ولی اللّٰہی نہج پر ایک نئی تفسیری کاوش!

*مفتی رفیق احمد بالاکوٹی

قرآنِ کریم حق تعالیٰ شانہ کا معجزاتی کلام ہے، اس کے اعجاز کا ایک متواتر ثبوت یہ بھی ہے کہ قرنِ اَوّل سے تاحال اس کلامِ معجز کے اسرار و حکم اور معانی و مطالب کے بحر ذخار سے علمائے راسخین اَپنے اَپنے دامن بھرتے چلے آرہے ہیں، مگر کوئی بھی اس بحر ذخار کی تہہ تک رسائی کا دعویٰ نہیں کرسکا، لاکھوں کی تعداد میں تفاسیر وجود میں آنے کے باوجود کوئی یہ نہیں کہہ سکا، نہ کہہ سکتا ہے کہ قرآن کے عجائب و غرائب میں میری کوشش ہی اِنتہاء ہے، باوجود یہ کہ بعض خاصانِ اِلٰہ پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے افاضہٴ خاص کا معاملہ بھی رہا۔
ہاں! یہ ضرور ہوا کہ ہرلاحق نے سابق کی تعبیر و تاویل کے لیے اَنداز و اَلفاظ کی ندرت کا سہارا لینے کی کوشش بہرحال جاری رکھی۔ یہ سلسلہ جب بارہویں صدی ہجری میں ہندوستان میں داخل ہوا تو مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۱۱۴ھ – ۱۱۷۶ھ) کے ذریعہ قرآنِ کریم کی تفہیم کے منفرد اَنداز متعارف ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب نے قرآنِ کریم کی تفہیم، تعبیر اور تاویل کے لیے سابقہ تفسیری اسالیب سے ہٹ کر قرآن میں تدبر و اِعتبار کا ایک ایسا اَنداز دِیا جو نہ صرف قرآنی تعبیر کی نئی نہج تھی، بلکہ قرآنی تعبیر کے لیے کسی نئی نہج کی گنجائش کا عملی ثبوت بھی تھا، تاہم آپ کی اِختیار کردہ نئی نہج کی جدت کے مسلّم بننے کے لیے تعبیر و بیان تک محدود ہونے کی شرط یہاں بھی نظر اَنداز نہیں رہی، بلکہ آپ کی آراء، تأویلات اور توجیہات کو مقامِ حجت پر ماننے کے لیے اہلِ علم نے باقاعدہ شرط رکھی، خود شاہ صاحب کی وصیت بھی تھی کہ آپ کی آراء قبولِ اخبار کے مسلمہ اُصولوں اور روایات کے اِعتباری معیارات سے متصادم نہ ہوں۔
چناں چہ اس نہج پر حضرت شاہ صاحب کی محنت شاقہ میں حق تعالیٰ شانہ کی خاص رہنمائی و معونت شامل حال رہی اور شاہ صاحب کا قرآنی تدبر و اِعتبار کسبی علوم پر مستزاد، وہبی و لدنی علوم سے آراستہ و پیراستہ بھی رہا، جسے حضرت شاہ صاحب فرطِ جذبات میں تجلیاتِ ربانیہ سے استفاضہ اور براہِ راست تلمذ قرآنی سے تعبیر فرماتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ: اس طریق سے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ عزیز کے ایسے عجائب و غرائب مجھ پر منکشف فرمائے ہیں جو شاید اس سے قبل بہت کم لوگوں پر منکشف ہوئے ہوں، مثلاً:تأویل، توجیہ، تنقیح علوم خمسہ، خواص القرآن اور ”فتح الرحمن فی ترجمة القرآن“ میں تقریب، تخصیص اور تعمیم وغیرہ کا اِلتزام شاہ صاحب کا منفرد اِمتیاز ہے۔ (الفوز الکبیر)
شاہ صاحب کے اس بیان سے یہ درس ملتا ہے کہ عجائب قرآنیہ تک رسائی کے لیے کسبی و وہبی علوم کا دروازہ وسیع تر ہے۔ ان عجائب قرآنیہ کو کسی بھی نئے تعبیری ظرف میں محفوظ و منتقل کرنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے، بلکہ قرآنی اعجاز کا مظہر بھی ہے۔
