مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے: شیخ یونس کے انتقال پر

*مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے*

✏ فضیل احمد ناصری

تاریخ 11 جولائی روز منگل 2017 کو عالمِ اسلام کے عظیم ترین محدث، امیرالمؤمنین فی الحدیث حضرت مولانا یونس صاحب جون پوری کا سانحہ پیش آیا تھا، وفات کے بعد متعلقین کی تعزیت کرنا پیغمبر علیہ السلام کی سنت ہے، اسی سنت کی ادائیگی کے لیے جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند نے اپنے چند اساتذہ پر مشتمل ایک وفد مظاہر علوم روانہ کیا، جس میں اساتذۂ حدیث محترم مولانا عبدالرشید بستوی، مولانا صغیر احمد پرتاپگڈھی، مفتی نوید احمد دیوبندی زیدمجدہم اور احقر فضیل احمد ناصری شامل تھے، وفد نو بجے روانہ ہوا اور ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد جامعہ مظاہر علوم جدید پہونچ گیا-

*اداس اداس فضائیں*

مظاہر علوم پہلے بھی جا چکا تھا، طالب علمی کے دور میں تو بارہا، تدریسی دور میں بھی متعدد مرتبہ، جب آیا، ایک مسرت، ایک سکون اور ایک کیف محسوس کیا، یہاں کا نظام بہت زوردار ہے، ہر شعبہ منظم اور ہر دفتر متحرک، میرے کئی احباب یہاں مدرس ہیں، پھر دیوبند اور سہارن پور کا جو روحانی رشتہ ہے، اس نے کبھی بھی اجنبیت محسوس ہونے نہیں دی، ہر بار ایک "بہار آفریں احساس " لے کر واپس لوٹا، لیکن آج حالت دگر گوں تھی، اداس اداس ہوائیں، رنجیدہ فضائیں، سڑکیں روتی ہوئیں، گلیاں نوحہ کرتی ہوئیں، درودیوار ماتم کناں، درس گاہیں سنسان دارالاقامے ویران، دارالحدیث سینہ کوبی اور گریباں چاکی میں مبتلا، حالاں کہ بھیڑ بھاڑ تھی، تعزیت کرنے والوں کا ہجوم تھا، مہمان لگاتار آرہے تھے، ہر طرف گفتگو تھی، اظہارِ خیال تھا، مگر اس کے باوجود لگتا یہی تھا کہ ایک خوفناک سناٹا ہے، روش روش نالش، کوچہ کوچہ نالہ-

*ناظم صاحب سے ملاقات*

وفد کا منصوبہ یہ تھا کہ تعزیتی ملاقات حضرت مولانا سلمان صاحب سہارن پوری کے علاوہ حضرت مولانا سید شاھد سہارن پوری سے بھی کی جاے، مگر جوں ہی قدیم عمارت کے احاطے میں داخل ہوے تو پتہ چلا کہ امینِ عام حضرت مولانا شاھد صاحب یہاں تشریف نہیں رکھتے، ابھی راستے میں ہیں، گجرات کے سفر سے واپسی کر رہے ہیں، چناں چہ ہم نے دارالاہتمام کا رخ کیا، یہاں ناظمِِ جامعہ حضرت مولانا سلمان صاحب تشریف فرما تھے، دیکھا کہ آبدیدہ ہیں، پلکیں بھیگی ہوئیں، رنج و غم چہرے بشرے سے عیاں- وفد نے انہیں سے تعزیتی کلمات کہے اور رئیس الجامعہ حضرت مولانا سید احمد خضرشاہ کشمیری دامت برکاتہم کا تعزیتی مکتوب پیش کیا، یہ مکتوب شیخ مرحوم کے لیے زبردست خراجِ تحسین پر مشتمل تھا-

*مولانا شاھد سہارن پوری اور مولانا سلمان صاحب کا اشارتی تعارف*

ناآشنا قارئین کے لیے عرض ہے کہ حضرت مولانا شاھد صاحب سہارنپوری دام ظلہ حکیم محمد الیاس صاحب (جو پرسوں ہی اللہ کو پیارے ہوگئے) کے صاحب زادے اور شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی صاحب کے نواسے ہیں، جامعہ مظاہرعلوم جدید کے امینِ عام (جنرل سکریٹری) اور کرتا دھرتا، حضرت شیخ الحدیث کی کئی کتابوں پر انہوں نے کام کیا ہے-

