مسلمانوں کی معاشی پسماندگی، اسباب اور تدارک

مولانامحمد اسرارالحق قاسمی

انسانی زندگی میں معیشت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔معاشی استحکام کے بغیر نہ فرد ترقی یافتہ خیال کیاجاتاہے اور نہ قوم۔قدم قدم پر انسان کو مال اور پیسے کے ضرورت پڑتی ہے ۔معاش کی یہ اہمیت ہر دورمیں رہی ہے،لیکن عہد حاضر میں معاشی استحکام گزشتہ زمانوں کے مقابلے میں اورزیادہ ناگزیر نظرآرہاہے۔کیونکہ اس زمانے میں اخلاق وروحانیت کا دائرہ محدو د ہوا ہے اور مادیت نے ہر چہار جانب اپنی حکمرانی قائم کرلی ہے۔ہر شخص پُرتعین زندگی گزارنے کاخواہاں ہے۔اس کے لیے بہت سے لوگ تگ ودو بھی کررہے ہیں، وہ الگ بات ہے کہ کس کی کوششیں کتنی کامیاب ہیں اور کون اپنے اہداف کو کس حد تک پارہا ہے۔دولت کی بڑھتی خواہش اور دولت کے حصول کے نت نئے طریقوں نے انسان کو بہت زیادہ مفاد پرست بھی بنادیاہے ،اسی لیے اپنے مفادات کے لیے لوگ دوسروں کا استحصال کرنے یا دوسروں کو نقصان پہنچانے تک سے گریز نہیں کررہے ہیں۔ایسے میں لوگوں سے بھلائی کی توقعات و امکانات کم ہوگئے ہیں۔ اگر انسان کے پاس پیسہ ہے تو اس کی ضروریات پوری ہورہی ہیں، لیکن اگر پیسہ نہیں ہے تو اس کی زندگی نہایت کسمپرسی میں گزررہی ہے۔لوگ تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں یا معاشی اعتبار سے کمزور افراد اور طبقات کو آگے بڑھانے کے جذبے سے محرو م ہوگئے ہیں۔اس لیے اس دورمیں ضروری ہے کہ فرد بھی معاشی لحاظ سے مستحکم ہو اور قوم بھی اقتصادی طور پر مضبوط ہو۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی زندگی کے ہرشعبے پر زور دیتا ہے اور کسی کو بھی تشنہ لب نہیں چھوڑتا۔چونکہ معاشیات انسانی زندگی کا اہم شعبہ ہے، اس لیے اس بابت اسلام نے روشنی پیش کی ہے تاکہ اس میں چل کرلوگ اپنی معاشی زندگی کو بہتر بناسکیں۔ معاشیات کی طرف اسلام شروع سے ہی توجہ دیتا ہے۔کیونکہ اسلام میں معاشرتی زندگی بہت اہم ہے ۔اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان کو سماج میں ہی رہنا ہے۔شادی بھی کرنی ہے، بیوی کے اخراجات بھی اٹھانے ہیں ، بچوں کی پرورش وپداخت بھی کرنی ہے ،ماں باپ کے حقوق اور سماج کے کمزور طبقات کی ضرورتوں کو بھی پورا کرنے میں حصہ لینا ہے ۔ظاہر ہے کہ ان سب تقاضوں کی تکمیل کے لیے مال ودولت کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اسلام میں اس بات کی گنجائش نہیں کہ کوئی جنگلوں اور پہاڑوں کا رخ کرلے اور سماج ومعاشرت سے کٹ جائے۔اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اگر کوئی محنت ومشقت کرکے کچھ کماتا ہے تو یہ بڑی سعادت کی بات ہے۔اسلام ایسے لوگوں کو سراہتاہے، ان کی ہمت افزائی کرتاہے۔

”حضرت انس بن مالک  سے مروی ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لڑائی میں شریک تھے۔ ہمارے پاس سے ایک پھرتیلا جوان گزرا، جو غنیمت میں حصے کے طورپر ملے مویشی کولیے جارہا تھا، تو ہم بول پڑے کہ اگر اس کی جوانی و سرگرمی اللہ کی راہ میں صرف ہوتی تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ ہماری یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے پوچھا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ ہم نے بتایا کہ یہ اور یہ۔آپ نے فرمایا: اگر وہ اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کے لیے بھاگ دوڑ کرے تو یہ بھی اللہ کی راہ میں شمار ہوگا، اور اگر وہ اپنے اہل وعیال کے لیے تگ ودو کررہا ہو،تاکہ ان کی کفالت کرسکے، تو یہ بھی اللہ کی راہ میں گنا جائے گا اور اگر اپنی ذات کے لیے کام کرے تو یہ بھی فی سبیل اللہ ہوگا۔“

ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مانفعنی مال احد قط مانفعنی مال ابی ابکر ”مجھے ابوبکر کے مال کی طرح کسی کے مال نے فائدہ نہیں پہنچایا“(ترمذی، صحیح) ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم حضرت انس  کو دعادیتے ہوئے فرمایا تھا کہ اللہم اکثر مالہ ”اے اللہ ان کومالِ فراواں دے“ ان تمام روایات سے معلوم ہوتاہے کہ مال اگر صحیح طریقے سے حاصل ہو اور اسے صحیح جگہ پر استعمال کیا جائے تو برا نہیں ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین میں کئی صحابی ایسے گزرے ہیں جو آج کے ارب پتیوں سے کم نہیں تھے۔جیساکہ حضرت عثمان غنی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، زبیر بن العوام اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہم ۔

