سفارت خانہ کی منتقلی اور فلسطینیوں کا قتل عام

سفارت خانہ کی منتقلی اور فلسطینیوں کا قتل عام

از: خورشید عالم داؤد قاسمی ٭
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

جی ہاں، یہاں خفیہ طور پر کچھ بھی نہیں ہورہا۔ سب کچھ دن کے اجالے میں ہورہا ہے۔ غاصب مملکت اسرائیل کے شہر تل ابیب میں واقع، امریکی سفارت خانہ 14/مئی کو مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کردیا گیا۔ اسی یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) میں جس کے اصل حقدار فلسطینی مسلمان ہیں۔ اس عمل سے امریکہ یہ واضح کردینا چاہتا ہے اسرائیل نے جس یروشلم (بیت المقدس) کو ظلم وجبر کے ساتھ 1967ء میں قبضہ کرکے اپنا دار الحکومت بنانا چاہتا ہے، اس میں امریکہ کی مرضی بھی شامل ہے۔ پچھلے ہفتے 12/مئی 2018ء کو امریکی صدرنے ٹویٹ کیا تھا: (Big week next week when the American Embassy in Israel will be moved to Jerusalem. Congratulations to all!) "یعنی آئندہ ہفتہ عظیم ہفتہ ہوگا، جس وقت اسرائیل (تل ابیب) میں واقع امریکی سفارت خانہ، بیت المقدس منتقل کیا جائے گا۔ سب لوگوں کو مبارک ہو!” 14/مئی 2018ء کو صبح صبح اسی امریکی صدر نے ٹویٹ کیا (A great day for Israel!) یعنی اسرائیل (کی تاریخ) کا ایک عظیم دن۔ تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ مگر ہاں، شرم سے ڈوب مرنے کی بات ہے کہ ایک امریکی صدر کی چودھراہٹ کے سامنے درجنوں مسلم ممالک کے زعماء وقائدین گیدر بن کر بِل میں گھسے ہوئے ہیں؛ جب کہ ان کے پاس کافی وقت تھا کہ وہ ہمت کا مظاہرہ کرتے، عالمی برادری سے مل کر باتیں کرتے، اس امریکی فیصلے کے خلاف ماحول تیار کرتے اور امریکہ کے ظالمانہ فیصلے پر روک لگانے کی کوشش کرتے ۔ مگر انھوں نے ایساکچھ بھی نہیں؛ اس لیے انھیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے؛ لیکن سوال یہ بھی تو ہے کہ کیا ان اندر شرم وحیا نام کی کوئی چیز بھی ہے؟!

امریکی صدر نے گزشتہ سال یعنی 6/دسمبر 20017 کو ہی "بیت المقدس” کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد، کچھ مسلم ممالک کے حکمرانوں نے ٹرمپ کے اس ظالمانہ رویے کے خلاف آواز اٹھاکر، خواب غفلت سے بیداری کا ثبوت پیش کیا تھا؛ تو لوگوں کو امید بندھی تھی کہ اب پانی سر سے اونچا ہورہا؛ اس لیے مسلم ممالک کے لیڈران کم از کم اب بیدار ہوگئے ہیں۔ اب فلسطین کی آزادی، بیت المقدس کی بازیابی اور مسجد اقصی کی حفاظت کے حوالے سے کچھ مثبت فیصلے لیے جائیں؛ مگر چند دنوں کے بعد ہی سب کے سب پہلے ہی کی طرح خاموش ہوگئے۔ ترکی کے مرد آہن، رجب طیب اردگان استنبول سے لندن تک کچھ نہ کچھ بول رہے ہیں؛ مگر شخص واحد کربھی کیا سکتا ہے۔ مسٹر ٹرمپ کے بدبختانہ اعلان کے بعد، عرب لیگ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی ہنگامی میٹنگ، مصر کی راجدھانی قاہرہ میں منعقد ہوئی تھی۔ اس میٹنگ میں ممبران نے واضح لفظوں میں امریکی صدر کےفیصلے کی مذمت کی تھی اورعالمی برادری سے یہ مطالبہ بھی کیا گيا تھا کہ وہ فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کریں۔ مگر اس کے بعد،عملی طورپر کوئی قدم نہیں بڑھایا؛ بل کہ ماضی کی طرح سب خاموش بیٹھ گئے۔

