دارالعلوم دیوبند کی جانب سے طلبہ پر جماعت میں شرکت پر پابندی کیوں؟

9 اگست 2017 کودارالعلوم دیوبندکی انتظامیہ نےتبلیغی جماعت میں حصہ لینےاوراس میں شریک ہونےسےتمام طلبہ پرپابندی عائدکردی اورجبتک جماعت کاآپس میں اندرونی اختلاف ختم نہیں ہوجاتاکوئی طالبعلم جماعت سےتغلق نہیں رکھ سکتا.دارالعلوم نےپابندی عائدکرتےہوے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ ہمیں جماعت سے اختلاف نہیں ہےلیکن جماعت کےاختلاف سے ضروراختلاف ہے.اوراس اختلاف کےجونتائج ملک وبیرون ملک دیکھنےمیں آرہےہیں وہ بہت تشویش ناک ہیں.اندیشہ تھاکہ کہیں دارالعلوم کے طلباءمیں یہ اثرات نہ آجائیں اسلئےیہ پابندی لگانی پڑی.کیونکہ ادھر کچھ سالوں سےطلباءکا تعلق تبلیغی جماعت سے برابررہاہےاورہرسال امتحان کےموقع پرمرکز نظام الدین سےآنیوالا وفدطلباءکی تشکیل کرتاتھا.جماعت جب دودھڑےمیں تقسیم ہوگئی ایک امارت کی دعویدارہے دوسری شورائی نظام کی. تو صورت حال نازک اور پیچیدہ ہوگئی.اسی نزاکت کی وجہ سے دارالعلوم نےکسی فریق کی حمایت نہیں کی. البتہ مصالحت کی کوشش برابراسکی طرف سےہوتی رہی کہ کسی طرح معاملہ سلجھ جائے.مگرمعاملہ سلجھنے کےبجائےدن بدن الجھتا گیاتاآنکہ شورائی نظام کوترجیح دینےوالی جماعت مرکز نظام الدین سےعلحدہ ہوگئی جس میں بعض وہ اکابر جماعت بھی ہیں جنھوں نےحضرت مولانامحمد یوسف صاحب رح کے دورکودیکھااورکام کو سیکھاہے.انکی اس علحدگی اورنظام الدین کےبالمقابل دوسرانظام شروع کرنیکےبعدبیسوں سال سےاندرون مرکز کے اختلاف کی پوری کہانی سےپردہ اٹھ گیااور دارالعلوم دیوبندو جمعیت کےآپسی اختلاف پرتمسخرانہ وطنزیہ تبصرہ کرنے والوں کےزہدوتقوی کا بھرم کھل گیااورنزاع نےتشددکی صورت اختیارکرلی جسمیں گالم گلوج اورمارپیٹ کی بھی نوبت آئی تھانہ پولیس بھی ہوا.نزاع و اختلاف نےبڑھتےبڑھتے عالگیرپیمانےپرسب کو اپنی لپیٹ میں لےلیا.

ظاہرہےکہ یہ جماعت والوں کاآپسی اختلاف تھاجس سےدارالعلوم کا کوئی تعلق نہیں تھا.نہ ہی دارالعلوم ثالث کی حیثیت رکھتاتھاکہ انکے معاملےمیں دخل دے. اوردخل بھی دیتاتواسکا کچھ نتیجہ نکلنےوالا نہیں تھا.کیونکہ سمجھانےبجھانےاور مصالحت کرانےوالوں کو اسکابخوبی تجربہ ہو چکاتھاالبتہ الدین النصیحۃ کےپیش نظر دارالعلوم کی جوذمہ داری بنتی تھی اس نے اس میں کوتاہی نہیں کی اورذمہ داران کو متعددخطوط لکھکر انہیں متوجہ کیا. حضرت مولاناسیدارشد مدنی دامت برکاتہم تو اسی غرض سےبنفس نفیس مرکز بھی تشریف لیگئےکوئی اثرنہ ہوا.

اب دارالعلوم کےپیش نظریہ خطرہ تھاکہ جماعت میں ہونےوالے پرتشددواقعات کااثر کہیں طلباءپرنہ پڑجائے اورانکےدرمیان امارت و شوری کاجھگڑانہ کھڑا ہوجائےلہذاتمام طلباء پرپابندی لگادی گئی کہ دوران تعلیم انکاکسی جماعت سےتعلق نہ رہے گا.نہامارت والوں سے نہ شوری والوں سے.اوراب کوئی ان کی تشکیل بھی نہیں کرسکتا.اگراسکی خلاف ورزی کوئی کرتا ہےتواسکےخلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائیگی

جنہیں پورےحالات کا علم نہیں وہ اس فیصلے پرناخوشگوارتبصرے کر رہےہیں بعض حضرات اپنےقیمتی مشوروں سے بھی نوازرہےہیں جسکو پڑھکریہ تاثرابھرتاہےکہ شایدطلباء کی "دینی تعلیم وتربیت” دعوت وتبلیغ” اورملی اتفاق واتحاد”کی فکرانہیں دارالعلوم سےزیادہ ہے. انکی دردمندی ودلسوزی برحق’ لیکن طلباءکی مصلحتیں انکی نظروں سےیقینااوجھل ہیں. پچھلےسال اسی مسئلے کولیکرطلباءمیں جو کشاکش ہوچکی تھی ذمہ داران دارالعلوم کے سامنےصورت حال پر قابو پانےکیلئےاسیطرح کےسخت فیصلےکی ضرورت ناگزیرہوگئی تھی.

یہ بھی ظاہرہےکہ یہ خالص انتظامی نوعیت کی پابندی ہے.دینی و شرعی نقطۂ نظرسےیہ پابندی نہیں لگائی گئی. اوردارالعلوم کواسکاحق حاصل ہےکہ وہ تعلیمی مصلحتوں کےپیش نظر ماحول کوبہتربنانےاور برےاثرات سےمحفوظ رکھنےکیلئےجوچاہےفیصلہ لے.کسی کواعتراض کی گنجائش نہیں.حالات و واقعات کی روشنی میں دیکھاجائےتویہ نہایت دانش مندانہ اورعلم وبصیرت وفہم وفراست پرمبنی فیصلہ ہےجس سےخارجی فتنےکی آگ کی روک تھام کی جا سکتی ہے.یہ دارالعلوم کو ناخوش گواروناپسندیدہ حالات سےمحفوظ رکھنےکی حتی الوسع ممکنہ تدبیرہے.کیونکہ جذبات وخواہشات جب بےلگام ہوجائیں توپہر دلائل ونصیحت کی اہمیت وافادیت ختم ہو جاتی ہے.

بلاشبہ دارالعلوم دیوبند نےنہایت دوراندیشی سے کام لیتےہوےبروقت ایک مناسب وتاریخی فیصلہ لیاہےجسکی تمام علماء کرام اورجملہ اہل مدارس کو تائید کرنی چاہئےتاکہ کسی قسم کاشروفتنہ اندرون دارالعلوم داخل نہ ہو سکےاورطلباءیکسوئی کےساتھ اپنی تعلیم پر توجہ دےسکیں

البتہ جماعت اوراس سے حسن ظن رکھنےمیں افراط وبےاعتدالی کا مزاج رکھنےوالوں کو یقینا خوشی نہ ہوئی ہوگی اورجیساکہ بعض تبصرہ نگاروں نےاپنی بے اطمیینانی کااظہاربھی کیاہےانہیں اس فیصلے کوانتظامی فیصلےکی نگاہ سےدیکھناچاہئے دینی وشرعی نقطۂ نظر سےنہیں.اگرچہ اکابر علماءدارالعلوم دینی وشرعی فیصلےکاحق بھی محفوظ

رکھتےہیں لیکن اسکاتعلق انتظامی امورسےہے.انہیں دارالعلوم کی مجبوری کوبھی سمجھناچاہئے کہ کل کےدن خدانخواستہ طلباء دوگروپوں میں بٹ جاتےاورباہم آویزش کاماحول بن جاتاتوملت اسلامیہ کایہ عظیم علمی مرکز اسیطرح کے نزاع کی زدمیں آجاتا جسطرح مختلف مقامات پرباہمی تشدد و نزاع کابازارگرم ہےاور پھراسکی عزت وعظمت پرکیسابدنماداغ لگتایہ بتانےکی ضرورت نہیں ہے.خاص طورسےایسے وقت میں جبکہ ملکی حالات قطعاایسےنزاع کی اجازت نہ دیتےہوں. اسلئےصرف ایک جانب یےحالات کودیکھکر فیصلہ نہ کریں بلکہ وقت کی نزاکت کوبھی سمجھیں اوردارالعلوم کےداخلی وانتظامی امورپرخودفیصلہ کرنے کے بجائےارباب حل و عقداورانتظامیہ کو فیصلہ کرنےدیں.انہوں نےنیک نیتی سےیہ فیصلہ کیاہےتواسکے اثرات ونتائج انشاءاللہ اچھےہونگےاورپس پردہ خدانخواستہ کوئی بدنیتی شامل ہےتووہ بھی ظاہرہوگی

دارالعلوم کےاساتذہ و مفتیان کرام اورحضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم جیسےصاحب ورع اورفرشتہ صفت عالم وبزرگ سےہم اسکا تصوربھی نہیں کرسکتے کہ وہ ملت اسلامیہ” طلباء” اوردارالعلوم” کی ترجیحات ومفادات کے خلاف کوئی فیصلہ لیں گےہمیں امیدہی نہیۓ یقین کامل ہےکہ اس فیصلےکےپیچھےانکی نیتوں کاخلوص شامل ہےجسکےاثرات وبرکات انشاءاللہ مستقبل میں ظاہرہونگےاوراسکے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والےناکام ونامراد ہونگے

مگرجیساکہ پہلےبھی تجربہ ہوچکاہےکہ عقیدت میں غلووبے اعتدالی کرنےوالے دارالعلوم پرنازیباونا مناسب تبصرےکرچکے ہیں اس موقع پربھی انہوں نےوہی طرزعمل اپنایااوربارباراس وضاحت کےباوجود کہ جماعت کےجھگڑوں سے اسکاکوئی تعلق نہیں نہ ہی وہ امارت وشوری کی بحث میں کسی فریق کاحامی ومخالف ہےیہ انکاآپسی معاملہ ہےجسےحل کرنےکی ذمہ داری انہیں کی ہے’ دارالعلوم نہ انکی تائیدمیں ہے نہ تردید میں.اسکااپناالگ میدان ہےاورانکااپناالگ انداز ہے.یہ علمی درسگاہ ہے جہاں رات دن تعلیمی سلسلہ چلتارہتاہے اور قرآن وحدیث کےماہر اساتذہ کتاب وسنت کےعلوم کی تعلیم و تدریس میں منہمک رہتے ہیں.اگرطلباءمیں علمی کمزوری رہ گئی توبڑا نقصان ہوگااسلئےاس چہاردیواری میں رہتے ہوےطلباءکوصرف علم سےواسطہ رکھناضروری ہے.یہی وجہ ہےکہ اکابر علماءدیوبندنےدوران تعلیم کسی قسم کی غیر تعلیمی سرگرمی کو پسندنہیں فرمایا.امام ربانی حضرت گنگوہی وحکیم الامت حضرت تھانوی قدس سرہمانے پڑھنےپڑھانےکےزمانے میں بیعت ہونیکوبھی پسندنہیں کیاکیونکہ اس میں توجہ بٹتی ہے اورآدمی بیک وقت دو چیزوں پرپوری توجہ نہیں دےسکتا.اسی بات کاتذکرہ اپنےبیان میں حضرت مولاناارشد مدنی دامت برکاتہم نے بھی فرمایاکہ ہم طلباء کوجمعیت کاممبرنہیں بناتےاوراس شخص کی مخالفت کرتےہیں جو طلباءکیلئےجمعیت کی ممبرسازی کرتاہے.ہم نےکبھی طلباءکےدرمیان جمعیت کی ممبرسازی نہیں کی تاکہ وہ جس مقصدکیلئےیہاں آئےہیں اسی میں منہمک رہیں’ دیگرسرگرمیوں میں ملوث ہوکراپنی استعدادنہ خراب کرلیں

اتنی وضاحتوں کے با وجوداس فیصلےپریکے ازطالبان علوم نبوت صاحب تحریرکرتےہیں

( دعوت وتبلیغ میں پاکستان کی شوری کےنام پربرپاکیاگیافتنہ و اختلاف آخرکاربڑےبڑے علماءکےقابوسےبھی باہرنکل گیا.پہلے دار العلوم دیوبندکےمہتمم مفتی ابوالقاسم صاحب دامت برکاتہم نےمولانا سعدکےخلاف فتوی جاری کرکےامت مسلمہ کوپاکستانی شوری پر جمع کرنےکی کوشش کی جوبری طرح ناکام ہوگئی اورامت مسلمہ کےاذہان کونظام الدین جانےسےمتاثرنہ کرسکے پھرطلبہ دارالعلوم دیوبندکومرکزنظام الدین جانےسےروک دیاگیالیکن اس سےبھی پورےعالم تودورکی بات خوددارالعلوم دیوبندکے اندرونی نظام دعوت وتبلیغ کوبھی قابونہ کیا جاسکا………….پھرمہتمم دارالعلوم دیوبندنےکچھ نظام الدین سےوابستہ افرادکےمسجدچھتہ مشورہ میں آنےپرپابندی عائدکردی لیکن نتیجہ لا حاصل…… …شوری کی جانبداری میں کیاکچھ نہیں کرناپڑرہاہے……… چلےتھےمولاناسعد صاحب اورمرکزنظام الدین کےنظام کودرست کرنے’ خودکاحال بےقابو ہوگیااورمجبورایہ اعلان مولاناارشدمدنی دامت برکاتہم کےذریعہ مفتی ابوالقاسم صاحب دامت برکاتہم نےکروادیاکہ دارالعلوم دیوبندکےطلبہ کیلئے” گشت وملاقات” مشورہ کرنا” ایساہی قابل اخراج جرم ہوگا جیساکہ "فلم ” ٹی وی” اوردیگرجرائم پرہوتاہے خیرخوب اچھی طرح سے یہ بات واضح ہو گئی کہ پاکستان کی شوری کالگایاہوافتین درخت اتنامنحوس تھا کہ دارالعلوم دیوبندکی تاریخ میں وہ کام کروادیاجوکہ غیرمسلم بلکہ اسلام دشمن ممالک بھی نہ کرواسکے” تبلیغ پرپابندی” )

(یکےازطالبان علوم نبوت

مقیم جگردیوبند)

نقطوں کی جگہ والی تحریرحذف کردی گئی ہےاس کوپڑھکراندازہ ہوگیاہوگاکہ جماعت کی محبت میں الزام و بہتان اورجھوٹاپرو پیگنڈہ کرنےمیں بعض طلباءکاذہنی ارتقاء کتنی تیزی سےہورہاہے.

دارالعلوم دیوبندنےمولانا سعدصاحب کی فکری کجروی پرتنبیہ وگرفت کی تویہ مولاناسعدکے خلاف توہوسکتاہےلیکن یہ شوری کےنام پربرپا کیاگیافتنہ کیسےہوگیا؟ یاشوری پرجمع کرنےکی کوشش کیسےہوگئی؟ معلوم ہواکہ کچھ فاسد ذہنیت کےلوگ دارالعلوم کےا

صلاحی اقدام کو جماعت اوراسکےامیرکی مخالفت کی عینک سے دیکھتےہیں اسی لئےنہ انہیں دارالعلوم کااظہار موقف ہضم ہوسکانہ طلباء پرلگائی جانیوالی پابندی.اوروہ دل کے پھپھولےپھوڑکرغیظ قلب کوتسکین دےرہےہیں نیزتبلیغ پرپابندی کا جھوٹاپرچارکرکے ذخیرۂ آخرت جمع کررہےہیں

دارالعلوم میں تعلیمی سرگرمی کےساتھ کسی دوسری سرگرمی کوپہلے بھی کبھی بہ نظر استحسان نہیں دیکھاگیا یہ سلسلہ چندسالوں سے کچھ زیادہ ہی تیزی سے طلباءمیں مقبول ہونے لگاتھاجب انتظامیہ کو یہ محسوس ہواکہ اب یہ تعلیم کیلئے مضر ہوسکتاہےاورباہم عقیدتوں کاٹکراؤ کسی فتنہ کاسبب بن سکتاہے تواس نےاپنےقدیم طرز کےمطابق طلباء کو صرف تعلیمی سر گرمیوں تک محدودرہنے کیلئےپابندبنانےکافیصلہ کیاتویہ تبلیغ پرپابندی کسطرح ہوگئی؟کیا علماء دیوبندتبلیغ کے مخالف ہیں؟

یکےازطالبان علوم نبوت صاحب کویہ کشف تو ہوگیاکہ دارالعلوم کا اظہارموقف غلط نظریات کی تردیدنہیں بلکہ پاکستانی شوری پر سب کوجمع کرنےکی کوشش ہےلیکن وضاحتوں کےباوجود بالکل سامنےکی یہ چیزنہ دیکھ سکےکہ یہ پابندی طلبہ پرہےیاتبلیغ پر؟تبلیغ پرپابندی دارالعلوم کیونکر لگا سکتاہےجبکہ خودوہ تبلیغ کی سرپرستی کرتا ہے اوراسکےلئےعلماء تیارکرتاہے.باقاعدہ دارالعلوم میں ایک شعبہ دعوت وتبلیغ کابھی ہے یہ سراسراتہام وبہتان نہیں توکیاہے؟

یہ کہنابھی محتاج دلیل ہے کہ تبلیغی جماعت پرپابندی لگائی گئی ہے.پابندی توطلباءپر لگائی گئی ہےنہ کہ تبلیغی جماعت پر؟ اوراگربالفرض مان بھی لیاجائےکہ تبلیغی جماعت پرپابندی لگائی گئی ہےجبکہ ایساہے نہیں.توبھی یہ کہنا درست نہ ہوگاکہ تبلیغ پرپابندی لگادی گئی کیونکہ تبلیغ الگ ہےاور تبلیغی جماعت الگ ہے. آج یہی مفسدہ پیداہو گیاہےکہ تبلیغ کولوگ تبلیغی جماعت میں منحصرسمجھنےلگےہیں اوراچھےخاصےپڑھےلکھے لوگ اسی خربطہ میں مبتلاہیں کہ اگرتبلیغی جماعت نہ رہی توتبلیغ کاوجود ہی دنیاسےختم ہوجائیگا.اسکابطلان جاہل نہ سمجھ سکےتو حیرانی کی بات نہیں مگرپڑھےلکھےمولوی اورطلباءعلوم نبوت بھی اس بات کونہ سمجھ سکیں اس پرضرور حیرت وتعجب ہے.اسی طرح کیایہ امرباعث حیرت نہیں کہ دیوبندنے آجتک نہ شوری والوں کی تائیدکی نہ اسکےحق میں کوئی فتوی جاری کیابلکہ خودکوغیر جانب دارہی رکھامگر کس جزم ویقین کےساتھ اس پریہ الزام لگایا جا رہاہےکہ یہ شوری پر جمع کرنےکی کوشش ہے علم نبوت کےطالب علم سےیہ جھوٹ اوربہتان؟ استغفراللہ ولاحول ولاقوۃ الاباللہ.

یہ کہنابھی درست نہیں کہ غیراسلامی یااسلام دشمن ممالک میں تبلیغ پرپابندی نہیں. ہاں یہ کہہ سکتےہیں کہ کہ تبلیغی جماعت پرپابندی نہیں . اسلامی اورقرآن وحدیث کی صحیح تعلیمات پرمبنی تبلیغ پر آج بھی وہاں پابندی ہے. تبلیغی جماعت پرامریکہ واسرائیل میں پابندی کیوں نہیں؟یہ توخود تبلیغی جماعت پرسوالیہ نشان ہےاورجماعت کواحتسابی عمل سے گذارنےکی ضرورت کااحساس دلاتاہے کہ آخرایسی کیاوجہ ہےکہ اسلام کےدشمنوں کو اسلامی تبلیغ سےبڑی محبت ہوگئی ہےاور تبلیغی جماعت سےانہیں کوئی شکایت نہیں؟ انکی تبلیغ میں کتاب وسنت سےکہاں انحراف پایاجارہاہےجویہ اہل باطل کیلئے لقمۂ ترثابت ہورہےہیں؟بجائےاحتساب کےاسےحجت کے طور پرپیش کرناعلم وعقل کےدیوالیہ پن ہونےکی علامت ہے.فکری کجی کےبغیردشمنان اسلام کبھی بھی صحیح اسلامی تبلیغ پرراضی نہیں ہوسکتے.ولن ترضی عنک الیہود ولا النصاری حتی تتبع ملتھم نص قطعی ہےاس محکم اوراٹل فیصلۂ قرآنی کےخلاف اگریہود ونصاری ہم سےیاہمارے کام سےخوش ہیں تویہ لمحۂ فکریہ ہےنہ کہ خوش ہونیکی چیز؟ کار نبوت وکارصحابہ کا دعوی کرنیوالی تبلیغی جماعت کےامراءو خواص کوچلہ وگشت سےکبھی فرصت ملےتو انہیں اس پہلوپربھی ضرورغوروفکرکرنا چاہئے .

یکےازطالبان علوم نبوت صاحب کی تحریردوبارہ پڑھ لیں جسطرح کبھی کبھی جھوٹ سےکوئی سچ نکل آتاہےاسیطرح اس تحریرمیں شوری پرجمع کرنیکاجوبیجا الزام اوربہتان لگایاگیا ہےاس سےیہ سچائی ظاہرہوتی ہےکہ دارالعلوم دیوبندنے اچانک طلباء پریہ سخت پابندی نہیں لگادی بلکہ بتدریج اسکی نوبت آئی. پہلےوقتافوقتاطلباءکو تنبیہ کیجاتی رہی مگر ان تنبیہات کاطلباءنے کوئی اثرنہیں لیا تب مجبورادارالعلوم کو یہ سخت قدم اٹھاناپڑا.

حقیقت یہ ہےکہ دارالعلوم دیوبندماضی قریب وبعیدمیں طلباء کی کئی اسٹرائکوں کوجھیل چکاہےجسکے نتیجےمیں دارالعلوم کی ساکھ کوبہت نقصان پہونچ چکاہےآئندہ طلباءمیں کسی مسئلے کولیکرپھراختلاف وانتشارکی شکل نہ بن جائےاسلئےاسکاسدباب کیاجاناحددرجہ ضروری تھا.اس اعتبارسےبھی دیکھاجائےتودارالعلوم کا یہ فیصلہ نہایت مناسب اورحق بجانب ہے

بعض حضرات نے دارالعلوم کوبطور شکایت یہ مشورہ بھی دیاہےکہ

( کاش کہ دارالعلوم دیوبندنےاسیطرح کاسخت موقف جمعیت کےاختلاف کےوقت اختیارکیاہوتااوردارالعلوم میں جمعیت کے تذکرےتک پر پابندی عائدکردیتاتویہ دارالعلوم میں پڑھنے بھی والےطلباءکے لئے اورخودجمعیت کیلئے بھی مفیدہوتا)

اندازہ یہ ہےکہ مشورہ بڑے خلوص سےدیا گیا ہےہم انکی قدرکرتےہیں لیکن جمعیت

اورجماعت دونوں کےاختلاف کو یکساں سمجھ لینافکرو تدبرسےناشی نہیں.غور کیاجائےتودونوں میں واضح فرق نظرآئیگا. پہلی بات تویہ کہ طلباء میں جمعیت کی ممبر سازی نہیں کیجاتی نہ ہی اسکےمتعلق کوئی تحریک چلائی جاتی ہے اسلئےطلباءجمعیت کیلئےزیادہ حساس نہیں.دوسری بات یہ ہے کہ جمعیت دینی جماعت سےزیادہ سیاسی جماعت کےطورپر معروف ہے اسلئےاسکا ایساتقدس دلوں میں نہیں کہ اسکی مخالفت دین کی مخالفت سمجھی جائے.برخلاف تبلیغی جماعت کے.کہ باقاعدہ اسکی ممبر سازی طلبہ میں ہوتی ہے.تحریک بھی چلائی جاتی ہےاوراسےخالص دینی جماعت کےطورپر جاناجاتاہےاوربرملااس کےتقدس کاپرچاروپرو پیگنڈہ کیاجاتاہےاسے کارنبوت وکارصحابہ کہکراسکی اہمیت دلوں میں بٹھائی جاتی ہے جس کےسبب دینی اعتبارسےاسکی ایسی عظمت دلوں میں جمی ہوئی ہےاوراسطرح اسکاتقدس راسخ ہےکہ باوجودمرکزی امراء کی تحریفات معنوی فی الآیات والاحادیث پر علماءدیوبندکی نکیرکے عقیدتمندی میں کوئی فرق نہیں آیاجیساکہ یکےازطالبان علوم نبوت کی مندرجہ بالاتحریرسے ظاہروباہرہے.توجمعیت اورجماعت دونوں میں نمایاں اورواضح فرق ہےتبلیغی جماعت سے طلباءکاجذباتی تعلق ہے جہاں معمولی ٹھیس پہونچنےپربھی نزاع کااندیشہ رہتاہےجیساکہ دونوں جماعتوں میں دیکھنےکومل رہاہےکہ ایک دوسرےکےوجود سےنفرت کاماحول بنا ہواہےاورتمام دنیاکے مراکزمیں اختلاف و انتشارکی کیفیت ہے طلباء میں بھی اختلاف کی صورت پیداہوچلی تھی مگرانتظامیہ نےبر وقت فیصلہ لیکرفتنہ کی سرکوبی کردی.رہی جمعیت تواسکےحوالے سےدارالعلوم کےداخلی امورپرکوئی اثرنہیں. اسکاسارانزاع دارالعلوم کےباہرتھااندرنہیں اسلئے اسکےتذکرےپرپابندی لگانےکاکیاسوال؟ہاں اگرطلباءمیں اسکولیکر کوئی ہیجانی کیفیت کا امکان ہوتاتویقینااس پربھی پابندی لگائی جاتی

لہذایہ مشورہ برمحل نہیں۔

از
عالمی مجلس اصلاح امت

اہل عرب قادیانی سازشوں کے تناظرمیں

غیاث الدین دہام پوری جامعہ عربیہ ہتھورا باندہ

مذہبی ،سیاسی اورسماجی میدانوں میں ناقابل تلافی شکست کھانے کے بعد اب قادیانی نت نئی سازشوں پر اتارو ہوگئے ہیں حالیہ دنوں میں قادیانیوں نے ملکی ،اور بین الاقوامی سطح پر نام نہاد اسلامی شناخت کے حامل کچھ ایسے ادارے تشکیل دئے ہیں جو سیکولرازم او رجمہوریت کی آڑ میں قادیانیوں کا دفاع اور ا ن کے خصوصی مفادات ومقامات کے لئے کام کررہے ہیں ان ادارو ں کا پہلاکام یہ ہے کہ وہ ہرممکن کوشش بروئے کار لاکر قادیانیو ں کو مسلمانوں کی صف میں لاکر کھڑاکردیں،اپنے اس ناپاک مشن کی تکمیل کے لئے اولاً تووہ ناخواندہ اور بھولے بھالے مسلما نوں کو اپنے مخصوص شیطانی انداز میں ٹارگیٹ بناتے ہیں ثانیاً پھر خصوصی ہائی پروفائل جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کو خوبصورت ٹائٹل میں قادیانیت پروستے ہیں،یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ مسلمانان عالم اور دنیاکی غیر اسلامی سیکولر بڑی عدالتوں تک نے ان کے دعوٰی اسلام کو باقاعدہ اور مکمل طور سے مسترد کردیاہے اب ہمارے اس دعویٰ کو بطور ثبوت کے بھی ذرا ملاحظ فرمائیں کہ غیر ممالک میں قادیانیوں کے ارتداد وخروج اسلام کے بارے میں کیافیصلہ کیاجاچکا ہیں مگر وہاں حکومت کو کسی نے بھی چیلنج نہیں کیاکہ حکومت کو اس کا اختیارہے یانہیں؟ ”بنگلہ دیش نے۲۰۰۴ئمیں قادیانی لٹریچر پر مکمل پابندی لگادی اس سے قبل قادیانیوں کے خلاف متعدد احتجاج ہوئے تھے ۔بیلاروس میں ۲۰۰۷ئمیں قادیانیت کی تبلیغ کی ممانعت کردی گئی لٹریچر پر پابندی لگادی گئی اور ان کے اجتماعات کو غیر قانونی قراردے دیاگیا۔بیلجیم جانے کے لئے قادیانیوں کا نکاح نامہ تسلیم نہیں کیاجاتاتھااس لئے بیلجئم نے بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔جب برسلزمیں قادیانیوں نے مسجدکے نام سے اپنی مرزاڑہ بنانے کی کوشش کی تو فسادات کا خطرہ پیدا ہوگیا اس لئے اس نام نہاد مسجد کی تعمیر پر پابندی لگادی گئی ۔بلغاریہ میں مذہبی اقلیتوں کی ایک فہرست ہے جہاں قادیانیوں کو ایک مذہبی اقلیت ماننے سے انکار کردیاگیا تو قادیانیوں نے خود کو تجارتی تنظیم کے طور پر رجسٹرڈکرانے میں کامیابی حاصل کرلی لیکن اب بھی اس پر قانونی جنگ جاری ہے مصر میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی اور کئی قادیانیوں کو جیلوں میں ڈال دیاگیا۔مصر کی مسلم اکثریت قادیانیوں کو مسلم تسلیم نہیں کرتی ،گیمبیامیں قادیانیوں۵۰ ۱۹ئکو سے ہی مزاحمت کا سامنا تھا ،جنوری ۲۰۱۵ء میں گیمبیاکے سرکاری ادارے سپریم کورٹ اسلامک کونسل نے گیمبیاکے ٹی وی او ر پرنٹ میڈیاپر اعلان کرکے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔انڈونیشیامیں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی اورانہیں غیر مسلم قراردے دیا۲۰۰۸ ئمیں قادیانیوں پر پابندی لگادی گئی ۔۲۰۱۰ء اور ۲۰۱۱ئمیں قادیانیوں کی تبلیغ اور عبادت گاہوں کو مسجد کہنے پر پابندی لگادی گئی ۔ملائیشیامیں ۲۰۰۹ ئاسلامک ریلجئیس کونسل کے ایک اعلامئے کے ذریعہ قادیانیوں کو غیرمسلم قراردے دیاگیاان کے جمعہ کے اجتماعات پر بھی پابندی لگادی گئی ان احکاما ت کی خلاف ورزی پر ایک سال قید اور تین ہزار ملائشی رنگٹ جرمانہ کرنے کا قانون بھی نافذکردیاگیا اورقادیانیوں کی عبادت گاہ کے باہر بڑے بڑے حروف میں ایک نوٹس لگادیاگیا جس کے مطابق islam.agama.bukan.qadiani.قادیانیت اسلام نہیں ہے فلسطین میں ابھی تک حکومت مستحکم نہیں ہے انہیں اپنے مسائل د ر پیش ہیں لیکن۲۰۱۰ئحیفہ اسرائیل میں قادیانی مرکز سربراہ محمد شریف عودہ نے ایک اسرائیلی ریڈیوپر شکایت کی تھی کہ فلسطین میں قادیانیوں کو قتل کیاجارہاہے ،گویافلسطین انہیں مسلمان تسلیم نہیں کرتے ۔سعودی عرب میں غیرمسلموں کا داخلہ ممنوع نہیں لیکن قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے حرمیں شریفین میں غیر مسلموں کا داخلہ بشمول قادیانیوں کے ممنوع ہے قادیانی حج بھی نہیں کرسکتے ،ان میں سے کسی بھی ملک میں حکومت کو چیلنج نہیں کیا۔“(ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان ستمبر۲۰۱۶ ) قادیانیوں کی ایک بہت پرانی اور گھسی پڑی کوشش یہ بھی جاری رہتی ہے کہ دنیا ”ا حمدیہ مسلم جماعت “کے نام سے جانے گرچہ قادیانی پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہیں مگردنیا کی تمام قومیں مرتدوں وزندیقوں کے اس ٹولے کو احمدی ہی کہیں حالیہ دنوں میں قادیانی اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنے ہی تیار کردہ افراد کے ذریعہ میڈیامیں گھس پیٹھ کرنے کا نیا حربہ اس شکل میں اپنارہے ہیں کہ اندرون خانہ پورے طور پر قادیانی مفادات کے تحفظات ،اور دفاع بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور طریقے سے سرگرم عمل رہیں ان کے گماشتے اخباری نمائندوں اورکیمرہ مین کے روپ میں بظاہر تو غیر جانب دار نظر آتے ہیں مگر لیکن اندرون خانہ پورے طور پرقادیانی مفادات کا دفاع اور اور تحفظ کرنے میں سرگرم عمل نظر آتے ہیں،ایسے فتنہ پرور صحافی بھی قادیانیوں کے لئے لفظ احمدی ہی استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر دیگرہم پیشہ صحافی بھی اس لفظ کا استعمال بکثرت کرنے لگیں ان کا ایک خطرناک عمل یہ ہوتا ہے کہ ان کی خبروں کا ہر کوریج قادیانی دنیاکے لئے ہی ہوتا ہے اور ان کی ترسیلی خبروں کا ہر زاویہ ایسا ہوتاہے جس کی تہوں میں خالص اسلام دشمنی پوشیدہ ہوتی ہے حالیہ دنوں میں قادیانیوں کے ذریعہ رچی گئی ایک خطرناک اور نئی سازش آشکارہ ہوئی ہے جس کی قدرے تفصیل کچھ یوں ہے ’گزشتہ دنوں ابو ظہبی میں بین الاقوامی سطح پر منعقدہ ایک کانفرنس بنام”تعزیر المسلم فی المجتمعات المسلمہ“ جس کی قیادت کے فرائض ایک سعودی شیخ عبداللہ البییانے انجام دئے (عبداللہ بن بییاسعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی میں استاد اور سلفیوں کے عالمی رہنما ہیں ) اس میں درپردہ بڑی خاموشی سے امریکہ اور پاکستان سے قادیانیوں کے دو گماشتوں نے اس خفیہ اندازسے شرکت کی اورا س طرح یہ غیر مدعو قادیانی شیوخ کبیر کی طرح مدعو شیوخ حضرات کی صفوں میں ایک کنارے بیٹھے نظر آرہے ہیں کہ گویا وہ بھی اس اجلاس کے اہم مندوب ہیں ۔کانفرنس سے کشید تصاویر میں عبداللہ بن بییابشمول مصری ’کویتی اور دیگر متحد ہ عرب امارات کے بڑے بڑے شیوخ وعلماء نظرآرہے ہیں۔جبکہ بعض تصاویر میں قادیانی گماشتوں کوبھی نمایاطورپردکھایاجارہاہے ۔قادیانی چینل پر نمایاں طورپر یہ خبر دی جارہی ہے کہ WORLD.MUSLIM.CONFERENCE.SAUDIS.&U.AE.INVITE.AHMADIS.TO ‘سعودی عرب اورمتحد ہ عرب امارات نے احمدیوں کو عالمی مسلم کانفرنس میں مدعو کیاہے اس عنوان کے پس منظر میں نمایاطورپر شیخ عبداللہ بن بییاودیگر زعماء عرب کو دکھایاجارہاہے۔قادیانی گماشتہ خبریں کوریج کرتے وقت اپنا تعارف ا س طر ح کرارہاہے کہ میں ’ربوہ ٹائمس ‘سے ہوں اور میں اس وقت ابوظہبی میں ایک بڑی اہم” انٹرنیشنل اسلامک کانفرنس “اسلامی ممالک میں امن امان کیسے لاجائے ؟کے عنوا ن سے اٹینڈ کررہاہوں ․اس وقت دوسرے دن کا لاسٹ سیشن چل رہاہے ․اس کانفرس کی خوش آئند بات یہ ہے کہ عالم اسلام میں جتنی بھی مسلم کمیونٹیز ہیں ۔خواہ وہ شیعہ ہو یاسنی اہل حدیث ہوں یااحمدی مسلمان (قادیانی)سبھی کو مدعو کیا گیاہے اس کانفرنس میں سنی مسلمانوں کے مختلف طبقات نے بھی شرکت کی ہے مگر احمدی مسلمانوں نے پہلی مرتبہ اس انٹرنیشنل اسلامک کانفرنس میں شرکت کا شرف حاصل کیاہے آخری مقررنے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ حالات خواہ کیسے ہی ہوں مگر بین المسلم تکفیر نہیں ہونی چاہئے (یعنی قادیانی مرتدین کو بھی ضرب یضرب کی گردان کی طرح مسلمان ہی گردانا جائے تکفیرنہ کی جائے )ان خبروں کے نیچے درج ہے rabwah.times.ahmadiyya.msulims.invited.to.peace.in.muslim.socities.conference.in.abu.dhabi”یعنی قادیانیوں کو ابو ظہبی کی اس بین الاقوامی کانفرنس میں مدعوکیاگیاہے ،قارئین کو یہ سنکر حیرت ہوگی کہ عوام الناس کو اس خبر کی خبر اس وقت لگی جب اہل تشیع کے ایک چینل نے عرب دشمنی میں اپنی نشریات میںshiitenews.orgپرخبر کاعنوان یہ لگایاکہ”مملکت سعودیہ کے مفتی نے قادیانیوں کو مسلمان قراردیا۔پاکستانی دیوبندی کہاں کھڑے ہیں؟مذکورہ خبروں سے کئی سوالات ابھررہے ہیں؟اولاًیہ قادیانیو ں نے اس کانفرس میں شرکت کی آڑلیکر رابطہ عالم اسلامی کی قادیانی تکفیر کو بے اثر وباطل کرنے کی ایک ناکام کوشش کی ہے ،ثانیاًیہ کہ اگر عرب شیوخ نے سپر پاور کے دبدبہ میں آکر قادیانیوں کو ا س کانفرنس میں مدعو کیاہے تو اب منہ چھپانے کی کیاضرورت ہے؟ جو ہے سو ہے ان شیوخ کرام کو کھل کر دنیاکے سامنے قادیانیت سے متعلق اپنامزاج وموقف واضح کرنا چاہئے ،ثالثاًً یہ کہ اگرعرب شیوخ نے واقعتا قادیانیوں کو اس کانفرس میں مدعو نہیں کیا ہے تو یہ بھی ممکن ہیکہ قادیانیوں نے اپنے جھوٹے نبی کی تعلیم اورفطین فطرت اورطبیعت نیز زہریلے خمیرومزاج کے مطابق کانفرس کے منتظمین کی غفلت کا فائدہ اٹھاکر خود ہی کیمرہ میں بن کر یااپنی خبر رساں ایجنسیوں کے بہانے بن بلائے ہی مدعو ہوگئے ہوں اور فریب خوردہ اور شبہ میں مبتلاء قادیانیوں کی طفل تسلی کے لئے کانفرنس کی خبروں کا سرقہ کرلیاہو ۔رابعاًیہ کہ ممکن ہے کہ قادیانیوں نے جو بین الاقوامی ایجنسیاں اور ادارے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے قائم کئے ہوں یہ کارستانی ان کی ہویہ بھی ممکن ہے کہ عربوں کو دھوکے میں رکھکر یہ تلبیسی کارنامہ انجام دیاجارہاہو۔(خامساً)ممکن ہے کہ قادیانی گماشتوں نے کسی اور نام وکام سے اس پروگرام میں شرکت کی ہو ۔اب سوال یہ ہے کہ اگر عرب شیوخ نے قادیانیوں کو کانفرنس میں مدعو کیاتو کیاسمجھ کر کیااور اگر وہ بن بلائے ہی آدھمکے ۔توکیایہ ان شیوخ کی غفلت کی انتہاء نہیں ہے کیاان عرب شیوخ کوقادیانیوں کی مکروہ پالیسی اور قادیانی سازشوں کے تناظرکی الف ب ت بھی معلوم نہیں ؟کیاعرب حکمراں ا س سے بھی ناواقف ہیں؟کہ قادیانی اسلام دشمن طاقتوں کی جاسوسی کے لئے مسلمانوں کے نام سے حج وعمرہ بھی کرتے ہیں اور چوری چھپے ملازمت کے بہانے ممالک عربیہ میں اپنے اڈے قائم کررکھے ہیں،کیاعربوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ قادیانی اپنی زہریلی اور تلبیسی پالیسی کے تحت تمام اقوام میں اپنی الگ امیج بناکراورقادیانیوں کوبے وقوف بناکر یہ رجحان قائم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بحیثیت مسلمان پروگرام میں شریک ہیں۔صدیوں پرمحیط قادیانی فریب کاریوں سے بھری ماضی کی تاریخ کاعربوں کو گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر تاریخ قادیانیت عربوں کے مد نظر ہوتی تو عربوں کی ا س کانفرنس میں قادیانی گماشتوں کو خفیہ طور پرداخل ہونے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ۔دہلی میں موجود عرب سفارت خانے کو فوری طور پر اس حادثہ کا فوری نوٹس لینا چاہئے تھا مگر نہیں لیا آخرکیوں ؟کئی سال قبل ایک کویتی وزیر نے رفاہی کاموں کے سلسلہ میں قادیانیوں کوسات لاکھ درہم دئے تھے، عربوں کو توہم اپنا قبلہ وکعبہ سمجھتے آرہے ہیں ،مگر خود ان کا ہی قبلہ وکعبہ درست نہیں،ہمارے عرب بھائیو ں نے اللہ ان کو سلامت رکھے اور ان کی دینی ودنیوی ترقی اور فراوانی عطاء فرمائے تیل کے چشمے ابلنے کے بعد اپنے بھائیوں سے ویسے تعلقات نہ رکھے جیساکہ ان حق تھا۔عرب شہزادوں نے ہم عجمی فقیروں کو طویل عرصہ سے فراموش کئے رکھاشاید یہی وجہ کے کہ ان کے اکرام اوراعتاد کارخ غیرشعوری طور پر قادیانیوں کی طرف مڑگیا۔اور وہ قادیانی جن کو ہمارے اکابرین علماء نے اپنے زور بازو سے پوری دنیا میں بشمول عرب ممالک تک آج بھی ناطقہ بند کررکھاہے ۔وہ ان شیوخ کے نزدیک محبوب ومقبول بن گئے لہٰذا گزشتہ دنوں تاریخ اسلام کا یہ سانحہ بھی رونما ہوگیاکہ ہرطرف سے ذلیل ورسوا قادیانی قوم کے دو قادیانی گماشتے ” انٹرنیشنل اسلامک کانفرنس ابوظہبی “میں منڈلی جماکر شیوخ کرام کے شانہ بشانہ بیٹھے نظر آرہے ہیں۔ اور فریب سیاست سے کھلم کھلہ ڈاکہ زنی کے ذریعہ تیل کی دھارکا رخ اپنی جانب موڑنے کی کوشش کررہے ہیں،اور حالات سے بے خبرومغفل عربوں کواس کی کچھ بھی خبر نہیں لگنے پائی۔عرب شیوخ کی اس تاریخی غفلت پر عربوں کاایک اور تاریخی واقعہ کاذکر یہاں بے محل نہ ہوگا ”موشے دایان اسرائیل کا خرانٹ قسم کا ’کاناوزیر دفاع جو ماہرنفسیات بھی تھا،اس کے متعلق یہ مشہورتھا کہ اس کی درست آنکھ اتنی دور تک نہیں دیکھتی جتنی اس کی بند آنکھ تاڑلیتی ہے ۔یہ شخص دست وبازو سے زیادہ دل اور دل سے زیادہ دماغ سے کام لینے کا عادی تھا ۔ وہ عرب ریاستوں کے حکمرانوں کے ذہنی ،سیاسی رجحانات سے بھرپور واقفیت رکھتا تھا،عربوں کی نفسیات ،میلانات اوردرون خانہ حالات سے گہری واقفیت کے سبب یہ اسرائیل کے دفاع کے بارے میں انتہائی پر اعتمادتھا،اس حوالے سے اس کی بڑھی ہوئی خود اعتمادی کایہ عالم تھاکہ اس نے ۱۹۶۷ئکے عر ب اسرائیل معرکے میں جنگ کا نقشہ ایک ا خبارکو جنگ سے پہلے ایک عام اشاعت کے لئے دے دیاتھا، ایک یہودی صحافی نے ا س سے بصد احترام پوچھا کہ آپ نے یہ کیاکیا؟اس سے جنگ رازفاش ہوجانے کا اندیشہ ہے تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا“عرب پڑھتا نہیں ہے “اگرپڑھتا ہے تو سمجھتا نہیں ہے ۔ واقعتاً آج عرب دنیا کی شناخت عیش وعشرت ،قوم سے غداری ،استعماری او رسامراجیت ہاتھوں کے کھلونے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔عرب دنیاوہی کررہی ہے جو جو اس وقت شریف مکہ نے کیاتھا اگر شریف مکہ نے ایسا نہ کیاہوتا تو ہندوستانی مسلمانوں کا مقام کچھ اور ہی ہوتا اورشاید اس قدر جلدسلطنت عثمانیہ کا سقوط بھی نہ ہوتا۔ عربوں کو یہ خوب سمجھ لینا چاہئے ۔کہ اسرائیل کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے قادیانی ہمارے درمیا ں موجودہیں،آپ اپنے گردوپیش ایسے انٹرنیشنل سینٹروں اوردانش گاہوں کو پہچانئے اور ہوشیار ہوجائیے۔ واضح ہوکہ سامنے آکر دوبدوں میداں مارلینا قادیانیوں کے آئین میں نہیں،ہمیشہ پردے کے پیچھے رہ کر سازش کا جال بننے کی عادی اس قوم کی سیہ کاریوں کے جھاڑ جھنکاڑ سے جگہ جگہ تاریخ کے مرغزار آزردہ رنگ ہیں اس بے سدھری قوم کا قومی سدھار جہاں نظر آئے تو سمجھ لیجئے اس کی تہ میں بگاڑ کا خطرناک منصوبہ ہلکورے لے رہاہے ۔قادیانی سازشو ں کے تناظر میں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ مسلم صحافی طبقہ کاقادیانیوں کو لفظ احمدی کے استعمال سے بین الاقوامی سطح پر غیر مسلم اقوام سہواً ان کو مسلمان سمجھ لیتی ہے جس کا اپنی جگہ مستقل نقصان ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ۱۸۸۹ئسے لیکرآج ۲۰۱۷ئتک کا طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود سوائے چند زرخریدمسلم صحافیوں اوردانشوروں کے کوئی شخص بھی ا ن کو قادیانی لفظ چھوڑکر احمدی نہ لکھتا ہے اور نہ ہی کہتا ہے، کیاشیوخ عرب کے لئے اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ وہ ٹہر کر سوچیں کہ ہم کہاں جارہے ہیں ؟ برطانوی استعمارنے خدا کی اس زمین پر جھوٹے نبی کو کھڑا کرکے عقیدہ ختم نبوت پر جو کاری ضرب لگانے کی کوشش کی ہے اس کے بعد یہ تو ممکن ہے کہ بچھوؤں کو ہتھیلی پر لیکر دودھ پلایاجائے اور سانپوں سے صلح کرلی جائے لیکن یہ ممکن نہیں کی صلح وصفائی کاہاتھ قادیانیوں کی طرف بڑھایاجائے۔ کیاعرب شیوخ کو اس کا بھی علم نہیں کہ برطانیہ فرانس ،اورامریکہ سمیت تمام مسیحی طاقتوں نے قادیانیوں کی حمایت میں ایک خاص متفقہ حکمت عملی وضع کررکھی ہے۔ اس کی غایت اس کے سوا کچھ نہیں کہ اسلام کے بقیہ قوائے سیاسی کا بتدریج خاتمہ کردیاجائے ،راقم لحروف کے نزدیک اب ان مغفل عرب حکمرانوں کوترکی کے غیورصدرجب طیب اردگان کے ہاتھوں پر بیعت کرلینی چاہئے ۔جوحق پرست بادلو ں کااندازہ ہواؤں سے کرلیتا ہے ، ابر پاروں سے رعد کی کڑک معلوم کرلیتا ہے ،اور گھٹائیں کس رخ کو چلتی یااٹھتی ہیں،یہ اس کو بھی بھانپ لیتا ہے کہ برکھاہوگی یامینہ برسے گا ،بار ش موسلادھار ہوگی یابوندا باندی ہوگی ،یابادلوں کالشکر جرار ،تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا کہیں دور چلاجائے گا۔ترکی کا یہ کٹرمسلمان صدر عالم کفر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہاہے ،کیوں ؟اس لئے کہ یہ یوروپ اوراس کے سرخیل امریکا واسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے آپ کو یاد ہوگاکہ۲۰۰۸ئپرمیں جب غزہ پر اسرائیل نے تابڑ توڑحملے کئے تھے ،ان حملوں پر پوری اسلامی دنیاسے ترکی واحد اسلامی ملک تھا،جس نے اسرائیل کے خلاف سخت ترین ردعمل ظاہر کیاتھا،ترکی نے ان حملو ں پر نہ صرف احتجاج کیا ،بلکہ رجب طیب اردگان نے ڈائس میں عالمی اقتصادی فورم میں اسرائیلی صدر شمعو ن پیریز کو آڑے ہاتھوں لیا، اردگا ن نے اس اجلاس میں اسرائیل کے جنگی جرائم کو بے نقاب کرکے پوری دنیاکے سامنے ننگا کردیا،اردگان کی اس ”گستاخی “پر رجب طیب کو خطاب سے روک دیاگیا،لہٰذا وہ اجلا س ادھورا چھوڑکر واپس آگئے ۔واپس استنبول کے ایئر پورٹ پر اترے تو لاکھوں لوگ طیب اردگان کی جرات کو سلام کرنے کے لئے ایر پورٹ پر موجودتھے۔ یہ تو عربوں سے متعلق ان کی غفلت کی ایک جھلک تھی۔ا سی سلسلہ کی ایک اورقادیانی سازش پڑوسی ملک پاکستان کی تعلق رکھتی ہے جو خود کو مملکت خداداد کہنے میں بڑا فخر محسوس کرتاہے،یہ سازش قائد اعظم یونیورسٹی کے” سنٹر آف فزکس “(شعبہ طبعیات)کو ڈاکٹر عبدالسلام کو منسوب کئے جانے سے متلق ہے ۔دسمبر کے اواخرمیں پاکستانی اخباروں میں یہ خبر چھپی کہ میاں نواز شریف وزیر اعظم پاکستان نے وزارت تعلیم کو ہدایت کی ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ملحق سائنسی ادارہ فزکس کا نام ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھنے کے لئے صدر پاکستان کے نام سمری بناکر بھیجیں ۔انہیں دنوں مختلف ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حکومت پاکستان پنجاب کامحکمہ تعلیم بھٹو دور میں قومیائے گئے تعلیمی ادارے قادیانیوں کو واپس کررہاہے ۔سب کو معلوم ہے کہ عبدا لسلام قادیانی ایک متعصب ،سکہ بند ،مرجوعہ قادیانیت اور ثقہ قادیانی تھا ، ۱۵/اکتوبر۱۹۷۹ئکو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے لئے نوبل انعام تجویز ہوااور۱۰دسمبر۹۷۹ئکویہ انعام دے دیاگیابس اس کی یہی خوبی تھی کہ وہ قادیانی تھا اسلام اور مسلمانوں کا یہودیوں سے بڑھکر دشمن تھا بس اس کی یہی خوبی منصفان سویڈن کو پسند آگئی ؛اورنوبل انعام اس کے قدموں میں نچھاورکردیاگیامسئلہ صرف یہی نہیں ہے ،اصل بات یہ ہے کہ وہ اس کا اہل تھابھی یانہیں ،دراصل حقائق کچھ اور ہیں، ڈاکٹر عبدالسلام نے اس سینٹر کا آئیڈیاضروردیاتھا ،اس کے لئے منصوبہ بندی بھی کی تھی لیکن جب۹۷۴ ۱ئمیں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیاگیاتووہ پاکستان چھوڑکر اٹلی منتقل ہوگیاساری منصوبہ بندی اور پروگرام وہ اپنے ساتھ لے گیاوہاں اس نے سنٹر آف فزکس قائم کیا۔ قائد اعظم یونیورسٹی اس سنٹرکے لئے ڈاکٹرریاض الدین نے شب وروز محنت کی حقیقتاً وہ اس مرکزکے بانی تھے،لیکن انکے نام کے بجائے ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب اس لئے کیاگیاتاکہ ایک قادیانی کو یہ اعزازدیکر اسلام دشمن قوتوں کی حمایت حاصل کی جائے ،اس لئے دیانتداری کا تقاضا یہی ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی کا قادیانی سائنسداں سے انتساب کافیصلہ فوراًواپس لیاجائے ۔لیکن نواز شریف کی بے ضمیر حکومت قائد اعظم یونیورسٹی کے فزکس سینٹر کو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام سے منسو ب کرنے کے فیصلے کے خلاف کوئی بات سننے کو تیارنہیں ۔
قادیانیوں کو مسلم قراردئے جانے کی سازش
نام نہاد مملکت اسلامی پاکستان میں دستوری طورپرغیرمسلم قراردئے جانے کے باوجو قادیانیوں کے ساتھ حوصلہ افزائی کے اقدامات سامنے آرہے ہیں حکومت پاکستان یہودی و قادیانی لابی کے ایماء پرآئین کی اسلامی شقوں بالخصوس ختم نبوت وناموس رسالت قانوں کوغیر موثرکرنے کی سازش کررہے ہیں۔گزشتہ دنوں ا یک خبر کے مطابق لاہورہائی کورٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئر مین نے برطانیہ میں پاکستان میں سابق ہائی کمشنرواجد شمس الحسن بھجوایاہے کہ وہ اپنی اس تقریر کی وضاحت کریں جو اس نے لندن میں قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں کی ہے جس میں اس نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے کے بارے میں پارلمنٹ کے متفقہ فیصلے کو غلط قراردیتے ہوئے قادیانیوں کے موقف کی حمایت کی ہے جہاں تک شمس ا لحسن کی قادیانیوں کے عالمی اجتماع میں شرکت کا تعق ہے۔یہ کوئی غیر متوقع بات نہیں ہے ۔بلکہ قادیانیوں کو مسلمانوں کی صف میں دوبارہ شامل کرنے کی عالمی مہم جوئی کے نئے راؤنڈ کا آغاز ہے اس میں داجد الحسن نے خود کو قربانی کے پہلے بکرے کے طور پر پیش کرنے کاحوصلہ کیا ہے ۔اور اس پر مسلمانوں کا رد عمل سامنے آنے کے بعد قربانی کا بکرابننے کے خواہشمند حضرات کی ایک ایسی لمبی قطارہے جو عالمی استعمار کی اس مہم کو آگے بڑھانے کے لئے اپنی اپنی باری کے انتظارمیں ہے ۔بلکہ وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر قائم ہونے والا ”انسانی حقوق سیکرٹریٹ “بھی اسی مہم کا ایک مورچہ ہے جسے قادیانی گروہ اور اس کے ہم نوا سیکولر طبقے مل کر آرگنائزرکریں گے اور اس مورچے کو حکومتی اورریاستی وسائل کی پشت پناہی بھی حاصل ہوگی ۔ قادیانیوں کے اپنے بارے میں پوری دنیاکی امت مسلمہ کے اجماعی موقف کوقبول نہ کرنے او رپارلمنٹ کے متفقہ فیصلے کو ہرحال میں ناکام بنانے کا تہیہ کررکھاہے اس کے لئے وہ عالمی سطح پر مسلسل سرگرم عمل ہیں اور انہیں بہت سے بین الاقوامی اداروں اورسیکولر حلقوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور وہ اپنے ہمنواؤں کی سرپرتی میں ایک بار پھر”مگر اب یہ تحریک سمٹتے سمٹتے ایک مسلکی مورچے کی شکل اختیار کرگئی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وکلاء، تاجر،صحافی ،سیاست داں ،علماء طلباء فارغین نو ،اور دیگر طبقات میں تحریک ختم نبوت کا ذوق تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتا جب کہ تما م مذہبی مکاتب فکرکے علماء نے اپنے الگ الگ ختم نبوت کے محاذبنالئے ہیں۔جس کی وجہ سے ختم نبوت کانفرنسوں میں اجتاعیت کی بجائے کسی نہ کسی مسلک کی چھاپ گہری ہونے لگی ہے ۔کوئی نیامعرکہ بپا کرنے کی فکر میں ہیں جس کانقطہ آغاز قادیانیوں کاسالانہ اجتماع میں اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے سابق ہائی کمشنر کامذکوہ خطاب ہے اسے محض ایک تقریر سمجھ کر اس کی مذمتی قرارداد پاس کردیناکافی نہیں ہے ۔
سعودی عرب سے ایک خوش کن خبر
سعودی عرب سے ایک خوش کن خبر یہ آئی ہے کہ حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ اور امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے عقیدہ ختم نبوت کواجاگر کرنے کے لئے حرم کعبہ اورحرم مسجد نبوی میں سیرت النبی ﷺچیر قائم کرنے کی خوشخبری سنائی ہے سیرت النبی ﷺکے قیام کے بعد جید علماء کرام مسجد الحرام اور مسجد نبوی شریف میں مستقل طورپر عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے لیکچردیں گے،جو تحریک ختم نبوت کے لئے سنگ میل ثابت ہونگے ۔انہوں نے یہ بات انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کے نومنتخب امیر ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ کو مبارک دیتے ہوئے کہی ۔اورنٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کی مسند امارت سنبھالنے کا مشوہ بھی دیا، امام حرم نے کہاکہ انٹر نیشنل ختم نبوت ایک مبارک جماعت ہے۔بہر کیف مسلمانوں کی جانب سے علاقائی یابین الاقوامی منعقد ہ کانفرنسوں میں انتہائی چوکسی برتنے کی اشد ضرور ت ہے کہ قادیانی اپنی قائم کردہ ایجنسیوں کے سہارے اپنے ناپاک منصوبوں کی تکمیل نہ کرپائے،کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری غفلت کا فائدہ اٹھاکر اپنی ارتدادی سرگرمیوں کے لئے ہماری کانفرنسوں کو دلیل بنائے اور ہمیں خبر بھی نہ ہو ۔
غیاث الدین دہام پوری جامعہ عربیہ ہتھورا باندہ
قلمی رفیق کار شعبہ تحفظ ختم نبو ت دارالعلوم دیوبند

ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اور مسائل قربانی

ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اور مسائل قربانی

آزاد ہندوستان پر مسلمانوں کا حق

بیت المقدس مسلمانوں کی مذہبی میراث ہے

مفتی امانت علی قاسمی# استاذ دار العلوم حیدرآباد
E-mail: aaliqasmi1985@gmail.com
07207326738 Mob:
اس روئے زمین پر اللہ کا پہلا گھر خانہٴ کعبہ ہے اور دوسرا خانہٴ خدا ،مسجد اقصی ہے ، ایک روایت میں ہے حضور ﷺ سے سوال کیا گیا یا رسول اللہ سب سے پہلی مسجد کون سی ہے آپ نے ارشاد فرمایا مسجد حرام، سوال ہوا اور دوسری ؟آپﷺ نے فرمایا مسجد اقصی، پوچھا گیا ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ،آپ ﷺنے ارشاد فرمایا چالیس سال کا ، یہ مسئلہ علما ء کے درمیان اختلافی ہے کہ مسجد حرام کی تعمیر سب سے پہلے کس نے کی، ایک روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے ،اور ایک روایت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ مسجد اقصی کی تعمیرسب سے پہلے کس نے کی ہے ایک قول ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اور دوسری روایت ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے لیکن زیادہ صحیح یہ ہے خانہٴ کعبہ کی تعمیرحضرت ابراہیم نے اور بیت المقدس کی تعمیر حضرت یعقوب علیہ السلام نے کی ہے اس لئے کہ ان دونوں کی عمر میں چالیس کا فاصلہ ہے ،جبکہ حضرت ابراہیم اور حضرت سلیمان کی عمر میں کئی سو سال کا فاصلہ ہے ۔
اسلام کے ابتدائی زمانہ میں آپ ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے مکہ میں تیرہ سال اور مدینہ ہجرت کرنے کے بعد سولہ یا سترہ مہینہ آپﷺنے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ہے اس لئے مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول ہے، جس طرح مسجد حرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت ہے اسی طرح مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کی فضیلت ہے ،مسجد حرام کی بنسبت مسجد اقصی میں ایک چوتھائی ثواب ملتا ہے ، ایک روایت میں ہے مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک ہزار نمازوں کا ملتا ہے اور مسجد اقصی میں ڈھائی سو نماز پڑھنے کا ثواب ملتا ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ ﷺ نے ابنیاء کی امامت فرمائی ہے ، سفر معراج کی پہلی منزل بیت المقدس ہے بعض روایت میں ہے کہ معراج پر تشریف لے جاتے وقت ہی آپ نے ابنیاء کی امامت فرمائی تھی جبکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ معراج سے واپسی پر آپﷺ نے بیت المقدس میں فجر کی نماز میں انبیاء کی امامت فرمائی ، ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عبادت کی نیت سے کسی مسجد کا سفر کرنا درست نہیں ہے سوائے تین مساجد کے مسجد حرام ، مسجد نبوی ، اور مسجد اقصی ، یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر بیت المقدس سے مسلمانوں کا رشتہ ایمانی اور مذہبی ہے ،آپ ﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ مسلمان بیت المقدس کو فتح کر لیں گے آپ ﷺ کی پیش گوئی بہت جلد پوری ہوگئی اور ۱۴ء میں حضرت عمر فاروق کے زمانے میں حضرت عبیدہ بن الجراح  نے لشکر کشی کی اور فلسطین کا محاصرہ کرلیا اس وقت اس کا نام ایلیا تھا چالیس روز کے محاصرے کے بعد فلسطینی مصالحت کے لئے تیار ہوگئے ،لیکن ان کی شرط تھی کہ مصالحت پر دستخط مسلمانوں کے خلیفہ خود آکر کریں حضرت عمر فاروق نے صحابہ سے مشورہ کیا اور فلسطین تشریف لے آئے اور معاہدہ پردستخط فرمادئے جس کی رو سے بیت المقدس پرمسلمانوں کا قبضہ ہوگیا ، اور فلسطینی جزیہ دے کر مسلمانوں کے زیر سایہ رہنے لگے، ایک زمانے تک بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ میں رہا ، پانچویں صدی ہجری میں سلجوقی حکومت کا فاطمی حکومت سے مقابلہ ہوا اور فاطمیوں نے ان سے بیت المقدس اپنی تحویل میں لے لیا اس کے بعد ۴۹۳ئھ میں پہلی صلیبی جنگ ہوئی اور بیت المقدس صلیبیوں کے ہاتھ میں چلا گیا اس کی بازیابی کے لئے اللہ تعالی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو پیدا فرمایا ، صلاح الدین ایوبی یہ دیکھ کر کہ جس بیت المقدس کے ساتھ مسلمانوں کا والہانہ رشتہ رہا ہے آج وہ غیروں کے ہاتھوں میں ہے وہ تڑپ جاتے ہیں ان آنکھیں نم ہو جاتی ہیں ، ان کے چہروں پر ہمیشہ غم کے آثار رہتے ہیں بالاخر وہ ایک مضبوط فوج تیار کرکے بیت المقدس کی بازیابی کا عزم مصمم کرلیتے اور سلطان کے عزم و استقلال کے آگے صلیبی فوجیں ڈھیر ہو جاتی ہیں ، مقابلہ تو خوب ہوتا ہے مسلمان بڑی تعداد میں شہید ہوتے ہیں عیسائی بیت المقدس کے ارد گرد بہت مضبوط قلعہ تعمیر کرتے ہیں جسے عبور کرپانا بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن ایوبی کی ہمت اور عزیمت کے آگے مضبوط قلعہ مسمار ہوجاتا ہے اور نوے سال کے عرصے کے بعد ۵۸۳ھئمیں بیت المقدس پردوبارہ اسلامی پر چم لہرانے لگتا ہے ۔
حضرت عمر فاروق نے بیت المقدس کے فتح ہونے کے بعد وہاں ایک مصلی تعمیر کروایا تھا ، پھر اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اس سادہ مصلی کو از سر نو تعمیر کرایا اوراس کے شمالی جانب میں ایک قبہ بھی تعمیر کرنے کا حکم دیا ،لیکن ان کی زندگی نے وفا نہ کی اور یہ کام ان کے ہاتھوں تکمیل کو نہ پہنچ سکا پھر ان کے بیٹے ولید بن عبد الملک نے المصلی الجامع اور قبة الصخرا کو عالی شان انداز میں تعمیر کیا یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ بیت المقدس ایک بہت بڑے احاطہ کا نام ہے جس کی چاروں طرف سے مضبوط دیواروں کے ذریعہ گھیرا بندی کی گئی ہے اور یہ حصہ غیر مسقف ہے اس میں المصلی الجامع اور قبة الصخرا کے علاوہ اور بھی چیزیں تعمیر کی گئی ہیں اور ہر دور میں مسلم حکمرانوں نے مسجد حرام کی طرح بیت المقدس کی تعمیر و تزئین کار ی کے ذریعہ فن تعمیر کی عظیم شاہ کاری کا مظاہرا کیا ہے آج کل جو بیت المقدس کی تصویر دکھائی دیتی ہے وہ درحقیقت قبة الصخرا کی تصویر ہے بیت المقدس تو بہت بڑے رقبہ پر پھیلا ہو ا ہے ۔
یہودیوں کے سلسلہ میں اتنا کہ دینا کافی ہے اسلام کے ابتدائی زمانہ سے وہ مسلمانوں کے بد ترین دشمن ہیں انہوں نے عہد نبوی میں بد عہدی کی اس کے علاوہ اسلام کو جس طرح نقصان پہنچاسکتے تھے اس سے دریغ نہیں کیا قرآن نے ان کی عداوت و دشمنی کے سلسلے مختلف آیتیں نازل کی ہیں یہودی فلسطین پر اپنا حق مانتے ہیں اور بیت المقدس کی جگہ پر ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں ، اسلام سے قبل یہودی فلسطین میںآ باد تھے لیکن ۱۳۵ء میں رومی شہنشاہ ہیڈریان نے یہودیوں کو فلسطین سے جلاوطن کردیا تھا ۱۷۰۰برس تک یہودیوں کو یہاں آباد ہونے کی اجازت نہیں تھی اس مدت میں صرف نوے سال تک بیت المقدس عیسائیوں کے قبضہ میں رہا ،سب سے پہلی مرتبہ ۱۸۸۰ئئمیں کچھ یہودی خاندان فلسطین میں آکر آباد ہوئے پھر ۱۸۹۷ءء میں یہودی تحریک معرض وجود میں آئی جس کا مقصد فلسطین پر قبضہ کرنا اور ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا تھا ، ۱۹۰۱ئئمیں ہرٹزل نے ترکی خلیفہ سلطان عبد الحمید کو لالچ دیا اس وقت فلسطین خلافت عثمانیہ کی ماتحتی میں تھا ،کہ آپ فلسطین میں یہودیوں کے مملکت کے قیام کی اجازت دے دیجئے ،یہودی ترکی کا سارا قرضہ چکا دیں گے ،لیکن سلطان عبد الحمید نے نہ صرف ان کے پیش کش کو ٹھوکرا دیا دیا بلکہ ان کی غیرت ایمانی جوش میں آگئی انہوں نے کہا ہم اس وطن کی ایک بالشت زمین بھی اس وقت تک نہیں دیں گے جب تک کہ اس پر ہمارا خون نہ بہ جائے ، یہودی اس بات پر سلطان کے مخالف ہوگئے اور ۱۹۰۸ءء میں سازش کے ذریعہ ان کو معزول کر دیا گیا ۱۹۱۴ئئمیں جب پہلی جنگ عظیم برپا ہوئی تو برطانیہ نے دو قومی نظریہ کے ذریعہ تحت عربوں اور ترکوں میں منافرت پیدا کردی اور عرب برطانیہ کے اور ترکی جرمنی کی حلیف ہوگئے ،اس دوران وائزمین نامی ایک یہودی نے برطانیہ کو یہ پیش کش کی کہ اگر جرمنی پر فتح کی صورت میں فلسطین میں یہودیوں کا قومی وطن بنا دیا جائے تو یہودی اس جنگ کا سارا خرچہ برداشت کرنے کو تیار ہیں ، اور ۱۹۱۷ءء میں یہ خفیہ معاہدہ ہوگیا جسے تاریخ میں اعلان بالفور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، یہ معاہدہ برطانیہ کے دھوکے بازی اور بربریت کاعملی ثبوت ہے اور یہ وہ بد نما داغ ہے جسے انگریز کبھی دھو نہیں سکتے اس لئے کہ عربوں کی زمین انگریزوں کو فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ہے پھر وہ انگریز شریف مکہ سے بھی وعدہ کرچکے تھے کہ عرب کی زمین پر عرب کی حکومت ہوگی اسی معاہدے کی وجہ سے شریف مکہ نے ترکی کے خلاف بغاوت کی تھی ، جس کی وجہ سے فلسطین اور عراق پر برطانیہ کا قبضہ ہوا تھا لیکن مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ نظر انداز کرکے فلسطین یہودیوں کو دے دیا گیا ۱۹۱۷ئئمیں فلسطین کی یہودی آبادی چھپن ہزار تھی ،لیکن اعلان بالفور پر عمل ہونے کی وجہ سے ۱۹۲۱ئئمیں یہودی آبادی ۸۳ہزار پہنچ گئی اور بڑی تیزی سے یہودی آباد ہونے لگے۱۹۲۲ء سے ۱۹۴۷ء کا زمانہ برطانوی انتداب کا زمانہ ہے جس میں یہودیوں کو بسانے کا کام منظم طور پر کیا جاتا ہے اور فلسطین کی زمین خریدنے کے لئے خزانے کے منھ کھول دئے جاتے ہیں اب یہودیوں کی آبادی چار لاکھ سے تجاوز کرجاتی ہے ۹۴۷ ۱ء میں برطانیہ نے مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ میں پیش کردیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو عربوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کردیا ، اور فلسطین کا پچپن فیصد رقبہ یہودیوں کو اور پینتالیس فیصد رقبہ عربوں کو دے دیا یہ تقسیم بالکل ظالمانہ تھی کہ عربوں کی زمین بلا کسی وجہ کے زبردستی یہودیوں کو دے دی گئی تھی ، اس لئے عرب اس تقسیم سے راضی نہیں تھے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہودی بھی اس تقسیم سے راضی نہیں ہوئے چنانچہ انہوں نے لڑائی کے ذریعہ عرب کی باقی زمینوں پر قبضہ کرنا شروع دیا ۱۴مئی۱۹۴۸ئئکو یہودیوں نے اپنے قومی وطن اسرائیل کا اعلان کر دیا جسے امریکہ اور برطانیہ نے سب سے پہلے تسلیم کرلیا ، اس وقت عرب ممالک نے اس تقسیم کی مخالفت کی اور کوششیں کی لیکن یہودی جارحیت کے سامنے عربوں کی ایک نہ چلی بالآخر ۱۹۶۷ئئمیں عرب اسرائیل جنگ کے نتیجہ میں بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا ،بلکہ انہوں کے بیت المقدس کے علاوہ مصر کے صحرائے سینا ء اور شام کے جولان کی پہاڑیوں پر بھی اپنا قبضہ جما لیا ، اس طرح تیرہ سو سال جو بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ میں تھا یہودیوں کا اس پر قبضہ ہوگیا ۔
اب ان کا منصوبہ یہ ہے بیت المقدس کو منہدم کر کے ایک عظیم ہیکل سلیمانی وہاں پر تعمیر کی جائے اس کے لئے وہ منصوبہ بند کوششیں کررہے ہیں ، کبھی اس کے ارد گرد کھدائی کرتے ہیں ، سرنگیں بناتے ہیں ، تا کہ بیت المقدس کی بنیادوں کو کھوکلاکیا جا سکے ، بیت المقدس میں موجود قبروں کے نشان یا اس کے اسلامی نشان کو مٹا رہے ہیں ، اس شہر سے اسلام کے نشان کو مٹانے کے لئے مسجدوں کو مسمار کر رہے ہیں ، وہاں موجود مسلمانوں کو جبر و تشدد کے ذریعہ فلسطین چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے کبھی بیت المقدس میں آگ لگا دی جاتی ہے گویا ہر طرح بیت المقدس کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، لیکن قربان جائیے فلسطینی مسلمانوں پر کہ بے سروسامانی کے عالم میں اپنے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں، اپنی ہمت کا مظاہرہ کررہے ہیں ، نوجوان اور بچے بھی اس جنگ میں پیچھے نہیں ہیں ، اپنی جان کی بازی لگا کر بیت المقدس کی بازیابی کی جد و جہد کررہے ہیں ۔
اسلام نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک جسم کی طرح قرار دیا ہے اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم تکلیف محسوس کر تا ہے اسی طرح اگر دنیا کے کسی خطے میں مسلمان تکلیف میں ہوں تو ہندوستانی مسلمانوں کو بھی وہ تکلیف محسوس ہونی چاہئے ،اگرفلسطین کے مسلمان اسرائیلی جارحیت کے شکار ہیں تو ہندوستانی مسلمانوں کو اس کے خلاف دستوری جد جہد کرنی چاہئے اور اپنے ایمان و یقین کا ثبوت پیش کرنا چاہئے ، ہمیں مسئلہ فلسطین کا مطالعہ کر نا چاہئے ، ہماری نوجوان نسل شاید اس پورے قضیہ سے ہی نا بلد ہے ، ضرورت اس ہے کہ ہم تاریخ کا مطالعہ کریں ، حالات سے واقفیت حاصل کریں ، فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اگر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے ساتھ اظہار ہمدردی و غم خواری کا معاملہ ضرور کر سکتے ہیں اتنا تو ہمارا حق ضرور بنتا ہے ان نہتے ، جانباز فلسطینیوں کے لئے ، اللہ تعالی فلسطینی مسلمانوں کی مدد فرمائے اور کوئی صلاح الدین پیدا کرے جو مسلمانوں کی مذہبی میراث کو واپس دلاسکے فلسطین مسلمانوں کی مذہبی میراث ہے مسلمان کبھی بھی اور کسی صورت میں اس سے دست بر دار نہیں ہو سکتے ہیں ۔

عقید ہء توحید کی حفاظت مسلمانوں پر فرض ہے