سوریہ نمسکار: شریعت کی نگاہ میں

مفتی امانت علی قاسمی*

سوریہ نمسکار در حقیقت یوگا کے دوران انجام دیا جانے والا عمل ہے، گویا سوریہ نمسکار یوگا کا اہم عنصر ہے، جس میں یوگا کرنے والا مشرق کی جانب آنکھیں بند کرکے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر سورج کو پرنام کرتا ہے، سورج کے آداب بجالاتا ہے، یہاں سوریہ نمسکار کا شرعی حکم جاننے سے قبل اہل علم کی آراء ذکر کی جاتی ہیں:
مسلم پرسنل لا کے رکن کمال فاروقی کی رائے ہے:
سورج کو سلام کرنا خلاف اسلام ہے اور یہ کہ مسلمان صرف اللہ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں، اس لئے اسکولوں میں سوریہ نمسکار لازم قرار نہیں دیا جانا چاہئے۔(92newshd-+v تحت عنوان سوریہ نمسکار مسلم مذہبی عقیدے کے منافی، ۸/ جون ۲۰۱۵ء)
ڈاکٹر سلیم خان کی رائے ہے:
جس طرح نماز اشراق مسلمانوں کی عبادت ہے، اسی طرح سوریہ نمسکار بھی ایک مشرکانہ پرارتھنا ہے، اس لئے جس طرح غیر مسلم طلبہ کو نماز کا پابند کرنا غلط ہے اسی طرح غیر ہندو طلبہ پر سوریہ نمسکار کو لازم قرار دینا بھی درست نہیں ہے۔( سلیم خاں،ڈاکٹر ،سورنمسکار، سیاست کی گہار اور عدالت کی پھٹکار، www.Mazameen.com،۱۱/۹/۲۰۱۶ء۱)
ڈاکٹر سلطان احمد اصلاحی لکھتے ہیں:
فرقہ پرست ہندوٴں کا دوسرا مطالبہ ہے کہ ملک کے تمام سرکاری ونیم سرکاری اسکولوں میں سوریہ نمسکار کو لازمی ہونا چاہئے، ظاہر ہے کہ ان اسکولوں میں مسلمان بچے اور بچیاں بھی پڑھتے ہیں، اس کے لازم کئے جانے کا مطلب ہے کہ اسکول کے دنوں میں کلمہ گو مسلمان بچوں بچیوں کو بھی سوریہ دیوتا کے سامنے نمن کرنا ہوگا، یہ خالص شرک کا معاملہ ہے جسے ہر گز ہرگز برصغیر کے توحید پرست مسلمان قبول نہیں کرسکتے(اصلاحی،سلطان احمد ، مضمون سوریہ نمسکار، سہ ماہی علم وادب علی گڈھ اپریل تاجون ۲۰۱۵ء)
ڈاکٹر سید ظفر محمود کی رائے ہے :
نماز بھی بہترین ورزش ہے، اس سے بھی جسم کے لئے بہت فائدے ہیں اس کو بھی عوام بلا تفریق اپنا سکتے ہیں، ہائی کورٹ کو سمجھنا ہوگا کہ سوریہ نمسکار اور نماز میں یہی فرق ہے کہ سوریہ نمسکار میں سورج کو دنیا کا پالن ہار مانا جاتا ہے جب کہ نماز میں اللہ کو پالن ہار مانا جارہا ہے، اور یہ بھی کہ اللہ سورج کا بھی مالک ہے، اس معاملے میں مسلمان کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے ہیں،کیوں کہ اللہ کے سواء کسی اور کو دنیا کا پالن ہار ماننا شرک ہے اور شرک انسان کو اسلام سے خارج کردیتا ہے، آئین ہند کے آرٹیکل 15میں حکومت پر پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ کسی شہری کے خلاف مذہب کی بنیاد پر تعصب نہیں کرے گی، آرٹیکل 25 میں ہر شہری کو برابر کی آزادی دی گئی کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق اپنے مذہب پر قائم رہے اور عبادت کے متعلق طریق کار اپنائے،بمبئی میونسپل کارپوریشن اور بمبئی ہائی کورٹ دونوں کے احکام آئین کے ان دونوں آرٹیکل کے خلاف ہیں(سید ظفر محمود ،ڈاکٹر ،سوریہ نمسکار صرف ورزش نہیں پوجا بھی ہے، روزنامہ سہارا ،۲۲/ ستمبر ۲۰۱۶ء)
سوریہ نمسکار کی حقیقت:
سوریہ نمسکار یہ سنسکرت زبان کالفظ ہے جس کے معنی ہے سورج کی بندگی اور اس کے سامنے آداب وتسلیم بجالا نا( فیروز اللغات)
ڈاکٹر سید ظفر محمود صاحب نے ”سوریہ نمسکار صرف ورزش نہیں پوجا بھی ہے“ کے عنوان سے اردو روزنامہ سہارا میں ایک مضمون تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے سوریہ نمسکار کے لئے لکھا ہے یہ ایک طریقہ ہے سورج کا شکریہ ادا کرنے کا کیوں کہ و ہ زمین پر زندگی کو برقرار رکھتا ہے۔
Expressing gratitude of the sun for sustaining life on this planet
سوریہ نمسکارکی چھٹے آسن کی تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ انسان زمین پر الٹا لیٹ جاتا ہے، اس کے نیچے گھٹنے، سینہ، کندھا، ہاتھ اور تھڈی سب زمین سے لگ جاتے ہیں اور آنکھیں جھک جاتی ہیں اور اس آسن کو کہاجاتا ہے اشٹنک نمسکار یعنی بدن کے آٹھ اعضا کے ذریعہ سورج کو نمسکار Salute to sun with eight body ports سوریہ نمسکار کا روحانی مقصد یہی ہے کہ انسان دل سے مانے کہ سورج ہی ساری حیات کو چلا رہا ہے۔
ٹائمس میوزک نے سوریہ نمسکار پر ایک ایپ (App) تیار کیا ہے جس کے تعارف میں لکھا ہے کہ یہ ورزش صبح کے وقت پورب کی جانب منھ کر کے ہی کی جانی چاہئے، کیوں کہ اسی وقت اس سمت سے سورج نکلتا ہے، نوئیڈا میں مقیم تنظیم ہیلتھ انیڈ یوگاپر لکھا ہے کہ سوریہ نمسکار کے آسنوں میں سے پہلا ہے پرنام آسن یعنی سورج کو پرنام کیا جارہا ہے، امریکہ وکناڈا کی پرنامی تنظیم کی ویب سائٹ Pranamai.org پر لکھا ہے، پرنام کا مطلب ہے میں آپ کے اندر کے اعلیٰ ترین خدا کے سامنے سرجھکاتا ہوں، رگ وید میں لکھا ہے کہ تمام متحرک اور غیر متحرک اشیاء کی روح سورج ہی ہے اور اس لئے سوریہ نمسکار میں صبح سورج نکلتے وقت اس کو متعدد طرح کے سجدے کئے جاتے ہیں او ر سوریہ نمسکار کے ۱۲ آسنوں میں سے ہر ایک میں سورج کی خدائی کا جشن منانے کے لئے الگ الگ منتر پڑھے جاتے ہیں ، پرنا یوگا Pranayoga پر درج ہے، سوریہ نمسکار سورج کے طلوع وغروب کے وقت اس کی پوجا قدیم طریقہ ہے، پورے ہندوستان میں صبح کے وقت ہندوخواتین وحضرات کھڑے ہوکر سورج کی پوجا کرتے ہوئے دکھتے ہیں۔(ڈاکٹر سید ظفر محمود، مضمون سوریہ نمسکار صرف ورزش نہیں پوجا بھی، روزنامہ سہارا اردو ۲۲/ستمبر ۲۰۱۶ء)
سوریہ نمسکار کی حقیقت کے سلسلے میں ابوالعزم نے بی کے ایس اینگر کے حوالے سے لکھا ہے پراناماسے جسم اور عقل کی تمام ناپاک چیزیں خارج ہوجاتی ہیں اور مقدس آگ کے شعلے انہیں توانائی دیتے ہیں اور رعنائی سے پاک کردیتے ہیں تب ایک شخص دھرانا Concent ration اور دھیانا Dhyana meditation کے قابل ہوتا ہے، اس مقام تک پہونچنے کے لئے طویل مدت درکار ہوتی ہے، (Light of yoga 461) ہندومذہب کے عقائد میں سوریہ پوجا کو بڑی اہمیت حاصل ہے، زندگی کے بیشتر کام طلوع شمس کے رخ کو ملحوظ رکھ کر کئے جاتے ہیں، ہر روز سورج کی پوجا کی جاتی ہے، تمام مندروں کے دروازے مشرق کی طرف کھلتے ہیں، سورج چاند ستارے اور زمین بحر، پہاڑوں ودریاوٴں کو پوجا کی جاتی ہے( ابوالعزم،یوگا شریعت اسلامی کی روشنی میں، ص: ۵۹)
Benefits of sun soultation.com پر لکھا ہے سورج کے بغیر زمین پر کوئی زندگی نہیں ہے، سوریہ نمسکار سورج کے آداب بجالانے اور اس کو خوش کرنے کا قدیم طریقہ ہے، کیوں کہ سورج ہی اس دھرتی پر زندگی کی تمام شکلوں کا ذریعہ اور واسطہ ہے۔(B.O.S.S.Com)
شری روی شنکر کا قول ہے کہ بھارت کی قدیم رشیوں کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ جسم کے مختلف حصوں پر مختلف دیوتاوٴں کی حکومت ہے، انسانی جسم کا مرکزی نقطہ ناف کے پیچھے ہے(سوریہ نمسکارمیں) اس نقطہ کو سورج کے ساتھ منسلک کیا جائے اس کی باقاعدہ پریکٹس آدمی کی تخلیقی اور بدیہی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے، ہمارے تمام جذبات شمسی توانائی میں محفوظ ہیں۔( ایضا)
