جن کی دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں!

مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
امیر: عالمی اتحاد اھل السنة والجماعة

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو امتحان کی اور آخرت کو جزاء و سزا کی جگہ بنایا ہے ، یہاں آزمائش کے لیے خوشیاں بھی عطاء کی ہیں کون ان کو میری نعمت اور احسان سمجھ کر شکر ادا کرتا ہے اور غم بھی پیدا فرمائے ہیں کون ان کو اپنی غلطی سمجھ کر میری طرف رجوع کرتا ہے؟ انسان کو دنیا میں یہ دونوں چیزیں نصیب ہوتی ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ صرف اس کو غم ہی یاد رہتے ہیں ، پریشانی کے آزمائشی لمحات میں اپنے رب سے گلے شکوے، شکایتیں اور ناشکری ہی کرتا ہے ،اس ذات کی طرف سے ملنے والی خوشیوں اور نعمتوں کو سرے سے بھلا دیتا ہے بلکہ ان کو اللہ کا محض فضل ، احسان اور کرم سمجھنے کے بجائے اپنا ”کمال “سمجھتا ہے۔ اے کاش! ہمیں اپنی ان دونوں غلطیوں کا احساس ہو سکے، خوشیوں کو اس کی عطاء سمجھیں اور شکر ادا کریں ، مصائب اور پریشانیوں کو بھی اللہ کا انعام سمجھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جس مسلمان کو دنیاوی آزمائشوں میں مبتلا کرتے ہیں تو اس کی دعا وٴں کو اپنی بارگاہ میں قبولیت سے نوازتے ہیں، یہ اس ذات کا کرم ،بے پناہ کرم اور محض کرم ہی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہمارے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ہم اللہ کی مخلوق ،اس پر ایمان لانے اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔ وہ ذات ہم سے پیار کرتی ہے ،دنیا میں خوشیاں عطاء کر کے آخرت کی حقیقی خوشیوں کا احساس دلاتی ہے کہ دیکھو دنیا کی خوشیاں عارضی ہیں ان کے ختم ہونے کا دھڑکا سا لگا رہتا ہے، چھن جانے کا خوف دامن گیر رہتا ہے، جبکہ آخرت کی خوشیاں مستقل ہیں، ان کے ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کوئی چھین نہیں سکتا ہے۔ اسی طرح وہ ذات دنیاوی پریشانیاں دے کر آخرت کی حقیقی پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کا موقع دیتی ہے کہ دیکھو تم دنیا کی پریشانیوں کو جو وقتی اور عارضی ہیں ان کو برداشت نہیں کرسکتے تو آخرت کی لمبی پریشانیاں کیسے برداشت کر سکو گے؟اللہ تعالیٰ ہمیں جھنجوڑنے اور غفلت سے دور کرنے کے لیے تنبیہ کے طور پر چند پریشانیوں سے دوچار کرتے ہیں تاکہ یہ بندے آخرت کی بڑی اور لمبی پریشانیوں سے بچنے کی وہ تدابیر اختیار کر سکیں جو میرے احکامات اور میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں موجود ہیں بلکہ قرآن و سنت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عین اس وقت بھی جب کسی مسلمان پر مصائب و مشکلات نازل ہو رہے ہوتے ہیں اس وقت بھی وہ اللہ کے کرم کے سایہ میں ہوتا ہے اگر وہ کسی گناہ کی وجہ سے اس پر نازل ہو رہی ہیں تو سنبھلنے کا موقع مل رہا ہوتا ہے بلکہ اس شخص کو اس وقت اللہ تعالیٰ ایک بہت بڑی نعمت عطاء فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کی دعا ء کو قبول فرماتے ہیں۔ذیل میں ہم چند ایسے اشخاص کا تذکرہ کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی پریشانی سے دوچار کر کے ان کی دعاوٴں کو قبولیت کا شرف عطاء فرماتے ہیں۔
بے بس کی دعاء :
انسان کی زندگی میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ وہ بالکل بے بس ہوجاتا ہے ، یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب اللہ کریم اس کی دعاء کو قبول فرماتے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ جس وقت خدا انسان کو نوازنا چاہتا ہے عین اسی وقت یہ اس ذات کے گلے شکوے شروع کر دیتا ہے۔اس لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ ایسے وقت کو خدا کی ناشکری میں ضائع کرنے کے بجائے دعا ئیں مانگنے میں خرچ کیا جائے ۔ قرآن کریم میں ہے :
ترجمہ: (بھلا اللہ کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے ؟جو) بے کس و بے بس انسان کی دعاء کو قبول اور اس سے حالات کی سختی کو دور فرماتا ہے۔ (سورة النمل آیت نمبر 62)
مریض کی دعاء:
انسان کی زندگی میں کبھی صحت غالب رہتی ہے اور کبھی مرض غلبہ پا لیتا ہے لیکن اللہ کا کرم دیکھیے کہ جب انسان کسی مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعاء کو قبول فرماتا ہے مرض اس کے گناہوں کا کفارہ اور بلندی درجات کا ذریعہ بن جاتا ہے لیکن افسوس اس موقع پر بھی انسان اپنے اللہ کو بھول جاتا ہے اور جس زبان کو دعا ء و مناجات کی عطر بیزیوں سے مہکنا چاہیے تھا وہی زبان ناشکری کی گندگی میں ملوث ہو جاتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اللہ سے صحت کی دعاء مانگنی چاہیے لیکن اگر مرض آ بھی جائے تو اس بات کا خیال کرنا چاہیے کہ ایسے انسان کی دعا ء اللہ جلد قبول فرماتے ہیں۔ علاج کے ساتھ ساتھ دعاوٴں کا بھرپور اہتمام کرنا چاہیے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریض جب تک حالت مرض میں رہتا ہے تو اس کی دعاء رد نہیں کی جاتی۔ (شعب الایمان للبیہقی، فصل فی ذکر ما فی الاوجاع والامراض، حدیث نمبر 9555)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریضوں کی عیادت کیا کرو اور ان سے اپنے لیے دعاء کی درخواست کیا کرو کیونکہ مریض کی دعاء قبول ہوتی ہے۔ (الدعاء للطبرانی،باب ماجاء فی دعاء المریض لعوادہ، حدیث نمبر 1136)
فائدہ: اس سے معلوم ہوا کہ مریض کو اپنے لیے بھی دعاء کرنی چاہیے اور عیادت کے لیے آنے والوں کو بھی مریض سے دعا ء کی درخواست کرنی چاہیے۔
مسافر کی دعاء :
انسان کا جسم راحت کا خواہش مند ہوتا ہے لیکن حالت سفر میں اسے صعوبت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اللہ کریم کا کرم دیکھیے کہ انسان پر سفر کی ہلکی سے پریشانی آتی ہے تو اللہ اس پر اپنا کرم یہ فرماتے ہیں کہ اس کی دعاء کو جلد قبول فرما لیتے ہیں۔ ہم لوگ آئے دن سفر کرتے ہیں ، افسوس کہ سفر میں غیر شرعی کاموں میں لگے رہتے ہیں: فلمیں ، ڈرامے ، گانے باجے دیکھنا اور سننا ،موبائل سے کھیلتے رہنا ، فضول قسم کی باتوں میں لگے رہنا بالخصوص خواتین جب سفر کرتی ہیں تو دوسروں کے گلے شکوے کرتی رہتی ہیں حالانکہ یہ وقت اللہ سے مانگنے کا ہوتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دعائیں قبول ہوتی ہیں(ان میں سے ایک) مسافر کی دعا ء ہے۔(جامع الترمذی، باب ما ذکر فی دعوة المسافر، حدیث نمبر3370)
باپ کی دعاء:
اولاد اللہ کی نعمت ہے، اللہ جسے یہ نعمت عطاء فرماتا ہے تو اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھا دیتا ہے، اولاد کی پرورش، رہائش، خوراک، تعلیم، تربیت اخلاق، ادب و احترام اور دینی احکامات پر عمل کی پابندی کرانا یہ والدین پر اولاد کے بنیادی حقوق ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان حقوق کی ادائیگی میں بسا اوقات انسان کو پریشانیاں بھی لاحق ہوتی ہیں، ایسے وقت میں ایک باپ کی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ لیکن اللہ کریم کا کرم دیکھیے اولاد کی نعمت بھی عطا فرماتے ہیں ان کے حقوق کی ادائیگی کے لیے کوئی پریشانی لاحق ہو تو اللہ تعالی اولاد کے حق میں دعاء کو جلد قبول فرماتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین طرح کے لوگوں کی دعائیں رد نہیں کی جاتی(ان میں سے ایک) والد کی دعا ء اپنی اولاد کے لیے ۔(جامع الترمذی، باب ما ذکر فی دعوة المسافر، حدیث نمبر3370)
انصاف کرنے والے حاکم کی دعاء:
جس کو کسی قوم پر حاکم بنا دیا جائے ، تو اس قوم کو انصاف فراہم کرنا حاکم کے ذمہ ہوتا ہے ، معاشرے میں جرائم کی کثرت اور مجرموں کا طاقتور ہونا ایک زمینی حقیقت ہے، ایسے میں انصاف کی فراہمی سب سے مشکل کام ہوتا ہے لیکن جس شخص کو اللہ تعالیٰ اس مشکل مرحلے سے گزارتا ہے تو اس کو دنیا میں یہ انعام عطاء فرماتا ہے کہ ایسے شخص کی دعاء کو جلد قبول فرماتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین طرح کے لوگوں کی دعائیں رد نہیں کی جاتی(ان میں سے ایک) امام عادل کی دعاء ہے۔(سنن ابن ماجہ، باب فی الصائم لا ترد دعوتہ ، حدیث نمبر 1752)
ذکر کرنے والے کی دعاء:
اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بے پناہ فضائل و مناقب اور اس کے فوائد و ثمرات ہیں ۔ ایسا شخص جو کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس کی دعاء بھی اللہ جلد قبول فرماتے ہیں، یہ مستجاب الدعوات بننے کا نسخہ اکسیر ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین لوگوں کی دعاء اللہ تعالیٰ رد نہیں فرماتے (ان میں سے ایک) کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنے والے کی دعا ء بھی ہے ۔(الدعاء للطبرانی، باب دعاء المظلوم، حدیث نمبر 1316)
غازی ، حاجی اور عمرہ کرنے والے کی دعاء:
میدان کارزار میں اعلائے کلمة اللہ کے لیے جذبہ سرفروشی کے ساتھ سربکف سپاہی مشکل حالات کا سامنا کر رہا ہوتا ہے، ان مشکلات پر اللہ تعالیٰ یہ انعام عطاء فرماتے ہیں کہ اللہ ایسے شخص کی دعاء کوقبول فرماتے ہیں۔ حج اور عمرہ کرنے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ یہ سعادت نصیب فرماتے ہیں کہ ان کی دعاوٴں کو قبول فرماتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غازی فی سبیل اللہ ، حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں ان کو اللہ نے پکارا تو انہوں نے لبیک کہا وہ اللہ سے دعاء مانگتے ہیں تو اللہ ان کو عطاء فرماتے ہیں۔(سنن ابن ماجہ، باب فی فضل دعاء الحاج، حدیث نمبر 2884)
روزہ دار کی دعاء :
روزے میں صبح صادق سے غروب آفتاب بھوک ،پیاس اور جائز جنسی تعلقات سے رکنا ہوتا ہے اگرچہ یہ کچھ وقت کے لیے ہوتا ہے صبح سحری میں بھی کھانا وغیرہ کی اجازت ہوتی ہے اور شام کو افطاری میں بھی کھانے پینے کا حکم ہے۔ اس تھوڑے سے وقت میں اللہ کو راضی کرنے اور اس کا حکم ماننے کے لیے جو برداشت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ کھانے پینے کی تمام چیزیں سامنے رکھی ہوئی ہیں لیکن بندہ کچھ نہیں کھا رہا اس پر اللہ تعالیٰ دنیا میں ہی یہ انعام عطاء فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کی دعاء کوقبول فرماتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کی دعاء رد نہیں کی جاتی (ان میں سے) ایک روزہ دار ہے یہاں تک کہ وہ افطار کر لے۔(سنن ابن ماجہ، باب فی الصائم لا ترد دعوتہ ، حدیث نمبر 1752)
مسلمان بھائی کے لیے عدم موجودگی میں دعاء:
کسی کے سامنے اس کی اچھائی بیان کرنا بھی اچھی بات ہے لیکن اس میں کبھی دنیاوی اغراض ومقاصد کو دخل ہوتا ہے اور جو دعاء اپنے مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں کی جائے اس میں یہ شائبہ بھی نہیں ہوتا اس اخلاص کی وجہ سے اللہ تعالی ایسے مسلمان کی دعاء کو قبول فرماتے ہیں جو اپنے ایک مسلمان بھائی کیلیے اس کی عدم موجودگی میں کرے۔
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لیے دعاء کرتا ہے تو ایک مقرر فرشتہ اس کے جواب میں کہتا ہے کہ جو تو نے اپنے بھائی کے لیے مانگا ہے اللہ تجھے بھی وہی عطاء کرے۔ (صحیح مسلم، باب فضل الدعاء للمسلمین بظہر الغیب، حدیث نمبر 7027)
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں دعاء مانگنے والا بنائے اور ہماری دعاوٴں کو قبول بھی فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔

عارف باللہ حضرت مولانا مفتی عبدالقیوم رائے پوری بھ ی چل بسے

مفتی محمد ساجد کھجناوری
مدرس جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ

۱۳/ فروری ۲۰۱۸ء بروز منگل کی علی الصبح آفتابِ دنیا کے نمودار ہونے سے پیشتر ہی عارف باللہ حضرت مولانا مفتی عبدالقیوم رائے پوری کی صورت میں وہ ٹمٹما تا چراغِ سحری بھی آخر ش گل ہوگیا جس کی لَو کسی قیامت سے کم نہ تھی، یقین ومعرفت اور اصلاح وتربیت کا یہ ایک ایسا گوہرِ شب چراغ تھا جس کی ضو فشانی سے تزکیہ وتصوف کی کتنی ہی بستیاں روشن تھیں، اخلاق وکردار اور علم وذکر کی ایسی شمع جہاں دینِ محمدی کے پروانے فی کل احیان جمع رہتے ، وہ ایسی دکانِ معرفت کے امین تھے جہاں روحانی مریضوں کیلئے دوائے دل کے نسخے تجویز کئے جاتے ، جہاں ماسوی اللہ سے کچھ بھی نہ ہونے کا عقیدہ اور حقیقی ذات باری سے سب کچھ ہونے کا یقین شرک وبدعت زدہ ذہنوں میں راسخ کیا جاتا، انہیں شرح وبست کے ساتھ بعثتِ انبیاء کے مقاصد سے روشناس اور فی سبیل اللہ کے حقیقی وتوسیعی مفہوم سے بھی مطلع ہونے کی تلقین کی جاتی، الغرض ہر کسی کو ا س کے حسبِ حال صلاح وصالحیت کی طرف سبقت کرنے کی ترغیب دی جاتی کہ یہی اہل دل بزرگوں کا طریق رہا ہے #
دیتے ہیں بادہ ظرف بھی قدح خوار دیکھ کر
حضرت مفتی عبدالقیوم رائے پوری اپنی سیرت وصورت ، علم ومعرفت کی جامعیت اور کارِ نبوت پر عامل رہنے کی حیثیت سے اُن عالی قدر قدسی صفات مشائخِ رائے پور کی آخری یاد گار تھے جنہوں نے پورے بر صغیر میں خصوصاً اور جنوبی ایشیا میں عموماً تعمیر انسانیت، تہذیب نفوس اور جادہٴ مستقیم پر ثابت قدم رہنے کی طرح ڈالی ، اتباعِ سنت وشریعت کا عمومی ذوق پیدا کرنے کے ساتھ مستیٴ توحید کے میخانے آباد کئے جہاں شام وسحر عشقِ الٰہی کے جام ومینا لنڈھائے جاتے، سالکین وطالبین آتے اور بقدر ظرف استفادہ کرکے کامران ہوتے ۔
ابھی تک صرف کتابوں میں پڑھا اور اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ اللہ کے عاشقین اس کی رضا کا پروانہ ملنے کے بعد عام انسانوں کیلئے بھی محبوب بن جاتے ہیں۔ من کان للّٰہ کان اللہ لہ کی تفسیر ۱۳/ فروری ۲۰۱۸ء کو اس وقت سازِ دل کو چھیڑ رہی تھی جب لاکھوں انسان جن میں بچے ، جوان اور بوڑھے بھی تھے نماز جنازہ میں شرکت کیلئے افتاں وخیزاں خانقاہ رائے پور کی طرف رواں دواں تھے تاکہ وہ یہاں کے آخری تاج دار کو آخری سلامی دے سکیں ، اللہ اللہ عاشق کا جنازہ تھا بڑی دھوم سے نکلا، ہر طرف سر ہی سر نظر آتے تھے، تمام چھوٹے بڑے مدارس وجامعات اور دینی وتبلیغی مراکز کے ذمے داران ووابستگان رشک بھرے انداز میں یہاں جمع تھے۔ عالم عربی کی ممتاز دینی شخصیت شیخ محمد یوسف القرضاوی نے کہیں لکھا ہے کہ بعض جنازے استصواب رائے کی حیثیت رکھتے ہیں جو میت کے عنداللہ مقبول ہونے کی شہادت بن جاتے ہیں، حضرت امام احمد ابن حنبل علیہ الرحمہ کے جنازہ کی تو اس بابت مثال دی جاتی ہے جو تاریخ کے سینہ پر ہمیشہ محفوظ رہے گی ، حضرت مفتی صاحب کے جنازہ میں لکھو کھا افراد کی شرکت نے ماضی قریب کے سبھی ریکارڈ توڑ دئے ، ذمے دار اور محتاط شخصیتوں کی زبانی بھی یہی سنا گیا کہ مشاہدہ کی دنیا میں اتنا بڑا مجمع کسی جنازہ میں نہیں دیکھا گیا ، بلا شبہ یہ اژدحام کبیر خانقاہِ رائے پور کی ہر دل عزیزی اور مرحوم والا صفات کی عنداللہ محبوبیت کا نتیجہ تھا، اللہ آپ کے درجات بلند تر فرمائے آمین۔
مفتی عبدالقیوم رائے پوری نے یکم جنوری ۱۹۳۳ء کو حافظ راوٴ محمد ایوب کے یہاں آنکھیں کھولیں جو قطب زماں حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری کی مجالسِ ذکرواصلاح کے حاضر باش اور دہرادون میں امامت کے فرائض سے وابستہ تھے، عہد طفولیت گھر پر ہی گذرا یہیں مدرسہ فیض ہدایت میں نورانی قاعدہ سے آپ کی بسم اللہ ہوئی ، مکتبی تعلیم اور حفظ وغیرہ اپنے والد کی نگرانی میں مکمل فرمائی ، بعدازا ں جامعہ اسلامیہ ریڑھی میں عربی درجات اور درس نظامی کے بعض زینے طے کرکے جامعہ مظاہر علوم سہارنپور میں داخل ہوئے، جہاں چند سال رہ کر آپ نے ۱۹۵۶ء میں سند فراغ پائی ، اس زمانہ میں دورہٴ حدیث کے اندر کل ۴۷/ طلبہ تھے ، آپ نے امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کرکے اکابر مظاہر علوم سے خصوصی انعام بھی حاصل کیا ، دریں اثنا فقہ وفتاویٰ کی نکتہ داں شخصیت حضرت مولانا مفتی سعید احمد اجراڑوی سے یہیں افتاء کی تکمیل وتمرین کی۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی اور فقیہ الاسلام حضرت مفتی مظفرحسین قدس سرہ آپ کی نیک نہادی اوررائے پور سے انتساب کی وجہ سے آپ کے بڑے قدر دان تھے بلکہ شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی تو آپ کو اسی وقت پیار میں حضرت رائے پوری کہہ کر مخاطب ہوتے تھے۔
مظاہر علوم سے فاتحہٴ فراغ پڑھنے کے بعد برائے تدریس آپ خادم العلوم باغوں والی چلے گئے جہاں آپ نے قدوری، نورالایضاح ، کنز الدقائق ، شرح وقایہ ، علم الصیغہ اور کافیہ کی مثالی تدریس کا وظیفہ نبھایا ، اس وقت آپ کی عمر محض ۲۶/ سال تھی ، لیکن تقویٰ وپاک بازی جیسے اوصاف پہلے دن سے خمیر میں شامل تھے، مزید برآں صالح والدین کی تربیت وتاثیر اور رائے پور کے اس وقت کے روحانی اثرات آپ پر سایہ فگن ہوچلے تھے جو گردش روز وشب کے ساتھ ترقی پذیر تھے ، اسی لئے نگاہ شناس عارفین نے بھی آپ کے اندر آثارِ ولایت کو بخوبی تاڑ لیا تھا ، مظاہر علوم کے زمانہٴ طالب علمی میں آپ کا اصلاحی تعلق اگرچہ جنیدِ زماں حضرت مولانا شاہ محمد اسعد اللہ رام پوری سے قائم ہوگیاتھا، لیکن یہ سوزش عشق مسلسل بے چین کئے رکھتی تاآں کہ قطب دوراں حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری ، مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابو الحسن علی میاںاور دوسرے بزرگوں نے رائے پور کی نسبت کو دوسروں تک منتقل کرنے کا آپ کو مجاز بنایا ، حضرت شاہ صاحب کی کیمیا اثر نظر آپ پر بچپن ہی سے پڑی ہوئی تھی ، چنانچہ جس سال حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری نے رمضان منصوری میں گذارنے کا منصوبہ بنایا تو تراویح پڑھانے اور اس میں قرآن سنانے کا شرف مفتی عبدالقیوم ہی کو بخشا ، جبکہ سماعتِ قرآن کیلئے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اور فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی قدس اللہ اسرارہما کو مامور فرمایا تھا، یہاں کے ریاضات ومجاہدات اور ذکر اللہ کی ضربوں نے آپ کے اندر ون پر کیا نقوش ثبت کئے ہوں گے اسے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے، مظاہر علوم کے اہل انتظام وکبار اساتذہ اپنے اس ہونہار فاضل کی علمی استعداد تام سے چونکہ پہلے ہی واقف تھے جبکہ مزید شہرت ان کے ابتدائی تدریسی تجربات کی نیک نامی سے ہوگئی تھی ، جیسے ہی آپ نے باغونوالی کو خیر باد کہا مظاہرعلوم کے دیوار ودر آپ کے منتظر تھے ، چنانچہ دسمبر ۱۹۶۲ء میں ناقلِ فتاویٰ کی حیثیت سے آپ کا تقرر مظاہر علوم میں کرلیا گیا ، فقہ وفتاویٰ میں آپ نہایت متصلب اور زمانہ شناس واقع ہوئے تھے، فقہ کی جزئیات وکلیات کا استحضار رکھنے کے ساتھ مستفتی کے ظروف واحوال اور مقتضیات رخصت وعزیمت سے اغماض ان کا شیوہ نہ تھا، مع ہذا اتباع نفس اورشائبہٴ تلفیق کو ان کے یہاں گذرنہ تھا ، فتاویٰ نویسی کے ساتھ اس کی تدریس بھی حضرت مفتی صاحب کے ذمے سالہا سال رہی ، وہ اعلیٰ درجہ کے کامیاب مدرس اور مقبول استاذ تھے، آپ ہی سے مظاہر علوم میں ہدایہ پڑھ چکے جامعہ اشرف العلوم رشیدی کے شیخ الحدیث حضرت مولانا وسیم احمد سنسار پوری بتاتے ہیں کہ حضرت مفتی صاحب کی تدریس وتفہیم کا نوں کو بھلی معلوم ہوتی تھی وہ دھیمی مگر رسیلی آواز میں گویا ہوتے لیکن اس کا جادو ہر قریب وبعید کے سر چڑھ کر بولتا تھا۔
آپ کی ذات گرامی مجموعہٴ حسنات تھی ، حق کی حمایت اور ہلٹربازیوں کی ناروا طرف داری میں وہ بے حد حساس واقع ہوئے تھے ، جب مظاہر علوم میں سوسائیٹی رجسٹریشن اور وقف ایکٹ کا معرکة الآراء بحران در آیا تو اپنی سادگی وبے نفسی اور فریق نہ بننے والی طبیعت سے پریشان ومنقبض سے رہنے لگے تھے، احقاقِ حق کی سنت پر عمل کرنے کے باوجود بالآخر انہوں نے اس سنامی طوفان کے در آنے سے پہلے ہی مظاہر علوم سے علیحدگی اختیار کرلی جس نے مظاہرعلوم کو دو لخت کردیا تھا ، مظاہر علوم کی ۲۲/ سالہ تدریسی کامیاب زندگی کے بعد بالآخر ۱۹۸۵ء میں آپ اسی خانقاہ عالیہ رائے پور میں مسند نشیں ہوگئے جس کے انتظامی امور کی دیکھ ریکھ اس سے پیشتر ہی آپ کو حاصل تھی، حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری کے پاکستان منتقل ہونے کے بعد روح وروحانیت کی فضا ماند پڑرہی تھی لیکن اس مرشدِ کامل نے یقین ومعرفت کے ایسے چراغ جلائے کہ ایک مرتبہ پھر خدامستوں کو یہاں قرار میسّرآنے لگا،فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کے خلیفہٴ باصفا اور خانقاہ رائے پور کے مرشد اول حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری نے شریعت وطریقت کے سنگم کا جو رول ماڈل مخلصینِ امت کو دیا تھا حضرت مفتی صاحب نے اسی کے تعارف وابلاغ پر اپنی حیات طیبہ تج وفنا کردی اور اپنی مستجاب خدمات کا صلہ پانے کیلئے اللہ کے دربار عالی میں پہنچ گئے، تغمدہ اللہ بغفرانہ وادخلہ فسیح جناتہ۔ اللہ ان کے نسبی وروحانی وارثین کو صبر جمیل کی توفیق دے اور اس چمنستانِ معرفت ویقین کو تاابد شاداب رکھے آمین۔
آمین آمین لا ارضی بواحدة حتی اضیف الیہا الف آمینا

غلط فہمیوں کا ازالہ: حسام الحرمین کے سلسلے میں ایک سوال کا جواب

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی
سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند

موضوع سخن
حضرات اکابر دیوبند کی زریں تاریخ شاہد عدل ہے کہ ان کا مقصد حیات، دین صحیح کی تفہیم و تشریح و اصلاح امت رہا ہے جس کے لیے ان حضرات نے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں فرمایا، اور بفضلہ تعالیٰ ان کے مخلصانہ مجاہدات کی برکات سے نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں مسلمان عقائد حقہ پر قائم ہیں اور اپنے اسلامی تشخص کی حفاظت میں کوشاں رہتے ہیں۔
مگر سوئے اتفاق کہ مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی اور ان کے متبعین نے عرصہٴ دراز سے اکابر دیوبند کی ان خدمات پر پانی پھیرنے کے لیے مخالفانہ پروپیگنڈہ کررکھا ہے، حتی کہ ان کی محققانہ تصانیف وفتاویٰ کی عبارتوں میں کتربیونت کرکے اور اپنی طرف سے ان کے معانی و مطالب نکال کرکے اکابر دیوبند کی تکفیر کو اپنا محبوب مشغلہ بنا رکھا ہے اسی طرح کی ایک مذموم کوشش مولانا احمد رضا خاں صاحب نے ۱۳۲۴ھ میں حسام الحرمین کتاب لکھ کی کی تھی۔ اور اس میں خاص طور پر حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی (م ۱۲۹۷ھ) امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ (م ۱۳۲۳ھ) اورحضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری قدس سرہ (م۱۳۴۶ھ) کو نشانہ بنایا تھا اور عرب علماء کو مغالطہ دیکر کفر کے فتاویٰ حاصل کیے تھے۔
علمائے دیوبند کی جانب سے اکابر رحمہم اللہ کے دفاع میں ان مغالطُوں کے ازالوں کی بارہا کوشش کی جاچکی ہے۔زیر نظر رسالہ بھی اسی سلسلہ کی ایک قیمتی کڑی ہے اس رسالہ میں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند نے انتہائی سنجیدہ وہمدردانہ انداز میں غلط فہمیوں کے ازالہ کی بھرپور کوشش فرمائی ہے، جو دارالافتاء دارالعلوم دیوبند میں آئے ہوئے ایک استفتاء کے جواب میں حضرت قاری صاحب رحمة اللہ علیہ نے تحریر فرمایا تھا۔ امید ہے کہ یہ رسالہ بریلوی طبقہ کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کو ختم کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔ واللّٰہ ولی التوفیق۔

سوالات
قبلہٴ محترم مفتی صاحب بعد ما وجب آنکہ :
مجھے میرے ایک مہربان دوست نے ایک کتاب دی ہے جس کا نام ”حسام الحرمین“ ہے ،میں نے اس کا مطالعہ کیا اس میں دارالعلوم کے کئی مشہور علماء کے متعلق ایسی باتیں لکھی ہیں جن کو پڑھ کر میرا خون کھولنے لگا اور میں سمجھا ہوں کہ جس کے دل میں ذراسا بھی ایمان ہوگا اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہوگی اس کا خون کھول ہی جائے گا اور اس کتاب پر بہت سے علمائے عرب کے دستخط ہیں، مکہ اور مدینہ کے علماء نے اس کی تائید کی ہے ،آپ برائے خدا میرے سوالا ت کے جوابات دیں اور یہ بھی بتائیں کہ اگر اس کتاب میں لکھی ہوئی باتیں غلط ہیں تو علمائے عرب نے اس پر دستخط کیوں کیے اور علمائے دیوبند کی طرف سے اس کتاب کا اب تک جواب کیوں نہیں دیا گیا، میں بے چینی سے جواب کا منتظر ہوں۔
سوالات حسب ذیل ہیں:
(۱) سوال:- ”حسام الحرمین“ میں ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی (چشتی نقشبندی سہروردی، قادری) نے تحذیر الناس میں لکھا ہے کہ سرکارِ دوعالم آخری نبی نہیں ہیں اور آپ کے زمانے کو سب انبیاء کے اخیر میں تسلیم کرنا عوام (ان پڑھ جاہلوں) کا خیال ہے۔
(۲) سوال:- حسام الحرمین میں ہے کہ ”حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی (چشتی نقشبندی، سہروردی، قادری) نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹ بولتا ہے۔
(۳) سوال :- ”حسام الحرمین“ میں ہے کہ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب انبیٹھوی (چشتی، نقشبندی، سہروردی، قادری) نے ”براہین قاطعہ“ میں لکھا ہے کہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم سے زیادہ شیطان کا علم ہے۔
(۴) سوال:- ”حسام الحرمین“ میں ہے کہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی (چشتی، نقشبندی، سہروردی، قادری) نے ”حفظ الایمان“ میں لکھا ہے کہ غیب کی باتوں کا جیسا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے ایسا تو ہربچہ اور ہرپاگل بلکہ ہرجانور کو اور ہر چارپائے کو حاصل ہے۔
ان علماء کی طرف یہ عقیدے منسوب کرکے ان پر ”حسام الحرمین“ میں کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے اور عرب علماء کے اس پر دستخط ہیں۔ کیا واقعی علمائے دیوبند نے ایسا لکھا ہے اور ان کا عقیدہ ہے اصل حقیقت واضح فرمادیں۔ فقط
عبدالحی پرتاپ گڑھی