اسلامی تعلیمات کے مطالعہ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو پیسے کمانے سے نہیں روکتاہے، بلکہ اگر کوئی اپنے بیوی بچوں کے اخراجات کی تکمیل کے لیے اور اپنے گھر بار کو درست طورپر چلانے کے لیے کاروبار وتجارت کرتاہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کی ۔ آپ کے صحابہ نے بھی تجارت کی ہے۔بعض اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کھیتوں میں بھی کام کرتے تھے اور بازاروں میں بھی خرید وفروخت کرتے تھے۔جیساکہ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ وہ خود تو اصحابِ صفہ میں سے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیضیاب ہوتے تھے لیکن مہاجرین بازاروں میں مشغول اور انصار کھیتوں میں کام کرتے تھے۔“صحابہ کرام نے صرف تجارت میں حصہ ہی نہیں لیا بلکہ تجارت کو الگ انداز میں فروغ بھی دیا۔مندرجہ ذیل واقعہ سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ کاروبار میں کس قدر برکت ہے اور اسلام نے کاروبار وتجارت کی کس طرح حوصلہ افزائی کی ہے۔

”انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بے کاری کی شکایت کی۔آپ نے فرمایا: کیا تیرے گھر میں کچھ نہیں؟ اس نے عرض کیا۔کیوں نہیں، ایک چادر ہے، جسے ہم اوپر اوڑھتے ہیں اور نیچے بچھاتے ہیں اور ایک پیالہ ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: جاؤ وہ دونوں چیزیں لے آؤ۔جب وہ شخص دونوں چیزیں لے آیا تو آپ نے انھیں لے کر حاضرینِ مجلس سے مخاطب ہوکر فرمایا: دونوں چیزوں کو کون خریدے گا؟ ایک آدمی نے کہا : میں ایک درہم میں خریدتا ہوں۔آپ نے فرمایا: دویا تین درہم میں کون خریدے گا؟ ایک دوسرے آدمی نے کہا : میں دودرہم میں خریدتاہوں۔ آپ نے پلان او رپیالہ آدمی کو دے کر دو درہم لے لیے۔انصاری کو دے کرفرمایا: ایک درہم کا کھانا خریدکر اپنے گھروالوں کو دے آؤ اور دوسرے درہم کی ایک کلہاڑی خرید کر میرے پاس لے آؤ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دستِ مبارک سے دستہ لگایا اور فرمایا: یہ کلہاڑی لے کر جاؤ اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لایاکرو اور انھیں بیچا کرو اور پندرہ دن تک میرے پاس مت آنا۔“

”وہ شخض چلاگیا اور لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرتا رہا۔جب پندرہ دن کے بعد آیا تو وہ دس درہم کماچکا تھا،جن میں سے کچھ درہم کا اس نے کپڑا اور کھانا خریدا ،پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: یوں کماکر کھانا تمھارے لیے بہتر ہے اس سے کہ لوگوں سے مانگتے پھرو ، اور اس کے سبب قیامت کے روز تمہاراچہرہ داغ دارہو۔“(ماہنامہ اعتدال ، مئی 2017، ص 83)

اسلام نے تجارت کے لیے اصول وضوابط بیان کیے اور تجارت کے باب میں اصلاحات کیں تاکہ تجارت کا عمل صاف ستھرے انداز میں کیاجائے۔اس سے تاجر کا بھی فائدہ ہو اور دوسرے لوگوں کا بھی ۔اسلام میں ایسی تجارت کے لیے گنجائش نہیں ملتی جس کے ذریعہ تاجر تو خوشحال ہو، اور دوسرے لوگوں کا تاجر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نقصان ہو۔تجارت کو باضابطہ فروغ دینے اور اسے بہترین سانچے میں ڈھالنے کے لیے عملاً رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ِنبوی کی تعمیر کے بعد ”سوق المدینہ“ قائم کیا۔