اہل علم کی آراء اور سوریہ نمسکار کی حقیقت کے سامنے آجانے کے بعد اس کا شرعی حکم معلوم کرنا اور اس کا تجزیہ کرنا بالکل آسان ہے، ظاہر ہے کہ سوریہ نمسکار ہندوٴں کے عقیدے کے مطابق سورج کو خدا کا درجہ دیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان دل سے مانے کہ سورج ہی حیات کو چلارہا ہے جب کہ یہ عقیدہ اسلام کے بنیادی عقیدے کے خلاف ہے، سوریہ نمسکار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سورج کو بھی پالن ہار تسلیم کرلیا جائے جب کہ یہ کھلا شرک ہے، قرآن کریم میں ایسی بہت سی آیتیں ہیں جس میں سورج کو مخلوق بتایا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نبوت سے پہلے جب الوہیت وربوبیت میں غور کررہے تھے تب انہوں نے سورج کو نکلتے دیکھا اور کہا ہذا ربی ہذا اکبر یہ میرا رب ہے اور یہ سب سے بڑا ہے، لیکن جب سورج غروب ہوگیا تو ابراہیم علیہ السلام نے سورج کے رب ہونے کا انکار کرتے ہوئے فرمایا: لا احب الآفلین․(الانعام:۷۶) میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہوں۔
جس نے بھی قرآن شریف کا سرسری ترجمہ پڑھا ہے وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا ہے کہ یہ کائنات فانی ہے اس کا ہرذرہ ختم ہونے والا ہے اس میں کسی چیز کو بھی بقا ودوام حاصل نہیں ہے اور قیامت سے پہلے انسان سمیت زمین وآسمان کی تمام چیزیں بشمول زمین وآسمان شجر وحجر پہاڑ دریا یہاں تک کہ چاند وسورج اور ستارے سب بے نور ہوجائیں گے، اس لئے روئے گیتی کے دیگر اجرام ارضی وسماوی کے ساتھ چاند وسورج کے سامنے سجدہ ریز اور سجدہ فگن ہونے کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں ہے، بلکہ قرآن کریم نے سورج اور چاند کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے سختی سے منع کیا ہے، سورہ فصلت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمِنْ آیَاتِہِ اللَّیْْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّہِ الَّذِیْ خَلَقَہُنَّ إِن کُنتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُون․(فصلت:۳۷) اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند ہیں(اے لوگو!) تم سورج اور چاند کی پوجا نہ کرو بلکہ اپنا سر صرف اس اللہ کے سامنے جھکاوٴ جس نے ان کو پیدا کیا، اگر تم صحیح معنوں میں ایک اکیلے کی بندگی کے دعویدار ہو۔
قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر یہ بات بہت صاف اور صریح کہی گئی ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جتنی بھی جاندار اور بے جان مخلوق ہیں سب کی سب صبح وشام اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہیں، انہی میں سورج، چاند، تارے، پہاڑ ، درخت اور ہر طرح کے جاندار شامل ہیں( رعد: ۱۵، نحل:۴۹،حج:۱۸) اسی طرح دوسری جگہ میں کہا گیا کہ یہ سورج اور چاند اپنی مرضی کے مالک اور خود مختار نہیں؛ بلکہ ان کو انسانیت کی خدمت گزاری اور نفع رسانی کے لئے اللہ تعالیٰ نے لگارکھا ہے۔(لقمان:۲۹، یٰس:۳۸-۳۹)
ترمذی شریف کی روایت ہے کہ حضرت ابوذر غفاری فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سورج کے غروب کے وقت میں مسجد میں داخل ہوا تو آپﷺ نے پوچھا جانتے ہو کہ یہ سورج غروب ہوکر کہاں گیا تو میں نے کہا اللہ اور اللہ کے رسول کو زیادہ بہتر معلوم ہے تو آپﷺ نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں سجدہ کی اجازت چاہنے گیا ہے، اس کو سجدہ کی اجازت ملے گی وہ سجدہ کرے گا پھر اسے قیامت کے قریب یہ حکم ہوگا کہ وہ جہاں سے آیا ہے وہاں سے طلوع ہو، چنانچہ اس دن سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔(سنن الترمذی، باب ما جاء فی طلوع الشمس من مغربہا-مسلم شریف، باب بیان الزمن الذی لا یقبل فیہ الایمان، حدیث نمبر:۲۵۰)
قرآن وحدیث کی اس صاف رہنمائی سے ہر ایمان والا بخوبی واقف ہے اس لئے ایک مسلمان صرف ایک اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونے کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے سامنے جھکنے کو وہ اپنے لئے ننگ وعار اور اپنے ایمان کے لئے خطرہ محسوس کرتا ہے۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ نے سوریہ نمسکار کو اسکولوں میں لازم کرنے کی بات کہی ہے اور اس کی دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ سوریہ دیوتا وٹامن D کا بہت بڑا ذریعہ ہے سو ہر طرف مناسب ہے کہ ان کا اُدے ہوتے ہی اس خزانے کو اپنے سرایا میں منتقل کرلیا جائے، یہاں غور کرنا چاہئے کہ اسلام نے صحت بخش ہوا وغذا سے منع نہیں کیا ہے، بلکہ صحت بخش چیزوں کے استعمال کی اجازت دی ہے اور سورج کے ذریعہ اس وٹامن کو حاصل کرنے کا آج کی ترقی یافتہ سائنس میں بھی اس کا کوئی متبادل نہیں ہے، لیکن وٹامن D کے حصول کے پہلو سے یہ اوقات ناموزوں ہیں، اس لئے کہ اپنی پیدائش اور موت کے ان دونوں وقتوں میں سورج کمزوری کی حالت میں ہوتا ہے تو جب وہ خود موت وزیست کی کشمکش کی حالت میں ہو تو و ہ دوسروں کو طاقت اور زندگی پہنچانے کا اہل کس طرح ہوسکتا ہے ( اصلاحی،سلطان احمد، سہ ماہی علم وادب ۶۶،اپریل ۲۰۱۵ء)
اس کے ساتھ یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ سورج خالق نہیں مخلوق ہے اور انسانوں کی خدمت ونفع رسانی اس کی تخلیق کا مقصد ہے، لہٰذا سورج سے خوب وٹامن حاصل کیا جاسکتا ہے اور ہر وقت حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے لئے سورج کے سامنے ہاتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے کوئی اپنے آقا کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہے اور آداب بجا لاتا ہے اپنے ماتحت کے سامنے ہاتھ جوڑنے اور آداب بجالانے کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی ہے، اس کو آپ مثال سے یوں سمجھئے کہ اگر آپ کا کوئی بہی خواہ آپ کو ڈاک سے تحفہ بھیجے تو آپ کس کے احسان مند ہوں گے؟ ڈاکیہ کا یا تحفہ روانہ کرنے والے کا، عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ جس نے تحفہ بھیجا ہے اس کا شکریہ ادا کیا جائے، مسلمانوں کے نزدیک سورج کی حیثیت کورئر بردار کی ہے، اس لئے وہ سورج کی نہیں سورج کے خالق خدائے واحد کے آگے سربسجود ہوتے ہیں۔
حاصل یہ ہے کہ سوریہ نمسکار ہندوٴں کے مذہبی عمل کا ایک حصہ ہے اور مسلمانوں کے عقیدہ توحید سے براہ راست متصادم ہے،اس میں سورج کو خدا کا درجہ دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق سورج خدا کی مخلوق ہے، سورج کو خدا تسلیم کرنا شرک ہے اور مسلمان عقیدہ توحید کے خلاف کوئی عمل ہرگز نہیں کرسکتا ہے، اس لئے سوریہ نمسکار کرنا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے اور اس پر اصرار کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

