ۱۹۱۹ء کو دہلی میں خلافت کمیٹی کا اجلاس مولانا فضل الحق کی صدارت میں ہوا جس میں برطانیہ کے جشنِ صلح کے بائیکاٹ کی تجویز مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب نے پیش کی جس کی تائید میں گاندھی جی نے بھی تقریر کی۔ اسی موقع پر انقلابی علماء نے ’جمعیة علمائے ہند‘ کے نام سے باضابطہ دستوری جماعت کی تشکیل کا فیصلہ کیا جس کے پہلے صدر مفتیٴ اعظم حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی منتخب ہوئے۔ جمعیة علمائے ہند کے قیام کے بعد علمائے دیوبند کی مجاہدانہ سرگرمیاں اسی پلیٹ فارم سے جاری رہیں اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک اس جماعت کا بنیادی مشن تھا۔
جمعیة علمائے ہند اور جہاد آزادی
جمعیة علمائے ہند ایک ایسے وقت میں قائم ہوئی جب انگریزی استبداد اپنی آخری حدوں کو چھو رہا تھا اور کسی میں جرأت موجود نہیں تھی کہ وہ سات سمندر پار کی اس اجنبی مخلوق کے خلاف کوئی آواز بلند کر سکے، لیکن جمعیة علمائے ہند اور اس کے بانیوں نے سب سے پہلی جو آواز لگائی وہ وہی تھی جسے سننے کے لیے ہر ہندوستانی گوش بر آواز تھا، اس نے مکمل آزادی کا نعرہ دیا اور کہنا چاہیے کہ اس نعرہ کے ذریعہ اس نے تحریک آزادی کے لیے قائم تمام تنظیموں، تحریکوں اور انجمنوں پر سبقت حاصل کرلی۔
جون ۱۹۲۰ء میں خلافت کانفرنس الہ آباد میں نان کوآپریشن(ترک موالات) شروع کرنے کا فیصلہ ہوا۔ جولائی ۱۹۲۰ء میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے ترک موالات کا فتوی دیاجس کو بعد میں مولانا ابوا لمحاسن سجاد بہاری نے مرتب کرکے جمعیة علمائے ہند کی طرف سے ۴۸۴ دستخطوں کے ساتھ شائع کیا۔ غیر ملکی مال کے بائیکاٹ اور برطانوی حکومت کے ساتھ عدم تعاون کی یہ تجویزبہت کارگر ہتھیار تھا جوجنگِ آزادی میں استعمال کیاگیا، انگریزی حکومت اس کاپورا پورا نوٹس لینے پر مجبورہوئی اوراس کاخطرہ پیدا ہو گیا کہ پوراملکی نظام مفلوج ہوجائے اورعام بغاوت پھیل جائے۔
نومبر ۱۹۲۰ء میں جمعیة علمائے ہند کا دوسرا اجلاسِ عام دہلی میں حضرت شیخ الہند کی صدارت میں ہوا ۔ آپ نے اپنے خطبہٴ صدارت میں سیاسی جد وجہد کی منتشر طاقت کو متحد وموٴثر بنانے کے لیے کانگریس کے مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دی۔ حضرت شیخ الہند کی اس کوشش نے جنگ آزادی کے نعرہ میں ایک روح پھونک دی ۔
جولائی ۱۹۲۱ء میں خلافت کانفرنس کراچی کے اجلاس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے صاف لفظوں میں اعلان کیا کہ حکومت برطانیہ کے ساتھ موالات و اعانت کے تمام تعلقات اور ملازمت حرام ہے۔ اس کے پاداش میں کراچی کا مشہور مقدمہ چلا جس میں آپ کے ساتھ مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، گرو شنکراچاریہ وغیرہ کو دو دو سال قید بامشقت کی سزا ہوئی۔
جنوری ۱۹۲۴ء میں جمعیة علمائے ہند کے پانچویں اجلاس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے خطبہ میں آزادیٴ کامل کی طرف سب سے پہلے توجہ دلائی۔ پھر جمعیة علمائے ہند نے حضرت مولانا سید سلیمان ندوی کے صدارت میں ہونے والے ساتویں اجلاس میں ۱۴/ مارچ ۱۹۲۶ء کو سب سے پہلے مکمل آزادی کی تجویز پاس کی۔ ہندوستان پر برطانوی قبضہ کے خلاف ہندوستانیوں کی طرف سے یہ پہلی تجویز تھی جس نے ببانگ دہل برطانیہ سے ملک کی مکمل آزادی کی حمایت کی ، ورنہ اس وقت کانگریس وغیرہ دیگر قومی جماعتیں حکومت سے محض کچھ مراعات کی طالب ہوا کرتی تھیں۔ بالآخر جمعیة علمائے ہند کی یہی تجویز ملک کے ہر فرد کی آواز بن گئی۔
۱۹۲۹ء میں گاندھی جی کے ’ڈانڈی مارچ‘ اور نمک سازی تحریک میں جمعیة علمائے ہند کے رہ نما مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مفتی عتیق الرحمن عثمانی وغیرہ نے شرکت کی اور دیگر قومی کارکنوں کے ساتھ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا سید فخر الدین مراد آبادی، مولانا سید محمد میاں دیوبندی اور مولانا بشیر احمد بھٹہ وغیرہ بھی گرفتار ہوئے۔
۱۹۳۰ء کی تحریک سول نافرمانی میں جمعیة علمائے ہند کے صدر حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی اور ناظم اعلی جمعیة علمائے ہند مولانا احمد سعید دہلوی کو قانونِ تحفظِ عا مہ اور بغاوت کے جرم میں گرفتار کر کے قید بامشت کی سزا دی گئی۔ ۱۹۳۲ء میں جب دوبارہ سول نافرمانی کی تحریک شروع کی گئی تو جمعیة علمائے ہند نے بھی کانگریس کی جنگی کونسل کی طرح ’ادارہ حربیہ‘ قائم کر کے ڈکٹیٹرانہ نظام جاری کیا جس کے ذمہ دار مولانا ابوالمحاسن سجاد صاحب تھے۔ مارچ ۱۹۳۴ء میں جمعیة علمائے ہند کے پہلے ڈکٹیٹر حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی ایک لاکھ افراد کا جلوس لے کر نکلے اور گرفتار کر لیے گئے۔ جمعیة علمائے ہند کے دوسرے ڈکٹیٹر حضرت مولانا حسین احمد مدنی کو بھی دیوبند سے دہلی آتے ہوئے راستے میں گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا محمد میاں دیوبندی، رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی وغیرہم ڈکٹیٹر منتخب ہوتے رہے اور گرفتاریاں دیتے رہے۔ اس تحریک میں تقریباً تیس ہزار مسلمان گرفتار کیے گئے۔
۱۹۳۵ء میں حکومت ہند کا جو دستور بنایا گیا تھا اس میں مسلمانوں کی مذہبی و ملی مشکلات کے حل کے لیے جمعیة علمائے ہند نے ایک فارمولا پیش کیا تھا جس کو ’مدنی فارمولا‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اگر اس فارمولے کے مطابق دستور بنایا جاتا تو کافی حد تک مسلمانوں کی مشکلات حل ہوجاتیں اور ملک تقسیم نہ ہوتا۔ بہر حال گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء کے ذریعہ مسلمانوں کو جو بھی مراعات حاصل ہوئیں وہ اسی فارمولے کی بنیاد پر شامل ہوئیں۔
۳۷-۱۹۳۶ء میں جمعیة علمائے ہند نے حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی کی رہ نمائی میں صوبہ سرحد کی اسمبلی میں شریعت بل کا مسودہ پیش کر کے پاس کرایا ، جو بالآخر شریعت ایکٹ بنا اور آج تک نافذ ہے۔ ۱۹۳۷ء میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے انگریزی اقتدار کے مقابلے میں بلا تفریق مذہب و ملت ہندوستانیوں کے لیے متحدہ قومیت کی وکالت کی اور اس کو قرآن وحدیث سے ثابت کیا۔ اُس وقت مسلم لیگ اور ہندو مہا سبھا کی جانب سے مذہب پر مبنی تصورات پیش کیے جارہے تھے۔
۴۰-۱۹۳۹ء میں دوسری جنگ عظیم کے موقع پر جمعیة علمائے ہند نے جبری بھرتی کی پرزور مخالفت کی اور اعلان کیا کہ جنگ کے سلسلہ میں ہم کسی طرح کا تعاون نہیں کریں گے، جس کی پاداش میں جمعیة کے رہ نماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ۔ ان میں مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا محمد قاسم شاہجہانپوری، مولانا ابوالوفا شاہجہانپوری، ، مولانا محمد اسماعیل سنبھلی، مولانا شاہد میاں فاخری الہ آبادی، مولانا اختر الاسلام مدرسہ شاہی مرادآباد وغیرہ شامل ہیں۔
اپریل ۱۹۴۲ء میں جمعیة علماء کی بچھرایوں کانفرنس میں آزادی کے مطالبہ کی پاداش میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی کو جون ۱۹۴۲ء میں گرفتار کر لیا گیا اور چھ ماہ کی مدت اسارت ختم ہونے کے وقت دو بارہ غیر محدود عرصہ کے لیے نظر بند کردیا گیا۔ ۵/ اگست ۱۹۴۲ء کو جمعیة علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے چار مقتدر ارکان حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا احمد سعید دہلوی اور مولانا عبد الحلیم صدیقی لکھنوی کے دستخطوں سے ایک اخباری بیان جاری کیا گیا جس میں کھلے لفظوں میں کہا گیا تھا کہ ”انگریز ہندوستان چھوڑ دے“۔ اس کے بعد ۸/ اگست کو کانگریس نے بمبئی کے اجلاس میں ’کوئٹ انڈیا‘ (انڈیا چھوڑ دو)کی تجویز پاس کی۔ اس کی پاداش میں کانگریس کی طرح جمعیة علمائے ہند کے رہ نما اور ہزاروں کارکن گرفتار ہوئے جن میں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا محمد میاں دیوبندی، مولانا نور الدین بہاری وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
جمعیة علمائے ہند نے مسلمانوں کے لیے الگ اسٹیٹ یعنی نظریہٴ قیامِ پاکستان کی ہمیشہ پوری قوت کے ساتھ مخالفت کی۔لیکن ۱۵/ اگست ۱۹۴۷ء کو مجاہدین ملت کی بیش بہا قربانیوں کی بدولت جب آفتابِ آزادی نصف شب کو طلوع ہوا، برطانوی شاطر حکمراں اپنی پھوٹ ڈالنے والے سیاست میں کامیاب ہوچکے تھے۔ اس مبارک گھڑی میں ہندو مسلم اتحاد کی وہ عمارت جس کی تعمیر جمعیة علماء کے اکابر نے کی تھی وہ لرزہ بر اندام ہوگئی ، نفرت کی آندھیوں میں صدیوں کے پروردہ رشتے کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹ گئے۔ اس وقت شمالی ہند کے مسلمانوں کے سامنے کربلا جیسے مناظر تھے۔ اس بھیانک تاریکی میں جمعیة علمائے ہند نے امید کا چراغ روشن کیا، لڑکھڑاتے قدموں کو سہارا دیا اور حوصلوں کو بحال کیا ۔
جمعیة علمائے ہند کی ملکی و ملی خدمات
۱۹۴۷ء میں ملک کی آزادی اور مسلم آبادی کی تقسیم کے بعد ہندوستان میں قیام کا فیصلہ کرنے والے مسلمانوں کے لیے زندگی بہت مشکل تھی، خصوصاً شمالی ہند اور دہلی و اطراف کے مسلمانوں پر ایک قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی تھی۔ ان پرخطر اور نازک حالات میں مسلمانوں کو تسکین و تسلی دینے اور ان کے پیروں کو جمانے میں اکابرِ جمعیة نے اہم کردار ادا کیا۔