معلو م یہ ہوا کہ اسلام معیشت واقتصادیات کو نظر انداز نہیں کرتا ہے بلکہ معیشت واقتصادیات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اپنے ماننے والوں کو اس سلسلے میں رہنمائی بھی کرتا ہے کہ انھیں کس طرح اپنی معیشت کو مضبوط کرنا ہے۔ اسلام نے جو طریقے معیشت و اقتصادیات کے لیے بیان کیے ہیں ،وہ نفع بخش اور عوام الناس کے لیے مفید ہیں۔ اسلام کے بیان کردہ ضابطے انسان کے حسن اخلاق کو بھی متاثر نہیں کرتے اور نہ ہی اس کی تہذیبی ومذہبی زندگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب کہ دنیا میں رائج معیشت کے دوسرے بہت سے نظام ونظریات سے انسانی زندگی کو اتنا فائدہ پہنچتا نظر نہیںآ تاہے اور وہ کسی نہ کسی حد تک انسانی زندگی کے دوسرے شعبوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب کہ تمام قومیں اور افراد اپنی معیشت کو مضبوط کرنے میں مصروف ہیں، انسانی زندگی متاثر ہورہی ہے اور زندگی کے دوسرے تقاضے کنارے ہوتے جارہے ہیں۔جیساکہ بہت سے لوگ اپنی شب وروز کی تگ ودو کے بعد اپنی معیشت کو مضبوط کرنے میں کامیاب تو ہوئے ہیں لیکن اخلاقی سطح پران کے طوروطریقے اچھے نہیں رہے ۔کئی لوگوں نے جائز طریقوں کو استعمال کرکے دولت نہیں کمائی بلکہ انھوں نے ہر طرح کے طریقے استعمال کیے خواہ وہ جائز تھے یا ناجائز ۔بہت سے لوگ جھوٹ بول کر پیسے کماتے ہیں۔ اپنی چیز کی وہ خوبیاں بیان کرتے ہیں ،جو فی الواقع اس میں نہیں ہوتیں۔اس کو دھوکہ دہی کہا جائے گا۔ اس طرح حاصل کی ہی ہوئی کمائی کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ بعض لوگ دوسروں کا استحصال کرکے اپنی تجوریوں کو بھرتے ہیں ۔ وہ فیکٹریاں ، کارخانے لگاتے ہیں، ان میں مزدور اور ملازمین کو رکھتے ہیں، کام تو ان سے خوب لیتے ہیں لیکن ان کی محنت کے مطابق اجرت نہیں دیتے ، بعض لوگوں کی غربت وافلاس یا کسی اور مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کم اجرت پر کام کراتے ہیں۔ بعض اپنے ملازمین اورکام کرنے والوں کے پیسے وقت پر نہیں دیتے ،اورلوگوں کے پیسے اپنے پاس رکھ کر اس سے مزید کمائی کرتے ہیں۔کچھ لوگ ایسی چیزیں فروخت کرتے ہیں جو فی نفسہ جائز ہی نہیں۔مثال کے طورپر نشہ آور اشیا کا استعمال ۔بعض لوگ اچھے مال میں خراب مال کو ملاکربیچتے ہیں، بعض لوگ کم تولتے اور کم ناپتے ہیں،بعض لوگ اپنی چیز کومارکیٹ ریٹ سے زیادہ پیسوں میں باتیں بناکر اور گراہکوں کو پھنساکر فروخت کرتے ہیں۔ بعض لوگ سودی کاروبار کرتے ہیں۔ یہ سب طریقے غلط ہیں ،لیکن یہ افسوسناک بات ہے کہ ان طریقوں کو لوگ خوب اختیارکررہے ہیں۔ غیر مسلماقوام میں تو اس طرح کے طریقے رائج ہیں ہی لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ مسلمان بھی دولت کمانے کے لیے اس طرح کے راستے اپنانے سے گریز نہیں کررہے ہیں۔ظاہرہے کہ اگر اس طرح کسی کے پاس بہت سی دولت بھی اکٹھی ہوجائے اور اس کی معیشت مضبوط بھی ہوجائے تب بھی اس کے وہ فوائد حاصل نہ ہوسکیں گے ۔ یہ الگ بات ہے کہ بظاہر اس کی زندگی پُرتعیش گزرنے لگے، وہ اچھے کپڑے پہننے لگے، اچھے مکان بنالے ، انواع واقسام کے کھانے کھالے ، لیکن اس کے دوررس نتائج صحیح ظاہر نہ ہوں گے۔اسلام نے حرام کھانے سے منع کیا ہے۔کیونکہ حرام کھانے کی وجہ سے عبادت بھی قبول نہیں ہوتی، انسان کا دل نیکیوں کی طرف مائل بھی نہیں ہوتا ، اولادبھی اچھے راستے پر نہیں چلتی۔ جب کہ حلال رزق کے بہترین نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ گویاکہ اگر آج کی دنیا میں رائج بہت سے طریقوں کو برؤکار لایاجائے گا تو انسان کی مذہبی زندگی بھی متاثر ہوگی اور اخلاقی زندگی بھی ۔کیونکہ اس کے غلط طریقوں سے دوسرے لوگوں کے جو حقوق سلب ہوئے ہیں اور جو نقان پہنچاہے ، اس کا روزِ قیامت حساب دینا ہوگا۔

اس کے برعکس اگر اسلامی طریقوں سے انسان اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے اچھے ہی اثرات ظاہر ہوں گے ، برے نتائج نہ سامنے آئیں گے۔ مثال کے طورپر اسلام کہتا ہے کہ سچ بولا جائے ۔اس سچائی کو خریدوفروخت میں بھی نافذ کر نا پڑے گا۔یعنی سچ بولنا دوسرے تمام معاملات میں ضروری ہے ، اسی طرح سچ بولنا خرید وفروخت اور کاروبار میں بھی لازمی ہے۔ اس اعتبار سے کوئی شخص اپنی چیز کو فروخت کرتے ہوئے اپنی چیز کی ایسی خوبیا ں نہ بیان کرے جو اس میں نہ ہوں۔کسی گراہک کو دھوکہ نہ دینے کی کوشش کرے۔کسی گراہک کودھوکہ دے کر روپیہ کا مال دس روپے میں فروخت کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اسلام نے ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا ہے ، اس لیے کہ اس صورت میں گراہک کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کی حق تلفی ہوتی ہے، اس لیے اگرکوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اس طرح اس کے ذریعہ کمائی ہوئی دولت حرام ہوگی۔ یعنی اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر ناپ تو ل میں کمی نہیں کی جاتی ہے تو اس سے گراہک کو نقصان نہ ہوگا۔ ملاوٹ کرنے کو بھی منع کیا گیا ہے ، اگر کوئی شخص خالص چیز بیچتا ہے اور اس میں ملاوٹ نہیں کرتا ہے تو اس میں بیچنے والے کوتو فائدہ ہوگا ہی ، لیکن خریدنے والے کو بھی فائدہ ہوگا۔کیوں کہ اسے خالص چیز مل گئی ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر کوئی شخص نشہ آور اشیا جیسے شراب ، چرس ، گانجہ اور دیگر نشہ آور اشیا کا کاروبار نہیں کرتا ہے تو وہ ایسی چیزوں کو فروخت کرنے سے بچ جائے گا جو لوگوں کی زندگیوں کے لیے مہلک اور خطرناک ہوتی ہیں۔

سچائی کے ساتھ تجارت کرنے کے فائدے کل بھی تھے اور آج بھی ہیں۔آج جھوٹ کی وجہ سے لوگوں کا دوکانداروں ، کمپنیوں وغیرہ سے اعتبار اٹھ گیا ہے، اگر گراہکوں کو یہ معلوم ہوکہ فلاں شخص اپنی چیزوں کو سچائی کے ساتھ بیچتا ہے، کسی سے ناجائز نفع نہیں کماتا ، اشیا میں ملاوٹ نہیں کرتا ، کم ناپ تول نہیں کرتا ، تو یقینالوگ اس کے پاس سے چیزیں خریدیں گے۔ ایسے شخص کا کاروبار بہت تیزی کے ساتھ بڑھے گا اور اس کی معیشت مضبوط ہوگی ۔چنانچہ تجارت کرنے کے لیے تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ تجارت میں اسلامی طریقوں کو اختیار کریں۔

روزگار کے لیے فی زمانہ ملازمت کا راستہ بھی ہے۔اگرچہ ملازمتیں پہلے بھی ہوتی تھیں،لیکن عہدِ حاضرمیں ملازمتوں کا رواج زیادہ بڑھا ہے۔آج ملازمین کی تعداد ہر ملک میں بہت زیادہ ہے۔بلکہ بہت سے لوگ تو تجارت نہیں کرتے ، وہ ملازمت کرتے ہیں اور وہی کرنا چاہتے ہیں۔ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ انھیں اچھی سی ملازمت مل جائے۔ ملازمتوں کی گنجائش پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ہوتی ہے اورسرکاری دفاتر اور شعبوں میں بھی۔اگر ملازمت کے ذریعہ کوئی شخص اپنے اور اپنے بچوں کے اخراجات کو پورا کرتا ہے ، تو اس میں کوئی قباحت کی بات نہیں ہے۔ آج بہت سے مسلمان ملازمتیں کررہے ہیں اور بہت سے تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔بہت سے مسلمانوں کو اس بات کی شکایت ہے کہ انھیں ملازمتیں نہیں ملتیں یا کم ملتی ہیں۔

جو لوگ ملازمتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں انھیں چاہئے کہ وہ ملازمتوں کے اعتبار سے اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں۔ یعنی جس سیکٹر اور شعبے میں جانا ہے ، اس سے متعلق اپنے اندر مہارت پیدا کریں۔ اگردفاتر میں ملازمت کرنی ہے تو اسی حساب سے اپنے اندر وہ تعلیمی لیاقت پیدا کی جائے۔اور اگر کوئی شخص تدریس میں ملازمت حاصل کرنے چاہتا ہے تو اسی نوع کی تیاری کرے ،اور اگر انتظامی امور میں ملازمت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس طرح کی تعلیم بھی حاصل کرے اور تربیت بھی۔ یہ مقابلے کا زمانہ ہے ، اس میں صلاحیتوں اور مہارتوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔پرائیویٹ سیکٹروں میں اچھی تعلیم اورصلاحیت کو فوقیت دی جاتی ہے۔ اگر اپنے کاموں اور میدانوں میں مہارت حاصل کرلی جائے ،تو ملازمت ملنا آسان ہوتا ہے ۔

ملازمت کرکے روزی روٹی کمانا درست ہے ،مگر اس کا یہ مطلب ہر گزنہیں کہ اگر ملازمت مل گئی تو بس اب ایمانداری اور دیانتداری کو بالائے طاق رکھ دیاجائے اور بس ڈیوٹی کرکے ، ہلکا پھلکا کام کرکے ہر ماہ تنخواہ حاصل کرلی جائے۔ عام طورپر سرکاری دفاتر میں پرمستقل ملازمین بہت کم دیانت داری کا پاس ولحاظ کرپاتے ہیں۔اپنی ملازمت اور منصب کے لحاظ سے پورا کام کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ بہت سے سرکاری مسلم ملازمین بھی یہی رویہ اختیار کرتے ہیں اور ایمانداری ودیانت داری کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔اپنی ڈیوٹی کو پورے طورپر انجام نہ دے کر اور اپنے فرائضِ منصبی کو ایمانداری اور دیانت داری سے نہ کرنے کامطلب ہے اپنی روزی ناجائز وحرام بنانا۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ جہاں بھی رہیں ، جس ڈپارٹمنٹ ،دفتریا شعبے میں ملازمت کریں ۔ ایمانداری اور دیانت داری سے کام کریں۔ تاکہ ان کی روزی خالص ہو، جس سے انھیں بھی فائدہ پہنچے اور ان کے بچوں کو بھی حقیقی فائدہ پہنچے اورکسی کی حق تلفی نہ ہو۔ معیشت کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگر مسلمان اسلامی طورطریق کو اپنے کاروبار ، ملازمت اور اقتصادیات میں اختیارکریں گے تویقینا ان کی معیشت مضبوط بھی ہوگی اور اس کے بہتر نتائج بھی سامنے آئیں گے۔

اعلامیہ کل ہند اجلاس مجلس عمومی رابطہ مدارس اسلامی ہ عربیہ دارالعلوم دیوبند

بتاریخ ۲۳/جمادی الثانیہ ۱۴۳۹ھ مطابق ۱۲/مارچ ۲۰۱۸ء
بمقام دارالعلوم دیوبند

موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے لائحہ ع مل

خطاب حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب ،جنرل سکریٹری جمعیۃ علما ء ہند
بموقع چونتیسویں آل انڈیا مرکزی جمعیت اہل حدیث کانفرنس بعنوان’ قیام امن عالم و تحفظ انسانیت‘
بتاریخ 9- مارچ 2018 بمقام رام لیلا گراونڈ نئی دہلی- اس موقع پر جمعیت اہل حدیث ہند کے پوری ملک سے نمایندے موجود تھے-

نحمد ہ و نصلی علی رسولہ الکریم
(۱)
حق کی بالادستی اور امن کے قیام کے لیے سب سے موثر ہتھیار ہمارا مذہب ہے ، غالبا یہی سبب ہے کہ شیطانی قوتیں جو زمین پر فساد پھیلانا چاہتی ہیں یعنی آج کے قارون، فرعون اور ہامان کا براہ راست نشانہ ہمارا مذہب ہے ، کیوں کہ ہمارا مذہب امن کے قیام اور ساری انسانیت کی فلاح کا داعی اور علم بردار ہے ۔
(۲)
مذہب پر دوطرفہ حملہ ہورہا ہے ایک تو خود اس کے ماننے والے جو مذہب کے نام پر قتل و غارت گری اور خونریزی کرتے ہیں یا اسے روا سمجھتے ہیں ، وہ اپنے مذموم عمل اور گمراہ فکر کے باعث مذہب کی بدنامی کا سب سے بڑا سبب ہیں ، دوسرے دشمنان دین و مذہب جن کی ساری سرگرمی ہمارے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر صرف ہو رہی ہے ۔ہمیں ان دونوں ہی طرح کے حملے کا مقابلہ کرنا ہو گا اور حق و باطل کی لڑائی میں اپنے اور پرائے کے فرق کو مٹانا ہو گا ۔
(۳)
میں یہ بات پورے اعتماد سے کہتا ہوں کہ شدت پسندی اور دہشت گردی کو کسی خاص مذہب بالخصوص اسلام سے وابستہ کرنے والے دہشت گردوں کے معاون اور اسلام دشمنوں کے آلہ کار ہیں ۔ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام اپنے نام ، اپنی تعریف،اپنے پیغا م او راپنے احکام ہر اعتبار سے امن و سلامتی کا علم بردار ہے ۔خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ’’مومن وہ ہے جس کے ہاتھوں تمام انسانوں کی جانیں اور مال محفوظ رہیں‘‘۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا یک دوسری جگہ فرمایا کہ’’مسلمان وہ ہے جس سے کسی انسان کو خطرہ پیدا نہ ہو‘‘
(۴)
آج دنیاکی بڑی طاقتیں دہشت گردی سے نمنٹے کے لیے نفرنسیں کر رہی ہیں ،لیکن دوسری طرف ان کی آنکھوں کے سامنے شام اور فلسطین میں بے قصور اور معصوم انسانوں کا قتل عام ہورہاہے ۔پچھلے پانچ سالوں میں شام میں پانچ لاکھ انسانوں کو مہلک ہتھیار سے قتل کردیا گیا ، لیکن اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس کے سدباب کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا سکیں ۔

(۵)
میں یہ پوچھتا ہوں کہ اگر آپ ان ہاتھوں کو دہشت گردی اور قتل عام سے نہیں روک سکتے جو آپ کی پہنچ کے اندر ہیں بلکہ آپ کی مجلسوں کے ممبر ہیں تو بھلا ان دہشت گردوں سے کیسے نمٹ سکتے ہیں جن کے ساتھ آپ کا کوئی چینل نہیں ہے۔اس لیے اگر دنیا سے دہشت گردی اور نفرت کو مٹانا ہے تو پہلے اسٹیٹ ٹیررزم چاہے وہ میانمار میں ہو یا فلسطین میں یا شام میں اسے ختم کرنا ہوگا۔
بزرگو اور دوستو !
(۶)
ان دنوں ہمارے ملک میں بہت ہی پر آشوب حالات ہیں۔ ا یک خاص قسم کی مذہبی شدت پسندی ملک کے نظام اور اس کی جمہوریت پر حاوی ہونے کی کوشش کررہی ہے ۔یہ طاقتیں ملک کے وسائل اور اس کی شناخت پر اپنا لیبل لگاکر دوسروں کو محرو م اور مایوس کردینا چاہتی ہیں۔لیکن وہ نہیں جانتیں کہ وہ جتنی مشکلات پیدا کریں گی اتنے ہی ہمارے اندر زندگی اور بیداری پید ا ہو گی ،کیوں کہ آزمائشیں ہی قوموں کو زندگی بخشتی ہیں ۔ بس ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ اللہ ر ب العلمین نے ایسے موقع کے لیے کیا ہدایت فرمائی ہے ؟چنانچہ قرآن مجید میں مصیبت و آلام کے تاریک اوقات میں فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل اور ان اللہ مع الصابرین جیسے عظیم الشان کردار اور اخلاق کی تلقین فرمائی ہے ۔ صبر و تحمل، ثابت قدمی اور توجہ الی اللہ یہ ایسی طاقتیں ہیں جن کے سامنے بالاخر ہر ایک طاقت سپر ڈال دیتی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف تھیوری ہے بلکہ ہمارے سامنے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا نمونہ موجودہے ۔

(۷)
میں مسلمانوں سے کہتا ہوں کہ ان کے پاس ایک وراثت ہے ، ایک شاندار تاریخ ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ماڈ ل ہے اور یہ احساس فخر بھی ہے کہ انھوں نے محض وطن سے محبت کی بنیاد پر اس ملک میں رہنا پسند کیا ۔ہم بھارت کے مسلمان بائی چوائس ہندستانی ہیں، بائی چانس نہیں ۔ہمیں اسلام کے نام پر، نظام مصطفے کے نام پر قائم ہونے والے ملک کی طرف دعوت دی گئی ، مگر ہم نے رد کردیا اور اس کے بجائے اپنے اس وطن میں رہنے کا فیصلہ کیا ۔

ہم اسی گلی کی ہیں خاک سے ، یہیں خاک اپنی ملائیں گے
نہ بلائے آپ کے آئے ہیں نہ نکالے آ پ کے جائیں گے

برادران ملت!
(۸)
حوادث و مصائب ہمیں مایوس نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہم اپنی ذمہ داری سے رک سکتے ہیں کیوں کہ ہم پروطن اور اہل وطن کا ایک حق ہے اور یہ اسی وقت پورا ہو سکتا ہے جب ہم کمز و ر طبقات دلتوں اورآدی واسیوں کے ساتھ کھڑ ے ہوں، نیز اسلام کے پیغام حق کو اپنے حسن اخلاق اور حسن کردار کے ذریعہ برادرا ن وطن تک پہنچائیں اوران کے اندر پیدا کردہ غلط فہمیوں کو دور کریں۔
(۹)
دنیا نے اسلام کے پیغام حق کو مسلم حکمرانوں کے رعب وجلال کی وجہ سے قبول نہیں کیا بلکہ اولیاء کرام کی روحانی فیوض و برکات اور خلق خدا سے بے لوث ہمدردی کی وجہ سے عوام ان کی طرف دوڑ پڑے ۔شہاب الدین غوری کی فاتحہ تلوار کسی ایک کے دل کو بھی صداقت اسلام کے اعتراف کے لیے نہیں جھکا سکی ، مگر اسی بادشاہ کا ایک معاصر فقیر غریب نواز حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ نے غوری کی دہلی میں نہیں بلکہ پرتھوی راج کے اجمیر میں اپنے حسن اخلاق اور حسن کردار کی وجہ سے ہزاروں دلوں کومسخر کیا۔
(۱۰)میںیہ بات بارہا کہتا ہوں کہ سرکاروں کے بدلنے سے حالات نہیں بدلتے بلکہ حالات خود کے بدلنے سے بدلیں گے ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید کے اندر واضح طور سے فرمادیا ہے ’’ ان اللہ لایغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم‘‘
(۱۱)
آج شریعت اسلامیہ میں کسی نہ کسی بہانے مداخلت کی کوشش کی جارہی ہے ، حالاں کہ دین وشریعت ایک مسلمان کے لیے اس کی جان ومال سے زیادہ عزیز ہے ، اس میں کسی قسم کی چھوٹی اور بڑی ترمیم مسلمانوں کے عقیدے کے لیے چیلنج ہے ۔ جمعےۃ علماء ہند کے سابق صدر اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے جمعےۃ علماء ہند کے اجلاس عام میں کہا تھا کہ مسلمان، ہندستان میں پوری مذہبی آزادی اورپوری تہذیب وثقافت کے ساتھ زندہ رہیں گے اور کسی غیر کی غلامی قبول کرنے سے وہ عزت کے ساتھ مرجانے کو ترجیح دیں گے ‘‘ (۱۳؍واں اجلاس عام ۱۹۴۲ء )
میں سرکار سے کہتا ہو ں کہ کتنا بھی قانون بنالو ، قانون بنانے سے حالات نہیں بدلیں گے ، یہاں سماجی اصلاح کی ضرورت ہے قانونی اصلاح کی نہیں اور سماجی اصلاح سماج کے اندر سے شروع ہوتی ہے ۔ میری مسلمانوں سے ہمدردانہ درخواست ہے کہ وہ شریعت اسلامیہ پرپابندی سے عمل پیرا ہوں ، اگر ہم شریعت پر عمل کریں گے تو یہ شریعت کی حفاظت کا بہترین طریقہ ہو گا۔
(۱۲)
میں آج کے اجلاس میں اس احساس امتنان کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ اس کے باوجود کہ علماء اہل حدیث کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی واقع ہوتی ہے ، آپ حضرات نے صرف شریعت کے تحفظ کے لیے ملی اتحاد کا نادر نمونہ پیش کیا اور بیک زبان ہو کر کہا کہ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت مداخلت فی الدین ہے۔آپ حضرات نے جو مخلصانہ کردار کیا ہے ، بڑی ناسپاسی ہو گی اگر اس کو صرف محسوس کرکے چھوڑ دیا جائے اور اظہار تشکر نہ کیا جائے ۔
(۱۳)
میں سرکار سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تمام شہریوں کے حق کی حفاظت کرنا یہ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے تاکہ ملک انکلوزیو(inclusive) ترقی کی شاہ راہ پر گامزن ہو ۔کسی خاص سیکشن کی غنڈہ گردی اور فرقہ پرستی سے چشم پوشی کرنااس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔

عالمی یوم خواتین:اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش!

اظہارالحق قاسمی بستوی
صدرشعبہ اسلامیات اذان انٹر نیشنل اسکول ٹولی چوکی حیدرآباد

۸ ؍مارچ یعنی عالمی یوم خواتین(International Women’s Day)ایک بارپھر دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں زورں پر ہیں۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر عورتوں کے حقوق کی چیخ چیخ کر دہائی دی جائے گی،عورتیں اپناعالمی دن منانے کے لیے ازحد گذرناچاہیں گی اور پھررونارویاجائے گاعورت کی آزادی کا،اس کے تحفظ کا،اس کی مساوات کا، اس کے مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا، نوکریوں اور ملازمتوں میں حقوق کا اور عورتوں کو ایک بار پھر باور کرایاجائے گا کہ تم مظلوم ہو،پوری انسانی تاریخ میں تمہارے اوپر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے اورالزام عائد کیاجائے گا مذاہب کی ان تعلیمات پر جن میں عورت کو باحیا رہنے کی ترغیب دی گئی ہے،مردو ں کی طرف سے صنف نازک کے ساتھ ہورہے ظلم وزیادتی پر بے پناہ چیخ پکار کی جائے گی اور بس عالمی یوم خواتین رخصت!

حقو ق نسواں اور مساوات مردوزن کے نعرے ہ دراصل مغرب سے ا ٹھے۔یہ اس ظلم اور تعصب کارد عمل تھاجوصدیوں تک اہل کلیسا نے اپنے معاشروں پر ڈھایا۔چناں چہ اس یوم نسواں کا آغاز سن ۱۹۰۹ ؁ سے ہوا جس کا پس منظر یہ تھا کہ سن ۱۹۰۸ ؁ میں نیویارک کی سڑکوں پر پندرہ سو خواتین اپنے اوقات کار کو کم کرنے اور حق الخدمت میں اضافے کے لیے مارچ کے لیے نکلیں جس کے نتیجے میں عورتوں پر لاٹھی چارج کیے جانے کے ساتھ کئی ایک کو جیل بھیج دیاگیا،پھرسوشلٹ پارٹی آف امریکانے ۱۹۰۹ ؁میں عورتوں کادن منانے کی قرار داد منظور کی اور پھر مختلف ممالک میں عورتوں کے عالمی دن کے حوالے سے مطالبات بڑھتے رہے بالآخر۸؍مارچ ۱۹۱۳ ؁ میں پہلی بار باقاعدہ طور پرروس کے اندر عورتوں کاعالمی دن پورے تزک واحتشام سے منایاگیا۔ اب چوں کہ اس دن کا آغازعورت کے حقوق کو لے کر ہواتھالہذااس سلسلے میں کئی ایک سوال ذہن میں ابھرتے ہیں۔جیسے کہ اقوام وملل میں عورت کی اصل حیثیت کیاہے؟ عورت کا اصل حق کیاہے؟کیاعورتوں کو آج تک ان کے حقوق مل پائے؟وغیرہ وغیرہ۔

قوموں کی تاریخ میں عورت ہمیشہ ہی قابل نفر ت اور بے حیثیت سمجھی جاتی رہی ہے ،سوائے اسلام کے ہر قوم وملت میں عورت تفریح کا سامان یا چھوت چھات کے لائق سمجھی جاتی رہی ہے چناں چہ یہودیوں اور عیسائیوں نے عورت کو گناہ کا ازلی سرچشمہ قرار دیا،ہندومذہب نے عورت کے پہلے شوہر کے مرجانے کے بعد عورت سے اس کے جینے کا حق چھین لیااور اسے ستی کی بھینٹ چڑھادیا،رومی اور فارسی تہذیبوں نے عورت کو قابل نفرت چیز قراردیامشرکین نے اسے ذلت کا باعث گردانااور دیگراقوام نے اسے قابل فروخت چیز جانااور اسے ہر طرح کے تمدنی اور قانونی حقوق سے محروم رکھا لیکن مذہب اسلام عورتوں کا مسیحابن کر اس دنیامیں نازل ہوا،اس نے عورت کو اس کے جائز حقوق عطاکئے،عورت کو عزت وعظمت کی آخری منزل پرپہونچادیا۔اسلام نے نہ صرف عورتوں کو جینے کا حق دیابل کہ؛جنت ماؤوں کے قدموں کے نیچے ہے کے اعلان کے ساتھ عورت کو مردوں سے اونچامقام عطاکردیا۔مذہب اسلام نے عورت کوزندگی دی،انسانیت کے شرف سے آراستہ کیا،وہ سارے حقو ق دیے اور بن مانگے دیے جن کے لیے وہ آج ماری ماری پھررہی ہے۔میراث میں حصہ عطاکیا،ماں کو باپ سے تین درجہ بلند مرتبہ عطاکیا،عورت کے رہنے کی جگہ کو حرم قراردیا،اپنی بیویوں کے ساتھ مارپیٹ کرنے والے مردوں کو برے مرد کہا،قصاص ودیت میں برابری عطاکی،عورت کے اپنے مال پراس کا مکمل تصرف دیا،آخرت میں اجرت برابر رکھی،شادی میں عورت کی مرضی کا خیال رکھا،ہرلحاظ سے مساوات رکھا لیکن دائرہ کار کافرق رکھا،کیوں کہ دونوں کی جسمانی ساخت یکساں نہیں لہذاکاموں کی تقسیم بھی ہر ایک کے حساب سے الگ ہوئی۔غرض اسلام نے زندگی کے ہر ہر موڑپر عورت کا خاص خیال رکھا۔

اب بات آتی ہے حقو ق کی تو سب سے پہلے یہ سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ عورت کا اصل حق کیاہے اور کن حالات اور کن پروپیگنڈوں کے تحت گھرکی عورت کو ’ بازاری عورت‘ بنادیاگیا۔عورت کی نسوانیت ،اس کی حیا، اس کی عزت ، آزادی ،اس کو عورت بن کر جینے کا مکمل اختیار عورت کے بنیادی حقوق ہیں جو ہرعورت کو ملنے چاہئیں لیکن اہل مغرب نے عورت کویہ باورکرانے کی کوشش کی کہ عورت مردوں سے کم نہیں، عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کا م کرنا چاہیے،عورت مردوں جیسی ہے،پردہ اور حجاب عورت کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑاحائل ہے، گھروں کی چہاردیواری عورت کے لیے قیدخانہ ہے۔عورت بھی کماکر آزادانہ زندگی گذارسکتی ہے لیکن اس نعرے کا مقصداس کے پس پردہ عزائم کی تکمیل تھی،مغرب میں خاندانی نظام کے بکھراو کی وجہ سے معاشرتی اقدار برباد ہوچکی تھیں ،عورتوں اور مردوں کا باہمی میل جول بڑھنے لگاتھامعیشت میں چارچاند لگانے کے لیے عورتوں کوسامنے لانے سے فائد ہ کی توقع زیادہ تھی اور ان سب سے زیادہ یہ تھی کی کسی طرح اس ماحول میں عورتوں اور مردوں کے اختلاط سے پیداشدہ جذبات کی تسکین دیں لہذاضرورت تھی کہ عورتوں کوکسی حسین نعرے سے پھانساجائے،چناں چہ انھوں نے آزادی نسواں کا نعرہ لگایااور عورتوں کو ان کے نام نہاد حقو ق سمجھائے۔عورت بے چاری معصوم ذات، بھولی مخلوق،اس کو یہ نعرے بہت پسندآئے اور اس نے آو دیکھا نہ تاو اورزندگی کے میدان میں کود پڑی،اپنی آزادی اور حقو ق کے لیے چیخنے لگی ،شرم وحیاکی چادر کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے اس نے اسے اتارپھینکا،حالانکہ وہ ترقی کرسکتی تھی اور پردہ میں رہتے ہوئے بھی کرسکتی تھی، اس کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے لیے دوپٹے کو سرمیں نہیں گلے میں ڈال کر چلناضروری ہے بل کہ اس کو اتارپھینکناہی بہترہے۔وہ عورت جس کاحق تھاکہ وہ شوہرکی فرمانبردای کرتی وہ شوہر سے چیخ چیخ کر بولنے کو اپناحق سمجھنے لگی،بالآخر عورت خودسری کی آخری دہلیز پر پہونچ گئی۔عورت کے ذمے کے کام دہرے ہوگئے باہر بھی وہ کام کرے اور گھریلوکام بھی اس کے ذمے میں باقی رہے۔

سوال یہ ہے کہ مغرب عورت کی آزادی کے اس نعرے اور اس کو مقام دینے میں کتناکامیاب ہوا؟ ایک طرف ریستورانوں ،بارہوٹلوں اور کلبوں میں نیم برہنہ اداکاری کو’اسٹیٹس‘ کے خوشنما غلاف کی شکل میں تہذیب بد کا نوآغاز کیا،دوسری طرف بچوں کو گھر میں تعلیم وتربیت سے اور خاندانی نظام سے محروم کرکے ،خود غرض اور غیرمربوط نظام معیشت وحیات کی بنیاد ڈالی۔جس کی وجہ سے جو تعلیم بچوں کو ماں کی گود میں ملنی چاہئے تھی وہ اسکولوں میں اخلاقی تعلیم کے نام سے ملنے لگی اور ظاہر ہے کہ اس تعلیم کا حال کیاہوگاجوغیرفطری ہو۔المیہ یہ ہے کہ آج سائنس اور ٹکنالوجی کی بدولت انسانیت ترقی کی اعلی مدارج طے کرتی جارہی ہے کائنات کی تسخیر کی پوری کوشش جاری ہے لیکن زمینی زندگی حالت کرب واضطراب میں ہے۔مردبے روزگاری کی مارجھیل رہے ہیں تو خواتین میدان حیات میں زورآزمائی میں سرگرداں ہیں۔

عورت کا سب سے بڑا حق محبت اور عزت ہے،مغرب نے کہا نہیں!آزادی اور نوکری ہے نتیجہ اولڈایج ہومز،سیکس مارکیٹ اورگھریلوتشد د،بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح اور اوپن میریجزکی صورت میں ظاہرہوا۔آج عورت عزت اور محبت دونوں سے یکسرمحروم ہے۔عورتوں کو بازا میں لانے کا جو سب سے بڑا نقصان ہوا وہ یہ ہواکہ عورت بے عزت ہوگئی ،فیشن کے نام پرشرافت کاآنچل نوچ کر پھینک دیا گیا،اس کو ٹی وی اسکرینوں اورفلموں میں گانے ،لہرانے اور تھرتھرانے کے لیے کام دیے گئے،شاپنگ سنٹرز وغیرہ میں اسے استقبال کے لیے رکھاگیا،لب سڑک قد آدم اشتہارات میں دعوت نظارہ بنی اور اس طرح وہ پریشان ہوگئی ، جس قیمتی حسن کو اسے چھپاکے رکھناتھا اس نے اسے بے پردہ کردیااور لوگوں کی ہوس کا شکارہوگئی۔

ان سب کا جونتیجہ ظاہر ہوا وہ یہ ہے کہ عورتوں کی عزتیں اب محفو ظ نہیں رہیں، دہلی کے اند رپیش آمدہ ریپ اور قتل کا کیس اس کا بین ثبوت ہے ،ہر آئے دن حواکی بیٹی کی عزت سربازار نیلام کی جارہی ہے ،لیکن ان کے حقو ق کی دہائی دینے والے اب تک اس پر لگا م لگانے میں نہ صرف ناکام بل کہ بری طرح ناکام ہیں۔بدبختی یہ ہے کہ برائی کے ذرائع کو فروغ دے کریہ کوشش کی جارہی ہے کہ برائی وجود پذ یر نہ ہو،آج دنیاکی ہرعورت اپنے آپ کو خوبصور ت بناکرپیش کرنے کے فراق میں ازحد گذ رجانے پر تلی ہوئی ہے۔ہر شہر،ہرگلی ہرمحلے میں عورت چور اچکوں کی نظروں میں اچھابننے کے لیے بنتی اور سنورتی ہے اور پھر اس کے ساتھ کوئی حادثہ ہوجاتاہے تو پھرواویلابپاکیاجاتا ہے اور بس ۔

اس عالمی یوم خواتین پر عورتوں کو چاہئے کہ وہ خود کا احتساب کریں اور لوگوں کی منصوبہ بندسازش کو سمجھیں ورنہ یہ عالمی دن آتا رہے گااور انھیں ان کے اصلی حقوق نسائیت اور عزت ومحبت سے ہمیشہ کے لیے محرم کردے گا ۔

بقول اقبال
پہلے ہی خفامجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند
اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش