یوگا ورزش کے نام پر شرک وکفر کو فروغ دینے کی سازش ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محمد ابراہیم شولاپوری

’’یوگا‘‘ورزش کے نام پر شرک وکفر کو فروغ دینے کی سازش ہے، اہل ایمان اپنے ایمان کی فکر کریں۔

یوگا کی مذہبی حقیقت کو چھپا کر ورزش کے نام سے متعارف کرایا جارہا ہے ، یہ ہندوازم کو فروغ دینے کی ناپاک سازش کا حصہ اور مسلمانوں کے عقائد پر فکری یلغار ہے۔

جنگ دو طرح کی ہوتی ہے، ایک عسکری جس میں ہتھیاراورمادی قوت کا استعمال ہوتا ہے، اپنے مد مقابل کے جان مال اور آبرو کو پامال کیا جاتا ہے، جسمانی اذیت پہنچائی جاتی ہے،املاک لوٹے جاتے ہیں یا تباہ کردئے جاتے ہیں،جنگ کی دوسری قسم فکری جنگ ہے جوانجام اور نتیجہ کے اعتبار سے پہلی سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہوتی ہے۔اس میں قوم کا ایمان لوٹا جاتا ہے، اس کے نظریات بدل دیئے جاتے ہیں،قوم دشمن کی آلہء کار بنتی ہے،دشمن کے نظریات کو کچلنے کے بجائے لا شعوری میں اسکے نظریات کی تبلیغ واشاعت کرتی ہے، اس پر خوشی سے اپناجان مال نچھاور کرتی ہے،اس جنگ میں متاع کارواں تو جاتا ہی ہے احساس زیاں بھی ختم ہوجاتاہے،قوم کی اکثریت کو اس بات کا بھی احساس نہیں ہوتا کہ ہم جنگ کی صورت حال سے گزررہے ہیں، اس وقت مسلمانان ہندکو اسی فکری جنگ سے واسطہ ہے۔لیکن قوم کا حال یہ ہے کہ آج تک اسے پتہ ہی نہیں کہ اس سے کیا چھیناجارہا ہے اور اس کو کیا دیا جارہا ہے۔ قوم کا دانشورطبقہ بھی خواب غفلت میں پڑا ہوا ہے اور اس بات کا احساس کرنے کو تیار نہیں کہ کفر وایمان کی جنگ اس کے گھرکے اندر تک داخل ہوچکی ہے،اور اس کی نسلیں ایمانی اور فکری طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں۔

فکری جنگ میں دشمن کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ مختلف طریقوں سے مد مقابل کے افکار و عقائد میں شکوک اور اعمال میں تذبذب پیدا کرے،اس کے دل ودماغ کی اس طرح تربیت کی جائے کہ اس کی فکر اس کے دشمن کی فکر سے ہم آہنگ ہو اور وہ بغیر احساس کئے اپنے دشمن کا متبع اس کی تہذیب وتمدن پر فخر کرنے لگے۔ ہندواحیاء کی تحریکیں موجودہ حکو مت کی مددسے جہاں ایک طرف مسلمانوں کے عقائد، عائلی قوانین ،اسلامی طریقہائے زندگی کے بارے میں طرح طرح کے شکوک وشبہات پیدا کررہی ہیں تو دوسری طرف سرسوتی کی پوجا، وندے ماترم،سوریہ نمسکار اور یوگا کے نام پر ہندوازم کے عقائد کو مسلمانوں پر تھوپنے میں لگی ہوئی ہیں۔ اگر بروقت اس کا نوٹس نہیں لیا گیا تو آنے والی نسلوں کا ایمان پر برقرار رہنا مشکل ہوگا۔

یوگا کو ورزش کے نام پر متعارف کراکر پہلے اکیس جون کو یوگا دن منانے کا اعلان کیا گیا ، اب ہر ماہ کی ۲۱تاریخ کو یوگا دن منانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

