جمہوریت کی تعمیر میں علماء کا کردار

مفتی امانت علی قاسمی استاذ دار العلوم حیدرآباد
E-mail: aaliqasmi1985@gmail.com
Mob: 07207326738

سیاست کے اوپر سب سے پہلی کتاب افلاطون(۴۴۸ق م-۳۳۸ق م) نے لکھی ہے، اس نے اپنے استاذ سقراط(۴۶۹ ق م -۳۹۹ ق م) کے نظریہ کو اس میں جمع کیا ہے، اس کتاب کا نام ہی جمہوریہ ہے،یہ لفظ سب سے پہلی مرتبہ افلاطون نے ہی استعمال کیا ہے، جمہوریت کے لغوی معنی لوگوں کی حکمرانی Rule of people کے ہیں، یہ دو لفظ Demo یعنی انسان اور Cracy یعنی حاکمیت سے مل کر بنا ہے، اسی لئے عربی میں اس کا ترجمہ دیمقراطیہ سے کیا جاتا ہے، جمہوریت ایک ایسی طرز حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں، جمہوریت کی مختلف تعریف کی گئی ہے، چنانچہ اس کی مشہور تعریف سابق امریکی صدر ابراہیم لنکن (۱۸۰۹ء-۱۸۶۵ء)نے یہ کی ہے Goverment of the people by the people for the people یعنی عوام کی حاکمیت عوام کے ذریعہ عوام پر یعنی جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہے جس میں عوام کو یا عوام کی رائے کو کسی نہ کسی شکل میں پالیسیاں طے کرنے کے لئے بنیاد بنایا گیا ہو۔( القرنی ،ابومعاذ ،حقیقت جمہوریت ،الموحدون اسلامی لائبریری ،ص:۷)

جمہوریت کا مفہوم

بہر حال جمہوریت ایک نظام حکومت ہے اور یہ نظام اہل علم کے درمیان کافی مختلف رہا ہے ، بہت سے لوگوں نے جمہوریت کو اسلام مخالف قرار دیا ہے جب کہ بہت سے مفکرین نے جمہوریت کو عین اسلام اور روح اسلام قرار دیا ہے یہ بحث کا موضوع ہے لیکن ہماری اس وقت کی گفتگو کا موضوع نہیں ہے ، البتہ ڈاکٹر عبد الحق انصاری نے اس سلسلے میں ایک اچھا تجزیہ کیا ہے جس سے جمہوریت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ، انہوں نے جمہوریت کا تین مفہوم ذکر کیا ہے پھر تجزیہ کیا ہے کہ ایک مفہوم کے اعتبار سے تو جمہوریت کے مخالف ہے لیکن باقی دو مفہوم کے اعتبار سے جمہوریت اور اسلامی ریاست میں کوئی خاص فرق نہیں ہے چنانچہ جمہوریت کے تیسرے مفہوم کے تحت لکھتے ہیں :
سوم:جمہوریت کچھ قدروں کا نام بھی ہے جیسے فکر و خیال کی آزادی ، ہر عقیدہ و مذہب کی آزادی ، بنیادی حقوق کا تحفظ ، قانون سازی کے سامنے سب کی یکساں حیثیت ، ہر ایک کے لئے ترقی کے یکساں مواقع ۔اسی طرح جمہوریت میں عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کا احتساب کرنے ،حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور ایک وقت کے بعد ان کو معزول کرنے کا حق حاصل رہتا ہے جمہوری حکومتوں کی طرح اسلامی حکومتوں میں بھی یہ تمام قدریں پائی جاتی ہیں اس نکتے میں بھی آج کل کی جمہوریتوں اور اسلامی جمہوریت میں کوئی فرق نہیں ہے (انصاری ، عبد الحق ، سیکولرزم ،جمہوریت اور انتخابات ، مرکزی جماعت اسلامی ، نئی دہلی،ص:۷)
ملک کی موجودہ صورت حال میں ڈاکٹر عبد الحق انصاری صاحب کی جمہوریت کی تعریف کو قبول کئے بغیر کوئی چارہ ٴ کار نہیں ہے ،اور اس تعریف کی روشنی میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کی سعی و جد جہد ہونی چاہیے اس لیے کہ ملک میں امن و امان کی بقاء او رسالمیت جمہوریت کی بقاء میں مضمر ہے ، ملک کا موجوددہ جمہوری دستور ہمیں ہر قسم کی آزادی فراہم کرتا ہے ، یکساں حقوق ادا کرتا ہے ، اپنے تہذیب و کلچر کے فروغ کی اجازت دیتا ہے اس لئے جمہوریت کا تحفظ ،جمہوریت کی تعمیر اور اس کو استحکام دینے میں موٴثر کردار ادا کرتا ہے اور یہ ملک کی بقاء و سالمیت کے لیے لازمی و ضروری عنصر ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علماء کرام کی ایک جماعت نے ابتداء سے ہی جمہوریت کی حمایت و تائید کی ہے او رجمہوریت کا حصہ بن کر ملک کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ، ماضی میں علماء کرام جمہوریت کی تعمیر و ترقی میں کوشاں رہے ہیں آئندہ ہم اس کی مثالیں پیش کریں گے اوراس وقت بھی اس گروہ کی اس میں حصہ داری ہے ۔ہمارا مقالہ دو حصوں پر مشتمل ہے ماضی میں تعمیر جمہوریت میں علماء کا کیا کردار رہا ہے؟ او رمستقبل میں علماء کرام کس طرح جمہوریت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔

جمہوریت کی مختصر تاریخ
جمہوریت کی تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ جمہوریت کے خدوخال ،اس کے عناصر ترکیبی ، تاریخی پس منظر ،او رجمہوریت کے اہم ستونوں کے سلسلے میں مختصر گفتگو کرلی جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ وہ عناصر کیا ہیں جن کی تعمیر سے جمہوریت کی تعمیر ممکن ہے؟

جن لوگوں کو آزاد خیال جمہوریت کا بانی سمجھا جاتا ہے اور جنہوں نے جمہوریت کے فروغ میں اپنے افکار کی ترویج واشاعت کی وہ تین فلسفی ہیں، ایک وولٹائر(Voltire) (۱۶۹۴ء-۱۷۷۸ء) دوسرا مونٹیسکیو(Montesquie) اور تیسرا روسو (Rsusseau) (۱۷۱۲ء-۱۷۷۸ء) یہ تین افراد ہیں جنہوں نے اپنے اپنے نظریات اور فلسفے کی بنیاد پر ایسے افکار دنیا میں پھلائے ، جس کے نتیجے میں جمہوریت وجود میں آئی، یہ تینوں فرانس کے ہیں، وولٹائر ۱۷ ویں صدی کے آخر میں پیدا ہوا تھا، اور ۱۸ ویں صدی میں اس کاانتقال ہوا، اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ مذہب ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے، کوئی اتھارٹی دوسرے کو کسی مذہب کے حق اور باطل ہونے کا قائل نہیں کرسکتی ہے، نہ چرچ کو دخل اندازی کی ضرورت ہے اور نہ ہی حکومت کویعنی حکومت کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور جب یہ بات طے ہوگئی کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ اور ذاتی تسکین کا ذریعہ ہے، اس لئے ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے تواس سوچ کی بنیاد پر سیکولرزم کا نظریہ پیدا ہوا۔
دوسرا شخص جس کا جمہوریت کی صورت گری میں بڑا کردار ہے، وہ مونٹیسکو ہے، اس کا نظریہ تھا کہ جتنی مطلق العنان حکومتیں ہوئی ہیں ان کی مطلق العنانی نے لوگوں کو نقصان پہونچایا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ریاست کے تمام تر اختیار کسی ایک شخص یا ایک ادارے میں مرتکز تھے جس کے نتیجے میں لوگوں پر ظلم بھی ہوتا تھا اور ریاست کے کاموں میں ابتری بھی پیدا ہوئی تھی، لہٰذا اس وقت تک بہتر نتائج حاصل نہیں ہوسکتے ہیں جب تک اختیارات کو مختلف جہتوں میں پھیلایا نہیں جاتا، چنانچہ مونٹیسکو نے پہلی بار یہ رائے دی کہ ریاست کے اختیارات در حقیقت تین مختلف قسم کے ہیں:(۱) قانون سازی کا اختیار(۲) ملک کا انتظام اور اس قانون کے مطابق ملک چلانے کا اختیار(۳) نزاعات کے تصفیہ کا اختیار، چنانچہ قانون سازی کا اختیار جس ادارے کو حاصل ہوتا ہے جمہوریت میں اسے پارلیمنٹ یا اسمبلی کہتے ہیں(۲) قانون کے مطابق ملک کو چلانے کا اختیار جس ادارے کو ہوتا ہے اس کو انتظامیہ یا ایگزیکٹو (Exective) کہاجاتا ہے، جس کا سربراہ پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم ہوتا ہے(۳) قانون کی تشریح اور نزاعات کا تصفیہ جو ادارہ کرتا ہے وہ عدلیہ کہلاتا ہے،اس نظریہ کو بعد میں تمام جمہوریتوں نے تسلیم کرلیا۔

تیسرا شخص جس نے جمہوریت کی صورت گری میں حصہ لیا ہے وہ روسو (Rsusseau) ہے،اس کا نظریہ یہ تھا کہ معاہدہ عمرانی کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ ایسی حکومت قائم ہو جس میں افراد کی آزادی ہو اور حکومت افراد کی نمائندہ ہو،کیوں کہ انہوں نے حکومت کے حق میں اپنی دستبرداری اختیار کی ہے اور وہ اس وجہ سے کی ہے کہ حکومت ہمارے مفاد اور ہماری آزادی کا تحفظ کرے گی، روسو کے نظریہ میں دو چیزیں ہیں، فرد کی آزادی پر زور اور افراد کی نمائندہ حکومت یعنی افراد کو یہ حق ہونا چاہئے کہ وہ جب چاہیں کوئی حکومت بنائیں اور جب چاہیں ختم کریں۔(عثمانی ،محمد تقی ، اسلام اور سیاسی نظریات ،کراچی، معارف القران ، ص:۱۰۰)

یہ تین بنیادی نظریات ہیں جس پر جمہوریت کی عمارت کھڑی ہوئی ہے، ریاست کو مذہب سے الگ کردینا،تفریق اختیارات اور فرد کی آزادی کے نتیجے میں نمائندہ حکومت ، یہ جمہوریت کا ابتدائی خاکہ ہے جس کی بعد میں مزید نشو نما ہوئی ہے لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ جمہوریت کے بعض اجزا ء ایسے ہیں جس کی بنیاد اسلام سے مختلف ہے اسی لئے بہت سے اہل علم نے اس پر کلام کیا ہے اوراس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسلامی شورائی نظام حکومت سے بہتر کوئی نظام حکومت نہیں ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جہاں پر اسلام کا شورائی نظام قائم کرنا ممکن نہ ہو وہاں جمہوریت سے بہتر کوئی نظام نہیں ہو سکتا ہے ۔

جمہوریت کی خوبی اور اس کی عناصر

جمہوریت کی خوبی پر اگر بحث کی جائے تو اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی ہے ، ایک جمہوری معاشرے میں ہر شخص کو غور و فکر اور بحث و مباحثہ کی آزادی حاصل ہوتی ہے ہر شخص جس خیال کو صحیح سمجھتا ہے بلا خوف و اندیشہ اسے بیان کرسکتاہے، جمہوریت میں مخالف رائے کو بھی اہمیت دی جاتی ہے اور اس طرز عمل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ صحیح نقطہٴ نظر کوغالب آنے کا موقع ملتا ہے جمہوریت کی خوبی پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے یوسف صدیق لکھتے ہیں :
جمہوریت عوام کے اخلاق کو بلند کرتی ہے، انہیں انسان دوستی ، شرافت ، باہمی ایثار او رمحبت کے اصول سکھاتی ہے اس لئے اس نظام حکومت کو اخلاقی افادیت کی بنا پر بھی پسند کیا جاتا ہے ،جمہوری حکومت میں ملک گیری کی ہوس کم ہو جاتی ہے ،، حکمرانوں میں جنگوں کا رجحان کم ہوجاتا ہے او ر وہ امن پسند ہوجاتے ہیں برٹرینڈسل نے درست لکھا تھا کہ جمہوریت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ دوسری حکومتوں کے مقابلے میں امن کو زیادہ پسند کرتی ہے (یوسف صدیق ، جدید جمہوریت کا تاریخی پس منظر ، )

جمہوریت کے خدو خال او راس کے ستونوں پر گفتگو کرتے ہوئے عارف عزیز لکھتے ہیں
ملک کے ہر شہری کے ساتھ مساویانہ انصاف ، ہرباشندے کے ساتھ ریاست کا برابری کا سلوک ، تحریر ،تقریر ،خیال اور اجتماعی سرگرمیوں کی آزادی ، تمام فرقوں ، مذہبوں او رتہذیبی اکائیوں کو اپنے اپنے دائرے میں پھلنے پھولنے کے مواقع مہیا ہونا یہ مستحکم ستون جن پر ہندوستانی آئین کی شاندار عمارت کھڑی ہے ، دنیا کے تمام جمہوری اصولوں کا نچوڑ اور ہندوستانی قوم کی روشن خیالی اور بلند ہمتی کی علامت ہے لیکن اس کا چوتھا ستون اخبارات ہے جن کے ذریعہ رائے عامہ کو باشعور بنانے اور اس کی ذہنی تربیت کرنے کا کام انجام پاتا ہے (عارف عزیز ، جمہوریت کا چوتھا ستون ذرائع ابلاغ ہے ، فکر وخبر )

جمہوریت کی عناصر پر گفتگو کرتے ہوئے جاوید احمد غامدی صاحب لکھتے ہیں :
حاکمیت عوام ، مساوات اور انفرادی آزادی جمہوریت کے اجزائے ترکیبی ہیں ، انہی عناصرثلاثہ سے مل کرجمہوریت کا پیکر بنا ہے اگر ان میں ایک عنصر بھی غائب ہو جائے تو اس سے جمہوریت کا حسن مجروح ہو جائے گا اور اگر تینوں ہی عناصر موجود نہ ہوں تو پھر وہ جمہوریت نہیں آمریت اور ملوکیت ہے (جاوید احمد غامدی ، اسلام اور جمہوریت ، )

جمہوریت کے ستون کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئی عثمان احسن تحریر کرتے ہیں :
دنیا کے تمام جمہوری ممالک میں جمہوریت کے چار بنیادی ستون مانے جاتے ہیں جن پر جمہوریت کی عمارت کھڑی ہے جمہوریت کے وہ چار بنیادی ستون یہ ہیں (۱)مقننہ (پارلیمینٹ )(۲)انتظامیہ(حکومت)(۳) عدلیہ (۴)میڈیا ۔مندرجہ چار ادارے اگر کسی ملک میں کام سر انجام دے رہے ہوں تو یقینی طور اس ملک او رمعاشرے کو جمہوری کہا جائے گا (عثمان احسن ، جمہوریت کے ستون اول ، ہماری ویب )

مذکورہ تحریروں کی روشنی میں دو باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں ایک یہ کہ جمہوریت کے چار ستون ہیں پارلیمنٹ ،انظامیہ ، عدلیہ اور میڈیا ، دوسری چیز یہ کہ اظہار رئے کی آزادی ، مساوات ، انصاف ، مذہبی اور تہذیبی آزادی یہ سب درحقیقت انہی ستونوں کے اجزائے ترکیبی ہیں اسی لئے ان چیزوں کو جمہوریت کی خوبی او رخصوصیات سے تعبیر کیا جاتا ہے ،مثال کے طور پر اظہار رائے کی آزادی میڈیا کا حصہ ہے ، انصاف عدلیہ کی ذمہ داری ہے ، مساوات مقننہ اور پارلیمنٹ کے فرائض میں داخل ہے ۔اس کا مطلب یہ ہو اکہ اگر جمہوریت کے ان چاروں ستونوں کو مضبوط کیا گیا تو اظہار رائے کی آزادی ، فکر و خیال اور عقیدہ وضمیر کی آزادی حاصل ہوگی ، انصاف کا بول بالا ہوگا ،ہر شہری اور تمام مذہبی اکائیوں کو اپنے اپنے دائرہ میں پھلنے پھولنے کا موقع میسر ہوگا اس لئے میرے خیال سے جمہوریت کی تعمیر و تشکیل اور قوت و استحکام کے لئے جمہوریت کے ستونوں کو مضبوط کرنا ضروری ہے ۔
ماضی میں علماء کا کردار تعمیر جمہوریت کے حوالے سے

علماء کرام یہ قوم کا وہ دانشور طبقہ ہے جنہوں نے ہرزمانے میں اور سنگین سے سنگین حالات میں ملک کی بقاء و سالمیت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ، غلام ہندوستان میں علماء کرام نے جو جد و حہد کی اسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہے ، انہوں نے اپنے فتوی جہاد کے ذریعہ مسلمانوں میں جہاد آزادی کی روح پھونک دی اور نہ صرف فتوی کی تلوار چلا کر گوشہ نشیں ہوگئے بلکہ میدان کار زار کو گرمایا ، انگریزوں کو چیلنج کیا ،انہیں لوہے کے چنے چبانے پر مجبور کیا ، شاملی اور پانی پت کے علاوہ مختلف جنگوں میں اپنی جانوں کا بیش قیمت تحفہ ملک کے لئے پیش کیا۔