جوابا ت
مکرم و محترم ! زید مجدکم
سلام مسنون، نیاز مشحون
گرامی نامہ دارالافتاء ہوتا ہوا بندہ کے پاس پہنچا ،مسائل چوں کہ مسلک سے متعلق تھے جن کی ذمہ داری اصولاً احقر پر عائد ہوتی ہے اس لیے مناسب سمجھا کہ اس کے بارے میں احقر ہی چند سطور لکھ کر خدمتِ گرامی میں ارسال کرے۔
جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی نے ۱۳۲۴ھ میں یہ کتاب ”حسام الحرمین“ لکھی اور اسے لے کر عرب تشریف لے گئے ،وہاں کے علماء کو ”تحذیر الناس، براہین قاطعہ، فتاویٰ رشیدیہ، حفظ الایمان“ کا نام لے کر بتایا کہ یہ فلاں فلاں حضرات کی تصانیف ہیں اور ان میں یہ مسائل درج ہیں (وہی جو آپ نے اس خط میں بطورِ سوال تحریر فرمائے ہیں) اور ان کی عبارات کو اپنے انداز میں بیان کرکے وہاں کے علما ء کو غلط مطلب سمجھایا اور یہ کہ ان کی وجہ سے ہندوستان میں گمراہی پھیل رہی ہے، اب ہند کے مسلمانوں کا سنبھلنا اور دین برحق پر قائم رہنا اس پر موقوف ہے کہ آپ بھی ان کی تکفیر کریں تاکہ پھر ان کی بات کوئی نہ سنے، علمائے عرب اردو نہیں جانتے تھے اس لیے اصل کتابوں کو جو اردو میں تھیں خود سمجھ نہیں سکتے تھے، جو کچھ مطلب مولانا نے بتایا اس پر اعتماد کیا اور دستخط کردئے اور اعلیٰ حضرت نے اس کتاب کو چھپواکر شائع کردیا جس سے زبردست فتنہ برپا ہوا۔ ہندوستان کے بعض علماء سے جب علمائے حرمین کی ملاقات ہوئی اور اس کتاب کا تذکرہ ہوا تو انھیں پتہ چلا کہ اعلیٰ حضرت بریلوی نے غلط مطلب بتلاکر اور بقول ان کے دھوکہ دے کر عبارات اور ان کے مفہوم میں خیانت کی اور علمائے دیوبند کی طرف ایسی باتیں عقیدہ کے طور پر منسوب کی ہیں، جو ان حضرات کے حاشیہٴ خیال میں بھی نہیں تھیں اس پر علمائے حرمین بہت نادم ہوئے کہ افسوس! دھوکہ دے کر ہم سے ایسے حضرات کے کفر پر دستخط کرائے جو بڑے محقق ہی نہیں بلکہ وقت کے اولیاء اللہ میں سے ہیں اور سلاسلِ اولیاء اللہ، چشتی، قادری، سہروردی، نقشبندی سے منسلک ہیں، صاحبِ ارشاد وتلقین ہیں اور ساتھ ہی پورے طور پر متبع سنت ہیں، اس کے بعد عرب سے ان مسائل کی تحقیق کے لیے مستقل سوالات آئے کہ کیا علمائے دیوبند اور ان حضرات نے ایسا لکھا ہے؟ اور آپ حضرات کا عقیدہ کیا ہے؟
ان کے جوابات یہاں سے عربی میں لکھ کر روانہ کیے گئے جن پر ہندوستان کے اونچے طبقہ کے چوبیس علماء کے دستخط ہیں، عرب پہنچنے کے بعد ان جوابات کو دیکھ کر ان کی تائید و تصدیق فرمائی اور مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، مصر، طرابلس، دمشق، بخارا، تونس، الجزائر، نابلس، وغیرہ کے چھیالیس علماء نے دستخط کیے جن میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، سب شریک ہیں اور ان میں سے ہرایک اپنے اپنے مسلک کے بلند پایہ مفتی اور بلند پایہ عالم ہیں، بعض خود حرم شریف کے اعلیٰ مدرسین بھی ہیں۔
ان سوالات و جوابات کے مجموعہ کا نام ”التّصدیقات لدفع التّلبیسات“ ہے، جن علمائے عرب نے ان جوابات کو دیکھا اور وہ پہلے ”حسام الحَرَمین“ پر ناواقفیت کی بناء پر دستخط کرچکے تھے انھوں نے اپنے دستخط سے رجوع کیا اور اعلان کیا کہ ہم کودھوکہ دے کر ”اعلیٰ حضرت“ بریلوی نے دستخط کرائے ،چوں کہ یہ کتاب ”حسام الحرمین“ ہندوستان آچکی تھی اور چھپ کر شائع ہوچکی تھی، اس لیے علمائے حرمین کا اپنے دستخط سے زبانی رجوع کرلینا کافی نہیں تھا اور نہ ہندوستان والوں کو عمومی طور پر اس کا علم ہوسکتا تھا ؛اس لیے ”علمائے مدینہ منورہ“ نے مستقل رسائل بھی اس ذیل میں تصنیف فرمائے ،ایک رسالہ کا نام ”غایة المعمول“ ہے، اس میں اعلیٰ حضرت بریلوی کی اور ان کے عقائد باطلہ کی پورے دلائل کے ساتھ زبردست تردید کی گئی ہے اور ان کی تلبیس کاری کا پردہ چاک کرکے حقیقتِ حال واضح کی گئی ہے۔ دوسرے رسالہ کا نام ”تثقیف الکلام“ ہے تیسرے رسالہ کا نام ”رجوع المذنبین علی روٴس الشیاطین“ ہے۔
عوام کے نفع کے لیے ”التصدیقات لدفع التّلبیسات“ کا مستقل اردو ترجمہ بھی شائع کردیا گیا ہے جس کا نام ”عقائد علمائے دیوبند“ ہے ؛ان تمام مسائل کی ان میں پوری وضاحت موجود ہے۔
اعلیٰ حضرت بریلوی نے ”حسام الحرمین“ پر کس طرح علمائے حرمین کے دستخط کرائے؟ نیز اس میں لکھے ہوئے اعتراضات کے جوابات کیا ہیں؟ اگر بالتفصیل مطلوب ہوں تو ”الشہاب الثّاقب علی المستشرق الکاذب“ کامطالعہ کرلیا جائے۔ اگر کسی کو یہ معلوم کرنا ہو کہ اکابر کی عبارات میں کس طرح خیانت و تحریف کی گئی ہے تو وہ ”السحاب المدرار فی توضیح الاخیار“ دیکھے، اس کتاب میں صاحبِ براہینِ قاطعہ، اور حفظ الایمان سے براہ راست ان کی عبارات کے متعلق خطوط لکھ کر دریافت کیا گیا اور خودان حضرات نے ان کے جوابات تحریر فرمائے یہ تمام خطوط مع جوابات اس میں شائع کردیے گئے ہیں۔
حفظ الایمان کی شرح خود اس کے مصنف حضرت مولانا محمد اشرف علی صاحب تھانوی رحمة اللہ علیہ ہی نے تحریر فرمائی اس کا نام ”بسط البنان“ ہے پھر ایک اور شرح تحریر فرمائی ہے جس کا نام ”توضیح البیان“ ہے پھر مزید ایک اور شرح تحریر فرمائی ہے جس کا نام ”تکمیل العرفان“ ہے۔
نیز اکابر دیوبند کی عبارات اور ان تمام مسائل سے متعلق ایک مستقل کتاب شائع کی جاچکی ہے جس کا نام ”الجنة لاہل السنة“ ہے، علاوہ ازیں اعلیٰ حضرت بریلوی اور حضرت تھانوی سے متعلق کئی کتابیں راہِ سنت، رضاخانی مذہب، اعلیٰ حضرت کا دین و مذہب، تکفیری افسانے وغیرہ شائع ہوچکی ہیں جن میں ان تمام مسائل سے متعلق شکوک و شبہات کے شافی جوابات اور نفسِ مسائل سے متعلق واضح بیانات موجود ہیں ،تعجب ہے کہ جناب کی نظر ان میں سے کسی ایک کتاب پر بھی نہیں پڑی جو کافی عرصہ سے منظر عام پر آئی ہوئی ہیں، جناب کے جس مہربان دوست نے آپ کو ”حسام الحرمین“ عنایت فرمائی ہے اگر وہ ان کتابوں کی نشاندہی فرمادیتے تو آپ کو ان سوالات کی زحمت نہ ہوتی اور جناب کے ذہن میں یہ خلجان نہ گزرتا اور خون کھولنے کی نوبت نہ آتی کہ علمائے دیوبند کی طرف سے اس کا کوئی جوابِ تردیدی نہیں دیا گیا اور ”حسام الحرمین“ میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ حرف بحرف صحیح ہے ۔بہرحال اگر یہ کتابیں جناب کی نظر سے نہیں گذریں تو میں ان کا خلاصہ عرض کیے دیتا ہوں تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی جناب کے سامنے آجائے اور آپ کو صحیح رائے قائم کرنے کا موقع ملے۔ جناب کے سوالات کے سلسلے میں حسبِ ذیل جوابات امید ہے کہ انشاء اللہ شافی اور کافی ثابت ہوں گے۔
(۱) جواب:
حضرت اقدس مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے ”تحذیر الناس“ میں مسئلہ ختم نبوت پر عالمانہ و حکیمانہ تقریر فرمائی جو تقریباً چالیس صفحات پر پھیلی ہوئی ہے، قرآن کریم میں خاتم النّبیین آیا ہے ؛اس کی تشریح کرتے ہوئے ختمِ نبوت کے تین درجے لکھے ہیں ایک ختم نبوت زمانی (جس کو عام طور پر سبھی جانتے ہیں) ،دوسرے ختم نبوت مکانی کہ اس کرہٴ زمین کے لحاظ سے بھی آپ ﷺخاتم ہیں کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتا۔ تیسرا ختم نبوت مرتبی کہ آپ ﷺذاتی کمالات کے لحاظ سے بھی خاتم ہیں کہ ان میں نہ صرف یہ کہ آپ ﷺ کا کوئی ہمسر نہیں بلکہ سارے انبیاء کی نبوت آپ کی نبوت کا فیض ہے۔
حضرت مولانا نے تینوں درجوں کے اعتبار سے حضرت نبی اکرم ﷺکو خاتم النّبیین ثابت کیا ہے یعنی آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور مرتبہ کے اعتبار سے بھی آپ ﷺ آخری نبی ہیں کہ اس زمین پر آپ ﷺنبی ہیں کہ یہ مرتبہٴ ختمِ نبوت اور کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا اور اس پر فقہی اور عقلی دلائل قائم فرمائے ہیں اور واضح کیا ہے کہ جو آپ کے آخری نبی ہونے کا انکار کرے وہ بلاشبہ اسلام سے خارج اور قطعی کافر ہے ؛اس لئے کہ قرآنِ عزیز کی آیت ”خاتم النبیین“ کا اور حدیث شریف ”لا نبیّ بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کا منکر ہے ،دراں حال کہ یہ حدیث معنیٰ کے اعتبار سے متواتر ہے اور اس پر اجماع ہے کہ جیسے کہ ظہر کی نماز فرض ہے اور اس کی چار رکعت کا ثبوت حدیث شریف سے ہے، جو معنیٰ کے اعتبار سے متواتر ہے، جس طرح اس کا منکر ہے وہ بھی کافر ہے ”تحذیر الناس“ بغور مطالعہ فرمائیں۔
اس دعوے پر جن حضرات نے اشکالات کئے ان کے جواب میں حضرت مولانا نے ایک دوسرا رسالہ بھی تحریر فرمایا جس کا نام ”مناظرہٴ عجیبہ“ ہے یہ رسالہ درحقیقت ”تحذیر الناس“ کے لئے بمنزلہ شرح کے ہے اس کے صفحہ ۳ پر حضرت فرماتے ہیں: ”حضرت خاتم المرسلین ﷺکی نبوتِ خاتمیت زمانی تو سب کے نزدیک مسلم ہے“۔ صفحہ ۳۷ پر یہ لکھا ہے کہ: ”خاتمیتِ زمانی کی میں نے تو توجیہ و تائید کی ہے (معاذ اللہ) تغلیط نہیں کی“۔
پھر اسی صفحہ پر چار سطر کے بعد صاف صاف خاتمیتِ مرتبی، خاتمیتِ زمانی، خاتمیتِ مکانی، تینوں کو حضرت رسول اکرم ﷺ کے لیے ثابت کیا ہے۔ صفحہ ۳۹ پر لکھا ہے کہ: ”خاتمیتِ زمانی اپنا دین و ایمان ہے“۔صفحہ ۵۰ پر لکھا ہے کہ: ”اس سے بھی بڑھ کر لیجیے (صفحہ نہم سطر دہم سے لے کر صفحہ یازدہم کی سطر ہفتم تک تحذیر الناس میں) وہ تقریر تحریر فرمائی ہے جس سے خاتمیت زمانی اور خاتمیت مکانی اور خاتمیت مرتبی تینوں مرتبے آیت خاتم النّبیین سے بدلالتِ مطابقی ثابت ہوجائیں“۔پھر اسی صفحہ پر لکھا ہے کہ : ”حاصل مطلب یہ ہے کہ خاتمیت زمانی سے (ہی نہیں کہ) مجھ کو انکار نہیں بلکہ یوں کہیے کہ منکروں کے لیے گنجائش انکار نہ چھوڑی“۔
ان تصریحات کے باوجود یہ کہنا کہ حضرت مولانا رحمہ اللہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین (آخری نبی) نہیں مانتے ؛کتنا صریح بہتان اور ظلمِ عظیم ہے اور اس بہتان کی بنیاد پر کفر کا فتویٰ دینا ظلم بر ظلم اور آخرت کے لحاظ سے انتہائی خطرناک ہے، جس کی فکر ”اعلیٰ حضرت“ کو سب سے زیادہ ہونی چاہیے تھی۔ آخر انھیں بھی تو حق تعالیٰ کے سامنے ایک دن پیش ہونا ہے اور اس کی جواب دہی فرمانی ہے، ان کی نظر سے حدیثِ نبوی کا یہ مضمون بھی تو گذرا ہوگا کہ جو شخص کسی کو کافر کہے اور وہ واقعةً کافر نہ ہو، یعنی شرعی دلائل سے اس کا کفر ثابت نہ ہوتو یہ کفر خود اسی پر لوٹ کر آتا ہے جس نے کافر کہا ہے، الفاظ حدیث یہ ہیں ”عن ابی ذر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یرمی رجل رجلا بالفسوق ولا یرمیہ بالکفر الا ارتدت علیہ ان لم یکم صاحبہ کذلک“ (رواہ البخاری، مشکوٰة شریف ص۴۱۱)
اور پھر ایسا بے بنیاد فتویٰ دینے کی وجہ سے جو مخلوق اس فتوے کو صحیح سمجھ کر گمراہ ہوگی اس کی ذمہ داری بھی آخر کار انھیں کے سر آتی ہے۔
حضرت اقدس مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ کی بلند پایہ شخصیت کا جہاں تک تعلق ہے سب جانتے ہیں کہ حضرت ممدوح حدیث شریف میں حضرت مولانا شاہ عبدالغنی مجددی محدث دہلوی کے شاگرد ہیں اور شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی کے دست مبارک پر بیعت پر چاروں خانوادوں( چشتی، قادری، نقشبندی، سہروردی) میں مجازِ طریقت ہیں۔ آپ نے اپنے شیخ کی رہنمائی میں گذشتہ صدی ۱۸۵۷ء میں انگریزوں سے جہاد فرمایا اور ا س کے بعد ہمیشہ دشمنانِ اسلام کے ساتھ قلم سے جہاد فرماتے رہے۔
اس دوران مشرق و مغرب میں آپ کا فیض پھیلا اوردارالعلوم دیوبند سے ہزارہا علماء، مشائخ طریقت، اربابِ تدریس و افتاء اور مجاہد پیدا ہوئے اور بالآخر قادیانی فرقہ نے جب ختم نبوت کا انکار کیا تو ان کے تلامذہ و متوسلین آگے بڑھے اور منکرین ختم نبوت کے ہرطرف سے راستے بند کیے۔
نیز آج بھی ہندو پاکستان میں ختم نبوت کے عنوان سے انھیں کی جماعت منکرین ختم نبوت، منکرین حدیث اور منکرین قرآن سے جنگ آزما ہے، پھر بھی حیرت ہے کہ وہ منکرین ختم نبوت کہے جائیں۔
۱۲۹۷ھ میں وفات پائی اور آج بھی اہل دل حضرات آپ کی قبر مبارک سے فیض حاصل کرتے ہیں اور خاص انشراح و سکون لے کر واپس ہوتے ہیں۔
(۲) جواب:
حضرت اقدس مولانا رشید احمد صاحب محدث گنگوہی قدس اللہ سرہ العزیز کے فتاویٰ تین حصوں میں چھپے ہوئے ہیں اور کئی بار چھپ چکے ہیں اور ان سب فتاویٰ کی تبویب کے بعد یکجا کرکے ”فتاویٰ رشیدیہ“ کے نام سے شائع کردیا گیا ہے، جناب ملاحظہ فرماسکتے ہیں، اس میں ذیل کا فتویٰ مندرجہ ذیل سوال پر دیا گیا ہے۔
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ،کہ ذاتِ باری تعالیٰ عز اسمہ موصوف بصفتِ کذب ہے یا نہیں؟ اور خدائے تعالیٰ جھوٹ بولتا ہے یا نہیں؟ اور جو شخص خدائے تعالیٰ کو یہ سمجھے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے وہ کیسا ہے؟
جواب: ذاتِ پاک حق تعالیٰ جل جلالہ کی پاک و منزہ ہے اس سے کہ اس کو متصف بصفتِ کذب کیا جائے (معاذ اللہ) ا س کے کلام میں ہرگز ہرگز شائبہٴ کذب کا نہیں ۔ قال اللّہ تعالیٰ:وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیْلاً۔ جو شخص حق تعالیٰ کی نسبت یہ عقیدہ رکھے یا زبان سے کہے کہ وہ کذب بولتا ہے وہ قطعا کافر ہے ،ملعون ہے اور مخالف قرآن و حدیث و اجماع امت کا ہے۔ وہ ہرگز مومن نہیں، تعالی اللہ عما یقول الظالمون علوا کبیرا۔ (فتاویٰ رشیدیہ ص: ۹۰)
