مسلمان سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں

محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ

یہ ایک حقیقت ہے کہ 2014 کے بعد ہمارا عزیز ملک ہندوستان خاصا بدل سا گیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے. یہ تبدیلیاں مسلمانوں کے حق میں مجموعی طور پر بہت منفی ہے،جو بہرحال ملک کے لیے اور آگے آنے والی نسلوں کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتی ہیں.

موجودہ حالات مسلمانوں کے لئے تقریباً ایسا ہی ہے جیسا کہ1857 کے بعدکا ہندوستان. 2017 کے ہندوستان کے مسلمانوں کے حالات سے 1860 کے ہندوستان کا موازنہ کرنا کافی حدتک درست ہوگا. یعنی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے مذہبی، جذباتی، تعلیمی اور سماجی و بلکل ذاتی مسائل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا، ہندوں اور مسلمانوں میں نفرت پیدا کرنا اور مسلمانوں میں گروہی و مسلکی اختلافات کو ہوا دینا تاکہ یہ آپس میں لڑتے، مرتے رہیں اور حکومت میں بیٹھے لوگ اپنے حوارین کے ساتھ اپنے مقاصد کے انجام دہی میں مشغول رہیں.

آج ہندوستان میں جو کچھ بھی ہورہا ہے- بات بات پر بھیڑ کے ذریعہ معصوموں کا قتل، ٹوپی، داڑھی اور برقہ کے ساتھ نفرت اور کسی کو دکان سے اٹھا کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نام نہاد جیت کی خوشی منانے پر ملک کے خلاف بغاوت(Sedition)کے کیس میں جیل بھیجدنا؛ یہ سب اچھی خاصی پلاننگ اور انتھک محنت کا حصہ ہے، جس پر آر ایس ایس(RSS) اور اسکی ذیلی تنظیمیں گزشتہ تقریباً سو سالوں سے کام کرہی ہیں. یہ لوگ تو انگریزوں کے ساتھی تھے اور ملک کی آزادی اور تقسیم کے ساتھ ہندوستان پر ہندو راشٹرکے آقاؤں کےطور پر قابض ہونا چاہتے تھے. لیکن جنگِ آزادی کے حقیقی راہنماؤں جیسے مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، مولانا ابوالکلام آزاد اور انکے جیسے وطن پرست، اتحاد و باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے متوالوں کی فراست اور قائدانہ صلاحیت کی وجہ سے ناکام ہوگئے.

اب2014 میں جا کر ان کو ہندوستان کی سیاست میں جس طرح کی کامیابی چاہیے تھی وہ ملی، اور انہوں نے اپنے ایجنڈے پر کام کرنا شروع بھی کردیا. ہندوستان کی عوام کو 1857 کے بعد بھی کامیابی ملی، اگرچہ کافی قربانیوں کے بعداور اب بھی ملیگی انشاءاللہ. لیکن اس کے لئے بےحد محنت اور لگن کے ساتھ بہت اچھی پلاننگ اور اٹوٹ اتحاد کا مظاہرہ کرنا پڑے گا. اب کی بار لڑائی ہندوستان کےاندر موجود برہمنواد کے ناسور سے ہے. اور یہ خطرناک وائرس(Virus) ہے جس نے یورپ، امریکہ میں مسلمانوں کےخلاف بےحد متشدد(Extreme Right) گروپس اور مسلمانوں کے ابدی دشمن اسرائیل کے ساتھ ملکر ایک برمودا ٹرائنگل(Bermuda Triangle) جیسا ہلاکت خیر ٹرائنگل اتحاد کیا ہوا ہے.

اس صورت حال میں سیکولر ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دلت میں سے کوئی بھی گروپ تنہا میدان میں اترےگا تو کامیاب ہونا بہت مشکل ہے. یاد رہے کہ 1857 اور 2017 میں 160 سال کا لمبا فاصلہ بھی ہے. حالات، تقاضے، انداز، سوچ، طریقہء کار اور آلات سب میں بہت فرق ہے. آج سرحدیں جیتی نہیں جاتی حکومتیں بدلی جاتی ہے جسکو رجیم چینج (Regime Change) کا نام دیا جاتا ہے. آج پروپیگنڈہ صرف انسان کے ذریعہ نہی بلکہ زیادہ تر میڈیا کے ذریعہ کیا جاتا ہے. اور آج میڈیا صرف اخبارات اور ٹی وی چینلز کا نام نہیں بلکہ سوشل میڈیا ان سب سے آزاد، سستا اور ہر شخص کے اپنے کنٹرول میں بھی ہے.

گزشتہ دس سالوں کے اندر دنیا بھر میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ سوشل میڈیا عوامی تحریک اور حکومتوں اور عوام کے درمیان تبادلہ خیال میں زیادہ کارگر ثابت ہوا ہے. تو پھر ہندوستان کے 25 کروڑ مسلمان اس نعمت کو اپنے لیے اور اپنے ملک کے مفاد میں مثبت اور مؤثر انداز میں کیوں نہ استعمال کریں؟

آرایس ایس کے تنخواہ یافتہ اور بغیر تنخواہ کے رضاکار مرد و خواتین دو کام خاص طور پر کرتے ہیں. ایک اپنے اغراض و مقاصد کی تشہیر اور دفاع کے لیے سوشل میڈیا پر بہت فعال ہوتے ہیں، کچھ بھی لکھتے اور شیئر کرتے ہیں. جن کو ان کے مخالفین اور سنجیدہ دنیا ٹرولز (Trolls) یعنی پریشان کرنے والا نامعقول گروپ کے نام سے پہچانتی ہے. دوسرا ان کا ایک گروپ خاص طور پر خواتین پر مشتمل چھوٹے چھوٹے جتھہ کی شکل میں گاؤں گاؤں اور گھر گھر جاتا ہے. الیکشن کے ایام میں یہ بہت فعال ہوتا ہے اور پھر یہی لوگ بی جی پی کے بوتھ (Booth) کمیٹی کے اہم ممبر ہوتے اور الیکشن کے دن ان ہی میں سے کوئی بی جی پی کا پولنگ ایجنٹ بھی ہوتا ہے.

لہذا صرف تین سالوں میں درجنوں بڑی بڑی ناکامیاں – ڈیمونیٹائزیشن، (Demonitization) کالا دھن، کرپشن، قیمتوں میں مسلسل اضافہ، GDP میں گراؤٹ، FDI میں کمی، کسانوں کی خودکشی، کشمیر کا مسئلہ، نظم و نسق اور امن آمان تقریباً ہر سمت ناکام ہونےْکے باوجود اگر بی جی پی الیکشن پر الیکشن جیت رہی ہے تو اس کے لئیے اس کے مائکروپلانگس(Micro Plannings) اور سخت محنت کو کریڈٹ دینا پڑے گا. BJP کے پاس صرف trolls ہی نہیں بلکہ اچھی طرح سے تربیت یافتہ، قربانی دینے والے لوگ ہر میدان؛ تعلیم، صحت، پولیس، کورٹ اور تجارت میں کروڑوں کے تعداد میں موجود ہیں.

برہمنواد ایک سوچ (Ideology) کا نام ہے. اس نے بہت کوشش اور مسلسل جد و جہد کے بعد ہندوستان پر اپنا پنجہ جما یا ہے. اس کا مقابلہ سست، سطحی اور محض جذباتی انداز سے بالکل نہیں ہو سکتا. ایک سوچ کو دوسرے سوچ سے ہی بہتر طریقے سے مارا جا سکتا ہے. اس کے لیے1916 کے بعد والی پلاننگ و اتحاد جیسی پلاننگ واتحادا کے ساتھ ساتھ 2017 والی ٹیکنیک اور دماغ کو بیک وقت بروئے کار لانا پڑے گا.

سوشل میڈیا کے ذریعہ ملک میں جمہوریت، محبت، آپس میں بھائی چارگی اور امن و سکون کے حامی ہر طبقہ اور ہر مذہب کے لوگوں کو پکارنا پڑےگا. پھر گاؤں گاؤں اور گھر گھر تک ہندوستانیت کا تعارف کے ساتھ ساتھ برہمنواد کے نقصانات کو بھی پہونچانا پڑے گا.