ہرچند حضرت شاہ صاحب نے جب قرآنِ حکیم کو اَپنے غور و فکر کا محور بنایا تو اس کی بدولت ہندوستان میں یہ سنت حسنہ قائم ہوئی کہ قرآنِ کریم کے ترجمہ و تفسیر کو مستقل دِینی مشغلہ کے طور پر اَپنانا قرآنِ حکیم کا لازمی حق ہے، چناں چہ آپ کے اس تفسیری ذوق کو آپ کے نامور صاحبزادگانِ گرامی نے بھی خوب خوب نبھایا۔ آپ کے فارسی ترجمہ قرآن ”فتح الرحمن فی ترجمة القرآن“ کے تقریباً ۵۵/ سال بعد آپ کے فرزند ارجمند حضرت شاہ عبد القادر دہلوی (متوفیٰ:۱۲۳۰ھ) نے ”موضح القرآن“ کے نام سے ۱۲۰۵ھ میں بامحاورہ اُردو ترجمہ لکھا جو قرآنِ کریم کا سب سے اَوّلین اُردو ترجمہ تھا، ترجمہ کے ساتھ مختصر ضرورِی فوائد بھی رقم فرمائے تھے۔ یہ ترجمہ بامحاورہ ہونے کے باوجود مدلولِ قرآنی کے قریب تر ہے، مدلولِ قرآنی کو محاورہٴ زبان پر قربان کرنے کی خرابی سے مبرا ہے۔
دُوسرا ترجمہ حضرت شاہ عبد القادر دہلوی کے بھائی حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی (متوفیٰ: ۱۲۳۳ھ) نے کیا جو تحت اللفظ ترجمہ تھا، یہاں ترجمہ کے لفظ کو قرآن کے لفظ کے قریب رکھنے کا اہتمام ملحوظ رہا، تاکہ کم اِستعداد والے لوگ لفظی ترجمہ بآسانی سمجھ سکیں۔ اسی دور میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (متوفیٰ:۱۲۳۹ھ) نے ۱۲۰۸ھ میں فارسی زبان میں قرآنِ کریم کی مبسوط تفسیر لکھنا شروع کی جو حقائق و معارف میں بلاشبہ امام رازی کی ”تفسیر کبیر“ کے ہم پلہ تھی، مگر وہ پوری نہ ہوسکی، اس کا کچھ حصہ ”تفسیر عزیزی“ کے نام سے متداول ہے۔
الغرض! ہندوستان میں ترجمہ وتفسیر کا سنگ بنیاد حضرت شاہ صاحب اور اُن کے صاحب زادگانِ گرامی نے رکھا۔ پھر یہ فکر حضرت شیخ الہند کی طرف منتقل ہوئی اور اُنہوں نے مالٹا کی قید کے دورِ تنہائی کے مراقبوں اور سوچوں کے بعد یہی نتیجہ اخذ کیا کہ اُمت کو راہِ زوال سے واپس لانے کے لیے قرآنِ حکیم کو اَپنی تدرِیسی محنتوں کا محور بنانے کی ضرورت ہے، اس فکر باکرامت کے نتیجہ میں آپ نے دورانِ قید ہی قرآنِ کریم کا ترجمہ و تفسیر لکھنا شروع فرمایا، جو بعد میں آپ کے نامور شاگرد حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی کی تکمیل کے ساتھ متعارف و متداول ہوا۔
اسی طرح حضرت شیخ الہند کے ایک اور نامور شاگرد حضرت حکیم الامت مولانا اَشرف علی تھانوی نے ۱۳۲۵ھ میں ”بیان القرآن“ لکھی، جسے اُردو تفاسیر میں وہی مقام حاصل ہے جو عربی تفاسیر میں ”تفسیر جلالین“ کو حاصل ہے، جو اَپنی اِفادیت، جامعیت اور مقبولیت میں ثریٰ سے ثریا تک پہنچ گئی ہے۔ (اِبتدائیہ، معارف القرآن، حضرت کاندھلوی)
قرآنِ کریم کو مستقل جداگانہ اِمتیازی اہمیت کے ساتھ پڑھنے پڑھانے کا رواج جب عام ہوا اور اہلِ علم و اصحابِ دانش نے حضرت شیخ الہند کی تشخیص کے مطابق اُمت کو راہِ زوال سے بامِ ترقی کی طرف لانے کے لیے قرآنی تعلیم، درسِ قرآن اور ترجمہ و تفسیر کی اہمیت کا جہاں اِدراک کیا، وہاں اس اہم کام کی آڑ لے کر تجددپسندوں کی ایک بڑی کھیپ نے قرآنِ کریم کو اَپنے تجدد پسندانہ مغربی یا اِستشراقی افکار کی تخریج و تبلیغ کا ذریعہ بھی بنالیا، جس کے نتیجہ میں اعتزالِ قدیم نئی تعبیر کے ساتھ فکری وباء بننا شروع ہوگیا۔ اِس سلسلہ میں جناب حمید الدین فراہی کا مدرسة الاصلاح اور سرسیّد اَحمد خان کا مکتب فکر طاقت ور فکری و علمی اور فلسفی فتنہ کے طورپر رونما ہوئے، جنہوں نے قرآنِ کریم کے ترجمہ و تفسیر کے نام پر تأویل و تحریف کا فریضہ نا مرضیہ اَدا کیا اور قرآنی تعلیمات کو مغربی تہذیب و تمدن سے ہم رنگ یا تابع محض ثابت کرنے کی خدمت انجام دِی۔ حضرت مولانا محمد اِدرِیس کاندھلوی کے بقول ان آزاد مفسروں کی ہمہ تن یہ کوشش رہی کہ لفظ عربی ہوں اور معنی مغربی ہوں اور یورپ کے ملحدین کے خیالات کو قرآن کے نام سے مسلمانوں میں پھیلایا جائے۔ یہ گروہ قرآنِ کریم کا مترجم اور مفسر نہیں، بل کہ یورپ کے نفسانی تمدن کا مترجم ہے۔ حضرت کاندھلوی اَپنی ”معارف القرآن“ کی تالیف کا مقصد بھی یہ بتاتے ہیں، اس فتنہ سے مسلمانوں کو بچایا جائے، آپ کی کوشش رہی ہے کہ مغربیت و عصریت کے نفسانی تقاضوں سے مرعوب ہوکر قرآنِ کریم کے مدلول اور مفہوم کو نہ بدلا جائے۔
نیز فراہی صاحب، خان صاحب اور اس ڈگر کے جدت پسند مغربی افکار کے علم برداروں سے دِفاع کے لیے علماء دیوبند میں سے مولانا عبد الحق حقانی دہلوی (متوفیٰ: ۱۳۳۶ھ، ۱۹۱۷ء) نے اکابرِ دیوبند کی ہدایت پر ”فتح المنان فی تفسیر القرآن“ المعروف بہ ”تفسیر حقانی“ لکھی، اور جناب مولانا عبد الماجد دریا بادی نے ”تفسیری ماجدی“ میں مغرب زدہ لوگوں کے افکارِ کاسدہ اور تحریفاتِ باطلہ کی نشان دہی کو خاص ہدف بنایا، ان کے علاوہ خود دارالعلوم دیوبند میں تقریباً ۱۳۳۸ھ میں مجلس معارف القرآن (اکیڈمی قرآن عظیم) کے نام سے باقاعدہ مستقل شعبہ قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد قرآنِ حکیم کے معارف و محاسن، اسرار و حکم اور احکام و آداب کو تعبیر کی جدت و سہولت کے ساتھ عام کرنا تھا، نیز عصری مسائل کو قرآنِ حکیم کی روشنی میں حل کرنا اور قرآنِ حکیم سے رہنمائی و روشنی حاصل کرنے کی ترغیب اور اُمنگ پیدا کرنا ہدف تھا۔
اِس شعبہ کے لیے حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کے زیر نگرانی مختلف اکابر نے کام کیا،پھر اسی فکر کے تحت دار العلوم دیوبند اور اس کے طرزِ تعلیم سے وابستہ مدارس میں ”شیخ الحدیث“ اور ”صدر مدرّس“ کی طرح باقاعدہ ”شیخ التفسیر“ کا ایک عہدہ مقرر تھا۔ دارالعلوم دیوبند کے پہلے ”شیخ التفسیر“ کے طور پر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی کا نام ملتا ہے۔ آپ ۱۹۲۹ء میں دارالعلوم دیوبند میں تدریس کے دوران فجر کے بعد نودرہ میں درسِ قرآن دیتے تھے۔ درمیان میں کچھ عرصہ دارالعلوم دیوبند سے علیحدگی کے بعد دوبارہ ۱۹۳۹ء میں علامہ شبیر اَحمد عثمانی اور حضرت مولانا قارِی محمد طیب کی دعوت پر دُوبارہ ”شیخ التفسیر“ کی حیثیت سے دارالعلوم دیوبند سے وابستہ ہوئے۔
ہمارے حضرت بنوری ڈابھیل اور پھر ٹنڈوالٰہ یار میں اِبتدائی طور پر ”شیخ التفسیر“ کے عہدہ سے مصروفِ خدمت رہے تھے، حضرت بنوری نے اپنی تألیف لطیف ”یتیمة البیان فی مقدمة مشکلات القرآن“ میں تفسیر کے بنیادِی اُصول و آداب کے علاوہ تفسیر کے جدید و قدیم مناہج میں سے مفید و مضر تفاسیر کی نشان دہی کے لیے کئی تفاسیر اور ان کے تفسیری اُسلوب کا تعارف بھی کرایاہے، بالخصوص ہندوستان کے مفسرین اور اُن کی تفاسیر کاسیر حاصل تذکرہ فرمایا ہے، جس سے بہ خوبی اَندازہ ہوسکتا ہے کہ ہندوستان میں قرآنِ حکیم کی تفسیری خدمت کی معیارِی کوششوں کے علاوہ تحریفی کاوشیں بھی بہ مقدارِ وافر رہی ہیں۔ تفسیر کے نام پرتحریف قرآن کے اس سیلاب کے سامنے بند باندھنے کے لیے علماء دیوبند نے جہاں تحریری و تقریری اَنداز میں قرآنِ حکیم کے الفاظ و معانی کی حفاظت کا فرض نبھایا، وہاں مستقل تدریسی مشغلہ اور ”دورہٴ تفسیر“ کے نام سے بھی خدمات انجام دیں۔
متحدہ ہندوستان میں ولی اللّٰہی اَنداز میں قرآنِ کریم کو اَپنے تدبر و اِعتبار کا محور بنانے والوں میں ایک نامور ہستی مولانا عبیداللہ سندھی بھی گزرے ہیں، جو اَپنے تحریکی مشاغل اور اُن کے اثرات کے باوجود وہ اس کوشش میں سرخرو ہوکر گئے کہ قرآنِ کریم کو مستقل طور پر دِیگر علوم و معارف سے زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ آپ کی یہ فکر آپ کے تفسیری ذوق اور فکری شعور کے ساتھ حضرت لاہوری کے اس سوز و گداز سے دمج ہوگئی جو سوز اُنہیں حضرت شیخ الہند اور اکابر دیوبند سے منتقل ہوا تھا، چناں چہ حضرت امام لاہوری نے تقریباً ۱۹۲۱ء میں لاہور میں دورہٴ تفسیر کا باقاعدہ آغاز فرمایا، جس میں دیوبند اور دِیگر مدارس کے فضلاء شریک ہوتے تھے۔ (پرانے چراغ، مولانا ابو الحسن ندوی)
آپ کے تلامذہ نے آپ کے دورہٴ تفسیر کی جو خصوصیات ضبط فرمائی ہیں، ان میں روایتی تفسیری اَنداز کی نمایاں خصوصیات، ربط سور، ربط رکوعات، ربط آیات، خلاصہٴ مضامین، مضامین کے عناوین، اسبابِ نزول کی نشان دہی اور تذکیر کی مختلف جہات کے علاوہ خاص اِمتیازی بل کہ اِلہامی خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے قرآنِ کریم کو ایک نظری کتاب سے زیادہ عملی دستورِ حیات کے طور پر سمجھانے کی تحلیلی اَنداز میں کوشش فرمائی تھی، جس کا حاصل یوں بنتا ہے کہ قرآنِ کریم ایک مسلمان کی عملی زندگی کو تین جہات سے اِحاطہ کرتا ہے: اِنفرادِی زندگی، عائلی زندگی اور تمدنی زندگی۔ جس کی تعبیر حضرت شاہ ولی اللہ کے علوم سے یوں مستعار لی گئی ہے: تہذیب الاخلاق، تدبیرِ منزل اور سیاست مدنیہ۔ تہذیب الاخلاق کے زیرِ عنوان خالق ومخلوق کے باہمی تعلق اور اس کے لوازم سے بحث ہوتی ہے، تدبیرِ منزل کے تحت اُن احکام وآداب کی نشان دہی کی جاتی ہے، جو مسلمان کے گھر اور اس کے متعلقات یعنی اقارب یا اجانب میں سے اہلِ دیوان، اہلِ محلہ یا قریبی سوسائٹی سے متعلق ہوں، ایسے مباحث کو اُجاگر کرنا تدبیرِ منزل کا معنون ٹھہرتا ہے۔
مسلمان اِنفرادِی زندگی سنوار کر جب عائلی زندگی اور سماجی زندگی میں مثبت قدم رکھتا ہے تو اُس کی اَگلی منزل ریاستی ہے، جسے اِنسان کے سماجی عروج کی آخری منزل بھی کہتے ہیں، اس مرحلہ کے لیے قرآنی تعلیمات کی نشان دہی ”سیاست مدنیہ“ کے زیرعنوان کی جاتی ہے، اس میں قوم و ملت کی ریاستی زندگی کے طور طریقے بتائے جاتے ہیں۔ اس پر مستزاد حضرت شاہ صاحب کے ہاں قرآنی علوم کی خماسی تقسیم یعنی علم الاحکام، علم المخاصمة، علم التذکیر بآلاء اللّٰہ، علم التذکیر بایام اللّٰہ اور علم التذکیر بالموت وما بعد الموت؛ کا اِستعمال و اِستفادہ بھی حضرت لاہوری کے درس اور درسی اِفادات میں مناسب اَنداز سے جھلکتا ہے۔
بہرکیف! قرآنِ حکیم کو جب اس تطبیقی، ترکیزی، تحلیلی اور اِستنباطی اَنداز سے پڑھا اور پڑھایا جائے تو یقینا یہ انداز قرآنِ کریم کی جامعیت اور عالمگیر اِفادیت کا عملی ثبوت ہوگا۔ درسِ قرآن کریم کی یہ خصوصیت دِیگر شیوخِ تفسیر کے دورہائے تفسیر میں شاید نہ مل سکے، اِس لیے کیا ہی غنیمت ہوگی کہ حضرت لاہوری کے تفسیری اِفادات کو اِس اَنداز سے منظر عام پر لایاجائے۔ یہ خدمت اُمت مسلمہ کے لیے بالعموم اور علماء و طلباء دِین کے لیے بالخصوص تعلیمی و تدرِیسی میدان میں عظیم اِنقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی اور قرآنِ کریم کے دُروس کے نام پر بعض فرسودہ عنادی طرزِ تفسیر اور عامیانہ تجدد پسندی کی لغویانہ حرکتوں سے نجات بھی مل جائے گی۔ اِن شاء اللہ!
ہمیں یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی اور ہم اِس خوشی میں دِیگر علماء و طلباء کو بھی شریک کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت لاہوری کے دورہٴ تفسیر سے مستفید ہونے والوں میں سے آپ کے ایک نامور شاگرد، پاکستان کے ممتاز عالمِ دِین حضرت مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہم بھی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے پناہ عملی مشاغل اور سیاسی ہنگامہ آرائی کی زد میں رہنے کے باوصف، علمی دُنیا کے بلند مقام سے نواز رکھا ہے، جسے محض حق تعالیٰ شانہ کا فضل اور مولانا موصوف کے عظیم، باکرامت ولی، پدرِ مکرم مولانا عبد الحق صاحب قدس سرہ کی زندہ کرامت ہی کہا جاسکتا ہے۔
اُنہوں نے حال ہی میں ہمارے بزرگ و شیخ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب زیدمجدہم کے نام ایک تفصیلی خط بھیجا، جس کے ہمراہ حضرت لاہوری کے تفسیری اِفادات کے مسودے کا اِبتدائی نمونہ بھی شرفِ نظر بنا، اس مراسلت کے ذریعہ معلوم ہوا کہ مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہم نے ۱۹۵۸ء میں حضرت لاہوری سے دورہٴ تفسیر پڑھا تھا، دورانِ درس آپ کے تفسیری اِفادات کو جمع بھی فرماتے رہے، جو ایک مجموعہ کی شکل میں محفوظ ہوگئے تھے، اس مجموعہ کو مرتب و مدوّن کرنے کا دیرینہ داعیہ‘ جب رو بعمل ہونے لگا، تو اس مجموعہ کے سن تسوید سے دو چار سال قبل اور دو چار سال بعد کی اِمالی سے اِستفادہ بھی کیا گیا اور حسب ضرورت حضرت لاہوری کے مطبوعہ علمی اِفادات سے راہ نمائی بھی لی گئی۔
اس طرح یہ مجموعہ بحمد اللہ! تیار ہوچکا ہے۔ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ محنت شاقہ کا یہ ثمرہ تقریباً پندرہ (۱۵) جلدوں میں منظر عام پر آئے گا، جسے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے اِلہامی و لدنی اِفادات سے آراستہ اور مولانا عبید اللہ سندھی کے ”الاعتبار والتاویل“ سے معمور ہونے کا منفرد اِعزاز حاصل ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس معتمد و مستند طریق سے جب ہمیں حضرت امام شاہ ولی اللہ اور حضرت سندھی کے افادات و افکار پڑھنے کو ملیں گے تو ان بزرگوں کے نام پر ”فکرولی اللّٰہی“ جیسے نیم جان فتنوں کی دروغ بافتگی کے تارو پود اُدھڑ جائیں گے، اِن شاء اللہ! وہو الموفق لکل خیر ومیسّر لکل عسیر!