اصل بات یہ ہے کہ حضرت مولانا رحمة اللہ علیہ نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ جس کا نام لے کر اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ یہ جہنم میں جائے گا وہ اس کو وہ ضرور جہنم میں بھیجے گا مگر اس کو اس بات کی بھی قدرت ہے کہ جنت میں بھیج دے مگر وہ عاجز نہیں کہ جہنم میں بھیجنے پر مجبور ہوجائے، یہ مسئلہ اِسی طرح قرآن کریم سے ثابت ہے، یہی علمائے امت کا عقیدہ ہے۔ تفسیر بیضاوی کی عبارت میں حضرت مولانا  نے نقل فرمائی ہے، علمائے مکہ مکرمہ نے بھی اس کو صحیح فرمایا ہے، حضرت حاجی امداد اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے بھی اس کو صحیح فرمایا ہے، اور اس کے لیے آیات و احادیث سے ثبوت پیش کیا ہے، یہ سب فتاویٰ رشیدیہ میں موجود ہے۔
”اعلیٰ حضرت بریلوی“ دلائل کی روشنی میں ان سچی باتوں کو جھٹلا نہ سکتے تھے، انھوں نے ا لبتہ اس ”وسعتِ قدرت“ کے عنوان کو جھوٹ بولنے کا عنوان دے کر یہ تشہیر کی کہ حضرت گنگوہی معاذ اللہ خدا کے جھوٹ بولنے کے قائل ہیں (نعوذ باللہ منہ) تاکہ عوام کو اس کے خلاف مشتعل کرسکیں۔ اور حضرت مولانا گنگوہی پر بہتان لگادیا ، حضرت گنگوہی کے سامنے جب یہ بہتان طرازی کا معاملہ آیا تو حضرت  نے اس افترا سے اپنی تبرّی کرتے ہوئے لکھا جو فتاویٰ رشیدیہ( ص:۸۴) میں ہے : ”اوریہی مسئلہ مبحوث اس وقت بھی ہے ،بندہ کے جملہ احباب یہی کہتے ہیں اس کو اعداء نے دوسری طرح پر بیان کیا ہوگا“۔
(۳) جواب:
حضرت مولانا خلیل احمد صاحب (انبیٹھوی) سہارنپوری  پر مبتدعین کا یہ اعتراض کہ انہوں نے اپنی کتاب ”براہین قاطعہ“ میں لکھا ہے کہ شیطان کا علم حضرت سرورِ کائنات ﷺ کے علم سے زیادہ ہے؟ یہ سراسر افتراوبہتان ہے ، حقیقت یہ ہے کہ مجلسِ میلاد شریف میں جو لوگ قیام کرتے ہیں ان سے دریافت کیا گیا کہ یہ قیام کس مقصد(کس کی تعظیم)کے لئے ہے انہوں نے جواب دیا کہ ایسی مجلس میں رسولِ اکرم ﷺ تشریف لاتے ہیں۔
پھر ان سے کہاگیا کہ حضور ﷺ کی تشریف آوری کا ثبوت کیا ہے؟ کیا آقائے نامدار فخر کائنات ﷺ نے خود یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جہاں بھی اور جب بھی مجلسِ میلاد منعقد ہوتی ہے میں اس میں جاتاہوں ،اگر ایسی کوئی حدیث پاک ہو تو حوالہ دیا جائے،سند بتائی جائے ورنہ ایک غلط بات (یعنی مجلس میلاد میں تشریف آوری) کو حضور اقدس ﷺ کی طرف منسوب کرنا شریعت پر اضافہ اور ذاتِ مقدسہ ﷺ پر بہتان ہے ۔
حدیث پاک میں ارشاد ہے ”من کذِبَ عَلیَّ متعمِّداًفلیتبوَّا مَقعدَہ منَ النَّارِ“ جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر بہتان باندھے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے لہذا ایسی بے اصل بات سے توبہ کی جانی چاہئے ۔
نیز اگر تشریف آوری مان بھی لی جائے تو ایک وقت میں خدا جانے کس کس جگہ مجلس ہورہی ہوگی ،تو حضور ﷺ کہاں کہاں تشریف لے جاتے ہوں گے، وہ لوگ (رضاخانی حضرات) حدیث شریف تو پیش نہ کرسکے ،کیوں کہ اس مضمون کی کوئی حدیث ہی موجود نہیں، البتہ دوسری بات کا جواب بھی دیا تو ایسا کہ کوئی سمجھ دار بلکہ دیندار آدمی ایسا جواب نہیں دے سکتا ،بلکہ جس کو حضرت اقدس ﷺ سے تھوڑا سا بھی تعلق ہوگا اس کا ذہن اس جواب کے تصور سے بھی لرزاں ہوجائے گا جسے لکھتے ہوئے بھی قلم کانپتا اور دل تھراتا ہے ،جواب یہ تھا کہ: ”شیطان تو مجلس میں پہونچ جاتا ہے کیا حضرت رسولِ مقبول ﷺ نہیں پہنچ سکتے“۔
بجائے حدیثِ پاک سے ثبوت پیش کرنے کے ان حضرات نے معاذاللہ حضور ﷺ کو شیطان پر قیاس کرکے جان چھڑائی کہ جب جب اور جہاں جہاں شیطان پہنچ جاتا ہے ،گویا اسی طرح حضور اکرم ﷺ بھی پہنچ جاتے ہیں ”استغفراللہ“ ۔جس کے سینے میں غیرت مند دل ہوگا ایسی بے ہنگم اور توہین رسول کی بات کو کیسے برداشت کرسکے گا۔
حضرت مولانا خلیل احمد صاحب نے جو کچھ اس کا جواب دیا، اس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان تو گمراہ کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے وہ ہر گندی جگہ ، شراب خانہ میں ، فحش خانہ میں، بت خانہ میں پہنچ جاتا ہے ،بیت الخلا میں ہر آدمی کے ساتھ جاتا ہے ،البتہ ”اللّہمَّ اِنی اعوذبکَ منَ الخبثِ والخبائث“ پڑھ کر جانے والا اس کے شر سے محفوظ رہتا ہے، انسان کی رگوں میں خون کی طرح سرایت کرجاتا ہے ،سمندر پر اپنا تخت بچھا کر بیٹھتا ہے اور اس کے لشکر کے کارندے آ آکر اپنی کارگذاری سناتے ہیں، دوسرے عالم میں جہنم میں جائیگا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عذاب میں وہیں رہیگا وغیرہ وغیرہ۔
ان جملہ امور کے لئے احادیث موجود ہیں،لیکن اس ناپاک قیاس کے سوا حضرت رسولِ خدا ﷺ کے لئے ہر مجلس میں تشریف لے جانے کیلئے بھی کوئی حدیث موجود ہے؟ جس کا خلاصہ ہوا کہ جہاں جہاں شیطان کا جانا احادیث میں موجود ہے، شیطان پر قیاس کرکے حضرت رسولِ اکرم ﷺ کے لیے وہاں آنا جانا ثابت کرنا افترا علی الرسول کی بھی انتہائی گھناوٴنی صورت ہے ،اللہ پاک اس بیہودہ عقیدہ سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔
تعجب ہے کہ مولانا احمد رضاخان صاحب نے حضور ﷺ کی جگہ جگہ حاضری کی یہ انوکھی دلیل کہاں سے فراہم کی؟ عقیدہ کے لئے اول تو نصوصِ قطعیہ کی ضرورت ہے وہ نہ ہو تو کم سے کم کوئی صریح حدیث تو ہو اور وہ بھی نہ ہو تو قیاسِ تمثیلی کسی مثلِ اعلی کے ساتھ تو ہو؛ مولانا کو قیاس کے لئے بھی ملا تو شیطان ہی ملا ”نعوذ باللہ منہ“ سوائے اس کے کہ اس پر ” إنّا للہ وإنا إلیہ راجعون“ پڑھا جائے اور کیا عرض کیا جائے ۔
جہاں تک قیام کے مسئلے کا تعلق ہے ،تو حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک حرکتِ وجدی ہے، جو صاحبِ حال سے سرزد ہوسکتی ہے اور ہوتی ہے۔ صاحبِ حال اس میں معذور بھی ہے، جس پر کوئی نکیر وملامت نہیں کی جاسکتی ، لیکن وہ قانون عام نہیں کہ بطورِ حکم عام ، اسے انجام دیا جائے جب وہ مسئلہ شرعی کے طور پر پیش کیا جائے گا تو حجتِ شرعیہ کا مطالبہ قدرتی طور پر کیا جانا ناگزیر ہے ،سو اس بارہ میں جہاں تک حجت و قانون کا تعلق ہے وہ ہمیں یہ ملتی ہے کہ حضور ﷺ نے اسے نہ پسند فرمایا ،نہ اس کی اجازت دی ۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ صحابہ  کو حضور اکرم ﷺ سے زیادہ کوئی بھی محبوب نہ تھا ،مگر ان کا حال یہ تھا کہ جب آپ ﷺ کو دیکھتے تو قیام نہیں کرتے تھے ،کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ قیام کرنے سے آپ کو ناگواری ہوتی ہے۔ حدیث شریف کے الفاظ یہ ہیں:”عن انس لم یکن شخص احبَّ إِلیہم من رسولِ اللہِ ﷺ وکانوا إذا رأَوہ لم یقوموا لما یعلمونَ من کراہیتہ لذلکَ“ (رواہ الترمذی وقال ہذا حدیث حسن صحیح)
صحابہ کرام کو آپ کی ناگواری کا علم اس طرح ہواکہ ایک دفعہ صحابہ بیٹھے ہوئے تھے کہ حضور ﷺ اپنے حجرئہ مبارکہ سے نکل کر لاٹھی پر سہارا لیتے ہوئے باہر تشریف لائے، آپ کو دیکھتے ہی جذبہ محبت میں سب کھڑے ہوگئے ،اس پر آپ نے قیام سے منع فرمایا کہ یہ قیامِ تعظیمی تو عجمیوں کا طریقہ ہے ،تم اس کو اختیار مت کرو ،حدیث شریف کے الفاظ یہ ہیں:عن ابی امامة قال خرج رسول اللہ ﷺ متَّکئا علی عصاً فقمنالہ فقال لاتقوموا لی کما تقوم الاعاجم یعظِّم بعضہم بعضا“ (رواہ ابوداد)
ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے کہ جو شخص یہ پسند کر ے کہ لوگ اس کے لئے قیام کریں وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ ڈھونڈ لے ،حدیث شریف کے الفاظ یہ ہیں : ”عن معاویة قال قال رسول اللہ ﷺ من سرَّہ ان یتمثل لہ الرجال قیاما فلیتبوَّا مقعدہ من النار “ (رواہ الترمذی و أبوداوٴد)
قیام سے متعلق یہ تینوں حدیثیں مشکوةشریف ص (۴۰۳) میں ہیں ؛یہ ساری بحث قیامِ مروجہ کے بارے میں ہے، اندازہ فرمایا جائے کہ جس چیز کو حضور ﷺ نے اپنی مجلس پاک میں گوارہ نہیں فرمایا،کیا وفات کے بعد آپ حضرات کی مجالس میں اس مزعومہ تشریف آوری پر اسے گوارا فرماتے؟
لیکن اگر ایسی کوئی روایت ہوتی تو وہ بہر جال سرآنکھوں پر رکھی جاتی ،مگر جب ہے ہی نہیں تو فرضیات اور قیاسات، اور وہ بھی نامناسب اور مکروہ قیاسات پر آخر اس کی اجازت دینے کا اور وہ بھی بطور عقیدہ کے ،کسی کو کیا حق ہے؟
(۴) جواب:
حضرت اقدس حکیم الامت مولانا تھانوی قدس سرہ العزیز سے کسی شخص نے دریافت کیا تھا کہ (زید) کہتا ہے کہ علم غیب کی دو قسمیں ہیں (۱) بالذات اس معنی کر عالم الغیب خدا کے سوا کوئی نہیں (۲) بواسطہ اس معنی کر رسول اللہ ﷺ عالم الغیب تھے۔زیدکا عقیدہ اور استدلال کیسا ہے؟ زید کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح وحی کا آنا ،میدانِ حشر میں شفاعت کرنا،حوضِ کوثر پر پانی پلانا وغیرہ، حضرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالاتِ نبوت میں سے ہے ،کیا اسی طرح عالم الغیب ہونا بھی کمالات نبوت میں سے ہے؟
اس کا جواب حضرت مولانا تھانوی نے دیا جس کا حاصل یہ ہے کہ جب کتبِ شریعت میں ”عالم الغیب“ بولاجاتا ہے تو اس سے مراد عالم الغیب بلاواسطہ ہی ہوتا ہے ؛اور زید کے نزدیک بھی ”عالم الغیب“ بلا واسطہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے ؛لہٰذا حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اگر لفظِ ”عالم الغیب“ بولا جائے گا تو زید کی نیت کا تو کسی کو علم نہیں ہوگا، دیکھنے والے اور سننے والے اور پڑھنے والے، یہی سمجھیں گے کہ اس سے مراد ”عالم الغیب“ بلاواسطہ ہے ؛تو جو لفظ اور صفت اللہ کے لئے مخصوص ہے اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ماننے سے شرک کا شبہ ہوگا ؛لہٰذا یہ لفظ نہیں بولنا چاہئے۔
اس کے بعد مولانا تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: زید جو عالم الغیب کہتا ہے تو اس میں دوصورتیں ہیں :ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم برابر مانتا ہے ،جس طرح کوئی ذرہ اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ ہروقت ہرجگہ حاضرو ناظر رہتا ہے، اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حال ہے (فرق صرف بواسطہ اور بلاواسطہ کا ہے) تب تو زید کا ایسا کہنا قرآن کریم کے بھی خلاف ہے ۔حدیث شریف کے بھی مخالف ہے اور واقعات کے بھی خلاف ہے۔ ﴿وَعِنْدَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُہَا اِلاَّ ہُوْ﴾ اور اسی (اللہ ہی) کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں ،اللہ کے سوا، انھیں کوئی نہیں جانتا۔
﴿قُلْ لاَ یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلاَّ اللّٰہُ﴾ آپ فرمادیجئے کہ زمین اور آسمان میں رہنے والوں میں سے خدا کے سوا غیب نہیں جانتا۔
بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صاف امر ہے کہ: اعلان فرمادیجئے کہ مجھے علم غیب نہیں: ﴿قُلْ لاَّ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَائِنُ اللّٰہِ وَ لاَ اَعْلَمُ الْغَیْبَ﴾ بئرِ معونہ، تابیر نخل وغیرہ واقعاتِ حدیثی سے بھی صاف ثابت ہے کہ کتنی چیزوں کا علم حضور سے مخفی رہا ہے۔واقعہٴ ”افک“ میں کتنی پریشانی اٹھانی پڑی، جب اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی، تبھی بات صاف ہوکر پریشانی دفع ہوئی۔ حدیث شریف میں ہے،نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں حوضِ کوثر پر ہوں گا، میری امت کے کچھ لوگ آئیں گے ،میں ان کو دیکھ کر پہچان لوں گا پھر وہ میری نظر سے اوجھل ہوجائیں گے یعنی بجائے حوضِ کوثر پر لانے کے ان کو جہنم کی طرف لے جائیں گے ،تب میں کہوں گا کہ یہ تو میرے آدمی ہیں، وہاں سے جواب ملے گا کہ آپ کو علم نہیں کہ آپ کے بعد انھوں نے کیا کیابدعات ایجاد کیں؟ اس پر ارشاد فرمائیں گے کہ ان کو جہنم میں دھکیل دو۔
(حضرت تھانوی فرماتے ہیں کہ) یہ خرابی تو اس وقت ہے کہ زید ”عالم الغیب“ سے یہ مراد لے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا پورا علمِ غیب تھا اور اگر زید کی نیت یہ ہے کہ علمِ غیب پورا پورا نہیں تھا یعنی بعض چیزوں کا علم تھا بعض کا نہیں تھا ،اس بناء پر ”عالم الغیب“ کہتا ہے تو یہ مراد لے کر بھی ”عالم الغیب“ کہنا جائز نہیں ؛اس واسطے کہ بعض چیزوں کا علم ہونا بعض کا نہ ہونا یہ کمالاتِ نبوت میں سے نہیں، کیوں کہ ہرایک کو کسی نہ کسی چیز کا علم ہوتا ہے جس کا دوسرے کو علم نہیں ہوتا ؛پس دوسرے کے اعتبار سے وہ علم غیب ہے ۔زید، عمرو، بکر بلکہ مومن ، کافر بلکہ جانوروں کو بھی کسی ایسی چیز کا علم ہوتا ہے جو دوسروں کو نہیں، بعض جوگی کشف کے ذریعہ کوئی بات معلوم کرلیتے ہیں جو دوسروں کو معلوم نہیں۔
ہدہد کا واقعہ قرآن کریم میں مذکور ہے کہ اس نے آکر بلقیس# کی سلطنت اور تخت کی خبر حضرت سلیمان علیہ السلام کو دی جو ان کے اعتبار سے غیب کی خبر تھی اور ان کے علم میں نہ تھی۔ڈاک خانے کی اصطلاحات کا جس قدر علم پوسٹ مین اور ڈاک خانے کے ملازمین کو حاصل ہوتا ہے وہ ایک بڑے سے بڑے بیرسٹر کو نہیں ہوتا، تو کیا زید ان سب کو بھی اس جزئی علمِ غیب کی وجہ سے ”عالم الغیب“ کہے گا؟ ایسا علم کمالاتِ نبوت میں سے نہیں جس علم کے لیے ایمان بھی شرط نہ ہو بلکہ کافر کو بھی حاصل ہوسکتا ہے اور جس کے لیے انسانیت بھی شرط نہ ہو بلکہ جانوروں کو بھی حاصل ہوسکتا ہو ؛جیسا کہ قرآن کریم شاہد ہے ،وہ کمالاتِ نبوت میں سے کیسے ہوسکتا ہے؟ اور نہ ہی اس کو افضلیت اور مقبولیت کا معیار قرار دیا جاسکتا ہے، جیسا کہ خود ”اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب“ نے بھی اپنے ملفوظ حصہ چہارم ص۱۰،۱۱ /میں تحریر فرمایا ہے کہ وہ صفت جو غیر انسان کے لئے ہوسکتی ہے انسان کے لیے کمال نہیں؛ جو غیر مسلم کے لیے ہوسکتی ہے وہ مسلم کے لیے کمال نہیں ۔کم سے کم اسی ملفوظ کی روشنی میں غور کیا جائے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام منصبِ نبوت پر فائز ہیں، ان کے سامنے ہدہد# کی کوئی حیثیت ہی نہیں، وہ بیچارہ علمی کمالاتِ نبوت میں سے کسی کمال کا تو کیا مقابلہ کرسکتا، انسانیت میں سامنے نہیں آسکتا؛ حالانکہ اسے ایک ایسے جزئیہ کا علم ہوگیا جو سلیمان علیہ السلام کو اسی کے بتانے سے ہوا۔لہٰذا زید کا بعض علمِ غیب مراد لے کر سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب کہنا درست نہ ہوگا، کیوں کہ اس صورت میں زید حضرتِ فخر دوعالم سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایسی چیز ثابت کرتا ہے جو درحقیقت کمالاتِ نبوت میں سے نہیں، بلکہ اس کے لیے ایمان یا انسانیت بھی شرط نہیں ،تو کیا اس صورت میں زید اپنے عقیدہٴ ”علم غیب“ کی وجہ سے حضرت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا مرتکب نہیں ہوگا، درآں حالے کہ وہ اپنے ذہن میں اسے مدح ومنقبت خیال کیے ہوئے ہے ؛پس ایک صورت میں (علمِ غیب کلی مان کر) تو اس نے حضور کو خدائے تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے برابر قرار دیدیا ،جو شرک ہے۔ اور دوسری صورت میں وہ (علم غیب جزئی مان کر) حضرت فخر کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا نہیں بلکہ تنقیص و توہین کررہا ہے؛ لہٰذا زید کو ایسے عقیدے اور قول سے توبہ لازم ہے۔
علاوہ ازیں اگر زید حضور کو بایں معنی عالم الغیب کہے اور تاویل کرے کہ اس سے مراد عالم الغیب با لواسطہ ہے ؛لہٰذا حضورحق تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ ہوئے ،تو اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ سے علم غیب بالواسطہ کی نفی بھی صحیح ہوجائے گی اور یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ اللہ تعالیٰ بالواسطہ عالم الغیب نہیں اور حضور بالواسطہ عالم الغیب ہیں تو یہ تاویل بھی رکیک تاویل ہوگی جس سے بات کی غلطی نہیں چھپائی جاسکتی اور نہ ایسی غلط بات کہنے کی کسی کو اجازت دی جاسکتی ہے ،کیوں کہ اس صورت میں (قطع نظر اصولی غلط کاری کے)دین ایک کھلونا بن کر رہ جائے گا ،کہ اللہ تعالیٰ کی جس صفت الوہیت کو چاہا کسی تاویل اور واسطہ بلاواسطہ کے فرق سے حضرت رسول اکرم ﷺ کے لئے ثابت کردیا اللہ تعالیٰ سے بالواسطہ کی نفی کردی اور حضور کے لئے وہی صفت بالواسطہ ثابت کردی ۔یہ حاصل ہے حضرت مولاناتھانوی کے جواب کا؛ اس میں حضرت مولانا نے کہیں بھی اپنا خود کا یہ عقیدہ بیان نہیں فرمایا کہ غیب کی باتوں کا جیسا علم حضرت رسول اکرم ﷺ کو ہے ایسا تو ہر بچہ اورہر پاگل بلکہ ہر جانور اور ہر چارپائے کو حاصل ہے ،بلکہ یہ جوکچھ لازم آیا زید کے عقیدہ پر لازم آیا ہے کہ وہ عالم الغیب مانتا ہے نہ کہ حضرت تھانوی کے عقیدہ پر ۔چنانچہ حضرت تھانوی ان تشبیہات کے بارہ میں اپنے رسالہ ”بسط البیان“ صفحہ(۱۰،۱۱) پر فرماتے ہیں۔
میں نے یہ خبیث مضمون کسی کتاب میں نہیں لکھا اور لکھنا تو درکنار میرے قلب میں بھی اس مضمون کا کبھی خطرہ نہیں گذرا ۔میری کسی عبارت سے یہ مضمون لازم بھی نہیں آتا ۔جو شخص ایسا اعتقاد رکھے یابلا اعتقاد صراحةً یا اشارةً یہ بات کہے ؛میں اس شخص کو خارج از اسلام سمجھتا ہوں کہ وہ تکذیب کرتا ہے نصوص قطعیہ کی اور تنقیص کرتا ہے حضور ﷺ کی “۔
پھر حفظ الایمان صفحہ۹/ میں یہ عبارت بھی موجود ہے کہ :”نبوت کے لئے جو علوم لازمی و ضروری ہیں وہ آپ کو بتمامہا حاصل ہوگئے تھے“۔
اپنی اس عبارت کے پیش نظر حضرت تھانوی نے اعلیٰ حضرت بریلوی کے اعتراض و اتہام کا جواب دیاہے ۔چنانچہ ”حفظ الایمان“ کی شرح ”بسط البنان“(ص۱۲)میں اس عبارت کو نقل کرکے فرمایا ہے کہ :”انصاف شرط ہے، جو شخص اس کو جمیع علو م عالیہ شریفہ متعلقہٴ نبوت کا جامع کہہ رہا ہے کیا وہ نعوذباللہ زید،عمرو، صبی،مجنون اور حیوانات کے علم مماثل آپ کے علم کے بتلادے گا ؟ کیا زید،عمرووغیرہ کو یہ علوم حاصل ہیں ؟یہ علوم تو آپ کے مثل دوسرے انبیاء و ملائکہ علیہم السلام کو بھی حاصل نہیں “۔
اس تقریر سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ عبارت مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ کے علم کے مشابہ معاذاللہ زید ،عمرو ،بکر وغیر ہ کے علم کو کہا کب گیا ہے ؟ کہ اپنے مفروضات سے ان پر بوچھار کی جائے۔ پھر آگے کی سطروں میں تحریر فرمایا ہے :”اس شق پر جو محذور لازم کیا گیا ہے اس میں غور کرنے سے تو معلوم ہوسکتا ہے کہ مشابہت کی نفی کی گئی ہے ۔چنانچہ بعض مطلق علوم غیبیہ کے مراد لینے پر تویہ خرابی بتلائی ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی کیا تخصیص ہے؟“الخ
یعنی اس صورت میں آپ کی تخصیص نہ رہے گی ؛بلکہ زید،عمر و،بکر وغیرہ بھی اس صفت میں آپ کے شریک ہوجائیں گے۔ حالاں کہ آپ کی صفات خاصہ کمالیہ میں آپ کا کوئی شریک و مشابہ نہیں ؛اس لئے یہ شق باطل ہوئی ۔الخ
اخیر میں حضرت تھانوی نے ان کلمات پر اپنی کتاب کو ختم فرمادیا ہے :” میرااور میرے سب بزرگوں کا عقیدہ ہمیشہ سے آپ کے افضل المخلوقا ت فی جمیع الکمالات العلمیة و العملیةہونے کے باب میں یہ ہے ۔
ع بعد ازخدا بزرگ توئی قصہ مختصر
حضرت مولاناتھانوی کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ اعلیٰ حضرت بریلوی نے آپ کی عبارت کا ایسا مطلب گھڑا ہے جو نہ آپ کا مقصود ہے اورنہ آپ کا عقیدہ ۔نہ واقع میں صحیح ہے بلکہ وہ غلط اور کفر ہے اور مخلوق خدا کو وہ مطلب بتا کر اعلیٰ حضرت اور ان کی ذریات نے گمراہ کیا اور فتنہ برپا کر رکھا ہے اگر آپ اس کے الفاظ اس طرح بدل دیں جس سے مطلب اصلی تو اپنی جگہ پر وہ رہے کیوں کہ وہ بالکل صحیح ہے البتہ اس سے غلط مطلب نکالنے اور گمراہ کرنے کا موقع ہی ختم ہوجائے ،تو بہتر ہے ۔حضرت مولانا نے ارشاد فرمایا:
”جزاکم اللہ تعالیٰ !بہت ہی اچھی رائے ہے ؛کیوں کہ اس کے قبل کوئی واقعی بناء ظاہر نہیں کی گئی تھی؛اس لیے ترمیم کو دلالت علی خلاف المقصود کے اقرار کے لیے مستلزم سمجھا اور اقرار بالکفر کفر ہے اس لیے ترمیم کو ضروری تو کیا جائز بھی نہیں سمجھا ۔اب سوالِ ہذا میں جو بناء بیان کی گئی ہے ایک امر واقعی ہے لہٰذا قبولاً للمشورةاس کو لفظ ”اگر“ کے بعد سے ”عالم الغیب کہا جائے“ تک اس طرح بدلتا ہوں۔ اب حفظ الایمان کی اس عبارت کو جوکہ اس سوال کے بالکل شروع ہی میں مذکور ہے ،اس طرح پڑھاجاوے“۔
”اگر بعض علومِ غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا تخصیص ہے، مطلق بعض علوم غیبیہ تو غیر انبیاء علیہم السلام کو بھی حاصل ہیں تو چاہئے کہ سب کو عالم الغیب کہا جائے الخ ۔اور ایسی عبارت بعینہا شرح مواقف کے موقف سادس، مرصد اول ،مقصد اول میں فلاسفہ کے جواب میں ہے: ”والبعض أی الاطلاع علی البعض لا یختص بہ ای بالنبیّ“ اور اس کے مثل ”مطالع الانظار شرح طوالع الانوار“ للبیضاویمیں ہے: ”وإن أرادوا بہ الاطلاع علیٰ بعضہا فلا یکون خاصّة النّبی إذ ما من أحد إلا ویجوز أن یطّلع علیٰ بعض الغائبات الخ۔
الغرض جب مصنف نے ۱۳۴۲ھ میں عبارت میں توضیح کرکے جڑہی کاٹ دی ،تو پھر اس پر انی عبارت کو کہ اس میں بھی عقلاء کے لیے ان تحریفات کی گنجائش نہ تھی ،مخلوق کے سامنے پیش کرکے مصنّفین سے نفرتیں دلاتے رہنا ،نہ مصنف کی تبرّی و تحاشی کو دیکھنا ،نہ جوابات دیکھنا، نہ توضیح کردہ عبارت کو دیکھنا آخر دیانت کا کونسا عمل ہے، جسے شب و روز کا مشغلہ بناکر رکھا جائے۔
(۵) سوال :
حضرت مولانا اسماعیل صاحب شہید دہلوی کی کتاب مسمیٰ بہ ”صراطِ مستقیم“ موجود ہے ؛اس کی بھی ایک عبارت نے ذہن کو خلجان میں ڈال دیا ہے، ذہن میں ایک قسم کا تذبذب پیدا ہوگیا ہے کہ واقعی بریلوی لوگ جو کہا کرتے ہیں وہ سچ ہے یا غلط ۔اب میں پریشا ن ہوں کہ کیا کروں عبارت ”صراطِ مستقیم“ کی یہ ہے:
”صرفِ ہمت بسوئے شیخ و امثالِ آں از معظمین گو کہ جنابِ رسالت مآب باشند ،بچندیں مرتبہ بدتر از استغراق درصورتِ گاوٴ خر خود است کہ خیالِ آں بتعظیم و جلال بسویدائے دلِ انسان می چسپد بخلاف گاوٴ خر“ (صراطِ مستقیم مطبوعہ مجتبائی۹۵)۔
یعنی ہمہ تن متوجہ ہوجانا پیر و مرشد یا ان کے مثل بزرگوں کی طرف ،گوکہ حضرت رسالت مآب ہوں، اپنے گائے اور گدھے کے خیال میں ڈوب جانے سے بھی بدتر ہے، کیونکہ ان کا خیال انسان کے دل میں تعظیم اور بزرگی کے ساتھ آتا ہے، بخلاف گائے اور گدھے کے خیال کے۔
نوٹ: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال نماز میں آنا بدتر ہوا گائے اورگدھے کے خیال کے آنے سے ؛تو کیا نماز میں تشہد پڑھا جائے یا نہیں ،جب کہ تشہد میں ”السلام علیک ایہا النبی“ موجود ہے ؛اس موقع پر کیا کیا جائے ،تشہد پڑھاجائے اور ”السلام علیک ایہا النبی“کو الگ کردیا جائے یا کیا کیا جائے ؟کیوں کہ جب تشہد پڑھا جائے گا تو تعظیم کا خیال فوراً ذہن میں آئیگا؛ جیسا کہ احیاء العلوم ج۱/ص۱۰۷/ میں حضرت امام غزالی نے فرمایا کہ پہلے اپنے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر کرو اور آپ کی شخصیتِ گرامی کا تصور باندھ کر کہو ”السلام علیک ایہا النبی“ کس قدر تضاد ہے ۔امید کہ ہماری دماغی الجھن دور فرمائیں گے۔
جواب: جو کتاب جس فن میں ہوگی اس میں مجموعی طور پر اسی فن کے اصطلاحی الفاظ ہوں گے اور ان کے وہی معنیٰ لیے جائیں گے جو اس فن میں اس لفظ کے ہوں گے۔ ان الفاظ کو لغوی معنیٰ یا کسی دوسرے فن کے اصطلاحی معنیٰ میں سمجھنے سے مفہوم خبط ہوجائے گا، مثلاً لفظ ”موضوع“ کا ترجمہ ”معنیٰ دار لفظ“ ہے جو مقابلے میں ”مہمل“ (بے معنیٰ لفظ) کے ہے ۔اب اگر اس لفظ ”موضوع“ کو منطق کی کتاب میں کوئی شخص دیکھے کہ زید قائم میں زید موضوع ہے اور قائم محمول ہے، اور اس کا مطلب سمجھنے لگے معنیٰ دار لفظ؛ تو وہ پریشان ہوگا۔ اسی طرح یہ لفظ فلسفہ میں مستعمل ہو، مثلاً جدار موضوع ہے بیاض کے لیے تو وہاں بھی اس کا مطلب اگر معنیٰ دار لفظ کا لیا جائے گا تو سارا مطلب خبط ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر فنِ حدیث میں لفظ موضوع آئے کہ مثلاً فلاں حدیث موضوع ہے“ تو اس کا مطلب اگر معنیٰ دار لفظ لیا جائے گا تو معنیٰ غلط ہی نہیں ہوں گے بلکہ مضحکہ انگیز بن جائیں گے۔
بطور تمہید یہ مقدمہ ذہن نشین رکھئے اور اس کی روشنی میں سمجھئے کہ صراطِ مستقیم ”فن تصوف“ کی کتاب ہے جس میں تزکیہٴ باطن اور اصلاحِ نفس کے طریق بیان کیے گئے ہیں۔ جس شخص پر خیالات و وساوس کا ہجوم رہتا ہے اور وہ ان کو دور کرنے سے عاجز آجاتا ہے تو صوفیائے کرام قدس اللہ اسرارہم نے اس کے لیے ایک علاج تجویز فرمایا ہے اور وہ یہ کہ یہ شخص اپنے دل میں کسی چیز کا تصور اس طرح جمائے کہ دوسری کسی شیٴ کی اس میں گنجائش نہ رہے ؛جیسے قدِ آدم آئینہ بازار میں کسی دوکان پر لگاہوا ہو اوراس میں ہرگزرنے والے کا عکس آتا ہو ؛کبھی آدمی، کبھی گھوڑا، کبھی موٹر، غرض جو چیز بھی سڑک پر گذرے اس کا عکس آتا ہو اور مالکِ آئینہ یہ چاہے کہ مختلف چیزوں کا عکس اس میں نہ آئے تو اس کی صورت یہ ہے کہ سڑک کی جانب اس آئینہ کے رخ پر ایک موٹا کپڑا ڈال دیا جائے جو اس کو پوری طرح گھیرلے کہ کسی دوسری چیز کے عکس کی اس میں گنجائش اور جگہ ہی باقی نہ رہے، ٹھیک اسی طرح جب دل میں کسی ایک چیز کا تصور پوری طرح جمالیا جائے کہ دوسری شئ کا تصور اور خیال کی جگہ ہی نہ رہے تو قدرتی طور پر خیالات و وساوس کا سلسلہ بالکل ختم ہوجائے گا، اس کو صوفیاء کی اصطلاح میں ”صرف ہمت“ کہتے ہیں۔حضرت مولانا محمد اسماعیل شہید اپنے شیخ طریقت حضرت مولانا سید احمد بریلوی سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر نماز میں یہ صرفِ ہمت حضرت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا جائے تو ظاہر ہے کہ پھر کسی دوسری چیز کی گنجائش طبعاً باقی نہیں رہ سکتی ؛حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کا دھیان بھی نہیں آسکے گا ؛کیوں کہ ”صرف ہمت“ کا مطلب ہی یہ ہے کہ جس چیز کے لیے ”صرف ہمت“ کیاجارہا ہے وہی چیز پورے قلب کو گھیرلے گی حتیٰ کہ اگر نماز میں ﴿اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ﴾ کہیں گے تو یہ بھی حضور کے لیے ہوگا۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، حتیٰ کہ اذکار: ”سبحان ربی العظیم، سبحان ربی الاعلی“ وغیرہ بھی حضور ہی کے لیے ہوجائیں گے۔
خلاصہ یہ کہ پوری نماز سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہوجائے گی اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں رہے گی، ورنہ وہ صرفِ ہمت نہ ہوگا۔ حالاں کہ نماز عبادت ہے جو اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے۔اور جب رکوع، سجدہ، اور ذکر وغیرہ سب ہی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہوگئے ، جو صرفِ ہمت کے معنیٰ ہیں اور اس صرفِ ہمت کی وجہ سے اللہ کے لیے نہ رہے۔ تو ظاہر ہے کہ اس بندہ کی یہ نماز مشرکانہ عبادت ہوجائے گی۔ دوسرے یہ کہ عبادت کے واسطے انتہائی محبت اور انتہائی عظمت و جلالت کا قلب میں ہونا ضروری ہے اور سب جانتے ہیں کہ ذاتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمانوں کو ایسا ہی تعلق ہے کہ تصورِ مبارک آپ کی انتہائی عظمت و جلالت کے ساتھ قلب میں آتا ہے ،اس تعلق کے ساتھ جب یہ صرفِ ہمت بسوئے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا تو ظاہر ہے کہ عظمتِ نبوی تو قلب میں پہلے ہی سے تھی ،صرفِ ہمت کی وجہ سے آپ کے سوا ہر ایک کا دھیان قلب سے خارج ہوگیا تو قدرتاً صرفِ ہمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف دھیان باقی رہ ہی نہیں سکتا، اس صورت میں یہ پوری عبادت صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہوگئی۔
پس جو نماز صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب کے لیے تھی اور اسی لیے ”معراج المومنین“ تھی۔ اس صرفِ ہمت کی وجہ سے وہ شرک ہوکر ”بعد عن الحق“ کا موجب اور موجبِ نار ہوکر رہ گئی، اور اگر بالفرض آدمی کو نماز میں اپنے کھیت، گھوڑے، گدھے، گائے وغیرہ کا خیال آجائے اور وہ اس خیال میں مستغرق بھی ہوجائے تو چوں کہ اسے ان چیزوں کے ساتھ عظمت و جلالت کا تعلق نہیں ہوتا، اس لیے یہاں یہ احتمال ہی نہیں کہ ان اشیاء کے خیال کی وجہ سے یہ نماز ان اشیاء کے لیے ہوجائے گی ۔اور جب کہ انسان ان اشیاء کے تصور سے خود شرمندہ ہوتا ہے کہ افسوس نماز جیسی عبادت میں بھی مجھے ان حقیر و خسیس اشیاء کا خیال آگیا جس سے میری نماز کی حیثیت ہی جاتی رہی تو یہ شرمندگی موضوعِ صلوٰة کے منافی نہیں بلکہ ”نفی غیر اللہ“ کے لیے معین ہوگی؛ اس لیے ان اشیاء کے تصور سے نماز میں کوئی ادنیٰ خلل نہیں پڑے گا کہ اس تصور کی حقیقت وسوسے سے زائد نہیں ۔یہ حاصل ہے ”صراطِ مستقیم“ کی عبارت کا۔
پس مولانا حضور کے بارے میں صرفِ ہمت سے روک رہے ہیں نہ کہ خیال و تصور سے ۔پس کہاں ”صرف ہمت“ اور کہاں خیال و تصور؛ اس لیے مولانا شہید کی طرف یہ منسوب کرنا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا خیالِ مبارک قلب میں آنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال نماز میں آنا ”معاذ اللہ“ ان حقیر و ذلیل چیزوں کے خیال آجانے سے بدرجہا برا ہے۔ مولانا پر افترا ہے یا انتہائی غلط فہمی پر مبنی ہے جو تصوف کی اس اصطلاح ”صرف ہمت“ کے نہ سمجھنے کی بناء پر ہوئی ہے۔
مولانا کی ذات تو بہت اونچی ذات ہے؛ یہ نظریہ تو کسی ادنیٰ درجہ کے مسلمان بلکہ کسی شریف الطبع غیر مسلم کا بھی نہیں ہوسکتا ؛ورنہ اتنی بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ نماز کو تو سمجھ کر پڑھنے کا حکم ہے ۔جب نماز میں ایک نمازی ”مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ“ پڑھے گا تو لامحالہ خیالِ مبارک آئے گا۔ جب وہ ” وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُوْلٌ“ پڑھے گا تولامحالہ خیالِ مبارک آئے گا ،تشہد میں ”السّلامُ عَلیک ایہا النبی“ کہے گا اور پھر درود شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک لے گا تو ان میں سے ہرموقعہ پر خیال مبارک ضرور آئے گا۔ اور آآکر ایمان کو تازہ کرتا رہے گا؛ اس لیے نامِ پاک پر خیالِ پاک کا روکنا تو فطرت کے خلاف ہے جس کی جرأت کوئی غبی آدمی بھی نہیں کرسکتا ؛چہ جائے کہ کوئی عالم، اور علماء میں بھی مولانا شہید جیسا ذکی و جامع عالم اور عارف باللہ مبصر؛اس لیے یہ دعویٰ کرنا کہ مولانا نے نماز میں حضور کے خیا ل کو منع کردیا ہے ،یا خیال مبارک آنے پر نماز کے فساد کا حکم لگایاہے ،یا خیالِ سرکار کو ”معاذ اللہ“ جانوروں کے خیال سے بدتر کہا ہے محض افتراء ہے ؛نہ مولانا نے خیالِ نبوی سے منع کیا ،نہ اس کو مفسدِ نماز کہا ،بلکہ ”صرفِ ہمت“ کو منع کیا ہے ۔جس کی تشریح ابھی بیان کی جاچکی ہے۔
کس قدر جسارت کی بات ہے کہ کسی کے بھی کلام کو اورخصوصاً اہل علم و فضل و اہل اللہ کے کلام کو لفظاً یا معنیً بگاڑ کر عوام کو ان کے خلاف نفرت دلائی جائے اور بدظن بناکر مشتعل کیا جائے ۔انھیں یہ حدیث پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ ”مَنْ عَادیٰ لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہُ بِالحَرْبِ“ ترجمہ: جو شخص میرے کسی ولی سے عداوت کرتا ہے میری طرف سے اس کو اعلانِ جنگ ہے۔ حق تعالیٰ ہدایت دے اور صراطِ مستقیم پر چلائے۔ آمین!
موجبِ حیرت یہ ہے کہ ان علماءِ حق نے اپنی عبارتوں سے اپنی مراد بار بار واضح کردی اور کسی نجی گفتگو یا شخصی مراسلت اور خط وکتابت سے نہیں بلکہ مطبوعہ کتابوں اور رسالوں سے اور بصورتِ اعلان و اشتہار اسے منظر عام پر بھی لاتے رہے ،ساتھ ہی یہ بھی کھول دیا کہ جو غلط مطلب ان کی عبارتوں سے لیا جارہا ہے وہ کبھی ان کے حاشیہٴ خیال میں بھی نہیں آیا، نہ وہ ان کا عقیدہ ہے نہ ان کے بزرگوں کا ہے بلکہ بعض اکابر نے عنوان بھی تبدیل کردیا کہ ابہام توہین یا تحریفِ مضمون کا شائبہ بھی باقی نہ رہے ،پھر بھی ان کی عبارتوں کو توڑ موڑ کر ان میں اپنا مطلب ڈالنا اور ڈالتے رہنااور اس پر مبنی کرکے باربار تکفیروں کی تجدید کرتے رہنا آخر کس طرح سنجیدہ قلوب میں جگہ پائے ہوئے ہے ،دیانت کا تقاضا تو یہ تھا کہ مراد واضح ہوجانے پر کھلا اعلان کیا جاتا کہ جہاں تک ان عبارتوں کا تعلق ہے مراد اور منشاء واضح ہوجانے کے بعد ہمیں مراد پر کوئی اعتراض باقی نہیں رہا ؛اس لیے ہم تکفیرسے رجوع کرتے ہیں ؛زیادہ سے زیادہ عنوان کے بارے میں یہ کہا جاسکتا تھا کہ اس مراد کے لیے یہ عنوان ہمارے نزدیک غلط اختیار کیا گیا ہے۔
سو جن حضرات نے عنوان بھی بدل دیا ان کے بارہ میں تو صاف دلی سے کہا جاتا کہ ان کے بارہ میں کوئی خلجان نہیں رہا ؛اس لیے اس مسئلہ کی حد تک اختلاف ختم ہوگیا۔
حیرت پر حیرت یہ ہے کہ ان بزرگوں نے اپنی جو مراد واضح فرمائی بریلوی حضرات ہی کے عقیدہ کے مطابق تھی، اس اتفاقِ مقصد کو تو کم سے کم سراہا جاتا اور کسی خلش کی بناء پر اس کا اظہار اطمینان کی گنجائش نہ تھی تو کم سے کم سکوت ہی اختیار کیا جاتا اور سوچا جاتا کہ جو بات ان حضرات نے ایضاحِ مراد کرتے ہوئے کہی ہے وہی جب ہمارا بھی عقیدہ ہے تو ہم کم سے کم خود اپنے عقیدہ کے خلاف زبان کیسے کھولیں؟ یا پھر اس اعلان کا ہلکے سے ہلکا درجہ اور وسعتِ صدر کا ایک اچھا مقام یہ تھا کہ ہمارا اور مسائل میں حضراتِ دیوبند سے اختلاف قائم ہے ؛مگر ان عبارتوں کی مراد کے بارے میں اب کوئی اشکال نہیں رہا؛ جب کہ ان کی مراد وہی واضح ہوئی جو خود ہمارا بھی عقیدہ ہے یا اس عقیدہ سے قریب تر ہے کہ یہ خود انھیں کے مسلک کی تائید ہوتی ؛لیکن نہ تو بیانِ مراد کو وقعت دی گئی، جب کہ متکلم کے کسی بھی کلام کا مطلب عقلاً و نقلاً وہی لیا جاتا ہے جس کی متکلم خود صراحت کرے، نہ توافقِ مسلک ہی کی کوئی قدر کی گئی جس میں خود ان کی بھی تقویت تھی اور نہ ہی اس وحدتِ مقصد سے وحدتِ ملت ہی کو کوئی اہمیت دی گئی ؛جب کہ اسلافِ ملت اور اتحاد ذات البین کے بارہ میں بکثرت شرعی تاکیدیں وارد شدہ ہیں۔ اور افتراق و تفرقہ کو حالقہ فرماکر اس سے ڈرایا گیا ہے؛ اس لیے اس کے سوا کوئی اور کیا سمجھے کہ ان حضرات کے یہاں اختلاف برائے اختلاف اور اس کی تجدید و تاسیس ہی پیش نظر ہے اور جان بوجھ کر ایک جماعت سے لوگوں کو بدظن بناکر اسے بدنام اور رسوا کرنا یا آزار پہنچانا ہی مطمحِ نظر ہے ۔اس سے اگر قلوب دکھ اور درد محسوس کریں تو کرسکتے ہیں ،لیکن ہم لوگ اگر یہ دکھ درد محسوس کریں تو اپنی کسی بدنامی یا رسوائی کے خیال سے نہیں ۔ہم چیز ہی کیا ہیں کہ اپنی کسی رسوائی یا بدنامی کا غم لے کر بیٹھیں اور خواہ مخواہ مدعی بنیں۔ مگر یہ خداساز واقعہ ہے کہ ان کی کوئی بدنامی اور رسوائی واقع بھی نہیں ہوئی اور نہ ہی انھیں کوئی آزار پہنچا؛ کیوں کہ اس پون صدی کے عرصہ میں جب سے یہ تکفیرو توہین کا بازار گرم ہوا، دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ یہ حضرات اربابِ عبارات ”لا یضرّہم من خالفہم ولا من خاذلہم“ کے صحیح مصداق ثابت ہوتے رہے اور ہوا یہ کہ انھیں کاتعلیمی سلسلہ عالم گیر ہوا اور مشرق و مغرب کے لوگوں نے ان سے کتاب و سنت کی سندیں لینے میں اپنی عزت محسوس کی۔انھوں نے ہی تبلیغی نظام قائم کیے اور یورپ، ایشیا، افریقہ اور امریکہ تک ان کی تبلیغی صدائیں پہنچیں؛ جن سے ہزاراں ہزار افراد دیندار اور تہجد گزار بنے۔ انھیں سے طریق اور بیع و ارشاد کے سلسلے ہند و بیرونِ ہند میں ہمہ گیر طریق پر پھیلے ؛جن سے ہزاروں کے نفوس کی اصلاح ہوئی اور لوگ چشتیت، قادریت، سہروردیت، اور نقشبندیت سے آشنا ہوئے۔ نہ انھوں نے کسی کو کافر بناکر اپنا مقام پیدا کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی کسی کی تخریب پر اپنی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا؛ اس لیے بدنامی کا حرف ان کے حق میں اپنا کوئی معنیٰ بھی پیدا نہ کرسکا، بلکہ ہر طرف حق تعالیٰ نے انھیں اپنے فضل و کرم سے نیک نام ہی رکھا اور اس نیک نامی کو مختلف دینی راستوں سے عالم گیر بنادیا۔
اس لیے ان تکفیروں اور زبردستی کے اتہامات سے نہ وہ اس لیے دل گیر ہیں کہ وہ رسوا ہوگئے، نہ اس لیے کہ انھیں کوئی آزار پہنچا؛ بلکہ یہ رنج و قلق مسلمانوں کے تفرقہ اور شیرازہ بکھرجانے اور بہت سے مسلم عوام اور سادہ لوح افراد کے صحیح علم اور سلفِ صالحین کے مسلک سے محروم کردیئے جانے پر ہے، جو درحقیقت پوری قوم کا ضرر ہے ،نیز اس بناء پر ہے کہ ہرجماعت میں کچھ نہ کچھ خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور کم و بیش مخلصین بھی ہوتے ہیں؛لیکن افتراق کی نحوست سے ہرایک کی خوبی سے دوسرا محروم ہے ۔ساتھ ہی اس بناء پر بھی ہے کہ بریلوی ہوں یا دیوبندی ؛تمام بنیادی باتوں: اقرارِ توحید، عظمتِ نبوت، عظمتِ صحابہ، حنفیت، طریقت، سلاسل طریقت، اولیاء اللہ سے انسلاک ،سلسلہٴ بیعت و ارشاد، عقیدت و محبتِ اہل اللہ وغیرہ میں اشتراک کے باوجود اس قسم کے مزعومہ؛ بلکہ بتکلف آوردہ جزئیات کے ذریعہ افتراق بلکہ عناد آمیز فرقت اور بکرات ومرات اس کا احیاء و تجدید جہاں پوری قوم کا ضعف اور آزار ہے، وہیں وہ اعداء اللہ اور اعداءِ دین کے لیے سببِ تضحیک و استہزاء بھی بنا ہوا ہے، جس سے پوری قوم کے وقار او رعزت پر اثر پڑ رہا ہے۔
آج عوامی مناظروں کے چیلنج تو دیے جاتے ہیں اور دوسرے لفظوں میں عوام کو خواص پر مسلط تو کیا جارہا ہے، جس سے عوامی سطح پر فتنہ ابھرتا اور نکھرتا جارہا ہے اور نتیجہ میں عوام دین سے بیزار ہی ہوتے چلے جارہے ہیں، جنھیں اہل دین کے خلاف اشتعال دلاکر اکسایا جاتا ہے؛ لیکن یہ نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے تھا کہ قوم کی مجموعی عزت و آبرو کی خاطر چند سنجیدہ علماء ان لوگوں کو بلائیں جن پر اعتراضات ہیں اور خودانھیں سے پوچھیں کہ وہ کس حد تک ان سے الگ ہیں اور کس حد تک شریکِ عقیدہ و عمل ہیں۔ مشترک حصے کو ”اساس“ قرار دے کر بقیہ کے لیے اگر اس میں کسی حجت کے سبب توافق نہ ہوسکے، حدود متعین کی جائیں جس سے کم سے کم منافرتِ باہمی اور تعصبات کی آگ تو دھیمی پڑچائے اور عوامی سطح کی اشتعال انگیزیاں کسی حد تک اعتدال پر آجائیں اور ایک دوسرے سے قریب ہوکر کسی باحجت گفت و شنید کا راستہ پڑجائے۔ تجربہ ہے کہ بہت سی بدظنیاں اور غلط فہمیاں جو بُعد سے پیدا ہوتی ہیں، قرب سے خود بخود ختم ہوجاتی ہیں۔ او روہ منافرت جاتی رہتی ہے جو افہام و تفہیم اور خیرجوئی سے ہمیشہ مانع رہی ہے، پھر بھی اگر اختلاف باقی رہتا ہے تو وہ حجت کا ہوتا ہے جو مضر نہیں۔
یہ چند سطریں ان مسائل کی نوعیت کے پیش نظر بے ساختہ زیر قلم آگئیں جو ممکن ہے کہ رفتارِ زمانہ کو دیکھتے ہوئے اس مضمون سے جوڑ نہ کھائیں۔ تاہم اس مضمون میں بسلسلہٴ مسائل جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس کا مقصد بیانِ مسلک کے ساتھ ان اکابرِ مرحومین کی طرف سے دفاع ہے جو بے وجہ مطعون اور متہم کیے گئے ہیں۔ اور ان کی عبارتوں میں انھیں مجروح کرنے کے لیے ان کے خلاف مرادِ مطلب ان کے سرتھوپ دیا گیا ہے ،گویا ان کی مقدس علمی و عملی زندگیوں میں حرف زنی کے لیے جب کچھ نہ مل سکا، تو ان کی چند عبارتیں سامنے رکھ لی گئیں ہیں اور ان میں اپنا مفروضہ مطلب ڈال کر زبردستی ان کے سر تھوپاگیا ہے، جس سے وہ براء ت کا بار بار اعلان کرچکے ہیں؛ اس لیے وہ مظلوم ہیں او ران کی مدافعت قطعِ نظر اور وجوہِ خیر کے مظلوم کی حمایت اور ظلم کی مدافعت ہے۔
اس مضمون کے مقدمہ میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے وہ بیانِ واقعہ اور پس منظر کے اظہار کے طور پر ہے کہ ا س کے بغیر ان مسائل کے نشو ونما کی تاریخ سامنے نہیں آسکتی تھی او ر رسائل کی تشفی بھی نہیں ہوسکتی تھی،جس نے سوال ہی تاریخی انداز پر کیا تھا۔
مضمون کے خاتمہ میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے وہ دل سوزی اور اظہارِ درد کے طور پر عرض کیا گیا ہے، نہ طعن و تشنیع مقصود ہے نہ الجھنا یا الجھانا، اور نہ ہی مناظرانہ بحثوں یا ”رد و قدح“ کا سلسلہ چھیڑنا پیش نظر ہے، بلکہ نتیجہٴ بحث کے ساتھ صرف اپنے دل کی دردمندانہ آواز سنانا ہے۔ واللّٰہ علی ما نقول وکیل“
اس پر بھی اگر کوئی لفظ یا عنوان حضراتِ بریلی یا ان کے بزرگوں کے خلافِ شان آگیا ہو تو میں بصدق دل اس کی معافی چاہتا ہوں، نیت میں اس طرح کی کوئی آمیزش نہیں ہے۔ وباللّٰہ التوفیق!
محمد طیب غفرلہ
مہتمم دارالعلوم دیوبند

ویلنٹائن ڈے ، حقائق ، مضمرات اور خرابیاں

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی*

اللہ عزوجل نے انسان کو عقل وخرد سے نوازا، نفع ونقصان کے تعین کی صلاحیت اس میں دیعت کی ، اس کے لئے اچھے اور برے راستے نشان زد کئے، اس کے اندر شر وخیر دونوں مادے رکھے ، اور دونوں راستوں کی جہات اور نشانات متعین کئے ، اب اس کو بحیثیت ایک انسان ہونے کے اس سے ہر صادر ہونے والے فعل کے دور رس اور سنگین اثرات کے تعین کے بعدہی اس کے لئے اس کو اقدام کرنا چاہئے ، اس لئے کہ انسانیت اور حیوانیت کا امتیاز ہی یہی ہے کہ اللہ عزوجل نے انسان زیور عقل مزین کیا ہے ، وہ برے بھلے کی تمیز کی صلاحیت رکھتا ہے،البتہ چونکہ اللہ عزوجل نے انسان کے اندر شر وخیر ، برائی وبھلائی ہر دو طرح کے مادے اس میں ودیعت فرمائے ہیں، اس لئے کہ اس سے صادر ہونے والے ہر فعل وعمل پر اچھائی کا لیبل چسپاں نہیں کیا جاسکتا ؛ چونکہ انسان جب اپنے اندر شر کے مادے کی پرورش کرتا رہتا ہے ، وہی مادہ اس کے جسم وجاں میں پیوند وپیوست ہوجاتا ہے تو اس کا ہر اٹھنے والا قدم برائی ، بد حیائی اور اخلاق سوزی، سماج ومعاشرے کو کھوکھلا کرنے ، اس کے بانے اور تانے بکھیرنے کی کی طرف نادانستہ یاخواہشات وجذبات کی رو میں بہہ کر اٹھتا ہے ، اس لئے معاشرے اور سماج میں ہر پننے والے عمل کی توثیق وتائید نہیں کی جاسکتی ہے ، اچھائی بھی یہ انسانیت کا وصف خاص ہے ، حیوانیت کانہیں، اللہ نے انسان میں اچھائی کا بھی مادہ رکھا ہے ، جب وہ اس مادے کی پرورش وپرداخت کرتا ہے تو اس کو اس وقت اچھائی کی راہ کا اپنا اور اس پر چلنا اچھا لگتا ہے اور برائی برائی نظر آتی ہے ، ورنہ وہ غلط راستے پر چل کر اچھائی سے بیر کرنے اور برائی سے گلے لگانے کو چاہتا ہے ۔
رہتی دنیا سے لے اب تک روئے زمین پر جتنے بھی مذاہب وجود میں آئے ہیں، سبھی مذہبوں بشمول مذہبِ اسلام سب نے اچھائی ہی کی تعلیم دی ہے ، مذہب کا اطلاق بھی انہیں تعلیمات پر حقیقت میں ہوتا ہے جن میں اچھائی کا وصف ہو ، جو اچھائی کی تعلیم دے اور برائی سے روکیں ، جن مذاہب میں برائی کی تعلیم کا وجود ہوتا ہے ، درا صل وہاں انسانیت کی بری سوچ اور اس میں ودیعت کی ہوئی برائی کا اس میں دخل ہوتا ہے ۔
در اصل اس تمہید کا مقصود یہ ہے کہ سماج میں پننے والی ہر برائی کی وہ انسانیت کی خرا ب سوچ اور اس کا انسانیت کے جامہ سے نکل حیوانیت کے جھنڈ میں چلا جانا ہوتا ہے ۔
ویلٹینائن ڈے ، تاریخ پس منظر :
اس سلسلے میں بے شمار روایات ہیں، سب بے حیائی اور خدائی نظام اور فطرت انسانی سے ہٹ کر انسانیت کی اپنے خواہشات اور نفسانیت کی بندش میں بندھے ہوئے نظام کے تناظر میں وجود میں آئیں ہیں :
۱۔ اس سلسلے میں ایک روایت یہ ہے کہ : روم کے بادشاہ کلاڈیس دوم کے وقت میں روم کی سر زمین مسلسل جنگوں کی وجہ سے جنگوں کا مرکز بنی رہی اور یہ عالم ہواکہ ایک وقت کلاڈیس روم کی اپنی فوج کے لئے مردوں کی بہت کم تعداد آئی، جس کی ایک وجہ یہ تھی روم کے نوجوان اپنی بیویوں اور ہم سفروں کو چھوڑ کر پردیس جانا پسند نہ کرتے تھے ، بادشاہ کلاڈیس نے یہ حل نکالا کہ ایک خاص عرصے کے لئے شادیوں پر پابندی لگادی جائے ؛ تاکہ نوجوان فوج میں داخل ہوسکے ، اس موقع پر سینٹ ویلنٹائن نے سینٹ مارلیس کے ساتھ مل کر خفیہ نوجوان جوڑوں کی شادی کروانے کا اہتمام کیا، لہٰذا جب کلاڈیس کو اس کا پتہ چلا تو اس نے سینٹ ویلنٹائن کو گرفتار کر کے اس کو اذیتیں دے کر ۱۴/فروری ۲۶۹عیسوی کو قتل کردیا ، لہٰذا ۱۴ /فروری سینٹ کی موت کے باعث اہل روم کے لئے معتبر ومحترم دن قرار پایا ۔(اگر ویلیٹائن کی حقیقت کچھ یوں ہے تو بے حیائی اور بد اخلاقی کو یہاں کہاں سے راستہ مل گیا)
۲۔ اسی طرح اس سلسلے میں ایک واقعہ یہ ملتا ہے کہ ویلیٹائن نام کا ایک معتبر شخص برطانیہ میں بھی تھا، یہ بشب آف ٹیرنی تھا جسے عیسائیت پر ایمان کی جرم میں ۱۴فروری کو ۲۶۹عیسوی کو پھانسی دی گئی تھی ، کہا جاتا ہے کہ قید کے دوران بشب کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی ، او روہ اسے محبت بھرے خطوط لکھا کرتا تھا، اس مذہبی شخصیت کے ان محبت ناموں کو ویلنٹائن کہاجاتا ہے ، چوتھی صدی عیسوی تک اس د ن کو تعزیتی انداز میں منایا جاتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ اس دن کو محبت کی یادگار کے طور پر منایا جانے لگا۔ اور برطانیہ میں اپنے منتخب محبوب اور محبوبہ کو اس دن محبت بھر ے خطوط ، پیغامات ، کارڈ اور سرخ گلاب بھیجنے کا رواج پاگیا۔
برطانیہ سے رواج پانے والے اس دن کے بعد امریکہ جرمنی میں بھی ویلٹنائن ڈے منایا جانے لگا، تاہم جرمنی میں دوسری جنگ عظیم تک یہ دن منانے کی روایت نہ تھی، برطانیہ میں ۱۴ /فروری کو لکڑی کے چمچے تحفے کے طور دیئے جانے کے لئے تراشی جاتے اور خوبصورتی کے لئے ان پر دل اور چابیاں لگائی جاتی تھی ، تحفے وصول کرنے والے کے لئے اس بات کا اشارہ ہوتا کہ تم میرے دل کو اپنی محبت کی چابی سے کھول سکتے ہو ۔
۳۔ اس سلسلے کی تیسری روایت یہ ہے کہ قدیم روما میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا ایک تہوار منایاجاتا تھا، اس تہوار میں کنواری لڑکیاں محبت کے خطوط لکھ کر ایک بہت بڑے گلدان میں ڈال دیتی تھیں، اس کے بعد محبت کی اس لاٹری سے روم کے نواجوان لڑکے ان لڑکیوں کا انتخاب کرتے جن کے نام کا خط لاٹری میں أن کے ہاتھ آیا ہوتا ، پھر وہ نوجوان لڑکے لڑکیاں کورٹ شب (courtship) کرتے یعنی شادی سے پہلے آپس میں ہم آہنگی (under standing)پیدا کرنے کے لئے ملاقاتیں کرتے،اس کے بعد عیسائیت کے مذہبی رہنماوٴں نے اس مشہور جواز باز رسم کو ختم کرنے کے بجائے اسے سینٹ ویلنٹائن ڈے میں بدل میں دیا ، ویبسٹر فیملی انسائیکلوپیڈیا کے مقالہ نگار کے بموجب سیٹنٹ ویلٹائن ( جس کی وفات ۲۶۹ میں ہوئی تھی) کی زندگی کا تہوار قرار دیا، حالانکہ جو کچھ اس تہوار میں کیا جاتا ہے ، ان کا کوئی تعلق نہیں۔
۴۔بعض لوگ اسے کیوپڈ ( محبت کے دیوتا ) اور وینس ( حسن کی دیوی ) سے موسوم کرتے ہیں، یہ لوگ کیوپڈ کو ویلنٹائن ڈے کا مرکزی کردار کہتے ہیں، جو اپنی محبت کے زہر بجھے تیر نوجوان دلوں پر چلاکر انہیں گھائل کرتا ۔
اس کے علاوہ ویلنٹائن ڈے سے متعلق بے شمار روایات اور عقائد ہیں ، جن کا ذکر ان میں موجود بے حیائی اور بد اخلاقی کی وجہ سے کرنا نہیں چاہتا، نقل کفر کفر نہ باشد کے مصداق ان روایات کا بھی تذکرہ کیا جاتا ہے کہ پس منظر کو اچھی طرح سے جان لیا جائے ، جن روایات اور خرافات کی بنا اس یوم عاشقاں پر رکھی گئی ہے وہ توہمات، خرافات اور برائیوں ، بے حیائیوں اور بد اخلاقیوں پر مبنی ہے ۔
زمانہ قدیم سے مغربی ممالک میں یہ دلچسپ روایت بھی زبان زد عام وخاص ہے کہ اگر آپ اس بات کے خواہش مند ہیں کہ یہ جان سکیں کہ آپ کی کتنی اولاد ہوگی تو ویلنٹائن ڈے پر ایک سیب درمیان سے کاٹیں ، کٹے ہوئے سیب کے آدھے حصے میں جتنے بیچ ہوں گے اتنے ہی اولادآپ کی ہوگی ، جاپان میں خواتین ویلنٹائن ڈے پر اپنے جاننے والے تمام مردوں کو تحائف پیش کرتی ہیں، اٹلی میں غیر شادی شدہ خواتین سورج نکلنے سے پہلے کھڑی کھڑ کی میں کھڑی ہوجاتی ہیں، اور جو پہلا مرد ان کے سامنے گذرتا ہے ، ان کے عقیدے کے مطابق وان کا ہونے والا خاوند ہے ، جب کہ ڈنمارک میں برف کے قطرے محبوب کو بھیجے جاتے ہیں، تحریری طور پر ویلنٹائن کی مبارک باد دینے کا رواج ۱۴ صدی میں ہوا، ابتداء میں رنگین کاغذوں پر واٹر کلر اور رنگین روشنائی سے کام لیاجاتا جس کی مشہور اقسام کروسٹک ویلنٹائن ، کٹ آوٴٹ ، اور پرل پرس ویلنٹائن کارخانوں میں بننے لگے ، ۱۹ صدی کے آغاز پر ویلنٹائن کارڈ بھیجنے کی بروایت باقاعد طور پر پڑی جو اب ایک مسقتل تہوار کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔
لیکن جن روایتوں کا بھی تذکرہ یہاں کیا گیا ہے ، یہ حقیقت سے سے زیادہ خرافات لگتی ہیں، اگر کسی درجے میں ان کو حقیقت تسلیم بھی کر لیا جائے تو ویلنٹائن ڈے کے حواس باختہ اور اخلاق سوز حرکات وسکنات کا اس سے کیا تعلق ، آخری جو امور ذکر کئے ہیں، وہ تو توہم وخرافات اوراٹکل سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں شادی کی بناء اس روز سب سے پہلے نظر پڑنے والے انسان پر رکھی جائے ، یہ سب خرافات واوہمات کا منبع ہے ۔
ویلٹنائن ڈے کی خرابیاں :
۱۔ حیاء انسان کا زیور ہے ، خصوصا عورت پیکر حیاء کا مجسم ہے ، یوم عاشقاں یہ حیاء دار انسانوں کا کام نہیں ہے ، یہ بے حیائیوں اور بد اخلاقوں کا تہوار ہوسکتا ہے ، ایک حیاء دار ، عفیف ، پاکیزہ شخص کا نہیں ہوتا، ا سی لئے کہا گیا ہے ، عربی کا مقولہ ہے ”إذا فاتک الحیاء فافعل ما شئت “ ( جب مایہ حیاء تجھ سے مفقود اور معدوم ہوجائے تو پھر جو چاہے کر ) ۔اس لئے حیاء دار ، عزت دار اور خود دار اورغیرت مند معاشرے ویلنٹائن ڈے یا اس قسم کے حیاء باختہ عفت سوز تہواروں کا کوئی مقام نہیں ہے ۔عورت کا وصف قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے ” تمشی علی استحیاء “ (پیکر حیاء بن کر چل رہی تھی)۔ چے جائے کہ عورت کسی غیر نا محرم مرد سے دوستی کرے تعلق بڑھائے یہاں تو مرد کی موجودگی میں عورت کے پیکر حیاء بن کر چلنے کا ذکر ہے ، اسوقت ہمارے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو حیاء نسوانی تار تار نظر آتی ہے ، عورت مرد کے شانہ بشانہ چلتی نظر آتی ہے ،حیاء کو اخلاق کا تاج کہا گیا ہے ، تاج صاحب مرتبت کے سر پر سجایا جاتا ہے ، اور ایک جگہ کہا گیا : ”حیاء عورت کی زینت ، مرد کی فضیلت اور دونوں کی محافظ ہے “ ۔اور ایک جگہ کہاگیا کہ : ” اللہ عزوجل کی جانب سے انسان کے حق میں سب بڑا عذاب اور عقاب یہ ہے کہ اس سے زیور حیاء چھین لیا جائے “ اور ایک جگہ فرمایا گیا:” حیاء خیر ہی خیر ہے “ اور ایک جگہ فرمایا: ”إذا ذھب الحیاء حلّ البلاء“ ( جب حیاء ختم ہوجاتی ہے تو بلاء نازل ہوجاتی ہے ) اور خصوصا عورت میں مادہ حیاء تو اس کا فطری زیور ہے بلا امتیاز مذہب وملت کے ہر عورت مرد سے حیاء کرتی ہے ، سوائے جو بے حیاء ہوجائے ۔
۲۔اللہ عزوجل نے بیوی شوہر کے رشتے کے ذریعے انسانی سماج اور معاشرے کی بنیاد رکھی ہے ، یہی سے سارے رشتے اور خاندان اور معاشرہ اور سماج وجود میں آتا ہے ،ان کی بطن سے ہونے والی اولاد کو ان کے ماں باپ دادای دادی اور نانا نانی لگتے ہیں، ان کے بھائی بہن ، چاچا پھو پی اور خالہ اور خالو شمار ہوتے ہیں، پھر ان کے بھائی بہنوں کی رشتہ دار یاں ان کے لئے بھائی لگتے ہیں، اس طرح سماج اور معاشرہ اور خاندان تشکیل پاتا ہے ، عورت یا تو ماں ہوسکتے ہے ، یا کسی کی بہن ، بہو ، بھابھی ، بیوی ، خالہ پھوپھو، جس تعلق کے نتیجے میں کوئی رشتہ داری وجود میں نہ آتی ہو ، وہ حیوانیت ہے ، اسے انسانیت نہیں کہہ سکتے ، جانوروں کے مابین کوئی رشتہ داری نہیں ہوتی،(Girl friend) کالفظ کسی رشتہ داری پر نہیں بولا جاتا ہے ، یہ بے حیاء دوستی کا نام ہے ، اگر یوم عاشقاں جیسے مرد وعورت کے بے محابا ، بغیر شادی کے بندھن کے بندھے ہوئے مہلک اور تباہ کن حیاء سوختہ امور کی اجازت دی جائے تو معاشرے کا تانے بانے کا بکھرنا ضروری ہے ، آج خاندان سے سکون وطمانیت رخصت ہوچکا ہے ، آج کے حیاء باختہ معاشرے نے رشتے کے احترام اور تقدس کو پامال کردیا ہے ، ہر شخص اپنے لذت تن بدن کی تکمیل میں لگاہوا ہے ۔ نا ماں کا تقدس ہے ، نہ باپ کا احترام، نہ بیوی کی قدر ، غلط اور بے حدود اور بے لگام راہیں انسان کو اچھی بھانے لگی ہیں ، جس سے سماج بکھرتا جارہا ہے ۔
۳۔ ویلنٹائن ڈے کے منانے کے حوالے سے یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ اس سے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، بالکل بے بنیاد بات ہے ، آپ مغرب کی ا س گندگی تہذیب پر نظر ڈوڑائیں جہاں یہ تہوار ہر سطح پر منایا جاتا ہے ، وہاں محبت کا کیا اوسط ہے ، ان کے معاشرے میں گھروں میں کس قدرمحبت ہے ؟
یہ کہنا بھی بے جا ہے کہ ازدواجی زندگی سے پہلے محبت ہوجائے تو زندگی بڑی کامیاب ہوتی ہے ، یہ محض خواب اور سراب ہے ، اس کا حقائق کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں، قاہرہ کے ایک سروے کے مطابق جس میں انہوں نے پور ی دنیا کا سروے کر کے اپنی رپورٹ مرتب کی ہے اور نتائج کو لکھا ہے کہ ایسی محبت جو ازدواجی زندگی سے پہلے ہوتی ہے ، اور پھر اس محبت کی بنیاد پر جو شادیاں کی جاتی ہیں، ان شادیوں میں سے 88%شادیاں ناکام ہوتی ہیں، اورصرف 12%شادیاں ہی کامیاب رہتی ہیں، اس کے بالمقابل جو شادیاں حیاء اور شرم کے دائرے اور شریعت کے حدود میں رہ کر کی جاتی ہے ایسے شادیوں میں کامیابیوں کا تناسب 78%پایاگیا ہے ۔
قابل غور بات یہ ہے یہ جشن اور تہوار جس معاشرے میں منایا جاتا ہے ، وہاں عورتوں پر ہونے والے مظالم کی اوسط خطرناک حد تک بڑھی ہوئی ہے : فرانس میں کئے جانے والے ایک سروے کی رپورٹ کے مطابق 10ملین عورتیں اپنے شوہروں کے مظالم کی شکار ہوتی ہیں، یا پھر ان مردوں کا شکار ہوتی ہیں جو ان کے ساتھ رہتے ہیں، اور ان میں سے چار ہزار عورتیں ہر سال ان کے مظالم کی وجہ سے ہلاک ہوتی جاتی ہیں۔(ویلنٹائن ڈے ، مولانا عبد الستار صاحب ) ۔
۴۔ویلنٹائن ڈے ، ہپی نیو ایئر اور عورتوں کے رضا ورغبت سے ایک دوسرے سے دوستی اورملاقات کی اجازت کے نتیجے میں جو وبال معاشرے میں آرہا ہے ، یہ کسی عذاب اور سونامی اور زلزلہ سے کم نہیں ہے ، زلزلے اور سونامے سے تو مکان ڈھتے ہیں، یہاں رشتہ ڈھ رہے ہیں، انسانیت جیتے جی مردہ اور لاشہ ہورہی ہے ، گھر بابرد ہورہے ہیں، نسلیں برباد ہورہی ہیں، حیا لٹ رہی ہے ، جوانیاں دار غ دار ہورہی ہیں، بیٹیوں کی عفت نیلام ہورہی ہے ، نوجوان کا شباب دا غ دار ہورہا ہے ، بیٹا باپ کا نہیں رہتا، بیٹی ماں کی نہیں رہتی ۔
۵۔ آج کل عورت کی عصمتوں کے لٹنے کا خیال تو ہر شخص کو ستا تا ہے ، عورت کے وقار کا پامال ہونا ہر شخص کو نظر آتا ہے ، جب کسی ماں بیٹی کی عصمت یا عفت پر کوئی بد اطوار شخص ہاتھ ڈالنے یا اس کی جانب دست درازی کی کرنے کی نا تمام کوشش کرتا ہے ، تو ہر شخص اس عورت ساتھ کھڑا نظر آتا ہے ، عورت پر دست درازی کے بعد والے قانون سخت بنائے جانے کی مانگ کی جاتی ہے ، لیکن برائی اور بے حیائی کے ان دروازں پر بند نہیں لگایاجاتا ہے ، جہاں سے معاشرے میں بے حیائی پنپتی ہے ، مخلوط تعلیم گاہوں، مرد وزن کے بے محابا اختلاط، دو ٹوک میل جول پر پابندی لگانے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے ، عورت کے با حیاء لباس زیب تن کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اس کو دقیانوس اور نیچی سوچ رکھنے والا گردانا جاتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک معاشرے میں اس طرح کے حیاء سوز تہواروں کے منانے سے اجتناب نہیں کیا جاتا ہے اور ان کی مذمت نہیں کی جاتی ، ان کی پشت پناہی سے دور ی اختیار نہیں کی جاتی ، جب تک نسل نو ان حیاء سوز کاموں سے اجتناب کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے ، معاشرے اور سماج میں حقیقی چین وسکون کا حاصل ہونا صرف ایک خواب اور سراب رہ جائے گا، یہ تو موجودہ دور کی مغرب کی دین ہے ، خود ہمارے شہر حیدرآباد کے علاوہ دیگر شہروں کے احوال نہایت دیگر گوں ہیں، یہاں کے مہذب سماج میں عورت آج میں عورت خواہ وہ ہندو ہی ہو حیاء دار کپڑے زیب تن کرتی ہے، آج ہم جس روش پر چل پڑے ہیں یہ تو مغرب کی دین ہے ، جو یہ چاہتا ہے کہ ہمیں آپس کے بکھیڑے میں مصروف رہ ملک وقوم کی ترقی سے پیچھے رکھ دے ۔
اس لئے گذارش یہ ہے یہ ہماری مشرق اور حیاء دار تہذیب سے میل کھانے والے تہوار نہیں، اس لئے اس سے بالکلیہ اجتناب ہی میں معاشرے کی کامیابی وکامرانی اور قوم کی ترقی وتعمیر ممکن ہے۔

"مولانا آزاد علیہ الرحمہ کی نظر میں مساوات کی حقیقت” – ایک یادگ ار تقریر

مسلمان مجرم ہوگا جو کسی مسلمان سے پیشہ یا کام کی بنا پر اس سے پرہیز کرے گا، اس کو بہ نظر ذلت دیکھے گا۔

” برادران عزیز!

کل صبح کچھ لوگ لوگ میرے پاس آئے جو یہاں سے قریب ہی رہتے ہیں انھوں نے ایک بات کہی اور بات کے بارے میں شرعی نقطہ نگاہ دریافت کیا میں نے ان کوجواب تو دے دیا اور اس کے بعد وہ لوگ چلے بھی گئے لیکن میں کیا بتاؤں کہ اس وقت میرے قلب کی بے چینی، اضطراب اور اضطرار کا کیا عالم تھا اور رہ رہ کر کون سا درد تھا جو میرے جسم و حواس کا ناکارہ کئے دے رہا تھا، موجودہ مسلمانوں کی پست ذہنیت، جھوٹا غرور، بیجا فخر اور اس کے نتائج یہ ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے آتے اور مجھے لرزہ براندام کرتے گئے۔بات کیا تھی؟ کہنے اور سننے میں تو معمولی اور بہت ممکن ہے کہ اس قسم کے واقعات تم روز سنا کرتے ہو اور تمہارے دل پر اس کا کوئی اثر بھی نہ ہوتا ہو، مگر بہ اعتبار نتائج یہ بات جتنی اہم ہے اور اس زمین پر ایک مسلمان کے لیے شرمناک میں نہیں سمجھتا کہ اس سورج کے نیچے اس سے بڑھ کر، کوئی اور بات دردانگیز اور دل فگار ہو۔

ان لوگوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ ان لوگوں میں ہیں جن کو ’لاگ بیگی‘کہتے ہیں۔ ہندوستان کے ہر گوشے میں ہماری برادری ہے، صفائی اور گھروں میں کمائی کا کام ہمارا پیشہ اور شکم پری و تن پروری کا ذریعہ ہے، ہم لوگ مذہباً مسلمان ہیں۔ ہم میں کوئی مر جائے تو اسلامی طریق پر غسل میت اور تجہیز و تکفین کرتے ہیں۔ پیدائش کے موقع پر تمام وہ رسوم ادا کرتے ہیں جو مسلمانوں کے یہاں برتی جاتی ہیں۔ نماز روزہ کے بھی معتقد ہیں اگرچہ پابند کم ہیں۔ خدا رسول کے بارے میں ہمارے وہی عقائد ہیں جو عامۃ المسلمین کے لیکن اس کے باوجود مسلمان ہم سے چھوت برتتے ہیں، ذلیل سمجھتے ہیں اور حقارت سے پیش آتے ہیں۔ چنانچہ ہماری برادری کا ایک آدمی محلہ کے ہوٹل میں چائے پینے گیا۔ دوکاندار کو ہماری ذات معلوم نہ تھی، وہ چائے پی کر اور قیمت ادا کر کے چلا آگیا لیکن بعض لوگ جو ہماری ذات سے واقف تھے انھوں نے دوکاندار سے سخت باز پرس کی اور بائیکاٹ کی دھمکی دی۔ وہ سہم گیا اور بھاگا ہوا ہمارے سردار کے پاس آیا۔ اس آدمی کو بلوا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ ہمارے چند آدمی اس کے ساتھ بھی ہولیے۔ چنانچہ وہاں سب کے سامنے ہم کو برا بھلا کہا گیا جس پر ہم لوگوں نے بہ خوشامد معافی مانگی، تب کہیں جان بچی، دوکاندار سے وہ برتن جس میں ہمارے آدمی نے چائے پی تھی سب کے سب توڑوا ڈالے اور اس کی قیمت ہم سے وصول کی گئی۔ اس کے بعد سارے برتن دھوئے گئے اور ہوٹل کی دھلائی کی گئی اور دوکاندار نے آئندہ محتاط رہنے کی قسم کھا کر جان بچائی۔

اس واقعہ کو بیان کر کے ان لوگوں نے مجمع سے اس معاملہ میں شرعی احکام دریافت کئے اور پوچھا کہ کیا واقعی شرع شریف کی نگاہ میں بھی ہم اسی سلوک کے مستحق ہیں۔

آہ میں کیا کہوں کہ اس سوال نے میرے دل کے کتنے ٹکڑے کئے۔ اور روح کو کیسا صدمہ عظیم پہنچایا، شرم، ندامت، انفعال و انقباض سے گردن جھک گئی اور میں پسینہ پسینہ ہوگیا۔

مسلمانو!فخر و غرور، فضیلت و برتری کے اسی جھوٹے بت کو اسلام نے مٹایا تھا اور داعی اسلام نے مساوات حقیقی کے بے برگ و بار درخت کو سرسبز کیا تھا ،کیا تم پھر اسی جہالت کے دور میں واپس پہنچ گئے ہو۔ جس طرح تم نے اور بہت سے جتھے اور برادری اور گروہ بنائے، فضیلت و برتری کے مفروضہ مراتب قائم کئے حالانکہ خدا نے کوئی پروانہ نہیں اتارا کہ فلاں گروہ معزز اور فلاں برادری ذلیل ہے بلکہ اس نے فرمایا تو یہ فرمایا کہ

یا ایھا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثیٰ و جعلناکم شعوبا و قبال لتعارفوا۔

لوگو!ہم نے تم کو بلا استثنا مرد و عورت کے اختلاط سے پیدا کیا اور صرف پہچان کے لیے قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ قوموں کی تقسیم میں کوئی دقت نہ پیدا ہو۔ یعنی بلحاظ پیدائش سب ایک، کسی کو کسی پر تفوق، کوئی فضیلت، کوئی برتری نہیں ہے، البتہ قومیت و مملکت کی تقسیم کی خاطر اس پہچان کے لیے کہ یہ شخص عرب کا ہے، یہ افریقہ کا، یہ یورپ کا،یہ ہندوستان کا، قبائل میں بانٹ دیا ہے اور بس۔ لیکن اس فضیلت و اعزاز کے لیے جس کا غلط گمان آج کہلانے والے مسلمانوں نے اپنے لیے خاص کر لیا ہے اس نے معیار ٹھہرایا تو یہ ٹھہرایا۔

ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم

اللہ کے نزدیک معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار و متقی ہے۔ بتاؤ تم نے اپنی فضیلت و تفوق کا جواز کہاں سے نکالا۔ گروہ بندی، جتھہ بندی، براداری کی تقسیم اور پھر اس تقسیم میں کم معزز اور زیادہ معزز کے مفروضہ مدارج تم نے بنائے ہیں ایک بھی صحیح نہیں ہے،اسلام نے اس طرح کی کوئی بھی تقسیم تسلیم نہیں کی جس طرح ہندوستان میں ہندوؤں نے اپنی چار ذاتیں اور ان کا اعزاز و اکرام فرض کر لیا تھا کہ چھوت چھات کی رسم جاری کی تھی یا مصر کے آثار و نقوش بھی بتاتے ہیں کہ ان میں بھی جذبہ تفوق و انانیت تھا، یا پھر قبل از اسلام عرب میں کسی نہ کسی شکل و صورت میں چھوت چھات اور فخر و غرور کارفرما تھا۔ لیکن بسربعثت خیرالناس و خیرالرسل یہ چیز آہستہ آہستہ معدوم ہوتی گئی اور زیوراسلام سے آراستہ ہونے کےبعد ایک مسلمان کے نزدیک تو اس بیجا غرور کا کوئی شائبہ بھی باقی نہیں رہ جاتا۔

انسان بڑا ہے یا چھوٹا اللہ کے نزدیک جس کا دل پاک ہے وہی بڑا ہے۔ برادری، گروہ یا جتھہ کا کہیں سوال ہی نہیں آتا۔ جسم!جس کے تم پیچھے پڑے ہو اور جس کی بابت تمہارا خیال ہے کہ اگر وہ صاف ہے اور دوسرے کپڑے بھی صاف ہیں اور ڈھکا ہوا بھی، اچھے درزی کے ہاتھ سے سلے ہوئے کپڑے پہنے ہے تو وہی اشرف و معزز و برتر انسان ہیں۔ مگر یاد رکھو کہ یہ طہارت اور صفائی بھی طہارت و صفائی نہیں۔ سچی طہارت اور سچی صفائی دل کی طہارت اور دل کی صفائی ہے اور برتری و فوقیت بھی اسی آدمی کو ہے جس کے سینے میں اس کا دل طاہر و صاف ہو۔

سن لو! کہ زبانی عقائد سے نہیں، مسلمان عمل سے مسلمان ہوتا ہے اور پھر جب زبانی اقرار و عقائد کے اعتبار سے بھی وہ لوگ تمہاری طرح ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، تو پھر ان کے ساتھ تمہارے یہ وحشیانہ سلوک کیوں؟ ان میں بھی بہت سے ایسے ہیں جو صوم صلوۃ کے پابند ہیں، کتنے ایسے ہیں جو کہ پابند نہیں۔ اور تم خود بتاؤ کہ تمہارا کیا حال ہے؟ کیا خود تمہارا بھی یہی حال نہیں ہے؟ کہ نماز و روزہ کے پابند ہیں مگر اکثر، ہائے اکثر غافل و تارک صلوۃ۔ اور عجب نہیں کہ تمہارے غرور والے اور مدعیان فضیلت تفوق قیامت کے دن منہ دیکھتے رہیں اور وہ اعزاز و تکریم میں تم سے بڑھ جائیں۔

چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ، ارشاد اور تعلیم ہمارے سامنے ہے۔ ایک سے زائد نمونے ہمارے پیش نظر ہیں کہ اقوام غیر اور نامسلمانوں کے ساتھ آپ کا میل جول، اکل و شرب، کس قدر بڑھا ہوا تھا، بے تکلی کی فراوانی نے کبھی مسلم و غیر مسلم کی تمیز تک نہ ہونے دی، دیکھنے والے یہی سمجھتے رہے کہ ایک اپنے خاندان کے کسی فرد یا سچے اور پکے مسلمان سے محو کلام و مصروف گفتگو ہیں۔ یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکوں کے ساتھ بے تکلف شریک طعام ہوجایا کرتے تھے۔ اور کبھی اس قسم کا پرہیز نہ فرمایا۔ چنانچہ دو واقعے اس معاملے میں نہایت اہم اور تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔

ایک مرتبہ عیسائیوں کا ایک ڈیپوٹیشن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا، کون سی مسجد، وہ مسجد کہ اللہ کے نزدیک کعبہ اقدس کے بعد قسم ہے خدا کی کہ کوئی محترم و محبوب جگہ نہیں ہے۔ مسجد نبویہ میں ٹھہرایا۔

بخاری کی روایت ہے کہ جب اتوار کا دن آیا تو ان لوگوں کو نماز کے لیے تشویش ہوئی۔ جب واقعہ کا علم اس وجود اقدس کو ہوا جو کسی کے فکر و غم کو برداشت نہیں کر سکتا تھا تو اس نے ان عیسائیوں کو تسلی دی اور فرمایا کہ تم کچھ تردد اور ملال نہ کرو، یہ مسجد عبادت ہی کے لیے ہے تم شوق سے اپنے طریقہ پر نماز ادا کرو، مجھے قطعاً اعتراض نہیں اور نہ کوئی مسلمان کچھ تعارض کرے گا چنانچہ وہ خوش ہوگئے اورپورب کی طرف منہ کر کے اپنے طریقہ پر اپنی نماز ادا کی۔

دوسرا اہم واقعہ نبوثقیف قبیلہ طائف کی آمد کا واقعہ ہے۔ صحاح ستہ میں ہے کہ ان کے ساتھ رحمت اللعالمین کا سلوک نیک تاریخ عالم کے اہم ترین واقعات اور حضور کے روؤف و رحیم اور رحمت اللعالمین ہونے کا ناقابل انکار ثبوت ہے۔ پہلا واقعہ تو یہ ہے کہ اس اعتبار سے کہ اس وقت عیسائیوں کی دشمنی اتنی سخت و شدید نہ تھی اور وہ اہل کتاب بھی تھے اتنا اہم نہیں ہے جس قدر کہ واقعہ ثانی اپنی نوعیت و واقعات و حقائق کی بنا پر اہم ہے۔ اس لیے کہ یہ گروہ یعنی طائق کا قبیلہ بنو ثقیف عقیدتاً مشرک کامل تھا پھر اس گروہ کی اسلام دشمنی کا وہ روح فرسا واقعہ بھی ہے کہ جب سرور دو عالم، محبوب پروردگار مکہ میں دینی تبلیغ کا خاطر خواہ اثر نہ پاکر اس خیال سے طائف تشریف لے گئے کہ مشرکین مکہ کی عداوت میں ذاتیات کو بھی دخل ہے۔ قرب و جوار و دیہات میں شاید تعلیم مفید ہو تو اسی قبیلہ کے سرداروں نے شریروں کی ایک جماعت پیچھے لگا دی۔ جس جگہ حضور تشریف لے جاتے یہ لوگ شور کرتے اور پتھر مارتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وجود گرامی جس سے زیادہ محترم، جس سے زیادہ اشرف، جس سے زیادہ اکرم ابتدائے، ابتدائے تخلیق سے آج تک اس کرہ خاک پر پیدا نہیں ہوا اور نہ ہوگا لہولہان ہوگیا۔ پیشانی اقدس سے خون کے فوارے چھوٹنے لگے اور خون بہہ بہہ کر پیروں تک آیا۔ نعلین مبارک پائے مقدس کے ساتھ وصل ہو کر رہ گئے۔ الغرض جب وہ آئے تو لوگوں نے کہا انھیں ہم لوگ اپنے اپنے گھروں میں ٹھہرا لیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نامنظور فرمایا اورحکم دیا کہ سب کو مسجد میں ٹھہرایا جائے۔ تم تو یہ سن کر چونک پڑوگے کہ مسجد میں اور مشرک کو ہاں ہاں انھیں مشرکوں اور ایسے خوں ریز و مفسد مشرکوں کے بارے میں حکم فرمایا کہ مسجد میں ٹھہرائے جائیں۔ جن کی اسلام و مسلم دشمنی کے زخم اس وقت تک بھی ہرے تھے، مندمل نہ ہوئے تھے اور مسجد میں ٹھہرانے کی علت بھی بتادی کہ یہ لوگ اسلام کی عبادت دیکھیں گے۔ عبادت کی سادگی اور اس کے انہماک و استغراق کو دیکھیں گے۔ اللہ کا کلام سنیں گے، سچائی ان کے کانوں میں پڑے گی۔ شاید راہ نیک کی توفیق ملے۔ چنانچہ ہوا بھی یہی۔ اس وفد میں جتنے لوگ آئے تھے کلام اللہ کی، سچائی کی، باتوں، اخلاق و عادات سے مسلمانوں کے ایسے گرویدہ ہوئے کہ سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ غور کرو! مزاج کی نوعیت کیا تھی، رنگ کیا تھا، مگرخلق عظیم، کردار، عمل اور اخلاص نےکیا بنا دیا۔ آئے تھے دشمن ہو کر گئے تو اس طرح کہ سب کی گردنیں جھکی ہوئی تھیں اور ان میں طوق محبت پڑا ہوا تھا۔ اس ذات بابرکات کا جس کے ساتھ وہ وہ سلوک کر چکے تھے جو تم نے ابھی سنا۔

یہ ہیں وہ کردار جس نے اغیار کو اپنا بنایا تھا نہ کہ تم کہ اپنوں کو ٹھکراتے ہو اور ان کو بیگانہ بناتے ہو۔ اور مشرکوں اور کافروں کے حوالے کئے دیتے ہو۔ خوب سن لو کہ اسلام میں چھوت چھات نہیں ہے۔ بالکل نہیں ہے، قطعاً نہیں ہے۔ یہ ہندو اور دیگر اقوام کی لعنتیں ہیں جن پر تم عامل ہوتے جاتے ہو۔ چھوت چھات ناجائز اسلام میں حرام، بلکہ حرام مطلق ہے، کسی چیز سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بچنے کے لیے اپنی تعلیم میں اتنی تاکید نہیں فرمائی جتنی کہ گندہ چھوت چھات، گندہ خیال سے دور رہنے کی۔ یادرکھو جسم کوئی بھی ناپاک نہیں ہوتا۔ جسم سب کا پاک ہے ہاں ناپاک ہوتا ہے دل، اسی واسطے رسول پاک نے جمعوں، مجمعوں میں لوگوں کو مخاطب فرماتے ہوئے دل کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔

التقویٰ ھھنا التقویٰ ھھنا

تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔ تقویٰ کا مقام یہ ہے، پاکی وہ پاکی ہے جو اس جگہ کی ہو۔ مسیحیت کی کامیابی کی بنیاد چھوت چھات پر ہے۔

عیسائیوں کی تبلیغی عظیم الشان کامیابی کی وجہ بھی یہی چھوت چھات ہے۔ آج کے کل کے مسلمانوں کی اسی پست ذہنیت نے ان پر ترقی کے میدان کھول دیئے ہیں۔ وہ مسلمان جو تمہاری ہی غفلت تبلیغ سے پستی میں رہ گئے اور اسلامی تعلیم وہاں نہ پہنچ سکی اور آج تمہارے خیال میں اچھوت مسلمان ہیں۔ جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمان بات پوچھنا تو درکنار ہمیں مسلمان بھی نہیں سمجھتے تو وہ عیسائی ہوگئے، چنانچہ پنجاب میں آج بھی وہ بستیاں کی بستیاں جو باپ دادا سے مسلمان تھیں عیسائی ہو چکی ہیں اور اسی طرح یوپی میں بھی بستیاں کی بستیاں تم جا کر دیکھو تو آج عیسائی ہیں مگر کل وہ مسلمان تھیں۔ ورنہ عیسائی با اعتبار اپنی رعونت و غرور کے ایک منٹ کے لیے بھی اتنی عظیم الشان ترقی نہیں کر سکتے تھے۔ آج بھی مساوات کا جو عالم اور برکات اور تعلیم مسلمانوں میں ہے ان میں نہیں۔ چنانچہ ان کے یورپین گرجے الگ، نیم یورپین گرجے علیحدہ اور ہندوستانی عیسائیوں کے گرجے جداگانہ مگر یہ دیسی عیسائیوں کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کی خصوصیتوں پر عامل ہو کر تمہاری غفلت اور تمہارے غلط دعویٰ فضیلت و برتری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے عظیم الشان کامیابی حاصل کی ہے۔

تم جانتے ہو کہ بنگال میں مسلمانوں کی تعداد اکثریت میں ہے، کیوں ایسا ہے؟ ابتدا میں بعض سچے داعی اور مخلص مسلمانوں کا قدم آیا اور انھوں نے تبلیغی دورے کر کر کے طرح طرح کی تکلیفیں، کوچ اور مقام کی اذیتیں، خوردونوش کے مصائب، آب و ہوا کے حملے برداشت کر کر کے اللہ کا کام سمجھ کر اللہ کی رسول کی خوشنودی کے لیے اس کے نام و کلمہ کو ان تک پہنچایا، آج گو وہ اس کے عقائد کے لحاظ سے تبدیل شدہ سہی اعمال میں کاہل و غافل سہی لیکن مسلمان ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں، بہرحال بنیاد قائم ہے، عمارت جب چاہے کھڑی کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح یہاں سے قریب ہی کتنی ابنائے وطن کی جماعتیں تھیں جو دل سے مسلمان ہونے کے لیے تیار تھیں۔ مگر براہو اس چھوت چھوات کا کہ وہاں کے مقامی مدعیان فضیلت و تقویٰ نے انھیں مایوس کردیا اور عیسائی ہوگئیں۔

یہی جہالت اور چھوت تو تھی کہ ایک مشرقی بنگال کی اس برادری کا ایک طالب علم جس کو تم نے اپنی گروہ بندیوں میں سب سے نچلی جماعت و گروہ فرض کر رکھا ہے۔ کلکتہ آیا اور مدرسہ عالیہ میں داخل ہوا، اپنی تعلیم ختم کر کے جب وطن پہنچا تو ظاہری کیفیت اور ٹھاٹھ دیکھ کر کسی مسجد میں لوگوں نے نماز کے وقت اس کو امامت کے لیے کھڑا کر دیا۔ بعض لوگ بعد کو آئے اور یہ دیکھ کر یہ تو فلاں برادری کا شخص ہے، حالت نماز ہی میں اس کو مارنا شروع کیا؟ کیوں؟ اس لیے کہ فلاں برادری کا ہو کر امامت کے لیے کیوں کھڑا ہوگیا۔ بالآخر وہ بھاگ کر تھانے پہنچا اور اپنی جان بچائی۔ وہاں سے میرے پاس کسی نہ کسی طرح کلکتہ آیا۔ حالات سن کر میں نے چند آدمیوں کو اس بستی میں بھیجا اور تاکید کی ایک مجلس طعام ترتیب دے کر سب کو ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھلایا جائے اور میرا حکم پہنچادیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ گو بعض جاہلوں نے انکار کیا۔ مگر ایک کثیر تعداد اس پر تیار ہوگئی۔ اور ایک حد تک ان کے خیالات کی اصلاح ہوگئی۔

میرا خیال تھا کہ شاید اب یہ چیز کم ہوگئی ہے مگر اب اس واقعہ نے بتلایا کہ نہیں کہ اب بھی ایسے جہلا کی کمی نہیں ہے۔

افسوس کہ لوگ اب بھی اثر نہیں لیتے، آنکھیں نہیں کھولتے اور ان کو اپنی زبوں حالی کا احساس نہیں ہوتا۔

جو تم میں یہاں موجود ہے وہ سن رہا ہے اور جو موجود نہیں ہے تمہارا فرض ہے کہ اس تک میری آواز پہنچا دو کہ وہ مسلمان مجرم ہوگا جو کسی مسلمان سے چھوت چھات کرے گا، وہ مسلمان مجرم ہوگا جو کسی کے ساتھ دنیا کی بنائی ہوئی حلقہ بندی میں سے کسی حلقہ میں خواہ وہ کتنا ہی کم درجہ کا حلقہ ہو مگر اللہ کے ساتھ اپنا رشتہ رکھتا ہو اس سے چھوت برتے گا یا اس کو اپنے سے کم یا حقیرو ذلیل سمجھے گا۔

وہ مسلمان مجرم ہوگا جو کسی مسلمان سے پیشہ یا کام کی بنا پر اس سے پرہیز کرے گا، اس کو بہ نظر ذلت دیکھے گا۔"

(ماخوز؛آزاد کی تقریریں ،مرتبہ انور عارف،1961،ادبی دنیا اردو بازار دہلی)