اسلام میں صبر کاتصور وافادیت

مولانا محمد اسرارالحق قاسمی

اسلام میں”صبر“ کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔قرآن میں متعدد مقامات پر صبرکا حکم موجودہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی صبر کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔قرآن میں کہا گیاہے کہ صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہوتاہے۔ان اللہ مع الصابرین۔ ایک جگہ فرمایاگیا: واستعینوا بالصبر والصلوة ۔صبر اور نمازکے ساتھ مدد چاہو۔مذکورہ آیات اور متعدد احادیث واسوہٴ نبی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ صبر نہایت ہی اہم شے ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔اس لیے مسلمانوں کوچاہئے کہ وہ صبر کی حقیقت ، اہمیت اور افادیت سے واقف ہوں تاکہ صبر ان کے ذہنوں میں پیوست ہوجائے اور اپنی کامیابی کے لیے وہ اسلام کے اس عظیم ہتھیار کو استعمال کرسکیں۔جب انسان کسی مصیبت میں گرفتار ہوتواسے سب سے پہلے صبرکی طرف متوجہ ہونا چاہئے،اُسے غصہ آئے تو صبر سے کام لے۔اگردشمن اس پر حملہ کرے تو وہ صبر کے پہلوپر ضرورغوروفکر کرے۔کیونکہ کئی مرتبہ صبر کرکے دشمن کو زیر کیاجاسکتاہے۔کئی بار غصہ کی حالت میں صبرکرکے شیطان کے حربوں کو ناکارہ بنایاجاسکتاہے۔
”صبر“ ایک وسیع مفہوم کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔چنانچہ صبر کامطلب یہ ہی نہیں کہ لوگ ناکام ہوکر یا پریشانی میں گرفتار ہوکر ہمیشہ کے لیے حالات سے سمجھوتہ کرلیں اور اپنے دل میں یہ سوچ لیں کہ وہ کامیاب نہیں ہوسکتے بلکہ صبر تو یہ ہے کہ اگر کسی معاملہ میں کسی شخص کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ جذباتی نہ ہو،غور وفکر کرے۔جوکچھ وہ کرتا رہا ہے ، اس کا محاسبہ کرے،اپنی کمیوں کو تلاش کرے اور اسباب وعوامل کا پتہ لگاکر جدوجہد کرے اور استقلال قائم رکھے۔کئی بار انسان اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتاہے مگر کافی وقت گزرنے اور لمبی مسافت طے کرنے کے بعد بھی وہ منزل تک نہیں پہنچتا تو اس کا ذہن پریشان ہونے لگتاہے اور مایوسی اسے چاروں طرف سے گھیرنے لگتی ہے۔وساوس اسے مایوس کرنے لگتے ہیں اور وہ یہ خیال کرنے لگتاہے کہ وہ اپنی منزل تک کبھی نہیں پہنچ پائے گا۔یہ وقت اس کے لیے بڑا صبر آزما ہوتا ہے۔اگر وہ صبر کرتاہے اور منزل کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھتاہے تو ایک نا ایک دن منزل تک پہنچ جاتا ہے اور اگر وہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے اور راہ سے ہٹ جاتا ہے تو پھر کبھی اپنی منزل تک نہیں پہنچتاحالاں کہ بعض اوقات منزل بہت نزدیک ہوتی ہے۔
عام طورسے دیکھاجاتاہے کہ جب انسان کو غصہ آتا ہے تو وہ بے قابو ہوجاتاہے اور اس حالت میں الٹے سیدھے فیصلے لیتا ہے ، کئی بار غصہ کی حالت میں لیے ہوئے فیصلے اتنے نقصاندہ ہوتے ہیں کہ مدت طویل گزرنے کے بعد بھی ان کی تلافی نہیں ہوپاتی اور زندگی بھر پریشانی اس کا تعاقب کرتی رہتی ہے۔ایسے کتنے واقعات آئے دن رونما ہوتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان معمولی بات پر جھگڑا ہوا ، دونوں کو غصہ آیا ، گالی گلوچ ہوئی ، مارپیٹ تک نوبت آگئی۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ قتل تک ہوجاتاہے۔ اس کے بعد دیکھا جاتا ہے کہ لوگ پچھتاتے ہیں ۔ایک تو اس لیے کہ ان کے ہاتھوں کسی کی جان چلی گئی اور وہ بڑے گناہ کے مرتکب ہوگئے ، اس لیے بھی کہ قتل کے بعد جیل بھی جانا پڑتا ہے ، ان کے خلاف مقدمات قائم ہوتے ہیں، عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں، پیسے خرچ ہوتے ہیں ، بہت سے قاتلوں کو ضمانت تک نہیں مل پاتی، اور بعض کو عمر قید ہوجاتی ہے۔اب ان کی زندگی جیل کی چہار دیواری کے اندر کٹتی ہے۔دنیا سے ان کا تعلق تقریباً ختم سا ہوجاتاہے ، ان کا سارا کریر تباہ ہوجاتاہے۔بچوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتاہے،رسوائی الگ ہوتی ہے۔جن ممالک میں قتل کی سزا قتل ہے ، وہاں قاتل کو سزا کے طورپر قتل کردیا جاتاہے۔ جو لوگ عدالت سے بری کردیے جاتے ہیں ان کی پریشانیاں بھی کم نہیں ہوتیں، ایک تو اس لیے کہ وہ مقدمات میں اپنی جمع پونجی خرچ کرچکے ہوتے ہیں ،د وسرے اس لیے کہ وہ سماج میں بدنام ہوجاتے ہیں، تیسرے اس لیے کہ ان کی جانوں کو اس بات کا خطرہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں مقتول کے ورثاء ان کا قتل نہ کردیں۔ایسی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اگر لڑائی کے وقت صبر سے کام لے لیا جاتا، غصے کو پی لیا جاتا، تو یہ نوبت نہ آتی، ان کی زندگی سکون کے ساتھ گزرتی اور ان کا مستقبل تابناک ہوتا۔
میاں بیوی کے درمیان ہونے والے تنازعات میں صبر سے کام لینا بہت ضروری اور اہم ہے۔شوہر اور بیوی دونوں کو چاہئے کہ وہ لڑائی کو آگے نہ بڑھائیں۔شوہر کو غصہ آئے تو وہ وہاں سے ٹل جائے یا اپنے غصہ کو ضبط کرلے ۔ایسے مواقع پر جو لوگ صبر اختیار کرتے ہیں، وہ آنے والی پریشانیوں سے بچ جاتے ہیں اور میاں بیوی کے مابین دوچار دن میں حالات پھر سازگار ہوجاتے ہیں اور دونوں ہنسی وخوشی اور پیار ومحبت سے زندگی گزارنے لگتے ہیں، لیکن بعض لوگ اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پاتے اور بیوی کی سخت پٹائی کردیتے ہیں، اگر بیوی اس کی شکایت پولس میں کردیتی ہے تو ان کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ہی کئی بار دونوں کے مابین مستقل جھگڑے کے حالات بن جاتے ہیں اور پھر گھر کا سکون جاتا رہتا ہے ، کئی شوہر تو بیوی سے لڑائی جھگڑے کی صو رت میں اپنی بیویوں کو طلاق دے ڈالتے ہیں، تین طلاقیں یا ان سے بھی زیادہ۔اب ان کے درمیان ازدواجی رشتہ ختم ہوجاتا ہے، شوہر کو جب ہوش آتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی لٹ چکی ہے، اس کا گھر تباہ ہوچکا ہے، جس بیوی کو وہ چاہتا تھا، وہ اس کی زندگی سے دور جاچکی ہے،ا س کے بچوں کی زندگی بھی خراب ہوگئی ہے،ایسے حالات میں وہ نہایت پشیمان ہوتا ہے، روتا ہے، اپنے آپ کو کوستا ہے، لیکن جب تیر کمان سے نکل گیا تو واپس آنے والا نہیں ہوتا۔غصہ اور معمولی جھگڑوں کے نتیجے میں دی جانے والی طلاقوں نے کتنی ہی زندگیوں کو اجاڑ دیا ہے، کتنے ہی گھروں کو تباہ کردیا ہے۔اگر لڑائی کے وقت صبر سے کام لے لیا جاتا تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہتا اور نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ ایسے مواقع پر بیوی کوبھی صبر اختیار کرنا چاہئے، اسے خاموش ہوجانا چاہئے، اسے اپنے شوہر کو اتنا زیادہ غصہ نہ دلانا چاہئے کہ وہ آپے سے باہر ہوکر کوئی الٹا سیدھا قدم اٹھالے۔
بہت سے لوگ اپنے اوپر آنے والے حالات میں صبر نہیں پاتے اور مایوسی کے شکار ہوکر خود کشی کر بیٹھتے ہیں، جب کہ دنیا میں ایسے کتنے واقعات رونماہونئے کہ لوگوں کو سخت حالات وہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور انھوں نے سوچا کہ اب ان کی زندگی بے کار ہے مگر پھر بھی صبر سے کام لیتے رہے، نتیجہ یہ سامنے آیاکہ آگے چل کر ان کے حق میں حالات سازگار ہوگئے اور وہ پھر خوشگوار زندگی گزارنے لگے۔گویاکہ سخت اور مایوس کن حالات میں بھی صبر سے کام لینا چاہئے ۔بہت سی مرتبہ مشکل کے بعد آسانی آتی ہے، تنگی کے بعد کشادگی پیدا کردی جاتی ہے۔غربت کے بعد مالداری آجاتی ہے، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: فان مع العسر یسرا۔کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنے اوپر آنے والے حالات کو بہت غلط سمجھتاہے جب کہ وہ حالات آگے چل کر اس کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں اور ان سے کوئی آسانی نکل آتی ہے جس سے ان کا کریر روشن ہوجاتاہے۔مثال کے طورپر کوئی طالب علم امتحان میں ناکام قرار دیا جاتا ہے کہ تو وہ اس کو اپنے لیے ناکامی نہیں خیال کرتا ہے بلکہ اس کو اپنے لیے چیلنج بنالیتا ہے اور اگلی باروہ بھرپور تیاری کرتاہے۔اس تیاری اور محنت کی وجہ سے اگلے سال کے امتحان میں وہ اعلیٰ یا امتیازی نمبروں سے پاس ہوجاتاہے، اب اس کے لیے آگے کے کورسوں میں داخلہ آسان ہوجاتاہے، محنت کی وجہ سے اسے معلومات بھی اچھی ہوجاتی ہے ،صلاحیت بھی بن جاتی ہے اور اعلیٰ نمبروں کی وجہ سے آگے کے کورسوں میں اچھے کالجوں کے اندر اس کا داخلہ ہوجاتا ہے، پھر وہ وقت کے ساتھ ترقی کرتا چلاجاتاہے ، ڈگریاں حاصل کرتا ہے، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوتاہے اور ملازمت یا مستقبل کو روشن بنانے کے بہت سے مواقع اس کا استقبال کرتے ہیں ۔اگر وہ فیل نہ ہوتا تھرڈ یا سیکنڈ ڈیویژن سے پاس ہوجاتا تو اس وقت اس کو بھلے ہی خوشی ہوتی لیکن بعد میں اس کے لیے آگے بڑھنے کے اتنے امکانات روش نہ ہوتے۔لہذا ہر شخص کو مشکل حالات میں یا عارضی ناکامی کی صورت میں اپنی تیاری، محنت ولگن کو اور زیادہ بڑھادینی چاہئے اور وقت کا انتظار کرنا چاہئے۔
صبر کا تقاضہ ہے کہ مشکل حالات میں بھی انسان ثابت قدم رہے، صحیح راستوں سے نہ ہٹے اور غلط طریقوں یا راستوں کا انتخاب نہ کرے۔ بہت سے لوگ مشکلات میں صحیح راستوں سے ہٹ جاتے ہیں اور غلط طریقوں کو اختیار کرلیتے ہیں۔اس زمانے میں لوگ دولتِ کثیر حال کرنا چاہتے ہیں ، اس کے لیے تگ ودو کرتے ہیں، منصوبے بناتے ہیں، ان پر عمل کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کچھ لوگ کامیاب ہوجاتے ہیں اور کچھ ناکام۔ناکام لوگوں میں دوطرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک وہ جو ناکامی کے باوجود بھی صبر کرتے ہیں، دولت نہ آنے ، کسمپرسی میں زندگی گزارنے کی صوت میں صحیح اور حلال راستوں کو نہیں چھوڑتے ، دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو حلال طریقے سے زیادہ دولت نہ جمع کرنے کے بعد غلط اور ناجائز راستوں پر چل پڑتے ہیں اور حرام طریقوں سے دولت اکٹھی کرنے میں لگ جاتے ہیں۔یعنی وہ ”صبر“ نہیں رکھ پاتے۔ناجائزاور حرام طرقیوں کو اختیار کرکے بھلے ہی وہ دولت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں، عمارتیں بنالیں اور پُر تعیش زندگی گزارنے لگیں مگر فی الواقع یہ ان کی ناکامی ہوتی ہے۔اس لیے کہ ناجائز وحرام کام کرنا گناہ کی بات ہے، پھر حرام روزی کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔اس کے اثرات اس کے آنے والی نسلوں تک پڑتے ہیں۔موت کے بعد جب اسے حساب کتاب سے گزرنا پڑے گا تب اس پر کیا گزرے گی ، تصور کیاجاسکتاہے۔
اجتماعی اعتبار سے مسلمان اس وقت ساری دنیا میں سخت حالات سے دوچار ہیں۔اسلام دشمن طاقتیں ان پرعرصہٴ حیات تنگ کرنے کے لیے سازشیں رچ رہی ہیں اور ان پر حملہ آور ہورہی ہیں۔ مسلمانوں کے پاس وسائل کی کمی ہے، ٹکنالوجی کے میدان میں بھی وہ پیچھے ہیں۔اسلحے وسازو سامان کی بات کریں تو مسلمانوں کے پاس دوسری قوموں کے مقابلے میں نا کی برابر ہے۔ایسے ہی مسلمانوں کے پاس اتحاد کا بھی فقدان ہے۔وہ مسالک کے درمیان تقسیم ہیں، کہیں برادریوں کے نام پر بنٹے ہوئے ہیں، اور کہیں خاندانوں وعلاقوں کے نام پر جب کہ اسلام مخالف جماعتیں باہم متحد ہوچکی ہیں اور انھیں اس بات کے لیے اکسارہی ہیں کہ وہ میدان میں آئیں، مقابلہ کریں۔ یہ وقت مسلمانوں کے لیے بڑاصبر آزما ہے۔ان کے پاس اس کے علاوہ بظاہر کوئی راستہ نظرنہیں آتا کہ ”صبر“ سے کام لیں۔تصادم کے راستے پر نہ جائیں اور نہ مقابلے کے لیے آگے بڑھیں ۔اس اثنا میں اس سوال پرغوروکفر کریں کہ ان کی یہ درگت کیوں بن گئی کہ مخالفینِ اسلام انھیں للکار رہے ہیں ،انھیں مقابلہ کی دعوت دے رہے ہیں ، ان پر حملے کررہے ہیں، ان کے دین کے خلاف ہتک آمیز باتیں کررہے ہیں اور ان کے پاس اتنی قوت نہیں کہ ان کا جواب دے سکیں۔اسباب کو تلاش کریں اور اس کا تدارک کریں۔صبر کے ساتھ اسباب وتدارک کی جستجو وکوشش کے نتائج مستقبل میں مثبت آئیں گے۔اسلام مخالف گروہوں کا اتحاد خود بخود ٹوٹ جائے گا، لیکن صبر نہ کرنے اور مقابلہ آرائی کی صورت میں ان کا اتحاد برقرار رہے گا۔مسلمان منظم ومنصوبہ بند نہ ہونے کی وجہ سے خسارے میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔اس لیے موجودہ حالات میں صبراوراتحاد کا دامن انھیں ہر گز نہ چھوڑنا چاہئے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمیں صبر کے اعلیٰ نمونے ملتے ہیں۔صلح حدیبیہ اس کی واضح مثال ہے۔آپ نے حدیبیہ میں کفار کی بعض ایسی شرائط کو قبول کیا جن سے بظاہر یہ لگتا تھا کہ اس میں مسلمانوں کی ناکامی اور کفار ومشرکین کی کامیابی ہے۔مشرکین نے یہ شرط لگائی کہ اس سال بغیر عمرہ کیے ہوئے واپس جانا ہوگا، چنانچہ یہ شرط بھی منظور کرلی گئی۔بعض صحابہ کو پس و پیش ہوا مگر اتباعِ رسول کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ۔ بعد میں پتہ چلا کہ صلح حدیبیہ مسلمانوں کی فتح ثابت ہوئی اور مسلمانوں کو مستحکم ہونے کا موقع مل گیا۔یہ معاہدہ دس سال کے لیے تھا۔گویا مسلمانوں کو دس سال کا وقت مل گیا کہ وہ مشرکین مکہ کی طرف سے مطمئن ہوکر دوسری جوانب متوجہ ہوسکتے تھے اور ایسا ہوابھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ کا کام اور زوروشور کے ساتھ کرنا شروع کردیا۔مختلف علاقوں میں اپنے نمائندے بھیجے، مختلف بادشاہوں کو خطوط روانہ کیے۔ صلح حدیبیہ کے بعد بہت سے لوگ اسلام لے آئے ، بہت سے لوگوں نے اسلام کے بارے میں جانا اور وہ کافی حد تک اسلام کے قریب آگئے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ صبر وثبات سے کام لیں۔اپنا محاسبہ کریں، اسلام کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط بنائیں، دینی تقاضوں ومطالبوں پر عمل پیرا ہوں، تبلیغ واشاعتِ دین کا کام جاری رکھیں، تعلیم کی طرف بڑھیں، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، زیادہ سے زیادہ ایماندار بنیں، دنیا کے سامنے مثبت اور تعمیری کردار پیش کریں اور صبر کے ساتھ وقت کا انتظار کریں، یقینا اگلے کچھ سالوں یا دہائیوں میں حالات کافی حد تک تبدیل ہوجائیں گے۔جاپان کی کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے جاپان کے دوشہروں پر ایٹم بم گرائے، وہ دوونوں شہر تباہ ہوگئے، جاپان کی اینٹ سے ایٹ بجادی گئی، اپنے ابترحالات کو دیکھتے ہوئے جاپان نے تشدد ومقابلے کے راستے کو چھوڑکر اپنا ذہن ٹیکنالوجی کی طرف منتقل کردیا۔یہ کام جاپان کے لوگوں نے بڑی خاموشی سے کیا، کچھ ہی سالوں کے بعد جاپان کا سامان ساری دنیا کی مارکیٹوں میں پھیل گیا۔سامانوں کے معیار کی وجہ سے اقوام عالم جاپان کے تیار کردہ سامانوں کی طرف متوجہ ہوئیں جس کے سبب جاپان کی معیشت کو فروغ حاصل ہونے لگا اور وہ بتدریج آگے بڑھتا گیا اور ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہوگیا۔اگر جاپان اپنی تباہی کے اتنقام میں لگ جاتا اور پُر تشدد کارروائیاں انجام دیتا، تو اس کے لیے اتنی ترقی کرنا ممکن نہ ہوتا۔
موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو بھی تعمیری ومثبت کاموں کی طرف آنا پڑے گا اور فی الوقت اپنے حالات پر صبر سے کام لینا ہوگا۔انھیں زندگی کے تمام شعبوں میں حرکت وبیداری کا ثبوت دینا ہوگا، خود کفیل بننے کی کوشش کرنا ہوگی اور ہر معاملے میں صبر وثات کو قائم رکھنا ہوگا۔امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والی دہائیوں میں ان کی حالت بہتر ہوجائے گی اور ان کے دشمنوں کے حملے بے اثر ثبات ہوجائیں گے۔یہ بھی ممکن ہے کہ مسلمانوں کے خلاف حملے کرنے والوں کے حملوں میں شدت باقی نہ رہے، تجربات و شواہد بتاتے ہیں کہ Attackکی پوزیشن زیادہ وقت تک برقرار نہیں رہ پاتی اگر مد مقابل حملہ کرنے والوں کی اٹیک پوزیشن کو سنجیدگی اور ہوشیاری سے ضائع کردے تو پھر حملہ آوروں کے حوصلے دھیرے دھیرے پست ہونے لگتے ہیں اور مغلوب ہوجاتے ہیں۔مثال کے طورپر کرکٹ کے میدان میں بالنگ کرنے والی ٹیم بلے بازوں پر سخت دباؤ بنانے کی کوشش کرتی ہے جب دوتین بلے باز آؤٹ ہوچکے ہوتے ہیں، بالنگ کرنے والی ٹیم چاہتی ہے کہ وہ جلدی سے دو ٹ اور جھٹک لے۔اس کے لیے بالرس بلے بازوں پر Attackکرتے ہیں اور وکٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی وہ تیز گیندیں پھینکتے ہیں، ، کبھی ہلکی ، کبھی بلے باز کو لالچ دیتے ہیں ،تاکہ وہ چھکے کے لیے بلّہ اٹھائیں اور فیلڈنگ کرنے والے کیچ پکڑکرانھیں پویلوین بھجوادیں، کبھی وہ زور دار آواز میں اپیلیں کرتے ہیں تاکہ بلّے بازوں پر دباؤ بنے اور غلطی کریں ۔یہ وقت بلے بازوں کے لیے صبر آزما ہوتاہے۔ اگر وہ اس موقع پر جذباتی ہوجاتے ہیں تو جلد ہی آؤٹ ہوکر ہار کی کگار تک پہنچ جاتے ہیں اور اگر وہ اس موقع پر صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کی حملہ کی پوزیشن کو ضائع کردیتے ہیں تو دوچار اووَروں کے بعد بالرس اٹیک کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتے اور ان کی بالنگ معمول پر آجاتی ہے۔اب بلے بازوں کے لیے موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے حساب سے جم کر کھیل کھیلتے رہیں ۔فی زمانہ مسلمانوں کو بھی اپنی حکمتِ عملی سے میدانِ عمل کی پچ پر حملہ آور قوموں کی اٹیک پوزیشن کو سنجیدگی سے بے اثر کرنا ہوگا،اس کے بعد وہ معمول کی زندگی کی طرف جلدہی لوٹ آئیں گے۔

خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ صاحب نور اللہ مرقدہ

ازقلم : حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ

دارالعلوم (وقف) دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی علالت کے بارے میں کئی روز سے تشویشناک خبریں آرہی تھیں جبکہ گزشتہ روز کی خبروں نے اس تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ۔ اسی دوران خواب میں ان کی زیارت ہوئی ، عمومی سی ملاقات تھی ، میں نے عرض کیا کہ حضرت ! دو چار روز کے لیے دیوبند میں حاضری کو جی چاہ رہا ہے مگر ویزے کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آرہی ، میری طرف غور سے دیکھا اور فرمایا ’’اچھا کچھ کرتے ہیں‘‘۔ خواب بس اتنا ہی ہے ، اب خدا جانے پردۂ غیب میں کیا ہے ، مگر یہ اطمینان ہے کہ خاندانِ قاسمی کی نسبت سے جو بھی ہوگا خیر کا باعث ہی ہوگا ، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔
حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ خاندانِ قاسمی کے چشم و چراغ اور اس عظیم خانوادہ کے ماتھے کا جھومر تھے ، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ کے فرزند و جانشینؒ ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا حافظ محمد احمدؒ کے پوتے اور حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے پڑپوتے تھے ۔ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے ساتھ میری نیازمندی اپنے شیخ و مرشد حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے وسیلہ سے تھی کہ ان بزرگوں کا باہمی قرب و تعلق مثالی تھا۔ حضرت قاری صاحبؒ جب بھی پاکستان تشریف لاتے تو شیرانوالہ لاہور میں کوئی نہ کوئی مجلس ضرور جمتی اور میرا شمار اس دور میں شیرانوالہ کے حاضر باش شرکاء میں ہوا کرتا تھا ، اس لیے متعدد بار ان برکات سے فیض یاب ہونے کی سعادت حاصل ہوئی ۔
حضرت قاری صاحبؒ کے بعد حضرت مولانا قاری محمد سالم قاسمیؒ کے ساتھ بھی اسی تسلسل میں نیاز مندی کا تعلق رہا اور جب دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے موقع پر والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کے ساتھ میں بھی شریک تھا ، ہم تینوں کا قیام حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کے مکان میں رہا اور چند روز تک ہم ان کی میزبانی کا حظ اٹھاتے رہے ۔ ہمارے ساتھ گوجرانوالہ کے چند اور دوست مولانا مفتی محمد نعیم اللہ ، قاری محمد یوسف عثمانی ، جناب امان اللہ قادری، عبد المتین چوہان مرحوم اور دیگر حضرات کے علاوہ بزرگ اہل حدیث عالم دین مولانا حکیم محمودؒ بھی اسی مکان میں ہمارے ساتھ قیام پذیر تھے ۔ اس دورے میں حضرت قاری صاحبؒ کی رہائش گاہ کا قیام اور حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ کی دعوتیں اور مجالس میری زندگی کے یادگار لمحات میں سے ہیں ۔
مولانا محمد سالم قاسمیؒ جب پاکستان تشریف لاتے تو میری کوشش ہوتی کہ کسی جگہ ان کی زیارت و ملاقات کی کوئی صورت بن جائے جس میں اکثر کامیاب ہو جاتا ۔ ایک بار گوجرانوالہ تشریف لائے تو میرے گھر کو بھی رونق بخشی اور جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں میری رہائش گاہ پر ناشتہ کے لیے قدم رنجہ فرمایا ۔ لاہور ، راولپنڈی اور دیگر مقامات کی بعض ملاقاتیں ابھی تک ذہن کی اسکرین پر جھلملا رہی ہیں مگر ایک ملاقات بہت یادگار رہی ۔ میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسٰی منصوری کے ساتھ بنگلہ دیش کے سفر پر تھا ، سلہٹ میں ایک پرانے اور معروف بزرگ حضرت شاہ جلالؒ کا مزار ہے جو لوگوں کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز ہے ، میں اسے سلہٹ کا داتا دربار کہا کرتا ہوں ، ہم وہاں اپنے پروگرام کے تحت گئے تو معلوم ہوا کہ دربار کے ساتھ جو دینی درسگاہ ہے وہ ہمارے ہم مسلک دوستوں کے زیر انتظام ہے اور وہاں حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ تشریف لائے ہوئے ہیں ۔ ہم ان کی قیام گاہ پر پہنچ گئے تاکہ زیارت و ملاقات کی سعادت حاصل ہو جائے ۔ میزبانوں کو ایک پاکستانی مولوی کی کسی طے شدہ پروگرام کے بغیر ان سے ملاقات کرانے میں تردد تھا اور اس تردد کی وجہ بھی سمجھ آرہی تھی۔ میں نے ڈیوٹی پر موجود ایک صاحب کو اپنا نام لکھ کر دیا کہ حضرت کو صرف یہ نام بتا دیں اگر وہ اجازت دیں تو ملاقات کرا دیں ۔ حضرت مولانا مرحوم نے نام پڑھا تو بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ یہ ادھر کہاں آگئے ہیں؟ بہرحال اذن باریابی مل گیا اور کچھ دیر محفل رہی ۔ ایک بار جدہ کے سفر میں دوستوں نے بتایا کہ حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ تشریف لائے ہوئے ہیں اور قریب ہی ایک دوست کے ہاں قیام پذیر ہیں۔ حاضری پر خوشی کا اظہار فرمایا ، مختلف مسائل پر باہمی گفتگو ہوئی اور دعاؤں سے نوازا ۔ اسی طرح اور بھی بعض مقامات پر ملاقات و گفتگو کا شرف حاصل ہوا ۔
حضرت مرحوم کے والد گرامی حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ اپنے دور کے بڑے خطباء میں شمار ہوتے تھے اور انہیں بجا طور پر خطیب اسلام کہا جاتا تھا ۔ بلکہ میں نے ان کی پہلی زیارت اپنے طالب علمی کے دور میں ایک جلسہ میں ہی کی تھی جب لاہور کے انارکلی بازار میں بہت بڑا جلسہ تھا ، والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ حضرت قاری صاحبؒ کی تقریر سننے کے لیے گوجرانوالہ سے لاہور تشریف لے گئے تو مجھے بھی ساتھ لے لیا ۔ میرا شاید کافیہ کا سال تھا اور میں نو عمر لڑکا ہی تھا مگر اس سفر کی بہت سی باتیں اور جلسہ کا منظر ابھی تک نگاہوں کے سامنے ہے ۔ حضرت قاری صاحبؒ کی باتیں تو یاد نہیں مگر ان کا سراپا اب بھی نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے ۔ مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی خطابت اپنے والد گرامیؒ کی خطابت کا رنگ رکھتی تھی اور انہیں خطیب الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا مگر میرا طالب علمانہ ذوق حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ کے لیے خطیب کی بجائے ’’متکلم اسلام‘‘ کے تعارف کو زیادہ ترجیح دیتا ہے ۔ متکلم کا اپنا دائرہ ہوتا ہے اور محدثین ، فقہاء ، مناظرین اور مفسرین کی طرح متکلمین بھی مستقل تعارف رکھتے ہیں ۔ متکلم کا کام اپنے دور کی عقلیات کے دائرے اور ماحول میں اسلامی عقائد اور ان کی تعبیرات کی تشریح و توضیح کرنا ہوتا ہے اور ہر دور میں جلیل القدر متکلمین امت مسلمہ کی راہنمائی کرتے رہے ہیں ۔ جب دیوبندی مکتب فکر کی ان دائروں میں تقسیم کی بات ہوتی ہے تو میں عرض کیا کرتا ہوں کہ ہمارے سب سے بڑے متکلم حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ تھے ، ان کے بعد شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے اس محاذ کو سنبھالا اور پھر حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ ان دونوں کے ترجمان بن گئے ۔ مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی خطابت و تدریس میں بھی اس کی بھرپور جھلک پائی جاتی تھی اور بسا اوقات ان کی گفتگو سنتے ہوئے ہم آنکھیں بند کر کے حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کی زیارت کا حظ اٹھا لیا کرتے تھے ۔
دیوبندی متکلمین کا جب تذکرہ ہوتا ہے تو ایک اور نام کا اضافہ کیے بغیر میری تسلی نہیں ہوتی اور وہ بزرگ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ہیں جو اپنے دور میں پنجابی زبان کے سب سے بڑے متکلم اسلام تھے اور عقائد کی مشکل سے مشکل تعبیر کو آسان مثالوں اور سادہ اسلوب میں عام آدمی کو سمجھا دینے کا کمال رکھتے تھے ۔ مجھ سے ایک بار پوچھا گیا کہ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور حضرت مولانا لال حسین اخترؒ میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت قاضی صاحب چوٹی کے خطیب تھے ، حضرت جالندھریؒ کمال کے متکلم تھے اور حضرت لال حسین اخترؒ میدانِ مناظرہ کے شاہسوار تھے ۔ تینوں کا مشن ایک ہی تھا مگر دائرہ کار اور اسلوب الگ الگ تھا اور یہ تینوں اسلوب کسی بھی دینی تحریک کی لازمی ضروریات میں شمار ہوتے ہیں ۔
بہرحال حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے خانوادہ کے ساتھ ساتھ ان کے اسلوب و ذوق کے بھی ایک اور نمائندہ بزرگ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں ، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں انہیں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ان کے تمام متعلقین کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں ، آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔
( روزنامہ اسلام ، 16 اپریل 2018ء )

یومُ الارض اور تحریک حق واپسی

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

اس بار فلسطینی”قَومی یومُ الارض” کے موقع سے،شروع ہونے والی "تحریک حق واپسی” میں، بے شمار فلسطینیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کی وجہہ یہ ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صہیونیت نواز صدر مسٹر ٹرمپ کے 6/دسمبر 2017 کو بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے کے بعد سے، غاصب صہیونی ریاست نے اپنے وسیع تر منصوبہ کو پایۂ تکمیل تک پہونچانے کے لیے مقبوضہ بیت المقدس بعد، جہاں کچھ دوسری اہم جگہوں کو قبضہ کرنے کی کوشش تیز کردی ہے، وہیں دوسری طرف غزہ کی پٹی کا مزید سخت محاصرہ کرکے اہالیان غزہ کی زندگی اجیرن کررکھا ہے۔

فلسطینی قوم ہرسال مارچ کے آخری ہفتے اور خاص طور پر 30/مارچ کو ، چاہے وہ اندروں فلسطین میں ہوں یا دنیا کے کسی کونے میں مقیم ہوں، "قَومی یومُ الارض” مناتے ہیں۔ اس کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینی قوم اپنےبنیادی حقوق کے دفاع، خود ارادیت (Self-Determination)، حق واپسی اور غصب شدہ اراضی کے حصول کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور اقوام عالم کو یاد دہانی کراتے ہیں کہ فلسطینی قوم کے پاس بھی صدیوں پرانا اپنا وطن اور اپنی زمین ہے،گرچہ آج غاصب ریاست اسرائیل نے ان سے ان کی زمین ووطن کو اپنے ظلم وجبر اور قوت وسطوت کا استعمال کرکے، زبردستی چھین کر، لاکھوں فلسطینوں کو بے گھر کردیا ہے۔

غاصب صہیونی ریاست اپنے قیام کے روز اول سےہی اہالیان فلسطین پر ظلم وجبر کے لامتناہی سلسلے کے ساتھ، ان کی زمینوں کو زبردستی قبضہ کرنے اور ہتھیانے کے لیے مختلف سازشیں رچی اور مختلف حربے استعمال کی جو تا ہنوز جاری ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی 1970ء کے آس پاس، نام نہاد ترقیاتی پروگرام کی آڑ میں، "الجلیل ڈیولپمنٹ” کے نام سے، صہیونی غاصب ریاست نے ایک پروجیکٹ کا افتتاح کیا؛ تاکہ کسی طرح سے الجلیل شہر کو قبضہ میں لیا جاسکے۔ فلسطینی عوام نے غاصب صہیونی ریاست کے اس فیصلے کو رد کرتے ہوئے، بڑے پیمانے پر احتجاج اورمظاہرہ شروع کردیا؛ کیوں کہ وہ سمجھ گئے تھے کہ ترقیاتی پروگرام کے نام پر، یہ عیار ومکار صہیونی حکمراں ان کے شہر کو قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس عوامی مظاہرہ کو کچلنے اور احتجاج کی لہر کو دبانے کے لیے فوج نے حکومت کی سرپرستی میں، 30/مارچ 1976ء کو، اپنی دہشت گردانہ کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے جہاں اپنی گولیوں سے 6/معصوم فلسطینیوں کو شہید کیا، وہیں متعدد مظاہرین کو زخمی اور سیکڑوں کو گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔ اس حادثہ کے بعد سے، فلسطینی قوم، ہر سال مارچ کے آخری ہفتے اور خاص طور پر 30/مارچ کو "قَومی یومُ الارض” مناتے ہیں۔

غاصب یہودی ریاست کی سازش یہ ہے کہ وہ فلسطینیوں کی زمین کوکبھی طاقت کے بل پر اور کبھی کسی اور بہانے سے قبضہ کرتی رہے یا پھر تقسیم در تقسیم کرتی رہے اور ذلیل وخوار،صہیونیت زدہ یہودیوں کو لاکر آباد کرتی چلی جائے اور کسی طرح فلسطینوں کو فلسطین کے شہروں اور علاقوں میں، ایک اقلیت سماج (Minority Community) میں تبدیل کردے۔ اس سازش میں صہیونی ریاست بہت حد تک کام یاب بھی نظر آرہی ہیں؛ کیوں کہ تازہ رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ آج کی تاریخ میں غاصب صہیونی ریاست "فلسطینی رقبے کے 85 فی صد” پرقابض ہے؛ جب کہ فلسطینیوں کے پاس "صرف 15 فی صد "فلسطینی اراضی بچی ہے اور آج بھی وہ اپنی اس حرکت سے باز نہیں آئی ہے؛ بل کہ فلسطینی علاقوں کو مزید قبضہ کرنے اور تقسیم کرنے کا عمل ہے تا ہنوز جاری ہے۔

خیر اس بار "قَومی یومُ الارض” کے موقعے سے، فلسطینی عوام کی ایک بڑی تعداد نے ملک کے طول وعرض میں، غاصب صہیونی ریاست کی ریاستی دہشت گردی، اراضی کے ناجائز قبضے کے خلاف اور اپنے دوسرےبنیادی حقوق کے دفاع کے لیے "حق واپسی مارچ” کے عنوان سے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے؛ تاکہ غاصبوں کو معلوم ہوجائے کہ فلسطینی عوام اپنے حق سے دست بردار ہوئے ہیں اور نہ ہوں گے؛ بل کہ ایک دن اپنے حقوق لےکر رہیں گے۔

غاصب ریاست کا آرمی چیف جنرل گیڈی آئزن کوٹ، فلسطینی جیالوں کی اس حق واپسی کی تحریک کے آغاز سے پیشتر ہی گھبرا کر ، اپنی فوجی کاروائی کی نگرانی کی ذمے داری خود اپنے سر لی۔ جب تحریک شروع ہوئی؛ تو آرمی چیف نے فوجیوں کو پوری طرح چھوٹ دیدی اور فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے بہانے، اپنی طاقت کا وحشیانہ استعمال، ان نہتے مظاہرین کے خلاف کرنا شروع کردیا، جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ان فوجیوں کی وحشیانہ فائرنگ سے اب تک تقریبا 34/افراد کو شہید اور تقریبا 3100/افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ اس پر مزید بے حیائی اور دیدہ دلیری یہ ہے کہ آرمی چیف اس وحشیانہ کاروائی کا ذمےدار حماس (حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ) کو قرار دے رہا ہے۔

چند دنوں کے دوران، معصوم شہریوں کی اتنی بڑی تعداد کی جانوں سے کھیلنے اور ہزاروں کو زخمی کرنے کے بعد بھی، ان خونخوار بھیڑیوں کی پیاس نہیں بجھی؛ چناں چہ ان درندہ صفت فوجیوں نے 12/اپریل کو غزہ کے مشرقی علاقے "الزیتون” کالونی میں توپ کے 15/گولے برسائے، تاکہ کچھ مزید معصوموں کا خون پی کر، اپنی پیاس بجھا سکیں۔ مگر اللہ کا شکر ہے کہ اس گولہ باری میں کسی بھی شخص کے ہلاکت کی خبر ہے نہ ہی زخمی ہونے کی؛ البتہ چند مکانات کو نقصان ضرور پہنچا ہے۔

"قومی یوم الارض” کے موقع سے، صہیونی فوج نے جس طرح نہتے فلسطینیوں پر اپنی طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے کہ اس حوالے سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ” (Human Rights Watch) نے کہا ہے کہ غزہ کے علاقے میں بے گناہ شہریوں کا قتل عام، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں آتا ہے؛ لہذا تنظیم نے عالمی برادری سےمطالبہ کیا کہ ان بےگناہ شہریوں کی ہلاکت کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے۔ اس صورت حال پر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ اس اجلاس میں صہیونی فوج کےتشددانہ کاروائی کی تحقیقات، اقوام متحدہ سے کرانے کی تجویز پر مشتمل قرارداد پیش کی گئی؛ مگر امریکہ بہادر نے اس قرارداد کو منسوخ (Veto) کرکے، نہتے فلسطینی شہریوں کے قاتلوں کی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مدد کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کے حکام ہوں یا ان کے درندہ صفت فوجی، ان کی نظر میں، جمہوریت اور جمہوری طریقے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اگر ان کی نظر میں اس کی اہمیت ہوتی؛ تو وہ اس طرح سے اپنی وحشیانہ طاقت کا استعمال، ان نہتے احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کے خلاف ہرگز نہیں کرتے؛ بل کہ ان کے اس حق کا احترام کرتے؛ کیوں کہ عوامی احتجاج ومظاہرہ، آج کی دنیا میں اپنی بات رکھنے کا ایک جمہوری حق ہے۔ ان حالات کو پیش نظر رکھ کر، اس بات پر بہت تعجب ہوتا ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کی آئے دن اِن وحشیانہ کاروائی کے باوجود بھی کچھ لوگ "حماس” کے قائدین کو "مذاکرات ومکالمات” کی تلقین کرتے نہیں تھکتے ہیں۔ اب تو اس سے بھی بڑھ کر "حماس” کے قائدین سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ صہیونی غاصب ریاست کے خلاف کسی بھی طرح کی "مزاحمت” سے دست کش ہوکر، ان کے پاس جو کچھ بھی اسلحے ہیں، ان اسلحوں کو نام نہاد امن پسند لوگوں کے حوالے کردیں۔

اگر غاصب صہیونی ریاست کی شب وروز کی ظالمانہ کاروائیوں کا منصفانہ تجزیہ کیا جائے؛ تو کوئی بھی منصف تجزیہ نگار ہرگز یہ مشورہ نہیں دے سکتا ہے کہ ان درندہ صفت صہیونیوں سے "مذاکرات” کی راہ ہموار کی جائے؛ بل کہ وہ یہ مشورہ دیں گے اگر اہالیان فلسطین کو اپنے حقوق چاہیے؛ تو مانگنے کے بجائے اپنے حقوق ان سے چھین کر لیں اور "مذاکرات” کے بجائے "مزاحمت” کی راہ اپنائے؛ کیوں کہ ان صہیونیوں کے نزدیک "مذاکرات، امن، پیس” جیسے الفاظ بے معنی ہوچکے ہیں۔ شاید یہی وجہہ ہے کہ ابھی حالیہ "حق واپسی مارچ” کی مناسبت سے، غزہ کی پٹی میں قائم "اللاتین چرچ” کے سابق بشپ اور مشہور فلسطینی عیسائی مذہبی پیشوا، امانویل مسلم نے فلسطینی قوم کی ان دنوں جاری "حق واپسی مارچ” کی نہ یہ کہ مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے؛ بل کہ "مرکزاطلاعات فلسطین” کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ "فلسطینی قوم کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے ‘مسلح مزاحمت’ کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچا ہے۔ ‘مسلح مزاحمت’ ہی فلسطینی قوم کی امیدوں کا آخری سہارا ہے۔”

یہ افسوس کا مقام ہے کہ عیسائی مذہبی رہنما، امانویل مسلم؛ تو غاصب صہیونی ریاست کی وحشت وبربریت کے خلاف کھل کر اپنی رائے کا نہ صرف اظہار کرتے ہیں؛ بل کہ حمایت کا بھی اعلان کرتے ہیں۔ مگر مسلم قائدین ورہنما اپنی خاموشی توڑ کر، اپنے مخصوص آقا کی ناراضگی مول لینا نہیں چاہتے۔ مسلم قائدین شاید اس بات سے ڈرے سہمے رہتے ہیں کہ اگر وہ فلسطین، بیت المقدس اور مسجد اقصی کی حمایت میں بولیں گے؛ تو کہیں ان کا تختہ نہ پلٹ دیا جائے۔ ہماری ان قائدین سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ وہ اپنے دل سے ڈر وخوف کو نکال دین اور اہالیان فلسطین، بیت المقدس اور مسجد اقصی کی حمایت میں کھل کر بولیں، ان کی مادی اور معنوی ہر طرح کی معاونت کریں اور ان پر ہورہے ظلم وجور کے حلاف بین الاقوامی سطح پر اپنا احتجاج درج کرائیں؛ کیوں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے،یہ ہماری ذمے داری ہے۔ ہم جس نبی صادق ومصدوق –صلی اللہ علیہ وسلم– کے ماننے والے ہیں، انھوں اپنے بھائیوں کی مدد کا حکم صادر فرمایا ہے۔ آپ –صلی اللہ علیہ وسلم– کا فرمان ہے: "اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔” (صحیح بخاری، حدیث: 2444) یہاں تو صورت حال روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے بھائی مظلوم ہیں۔

٭ ہیڈ اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ

خانوادہٴ قاسمی کا ایک اور ٹمٹماتا چراغ بجھ گیا!

مفتی محمد وقاص رفیع#
M.waqqasrafi1986@gmail.com
آج موٴرخہ 14/ اپریل سنہ 2018ء کو بعد از نمازِ ظہر سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ افسوس ناک خبر موصول ہوئی کہ حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب کے فرزند ارجمند،حضرت نانوتوی کے پڑپوتے، اور حضرت تھانوی کے آخری شاگرد، خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب بھی سفرِ آخرت کے لئے روانہ ہوگئے۔ انا للہ واناالیہ راجعون۔ وہ گزشتہ چند دنوں سے بوجہ ضعف و نقاہت اور دیگر کئی عوارض و امراض کے بسبب شدید علیل اور ہسپتال میں داخل تھے۔
مولانا سالم قاسمی  برصغیر کی مشہور علمی، مذہبی اور دینی خانوادہٴ قاسمی کے چشم و چراغ اور گل سرسبد تھے، آپ مشہور محدث ، مفسر، مبلغ اور دار العلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمد طیب قاسمی صاحب  کے خلف اکبرو جانشین، حجة الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی  کے پڑپوتے، علوم قاسمیہ کے امین و پاسباں اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرت علی تھانوی کے شاگردِ رشید و صحبت یافتہ تھے۔ آپ موٴرخہ 22جمادی الثانی سنہ 1344 ء بمطابق 8جنوری سنہ 1926 ء بروز جمعة المبارک کو ہندوستان کے مشہور ضلع سہارن پور کے معروف قصبہ دیوبند میں پیدا ہوئے۔
سنہ 1351 ہجری میں مولانا سالم قاسمی نے اپنی ابتدائی تعلیم قرآنِ مجید سے شروع کی اور حضرت قاری شریف حسن گنگوہی  سے ناظرہ و حفظ قرآنِ کریم کی تعلیم مکمل کی۔ پھرفارسی کی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور فارسی کا چار سالہ نصاب کی تکمیل مولانا محمد عاقل ، مولانا محمد ظہیر  اور مولانا سید محمد حسن  وغیرہ فارسی کے جید اور ممتاز اساتذہ سے کی۔فارسی کا نصاب مکمل کرنے کے بعد سنہ1362ہجری میں آپ  نے عربی نصاب کا آغاز کیا اور اُس وقت کے ماہر اور جید اساتذہ کی زیر نگرانی مختلف علوم و فنون کی تکمیل کرکے سنہ 1367 ہجری بمطابق 1948 عیسویں میں ازہر الہند دار العلوم دیوبند سے آپ نے دورہٴ حدیث کا امتحان دے کرکے سند فراغت حاصل کی۔
مولانا سالم قاسمی  کی تعلیم و تربیت دار العلوم دیوبند میں اکابر دیوبند کی آغوش میں ہوئی۔ آپ نے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ،حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ،شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی، شیخ الادب مولانا اعزاز علی دیوبندی ، جامع المعقول والمنقول مولانا محمد ابراہیم بلیاوی ، حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمی ، مفتیٴ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی،شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کاندھلوی،مولانا سید اختر حسین میاں ، مولاناقاری محمد اصغر ، مولاناعبد السمیع ، مولانا عبد الاحد ، اورمولانا سید فخر الحسن صاحب وغیرہم جیسے مشاہیر اہل علم و فضل کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے۔ اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی اور سعودی عرب کے محدث جلیل شیخ عبد اللہ بن احمد الناخیی سے اجازتِ حدیث حاصل کی۔
مولانا سالم قاسمی کا دار العلوم دیوبند سے فراغت کے معاً بعد دار العلوم دیوبند ہی میں بطورِ مدرس تقرر ہوا۔ جہاں آپ نے اپنے اکابر و اساتذہ کی زیر نگرانی اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کیا ۔ شروع میں ابتدائی عربی درجات کے بعض اسباق نور الایضاح اور ترجمہٴ قرآن پاک وغیرہ آپ کے ذمیلگے، جب کہ بعد میں بڑے اسباق شرح عقائد ، ہدایہ، مشکوٰة، ابوداوٴد اور بخاری شریف کے اسباق پڑھانے کی سعادت آپ کے حصے میں آئی۔
مولاناسالم قاسمی  نے شروع میں بیعت و ارادت کا تعلق حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری سے قائم کیاتھا لیکن وہ اصلاح و تربیت اپنے والد ماجد مولانا قاری طیب قاسمی  سے ہی لیتے رہے اور آخر کار اُنہیں کے مجازِ بیعت و ارشاد ہوکر اُن کے متوسلین اور خلفاء کی اصلاح و تربیت فرماتے رہے۔چنانچہ آپ سے سلوک و ارشاد میں تربیت و اجازت پانے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے اور اجازت پانے والوں کی تعداد سو سے متجاوز ہے۔
سنہ 1966 عیسویں میں مراسلاتی طریقہٴ تعلیم کی بنیاد پر اسلامی علوم و معارف کو عصری جامعات کے طلبہ و طالبات کے لئے آسان بنانے کی غرض سے ”جامعہ دینیات دیوبند“ کے قیام میں، دار العلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے کام یاب انعقاد میں، اسی طرح آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قیام و تخطیط میں اور سنہ 1983 عیسویں میں بعض باہمی اختلافات کی بناء پر دار العلوم (وقف) دیوبند کے قیام و استحکام میں مولانا سالم قاسمی کا انتہائی عظیم اور اہم ترین کردار رہا ہے۔
علاوہ ازیں مولانا سالم قاسمی کے دورانِ تدریس دار العلوم دیوبند میں ایک تحقیقی شعبہ ”مرکز المعارف“ کا قیام عمل میں آیا جس کے آپ ذمہ دار مقرر ہوئے۔ اسی طرح سنہ 1983 ء سے لے کر سنہ 2014 ء تک دار العلوم (وقف) دیوبند کے مہتمم رہے۔ سنہ 2014 ء سے لے کر تاحال دار العلوم (وقف) دیوبند کے صدر مہتمم رہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عامل کے سابق رکن اور موجودہ سینئر نائب صدر رہے ۔ آل انڈیا مجلس مشاورت کے سابق صدر اور موجودہ سرپرست رہے۔آل انڈیا رابطہٴ مساجد کے سرپرست رہے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سرپرست رہے۔ مجلس شوریٰ مظاہر العلوم (وقف) سہارن پور کے سرپرست رہے۔ دار العلوم ندوة العلماء لکھنوٴ کی مجلس انتظامیہ و شوریٰ کے رکن رہے۔علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کاوٴنسل کے سابق رکن رہے۔ ششماہی عربی مجلہ محکمہ ”وحدة الامة“ ، ماہنامہ اردو ”ندائے دار العلوم (وقف) دیوبند، سہ ماہی انگریزی مجلہ ”وائس آف دار العلوم“ اور اندرون و بیرون ملک مختلف دینی و ملی مراکز اور اداروں کے نگران اور سرپرست رہے ۔
مولانا سالم قاسمی  کی انہی دینی و علمی خدمات کو دیکھ کر مصر کے صدر جناب حسنی مبارک نے مصری حکومت کی طرف سے مصر کا سب سے بڑااعزاز ”نوط الامتیاز“ یعنیبرصغیر کے ممتاز عالم دین کا نشانِ امتیاز کا ایوارڈ آپ کو عطاء کیا۔ دوسرا اعزاز ”جائزة الامام محمد قاسم النانوتوی (ترکی) آپ کو عطا کیا گیا اور تیسرا اعزاز ”حضرت شاہ ولی اللہ“ آپ کو عطاء کیا گیا۔
مولانا سالم قاسمی نے دیگر دینی و علمی خدمات کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا خوب مظاہرہ کیا ہے اور مندرجہ ذیل کتابیں تصنیف فرمائی ہیں: (۱) قرآنِ کریم کے اردو تراجم کا جائزہ (۲)تاج دارِ ارضِ حرم کا پیغام (۳) مردِ غازی (۴) ایک عظیم تاریخی کارنامہ (۵) رسالة المصطفیٰ (۶) سفر نامہٴ برما (۷) مجاہدین آزادی (۸) مبادیٴ الترجمة الاسلامیة (عربی)
مولانا سالم قاسمی نے جس انداز میں دار العلوم دیوبند کی خدمات سرانجام دیں اور جن نامساعد حالات میں آپ نے دار العلوم دیوبند کی سرپرستی فرمائی اور جس حکمت عملی و خوش اسلوبی سے اسے نبھایا اسے اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل و انعام ہی سمجھنا چاہیے ۔ ورنہ :
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
انسان دُنیا میں جتنا چاہے زندہ رہے لیکن ایک نہ ایک دن اُسے موت ضرور آنی ہے اور اُس نے آگے جاکر اپنے رب کے حضور پیش ضرور ہونا ہے، مولانا سالم قاسمی صاحب کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا کہ تقریباً نصف صدی تک قال اللہ اور قال الرسول کی صدائیں لگاتے لگاتے آخر کار اُنہوں نے بھی آج موٴرخہ 14 / اپریل سنہ 2018 عیسویں بمطابق 27 رجب المرجب سنہ 1439 ہجری بروز ہفتہ داعیٴ اجل کو لبیک کہہ دیا ا ور سفرِآخرت کے لئے روانہ ہوگئے۔ انا للہ واناالیہ راجعون۔ اب جب کہ یہ سطور لکھی جارہی ہیں یقینا مولانا سالم قاسمی  کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی اور اُن کی تدفین کا عمل کیا جارہا ہوگا۔ اِس لئے اِس خاص موقع پر اللہ تعالیٰ سے دُعاء ہے کہ وہ اُنہیں کروٹ کروٹ سکھ ، چین اور راحت والی زندگی نصیب فرمائے اور پیچھے اُن کے لواحقین و متوسلین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم۔

خطیب الاسلام کا وصالِ عظیم

فضیل احمد ناصری

بالآخر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے سابق مہتمم، پھر سابق صدر مہتمم خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب آج دوپہر میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعوندھڑکا تو پہلے ہی لگا تھا۔ بیماری اور طویل علالت کے بعد یوں بھی اچھی خبر کم ہی سننے میں آتی ہے۔ پھر یہاں تو طولِ عمری کے ساتھ طولِ نقاہت اور درازئ عدمِ صحت بھی دامن گیر تھی۔ میں کل ہی حضرت کی عیادت کر آیا تھا۔ کل دیکھ کر اوروں کی طرح مجھے بھی لگا تھا کہ چراغِ سحر آخری لو دینے کے قریب ہے۔ آکسیجن کے ذریعے سانس لیا جارہا تھا۔ خطرہ جس کا تھا وہ پیش آکر رہا۔ کل کے دام ظلہ آج مرحوم ہوگئے۔

جامعہ امام محمد انورشاہ، دیوبند میں ایصالِ ثواب

مولانا کا وصال دو بج کر 44 منٹ پر ہوا۔ سانحے کی خبر مجھے اسی وقت مل گئی۔ جامعہ میں شام کی تعلیم 3 بجے سے ہے۔ میں وہاں گیا۔ دیکھا کہ اساتذہ اور طلبہ کے چہروں پر مردنی چھائی ہے۔ ہر آنکھ نم اور ہر دل پرغم۔ طلبہ اور اساتذہ نے قرآن خوانی کے بعد ایصالِ ثواب کیا۔ یہ مجلس مسجدِ انور شاہ میں منعقد کی گئی۔ میں نے انتظامیہ سے صلاح و مشورے کے بعد تعلیم کے موقوف کرنے کا اعلان کر دیا۔

کاشانۂ قاسمی پر دیوانوں کا ہجوم

دعائے مغفرت کے بعد زیارت کے لیے نکلا تو عظیم ازدحام میرے سامنے تھا۔ سڑکیں بھری ہوئیں اور گلیاں عازمینِ زیارت سے مملو۔ پتہ چلا کہ جسدِ خاکی حضرت مولانا اسلم قاسمیؒ کے صحن میں ہے۔ دیوان گیٹ پر پہونچا تو آدمی پر آدمی چڑھ رہا تھا۔ طلبہ زیارت کے لیے بے چین۔ ہجومِ بے پناہ ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب۔ اتنے ازخود رفتہ کہ اساتذہ کو پہچاننے سے بھی عاری۔ کافی دیر میں دروازے پر کھڑا رہا۔ ریلا نسبتاً کم ہوا تو میں اندر پہونچا۔ دیکھا کہ چارپائی پر مولانا لیٹے ہوئے ہیں۔ نورانی چہرہ موت کے بعد مزید منور تھا۔ مولانا بے حس و حرکت پڑے تھے۔ دیکھ کر رونا آگیا۔ دیکھا، بار بار دیکھا، وہاں سے ہٹنے سے طبیعت نہیں چاہ رہی تھی، تاہم زائرین کے لیے بادلِ ناخواستہ وہاں سے آنا پڑا۔ آہ کیسے کہیے کہ ایک چراغ بجھ گیا۔ علم کا چراغ۔ معرفت کا چراغ۔ اخلاص و وفا کا چراغ۔ ایسا چراغ جس نے اندھیروں کو ہمیشہ شکست دی۔

خانوادهٔ قاسمی کا گوہرِ شب تاب

مرحوم عظیم ترین شخصیت رکھتے تھے۔ عظیم نسبتوں کے ساتھ عظیم خدمات بھی ان سے منسوب۔ وہ حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کے پرپوتے، شمس العلماء حضرت مولانا حافظ احمد صاحبؒ کے حفید اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کے فرزندِ اکبر تھے۔ خانوادهٔ قاسمی کے گوہرِ شب تاب اور قاسمی علوم و معارف کے وارث و امین۔ خاندانی روایات کے حامل اور پشتینی حلم و کرم کے پیکرِ صادق۔

سوانحی خد و خال

مولانا کی ولادت 8 جنوری 1926 میں ہوئی۔ آپ اپنے والدین کی اولاد میں سب سے بڑے تھے۔ ابتدائی اور مکتبی تعلیم کے ساتھ عربی و فارسی کی ساری تعلیم دارالعلوم دیوبند سے پائی۔ اساتذہ میں علامہ ابراہیم بلیاویؒ، شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہویؒ اور حضرت مولانا فخرالدین صاحبؒ نمایاں تھے۔

حضرت تھانویؒ کے آخری شاگرد

مرحوم کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں حکیم الامت مجددِ ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے بھی شرفِ تلمذ رہا ہے۔ انہوں نے اپنے والد کی ہدایت پر حضرت تھانویؒ سے درسِ نظامی کی بنیادی اور اہم کتاب میزان الصرف پڑھی۔ وہ اس وقت حضرت تھانویؒ کے براہِ راست آخری شاگرد تھے۔

میدانِ عمل میں

فراغت 1948میں پائی۔ صیغۂ طالب علمی سے نکلے تو اسی سال دارالعلوم میں مدرس ہو گئے۔ اختلافِ دارالعلوم تک یہیں استاذ رہے۔ اس دوران ابتدا سے لے کر انتہا تک تقریباً ساری کتابیں پڑھائیں۔ نور الایضاح، میبذی، سلم العلوم بھی آپ سے وابستہ رہیں۔ ان کا درسِ مشکوٰۃ بہت زیادہ مشہور تھا۔ احادیث کا یہ عظیم ذخیرہ سالوں ان سے وابستہ رہا۔ شرح عقائد کے دروس بھی کافی سرخیوں میں رہے۔ اخیر میں بخاری شریف جلد ثانی کے بھی چند حصے ان سے متعلق رہے۔ دم دار پڑھاتے۔ خوب تحقیق و تدقیق سے پڑھاتے۔ نفسِ مضمون تک رسائی اور تفہیمِ عبارت پر ان کے یہاں زیادہ زور تھا۔ ان کے اسباق دارالعلوم میں خاصی شہرت رکھتے۔

دارالعلوم وقف میں

دارالعلوم کے قضیۂ نامرضیہ کے بعد دارالعلوم وقف کے نام سے ایک نیا عالمی مرکز سامنے آیا تو اپنے نامور والد کے بعد مہتمم بنائے گئے۔ کم و بیش 35 سال اس کا اہتمام سنبھالا۔ دارالعلوم وقف میں منعقد پہلی مجلسِ شوریٰ میں ان کا اہتمام، صدر اہتمام میں بدل گیا۔ اب وہ تادمِ حیات صدر مہتمم تھے۔ بخاری شریف کے اسباق بھی متواتر ان سے متعلق رہے۔

تنظمیوں سے وابستگی

مرحوم دارالعلوم سے وابستگی کے ساتھ متعدد تعلیم گاہوں کے ذمے دار بھی تھے۔ جامعہ دینیات کے سرپرست اور مظاہرِ علوم وقف کی مجلسِ شوریٰ کے صدر بھی۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی شوریٰ کے رکن رہے۔ ملی تنظیموں سے بھی سرگرم وابستگی رہی۔ مسلم مجلسِ مشاورت کے صدر، مسلم پرسنل لا بورڈ، علما کونسل مصر، اور دیگر سرکردہ تنظیمات کے بھی فعال ممبر رہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے تاحیات نائب صدر رہے۔ سفر ان کی زندگی تھا۔ سفر در سفر میں ان کی مثال نادر تھی۔ آخر عمر میں بھی ان کا شوقِ سفر عروج پر تھا۔ یہ اسفار دعوتی تھے۔ ملک کا چپہ چپہ چھان ڈالا۔ بیرونِ ممالک میں بھی شاید کوئی ملک چھوٹا ہو۔

تقریر و خطابت

مولانا نے تدریس کے ساتھ تقریر میں بھی اپنا نام کمایا۔ قوتِ کلام اور زورِ بیان میں ان کا وہ مقام کہ خطیب الاسلام کے بڑے لقب سے سرفراز کیے گئے۔ تقریر بڑی شستہ اور شگفتہ ہوتی۔ زبان شیرینی و حلاوت سے لبریز۔ جو بات کرتے نقل کے ساتھ عقل سے بھی ہم آہنگ۔ طرزِ استدلال مقناطیسیت سے عبارت۔ آواز میں بلا کی کشش۔ جس تقریب میں جاتے، چھا جاتے۔ جس بزم میں شریک ہوتے صدر نشیں بن جاتے۔

حلم و تحمل، عفو و درگذر

مولانا کے اوصافِ جمیلہ میں حلم و تحمل کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ اپنے مخالفین کے ساتھ بھی ان کا رویہ خیرخواہانہ، مخلصانہ، متواضعانہ رہتا۔ زبان غیبت سے پاک۔ مجلس بدگوئی سے منزہ۔ کفِّ لسان ان کا شعار تھا۔ دارالعلوم کا مشہورِ زمانہ ہنگامہ ہوا تو اپنا سب کچھ گنوا دینے کے باوجود ان کے لب حرفِ شکایت سے نا آشنا رہے۔ حیرت انگیز تو یہ کہ 2005 میں فدائے ملت حضرت مولانا اسعد مدنیؒ سعودی میں شدید بیمار پڑے تو پہلے ٹیلی فون سے عیادت کی اور پھر وہاں حاضری۔ حالانکہ دوریوں کا دامن کئی دہائیاں دراز ہو چکا تھا۔ مولانا کی ان اداؤں نے مولانا مدنیؒ کو بھی حیرت زدہ کردیا۔ بہت دنوں تک انہیں اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہ آیا۔

تصنیفات و تالیفات اور شعر و سخن سے تعلق

مرحوم زبردست صاحبِ قلم بھی تھے۔ کئی نادر و نایاب تحریریں ان کے خامۂ گوہر بار سے نکلیں۔ چند کتابیں بھی ان کے قلم سے معرضِ وجود میں آئیں، جن میں مبادئ التربیۃ الاسلامیۃ، جائزہ تراجمِ قرآن، تاجدارِ ارضِ حرم کا پیغام، مردانِ غازی، ایک عظیم تاریخی خدمات اور سفرنامۂ برما خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ وہ بہترین قلم کے حامل تھے۔ سطر سطر علم و عرفان اور وسعتِ مطالعہ کا غماز ہوتا۔ علمی اور گاڑھی زبان ان کی شناخت تھی۔ عام فہم زبان بولنے پر وہ قادر نہیں تھے۔ علما کے لیے ان کا لوح و قلم اور زبان و بیان نعمتِ عظمیٰ تھا۔ ان کے ساتھ وہ شعر و سخن کے بھی رمز آشنا تھے۔ ان کی یہ خوبی خدمات کے دوسرے ہجوموں میں کھو گئی۔ 1968 میں حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ مع اہلیہ سفرِ حج سے واپس آئے تو مولانا مرحوم نے ایک طویل نظم ان کے خیرمقدم میں لکھی۔ ان کی کچھ نظمیں محفوظ بھی ہیں۔

ایوارڈ و اعزازات

شخصیت عظیم ہو تو ایوارڈ و اعزازات بھی اس کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ مولانا بھی ان اعزازات سے سرفراز ہوتے رہے۔ ایک بڑا ایوارڈ حضرت نانوتویؒ ایوارڈ ہے، جو انہیں ترکی میں متعدد ممالک کی باوقار موجودگی میں دیا گیا تھا۔ اس ایوارڈ سے حلقۂ دیوبند میں بے پناہ مسرت دیکھی گئی۔ تقریب کے بعد دیوبند آئے تو جگہ جگہ ان کو استقبالیہ دیا گیا۔ ایک استقبالیہ دیوبند کے شیخ الہند ہال میں بھی دیا گیا، جس میں مجھے بھی اظہارِ خیال کا موقع ملا تھا۔ اس کے علاوہ نہ جانے اور کتنے اعزازات ان کے تعاقب میں رہے۔

جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند سے محبت

مرحوم، فخرالمحدثین حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیریؒ کے یارِ غار تھے۔ دارالعلوم سے لے کر دارالعلوم وقف تک ایک طویل رفاقت رہی۔ امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ کی گود میں بھی کھیل چکے تھے۔ یہ قدیم ترین مراسم کا نتیجہ تھا کہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند سے بھی محبت کرتے۔ یہاں آتے۔ مشورے دیتے۔ اس کی ترقیات سے خوش ہوتے۔ دعاؤں سے نوازتے۔ زبانِ دیوبند حضرت مولانا سید احمد خضر شاہ کشمیری دام ظلہم پر ان کی بڑی نظرِ عنایت رہی۔

ولکنہ بنیان قوم تھدما

حضرت ہمارے درمیان سے اٹھ گئے۔ عمرِ مبارک 92 ہوئی۔ ایسی طویل عمر اور صلاحیت و صالحیت کے ساتھ الا ماشاءاللہ ہی کسی کے نصیبے میں آتی ہے۔ وہ چلے گئے تو فضا سوگوار ہے۔ دیوبند پر موت کا سناٹا طاری ہے۔ رنج و غم. اور شدید الم ہر کسی کے چہرے سے ہویدا۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک شخص نہیں، شخصیت بلکہ عالَم کی موت ہے۔ آج تو ہر رونے والی آنکھ اور ہر مغموم دل یہی کہہ رہا ہے:

وما کان قیس ھلکہ ھلک واحد
ولکنہ بنیان قوم تھدما

نماز جنازہ رات دس بجے ہوگی، اس کے بعد علومِ نانوتویؒ کا یہ امین اپنے آباء کے گہوارے میں سو جائے گا:

رہے نام اللہ کا

خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی وفات: ایک عہد کا خاتمہ

مولانا ندیم الواجدی
خاندانِ قاسمی کے چشم وچراغ، اپنے جد امجد حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے علوم ومعارف کے امین، اپنے والد بزرگوار حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد طیبؒ قاسمی مہتمم دار العلوم دیوبند کے حقیقی جانشین خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ آج اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے، مولانا محمد سالم قاسمیؒ کا شمار دار العلوم دیوبند کے ان ممتاز شیوخ اور علماء میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی علمی، دینی، اصلاحی اور تدریسی خدمات سے ایک طویل تاریخ رقم کی ہے، ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور صدیوں زندہ رہتے ہیں، وہ علم وعمل کا ایک ایسا آفتاب تھے جو علم کے افق پر لگ بھگ ستر برس تک روشن رہا، افسوس آج یہ آفتاب دیوبند کے قبرستان قاسمی میں غروب ہوگیا ہے۔
مولانا محمد سالم قاسمیؒ نانوتہ ضلع سہارن پور کے مشہور صدیقی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، اس خاندان نے امت کو بہت سے علماء وصلحاء عطا کئے ہیں، جن میں حضرت مولانا مملوک علی نانوتویؒ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ، حضرت مولانا محمد مظہر نانوتویؒ وغیرہ حضرات کا ذکر کئے بغیر مغربی یوپی کی علمی اور دینی تاریخ آگے نہیں بڑھ سکتی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے دیوبند کو اپنا وطن اور اپنی تعلیمی تحریک کا مرکز بنایا جس سے دار العلوم دیوبند وجود میں آیا، حضرت مولانا محمد سالم صاحبؒ کی پیدائش حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے پوتے حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب سابق مہتمم دار العلوم دیوبند کے گھر میں ۲۲/ جمادی الثانیہ ۱۳۴۴ھ مطابق ۸/ جنوری ۱۹۲۶ء کو ہوئی، اس لحاظ سے حضرت کی عمر ہجری تقویم کے اعتبار سے ۹۴ برس اور عیسوی سن کے اعتبار سے ۹۲ سال ہوئی، حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی والدہ ماجدہ رامپور منیہاران کے ایک علمی گھرانے کی چشم وچراغ تھیں، نہایت نیک، متقی، پرہیزگار، عبادت گزار، معمولات کی پابند خاتون تھیں، مولانا کی ابتدائی تربیت قدیم علمی گھرانوں کی طرح والدہ ماجدہ کے سایۂ عاطفت میں ہوئی، ۱۳۵۱ھ میں تعلیم کا باقاعدہ آغاز ہوا، ناظرہ اور حفظ قرآن کریم کی تکمیل پیر جی شریف گنگوہیؒ کے یہاں ہوئی، جو دار العلوم دیوبند میں درجۂ حفظ کے استاذ تھے اور زندگی بھر آستانہ قاسمی کے ایک حجرے میں مقیم رہے، حفظ قرآن کے بعد دار العلوم دیوبند کے شعبۂ فارسی میں داخلہ لیا، فارسی کے اساتذہ میں مولانا محمد یاسین دیوبندیؒ ، مولانا منظور احمد دیوبندیؒ اور مولانا سید حسن دیوبندی ؒبہ طور خاص قابل ذکرہیں، ۱۳۶۲ھ میں عربی تعلیم کا آغاز ہوا، مکمل نصاب کی تکمیل اس وقت کے ماہر اور معروف اساتذہ کے ذریعے دار العلوم دیوبند میں ہوئی، حضرت کے اساتذہ میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی امروہویؒ، جامع المعقول والمنقول حضرت علامہ ابراہیم بلیاویؒ، حضرت مولانا سید فخر الحسن مرادآبادیؒ، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ، حضرت مولانا سید اختر حسین میاںصاحبؒ، حضرت مولانا عبد السمیع صاحب دیوبندیؒ، حضرت مولانا قاری اصغر صاحبؒ، حضرت مولانا عبد الاحد صاحب دیوبندیؒ جیسی عبقری شخصیات شامل ہیں، حضرت کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انھوں نے ۱۳۶۲ھ میں تھانہ بھون حاضر ہوکر حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے درس نظامی کی سب سے پہلی کتاب میزان الصرف سبقاً سبقاً پڑھی، حضرت کے انتقال سے آج حضرت تھانویؒ سے براہ راست استفادہ کرنے والے حضرات کے سلسلۂ زریں کا خاتمہ بھی ہوگیا ہے، ۱۳۶۷ھ مطابق ۱۹۴۸ء میں فراغت حاصل کی۔
آپ کے درسی ساتھیوں میں حضرت مولانا سلیم اللہ خاں صاحب پاکستانیؒ، حضرت علامہ رفیق احمد بھینسانیؒ، حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی، حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی ، حضرت مولانا جلیل میاں حسین دیوبندیؒ، حضرت مولانا فرید الوحیدیؒ وغیرہ جیسے مشاہیر علماء شامل ہیں۔
فراغت کے فوراً بعد ہی دار العلوم دیوبند میں استاذ کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا، ابتداء میں ترجمۂ قرآن کریم اور نور الایضاح وغیرہ کتابوں کا درس دیا، بعد میں مشکوۃ، ہدایہ، شرح عقائد، نخبۃ الفکر، ابوداؤد اور بخاری شریف جیسی کتابوں کا درس بھی دیا، طویل تدریسی زندگی کے دوران ہزاروں شاگردوں نے ان سے استفادہ کیاجو اب حضرت کی یادگار بن کر دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، وقت کی پابندی، تدریس میں انہماک، غیر ضروری مشاغل سے گریز آپ کے مزاج میں شامل تھا، فارغ اوقات میں کتب بینی میں مشغول رہتے، دعوتی اور اصلاحی اسفار کا طویل سلسلہ رہا، جو دار العلوم دیوبند کی تدریس کے زمانے سے دو سال قبل تک بلا انقطاع جاری رہا، اس دوران دنیا بھر میں آمد ورفت رہی، اپنے والد بزرگوار کی طرح ہندوستان کے ہر شہر میں گئے اور وہاں کے لوگوں کو اپنے مواعظ سے استفادے کا موقع دیا، ان کے مواعظ کا مجموعہ ’’خطبات خطیب الاسلام‘‘ کے نام سے کئی جلدوں میں چھپ چکا ہے۔
دیوبند میں جامعہ دینیات کا قیام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحبؒ کے اہم کارناموں میں سے ایک ہے، یہ ادارہ حضرت کی فکری بلندی اور بالغ نظری کا آئینہ دار ہے، جو اس لئے قائم کیا گیا تاکہ یونی ورسٹیوں اور کالجوں میں مصروف طلبہ مراسلاتی کورس کے ذریعہ دین کی تعلیم حاصل کرسکیں، اس ادارے سے اب تک لاکھوں طلبہ وطالبات استفادہ کرچکے ہیں، جامعہ دینیات کے نصاب ونظام کے مطابق ابتدائی دینیات، عالم دینیات اور فاضل دینیات کے لئے ہر سال ملک کے مختلف سینٹروں میں امتحان منعقد ہوتے ہیں، کامیاب امیدوار ملک کی متعدد یونی ورسٹیوں میں داخلے کے اہل سمجھے جاتے ہیں۔
اجلاس صدسالہ کے بعد دار العلوم دیوبند میں اختلافات رونما ہوئے اس کے نتیجے میں دار العلوم دیوبند کے متعدد بڑے اساتذہ اور بہت سے ملازمین باہر آگئے، اس وقت دار العلوم وقف دیوبند کی بنیاد رکھی گئی، یہ واقعہ ۱۴۰۳ھ مطابق ۱۹۸۴ء کا ہے، اس نومولود دار العلوم دیوبند کے اوّلین مہتمم کے طور پر حضرت کا انتخاب عمل میں آیا، آج یہ ادارہ بھی ملک کے بڑے اداروں کی صف میں شامل ہوچکا ہے، اہتمام کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا نے دار العلوم وقف میں سالہا سال تک بخاری شریف کا درس بھی دیا، کمزوری اور پیرانہ سالی کے باعث فی الوقت آپ اہتمام کی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہوچکے تھے، البتہ سرپرستی آخری لمحۂ حیات تک جاری رہی۔
دار العلوم وقف دیوبند کے اہتمام اور تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا سلسلہ بھی جاری رہا، اس دوران کئی کتابیں منظر عام پر آئیں جن میں ’’مبادئ التربیۃ الاسلامیہ‘‘ عربی، ’’تاجدار ارض حرم کا پیغام‘‘، ’’مردِ غازی‘‘، ’’عظیم تاریخی خدمات‘‘ وغیرہ ذکر ہیں، سینکڑوں مضامین تشنۂ طباعت موجود ہیں، حضرت نے دار المعارف کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ بھی قائم کیا جس سے اپنے والد بزرگوار حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کی تصانیف شائع فرمائیں۔
آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر تھے، اس کے علاوہ سالہا سال تک آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر بھی رہے، سرپرست اسلامک فقہ اکیڈمی، رکن کورٹ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ، ممبر مجلس شوریٰ مظاہر العلوم وقف سہارن پور، رکن مجلس انتظامیہ دار العلوم ندوۃ العلماء بھی رہے، کئی اعزازات سے بھی نوازے گئے، مصری حکومت کی طرف سے نشان امتیاز دیا گیا، حضرت شاہ ولی اللہ ایوارڈ سے بھی سرفراز کئے گئے، پہلے بین الاقوامی مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ایوارڈ کے لئے بھی دنیا بھر کے منتخب علماء نے آپ ہی کا انتخاب کیا۔
آپ کے چار صاحب زادے ہیں، جناب محمد سلمان قاسمی مقیم پاکستان، مولانا محمد سفیان قاسمی مہتمم دار العلوم وقف دیوبند، جناب محمد عدنان قاسمی، حافظ محمد عاصم قاسمی چیرمین طیب ٹرسٹ دیوبند اور دو صاحب زادیاں، محترمہ اسماء اعجاز اور محترمہ عظمی ناہید ہیں، ثانی الذکر کا شمار ملک کی نہایت نامور اور فعال خواتین میں ہوتا ہے۔
ابتداء میں مولانا محمد سالم قاسمیؒ حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری سے بیعت ہوئے، ان کی وفات کے بعد والد محترم سے اصلاحی تعلق قائم کیا اور خلافت واجازت بیعت سے سرفراز ہوئے، حضرت مولانا محمد سالم صاحبؒ کے مریدین ومتوسلین کی تعداد بھی لاکھوں سے متجاوز ہے، تقریباً سو اصحاب علم کو خلافت سے نوازا، حضرت مولانا سالم قاسمیؒ اپنے جد امجد حضرت نانوتویؒ کے علوم ومعارف کے امین وترجمان تھے، ان کی ہر مجلس ان کے ذکر سے معمور رہتی تھی، درسی تقریروں میں اور علمی مجالس میں حضرت کی زبان گہر بار سے فیوض قاسمیہ کی اشاعت کا سلسلہ لگ بھگ ستر برس تک جاری رہا، افسوس ۱۴/ اپریل ۲۰۱۸ء بروز شنبہ دن کے ۲ بج کر ۱۵ منٹ پر حضرت اپنے لاکھوں شاگردوں اور مریدوں کو بہ طور خاص دونوں دار العلوموں کے ہزاروں طلبہ اور اہل دیوبند کو غمزدہ چھوڑ کر رخصت ہوگئے۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

اسلام اورجنسی تشدد کا سد باب

از :امداد الحق بختیار قاسمی
چیف ایڈیٹر عربی مجلہ ” الصحوة الاسلامیہ“
جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد
ihbq1982@gmail.com_+91 9032528208
ذرائع ابلاغ کے صدقہ میں پوری دنیا سمٹ کر ایک بستی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ، یہاں ہر آن پورے عالم کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں اور ان خبروں میں سکون کا سامان کم اور رنج و غم اور تکلیف کا زیادہ ہوتا ہے ، ہمارے کانوں کو انسانیت پر ڈھائے جارہے مظالم کی کوئی نہ کوئی داستان روزانہ سننی پڑتی ہے ، کہیں بمباری ہورہی ہے ، تو کہیں کالجوں میں بندوقیں چل رہی ہیں ، کہیں سے جنسی تشدد کے بھیڑیوں کی خبر آتی ہے ، تو کہیں سے انسانی درندوں کی درندگی کی ۔ پوری انسانیت کشمکش میں ہے اور ان سب کے بیچ میں کچھ ادارے جان بوجھ کر انسانوں کو گمراہ کرنے کی اور خبر کے نام پر بے خبر کرنے کوشش کررہے ہیں ، جبکہ آج کا انسان ایک ایسے نظام کا متلاشی ہے ، جس میں اس کی مکمل حفاظت ہو ، اسے سکون میسر آئے ۔
اسلام صرف ایک مذہب نہیں ؛بلکہ مکمل نظام حیات کا نام ہے ، اسلام نے انسان کی فطرت کے مطابق ہی قوانین بنائے ہیں ، اسلام کا کوئی قانون انسانی فطرت کے خلاف نہیں ؛ کیوں کہ یہ کسی انسان کی پیداوار نہیں ؛بلکہ خالق ِکائنات کا نظام ہے ، لہذا اللہ تعالی نے جہاں انسان کے اندر جنسی خواہش رکھی ہے ، وہیں اس جنسی خواہش کی تکمیل کا بھی راستہ بتایا ہے ؛کیوں کہ اسلام انسان کی خواہشات کو دباتا نہیں ہے ، اسلام رہبانیت اور سنیاس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ؛بلکہ اس سے روکتا ہے ؛ کیوں کہ یہ فطرت سے بغاوت ہے ؛ جس کے نتائج کبھی اچھے نہیں ہوسکتے اور آج دنیا اس کا مشاہدہ بھی کررہی ہے ۔
اسی طرح اسلام انسان کے جان ومال ، عزت وآبرو کے تحفظ کو یقینی بناتاہے ، اور ہر اس سوراخ پر بند لگاتا ہے ، جہاں سے کسی انسان کی عزت وآبرو خطرہ میں پڑ سکتی ہے ، اسلام نے جتنی گہرائی اور باریک بینی سے انسانی تحفظ کا احاطہ کیا ہے، کوئی اور دین اور مذہب اس کی مثال پیش نہیں کرسکتا ، انسان کی عفت وعصمت اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے اسلام نے زنا کو ناجائز اور حرام قرار دیا اور اسے ایک معاشرتی جرم گردانا ہے اوراس پر ایسی سنگین سزا تجویز کی ہے کہ مجرمانہ ذہنیت کے افراد کے لیے عبرت ہو اور وہ اپنے جرم پر اقدام کرنے سے بھی کانپ جائیں اور اس طرح معاشرہ ان کی ناپاک ذہنیت کا شکار ہونے سے محفوظ رہ سکے ، یہ بھی واضخ رہے کہ اسلام نے صرف زنا پر پاپندی نہیں لگائی ہے ؛ بلکہ وہ تمام کام جن کا راستہ زنا کی طرف جاتا ہے ، ان سب سے انسان کو سختی سے روکا ہے ، قرآن نے سب سے زیادہ زور اس پر دیا ہے کہ ایک انسان کو اپنے پیدا کرنے والے پروردگار سے ڈرنا چاہیے ؛ کیوں کہ اللہ کا خوف ہی ایک ایسی چیز ہے ، جس سے انسانی معاشرہ انفرادی اور اجتماعی طور پر جرائم سے پاک ہوسکتاہے ، تقوی ہی وہ عنصر ہے جو انسان کو اسلامی احکام پر عمل پیرا کراتا ہے اور اس کو گناہوں سے روکتا ہے ، تاریخ کے صفخات اپنے اندر ایسے سینکڑوں واقعات سمیٹے ہوئے ہیں ، کہ اللہ کے متقی اور پرہیز گار بندوں کے سامنے زنا کے تمام دروازے کھلے ہوئے تھے ؛ لیکن صرف اور صرف اللہ کے خوف کی وجہ سے وہ اس گناہ عظیم سے باز رہے ؛ حضرت یوسف علیہ السلام اور زلیخا کا واقعہ کون نہیں جانتا !
اس کامل اور مکمل نظام حیات نے زنا جیسی لعنت سے معاشرہ کو پاک وصاف رکھنے کے لیے بہت سے احکامات ، ہدایتیں اور قوانین انسانوں کے سامنے پیش کیے ہیں اور انہیں اس کا پابند بنایا ہے کہ وہ ان قوانین کو مضبوطی سے تھامیں : جیسے قرآن نے پیغام دیا ہے کہ اے انسان زنا کے قریب بھی مت جا۔ اور قرآن نے اسی پر اکتفا نہیں کیا؛ بلکہ زنا کے قریب جو چیزیں لے جاتی ہیں ، ان کی نشاندہی کی اور ان سے بھی محتاط رہنے کی تاکید کی ؛ چنانچہ اس کتاب مقدس نے انسانوں کو اس بات کا حکم دیا کہ مرد کا سامنا جب کسی غیر محرم خاتون سے ہو تو وہ نگاہیں نیچی کرلے اور اپنی جنسی خواہشات پر کنٹرول رکھے، دوسری طرف خواتین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جب کسی غیر محرم مرد کے سامنے آئیں یا گھر سے باہر نکلیں تو مکمل جسم کو ڈھانک کر نکلیں ؛ تاکہ شریر طبیعت کے لیے کوئی موقع نہ رہے ؛گویا خواتین کو ایک قیمتی چیز کا درجہ اور مقام دیا گیا ہے، اسی کے ساتھ یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ غیر محرم مرد اور خاتون تنہائی اختیار نہ کریں ؛ کیوں کہ شیطان انہیں کسی ناکردنی پر آمادہ کرسکتاہے اور آج اس پر عمل نہ کرنے کے نقصانات چڑھتے سورج کی طرح دکھائی دے رہے ہیں ، عورت کا تنہا سفر نہ کرنا ؛ بلکہ اس کے ساتھ اس کی عصمت کے حفاظت کے لیے کسی محرم کا لازمی ہونا بھی اسی سے متعلق ہے۔
ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود بھی اگر کوئی نہ مانے اور زنا جیسی بد کاری کو انجام دے ، تو پھر شریعت نے اس کے لیے عبرت ناک سزا تجویز کی ہے ، کہ اگر وہ غیر شادی شدہ ہے تو بھرے مجمع میں اسے سو کوڑے مارے جائیں اور مزید کچھ سزا ضروری ہو تو وہ بھی دی جائے اور اس کا فیصلہ ہر زمانہ کا جج یا حاکم کرے گا اور زناکار شادی شدہ ہے تو پھر اسے سنگار یعنی پتھروں سے ماردیا جائے ؛ مگر اسلام نے یہ سزا تجویز تو کی ہے؛ لیکن عمومی طور پر اس کو ثابت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ؛ کیوں کہ اس کے ثبوت کے لیے ایک بڑی شرط یہ لگادی ہے کہ چار ایسے افراد اس کی گواہی دیں ؛ جنہوں نے ان دونوں کو اس طرح زناکرتے ہوئے دیکھا ہو ؛ جیسے سرمہ دانی میں سلائی جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور یہ واضح ہے کہ کوئی چوراہے پر تو زنا کرتا نہیں کہ اتنے لوگ اسے دیکھ سکیں ؛ خلاصہ یہ کہ اس سزا کے ذریعہ اسلام کا مقصد لوگوں کے دلوں میں خوف اور ہیبت پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اس گناہ کے بارے میں سوچیں بھی نہیں ۔
آج کل بہت سے نام نہاد انسانیت کے علمبردار واویلا مچاتے ہیں اور ہنگامہ برپا کرتے ہیں کہ اسلامی سزائیں انسانیت کے خلاف ہیں ، یہ سزائیں انسانی حقوق کو پامال کرتی ہیں ، یہ وحشیانہ اور ظالمانہ سزائیں ہیں اور یوروپی تہذیب سے متاثر لوگ بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور اعتراض کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے ، ان کے حضور میں مودبانہ عرض ہے کہ خواتین ، جوان لڑکیوں اور کم سن بچیوں کے ساتھ روزانہ اور ہر منٹ میں ریپ کرنا ،ان کا اغوا کرنا ، ان کے ساتھ جنسی تشدد کرنا اور پھر ان کو موت کے گھات اتاردینا کونسی انسانیت کے مطابق ہے ؟جو ملک جتنا ترقی یافتہ اور جتنا ماڈرن ہے ، وہاں اسی کے تناسب سے اسی قدر زیادہ یہ وارداتیں ہورہی ہیں ،ایک واقعہ پڑھیں: لندن میں مٹنگ کے دوران شاہ فیصل  سے کسی نے کہا کہ آپ ہماری تہذیب کو اختیار کریں ، آپ ابھی تک اسی پرانی ریت کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں ، ہم تجدد پسند اور زمانہ کے ساتھ کندھا ملاکر چلنے والی قوم ہیں تو شاہ فیصلنے کہا کہ مجھے اعداد شمار دکھائے جائیں کہ شہر لندن میں ایک سال میں کتنی دفعہ زنا اور مرڈر کے واقعات ہوئے ہیں ؛ چنانچہ سروے پیش کیا گیا جو کافی زیادہ تھا ، رپورٹ دیکھ کر شاہ فیصل نے کہا کہ تمہارے ایک شہر میں جتنے جرائم ایک دن میں ہوئے ہیں ، ہمارے پورے ملک میں پورے سال میں بھی اتنے جرائم نہیں ہوتے ؛ لہذا آئندہ کبھی اپنی تہذیب کی بات نہ کرنا ۔یہ چیز شاہ فیصل کے دور کے ساتھ چلی نہیں گئی، آج بھی ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے ،اور آج بھی دنیا یہی نمونہ پیش کررہی ہے ، آج کا سروے پہلے سے کہیں زیادہ چونکا دینے والا ہے تو اب سوال یہ ہے کہ اسلامی سزا کی وجہ سے مثا ل کے طور پر دس انسانوں کا اپنی جان گنوا دینا ، یہ انسانیت کے خلاف ہے یا اسلامی قانون پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سینکڑوں جان اور انسان کا ہلاک ہوجانا ، یہ انسانیت کے خلاف ہے ؟ بربریت کہاں ہے ، وحشی پن کہاں ہے ، ظالمانہ طرز زندگی کونسی ہے ؟؟؟
ہمارا ملک عزیز انڈیا ، جو گنگا جمنی تہذیب کا علم بردار ہے ، جہاں پیارو محبت کی ایک تاریخ رہی ہے ، جو امن و آشتی کا گہوارا سمجھاجاتا رہا ہے ، جہاں ناری (عورت )کو دیوی کا درجہ یا گیا ہے ، آج وہی دیوی اپنے ہی گھر میں محفوظ نہیں ہے ، شاید ہی یہاں کوئی خوش قسمت دن گزرتا ہو ، جس میں کسی معصوم خاتون کے ساتھ زنا بالجبر یعنی ریپ نہ کیا جاتا ہو اور پھر رونگٹے کھڑے کرنے والے انجام تک اسے نہ پہنچادیا جاتا ہو ، فی الحال اس ملک کی تصویر کچھ اس طرح دکھائی دیتی ہے ،کہیں دنگا فساد ، آگ زنی اور توڑ پھوڑ ،تو کہیں جانور کے بہانے انسان کی خوں ریزی ، کمزوروں پر ظلم وزیادتی اور ہجومی تشدد ،کہیں ریپ ، مرڈر تو کہیں خودکشی ، ایک خاص طبقہ کے علاوہ پورا ملک ڈر اور خوف کے سایہ میں زندگی گزار رہا ہے ، ابھی حال ہی میں (یعنی جنوری میں)انسانیت ہی نہیں بلکہ حیوانیت کو بھی شرمسار کردینے والے ایک ایسے ہی حادثہ نے پورے ملک کو سکتہ میں ڈال دیا ہے ، انسانی دل رکھنے والا ہر فرد اس کی تکلیف محسوس کررہا ہے اور وہ ہے ایک صرف آٹھ سالہ معصوم آصفہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور مرڈر کا روح فرساں واقعہ اور تعجب اس بات پر ہے کہ یہ گھناونا جرم ایسی جگہ انجام دیا گیا ، جو بھگوان کا گھر ہے ، جہاں انسان اپنی زندگی کے سکھ مانگنے کے لیے جاتا ہے ، جہاں دعائیں کی جاتی ہیں ، جہاں منتیں مانگی جاتی ہیں ، ان حیوانوں کو اپنے بھگوان سے بھی شرم نہیں آئی ، اب انہیں کافر نہ کہا جائے تو کسے کہا جائے ؟اور مندر کے اس پنڈٹ کی نگرانی میں یہ انسانیت سوز حرکت کی گئی ، جسے لوگ اپنا گرو کہتے ہیں ، اور تعجب بھی اشکبار ہے کہ اس معصوم کی عصمت کو تارتار کرنے میں قانوں کے پاسدار پولیس اہلکار بھی شامل تھے ، اتنی چھوٹی سی بچی کے ساتھ پانچ چھ زانیوں اور ریپسٹوں نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار یہ دل دہلادینے والی مذموم حرکت کی اور ان جانوروں نے اسی پر بس نہیں کیا ؛بلکہ اس معصوم کا گلا گھونٹ کراور پتھروں سے اسے کچل کچل کر موت کے گھات اتار دیا اورملک کی پیشانی تب اور داغ دار ہوگئی جب ان مجرمین کی حمایت میں قومی جھنڈا لے کر ایک جلوس نکالا گیا ۔
ہر انسان، چاہے وہ کسی بھی دین اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو ، اس دنیا میں امن و سکون کے ساتھ رہنا چاہتا ہے ، اپنے اور اپنی فیملی کے تحفظ کے احساس کے ساتھ رہنا چاہتاہے ، اب یہ حکومت اور ارباب اقتدار کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی پبلک کے لیے ایسا ماحول بنائے ؛ لہذا اس ملک کا ہر باشندہ حکومت سے توقع رکھتا ہے کہ جرائم کی روک تھام میں موثر اقدامات اور کارروائیاں کی جائیں ؛میں یہ نہیں کہتا کہ اسلامی قوانین اور سزاوٴں کوہی اختیار کیا جائے ، حکومت جو بھی اختیار کرے؛ لیکن ایک ہندوستانی اپنے ملک کو ان جرائم سے پاک کرنا چاہے گا ؛ لہذا اس کے لیے بجائے جانور پر قانوں بنانے کے، پہلے انسان کے تحفظ کے لیے سخت ترین قوانین بنائے جائیں اور پوری دیانت داری کے ساتھ اس کو نافذ کیا جائے ، چاہے اس کی زد میں کوئی بھی آتاہو؛ لیکن اس ماحول کو بنانے کے لیے اور ملک کی سالمیت کے لیے اس ملک کے ہر انصاف پسند ذہن کو خودآگے آنا ہوگا ، جب تک ہمارے اندر شعور بیدار نہیں ہوگا ہمارا خواب ، خواب ہی رہے گا ، اسے تعبیر کا جامہ کبھی نہیں مل سکتا ۔