آخر کار 14/مئی کا دن آیا اور تل ابیب میں واقع امریکی سفارت خانہ کو بیت المقدس منتقل کرنے کا عمل شروع ہوگیا۔14/مئی کی شام کو چار بجےبیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ کی منتقلی کی مناسبت سے ایک افتتاحی تقریب منعقد کی گئی۔ غاصب اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامین نتین یاہو نے اس افتتاحی پروگرام میں شرکت کرکے امریکی صدر کے فیصلے کو سراہا۔نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ہماری راجدھانی ـــ بیت المقدس ـــ میں، ریاستہائے متحدہ امریکہ کے سفارت خانہ کا افتتاح ہورہا ہے! نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کا ٹویٹر پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "(آج کا دن) کیا ہی ایک حیرت انگیز دن ہے!” امریکہ کے اعلی سطحی وفد کی موجودگی میں سفارت خانہ کا افتتاح ہوا۔ اس تقریب میں اسٹیٹ ڈپٹی سکریٹری جون سلیوان، امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن، ٹرمپ کے داماد اور مشیر اعلی جیرڈ کشنر، ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اوربین الاقوامی مذاکرات کے خصوصی نمائندہ جاسون گرینبلیٹ نے بھی شرکت کی۔ امریکی صدر ٹرمپ گرچہ اس پروگرام میں موجود نہیں تھے؛ لیکن ٹیلی کانفرنس کے ذریعے اپنے بیان سے مسلم ممالک کے حساس عوام کے دلوں کومجروح کرتے ہوئے اپنے منافقانہ خطاب میں کہاکہ "آج ہم نے جو فیصلہ کیا ہے، وہ اس بات کا اظہار ہے کہ ہم اسرائیلی عوام کے ساتھ ہیں۔” ٹرمپ نے اپنے اسی بیان میں متضاد باتیں کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ "امریکہ نے پائیدار امن سمجھوتے کی تشکیل کےلیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔”

مڈل ایسٹ آئی (Middle East Eye) کی ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا، جس کو پڑھ کر کسی بھی انسانیت نواز شخص کا سر شرم سے جھک جائے گا اور وہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ کیا ایسے انسان بھی اس دنیا میں بستے ہیں؟ رپورٹ میں ہے کہ امریکی سفارت خانہ کی منتقلی کے وقت جہاں بیت المقدس میں آباد مسلمان پرامن احتجاج کررہےتھے، وہیں صہیونیت نواز لوگ اپنے جشن کےاظہار میں فلسطینیوں کے خلاف یہ نعرے لگارہے تھے کہ”ان کو جلادو، ان گولیوں سے بھون دو، ان کو قتل کردو!”(Burn them, shoot them, kill them) جس ریاست کے حکمرانوں کا دامن فلسطینیوں کے خون سے رنگین ہو اور اس کے شہری ایسی زبان بولتے ہوں، کیا ان سے بھی پائیدار امن سمجھوتے کی توقع کی جاسکتی ہے؛ جب کہ امریکہ پائیدار امن سمجھوتے کے لیے خود وقف کررہا ہے؟

امریکہ سپر پاور ہونے کے جھوٹے زعم وغرور میں، ہر جگہ ثالثی کا رول نبھانے کا خواہاں رہتا ہے۔ چناں چہ مشرق وسطی میں بھی فلسطین اورغاصب ریاست اسرائیل کے حوالے سے وہ خود کو ہمیشہ ثالثی بتاتا آیا ہے۔ اب انصاف پسند کچھ لوگ اس بات سے پریشان اور تعجب میں ہیں کہ جو خود کو ثالثی باور کرانے کوشش کرتا رہا ہو،وہ کیسے ایسا غیر دانش مندانہ قدم اٹھا رہا ہے جو بدیہی طور جانب دارای کی عکاسی کررہا ہے؛ کیوں کہ اس اشتعال انگیز فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ غیر جانبدار نہیں ہے؛ بل کہ دہشت گرد مملکت اسرائیل کا حلیف ومعین ہے جو فلسطین کا وجود ختم کرنے کی کوشش میں ہے۔

آج جس اقوام متحدہ کی قرار داد کے طفیل غاصب ریاست اسرائیل کا وجود نظر آرہا ہے، اسی اقوام متحدہ کے قرارداد نے فلسطین کی تقسیم کے وقت "یروشلم- بیت المقدس” کو "بین الاقوامی شہر” قرار دیا تھا، مگر اس پر غاصب اسرائیل اور اس کے ظالم حلیف نے کبھی توجہہ نے دی؛ تا آں کہ 1967 کی جنگ میں پورے بیت المقدس کو قبضہ کرلیا۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی قرار داد کے خلاف قدم اٹھایا تھا؛ بل کہ حقیقت یہ ہے فلسطین کے حق میں، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے جب بھی کوئی قرار دار منظور کی گئی ہے، امریکہ اسے ویٹو کرنے یا پھر غاصب اسرائیل کی اس قرارادادکے خلاف عملی اقدام کرنے میں پشت پناہی کرتا رہا ہے۔ جب دسمبر 2017 ء میں ٹرمپ نے ظالمانہ انداز میں بیت المقدس کو غاصب اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرکے، امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے "بیت المقدس” منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا، اس وقت بھی ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرار داد پاس کرکے امریکہ کے فیصلے کو مسترد کیا تھا۔ اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی واضح مخالفت کرتے ہوئے، امریکی سفارت خانہ کو بیت المقدس منتقل کرکے، اقوام عالم کو ایک بار پھر باور کرادیا کہ اسرائیلی مفاد کے خلاف اقوام متحدہ کے کسی قرارداد کی، اس کے سامنے کوئی وقعت واہمیت نہیں ہے۔