کیا ہم یہ سب کر سکتے ہیں؟ کیوں نہیں، آپ کو کرنا ہی پڑے گا. نہیں تو آج جنید، پہلوخان اور محمد اخلاق کا نمبر تھا کل آپ، آپکا بھائی اور آپکے بیٹے کا بھی نمبر آسکتا ہے. آج آپ کا ہندوستان بہت پیارا ہے، اس کے دستور پر آپ کو فخر ہے اور ہونا بھی چاہیے، لیکن اگر آپ آج بھی ہوش کے ناخن نہیں لیں گےتو کیا معلوم کل یہی ملک ہم سب کے لئے اور ہمارے بچوں کے لئے کوئی برما، کوئی اسرائیل نہ بن جائے. تاریخ گواہ ہے کہ الحمراء (موجودہ اسپین کا ایک شہر) سےایک ساتھ تقریباً پچاس لاکھ مسلمانوں کا انخلاء ہوا ہے. اندلس (موجودہ اسپین) کی مسجدیں، وہاں کے باغات اور نہریں، وہاں کی لائبریریاں اور تعلیمی ادارے ہمارے جامع مسجد، لال قلعہ، قطب منار اور تاج محل، ہماری خدا بخش لائبریری، ہمارے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دارالعلوم دیوبند کے جیسے یا اس سے عظیم تھے. چنانچہ آپ کو، ہم سب کو آج ہی مورچہ سنبھالنا پڑےگا. عقلمند وہی ہے جوطوفان سے پہلے تیاری کرتا ہے.

سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹوئٹر (Twitter) اور فیس بک (Facebook) پر ھشٹگ(Hashtag) # نشان کے استعمال کا بہت فائدہ ہے. اس لئے خاص موضوعات پر ھشٹگ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں. #Hashtag ہمیشہ الفاظ کے درمیان بغیر اسپیس(Space) کے استعمال کیا جاتا ہے. مثلاً آپ جب Not In My Name کو ھشٹگ کرنا چاہتے ہیں تو آپ #NotInMyName لکھیں گے. Capital(بڑے) یا Small (چھوٹے) حروف کے ساتھ لکھنے سے کوئی فرق نہیں ہوتا، بس درمیان میں اسپس (خلا) یا دوسرا کچھ نقطہ وغیرہ نہیں ہونا چاہیے.

ٹؤئٹر اور فیس بک میں @ (at) کا نشان استعمال کیا جاتا ہے جب آپ کوئی پیغام کسی خاص شخص کو بھیجنا چاہتے ہیں یا کسی عمومی پیغام میں ایک خاص شخص یا کچھ شخصیات کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں. لیکن اس کے لیے آپ کو اس شخص یا شخصیات کا Twitter اور Facebook ہینڈل معلوم ہونا چاہیے، اور یہ بھی ہمیشہ بغیر اسپیس کے لکھا جاتا ہے. مثلاً میرا ٹوئٹر اور فسبک دونوں ہنڈیلس mb.qasmi@ ہے. اب اگر آپ نے کسی پیغام کے بالکل شروع میں…mb.qasmi@ لکھا تو یہ پیغام صرف میں اور آپ دیکھیں گے اور اگر آپ نے پیغام کے درمیان یا آخیر میں مثلاً آپ نے میسج لکھا India against #MobLynching We demand #Justicefor Junaid
@mb.qasmi @EC_Editor
اس صورت میں آپ کا یہ پیغام آپ کے تمام دوست جو آپ کی لسٹ میں ہیں وہ تو دیکھیں گے ہی، شیئر بھی کر پائیں گے اور ساتھ ساتھ MB.Qasmi اور Easter Crescent کے ایڈیٹر کو بھی ارسال ہوگا جو اگرچہ آپ کے Friends’ List میں شامل نہیں ہیں.

سوشل میڈیا میں عوامی پیغام بھیجنے کے لئے چاہے Text, Image یا Video کی شکل میں ہو ٹوئٹر اور فیس بک ہی بہترین ذریعہ ہے. ان کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہونا چاہیے. تجارت یا پروفیشنل ترسیل و ارسال کے لئے Linkedin، فوٹو شیر کے لیے Instagram اور Flickr اور ذاتی یا چھوٹے گروپ میں کمیونیکیشن کے لئے WhatsApp بہترین ذریعہ ہے.

چنانچہ ان تمام سوشل ذرائع ابلاغ کا سمجھ بوجھ کراور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سماجی اور ملکی مفاد عامہ کے لئے زیادہ سے زیادہ استعمال ہونا چاہیے. یہ وقت کا ایک اہم تقاضہ بھی ہے اور پڑھے لکھے لوگوں کی ذمہ داری بھی. جوش اور محض جذبات سے آگے معقول انداز میں سب کو جوڑنے کی باتیں کی جائے. جدید سائبر جرائم قانون (Cyber Crime Act) کی خلاف ورزی نہ کی جائے اور بلا وجہ خون خرابہ کی تصاویر یا وڈیوز شیر کرکے امن و امان کو بگڑنے بھی نہ دیا جائے .

*آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا. آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا.*

اعتکاف: یہی وہ در ہے جہاں آبرو نہیں جاتی

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

تمہید:

اللہ سبحانہ وتعالی اپنے بندوں کو رمضان المبارک کے بابرکت مہینے سے نواز کر، موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ عبادت کے ذریعے اپنے رب کامطیع وفرمانبردار بن جائے، اپنے رب سے وابستہ ہوجائے، اپنے رب سے مغفرت کی درخواست کرے اور خود کو جہنم کی آگ سے آزاد کرالے؛ چناں چہ رمضان کے مہینے کا ہر لمحہ مسلمانوں کے لیے مبارک اور قیمتی وقت ہے۔ ماہ رمضان میں ایک سنت کا ثواب، غیر رمضان کےایک فرض کے برابر ہے؛ جب کہ ایک فرض کا ثواب، رمضان کے علاوہ کے 70/فرضوں کے برابر ہے۔ رمضان ہی کی مبارک راتوں میں، تراویح جیسی عبادت کا سنہرا موقع ملتا ہے۔اللہ تعالی نےاپنے بندوں کے لیےرمضان کے پہلے دس دنوں کو رحمت کا عشرہ بنایا ہے، دوسرے دس دنوں کو مغفرت کا عشرہ اور تیسرے دس دنوں کو جہنم کی آگ سے چھٹکارے کا عشرہ بنایا ہے۔ اسی اخیر عشرہ میں، ہزار مہینوں سے بہتر رات”لیلۃ القدر” ہوتی ہے۔ اسی آخری کے دس دنوں میں اعتکاف جیسی اہم عبادت بھی ہے، جس کے مقاصدمیں یہ ہے کہ مسلمان اعتکاف کرکے "لیلۃ القدر” کی فضیلت کو حاصل کرنےکی حتی المقدور کوشش کرے، فرشتہ جیسی معصوم مخلوق کے مشابہ بنانے کی کوشش کرے اور اللہ کی قربت حاصل کرے۔ اس مختصرمضمون میں اعتکاف کی تعریف، احکام، فضائل ومسائل وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اعتکاف کی تعریف:

"اعتکاف” عربی زبان کا ایک لفظ ہےجس کے معنی ٹھہرنے اور اپنے آپ کو روک لینے کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں، مسجد کے اندر ( اعتکاف کی) نیت کے ساتھ، اپنے آپ کو مخصوص چیزوں سے روک رکھنے کا نام ہے۔ (قاموس الفقہ 2/170)

اعتکاف کی قسمیں:

اعتکاف کی تین قسمیں ہیں: (1) واجب، (2) سنت مؤکدہ علی الکفایہ اور (3) مستحب۔

واجب: واجب اعتکاف کی دوقسمیں ہیں: (1) کوئی شخص کسی شرط کے ساتھ منت مانے کہ اگر اس کا فلاں کام ہوجائے؛ تو وہ اس کا کی تکمیل پر اعتکاف کرے گا؛ تو اب اس کام کی تکمیل پر، اس کے لیے اعتکاف کرنا واجب ہوگا۔ اس منت کو فقہ کی اصطلاح میں "نذر معیّن” کہتے ہیں۔ (2) کوئی شخص مطلقا یعنی بغیر کسی شرط کے اعتکاف کرنے کی منت مانے، مثلا یوں کہےکہ وہ فلاں دن کا اعتکاف اپنے اوپر لازم کرتا ہے، یا فلاں دن اعتکاف کرنے کی منت مانتا ہے؛ تو اس صورت میں بھی اس پر اعتکاف واجب ہوجائے گا۔ اس طرح کی منت کو فقہ کی اصطلاح میں "نذر مطلق” کہتے ہیں۔ واجب اعتکاف کم از کم ایک دن اور ایک رات کا ہوگا، اس کے لیے روزہ رکھنا بھی شرط ہے۔ بغیر روزہ کے واجب اعتکاف ادا نہیں ہوگا۔