ہمارے بعض روشن خیال تعلیم یافتہ اور نیم پڑھے لکھے لوگوں کو یوگا کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں یا پھر سطحی علم ہے، وہ بغیر مطالعہ اور تجزیہ کے یوگا کو صرف ورزش کا طریقہ قراردیتے ہیں جو سراسر لا علمی کا نتیجہ ہے۔انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یوگا کی تمام باتیں اسلامی عقائد سے ٹکراتی ہیں،یوگا میں توحید، رسالت اور قیامت کے دن کا انکار ہوتا ہے،اسی طرح مخلوق کا خالق میں حلول کرنے کا عقیدہ پایاجاتا ہے، نیز اس میں مشرکین کے ساتھ مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔
مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی نظریہ کو لینے یا کسی تحریک سے وابستہ ہونے سے پہلے اس بات کی تحقیق کرے کہ اس کا بانی کون ہے، اس کے عقائداور نظریات کیا ہیں، اس کے ماننے والے اس کو کیا درجہ دیتے ہیں، یہ تحریک قائم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس کے اغراض ومقاصد کیا ہیں، وہ اپنے ماننے والوں میں کیا تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں، اس تنظیم یا تحریک میں بااثر لوگوں کے نظریات مذہب اور طریقہء فکر کیا ہے، اور متبعین پر کیا اثر پڑرہا ہے۔نیز خاص طور سے ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے لئے یہ بھی از حد ضروری ہے کہ ہم یہ بھی دیکھیں کہ وہ شریعت کی روشنی میں صحیح بھی ہے یا نہیں۔

ہمارے اطراف میں یوگا کے لئے ہندئوں کی تین تنظیمیں متحرک ہیں،ان کا سرسری جائزہ پیش ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھیں احقر کی انگریزی کتاب Raja yoga and the art of living an Islamic appraisal)

آرٹ آف لِونگ: یہ تنظیم بہت سے ممالک میں اپنے یوگا کے کلاسیس چلاتی ہے ،اس کا بانی شری شری روی شنکر ہے، یہ ایک ہندو اسکالر ہیں اور ان کے عقائد وہی ہیں جو ایک عام ہندو کے ہوتے ہیں،ایک جگہ ہندوازم اور عیسائیت پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اگر تم چاہتے کہ رکاوٹیں دور ہوں تو گنیش کی پوجا کرو، اگر تمہیں خوشحالی چاہئے تو شیوا کی پوجا کرو، اگر تمہیں مال چاہئے تو لکشمی کی پوجا کرو او رعلم کے لئے سرسوتی کی پوجا کرو (induism and Christianity by Sri Sri Ravi Shankar Page 4)

اور ان کے متبعین ان کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں، symposium on human values presented by art of living کے صفحہ سات میں کہتے ہیں کہ تمام دنیا کی آسمانی کتابوں سے زیادہ حکمت ان سے جاری ہوتی ہے۔اوروہ انہیں خدا کے برابر درجہ دیتے ہیں۔

راج یوگا: یہ بھی ایک تحریک ہے جس کا مرکزراجستھان میں مائونٹ ابو پر قائم ہے،ہمارے شہر شولاپورمیں سید بخاری درگاہ سے نیچے اترنے پر چوک سے داہنے طرف تقریبا سو میٹر کے فاصلے پر ان کا مرکز بنا ہوا ہے، روڑ کے قریب ایک بڑا بورڈ لگا ہوا جس پر خانہ کعبہ کی تصویر بھی بنی ہوئی ہے، اس طرح عام مسلمانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حجر اسود ان کے تصور میں قائم خدا کی علامت ہے۔اس تحریک کا بانی دادا لیکھ راج تھا جس نے دعوی کیا کہ ہندئوں کا دیوتا شیوا اس پر نازل ہوکر اس کو اپنے علم کے فروغ کے لئے چنا۔ ان کے عقائد پوری طرح سے اسلامی تعلیمات کے خلاف کفر وشرک پر منحصرہیں، اس میں شرکت کرنے سے آدمی اسلام سے فوری خارج ہوجاتا ہے۔

پتانجلی یوگپیٹھ:یہ اس وقت زیادہ معروف ہے اور بابا رامدیو کی طرف سے اس کی تشہیر ہوتی ہے، حکومت کی پشت پناہی میں اس وقت یوگا کی خوب پزیرائی ہورہی ہے اور اسکولوں میں اس کا اہتمام کرایا جارہا ہے۔

اس وقت بابا رام دیو کے یوگا پر ایک انگریزی کتاب میرے سامنے ہے جس کے ٹائٹل پیج پرلکھا ہے (oga, a divine tree of life)اس کے سرورق پر ہندئوں کی مذہبی علامت اور ان کے یہاں سب سے مقدس سمجھا جانے والا منتر اوم لکھا ہوا ہے، جس سے خود ہندوازم کی تقدیس ظاہر ہورہی ہے، اسی طرح کتاب بابا رام دیو کی ستر کھلی ہوئی تصویروں سے پُر ہے،اور طریقہء یوگا اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ پہلے مراقبہ کی صورت میں بیٹھا جائے، پھر آنکھ بند کرکے ناک سے سانس لی جائے،تین مرتبہ کھینچ کر اوم کہا جائے،پھر گایتری منتر اور دوسرے منتروں کا ذکر ہے، گایتری کو ہندو سرسوتی کا اوتار مانتے ہیں اور اس کو طاقت کی دیوی بتاتے ہیں،اس کا جب نام لیا جاتا ہے تو کنول کے پھول پر بیٹھی ہوئی پانچ سر اور دس ہاتھوں کی عورت ان کے تصور میں آتی ہے،نیز ہندئووں کا عقیدہ ہے کہ اس منتر کو پڑھنے سے آدمی کو خداکی ماورا ئی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ہندئووں کا عقیدہ ہے کہ شیواہندوستان کے جنگلوں میں یوگی کی حیثیت میں رہا کرتا تھا، وہ یوگا کی مشق کرتے کرتے کائنات کا عظیم خدا بن گیا۔ (تانتریکا صفحہ ۵)

یوگی لوگ زعفرانی کپڑے پہنتے ہیں، تربیت کا آغاز اوم نمسکار سے کرتے ہیں، مختلف منتر اور دیوی دیوتائوں کے ورد پڑھتے ہیں۔بہر حال یوگا سے متعلق سنجیدگی سے تین سوال پوچھے جائیں۔

یوگا کی تعلیمات اور سند کس مذہب کی ہیں؟

یوگا کو سکھانے والے اور اس کی دعوت دینے والے کون لوگ ہیں؟

یوگا کی تحریک کے علمبردار اور اصل محرک کون ہیں،؟اوپر کی تفصیل سے اب کیا شک رہ جاتا ہے کہ یوگا ایک ہندو مذہب کی عبادت کی شکل ہے جو اسلام کی بنیادی اور اصولی تعلیمات سے براہ راست ٹکراتی ہے۔صرف نام بدلنے سے شئی کی حقیقت ختم نہیں ہوتی۔ ہندو مذہب میں کوئی اعلی تعلیمات نہیں ہیں اور نا ہی آج کی ترقی یافتہ دور میں اس کی تعلیمات میں کوئی کشش ہے، بلکہ کچھ مسائل تو ایسے ہیں جن سے انسانیت بھی شرمندہ ہوتی ہے، خود تراشیدہ چیزوں کو پوجنا، ستی طبقاتی اونچ نیچ وغیرہ۔ ہندو احیا کی تحریکوں کے لئے اپنے مذہب کو پیش کرنے کے لئے یہ باتیں بڑی رکاوٹ بنتی ہیں، اس لئے وہ یوگا کو ورزش کا نام دیکر اپنے افکار کی اشاعت میں لگے ہوئے ہیں۔

اسی طرح ہماری اسکولوں کے نام یوگا کے لئے جو سرکیولر جاری کیا گیا اس میں بھی ہندئووں کی مذہبی کتاب رگ وید کی آیتوں کا ورد کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، سرکیولر میں یوگا کرنے کے آداب مذکور تھے۔ ابتدا میں میں تھا کہ بچوں کو خاص ہیئت میں بٹھاکر ان کو پڑھایا جائے

سنگچھ دھوم سنودھوم سو مناسی جناتھم دیوابھاگم یتھا پروے سنجانانا اپاستے

یہ رگ وید کی آیت ہے، جس میں آگ کے دیوتا ،جس کے بارے میں ہندئوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہردم جوان معبود ہے جس کا کام لوگوں کے نذرانوں کو تمام دیوی دیوتائوں کو تقسیم کرنا ہے۔ اس آگ کے دیوتا سے دعا کی گئی ہے۔چاہے وہ گایتری منتر ہو یا پھر اس رگ وید کی آیت ہمارے توحید ورسالت کے عقیدے کے بالکل خلاف ہے۔

اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:

اے ایمان والو اگر تم ان لوگوں کی پیروی کروگے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، تو وہ لوگ تمہیں ایمان لانے کے بعد کفر میں وا پس ڈالدیں گے پھر تم خسارہ اٹھانے والے ہو کر لوٹوگے(سورہ آل عمران آیت ۹۴۱)

مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کفر وشرک کے مسئلہ میں ہر گز سمجھوتہ نا کریں اور ہر حال میں اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کریں۔اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں۔

اے ایمان والو اسلام میں پوری طرح سے داخل ہوجائو اور شیطان کی پیروی مت کرو، بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔(سورہ بقرہ آیت ۸۰۲)

بعض لوگ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ ہندو منتر سے اگر پریشانی ہے تو آپ لوگ اللہ کہو ، ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح سے دین سے دور اور دینی علم سے ناواقف شخص دھیرے دھیرے شرک کے دلدل میں پھنس ہی جائے گا۔ قرآن کریم میں ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے بھی منع کیا گیا ہے جو کفر وشرک میں ملوث ہیں، اور حدیث میں ہے کہ جو شخص جس قوم کی تعداد بڑھائے گا اس کا شمار انہیں میں ہوگا۔لہذا یوگا کے لئے مندروں، مٹھوں، آشرم اور کیندروں میں خاموش یا اللہ کا ذکر کرتے ہوئے بیٹھنا بھی جائز نہیں ہوگا اس سے شرکیہ چیزوں کی خاموش حمایت ہوتی ہے اور ایمانی غیرت کے بھی خلاف ہے۔ورزش کے بہت سے طریقے ہیں، پھر عبادات میں نماز، روزہ، اعتکاف، اللہ کے قدرت میں غوروفکر، قرآن کی تلاوت، تسبیحات کی پابندی سے جہاں ایک طرف ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے وہیں جسم کو صحت مند رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں انسانوں کی مکمل رہنمائی کرتا ہے، اس کی تعلیمات چھوڑکر دوسروں کے پیچھے چلنا خود اسلام کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔اوراسلام کی ہدایت ملنے کے بعد کفر کی چیزوں کو اپنانادر حقیقت نعمت اسلام کی ناقدری ہوگی۔قوم کے ارباب علم وفکر ، اسکول کے غیرتمند اساتذہ کرام اور عامۃ المسلمین سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ سلسلہ میں بیدار مغزی سے کام لیں اور بروقت اس فتنہ کا سد باب کرنے کے لئے لائحہء عمل طے کریں ورنہ نسلوں کے گمراہ ہونے کا وبال ہمارے سر پر ہوگا۔ اللہ تعالی ہمارے اور ہماری نسلوں کی دین کی حفاظت فرمائے آمین۔

شبِ قدر کی حقیقت، علامات اور اعمال

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی بڑی فضیلت واہمیت ہے۔ یہ عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی، اعتکاف جیسی عظیم عبادت کے ساتھ ساتھ اسی عشرہ کی کسی طاق راتوں میں سے ایک رات "شبِ قدر”، یا "لیلۃ القدر” ہوتی ہے۔ شبِ قدر یا لیلۃ القدر بڑی بابرکت اور فضیلت واہمیت والی رات ہے۔ اس رات کے فیوض وبرکات کثرت سے حدیثوں میں آئے ہیں؛ جب کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں، ایک سورت نازل فرمایا اور اس سورۃ میں اس کی رات کی اہمیت اور فضیلت بیان فرمایا ہے۔ اس سورۃ کا نام سورۃ القدر ہے۔ شب قدر کا مطلب ہے کہ وہ رات جس کی اللہ کے نزدیک قدر ومنزلت ہو۔

"قدر” کا معنی اور مطلب کیا ہے؟ "قدر کے ایک معنی عظمت وشرف کے ہیں۔ …. اس رات کو "لیلۃ القدر” (شبِ قدر) کہنے کی وجہہ اس رات کی عظمت وشرف ہے۔ ابو بکر وراق نے فرمایا کہ اس رات کر لیلۃ القدر اس وجہہ سے کہا گیا کہ جس آدمی کی اس سے پہلے اپنی بے عملی کے سبب کوئی قدر وقیمت نہ تھی، اس رات میں توبہ واستغفار اور عبادت کے ذریعہ وہ صاحب قدر وشرف بن جاتا ہے۔” (معارف القرآن 8/791)

صرف اس امت کو شب قدر ملی:
شب قدر جیسی عظیم الشان اور انوار وبرکات والی رات، نبی اکرم –ﷺ– کی فکر کے نتیجے میں، صرف امت محمدیہ کو ملی۔ شبِ قدر اللہ کی جانب سے بہت بڑا احسان ہے جو کسی دوسری امت کے حصے میں نہیں آئی۔ نبی اکرم –ﷺ– نے فرمایا : "اللہ سبحانہ وتعالی نے میری امت کو شبِ قدر عطا فرمایا اور اس سے پہلے کسی (امت) کو یہ عطا نہیں فرمایا ۔” (جامع الأحاديث، حدیث: 39912)

موطا امام مالک میں ہے کہ "رسول اللہ–ﷺ– کو، ان سے پہلے لوگ کی عمریں دکھائی گئیں، یا ان میں سے جو اللہ نے چاہا؛ تو گویا آپ –ﷺ– نے اپنی امت کی عمروں کو بہت کم محسوس کیا کہ وہ عمل میں وہاں تک نہیں پہنچ سکے گی، جہاں تک دوسرے لوگ اپنی طویل عمر کی وجہہ سے پہنچے؛ لہذا اللہ نے آپ –ﷺ– کو شبِ قدر عنایت فرمائی جو ہزار مہینوں سے (عبادت کے اعتبار سے) بہتر ہے۔” (موطأ امام مالک، حدیث: 1145)

ایک دوسری روایت اس طرح ہے کہ رسول اللہ –ﷺ– نے بنی اسرائیل کے ایک ایسے آدمی کا ذکر فرمایا، جس نے اللہ کے راستے میں، ایک ہزار مہینے تک ہتھیار پہنے رکھا؛ تو مسلمان اس سے(بہت) متعجب ہوئے؛ تو اللہ عز وجل نے انّا انزلناہ …. نازل فرمائی کہ ایک شبِ قدر کا عمل، ان ہزار مہینوں سے بہتر ہے جن میں اس آدمی نے فی سبیل اللہ ہتھیار پہنے رکھا۔ (السنن الکبری للبیہقی، حدیث: 8522)

شب قدر کی علامات اور متوقع رات:
اتنی مبارک اور شرف وعزت والی رات کی تاریخ متعین نہیں ہے؛ لیکن اتنا طے ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک رات: "شبِ قدر” ہوتی ہے۔ ایک بار رسول اللہ –ﷺ– اپنے صحابہ کرام–رضی اللہ عنہم– کو شبِ قدر کی اطلاع دینے کے لیے تشریف لا رہے تھے؛ تو آپ –ﷺ– نے دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے پایا؛ پھر وہ آپ –ﷺ– سے اٹھا لی گئی؛ لہذا شبِ قدر متعین نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ –ﷺ– باہر تشریف لائے اور یہ چاہ رہے تھے کہ اپنے صحابہ –رضی اللہ عنہم–کو شب قدر کے بارے میں بتائیں؛ لیکن (مسلمانوں میں سے) دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے؛ تو رسول اللہ –ﷺ– نے فرمایا: "میں اس ارادہ سے نکلا تھا کہ تمھیں شبِ قدر کے بارے میں اطلاع دوں؛ تو دو آدمی آپس میں لڑ رہے تھے؛لہذا مجھ سے اٹھا لی گئی۔ پس تم اسے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔” (شعب الایمان، حدیث: 3406)

ابن عمر –رضی اللہ عنہما– فرماتے ہیں کہ رسول اللہ –ﷺ– سے شبِ قدر کے بارے میں سوال کیا گیا اور میں سن رہا تھا، آپ –ﷺ– نے فرمایا:”یہ ہر رمضان میں ہوتی ہے”۔ (ابوداؤد، حدیث: 1387)

حضرت ابن عمر–رضی اللہ عنہما– بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ –ﷺ– نے فرمایا: "تم شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو!”(مسند ابی داؤد طیالسی، حدیث: 2047)

حضرت عبادہ بن صامت –رضی اللہ عنہ– نے رسول اللہ –ﷺ– سے شبِ قدر کے بارے میں پوچھا؛ تو آپ –ﷺ– نے فرمایا: "وہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے۔ وہ کسی طاق رات میں ہوتی ہے، اکیسویں رات، یا تیئسویں رات یا پچیسویں رات یا ستائیسویں رات، یا انتیسویں رات یا پھر رمضان کی آخری رات میں۔ جس نے ایمان واخلاص کے ساتھ، اس رات قیام کیا، اس کے سابقہ گناہوں کی مغفرت کردی جائے گی اور اس کی علامات میں سے یہ ہے کہ یہ رات انتہائی راحت بخش، صاف، پرسکون اور خاموش ہوتی ہے، نہ زیادہ گرم ہوتی ہے نہ زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے۔ اس میں چاند روشن ہوتا ہے۔ اس رات میں صبح تک کسی ستارے کے لیے ٹوٹنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اس کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے اور اس کی شعائیں نہیں ہوتیں۔ وہ بالکل برابر ہوتا ہے گویا کہ وہ چودھویں رات کا چاند ہے اور اللہ تعالی نے شیطان پر حرام قرار دیا ہےاس دن وہ اس کے ساتھ نکلے۔ (الدر المنثور8/571)