بہرکیف، صہیونی اسرائیلیوں نے اس امریکی فیصلے پر جشن منایا اور خوشی ومسرت کے ماحول میں، امریکی سفارت خانہ کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی ہوگئی۔ مسلم ممالک کے حکمراں خاموش تماشائی بنے رہے۔ شاید وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان حکمرانوں کے ممالک محفوظ، ان کی حکومتیں محفوظ ہیں، ان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے، ان کے بیٹے بیٹیوں اور جگر کے ٹکڑوں کا قتل نہیں ہورہا ہے، ان کی بیٹیوں اور بیویوں کی عزت محفوظ ہے، ان کے آسمان چھوتے محلات پر کوئی قابض نہیں ہے، ان کی عیش وآرام کی زندگی میں کوئی مزاحم نہیں ہے، ان کےتعلیمی ادارے اور ہسپتالوں پر بمباری نہیں ہورہی ہے، ان کے ہرے بھرے باغات جلائے نہیں جارہے ہیں، پھر ان کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اسرائیل و امریکہ کے خلاف آواز اٹھائیں؛ جب کہ اسرائیل اپنی وحشیانہ طاقت کا استعمال کررہا ہے، ظلم وجور اور کھلی دہشت گردی کا ارتکاب کررہا ہے اور امریکہ اس کی واضح طور پر حمایت میں لگا ہے۔

مسلم ممالک کے خاموش اور بے غیرت حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو اسرائیل آج فلسطینیوں کی آزادی چھین رہا ہے، فلسطینیوں کی زمینیں قبضہ کررہا ہے،مسلمانوں کے قبلہ اول کو مسمار ومنہدم کرنے کی مذموم سعی کررہا ہے، فلسطینیوں کے مدارس واسکولس اور ہسپتالوں تک پر بمباری کرنے میں دریغ نہیں کرتا، فلسطینیوں کے ہرے بھرے باغات کو نذر آتش کرتا ہے، ہزاروں فلسطینیوں کو قید کیے ہوا ہے، ان کے معصوموں، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی تمیز کے گولیوں سے بھون رہا ہے، فلسطینیوں کا قتل عام کررہا ہے، فلسطینیوں کی نسل کشی کا مجرم ہے، وہ اسرائیل جب فلسطینیوں سے فارغ ہوگا؛ تو پھر وہ ان گیدروں، بزدلوں، منافقوں اور عیاشوں پر حملہ کرے گا جو آج خاموش تماشائی ہیں۔ دانشمندی اسی میں ہے ابھی بھی مسلم ممالک کے قائدین اتحاد واتفاق کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر آکر، کھلے طور پر فلسطینیوں کی حمایت کریں، بیت المقدس ومسجد اقصی کی بازیابی اور فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد ریاست سے کم پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ اگر ایسا نہیں ہے؛ تو یاد رکھیں کہ "آج ہماری، کل تمھاری باری ہے”۔ مسلم ممالک کے لیڈران نوٹ کرلیں کہ امریکہ کا اسرائیل کو مادی ومعنوی قوت فراہم کرنے کا سیدھا مقصد، مشرق وسطی کو کنٹرول اور قبضے میں رکھنےکی مضبوط تیاری ہے، جس میں امریکہ کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے۔

گزشتہ کی طرح اس بار فلسطینی سرفروشان اسلام، انبیاء کی سرزمین: فسلطین اور مسلمانوں کے قبلہ اول کی حفاظت کے لیے 14/مئی کی صبح سے، امریکی سفارت خانہ کی منتقلی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ قابض اسرائیلی فوج کی بندوقوں سے گولیاں بارش کی طرح ان پر امن مظاہرین پر برس رہی ہیں۔ اسرائیلی فوج اپنی طاقت کے نشے میں اس طرح مست ہے کہ بغیر کسی تمیزکے جس پر وہ چاہتی ہے فائرنگ کرتی ہے؛ چناں چہ ان کی گولیوں سے نہ صرف پرامن مظاہرین کے ساتھ معصوم بچے اور لائق رحم بوڑھے قتل ہورہے ہیں؛ بل کہ صحافی اور ڈاکٹر کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پر رہا ہے۔ اب تک کئی مظاہرین اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق، غزہ کے سرحدی علاقے میں، غاصب اسرائیل کی فوجیوں کی فائرنگ سے، جام شہادت نوش کرنے والوں کی تعداد”ساٹھ” تک پہنچ چکی ہے؛ جب کہ زخمیوں کی تعدادتین ہزار سے زاید ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فلسطینیوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ہمیں یقین ہے کہ ان شہیدوں کا خون ضرور نگ لائے گا۔ مگر یہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ فلسطین کی آزادی، بیت المقدس کی بازیابی اور مسجد اقصی کی حفاظت کے لیے کتنے شہیدوں کا خون درکار ہے اور ان شہیدوں کا خون کب رنگ لائے گا؟

٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا

رمضان المبارک میں کرنے کے ضروری کام

مفتی امانت علی قاسمی*

رمضان المبارک نیکیوں اور برکتوں کا مہینہ ہے ، اللہ تعالی کی الطاف و عنایات کے نزول کا موسم ہے ،یہ نیکیوں کی بہار کا مہینہ ہے جس میں خزاں کی ویرانی نہیں ہوتی ،بلکہ رحمت کی برسات ہوتی ہے ، نیکیوں کی کاشت کی جاتی ہے اور ثواب و اخروی سرخ روئی کی فصل کاٹی جاتی ہے ۔یہ وہ مہینہ ہے جس کا ایک عشرہ رحمت ، ایک عشرہ مغفرت اور ایک عشرہ جہنم سے خلاصی کا ہے ، اس مہینے میں اعمال کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے اور نفل کا ثواب فرض کے برابر او رایک فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر ملتا ہے ۔یہ مہینہ اللہ کی رضااور خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ، اپنی آخرت کو سنوارنے اور بنانے کا بہترین موقع ہے، اس لیے نیک بختوں اور آخرت کی کامیابی کے متوالوں کو اس مہینہ کی قدر کرنی چاہئے اور اس مہینہ کو اللہ تعالی کی رضاکے مطابق گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اس مہینے میں دنیوی اور معاشی ضروریات اور کاروبار میں کمی کرکے نیک کاموں میں اضافہ کرنا چاہئے ، اس مہینہ کے جو مخصوص اعمال ہیں اس کا خوب اہتمام کرنا چاہیے ، رمضان کی آمد سے پہلے ہی بہتر طریقے سے رمضان گزارنے کا منصوبہ بنانا چاہیے تاکہ ہمارا وقت ضائع نہ ہو اور ہم خیر و برکت سے محروم نہ ہوجائیں ۔
رمضان المبارک کی خصوصیات
رمضان کو تمام مہینوں پر فضیلت حاصل ہے ، یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا ، اس مہینے کے روزہ کو فرض قرار دیا گیا۔ ایک حدیث میں آپ ﷺنے رمضان کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ”تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہا ہے جو بہت بڑامہینہ ہے ، بہت مبارک مہینہ ہے ، اس میں ایک رات ہے (شب قدر )جو ہزار راتوں سے بڑھ کر ہے ، اللہ تعالی نے اس کے روزے کو فرض قرار دیا اور اس کے رات کے قیام تراویح کو ثواب کی چیز بنایا ہے ، جوشخص بھی اس مہینہ میں کسی نفل کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فر ض ادا کرے اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا رکرے وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے ، یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کابدلہ جنت ہے ۔یہ مہینہ لوگوں کی غمخواری کرنے کا ہے، اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے ،جو شخص روزہ دار کو افطار کرائے تو یہ اس کے گناہوں کی معافی اور آگ سے خلاصی کا سبب ہے اور روزہ دار کے ثواب کی طرح اس کو ثواب ملے گا اور روزہ دارکے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی ۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص اتنی وسعت نہیں رکھتا ہے کہ روزہ دار کو افطار کرائے تو آپ ﷺنے فرمایا یہ ثواب پیٹ بھر کر کھلانے پر موقوف نہیں بلکہ ایک کھجور سے افطار کرانے یا ایک گھونٹ پانی یا لسی پلانے سے بھی مل جائے گا ، جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام اور خادموں کا بوجھ ہلکا کرے تو اللہ تعالی اس کی مغفرت فر مادیتے ہیں ۔(صحیح ابن خزیمہ،با ب فضائل رمضان،حدیث نمبر۱۸۸۷ ، )
رمضان المبارک میں کرنے کے کام
حدیث اگر چہ تفصیلی ہے، لیکن اس سے رمضان المبارک کی خصوصیات ، فضائل اور اس میں کرنے کے چند ضرور ی کاموں کی نشان دہی ہوجاتی ہے اور رمضان کی قدر و عظمت کی ترغیب بھی ہوتی ہے ۔اس مہینہ میں ہمیں کن کاموں کا خوب اہتمام کرنا چاہیے اور کس طرح اوقا ت کو فارغ کرکے اس مہینہ کو اپنے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنانا چاہیے اس کا مختصر تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے ۔