سنت مؤکدہ علی الکفایہ: رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف کو فقہاء احناف "سنت مؤکدہ علی الکفایہ” کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی محلہ یا گاؤں کی مسجد میں، رمضان کے آخری عشرہ کا ایک شخص بھی اعتکاف کرلے؛ تو سنت ادا ہوجائے گی اور اس محلہ یا گاؤں کا کوئی بھی شخص گنہگار نہیں ہوگا اور اگر ایک شخص نے بھی اعتکاف نہیں کیا؛ تو پورے محلہ اورگاؤں کے لوگ اس سنت کے چھوڑنے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے۔

سنت مؤکدہ علی الکفایہ اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں کیا جاتا ہے۔ جو شخص اس اعتکاف کو کرنا چاہتا ہے، وہ بیسویں رمضان کو غروب آفتاب سے پہلے، اعتکاف کی نیت سے مسجد میں داخل ہوجائے اور عید (شوال) کا چاند نکلنے تک مسجد میں معتکف رہے۔ اب چاہے عید کا چاند انتیس کا ہو یا تیس کا، اعتکاف مکمل ہوگیا۔

مستحب یا نفل: مستحب یا نفل اعتکاف یہ ہے کہ اس کی نیت کرکے، آدمی چاہے تو ایک ہی منٹ کے لیے مسجد میں چلا جائے، مستحب اعتکاف ہوجائے گا۔ مستحب اعتکاف کےلیے روزے اور وقت وغیرہ کی شرط نہیں ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ جب بھی مسجدمیں داخل ہو؛ تو داخل ہوتے وقت، اعتکاف کی نیت کرلے اور جب تک مسجد میں رہے،لغوباتوں سے پرہیز کرے اور تلاوت، اذکار یا پھر نفل نماز وغیرہ میں مشغول رہے؛یہ نفل اعتکاف شمار ہوگا۔

اعتکاف کی حکمت:

شریعت میں جس عبادت کے بھی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یا پھر جس عبادت کے کرنے پر حوصلہ افزائی کی گئی ہے؛ اس میں حکیم وخبیر پروردگار نےبڑی حکمت ودانائی بھی رکھی ہے۔اعتکاف بھی ایک قسم کی عبادت ہے۔ اعتکاف کی حکمت یہ ہے کہ معتكِف (اعتکاف کرنے والا) نماز باجماعت کا انتظار کرے، خود کو فرشتوں کے مشابہ بنانے کی کوشش کرے اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کرے۔

"اعتکاف میں معتكِف اللہ کے تقرب کی طلب میں، اپنے آپ کو بالکلیہ اللہ تعالی کی عبادت کے سپرد کردیتا ہےاور نفس کو اس دنیا کے مشاغل سے دور رکھتا ہے، جو اللہ کے اس تقرب سے مانع ہےجسے بندہ طلب کرتا ہے،اور اس میں معتكِف اپنے پورے اوقات میں حقیقتا یا حکما نماز میں مصروف رہتا ہے؛ اس لیے کہ اعتکاف کی مشروعیت کا اصل مقصدنماز باجماعت کا انتظار کرنا ہےاور معتكِف اپنے آپ کوان فرشتوں کے مشابہ بناتا ہے،جو اللہ کے احکام کی نافرمانی نہیں کرتے، انھیں جو حکم ہوتا ہے وہی کرتے ہیں اور رات ودن تسبیح پڑھتے ہیں، کوتاہی نہیں کرتے۔” (موسوعہ فقہیہ 5/310)

اعتکاف کرنے کی جگہ:

مردوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسجد میں اعتکاف کرے۔ مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہوں پر مردوں کا اعتکاف درست نہیں ہوگا۔ معتكِف کے لیےمساجد میں افضل مسجد: مسجد حرام، پھر مسجد نبوی، پھر مسجد اقصی (فلسطین)، پھر ان کے شہر کی جامع مسجد،پھر محلہ کی مسجد جہاں پنج وقتہ جماعت کا انتظام ہو یعنی وہ مسجد جس میں امام اور موذن ہو۔ خاتون اگر شادی شدہ ہو؛ تو اپنے شوہر کی اجازت کے بعد، اپنے گھر میں جس جگہ روزانہ نماز پڑھتی ہے، اسی جگہ پر اعتکاف کرے۔ اگر روزانہ ایک معین جگہ پر نماز ادا نہ کرتی ہو؛ تو وہ عارضی طور پر،ایک جگہ متعین کرلے اور اسی جگہ پر اعتکاف،نماز، تلاوت اور تسبیح واذکار کرے۔

اعتکاف کی بھی قضا ہے:

اگر کوئی شخص واجب اعتکاف میں تھا اور اعتکاف کسی وجہ سےٹوٹ گیا؛ تو اسے اس اعتکاف کی قضا کرنا ضروری ہے۔ قضا میں از سر نو ان تمام ایام کی قضا کرنی ہوگی، جتنے دنوں کی منت اس شخص نے مان رکھی تھی؛ کیوں کہ اس میں تسلسل ضروری ہے۔اگر کوئی شخص رمضان کے آخری عشرہ میں، سنت اعتکاف میں تھا اور اعتکاف کسی وجہ سے ٹوٹ گیا؛ توصرف اس ایک دن کی قضا کرے، جس دن اعتکاف ٹوٹا ہے۔ مگر احتیاط اس میں ہے کہ مکمل دس دن کی قضا کرلے۔ سنت اعتکاف ٹوٹ جانے کے بعد، باقی دنوں کا اعتکاف نفل شمار ہوگا۔ واضح رہے کہ نفل اعتکاف مسجد سے نکلتے ہی ختم ہوجاتا ہے، وہ ٹوٹتا نہیں؛ اس لیے اس کی قضاوغیرہ کا کوئی مسئلہ نہیں۔

اعتکاف کے فضائل:

اعتکاف کے فضائل اور اجر وثواب بہت ہی زیادہ ہیں۔ رمضان کے آخری عشرہ میں سنت اعتکاف ہوتا ہے۔ آخری عشرہ میں اعتکاف کے فضائل وبرکات اس سے سمجھے جاسکتے ہیں کہ نبی –صلی اللہ علیہ وسلم– مدینہ منورہ آمد کے بعد، ایک سال کے علاوہ، ہر سال بڑی پابندی سے رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے۔

عبد اللہ بن عمر –رضی اللہ عنہما– فرماتے ہیں: "كَانَ رَسُولُ اللّهِ –صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ– يَعْتَكِفُ العَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ”. (صحیح بخاری، حدیث: 2025) یعنی رسول اللہ– صلی اللہ علیہ وسلم– رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کیا کرتے تھے۔

رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– نے فرمایا: "مَنِ اعْتَكَفَ عَشْرًا فِي رَمَضَانَ كَانَ كَحَجَّتَيْنِ وَعُمْرَتَيْنِ”. (شعب الایمان 5/436، حدیث: 3680) ترجمہ: جو شخص رمضان کے دس دنوں کا اعتکاف کرتا ہے، تو (اس کا یہ عمل) دو حج اور دو عمرے کی طرح ہے (یعنی اسے دو حج اور دو عمرے کا ثواب ملے گا)۔

رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– نے فرمایا: "مَن اعْتكَفَ إِيمَانًا واحْتسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقدمَ مِن ذَنبِه”. (فیض القدیر 6/74) ترجمہ: جو شخص ایمان کی حالت میں، ثواب کی امید کرتے ہوئے اعتکاف کرتا ہے، اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔

ایک حدیث میں ہے کہ معتكِف جب تک اعتکاف میں رہتا ہے، مسجد میں ہونے کی وجہ سے بہت سے گناہوں سے بچا رہتا، جن کو وہ باہر رہ کر، کرسکتا تھا اور وہ اعمال جسے وہ مسجد سے باہر رہ کر کرتا تھا، جیسے: مریض کی عیادت اور جنازہ کی نماز میں شرکت، مگر اب اعتکاف کی وجہ سے نہیں کرسکتا؛ تو اس کے نہ کرنے پر بھی معتکف کو اس کا پورا ثواب ملےگا۔ حدیث ملاحظہ فرمائے:

رَسُولَ اللّهِ –صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ– قَالَ فِي الْمُعْتَكِفِ: "هُوَ يَعْكِفُ الذُّنُوبَ، وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا”. (ابن ماجہ، حدیث: 1781) رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– نے معتكِف کے سلسلے میں فرمایا: "وہ گناہوں سے رکا رہتا ہے اور ان کی تمام نیکیاں ایسے ہی جاری رہتی ہیں، جیسے وہ ان ساری نیکیوں کو کررہا ہے”۔

اعتکاف سے متعلق چند ضروری مسائل:

(1) اعتکاف کرنے والا طبعی اور شرعی ضروریات کے بغیر، ایک لمحہ کے لیے بھی مسجد کی حدود سے باہر نہ جائے؛ کیوں کہ اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔ (2) معتكِف کے لیے مسجد میں کھانا پینا اور سونا جائز ہے۔ (3) اگر معتكِف نے جان کر کچھ کھا پی لیا؛ تو اس کا روزہ کے ساتھ اعتکاف بھی ٹوٹ جائے اور اعتکاف کی قضا ضروری ہوگی۔ (4) اگر شوہر نے بیوی کو اعتکاف کی اجازت دیدی ہے؛ تو جب تک بیوی اعتکاف میں ہے،خاوند اس کے ساتھ جماع نہیں کرسکتا ہے۔ (5) معتكِف کا طبعی ضرورت ـــــ جیسے: پیشاب، پاخانہ، غسلِ جنابت، اگر کوئی کھانا لانے والا نہ ہو تو کھانے لانے ـــــ کے لیے مسجد سے باہر نکلنا جائز ہے۔ مگر ضرورت سے زیادہ وقت مسجد سے باہر نہ ٹھہرے اور جاتے اور آتے وقت راستہ میں ٹھہر کر کسی سے بات چیت بھی نہ کرے۔ (6) معتكِف ایسی مسجد میں اعتکاف کررہا ہے، جس میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی؛ تو جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے لیے جانے کی اجازت ہے۔ مگر اس جامع مسجد میں "تحیۃ المسجد، جمعہ سے پہلے کی سنت نماز، خطبہ، نمازِجمعہ اور بعد کی سنت نماز” کے بقدر ہی ٹھہرنا جائز ہے۔ اس سے زیادہ وقت ٹھہرنا درست نہیں۔ اگر معتكِف اذان پکارنے کے لیے مسجد سے باہر نکلتا ہے؛ تو یہ بھی درست ہے۔ یہ سب "شرعی ضروریات” میں شمار ہوں گے۔ (7) طبعی اور شرعی ضروریات کےلیے اگر معتكِف مسجد سےباہر نکلے اور راستے پر کوئی بیمار مل جائے، تو چلتے ہوئے بیمار پرسی کرسکتا ہے۔ اسی طرح راستے پر چلتے ہوئے،کسی سے علیک سلیک اورحال دریافت کرنا چاہے؛ توکرسکتا ہے۔ (8) اعتکاف کے لیے خاتون کاحیض یا نفاس سے پاک ہونا ضروری ہے، حیض یا نفاس کی حالت میں اعتکاف درست نہیں ہوگا۔ اگر اعتکاف کی حالت میں حیض آگیا؛ تو اعتکاف ٹوٹ کیا۔ حیض کے ختم ہونے کے بعد، ایک دن کے اعتکاف کی قضا کرلے۔

خاتمہ:

جو شخص اعتکاف کی نیت سے خانۂ خدا میں ہےمقیم ہے، اسے چاہیے کہ اپنے قیمتی اوقات کو ضائع نہ کرے۔ معتكِف کو چاہیے کہ تلاوتِ قرآن کریم، نفل نمازوں، تسبیح وتہلیل، استغفار اور کتب دینیہ کے مطالعہ میں مشغول رہے۔ معتكِف کثرت سے درود شریف پڑھے اور رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم – کو درود وسلام کا تحفہ بھیجتا رہے۔ اگر مسجد میں تعلیم وتعلم یا پھر وعظ ونصیحت یا درس وتدریس کی مجلس لگی ہواور اس میں بھی شرکت کرنا چاہتا ہے؛ تو کرسکتا ہے۔ معتكِف رات میں عبادت میں مشغول رہ کر”لیلۃ القدر” کی فضیلت حاصل کرنے کو جد وجہد کرے۔مختصر یہ کہ جب تک معتكِف مسجد میں ہے، ہر طرح سے خود کو اللہ تعالی کی ذات سے، وابستہ کرنے کی سعی بلیغ کرے اور جو کچھ بھی مانگنا ہو، اس پاک ذات کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلا کر مانگ لے اوراپنے ضروریات کی تکمیل کی درخواست پیش کرے۔ اللہ تعالی تعالی کےسامنے ہاتھ پھیلانے والا کبھی رسوا نہیں ہوتا اور پھیلنے والا ہاتھ بھی کبھی ناکام ونامراد نہیں لوٹتا؛ بل کہ اللہ تعالی ہاتھ پھیلانے والے کو سرخرو رکھتا ہے، اس کی دعاؤں کو قبول فرماکر، اس کی ضروریات کو غیب سے پوری فرماتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی کو شرم آتی ہے کہ ان کا بندہ ان کے سامنے اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر، خیر کا سوال کرے، پھر اللہ تعالی ان ہاتھوں کو ناکام اور خالی لوٹا دیں۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: "إِنَّ اللَّهَ يَسْتَحْيِي أَنْ يَبْسُطَ إِلَيْهِ عَبْدُهُ يَدَيْهِ يَسْأَلُهُ بِهِمَا خَيْرًا فَيَرُدَّهُمَا خَائِبَتَيْنِ”. (مصنف ابن أبی شیبہ، حدیث: 29555) اکبر الہ آبادی رحمہ اللہ نے کیا خوب کہا:

خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبر ــــــــــ یہی وہ در ہے جہاں آبرو نہیں جاتی

صدقہ وخیرات کےبعد احسان مت جتائیے!

صدقہ وخیرات کےبعد احسان مت جتائیے!

از: خورشید عالم داؤد قاسمی ٭

مال اور دولت و ثروت اللہ تعالی کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (ترجمہ) "پھر جب نماز پوری ہوچکے، تو تم زمین پر چلو پھرو اور خدا کی روزی تلاش کرو۔ اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہو، تاکہ تم کو فلاح ہو۔” (سورہ جمعہ/10) ایک دوسری جگہ ہے: ( ترجمہ) "اور مال اور بیٹوں سے ہم تمھاری امداد کریں گے اور ہم تمھاری جماعت بڑھادیں گے۔” (سورہ اسراء/6) نوح -علیہ السلام – کی دعوت و تبلیغ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (ترجمہ) "کثرت سے تم پر بارش بھیجے گا۔ اور تمھارے مال و اولاد میں ترقی دے گااور تمھارے لیے باغ لگادے گااور تمھارے لیے نہریں بہادےگا۔” (سورة نوح/11-12) ان آیات سے پتہ چلا کہ مال ودولت ایک بڑی نعمت ہے۔

جب اللہ نے آپ کو مال و دولت دیا ہو؛ تو اس میں غرباء و مساکین کے جو حقوق ہیں، انھیں فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ کچھ ایسے لوگ ہیں جو غرباء و مساکین کی اس طرح مدد کرتے ہیں کہ داہنے ہاتھ سے دیتے ہیں؛ تو بائیں ہاتھ کو پتہ نہیں چلتا۔ کچھ ایسے اہل ثروت بھی ہیں جن کو اللہ نے مال و دولت تو دیا ہے؛ مگر غرباء و مساکین پر خرچ نہیں کرتے، صدقات و خیرات اور زکاۃ و عطیات جیسے الفاظ سے ناواقف ہیں اور کبھی کبھار خرچ کرتے بھی ہیں؛ تو بخل ان پر غالب آجاتا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ بھی ان کے پاس ہے وہ سب ان کی جدّ و جہد اور سعی و کوشش کا نتیجہ۔ پھر اس میں سے کسی کو کیوں دینا! قیامت کے دن ایسے لوگوں کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ: یہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ ہمارے معاشرہ میں رہنے والے ایک تیسری قسم کے بھی اہل دولت و ثروت ہیں، جو اپنے مال سے صدقات و خیرات تو ضرور کرتے ہیں؛ مگر ان کی نیت اور مقاصد بڑے بھدے ہوتے ہیں۔ وہ جن کو کچھ دیتے ہیں، ان کو اپنی رعایا کے درجے میں اتاڑ لیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ غریب و مسکین، اس کی ہر بات پر اطاعت و فرماں برداری کےلیے حاضر باش ہو اور اس کی کسی بات پر گرفت نہ کرے، چاہے وہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام کیوں نہ کہے۔

اہل ثروت جو کچھ غریب و مسکین اور مجبور و مفلس کو عنایت کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کا شکریہ ادا کر رہا ہے کہ اس ذات نے اس کو یہ دولت دی، اس میں ان غرباء و مساکین کا حق متعین فرمایا ہے اور وہ اس ذمے داری کو ادا کر رہا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ذات باری تعالی اسے اس کا اجر آخرت میں عطا فرمائیں گے ۔ کچھ لوگ دینے کو تو دیتے ہیں؛ لیکن اس کا بدلہ ان غریبوں پر احسان جتا کر وصول کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ فعل نہایت ہی مذموم اور یہ عمل نہایت ہی مطرود ہے، جس پر اللہ تعالی کے یہاں ان سے ضرور پوچھ ہوگی۔

بحیثیت مسلمان یہ ہماری ذمے داری ہے کہ اگر اللہ نے ہمیں مال و دولت دیا ہے؛ تو ہم اسے اللہ کی راہ میں، اللہ کی ہدایت کے مطابق خرچ کریں۔ آج ہم نے قرآن کریم کے فرمان کو فراموش کردیا اور احادیث شریفہ سے حاصل ہونے والے اسباق کو سمجھنےکی ضرورت ہی محسوس نہیں کی؛ ورنہ قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں ایک مومنانہ زندگی بسر کرنے کے حوالے سےتمام پہلووں پر بھرپور مواد موجود ہے۔

قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے: ( ترجمہ) "مناسب بات کہہ دینا اور در گزر کرنا بہتر ہے ایسی خیرات سے، جس کے بعد آزار پہنچایا جاوے اور اللہ غنی ہیں، حلیم ہیں۔” (سورہ بقرہ/263) مفتی محمد شفیع صاحبؒ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: "جو خرچ کرتا ہے وہ اپنے نفع کےلیے کرتا ہے، تو ایک عاقل انسان کو خرچ کرنے کے وقت اس کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ میرا کسی پر احسان نہیں۔ میں اپنے نفع کےلیے خرچ کر رہا ہوں اور اگر لوگوں (مساکین و فقراء) کی طرف سے کوئی ناشکری بھی محسوس ہو؛تو اخلاق الہیہ کے تابع ہو کر، عفو و درگزر سے کام لے۔” (معارف القرآن، 1/632)

آیت مذکورہ سے آگے ارشاد خداوندی ہے: (ترجمہ) "اے ایمان والو! تم احسان جتلا کر اور ایذا پہنچاکر اپنی خیرات کو برباد مت کرو، جس طرح وہ شخص جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھلانے کی غرض سے اور ایمان نہیں رکھتا اللہ پر اور یوم قیامت پر ،سو اس شخص کی حالت ایسی ہے جیسے ایک چکنا پتھر جس پر کچھ مٹی ہو ، پھر اس پر زور کی بارش پڑ جاوے ،سو اس کو بالکل صاف کردے، ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا بھی ہاتھ نہ لگے گی اور اللہ تعالی کافرلوگوں کو رستہ نہ بتلاویں گے۔” (سورہ بقرہ/264) مذکورہ بالا آیت کریمہ جو کچھ بیان کیا گیا اسی مضمون کو اس آیت کریمہ میں مزید موکد کرکے بیان کیا گیا ہے۔ حضرت مفتی صاحب ؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: "اس سے واضح ہوگیا کہ جس صدقہ و خیرات کے بعد احسان جتلانے یا مستحقین کو ایذاء پہنچانے کی صورت ہوجائے، وہ صدقہ باطل، کالعدم ہوجاتا ہے، اس پر کوئی ثواب نہیں۔ اس آیت میں صدقہ کے قبول ہونے کی ایک اور شرط کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جو شخص لوگوں کے دکھاوے اور نام و نمود کے واسطے خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالی اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی صاف پتھر پر کچھ مٹی جم جائے اور اس پر کوئی دانہ بوئے پھر اس پر زور کی بارش پڑجائے اور وہ اس کو بالکل صاف کردے ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا بھی ہاتھ نہ لگے گی، اور اللہ تعالی کافر لوگوں کو راستہ نہ دکھلائیں گے۔ اس سے قبولیت صدقہ و خیرات کی یہ شرط معلوم ہوئی کہ خالص اللہ تعالی کی رضا جوئی اور ثواب آخرت کی نیت سے خرچ کرے، دکھلاوے یا نام و نمود کی نیت سے نہ ہو، نام ونمود کی نیت سے خرچ کرنا، اپنے مال کو برباد کرنا ہے اور آخرت پر ایمان رکھنے والا مومن بھی اگر کوئی خیرات محض نام ونمود اور ریا کےلیے کرتا ہے؛ تو اس کا بھی یہی حال ہے کہ اس کو کوئی ثواب نہیں ملتا۔ پھر اس جگہ "لایؤمن باللہ” کے اضافہ سے شاید اس طرف اشارہ کرنا منظور ہے کہ "ریاء کاری” اور نام و نمود کےلیے کام کرنا، اس شخص سے متصور ہی نہیں جو اللہ تعالی اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ ریاء کاری اس کے ایمان میں خلل کی علامت ہے۔” (معارف القرآن، 1/633)

جس طرح مذکورہ بالا آیتوں سے یہ بات عیاں ہوگئی کہ اگر کوئی شخص صدقہ وخیرات کرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اس کی دھاک ان فقیر و مسکین کے دل میں بیٹھ جائے، یا وہ احسان جتانا چاہتا ہے، یا اس کو ایذاء پہونچانا چاہتا ہے، یا لوگوں کو دکھانے کےلیے صدقہ و خیرات کرتا ہے؛ تو اس کی اللہ تعالی کے یہاں کوئی حیثیت نہیں ہے؛ بل کہ وہ شخص گنہگار ہوگا اور اس کے اس عمل پر ان کو روز محشر سزا دی جائے گی۔ اس کے برخلاف جو شخص اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کےلیے اپنے مال و دولت غرباء و مساکین پر خرچ کرتا ہے، کوئی ریاء و نمود اور شہرت مقصود نہیں ہوتی ہے اور صدقہ وخیرات کر کے کسی پر احسان جتانا مقصد نہیں، ایذاء رسائی ہدف نہ ہو؛ تو اللہ تعالی ایسے شخص کو بہت زیادہ ثواب سے نوازیں گے اور جتنا وہ خرچ کرتا ہے اس کا سات گنا اور بسا اوقات سات سوگنے تک کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں درج کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (ترجمہ) "جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کیے ہوئے مالوں کی حالت ایسی ہے، جیسے ایک دانہ کی حالت، جس سے سات بالیں جمیں، ہر بال کے اندر سو دانے ہوں اور یہ افزونی خدا تعالی جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالی بڑی وسعت والے ہیں، جاننے والے ہیں۔” (سورہ بقرہ/ 261)