اسی طرح ملک کے طول و عرض میں فرقہ وارانہ فسادات اورفرقہ پرستی کی روک تھام کے لیے طویل اور صبر آزما جد و جہد کی۔ اس سلسلہ میں جمعیة علماء نے پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ایوانوں سے لے کر عوامی مقامات اور جلسہ گاہوں سے فرقہ واریت کی مخالفت کی اور ملک دشمن طاقتوں کو آشکارا کیا۔ جمعیة علماء کے علماء و اکابر نے بڑی جرأت اور استقامت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا اور فساد زدہ مسلمانوں کی مدد اور باز آبادکاری میں جو خدمات انجام دیں وہ ہماری ملّی تاریخ کا روشن باب ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے جمعیة علمائے ہند کی سب سے اہم خدمت اور کارنامہ ہندوستانی دستور کا سیکولر ڈھانچہ ہے۔ دستور کے بہت سے اجزا جن کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق مسلمانوں سے ہے ، حالات و ماحول کے لحاظ سے جو بھی ممکن تھا مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے دستور ساز اسمبلی کے رکن ہونے کی حیثیت سے وہ کردکھایا۔ آج دستور میں اقلیتوں کو جو حقوق ، مراعات اور ضمانتیں دی گئی ہیں ان میں سے بیشتر جمعیة علمائے ہند کے رہ نماوٴں کی جدوجہد اور کوششوں کا ثمرہ ہیں۔ آج دستور کی وہی دفعات ہیں جو مسلمانوں کو ہندوستان میں سربلند رکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ اگر ان حقوق کو حاصل کرنے کی طاقت پیدا ہوجائے اور مسلمان احساسِ کمتری سے نکل آئیں تو ان کا مستقبل تابناک ہوسکتا ہے۔
جمعیة علمائے ہند نے ملک کے دستور اور اس کے سیکولر تانے بانے سے چھیڑ چھاڑ کرنے والی ہر کوشش اور سازش کے خلاف آواز اٹھائی۔ وہ خواہ پرارتھنا یا قومی گیت، وندے ماترم کا معاملہ ہو یا نصابی کتابوں میں مخصوص فرقہ وارانہ ذہنیت کی پرورش کا، خواہ یکساں سول کوڈ کامعاملہ ہو یا مذہبی عمارات بل کا، خواہ سرحدی علاقوں میں مسلمانوں کی شہریت کا مسئلہ ہو یا مسلم عائلی مسائل سے چھیڑ چھاڑکا، ہر معاملہ میں جمعیة علمائے ہند نے اپنے دستوری حق کے حصول اور سیکولزم کی بقا کے لیے پوری کوشش کی۔ جمعیة علمائے ہند کی انھیں کوششوں کی وجہ سے دستور اور سیکولرزم میں یقین نہ رکھنے والے افراد اور جماعتوں کی ناپاک سازشیں کام یابی سے ہم کنار نہ ہوسکیں۔
ہندوستان میں موقوفہ جائیدادوں اور مسلم اوقاف پر غاصبانہ قبضے، قبرستانوں اور مسجدوں تک کی فروخت ، نااہل متولیوں کی جارحانہ گرفت و خیانت ، زمینداری کے خاتمہ کے نتیجہ میں اوقاف کے سلسلہ میں پیش آمدہ دشواریاں ، وقف کمیٹیوں کی حالتِ زار اور اس طرح کے دوسرے بہت سے متعلقہ مسائل ایسے تھے جنھوں نے ملت کے لیے مالی، اقتصادی اور مذہبی دشواریاں پیدا کردی تھیں ۔ چناں چہ جمعیة علمائے ہند نے ان مسائل کی طرف بھرپور توجہ دی۔ جمعیة علماء نے مختلف مواقع پر موٴثر تجاویز، قانونی کارروائی اور اثر و رسوخ کے ذریعہ اوقاف کی بحالی اور اصلاح و درستگی کے لیے قدم اٹھایا۔ اس سلسلہ میں فروری ۱۹۷۹ء کو کل ہند اوقاف کانفرنس منعقد کی گئی اور جمعیة کی وقف کمیٹی کے مرتب کردہ مسودہ کو پارلیمنٹ میں پاس کرکے ایکٹ کی صورت دی گئی۔
بابری مسجد کا قضیہ ہندوستان کی تاریخ کا سب سے اہم اور حساس قضیہ ہے جس کی وجہ سے ملک میں فسادات ، قتل و خون ، بد امنی و بے چینی اور افتراق و انتشار کا ایک طوفان برپا ہو اور بالآخر فرقہ پرستوں نے حکومتی پشت پناہی میں ۶/ دسمبر ۱۹۹۲ء کو بابری مسجد کو شہید کرڈالا ۔ بابری مسجد کیس میں جمعیة علمائے ہند ۱۹۳۴ء ہی سے سرگرم عمل ہے جب انگریزوں نے ہندو مسلم کو باہم لڑانے اور اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے مقصد سے بابری مسجد کی جگہ کے سلسلہ میں من گھڑت واقعات کی بنیاد پر رام جنم بھومی کا شاخسانہ پیدا کیا جب کہ ساڑھے تین سو سال بابری مسجد کے تعلق سے کوئی جھگڑا نہیں تھا اور تاریخی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ رام مند توڑ کر بابری مسجد بنائی گئی۔
مارچ ۱۹۳۴ء میں دو فرقوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب صدر جمعیة علمائے ہند نے خود اجودھیا جاکر حالات کا جائزہ لیا اور ورکنگ کمیٹی کو رپورٹ پیش کی۔ دسمبر ۱۹۴۹ء کی جس رات کو مسجد میں بت رکھے گئے جمعیة علماء کے قائدین حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی اور مجاہدِ ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے اس جسارت کو ہندوستان کی جمہوریت کے لیے بدنما داغ اور سیکولزم کے لیے شرمناک حرکت قرار دیا ۔ جمعیة علماء نے موضوع کی نزاکت کے پیش نظر فیصلہ کیا کہ اس کو عوامی مسئلہ نہ بنایا جائے، بلکہ قانونی کارروائی اور حکومت کے ساتھ رابطہ سے اس مسئلہ کے حل کی کوشش کی جائے۔ اسی مقصد کے پیش نظر جمعیة نے قانونی انصاف کے حصول کے لیے ۱۹۴۹ء ہی میں عدالتی کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔ دوسری طرف جمعیة علماء نے برادران وطن کو مسئلہ کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور مبنی بر انصاف پالیسی اپنانے کے لیے بابری مسجد کے تعلق سے تاریخی حقائق کو آشکارا کرنا شروع کیا۔ اس کے لیے انھوں نے باہمی تبادلہٴ خیال کی راہ اپنائی اور بالآخر وہ برادران وطن کی ایک بڑی تعداد کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جمعیة کی یہ پالیسی نہ صرف مسجد کے تحفظ کے نقطہٴ نظر سے ضروری تھی بلکہ ملکی اتحاد اور قومی یکجہتی کے لیے بھی ضروری تھی۔لیکن حکومت کی منافقانہ پالیسیوں اور فرقہ پرستوں کی بڑھتی قوت کے پیش نظر بیسوی صدی کی آٹھویں دہائی میں بابری مسجد کا قضیہ ایک حساس سیاسی اور فرقہ وارانہ مسئلہ بن گیا اور آخر کار بابری مسجد کو فرقہ پرستوں نے حکومتی سرپرستی میں دن دہاڑے شہید کرڈالا۔ جمعیة علماء اس وقت سے لے کے اب تک بابری مسجد کیس میں مدعی ہے اور اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
جمعیة علماء کے اکابر و اسلاف نے ابتدا ہی سے جو معتدل پالیسی اپنائی تھی وقت کی کسوٹی نے اسے حرف بہ حرف صحیح ثابت کردکھایا ہے۔ جو لوگ جمعیةعلماء کو اس کی معتدل پالیسی کی وجہ سے مصلحت پسندی کا طعنہ دے کر بدنام کرتے تھے، آج وہ بھی اس اعتراف پر مجبور ہیں کہ اکابر جمعیة نے بابری مسجد کے تئیں جو پالیسی بنائی تھی اس پر عمل کیا جاتا اگر تو آج شاید وہ حالات رو نما نہیں ہوتے جو اس وقت ہندوستانی مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کے لیے باعثِ تشویش بنے ہوئے ہیں۔
جمعیة علمائے ہند کا دائرہٴ کار بہت وسیع ہے۔ اس نے اردو زبان کے تحفظ ، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے تحفظ اور دیگر بہت سے اہم مسائل میں ملک و ملت کی قیادت کی۔ جمعیة علماء نے ہندوستان میں مسلمانوں کو مذہبی طور پر متحد کرنے کے لیے امارت شرعیہ قائم کی اور دوسری طرف مسلمانوں کے اندر پیدا ہونے والی بہت سی مذہبی و سماجی برائیوں کے خاتمہ کے لیے اصلاح معاشرہ تحریک کی شروعات کی۔ آزاد ہندوستان میں امن وامان، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، جمہوریت کے فروغ اور سیکولزم کے تحفظ کے لیے اکابر جمعیة اور علمائے دیوبند کی کوششیں جدید ہندوستان کی تاریخ کا روشن باب ہے جنھیں کوئی انصاف پسند موٴرخ نظر انداز نہیں کرسکتا۔
جمعیة علمائے ہند اور دارالعلوم دیوبند
جمعیة علمائے ہند، آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کی سب سے قدیم اور بڑی تنظیم ہے جس نے مسلمانوں کے جان و مال اور دین و مذہب کے تحفظ ، فرقہ واریت کی مخالفت، تعلیم اور ریلیف و باز آبادکاری کے میدانوں میں عظیم الشان اور قابل فخر خدمات انجام دی ہیں۔ جمعیة علماء کے تقریباً تمام ہی مرکزی صدور اور صوبہ جات و اضلاع کے صدور و ذمہ داران دارالعلوم دیوبند کے اکابر و علماء رہے ہیں جن میں حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی، حضرت مولانا حسین احمد مدنی، حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، حضرت مولانا محمد میاں دیوبندی، حضرت مولانا سید فخر الدین مرادآبادی، حضرت مولانا سید اسعد مدنیوغیرہ جیسی شخصیات قابل ذکر ہیں۔ جمعیة علمائے ہند کی موجودہ قیادت (حضرت مولانا سید ارشد مدنی، حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری، حضرت مولانا محمود مدنی، حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی اور حضرت مولانا سید اشہد رشیدی وغیرہ ) بھی نہ صرف دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ بلکہ دونوں جمعیتوں کے صدور حضرات دارالعلوم دیوبند کے موقر اساتذہٴ حدیث ہیں۔
دارالعلوم دیوبند کی کوکھ سے جہاں مدارس اسلامیہ کا سلسلہ شروع ہوا جس نے پوری دنیا میں علوم دینیہ اور اسلامی تشخص کی بقا و ترقی کا سامان فراہم کیا ، وہیں ہندوستان میں ملکی و ملی اور سیاسی و سماجی خدمات کا عظیم الشان پلیٹ جمعیة علماء کی شکل میں سامنے آیا اور اسی کے طرز پر ہندوستان سے باہر پاکستان، بنگلہ دیش ، ساؤتھ افریقہ اور برطانیہ وغیرہ میں مسلمانوں نے اپنی جمعیتیں قائم کیں۔ علمائے دیوبند ہی کی کوششوں سے تبلیغی اور دعوتی سرگرمیوں کے لیے جماعت تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوا جو آج پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔

جمعیۃ : ہند میں سرمایہ ملت کی نگہبان

۲۳؍ نومبر۱۹۱۹ مطابق یکم ربیع الاول ۱۳۳۸ھ یوم تاسیس جمعیۃ علماء ہند؛ ملت اسلامیہ ہند کے لیے عظیم تاریخی انقلاب کا دن ہے

محمد یاسین قاسمی جہازی، شعبہ دعوت اسلام جمعیۃ علماء ہند

چوں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت پورا عرب ترکوں کے زیر حکومت تھا، اس لییعالم اسلام کی نگاہوں میں ترکی حکومت کو ’حکومت اسلامیہ‘ اور اس کے خلیفہ کو ’خلیفۃ المسلمین‘ کہاجاتا تھا۔ پہلی جنگ عظیم (۲۸؍ جولائی ۱۹۱۴ء ، ۱۱؍ نومبر ۱۹۱۸ء)میں ترکی نے برطانیہ کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا تھا۔ترکی کے جنگ میں شامل ہونے کی وجہ سے بھارتی مسلمانوں کو تشویش ہوئی کہ اگر برطانیہ کامیاب ہو گیا تو ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ بھارتی مسلمانوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم لائیڈ جارج سے وعدہ لیا کہ جنگ کے دوران مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی بے حرمتی نہیں کی جائے گی اور جنگ کے بعد مسلمانوں کی خلافت محفوظ رہے گی؛ لیکن برطانیہ نے فتح ملنے کے بعد وعدہ خلافی کرتے ہوئے عربوں کو ترکی کے خلاف جنگ پر اکسایا ، جس کے نتیجے میں بہت سے عرب مقبوضات ترک سلطان کے ہاتھ سے نکل گئے ، جس پر بعد میں انگریزوں نے قبضہ کرلیا اور پھر ترکی کو تقسیم کرکے خلافت اسلامیہ کا خاتمہ کردیا۔ انگریزوں کی اس بد عہدی نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو غم و غصہ سے بھر دیا،جس کے نتیجے میں ’تحریک خلافت‘ رونمائی ۔ اسی تحریک کا پہلا اجلاس’’آل انڈیا خلافت کانفرنس‘‘ کے نام سے بروز اتوار، پیر، ۲۳؍ ۲۴؍ نومبر ۱۹۱۹ء مطابق ۲۹؍ صفر و یکم ربیع الاول ۱۳۳۸ھ کوبمقام کرشنا تھیٹر، پتھر والا کنواں دہلی میں ہورہا تھا ، جس میں بھارت کے کونے کونے سے مختلف مسلک و مشرب کے علمائے کرام شریک تھے۔
علمائے کرام کے باہمی مسلکی اختلاف سے امت مسلمہ کی جو نازک حالت بنی ہوئی تھی، اس نے انھیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اگر ہم یوں ہی عقیدہ و فرقہ کا کھیل کھیلتے رہے ، تووہ دن دور نہیں، جب خلافت کی طرح ہمارا وجود بھی صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ وقت کی اسی نزاکت و ضرورت کو سمجھتے ہوئے مولانا عبد الباری صاحب فرنگی محل، یا مفتی اعظم حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے علماء کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ۲۲؍ نومبر ۱۹۱۹ء بروز سنیچرحضرت مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ کی ہدایت کے مطابق مولانا احمد سعید اور مولانا آزاد سبحانی صاحبان نے خلافت کانفرنس میں تشریف لائے علمائے کرام کی قیام گاہوں پر جاکر فردا فردا ملاقات کی اور بڑی راز داری کے ساتھ انھیں ایک تنظیم کی نیو رکھنے کی دعوت دی۔ حکومت برطانیہ چوں کہ علماء پر بہت زیادہ نظر رکھے ہوئے تھی ، اس لیے خطرہ تھا کہ اگر کہیں انگریزوں کو بھنک بھی پڑ گئی تو علماء پر حکومت کے قہر و جبر کی قیامت ٹوٹ پڑے گی، اس لیے ۲۳؍ نومبر ۱۹۱۹ بروز اتوار بعد نماز فجرپچ کوئیاں روڈ دہلی میں واقع سید حسن رسول نما کے مزار پرحاضر ہوکر سب نے مل کریہ قول و قرار لیا کہ
’’ہم سب دہلی کے مشہور ومقدس بزرگ کے مزار کے سامنے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر یہ عہد کرتے ہیں کہ مشترک قومی و ملی مسائل میں ہم سب آپس میں متحد ومتفق رہیں گے اور فروعی و اختلافی مسائل کی وجہ سے اپنے درمیان کوئی اختلاف پیدا نہیں کریں گے، نیز قومی و ملکی جدوجہد کے سلسلے میں گورنمنٹ کی طرف سے جو سختی اور تشدد ہوگا، اس کو صبرو رضا کے ساتھ برداشت کریں گے اور ثابت قدم رہیں گے۔ جماعت کے معاملہ میں پوری پوری رازداری اورامانت سے کام لیں گے۔ (تحریک خلافت، ص؍۴۰: قاضی عدیل عباسی)
جو علمائے کرام فروعی اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے سے اس قدر دور ہوگئے تھے کہ ایک دوسرے کی تکفیر کرتے نہیں تھکتے تھے اور ایک دوسرے کو سلام تک کرنا گوارا نہیں کرتے تھے؛ حلف راز داری کے بعد اسی روز، یعنی ۲۳؍ نومبر ۱۹۱۹ء مطابق یکم ربیع الاول بروز پیر بعد نماز عشا مسجد درگاہ سید حسن رسول نما میں ایک ساتھ ایک دل اور ایک جان ہوکر بیٹھے اور پوری قوت کے ساتھ میدان عمل تیار کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم تشکیل دی، جس کو ایک خوبصورت نام دیا ، یعنی جمعیۃ علماء ہند۔ اس کے عارضی صدر حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب کوعارضی ناظم بنایا گیا۔ اس تاسیسی اجلاس میں مختلف العقائد کے درج ذیل ۲۵؍علمائے کرام شریک تھے:
(۱) حضرات مولانا عبد الباری ،(۲) مولانا سلامت اللہ، (۳)مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ، (۴) پیر محمد امام سندھی،(۵) مولانا اسد اللہ سندھی،(۶) مولانا سید محمد فاخر، (۷) مولانا محمد انیس، (۸)مولانا خواجہ غلام نظام الدین،(۹) مولانا محمد کفایت اللہ، (۱۰) مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی، (۱۱) مولانا احمد سعیددہلوی،(۱۲) مولانا سید کمال الدین،(۱۳) مولانا قدیر بخش، (۱۴)مولانا تاج محمود،(۱۵)مولانا محمد ابراہیم دربھنگوی،(۱۶) مولانا خدا بخش مظفر پوری، (۱۷)مولانا مولا بخش امرتسری،(۱۸) مولانا عبد الحکیم گیاوی،(۱۹) مولانا محمد اکرام،(۲۰) مولانا محمد منیرالزماں،(۲۱) مولانا محمد صادق،(۲۲) مولانا سید محمد داؤد،(۲۳) مولانا سید محمد اسماعیل،(۲۴) مولانا محمد عبداللہ ،(۲۵) مولانا آزاد سبحانی۔
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ (اسیر مالٹا) کو مستقل صدر، اور حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کو نائب صدراور مولانا احمد سعید صاحب کو مستقل ناظم اعلیٰ بنایاگیا ۔اس میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ دسمبر میں چوں کہ خلافت کانفرنس امرتسر میں ہونے والی ہے، اس لیے اسی موقع پر جمعیۃ علماء ہند کا بھی اجلاس کرلیا جائے۔
جمعیۃ علماء ہند کا پہلا اجلاس
جمعیۃ علماء ہند کے قیام کے محض ۳۵؍ دن بعد،۲۸، ۳۱؍ دسمبر۱۹۱۹ء اور یکم جنوری ۱۹۲۰ء کی الگ الگ تاریخوں میں تین نشستوں پر مشتمل اسلامیہ مسلم ہائی اسکول امرتسر میں جمعیۃ علماء ہند کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ پہلی نشست میں باون علمائے کرام شریک ہوئے اور جمعیۃ علمائے ہند کے قیام کی ضرورت و اہمیت پر بحث و گفتگو ہوئی۔ ۳۱؍ دسمبر ۱۹۱۹ کو دوسری نشست ہوئی جس میں تیس علمائے کرام نے شرکت کی۔ اس میں کل تین تجویزیں منظور ہوئیں، جن میں خلافت اسلامیہ کے خلیفہ سلطان عبد الحمید کے نام کا خطبہ پڑھنے، صلح کانفرنس میں بھارتی مسلمانوں کے وفد کے بھیجنے اور اس تجویز کو ملک معظم کی خدمت میں بھیجنے کی تجاویز تھیں۔تیسری نشست یکم جنوری ۱۹۲۰ء کو ہوئی ، جس میں چوبیس علمائے کرام شریک ہوئے ۔اس میں بھی کئی تجاویز پاس ہوکر منظور ہوئیں اور سب سے پہلی مجلس منتظمہ کی تشکیل عمل میں آئی، اور تئیس درج ذیل اراکین منتخب کیے گئے:
(۱) مفتی محمد کفایت اللہ صاحب دہلوی، (۲) مولانا احمد سعید صاحب دہلوی، (۳)حکیم محمد اجمل خان صاحب دہلوی، (۴) مولانا عبد الماجد صاحب بدایونی،(۵) مولانا محمد فاخر صاحب الٰہ آبادی، (۶) مولانا محمد سلامت اللہ صاحب، (۷) مولانا حسرت موہانی صاحب، (۸) مولانا مظہر الدین صاحب، (۹) مولانا محمد اکرام خاں صاحب، (۱۰) مولانا منیر الزماں صاحب، (۱۱)مولانا محمد سجاد صاحب، (۱۲) مولانا رکن الدین صاحب دانا، (۱۳) مولانا خدا بخش صاحب، (۱۴) مولوی پیر تراب صاحب، (۱۵) مولانا عبد اللہ صاحب، (۱۶) مولانا محمد صادق صاحب، (۱۷) مولانا ثناء اللہ صاحب، (۱۸) مولانا سید داؤد صاحب، (۱۹) مولانا محمد ابراہیم صاحب، (۲۰) مولانا عبد اللہ صاحب، (۲۱) مولانا عبدالمنعم صاحب، (۲۲) مولانا سیف الدین صاحب، (۲۳) حکیم ابو یوسف اصفہانی صاحب۔
جمعیۃ علماء ہند کے پہلے دن، پہلی میٹنگ، پہلے اجلاس اور پہلی مجلس منتظمہ کی تفیصلات آ پ نے مطالعہ کرلیا، آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں، اس کے اب تک کی دو اعلیٰ قیادت صدور و نظما کی فہرست پر:
صدور
(۱) حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ؒ (پہلے عارضی صدر۲۳؍ نومبر ۱۹۱۹)
(۲) شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندؒ (پہلے مستقل صدر۲۳؍ نومبر ۱۹۱۹، تا ۲۰؍ نومبر ۱۹۲۰)
(۳) حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ۔ (۷؍ ستمبر ۱۹۲۱، تا ۷؍ جون ۱۹۴۰ء)
(۴) شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ (جون ۱۹۴۰)
(۵)حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ (۱۹۵۷)
(۶) حضرت مولانا سید فخر الدین صاحبؒ (۱۹۵۹)
(۷) حضرت مولانا عبد الوہاب صاحب ؒ (عبوری صدر)(۱۹۷۲)
(۸) حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحبؒ (اگست ۱۹۷۳)
(۹) حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب (۲۰۰۶)
(۱۰) حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب (۶؍ مارچ۲۰۰۸، تا حال)
نظما
(۱) حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ (پہلے عارضی ناظم۲۳؍ نومبر ۱۹۱۹ء)
(۲) حضرت مولانا احمد سعید صاحب ؒ (پہلے مستقل ناظم عمومی، نومبر ۱۹۲۰)
(۳) حضرت مولانا سجاد بہاری صاحبؒ (جولائی ۱۹۴۰ء )
(۴) حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحبؒ (مارچ ۱۹۴۲)
(۵)حضرت مولانا محمد میاں صاحبؒ (اگست ۱۹۶۲)
(۶) حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحبؒ (جون ۱۹۶۳ء)
(۷) حضرت مولانا سید احمد ہاشمی صاحبؒ (اگست ۱۹۷۳ء)
(۸) حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی صاحب (۱۹۸۱)
(۹) حضرت مفتی عبد الرزاق صاحب (۱۹۹۱)
(۱۰) حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب (اپریل ۱۹۹۵)
(۱۱) حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب (۲۰۰۲)
(۱۲) حضرت مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب (۹؍ مئی۲۰۰۸)
(۱۳) حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب (۲۰۱۱ء تاحال)
اس فہرست سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ جمعیۃ علماء ہند کی قیادت ہمیشہ وقت کی بزرگ اور معتبر شخصیات کی ہاتھوں میں رہی ہے، جنھوں نے اپنی ایمانی فراست اور سیاسی بصیرت سے ہمیشہ مسلمانوں کے لیے تعمیری اور مثبت کارنامے انجام دیے ہیں ، جو تاریخ عالم پر ثبت ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کی خدمات کے جلی عنوانات
آج بتاریخ ۲۳؍ نومبر ۲۰۱۸ء اس جماعت کی تشکیل کو ننانوے سال پورے ہورہے ہیں ، اگر اس قدیم سالہ جماعت کی خدمات کو تفصیلی طورپر شمار کرایا جائے ، تو یہ اب ناممکن ہے ۔ ناممکن اس لیے نہیں ہے کہ کوئی لکھنے والا نہیں ہے؛ بلکہ ماضی میں جمعیۃ کی خدمات کا جتنا تذکرہ کتابوں میں ملتا ہے، اس سے کہیں زیادہ خدمات وہ ہیں جنھیں کبھی لکھا ہی نہیں گیا ہے۔ اور نہ لکھنے کی ایک لمبی کہانی ہے ۔ مختصرا یہ عرض ہے کہ سید الملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب کے بقول جمعیۃ علماء ہند پر انگریزجاسوسوں کی گہری نظر رہتی تھی ، اس لیے جو فیصلے اور لائحۂ عمل طے کیے جاتے تھے ، وہ لکھنے کے بجائے زبانی ہوتے تھے اور یہ زبانی فیصلے بھی کوڈ میں ہوا کرتے تھے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ کا بڑا حصہ حیطۂ تحریر میں نہیں لایاجاسکا۔ اب موجودہ وقت میں ان کا ماخذ صرف اس زمانے سے وابستہ جمعیۃ علماء ہند کے خادمین اور مخدومین ہیں اور ان کے پاس بھی جو سرمایہ ملے گا، وہ زبانی روایتیں ہی ہوں گی اورویسے بھی اب ان کو زندوں میں تلاش کریں، تو ان کی تعداد آٹے میں نمککے برابر بھی نہیں ملے گی، اس لیے ہم پوری تفصیلات پیش کرنے سے عاجزی کے اظہار کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے؛تاہم جو خدمات تاریخ کے صفحات میں قید ہیں، اگر ہم ان کے صرف عنوانات کا جائزہ لیتے ہیں، تو وہ کچھ اس طرح ہیں:
(۱) ہندستان کی مکمل آزادی کے لیے بھرپور جدوجہد۔
(۲) تعلیمی اداروں کا قیام اور تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر مکاتب کا نیٹ ورک پھیلانے کی کوششیں۔
(۳)جمہوری نظام حکومت میں برادران وطن کے ساتھ مل کر کام کرنے اور ان سے کام لینے کی حکمت عملی اپنانے پر زور۔
(۴)مسلمانوں کے شرعی مسائل میں کسی بھی طرح کی مداخلت کے خلاف انقلابی کوشش۔
(۵)مساجد، مدارس ، مکاتب، مقابر،خانقاہوں اور دیگر اسلامی اداروں کے تحفظات کے لیے لازوال جدوجہد۔
(۶) اردو کی بقا کے لیے مناسب اقدامات۔
(۷)مسلمانوں کی صلاح و اصلاح کے لیے اصلاح معاشرہ کے پروگرام۔
(۸)اوقاف کے تحفظ کی کوششیں۔
(۹)فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف سخت جدوجہد۔
(۱۰)مسلمانوں کی ملی شناخت کو مٹانے کی سازشوں کو ناکام بنانے کی بھرپور جدوجہد۔
(۱۱) دستور میں مسلمانوں کو ان کے دینی ، ملی، سیاسی اور تعلیمی حقوق سے محروم کرنے یا نقصان پہچانے کی غرض سے کی جانے والی ترمیموں کے خلاف سخت ایکشن۔
(۱۲) پاکستان کے نام سے مسلمانوں کو ایک الگ ملک دینے کی شدید مخالفت اور اس کے بجائے متحدہ قومیت کی وکالت۔
(۱۳) تقسیم ہند کے نتیجے میں آبادی کی تبدیلی کی ہولناک تباہی و بربادی اور فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کی انتھک جدوجہد اور مسلمانوں کو اس ملک میں عزت کے ساتھ رہنے کی حوصلہ افزائی۔
(۱۴) انخلاکنندگان کی جائیدادوں کے سلسلے میں جاری مبہم آرڈی ننس کی وجہ سے مسلمانوں کی جائیدادوں کو درپیش خطرہ اور کسٹوڈین کے من مانی کے خلاف جنگی جدوجہد۔
(۱۵) فرقہ پرست تخریبی طاقتیں اور ایڈمنسٹریشن کے ایک مخصوص طبقہ کا مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت حالات پیدا کردینے کے پیش نظر تمام سنجیدہ اور بااثر حضرات سے مل بیٹھ کر غورو فکر کرنے کی دعوت۔
(۱۶) جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونی ورسیٹی علی گڑھ کے اقلیتی کردار کی بحالی کی کوشش۔
(۱۷)فلسطین اور پوری دنیا میں انسانیت پرہورہے مظالم کے خلاف سخت احتجاج۔
(۱۸)اکابر کی خدمات سے نئی نسل کو روشناس کرانے کے لیے سیمنار اور پروگراموں کا انعقاد۔
(۱۹)حرمین شریفین کے تحفظ کی کوشش۔
(۲۰) حجاج کرام کی پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش۔
(۲۱)ارتداتی سرگرمیوں پر روک لگانے کے لیے حالات کے تقاضے کے مطابق کمیٹیوں کی تشکیل اور عیسائی مشنریز کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے موثر اقدامات
(۲۲)توہین رسالت کے معاملے پر سخت ایکشن۔
(۲۳) مسلمانوں کے شرعی مسائل کے حل کے لیے مباحث فقہیہ اور امارت شرعیہ کا قیام۔
(۲۴)دہشت گردی مخالف کانفرنسوں کا انعقاد۔
(۲۵) قدرتی آفات اور فرقہ وارانہ فسادات میں اجڑے اور برباد ہوئے لوگوں کے لیے وسیع پیمانے پر ریلیف ورک اور باز آباکاری کی انتھک کوششیں۔
(۲۶)جیلوں میں بے قصور بند افراد کی رہائی کے لیے قانونی چارہ جوئی۔
(۲۷) عالم اسلام کے مسائل پر گہری نظر ۔
(۲۸) مسلمانوں کے سیاسی مفادات کا تحفظ۔
(۲۹) مسلمانوں کی ملی وحدت برقرار رکھنے کی کوشش۔
(۳۰) مسلمانوں اور برادران وطن کی سماجی اور اقتصادی خدمات۔
( ۳۱) علمی و اشاعتی کارنامے۔
(۳۲) حالات اور وقت کے تقاضے کے مد نظر کانفرنسوں اور جلسہ ہائے عام کا انعقاد۔
یہ وہ جلی عنوانات ہیں ، جن پر جمعیۃ علماء ہند نے اپنی خدمات سے ایک تاریخ رقم کی ہے۔اور جن سے آپ بہ خوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ بھارتی مسلمانوں کے لیے جمعیۃ علماء ہند کا وجود کیا حیثیت رکھتا ہے ۔ تاریخ کی شہادت کی روشنی میں یہ دعویٰ کرنا نہ مبالغہ آرائی ہوگی اور نہ ہی خلاف واقعہ حکایت کہ ماضی میں جس قسم کی سیاست ہوئی ہے اور حال میں جس قسم کی سیاست ہورہی ہے، اگر جمعیۃ نہ ہوتی، تو بھارتی مسلمانوں کے لیے یہ ملک برما سے بھی زیادہ بدتر ہوتا ۔
موجودہ حالات میں بھی جب کہ ہر طرف خوف و ہراس اور دہشت گردی ناچ رہی ہے، کچھ لوگ بھیڑ کے مذہبی جذبات کو بھڑکاکر انسانیت کے چہرے کو نوچ رہے ہیں، اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے عرصہ حیات کو تنگ کرنے کی ہر گھڑی سازشیں ہورہی ہیں، جن سے ہمہ وقت یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ مشترک قومی سماج میں نہ جانے کب ایک پڑوسی دوسرے کے لیے بھیڑیہ بن جائے اور انسان اپنے ہی بھائیوں کے خون کا پیاسا ہوجائے، ایسے حالات میں سیکولرازم اور جمہوریت کی فضا کو قائم رکھنا ،اکثریتی سماج میں اقلیت کی حفاظت کو یقینی بنانا ،ظلم و بربریت کے پہاڑ ٹوٹنے کے باوجود مایوسی سے بچائے رکھنااور حق داری کے دعویٰ کے ساتھ سر اٹھاکر جینے کاحوصلہ بخشنا ؛ یہ صرف اور صرف جمعیۃ علماء ہند کا کارنامہ ہے۔سردست حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری صدر جمعیۃ علماء ہند اور قائد جمعیۃ حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کی بصیرت افروز قیادت کے تلے جمعیۃ علماء ہند ، ہند میں سرمایہ ملت کی نگہبانی کا فریضہ انجام دینے میں پیہم رواں دواں ہے۔

آئین ہند یا منوسمرتی: بھارت میں کس کی حکمرانی؟

عظیم اللہ صدیقی قاسمی

90 سال پہلے 25 دسمبر 1927کو کمزورطبقات ، دلت و خواتین کی عزت نفس اور تحفظ کے لیے خالق دستور ہند بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈ کرنے مہاراشٹر کے ساحلی علاقہ مہاڑ (کوکن) میں منوسمرتی دہن(نذرآتش) اور اسے باضابطہ دفن کرتے وقت جس دکھ کا اظہار کیا تھا، کیا وہ دکھ ختم ہو گیا اور کیا بھارت سے وہ سوچ مٹ گئی ؟ کیا بھارت اب ایک بار پھر ایسی سوچ کی گرفت میں نہیں آئے گا اور کیا بھارت کے لوگ اس تفریق اور جات پات کی لعنت سے پاک ہو گئے یا زخم ابھی بھی تازہ ہے ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کو 26؍ نومبر کو یوم دستور کے موقع پر ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت ہے ۔یہ سوال پوچھنے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کیوں کہ موجودہ حالات میں لوگ بری طرح کنفیوژن کے شکار ہیں ، وہ بدلنے منظر نامہ میں اپنے سیاسی رہ نماؤں کے بیانات کا کبھی مطلب سمجھ پاتے ہیں اور کبھی نہیں ۔ کبھی ان کی میٹھی باتیں سن کر خوش ہو جاتے ہیں او ر کبھی ان کی تیکھی باتیں غم زدہ کردیتی ہیں ۔

26؍نومبر کو بھارت میں یوم دستور منانے کی روایت بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے تقریبا تین سال قبل شروع کی تھی ،اس موقع پر خالق دستور بھیم راؤ امبیڈکر کو بھی یاد کیا جاتا ہے جنھوں نے تمام طبقات کے یکسا ں حق کے لیے دستور ہند کا معتدل اور معیاری نسخہ پیش کیا ۔انھوں نے ایسا کرکے بظاہر ملک میں منوسمرتی نظام لانے والوں سے جنگ جیت لی اور لوگوں نے یہ مان لیا کہ اب ملک میں دستور کی ہی حکمرانی رہے گی، لیکن ایسا سمجھنے والے دستور پر گوریلا حملہ آوروں سے ناواقف رہے جو دور موجود میں اوپن فائر کرر ہے ہیں ۔ایک طبقہ تو عوامی سطح پر منوسمرتی کی دوبارہ نمائش کرنے لگاہے ،خاص طور سے اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے منوسمرتی کو اپنی بنائی گئی عدالت کا حصہ بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ اسی طرح سوامی ویویکانند کی تقریر کے ایک سو پچیسویں سالگرہ کے موقع پر شکاگو میں منعقد ورلڈ ہندو کانگریس میں ڈاکٹر ناگاسوامی جیسی دانشور شخصیت نے منو دھرما شاستر ( منوسمرتی) کی تعریف میں پندرہ منٹ تک رطب اللسان رہ کر بہتوں کو چونکاد یا ، انھوں نے غیر منطقی طریقے سے ان تمام برائیوں کو درست ٹھہرانے کوشش کی اور اس کتاب کو دنیا کے لیے مثالی قرار دیا ۔
اگر ہم ماضی کی طرف لوٹتے ہیں جب ڈاکٹر امبیڈکر نے مہاڑ میں منوسمرتی دہن تقریب منعقد کی تھی ، تویہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس وقت دلتوں کے حالات کافی ابتر تھے، حالت یہاں تک خراب تھی کہ دلت عوام وہاں واٹر ٹینک سے پانی نہیں لے سکتے تھے ،حالاں کہ سرکاری طور سے یہ اجازت سب کو حاصل تھی مگر برہمن وادیوں کی جانب سے اس پر سخت بندش تھی ۔جس دن ڈاکٹر امبیڈکر یہ پروگرام کرنا چاہتے تھے ، اس دن اعلی ذات کے ہندوؤں نے ہر طرح کی رکاوٹ کھڑی کی ، کسی نے بھی پروگرام کے لیے جگہ نہیں دی ، مگر ایک باہمت مسلمان ’فتح خاں‘ نے تمام رکاوٹوں کے باو جود اپنا میدان پیش کیااور پھر لاکھوں کا مجمع جمع ہو گیا ۔

اس دن انسانوں کے جم غفیر میں امبیڈکر نے عہد لیا کہ (۱) ہم پیدائش کی بنیاد پر قائم ورنا سسٹم میں یقین نہیں رکھتے (۲) جات پات کی تفریق کو نہیں مانتے(۳)چھواچھوت کو ہم ہندوازم کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس نظام کو ہم تباہ کرنے کی پوری کوشش کریں گے (۴)ہمارا ماننا ہے کہ ہر آدمی کو مندر ، پانی اور اسکول سمیت دیگر سہولیات میں برابر کا حق ہے وغیرہ وغیرہ۔
منوسمرتی کو نذر آتش کرنا بھارت میں ایک نئے انقلاب کی بنیاد تھی،جب سب سے کمزور لوگوں نے طاقتوروں سے لڑنے کا عزم ظاہر کیاتھا۔ اس واقعہ سے برہمن وادی طبقہ چراغ پا ہوگیا اور اس نے ڈاکٹر امبیڈکر کو’بھیماسور‘ قرار دیا ، مگر ڈاکٹر امبیڈکر بھی قلم کے ہیرو تھے ، انھوں اپنے متعدد مضامین میں موثر استدلالی پیرایہ میں یہ ثابت کیا کہ آخرمنوسمرتی جلانے کی ضرورت کیوں پڑی ؟انھوں نے بتلایا کہ منوسمرتی کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذکرنے پر مجبور ہوں کہ اس کتاب نے دور دور تک سماجی مساوات کی حمایت نہیں کی ہے۔انھوں نے اس کے جلانے کو مہاتما گاندھی کے ذریعے بیرونی کپڑے جلانے کے مماثل قراردیا ۔

اب اس احتجاج کو 9دہائی گزرگئے ، اس بار پھر 26؍نومبر کو بھارت میں یوم دستور منایا جارہا ہے ۔مگر آج بھی حالات کا جائزہ لیا جائے تو حالات دلتوں کے لیے کچھ بہتر نہیں ہیں۔ ملک کا ایک طبقہ بالخصوص فرقہ پرست افراد منوسمرتی کو آج بھی اپنی فکر کی اہم بنیاد مانتے ہیں۔ یہ یک طرفہ تماشا ہے کہ وہ دوسری طرف دلتوں کو اپنا دوست بنانے کی بھی کوشش کررہے ہیں،اپنے ماضی کے گدلے چہرے پر اسنو پاؤڈر لگانے کے لیے چند سال قبل جے پی ترجمان وجے سونکر شاستری نے پہ درپہ تین کتابیں بھی لکھ ڈالیں : (۱) ہندو چرم کار جاتی (۲) ہندو کھٹک جاتی (۳)ہندو والمیکی جاتی جن میں ا نھوں نے بڑی بے شرمی سے ذات کی بنیاد پر تفریق کا الزام مسلم عہد کے حکمرانوں پر ڈال دیا۔ حالاں کہ یہ ایک مذاق سے کم نہیں ہے، کیوں کہ منوسمرتی کسی مسلم حملہ آور کے دور میں نہیں لکھی گئی۔ اس کتاب میں کھلے بندے دلت اور خواتین کی توہین کی گئی ہے،عورت کو شودر اور کتا کی طرح ذلیل اور محض ذریعہ خواہش نفسانی قراردیا گیا ہے ۔

منوسمرتی ایک ایسی کتاب ہے جس سے فرقہ پرست طاقتیں اپنا دامن نہیں چھڑاسکتیں، وہ آج بھی اسے اپنی قسمت کے لیے نیک فال سمجھتی ہیں، آرایس ایس کے نظریہ ساز ویر ساورکر منوسمرتی کو اپنی تہذیب کی بنیاد مانتے ہیں: چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ ’’ منوسمرتی ایک ایسی کتاب ہے جو ویدوں کے بعد ہندو قوم کے لیے سب سے زیادہ قابل پرستش ہے ،یہ کتاب ہماری تہذیب کے لیے صدیوں سے بنیاد رہی ہے ، دہائیوں سے یہ کتاب ہماری قوم کی روحانی اور مذہبی قیادت کررہی ہے ،یہاں تک کہ آج بھی ہندو منوسمرتی کی بنیاد پر اپنی زندگی گزارتے ہیں، آج منوسمرتی ہندو قانون ہے ۔‘‘ ( ساورکر وی۔دی وومن ان منوسمرتی ، جلد4نیو دہلی :پربھات ) یہی وجہ ہے کہ امبیڈکر اور نہرو نے 40کی دہائی کے آخر میں جب عورتوں کے لیے وراثت میں محدود حق کے لیے ہندو کوڈ بل کو منظوری دلائی تو آرایس ایس کے نظریہ ساز گولوالکر اور ان کے ساتھیوں نے اس کے خلاف تحریک چھیڑدی-

دستور ہند کے قیام و نفاذ کے بعد بھی ایسی تحریکیں مسلسل چھیڑی گئیں جن میں ا کثریت کے مذہب کو دستور سے اوپر بتانے کی کوشش کی گئی ۔۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کا انہدام اور اب باضابطہ دستور کی قسم کھانے والی سرکاروں کے ذریعہ ایک مذہب اور نظریہ کی کھلم کھلا حمایت بھی اسی زمرے میں آ تی ہے ۔ اترپردیش کی یوگی سرکارکھلے عام بابری مسجد کے مقابلے رام مندر کی طرف داری کرر ہی ہے ، غالبا اس کے اشارے پر ایودھیا میں ایک بار پھر انسانوں کا مجمع جمع ہو چکا ہے اور وہ بھی اس وقت جب ملک میں یوم دستور منانے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ یعنی بات صاف ہے کہ دستورڈے کے موقع پر دستور کی مخالفت کی تیاری ہورہی ہے ۔اس لیے ایسے حالات میں اگر کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ کیا ملک میں منوسمرتی کی سرکار چلے گی یا دستور کی،تو اس کا سوال بے جانہیں ہے اور یوں ہی اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔یہ اس لیے بھی کیوں کہ منوسمرتی ، درحقیقت دستور کی روح کی مقابل ہے ، اس کی حمایت کا مطلب آئین ہند کی تذلیل و تحقیرہے۔اس وقت یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا دستور صرف منانے کے لیے رہ جائے گا یا اس پر عمل بھی ہو گا ؟ کیا اس کے مقابل کتاب پیش کرنے والوں کی گرفت ہوگی یا صرف اسے نادانوں کا ٹولہ سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہے گا ؟میرے خیال سے دستور پر حملہ کرنے والوں کو نادان دوست سمجھ کر نظر انداز کرنا مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔

اُٹھ اُٹھ کے دیکھتی رہی گردِ سفر تجھےؐ

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

Email: qasmikhursheed

شجاعت وبہادری ایسی قابل ستائش اور لائق تعریف صفت ہے کہ ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ اس صفت سے متصف ہو۔ یہ صفت ایک آدمی کے جسمانی طور پر قوی وطاقتور ہونے پر منحصر نہیں ہے؛ بل کہ یہ صفت قلب وجگر کی مضبوطی پر موقوف ہے۔ نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– کی شجاعت وبہادری اور دلیری کے متعدد ایسے واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپؐ نہایت ہی بہادر ،شجاع اوردلیر انسان تھے۔ مشرکین سر پر کھڑے ہیں اور آپؐ غار میں آرام وسکون سے ہیں۔ رات میں کوئی ڈراؤنی آواز آتی ہے؛ تو آپؐ تنہا اس کا پیچھا کرنے چل دیتے ہیں۔ جب جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں؛ تو آپؐ پہلی صف میں دشمنوں سے مقابلہ کے لیے حاضر ہیں۔ آپؐ "أنا النّبي لا كذب، أنا ابن عبد المطلب” کا نعرہ بلند کرکے،دشمنوں کو متنبّہ کرتے ہیں کہ آپؐ میدان جنگ سے فرار ہونے والے نہیں ہیں؛ بل کہ ڈٹ کر دشمنوں سے لڑنے والے ہیں۔ آپؐ کی شجاعت وبہادری کے چند نمونے یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔

جب رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ مکہ مکرّمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منوّرہ کے لیے روانہ ہو رہے تھے؛ تو مشرکین مکہ نے آپؐ کی گرفتاری پر سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا۔ اس انعام کی حرص وطمع میں بہت سے مشرکین آپؐ کی تلاش میں سرگرداں اور حیران تھے۔ ہر ممکنہ سمتوں میں تلاش کرتے کرتے، وہ لوگ "‏غارِثور” تک پہنچ گئے، جہاں آپؐ اور ابوبکرؓ پناہ لیے ہوئے تھے۔ ان مشرکین کے قدم، ابوبکر صدیقؓ کو دکھائی دے رہے تھے۔ صدیق اکبرؓ اللہ کے رسولؐ کو مخاطب کرکے گویا ہوئے کہ اگر ان مشرکین میں سے کوئی اپنے پاؤں کے نیچے دیکھے گا؛ تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔

حضرت ابو بکرؓ کے خدشہ کو سنتے ہی رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– نےشجاعت وبہادری کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ اے ابوبکر! ان دونوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جن کے ساتھ تیسرا خدا ہے؟ سوالیہ انداز میں، آپؐ کا یہ تشفی بخش جواب، صدیق اکبرؓ کے خوف و ہراس کو ختم کرنے اور تسلی دینے کے لیے کافی تھا۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ اس واقعہ کی منظر کشی یوں کرتے ہیں: "جب ہم غار (ثور) میں تھے، تو مشرکوں کے پاؤں کو دیکھا کہ وہ ہمارے سروں پر چڑھ آئے تھے؛ تو میں نے کہا: یا رسول اللہؐ! ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کے نیچے دیکھ لے؛ تو یقینی طور پر ہمیں دیکھ لے گا۔” تو آپؐ نے جواب دیا: "اے ابوبکر! ان دونوں کے بارے میں آپ کا کیا گمان ہےجن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے؟” (صحیح مسلم عن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ: 2381)

اللہ تعالی نے اس واقعہ کی منظر کشی قرآن کریم میں یوں کی ہے: ﴿إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَأَنْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾. (التوبۃ: 40)

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "یعنی ابو بکر صدیقؓ کو فکر تھی کہ جان سے زیادہ محبوب جس کے لیے سب کچھ فدا کرچکے ہیں دشمنوں کو نظر نہ پڑجائیں۔ گھبرا کر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر ان لوگوں نے ذرا جھک کر اپنے قدموں کی طرف نظر کی تو ہم کو دیکھ پائیں گے۔ اس وقت حق تعالی نے ایک خاص قسم کی کیفیت، سکون واطمینان حضورؐ کے قلب مبارک پر اور آپؐ کی برکت سے ابو بکرؓ کے قلب مقدس پر نازل فرمائی اور فرشتوں کی فوج سے حفاظت وتائید کی۔ یہ اسی تائید غیبی کا کرشمہ تھا کہ مکڑی کا جالا جسے "اوہن البیوت” بتلایا ہے، بڑے بڑے مضبوط ومستحکم قلعوں سے بڑھ کر ذریعہ تحفظ بن گیا۔” (تفسیر عثمانی)

"غزوۂ ذات الرقاع” سے واپسی کے موقع پر، ایک دیہاتی کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، وہ آپؐ کے اعتماد ویقین، صبر واطمینان، شجاعت و بہادری اور توکل علی اللہ کے حوالے سے نہایت ہی ایمان افروز اور سبق آموز ہے۔ رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– ” نجد” کے علاقہ میں صحابہ کرام –رضی اللہ عنہم– کے ساتھ جہاد کے لیے گئے۔ جب لوٹ کر آرہے تھے؛ تو آپؐ کثیر خاردار درختوں کی وادی سے گزر رہے تھے کہ قیلولہ کا وقت ہوگیا؛ لہذا آپؐ صحابہ کرام کے ساتھ اُسی مقام پر رک گئے۔ صحابہ کرام –رضی اللہ عنہم– درختوں کے سائے میں منتشر ہوکر تھوڑی دیر کے لیے آرام فرمانے لگے۔تلوار کو درخت پر لٹکا کر، آپؐ بھی کیکر کے درخت کے نیچے قیلولہ کے لیے لیٹ گئے۔ اچانک صحابہ کرام –رضی اللہ عنہم– نے سنا کہ رسول اللہؐ انھیں پکار رہے ہیں۔ جب صحابہ کرام آپؐ کےپاس آئے؛ تو دیکھا کہ ماجرا ہی کچھ اور ہے۔ آپؐ کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا ہے۔

نبی کریم –صلی اللہ علیہ وسلم– نے صحابہ کرام –رضی اللہ عنہم– سے بتایا کہ آپؐ سوئے ہوئے تھے۔ جب آپؐ نیند سے بیدار ہوئے؛ تو دیکھا کہ ایک دیہاتی (غَوْرَثُ بْنُ الحارِث) آپؐ کی تلوار جو درخت پر لٹکی تھی کو میان سے باہر نکالتے ہوئے آپؐ سے کہتا ہے کہ "تم کو مجھ سے کون بچائے گا؟” اس پر آپؐ نے جواب دیا کہ "اللہ”۔ اس کے بعد، آپؐ نے اس دیہاتی کو بغیرکسی سزا اورانتقام کےرہا فرمادیا۔ (صحیح البخاري عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما: 4135)

ایک خون کا پیاسا دشمن برہنہ تلوار ہاتھ میں لیے سامنے کھڑا ہے، اس خطرناک حالت کے باوجود ذرہ برابر خوف و ہراس اور کھبراہٹ،نبی اکرمؐ کے چہرے سے ظاہر نہیں ہوتی۔ آپؐ نے نہایت ہی اطمینان وسکون کے ساتھ جواب دیا۔ وہ دیہاتی آپؐ کے توکل علی اللہ کے رعب، صبر واستقلال اور شجاعت وبہادری سے مرعوب وخائف ہو کر لرزنے لگا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی۔ یہ واقعہ رسول اکرمؐ کی شجاعت وبہادری اور اعتماد و توکل علی اللہ کا بہترین نمونہ ہے۔ پھر اس دیہاتی سے انتقام نہ لینا، اس کو معاف کردینا اور بغیر کسی سزا دیے رہا کردینا ، آپؐ کے عفو ودرگزر کی اعلی مثال ہے۔

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– لوگوں میں سب سے زیادہ خوب صورت، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔(پھر آپ کی بہادری کی مثال بیان کرتے ہوئے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ) ایک باراہالیان مدینہ منورہ رات میں (کسی آواز کی وجہ سے) گھبرا گئے۔ جدھر سے آواز آرہی تھی،لوگ اس طرف چل پڑے۔ (یہ بہادری کی بات تھی کہ بغیر کسی کو ساتھ لیے، گردن میں تلوار لٹکائے تنہا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے پہلے اس آواز کی سمت میں جاچکے تھے۔ آپؐ کی ان لوگوں سے (لوٹتے ہوئے) ملاقات ہوئی؛ جب کہ آپؐ فرما رہے تھے: "مت گھبراؤ، مت گھبراؤ!”(اس لیے کہ آپؐ اس طرف سے دیکھ کر آچکے تھے، ادھر کچھ بھی نہیں تھا۔) (صحیح البخاري: 6033)

حضرت علیؓ فرماتے ہیں: "جب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھتے اور ایک قوم کا دوسری قوم سے مقابلہ ہوتا؛ تو ہم رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی بھی شخص رسول اللہؐ سے زیادہ قریب دشمن سے نہیں ہوتا۔” (مسند الإمام أحمد بن حنبل: 1347، السنن الكبرى للنسائي: 8585)

عمران بن حصینؓ فرماتے ہیں: "جب بھی رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– کا کسی فوجی دستہ سے آمنا سامنا ہوتا؛ تو حملہ کرنے والوں میں آپ اوّل نمبر پر ہوتے۔” (أخلاق النبي وآدابہ لأبِي الشيخ الأصبہاني 1/327)

حضرت علیؓ فرماتے ہیں: "بدر کے دن ہم رسول اللہؐ کی پناہ میں، مشرکین سے اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ اس دن آپؐ نے نہایت ہی سخت اور شدت کی جنگ کی اور کوئی بھی شخص آپ سے زیادہ قریب مشرکین سے نہیں تھا۔” (سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد 7/46)

غزوۂ حنین کے دن، جب مسلمانوں نے میدان چھوڑ دیا، نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– تنہا میدان میں جمے رہے اور دشمنوں کو للکارتے رہے۔ نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– کےعمّ محترم حضرت عباس ؓ فرماتے ہیں: "میں رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– کے ساتھ (جنگ) "حنین کے دن” موجود تھا۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– کے ساتھ ساتھ تھے، ہم آپ سے جدا نہیں ہوئے۔ رسول اللہ ؐ اپنے سفید خچّر پر سوار تھے۔ فَرْوة بن نُفاثَۃ جُذامی نے آپ کو وہ خچّر ہدیہ کیا تھا۔ جب مسلمانوں اور کافروں کے درمیان مقابلہ ہوا؛ تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ رسول اللہؐ نے کفار کی طرف اپنے خچّر کو ایڑ مارنا شروع کیا( تاکہ وہ دوڑے)۔ حضرت عباسؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہؐ کے خچّر کا لگام پکڑکر، اسے تیز دوڑنے سے روک رہا تھا۔ ابو سفیان آپ کی رکاب تھامے تھے۔ پھر رسول اللہؐ نے فرمایا: "اے عباس! آپ اصحاب سمرۃ (وہ صحابہ کرام جنھوں نے حدیبیہ میں بیعت رضوان کی تھی) کو آواز دیجیے!” حضرت عباس فرماتے ہیں کہ وہ بلند آواز آدمی تھے؛ چناں چہ انھوں نے بلند آواز سے پکارا: اصحاب سمرۃ کہا ہیں؟ حضرت عباسؓ کہتے ہیں کہ بخدا جب انھوں نے میری آواز سنی؛ تو وہ اس طرح پلٹے جیسا کہ گائے اپنے بچوں کی طرف پلٹتی ہے۔ پھر انھوں نے ‘یا لبّیک، یا لبّیک’ کہہ کر جواب دیا۔ فرماتے ہیں کہ پھر انھوں کافروں سے جنگ کی۔ انھوں نے انصار کو بھی بلایا، انھوں نے کہا: ‘اے انصار کی جماعت! اے انصار کی جماعت!’۔ پھر بنو حارث بن خزرج کو بھی بلایا۔ انھوں نے کہا: ‘اے بنو حارث بن خزرج! اے بنو حارث بن خزرج!’ پھر رسول اللہؐ ان کی جنگ کا منظر دیکھ رہے تھے؛ جب کہ آپ اپنے خچّر پر سورا تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: "ابھی لڑائی سخت ہے اور جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں”۔ پھر آپؐ نے کچھ کنکریاں اٹھائی اور آپؐ نے انھیں کفار کی سمت پھینکا۔ پھر فرمایا: "محمد کے ربّ کی قسم! وہ سب شکست کھا گئے۔” راوی کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ جنگ جاری ہے، جو میں نے دیکھا۔ پھر کہتے ہیں: بخدا! انھوں نے کنکریاں ان کی طرف پھینکی؛ چناں چہ ان کا زور ٹوٹ گیا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔” (صحیح مسلم: 1775)

نبی اکرم–صلی اللہ علیہ وسلم– کے جس طرح کے واقعات یہاں پیش کیے گئے ہیں، اس طرح اور بھی واقعات ہیں۔ ان واقعات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نبی اکرمؐ بڑے بہادر اور شجاع انسان تھے۔ آپ ؐکسی طرح کا ڈر وخوف محسوس نہیں کرتے تھے۔ آپؐ نے مختلف مواقع سے اپنی شجاعت وبہادری اور دلیری کے ایسے نمونے پیش کیے کہ کوئی بھی حقیقت پسند شخص، آپؐ کی شجاعت وبہادری کا انکار نہیں کرسکتا۔•••

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ

(1939-2018) مولانا جمیل احمد اعظمی مبارک پوری

محمد اللہ قاسمی

۱۱/ نومبر ۲۰۱۸ء بروز اتوار، میں گنگا ستلج ایکسپریس سے اپنے وطن فیض آباد سے واپس آرہا تھا ، ٹرین مرادآباد کے قریب پہنچی تھی کہ وہاٹس ایپ کے ذریعے اطلاع ملی کہ دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا عارف جمیل صاحب کے والد محترم مولانا جمیل احمد صاحب اچانک انتقال کرگئے، خبر پڑھ کر دل پر ایک دھچکہ سا لگا اور زبان سے بے اختیار ”اِنّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْن“ کے استرجاعی کلمات جاری ہوگئے۔
مولانا مرحوم سے میری صرف ایک ملاقات ہوئی ، جب وہ تقریباً ایک ماہ قبل دیوبند تشریف لائے تھے ، لیکن یہ ملاقات اتنی طویل اور یادگار تھی کہ آج بھی اس کے نقوش لوحِ دل پر مرتسم نظر آتے ہیں،ہوا یوں کہ میں نے دارالعلوم کے احاطہ مولسری میں گذرتے ہوئے دیکھا کہ ایک بزرگ سفید پوش کچھ پستہ قد ،سانولارنگ، پیر خمیدہ،اور پرنور وروشن چہرے کے ساتھ ایک دیواری پرچے کے مطالعہ میں غرق ہیں، مجھے گذرنا تھا میں گذر گیا، اور اپنے دفتر (شعبہٴ انٹرنیٹ و آن لائن فتوی ویب) میں جاکر اپنے کاموں میں مشغول ہوگیا ، ابھی کچھ ہی دیر گذری تھی کہ وہی بزرگ ہمارے دفتر کے اندر تشریف لے آئے اور دیکھا ہمارے دفتر کے کارکن مولانا محمدمعاویہ مبارک پوری نے بڑے تپاک اور ادب کے ساتھ مصافحہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ مجھ سے تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ مولانا عارف جمیل صاحب کے والد محترم ہیں، میں نے بڑھ کر مصافحہ کی سعادت حاصل کی اور انہیں کرسی پر بیٹھا دیا۔
رسمی خیروخیریت کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا، محسوس ہوا کہ محترم بڑے سادہ مزاج ، متواضع اور ملنسار طبیعت کے ہیں، اسی وجہ سے طبعاً ان سے انسیت اور لگاؤ محسوس ہوا، بے تکلفی سے باتیں شروع ہوگئیں، پھر کیا تھا بات پر بات نکلتی گئی اور شاید ڈیڑھ دوگھنٹے تک آپ کی دلچسپ گفتگو سے محظوظ ہوتا رہا۔
فرمانے لگے کہ دارالعلوم میں دورِ طالبِ علمی میں حضرت مدنی(شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی) کو دیکھا، لیکن ابھی موقوف علیہ میں تھا کہ حضرت کا وصال ہوگیا، اس لیے حضرت کی شاگردی کا شرف نہ حاصل کرسکا، البتہ حضرت مولانا سید فخرالدین مرادآبادی سے دورہ حدیث کی تکمیل کی۔ گویا ۱۹۵۸ء میں آپ نے فراغت حاصل کی ، حضرت مولانا ریاست علی صاحب سابق استاذ حدیث و ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا محمد احمد فیض آبادی سابق ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند آپ کے ہم درس تھے۔ فراغت کے بعد دو سال تک ’تکمیل فنون ‘ کے شعبہ میں داخل رہے۔
۱۹۶۰ء میں تکمیل تعلیم کے بعد اپنے وطن مبارک پور کے مشہور وقدیم مدرسہ احیاء العلوم میں مدرس ہوگئے، تقریباً پندرہ سال تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس زمانے میں بہت سے طلبہ نے آپ سے استفادہ کیا ، ان میں بعض مشاہیر علماء میں شامل ہوئے جیسے مولانا ابو بکر غازی پوری، مولانا اعجاز احمد اعظمی، مولانا ابواللیث اعظمی ، مفتی محمد امین مبارک پوری، مولانا توفیق احمد جون پوری ، مولانا نسیم احمد بارہ بنکوی استاذ دارالعلوم دیوبند، مولانا مفتی محمد شوکت گورکھپوری وغیرہ ۔ مولانا اعجاز احمد اعظمی نے اپنی خود نوشت سوانح حیات میں آپ کی درسی خصوصیات کا خوب تذکرہ کیا ہے، دیکھئے: ص ۹۷-۹۶ اور ۱۱۸-۱۱۷۔
پھر ۱۹۷۶ء جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں آپ کا داخلہ ہوگیا، چناں چہ مدینہ منورہ چلے گئے اور ۱۹۷۹ء تک تعلیم مکمل کی ۔ تکمیل کے بعد سعودی عرب کی حکومت نے آپ کو مغربی افریقہ کے ایک غیر عربی ملک نائجیریا بھیج دیا، جہاں کے ساحلی شہر لاگوس(Lagos)میں آپ کا قیام رہا ، کچھ دنوں کے لیے اسی سے متصل دو دوسرے ممالک گھانا (Ghana) اور نائجر(Niger)میں بھی قیام رہا ، لیکن ناموافق حالات کی وجہ سے جلد ہی ان جگہوں کو چھوڑنا پڑا۔ نائجیریا میں آپ نے تقریباً ۲۷/سال گذارے، سعودی حکومت کے مبعوث ہونے کی حیثیت سے آپ نے وہاں مسلمان بچوں کی تعلیم وتربیت میں نمایاں اور اہم کردار ادا کیا۔
نائجیریا ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، وہاں عیسائی بڑی اقلیت کے طور پر رہتے ہیں، ملک میں اسلامی تعلیم کا بہتر انتظام نہیں تھا، کچھ صاحب ثروت مسلمان ذاتی طور سے مکاتب یا مدارس چلاتے تھے، ”الملحقة الثقافیة“ (سعودی عرب کی ایمبیسی کے زیر اہتمام علمی وتعلیمی خدمات کا ادارہ)کے ذریعہ آپ کو ایک مدرسہ میں صدر مدرس مقرر کیے گئے ۔ فرمایا کہ دینی تعلیم کا نظام بہت کم زور تھا، وہاں کے حالات بھی اچھے نہ تھے، ملک میں غربت وافلاس کا دور دورہ تھا، لیکن پھر بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری ، اور سخت محنت وتندہی کے ساتھ بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔ آپ کی محنت سے تعلیم کا ایک ماحول پیدا ہوگیا اور طلبہ کی تعداد میں خاصہ اضافہ ہوگیا، فرماتے ہیں کہ طلبہ کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر ایک با ر میں نے ایک اضافی مدرس رکھ لیا، چوں کہ میں صدر مدرس تھا، اسی لیے اپنے اختیار سے یہ کام کرگذرا اور اس کی تنخواہ اپنی جیب سے ادا کرنی شروع کی، مدرسے کے مالک (انہوں نے نام بھی بتلایا تھا ،مجھے یاد نہیں رہا) کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو مولانا کے خلوص سے متأثر ہوئے اور انہیں غیرت بھی آئی، چناں چہ انہوں اس مدرس کی تنخواہ اپنے مدرسے کی طرف سے جاری کردی۔
نائجیریا میں مولانا کے متعدد شاگرد ایسے بھی ہوئے ، جنہوں نے آگے مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور نمایاں ترقی کی، ان میں کئی ایک نام لے کر مولانا نے بتایا کہ فلاں حکومت سے وظیفہ یاب ہوکر امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے گیا اور ، اور فلاں حکومت کے منصب پر فائز ہوا وغیرہ وغیرہ، ان میں کئی ایک ایسے ہیں جو اخیر تک مولانا سے مربوط تھے اور گاہے بگاہے حضرت سے رابطہ رکھتے تھے۔ مولانا کے خلوص ، تواضع اور لگن کی وجہ سے وہاں طلبہ ان کے والدین اور عام مسلمان آپ سے بہت زیادہ مانوس ہوگئے تھے، بلکہ ان میں سے ایک نے ابھی کچھ سال قبل آپ سے ملاقات کی غرض سے انڈیا کا سفر کیا اور مبارک پور آپ کے گھر پر جاکر آپ سے ملاقات کی، مولانا نے پوری تفصیل سے اس واقعہ کا ذکر فرمایا۔
فرماتے ہیں کہ شہرمیں آپ جامع مسجد میں جمعہ کے امام تھے، سعودی سفیر نے آپ کا تبادلہ کسی اور جگہ کرنا چاہا، جب مسجد کے ذمہ داروں کو معلوم ہوا تو وہ سفیر کے پاس پہنچے اور انہیں معاملہ کے نزاکت سے آگا ہ کیا ۔دراصل نائجیریا میں دو قبیلے آباد ہیں: (۱) حوثہ(۲) یوربہ، اور دونوں میں چشمک بلکہ مخاصمت کی شکل بنی رہتی تھی ، دونوں ایک دوسرے سے نبرد آزمارہتے ہیں، مولانا کی امامت کی وجہ سے دونوں قبیلے باہم متفق ہوکر مسجد میں نماز پڑھتے تھے، ذمہ داران مسجد نے سعودی سفیر کو بتایا کہ اگر مولانا امامت نہیں کریں گے تو فتنہ برپا ہوجائے گا، چناں چہ سفیر آپ کے تبادلہ کے خیال سے باز آیا۔
اسی مسجد میں آپ نے تفسیر قرآن کا بھی سلسلہ شروع کیا تھا، آپ عربی میں بیان کرتے اور اس کا مقامی زبان میں ترجمہ کیا جاتا۔
نائجیریا میں آپ نے قرآن ، تجوید ، فقہ اور دینیات وغیرہ کی تعلیم دیتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ ہمارے احباب تبصرہ کرتے ”جمیل نائجیریا میں کیا کرتا ہوگا، بچوں کو قرآن پڑھاتا ہوگا“ ، کہنے لگے : میں فخر سے کہتا ہوں کہ وہاں میں قرآن پڑھاتا تھا، مجھے اس پر فخر ہے۔“ او کما قال ۔
فرماتے ہیں کہ جس زمانے میں نائجیریا جاناہوا، اس زمانہ میں اس کی حالت بہت بری تھی، شہر کی سڑکیں کچی تھیں، جو بارش میں کیچڑ میں تبدیل ہوجاتی تھیں اور آنا جانا دشوار ہوجاتا تھا۔ علاوہ ازیں وہاں بیماریوں اور وباؤں کا بھی زور بندھتا تھا۔ ایک مرتبہ اسی زمانے میں آپ وہاں بچوں کے ساتھ میں مقیم تھے، اور بچے بیمار پڑگئے، کہتے ہیں کہ اسی کیچڑ میں چل کر ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا اور ڈاکٹر بھی اس زمانے میں خال خال تھے۔ بعد میں نائجیریا میں تیل کی دریافت ہوئی اور ملک نے ترقی کی، سڑکیں، پُل اور برج خوب بن گئے۔
افریقہ تقریباً تین عشروں پر پر محیط خدمات انجام دینے کے بعد آپ ۲۰۰۶ء میں ریٹائر ہوگئے، اور واپس آکر گھر پر ہی رہے، کئی مدرسہ والوں نے آپ سے اصرار کیا، لیکن آپ نے باضابطہ کسی مدرسے کی ملازمت نہیں اختیار نہیں کی۔ درمیان میں کچھ دنوں کے لیے جامعہ احیاء العلوم مبارک پور کی نظامت قبول کی، لیکن گھٹنوں کے مرض کی وجہ سے اسے بھی چھوڑ دیا۔
مولانا عارف جمیل صاحب آپ کے لائق وفائق صاحبزادے ہیں، جو اس وقت دارالعلوم دیوبند میں ادب عربی کے استاذ ، مجلہ ”الداعی“ کے معاون مدیر اور متعدد کتابوں کے مصنف و مترجم ہیں۔ آپ کے ایک دوسرے صاحبزادے مولانا محمد صادق صاحب قاسمی مبارک پوری ہیں،جو ۱۹۹۷ء میں راقم السطور کے ہم سبق تھے، نہایت کم گو، لیکن محنتی، شریف اور باصلاحیت تھے، اب مدرسہ نور الاسلام ولید پور مئو میں صدر مدرس ہیں۔
مولانا جمیل احمد صاحب کی صحت بہ ظاہر ایسی نہ تھی کہ کسی تشویشناک بات کا اندیشہ ہوتا، لیکن اچانک انہیں دل کا دورہ پڑا، دیوبند میں ڈی کے جین کے یہاں آئی سی یو میں بھرتی کیے گئے، لیکن دو ایک دن کی مختصر علالت کے بعد بالآخر جاں بر نہ ہوسکے اور جان جاں آفریں کے سپرد کردی، اَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّةَ وَاَکْرَمَ مَثْوَاہُ۔
وہ ابھی جمعہ (۹/نومبر) کوہی دیوبند آئے تھے، گویا دیوبند کی مٹی انہیں یہاں کھینچ کر لائی تھی، بالآخر ۱۲/ نومبر کو حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی مدظلہ مہتمم دارالعلوم دیوبند کی امامت میں احاطہٴ مولسری میں بعد نماز ظہر علماء اور طلبہ کے ایک بڑے مجمع نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی اور مزارِ قاسمی میں آپ کے اساتذہ کے پہلو میں آپ کو سپردِ خاک کردیا گیا #
آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہٴ نو رستہ اس گھر کی نگہ بانی کرے

ہماری صف میں منافق اگر نہیں ہوتے!

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

26/اکتوبر 2018 کو غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کا وزیر اعظم، بنجامن نیتن یاہو نے سلطنت عمان کے سلطان قابوس بن سعید کی دعوت پر عمان کا دورہ کرکے، اپنی سیاسی طاقت مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کا ہیرو اور مسیحا بن گیا۔ نیتن یاہو کے اس دورے میں، اس کی اہلیہ، اسرائیل کی جاسوسی ایجینسی "موساد” کا ڈائرکٹر، وزارت امور خارجہ وقومی دفاعی کونسل کے اعلی ذمے داران اور فوج کے سکریٹری وغیرہ بھی شامل تھے۔ نیتن یاہو کے اس دورے کے بعد، اسرائیل کے حوالے سے خلیجی ممالک کے نرم گوشے اور والہانہ استقبال کو دیکھ کر، دنیا کے طول وعرض میں جی رہے کروڑوں مسلمانوں کے ذہنوں میں سوالات پیدا ہونے لگے ہیں کہ کیا اب ایک غاصب صہیونی ریاست، "عظیم تر اسرائیل” میں تبدیل ہونے والی ہے؟ کیا مسلمانوں کا "قبلۂ اوّل” صہیونیوں کے قبضے میں ہی رہے گا؟ کیا اب "مسجد اقصی” کی جگہ آج یا کل "ہیکل سلیمانی” کی تعمیر ہوکر رہے گی؟ کیا "بیت المقدس” سچ مچ "عظیم تر اسرائیل” کا دار الخلافہ بن کر رہے گا؟ کیا فلسطین نام کی ریاست صفحۂ ہستی سے مٹ کر، تاریخ کا حصہ بن جائی گی؟ فلسطین کے مسلمان شہریوں کی جان کی قدر وحیثیت صہیونی افواج کے سامنے کتے بلی کی جانوں سے بھی بدتر اور کمتر ہوجائے گی اور وہ اپنے معمول کے مطابق آتشی اسلحے سے فلسطینیوں کو بھونتی رہے گی؟ "غزہ کی پٹی” میں تنگ دستی ومفلوک الحالی کی زندگی گزار رہے مسلمان، اسرائيلی آہنی فصیل کے محاصرہ میں ہی دم توڑ کر، دنیا سے رخصت ہوجائیں گے؟ موجودہ حالات سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ اب عن قریب یہ سب کچھ ہوکر رہے گا؛ الا یہ کہ اللہ تعالی ایک عدد صلاح الدین پیدا کردے جو مکمل طور پر ایّوبی صفات کا حامل ہو۔

اس طرح کے سوالات ذہن میں اس لیے جنم لے رہے ہیں کہ غاصب صہیونی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی عمان میں ضیافت کے اگلے دن، سنیچر 27/اکتوبر کو عمان نے کھلے طور پر یہ بیان دیا کہ اسرائیل کو مشرق وسطی کی ایک ریاست کے طور پر قبول کرنے کا وقت آگیا ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ہے؛ بلکہ ایک سیریز کے طور پر، خلیجی ممالک کے قائدین سب کے سب ایک ہی سر میں بات کر رہے ہیں اور ان کی باتوں پر عمل ہوتا بھی دکھائی دے رہا ہے۔ چناں چہ بحرین میں سیکوریٹی کانفرنس کے دوران عمانی وزیر برائے امور خارجہ، جناب یوسف بن علاوی بن عبد اللہ نے کہا کہ "ہم سب اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اسرائیل ایک ریاست ہے جو ہمارے خطے میں واقع ہے۔” انھوں نے مزید کہا کہ "دنیا بھی اس بات سے واقف ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو سلوک دوسرے ممالک کے ساتھ اپنایا جارہا ہے۔” واضح رہے کہ وزیر موصوف کا یہ بیان بحرین میں منعقدہ سہ روزہ سیکوریٹی کانفرنس کے دوران 27/اکتوبر 2018 کو آیا ہے۔ بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد الخلیفہ نے عمانی موقف کی تائید کی۔ اس کانفرنس میں سعودی عربیہ، بحرین، امریکہ، اٹلی اور جرمنی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی۔

نیتن یاہو کے اس دورہ پر تبصرہ کرتے ہوئے 26/اکتوبر 2018 کو امریکی اخبار "نیو یارک ٹائمز” کے ایک قلم کار نے اپنے مضمون میں، اس دورہ کی پوری خبر رکھنے والے ایک اعلی اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے یہ صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ عمان کا اسرائیل سے کھلے عام تعلقات ہوجانے کے بعد، عمان کی ایماندارانہ ثالثی کی وجہ سے، یہ بھی ممکن ہے کہ اب اسرائیل کے لیے مزید دروازے کھلیں۔ اس عہدیدار نے مزید کہا ہے کہ یہ بات اب خارج از امکان نہیں کہ عمان اسرائیل کے لیے نہ صرف ایران؛ بل کہ شام کے ساتھ بھی (تعلقات قائم کرنے کا) خفیہ واسطہ اور ذریعہ کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

نیتن یاہو کا دورہ صرف عمان کے حدود میں ہی محدود نہیں ہے؛ بل کہ اس کے فورا بعد، عرب اور مسلمانوں کے خلاف متنازع بیان دے کر سرخی میں رہنے والی اسرائیل کی وزیر ثقافت اور کھیل، میری رگیو نے اپنی اسرائیلی جوڈو ٹیم کا مقابلہ دیکھنے کے لیے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا دورہ کیا ہے، جہاں اس کا پرجوش استقبال کیا گیا اور اس نے ذمے داروں سے بھی ملاقات کیا۔ اس سفر کے دوران، یو اے ای کے عہدیداروں نے 29/اکتوبر 2018 کو، وزیر موصوفہ کو ابو ظہبی کی مشہور "شیخ زائد مسجد” کا دورہ بھی کرایا۔ یہ بات بھی نوٹ کیے جانے کے قابل ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیلی جوڈو ٹیم نے کسی خلیجی عرب ملک میں اپنے قومی جھنڈے کے ساتھ کھیل میں حصّہ لیا ہے۔

اس خاتون وزیر کے دورے کے بعد، اسرائیل کے کمیونیکیشن منسٹر ایوب کارا نے 30/اکتوبر کو دبی کا دورہ کیا۔ انھوں نے دبی میں ٹیلی کمیونیکیشن کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے”امن اور تحفظ” کے موضوع پر بات کی۔ پوری دنیا جانتی ہے مسٹر ایوب جس غاصب صہیونی ریاست کے وزیر ہیں، اس ریاست میں فلسطینیوں کی زمین کو غصب کرنا، قبضہ کرنا اور فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنا، ان کی ریاست کا صبح وشام کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ پھر "امن اور سیکوریٹی” کے حوالےسے اس کے بیان کی نفاق سے زیادہ اور کیا حیثیت ہوسکتی ہے!

چند دنوں کے دوران خلیجی ممالک میں اسرائیلی انتظامیہ اور وزراء کا کھلے عام باضابطہ دورہ اور خلیجی ممالک کا ان کا والہانہ استقبال کرنے سے پیشتر، سعودی عرب کے ولی عہد، محمد بن سلمان نے 2/اپریل 2018 کو، دبے لفظوں میں اسرائیل کو بحیثیت ایک ریاست تسلیم کرتے ہوئے، "دی اٹلانٹک” کے چیف ایڈیٹر: جیفری گولڈبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ "اسرائیل کو اس بات کا حق ہے کہ وہ اپنے وطن میں امن کے ساتھ رہیں۔” محمد بن سلمان کے اس بیان کو مغربی میڈیا نے "کسی عرب رہنما کی طرف سے ایک بے نظیر بیان” سے تعبیر کیا تھا۔

بہر حال، فلسطینی انتظامیہ نے نیتن یاہو کے اس دورہ پر، عمان کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان فلسطینی عوام کے ساتھ دھوکہ دہی اور بے وفائی ہے جو اب بھی وحشی وبے رحم اسرائیل کی ماتحتی میں غزہ اور مغربی کنارے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

حماس نے عمان کے خلاف اپنے غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات قائم کرنے میں جلدی کرنا، فلسطینیوں کے پیٹھ میں چھری گھونپنا ہے۔ حماس کے سیاسی دفتر کے رکن، جناب موسی ابو مرزوق نے کہا ہے کہ یہ بالکل بے جوڑ اور عجیب سی بات لگ رہی ہے کہ کچھ ممالک فلسطینیوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے اور کام کرنے سے روکتے ہیں، مگر جب وہ ہمارے اسرائیلی دشمن سے اپنے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں؛ تو اپنے عمل کو اس طرح بجا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرکے فلسطینیوں کی مدد کرنا چاہیے ہیں اور ان کی اذیت وپریشانی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔” انھوں نے مزید کہا کہ ہم فلسطینی یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی عرب ملک ہماری مدد کے بہانے اسرائیل سے تعلقات قائم کرے۔”

مسلم ممالک کے حکام وقائدین اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے ہیں کہ غاصب صہیونی ریاست کسی بھی صورت میں ان کا دوست نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ وہی صہیونی ریاست ہے جس نے کئی مسجدوں پر تالا لگا کر، فلسطینیوں کو نماز ادا کرنے سے روک رکھا ہے۔ اس ریاست کے گھناؤنے کرتوتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نےکئی مسجدوں کو اولا میوزیم پھر مے خانہ میں تبدیل کردیاہے۔ یہ وہی ریاست ہے جس کی افواج اور پولیس صہیونیوں کو ہر چند دنوں کے بعد، "قبلۂ اول” میں داخل ہوکر، کھلے عام "قبلۂ اول” کی بے ادبی وبے حرمتی کی کھلی اجازت دیتی ہے اور اگر کوئی مسلمان ان صہیونیوں سے مزاحمت کی کوشش کرتا ہے؛ تو اس کو زد وکوب کرتی ہے۔ اگر اسرائیلی حکمراں دوستی کا ہاتھ بڑھاتے بھی ہیں؛ تو یہ ان کی وقتی ضرورت ہے۔ اگر وہ اپنی دوستی اور تعلقات میں مخلص ہیں؛ تو سب سے پہلے ان لاکھوں فلسطینیوں کی اراضی واپس کریں، جن کو انھوں نےان کے گھروں سے نکال کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر رکھا ہے۔ پھر ان کو اپنے وطن میں سکون واطمینان کی زندگی گزارنے دیں، جن پر ظلم وجبر کرنے کی وجہ سے وہ بظاہر مشرق وسطی میں اچھوت ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے؛ تو غیرت ایمانی ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی کہ اس ریاست کو دوست بنایا جائے، جس کےحکمرانوں کی آستینیں مظلوم فلسطینیوں کے خون سے لال ہوں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "جو کوئی کسی کو قتل کرے؛ جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لیے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو؛ تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جو شخص کسی کی جان بچالے؛ تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچا لی۔” (سورہ مائدہ، آیت: 32)

٭ ہیڈ اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