  • استاذ دارالعلوم حیدرآباد

E-mail: aaliqasmi1985@gmail.com
Mob: 07207326738

ماہِ صفر اسلام کی نظر میں

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

صفر المظفر ہجری کیلنڈر کا دوسرا مہینہ ہے، جو محرم الحرام کے بعد اور ربیع الاول سے پہلے آتا ہے۔ اس مہینہ میں معمول کی ہی عبادت کی جاتی ہے، یعنی کوئی خاص عبادت اس مہینہ میں مسنون یا مستحب نہیں ہے۔ نیز یہ دیگر مہینوں کی طرح ہی ہے، یعنی خاص طور پر اس مہینہ میں آفات ومصائب نازل ہونے کا عقیدہ رکھنا غلط ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اس ماہ کو نحوست والا مہینہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے وہ اس ماہ میں سفر کرنے سے گریز کیا کرتے تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کا غلط وفاسد عقیدہ اِن دنوں سوشل میڈیا پر ہمارے ہی دینی بھائیوں کی طرف سے شيئر کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہیں نقصانات بھی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ لوگوں کی اچھی خاصی تعداد پڑھے بغیر اور میسیج کی تحقیق کئے بغیر دوسروں کو فارورڈ کردیتی ہے۔ ان میسیجیز میں بعض اوقات نبی اکرم ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب ہوتی ہے جو نبی اکرم ﷺ نے زندگی میں کبھی بھی نہیں کہی۔ حالانکہ اس پر سخت وعیدیں احادیث میں وارد ہوئی ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جو شخص میری نسبت وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے۔ (بخاری) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان مختلف الفاظ کے ساتھ حدیث کی مختلف کتابوں میں مذکور ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ نے متعدد مرتبہ ایسا کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔ لہٰذا نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب کوئی بھی بات بغیر کسی تحقیق کے ہرگز فارورڈ نہ کریں۔ اسی طرح فرمان رسول ﷺ ہے: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بلا تحقیق بیان کرے۔ (مسلم) ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری طرف منسوب کرکے جان بوجھ کر کوئی جھوٹی حدیث بیان کی تو وہ جھوٹ بولنے والوں میں سے ایک ہے۔ مسلم

نبی اکرم ﷺ نے ماہ صفر سے متعلق اِس باطل عقیدہ کا انکار آج سے 1400 سال قبل ہی کردیا تھا، چنانچہ حدیث کی سب سے مستند کتاب میں وارد ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ماہ صفر (میں نحوست ہونے کا عقیدہ) بے حقیقت بات ہے۔ (بخاری) نحوست تو دراصل انسان کے عمل میں ہوتی ہے کہ وہ خالق کائنات کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، باوجود یکہ وہ اپنے وجود اور بقا کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کا محتاج ہے۔ اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ وہ بھی موت کا مزہ چکھ لے گا اور اس کے بعد انسان کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب اللہ تعالیٰ کو دینا ہوگا۔ انسان کی زندگی کا جو وقت بھی اللہ کی ناراضگی میں گزرا دراصل وہ منحوس ہے نہ کہ کوئی مہینہ یا دن۔ لہٰذا جو انسان ماہ صفر میں اچھے کام کرے گا تو یہی مہینہ اس کے لیے خیر وبرکت اور کامیابی کا سبب بنے گا اورانسان جن اوقات اور مہینوں میں بھی برے کام کرے گا زندگی کے وہ لمحات اُس کے لیے منحوس ہوں گے۔ مثلاً نماز فجر کے وقت کچھ لوگ بیدار ہوکر نماز پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ بلاعذر بستر پر پڑے رہتے ہیں اور نماز نہیں پڑھتے، تو ایک ہی وقت کچھ لوگوں کے لیے برکت اور کامیابی کا ذریعہ بنا، اور دوسروں کے لیے نحوست۔ معلوم ہوا کہ کسی وقت یا مہینہ میں نحوست نہیں ہوتی بلکہ ہمارے عمل میں برکت یا نحوست ہوتی ہے۔ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: آدم کی اولاد زمانہ کو گالی دیتی ہے، اور زمانہ کو برا بھلا کہتی ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہوں، رات دن کی گردش میرے ہاتھ میں ہے۔ (بخاری) یعنی بعض لوگ حوادث زمانہ سے متاثر ہوکر زمانے کو برا بھلا کہنے لگتے ہیں، حالانکہ زمانہ کوئی کام نہیں کرتا، بلکہ زمانہ میں جو واقعات اور حوادث پیش آتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے حکم سے ہوتے ہیں۔

غرضیکہ قرآن کریم کی کسی بھی آیت یا نبی اکرم ﷺ کے کسی بھی فرمان میں یہ مذکور نہیں ہے کہ ماہ صفر میں نحوست ہے یا اس مہینہ میں مصیبتیں اور آفتیں نازل ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ صفر کا مہینہ دیگر مہینوں کی طرح ہے، یعنی اس مہینہ میں کوئی نحوست نہیں ہے۔ سیرت نبوی کے متعدد واقعات، بعض صحابیات کی شادیاں اور متعدد صحابیوں کا قبول اسلام بھی اسی ماہ میں ہوا ہے۔ اور عقل سے بھی سوچیں کہ مہینہ یا زمانہ یا وقت کیسے اور کیوں منحوس ہوسکتا ہے؟ بلکہ ماہ صفر میں تو نحوست کا شبہ بھی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کا نام صفر المظفر ہے جس کے معنی ہی ہیں ’’کامیابی کا مہینہ‘‘۔ جس مہینہ کے نام میں ہی خیر اور کامیابی کے معنی پوشیدہ ہوں وہ کیسے نحوست کا مہینہ ہوسکتا ہے؟ بعض حضرات یہ سمجھ کر کہ صفر کے ابتدائی تیرہ دنوں میں آپ ﷺ بیمار ہوئے تھے، شادی وغیرہ نہیں کرتے ہیں، بالکل غلط ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں اس نوعیت کی کوئی بھی تعلیم موجود نہیں ہے، نیز تحقیقی بات یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ صفر کے ابتدائی دنوں میں نہیں بلکہ ماہ صفر کے آخری ایام یا ربیع الاول کے ابتدائی ایام میں بیمار ہوئے تھے۔ اور ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو آپﷺ کی وفات ہوئی تھی۔

بعض ناواقف لوگ ماہ صفر کے آخری بدھ کو خوشی کی تقریب مناتے ہیں اور مٹھائی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں، جبکہ اس کی شریعت اسلامیہ میں کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ لوگوں میں یہ بات غلط مشہور ہوگئی ہے کہ اس دن نبی اکرم ﷺ صحت یاب ہوئے تھے، حالانکہ یہ بالکل صحیح نہیں ہے، بلکہ بعض روایات میں اس دن میں حضور اکرم ﷺ کی بیماری کے بڑھ جانے کا تذکرہ ملتا ہے۔ لہٰذا ماہ صفر کا آخری بدھ مسلمانوں کے لیے خوشی کا دن ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہود ونصاریٰ خوش ہوسکتے ہیں، ممکن ہے کہ انہیں کی طرف سے یہ بات پھیلائی گئی ہو۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کی طرح برصغیر کے تمام مکاتب فکر کا بھی یہی موقف ہے کہ صفر کے مہینہ میں کوئی نحوست نہیں ہے، اس میں شادی وغیرہ بالکل کی جاسکتی ہے۔ اور ماہ صفر کے آخری بدھ میں خوشی کی کوئی تقریب منانا دین نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

اِن دِنوں سوشل میڈیا پر کسی بھی پیغام کو فارورڈ کرنے کا سلسلہ بڑی تیزی سے جاری ہے، چاہے ہم اس پیغام کو پڑھنے کی تکلیف گوارہ کریں یا نہ کریں، اور اسی طرح اس کی تحقیق کرنے کی ضرورت بھی سمجھیں یا نہ سمجھیں کہ میسج صحیح معلومات پر مشتمل ہے یا جھوٹ کے پلندوں پر۔ البتہ اس کو فارورڈ کرنے میں انتہائی عجلت سے کام لیا جاتا ہے۔ جبکہ میسج فارورڈکرنے کے لئے نہیں بلکہ اصل میں پڑھنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ غلط معلومات پر مشتمل میسج کو فارورڈ کرنا ہمارے لئے جائز نہیں ہے، خاص کر اگر وہ پیغام دینی معلومات پر مشتمل ہو کیونکہ اس سے غلط معلومات دوسروں تک پہونچے گی۔ مثال کے طور پر کبھی کبھی سوشل میڈیا کے ذریعہ پیغام پہنچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے 5 نام کسی بھی 11 مسلمانوں کو بھیج دیں تو بڑی سے بڑی پریشانی حل ہوجائے گی۔ اسی طرح فلاں پیغام اگر اتنے احباب کو بھیج دیں تو اس سے فلاں فلاں مسائل حل ہوجائیں گے، ورنہ مسائل اور زیادہ پیدا ہوں گے۔اسی طرح کبھی کبھی سوشل میڈیا پر میسج نظر آتا ہے کہ فلاں پیغام اتنے لوگوں کو بھیجنے پر جنت ملے گی۔ کبھی کبھی تحریر ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے سچی محبت نہ کرنے والا ہی اس میسیج کو فارورڈ نہیں کرے گا، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے پیغام کا شریعت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ عموماً جھوٹ اور فریب پر مشتمل ہوتے ہیں۔

موجودہ زمانہ میں تعلیم وتعلم اور معلومات فراہم کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا بھی استعمال کیا جارہا ہے، یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے بشرطیکہ اس کا صحیح استعمال کیا جائے۔مگر بعض حضرات کچھ پیغام کی چمک دمک دیکھ کر اس کو پڑھے بغیریا تحقیق کئے بغیر دوسروں کو فارورڈکردیتے ہیں۔ اب اگر غلط معلومات پر مشتمل کوئی پیغام فارورڈ کیا گیا تو وہ غلط معلومات ہزاروں لوگوں میں رائج ہوتی جائیں گی، جس کا گناہ ہر اس شخص پر ہوگا جو اس کا ذریعہ بن رہا ہے۔ لہذا تحقیق کئے بغیرکوئی بھی پیغام خاص کر دینی معلومات سے متعلق فارورڈ نہ کریں، جیساکہ احادیث رسولﷺ کی روشنی میں ذکر کیاگیا۔ یاد رکھیں کہ انسان کے منہ سے جو بات بھی نکلتی ہے یا وہ لکھتا ہے تو وہ بات اس کے نامۂ اعمال میں لکھی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: انسان منہ سے جو لفظ بھی نکالتا ہے، اس کے پاس نگہبان (فرشتے اسے لکھنے کے لئے) تیاررہتے ہیں۔ سورۃ ق 18

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ غلط خبروں کے شائع ہونے کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو بہت نقصان ہوا ہے، مثال کے طور پر غزوۂ احد کے موقع پر آپﷺکے قتل ہونے کی غلط خبر اڑادی گئی تھی جس کی وجہ سے مسلمانوں کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی، جس کا نتیجہ تاریخی کتابوں میں موجود ہے۔ اسی طرح غزوۂ بنو مصطلق کے موقع پر منافقین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاکر غلط خبرپھیلائی تھی جس سے نبی اکرمﷺ کی شخصیت بھی متأثر ہوئی تھی۔ ابتدا میں یہ خبر منافقین نے اڑائی تھی لیکن بعد میں کچھ سچے مسلمان بھی اپنی لاعلمی کی وجہ سے اس میں شامل ہوگئے تھے۔آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں حضرت عائشہؓ کی برأت نازل فرمائی۔اور اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے جھوٹی خبر پھیلانے والوں کی مذمت کی جنہوں نے ایسی غلط خبر کو رائج کیاکہ جس کے ذریعہ حضرت عائشہؓ کے دامن عفت وعزت کو داغ دار کرنے کی مذموم کوشش کی گئی تھی، ارشاد باری ہے: ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصہ کو سر انجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت بڑا ہے۔ سورۃ النور 11

اسی طرح آج بعض ویب سائٹیں اسلام سے متعلق مختلف موضوعات پر ریفرنڈم (رائے طلبی ) کراتی رہتی ہیں۔ ان ریفرنڈم میں ہمارے بعض بھائی کافی جذبات سے شریک ہوتے ہیں، اور اپنی صلاحیتوں کا ایک حصہ اس میں لگا دیتے ہیں۔ عموماً اس طرح کی تمام ویب سائٹیں اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لئے ہی استعمال کی جاتی ہیں، ان پر کوئی توجہ نہیں دینی چاہئے ، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: اے ایمان والو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذاء پہنچادو، پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ۔ (سورۃ الحجرات 6) نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے خواہاں رہتے ہیں ، ان کے لئے دنیا وآخرت میں دردناک عذاب ہے۔ سورۃ النور 19

خلاصۂ کلام: سوشل میڈیا کو ہمیں اپنے شخصی وتعلیمی وسماجی وتجارتی مراسلات کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ دین اسلام کی تبلیغ اور علوم نبوت کو پھیلانے کے لئے استعمال کرنا چاہئے کیونکہ موجودہ دور میں یہی ایک ایسا میڈیا ہے جس کے ذریعہ ہم اپنی بات دوسروں تک بآسانی پہنچا سکتے ہیں، ورنہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا تو عمومی طور پر مسلم مخالف طاقتوں کے پاس ہے۔ نیز اگر صحیح دینی معلومات پر مشتمل کوئی پیغام مستند ذرائع سے آپ تک پہونچے تو آپ اس پیغام کو پڑھیں بھی، نیز اپنی استطاعت کے مطابق زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بھی فارورڈ کریں تاکہ اسلام اور اس کے تمام علوم کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ہوسکے۔ لیکن اگر آپ کے پاس کوئی پیغام غیرمعتبر ذرائع سے پہونچے تو اس پیغام کو بغیر تحقیق کئے ہرگز فارورڈنہ کریں۔ ماہ صفر کے منحوس ہونے یا اس میں مصیبتیں اور آفات نازل ہونے کے متعلق کوئی ایک روایت بھی موجود نہیں ہے، اور نہ ہی آج تک کسی مستند عالم دین نے اس کو تسلیم کیا ہے، لہٰذا اس نوعیت کے پیغام کو ہرگز ہرگز دوسروں کو ارسال نہ کریں، بلکہ انہیں فوراً ڈیلیٹ کردیں۔

(www.najeebqasmi.com)

مولانا سلمان ندوی صاحب کی تقریر میں حضرت معاویہ ود یگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی کردار کشی کا ایک علمی جائزہ

ڈاکٹر مفتی عبید اللہ قاسمی
دہلی یونیورسٹی

انتہائی درد اور کڑھن کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ حالیہ دنوں میں جناب مولانا سلمان ندوی صاحب کی اس جوشیلی تقریر نے جس میں بے دردی کے ساتھ کاتبِ وحی، فاتحِ عرب وعجم صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور رسولِ اکرم کی زوجہِ مطہرہ جو اہلِ بیت میں ہیں، کے حقیقی بھائی سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی کردار کشی کی گئی ہے اور انہیں فاسق بنایا گیا ہے اس تقریر سے ملتِ اسلامیہ مضطرب ہوگئی ہے، علماءِ کرام غرقِ حیرت ہیں، ہر باغیرت صاحبِ ایمان کا کلیجہ منھ کو آرہا ہے اور تکلیف دہ حیرت اس وجہ سے بھی بڑھی ہوئی ہے کہ یہ ساری باتیں ان مولانا سلمان صاحب کی طرف سے امت کے سامنے پیش کی گئی ہیں جو ایک اہم ادارے کے مسندِ تدریسِ حدیث پر فائز ہیں۔ مولانا موصوف کا چند برسوں سے یہ معمول سا بن گیا ہے کہ وہ اپنے پرجوش بیانات میں ایسی باتیں کہتے رہتے ہیں جس سے امتِ اسلامیہ کو سخت تکلیف پہنچتی ہے۔ مولانا کا یہ رویہ بالخصوص مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی علیہ الرحمہ کی وفات کے بعد نمایاں ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں میں مولانا نے کبھی قرآن کریم کے صدیوں سے تعاملِ امت کے ذریعے چلے آرہے پاروں کی ترتیب کو غلط ٹھہرایا، تو کبھی بدنامِ زمانہ بغدادی کو امیر المومنین بناکر اور دشمنانِ اسلام کے اس ایجنٹ کی منھ بھر بھر کر تعریف کرکے مسلمانوں میں بھونچال پیدا کیا، تو کبھی روی روی شنکر سے ملاقات کرکے خانہِ خدا بابری مسجد کو بت خانے کے لئے حوالہ کرنے اور بدلے میں اجودھیا سے بہت دور شاندار مسجد اور جامعۃ الاسلام یونیورسٹی کی تجویز پیش کردی اور اکابرینِ مسلم پرسنل لاء کے ذریعے اس کی مخالفت کیے جانے پر ان کے خلاف تنقید وتنقیص اور الزام تراشیوں کا دہانہ کھول دیا۔

مولانا کی اس بار کی تقریر گزشتہ تمام تقریروں کا ریکارڈ توڑ گئی کیونکہ اب کی بار کا حملہ سیدھا ناموسِ صحابہ اور عدالتِ صحابہ پر تھا، چنانچہ مولانا نے صحابیِ رسول حضرت معاویہ پر اور (اگر میں نے سمجھنے میں غلطی نہیں کی ہے تو) دبے لفظوں میں خلافتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر بھی اپنی تقریر میں تنقید کی ہے۔

درج ذیل سطور میں مولانا کی تقریر میں اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کے خلاف مشمولات اور ان کا سرسری جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔

1۔ مولانا نے اپنی تقریر میں کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اچانک عمل میں آگئی، پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت خلافت کا قیام نہیں ہوا۔

سوال یہ ہے کہ مولانا کی اس بات کے پیچھے اصل منشاء کیا ہے؟ کیا مولانا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی خلافت منصوبہ بندی اور صحابہ کے درمیان خوب غور وفکر اور مشورے کی صفت سے خالی ہونے کی وجہ سے مخدوش اور قابلِ تنقید خلافت تھی؟ اگر بین السطور میں یہ کہاجارہا ہے تو یہ بہت خطرناک بات ہے۔ روافض تو اس بات کو سن کر مارے خوشی کے بلیوں اچھلینگے اور عید منائینگے کیونکہ وہ شیخین کی تنقیص کرنا اور انہیں گالیاں دینا اپنا جزوِ ایمان سمجھتے ہیں۔ خدا کرے مولانا کی مراد یہ نہ ہو۔ لیکن اگر مولانا نے حضرتِ ابوبکر کی خلافت پر یہ سوال اٹھایا ہے تو کس مقصد سے اٹھایا ہے، یہ میری فہم سے بالا تر ہے۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صحابہ کے درمیان سب سے افضل صحابی کے طور پر معروف تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عمر میں امامتِ نماز میں بھی انہیں اپنا خلیفہ بنایا۔ اہلِ بیت جن افراد پر مشتمل ہے ان میں ان کی جگر گوشہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ خود اہلِ بیت کے حضراتِ حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے والد اور خلیفہِ رابع حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرتِ ابو بکر کی وفات پر ان وقیع الفاظ میں ان کے اوصاف بیان فرمائے "رحمك الله أبا بكر، كنت والله أول القوم إسلاماً،وأخلصهم إيماناً وأشدهم يقيناً… وأحفظهم على رسول الله وأحربهم على الإسلام، وأحناهم على أهله، وأشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم خلقاً وفضلاً وهدياً وسمتاً،فجزاك الله عن الإسلام وعن رسول الله وعن المسلمين خيراً…” اب ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کا حضرت ابو بکر کو ان کےmatchless اوصافِ حمیدہ کی بنیاد پر خلیفہِ اول منتخب کرلینا فطری عمل کہلائے گا اور اس میں کسی منصوبہ بندی اور غور وفکر ومشورے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں تھی۔ غور وفکر اور منصوبہ بندی کی ضرورت اس وقت پڑتی جب ان کی بجائے کسی اور صحابی کو خلیفہ بنایا جاتا۔ وقت کا تقاضا بھی یہی تھا کہ فوری طور پر افضل الصحابہ کو خلیفہ منتخب کر لیا جائے۔ چنانچہ اس وقت موجود ہزاروں صحابہ نے بیعت کرکے متفقہ طور پر حضرت ابوبکر کو اپنا خلیفہ بنالیا۔ اگر یہ انشاءِ خلافت بوجہ عدمِ منصوبہ بندی غلط یا کمزور تھی تو صحابہ کی طرف سے ابقائے خلافت ہرگز نہیں ہوتی اور خلافت کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کا پورا موقعہ تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا اور نہ ہونا چاہئے تھا۔ بہرکیف، ہزاروں صحابہ کا فوری طور پر حضرت ابوبکر کی خلافت پر مجتمع ہوجانا اور کسی کی طرف سے بھی اختلاف کا نہ ہونا کیا منصوبہ بندی سے کمتر بنیادِ خلافت کہی جاسکتی ہے؟ حق تو یہ ہے کہ ان ہزاروں تمام صحابہ کے ذریعے حضرت ابو بکر کی بیعت اور خلافت پر متفق ہوجانے پر لاکھوں منصوبہ بندیاں قربان اور ہیچ ہیں۔ سورج کے غروب ہونے پر چودہویں کی رات میں چاند اور ستاروں میں چاند کو سب سے زیادہ روشن کہنے کے لئے کسی منصوبہ بندی، پلاننگ، غور و فکر، تدبر وتامل اور مشورے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ کسی کا اس میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ البتہ اگر اختلاف ہوسکتا ہے تو کسی چمگادڑ کی طرف سے یا انتہائی ضعیف البصر شخص کی طرف سے۔ "الله الله في أصحابي”

2۔ مولانا نے اپنی تقریر میں صحابیِ رسول اور کاتبِ وحی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں نازیبا کلمات استعمال کیے ہیں، انہیں باغی گروہ کا سردار کہا ہے۔ ان کی حکومت کو مجرمانہ کہا ہے۔ ان کے لئے حضرت علی کی بیعت کو واجب بتلایا گویا کہ حضرت معاویہ ترکِ واجب اور قیادتِ بغاۃ کی وجہ سے مجرم، فاسق اور غیر عادل ٹھہرے۔ مولانا موصوف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بغاوت کو مؤکد کرنے کے لئے یہ حدیث بھی پیش کرڈالتے ہیں "إن عماراً تقتله الفئة الباغية”. جبکہ اہلِ سنت والجماعت کی کتابوں میں مصرح ہے کہ یہاں الفئة الباغية سے مراد خوارج ہیں جنہوں نے حضرتِ عمار کو قتل کیا اور جن کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی تھی۔ مگر حیرت ہے کہ مولانا اس کا مصداق جماعتِ معاویہ کو ٹھہرا رہے ہیں جن میں بڑی تعداد میں صحابہ بھی ہیں۔ پھر مولانا آگے یہ بھی فرمارہے ہیں کہ "یہ ساری وہ چیزیں ہیں کہ جن کی وجہ سے معاویہؓ کی حیثیت قرآن کی روشنی میں مجروح ہوتی چلی جارہی ہے”! استغفر الله، استغفر الله! یہاں رک کر سوچنے کی بات یہ ہے کہ جہاں حضرت علی کے ساتھ صحابہ تھے وہیں حضرت معاویہ کے ساتھ بھی تو صحابہ تھے جن میں خزیمہ بن ثابت، ابو ایوب انصاری، خالد بن ربیعہ، عبد اللہ بن عباس، زید بن ارقم، سہل بن حنیف، قیس بن سعد بن عبادہ، عدی بن حاتم، عمار بن یاسر، ربیعہ بن قیاس، سعد بن حارث، رافع بن خدیج وغیرہ رضی اللہ عنہم شامل تھے۔سوال یہ ہے کہ پھر کیا حضرت معاویہ کا ساتھ دینے والے یہ سارے صحابہ الفئة الباغية تھے، فاسق، مجرم، غیر عادل اور قرآن کی روشنی میں مجروح شخصیت والے تھے، نعوذ باللہ؟ اگر ہاں، تو ان تمام صحابہ سے مروی جو احادیث صحیحین اور دوسری کتابوں میں ہیں ان کا کیا حکم ہوگا؟ امام بخاری نے تو اخذِ حدیث میں عدالت اور تقویٰ کا اس حد تک خیال رکھا کہ کسی محدث نے جانور کو جھوٹا چارہ دکھایا تو اس سے اخذِ حدیث کا ارادہ ترک کردیا اور غیر ثقہ ٹھہرادیا۔ اب اگر مولانا کے الزامات درست ہیں اور یہ سارے اصحابِ رسول قرآن کی نگاہ میں مجروح ہیں اور الفئۃ الباغیہ ہیں تو بھلا کس محدث کی مجال ہے کہ قرآن کی جرح کے مقابلے میں ان صحابہ کی تعدیل کردے اور ان کی مروی احادیث کو امام بخاری کی اصح الکتب بعد کتاب اللہ اور دیگر تمام محدثین کی کتابوں میں جگہ مل جائے؟ یا کیا یہ سمجھا جائے کہ حضرت معاویہ اور ان کا ساتھ دینے والے صحابہ کی مجروحیت عند القرآن اور ان کا الفئۃ الباغیہ کا مصداق ہونا محدثین اور فقہاء کو معلوم نہیں تھا اور ان سب سے غلطی ہوئی ہے؟ "الله الله في أصحابي”.

صحابہ کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت (ما أنا عليه وأصحابي) کاعقیدہ:

صحابہ کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت کا واضح اور صریح عقیدہ قرآن وسنت کی صریح نصوص پر مشتمل ہے۔

اہل السنہ والجماعت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام انبیاء کرام کے بعد الی قیام الساعة روئے زمین کی سب سے زیادہ متقی،صالح اور افضل جماعت ہیں۔ ان کی تعریف وتوصیف میں درجنوں قرآنی آیات اور سینکڑوں احادیث منقول ہیں۔ اگر ان کی فضیلت اور تعریف اور صفتِ عدالت میں ایک بھی آیت یا حدیث موجود نہ ہوتی اور قرآن و حدیث ان کی تعریف سے خالی ہوتے تب بھی بتقاضائے عقل صحابہ کا احترام اور ان کی شان میں گستاخی سے احتراز اور ان کی اقتداء کرنا لازم ہوتا کیونکہ وہ اصحابِ رسول تھے اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تزکیہ کرتے تھے اور انہیں تعلیم دیتے تھے "ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة”. مگر یہاں تو نہ صرف یہ کہ خموشی نہیں ہے بلکہ قرآن اور احادیث دونوں انتہائی خوبصورت اسلوب میں جگہ جگہ ان کی تعریف میں ناطق ہیں جنہیں پڑھ کر انسان جھوم جھوم جائے، ان کے لئے جنت کی بشارت سنارہے ہیں، ان کے ایمان کو قیامت تک آنیوالے مسلمانوں کے لئے parameterاور scale بنایا جارہا ہے اور حکمِ ربانی ہورہا ہے "آمنوا كما آمن الناس” یعنی اے ایمان والو، جس طرح صحابہ جنمیں حضرتِ معاویہ بھی شامل ہیں، کا ایمان ہے اس طرح اپنا ایمان بناؤ۔ ان سے محبت کرنے کا حکم دیا جارہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں صاف صاف اعلان فرمائے دے رہا ہے "رضي الله عنهم ورضوا عنه”. ایسی صورت میں صحابی حضرت معاویہ یا صحابہ کے خلاف نفرت اور بغض کا اظہار اور بذریعہ وعظ مسلم عوام کو اس نفرت اور بغض کی تعلیم دینا انتہائی باعثِ حیرت ہے اور خدانخواستہ یہ ایمان سوز بھی بن سکتا ہے۔ صحابہ کے خلاف بغض ونفرت پر مشتمل ایسی فکر رکھنا اور اس کی اشاعت کرنا خدانخواستہ کسی بڑے ابتلاء اور مصیبت کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے! "الله الله في أصحابي”

اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ قرآنی آیت رضي الله عنهم ورضوا عنه ہے۔

اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ "الصحابة كلهم عدول” ہے۔ یعنی تمام صحابہ تقویٰ وثقاہت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔ صحابہ یقیناً معصوم عن الخطاء نہیں ہیں مگر وہ باقی علی الخطاء بھی نہیں ہیں۔ ان سے غلطیاں ہوئی ہیں مگر وہ اللہ کے حضور میں توبہ کرکے خود کو پاک صاف بھی کرتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ توبہ کے بعد انسان pure اور پاک ہوجاتا ہے "التائب من الذنب كمن لا ذنب له”. ان کے باقی علی الخطاء نہ ہونے کی بطور دلالۃ النص دلیل دیگر متعدد دلائل کے علاوہ قرآن کریم کا یہ اعلان ہے "رضي الله عنهم ورضوا عنه”. ظاہر ہے کہ اللہ نے صحابہ جن میں حضرت معاویہ بھی ہیں، سے اپنی رضامندی اور خوش ہونے کا اظہار صیغہِ ماضی سے کیا جوconfirmed statusاور یقنیت وتاکید کو بتلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں نزولِ قرآن کی تکمیل کے بعد حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص لینے کے معاملے میں صحابہ کے درمیان رونما ہونے والے اختلافات، حضرت معاویہ کا حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کا انکار کرنا، حضرت علی وحضرت معاویہ کا دیگر صحابہ کے ساتھ قصاصِ حضرتِ عثمان کے معاملے میں برسرِپیکار ہونا اور حضرت معاویہ کا یزید کو ولیِ عہد بنانا یہ سب کچھ تھا۔ ان میں سے کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر ہرگز نہ تھی مگر ان سب کے باوجود اعلانِ ربانی رضي الله عنهم ورضوا عنه کے ہونے کا مطلب اس سوا کچھ نہیں ہے کہ صحابہ اگرچہ معصوم عن الخطاء نہیں ہیں مگر ان کی طرف سے بقاء علی الخطاء بھی نہیں ہوگا لہٰذا میں ان سے راضی ہوں اور اس کا اعلان بھی کردے رہا ہوں تاکہ دوسرے مسلمان بھی ان سے راضی رہیں، ان کے خلاف دل میں بغض نہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کو بتلانے کے لیے ورضوا عنه بڑھانے کی ضرورت نہیں تھی مگر یہ بڑھاکر خدا کے نزدیک صحابہ کے بہت زیادہ لاڈلے اور پیارے ہونے کو بلیغ انداز میں ظاہر کیا گیا۔ اب بھلا کسی مسلمان کے لئے کہاں گنجائش باقی رہی کہ وہ صحابہ سے بغض اور نفرت کرے اور انہیں ہدفِ تنقید بنائے۔ "الله الله في أصحابي”

اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے "الله الله في أصحابي لا تتخذوهم غرضاً بعدي فمن أحبهم فبحبي أحبهم، ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله يوشك أن يأخذه” (الترمذي) اللہ اللہ! قربان جائیے رسالت مآب کی فصاحت وبلاغت پر! جملے کے شروع میں کوئی فعل استعمال نہیں کیا گیا اور لفظ اللہ کو مکرر کرکے کتنے مؤکد اسلوبِ بیان میں فرمایا کہ میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ان کی شان میں کوئی گستاخی نہ ہو، کوئی نازیبا کلمہ منھ سے نہ نکلے اور میری وفات کے بعد انہیں نشانہ نہ بنانا۔ نیز رسولِ خدا سے محبت کے لئے صحابہ جنمیں حضرتِ معاویہ بھی شامل ہیں، سے محبت کو شرط قرار دیا گیا۔ اور صحابہ جنمیں حضرت معاویہ بھی داخل ہیں، سے بغض اور نفرت کو خدا ورسول سے بغض اور نفرت قرار دیا گیا اور بہت صریح الفاظ میں اللہ کے رسول نے یہ باتیں فرمائیں۔ حیرت ہے کہ مولانا نے خطبہِ جمعہ سے "الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة” پڑھکر تو سنا دیا مگر اسی خطبے میں موجود اس حدیث کو پڑھ کر نہیں سنایا۔

اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ارشادِ صحابیِ رسول عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہے "من كان منكم متأسيا فليتأس بأصحاب محمد ، فإنهم كانوا أبر هذه الأمة قلوبا، وأعمقها علما، وأقلها تكلفا، وأقومها هديا، وأحسنها حالا؛ قوما اختارهم الله لصحبة نبيه، وإقامة دينه، فاعرفوا لهم فضلهم، واتبعوهم في آثارهم، فإنهم كانوا على الهدى المستقيم”۔

حضرت علی وحضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلافات اور جنگ:

ان دونوں جلیل القدر صحابہ کے درمیان اختلاف اور جنگ خلیفہِ ثالث حضرت عثمان کے قاتلین کے قصاص کو لیکر پیدا ہوئی۔ حضرت علی اپنے اجتہاد کے مطابق محسوس کررہے تھے کہ چونکہ قاتلین کا ٹولہ مضبوط ہے اور ان سے قصاص لینے پر کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوسکتا ہے لہٰذا کچھ انتظار کرلیا جائے۔ دوسری طرف حضرت معاویہ اپنے اجتہاد کے مطابق فوری قصاص کو ضروری سمجھ رہے تھے۔ ان دونوں بزرگوں کا اختلاف اور پھر جنگ کسی ذاتی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ سیاسی پالیسی میں اجتہادی نوعیت کی تھی۔ دونوں بزرگوں کا ساتھ دینے والے صحابہ کرام کی بھی یہی نوعیت تھی۔ بدنیتی اور ظلم فریقین میں سے کسی کی طرف سے نہیں تھا۔ صحابہ کا ایک تیسرا طبقہ وہ بھی تھا جو اپنے اجتہاد کے پیشِ نظر دونوں میں سے کسی کی طرف نہیں تھا۔ وہ طبقہ یہ سمجھتا تھا کہ جنگ کی صورت میں بہر صورت خون مسلمانوں کا ہی بہے گا لہٰذا ہمیں دونوں سے الگ تھلگ رہنا ہے۔ جس طرح بہت سارے فقہی مسائل میں صحابہ کے مابین اجتہادی اختلافات تھے اسی طرح اسلامی حکومت اور اسلامی سیاست کے اس مسئلہِ قصاص میں بھی صحابہ کے درمیان یہ تین اجتہادی اختلافات پیدا ہوئے اور بموجب حدیثِ نبوی یہ تینوں طبقے اپنے اپنے اجتہاد کی وجہ سے مستحقِ ثواب بھی ٹھہرے۔ ان میں سے جو حق پر تھا وہ دوہرے اجر کا مستحق اور جو غلطی پر تھا وہ بھی کوئی گنہگار نہیں بلکہ اکہرے اجر کا مستحق تھا۔ اہلِ سنت والجماعت کے اجماعی عقیدے کے مطابق حضرت علی حق پر ہونے کی وجہ سے دوہرے اجر والے تھے اور حضرت معاویہ اکہرے اجر والے، اور گنہگار وہ ہرگز نہ تھے۔ چنانچہ جنگِ صفین کا ذکر کرنے کے بعد حافظ بن کثیر فرماتے ہیں "وهذا هو مذهب أهل السنة والجماعة أن علياً هو المصيب وإن كان معاوية مجتهداً وهو مأجور إن شاء الله”.(البداية والنهاية) خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عثمان کے قصاص کے معاملے میں یہ اختلاف ہوا اور یہ اجتہادی نوعیت کا اختلاف تھا جس میں صواب وخطاء دونوں پر اجر موعود ہے۔ لہٰذا اس بنیاد پر حضرت معاویہ کی کردار کشی، ان پر لعن طعن کرنا، انہیں برا بھلا کہنا اور ان کی تنقیص کرنا بلکہ اپنے دل میں بھی ان کے خلاف بغض ونفرت کو چھپاکر رکھنا سراسر حرام اور گناہِ عظیم ہے۔ "الله الله في أصحابي”

3۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرت معاویہ نے حضرت علی سے بغاوت کی اور باغی گروہ کی سربراہی کی۔ مولانا کی طرف سے حضرت معاویہ پر یہ الزامِ بغاوت بھی اس وجہ سے درست نہیں ہے کہ حضرت معاویہ نے حضرت عثمان کے قصاص کے معاملے کو لیکر حضرت علی سے بیعت نہیں کیا۔ بغاوت تب ہوتی جب انہوں نے بیعت کی ہوتی اور پھر بات نہ مانتے۔ کسی بھی ملک سے بغاوت اس کی طرف سے ہوتی ہے جو اس ملک کا آئینی شہری ہو۔ جو شہری ہی نہ ہو اس کے ذریعے اس ملک کی مخالفت بغاوت نہیں کہی جاسکتی۔ اسی طرح حضرت معاویہ کا معاملہ تھا۔

4۔ اپنی تقریر میں مولانا فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ کے مزاج میں ڈھیلاپن تھا۔ ڈھیلاپن کا ہونا اور خلیفۃ المسلمین کا امورِ خلافت میں ڈھیلاپن یقیناً ایک بڑا عیب بلکہ گناہ ہے۔ ظاہر ہے خلیفہِ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ڈھیلاپن کی تعبیر انتہائی نامناسب بات ہے۔

5۔ مولانا نے فرمایا کہ”لا تسبوا أصحابي” ایک خاص سیاق وسباق کے ساتھ مخصوص ہے، یہ کوئی اصول اور عمومی بات نہیں ہے۔ وہ سیاق وسباق یہ تھا کہ حضرت خالد بن ولید کو حضرت عبد الرحمن بن عوف کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ لہٰذا یہ حدیث اسی واقعے کے ساتھ خاص ہے، یہ کوئی اصول نہیں ہے۔ واہ صاحب واہ! یہ آپ کا اصول بھی خوب رہا! اولاً جمہور علماء امت کے نزدیک تو اصول یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے نصوص کے عمومِ الفاظ کا اعتبار ہے، نہ کہ سبب اور واقعے کا، العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب” البتہ شانِ نزول اور مواقعِ احادیث کے علم کا فائدہ یہ ہے کہ نص میں اگر کہیں اجمال ہو اور فہمِ معنی میں دشواری ہو تو اس سے مدد لے لی جائے۔ امت کا یہ اصول "العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب” معقول بھی ہے کیونکہ اگر قرآن و حدیث کے نصوص کو ان کی شانِ نزول اور واقعات کے ساتھ خاص کردیا جائے تو قرآن و حدیث یعنی مکمل اسلام ان واقعات کے ساتھ مخصوص ہوکر رہ جائے گا کیونکہ قرآن کی تقریباً ہر آیت کی شانِ نزول ہے اور خطبات کے علاوہ تقریباً تمام ہی ارشاداتِ رسول کسی نہ کسی سبب اور واقعے کے وقت فرمائے گئے۔ اس طرح لازم آئے گا کہ احکامِ اسلام مابعد زمانہ کے لئے معتبر نہیں ہونگے۔ گویا کہ اسلام صحابہ کے زمانے تک ہی محدود رہے گا۔ ثانیاً، اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد لا تسبوا أصحابي صرف عبد الرحمن بن عوف کے ساتھ مخصوص ہوتا تو جمع کا لفظ اصحاب کی بجائے مفرد لفظ استعمال کیا جاتا۔ ثالثا، اگر حضور کا ارشاد "لا تسبوا” عام نہیں تھا تو کیا یہ لازم نہیں آیا کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کے سوا دوسرے صحابہ کے بارے میں برا بھلا کہنے کی ممانعت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہرگز نہیں کی گئی ہے اور اس کا جواز حاصل ہے؟ جبکہ معمولی اخلاق والا انسان بھی دوسروں کو برا بھلا کہنے اور گالی دینے سے روکتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو چشمہِ اخلاقِ فاضلہ تھے۔ مولانا کو اگر اس حدیث میں عام ممانعت نظر نہیں بھی آئی تو دوسری حدیثوں اور قرآنی آیات پر نظر ڈال لیتے۔ کیا حدیث "سباب المسلم فسوق وقتاله كفر” بھی عام نہیں بلکہ واقعہِ ارشاد کے ساتھ خاص ہے؟ "الله الله في أصحابي”

6۔ یزید کو ولیِ عہد بنانے کی وجہ سے بھی مولانا حضرت معاویہ پر برس پڑے ہیں اور حضرت معاویہ کے اس اقدام کو ناجائز قرار دیا ہے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت معاویہ کو بحیثیت امیر المومنین اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں تھی۔ اگر بیٹا نااہل اور فاسق نہیں ہے اور دوسرے افراد بیٹے سے زیادہ اہل ہیں تب بھی بیٹے کو ولیِ عہد بنانے کا شرعاً جواز ہے البتہ یہ افضل نہیں ہے۔ مگر افضل کو اختیار کرنا بھی افضل ہی تک ہے، واجب نہیں ہے۔ یزید میں بظاہر فسق کے اسباب حضرت معاویہ کے زمانے میں ظاہر نہیں ہوئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ بھی یزید کی ان الفاظ میں تعریف کرتے ہیں "قد حضرته وأقمت عنده فرأيته مواظباً على الصلاة متحرياً للخير يسأل عن الفقه ملازماً للسنة۔”( حافظ بن كثير)،نیز مشہور صحابیِ رسول حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ کے سامنے یزید کو ولیِ عہد بنانے کی تجویز رکھی۔ نیز یزید فنِ حرب وضرب، سپہ سالاری میں ماہر تھا۔ چنانچہ بہت ممکن ہے کہ حضرات عبد الرحمن بن ابی بکر، حسن وحسین اور دیگر صحابہ کے مقابلے میں یزید کی ان ممتاز خوبیوں اور حضرت مغیرہ کی تجویز کی وجہ سے حضرت معاویہ نے اسے ولیِ عہد بنادیا ہو۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ انہوں نے بددیانتی کی ہے اور ذاتی مفاد کے پیشِ نظر محض بیٹا ہونے کی وجہ سے یزید کو ولیِ عہد نامزد کردیا۔ انہوں نے جو کچھ کیا نیک نیتی کے ساتھ کیا، البتہ یہ الگ بات ہے کہ نتائج کے اعتبار سے یہ فیصلہ غلط نکلا اور یزید سے امت کو نقصان پہنچا۔ حضرت معاویہ کی طرف سے اس فیصلے میں ان کی طرف سے بدنیتی اور مفاد پرستی نہ ہونے کی دلیلوں میں سے دلیلِ قرآنی "رضي الله عنهم ورضوا عنه” ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ آیت نازل کرتے وقت آئندہ یزید کو ولیِ عہد بنانے میں حضرت معاویہ کی نیت بھی معلوم تھی اس کے باوجود صحابہ کرام کے بارے میں یہ اعلانِ رضامندی فرمایا اور صحابہ میں حضرت معاویہ بھی شامل ہیں۔ اگر حضرت معاویہ کی طرف سے بدنیتی ہوتی، مفاد پرستی ہوتی جو یقیناً گناہ ہے اور اس نامزدگی پر حضرت معاویہ اپنی وفات تک قائم بھی رہے تو یہ اعلان "رضي الله عنهم.. ” نہ ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ بغیر توبے کے گناہوں کے ساتھ راضی ہونے کا اعلان نہیں کرسکتا ہے۔ نیز حضرت معاویہ پر مفاد پرستی اور بددیانتی جیسے گناہ کا الزام اہلِ سنت والجماعت کے اجماعی عقیدے کے خلاف بھی ہے۔ اب جب حضرت معاویہ قرآن کے مطابق عدول ثابت ہوئے تو مفاد پرستی اور بددیانتی جو عدولیت کے خلاف ہے خود بخود مرتفع ہوگئی۔ لہٰذا یزید کو ولیِ عہد بنانے کی وجہ سے حضرت معاویہ پر لعن طعن کرنا، تنقید وتنقیص کرنا حرام اور سخت گناہ ہوا۔ حضرت معاویہ کو اپنے بیٹے یزید کو اپنے اجتہاد کی روشنی میں ولیِ عہد بنانے کی صورت میں بھی اکہرا اجر حاصل ہے۔ "الله الله في أصحابي”

7۔ ا ہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ایک ادنیٰ درجے کا صحابی بھی اپنے مابعد قیامت تک آنے والے بڑے بڑے متقی اور اللہ والے سے ہزاروں گنا افضل ہے بلکہ کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تمام تابعین، فقہاء، محدثین وعلماء سے افضل ہیں۔ وہ اہلِ بیت کے غیر صحابی قیامت تک آنیوالے تمام مسلمانوں سے بہتر ہیں۔ حضرت معاویہ حضرات سعید بن مسیب، حسن بصری، زین العابدین، علی بن حسین، محمد بن باقر، جعفرِ صادق، زید، حسن بصری، ابو حنیفہ، مالک، شافعی، احمد بن حنبل، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، سید احمد شہید رحمہم اللہ ان سب سے ہزاروں گنا زیادہ افضل ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ان حضرات میں سے کسی کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کی جاسکتی ہے تو ان سے ہزاروں گنا افضل صحابیِ رسول کاتبِ وحی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی امت کیسے برداشت کرسکتی ہے؟ اور ان پر لعن طعن کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے؟ "الله الله في أصحابي”

8۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ساری دعائیں اور تعریفیں منقول ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا "اللهم علم معاوية الكتاب والحساب وقه العذاب”، ایک مرتبہ حضور نے فرمایا "ادعوا معاوية أحضروه أمركم فإنه قوي أمين” (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، مطبوعة بيروت)۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا اور اپنی آخر حیات تک باقی رکھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانہِ خلافت میں بھی انہیں شام کی گورنری پر باقی رکھا بلکہ مزید کچھ دوسرے علاقوں کی ذمہ داری دی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جب کسی فقہی مسئلے میں شکایت کی گئی تو انہوں نے فرمایا "إنه صحب رسول الله صلى الله عليه وسلم” (البخاري). حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص کی گورنری سے معزول کیا اور ان کی جگہ حضرت معاویہ کو مقرر کیا تو کچھ لوگوں نے چہ می گوئیاں کیں۔ حضرت عمیر بن سعد نے انہیں سختی سے ڈانٹا اور فرمایا "لا تذكروا معاوية إلا بخير فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول اللهم اهد به” (جامع الترمذي).

9 ۔ حضرت معاویہ کو مخدوش کرنا، انہیں ہدفِ تنقید بنانا اور ان سے بغض رکھنا، لعن طعن کرنا صرف حضرت معاویہ تک ہی محدود نہیں رہتا ہے بلکہ اس کے اثرات صحابہ کی ایک بڑی تعداد تک پہنچتے ہیں۔ انہیں شام ودوسرے علاقوں کا گورنر بنانے والے صحابہ یعنی حضرت عمر وعثمان رضی اللہ عنہما بھی زد میں آتے ہیں، سعد بن ابی وقاص، مغیرہ بن شعبہ، ابو ایوب انصاری اور دیگر بہت سارے صحابہ زد میں آتے ہیں جنہوں حضرت معاویہ کی تعریف کی یا جنگ میں ان کا ساتھ دیا۔ لہٰذا جو شخص حضرت معاویہ کو برا بھلا کہے گا اسے دیگر اصحابِ رسول کو برا بھلا کہنے کی بھی ناپاک جرات ہوجائے گی۔ اسی وجہ سے رفیع بن نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں "معاوية ستر لأصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فإذا كشف الرجل الستر اجترأ على ما وراءه” (الخطيب: تاريخ بغداد). یعنی حضرت معاویہ اصحابِ رسول کے ناموس کے لیے ڈھال ہیں۔

روافض اور دشمنانِ اسلام اسی وجہ سے حضرت معاویہ کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ جب یہ ڈھال ٹوٹ جائیگی اور اس کے ذریعے دروازہ کھل جائے گا تو پھر دیگر صحابہ کی ناموس تک پہنچنا آسان ہوجائے گا۔

خلاصہ یہ ہے کہ مولانا سلمان صاحب نے حضرت معاویہ اور ان کے ساتھ دیگر صحابہ پر سخت تنقید اور ان کی کردار کشی کرکے انتہائی گھناؤنا اور مکروہ کام کیا ہے جو قرآن و سنت اور عقیدہِ اہلِ سنت والجماعت کے خلاف ہے۔ ناموسِ صحابہ پامال ہونے کی وجہ سے ہم ان کی تقریر کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور تمام صحابہ بشمول حضرت معاویہ کو اسی طرح برگزیدہ، متقی، نیک نیت، صالح، اور خیرِ امت سمجھتے ہیں جس طرح اللہ اور اللہ کے رسول نے قرآن و حدیث میں بتلایا ہے۔ مولانا کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں توبہ کریں اور واضح انداز میں بغیر کسی اگر مگر اور شق بیانی کے اپنی غلط باتوں سے رجوع کرنے کا اعلان کریں۔