اس آیت کریمہ میں، ان لوگوں کےلیے بہت بڑی بشارت اور خوش خبری ہے، جو صرف رضائے اِلٰہی کی خاطر فقیر و مسکین اور یتیم و بیوہ پر خرچ کرتے ہیں۔ وہ خوش خبری یہ ہے کہ وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں، اس کا سات سو گنا ان کو دیا جائے گا۔ اسے ایک حسی مثال سے یوں سمجھایا گیا ہے کہ جیسے کوئی شخص گندم کا ایک دانہ زرخیز زمین میں بوتا ہے، اس ایک دانہ سے ایک ایسا گیہوں کا پودا نکلتا ہے جو سات بالیوں پر مشتمل ہوتاور ہر بالی سوسو دانے کو حاوی ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص ایک روپیہ خرچ کرتا ہے، تو اسے سات سو روپے کا ثواب ملےگا۔ لیکن یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ دینے والے کی نیت خالص ہو اور محض رضائے الہی کے لیے دیا ہو؛ چناں چہ اس آیت کریمہ کے بعد والی آیت اس کی وضاحت یوں کرتی ہے: (ترجمہ) "جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ تو احسان جتلاتے ہیں اور نہ آزار پہنچاتے ہیں، ان لوگوں کو ان کا ثواب ملے گا، ان کے پروردگار کے پاس اور نہ ان پر کوئی خطرہ ہوگااور نہ یہ مغموم ہوں گے ۔” (سورہ بقرہ/ 262)

اگر کوئی شخص اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے؛ تو اللہ تعالی اس کا باقی نہیں رکھتے؛ بل کہ اس سے کہیں زیادہ اس کو نواز دیتے ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے: (ترجمہ) "اور جو چیز تم خرچ کروگے، سو وہ اس کا عوض دےگا۔” (سورہ سبا/ 39) اور ایک دوسری جگہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (ترجمہ) "اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اپنے فائدہ کی غرض سے کرتے ہو، اور تم اور کسی غرض سے خرچ نہیں کرتے، بجز رضا جوئی ذات پاک حق تعالی کے اور جو کچھ مال خرچ کرتے ہو، یہ سب پورا پورا تم کو مل جاوے گا اور تمہارے لیے اس میں ذرا کمی نہ کی جاوے گی۔” (سورہ بقرہ/272)

جو چیز انسان کے لیے مرنے کے بعد باقی رہتی ہے، وہ صدقہ و خیرات ہی ہے؛ نہیں تو جتنی چیزیں دنیا میں جمع کی ہے، ان میں سے کوئی بھی چیز اللہ کے یہاں کام نہیں دےگی اور نہ باقی رہے گی۔ ایک دفعہ جناب محمد رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– کے یہاں بکری ذبح کی گئی اور ایک دست کے علاوہ پورا گوشت تقسیم کردیا گیا۔ آپؐ نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ -رضی اللہ عنہا- سے پوچھا کہ کیا باقی رہا؟ عائشہ صدیقہ -رضی اللہ عنہا- نے جواب دیا کہ صرف ایک دست باقی رہا۔ اس پر آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو گوشت تقسیم کیا گیا ہے وہ باقی ہے۔ یعنی جو گھر میں دست محفوظ تھا وہ باقی نہیں رہا اور جو تقسیم ہوگیا وہ باقی رہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ثواب اللہ کے یہاں ملے گا اور جو گھر میں رہ گیا اس کا ثواب نہیں ملےگا۔ حدیث شریف کا ترجمہ ملاحظہ فرمائے:

حضرت عائشہ ـ رضی اللہ عنہاـ روایت کرتی ہیں کہ "انھوں نے ایک بکری ذبح کی (اور اس کا گوشت فی سبیل اللہ تقسیم کردیا گیا)، تو نبی –صلی اللہ علیہ وسلم– نے سوال کیا: "اس میں سے کچھ باقی ہے؟” حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: صرف ایک دست باقی ہے (یعنی مابقی تقسیم کردیا گیا)۔ پھر آپؐ نے ارشاد فرمایا: "اس کے دست کے علاوہ سب باقی ہے (یعنی جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا وہ سب باقی ہے اور جو بچ کر گھر میں ہے وہ باقی نہیں ہے)۔” (سنن ترمذی، حدیث : 2470)

ایک حدیث ہے کہ جو شخص اپنا مال و دولت پسندیدہ اعمال میں خرچ کرتا ہے؛ تو فرشتے اس کے مال و دولت میں اضافہ کی دعا کرتے ہیں۔ جو شخص اپنا مال و دولت اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، فرشتے اس کے مال کے ضیاع کی دعا کرتا ہے۔ ذیل میں حدیث کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:

"ہر دن جس میں بندے صبح کرتے ہیں، دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما! دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے مال کو ہلاک کردے!” (صحیح بخاری، حدیث: 1442)

بخاری شریف میں ایک دوسری حدیث ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے بھائی کی ضروریات کی تکمیل کرے گا اور اس کی حاجات پوری کرے گا؛ تو اللہ تعالی اس کی ضروریات اور حاجات کی تکمیل غیب سے فرمائیں گے۔ حدیث شریف کا ترجمہ ملاحظہ فرمائے: "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے (مدد چھوڑ کر دشمنوں کے) حوالے کرے۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے؛ تو اللہ اس کی حاجت (غیب سے) پوری کرے گا۔” (صحیح بخاری، حدیث: 2442)

حضرت اسماء بنت ابو بکر ر-ضی اللہ عنہما -فرماتی ہیں کہ وہ نبی کریم -صلی اللہ علیہ وسلم- کی کے پاس آئیں؛ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: "(مال کو )تھیلیوں میں بند کرکے مت رکھو؛ ورنہ اللہ تعالی بھی تیرا (رزق) بند کردیں گے۔ جہاں تک ہوسکے خیرات و صدقات کرتی رہو”۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1434)

خالق کائنات اس دنیا کے نظام کو بدلتے رہتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آج جو مالدار ہے، وہ کل غربت و افلاس میں مبتلا ہوجائے اور جو آج غریب ہے وہ کل امیر ہوجائے۔ حضرت امام ابو یوسف – رحمۃ اللہ علیہ – نے کیا خوب کہا ہے: "المال غاد ورائح”، یعنی مال ودولت ایسی چیز ہے جو صبح آتی ہے اور شام میں رخصت ہوجاتی ہے۔ یہ قادر مطلق اللہ تعالی کا ایک نظام ہے کہ وہ جب چاہتا ہے، اپنے بندوں میں کچھ لوگوں کے دامن کو مال اور دولت سے بھر کر غنی اور بےنیاز کردیتا ہے، اسے کسی کے پاس ہاتھ پھیلانے کی ضرووت نہیں پڑتی اور کچھ لوگوں کو افلاس و مسکنت کی حالت میں رکھ کر، ان کا حق و حصّہ اہل ثروت کے مال و دولت میں رکھ دیتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالی اپنے ہر دو طرح کے بندوں کا امتحان لیتا ہے کہ مال و دولت کی عظیم نعمت پر کون اس ذات پاک کا شکریہ ادا کرتا ہے اور اس نعمت سے محرومی پر کون پیمانۂ صبر کو لبریز نہیں ہونے دیتا ہے۔

آج دنیا میں جہاں بہت سے لوگ غربت و افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں، وہیں کچھ لوگوں کو اللہ تعالی نے مال ودولت کی نعمت سے مالا مال کر رکھا ہے۔ اہل دولت غرباء و مساکین کی دیکھ ریکھ بھی –ماشاء اللہ– بہت اچھے طریقے سے کرتے ہیں۔ مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جو اپنے مال و دولت کو اوّلا غریبوں پر خرچ کرنا نہیں چاہتے اور اگر خرچ کرتے ہیں؛ تو کرنے کے بعد، اپنی نیت اور کم علمی کی وجہ سے، اخروی فائدے سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں؛ اس لیے ہر وہ شخص جس کو اللہ نے مال و دولت کی نعمت عطا کی ہے، وہ بہت بڑی چیز ہے۔ وہ شخص اس کا درست اور مناسب استعمال کرے اور کسی کو دیتے وقت احسان، ایذاء، تند مزاجی اور ریاء و نمو سے پاک ہوکر دے۔ پھر اس کا بےشمار فائدہ ہوگا۔ اس مضمون کا اختتام ایک حدیث کے ترجمہ پر کرتا ہوں:

"بخیل اور خرچ کرنے والوں کی مثال ان دو شخصوں کی طرح ہےجو لوہے کے دو کُرتے (زرہیں) چھاتیوں سے ہنسلیوں تک پہنے ہوں، خرچ کرنے والا جب کچھ خرچ کرتا ہے؛ تو وہ کُرتا پھیل جاتا ہےاور پورے جسم پر بڑھ جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کو چھپالیتا ہےاور نشان قدم مٹانے لگتا ہے۔ بخیل جب کچھ خرچ کرنا چاہتا ہے؛ تو ہر حَلقہ اپنی جگہ چمٹ کررہ جاتا ہے۔وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے، مگر وہ کشادہ نہیں ہوتا”۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1443)

٭ ہیڈ : اسلامک اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا۔

دی اذانیں کبھی یوروپ کے کلیساؤں میں: ہمارے چراغ سے روشن ہوا یورپ

از: محمد مشاہد حسینکرناٹک ،(گلبرگہ)7411740292

آج سے کئی صدیوں پہلے یورپ کی نشاة ثانیہ میں مسلمان اپنے عہد عروج میں یورپ کو علم وثقافت کے چشموں سے سیراب کیا ۔اندلس (اسپین ) جسے یورپ کا استاد کہا جاتا ہے جنہوں نے اندلس میں اعلیٰ درجہ کی جامعات قائم کی اور پھر علم ودانش کی ان یونیورسٹیوں سے یورپ فیضیاب ہوا اور انہوں نے مسلمانوں کی علمی کتابوں سے استفادہ حاصل کیا۔یورپ کے روشن دماغ،دانشور اور فضلاء تھے جنہوں نے تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو روشن کرنے کیلئے مسلمانوں کے چراغ سے اپنا چراغ جلایا ۔آج یورپ کی تہذیب ہماری اقدار کو نظرانداز کرتی ہے لیکن مغربی تہذیب اور وہاں کی تمدنی ورثہ کا سہرا مسلمانوں کے سربند ھاجاسکتا ہے ۔اُس زمانہ میں مسلمان ہی علم کے قافلہ کے سالار اورتہذیب وتمدن کے سرمایہ دار تھے۔علم کی روشنی اندلس ،اٹلی سے ہوتے ہوئی یوروپ تک پہونچی اسپین میں بہت سے علمی مراکز قائم تھے۔ان علمی اداروں میں مسلمانوں کی مشہور تصنیفات کا لاطینی زبان میں ترجمعہ کیا جانے لگا ۔صرف مسلمانوں کے مشہور اسکالر کی کتابوں کے ترجمے نہیں ہوئے۔بلکہ یونا ن کی معروف ومشہور کتابوں کے ترجمے بھی ہوئے جن کو عربوں نے اپنی زبان میں منتقل کیاتھا۔مسلمانوں نے نہ صرف قدیم یونانی ورثہ کی حفاظت کی بلکہ اس میں قابل ذکر اضافے کئے پورے یوروپ پر عربوں کا احسان ہے اورپانچ صدیاں یوروپ میں ایسی گذری ہیں کہ وہاں کی یونیورسٹیاں عربوں کی تصانیف کے سواد وسرے علمی تراجم سے واقف ہی نہ تھیں ۔گویا یہ مسلمان عرب تھے جنہوں نے یوروپ کو علمی ترقی کار استہ دکھا یا۔
اسلامی تہذیب وتمدن کے بارے میں یورپی دانشور نے لکھا ہے کہ ”عربوں نے صدیوں تک عیسائی قوم کی رہنما ئی کی اوریہ عربوں کا احسان ہے کہ ہم روم اور یونان کے قدیم علوم سے واقف ہوئے۔یہی وجہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں تعلیم کے میدان میں عربوں کی تصنیفات کواپنی زبان میں منتقل کر کے۔اس سے فائدہ اٹھایا۔اور ایک یورپین جس نے اپنی کتاب تاریخ سائنس میں یہ اعتراف کیا ہے کہ گیارہویں صدی عیسویں میں علم وحکمت کاحقیقی ارتقاء مسلمانوں کے کارہنِ منت ہے۔اسی طرح سے رابر بریفولٹ نے اپنی کتاب میکنگ آف ہیومینٹی میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ موجودہ دنیا پر اسلامی علوم وفنون کا بڑا احسان ہے۔عربوں نے علم کے تمام چشموں سے علم سے ہم کو فیضیاب کیا۔
آج سے کئی صدیوں پہلے یوروپ ایک پس ماندہ ملک تھا لیکن آج پوری دنیا کا سب سے طاقتور ملک بن گیا ہے ۔اگر ہم یورپ کی تاریخ کواُٹھا کر دیکھیں گے تو ہم کوپتہ چلے گا کہ اصل میں یورپ کی ترقی کے پیچھے چھپے ہوئے ہم ہی ہیں جب اندلس(اسپین) کو ایک مردِ مجاہد طارق بن ضیاد نے فتح کیا تو مسلمان علماء ،دانشور،سائنسدانوں نے یہاں پر اشاعت اسلام کا مرکز قائم کیاا ور علم کاچراغ روشن ہونے لگا تو دنیا بھر سے لوگ تعلیم حاصل کرنے کیلئے آیاکرتے تھے۔اوریہاں یوروپ سے بھی طالبِ علم تعلیم حاصل کرنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ہم معلم تھے اور سب طالبِ علم تھے ۔
اور جب اندلس(اسپین) میں زوال کا وقت آپہنچا تو جب تک یورپ ایک معاشی قوت بن کے اُبھرنے لگا۔اوراندلس میں مسلمانوں کو شکست ہونے کے بعد یورپ کا ایک حصہ بنا اور آج بھی اندلس میں ہماری تعمیرات مساجد(خاص کر کے مسجد قرطبہ) ایک شاندار اور دلچسپ تعمیر کردہ آج بھی موجود ہے۔
لیکن افسوس درافسوس ہم ہماری تاریخ کے بارے میں ہم کو کچھ بھی نہیں معلوم کسی شاعر نے کیاخوب کہا ہے کہ
کس دور پہ نازاں تھی دنیا اب ہم وہ زمانہ بھول گئے
غیروں کی کہانی یاد رہی ہم اپنا فسانہ بھول گئے
اصل میں ہم اپنی تاریخی واقعات کو بھلا بیٹھے ہیں اسلئے درد ر کی ٹھوکر یں کھارہے ہیں۔لیکن یوروپ نے ہمارے سائنس دانوں کے ذریعہ ٹیکنالوجی کے میدان میں وہ کارنامہ انجام دیا جو مسلمان سائنسدانوں نے اُس کی بنیاد ڈالی تھی ۔
ہمارے مسلمان سائنسدانوں کی بیشمار کتابیں کابہت سالوں پہلے ا یورپ کی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔آج بھی یوروپ کی یونیورسٹیوں میں وہ کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔مسلمان سائنس دانوں کے وہ ایجادات آج بھی موجود ہے۔
”ابن الہیشم نے آج سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے کیمرہ ایجاد کیا اور انہوں نے سائنسی دنیا میں ایک ایسی کتاب لکھی جو پورے سائنس کے میدان میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ان کی کتاب المناظر یورپ میں بھی اس کا ترجمہ کیاگیا ہے ۔اورایسے کئی مسلمان سائنسدانوں کی کتابوں کایورپ میں ترجمہ ہواہے۔اور ان کتابوں سے یورپ آج تک فیضیاب ہورہا ہے۔لیکن آج کے مسلمانوں کی بڑی محرومی ہے کہ وہ اس ۔سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے ہیں۔
سائنس مرہُونِ منت ہے ،تہذہبِ حجاز کی
قُرونِ وسطیٰ میں مسلمان سائنسدانوں نے جن سائنسی علوم کی فصل بوئی تھی وہ فصل اب تیار ہوچکی ہے ۔ اورموجودہ دور اُس فصل کی کاشت کرتے ہوئے اُس کے گوناگوں فوائدے فائدہ اُٹھا رہا ہے۔مسلمان جب تک علم کی روِش پر قائم رہے سارے جہاں کے امام اور مقتداء رہے جو انہیں علم سے غفلت برتی ثریات سے ز مین پر آسمان نے ہم کو دے مارا،آج ہم اس کا خمیازہ بُھگت رہے ہیں اورآج ہمارے اسلاف کا سرمایہٴ علمی وفکری اغیار کا اوڑھنا بچھونا ہے۔