ملک کی آزادی کے وقت تقسیم پاکستان کے نتیجے میں کچھ لوگ ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے لیکن برادران وطن کی بڑی اکثریت اس بات کی قائل تھی کہ ملک کا نظام جمہوری ہونا چاہیے اس لئے کہ برطانیہ وغیرہ ممالک میں جمہوریت کا کامیاب تجربات ہو چکے تھے ، انگریزوں نے غلام ہندوستان میں بھی جمہوریت کو نافذ کردیا تھا اور اس نظام حکومت میں ہر شہری کو برابری اور انصاف کا مکمل حق ملتا ہے اس لئے مسلم لیڈران خا ص طور پر جمعیة علماء جس کے صدر شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی تھے اور مولانا آزاد وغیر ہ نے کانگریس کویاد دلایا کہ آزادی کی جنگ ہندو اور مسلمانوں نے مل کرلڑی ہے اور ہمارا شروع سے مطالبہ رہا ہے کہ جب ملک آزاد ہوگا تو جمہوری اور سیکولر ملک ہوگا اس لئے ملک کا دستور جمہوری ہونا چاہئیہندو راشٹر کا خواب دیکھنے والے بہت تھوڑے لوگ تھے اور یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ملک کے لئے کوئی قربانی نہیں دی تھی او رملک کی غالب اکثریت جمہوریت کی قائل تھی اس لئے ملک کا ستور جمہوری قرار پایا ، اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کی تعمیر میں حضرات علماء کرام کا کردار رہا ہے، گویا اگر کہا جائے کہ جمہوریت کی تعمیر میں علماء کرام کی حیثیت بنیادی پتھر کی ہے جنہیں کسی قیمت پر ملک کی جمہوری کردارسے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔

ملک کی آزادی کے بعد ڈاکٹر امبیڈکر کی نگرانی میں جو دستور ساز کونسل بنائی گئی تھی اس میں مسلم ارکان بھی شامل تھے جن میں ایک نام بہت مولانا اسمعیل کا ہے جو انڈین یونین لیگ کے بانی ہیں اور تین مرتبہ کیرالا لوک سبھا سیٹ سے ممبر پارلیمنٹ رہ چکے ہیں انہوں نے دستور سازی میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔

جمہوریت کا پہلا ستون (پارلیمنٹ )
جمہوریت کے چار ستونوں میں ایک ستون پارلیمنٹ اور مقننہ ہے جن کا کام ملک اور شہریوں کے مفاد کے لیے قانون بنانا ہے جو قانون کے مساوات اور برابری کے نقطہ ٴ نظر سے بنائے جاتے ہیں اور اس قانون کا لزوم ہر شہری پر یکساں طور پر ہوتا ہے اس میں ملک کے کسی شہری کے ساتھ کوئی تفریق نہیں کی جاتی ہے ،ارکان پارلیمنٹ جس میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کے ارکان شامل ہوتے ہیں ۔یہ وہ پہلاستون ہے جس کے ذریعہ جمہوریت کی تعمیر عمل میں آتی ہے ، ملک کے جن دانشور طبقہ نے اس میں کردار ادا کیا ہے اس میں علماء کرام بھی شامل ہیں اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں علماء کی نمائندگی ہوتی رہی ہے ، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ،مولانا اسعد مدنی ،مولانا محمود مدنی، مولانا عبید اللہ خان اعظمی ، مولانا بدرالدین اجمل اور مولانا اسرار الحق اور اس طرح کے بہت سے علماء کرام ہیں جو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ممبر رہے ہیں اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی میں بھی علماء کرام نمائندگی کرتے رہے ہیں اور قانون سازی اور جمہوریت کے پہلے ستون کی مضبوط تعمیر میں کردار ادا کیا ہے ۔

جمہوریت کا دوسرا ستون ( انتظامیہ)
جمہوریت کا دوسرا ستون انتظامیہ ہے ، ملک میں جس پارٹی کی اکثریت ہوتی ہے ملک کا نظم و نسق انہی کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ،وہی ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں اوران کا فرض ہوتا ہے کہ مساوات او راخوت و بھائی چارگی کی روشنی میں ملک کی فلاح وبہبود کے لئے کام کرے ، تمام شہریوں کو یکساں سہولیات فراہم کرے ،ملک اور ہر شہری کی خوش حالی ، ترقی ، سہولت اور امن عامہ قائم کرنے کے لئے وسائل استعمال کرے ۔اس جگہ علماء کرام کی خدمات آٹے میں نمک کے برابر ہے، لیکن یہ علماء کرام کی بے توجہی ، عدم دلچسپی یا عدم اہلیت کی بنا پر نہیں ہے ،جو لوگ ممبر آف پارلیمنٹ ہوتے ہیں اور ان کی پارٹی برسر اقتدار ہوتی ہے وہی انتظامیہ میں ہوتے ہیں ، اس کے علاوہ حکومت جس کو چاہے وزارت کا عہدہ دے کر ملک کی انتظامیہ میں شامل کرسکتی ہے ، جمہوریت کے اس شعبے کو بد قسمتی سے بد نیتی اور تعصب کا گہن لگ گیا ہے اس لئے میں اس شعبہ مبں علماء کرام کا کردار نظر نہیں آتا ہے اگر چہ مولانا ابوالمحاسن سجاد صاحب کی انڈیپنڈٹ پارٹی کی بہار اسمبلی میں کچھ دنوں کے لئے حکومت بنی تھی اس طرح بہار اسمبلی کا نظم و نسق کچھ دنوں کے لئے ان کے ہاتھ میں تھا اوراس طرح کچھ دنوں کے لئے ہی سہی انہوں نے جمہوریت کی میزبانی کا شرف ادا کیا ہے ۔

جمہوریت کا تیسرا ستون(عدلیہ)
عدلیہ جمہوریت کا تیسرا بنیادی ستون ہے فاضل جج خواہ ہائی کورٹ کا ہو یا سپریم کورٹ کا پارلیمنٹ کے ذریعہ بنائے گئے قانون اور ڈاکٹر امبیڈکر کے بنائے گئے دستور کوملک میں نافذ کرنا ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک کرنا اور ہر شہر ی پر ملک کا قانون نافذکرنا ، جرائم کی روک تھام اور کرپشن اور ملک کے بگڑتے ماحول میں امن و امان قائم کرنے کے لئے موٴثر فیصلے کرنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے اور یہی چیز جمہوریت کو مضبو ط او رمستحکم کرتی ہے ، جمہوریت کے اس ستون میں مجھے علماء کرام کا کردار نظر نہیں آتا ہے علماء کرام کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ جمہوریت کو اس جانب سے بھی ہم مضبوط کرسکیں اور ان کی خدمت کرسکیں ۔

جمہوریت کا چوتھا ستون (میڈیا )
میڈیا جمہوریت کاچوتھا ستون ہے جس میں اظہار راے کی آزادی ، رائے عامہ کو ہموار کرنا ، ، عام آدمی کی رائے سے حکومت اور عوام کو متعارف کرانا شامل ہے، میڈیا جس میں پہلے اخبار آتا تھا اور اب اس میں بہت وسعت ہوگئی ہے الکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا ،سوشل میڈیا اور ان سب کی مختلف قسمیں وجود میں آگئی ہیں ، جمہوریت کے اس ستون کو دیکھاجائے تو علماء کرام نے اس کی بھر پور خدمت کی ہے اور اس کو مضبوط کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے ، ابتداء سے ہی علماء نے اس جانب توجہ دی ہے اخبارات و رسائل کی ایک بڑی تعداد ہے جو علماء کرام کے زیر ادارت نکلتا رہا ہے اور اس وقت بھی علماء کرام اس جد وجہد میں لگے ہوئے ہیں اس میدان میں ان کی خدمات کا جائزہ لیں توفیض احمد فیض کی زبان میں ان کا درد اس طرح نمایاں ہوگا:
ہم پر ورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
دل پہ جو گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

مستقبل میں تعمیر جمہوریت اور علماء کرام
بہر حال یہ تو ماضی میں علماء کرام اور تعمیر جمہوریت کا خاکہ تھا جس میں علماء کے کردار کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے آئیے اس پر غور کریں کہ علماء کرام مستقبل میں جمہوریت کی تعمیر کس طرح کرسکتے ہیں اور جمہوریت کی بقاء و تحفظ کے کس طرح اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ؟اس سلسلے میں ضروری ہے کہ علماء کرام سیاست میں حصہ لیں ، سیاست کو شریف لوگوں نے گندگی کی آماج گاہ ،بدمعاشوں کی بسر گاہ ، لچو ں لفنگوں کی دانش گاہ خیال کرکے اپنے آپ کو اس سے ا لگ کرلیا ہے یہ تصور جمہوریت کے لئے بہت خطرناک ہے ، اگر شریف ، ایمان دار ، انصاف پسند ، سچائی کے علمبردار ، انسانیت کے بہی خواہ ، ملک سے سچی محبت کرنے محب وطن سیاست سے اپنا دامن بچالیں گے ، اور اس کو اپنے لئے زہر ہلاہل جان کر اس سے دور ہوجائیں گے تو جان لیجئے کہ ملک کا جمہوری نظام خطرے میں پڑ جائے گا ، نام تو جمہورت او ردستور کا ہوگا لیکن نظام ڈکٹیٹر شپ سے بھی خطرناک ہوگا ، اس لئے اگر ہم جمہوریت کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں ملک او ردستور کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو سیاست میں بھر پور حصہ داری ضروری ہے ، ہم انتخابی نظام سیاست کو سمجھیں ، امیدوار بنیں اور پارلیمنٹ پہنچ کر انصاف اور ترقی پسند قانون بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ، برسر اقتدار حکومت کا حصہ بن کر انتظامیہ میں شامل ہوں اور انسانیت کی خدمت کو اپنا شیوہ بنائیں ، سیاست میں حصہ لے کر ہم جمہوریت کے دو ستون مقننہ او رانتظامیہ کو مضبوط کر سکتے ہیں ، علماء کرام کا گروہ مختلف رفاہی اور علمی و تحقیقی میدانوں میں نمایاں کام انجام دے رہا ہے لیکن عدلیہ میں ان کی نمائندگی صفر درجہ کی ہے یہ ایک لمحہٴ فکریہ ہے اس وقت جب کے مسلم بچوں کی تعلیم پر بہت توجہ دی جارہی ہے اور اس کے لئے کافی جدو جہد ہورہی ہے ، فضلاء مدارس کے مزید تعلمی نظام کو جاری رکھنے اور وسیع تر تعلمی نظام سے انہیں منسلک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے فضلاء مدارس فراغت کے بعد جس طرح عصری تعلیمی اداروں میں جاکر میڈیکل ، انجنیرنگ ، ریسرچ اور مختلف میدانوں میں کام کرتے ہیں اور اپنا کردار اداکرتے ہیں ایسے فارغ التحصیل طلبہ وکالت کی تعلیم حاصل کریں اور عدلیہ میں اپنا کردار ادا کریں ، اس کے ذریعہ وہ ملک او رسماج کی بہتر خدمت کرسکتے ہیں مسلمانوں اور خاص کرمظلوموں کو انصاف دلاکر جمہوری نظام کی بہتر تعمیر کرسکتے ہیں ، ملک کے دانشوروں او رمسلم اداروں کو اس جانب خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ہم جمہوری کردار کو عدالت کے ذریعہ بحال کرسکتے ہیں ، بچا سکتے ہیں اور مضبوط و مستحکم کرسکتے ہیں ۔
چوتھا ستون میڈیا کا ہے یہ خوش آئند بات ہے کہ ماضی کی طرح اس وقت بھی علماء کرام میڈیا میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور میڈیا کی ہر جہت سے خدمت انجام دے رہے ہیں ، الکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا ،صحافت ، اخبارات و رسائل ، سوشل میڈیا پر علماء کرام متحرک نظر آتے ہیں ، اور اسے مضبوط کرنے کی سعی میں ہیں ، ہاں ایک خاص جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ، علما ء کرام کی زیادہ تر توجہات اردو صحافت پر ہے ، علماء کرام کی زیادہ تر تحریریں اردو میں ہی آتی ہیں جب کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ اس زبان سے ناآشنا ہے خود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اردو نہیں جانتی ہے اس لئے ضرورت ہے کہ علماء کرام ہندی انگریزی زبان سے واقفیت حاصل کریں اور ان دو زبانوں میں عبور حاصل کرکے اپنی تخلیقات و نگارشات کو انہی زبانوں میں پیش کریں ، انگریزی اخباروں میں آرٹیکل شائع کریں ، ہندی اخبارات کی زینت بنیں ، ہندوستانی قوم سے ان کی زبان میں بات کریں اس سے دو قوموں کی درمیان فاصلے کم ہوں گے اسلام کے اصول دعوت کے پیش نظر بھی ضروری ہے کہ قوموں کی زبان کو سیکھا جائے اور ان کی زبان میں دعوت کا پیغام پہنچایا جائے ، اس طرح ہم جمہوریت کی بہتر تعمیر کرسکتے ہیں ، جمہوریت کو مضبوط کرسکتے ہیں اور ملک کی ترقی و خوش حالی میں اپنا بھی کردار پیش کرسکتے ہیں ۔

اخوت و بھائی چارگی اور امن و امان کے قیام میں علماء کا کردار
اخوت و بھائی چارگی ، امن و امان کا قیا م ، قومی یکجہتی پیار و محبت اور احترام انسانیت جمہوریت کی روح ہے، اس کے بغیر جمہوریت کا تصور محال ہے اور یہ وہ خوبی ہے کہ جمہوریت کی حقیقت اسی میں پنہاہے ،ملک کے بعض فرقہ پرست عناصر ملک کے باشندوں کے درمیان موجزن پیار و محبت اور قومی یکجہتی کو کچلنا چاہتی ہے، لیکن علماء کرام اس سلسلے میں مسلسل کوشش کرتے آ رہے ہیں اور اخوت و بھائی چارگی کو مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں، جماعت اسلامی اور جمعیة علماء ہند مسلسل پیام انسانیت کے پروگرام کرتی رہتی ہے، ملک کے نامور عالم دین اور قائد ملت مولانا ارشد مدنی صاحب مسلسل قومی یکجہتی کے پروگرام کرتے رہتے ہیں ان کا کہنا کہ اگر قومی یکجہتی کو فروغ دیا گیا تو ملک کا جمہوری نظام مستحکم ہوگا اگر اس کو نقصان پہنچایا گیا تو ملک تقسیم کے دہانے پر پہنچ جائے گا اس لئے قومی یکجہتی کو فروغ دینا اس وقت سب سے بڑی ضرورت ہے، علماء کرام کو اس جانب بھی خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

ذرائع ابلاغ اور مسلمان

مولانا محمد اسرارالحق قاسمی
ذرائع ابلاغ کی یوں تو ہر دورمیں بڑی اہمیت رہی ہے،لیکن عہدِ حاضر میں اس کی اہمیت نسبتاً زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ موجودہ زمانے میں ذرائع ابلاغ کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے۔اخبارات ، رسائل وجرائد، ریڈیو، ٹی وی ،انٹرنیٹ ، موبائل وغیرہ کا اس دورمیں بہت زیادہ رواج ہے۔کچھ صدیوں پہلے ان آلات ووسائل کاوجود نہ تھا۔ اس لیے لوگ اپنی بات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے دوسرے ذرائع کا استعمال کرتے تھے، لیکن جن ذرائع کا بھی چند صدیوں قبل استعمال کیا جاتا تھا ، ان کی رفتار آج کے مقابلے میں بہت سست تھی۔مثال کے طورپر اپنی بات کہیں دور پہنچانے کے لیے خطو ط لکھے جاتے تھے، مگروہ کئی مہینوں میں پہنچتے تھے۔کتابوں کی اشاعت کی بھی موجودہ شکل نہ تھی۔مخطوطات سے کام چلا یاجاتاتھا۔ لیکن اب جیسے جیسے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی ہورہی ہے، ذرائع ابلاغ کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور رفتار بھی۔ چھاپے اگرچہ کئی صدی قبل وجود میں آچکے تھے، لیکن جو تکنیک فی زمانہ کتابوں کی اشاعت کے لیے استعمال کی جاتی ہے ،اس وقت اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، اس لیے بڑی تیزی کے ساتھ کتابوں کی اشاعت بھی سامنے آرہی ہے۔ ماہانہ رسائل اور ہفت روزہ اخبارات کے علاوہ یومیہ اخبارات بڑی تعداد میں شائع ہوتے ہیں ۔ اور صبح سویرے لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچ جاتے ہیں جب کہ ان میں رات کے نو بجے تک کی خبریں شائع کی جاتی ہیں۔کبھی دس بجے تک کی بھی خبریں شامل کرلی جاتی ہیں۔رات بھر میں اخبار چھپ بھی جاتا ہے، ٹرینوں ، گاڑیوں وغیرہ کے ذریعہ شہروں ، قصبوں اور گاؤں میں صبح ہوتے ہوتے لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچ بھی جاتا ہے۔اتنی آسانی اور برق رفتاری کی ہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں اخبارات مختلف زبانوں میں شائع ہورہے ہیں۔اپنی بات کو دوسروں تک پہنچانے کا اس سے بھی تیز ذریعہ ریڈیو ہے۔ جس پر براہ ِراست خبریں ، تقریریں نشر کی جاتی ہیں اور قرب و جوار اور دوردراز کے لوگ اپنے اپنے مقام سے انھیں سن لیتے ہیں۔ ریڈیوسے بھی زیادہ ٹی وی نے فی زمانہ شہرت ومقبولیت حاصل کی ہے۔آج گھر گھر ٹی وی ہے اور ٹی وی پر سینکڑوں بلکہ ہزاروں چینلز آتے ہیں ۔یہ چینل صرف اپنے علاقے یا ملک کے ہی نہیں ہوتے بلکہ دوسرے ملکوں اور علاقوں کے بھی ہوتے ہیں۔ٹی وی کے ذریعہ پوری دنیا کی خبریں سنی جاسکتی ہیں، مختلف قوموں کے حالات جانے جاسکتے ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی سے آگے انٹرنیٹ ہے ۔جس کے ذریعہ اپنے موضوع یا دلچسپی سے متعلق گھربیٹھے ہی ڈھیر سارا مواد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ذریعہ بات بھی کی جاسکتی ہے ،اپنے پیغامات کو دوسروں تک بھی پہنچایا جاسکتا ہے۔موبائل نے آکر رابطہ کی رفتار کو بہت زیادہ آسان اور تیز کردیا ہے۔آج دنیا میں بیٹھے ہوئے کسی بھی شخص سے کہیں بھی رابطہ کرنے میں وقت نہیں لگتا ۔نہ ہی کمپیوٹر کے پاس جاکر انٹرنیٹ کے استعمال کی ضرورت ہے بلکہ موبائل میں موجود انٹرنیٹ کے توسط سے بآسانی لوگوں سے رابطہ کیا جاسکتاہے۔آناً فاناً لوگوں تک اپنی بات کو پہنچایاجاسکتاہے۔سوشل ویب سائٹوں نے لوگوں کے رابطے کے دائرے کو بہت زیادہ وسیع کردیا ہے۔موبائل میں واٹس ایپ نے ایک تہلکہ مچادیا ہے، آج کے دورمیں دوچار فیصد ہی لوگ ایسے نظرآتے ہیں جو واٹس ایپ کااستعمال نہ کررہے ہوں ، باقی سب واٹس ایپ استعمال کررہے ہیں۔اس ایپ کے ذریعہ اپنی بات کو دوسروں تک آناً فاناً پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے ، اتنا ہی نہیں بلکہ اس کے ذریعہ فوٹوز اور ویڈیوزکا تبادلہ بھی کیا جارہاہے ۔ لوگوں نے واٹس ایپ پر اپنے گروپ بنائے ہوئے ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنی بات کو دوسروں تک بہت جلد پہنچادیتے ہیں۔ ویڈیو ز کے ذریعہ اپنی بات کو پھیلانے کے لیے یوٹیو ب کا استعمال بڑے پیمانہ پر کیا جاتاہے ، جسے انٹرنیٹ کنیکٹڈ کمپیوٹر پر بھی دیکھا جاتاہے اور موبائل پر بھی ۔موبائل میں انٹرنیٹ کی سہولت کے بعد گویا انٹرنیٹ کی دنیا میں انقلاب آگیا ہے اور صارفین کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ چنانچہ اب لوگ جو ویڈیو ز یوٹیوب پراَپ لوڈ کرتے ہیں ، دیکھتے ہی دیکھتے اس کو ہزاروں لاکھوں لوگ دیکھ لیتے ہیں۔اگر ویڈیو عوام کی دلچسپی کی ہے تو پھر اسے دیکھنے والوں کی تعداد ملین اور بلین میں پہنچ جاتی ہے۔ مثال کے طورپر مشاعرے کی ویڈیوز کو اٹھاکر دیکھئے ۔ادھر مشاعرہ ختم ہوا اور ادھر اسے یوٹیوب پر اَ پ لوڈ کیا ، پھر دیکھنے والوں کا جو ہجوم لگا تو معلوم یہ ہوا کہ چند دنوں میں یوٹیوب کے ذریعہ مشاعرہ دوردراز کے لاکھوں لوگوں نے سن لیا ۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ موجودہ عہد ذرائع ابلاغ کا ہے ۔چنانچہ ذرائع ابلاغ پر جس کی جتنی گرفت ہے ، وہ اپنی بات ، نظریہ ، پیغام وغیرہ کو زیادہ دور اورزیادہ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہورہا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ موجودہ عہد میں مسلمان ذرائع ابلاغ پر کتنی گرفت رکھتے ہیں اور کس قدر وہ اس کا استعمال دین کی اشاعت میں کر رہے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اس میدان میں دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ پیچھے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے تناظر میں مسلمانوں کی صورت حال کو جاننے کے لیے تین پہلومتعین کیے جاسکتے ہیں۔ایک یہ کہ فی زمانہ جو ذرائع ابلاغ ہیں ، مثلا اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ ، موبائل وغیرہ ، وہ مسلمانوں کی کس قدر گرفت میں ہیں یعنی مسلمان کس حد تک ا ن کے مالکان ہیں یا ان کی جڑوں تک رسائی رکھتے ہیں؟ دوسرے یہ کہ مسلمان ذرائع ابلاغ کا استعمال کن کاموں کے لیے کررہے ہیں، اور تیسرے یہ کہ آیا وہ دین اسلام کی اشاعت وتبلیغ کے لیے ذرائع ابلاغ کو استعمال کررہے ہیں یا نہیں؟
جہاں تک تعلق اس بات کا ہے کہ ذرائع ابلاغ کی جڑوں تک مسلمانوں کی کس قدر رسائی ہے ؟ تو اس سلسلے میں مسلمان نہایت پیچھے ہیں۔مسلمانوں کے پاس بڑے اخبارات نہیں ہیں، اخبارات کو مواد فراہم کرنے والی ایجنسیاں بھی نہیں ہیں ۔ یہاں وہ اخبار جو مسلمان شائع کررہے ہیں، ان کو نکالنے کے لیے انھیں دوسروں کی ایجنسیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تمام بین الاقوامی ایجنسیاں یہودیوں اور عیسائیوں کے قبضے میں ہیں۔ جو اخبارات بڑی تعداد میں شائع ہوتے ہیں ، ان کے مالکان دوسری قومیں کے افراد ہیں۔مثال کے طورپر ہندوستان سے نکلنے والے اخبارات میں زیادہ پڑھے جانے والے اخبارات ہندی اور انگریزی کے ہیں ،جن کے مالکان مسلمان نہیں ہیں۔پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے پاس انگریزی کا کوئی بھی ایسا اخبار نظر نہیں آتا جو ٹائمز آف انڈیا، ہندوستان ٹائمز، ایشین ایج، دی ہندوکے مقابلے میں پیش کیاجاسکے ۔ایسے ہی ہندی اخباروں میں مسلمانوں کے پاس کوئی ایسا اخبار نہیں ہے جو نوبھارت ، ہندوستان، امر اجالا اور دینک جاگرن کی برابری کرتاہو، مسلمانوں کے پاس اردوکے اخبارات ہیں ، اور ان کا سرکولیشن بھی بہت محدود ہے۔ اس پر مزید ستم یہ کہ اردوکے یہ اخبارات ان ایجنسیوں کی خبروں پر منحصر ہیں جو مسلمانوں کی نہیں ہیں۔
اگر بات ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی کیجائے تو اس میدان میں بھی مسلمانوں کے پاس کچھ خاص قابلِ ذکر نظر نہیں آتا۔ان دنوں لوگ اخبارات ورسائل اور کتابوں سے زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں۔ گزشتہ دوتین دہائیوں میں ٹی وی نے بڑی ترقی کی ہے۔ پہلے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتی تھی ، لیکن اب کلر ٹی وی ، پھر ایل سی ڈی اور اس کے بعد ایل ای ڈی، اگر چینلوں کی بات کی جائے تو چینلوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ یہ چینل ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی تگ ودوکرتے ہیں، مسلمانوں کے اول تو چینل دکھائی نہیں دیتے ، اور دوچار نظر بھی آتے ہیں تووہ غیر مقبول ہیں۔ انٹرنیٹ کی باگ ڈور وقت کے یہود ونصاری کے ہاتھوں میں ہے۔ بھلے ہی مسلمان انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوں لیکن اس کی جڑوں تک مسلمانوں کی رسائی نہیں ہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر بڑی بڑی ویب سائٹیں بھی مسلمانوں کی نہیں ہیں۔

اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ مسلمان ذرائع ابلاغ کا استعمال کرتے ہیں یا نہیں تو اس کا جواب اثبات میں دیا جاسکتا ہے ، مگر ان کا استعمال محدود ہے۔ جیساکہ ذرائع ابلاغ کے استعمال میں اخبارات ورسائل کا پڑھنا آتا ہے، کتابوں کا پڑھنا ، شائع کرنا وغیرہ آتا ہے۔ تجزیے بتاتے ہیں کہ مسلمان اخبارات دوسروں کے مقابلے میں کم ہی پڑھتے ہیں۔ایسے ہی کتابیں پڑھنے کا معاملہ ہے۔ کتابوں کے قارئین بھی مسلمانوں میں اتنے نہیں ہیں جتنا کہ وقت کا تقاضہ ہے۔ ہاں ٹی وی دیکھنے میں مسلمان کسی سے پیچھے نہیں ہیں ،لیکن ٹی وی چینلوں میں وہ کونسے چینلز دیکھتے ہیں، یہ ایک دوسرا سوال ہے اور اہم بھی ہے۔اگر محض تفریحی چینل دیکھے جارہے ہیں یا منفی تاثردینے والے چینلز دیکھے جارہے ہیں تو ان کے دیکھنے سے نہ دیکھنا بہتر ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد ایسے ہی چینل دیکھتی نظرآتی ہے۔اب رہی بات انٹرنیٹ اور موبائل کی تو مسلمان ان دونوں کے استعمال میں کسی سے پیچھے دکھائی نہیں دے رہے ہیں ، خوب موبائل کا استعمال کررہے ہیں ،خوب انٹرنیٹ کااستعمال کررہے ہیں لیکن یہاں بھی یہ سوال قائم ہوتا ہے کہ آیا وہ استعمال مفید کاموں کے لیے کیا جارہا ہے یا غیر مفید کاموں کے لیے کیا جارہا ہے ، تو اس بارے میں یہ بات تقریباً جگ ظاہر ہے کہ اس وقت انٹرنیٹ اور موبائل کازیادہ استعمال لایعنی باتوں اور چیزوں میں استعمال کیا جارہا ہے، اور مسلمان اس میں پیش پیش ہیں۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مسلمان ذرائع ابلاغ کا استعمال اسلام کی اشاعت وتبلیغ کے لیے کتنا کررہے ہیں ؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ آج جب کہ ایسے ذرائع موجود ہیں جن کے ذریعہ اپنی بات کو آناً فاناً دور تک پہنچا یاجاسکتا ہے تو پھر ان کا استعمال کرکے اسلام کی باتوں کو کیوں نہ پھیلا یاجائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کی بات کو لوگوں تک پہنچا یا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیانے تبلیغ کا کام کیا۔ آپ کے صحابہ نے تبلیغ دین کی ذمہ داری کو بخوبی نبھا یا۔
اسلام میں تبلیغِ دین کو بہت ہی اہم قرار دیا گیاہے اور اس کابڑا ثو اب بتایا گیا ہے۔ مسلمانوں کو اس دنیا میں مثبت کردار ادا کرنا ہے، لوگوں کو بتانا ہے کہ صحیح راستہ کیا ہے،کس طرح وہ حقیقی کامیابی سے ہمکنا ر ہوسکتے ہیں۔ قرآن میں مسلمانوں کے بارے میں کہا گیا : ”کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر ۔اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کی رہبری کا کام انجام دیں ، لوگوں کو صحیح راستہ دکھائیں ۔آج پوری دنیا کے جوحالات ہیں ، جس طرح دنیا بدامنی کی شکار ہے اور جرائم کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے،اس کا تقاضہ یہ ہے کہ امت مسلمہ اپنامثبت کردار اداکرتے ہوئے دنیا ئے انسانیت کوتباہی وبربادی سے بچانے کی کوشش کرے۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ عہدِ حاضر میں برائیاں بہت زیادہ ہیں،بے شمار فتنے ہیں لیکن لوگوں تک اچھی بات کو پہنچانے کے لیے ذرائع بھی بہت زیادہ ہیں۔ بشرطیکہ ان کا استعمال اسی طرح کیا جائے ۔کیا ہی بہتر ہوتا کہ مسلمان ذرائع ابلاغ کا استعمال کرکے دین کی صحیح بات کو عوام الناس تک پہنچاتے ، ان مسلمانوں تک بھی جو دین سے دور ہوکر اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے پھر رہے ہیں، اور ان غیر مسلموں تک بھی جو ناواقفیت کی وجہ سے گناہوں اور جرائم کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔آج جب کہ ذرائع ابلاغ کا دور دورہ ہے، دنیا میں بے شمار انسان ایسے ہیں جو اسلام سے صحیح طورپر واقف ہی نہیں۔بہت سے لوگ اسلام کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے اور بہت سے لوگ جانتے ہیں تووہ باتیں جو معاندین اسلام نے اسلام کے خلاف بتائی ہیں۔سوال یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں غیرمسلمین کو کون بتائے گا ؟ کون اسلام کی صحیح باتوں کو دنیا کے کونے کونے تک لے کر جائے گا ؟ظاہر سی بات ہے کہ یہ ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔یہ مسلمانوں کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ جدیدذرائع ابلاغ کا استعمال کرتے ہوئے دنیا کے گوشے گوشے تک اسلام کی بات کو پہنچادیں اور اس بات کی کوشش کریں کہ اسلام کی صحیح بات دنیا کے ایک ایک فرد تک پہنچ جائے۔یہ الگ بات ہے کہ کون اس کو قبول کرتا ہے اور کون قبول نہیں کرتا ہے۔ ہدایت دینا اللہ کا کام ہے ، بندوں کا کام صرف پہنچانا ہے۔مسلمانوں کو صرف دین کی بات پہنچانے کامکلف بنایا گیا ہے، کسی کو ہدایت دینے کا نہیں۔ ہاں یہ ضرور امید کی جاسکتی ہے کہ اگر اسلام کی صحیح باتیں لوگوں تک پہنچائی جائیں گی تو اس کا ضرور فائدہ ہوگا۔بہرکیف موجودہ دنیا کے موجودہ منظرنامہ میں مسلمانوں کو ذرائع ابلاغ کامثبت استعمال کرنا چاہئے اور ذرائع ابلاغ میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنا چاہئے ۔ اس کے لیے جو مثبت طریقے ہوسکتے ہیں وہ اختیار کیے جائیں۔ ذرائع ابلاغ کے استعمال میں غیر اسلامی طریقوں کو اختیار نہ کیا جائے اور نہ ہی ایسی باتوں کی تشہیر کی جائے جو غیر اسلامی ہوں اور نہ ایسی چیزوں کو دیکھا اور دکھایاجائے جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔

حضرات مدرسین کی خدمت میں

حضرت مولانا اعجاز احمد صاحب اعظمی علیہ الرحمہ

اب کچھ باتیں حضرات اساتذہ سے متعلق عرض کرنی ہیں ، ہمارے دور میں ہر کام تجارت بن گیا ہے ، جب تک مادی منفعت دکھائی نہیں دیتی ، آدمی حوصلہ اور شوق اپنے اندر نہیں پاتا ۔ انگریزوں کے دنیا میں پھیلاؤ کے جہاں اور بہت نقصانات ہوئے ہیں ، ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ ہرکام دنیاوی سود وزیاں کی ترازو پر تولاجانے لگا ہے ۔ تعلیم ہمارے نقطہ نظر سے ایک عظیم عبادت ہے ، یہ صاحب علم کے ذمہ ایک فریضہ ہے ، رسول اﷲ انے حسبةً ﷲ اپنی امت کو تعلیم دی ہے ، آپ نے اور تمام انبیاء نے بیک زبان یہ اعلان فرمایا تھا کہ:لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً ِنْ أَجْرِیَ ِلَّا عَلَی اﷲِ میں تم سے کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا ، میرا معاوضہ تو محض اﷲ کے اوپر ہے ، چنانچہ پوری اسلامی تاریخ گواہ ہے ، انگریزوں کے دورِ عروج سے پہلے کی تمام صدیاں گواہ ہیں کہ اساتذہ نے تعلیم کو کبھی تجارت نہیں سمجھا ، اسے عبادت ہی سمجھتے رہے ، اور عبادت کے طور پر یہ کام انجام دیتے رہے ، اس لئے اس عمل میں وہی تقدس پایا جاتا رہا جو عبادت میں ہوتا ہے ۔
پھر جب انگریزوں کے اثر سے یہ رجحان بدلا ، اور انھوں نے اس کو ایک تجارتی مشغلہ بنالیا تو یہ زہریلی ہوا مدرسوں میں بھی آئی ۔ اب اساتذہ اسے بجائے عبادت کے ذریعہ معاش سمجھنے لگے ہیں ۔ اور ظاہر ہے کہ عبادت کے تقاضے اور اس کے آثار کچھ اور ہوتے ہیں ، اور ذریعہ معاش اور تجارت کے تقاضے اور اثرات دوسرے ہوتے ہیں ۔ اس رجحان کا لازمی اثر یہ ہوا کہ علم دین کی حرمت وعظمت دلوں سے کم ہوگئی ۔ اب لوگوں میں بقدر تنخواہ پڑھانے کا رجحان پرورش پانے لگا ہے تنخواہ کم ہے ، تو کم پڑھاؤ ۔ اس رجحان کے پیدا ہونے سے طلبہ کے قلوب میں بھی اساتذہ کا وہ احترام اور وہ ادب باقی نہیں رہا جو فیضان علم کے لئے ناگزیر ہے ، تاہم اب بھی بعض اساتذہ ایسے مل جاتے ہیں جو خالص عبادت کے نقطۂ نظر سے معلمی کرتے ہیں ، تنخواہ کے بیش وکم پر اور اس کے جزئی حسابات پر ان کی نظر نہیں ہوتی ، اور علم دین کی رونق ایسے ہی برگزیدہ اساتذہ کے طفیل باقی ہے ، لیکن عام حال اس کے خلاف ہوگیا ہے ۔
اساتذہ معلم خیر ہیں ، ان کادرجہ اﷲکے نزدیک بھی اور بندوں کے نزدیک بھی بہت اونچا ہے،انھیں دنیاوی اغراض کی آلائشوں سے پاک ہونا چاہئے ۔ روزی عطا فرمانے والی ہستی اﷲ تعالیٰ کی ہے ، ان پر توکل کا سرمایہ ، ہر معاوضہ اور قیمت سے بڑھ کر ہے ۔ اساتذہ تعلیم کے میدان میں قدم رکھیں تو اپنی نیت کا احتساب ضرور کریں۔ اس سے کام مین عمدگی اور برکت ہوگی ۔ مدرسہ سے جو کچھ بصورت تنخواہ ملے ، اسے اپنے کام کا معاوضہ نہیں ، بلکہ حق تعالیٰ کی طرف سے عطیہ اور نوازش سمجھیں ، یہ مسلّم ہے کہ عربی مدارس کی تنخواہ آج کے متوسط معیار زندگی بلکہ ادنیٰ معیارِ زندگی کو بھی پورا کرنے والی نہیں ہے ، لیکن تنخواہ حاجت روا نہیں ہے ۔ اﷲ تعالیٰ سے بالحاحِ تمام ہمیشہ دعا میں مشغول رہیں ۔ سب ضرورتیں غیب سے پوری ہوتی رہیں گی ۔
میں تو اپنے عزیزوں سے کہتا ہوں کہ تنخواہ بڑھانے کی درخواست کبھی مت دو جو کچھ درخواست کرنی ہواﷲکے حضور کرو ، یہی در وہ در ہے جہاں سوال کرنے سے آبرو نہیں جاتی ، بلکہ بڑھ جاتی ہے ۔
پھر تعلیم دینے میں اس کا خاص لحاظ رکھیں کہ مدرسہ کی جانب سے جو اوقات درس کے لئے مقرر ہیں اور جو نصاب متعین ہے ، اس میں کوئی کمی نہ کی جائے سبق میں ناغہ نہ ہونے دیں ۔ سبق کا مطالعہ اہتمام سے کریں اور اس طرح اسباق کی مقدار متعین کریں کہ وقت مقررہ میں نصاب پورا ہوجائے ۔ نہ تعلیمی وقت سے خارج میں پڑھانے کی نوبت آئے اور نہ سبق کی مقدار ناقابل برداشت حد تک بڑھانی پڑے ۔ بعض اساتذہ شروع میں اسباق کا ناغہ کرتے ہیں یا لمبی لمبی تقریریں کرکے سبق کی مقدار گھٹادیتے ہیں ، پھر آخرمیں خارجی اوقات میں پڑھاتے ہیں ۔ اس سے طلبہ کو تکرار ومذاکرہ کا موقع نہیں ملتا ، اور ان کی استعداد فاسد ہوکررہ جاتی ہے ۔
اساتذہ کرام اپنے طالب علموں اور تلامذہ کیلئے معیار ہوتے ہیں ، ان کی صحبت میں دن او ررات یہ رہتے ہیں اور انھیں کے اثرات یہ قبول کرتے ہیں ، اس لئے اساتذہ ہی وہ نمونہ قائم کریں ، جو قابل تقلید ہو ، اساتذہ اگر حرص مال اورجب جاہ میں گرفتار ہوں گے ، تو طلبہ بھی اس میں ملوث ہوں گے ، مدرسوں میں بعض اوقات یہ منظر دیکھنے میں آتا ہے کہ اساتذہ باہم حسد میں مبتلا ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے ایک دوسرے کی تحقیر کرتے ہیں ، باہم تنقیدیں کرتے ہیں ، طلبہ کی نگاہ میں ان کی وقعت کم کرتے ہیں ، اس سے مدرسہ کا ماحول عجیب تشویش انگیز ہوجاتا ہے ، اور جذبۂ حصول علم سرد پڑجاتا ہے ۔ جذبۂ تحاسد بڑھتا چلاجاتا ہے ، اﷲ ہی جانتا ہے کہ حسدکی وجہ سے کتنی تباہیاں آتی ہیں ۔
طلبہ کو علم کا فیض پہونچانے کیلئے ضروری ہے کہ ان سے اتنا تعلق رکھا جائے کہ وہ اپنے سوالات کو اساتذہ سے حل کراسکیں ، لیکن انھیں اتنا بے تکلف نہ بنایا جائے کہ وہ جو چاہیں بے تکلف کہتے چلے جائیں ، اتنی بے تکلفی اور مقربیت کے بعد شکوہ شکایت کا دروازہ کھلتا ہے ، بے تحاشا بدگمانیاں پھیلتی ہیں ، حکایت وشکایت کا دروزہ اپنے اوپر بند رکھنا چاہئے ، اور کان اور دل کو مضبوط رکھنا چاہئے کہ ہر کس وناکس کی زبان سے حکایت وشکایت سن کر اسے باور نہ کرلیں اور نہ بدگمانی میں مبتلا ہوں ۔
استاذ طالب علم پر شفیق ومہربان ہوتا ہے ، اس شفقت ومہربانی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی استعداد اور صلاحیت قلبی کی ترقی میں کوشاں رہے ، استاذ اگر طالب علم سے صرف درس گاہ تک واسطہ رکھتا ہے تو وہ اس کا حق نہیں ادا کرتا ، تمام اساتذہ پر حق ہے کہ وہ طلبہ کی خیر خواہی میں ان پر روک ٹوک کرتے رہیں ، کسی نامناسب حالت میں دیکھیں تو انھیں مشفقانہ تنبیہ ونصیحت ضرور کریں ، یہ سوچ کر اعراض نہ کریں کہ یہ فلاں کی ذمہ داری ہے ، اساتذہ مناسب انداز میں تنبیہ ونصیحت کرتے رہیں تو اس کے دو فائدے نقد طاہر ہوتے ہیں ، اور وہ دونوں فوائد ایسے ہیں کہ براہ ِراست مدرسہ کے ماحول کو متاثر کرتے ہیں ۔ ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ طلبہ کو کسی نامناسب حرکت کی جرأت نہیں ہوتی ، اور اس طرح ماحول میں بھلائی پھیلتی اور برائی سمٹتی ہے ، دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اساتذہ کی وقعت وعظمت دل میں بیٹھ جاتی ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جو ایک خاص امر خدا وندی ہے ، اس کی یہ دونوں برکتیں بروقت ظاہر ہوتی ہیں ، البتہ یہ ضرور خیال رہے کہ تنبیہ ونصیحت میں خیر خواہی کے علاوہ اور کوئی جذبہ نہ ہو ، رسول اﷲ ا نے طالب علموں کے ساتھ خیر خواہی ومہربانی کی وصیت فرمائی ہے ۔
صحبت کی تاثیر ساری دنیا کو تسلیم ہے ، آدمی جس کی صحبت میں رہتا ہے ، شعوری اور غیر شعوری دونوں طرح اس سے متاثر ہوتا ہے ، بالخصوص جب عظمت وعقیدت کے ساتھ یہ صحبت ہو توتاثیر دو آتشہ ہوکاتی ہے ، طلبہ میں صرف اساتذہ کے اعمال ونظریات ہی موثر نہیں ہوتے ۔ ان کے احوال وکیفیات بھی موثر ہوتے ہیں ۔ اگر استاذ طالب علم کو علم کی راہ پر لگا نا چاہتا ہے تو وہ خود بھی اسی راہ پر لگا رہے ۔ اساتذہ جب محنت ومشقت سے مطالعۂ کتب اور تحریر وتصنیف میں لگے رہتے ہیں تو یہی ذوق طلبہ میں بھی عام ہونے لگتا ہے ، اور اساتذہ جب سیاست کرنے لگتے ہیں تو طلبہ کا رجحان بھی تعلیم سے برگشتہ ہونے لگتا ہے ۔
ایک خاص بات یہاں اور بھی ضروری ہے ، وہ یہ کہ عموماً مدرسوں میں اساتذہ ، اربابِ انتظام کے مقابلے میں ایک گروہ کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں ، کچھ تو واقعی غلطیاں ہوتی ہیں اور کچھ بدگمانیاں ہوتی ہیں۔ حضرات اہل انتطام کے لئے عرض کرچکا ہوں ، اساتذہ وملازمین سے یہ عرض کرنا ہے کہ وہ حتی الامکان اربابِ انتظام سے موافقت کا معاملہ رکھیں ، ان کے اقدامات پر اعتراض نہ کریں ۔ خواہ وہ ان کے نزدیک قابل اعتراض ہی ہوں ، کتنے مسائل ومعاملات ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی نوک پلک کو انتظام کرنے والا ہی سمجھتا ہے ۔ ایسا بہت تجربہ ہوا کہ کسی انتظامی امر پر اعتراض کرنے والوں کو جب وہی انتظام سپرد کیا گیا تو انھوںنے بھی وہی کیا جس پر ان کو پہلے اعتراض تھا ۔ اساتذہ تعلیم میں لگیں ، انتظامی امور پر تنقید وتبصرہ بالکل نہ کریں ، یا بہت کم کریں ، آپس کی رائے زنی بسا اوقات مضر ثابت ہوتی ہے ، تنقید وتبصرہ جس کو شریعت کی ا صطلاح میں غیبت کہا جاتا ہے کوئی اچھی چیز نہیں ہے ، جس سے خیر کا ظہور ہو ، اساتذہ اورر منتظمین میں موافقت ہوگی ، تو باہم اعتماد ہوگا ، اور تعلیمی ماحول خوشگوار اور پُرسکون ہوگا ،
ہمارے زمانے میں مدارس کے اندر یہ بڑا روگ ہے کہ انتظام ایک الگ پارٹی ہے اور تعلیم ایک الگ پارٹی ہے ، اور دونوں ایک دوسرے سے بدگمان ہیں ، ایک دوسرے کی شکایت میں مبتلا ہیں ، نہ اس پارٹی کی ذہنیت اور زبان صاف ہے ، اور نہ اس پارٹی کی ، دونوں پارٹیاں گنہ گار ہوتی ہیں ، اور مدرسہ کاماحول بھی متعفن ہوتا ہے ۔ حضرات اساتذہ کرام بالخصوص درجاتِ عربی کے اساتذہ حضرات علماء ہوتے ہیں ، علماء کیلئے یہ بات ہرگز زیب نہیں دیتی کہ وہ قلب وزبان کے گناہ میں مسلسل مبتلارہیں ۔ اﷲ نے انھیں ایک بڑا منصب عطا فرمایا ہے ، اس کے حقوق کی رعایت بڑی ذمہ داری ہے ۔
غرض یہ ہے کہ مدرسہ کا ایسا ماحول بننا چاہئے جو اسلامی تعلیم کی عملی تفسیر ہو ،

حضرات مہتممین کی خدمت میں

حضرت مولانا اعجاز احمد صاحب اعظمی علیہ الرحمہ
مدرسہ مرکب ہے تین عناصر سے! اربابِ انتطام ، اساتذہ اور طلبہ ، یہ تینوں عناصر درست ہوں ، ان میں باہم موافقت ہو اور سب اپنی اپنی ذمہ داریاں بحسن وخوبی انجام دے رہے ہوں تو مدرسہ عمدہ چلتا ہے ۔
بات بہت طویل نہیں ہے ۔ خلاصہ صرف اتنا ہے کہ یہ تینوں عناصر اپنے پیش نظر تمام امور ومعاملات میں اﷲ اور رسول اکے احکام وہدایات کو رکھیں ، حتی الامکان وہی کام کریں جو شریعت کی جانب سے ان پر لازم ہو ، مدرسہ علم دین کی درس گاہ ہے ۔ کس کام کا دینی حکم کیا ہے ؟ اس کا علم مدرسہ میں بہت آسان ہے ۔ بس آدمی اپنے کو پابند رکھے کہ وہ شریعت کے دائرہ سے باہر نہیں نکلے گا اگر کسی معاشرہ میں یہ اہتمام ہوتو اﷲ تعالیٰ کی رضاورحمت مسلسل برسے گی ۔
اربابِ انتظام کی ذمہ داری یہ ہے کہ ادارہ سے وابستہ کارکنان اور مالیات دونوں میں بہت حزم واحتیاط کو پیش نظر رکھیں ۔ مدرسہ میں اساتذہ عموماً علماء ہوتے ہیں ، علماء کاایک خاص مقام ہوتا ہے ، یہ علماء جو مدارس میں پڑھاتے ہیں ۔ اربابِ انتظام کے لحاظ سے ان کی دو نسبتیں ہوتی ہیں ۔ ایک یہ کہ یہ حضرات عالم دین ہیں اور اس حیثیت سے یہ بہت زیادہ قابل تکریم وتعظیم ہیں، اور دوسری حیثیت یہ ہے کہ یہ اپنی خدمات کا دنیوی معاضہ بصورت تنخواہ ارباب انتظام سے حاصل کرتے ہیں ۔ اس طرح ایک حیثیت ملازمت کی ہوجاتی ہے، اور اس حیثیت سے گویا یہ حضرات ارباب انتظام کے دست نگر ہوتے ہیں ، اور ان کے سامنے اپنی خدمات کے سلسلے میں جواب دہ ہوتے ہیں ،ا پنی حاجات وضروریات کے سلسلے میں انھیں بسا اوقات درخواستیں ارباب انتظام کے سامنے پیش کرنی پڑتی ہیں ۔ یہاں اربابِ انتظام سے اکثر چوک ہوجاتی ہے ، ان کے سامنے ان علماء کرام کی دوسری یعنی ملازمت والی حیثیت زیادہ نمایاں رہتی ہے ۔ اور اسی تقاضے کے مطابق زیادہ عمل کرنے میں لگ جاتے ہیں ، یہ ایک غلطی ہے ۔ اس کے نتیجے میں اہل انتظام اور اساتذہ کے درمیان دوری ہونے لگتی ہے ۔
اہل انتظام اگر اساتذہ کے بارے میں ان کے علم وفضل کا لحاظ رکھیں اور ان کے ساتھ عظمت واحترام کا وہی معاملہ رکھیں جو شرعاً مطلوب ہے ، قانونی معاملات میں بے شک دستور کی پابندی کریں ، مگر اس طرح نہیں کہ ان حضرات کی بے وقعتی ہونے لگ جائے ، خدمت میں کوتاہی ہوتو بے شک تنبیہ کی جائے ، مگر اس طرح نہیں کہ ان کی اہانت ہوجائے ، دوسرے ملازمین وطلبہ کے درمیان ان کی رسوائی ہوجائے ، نہیں بلکہ اس طرح کہ ان کا احترام بھی برقرار رہے اور تنبیہ بھی ہو۔
دارالعلوم دیوبند کے ابتدائی مہتمم حضرت مولانا رفیع الدین صاحب نے ایک بار محسوس کیا کہ اساتذہ درس گاہوں میں قدرے تاخیر سے پہونچتے ہیں ، انھوں نے کچھ کہا نہیں ، انھوں نے اس دروازے پر جس سے اساتذہ گزرتے تھے چارپائی ڈال لی ، اور وقت سے پہلے آکر بیٹھ جاتے ، کچھ کام کرتے رہتے ، اساتذہ نے خود بخود پابندی شروع کردی ۔ ایک بزرگ استاذ اپنی بعض مشغولیات کی وجہ سے پھر بھی تاخیر سے آتے رہے ، تو ان سے تنہائی میں بہت ادب سے کہا کہ حضرت آپ بہت مشغول رہتے ہیں ، تعلیم کے وقت کے کچھ کام میرے سپرد کردیں ، میں انھیں انجام دوں گا ۔ آپ وقت پر مدرسہ تشریف لایا کریں تاکہ طالب علموں کا نقصان نہ ہو ۔
بعض مدارس میں ناظم اور مہتمم کی جانب سے مختلف قوانین اور ہدایات وقتاً فوقتاً جاری ہوتے رہتے ہیں ، تعلیم یا انتظام سے متعلق کوئی بات آئی اسے بصورت قانون پیش کردیا جاتا ہے ، اس طرح قوانین کی بھرمار ہوجاتی ہے ، اور کسی قانون کی عمر چند روز سے زیادہ نہیں رہ پاتی ، لیکن جن پر وہ قانون نافذ کیا جاتا ہے ، ان کی طبیعتیں اچاٹ ہوجاتی ہیں ۔ ایک بے دلی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ، قانون کی وقعت ختم ہوجاتی ہے ، اور علمی فضا پژمردہ ہوکر رہ جاتی ہے ۔
بہت غور وفکر کے ساتھ چند اصولی اور ضروری قوانین مرتب کرلیں جن پر عمل درآمد کی پابندی کی جائے ۔ باقی جزئی امور کو باہمی رابطہ سے درست کرلیا جائے انھیں اصولی اور قانونی شکل نہ دی جائے ۔
اربابِ اقتدار بعض اوقات ایک بڑے مہلک ابتلاء میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور وہ ہے خوشامد پسندی ۔ حبِّ جاہ سے کون خالی ہوتاہے، ہر ایک میں یہ مرض ہوتا ہے ، بہت محنت اور بہت علاج کے بعد کہیں اس بیماری سے شفا ہوتی ہے ۔ لیکن جب کسی کے ہاتھ میں اقتدار آجاتا ہے تو اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اپنی تعریف کی لامتناہی خواہش دل میں موجیں مارنے لگتی ہے ، ہر وقت یہی دھن سوار رہتی ہے کہ لوگ تعریف کرتے رہیں ، خواہ کوئی کام قابل تعریف ہویا نہ ہو ۔ اگر اتفاق سے کوئی تعریف کرنے والا نہیں ملتا تو ہر مجلس میں ، ہر شخص سے خود اپنی اور اپنے کارناموں کی تعریف شروع کردیتے ہیں ، عنوان خواہ کچھ اختیار کریں مگر مقصود اپنی تعریف ، مدح سرائی اور اپنی تشہیر ہوتی ہے ، ان کی ماتحتی میں جو لوگ کام کرتے ہیں ، وہ اس نکتہ کو پالیتے ہیں تو جو کوئی سفلہ پن کا شکار ہوتا ہے ، وہ منہ بھر بھر کر ان کی تعریف کرتا ہے ۔ جا بے جا ہاں میں ہاں ملاتا ہے ، اس طرح کےلوگ دل سے نہیں مانتے بلکہ اپنی اغراض حاصل کرنے کیلئے چاپلوسی کرتے ہیں ۔ یہ فرض منصبی کی ادائیگی میں چاہے کوتاہی کریں ، مگر حاضر باشی ، خوشامد گری ، مدح سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، اس سے حد سے بڑھی ہوئی خوشامد پسندی اور حب جاہ کی پیاس کو وقتی طور سے آسودگی ملتی ہے ، پھر یہ لوگ مقرب بن جاتے ہیں ، اور معاملات کے سیاہ وسفید میں ان کا دخل ہوجاتا ہے ، یہ لوگ کام کے بالکل نکمے ہوتے ہیں ،مگر خوشامد ا نہ پالیسی کی بدولت مقبول ہوتے ہیں، اور جولوگ واقعی کام کرنے والے ہوتے ہیں، وہ ان چھچھوروں کی چیرہ دستیوں اور چغلخوریوں کی و جہ سے پریشان رہتے ہیں ۔
حکومت سے لے کر مدارس ومساجد کے اہتمام وانتظام تک ہر جگہ یہ بیماری جڑ پکڑے ہوئے ہے ۔ لیکن اس سے دین کا کتنا بڑا نقصان ہوتا ہے ، اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ، حب جاہ اور خوشامد پسندی کا لازمی ثمرہ کبر وغرور ہے ۔ اور معلوم ہے کہ کبر وغرور کتنی زبردست معصیت ہے ۔ ابلیس اسی سے تباہ ہوا ۔ آدم کی اولاد کو تو یہ غلطی نہیں کرنی چاہئے ۔
مدارس داخلی طور اس بیماری کی وجہ سے بڑی مصیبت میں مبتلاہیں ، ہر شخص خوشامد کا یہ رویہ اپنا نہیں سکتا ، پھر وہ اپنے ناکردہ گناہوں کی وجہ سے اربابِ اقتدار کی طرف سے برابر پریشان رہتا ہے ۔
پھر یہ سوچنا چاہئے کہ نفس وطبیعت کا یہ جذبہ معاصی کی بنیاد پر ہے ، نہ جانے معصیت کے کتنے شعلے اس کی وجہ سے دہکتے ہیں ، پھر اﷲ کی رحمت ، جس کا تعلق طاعت وعبادت سے ہے کیونکر آسکتی ہے ۔
ایک مسئلہ جو اربابِ انتظام سے متعلق ہے ، دیکھا جاتا ہے کہ تعلیم کمزور ہے ، تربیت کا فقدان ہے ، مردم گری کا کارخانہ سست ہے ، اور تعمیرات کاکام بے ضرورت بھی جاری ہے ، اور زیب وزینت اور نمائش تو ایسی کہ ہر شخص کی نگاہ اس پر پڑے ، مدارس کو پختہ ضرور بنائیں ، ضروری تعمیرات کرائیں ، لیکن اصل توجہ تعلیم وتربیت پر ہونی چاہئے ، اگر یہ نہیں تو پتھر اینٹ کی عمارت وبال ہی لائے گی ۔ نمائشی تعمیر بلکہ نمائش کی ہر چیز حتیٰ کہ نمائش والی عبادت بھی اﷲ کی نظر رحمت سے محروم ہوتی ہے ۔
ایک بڑا مسئلہ جو اربابِ انتظام کیلئے دردِ سر بنارہتا ہے ، وہ چندے کا مسئلہ ہے ، اس سلسلے میں دو باتیں قابل لحاظ ہیں ۔ ایک تو چندے میں اتنا غُلو پایا جاتا ہے جیسے چندہ ہی اصل مقصد ہو ، نہ تعلیم وتربیت ، نہ کتابیں ، نہ نظام ، بس چندہ کی دھن ہے ، اس کے لئے نہ وقت کی قید ہے ، نہ اس کا لحاظ ہے کہ کس کو چندے پر بھیجا جارہا ہے ، اور نہ تعلیم کے نقصان کا خیال ہے ، کتنے مدرسے ہیں ، جن میں جہاں کسی فصل کا وقت آیا ، اساتذہ وطلبہ سب کو چندے میں جھونک دیا جاتا ہے ، اساتذہ پڑھانے کے لئے ہیں ۔ طلبہ پڑھنے کے لئے ہیں ، چندے کی ان مہموں کی وجہ سے تعلیم کتنی متاثر ہوتی ہے ۔ بس بیان سے باہر ہے ۔ بقرعید میں چرم قربانی کی مہم ، دھان کی فصل تیار ہوئی ، تو اس کی محنت ، گیہوں تیار ہوا،تواس کی وصولی ، تعلیم کے اوقات کا بڑا حصہ ان چیزوں کی نذر ہوجاتا ہے ، نتیجہ میں تعلیم صفر ہوکر رہ جاتی ہے ۔
مدرسین اور طلبہ کوتو تعلیم وتعلم کے لئے یکسو رکھنا چاہئے تاکہ وہ فراغتِ ذہن ودماغ کے ساتھ علم کے مشغلے میں لگے رہیں ۔ مدرسین ہی چندہ بھی کریں ، دربدر کی ٹھوکریں کھائیں ، لوگوں کی کڑوی کسیلی سنیں، اور پھر رقم لاکر مہتمم صاحب کو دیدیںاور وہ اس کے ذریعہ انھیں مدرسین پر حکومت کریں ، کتنی نازیبا بات ہے ۔
ایک مسئلہ وقت پر تنخواہوں کی ادائیگی کا بھی ہے ، قاعدہ یہ ہے کہ جب ملازمین اور کارکنان سے ادارہ کا معاملہ ہوا ہے ، اور عرف میں یہ بات طے شدہ ہے کہ خدمت کرنے والاپورے ماہ خدمت کرے گا ، اور مہینہ ختم ہونے پر کم یا زیادہ جو اس کی تنخواہ ہو ، وہ مل جانی چاہئے ۔ بہت سے مدرسوں میں دیکھا جاتا ہے کہ یہی شعبہ سردمہری کا شکار ہوتا ہے ، ہر کام ہورہا ہے ، حتیٰ کہ مہتمم صاحب کی ادنیٰ سے ادنیٰ ضرورت تک کے لئے بڑی فیاضی سے رقم خرچ ہوتی ہے ۔ مگر مدرسین وملازمین کی تنخواہ کے لئے مدرسہ کے خزانہ میں رقم نہیں ہے اور نہ اس کی ادائیگی کیلئے معتد بہ فکر واہتمام ہے ، یہ شرعی ذمہ داری سے انحراف ہے، وعدہ خلافی ہے ۔
ایمان کا لازمہ ہے کہ آدمی وعدے کا پابند ہو ، اور نفاق کا شاخسانہ یہ ہے کہ آدمی وعدہ کی خلاف ورزی کرتا رہے ، بکثرت یہ شکایت ہوتی ہے کہ حضرات منتظمین اساتذہ سے ، طلبہ اور دوسرے خدمت گزاران مدرسہ سے سے وعدہ کرتے ہیں ، مگر اسے وفا نہیں کرتے ، اور اس سے قلوب میں بے اطمینانیاں اور بے اعتمادیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ وعدہ تو ایسا نبھانا چاہئے کہ ہر شخص مطمئن ہوجائے ۔
اربابِ انتظام کی طرف سے طلبہ کے داخلے اور اخراج کے سلسلے میں بھی بعض اوقات بے اعتدالیاں دیکھنے میں آتی ہیں ۔ بعض مدارس میں علاقائی عصبیت کارفرما ہوتی ہے ، کسی کسی علاقہ کے طلبہ کا داخلہ نہیں کیا جاتا ، یا مشکل سے کیا جاتا ہے علم میں تعصب کا کیا دخل ؟ علم کا طالب جو بھی آئے ، اگر وہ واقعی طالب ہے تو
اسے سینے سے لگانا چاہئے ، اور اگر وہ طالب نہیں مطلوب بننے کی شان رکھتا ہو ، تو وہ کہیں کا ہو ، اس سے معذرت کرلینی چاہئے ۔ کوئی طالب علم صاحب ثروت گھرانے کا آگیا تو اہل انتظام کی نگاہیں فرشِ راہ ہوجاتی ہیں ، اور اگر غریب گھرانے کا ہے تو اس سے بات کرنے کے روادار نہیں ہیں ۔ حالانکہ اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ تعلیم وتعلم کا مزاج فاسد ہوجاتا ہے ۔
یہی حال اخراج کا ہوتا ہے ۔ اپنا خاص آدمی ہے یا اصحابِ ثروت میں سے ہے تو اس کی بڑی سے بڑی غلطی معاف اور اگر ایسا نہیں ہے تو ادنیٰ غلطی اخراج کیلئے کافی ہوتی ہے ، یہ طرز عمل عدل وانصاف کے خلاف ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ مدرسہ جب دین اور علم دین کی نشرواشاعت کی بقاء و استحکام کیلئے ہے ، نیز اس لئے ہے کہ اس سے اﷲ تعالیٰ راضی ہوں تو جب تک اس سے یہ مقصد حاصل ہوتا ہو وہ کارآمد ہے ، ورنہ وبالِ جان ہے ۔
اربابِ مدرسہ کو دوسروں کے اعمال واحوال کے ساتھ اپنے طرزِ عمل اور نیتوں کا بھی جائزہ لیتے رہنا چاہئے ، جہاں کور کسر ہو اسے درست کرتے رہیں ۔ اﷲ تعالیٰ حسن نیت پر توفیق عطافرماتے ہیں، نصرت فرماتے ہیں ۔

مسئلۂ تین طلاق اور مودی حکومت کے مذموم ارادے

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

جب سے دہلی مرکز اور ہندوستان کی بیشتر ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں اقتدار میں آئی ہیں، ملک میں آئے دن مختلف بہانوں سے اقلیتوں میں خوف وہراس پھیلایا جارہا ہے۔ ایک مسئلہ کے بعد دوسرے مسئلہ میں اقلیتوں کو الجھاکر انہیں ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے روکا جارہا ہے۔ کانگریس نے بھی اپنے دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر ظلم وزیادتی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن پھر بھی مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کے بعض مسائل کا حل کرنا اور کسی درجہ میں ان کو خوش رکھنا کانگریس کی مجبوری تھی۔ بی جے پی کو مسلمانوں کے ووٹوں کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی وہ اسمبلی یاپارلیمنٹ میں مسلم نمائندگی کی خواہش رکھتی ہے، گزشتہ متعدد مرتبہ ایک بھی مسلمان کو اپنا امیدوار نہ بنانا اس بات کی واضح دلیل ہے۔ ملک کی ترقی وخوشحالی پر صلاحیتیں لگانے کے بجائے گائے، مذبح خانے، گوشت کی دکانیں، حکومت کے فنڈ سے چلنے والے بعض مدارس، ٹیپو سلطان، مندر، مسجد، اذان، لاؤڈسپیکر اور طلاق جیسے غیر ضروری مسائل اٹھاکر ہندوستانی تہذیب وتمدن کے خلاف ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلاکر حکمراں پارٹی صرف ہندؤوں کا ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ گجرات اسمبلی کے الیکشن کے نتائج سے گھبرائی بی جے پی نے ۲۰۱۹ کے پارلیمنٹ کے الیکشن میں جیت کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی امن وسلامتی کی فضا میں گھناؤنے بادلوں کو منڈلانے کی غرض سے ملک کے بڑے بڑے مسائل کو پس پشت ڈال کر ضرورت سے زیادہ تیزی دکھاکر ہندوستانی قوانین کے مطابق ملی مذہبی آزادی پر قدغن لگاکر ایک مجلس میں تین طلاق دینے والے شخص کو شہر میں دنگا وفساد برپا کرنے والے شخص سے بھی زیادہ سخت سزا دلانے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرڈالا، جو فی الحال راجیہ سبھا میں معلق ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ بل مسلم معاشرہ کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوگا کیونکہ یہ بل جس نام اور جن مقاصد کے تحت لایا جارہا ہے، نافذ ہونے کے بعد تین طلاق تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خواتین کے حقوق کے نام سے ایک سے زیادہ نکاح اور بچوں کی تعداد کو محدود کرنے جیسے سینکڑوں مسائل ا س کی زد میں آئیں گے۔

میڈیا اور کچھ مسلم اسکالرز کے ذریعہ ٹی وی چینلوں پر عوام کے سامنے تین طلاق کا مسئلہ کچھ اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ قرآن کریم کے مطابق ایک وقت میں دی گئیں تین طلاقیں ایک واقع ہوتی ہیں، البتہ دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بعض سیاسی مقاصد کے پیش نظر ایک وقت کی تین طلاقوں کو تین ہی تسلیم کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرآن کریم میں یہ حکم وضاحت کے ساتھ مذکور ہے کہ ایک وقت میں تین طلاقیں دینے پر ایک ہی واقع ہوتی ہیں تو حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ جیسے عظیم شخص کو یہ کیسے ہمت ہوئی کہ انہوں نے قاضیوں سے قرآن کریم کے واضح حکم کے خلاف فیصلہ صادر کروایا۔ نیز دوسرا سوال یہ ہے کہ صحابۂ کرام کی جماعت میں سے آپﷺکے دونوں داماد حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضی، آپﷺ کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب اور اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے ہزاروں فقیہ صحابہ حیات تھے، انہوں نے اس فیصلہ کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ یاد رکھیں کہ دنیا کی کسی بھی مستند کتاب میں اِس فیصلہ کے خلاف کسی ایک صحابی کا بھی اعتراض یا اختلاف مذکور نہیں ہے۔ اس نقطۂ نظر کو اگر صحیح مان لیا جائے تو لازم آئے گا کہ حضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال تسلیم کیا گیا، نعوذ باللہ ، جو کسی حال میں قابل قبول نہیں ہے۔
ایک ساتھ تین طلاق دینے پر تین یا ایک کے واقع ہونے پر امت مسلمہ میں ابتدا سے ہی اختلاف چلا آرہا ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں چاروں ائمہ (حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) نے فرمایا ہے کہ ایک وقت میں تین طلاق دینے پر تین ہی واقع ہوں گی۔ امام المحدثین حضرت امام بخاریؒ نے اپنی مشہور ومعروف کتاب (بخاری) میں کتاب الطلاق کے تحت ایک باب ترتیب دیا ہے جس کا نام رکھا ہے: باب من اجاز طلاق الثلاث، یعنی تین طلاق کے جواز کی بحث۔ اس باب کے تحت بخاری شریف کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے علامہ ابن حجر العسقلانی ؒ نے تحریر کیا ہے کہ شیعہ اور بعض اہل ظواہر کے علاوہ علماء امت کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ایک وقت کی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں۔ مسلم شریف کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے علامہ نوویؒ نے مسلم ۔ کتاب الطلاق ۔ باب طلاق الثلاث کے تحت لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بیوی کو کہے کہ میں نے تجھے تین طلاق دی تو اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک، حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ اور اخلاف واسلاف کے جمہور علماء نے فرمایا ہے کہ تین طلاقیں واقع ہوں گی، البتہ صرف بعض اہل ظواہر کی رائے ہے کہ ایک واقع ہو گی۔ سعودی عرب کے علماء بورڈ کی اکثریت نے ۱۳۹۳ھ میں اپنے اجلاس میں موضوع کے تمام گوشوں پر بحث ومباحثہ کر کے فیصلہ کیا کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں۔ یہ بحث ومباحثہ اور قرارداد ۱۳۹۷ھ میں مجلہ البحوث الاسلامےۃ میں شائع ہوئی ہے۔ اس فیصلہ میں اس بات کا بھی اقرار کیا گیا ہے کہ جمہور علماء کرام کا مسلک ہے کہ بیک لفظ تین طلاق دینے سے تین واقع ہوجائیں گی ، یہی صحابۂ کرام وتابعین اور ائمہ مجتہدین (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کی رائے ہے۔ علامہ ابن القیمؒ نے بھی اس بات کا اقرار کیا ہے کہ چاروں ائمہ کی رائے ہے کہ ایک لفظ سے تین طلاق دینے پر تین ہی واقع ہوں گی۔ نیز انہوں نے یہ بھی اقرار کیا ہے کہ جمہور تابعین اور اکثر صحابہ کی بھی یہی رائے ہے کہ تین طلاقیں ہی واقع ہوں گی۔ نیز انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک بار تین طلاق دینے سے ایک طلاق کے واقع ہونے کا قول شیعہ اور بعض اہل ظواہر نے اختیار کیا ہے۔ زاد المعاد ص ۱۶۴

دیگر احکام کی طرح قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ یہ مذکور نہیں ہے کہ طلاق کس وقت دی جائے؟ (پاکی کی حالت میں یا ناپاکی کی حالت میں) کیسے دی جائے؟ کن الفاظ سے دی جائے؟ اور کن کن حالات میں دی جائے؟ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی طرح طلاق کے احکام ومسائل حضور اکرم ﷺ نے کھول کھو ل کر بیان فرمائے ہیں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ احادیث نبویہ کے بغیر قرآن فہمی ممکن نہیں ہے۔ دونوں موقف رکھنے والوں نے قرآن کریم سے اپنی رائے کو مدلل ضرور کیا ہے لیکن پورے قرآن کریم میں وضاحت کے ساتھ یہ کہیں مذکور نہیں ہے کہ ایک ساتھ طلاق دینے پر کتنی طلاق واقع ہوں گی۔ احادیث نبویہ اور صحابۂ کرام کے عمل سے ہی قرآن کریم کو سمجھنا ہوگا۔ عمومی طور پر احادیث میں جمہور علماء کی تائید ہوتی ہے۔ دوسری رائے اختیار کرنے والوں نے حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک حدیث کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے لیکن جمہور علماء نے سند اور الفاظ کے اختلاف کی وجہ سے اس کو قابل عمل تسلیم نہیں کیا ہے۔ پوری امت مسلمہ کا اس بات پر ضرور اتفاق ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں قاضیوں نے ایک وقت میں تین طلاقیں دینے پر تین ہی طلاقوں کے واقع ہونے کے فیصلے صادر فرمائے ۔

آئیے اب قرآن کریم میں طلاق سے متعلق آیات پر اختصار کے ساتھ غور وخوض کریں۔ پورے قرآن کریم میں تین مقامات پر طلاق کے احکام ومسائل بیان کیے گئے ہیں۔ سورۃ البقرہ میں ۲۲۶ آیت سے ۲۴۲آیت تک۔ سورۃ الطلاق کی ابتدائی سات آیات اور سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۴۹۔ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۴۹میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر عورت کو نکاح کے بعد لیکن صحبت سے قبل طلاق دے دی جائے تو اُس عورت کے لیے عدت نہیں ہے۔ سورۃ الطلاق کی ابتدائی سات آیات میں سے تیسری آیت سے ساتویں آیت تک جو احکام ذکر کیے گئے ہیں اُن میں عمومی طور پر امت مسلمہ کے درمیان کوئی قابل ذکر اختلاف نہیں ہے۔ سورۃ الطلاق کی پہلی دو آیات میں صرف دو جگہ پر قرآن فہمی میں اختلاف ہواہے: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ اور وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ جمہور علماء بشمول چاروں ائمہ نے انہیں دونوں آیات کی روشنی میں کہا کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں سے تین ہی واقع ہوں گی جبکہ شیعہ، اہل ظواہر اور اہل حدیث نے اسی آیت سے اپنے قول کو مدلل کیا ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ کوئی بھی شخص احادیث نبویہ کی روشنی کے بغیر قیامت تک اِن ایات کا صحیح مفہوم نہیں سمجھ سکتا ہے۔ سورۃ البقرہ (آیت ۲۲۶ سے آیت ۲۴۲) میں بیان کردہ طلاق کے احکام ومسائل کو سمجھنے میں ۲۲۹ اور ۲۳۰ دو آیات کے علاوہ قابل ذکر اختلاف نہیں ہے۔ اِن دو آیات میں اصل میں الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ کے دو الفاظ کو سمجھنے میں اختلاف ہوا ہے۔ قرآن کریم میں طلاق سے متعلق تینوں آیات کو سمجھنے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی یہ مذکور نہیں ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینے پر ایک طلاق واقع ہو گی جیساکہ میڈیا اور کچھ مسلم اسکالرز کے ذریعہ عوام کے سامنے ٹی وی چینلوں پر بحث ومباحثہ کے دوران غلط بیانی سے کام لیا گیا۔ مجھ جیسا قرآن کریم کا ادنی سا طالب علم بڑے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ احادیث نبویہ کی روشنی کے بغیر اِن آیات کا سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ ان آیات میں کہیں یہ مذکور نہیں ہے کہ طلاق کب دی جائے؟ (ناپاکی کی حالت میں یا پاکی کی حالت میں)، دو طلاق کے درمیان کتنا فاصلہ رکھا جائے؟ (ایک ماہ کا یا ایک سال کا) یا کسی طرح دی جائے؟ کیا الفاظ استعمال کیے جائیں اور کن کن حالات میں دی جائے؟ قرآن کریم میں تین مقامات پر طلاق کے احکام ومسائل سے کسی حد تک واقفیت کے بعد قرآن کریم کے پہلے مفسر حضوراکرم ﷺ کے اقوال وافعال کی روشنی میں اس مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اختصار کے پیش نظر یہاں صرف تین احادیث پیشِ خدمت ہیں۔

پہلی حدیث: بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔حضور اکرم ﷺ سے پوچھا گیا اب پہلے کے لیے حلال ہوگی یا نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دوسرا شوہر پہلے شوہر کی طرح لطف اندوز صحبت نہ کرلے۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص کہے کہ یہ تینوں طلاقیں تین پاکی کے وقت میں الگ الگ دی گئی ہوں گی۔ بخاری شریف کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے علامہ ابن حجر العسقلانیؒ نے اپنی کتاب (فتح الباری) میں اس کا جواب لکھا ہے کہ یہ تینوں طلاقوں کے بیک وقت واقع ہونے میں ظاہر ہے لہٰذا ظاہر کو چھوڑ کر بلاوجہ اور بلا قرینہ غیر ظاہر کو استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ نیز امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو جس باب کے تحت ذکر کیا ہے اُس میں اُس موقف کو ذکر کیا گیا ہے جو ایک لفظ سے تین طلاق دینے پر تین واقع ہونے کے قائل ہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ امام بخاریؒ نے بھی یہی سمجھا ہے کہ اس واقعہ میں ایک ساتھ تین طلاقیں مراد ہیں۔

دوسری حدیث: حدیث کی مشہور کتابوں میں سے مصنف ابن ابی شیبہ، بیہقی اور دار قطنی میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے طلاق کا واقعہ مذکور ہے: انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ اگر میں نے تین طلاقیں دی ہوتیں تو میرے لیے رجعت کرنا حلال ہوتا یا نہیں؟ حضوراکرم ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ وہ تم سے بائنہ ہوجاتیں اور ایسا کرنا گناہ ہوتا۔ نبی اکرم ﷺ کے فرمان کا دوسراحصہ (اور ایسا کرنا گناہ ہوتا) اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ اس جگہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔

تیسری حدیث: حدیث کی مشہور کتاب دار قطنی میں ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی حضرت عائشہ خشعمیہ کواس لفظ سے طلاق دی: اذہبی فانت طالق ثلاثا) یعنی تو چلی جا، تجھے تین طلاق ہے۔ عائشہ چلی گئیں۔ بعد میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ عائشہ کو جدائی کا بڑا رنج ہے تو رودئے اور فرمایا: اگر میں نے اپنے نانا حضور اکرم ﷺ سے نہ سنا ہوتا کہ جو شخص اپنی بیوی کو تین مبہم (یعنی ایک لفظ سے) طلاق دے دے یا تین طہروں میں تین طلاقیں دے تو جب تک وہ عورت دوسرے سے نکاح نہ کرے پہلے کے لیے حلال نہیں ہوسکتی، تو میں عائشہ سے رجعت کرلیتا۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ایک بار تین طلاق دینے پر تین یا ایک طلاق کے واقع ہونے پر عرصۂ دراز سے اختلاف چلا آرہا ہے۔ جمہورعلماء ومحدثین ومفسرین بشمول چاروں ائمہ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تین طلاق کے واقع ہونے کا موقف اختیار کیا ہے، نیز اس بات پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں تین ہی طلاق واقع ہونے کے فیصلے کیے گئے ۔ شیعہ، اہل ظواہر اور عصر حاضر میں اہل حدیث حضرات نے ایک طلاق کے واقع ہونے کا موقف اختیار کیا ہے۔ ہندوستان کے بھی ۹۰فیصد سے زیادہ مسلمان سینکڑوں سالوں سے قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین ہی تسلیم کرتے چلے آرہے ہیں، اگرچہ دوسرے مکتب فکر کو اپنی رائے پر عمل کرنے کی مکمل اجازت ہے۔ لیکن ایک وقت میں تین طلاقیں دینے پر اب ہندوستانی حکومت نے قرآن وحدیث کے ماہرین سے رجوع کے بغیر ہندوستانی قوانین کے خلاف جو سزا متعین کی ہے یہ مذہبی امور میں دخل اندازی کے ساتھ مسلم معاشرہ کو تباہ کرنے کا قدم بھی ہے۔ لہٰذا ہم سب کو ایک پلیٹ فارم پر آکر نہ صرف اس مذموم بل کی مخالفت کرنی چاہئے بلکہ اپنے عملی اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ موجودہ حکومت آئندہ اس نوعیت کا قدم آسانی سے نہ اٹھا سکے۔ نیز طلاق دینے میں جذبات سے کام نہ لے کر پہلے ہم میاں بیوی کے درمیان اختلافات کو آپس میں صلح کرکے ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اگر طلاق دینے کی نوبت آئے تو ایک بار میں تین طلاقیں ہر گز نہ دیں تاکہ پیچیدہ مسائل درپیش نہ آئیں کیونکہ ایک یا دو طلاق دینے سے بھی میاں بیوی کے درمیان جدائی ہوسکتی ہے، نیز اس میں عدت کے دوران رجعت اور عدت کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کی گنجائش باقی رہتی ہے۔

(www.najeebqasmi.com)

مزاح ومذاق ، حدود وآداب: یوم مزاح کے تناظر میں

مفتی محمد رفیع الدین حنیف قاسمی،
وادی مصطفی ، شاہین نگر ، حیدرآباد،
رفیق تصنیف دار الدعوة والارشاد، یوسف گوڑہ ، حیدرآباد
phone:0955008116
اسلام خشک مزاجی ،دنیا سے باکل کنارہ کشی اور راہبانہ وزاہدانہ زندگی کی تعلیم نہیں دیتا کہ ہر قسم کی معاشرتی دلچسبیوں اور سماجی ہنگاموں ، آپسی اختلاط اور میل جول سے الگ تھلگ ہو کر گوشہٴ تنہائی میں چپ سادھے ، ساکت وصامت ، خشونت ، تھیکے پن اور پھیکے مزاج کے ساتھ صرف اپنے آپ کو اپنی دنیا میں مگن یا مصروف طاعات وعبادت رکھا جائے ، نہ کسی سے کبھی مسکرا کر بات کی جائے نہ آپس میں کسی قسم کا مزاح مذاق کا تبادلہ ہو ، اس قسم کی رہبانیت اور عزلت نشینی کی زندگی کی تو اسلام نفی کرتا ہے ، اس کے مقابل نبیٴ کریم انے ا س مسلمان کو بہتر اور خوب تر قرار دیا ہے جو لو گوں سے اختلاط اور ربط وضبط رکھتا ہے ، سماجی دلچسبیوں میں حصہ لیتا ہے اور لوگوں سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرتا ہے اس مسلمان کے مقابل جو معاشرتی اور سماجی دلچسبیوں سے کٹ کر عزلت اور تنہائی میں زندگی گذارتا ہے ، گوشہٴ تنہائی کو اپنا لازمہ اور خاصہ بنائے ہوئے ہے ۔
اسلام نے تو تفریحِ طبع ، خوش مزاجی ،انبساطِ قلب اور زندگی کی یکسانیت ، طبیعت کی بوری اور خشکی کو دور کرنے لئے حدود میں رہ کر مزاح ومذاق کی بھی اجازت دی ہے ،یعنی خوش وقتی اور تفریحِ طبع کے لئے آپس میں کبھی ایسے سنجیدہ اورظریفانہ کلمات کہہ لئے جائیں جس سے کسی کی عزتِ نفس پر چوٹ نہ پڑتی ہو ، کسی کا وقار مجروح نہ ہوتا ہو ، کسی کو جانی ، مالی یا نفسیاتی نقصان در پیش نہ ہوتا ہو ، اس طرح کی وقتی تفریح کے لئے لذت بخش مزاحیہ جملوں کے تبادلہ میں اسلام کوئی حرج نہیں سمجھتا ، حضور اکرم ا اور آپ اکے اصحابِ رسول کی زندگی میں اس قسم کے بے شمارپر لطف لمحات کی مثالیں ملتی ہے جو ایک طرف جائز مزاح وظرافت کا نمونہ ہیں تو دوسری طرف صداقت ، حکمت ودانائی ، دلداری ودل بستگی کا خزینہ بھی ہیں ، آپ کے اسی مزاح مذاق کے متعلق جب نبیٴ کریم اسے حضراتِ صحابہ نے دریافت کیا تو آپ انے فرمایا :اے اللہ رسول ا!آپ بھی ہم سے مزاح کرتے ہیں، آپ انے فرمایا : میں مزاح اور مذاق کرتا بھی ہوں تو حق ہی کہتا ہوں ”انّی لاأقول الّا حقّاً “(ترمذی : باب المزاح : حدیث : ۱۹۹۰)
حضور ا اورحضراتِ صحابہ کے مزاح کے واقعات:
#حضرت انسص سے روایت ہے کہ نبیٴ کریم اابوطلحہ صکے پاس آئے ، وہاں ان کے لڑکے کو جن کی کنیت ”ابوعمیر “تھی غمزدہ دیکھا ، فرماتے ہیں کہ : نبیٴ کریم اجب ان کو دیکھتے تو ان سے مذاق کرتے ، آپ انے ان سے کہا : ابو عمیر ! میں تمہیں غمزدہ دیکھ رہا ہوں ، لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ا! جس پرندے (نغیر )سے وہ کھیلتے تھے وہ مر گیا ، راوی کہتے ہیں : آپ ان سے کہتے : ”یا أبا عمیر ! ما فعل النغیر “اے ابوعمیر ! تمہارے ”نغیر “نامی پرندے کا کیا ہوا (سنن النسائی الکبری: التسلیم علی الصبیان والدعاء ، حدیث : ۱۰۱۶۴)یعنی اس چھوٹے بچے کی دلداری اور اس کے پرندے کے مرجانے پر اس قسم کے مقفع مسجع جملوں کے ذریعے اس کی ڈھارس بندھوانا اورآپ ا اس کو تسلی دینا چاہتے تھے اور اس جملے کے مقفع اور مسجع ہونے پر ایک طرح یہ تفریحِ طبع کا سامان بھی تھا ۔
#ایک دیہاتی شخص تھے ، ان کا نام زاھرص تھا ، وہ نبیٴ کریم اکو دیہات کا ہدیہ دیا کرتے تھے ، اور نبیٴ کریم اان کے جانے کے وقت ان کو شہر کا ہدیہ دیا کرتے ، آپ ایوں کہا کرتے : ”انّ زاھراً بادیتنا ، ونحن حاضروہ “زاہر ہمارے دیہات ہیں اور ہم ان کے شہر ہیں ، رسول اللہ اان سے بے پناہ محبت کرتے تھے ، وہ نہایت بدصورت تھے ، حضورا ان کے پاس آئے ، وہ اپنے سامان بیچ رہے تھے ، ان کو حضورا نے پیچھے سے اپنے سینے سے چمٹا لیا، وہ آپ کو دیکھ نہیں پارہے تھے ، انہوں نے کہا : مجھے چھوڑ دو ، تم کون ہو ؟ وہ پیچھے پلٹے اور حضورا کو پہچان لیا ، تو اپنی پیٹھ کو حضور اکے سینے سے اور لگانے لگے ، رسول اللہا نے فرمایا : ”من یشتری ھذا العبد؟ “اس غلام کوکون خریدے گا ؟ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ا! تب تو میں بالکل معمولی قیمت میں چلا جاوٴں گا ، آپ انے فرمایا :”لکن عند اللہ لستَ بکاسدٍ ، أو قال : لکن عند اللہ غالٍ “(صحیح ابن حبان : باب المزاح والضحک ، حدیث : ۵۷۹۰)یعنی تم اللہ کے معمولی قیمت کے نہیں ہو ، یا کہا : تم اللہ کے یہاں بہت زیادہ قیمتی ہو ۔حضور اکرم انے ان کی دلداری اور دلبستگی اور ان کے کالے اور بد صورت ہونے کے باجود اپنی ان سے محبت اور لوگوں میں عند اللہ ان قدر وقیمت کو بتانے کے لئے بھرے بازار ان کی آنکھیں بند کی اور یہ ان کے غلام نہ ہونے کے باجود بھی ان کو مزاحاً غلام کہا ، یہ سب دل بستگی اور دلداری اور آپ کے ا مزاح کا معاملہ تھا ۔
#حضرت حسن صسے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ : ایک بوڑھیا نبیٴ کریم اکی خدمت میں آئی ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ا! اللہ سے دعا کیجئے کہ میں جنت میں چلی جاوٴں آپ انے فرمایا : فلاں کی ماں! جنت میں تو بوڑھیا نہ جائے گی ، راوی کہتے ہیں کہ : وہ روتی ہوئی واپس جانے لگی ، تو آپ انے فرمایا : اس سے کہو وہ بوڑھی ہونے کی حالت میں جنت میں نہ جائے گی”أخبروھا أنّھا لا تدخلھا وھی عجوز “ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ”اِنَّا أَنْشَأْنَاھُنَّ اِنْشَاء ً فَجَعَلْنَاھُنَّ أَبْکَاراً “ (الشمائل المحمدیة : باب ما جا ء فی صفة مزاح رسول اللہ ، حدیث : ۲۴۱)یہ اس عورت کو بھی حضور انے ازراہِ مزاح یہ کہا کہ : بوڑھیا جنت میں نہیں جائے گی اور یہ حقیقت بھی ہے کہ بوڑھیا بوڑھاپے کی حالت میں جنت میں نہیں جائے گی ؛ بلکہ جوان ہو کر جائے گی، اس کی میں ایک حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے اور اس میں مزاح کا پہلو بھی ہے ۔
#حضرت انس صسے روایت ہے کہ ایک صاحب رسول اللہ اکی خدمت میں حاضر ہوئے اور سواری طلب کی (یعنی کوئی اونٹ ایسا دیا جائے جو انہیں منزل مقصود تک پہنچادے )حضور اکرم انے فرمایا : میں آپ کو اونٹنی کے بچے پر سوار کردوں گا ، انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ا! میں آپ سے اونٹی کا بچہ لے کر کیا کروں گا؟ حضور اکرم انے فرما یا: اونٹ کو اونٹنی کے علاوہ کون جنم دیتا ہے ”ھل تلد الابل الّا النوق “(الأدب المفرد : باب المزاح ، حدیث : ۲۷۹)(ظاہر ہے اونٹ اونٹنی کے پیٹ سے نکلتا ہے ،اس کو اونٹ کا بچہ کہنا صحیح ہے اور اس میں ایک طرح کی تفریح بھی ہے کہ سننے والے یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی اونٹنی کا نومولود بچہ ہے اس پر بٹھا دیں گے )
#حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا ان کو ”یا ذا الأذنین “کہہ کر پکارتے تھے (ابوداوٴد : باب ما جاء فی المزاح ، حدیث : ۵۰۰۲)یہاں پر بھی ایک تو مزاح مقصود ہے اور دوسرے اس بات پر توجہ دلانا ہے کہ اللہ نے دو وکان اس لئے دئے ہیں کہ کسی بھی بات کوبغور سنا جائے ۔
#ام ایمن نامی ایک عورت خدمت اقد س امیں حاضر ہوئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ا! میرے شوہر آپ اکو بلاتے ہیں ، آپ انے فرمایا : کون وہی جن کے آنکھ میں سفیدی ہے ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ان کی آنکھ میں تو سفیدی نہیں ہے ، آپ انے فرمایا : کیوں نہیں ان کے آنکھ میں تو سفیدی ہے ، اس عورت نے کہا : نہیں اللہ کی قسم ان کے آنکھ میں سفیدی نہیں ہے ، تو آپ انے فرمایا: بھائی کوئی ایسا ہوتا ہی نہیں جس کی آنکھ میں سفیدی نہ ہوتی ہو ”ما من أحد الّا وبعینہ بیاض “(الشفا : ۲/۱۸۸)یہاں پر بھی آپ انے لطیف مزاح فرمایا جس کو وہ عورت نہ سمجھ سکی اور اس نے اس کو حقیقت پر محمول کیا کہ آپ ااس کے شوہر کی کسی آنکھ کی کمی کی طرف اشارہ کررہے ہیں ؛حالانکہ کہ آپ اوہی سفیدی مراد لے رہے تھے جو ہر کے ایک آنکھ میں ہوتی ہے ۔
صحابہ کے مزاح ومذاق کے واقعات :
#حضراتِ صحابہ بھی اس قسم کا مزاح فرمایا کرتے تھے ، حضرتِ عوف بن مالک اشجعی کو پتہ تھا کہ آپ الطیف اور حقیقت پر مبنی مزاح کو منع نہیں کرتے اور نہ اس کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ، ایک دفعہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ میں غزوہٴ تبوک کے موقع سے رسول اللہ اکے پاس آیا ، آپ ا چمڑے سے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے قبہ میں تشریف فرماتھے ، میں نے وہاں آکر آپ اکو سلام کیا تو آپ انے فرمایا : اندر آجاوٴ ، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ا! پورا کا پورا آجاوٴں ، تو آ پ انے فرمایا : پورے آجاوٴ ”أکلّی یا رسول اللہ ، قال: کلّک“تو میں اندر چلاگیا (ابوداوٴد : باب ما جاء فی المزاح ، حدیث : ۵۰۰۲)
#حضرت بکر بن عبدا للہصسے روایت ہے کہ رسول اللہ ا کے بعض اصحاب خربوز کی قاشیں ایک دوسرے پر پھینکتے ، یہ ایک طرح کا تفریحی کام تھا ؛ لیکن جب کوئی مسئلہ تحقیق طلب ہوتا تو یہی لوگ جو آپس میں ہنسی مذاق کرتے مردانِ کار ہوتے تھے ”یتبادحون بالبطّیخ فاذا کانت الحقائق کانوا ھم الرجال “(الأدب المفرد : باب المزاح: حدیث : ۲۶۶)
یعنی ان کی آپس میں تفریحات یا ہنسی مذاق کے جملوں سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ حضرات ہمیشہ غیر سنجیدہ کھیل اور تفریح کی حرکتیں کیا کرتے تھے ، واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ بڑے پایہ کے محقق ، حق گو ، راست گفتار بزرگ تھے ، اور ایسا نہیں تھا کہ ہر وقت چہروں پر خشونت ، خشکی برستی ہو اور اپنے آپ کو عوام سے بلند دکھانے کے لئے نہ کبھی مسکراکر بات کرتے ہوں اور نہ کسی تفریح میں حصہ لیتے ہوں ،ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ مذاق کرنے میں سامنے والی کی تحقیر نہ ہو ، اس کی آبروریزی نہ ہو اور بے ہودگی اور بے حیائی کا کوئی رنگ نہ ہو ، خلافِ واقعہ یا جھوٹی بات نہ کہی جائے ، اس طرح کے مزاح کی شرعاً اجازت ہے ۔
مزاح اور دل لگی کی حد ود کیا ہوں ؟
(۱) دین کا مذاق نہ اڑایا جائے :
اس بارے میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ”وَلَئِنْ سَأَلْتَھُمْ لَیَقُوْلَنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِا اللّٰہٰ وَاٰیَاتِہِ وَرَسُوْلِہَ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِوٴُنَ لَا تَعَتَذِرُوْا الْیَوْمَ قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ (التوبة : ۶۵۔۶۶)اور اگر تم ان سے پوچھو تو وہ ضرور کہیں گے ، ہم تو صرف دل لگی اور کھیل کرتے ہیں ، آپ کہہ دیں :کیا تم اللہ اور اس کی آیات سے اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ؟ بہانے نہ بناوٴ ، تو اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ۔
علامہ ابن تیمیہ  فرماتے ہیں کہ : ”جوشخص اللہ اس کی آیتوں اور اس کے رسول کا استہزاء اور مذا ق کرتا ہے وہ کافر ہے “جیسا کہ آج کل حضور اکی سنتوں کو استخفاف اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، داڑھی ، پردہ اور ٹخنے سے نیچے پائجامہ پہنے والے کا استہزاء کیا جاتا ہے ، اس سے بچنا چاہئے کہ کہیں ہمارا شمار عنداللہ کافروں میں نہ ہوجائے ۔
(۲) مذاق میں بھی سچ ہی کیا جائے :
مذاق کی اجازت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مذاق میں جھوٹ بھی کہنا بھی جائز ہے ،ہمارے معاشرہ میں مذاق میں جھوٹ کہنے بہت رواج ہے ، مثلاً : کسی کے گرنے پر کہتے ہیں : تمہارے پیسے گر گئے ، حالانکہ اس کے پیسے وغیرہ گرے ہوئے کچھ بھی نہیں ہوتے کہ وہ چونک کر جلد ادھر اُدھرکی تلاشی لی ، یا کسی کی آمد کی انتظارہو تو اچانک یو ں ہی مزاحاً یہ کہہ اٹھیں کہ : فلاں آگئے !حالانکہ کوئی آیاہوا نہیں ہوتا ، نئی تہذیب نے اس قسم کے مذاق کو ”اپریل فول “کا نام دے دیا ہے کہ اپریل کی پہلی تاریخ کو مزاحاًجھوٹ کہنے کو جائز کہا جاتا ہے ؛ حالانکہ مزاحاً جھوٹ کہنے پر حضور نے سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں: اس کے لئے بربادی ہے جولوگوں کوہنسانے کے لئے جھوٹ بولے ، اس کے لئے تباہی ہو، اس کے لئے تباہی ہو ”ویل لہ ویل لہ “(ابوداوٴد : باب من یأخذ الشیٴ من مزاحٍ ، حدیث : ۵۰۰۳)
حضور اکرم انے فرمایا : ”میں اس کے لئے جنت کے درمیان ایک گھر کی ضمانت لیتا ہوں جو مذاق میں بھی جھوٹ کو ترک کردے ، ”أنا زعیم ببیت فی وسط الجنّة لمن ترک الکذب ان کان مازحاً “(شعب الایمان : فصل فی المزاح : حدیث : ۵۲۴۳)
(۳) مذاق میں کسی کو گھبراہٹ میں مبتلا نہ کیا جائے :
مذاق میں کسی کو خوف زدہ کردینا اور اس کو اچانک پریشان کردینا ،یااس کو گھبراہٹ میں مبتلا کردینا ، اس طرح پر کہ اس کی کوئی چیز چھپادیں ، یا کسی کو غفلت کی حالت میں ڈرا دیں ، آپ انے اس قسم کے مذاق کوجس میں کسی مومن کو تکلیف ہو سختی سے منع فرمایا ہے ۔
ابن عباسص سے روایت ہے کہ : اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو اور نہ اس سے (ایسا )مذاق کرو(جس سے اس کو تکلیف پہنچے )اور نہ ایسا وعدہ کرے جس کو پورا نہ کر سکو ”لا تمار أخاک ولا تمازحہ وتعدہ موعداً فتخلفہ “(ترمذی : باب ما جاء فی المراء : حدیث : ۱۹۹۵)
نبیٴ کریم اکا ارشاد گرامی ہے کہ : تم کا کوئی شخص اپنے بھائی کے سامان کو نہ حقیقت میں لے اور نہ مزاق میں لے ، اگر کوئی شخص کسی کی لاٹھی لے تو اسے لوٹادے ”فاذا أخذ أحدکم عصا صاحبہ فلیردھا الیہ “(ابوداوٴد : باب من یأخذ الشیٴ علی المزاح ، حدیث : ۵۰۰۳)
ایک روایت میں ہے کہ نعمان بن بشیرص روایت کرتے ہیں کہ : ہم ایک سفر میں رسول اللہ اکے ساتھ تھے ، ایک شخص کو اس کی سواری پر اونگھ آگئی ، ایک دوسرے شخص نے اس کے ترکش سے تیر نکالا ، وہ آدمی اچانک بیدار ہو کر گھبرا گیا تو آپ انے فرمایا : ”لا یحلّ لرجلٍ أن یروّع مسلما“کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کردے( مجمع الزوائد : باب فیمن اخاف مسلماً ، حدیث: ۱۰۵۲۹)
(۴)کسی کا ٹھٹا نہ کرے :
اللہ عزوجل نے لوگوں کو مختلف العقول بنایا ہے ، کسی کی حس اور سمجھ بوجھ کی صلاحیت قوی ہوتی ہے اورکوئی اس بارے میں کمزور اور ضعیف العقل ہوتا ہے ، بعض لوگ اس کی ان کو کمزوری کو موضوعِ بحث بنائے رہتے ہیں اور اس کا تمسخر کرتے ہیں ،حقیقت یہ ہے کہ جو شخص مومن کامل ہو، وہ اللہ عزوجل اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ دوسرے کا ٹھٹا اور مذاق کر ہی نہیں سکتا ، کسی کا مذاق اڑانا ، اس کو حقارت آمیز الفاظ سے ملقب کرنا اس کے پسِ پردہ کبر وغرور ، اپنی بڑائی اور عظمت کا احساس مخفی ہوتا ہے اور یہ در اصل اللہ عزوجل کے یہاں بڑائی اور عظمت کے پیمانوں سے ناواقفیت اور جہالت کا نتیجہ ہوتا ہے ، ارشاد خداوندی ہے : ”لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَیٰ أَنْ یَکُوْنُوْا خَیْراً مِنْھُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَیٰ أَنْ یَکُنَّ خَیْراً مِنْھُنَّ “(الحجرات : ۱۱)ایک گروہ دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں کیا عجب ! کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ، کیا عجب ! کہ وہ ان سے بہتر ہو ں۔
اللہ عزوجل کے یہاں بھلائی ، اچھائی اور خوبی کا معیار تو ایمان ، اخلاص اور اللہ عزوجل کے ساتھ لگاوٴ اور وابستگی ہے ، جسموں ، صورتوں کی خوبصورتی ، مال ودولت ، عزت وحشمت ان کی اللہ عزوجل کے یہا ں کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ، ارشادِ نبوی ہے : انّ اللہ لا ینظر الی صورکم ولا أموالکم ولٰکن ینظر الی قلوبکم وأعمالکم “(المسلم: باب تحریم ظلم المسلم ، حدیث : ۲۵۶۴)اللہ عز وجل تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتے ، وہ تو تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتے ہیں ۔
(۵) مزاح ومذاق کی کثرت نہ ہو :
مذاق کے جواز کا مطلب یہ نہیں ہے اس کو عادت سی بالی جائے اور ہر وقت مذاق کیاجائے اسکی وجہ سے آدمی کا وقار اور اس کا رعب وعب چلا جاتا ہے ، اور یہ عموماً ایذا رسانی کا باعث بنتا ہے ، جس کی وجہ سے کینہ ، بغض اور حسد جیسے خبیث امراض طرفین میں پیدا ہوجاتے ہیں ،اور دل بے حسی اور پژمردگی کا شکار ہوجاتا ہے ، حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں: ”جوشخص بکثرت مزاح ومذاق کرتاہے تو وہ بے حقیقت اور بے حیثیت ہوجاتا ہے ”من کثر مزاحہ استخف بہ “اور جو شخص جس چیز سے بکثرت شغل رکھتا ہے وہ اسی سے جانا جاتا ہے“ (شعب الایمان : فصل فی المزا ح: ۵۲۴۶)
(۶) لوگوں کی حیثیت اور قدر کا پتہ لگائے :
کسی سے مذاق کرنا ہوتو سب سے پہلے یہ پتہ لگائے کہ کس سے مذاق کررہا ہے ، نہ یہ کہ ہر کس وناکس کے ساتھ اس کے رتبہ اور حیثیت کا پتہ لگائے بغیرمذاق کرنا شروع کردیں ، عالم کا حق اداکرنا ہے ، بڑے کی عزت کرنا ہے ، بوڑھے کی توقیر کرنا ہے ، اسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت سعد بن ابی وقاص نے فرمایا : کم مذا ق کیا جائے ، چونکہ مزاح اور مذاق کی زیادتی اس کے حسن اور خوبصورتی کو لی جاتی ہے اور بیوقوف تم پر جری ہوسکتے ہیں ”ویجرّیٴ علیک السفھاء “
(۷)اس میں کسی کی غیبت نہ ہو :
مذاق اس حد تک نہ ہو کہ اس میں کسی کی غیبت اور چغلی کی جارہی ہے ، اس کو ضرور ملحوظ رکھا جائے ، بعض لوگ غیبت کرتے ہیں ؛لیکن اس پر مذاق وغیرہ کا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، حالانکہ نبیٴ کریم انے غیبت کی تعریف ہی یوں فرمائی کہ : تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز سے کرو اس کو برا لگے ”ذکرک اخاک بما یکرہ “(مسلم )
بہرحال شریعت نے مزاح ومذاق کی اجازت تو ضرور دی ہے ، پر اس کے لئے ان شرائط اور حدود کا لحاظ کرنا ضروری ہے ، ورنہ ہم اس کو مذاق ہی سمجھتے رہتے ہیں ، حالانکہ ہمارا یہ مذاق شریعت کے سرحدوں کو پار کرچکا ہوتا ہے ، ہمیں اس کا پاس ولحاظ بھی نہیں ہوتا ۔

دینی مدارس- ملک کے محافظ

رفیع الدین حنیف قاسمی، وادیٴ مصطفی ، شاہین نگر ، حیدرآباد۔
rafihaneef90@gmail.com
ہندوستان کے دینی مدراس کے تعلق سے وقتا فوقتا یہ افواہیں پھیلائی جاتی رہیں کہ دینی مدارس دہشت گردی کے اڈے ہیں اور خصوصا اس سے قبل ممبر آف پارلیمنٹ شاکشی مہاراج نے دینی مدارس کے حوالے سے جو زہر افشانی کی تھی اور دینی مدارس کے پسِ پردہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا جو کارڈ کھیلا تھا، مذہبی درسگاہوں کو دہشت گردی کے اڈے قرار دیا تھااور اسی طرح لوجہاد کی اصطلاح گڑھ کر دینی مدارس کو بدنام کرنے کی جوسازش میرٹھ میں رچی گئی تھی، یا بردوان بم دھماکے آڑ میں دینی مدارس کو بدنام کرنے جو ہوا کھڑا کیا تھا، اسی طرح اس وقت ننگ دین، ننگ قوم، ، ننگ ملت ، بے ضمیر شیعہ وقف بورڈ چیرمین وسیم رضوی نے مودی کو خط لکھ کر یہ باورکرانے کی کوشش کی ہے کہ دینی مدارس دہشت گرد پیدا کرتے ہیں، مدرسے سے فارغ طلباء معاشرے میں کوئی فعال کردار ادا نہیں کررہے ہیں، ایسے میں یہ پوری کمیونٹی سماج کے لئے نقصاندہ ہیں، رضوی نے اس خط میں ستائیس نکتے دیئے ہیں، اور کہا ہے کہ زیادہ تر مدارس بیرونی ممالک کے فنڈنگ سے چلتے ہیں، ان تمام بیانات وواقعات کی کڑیوں کو جوڑ کر اسے موجودہ حکومت کے مدارس کے تعلق خفیہ سروے رپورٹ کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جو دو سال قبل اس وقت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سیکھ کی طرف سے آئی تھی، جس میں انہوں نے ہندوستانی مدارس کو اپنی خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر دہشت گردی سے بری قرار دیا تھا، جس میں یہ کہاں گیا ہے کہ ہندوستانی مدارس جہادی سرگرمیوں میں ملوث نہیں، ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں بنگلہ دیشی مسلمان یا پاکستانی مسلمان جہادی سر گرمیوں میں ملوث ہیں یا نہیں؟،یا ان کے جہادی سرگرمیوں یا دہشت گردی میں ملوث ہونے کی اسباب وعوامل کیا ہوسکتے ہیں ؟ ہمیں تو بس اس سے سروکار ہے کہ ہندوستانی مدارس اسلامیہ نہ صرف یہ کہ جہادی سرگرمیوں میں ملوث نہیں اورنہ ہی وہاں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے ؛ بلکہ یہ بھی حقیقت نہیں ؛ رضوی جیسے لوگ اس طرح بے تکی اور نکمی باتیں کرکے آر یس یس اور موجودہ حکومت کی قربت حاصل کرنا چاہتی ہیں، کتنے ہی دفعہ مدارس کے طلباء پر الزام لگایا گیا، لیکن ان پر الزام ثابت نہیں ہوسکا؛ ابھی ایک سال قبل دو دیوبند میں مقیم طلباء پر الزام لگایا گیا اورانہیں بری قرار دیا گیا، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مدارس اسلامیہ توپ وتفنگ اور رائفل اور ہتھیار کیا یہاں پربقول ایک مولانا کے ترکاری کاٹنے کے لئے صحیح سے چھری تک نہیں ہوتی ، ان پر اس طرح کا الزام میاں منہ مٹھو بننے کی بات ہے ، یہ مدارس نہ صرف دین ،اسلام کے محافظ ہیں؛بلکہ وطن اور ملک کے بھی محافظ ہیں ، مدارس دینیہ کے لئے صرف اس سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں کہ وہاں جہادی سرگرمیاں انجام نہیں دی جاتیں ، وہاں دہشت گردی کی تعلیم نہیں دی جاتی ؛ بلکہ خفیہ رپورٹ کے نتیجہ اور جنگ آزادی میں مسلمانوں کے رول کے تناظر میں مدارس اسلامیہ حقیقی شبیہ کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ مدارس اسلامیہ ملک کے محافظ ہیں ، یہی سے جنگِ آزادی کی لہریں چلیں، یہی بوریہ نشیں اور بقدر کفاف پر اکتفا کرنے والے علماء دین نے انگریزوں کا سینہ سپر ہو کر مقابلہ کیا، جانیں گنوائیں ، بندوق اور پستول اور توپ وتفنگ کی گھن گرج کے سامنے سینہ سپر کھڑے رہے ، جس میں سینکڑوں علماء کو سزائے موت دی گئی ، یا انہیں ملک سے جلاوطن کیاگیایا انہیں ملک دور جزیزوں میں ان کی ملک کی آزادی کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے لئے قید وبند کی صعوبیتں جھیلنی پڑیں۔لیکن انہوں نے انگریزوں کے سامنے سرنگوں ہونا گوارہ نہیں کیا، ان علماء کی فہرست طویل ہے جنہوں نے انہیں مدارس سے فارغ ہو کر جنگِ آزادی میں بڑا رول ادا کیا تھامولانا محمد جعفر تھانیسری ،مولانا فضل حق خیر آبادی ،حاجی امداد اللہ ، شیخ الہند مولانا محمود الحسن ،مفتی کفایت اللہ ، شیخ الہند مولانا محمود الحسن ، مولاناحسین احمد مدنی ، مولانا عبید اللہ سندھی ، مولانا احمد علی لاہوری ،مولانا سعید احمد دہلوی ،عطا ء اللہ شاہ بخاری ، مولانا عبد الحلیم صدیقی ،مولانا شاہ عبد الرحیم رائپوری ، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ،مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی ، مولانا محمد علی جوہرمولانا شوکت علی، مولانا محمد میاں ،اور مولانا ابو الکلام وغیرہ ، ان میں اکثر مدارس کے فارغین ہی تھے ۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ ابھی کچھ دن قبل مسلمان رہنماوٴں میں خصوصا جن کا ذکر آتا ہے ، مولانا ابو الکلام آزاد اور ذاکر حسین سابق صدر جمہوریہ کو ہندوستانی لیڈر شب سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔
لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب اہلِ وطن کی جانب سے انہیں مدارس اور انہیں مسلمانوں کو ملک دشمن یا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا بے جا الزام لگایا جاتا ہے ، ایک طرف تو صورتِ حال یہ ہے کہ خود بی جے پی سے منسلک لیڈران اور ممبر انِ پارلمینٹ مسلمانوں پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں ، مدارس میں لو جہاد کی تعلیم دینے کی بات کہی جاتی ہے ، یا انہیں دہشت گردی کے اڈے قرار دیا جاتا ہے اور دوسرے طرف صورتحال یہ ہوتی ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ سے جب ”لوجہاد“ کے تعلق سے دریافت کیا جاتا ہے تو اس سے لاعلمی ظاہر کرتے ہیں ، پورے ملک میں ”لوجہاد“ کی اصطلاح گھڑ کر مسلمانوں کو ہراساں کیاجارہا ہے اور دوسری طرف وزیر داخلہ اس اصطلاح سے ہی نابلد ہیں ، ملک کے وزیر اعظم ہندوستانی مسلمانوں کے تعلق یہ کہتے ہیں کہ :ملک کامسلمان ملک کے لئے جیتا ہے اور ملک کے لئے مرتاہے او رددوسری طرف اسی پارٹی کے زعفرانی ذہنیت کے حامل لیڈران مسلمانوں کے تعلق سے زہر افشانی کرتے ہیں ، ان کو ملک دشمن قرار دیتے ہیں ، جب وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی رپورٹ کے مطابق جو دو سال قبل جاری ہوئی تھی، اس میں ملک کے مسلمان ملک کا محافظ ، ملک کا وفادار ہے ، مداس اسلامیہ کسی قسم کی دہشت گردی میں ملوث نہیں تو پھر ان غلط بیان بازی کرنے والوں پر روک کیوں نہیں لگائی جاتی ؟ ان کی زبان کَسی کیوں نہیں جاتی؟ ان کی ان غلط بیان بازیوں کا نوٹس نہیں لیاجاتا؟ یا انہیں آئندہ اس طرح کی غلط بیان بازیوں میں ملوث ہونے سے متنبہ کیوں نہیں کیاجاتا؟ ۔
اس سے قبل بھی جب ہندوستان میں القاعدہ کی شاخ کی قیام کی بات کہی گئی تھی تو ملک کے تمام سربرآوردہ علماء اور قائدین نے اس کا سختی سے رد کیا تھاجن میں دہلی کے شاہی امام، کیرلا کے مولانا ابوبکر اور دیگر لوگ شامل تھے جنہوں نے یوں کہاتھا :ملک کا مسلمان یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ہمیں اس ملک میں کس طرح اپنے حقوق کی حفاظت کے ساتھ رہاجاسکتا ہے ، کسی بھی باہر کی القاعدہ یا دیگر تنظیموں کو ہمیں سبق دینے کی ضرورت نہیں ؟ ہمارا ملک ایک سیکولر ملک ہے ،جہاں ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل آواری کے تعلق سے آزادی حاصل ہے ،یہاں تمام مذاہب اور ذات پات کے لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں ، ہندوستان کے اپنے قوانین ہیں جن کی روشنی میں یہاں کے مسلمانوں کو اپنے مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے اور اس کے فروغ کے لئے کوشش کرنے کے تمام مواقع حاصل ہیں ، پھر کیوں کر ہندوستان کا مسلمان دہشت گردانہ کاروایوں میں ملوث ہوگا؟جب جان ، مال ، عزت وآبرو ہر قسم کے تحفظ ہمیں حاصل ہے، اگر کوئی جان ومال یا عزت وآبرو پر حملہ کرتا ہے تو اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے کیوں دہشت گردانہ کاروایوں میں ملوث ہو کر جس میں بے جا جان واملاک اور بے قصوراور نہتے لوگوں کا خون خرابہ ہوتا ہے ملوث ہوجائے اور خود اپنی جان کو جوکھم میں ڈالنا ہے تو کیوں کر اس طرح کی غیر اسلامی سرگرمیوں میں ملوث ہویاجاسکتا ہے۔
اگر اس وقت حکومتِ وقت سنجیدہ ہے تو ان غلط بیان بازیوں پر روک لگانے کی ضرورت ہے جو ملک کے مختلف گوشوں میں آر یس یس ، بجرنگ دل یا ویشو ہند پریشد کے کارکنان پر جو اپنے منافرانہ بیان بازیوں کے ذریعہ ملک کی فضا کو زہر آلود کرنا چاہتے ہیں ، ملک کا چین وسکون غارت کرنا چاہتے ہیں ، آئے دن یوپی ، دہلی ، گجرات مہاراشٹر ، ہریانہ وغیرہ کے فساد زدہ علاقے اس کے منہ بولتا ثبوت ہیں ، حکومت ملک کے تئیں مخلص ہے تو ان واقعات کی صحیح تحقیق وچھان بین کے ذریعہ ان فسادات کے اصل رول ادا کرنے والوں کو کیفر دار تک پہنچانا چاہئے ، اگر فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کا یہی حال رہتا ہے ، ہندو انتہا پسند تنظیموں کو ایسی چھوٹ دی جاتی ہے کہ وہ ہر جگہ فرقہ واریت اور منافرت کو ہوادیں تو پھر ملک کا مسلمان احساسِ عدمِ تحفظ میں مبتلا ہوجائے گا، اس لئے حکومت وقت کی ذمہ داری ہے فسادات زدہ علاقوں میں فساد میں ملوث لوگوں کو صحیح شواہد کی روشنی میں مخلصانہ اور سنجیدہ ذہنیت کے ان کا سخت نوٹس لے تو یہ چیز ملک کے حق میں اور ملک کی عوام کے حق میں بہتر ہوگی۔
آر یس یس، بجرنگ دل وغیرہ کے کارکنان جو ملک میں ”لوجہاد“ اور ”گاوٴ ہتھیا“ کے نام پر ہر طرف قتل وخون کا بازار گرم کئے ہیں، اخلاق سے لے افراز الاسلام اور راجمنڈری میں موٴذن فاروق پر مسجد میں حملہ کر کے شہید کرنا، یہ ہندو دہشت گردی کی طویل داستان ہے جس کی وجہ سے کئی لوگوں کو اپنے بچوں ، شوہر وں اور بھائیوں سے ہاتھ دھونا پڑا، اس قتل وغارت گردی کی طویل داستان جس کو وقتا فوقتا انجام دیا گیا جس میں محمد اخلاق، پہلو خان، حافظ جنید، عمر خان، پھر افروز الاسلام اور اخیر محمد فاروق موٴذن مسجد شامل ہیں، ان واقعات پر غور کرنے کی ضرورت ہے ، ہندو توا دہشت گرد کس قدر ملک کے امن وامان کو غارت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ان کا نوٹس لینے اور ان کے ہتھیار اور غیر قانونی نیزہ اور لاٹھی بازای ، تلوار بازی وغیرہ کا جائز ہ لینا ہے ، اگر ملک کے امن وامان کو باقی وبرقرار رکھنا ہے ۔
بہر حال مسلمانوں کے تعلق سے یا مدارس اسلامیہ کے تعلق سے جو غلط پروپیگنڈے پھیلائے جاتے ہیں ، اس کا سخت نوٹس لینے کی ضرورت ہے ، ہمیں ملک کی وفاداری کا سرٹیفکٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے ، اس ملک کے ساتھ ہماری وفاداری کی گواہی ملک کے در ودیوار دیں گے ، آج بھی ، دہلی کا لال قلعہ ، آگرہ کا تاج محل، حیدرآباد کا چار مینار ، جگہ جگہ پھیلی عظیم تاریخی عمارتیں جس پر آج ساری دنیا کو فخر ہے ، ہمیں بھی فخر ہے ، یہ اس ملک کے باسی مسلمانوں کی دین ہیں ،جس ملک کی تعمیر میں ہم نے ہزاروں سال جتن کئے ، اس ملک کی بربادی کی نسبت مسلمانوں کی جانب کرنا یہ احسان فراموشی کی آخری حد ہوگی۔
سو بار سنوار ہے ہم نے اس ملک کے گیسوئے برہم کو
یہ اہلِ جنون کیا بتلائیں گے کیا ہم نے دیا ہے عالم کو