عقائد کے خلاف فتنوں کی کثرت مرض کی علامت ہے

از : مولاناشاہ عالم گورکھپوری #

اسلام میں عقیدہ کو اوّلیت حاصل ہے پہلے خدا اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں اور کتابوں پر درست عقیدہ رکھنا ضروری ہوتا ہے پھر اس کے بعد ہی اعمال کی ابتدا ہوتی ہے ، تفسیر حدیث اور فقہ وغیرہ کی ضرورت بھی اسی شخص کو پڑے گی جس کا پہلے خدا ، اس کے رسول اور خدا کی کتابوں پر ایمان ہوگا ورنہ احادیث،تفسیر اور فقہ وغیرہ علوم اسلامیہ کو ماننا ایسا ہی بے سودہوگا جیسے کہ بغیر بنیاد کے عمارت کھڑی کردی جائے ۔عقیدہ کی حیثیت اور اہمیت کسی پر پوشیدہ نہیں مگر حیرت اس بات پر ہے کہ عقائد کی حفاظت کے لیے جو محنت درکار ہے اس میں مجموعی طورپر حد درجہ تغافل سے کام لیا جارہا ہے ۔ مدارس اسلامیہ میں داخل عقائد کے نصاب پر اور ان کی تعلیم اور انداز تعلیم و تعلم پر اگر منصفانہ نظر ڈالی جائے تو معلوم یہ ہوتا ہے عقائد کے باب میں وہ محنت نہیں کی جاتی جودیگر ابواب میں دور حاضر کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے کی جاتی ہے ۔

ماضی میں اسلامی عقائد پر جب یونانی فلسفہ نے یلغار مچایا تو اس کے فریب کو توڑنے کے لیے ہمارے بڑوں نے اس طرح محنتیں کیں کہ یونانی فلسفہ کی جادوگری آج خود فلسفیوں کے لیے مضحکہ خیز بن کر رہ گئی ہے ،متکلمین اسلام کے وضع کردہ اصولوں نے فلسفہ کے راستے سے آنے والے ارتدادی سیلاب کو نہ صرف یہ کہ قیامت تک کے لیے بند کردیا بلکہ نازک خیال فلسفیوں کو بھی ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا۔ لیکن آج صورت حال یوں بدل گئی ہے کہ جگہ جگہ فتنوں کی کثرت ہورہی ہے ، نئے نئے ارتدادی فتنے مسلمانوں کے درمیان جنم لے رہے اور پنپ رہے ہیں ،قدیم فلسفیوں کے زہریلے اثرات کو نئی نئی تعبیرات و زبان میں پیش کرکے ایک بار پھر اسلامی عقائد کو مسخ کرنے کی فکر میں بیشمار تنظیمیں شب و روز مصروف ہیں، اعمال میں تو خود مسلمانوں نے ہی دین کو بغیر ماہرینِ دین کے چلانے کی وکالت شروع کررکھی ہے لیکن پانی سر سے اتنا اونچا ہوچکا ہے کہ عقائد میں بھی اب دین کو بغیر ماہرینِ دین کے چلانے کی وبا عام مسلمانوں میں پھیلنے لگی ہے ،ہر دانشوراسلامی عقائد میں رائے زنی کرنااپنا موروثی حق سمجھنے لگا ہے ۔ پھر ملحددانشوروں کی تلچھٹ مرزا قادیانی اوراُس جیسے دیگر لوگ جیسے شکیل بن حنیف یا راشد شاز#وغیرہ ،اپنے آپ کو کیوں پیچھے رکھیں؛چناں چہ وہ بھی مسلمانوں کے درمیان عقائد کی مضبوط تعلیم نہ ہونے کا جی بھرکے فائدہ اٹھارہے ہیں ۔ظاہر سی بات ہے کہ اس خودسری کا بھیانک نتیجہ ؛ عقائد اسلامیہ کو بازیچہٴ اطفال بنانے کی صورت میں نکلے گا،جیسا کہ عام طور پر اب دیکھنے میں بھی آرہا ہے کہ جگہ جگہ اسلام کے قطعی اور یقینی عقائد و نظریات کو تختہٴ مشق بنایا جانے لگا ہے ۔ میدان میں بالکل خاموشی کی بات تو نہیں کی جاسکتی لیکن سوائے چند افراد اور دو ایک تنظیموں کے کتنے لوگ ہیں جو اس سیلاب بلاکو روکنے میں فکر مند ہیں ؟۔

فکر مندوں کا بھی حال یہ ہے کہ مرض کی بجائے علامات مرض کے علاج میں لگے ہیں جبکہ فتنوں کی کثرت اِس مرض کی علامت ہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ کمزور ہوچکا ہے اُسے مضبوط کیاجائے تاکہ فتنوں سے بچاوٴ میں مسلمان خود اپنی طاقت استعمال کرسکیں ۔ علاج کا کامیاب طریقہ یہ ہے کہ مرض کو دُور کیا جائے اور براہ راست مرض کا علاج کیا جائے نہ کہ علامتوں کا ۔لیکن آج کل فتنوں کے پیچھے طرح طرح کی تنظیمیں قائم ہورہی ہیں علامات مرض کے پیچھے دوڑ لگانے والے کچھ لوگ دکھائی دیتے ہیں لیکن اصل مرض کے ازالے کی جانب توجہ کتنے لوگوں کی ہے ؟ ۔

بلاشبہ اس میدان میں کام کرنے والی تنظیموں پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائدہوتی ہیں جن کے نبھانے میں وہ کوتاہ عمل ہیں لیکن مسئلے کا حل ؛کسی کو مورد الزام ٹھہرانے میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ ایمان و عقائد کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کے سد باب کے لیے عقائد اور علم کلام کی تعلیم کے لیے محنت میں کچھ اضافہ کیا جائے اور علم کلام کی تعلیم کو نہ صرف یہ کہ معقولیت و معنویت کے ساتھ اپنے اپنے مکاتب ومدارس کے نصاب کا جزو بنایا جائے بلکہ عام فہم بیانات اورکتابوں کے ذریعہ مساجد کی صبح و شام کی تعلیم کا حصہ بنادیا جائے ۔متکلمین اسلام نے عقائد کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جوکامیاب و لاجواب علمی اور عقلی اصول دئیے ہیں، اُن کی روشنی میں حالات حاضرہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے علاقائی اور رائج زبان و بیان کے ذریعہ عام مسلمانوں میں بھی اتنی صلاحیت پیدا کردی جائے کہ گلی کوچوں میں جنم لینے والی ارتدادی لہروں کا مسکت جواب دینے کی صلاحیت اُن میں پیدا ہوجائے ۔

علم کلام جوعقائد کو تحفظ فراہم کرتا ہے اس سے بیگانگی اور ناواقفیت کے سبب آج کا مسلمان اس قدر مرعوب ہوگیا ہے کہ اگر کوئی قادیانی یا شکیلی کسی گلی کوچے میں وسوسہ چھوڑدے تو ہمارا نوجوان اس کو بہت بڑا تیر سمجھ کر مولانا صاحبوں کے پیچھے پڑجائے گا کہ اس کا جواب کیا ہے؟ لیکن کوئی عالم دین مسجد کے ممبر و محراب سے معقول سے معقول ترجواب دے دے تو اس کو لے کر قادیانیوں یا شکیلیوں کے پیچھے کبھی نہیں پڑتا کہ تم نے بلاوجہ کا یہ وسوسہ اسلام میں کیوں پیداکیا ؟۔ مسلمانوں کے درمیان مرعوبیت کی اس حالت کو اگر پلٹنا ہے تو اس کے لیے معقول توڑ دریافت کرنا پڑے گا ۔راقم سطور نے اپنے بڑوں کی تحریرات و بیانات کی روشنی میں اس کا جو حل سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ دور حاضر کی زبان میں علم کلام کے دلائل سے مسلمانوں کو مزین کردیا جائے ۔ اگر اس باب میں بچپن کی تعلیم مضبوط ہوجائے تو عمر کے ہرمرحلے میں اُن دلائل سے وہ بھر پور فائدہ اٹھائیں گے اورقدیم علم کلام کو اپنی من پسندجدید زبان میں پا کر ہر دہریے اور ملحدکا توڑ ؛وہ خود دریافت کریں گے ،بلکہ اسلامی عقائد کے روشن ماضی سے خود کو مربوط رکھنے کی ذمہ داری کو بھی وہ محسوس کریں گے ۔

قدیم متکلمین اسلام کے مضامین کو جدید اور سہل زبان میں بیان کرنے یا سمجھنے کے لیے ،حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی ، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی، حضرت مولانا محمد مسلم دیوبندی، اسی طرح حضرت مولانا محمد میاں صاحب  وغیرہ اکابر دیوبندکے رسائل و مضامین جو بطور خاص عقائد اور کلام کے ہی موضوع پر تصنیف کیے گئے ہیں؛ شائقین اور دلچسپی رکھنے والوں کے لیے نفع بخش ہوسکتے ہیں۔یا ان بزرگوں کی تحریرات کی روشنی میں اپنے اپنے علاقوں میں پیش آمدہ مخالفین اسلام کے اعتراضات و وساوس کے جوابات؛ نئی نئی مثالوں کے ذریعہ ششتہ و سلیس زبان میں ترتیب بھی دیئے جاسکتے ہیں۔

  1. نائب ناظم آل انڈیا مجلس تحفظ ختم نبوت، دارالعلوم دیوبند

شاہ فیصل عالمی ایوارڈ یافتہ عظیم محدث مولانا ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی کی وفات پر عالم اسلام کا علمی حلق ہ سوگوار

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض
سال ۲۰۱۷ء میں متعدد جید علماء کرام اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ ان میں مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے جیالے سپوت، حدیث کی عظیم خدمات پر شاہ فیصل عالمی ایوارڑ یافتہ ہند نزاد سعودی مولانا ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی بھی ہیں، جو ریاض شہر میں بروز بدھ ۲۰ دسمبر ۲۰۱۷ء کو بعد نمازِ فجر انتقال فرماگئے۔ شہر ریاض کی مشہور مسجد الراجحی میں اُسی دن نماز ظہر کے بعد مرحوم کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور محلّہ نسیم کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ میرے لیے بڑی سعادت کی بات ہے کہ مجھے حدیث کے اس امام کی نمازِ جنازہ پڑھنے اور جنازہ کو کندھا دینے کے ساتھ آپ کی قبر پر مٹی ڈالنے کا بھی شرف حاصل ہوا۔ مرحوم کے انتقال پر عالم اسلام سمیت ہندوستان کے علمی حلقوں میں رنج وغم کا ماحول ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی صاحب نے ڈاکٹر اعظمی کی وفات کو امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا علمی خسارہ قرار دیا۔ ریاض میں مقیم فضلاء دارالعلوم دیوبند نے بھی ڈاکٹر مصطفی اعظمی کے دولت کدہ پر حاضری دے کر آپ کی وفات پر اپنے دکھ درد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احادیث نبویہ کو سب سے پہلے کمپیوٹرائز کرکے مرحوم نے حدیث کی وہ عظیم خدمت انجام دی ہے کہ آنے والی نسلیں آپ کی اس اہم خدمت سے استفادہ کرتی رہیں گی۔
۲۰۱۳ء میں اپنی PhD کے مقالہ کی تحقیق کے دوران ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی کے نام نامی سے واقفیت ہوئی۔ ۱۹۹۹ء سے ریاض میں مقیم ہونے کے باوجود عصر حاضر کے عظیم محدث سے اب تک ملاقات نہ کرنے پر بہت قلق اور افسوس ہوا، لیکن موصوف سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے میں مزید تاخیر کرنے کے بجائے آپ کے علاقہ کے ہی ریاض میں مقیم مولانا شانِ الٰہی قاسمی کے ہمراہ آپ کے دولت کدہ پر حاضری دی۔ پہلی ہی ملاقات میں ڈاکٹر صاحب سے ایسا خصوصی تعلق ہوگیا کہ اس کے بعد سے ملاقات کاایک معمول بن گیا یا کم از کم فون پر ہی بات ہوجاتی۔ اگر ملاقات یا فون کرنے میں تاخیر ہوتی تو ڈاکٹر صاحب کی محبت پر قربان جائیے کہ خود ہی مجھے فون کرلیا کرتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب انتہائی مخلص انسان اور قرآن وحدیث کے سچے داعی تھے، جس کا اندازہ صرف ایک واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ ایک مرتبہ جب اُن سے ملاقات کے دوران کہا کہ آپ نے قرآن وحدیث کی تدوین پر مستشرقین کے اعتراضات پر مدلل جوابات دے کر، احادیث نبویہ کو سب سے پہلے کمپیوٹرائز کرکے نیز عربی اور انگریزی میں متعدد کتابیں تحریر فرماکر وہ عظیم کارنامہ انجام دیا ہے کہ اُس میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے، لیکن اُس کے باوجود آپ کی شخصیت عوامی سطح پر متعارف نہیں ہوسکی، جب کہ سعودی عرب میں مقیم ہندپاک کے بعض دیگر علماء نے آپ کی بہ نسبت بہت کم کام کیا ہے لیکن انہوں نے اپنے نام او ر منصب کو کیش کیا۔ جس پر موصوف نے جو جواب دیا اُس میں ہم سب کے لیے عبرت ونصیحت ہے: ”حضرت میں تاجر نہیں ہوں بلکہ ریسرچ اسکالر ہوں۔“ ڈاکٹر صاحب کا ایک دوسرا جملہ بھی ہمارے خاص کر علماء کے لیے انتہائی سبق آموز ہے: ”میں روزانہ اپنا محاسبہ کرتا ہوں اور جس دن میں نے کوئی علمی کام نہیں کیا ہوتا تو میں اس دن اپنے کو مردہ سمجھتا ہوں۔“ ڈاکٹر صاحب قرآن وحدیث کی تدوین پر مستشرقین کے اعتراضات پر بہت زیادہ فکر مند رہتے تھے، اس لیے ان کی گفت وشنید مستشرقین کی ریشہ دوانیوں پر ضرور ہوا کرتی تھے، نیز وہ ہجری کیلنڈر کو زیادہ سے زیادہ رائج کرنے کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے۔
کم وبیش ہر ملاقات میں آپ کی ۹۰ سالہ زندگی کے مختلف مراحل پر گفتگو کے ساتھ مادر علمی دارالعلوم دیوبند کا بھی ذکر خیر ہوا کرتا تھا۔ موصوف نے ہمیشہ دارالعلوم دیوبند سے اپنی نسبت کو فخریہ طور پر ہی بیان فرمایا۔ ایک طویل عرصہ سعودی عرب میں رہنے کے باوجود ہندوستان خاص کر اپنے علاقہ سے تعلق کو برقرار رکھا۔ ہندوستان کے موجودہ حالات پر بھی آپ کافی فکرمند رہا کرتے تھے۔ ۲۰۱۳ء سے ۲۰۱۶ء کے دوران جب بھی ہم نے ڈاکٹر صاحب کو اپنے کسی پروگرام میں شرکت کی دعوت دی اپنی بیماری اور ضعف کے باوجود اس میں ضرور تشریف لائے۔ دسمبر ۲۰۱۳ کے ایک پروگرام میں ڈاکٹر اعظمی صاحب کے ساتھ ہندوستان کے مشہور اسکالر پروفیسر اختر الواسع صاحب بھی تشریف لائے تھے۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ مجھے ہندوستان سے سعودی عرب کے اس پورے سفر کا ما حصل مل گیا اور وہ ہے ڈاکٹر اعظمی صاحب سے ملاقات۔ انہوں نے مزید کہا کہ تابعین کہا کرتے تھے کہ ہم نے فلاں صحابی سے ملاقات کی، اور تبع تابعین کہا کرتے تھے کہ ہماری فلاں تابعی سے ملاقات ہوئی، اسی طرح علماء لکھتے ہیں کہ ہماری فلاں محدثین ومفسرین سے ملاقات ہوئی، اب مجھے بھی یہ شرف حاصل ہوگیا ہے کہ میں بھی کہوں اور لکھوں کہ میری ملاقات عصر حاضر کے عظیم محدث یعنی ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی صاحب سے ہوئی ہے۔
ڈاکٹر اعظمی صاحب نے اپنی خصوصی دلچسپی سے قرآن کریم کے نسخوں پر مستشرقین کے اعتراضات کے مدلل جوابات کے لیے ۲۵۰ صفحات پر مشتمل ایک ایسی کتاب مکمل فرمادی جو صدیوں تک دین اسلام کی حفاظت کے لیے مضبوط قلعہ کا کام کرتی رہے گی۔ ڈاکٹر اعظمی صاحب تقریباً ۱۵ سال سے اس کتاب کی تکمیل میں لگے ہوئے تھے، جس کے لیے انہوں نے مختلف ممالک کے اسفار بھی کئے۔ انہوں نے اس کتاب میں قرآن کریم کے دنیا میں موجود مشہور ومعروف ۱۹ مخطوطوں کا مقارنہ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ میں ۱۴۰۰ سال سے آج تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ اس کتاب کے ۱۵۰ صفحات پر مشتمل قرآن کریم کے مخطوطوں کا مقارنہ ہے، جبکہ ۵۰ صفحات پر انگریزی میں اور ۵۰ صفحات پر عربی میں ڈاکٹر صاحب کا تحقیقی مقدمہ ہے۔ یہ کتاب ترکی سے شائع ہونے کے بعد جنوری ۲۰۱۸ء کو ریاض پہنچنے والی تھی، مگر اُس سے قبل ہی حضرت اپنے حقیقی مولا سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مگر اس کتاب کے دو نسخے پوسٹ کے ذریعہ آپ کے پاس پہنچ گئے تھے، غرضیکہ ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی کی آخری واہم کتاب (Ageless Qur’an Timeless Text) (النص القرآنی الخالد عبر العصور) بھی آپ کی زندگی میں شائع ہوگئی ہے۔ میری ڈاکٹر صاحب سے اس نئی کتاب کے اجرا کی تقریب منعقد کرنے کے لیے متعدد مرتبہ گفتگو ہوئی تھی، مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہر چیز پر غالب آتا ہے۔
مولانا ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی کی علمی خدمات اور اُن کی سوانح حیات پر بندہ کی کاوش پیش خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ قبولیت سے نوازے۔ آمین۔
آپ کی پیدائش ۱۹۳۰ء (۱۳۵۰ھ) کے آس پاس اترپردیش کے مردم خیز علاقہ مئو (اعظم گڑھ) میں ہوئی۔ برصغیر کی معروف علمی درسگاہ دارالعلوم دیوبند سے ۱۹۵۲ء (۱۳۷۲ھ) میں فراغت حاصل کی۔ ازہر الہند دارالعلوم دیوبند سے علوم نبوت میں فضیلت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد دنیا کے معروف اسلامی ادارہ جامعہ ازہر، مصر سے ۱۹۵۵ء میں "شہادة العالمیة مع الاجازة بالتدریس” (MA) کی ڈگری حاصل کی اور وطن عزیز واپس آگئے۔ ۱۹۵۵ء میں ملازمت کی غرض سے قطر چلے گئے اور وہاں کچھ دنوں غیر عربی داں حضرات کو عربی زبان کی تعلیم دی، پھر قطر کی پبلک لائبریری میں لائبریرین کی حیثیت سے فرائض انجام دئے۔ اس دوران آپ نے اپنے علمی ذوق وشوق کی بنیاد پر متعدد قیمتی مخطوطات پر بھی کام کیا۔
۱۹۶۴ء میں قطر سے لندن چلے گئے اور ۱۹۶۶ میں دنیا کی معروف یونیورسٹی Cambridge,London سے جناب A.J.Arberry اور جناب Prof.R.B.Serjeant کی سرپرستی میں Studies in Early Hadith Literature کے موضوع پر Ph.D کی۔ مذکورہ موضوع پر انگریزی زبان میں Thesis پیش فرماکر CambridgeUniversity سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز ہونے کے بعد آپ دوبارہ قطر تشریف لے گئے اور وہاں قطر پبلک لائیبریری میں مزید دو سال یعنی ۱۹۶۸ء تک کام کیا۔
۱۹۶۸ء سے ۱۹۷۳ء تک جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ میں مساعد پروفیسر کی حیثیت سے ذمہ داری بخوبی انجام دی ۔
۱۹۷۳ء سے ریٹائرمنٹ یعنی ۱۹۹۱ء تک کنگ سعود یونیورسٹی میں مصطلحات الحدیث کے پروفیسر کی حیثیت سے علم حدیث کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔
۱۹۶۸ء سے ۱۹۹۱ء تک مکہ مکرمہ اور ریاض میں آپ کی سرپرستی میں بے شمار حضرات نے حدیث کے مختلف پہلوٴوں پر ریسرچ کی۔ اس دوران آپ سعودی عرب کی متعدد یونیورسٹیوں میں علم حدیث کے ممتحن کی حیثیت سے متعین کئے گئے، نیز مختلف تعلیمی وتحقیقی اداروں کے ممبر بھی رہے۔
حدیث کی عظیم خدمات پر ۱۹۸۰ء میں کنگ فیصل عالمی ایوارڈ :
۱۹۸۰ء (۱۴۰۰ھ) میں مندرجہ ذیل خدمات کے پیش نظر آپ کو کنگ فیصل عالمی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
۱) آپ کی کتاب "دراسات فی الحدیث النبوی وتاریخ تدوینہ” جو کہ انگریزی زبان میں تحریر کردہ آپ کی Thesis کا بعض اضافات کے ساتھ عربی میں ترجمہ ہے، جس کا پہلا ایڈیشن کنگ سعود یونیورسٹی نے ۱۹۷۵ء میں شائع کیا تھا۔اس کتاب میں آپ نے مضبوط دلائل کے ساتھ احادیث نبویہ کا دفاع کرکے تدوین حدیث کے متعلق مستشرقین کے اعتراضات کے بھرپور جوابات دئے ہیں۔
۲) صحیح ابن خزیمہ جو صحیح بخاری وصحیح مسلم کے علاوہ احادیث صحیحہ پر مشتمل ایک اہم کتاب ہے، عصر حاضر میں چار جلدوں میں اس کی اشاعت آپ کی تخریج وتحقیق کے بعد ہی دوبارہ ممکن ہوسکی۔ اس کے لئے آپ نے مختلف ممالک کے سفر کئے۔
۳) احادیث نبویہ کو عربی زبان میں سب سے پہلے کمپیوٹرائز کرکے آپ نے حدیث کی وہ عظیم خدمت کی ہے کہ آنے والی نسلیں آپ کی اس اہم خدمت سے استفادہ کرتی رہیں گی۔ ان شاء اللہ یہ عمل آپ کے لئے صدقہٴ جاریہ بنے گا۔
اس طرح ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی دنیا میں پہلے شخص ہیں جنہوں نے احادیث کی عربی عبارتوں کو کمپیوٹر ائز کیا۔ غرضیکہ منتسبین مکتب فکر دیوبند کو فخر حاصل ہے کہ جس طرح احادیث کو پڑھنے وپڑھانے، کتب حدیث کی شروح تحریر کرنے اور حجیت حدیث اور اس کے دفاع میں سب سے زیادہ کام ان کے علماء نے کیا ہے، اسی طرح احادیث نبویہ کو کمپیوٹرائز کرنے والا پہلا شخص بھی فاضل دارالعلوم دیوبند ہی ہے جس نے قرآن وحدیث کی تعلیم وتعلم سے کامیابی کے وہ منازل طے کئے جو عموماً لوگوں کو کم میسر ہوتے ہیں۔ یا اللہ! موصوف کو مزید نافع علم عطا فرما اور آخرت میں بھی امتیازی کامیابی عطافرما، آمین، ثم آمین۔
ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی صاحب نے کتب حدیث کی تخریج وتحقیق، ان پر تعلیقات، اپنی نگرانی میں ان کی اشاعت اور قرآن وحدیث کی تدوین کے متعلق مستشرقین کے اعتراضات کے مدلل جوابات انگریزی وعربی زبان میں پیش کرکے دین اسلام کی ایسی عظیم خدمت پیش کی ہے کہ ان کی شخصیت صرف ہندوستان یا سعودی عرب تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے کونے کونے سے ان کی خدمات کو سراہا گیا ہے، حتی کہ اسلام مخالف قوتوں نے بھی آپ کی علمی حیثیت کو تسلیم کیا ہے۔ غرضیکہ عصر حاضر میں شیخ الحدیث مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمة اللہ علیہ (۱۸۷۵ء۔۱۹۳۳ء) کے شاگر رشید محدث کبیر شیخ حبیب الرحمن اعظمی رحمة اللہ علیہ (۱۹۰۱ء۔۱۹۹۵ء) کے بعد شیخ ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی صاحب کا نام سرفہرست ہے جنہوں نے متعدد کتب حدیث کے مخطوطات پر کام کرکے احادیث کے ذخیرہ کو امت مسلمہ کے ہر خاص وعام کے پاس پہونچانے میں اہم رول ادا کیا۔ شیخ حبیب الرحمن اعظمی رحمة اللہ علیہ نے بھی تقریباً گیارہ احادیث کی کتابوں کی تخریج وتحقیق کے بعد ان کی اشاعت کروائی تھی۔
ڈاکٹر محمد مصطفیٰ اعظمی صاحب نے سعودی نیشنلٹی حاصل ہونے کے باوجود اپنے ملک، علاقہ اور اپنے ادارہ سے برابر تعلق رکھا ہے، تقریباً ہر سال ہی اپنے وطن کا سفر کرتے رہے ہیں، اپنے علاقہ کے لوگوں کی فلاح وبہبود کے لئے متعدد کام کرواتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر اعظمی صاحب نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ سے قبل تقریباً چھ ماہ مدرسہ شاہی مرادآباد میں تعلیم حاصل کی ہے، نیز آپ تقریباً ایک سال علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی زیر تعلیم رہے ہیں۔ آپ کے تین بچے ہیں، بیٹی فاطمہ مصطفی اعظمی امریکہ سے M.Com اور Ph.D کرنے کے بعد شیخ زاید یونیورسٹی میں مساعد پروفیسر ہیں۔ بڑے صاحبزادے عقیل مصطفی اعظمی امریکہ سے Engineering پھر Master in Engnireering اور Ph.D کرنے کے بعد کنگ سعود یونیورسٹی میں مساعد پروفیسر ہیں، چھوٹے بیٹے جناب انس مصطفی اعظمی نے UK سے Ph.D کی ہے اور King Faisal Specialist Hospital میں برسر روزگار ہیں۔

  1. اس کے علاوہ کنگ خالد بن عبد العزیز نے آپ کی عظیم خدمات کے پیش نظر ۱۹۸۲ء میں آپ کو Medal of Merit, First Class سے سرفراز فرمایا۔

سعودی نیشنلٹی:۱۹۸۱ء (۱۴۰۱ھ) میں حدیث کی گرانقدر خدمات کے پیش نظر آپ کو سعودی نیشنلٹی عطا کی گئی۔
دیگر اہم ذمہ داریاں:

  • Chairman of the Dept. of Islamic Studies, College of Education, King Saud University.
  • Visiting Scholar at the University of Michigan, Ann Arbor, Michigan (1981-1982).
  • Visiting Fellow of St. Cross College, Oxford, England, during Hilary term (1987).
  • Visiting Scholar at the University of Colorado, Boulder, Colorado, USA (1989-1991).
  • King Faisal Visiting Professor of Islamic Studies at Princeton University, New Jersy (1992).
  • Member of Committee for promotion, University of Malaysia.
  • Honorary Professor, Department of Islamic Studies, University of Wales, England.

علمی خدمات: آپ کی علمی خدمات کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے۔
۱) Studies in Early Hadith Literature: یہ کتاب دراصل ڈاکٹر مصطفی اعظمی قاسمی صاحب کی Ph.D کی Thesis ہے جو انگریزی زبان میں تحریر کی گئی تھی جس کا پہلا ایڈیشن بیروت سے ۱۹۶۸ء میں شائع ہوا، دوسرا ایڈیشن ۱۹۷۸ء اور تیسرا ایڈیشن ۱۹۸۸ء میں امریکہ سے شائع ہوا اور اس کے بعد متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور الحمد للہ یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ اس کا ۱۹۹۳ء میں ترکی زبان میں اور ۱۹۹۴ء میں اندونیشی اور اردو زبان میں ترجمہ شائع ہوچکا ہے۔ مشرق ومغرب کی متعدد یونیورسٹیوں میں یہ کتاب نصاب میں داخل ہے۔
۲) دراسات فی الحدیث النبوی وتاریخ تدوینہ: موصوف نے انگریزی زبان میں تحریر کردہ اپنی Thesis میں بعض اضافات فرماکر خود عربی زبان میں ترجمہ کیا ہے، جو ۷۱۲ صفحات پر مشتمل ہے، جس کا پہلا ایڈیشن کنگ سعود یونیورسٹی نے ۱۹۷۵ء میں شائع کیا تھا۔ اس کے بعد ریاض وبیروت سے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ ان دونوں مذکورہ انگریزی وعربی کتابوں میں مستند دلائل سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ تدوین حدیث کا آغاز حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں ہی ہوگیا تھا ،نیز اس دعوہ کو غلط ثابت کیا گیا ہے کہ تدوین حدیث کا آغاز دوسری اور تیسری صدی ہجری میں ہوا تھا۔
۳) منہج النقد عند المحدثین نشاتہ،تاریخہ: اس کتاب میں موصوف نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ محدثین کرام نے احادیث کے علمی ذخیرہ کو صحیح قرار دینے کے لئے جو اسلوب اختیار کیا ہے اس کی کوئی نظیر حتی کہ ہمارے زمانہ میں بھی نہیں ملتی ہے۔ نیزاس کتاب میں تدوین حدیث کے ابتدائی دور میں محدثین کے حقیقی طریق کار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور ۲۳۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۷۵ء میں ریاض سے، دوسرا ایڈیشن ۱۹۸۲ء میں ریاض سے اور تیسرا ایڈیشن ۱۹۸۳ء میں ریاض سے شائع ہوئے ہیں، اس کے بعد بھی اس کتاب کے شائع ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ کتاب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے نصاب میں داخل ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی اہم کتاب ہے۔
۴) کتاب التمییز للامام مسلم: امام مسلم  کی اصول حدیث کی مشہور کتاب التمییز آپ کی تحقیق وتخریج کے بعد شائع ہوئی۔
۵) Studies in Hadith Methodology and Literature: اس کتاب میں حدیث کے طریق کار سے بحث کی گئی ہے تاکہ احادیث کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ نیز مستشرقین نے جو شبہات پیدا کردئے تھے ان کا ازالہ کرنے کی ایک بہترین کوشش ہے۔ مصنف نے اس کتاب کو دو حصوں میں منقسم کیا ہے پہلے حصہ میں احادیث کے طریق کار سے بحث کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصہ میں حدیث کے ادبی پہلو کو صحاح ستہ اور دوسری کتب حدیث کی روشنی میں اجاگر کیا ہے۔ یہ کتاب انگریزی داں اصحاب کے لئے علوم وادب حدیث کے مطالعہ کا اہم ذریعہ ہے جو مختلف یونیورسٹییوں کے نصاب میں داخل ہے۔ کتاب کا پہلا اور دوسرا ایڈیشن ۱۹۷۷ء میں امریکہ سے، تیسرا ایڈیشن ۱۹۸۸ء میں امریکہ سے شائع ہوا۔ اس کے بعد متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
۶) The History of the Quranic Text from Revelation to Compilation:
یہ ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی کی بہترین تصانیف میں سے ایک ہے جس میں قرآن کریم کی تدوین کی تاریخ‘ مستند دلائل کے ساتھ ذکر فرمائی ہے۔ دیگر آسمانی کتابوں کی تدوین سے قرآن کریم کی تدوین کا مقارنہ فرماکر قرآن کریم کی تدوین کے محاسن وخوبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے، نیز اسلام مخالف قوتوں کو دلائل کے ساتھ جوابات تحریر کئے ہیں۔ اس کتاب میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ قرآن کریم کا حتمی نسخہ تیار کرنے کے لئے طریق کار پر بھی مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۲۰۰۳ء میں انگلینڈ سے، دوسرا ایڈیشن ۲۰۰۸ء میں دبیٴ سے شائع ہوا۔ اس کے بعد سعودی عرب، ملیشییا، کناڈا اور کویت سے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
ابھی تک اس اہم کتاب کا عربی یا اردو زبان میں ترجمہ تحریر نہیں ہوا ہے۔ مولانا کی صحت اب مزید علمی مشغلہ سے مانع بن رہی ہے، انہوں نے ۸ فروری ۲۰۱۳ء کو میری ملاقات کے دوران اس عظیم کتاب کے اردو یا ہندی میں ترجمہ کی خواہش کا اظہار فرمایا۔ یہ کتاب تقریباً ۴۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔
۷) On Schacht’s Origins of Muhammadan Jurisprudence:
مشہور ومعروف مستشرق "شاخت” کی کتاب کا تنقیدی جائزہ اور فقہ اسلامی کے متعلق اس کے ذریعہ اٹھائے گئے اعتراضات کے مدلل جوابات پر مشتمل ایک اہم تصنیف ہے جو مختلف یونیورسٹییوں کے نصاب میں داخل ہے۔ یہ کتاب ۲۴۳ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۸۵ء میں نیویارک سے، دوسرا ایڈیشن ۱۹۹۶ء میں انگلینڈ سے شائع ہوا ہے۔ اسکے بعد متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور سلسلہ برابر جاری ہے۔ یہ کتاب دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں کے نصاب میں داخل ہے۔ ۱۹۹۶ء میں اسکا ترکی زبان میں ترجمہ شائع ہوا۔ عربی زبان میں ترجمہ اور اردو میں ملخص طباعت کے مرحلہ میں ہے۔
۸) اصول الفقہ المحمدی للمستشرق شاخت (دراسة نقدیة) یہ ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی صاحب کی انگریزی زبان میں تحریر کردہ کتاب کا عربی ترجمہ ہے جو ڈاکٹر عبدالحکیم مطرودی نے کیا ہے ، جو ابھی تک شائع نہیں ہوسکا ہے۔
۹) کتاب النبی ﷺ: اس کتاب میں نبی اکرم ﷺ کی جانب سے لکھنے والے صحابہٴ کرام کا تذکرہ ہے۔ موٴرخین نے عموماً ۴۰۔۴۵ کاتبین نبی کا ذکر فرمایا ہے لیکن ڈاکٹر اعظمی صاحب نے ۶۰ سے زیادہ کاتبین نبی ﷺ کا ذکر تاریخی دلائل کے ساتھ فرمایا ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۷۴ء میں دمشق سے اور دوسرا ایڈیشن ۱۹۷۸ء میں بیروت سے اور تیسرا ایڈیشن ۱۹۸۱ء میں ریاض سے شائع ہوا ہے۔ اس کے بعد اس کتاب کے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ جلدی ہی شائع ہوا ہے۔
۱۰) المحدثون من الیمامة الی ۲۵۰ ہجری تقریباً : ابتدائے اسلام سے اب تک عالم اسلام کے تمام شہروں کے محدثین کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر مصنف نے الیمامہ کے محدثین کا تذکرہ اس کتاب میں کیا ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۹۴ء میں بیروت سے شائع ہوا ہے۔
۱۱) موطا امام مالک: آپ کی تخریج وتحقیق کے بعد اس اہم کتاب کی ۸جلدوں میں اشاعت ہوئی۔ یہ حدیث کی مشہور ومعروف کتاب ہے جو امام مالک نے تصنیف فرمائی ہے، بخاری ومسلم کی تحریر سے قبل یہ کتاب سب سے معتبر کتاب تسلیم کی جاتی تھی۔ آج بھی اسے اہم مقام حاصل ہے۔ موٴسسة زاید بن سلطان آل نہیان ، ابوظبی نے اس کی اشاعت کی ہے۔ آپ نے موٴطا مالک کے راویوں پر بھی کام کیا ہے جن کی تعداد آپ کی تحقیق کے مطابق ۱۰۵ ہے۔
۱۲) صحیح ابن خزیمہ: صحیح ابن خزیمہ جو حدیث کی صحیح بخاری وصحیح مسلم کے علاوہ احادیث صحیحہ پر مشتمل ایک اہم کتاب ہے، ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی صاحب نے ہی حدیث کی اس نایاب کتاب کو تلاش کیا جس کے بارے میں یہ خیال تھا کہ یہ ضائع ہوچکی ہے، اس طرح حدیث کی یہ اہم کتاب موصوف کی تخریج وتحقیق کے بعد ہی دوبارہ شائع ہوسکی۔ اس کی چار جلدیں ہیں ، پہلا ایڈیشن ۱۹۷۰ء میں بیروت سے، تیسرا ایڈیشن ۱۹۸۲ء میں ریاض سے اور تیسرا ایڈیشن ۱۹۹۳ء میں بیروت سے اور اس کے بعد بے شمار ایڈیشن مختلف اداروں سے شائع ہوئے اور ہو رہے ہیں۔
۱۳) العلل لعلی بن عبداللہ المدینی : آپ کی تحقیق وتعلیق کے بعد اس کا پہلا ایڈیشن ۱۹۷۲ء میں اور دوسرا ایڈیشن ۱۹۷۴ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد سے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
۱۴) سنن ابن ماجہ : حدیث کی اس اہم کتاب کی آپ نے تخریج وتحقیق کرنے کے بعد اس کو کمپیوٹرائز کرکے چار جلدوں میں ۱۹۸۳ء میں ریاض سے شائع کرایا۔ احادیث کو کمپیوٹرائز کرنے کا سلسلہ آپ نے کسی حد تک CambridgeUniversity میں Ph.D کے دوران شروع کردیا تھا۔
۱۵) سنن کبری للنسائی : آپ نے ۱۹۶۰ء میں اس کے مخطوطہ کو حاصل کرکے اسکی تخریج وتحقیق کے بعد اشاعت فرمائی۔
۱۶) مغازی رسول اللہ ﷺ لعروة بن زبیر بروایة ابی الاسود : مشہور ومعروف تابعی حضرت عروہ بن زبیر  (ولادت ۲۳ھ) کی سیرت پاک کے موضوع پر تحریر کردہ سب سے پہلی کتاب (مغازی رسول اللہ ﷺ) ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی صاحب نے اپنی تخریح وتحقیق اور تنقید کے بعد شائع کی۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۸۱ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اس بات کی علامت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے فوراً بعد سیرت نبوی پر لکھنا شروع ہوگیا تھا۔ ادارہٴ ثقافت اسلامیہ، پاکستان نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کرکے ۱۹۸۷ء میں شائع کیا ہے، اس کتاب کا انگریزی زبان میں تعارف طباعت کے مرحلہ میں ہے۔ اصل کتاب (عربی زبان میں) کا پہلا ایڈیشن ۱۹۸۱ء میں ریاض سے شائع ہوا ہے۔
۱۷) صحیح بخاری کا مخطوطہ: متعدد علماء کے حواشی کے ساتھ ۷۲۵ھ میں تحریر کردہ صحیح بخاری کا مخطوطہ جو ۱۹۷۷ء میں استنبول سے حاصل کیا گیا ،موصوف کی تحقیق کے بعد طباعت کے مرحلہ میں ہے۔
۱۸) Ageless Qur’an Timeless Text (النص القرآنی الخالد عبر العصور): قرآن کریم کے نسخوں پر مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات کے لیے ۲۵۰ صفحات پر مشتمل ڈاکٹر صاحب کی یہ آخری کتاب ہے، جو انہوں نے تقریباً ۱۵ سال میں مکمل فرمائی ہے۔ اس کتاب کی تکمیل کے لیے انہوں نے مختلف ممالک کے اسفار بھی کیے۔ ڈاکٹر اعظمی صاحب نے اس کتاب میں قرآن کریم کے دنیا میں موجود مشہور ومعروف ۱۹ مخطوطوں میں نقطے اور اعراب ہٹاکر یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ میں ۱۴۰۰ سال سے آج تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، اور نہ کل قیامت تک ان شاء اللہ کوئی تبدیلی رونما ہوگی۔ اس کتاب میں ۵۰ صفحات پر انگریزی میں اور ۵۰ صفحات پر عربی میں ڈاکٹر صاحب کا تحقیقی مقدمہ، جبکہ۱۵۰ صفحات پر مشتمل قرآن کریم کے مخطوطوں کا مقارنہ ہے۔ یہ کتاب ترکی سے دسمبر ۲۰۱۷ء میں شائع ہوئی ہے۔
غرض ڈاکٹر محمدمصطفی اعظمی قاسمی صاحب نے حدیث کی ایسی عظیم خدمات پیش فرمائی ہیں کہ ان کی حدیث کی خدمات کا اعتراف عالم اسلامی ہی میں نہیں بلکہ مستشرقین نے بھی آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے۔ الہم زد فزد۔ موصوف کی اکثر کتابیں انٹرنیٹ پر FreeDownload کے لئے مہیا ہیں۔
(www.najeebqasmi.com)

سالِ نو ، عبرت وموعظت کے چند پہلو

*مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

عیسوی سالِ نو کی آمد ہے ،2017ء ختم ہو کر2018شروع ہونے والا ہے ، یعنی ہمارے زندگی کا ایک سال اور ہماری زندگی تین سوساٹھ دنوں کی شکل میں قیمتی لمحات گذر گئے ، مغرب کی اندھی تقلید نے یہ ہمیں باور کرایاہے کہ سالِ نو یومِ جشن ہے، جشن کس چیز کا ؟ کیا اس بات کا جشن کہ ہماری زنذگی کے لمحات اور گھڑیاں روز بروز کم ہوتی جارہی ہیں اور ہم راہی عالم بقا ہورہے ہیں ؟ وقت کا گذرنا اور انسانی زندگی کے لمحات اور گھڑیوں کا کم ہونا یہ مسرت آگیں موقع نہیں ، یہ تو وقت احتساب ہے ، ایک سال گذرگیا ، کیا ہم نے سال کے تین سو ساٹھ دنوں کی صحیح اور بامقصد وصولیابی کی ، یا انہیں ایسے ہی خر مستیوں اور عیش کوشیوں میں گذار دیا؟ ویسے توہم نے سال تین سو ساٹھ دنوں کو بھی ایسے ہی غفلت ، لاپرواہی ، دنیائے دنیئہ کی محض اندھی ہوس میں گذاردیا ، پھر سال نو کی آمد پر بھی جشن منانے رہے ہیں ، جشن ہی نہیں منارہے ؛ بلکہ سال بھر تو ہم نے جو بھی خدا کی نافرمانی ااور حکم عدولی میں اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع کیا ، یہ تو بس غفلت اور لاپرواہی تھی ، یہاں تو سال کے تمام گذرجانے پر اپنی پچھلی غفلت ، لاپرواہی اور ضیاع وقت کا جشن منایاجارہا ہے ، سال بھر تو گناہ کئے ہی ، یہاں تو سابقہ گناہوں والے زندگی پربجائے پشیمانی کے جو گناہ سال بھر پوشیدہ کئے ،سال نو کی آمد پر وہ گناہ بر سر عام اور علی الاعلان کئے جارہے ، سالِ نو کی آمد ایک کافر اور اللہ عزوجل کے منکر اور مشرک کے لئے تو جشن کا موقع ہوسکتا ہے ، لیکن ایک مسلمان کا جو اللہ اور اس کے رسول اور روزِ آخرت اللہ عزوجل کی ملاقات کا یقین کرتا ہے اور اس دنیااوریہاں کی زندگی کو عارضی قیام اور امتحان گاہ باور کرتا ہے ، وہ کیوں کر ایام اور گھڑیوں کے گذرنے کو مطلقا موقع جشن قرار دے سکتا ہے ، وہ احتساب کرتا ہے کہ یہ گذری ہوئی گھڑیاں کیا واقعة ایک مومنانہ اور مسلمانانہ حیثیت کے ساتھ گذر ی ہیں ، یا صرف غفلت شعاری اور اپنے نفس اور شیطانی کی اتباع وپیروی میں ؟یہ سالِ نو کی آمد ہمارے لئے وقت کی قدردانی کا پیش خیمہ اور موقع ثابت ہو تو سونے پر سہاگہ ہے ، ورنہ اگر زندگی کے یہ لمحات بغیر فکر معاد یا معاش کے گذر جاتے ہیں تو سوائے ان گذری ہوئی گھڑیوں کی قبر پر آنسوبہانے کے کچھ حاصل نہیں ہوگا، ورنہ یہ سالِ نو کا جشن ہمارے آخرت کی صلاح وفلاح کا ذخیرہ نہیں ، جہنم کے عذابات وعقاب کے ذخیرہ کا باعث بن جائے گا۔انسانی زندگی میں وقت کی اہمیت نہایت ہی مسلم ہے ۔

وقت کیا ہے ؟ یہ در حقیقت انسانی زندگی(اس کی پیدائش سے لے کر موت کے درمیان) کے چندغیر یقینی اور موہوم لمحات کا نام ہے، جس کا صحیح بامقصد اور منظم استعمال ہی انسان کی ترقی ، عروج ، اقبال مندی ، خوش حالی اور فارغ البالی کا ضامن ہوتا ہے۔اس کے برخلاف اس کے استعمال کے تعلق سے لاپرواہی ،غفلت شعاری ہی اس کی ناکامی ونامرادی ،شکست وریخت اور زوال وانحطاط کاباعث ہوتی ہے، وقت کی انسانی زندگی میں اسی اہمیت کے پیشِ نظر حکماء نے اسے سونے کی طرح کہاہے؛ بلکہ حقیقت پسندوں اور حقیقت بینوں کے یہاں تو وقت اس سے بھی کہیں زیادہ گراں قدر اوربیش بہا شیٴ ہے ، عالم وجود میں اس کا کوئی مثل اور بدل نہیں ؛ اس لئے کہ اگر انسان سوناچاندی ، ہیرے جواہرات یا اپنی دھن دولت سے کسی طرح ہاتھ دھو بیٹھتا ہے تواسے محنت وجستجو او رمکمل کوشش کے ذریعے دوبارہ حاصل کرسکتا ہے ، یہی حال کھوئی ہوئی صحت کا ہے جو ماہر اطباء سے رجوع ، ادویہ کے استعمال اور حفظان صحت کے اصول پر کاربند ہو کر دوبارہ حاصل کی جاسکتی ہے ، کھوئے ہوئے علم کا بھی مطالعہ کے تسلسل کے ساتھ کتابوں کی ورق گردانی ، حقیقی طلب وجستجو کے ذریعہ دوبارہ حصول ممکن ہوپاتا ہے ۔لیکن زندگی کے جو لمحات اور گھڑیاں بیکاری میں بغیر فکرمعاد یا معاش کے یوں ہی گذرجاتی ہیں ، وہ بہر صورت واپس نہیں ہوسکتیں، گویا ان گذرے ہوئے لمحات پر موت طاری ہوجاتی ہے ، جس پر سوائے کفِ افسوس ملنے اور اس کی قبر پر آنسو بہانے کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا ؛ اس لئے بعض حکماء نے تو وقت ہی کو زندگی قراردیا ہے ، وقت کے کسی حصہ کو ضائع کردینا یہ درحقیقت عمرِ عزیز کے ایک حصہ کو ضائع کردینا ہے ؛ چونکہ زندگی کے تمام لمحات رب عظیم کی طرف سے طئے شدہ ہیں ؛ جس میں کمی یا بیشی کا کوئی امکان نہیں ہے ، لمحہ لمحہ دن ہے ، دن دن سے مہینہ تشکیل پاتا ہے ، مہینوں سے سال اور سالوں سے صدیاں وجود میں آتی ہیں، اسی ماہ وسال اور لمحات وگھڑیوں سے انسانی زندگی عبارت ہے ،جس کے کما حقہ استعمال ہی کے ذریعے انسان دنیا میں دارین کی فلاح وبہبود کوحاصل کرسکتا ہے ۔

تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دنیا میں رہ کر جن اقوام واشخاص نے وقت کی قدردانی کی ہے ، اسے نہایت ہی منصوبہ بندی اور نظم وضبط کے ساتھ استعمال کیا ہے ، انہوں نے صفحہٴ ہستی پر رہتی دنیا تک کے لئے اپنے عظیم ولاجواب کارناموں کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور دنیا وآخرت کی صلاح وفلاح کو حاصل کیا ہے ،غور کیجئے ! نبی کریم ا اور آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین جب وقت کا سلیقہ مندانہ استعمال کیااور اس کی صحیح قدر دانی کی اور اپنے عزم وحوصلہ کے جوہر دکھائے تو ان کی تیرہ سال پر محیط مختصر مدت نے وہ رنگ دکھایاکہ وہ دنیا وآخرت ہر دوکی کامیابیوں سے سرفراز ہوگئے ، اخروی صلاح وفلاح کے لئے ان کے حوالے سے قرآن کریم کا یہ ارشاد کافی ووافی ہے ”رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ “ اللہ عزوجل ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ، ان کی دنیوی کامیابیوں کا (جو کہ در اصل اخروی کامیابی کی ہی رہین منت ہے )یہ حال تھا کہ جس سرزمین پر قدم رکھتے کامیابی کے جھنڈے گاڑتے چلے جاتے ، اس وقت کی سوپر پاور طاقتیں قیصر وکسري نے بھی ان کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے تھے ، حالانکہ نبی کریم ا اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جس وقت مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب چلے تھے بالکل نہتے ، بے سروسامان، رہنے کے لئے آشیانہ سے بھی محروم ، یہ سب کچھ کیوں کر ہوا ؟ اس وجہ سے کہ انہوں نے لمحوں اور گھڑیوں کوناپ تول کر ، سوچ سمجھ کر استعمال کیا ، یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک مسلمانوں نے وقت کی قدر وقیمت کو سمجھا تھااور اس کا سلیقہ مندانہ استعمال کیا تھا تووہ ہر جگہ کامیاب وکامران تھے ، اس کے بالمقابل جہاں انہوں نے وقت جیسی متاعِ بے بہا کا بے دریغ استعمال شروع کیا ، لا پرواہی اور بے دردی سے اسے ضائع کرنے لگے ، عیش کوشی ، ، تن آسانی ، آرام طلبی کے یہ لوگ خوگراور عادی ہوگئے تو یہ لوگ قعرِ مذلت میں گر پڑے ، دنیا بھی گئی عقبی بھی گئی اور صفحہٴ ہستی سے ان کانام ونشان بھی مٹ گیا ۔اغیار نے ان کی تن آسانی کا یہ فائدہ اٹھایا کہ حکومت تو ان کے ہاتھ سے چھین ہی لی ، مزید یہ کہ عالمی سطح پر ان کی شبیہ کو مسخ کردیا ، جو قوم دنیا کی امام اور مقتدا تھی آج وہ دنیا کی نگاہ میں اجنبی بن گئی ، اسلامی لباس اور حلیہ کو ترچھی نگاہ سے دیکھاجانے لگا ، ان پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کا لیبل چسپاں کر کے ان کے تعلق سے بین الاقوامی سطح پر ہوّا کھڑا کردیا گیا ، غیروں کو مسلمانوں کے اس استحصال کے مواقع اسی وقت ملے جب مسلمانوں نے وقت کا بے دردی کے ساتھ استعمال کیا ، خرمستی اور آرام طلبی کو انہوں نے مقصدِ حیات بنالیا ؛ حالاں کہ احادیث ِ رسول اور اسلافِ امت کے واقعات کی روشنی میں یہ پتہ چلتا ہے کہ وقت کے صحیح اور بامقصد استعمال کے حوالے سے مسلمان غیروں سے باشعور اور حساس ہوتا ہے ۔

وقت کی اہمیت احادیث کی روشنی میں : ایک حدیث میں نبی کریم اکاارشاد گرامی ہے ”دو نعمتیں ایسی ہیں جس کے بارے میں لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ، ان میں سے ایک صحت وتندرستی اور دوسرے فرصت وفراغت (بخاری )مطلب یہ ہے کہ جو صحت وتندرستی کی نعمت سے بہرہ ور ہوتا ہے تو وہ یہ کہتا رہتا ہے کہ ابھی تو جوانی ہے ، صحت ہے ، ابھی فرصت ہے ، وقت بہت پڑا ہے کام کر لوں گا ، حضور اکرم ا فرمارہے ہیں کہ : صحت اور فرصت پر اعتماد اور بھروسہ کئے رہنا یہ دھوکہ ہے ، کسے کیا پتہ کہ صحت برقرار رہے گی بھی ، یا فراغت اور فرصت کے لمحات کبھی میسر بھی آئیں گے ، صحت بگڑ گئی یا کوئی مشغولیت ایسی آگئی کہ فرصت پر تکیہ کئے ہوئے کام دھرے کے دھرے رہ گئے ، موت نے یا سخت بیماری نے آن دبوچ لیا ، بستر مرگ پر پڑے رہ گئے ، اسی لئے نبی کریم انے ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا کہ : ”پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو(۱)بڑھاپے سے پہلے جوانی کو غنیمت سمجھو (۲)بیماری سے پہلے صحت کو (۳) مجتاجگی سے پہلے مالداری کو (۴) مشغولیت سے پہلے فرصت کو (۵) زندگی سے پہلے موت کو غنیمت جانو“(مستدرک)مطلب یہ ہے کہ جوانی کو جب کہ قوی مضبوط اور توانا ہوتے ہیں کچھ کر گذرنے کی صلاحیت ولیاقت ہوتی ہے ، موت یا بڑھاپے کے آنے سے پہلے اس جوانی کی قدر کر لی جائے ، صحت کی برقراری کی بھی کوئی ضمانت نہیں ، بڑھاپاتو ضرور آئے گا ، سارے اعضاء جواب دے جائیں گے ، اعمال کرنے کے لئے اعضاء میں توانائی نہ رہے گی ، مالداری ہے تو ذخیرہٴ آخرت کر لیا جائے ، مال تو بس ہاتھ کا میل ہے ، آج کسی کا ہے تو کل کسی کا ، خدا کی راہ میں ، غریبوں کی امداداور ان کی داد رسی میں خرچ کر کے سامانِ آخرت کر لیا جائے ۔اور ایک حدیث میں نبی کریم ا کا ارشاد گرامی ہے :”ہر روز فجر طلوع ہو کر پکارتی ہے ، اے ابن آدم! میں نئی خلقت ہوں اور تیرے اعمال پر گواہ ہوں ، میرے ذریعہ زادِ راہ تیار کر لے ؛ کیوں کہ میں قیامت تک نہیں لوٹتی “(حلیة الأولیاء: ۲/۳۰۳)

وقت کی اہمیت اسلاف کے اقوال کی روشنی میں : اسلاف اور بزرگانِ دین جنہوں نے اپنی عمر کے لمحات اور گھڑیوں کو گن گن کر اور ناپ تول کر استعمال کیا اور انہوں نے اسی وقت کی قدردانی کے نتیجے میں نہ صرف اس قدر بڑا علمی ذخیرہ ہمارے لئے چھوڑا کہ اس کا نہ صرف مطالعہ کرنا ؛ بلکہ اس کی ورق گردانی بھی ہمارے دشوار گذار ہے ، اطاعت واعمال میں بھی وہ اس درجہ پر فائز ہوئے تھے کہ ان کے نوافل اور دیگر اعمال واشغال بھی ہمارے حقائق سے دور نظر آنے لگے ، عمربن قیس  فرماتے ہیں کہ : ”صحت میں مرض سے پہلے ، زندگی میں موت سے پہلے ، جوانی میں بڑھاپے سے پہلے ، فرصت میں مصروفیت سے پہلے عمل کرلو (الزھد لابن مبارک : ۳)عون بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ : ” کتنے دن کا استقبال کرنے والے ایسے ہوتے ہیں جواسے پورا کرنہیں پاتے ، کتنے ہی کل کا انتظار کرنے والے ایسے ہوتے ہیں جو کل کو حاصل نہیں کرپاتے ، اگر تم موت وحیات اور راہِ حیات کے حوالے سے سوچوتو امیدوں اور اس دھوکے سے اعراض کرنے لگو“(حوالہ سابق) حضرت حسن بصری  فرماتے ہیں کہ : ” میں نے ان لوگوں کو پایا ہے جن کا اپنے عمر کے لمحات اور اوقات پر بخل سونے چاندی کے دراہم ودنانیر سے کہیں زیادہ تھا“ پھر آگے فرماتے ہیں کہ : ” اے آدم کے بیٹے ! ٹال مٹول سے بچ(یعنی اچھے کام کا ارادہ کرنے پر اسے کر گذر ، اس کو کل پر مت ٹال )آج کا دن تمہارے پاس یقینی ہے ، کل کا دن تمہارے پاس یقینی نہیں ، اگر کل تمہارے پاس آجائے تو اسے بھی آج کے دن کی طرح وصول کر“(یعنی بس یوں سمجھ کہ میرے پاس آج کا دن اور یہی فرصت ہے )حضرت امام غزالی  فرماتے ہیں کہ : ” دنیا میں جتنے بھی کام ہیں وہ تین طرح کے ہیں : ” ایک وہ جن میں کچھ نفع اور فائدہ ہے چاہے دین کا فائدہ ہو یا دنیا کا فائدہ …ایک وہ جن میں کچھ نفع اور فائدہ ہے چاہے دین کا فائدہ ہو یا دنیا کا فائدہ …دوسرے وہ کام ہیں جو مضرت والے اور نقصان دہ ہیں، ان میں یا تو دین کا نقصان ہے یا دنیا کا نقصان ہے …تیسرے وہ کام ہیں جن میں نہ نفع ہے نہ نقصان ، جس کام میں نہ نفع ہے او رنہ نقصان وہ بھی حقیقت میں نقصان دہ ہیں ؛چونکہ وقت ایسے کام لگ رہا ہے جس میں کوئی نفع نہیں ، گویا تم نے اس وقت کو برباد کردیا “(احیاء العلوم)بعض لوگوں نے کہاہے کہ : ”من علامة المقت إضاعة الوقت “ اللہ کی ناراضگی کی علامت وقت کا ضیاع ہے ۔

وقت کی قدر اور اسلاف کے واقعات : تنظیم اوقات اور وقت کی قدردانی کے حوالے سے اسلاف کے واقعات بھی ہمارے لئے نشانِ راہ ہیں کہ وقت کے حصول اور وصول میں کس قدر کوشاں رہتے تھے ۔ابن حجر جو مشہور محدت اور بلند پایہ مصنف ومحقق ہیں اور تمام علوم وفنون میں ان کی کتابیں متداول اور رائج ہیں ، ان کے وقت کی قدردانی اور اس کے پس انداز کرنے کا واقعہ یوں لکھا ہے کہ : جب یہ تصنیف میں مشغول ہوتے تو کتاب لکھتے لکھتے قلم کا خط خراب ہوجاتا ، اس زمانے میں لکڑی کے قلم ہوتے اور اس کا خط باربار بنانا پڑتا اور اس کو چاقو سے درست کرنا پڑتا ، اس میں تھوڑا سا وقت لگ جاتا تو وہ اس دوران ” سبحان اللہ والحمد للہ واللہ أکبر“ پڑھاکرتے ؛ تاکہ یہ وقت بھی ضائع نہ ہو (اصلاحی خطبات)حضرت مفتی شفیع صاحب صاحب تفسیر معارف القرآن کے حوالے سے یہ واقعہ لکھاہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے : میں جس وقت بیت الخلاء میں قضاءِ حاجت کے لئے جاتا ہوں تو بیت الخلاء کے لوٹے کو دھولیتا ہوں کہ وقت بیکار نہ چلاجائے (اصلاحی خطبات) اس کے علاوہ دیگر اسلاف اور ائمہ کے بے شمار واقعات وقت کی قدردانی کے تعلق سے کتابوں کے اوراق میں بکھرے پڑے ہیں کہ وہ بجائے روٹی کھانے کے ستو پھانک لیا کرتی۔یہ اسلاف اور وقت کے ائمہ ہیں کہ جنہوں نے وقت کی قدر کی جس کی وجہ سے وہ مرنے پر بھی حیات ہیں ، ان کے نام احترام واکرام کے ساتھ لئے جاتے ہیں ، ان کی زندگی لوگوں کے مشعلِ راہ اور نمونہ بنی ہوئی ہے ،

انسانی عمر کا تجزیہ : اگر انسانی زندگی کا تجزیہ کرتے ہیں توحقیقی اور واقعی زندگی تین سال ہوتی ہے ، یعنی وہ عمرجس کے لئے انسان کی تخلیق اور پیدائش ہوئی یعنی عبادات اور اعمالِ صالحہ ، جس کے بارے میں ارشاد باری عزوجل ہے ”میں نے جنات اور انسان کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ : ” میری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہوں گی ، بہت کم کوئی اس عمر سے تجاوز کر جائے گا( ترمذی ) موجودہ دور میں انسانی کی عمر چالیس یہی ساٹھ ستر سال عموما ہوتی ہے ، اگر نبی کریم ﷺ کی عمر مبارک کے اعتبار سے ہر شخص کی عمر (۶۳) سال باور کر لیتے ہیں اور ہمیں یہ پتہ ہے کہ دن (۲۴) گھنٹے کاہوتاہے ، اگر بالفرض تریسٹھ (۶۳) کے ہر دن آٹھ (۸) گھنٹے کام کاج میں صرف کرتے ہیں تو ہم اپنی عمر کے اکیس (۲۱) سال کام میں لگادیتے ہیں ، اسی طرح اگر انسان اصولِ طب کے اعتبار سے صحت کا خواہش مند ہے تو اسے ہر دن آٹھ(۸) گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے ، اگر تریسٹھ سال(۶۳) کے ہر دن میں سے آٹھ گھنٹے سونے میں لگ جائیں تو اس طرح (۲۱) اکیس (۲۱) (۴۲) بیالیس سال ہم نے کام کاج اور سونے اور آرام میں صرف کردیا ، اور یہ بھی ملحوظ رہے کہ انسان اپنی عمر کے ابتدائی بارہ (۱۲) یا تیر(۱۳) سال شریعت کا مکلف ہی نہیں ہوتا اوراس عمرکو لڑکپن میں کھیل کود میں صرف کردیتا ہے (۴۲) کو (۱۳) کے ساتھ جوڑ تے ہیں تو پچپن (۵۵) سال کی عمر یوں ہی گذر گئی ․․․ جس میں سے بعض کو تو ہم لڑکپن ، بچپن اور کچھ حصے کو سونے اور کچھ حصے کو کام کاج میں گذاردیا ،اب زندگی کے آٹھ(۸) سال باقی رہ گئے ، کیا یہ آٹھ سال تمام کے تمام عبادت میں گذرتے ہیں ، نہیں ، بلکہ انہیں آٹھ سال میں میں ہم اہل وعیال ، عزیز واقارب اور حیاتِ انسانی سے متعلقہ ضروریات کو پورا کرتے ہیں ، جو شخص نماز کا پابند ہوتا ہے وہ دن ورات میں سے ایک گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ اس میں صرف کرتا ہے، اس طرح مشکل سے تین سال اللہ کی اطاعت وفرماں برداری میں شمار ہوتے ؛ لیکن ہمارے رب کا بے پایاں کرم ہے نیت کی اصلاح اور ہر کام میں شریعت کے اصول کو ملحوظ رکھنے سے ہمارااٹھنابیٹھنا ، چلناپھرنا ، معاشرت ومعاملات سب کے سب عبادت شمار ہوتے ہیں ۔دس منٹ ، پندرہ منٹ ، گھنٹہ دو گھنٹہ تو ہمارے پاس کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتے ، چائے خانوں ، کلبوں اور دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں ہمارا وقت بے دریغ استعمال ہوتا ہے ، سارا کا سارا دن کھیل کود ، انٹرنیٹ کیفے اور ویڈیوگیمس میں مصروف رہ کر گذار دیتے ہیں ، وقت کے اس بے دردی کے ساتھ زیاں کے باوجود ہمیں ذرہ برابراحساسِ زیاں تک نہیں ہوتا ؛ بلکہ ہم اس پر ٹائم پاس اور وقت گذاری کا خوبصورت اور حسین لیبل چسپاں کردیتے ہیں ۔تو وقت کی اس اہمیت اور ہمارے وقت کے ساتھ اس سلوک کے نتیجے میں ہمارے لئے سالِ نو یومِ احتساب ہونا چاہئے ،یایو م جشن ، جو یومِ جشن کہ خود بے شمار برائیوں ،بے حیائیوں ،مرد وعورت کے آزادانہ اختلاط اور اخلاق وعز ت وناموس کی دھجیاں اڑادیتا ہے، سالِ نو کی آمد کا حقیقی اور واقعی پیغام تو یہ ہے کہ ہم گذرے ہوئے زندگی کے لمحات میں جس وقت کو ہم نے صحیح استعمال نہیں کیا ہے ، ا ب سے یہ عزم کریں کہ یہاں سے زندگی کا ہر لمحہ خدا کی رضا اور فکر معاد ومعاش میں گذرے گا، ہر کام خواہ وہ دینی یا دنیوی رب ذوالجلال کی کے احکام کے پس منظر میں انجام دوں گا ، اس طرح اس کی دین ودنیا دونوں صلاح وفلاح سے ہم کنار ہوں گے ۔

*
وادی مصطفی ، شاہین نگر ، حیدرآباد،
رفیق تصنیف دار الدعوة والارشاد یوسف گوڑہ حیدرآباد
rafihaneef90

تین طلاق پر تین سال کی سزا

امیر شریعتحضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی
جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

۲۲/ اگست ۲۰۱۷ء کی تاریخ تھی، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے تین طلاق کے موضوع پر اپنا فیصلہ سنادیا، جس میں پانچوں ججوں کے فیصلہ میں کئی جگہ اختلاف رائے تھا، اس لیے فیصلہ اکثریتی فیصلہ سے ہوٴا، اس فیصلہ میں خاص طور پر دو باتیں تھیں، ایک تو یہ کہ پرسنل لا بنیادی حق ہے، اس لیے اس میں نہ سپریم کورٹ تبدیلی کرسکتی ہے، اور نہ پارلیمنٹ اس کے خلاف قانون سازی کرسکتی ہے، فیصلہ کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ اگر کسی نے بیک وقت تین طلاق دی تووہ طلاق کالعدم ہوگی، اور ازدواجی زندگی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس فیصلہ پر کئی تأثرات اور کئی تبصرے آئے، مرکزی حکومت کے وزیر قانون نے اعلان کیا کہ اس فیصلہ کے بعد کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن جیسے جیسے گجرات الیکشن کی فضا گرم ہوئی وزیر اعظم کو مسلمان مطلقہ عورتوں کی یاد ستانے لگی، اور مرکزی حکومت کا اعلان آگیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تو ہوگیا، مگر مسلم مردوں نے تین طلاق دینا بند نہیں کیا ہے، اس لیے کڑی قانون سازی ہوگی۔ گروپ آف منسٹرس بنائے گئے ، اس نے قانون کا مختصر مسودہ بنادیا، اور اسے خط کی شکل میں صوبائی حکومتوں کو بھیجا گیا، تاکہ وہ رائے دیں ،ابھی تمام صوبوں سے رائے نہیں آئی ہے، اتنا معلوم ہے کہ تلنگانہ، آندھرااور کیرالہ نے اس قانون کی مخالفت کی ہے۔

۱۵/ دسمبر ۲۰۱۷ء کو مرکزی کیبنٹ نے اس مسودہ قانون کو منظوری دیدی، اور اب کسی بھی دن وہ بل پارلیمنٹ میں پیش ہوگا، پھر بحث ہوگی اور اگلے مرحلے طے پائیں گے___ کانگریس پارٹی نے رائے دیدی ہے کہ اگر یہ بل سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہوگا تو وہ تائید کرے گی، ورنہ مخالفت! دوسری پارٹیوں کی رائے بھی آہستہ آہستہ سامنے آجائے گی، ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ راجیہ سبھا میں یہ بل منظور ہوگا یا نہیں۔

یہ طے ہے کہ اس بل میں دو چیزیں ہیں، ایک تو یہ کہ ایک ساتھ تین طلاق دینے والوں کو کریمنل لا کے تحت سزا ہوگی، جس کی مدت تین سال ہے، اس کے علاوہ اسے پینلٹی بھی دینی ہوگی، جس کی تعیین عدالت میں ہوگی ___حکومت نے کریمنل لا کے تحت تین سال کی سزاتو طے کردی، مگر سوال یہ ہے کہ یہ سزا کس کریمنل آفنس کی ہے؟ اگر ایک ساتھ تین طلاق دینا کریمنل آفنس ہے تو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیدیا ہے کہ تین طلاق دینے سے طلاق نہیں ہوگی، اس طرح سپریم کورٹ نے تین طلاق کو پہلے ہی بے اثر کردیا ہے، اور ”حکومت بے اثر جرم“ کی سزا تین سال مقرر کررہی ہے، اور اس کے ساتھ پنلٹی بھی ہے، تو یہ سپریم کورٹ سے طے شدہ بے اثر جملہ یا لفظ کوجرم قرار دینا ہے، جب کہ کوئی بھی بے اثر چیز کرائم نہیں ہوسکتی ___اگر قانون سازی یہ ہو کہ تین طلاق دینے والے کی بات موٴثر ہوگی اور تینوں طلاق پڑ جائے گی ، تو پھر تین سال کی سزا کے قانون میں کچھ معقولیت ہوتی۔

دوسری اہم چیز یہ ہے کہ بے اثر جرم کے خلاف حکومت تین سال کی سزا متعین کرنے جارہی ہے، کیا انڈین پینل کوڈ کی سزاؤں سے اس کی مطابقت ہے ، تین سال کی سزا اغوا /زناکاری جیسے جرائم پر دی جاتی ہے، کئی بڑے جرائم ہیں، جن کی سزا تین سال سے کم ہے، مثلاً رشوت پر ایک سال، مذہبی مقامات کو نقصان پہونچانے پر دوسال ، فور جری پر دو سال، چار سو بیسی پر ایک سال ، ملاوٹ پر چھ ماہ، یا ایک ہزار روپئے(یا دونوں) جیسی سزائیں متعین ہیں، تو کیا تین طلاق (سپریم کورٹ کے مطابق جن کا نہ بیوی پر اثر ہوتا ہے ، نہ بچوں پر ، نہ خاندان پر) اتنا بڑا ”جرم“ ہے کہ اسے اغوا جیسے جرائم کے برابر سمجھ لیا جائے، سزاؤں کو متعین کرنے میں کچھ توازن تو ہونا ہی چاہئے!

مرکزی کیبنٹ نے تین سال کی سزا کے ساتھ بیوی بچوں کا خرچ بھی طلاق دینے والے پر عائد کیا ہے، کیبنٹ کو یہ بھی سونچنا چاہئے کہ مرد جیل چلا جائے گا، تو یہ خرچ کون دے گا؟ اس سے بہتر تو حکومت بہار نے کیا ہے ، کہ مطلقہ کو پچیس ہزار روپئے سالانہ وظیفہ دیتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے یہ مان لیا ہے کہ سماجی بیماریوں کا علاج کڑی سزا ہے، جب کہ کرائم رپورٹ اس کی تائید نہیں کرتی___ پچھلے چند برسوں میں مجرمانہ حرکت پر نگاہ ڈالیں تو جتنی شہرت اور جتنا عوامی احتجاج نربھیا حادثہ پر ہوٴا ، اتنا کسی انفرادی حادثہ پر نہیں ہوٴا، اس حادثہ نے پورے ملک کے شعور کو جھنجھوڑ کر رکھدیا، اور کسی اپیل کے بغیر ہزاروں افراد بڑے بڑے شہروں میں سڑکوں پر اتر آئے، کئی بڑے لیڈروں نے بیان دیدیا کہ مجرم کو اسلامی سزا دینی چاہئے، شور شرابہ کے تحت قانون بن گیا ___مگر کیا عورتوں کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ کم ہوگیا؟ رکنے کی بات دور کی ہے ! ہاں یہ بھی عجیب بات ہے کہ آج مرکزی وزارت نے تین طلاق پر تین سال کی سزا کے مسودہ کو منظور کیا ہے، آج ہی یہ سطریں لکھی جارہی ہیں، (۱۵/ دسمبر ۲۰۱۷ء )اور ۱۶/ دسمبر ۲۰۱۲ء کو نربھیا کے ساتھ اندوہناک حاثہ ہوٴا تھا۔ اس پانچ سال کے عرصہ میں جرائم بڑھے ہیں ۲۰۱۶ء میں کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ایک ہزار خواتین پر جرائم کی تعداد۲ء۵۵ رہی ہے، خواتین کے خلاف تشدد کا معاملہ بڑھا اور پچھلے دس سال (۲۰۱۶ء تک) میں ۸۸/ فیصد اضافہ ہوٴا ، جب کہ ۲۰۱۶ء میں ۹ء۱۸ فیصد مجرم کو ہی سزا دی گئی، دہلی میں ۲۰۱۶ء میں روزانہ پانچ واقعات عصمت کے درج ہوٴ اکیے ہیں، دہلی جنسی ہراساں کی اوسط شرح ۳ء۲۶فیصد ہے۔

یہ تھوڑی سی تفصیل بتاتی ہے کہ سماجی بیماریوں کا علاج سخت بنادیناناکافی ہے، اس کے لیے لوگوں کو سمجھانا ، انہیں ذمہ داریوں کو یاد دلانا اور ذہن سازی کرانا بہت اہم ہے، جس کی سمجھ میں آجانیوالی مثال یہ ہے کہ مسلمانوں میں ۲۲/ اگست ۲۰۱۷ء تک طلاق بہت آسان رہی ہے ، دوسرے مذہب کے ماننے والوں میں طلاق مشکل رہی ہے، اور طلاق کورٹ سے ہوتی ہے ، جس میں بڑا وقت لگتا ہے، جس کے نتیجہ میں ابھی ۳۲/ لاکھ ہندو عورتیں بغیر طلاق ،شوہر سے الگ مجبوری کی زندگی گذار رہی ہیں، انہیں میں ایک وزیر اعظم نریندر مودی کی اہلیہ محترمہ بھی ہیں___ اور جن لوگوں کو قانونی طلاق ہوئی ہے، قومی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ہندو، پھر عیسائی، سکھ، بدھسٹ، جینی حضرات کے یہاں طلاق ہوئی ہے، اور سب سے کم طلاق مسلمانوں میں ہوٴا کی ہے، اصل میں یہ اثر ہے مسلم پرسنل لا بورڈ، مسلمانوں کی دوسری جماعتوں ، علماء اور ائمہ کے سمجھانے بجھانے اور مزاج سازی کا!

عالم اسلام کے سب سے بڑے ایوارڈ یافتہ محدث ڈاکٹر محم د مصطفی اعظمی

دینیات کے ساتھ عصری تعلیم ضروری گزارشات

از- محمد اعظم قاسمی سیتاپوری

ہم جس زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں، تعلیمی اور تکنیکی ترقی کا زمانہ ہے، اس میں اسی کو تعلیم یافتہ سمجھا جاتا ہے جو عصری تقاضوں اور ضروریات کو اپنے علم و آگہی کی روشنی میں پورا کر سکے.
اس حقیقت سے نظر پوشی نہیں کی جا سکتی کہ ہماری مسلم قوم تعلیمی لحاظ سے بہت ہی پس ماندہ ہے، جس کی وجہ سے ہر میدان عمل میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ بات بھی مسلّم ہے کہ ان پڑھ شخص کا شعور بیدار نہیں ہوتا اور اس کی بات پر توجہ بھی نہیں دی جاتی، لہذا وہ اقتصادی اعتبار سے بھی زیادہ ترقی نہیں کر پاتا اور سماج میں بھی اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی؛ اس لیے کہ وہ سماجی اقدار سے ناواقف ہوتا ہے.
اچھے عہدوں پر تعلیم یافتہ حضرات ہی پہنچ پاتے ہیں، حکومت سازی اور حکومتوں کی تبدیلی میں بھی پڑھے لکھے ہی اچھا کردار ادا کر پاتے ہیں. کشور ہندوستان میں تو اب پاسپورٹ بنوانے کے لیے ہائی اسکول کا سرٹیفکیٹ لازمی ہے ورنہ ان پڑھ شمار کیا جائے گا، اندیشہ یہ ہے کہ کہیں آئندہ یہ قانون نہ پاس کر دیا جائے کہ ووٹ صرف وہی دے سکیں گے جن کے پاس کم از کم ہائی اسکول یا انٹر کی سند ہو.
رہی یہ بات کہ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم پانے والا طبقہ عموماً دین سے نابلد یا انتہائی غافل ہوتا ہے، بعض تو بد دین اور دین کے دشمن تک ہو جاتے ہیں، جس کے بارے میں علماء اور دین کی فکر رکھنے والے حضرات اندیشے بھی ظاہر کرتے رہتے ہیں، اور یہ اندیشے حقیقت پر مبنی ہوا کرتے ہیں. تو کیا ان حقائق کے پیشِ نظر کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ مسلمان اپنے دین سے بھی بالکل ناواقف نہ رہے اور ہم عصر کارواں سے پچھڑنے بھی نہ پائے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر ہمارے مفکرین کو سر جوڑ کر بیٹھنا، سوچنا اور کوئی مناسب عملی فیصلہ لینا چاہیے.
یہ بات تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ بقدر ضرورت دینی علم حاصل کرنا فرض ہے، اس کے بعد جو جتنا حاصل کر لے اتنا ہی بہتر ہے، اس کے لیے مدارس و مکاتب قائم ہیں اور الحمد للہ یہ ضرورت ایک حد تک پوری بھی ہو رہی ہے، اگرچہ مزید عملی وسعت، سنجیدگی، فعالیت اور مقصدیت کی ضرورت ہے؛ لیکن مدارس میں آئے ہوئے طلبہ کے علاوہ جو بچّے خارج میں رہ جاتے ہیں، جن کا رہ جانا بھی ناگزیر ہے ان کے بارے میں بھی قابل نفاذ لائحہ عمل درکار ہے. افسوس کی بات ہے کہ ان بچوں میں سے ایک کثیر تعداد ان پڑھ رہ جاتی ہے، کبھی وسائل کی کمی کی وجہ سے، کبھی تعلیمی اداروں کی قلت اور کبھی ادارے کی نا اہلی کی وجہ سے، جیسا کہ بہت سے حکومتی اسکولوں کا حال ہے، یا تو اساتذہ نہیں ہیں یا لا پروا ہیں یا طلبہ صرف مڈ ڈے میل کے لیے آتے ہیں اور مقصد پورا کر کے چلے جاتے ہیں. اب اگر ان بچوں کی دینی تعلیم کا نظم نہیں کیا گیا تو دین میں پچھڑ جائیں گے اور دنیوی تعلیم سے محرومی دنیا میں پستی و ذلت کا باعث بنے گی.
ایسے میں دین کو برقرار رکھتے ہوئے عصری تعلیم کیسے دی جائے اس سلسلے میں میرے ذہن میں جو باتیں آ رہی ہیں وہ درج ذیل ہیں.
١- جو طلبہ کسی ایسے اسکول میں جا رہے ہیں جہاں دینی تعلیم کا نظم نہیں ہے ان کو اگر کوئی مناسب متبادل اسکول بھی میسر نہ ہو تو وہیں تعلیم حاصل کرتے رہنے کے ساتھ ساتھ روزانہ ایک گھنٹہ کسی بھی طریقے سے دینی تعلیم بھی حاصل کرتے رہنا چاہیے، اس کے لیے یا تو مکتب جائیں یا ٹیوشن لگا لیں، اگر روزانہ وقت نکال پانا دشوار ہو تو کم سے کم ہفتے میں تین دن تو ضرور ہی نکالیں ورنہ ضروری دینی تعلیم سے بھی محروم رہنا پڑے گا.
٢- جن اسکولوں کے ذمہ داران مسلم ہوں ان کو سمجھا بجھا کر دینیات کا بھی نظم کرانا چاہیے، اس مقصد کے لیے ہر جماعت میں ایک گھنٹہ متعین کیا جائے.
٣- سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے فکر مند حضرات یا تو خود یا دوسروں کے واسطے سے ایسے اسکول قائم کریں جہاں عصری علوم اس انداز سے پڑھائے جائیں کہ معیارِ تعلیم میں وہ کسی دوسرے اسکول سے کسی اعتبار سے کم نہ ہوں اور دینیات کا بھی مضبوط انتظام ہو، صرف خانہ پری نہ ہو؛ تاکہ ہائی اسکول پاس کرنے کے بعد کچھ طلبہ اگر ڈاکٹر اور انجینئر وغیرہ بننا چاہیں اور اس رخ پر آگے بڑھیں تو کچھ طلبہ مدارس کا بھی رخ کریں اور عالم و فاضل اور مفتی وغیرہ بھی بنیں. اگر عزم مصمم ہو تو یہ کام مشکل نہیں ہے، بعض حضرات الحمد للہ کر بھی رہے ہیں. اس تعمیری اور انتہائی ضروری کام کے لیے سوسائٹیز اور تنظیمات کو بھی دیگر کاموں کے مقابلے میں زیادہ متحرک ہونا چاہیے.
٤- طلبہ مدارس کی پختہ دینی ذہن سازی کرنے کے بعد ان میں سے بعض کو عصری علوم کی تحصیل پر آمادہ کرنا چاہیے تاکہ ان کے اندر سے جھجھک ختم ہو، ہر ایک سے بات کرنے کے لائق ہو سکیں اور حکومت کے نزدیک بھی تعلیم یافتہ شمار ہوں. ایسے طلبہ سے زیادہ دینی نفع کی توقع کی جا سکتی ہے.
٥- پِلَس ٹو، بیچلر، ماسٹر اور پوسٹ ماسٹر کی ڈگری رکھنے والوں کے لیے عالمیت کا قصیر المدتی نصاب ہونا چاہیے، تاکہ کم وقت رکھنے والے شائقینِ علوم دینیہ بھی محروم نہ رہیں.
٦- فضلاء مدارس کے لیے مرکز المعارف کے طرز کے مزید ادارے قائم کیے جانے چاہئیں جن میں اچھے اساتذہ انگلش زبان کی عمدہ تعلیم دیں، اسی طرح دعوتی و تربیتی ادارے بھی قائم کیے جائیں جن میں مقصود دعوت و تربیت ہو اور ساتھ ساتھ انگلش و ہندی کی بھی تعلیم ہو تاکہ فضلاء کے سامنے دینی دعوت کا میدان کشادہ تر ہو سکے.
٧- مذکورہ باتوں کے علاوہ ایک کام یہ بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ لمبی چھٹیوں میں اسکول کے طلبہ کے لیے سَمَر کیمپ کا نظم کیا جائے جس میں مختلف موضوعات پر دین کی اہم باتوں کے ساتھ ساتھ نماز اور کچھ ضروری دعائیں بھی یاد کرائی جائیں اور ممکن ہو تو کچھ وقت کسی خانقاہ یا اچھی جماعت میں بھیجا جائے یا مقامی علماء متقین کی مجالس میں شریک کیا جائے. اسی طرح اساتذہ کی بھی دینی ذہن سازی کی کوشش کی جائے.
٨- ان بچوں پر خاص توجہ رکھی جائے جو پڑھنے میں اچھے ہیں یا پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں اور ان کے اہل خانہ کے پاس اتنی وسعت نہیں کہ پڑھا سکیں، ایسے بچوں کی تعلیم کا نظم قوم کے درد مند متمول حضرات یا تنظیمات کو کرنا چاہیے.
٩- جو بچے اسکول یا مدرسہ نہیں جا رہے ہیں ان کو اور ان کے سرپرستوں کو تعلیم کی اہمیت و ضرورت بتانی چاہیے، اگر مالی حالت کمزور ہو تو ان کی مدد بھی کرنی چاہیے، تاکہ وہ کسی طرح پڑھ کر اپنے مستقبل کو تابناک بنا سکیں.
خلاصہ یہ ہے کہ تعلیم پر انتہائی زور دینے کی ضرورت ہے اور اس کی اہمیت کو نظر انداز کرنا قوم کو پستی کی گہری کھائیوں میں گرانے کے ہم معنی ہے. کوئی قوم تعلیم کے بغیر ترقی کے مدارج طے کر سکی ہے نہ کر سکے گی. رب ذو الجلال ہم سب کو فروغِ تعلیم کے لیے سعیِ مسلسل کی توفیق عنایت فرمائے.

21/12/2017

شیخ ڈاکٹر مصطفی اعظمی : حیات وخدمات