آج مغرب اس بات کا مسلمہ طور پر اقرار کرچکا ہے کہ جدید سائنس کی تمام تر ترقی کا انحصار قرونِ وسطیٰ کے مسلماں سائنسدانوں کی فراہم کردہ بنیادوں پر قائم ہے ۔مسلمان سائنسدانوں کو سائنسی نہج پر کام کرنے کی ترغیب قرآن وسنت کی تعلیمات سے حاصل ہوئی تھی۔یہی منشائے ربانی تھا جس کی تکمیل میں مسلمانوں نے ہر شعبہٴ علم کو ترقی دی۔آج اغیار کے ہاتھوں ہی علوم نکتہ کمال کو پہنچ چکے ہیں۔آج ہم اپنے اجداد کے سائنس کا رہائے نمایاں کی پیررو کرنے یا کم از کم فخر کرنے کے بجائے اس سے لاتعلق ہوئے ہیں۔
مذہب اور سائنس دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔اسلام کی پیروی سے مذہب اور سائنس دونوں دینِ مبین کا حصہ ہیں ۔
سائنس کا دائر کار مشاہداتی اورتجرباتی علوم پر منحصر ہے۔جبکہ مذہب اخلاقی وروحانی اور مابعد الطیبعیاتی اُمور سے متعلق ہے سائنس انسانی غور وفکر اور استعداد سے تشکیل پانے والا علم ہے جبکہ مذہب خدا کی طرف سے عطاکردہ علم ہے ۔اس لئے سائنس کا سارا علم امکانات پر مبنی ہے۔جبکہ مذہب کا سارا علم سراسر قطعی ہے اورمذہب کی ہر بات حتمی اوراَمر واجب ہے ۔
خالقِ کائنات نے اس کائنات میں کئی نظام بنائے ہیں اور کائناتی نظام کے حقائق جمع کرنا سائنس کا مطمع نظر ہے ۔اورمذہب یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کو انسان کے لئے پیدا کیا ہے۔سائنس کی ذمہ داری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ عوالم اوراُن کے اندر جاری وساری عوامل کا مطالعہ کرے اورکائنات میں پوشیدہ مختلف سائنسی حقائق کو بنی نوعِ انسان کی فلاح وبہبودی کے لئے استعمال کرے۔
سائنس ،مشاہدے اور تجربے کا دوسرا نا م ہے۔سائنسی طریقِ کار کے بانی معروف مسلمان سائنس دان ابو البرکات صبغت اللہ بغدادی ہیں۔جنہوں نے اسلام کی آفاقی تعلیمات اوراُن کے سائنسی شواہد کے ساتھ مطابقت پر گہرے غور وفکر کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔خدائے بزرگ وبر ترنے اپنے محبوب نبی اکرمﷺ کے ذریعہ اپنے بندوں کو کائنات کے اسرار ورموز پر غور خوض کا جا بجا حکم دیا ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے اسلام کو معجزات ہی کے دائرے میں رکھنے کے بجائے اُسے غور وفکر اور تجربہ اور تجزیہ کرنے کی نمایاں عقلی وفکری چھاپ عطا کی ہے ۔مذہب خالقِ Creatorسے بحث کرتی ہے اور سائنس اللہ تعالیٰ کی پیداکردہ خلق سے (Creatim)اگر انسان ساری کائنات پرغور وفکر اورسوچ وبچارمثبت اورصحیح انداز ے کرتا ہے تو اس تحقیق کے کمال پر پہنچنا انسان کو اللہ تعالیٰ یعنی خالق کی معرفت نصیب ہوگی اور بے اختیار پکار اُٹھے گا۔رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذا بَا طِلَا،(اے ہمارے رب !تونے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا ہے )۔(ماخوذ:یوسف حسین )
سائنس سے دور مسلمانوں کی بڑی محرومی
مسلمانون کے عروج وزوال پر دنیا کے متعدد انشور وں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔اور بیشتر کاخیال ہے کہ سائنس اور ٹکنالوجی سے قربت اورپھر دوری ہی ان کے عروج وزوال کاسبب بنی۔ہندوستان کے مختلف علمائے کرام اور دانشور حضرت نے بھی زوال اسلامی کے کیاسباب پرروشنی ڈالنے کی سعی بھی کی ہے ۔
مولانا ابو الحسن علی ندوی :مسلمانوں نے وقت کی قدر نہ کی اور صدیاں ضائع کردیں برخلاف اس کے یورپی قوموں نے وقت کی قدر کی اورصدیوں کی مسافت برسوں میں لگایا۔مسلمان اپنی علمی روشن بھول گیا او ر مقلدانہ اورروایتی ذہینت کا شکار ہوگیا اور اس طرح سائنس اورٹکنالوجی میں پیچھے رہ گیا اورمغرب نے اسے غلام بنادیا۔
مولانا ابو الکلام آزاد:غفلت اور سرشاری کی بہت سی راتیں بسر ہوچکی ہیں ۔اب خدا کے لئے بستر ہوشی سے سراٹھا کردیکھئے کہ آفتاب کہاں پہنچ چکا ہے آپ کے ہمسفر کہاں تک پہنچ گئے ہیں اورآپ کہا پڑے ہوئے ہیں۔(غبار طاظر،ابو الکلام آزاد)۔اگر تعلیم انسان کے لئے ہے اور اس لئے ہے کہ زمین پر بسنے والے اس پر عمل کریں تو اسی حالت میں اسی صورت میں پیش کرو کہ وہ اسے دیکھ کر گھبرانہ جائیں اور اس لئے ہے کہ اس چیز کو محسوس کیا ہوتا اور اس حقیقت کو تسلیم کیا ہوتا کہ اب دنیا کہاں سے کہاں آگئی ہے اور اس کے بارے میں کہاں تبدیلی ہمیں کرنا ہے لیکن اگر سو برس پہلے ہم نے تبدیلی نہیں کی تو کم از کم یہ تبدیلی اب ہم کو کرلینی چاہئے۔
مولانا شبلی نعمانی :آج(1909)ہندوستان میں موجودہ سلطنت اورپوروپین علوم وفنون کے اثر سے قوم کے خیالات میں معلومات میں عظیم الشان انقلاب پیدا کیاہے ۔ایسی حالت میں کیا وہ علماء قوم کی رہبری کرسکتے ہیں جوآج کل کی تحقیقات آج کل کے خیالات اورآج کل کے حالات میں محض ناآشنا ہوں
مولانا سلیمان ندوی:جدید علوم سے بے خبر علماء اسلام کی سچی خدمت انجام نہیں دے سکتے ہیں ،آج ہم ایک تماشائی بن کرزندہ نہیں رہ سکتے ہیں ۔
سرسید : فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں ہوگا اور نیچرل سائنس بائیں میں اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کا تاج سر پر ۔
حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری:اسلام باتوں سے نہیں قائم ہوسکتا ہے۔اگر دنیا کے بڑے ملکوں کے دوش بدوش کھڑا ہونا ہے تو جدید علوم سیکھنے ہوں گے۔جب کوئی ملک اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوتا تو وہ نہ دین کی خدمت کرسکتا ہے اور نہ دنیا کی ۔
سید وقار حسینی :مسلمانوں نے اٹھا رویں صدی علم کو دو حصوں بانت دیا ۔ایک علوم شریعہ اور دوسرے علوم عقیلہ ،عقلی علوم میں اقتصادیات اور سائنس کو شامل کرکے اسے نچلا درجہ دیاگیا۔وہ بھول گئے کہ قرآن کی روح سے عقلی علوم کو معنویت (Legitimacy)اہمیت اورفرضیت حاصل ہے ۔مزید یہ کہ تمام شرعی علوم بھی عقلی علوم ہیں کیونکہ جب سے مسلمانوں نے اس علمی روشن کو ترک کیا اور غزالی ،ابن رشد اور ابن خلدون وغیرہ کی واضح تحریروں سے منہ موڑ ا سائنس ان کی سرزمین سے منہ موڑ گئی اور خودان کا مذہب بھی زوال اورانحطاط پذیر ہوگیا۔