حضرت جابر بن عبد اللہ –رضی اللہ عنہما– روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم –ﷺ– نے ارشاد فرمایا: "میں نے اس رات (شبِ قدر) کو یکھا ہے۔ یہ آخری عشرہ کی کسی طاق رات میں ہے اور یہ رات انتہائی پرسکون اور راحت بخش ہے، نہ گرم ہے اور نہ ہی سرد۔ اس میں چاند روشن ہوتا ہے اور اس میں شیطان ظاہر نہیں ہوتا، یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاتی ہے۔ (الدر المنثور8/571)

کچھ لوگوں کو یہ اشکال ہوتا ہے کہ بسا اوقات چند ممالک میں اسلامی تاریخ مختلف ہوتی ہے، مثلا: ہندوستان میں رمضان کی اکیسویں رات ہوتی ہے؛ تو سعودیہ عربیہ میں رمضان کی بائیسویں رات ہوتی ہے۔ اس صورت میں سوال یہ ہوتا ہےکہ "شبِ قدر” کہاں کی تاریخ کے اعتبار سے ہوگی یا پھر ہر ملک میں، مختلف دنوں میں شب قدر ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی تاریخ "اختلاف مطالع” کے سبب مختلف ملکوں اور شہروں میں، شبِ قدر مختلف دنوں میں ہو، تو اس میں کوئی اشکال نہیں؛ کیوں کہ ہر جگہ کے اعتبار سے جو رات شبِ قدر قرار پائے گی، اس جگہ اسی رات میں شبِ قدر کے برکات حاصل ہوں گے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔” (معارف القرآن 8/794)

شبِ قدر کی عبادت کی اہمیت:
اللہ سبحانہ وتعالی شبِ قدر کی عبادت کے بارے میں، قرآن کریم میں فرماتے ہیں: (ترجمہ) "شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔” ہزار مہینے تیراسی سال اور چار مہینے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ ” ہزار مہینے تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ہے،اس سے زیادہ شبِ قدر میں، عبادت کرنے کا ثواب ہے۔”(بیان القرآن)

حضرت انس –رضی اللہ عنہ– سے مرفوعا مروی ہے کہ لیلۃ القدر میں، جبریل –علیہ السلام– فرشتوں کے ایک گروہ میں آتے ہیں اور جس کسی کو عبادت الہی میں مشغول دیکھتے ہیں، اس کے لیے دعاء مغفرت کرتے ہیں۔ (بیان القرآن)

امام ابن ابی شیبہ (رحمہ اللہ) نے حضرت حسن –رضی اللہ عنہ– سے بیان کیا ہے کہ میں کسی دن کو کسی دن پر اور کسی رات کو کسی رات پر افضل نہیں جانتا، بجز شبِ قدر کے؛ کیوں کہ (عبادت کے اعتبارسے) یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (الدر المنثور 6/1054)

شبِ قدر میں عبادت:
ہمیں رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں: اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں میں شبِ قدر کی تلاش میں، عبادات میں مشغول رہنا چاہیے۔ شبِ قدر کی تلاش کا مطلب یہ ہے کہ اس رات میں زیادہ ہی تلاوت قرآن کریم، ذکر واذکار، نفل نمازیں اور دوسرے اعمال کرنا چاہیے۔ ان راتوں میں عبادات کے حوالے سے چند احادیث ملاحظہ فرمائے:

حضرت انس –رضی اللہ عنہ– نے بیان فرمایا کہ شبِ قدر میں کوئی عمل، صدقہ، نماز اور زکاۃ ہزار مہینوں کے اعمال سے افضل وبہتر ہے۔ (فتح القدیر للشوکانی 5/577)

رسول اللہ –ﷺ– نے امّ المومنین حضرت عائشہ –رضی اللہ عنہا– کو شب قدر میں دعا مانگنے کا حکم دیا؛ چناں چہ حضرت سفیان ثوری –رحمہ اللہ– فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک شبِ قدر میں دعا نماز سے بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی نماز جس میں دعا نہ یا کم ہو، اس سے بہتر ہے کہ آدمی دعا میں مشغول رہے۔ ہاں، اگر اس طرح نماز پڑھ رہا ہو کہ اس میں دعا بھی خوب کرے، آیت رحمت پر اللہ تعالی سے رحمت کی دعا کرے، آیت عذاب پر اللہ تعالی کی پناہ چاہے؛ تو پھر یہ نماز بہتر ہے۔ سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ تہجد کی نماز پڑھے، تلاوت کرے اور دعا بھی کرے۔ (لطائف المعارف لابن حجر 204)

حضرت ابو ہریرہ –رضی اللہ عنہ– بیان کرتے ہیں کہ نبی –ﷺ– نے فرمایا: "مَنْ قَامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.” (صحیح بخاری، حدیث: 1901) یعنی جس شخص نے شبِ قدر میں ایمان کی حالت میں، اللہ تعالی سے ثواب کی امید رکھتے ہوئے قیام کیا؛ تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ اس حدیث شریف میں قیام کا لفظ آیا ہے۔ اس قیام کا مطلب یہ ہے کہ اس رات میں تہجد کی نماز ادا کی جائے، دوسرے نفلی عبادات کیے جائیں اور دعا بھی کی جائے، جیسا کہ نبی اکرم –ﷺ– نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دعا کرنے کو سیکھایا۔

رمضان کے مہینے میں نبی –ﷺ– کا معمول یہ تھا کہ رات میں تہجد کی نماز ادا کرتے، ترتیل کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے، جب کسی آیت رحمت کی تلاوت کرتے؛ تو اللہ تعالی سے اس کا سوال کرتے اور جب کسی آیت عذاب کی تلاوت کرتے تو اس سے اللہ کی پناہ چاہتے۔ اس طرح نبی –ﷺ– اپنی عبادات میں نماز، قرات، دعا: سب کو شامل کرتے۔ یہی بہتر طریقہ بھی ہے۔

شبِ قدر کی دعا:

شبِ قدر میں کیا کرنا چاہیے اور کونسی دعا مانگی چاہیے؟ اس حوالے سے امّ المومنین عائشہ –رضی اللہ عنہا– فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول –ﷺ– آپ بتلائے کہ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ (فلاں رات) "شبِ قدر”ہے؛ تو میں اپنے رب سے کیا مانگوں اور کیا دعا کروں؟ آپ –ﷺ– نے ارشاد فرمایا: "(یہ) دعا مانگو! اللّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي.” (شعب الایمان، حدیث:3427) ترجمہ: ” اے اللہ! آپ بہت معاف کرنے والے ہیں اور آپ معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں؛ لہذا مجھے معاف کردیجیے!”

ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ اس دعا میں اللہ کے نبی–ﷺ– نے معافی مانگنے کو سیکھایا ہے؛ جب کہ عام طور پر ایک مسلمان پورے رمضان نیک اعمال میں مشغول رہتا ہے؛ پھر بھی "شبِ قدر” میں معافی کا سوال کیوں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نیک اور صالح بندوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ کثرت سے اعمال صالحہ کرنے کے باوجود بھی وہ اپنے اعمال کو اعمال صالحہ نہیں شمار کرتے؛ لہذا خود کو ایک گنہگار سمجھ کر معافی کا سوال کرتے ہیں۔

وہ لوگ بدقسمت ہیں:
رمضان کا پورا مہینہ مسلمانوں کے لیےموسم بہار ہے، جتنا فائدہ اٹھانا چاہے اٹھا سکتا ہے۔ خاص طورپر آخری عشرہ بڑی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں خوب عبادت کرنی چاہیے۔ آخری عشرہ میں بھی طاق راتیں انوار وبرکات سے پُر راتیں ہوتی ہیں، ان کا ایک منٹ بھی ضائع کرنا بدنصیبی اور بدقسمتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ –رضی اللہ عنہ– فرماتے ہیں کہ رسول اللہ –ﷺ– نے فرمایا: "…. فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ.” (مسند احمد، حدیث: 7148) یعنی اس (رمضان) میں ایک ایسی رات ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے؛ جو اس کے خیر محروم رہا، وہ تحقیق کہ (ہر طرح کے خیر سے) محروم رہا۔”

٭ہیڈ اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