حضرت مولانا سید سلمان سہارن پوری دام ظلہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے داماد اور مظاہر علوم کے ناظم ہیں، دورۂ حدیث کی بعض اہم کتابیں بھی ان سے متعلق، مجھے ان کی دست بوسی کا بارہا موقع ملا ہے، حافظہ بلا کا، جسے ایک بار ذہن میں بٹھالیں تو بیس برس بعد بھی تازہ، حاضر دماغی اور برق طبعی بے مثال، وقت پر اپنے فرائض انجام دینے میں مثالی، شیخ یونس صاحب کے انتقال کے اگلے دن بھی سارے دفاتر کھلے ہوے، اساتذہ اور ملازمین سارے کے سارے مستعد، خود وہ بھی کاموں کے نمٹارے میں مصروف و مگن، تعزیت والوں سے ملاقاتیں بھی ہیں اور دفتری امور کی انجام دہی بھی، لمبے تڑنگے، بڑا سا سر، بیضوی چہرہ، بھاری بھرکم جسم، سادگی اور بے تکلفی، کہنے لگے کہ شیخ یونس مجھ سے پانچ سال بڑے تھے، عمر پچھتر سے نکلنے کو مائل، صحت قابلِ رشک، گھٹنوں سے معذور ہیں، خود ہی کہنے لگے کہ کہیں کوئی نقاہت نہیں، بس چلنا پھرنا دشوار ہے، جہاں بیٹھ گئے، بیٹھ گئے-

*شیخ صاحب بیمار تھے، مگر اتنے بھی نہیں*

ناظم صاحب نے ہمیں بتایا کہ شیخ یونس صاحب مرحوم بیمار تو ضرور تھے، مگر بیماری قطعی ایسی نہیں تھی کہ کھٹکا سا لگ جاے، اس سے زیادہ سنگین حالت تو مدینہ منورہ میں تھی، جب وہ وینٹی لیٹر پر تھے، چناں چہ موت کی افواہ بھی اڑا دی گئی تھی، یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا، ہاں اتنا ضرور تھا کہ دانے پانی سے بے رغبتی کے سبب نقاہت غالب تھی، اسی نقاہت کے باعث ایک دو دنوں سے کچھ غنودگی کی کیفیت رہتی، حالت ایسی نہیں تھی کہ آدمی گھبرا جاے، لیکن اچانک حالت بگڑی، اور بگڑی تو ایسی کہ ہسپتال تک جاتے جاتے راہ میں ہی دم توڑ دیا، ان کی رخصتی بے شان و گمان رہی-

*مظاہر علوم کے بعض اساتذہ سے ملاقات*

صبح کے گیارہ بج چکے تھے، میرِ کارواں محترم مولانا عبدالرشید بستوی صاحب کا مشورہ ہوا کہ اب مولانا خالد سعید مبارکپوری صاحب سے ملاقات کر دیوبند روانگی کی جاے، مولانا خالد سعید صاحب مجھ سے ایک سال سابق ہیں، پتلے دبلے اور "طالب علم نما "، دیکھ کر کوئی بھی انہیں "مدرس " نہیں کہہ سکتا، حددرجہ متواضع اور خلیق و مہماں نواز، 1997 میں دارالعلوم سے فراغت پائی، مظاہر سے انہوں نے تخصص فی الحدیث بھی کیا، اب وہ مظاہر میں کامیاب مدرس ہیں، تخصص فی الحدیث کے بطور خاص ذمہ دار ہیں، وہیں مولانا قمر الہدیٰ خلیل آبادی سے بھی علیک سلیک ہوا، یہ بھی دارالعلوم کے فاضل اور مجھ سے ایک سال پہلے ہی دارالعلوم سے فراغت یافتہ، عربی شستہ اور رواں لکھتے ہیں، عربی ماہنامہ "المظاہر " کے نائب مدیر اور عملاً سبھی کچھ، اردو ماہنامہ "مظاہرعلوم " کے مدیر مولانا عبداللہ خالد صاحب خیرآبادی بھی ٹکرا گئے، دو چار باتیں ان سے بھی ہوئیں-

*شیخ یونس صاحب کی تحریری خدمات*

میرا مزاج استفسارانہ ہے، میں کہیں بھی جاؤں، معلومات کی تحصیل کے لیے سوالات زیادہ کرتا ہوں اور بولنے کی کوشش کم سے کم، حضرت مرحوم کی تصنیفات سے متعلق کچھ معلومات پہلے سے میرے پاس تھی، میں چاہ رہا تھا کہ ان میں اضافہ ہو جاے، لیکن بس براے نام ہی اضافہ ہوا، شیخ تصنیف و تالیف کے آدمی ہی نہیں تھے، مطالعہ اور صرف مطالعہ، اس سے آگے بڑھے تو تدریس، بس اللہ اللہ خیر سلا، اپنی یاد داشت کے لیے حواشی کے عنوان سے قلم ضرور چلا کرتا، ان کی دو تالیفات میرے علم میں تھیں، ایک تو "الیواقیت الغالیہ فی الاحادیث العالیہ " اور دوسری "نبراس الساری الی ریاض البخاری "…الیواقیت کی چار جلدیں منظرعام پر آچکی ہیں، جنہیں گجرات کے مولانا ایوب سورتی نے مرتب کیا ہے، یہ چاروں جلدیں علمِ حدیث سے شغف رکھنے والوں کے لیے بیش بہا خزانہ ہیں، انہیں پڑھ کر حضرت کی دقیقہ رسی اور علومِ حدیث میں یکتائی پر حیران ہو جانا پڑتا ہے، نبراس کی ایک ہی جلد آئی ہے، یہ عربی میں ہے، بخاری پر وقیع اور جامع تعلیق، حضرت کی عادت تھی کہ وہ بخاری پر اپنے حواشی چڑھایا کرتے، بہت سا حصہ مکمل کر چکے تھے، کچھ رہ گیا تھا، اس کی تکمیل کے لیے ان کی خواہش تھی کہ موت ایک دو سال کے لیے مزید ٹل جاے، مگر کیا کہا جاے:

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

*عرب و عجم کے مسلمہ امام الحدیث*

دنیا بڑی بے رحم اور زود فراموش ہے، یہاں سست رووں، کم عیاروں، بے استعدادوں کو خاطر میں نہیں لایا جاتا، دنیا کو منوانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ خوشنودئ رب کے ساتھ کتب بینی کو اپنی زندگی بنالی جاے، شیخ نے وہی کیا، طالب علمی سے لے کر مدرسی اور پھر شیخ الحدیثی تک اس روش پر قائم رہے، روحانیت کی ترقی کے ساتھ علمیت بھی بڑھتی رہی، بڑے بڑے نوابغ اور جبال العلم کی کیمیا اثر نگاہیں ان پر پڑتی رہیں، نتیجہ یہ کہ تدریس کی ابتدا میں ہی ان کی اہمیت مانی جانے لگی، شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب کی طرف سے ان کی جانشینی ان کی علمیت اور اعترافِ کمال کی برہانِ قاطع ہے، حضرت شیخ الحدیث کو اپنے اس شاگرد کی علمی نظر پر ایسا اعتماد تھا کہ اپنی کتاب "الابواب والتراجم " میں ان کی راے بھی درج کی گئی، غور کیجیے! جن کی کتابوں میں ابن حجر جیسے امامِ فن کی آرا شامل ہوں، وہاں شیخ یونس صاحب کی آرا کا درج ہونا کتنی بڑی بات ہو سکتی ہے، سچ کہیے تو شیخ کو حضرت شیخ الحدیث نے ہی پہچانا، بنایا، سنوارا اور امامتِ حدیث کی راہ چلائی، آج کل ان کا ایک خط گردش میں ہے کہ چالیس سال بعد اسے کھول کر پڑھنا، جتنا وقت میں نے بخاری پڑھائی، اگر تم وہاں تک پہونچوگے تو مجھ سے آگے ہوگے، قلندر ہر چہ گوید، دیدہ گوید، شیخ الحدیث صاحب کی پیش گوئی درست نکلی، شیخ صاحب نے پچاس سال نہ صرف یہ کہ بخاری پڑھائی، بلکہ علم حدیث کے مسلمہ امام بن گئے، احادیث پر اطلاع، رجال کے احوال سے واقفیت، درجاتِ احادیث پر شاہانہ نگاہ ان کی وجہِ امتیاز بنی رہی، روایتِ حدیث میں اس دور میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا، علومِ اسلامیہ کے ماہرین جانتے ہیں کہ علم حدیث کتنا پیچیدہ اور نازک فن ہے، یہ بھول بھلیاں کی ایک لامحدود دنیا ہے، علمِ حدیث کا مشکل ترین موضوع "فنِ اسماء الرجال "ہے، راویوں کی اتنی بڑی تعداد یہاں خیمہ زن ہے کہ درست تعداد کوئی بتا بھی نہیں سکتا، ان کے ذاتی احوال، ان کی حدیثی شان، ان کے کے معیارات پر جچا تلا تبصرہ وہی کرسکتا ہے، جس نے اس دنیا میں خود کو گم کردیا ہو اور اس کی رگ و پے میں خون کی طرح دوڑا ہو، شیخ صاحب کی کہانی کچھ اس سے جدا نہیں ہے –
ان کی وفات پر عجم نے جو کہا، وہ کوئی تعجب انگیز نہیں، عرب کا تبصرہ زیادہ مسرت بخش ہے، عرب نے انہیں "شیخ الھند " جیسا عظیم خطاب دیا، یہ ایسا خطاب ہے جو اس سے قبل حضرت مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندی ہی کو ملا تھا- افسوس کہ وہ "کوہِ نور " بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا-

*حق گوئی اور ایثار*

شیخ صاحب کے مزاج میں اکابر کا رنگ تھا، حق گوئی و بے باکی میں اپنی مثال آپ تھے، بڑے سے بڑے مالدار سے بھی مرعوب تو کیا ہوتے، انہیں ڈانٹ پھٹکار کر شرمندہ ہی کر دیتے، حق گوئی اور ایثار کی ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا، شریکِ وفد محترم مولانا صغیر احمد پرتاپ گڑھی زیدمجدہم نے بتایا کہ اختلافِ مظاہرِ علوم کے دوران شیخ صاحب کے کمرے پر تالہ چڑھا دیا گیا، یہ اس بات کی علامت تھی کہ اس پر "مظاہرِ علوم وقف "کا قبضہ ہو چکا ہے، یہ کمرہ گراں بہا کتابوں اور نادر و کم یاب علمی ذخائر سے بھرا پرا تھا، اس میں کچھ ڈالر بھی تھے، شیخ صاحب پر اس قبضے کا برا اثر تھا، بڑے مایوس اور ملول تھے، اس مایوسی پر اس وقت مزید دوبالا ہو جاتی، جب کوئی بتانے والا انہیں بتاتا کہ اس کمرے کے ساتھ کافی چھیڑ چھاڑ ہو رہی ہے، کتابیں اٹھا اٹھا کر مظاہر وقف کے کتب خانے میں منتقل ہو رہی ہیں، لیکن تقریباً ڈیڑھ دہائی کے بعد ان کے پاس اس کمرے کی چابی ان کے سپرد کر دی گئی تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، کمرے کی جانب بڑھے بلکہ لپکے اور تپاک سے اسے کھولا تو چونک کر رہ گئے، دیکھا کہ ساری کتابیں اسی ترتیب پر ہیں، جس پر میں نے رکھا تھا، ڈالر بھی جوں کے توں موجود، پھر طلبہ سے کہا: بچو! گواہ رہنا! مجھے غلط اطلاعات مل رہی تھیں، اسی لیے بدگمان تھا، اب کوئی بدگمانی نہیں ہے، پھر شیخ نے اپنے کمرے کی آدھی کتابیں مظاہر قدیم کو وقف کردیں-

*جنازے کی عرفاتی بھیڑ*

یہ میری بڑی محرومی ہے کہ میں ان کے جنازے میں حاضر نہ ہو سکا، اس کی قدرے تلافی تعزیت والے دن ان کے مقبرے پر حاضری سے بھی ہو سکتی تھی، مگر برساتی ماحول نے سرِدست اس کی بھی اجازت نہیں دی، ہاں دعاے مغفرت اور ایصالِ ثواب گھر بیٹھے بٹھاے بھی ہو سکتا ہے، فی الحال اسی پر اکتفا کرنا پڑا، بعضوں کی ولایت اور خدا سے خصوصی رابطہ بعد از مرگ ظاہر ہوتا ہے، حضرت بھی انہیں میں سے تھے، ان کی علمی عظمت اور حدیثی تفوق کے تو سبھی قائل تھے، عرب و عجم، حل و حرم سب ان کی نکتہ دانی کے معترف بلکہ فدائی تھے، بڑے بڑے مسند نشینوں کو ان کے سامنے دو زانو بیٹھے ہم نے دیکھا ہے، سوشل میڈیا کے دور میں ان کی نادر و نایاب تصویریں اور ویڈیو ہر مداح تک پہونچ چکی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ذاتی طور پر حضرت کے تعلق سے بڑا تاثر اپنے اندر پاتا تھا، ان کی وفات کے وہ تاثر ان مٹ سا ہو گیا ہے، اس قدر بھیڑ کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں، سر ہی سر، درمیان والوں کو نہ ابتدا معلوم، نہ انتہا کی خبر، بعض اخبارات نے دس لاکھ تک کی خبر شائع کی، اگرچہ یہ خالص مبالغہ اور بلاوجہ کا اطراء مادح ہے، صحیح بات یہ ہے کہ سوا یا ڈیڑھ لاکھ کے آس پاس کا مجمع موجود تھا، کسی عالم و محدث کی وفات پر اتنے بڑے مجمع کا جٹ جانا اپنے آپ میں تاریخی لمحہ ہے-

پچھلی تین دہائیوں میں بڑی شخصیات اٹھیں، جو اپنے وقت کے عظیم محدث، فخرِ روزگار مصنف، مایۂ ناز انشا پرداز، علومِ اسلامیہ کے گلِ سرسبد اور لغتِ حجازی کے قارون تھے، سب کے جنازے پر عوام و خواص کا ایک سیلاب امڈا، مگر حضرت شیخ کے جنازے کی تعداد ان سب پر حاوی رہی، ایسا لگتا ہے کہ فرشتوں کی بڑی تعداد بھی جنازہ پڑھنے اتر آئی ہے- اتنی بڑی تعداد کی جنازے میں شرکت قدرت کی طرف سے گویا ان کی عظمت و عنداللہ مقبولیت کا اشتہار تھی-

جانے والے پر رونا دھونا عام سی بات ہے، لیکن یہی جانے والا بڑا ہو تو خلا محسوس ہونا فطری ہے، اور جب جانے والا عبقری ہو تو اس کا خلا صدیوں تک محسوس ہوتا ہے، شیخ کی رحلت ایک ایسا ہی سانحہ ہے کہ علمی دنیا ان کی کمی محسوس کرتی رہے گی، شیخ صحراے علوم اسلامیہ کے ایسے قیس تھے، جن کی روانگی نے سب کو رلا دیا ہے، اب تو ہر طرف ویرانی ہے، گریہ ہے، آہ و نالہ ہے، بقول غالب دہلوی:

ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسد
مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

*برد اللہ مضجعہ*

حضرت شیخ یونس رحمہ اللہ کی کہانی خون ان کی ہی زبانی

Shaikh Yunus Sahab R A.pdf

امیر المومنین فی الحدیث حضرت مولانا یونس جونپوری ر حمہ اللہ

امیر المومنین فی الحدیث حضرت مولانا یونس جونپوری رحمہ اللہ
یاسر ندیم الواجدی

دوسری صدی کے امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری کی صحیح کو اس دور میں، پندرہویں صدی کے امیر المومنین فی الحدیث شیخ یونس جونپوری رحمہ اللہ سے زیادہ جاننے والا شاید ہی کوئی ہو۔ نابغہ روزگار شخصیات کی مقبولیت کا اصل اندازہ ان کے جنازوں سے ہوتا ہے۔ امام احمد بن حنبل (جن کی مسند کو حضرت شیخ نے ایک لفظ کی تلاش میں چار بار پڑھا تھا) نے کہا تھا کہ ہمارے اور ان کے درمیاں جنازے فیصلہ کریں گے۔ آج جب شیخ کا جنازہ اٹھا تو دنیا نے دیکھا کہ اہل علم کی قدر کسے کہتے ہیں۔ دلوں کے یہ بادشاہ اپنی وفات کے بعد بھی عظمت کی اونچائیوں پر فائز رہتے ہیں۔ دربار ان کے بھی سجتے ہیں لیکن امراء ووزراء کے لیے نہیں، بلکہ ان کے دربار میں وہ بوریہ نشین شہزادے حاضر باش رہتے ہیں جن کے سامنے نبی کی میراث سے اپنی زندگی کو منور کرلینا ہی مقصد ہوتا ہے اور اس کے لیے وہ سادگی سے مرصع دربار میں مسند نشین شیخ کے ارد گرد گھنٹوں بیٹھےاس میراث پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔

حضرت شیخ جب سہارنپور پڑھنے کے لیے آئے تو بہت بیمار ہوگئے۔ اساتذہ نے مشورہ دیا کہ واپس اپنے گھر چلے جائیں۔ حضرت شیخ زکریا رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا، مگر وہ نہ مانے۔ حضرت شیخ زکریا نے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا کہ "پھر پڑا رہ یہیں”۔ شاگرد نے اس جملے پر ایسا عمل کیا کہ اپنے شیخ کے در پر زندگی گزاردی تا آنکہ بڑھاپے میں جنازہ ہی اٹھا۔ یہی وجہ تھی کہ استاذ کو بھی اپنے شاگرد پر ناز تھا۔ وہ کون استاذ ہے جو اپنے شاگرد کو لکھ کر دے کہ جب تم چالیس سال بعد اس تحریر کو پڑھوگے تو مجھ سے آگے نکل چکے ہوگے۔ اس سے بڑھ کر کسی طالب علم کے لیے شرف کی کیا بات ہوگی کہ استاذ اپنی کتاب میں اپنے شاگرد کا قول نقل کرے۔

میں اپنے کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ مجھے حضرت کی زیارت کا ہی نہیں بلکہ آپ سے اجازت حدیث کا بھی موقع ملا۔ سنہ 2001 میں دورہ حدیث کے سال ہم نے بھی دیوبند سے مسلسلات کے سبق میں حاضری کے لیے سہارنپور کا سفر کیا۔ اس سفر میں شیخ کا پہلی مرتبہ دیدار ہوا۔ اس زمانے میں شیخ باہر سے آنے والے طلبہ کو بھی عبارت پڑھنے کی اجازت دیتے تھے۔ اس مناسبت سے میرے نام کی پرچی حضرت کے سامنے موجود تھی۔ شیخ کی نازک مزاجی کے قصے خوب سنے تھے اور ہم مزاج سے بالکل ناواقف۔ اوپر سے یہ بھی معلوم تھا کہ شیخ قلندر صفت ہیں، کہیں اللہ تعالیٰ ان کی زبان سے ہمارے دل کا حال نہ کہلوادے۔ اس پر مستزاد یہ کہ شیخ کے یہاں عبارت خوانی میں لحن جرم تھا جب کہ دیوبند میں صورت حال اس کے برعکس تھی۔ خوف کے اس ماحول میں عبارت پڑھی اور اس امتحان میں الحمد للہ کامیاب رہے۔ دوران عبارت حضرت نے ایک جملہ بھی ارشاد فرمایا تھا جو بطور سند میرے سینے میں محفوظ ہے۔

دوران درس حضرت شیخ نے شاہ ولی اللہ کی کتاب الفضل المبین کے رجال پر اس تفصیل سے کلام کیا کہ گویا امام ذہبی یا ابن حجر کتب ستہ کے رجال پر کلام کررہے ہوں۔ اس عمر میں حضرت کی یادداشت نے بہت متاثر کیا۔

حضرت شیخ ایک ایسی شخصیت تھے جن کے نزدیک ان کی کتابیں ہی ان کا سب کچھ تھیں، دنیا کسے کہتے ہیں وہ جاننا نہیں چاہتے تھے۔ ان کے شاگرد اور مرید شیخ یعقوب دہلوی سابق امام مسجد قبا ومشرف قاضیان مدینہ نے مجھے یہ واقعہ سنایا کہ "مدینہ منورہ تشریف لانے پر عرب علما ان کے جوتے سیدھے کرنا اپنا شرف سمجھتے تھے۔ ایک سفر میں ان عرب شاگردوں نے اتنے ہدایا دیے کہ ریالوں سے دو تھیلے بھر گئے۔ مدینہ سے واپسی پر شیخ نے مجھے حکم دیا کہ سارے پیسے مدینہ منورہ میں ہی غربا میں تقسیم کردوں۔ مین نے با اصرار کہا کہ حضرت اپنی ضرورت کے بقدر رکھ لیں، لیکن وہ تیار نہیں ہوے اور ایک ایک ریال صدقہ کروادیا۔ جب ایرپورٹ پہنچے تو مجھ سے کہا کہ مجھے سو ریال اس شرط پر قرض دو کہ بعد میں واپس لوگے”۔ جس شخص کے یہاں دنیا کی یہ حیثیت ہو اللہ تعالیٰ اسی کو دلوں کی بادشاہت عطا فرماتے ہیں۔

آج عجم سے لیکر عرب تک سبھی حضرت شیخ یونس کی رحلت پر ماتم کناں ہیں کیونکہ جس بخاری، ابن حجر، ذہبی اور جس خلیل احمد اور زکریا کاندھلوی کے تذکرے ہم سنتے آئے ہیں وہ سب شیخ یونس رحمہ اللہ کی شکل میں ہمارے سامنے مجسم تھے۔ اب نگاہ اٹھاکر مشرق سے مغرب تک دیکھتے ہیں تو محدثین تو ملتے ہیں لیکن امیر المومنین فی الحدیث کوئ نہیں۔ اس لیے میں دنیا کے ہر مدرسے اور ہر دار الحدیث کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم“ حضرت مولانا محمد یونس جونپوری

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم“

طه جون پوري
9004797907

اِس عالمِ ناپائیدار میں اَزل سے تا اِمروز کتنی ہستیوں نے آنکھیں کھولیں اور بند کر لیں، لیکن کچھ ہستیوں نے اپنے وجودِ مسعود سے، اس سینہ گیتی پر ایسے نقوش چھوڑے جو تابندہ و پائیندہ رہینگے. اِنھیں میں سے متقی و صالح، صاحب نسبت عالمِ دین، شیخ العرب والعجم، امیر المؤمنین فی الحدیث، حضرت مولانا یونس صاحب جون پوری رح، شیخ الحدیث مدرسہ مظاھر علوم سہارن پور تھے، جو آج 2017-07-111 ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کو نمدیدہ کرکے اس دارِ فانی سے دارِ باقی کی طرف کوچ کر گئے.

”کڑے سفر کا تھکا مسافر، تھکا ہے ایسا کہ سو گیا ہے۔

خود اپنی آنکھیں تو بند کر لیں، ہر آنکھ لیکن بھگو گیا ہے“

إنا لله وإنا إليه راجعون.

آپ کا علمی مقام اور علمی حیثیت کیا تھی؟ فنِّ اَسمآءُ الرِّجال میں کس کمال کو پہونچے ہو ئے تھے؟ حدیث کی صحت و سقم پر حکم لگانے میں کتنی اعلی دسترس حاصل تھی؟ متنِ حدیث اور سندِ حدیث پر کتنی عمیق نظر تھی؟ دوسرے مذاھب کا کتنا وسیع مطالعہ تھا؟ یہ تو صحیح معنوں میں ایک علمی شخص ہی زیر قرطاس لاسکتا ہے۔ ویسے بھی

« کس قلم سے میں لکھوں، آپ کی تعریف یاں،

آپ کی شخصیت تو خود ہی، ہے زمانے پر عیاں ».

ریاض العلوم گورینی، کے زمانہ طالب علمی میں، حضرت شیخ کا نام تو سنا تھا، لیکن دیدار نہ ہوسکا. در اصل حضرت مولانایونس صاحب جون پوری رح شیخ الحدیث مدرسہ مظاھر علوم نے اپنے وطن (چوکیہ، گورینی، اللہ کا شکر ہے کہ یہی نا چیز کا بھی وطن ہے) کو گویا خیر آباد کہہ دیا تھا اور علمی مشغولی کی وجہ سے بہت کم تشریف لاتے تھے اور زبان حال سے یہ پیغام دے گئے تھے کہ

”ہمیں دنیا سے کیا مطلب، مدرسہ ہے وطن اپنا،

مرینگے ہم کتابوں پر، ورق ہوگا کفن اپنا“

حضرت شیخ رح بعض مرتبہ وطن آئے بھی، لیکن بدقسمتی کہ زیارت سے محروم رہا.

دار العلوم دیوبند کے زمانہ طالب علمی 2011ء میں ،مدرسہ مظاھر علوم بھی جانا ہوا. جہاں اللہ تبارک و تعالی نے حضرت شیخ الحدیث رح کا دیدار نصیب فرمایا. مسلسلات کے درس میں بھی حاضری نصیب ہوئی. چونکہ حضرت شیخ نے ناچیز کے دادا مولانا محمد عمر صاحب جون پوری حفظہ اللہ (جو حافظ جی کے نام سے مشہور ہیں. اللہ دادا کے سایہ کو دراز کرے) سے ”شرح تہذیب “وغیرہ پڑھی ہے، اِس لیے اس نسبت کا واسطہ دیکر بھی حاضر ہوا. چنانچہ ایک مرتبہ ملاقات کے لیے گیا، خادم سے اندر جانے کی اجازت چاہی تو اِس بندہ خدا نے کہا: ابھی مشغول ہیں، ملاقات نہیں ہو پائیگی” میں نے کہا: آپ بتادو گورینی جون پور سے آئیں ہیں“۔ حضرت کو جب خادم نے اطلاع دی تو فرمایا: گاؤں والا آیا ہے، چائے پلاؤ“۔ اللہ جزائے خیر دے حضرت والا کو، یہ آپ کا حد درجہ بڑکپن تھا، کہ آپ نے اِس ناچیز کی ضیافت فرمائی۔

آپ کے نزدیک دنیا کی حقیقت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے، کہ میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا. صوبہ گجرات کے چند احباب نےقطار میں لگ کر ملاقات کی اورمصافحہ کرکے نذرانہ پیش کیا، اِس میں ایک صاحب نے دوبارہ قطار میں لگ کر نذرانہ پیش کرنا چاہا تو گرفت فرمالی اور اِن سب کے جانے کے بعد نذرانے کو الگ الگ لفافے میں رکھدیا، بعد میں معلوم ہوا کی حضرت اپنے خدام کو تقسیم کر دیتے ہین. اللہ اکبر کیا عجیب نرالی شان ہے۔

یہ واقعہ اب بھی میرے رگ و پے میں گردش کر رہا ہے اور ایک سبق بھی ہے، کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے پھلوں کا تحفہ پیش کرنا چاہا، تو اُس کو حضرت نے داخل ہونے سے منع کردیا. اُس شخص نے بڑی عاجزانہ التجا کی، کہ حضرت آپ بس اِس کو استعمال کرلیں، میں آہ کے پاس نہیں آونگا اور وہ پھل رکھکر چل نکلا.

” شیخ کے قدموں میں دنیا، ہے پڑی دیکھو مگر،

پھر بھی حضرت شیخ یونس، دنیا سے ہیں بے خبر “

در حقیقت یہ اللہ کا وعدہ ہے ”ومن يتق الله يجعل له مخرجا- ويرزقه من حيث لا يحتسب “ کہ جو شخص تقوی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق فراہم کرتا ہے، کہ اس کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا. حدیث میں بھی ہے کہ ” مَن كانت همَّه الآخرةُ ، جَمَع اللهُ له شَمْلَه ، وجعل غِناه في قلبِه ، وأَتَتْه الدنيا راغمةً “ کہ جس کا مقصد زندگی آخرت ہو جاتا ہے، اللہ اس کی شیرازہ بندی کر دیتا ہے، دل میں غنا پیدا کردیتا ہے اور دنیا اُس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے۔

سچائی تو یہ ہے کہ آپ بے مثال و باکمال تھے۔ اب آپ کو پانا ناممکن ہے

”ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایا ب ہیں ہم،

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم“

جنازہ میں لاکھوں لوگوں کی شرکت عند اللہ قبولیت کی کھلی دلیل ہے. قرآن و حدیث اِس پر شاھد عدل ہیں ”عنِ ابنِ عبَّاسٍ قال نزَلَتْ في علِيٍّ {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُواالصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا} [مريم: 966] قال: محبَّةً في قلوبِ المُؤمِنينَ“

رب کریم سے دعا ہے کہ آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آپ کی قبر کو جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری بنائے. آپ کی نسبت ہم سب کی مغفرت فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

حضرت مولانا محمد یونس جونپوری : سوانحی خاکہ

حضرت مولانا محمد یونس جونپوری شیخ الحدیث جامعہ مظاہرعلوم سہارنپور

ایک سوانحی خاکہ

از عبداللہ خالد قاسمی خیرآبادی مرتب ماہنامہ مظاہرعلوم سہارنپور

پیدائش:۲۵؍ رجب ۱۳۵۵ھ ۲؍ اکتوبر ۱۹۳۷ء

مقام پیدائش: چوکیہ گورینی کھیتا سرائے ضلع جونپور

پانچ سال ۱۰؍ ماہ میں والدہ کا انتقال

ابتدائی تعلیم :گاؤں کا مکتب

عربی تعلیم کی ابتدا: ۱۳؍ سال کی عمر میں مدرسہ ضیاءالعلوم مانی کلاں ضلع جونپور میں داخل ہوئے ،فارسی سے لے کر نورالانوار تک کی کتابیں وہیں پڑھیں

مظاہرعلوم میں داخلہ :شوال ۱۳۷۷ھ میں مظاہر علوم میں داخلہ لیا ،۱۳۸۰ھ میں دورہ سے فراغت یہیں سے حاصل کی

معین مدرس: مظاہرعلوم میں ۱۳۸۱ھ میں معین مدرس مقرر ہوئے

شیخ الحدیث کے عہدہ پر:شوال ۱۳۸۸ھ میں مظاہرعلوم میں شیخ الحدیث کے عہدۂ جلیل پر فائز ہوئے ۔

بیعت: ۱۳۸۶ھ میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی سے بیعت و خلافت سے سرفراز ہوئے،۵؍ محرم الحرام ۱۳۹۶ھ مولانا شاہ اسعداللہ صاحب ناظم جامعہ مظاہرعلوم کی طرف سے بھی اجازت بیعت حاصل ہوئی۔

انتقال پرملال: ۱۶؍ شوال ۱۴۳۸ھ مطابق ۱۱؍ جولائی ۲۰۱۷ء بعد نماز فجر طبیعت میں اچانک بہت سستی پیدا ہوئی ،ارباب مدرسہ سہارنپور کے مشہور اسپتال میڈی گرام لے کر گئے اور ساڑھے نو بجے کے قریب ڈاکٹروں نے انتقال کی تصدیق کردی

نماز جنازہ: بعد نماز عصر (چھ بجے)دار جدید کے صحن میں طے ہے۔

عبداللہ خالد قاسمی خیرآبادی مرتب ماہنامہ مظاہرعلوم سہارنپور