رمضان المبارک کا روزہ
رمضان کا سب سے اہم عمل روزہ ہے ،یہ اسلام کا ایک رکن ہے اور جس طرح نماز اور زکات فرض ہے اسی طرح رمضان کا روزہ بھی فرض ہے ۔ روزہ کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے، ایک حدیث میں ہے :”روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے ،،(سنن النسائی ،حدیث نمبر:۲۲۳۱)دوسری حدیث میں ہے :جس نے اللہ تعالی کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالی اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت کے بقدر دور کردیتا ہے (صحیح مسلم ،باب فضل الصیام،حدیث نمبر:۱۱۵۳)صحیح مسلم کی حدیث میں ہے :پانچوں نمازیں ،ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے تک کے گناہوں کا کفارہ ہوتے ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے (صحیح مسلم باب الصلوات الخمس والجمعة،حدیث نمبر:۲۳۳)ایک دوسری حدیث میں ہے جس نے رمضان کے روزے اوراس کے بعد شوال میں چھ نفلی روزے رکھے وہ شخص ایسے ہے جیسے وہ ہمیشہ روزہ رکھنے والا ہے (صحیح مسلم ،باب استحباب صوم ستةایام من شوال حدیث نمبر: ۱۱۶۴)
روزہ کے فوائد
روزہ کی بہت سی حکمتیں ہیں جو غور کرنے والوں کو حاصل ہوجاتی ہیں۔ حکیم الامت حضرت تھانوی  نے روزہ کے متعدد فوائد کا تذکرہ کیا ہے جس کو اختصار کے ساتھ یہاں ذکر کیا جاتا ہے (۱) روزہ سے انسان میں خشیت و تقوی کی صفت پیدا ہوتی ہے (۲) روزہ رکھنے سے انسان میں عاجزی و مسکنت اور خدا تعالی کے جلال اور اس کی قدرت پر نظر پڑتی ہے (۳) روزہ سے چشم بصیرت کھلتی ہے (۴)درندگی و بہیمیت سے دوری ہوتی ہے (۵) خداتعالی کی شکر گزاری کا موقع ملتا ہے (۶)انسانی ہمدردی دل میں پیدا ہوتی ہے (۷)روزہ جسم و رح کی صحت و تندرستی کا سبب ہے (۹)روزہ انسان کی روحانی غذا ہے (۱۰)روزہ محبت الہی کا ایک بڑا نشان ہے (تخفہ رمضان ص:۳۱)
دعا کی کثرت
اس مہینہ میں دعا کی خوب کثرت کرنی چاہیے ، اس لیے کہ یہ دعا کی قبولیت کا مہینہ ہے ، اس مہینہ میں ہر شخص روزہ کی حالت میں ہوتا ہے جو اخلاص عمل کا بہترین نمونہ ہے ، تراویح ، تلاوت قرآن، ذکر و اذکارمیں مشغول ہونے اور گناہوں سے دور رہنے کی وجہ سے انسان میں فرشتے کی مشابہت پیدا ہوجاتی ہے اور انسان میں معصومیت کی صفت آجاتی ہے اور بندہ اللہ تعالی کا محبوب اور پسندیدہ بن جاتا ہے، اس حالت میں جب اپنے رب سے مانگتا ہے، تو اللہ تعالی اسے نوازتے ہیں ، اس لیے کہ بندے کا مانگنا اللہ تعالی کو بے حد پسند ہے، پھر اس مہینہ میں اللہ تعالی اپنی رحمت کے دہانے کھول دیتا ہے؛ اس لیے قبولیت کی زیادہ امیدپید ا ہوجاتی ہے ۔البتہ دعا کی قبولیت کے جو آداب ہیں ان کی رعایت کرنی چاہیے ، مثلا عام حالات میں حلال غذا کا اہتمام ہونا چاہئے اور حرام سے اجتناب ہونا چاہیے خاص طور پر رمضان المبارک میں حلال کا حد درجہ اہتمام کرناچاہیے ،با وضوہو کر نہایت خشوع و خضوع، عاجزی اورخوف و گریہ زاری کے ساتھ دعامانگنی چاہیے ،۔افطار اور تہجد کے وقت دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں ، قبولیت کے یقین کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں حاضری ہونی چاہیے ۔ دعاوٴں میں اس کا بھی خیال رہنا چاہیے کہ صرف اپنے لیے نہیں؛بلکہ اپنے عزیز و اقارب ،رشتہ دار،دوست و احباب اور متعلقین کو بھی دعا میں یاد کریں اور ان کی ضرورتوں کے لیے خدا کے دربار میں بھیک کا ہاتھ پھیلائیں ؛اس لیے کہ ایک مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں غائبانہ دعا زیادہ قبول ہوتی ہے اور جب بھی انسان اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالی تجھے بھی اس کا مثل دے اور جب فرشتے ہماری ضرورت کے لیے دعاکریں گے تو اس کی قبولیت میں کیا شبہ رہ جائے گا ۔
تلاوت قرآن
رمضان المبارک کو قرآن کے ساتھ خاص مناسبت ہے ، اِسی مہینہ میں قرآن کا نزول ہوا ، آپ ﷺ حضرت جبریل امین کوہر رمضان پورا قرآن سناتے تھے اور جس سال آپﷺ کا وصال ہوا، اس سال آپ نے دو مرتبہ دور سنایا تھا ، آپ باوجود کہ قرآن کریم کے حافظ تھے لیکن بعض صحابہ سے آپ قرآن کریم سنا کرتے تھے،یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اس مہینہ میں قرآن کریم کا خوب اہتمام کرتے تھے، بعض صحابہ دس دن میں اور بعض سات دن میں اور بعض تین دن میں قرآن کریم ختم کرلیا کرتے تھے ۔حضرت امام ابوحنیفہ  رمضان میں اکسٹھ قرآن ختم کیا کرتے تھے ، دیگر اسلاف سے بھی قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت ثابت ہے ، اس لیے اس مہینہ میں قرآن کی خوب تلاوت کرنی چاہیے ، البتہ ایک بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کے آداب کی خوب رعایت ہو ، ہمارے درمیان ایک بہت بڑی کمی یہ پائی جاتی ہے کہ ہم قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں تلاوت قرآن میں وہ لطف نہیں ملتا جو حضرات صحابہ اور اسلاف کو ملا کرتا تھا، ہمیں یہ بھی نہیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ہم سے کیا خطاب کررہا ہے؟ اور اس کے کیا تقاضے ہیں ؟اور ان تقاضوں پر کس طرح عمل کیا جاسکتا ہے ؟اس لیے ضروری ہے کہ رمضان میں کم از کم تفسیر کے حلقے قائم کرکے قرآن فہمی کی کوشش کریں تاکہ ہم معانی و مفاہیم کو سمجھ کر تلاوت کرسکیں اگر چہ کہ قرآن کی تلاوت کا ثواب سمجھنے پر موقوف نہیں ہے بلکہ بغیر سمجھے پڑھنے پر بھی ثواب ملتاہے ، حکیم الامت حضرت تھانوی نے لکھا ہے کہ ”ایک حیثیت سے اس شخص پر حق تعالی کی زبر دست عنایت ہوگی جو بغیرسمجھے کلام اللہ شریف کی تلاوت کرتا ہو ؛کیوں کہ صرف حق تعالی کی محبت اس کا باعث ہو سکتی ہے ، سو کلام اللہ کا اصل نفع اس کے سمجھنے پر موقوف نہیں ہے “اس پر حضرت تھانوی  نے امام احمد بن حنبل  کا ایک خواب نقل کیا ہے ”کہ امام احمد بن حنبل  نے حق تعالی سبحانہ کو خواب میں دیکھا ، عرض کیا اے اللہ !وہ کو ن سا عمل ہے جو آپ سے زیادہ قریب کرنے والا ہے ، ارشاد ہوا: وہ عمل تلاوت قرآن ہے ،آپ نے عرض کیا بفہم او بلا فہممجھ کر یا بغیرسمجھے ارشاد ہوا بفہم اوبلافہمسمجھ کر ہو یا بغیر سمجھے ،راز اس میں یہ ہے کہ مصنف اپنے کلام کے پڑھنے سے خوش ہوا کرتا ہے، پس جب بندہ حق تعالی کے کلام کو پڑھے گا تو اللہ تعالی خوش ہوں گے ۔ (تحفہ رمضان ص:۴۶)
تراویح
رمضان کے ساتھ قرآن کی اسی مناسبت کی وجہ سے رمضان میں ایک مخصوص نماز کو مسنون قرار دیا گیا ہے جسے تراویح کا نام دیا جاتا ہے ۔ موطا مالک کی حدیث میں ہے حضور پاک ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نے تمہارے لیے رمضان کے روزے کو فرض کیا اور میں نے اس کی راتوں کو جاگنے یعنی تراویح کو مسنون کیا ہے(مسند احمد ، حدیث عبدالرحمن بن عوف الزہری ،حدیث نمبر۱۶۸۹)یحی ین سعید قطان  سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص کو حکم دیا کہ لوگوں کو مسجد نبوی میں بیس رکعت تراویح پڑھائیں (مصنف ابن ابی شیبہ،باب کم یصلی فی رمضان من رکعة،حدیث نمبر۷۶۸۲)حضرت سائب بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے عہد خلافت میں صحابہ و تابعین رمضان میں بیس رکعت تراویح پڑھاکرتے تھے (سنن الکبری للبیہقی،باب ما روی فی عدد رکعات القیام،حدیث نمبر۴۳۹۰) ائمہ اربعہ میں امام احمد، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک تراویح بیس رکعت ہے،امام مالک کے نزدیک چھتیس رکعت ہے (المغنی لابن قدامہ ۲/۱۶۷)آج تک حرمین شریفین میں اسی سنت پر عمل ہورہا ہے ، خلفاء راشدین کے زمانہ سے آج تک کوئی دور ایسا نہیں گزرا جس میں تراویح بیس رکعت سے کم پڑھی گئی ہو ۔معلوم ہو اکہ تراویح بیس رکعت ہی سنت ہے اس لیے تراویح بیس رکعت ہی پڑھنا چاہئے ۔
امام ابوحنیفہ کے نزدیک تراویح کی نمازسنت موٴکدہ ہے جس کا چھوڑنا جائز نہیں تراویح میں دو چیزیں علیحدہ علیحدہ سنت ہیں،پورے رمضان تراویح پڑھنا،یہ ایک الگ سنت ہے اور تراویح میں قرآن ختم کرنا یہ علیحدہ سنت ہے ،حضر ت تھانوی  تراویح میں قرآن ختم کرنے کی حکمت پر گفتگوکرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”قرآن کا نزول رمضان کے مہینہ میں ہوا پس جو شخص اس میں قرآن ختم کرتا ہے وہ تمام برکات کا وارث ہوجاتا ہے ؛کیوں کہ رمضان کا مہینہ تمام خیر و برکات کا جامع ہے اورہر قسم کی خیروبرکتیں جو پورے سال ملتی ہیں وہ اسی عظیم الشان مہینہ کی برکت سے آتی ہیں ،گویا اس مہینہ کی دل جمعی اور یکسوئی پورے سال کی جمعیت خاطر اور یکسوئی کا باعث ہوتی ہے اور اس مہینہ کی پراگندگی و بد حالی پورے سال کی بدحالی کا سبب ہوتی ہے اس لیے اس مہینہ میں تروایح کا اہتمام اور خاص طور پر ختم قرآن کا اہتمام ہونا چاہیے (تحفہ رمضان ص:۸۸)مولانا تھانوی کی اس بات سے ایک دوسری بات یہ نکلتی ہے کہ ہمیں رمضان میں عبادت کے لیے یکسو ہوجانا چاہیے اور ہر قسم کی مشغولی کو ترک کردینا چاہیے ، بڑی محرو می کی بات ہے کہ ہم رمضان جیسے عظمت و فضیلت والے مہینے کو مشغولیت اور کھانے پینے اور عید کی تیاری میں گزار دیں اور بڑے ہی عقلمند اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان کو عبادت کے لیے فارغ کرلیتے ہیں اور تمام مشغولیت کو ترک کر دیتے ہیں اس لیے کہ رمضان کی یکسوئی پورے سال کی یکسوئی کا باعث ہے ۔
نماز تہجد
تراویح کے ساتھ اس مہینہ میں راتوں کو جاگنا اور تہجد پڑھنے کا خاص اہتمام کرناسعادت و نیک بختی اور زندگی کو نیکی سے مالامال کرنے کا باعث ہے ، راتوں کو جاگنا ، اللہ کے حضور عجز و نیاز بجا لانا ، عبادت کرنا ، خدا کے دربارمیں رونا گڑ گڑا نا ، خدا کے سامنے ہاتھ پھیلانا ، اور اپنی عبدیت و بندگی کا اظہار کرنا ؛یہ وہ چیزیں ہیں جو اللہ تعالی کو بہت پسند ہیں ، موقع اور موسم کی مناسبت سے ہمیں بھر پورفائدہ اٹھانا چاہیے ، رمضان میں سحری کے لیے عام طور پر اٹھتے ہیں اگر سحر ی سے پہلے خدا کے دربار میں حاضری لگادی جائے اور اپنی حاجت کا اظہار کردیا جائے تو یہ بہت بڑی سعادت ہے اور اگر اٹھنے اور سحری کرنے کے باوجود خدا کے حضور سجدہ نہ کیا جائے تو اس سے بڑی محرومی اور کیا ہوگی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے رحمن کے بندوں کی جو صفات بیان کی ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ ”ان کی راتیں اپنے رب کے سامنے قیام و سجود میں گزرتی ہیں“ (الفرقان۶۴)حضور پاک ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کی راتوں میں قیام کیا ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں “(موطا مالک ،الترغیب فی الصلوة فی رمضان،حدیث نمبر:۳۷۶)راتوں کو جاگنا اور عبادت کرنا آپ ﷺ کا عام معمول تھا بلکہ رمضان کے اخیر عشر ے میں آپ ﷺ گھر والوں کو بھی اٹھانے کا اہتمام فرماتے تھے ، آپ کی پیروی میں حضرات صحابہ و تابعین بھی راتوں کو جاگنے کا اہتمام کرتے تھے ،اس لیے خیر کے طالب اور نیکی کے متلاشی کو رمضان کی راتوں میں جاگنے کا اور رات کے آخری حصے میں تہجد پڑھنے اور خداسے مانگنے کا اہتمام کرنا چاہیے؛ اس لیے کہ اس وقت جاگنا اور رب سے مانگناانتہائی اہمیت اور بڑے اجر و ثواب کا حامل ہے۔حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی رات کے آخری پہر میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اللہ کا منادی آواز لگاتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اس کو عطاکروں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے اور میں اسے بخش دوں ؟(مسند احمد ، مسند ابی ھریرہ حدیث نمبر۹۵۹۱)
صدقہ و خیرات
یہ مہینہ غمخواری کا ہے ، لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کا مہینہ ہے؛ اس لیے اس ماہ میں صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا چاہیے،اللہ تعالی کی رضا کے لیے فقراء ومساکین،یتامی و بیوگان اور معاشرے کے معذور و بے سہارا افراد کی ضروریات پوری کرنا ، ان کی خبر گیری کرنا ، جن کے پاس لباس نہیں ہے انہیں کپڑے پہنانا ، بھوکوں کو غلہ فراہم کرنا ، بیماروں کا علاج و معالجہ ،یتیموں ،بیواوٴں کی سرپرستی ،اور معذوروں کا سہارابننا ، مقروضوں کے قرض کے بوجھ کو ہلکا کرنا اسی طرح ہر ضرورت مند کے ساتھ اظہار ہمدردی و غمخواری کرنا ان کی مدد کرنا ، اس مہینہ میں بڑے اجر و ثواب کا کام ہے ، ابن عباس کی حدیث ہے کہ آپ ﷺ بھلائی کے کاموں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے اور آپ کی سب سے زیادہ سخاوت رمضان کے مہینہ میں ہوتی تھی(مسلم، باب کان النبی اجود الناس،حدیث نمبر،۲۳۰۸ ) سلف صالحین میں اس مہینہ میں کھانا کھلانے کا ذوق و جذبہ بڑا عام تھااور یہ سلسلہ بھوکوں اور تنگ دستوں کو ہی کھلانے تک محدود نہیں تھا، بلکہ دوست و احبا ب اور نیک لوگوں کی بھی دعوت کرنے کاشوق فراواں تھا؛ اس لیے کہ اس سے پیار و محبت او رالفت و مودت میں اضافہ ہوتا ہے اور نیک لوگوں کی دعائیں حاصل ہوتی ہیں، جن سے گھر وں میں خیروبرکت کا نزول ہوتا ہے ،غریبوں کی دعائیں اور ان کی محبتیں قلب و جگر کو سکون و اطمنان بہم پہنچاتی ہیں ۔اسی صدقہ اور اطعام طعام میں روزہ داروں کو افطار کرانابھی داخل ہے جس کی حدیث میں بڑی فضیلت آئی ہے ،کام بہت آسان ہے ،لیکن ثواب عظیم ہے اپنے گھر میں جو افطار تیار کیا جاتا ہے اگر اس میں ایک دو غریب کو شامل کرلیا جائے تو افطار میں کوئی کمی نہیں ہوگی لیکن روزہ رکھنے کے ثواب کے برابر ثواب ملتا ہے اور روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ۔
اعتکاف
رمضان المبارک کا ایک اہم عمل اعتکاف ہے ، آپ ﷺاس کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے ،رمضان کے اخیر عشرے میں آپ معتکف ہو جاتے تھے اور دنیوی معاملات اور تعلقات سے بالکل علحدہ ہوجاتے تھے، جس سال آپ ﷺ کا وصال ہوا اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ، رمضان کے اخیر عشرے میں اعتکاف سنت موٴکدہ علی الکفایہ ہے ،اگر کوئی بھی نہ کرے تو پوری بستی کے لوگ سنت موٴکدہ کے تارک اورگنہگارہوں گے ، اعتکاف کی حالت میں انسان اللہ تعالی کے دربارمیں ہر وقت حاضر رہتا ہے ، نمازیں پڑھتا ہے ، ذکرو اذکار میں مشغول رہتا ہے ، اللہ کے حضور دعاوٴں میں گریہ و زاری کرتا ہے ، اپنے رب کو منانے کی کوشش کرتا ہے ، اپنی آخرت کی کامیابی کا خواستگار ہوتا ہے ؛یہ سب اعمال عبادت ہیں اس لیے اعتکا ف مجموعہ عبادات ہے ، معتکف تمام گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور جو نیک کام معتکف اعتکاف کی وجہ سے نہیں کرسکتا ہے اس کو اس نیک کام کا بھی ثواب ملتا ہے ،رمضان کے اخیر عشرہ میں اعتکاف کرنا رب کو منانے کا بہترین ذریعہ ہے اس لیے آخری عشرے کے اعتکاف کا اہتمام ہونا چاہیے ،اعتکاف کا سب سے بڑا فائدہ شب قدر کا پاناہے ،لیکن ہوتا یہ ہے کہ آخری عشرے کو غفلت و سستی اور عید کی تیاری میں گزار دیا جاتا ہے یہ کتنی محرومی اوربد نصیبی کی بات ہے کہ جس مبارک مہینہ کو پانے کے لیے آپﷺ دعا کیا کرتے تھے ان مبارک ایام کو ہم کس طرح غفلت و کوتاہی میں گزار دیتے ہیں، اللہ تعالی ہمیں اس کی قدر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

  • استاذ دار العلوم حیدرآباد

E-mail: aaliqasmi1985@gmail.com
07207326738 Mob: