ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا

ازقلم : جناب عطاء الحق قاسمی صاحب
ہمارے ذہنوں میں مولوی کا تصور وہی ہے جو آدھی رات کو مسجد کے چیختے چنگھاڑتے لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے ہم تک پہنچاہے یا سیاسی مولویوں کی دو عملی ہمارے ذہنوں میں مولوی کا امیج مسخ کرنے کا باعث بنی ہے لیکن میں ’’مولویوں‘‘ میں اٹھتا بیٹھتا ہوں۔ ان کے مثبت اور منفی پہلو دونوں میرے ذہن میں ہیں۔ وہ جو صحیح معنوں میں مولوی ہیں، ان کا وژن بہت وسیع ہے۔ مسٹر حضرات ان کی جہتوں سے واقف ہی نہیں ہیں۔ ان کا طرز استدلال بڑے بڑے بزرجمہروں کا منہ بند کرنے والا ہوتا ہے ۔ہمارے مسٹر حضرات مولوی پر جہاں اور بہت سے اعتراضات کرتے ہیں، وہاں وہ بہت عرصے سے مولوی کو مسلم امہ کے ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کا ذمہ دار بھی ٹھہراتے ہیں اور ہم لوگ ان کی بات پر یقین کرتے چلے جاتے ہیں۔
مجھے گزشتہ روز ڈاک میں مولانا زاہد الراشدی کی شائع شدہ ایک تحریر ملی جو انہوں نے مدرسہ اسلامیہ محمودیہ سرگودھا کے سالانہ اجتماع کے موقع پر کی تھی۔ اس میں مولانا نے دیگر الزامات کے علاوہ اس الزام کا جواب بھی دیا ہے جو مولوی حضرات پر مسلمانوں کے ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ مجھے مولانا کی بات میں وزن محسوس ہوا ہے اور یوں صورت حال ’ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا‘ والی لگتی ہے۔ مولانا کی تقریر سے ایک طویل اقتباس درج ذیل ہے :
’’سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے آج ہم دنیا میں اپنے جائز مقام سے محروم ہیں اور ہمارے مصائب وآلام کی ایک بڑی وجہ یہ ہے۔ صرف ایک مثال سے بات سمجھیے کہ اللہ تعالیٰ نے آج سے پون صدی یا ایک صدی قبل ہم مسلمانوں کو بہت بڑی دولت سے نوازا۔ خلیج میں تیل کی دولت دی۔ یہ ہمارا ادبار کا دور تھا، زوال کا دور تھا مگر اس دور میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے وقت کی سب سے بڑی دولت عطا فرمائی لیکن ہماری حالت یہ تھی کہ ہم تیل زمین سے نکالنے کی صلاحیت سے محروم تھے، چشمے کھودنے کی تکنیک سے بے بہرہ تھے، تیل نکال کر اسے ریفائن کرنے کی صلاحیت سے ہم کورے تھے اور تیل کو ریفائن کرنے کے بعد دنیا کی مارکیٹ میں بیچنے کے لیے مارکیٹنگ کی صلاحیت بھی ہم میں موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے ہم مغربی ماہرین کو بلانے پر مجبور ہوئے۔ مغربی ماہرین آئے، پھر مغربی کمپنیاں آئیں، ان کے بعد بینک آئے، پھر سیاست کار آئے اور ان کے ساتھ مغرب کی فوجیں بھی آ گئیں جو آج تیل کے چشموں کا گھیرا ڈالے بیٹھی ہیں۔
ذرا خیال کیجیے کہ تیل ہمارا، چشمے ہمارے، کنویں ہمارے، زمین ہماری لیکن ان پر قبضہ کس کا ہے؟ اور کس وجہ سے ہے؟ یہ ہماری نااہلی تھی کہ ہم تیل نکالنے، صاف کرنے اور عالمی مارکیٹ میں اسے بیچنے کی صلاحیت سے محروم تھے جس کی وجہ سے مغرب سے ماہرین آئے اور آج ماہرین، کمپنیاں، بینک اور پھر فوجیں خلیج میں تسلط قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ تیل نکالنے، صاف کرنے اور مارکیٹنگ کی صلاحیت آج بھی ہم میں موجود نہیں ہے اور مغرب کے ارادے یہ ہیں کہ ابھی امریکی وزارت دفاع پینٹاگون میں یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر سعودی عرب نے امریکی احکامات کی من وعن تابع داری نہ کی تو اس کے تیل کے چشموں پر قبضہ کر لیا جائے گا اور مغربی ملکوں میں اس کے اثاثے اور مغربی بینکوں میں اس کے اکاؤنٹس ضبط کر لیے جائیں گے۔
اس لیے ہمیں اس کی تکلیف زیادہ ہے اور ہم اس کا درد زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اس پر ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنا چاہیے اور میں ہر اس شخص کو جس کے دل میں انصاف کی ایک رتی بھی موجود ہے اور ضمیر نام کی کوئی چیز وہ اپنے پاس رکھتا ہے، دعوت دیتا ہوں کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اس بات کا جائزہ لے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں امت کی محرومی کا ذمہ دار کون ہے؟
میں تاریخ کے حوالے سے بات کروں گا۔ جب ۱۸۵۷ء کے بعد انگریز حکمرانوں نے ہمارا پورا نظام تلپٹ کر دیا تھا، دینی مدارس ختم کر دیے تھے، نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا اور ہر چیز الٹ پلٹ کر رکھ دی تھی تب دو طبقے سامنے آئے تھے اور انہوں نے ملت کو سہارا دیا تھا۔ دونوں نے الگ الگ شعبوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ علماے کرام نے قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھنے کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی اور اسلامی ثقافت اور تہذیب کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے عوام سے تعاون کے لیے رجوع کیا، چندے مانگے، گھر گھر دستک دے کر روٹیاں مانگیں، زکوٰۃ وصدقہ کے لیے دست سوال دراز کیا اور سرکاری تعاون سے بے نیاز ہو کر عوامی تعاون کے ساتھ قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھنے اور اسلامی تہذیب وثقافت کے آثار کو بچانے کے لیے کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایک ایک دروازے پر دستک دی، سر پر چنگیر رکھ کر گھر گھر سے روٹیاں مانگیں، ہاں ہاں میں نے خود روٹیاں مانگی ہیں، اور مجھے اس پر فخر ہے۔ میں نے اپنی طالب علمی کے دور میں گوجرانوالہ کے کئی محلوں میں سر پر چھابہ رکھ کر روٹیاں مانگی ہیں۔ ہم نے اپنی عزت نفس کی پروا نہیں کی، طعنے سنے ہیں، بے عزتی برداشت کی ہے لیکن قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھا ہے جس کی گواہی آج دشمن بھی دے رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور طبقہ سامنے آیا جس نے قوم کو جدید علوم سے بہرہ ور کرنے کی ذمہ داری قبول کی، سائنس اور ٹیکنالوجی پڑھانے کا وعدہ کیا، انگریزی اور جدید زبانوں کی تعلیم اپنے ذمے لی۔ انہیں اس کام کے لیے ریاستی مشینری کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور انہوں نے قومی خزانے کے کھربوں روپے خرچ کر ڈالے۔ انہیں سرکاری وسائل میسر تھے، ریاستی پشت پناہی حاصل تھی لیکن وہ قوم کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں آج کی قوموں کے برابر نہ لا سکے اور آج اپنی ناکامی کی ذمہ داری مولوی کے سرتھوپ کر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں آج کی اجتماعی دانش سے سوال کرتا ہوں کہ وہ انصاف سے کام لے اور یہ فیصلہ کرے کہ نااہل کون ثابت ہوا اور اپنی ذمہ داری کس نے پوری نہیں کی؟ آج اگر ملک کے کسی گوشے میں دینی تعلیم کا انتظام نہیں ہے، قرآن وسنت کی راہ نمائی لوگوں کو میسر نہیں ہے اور اسلام کی آواز نہیں لگ رہی تو ہم مجرم ہیں لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی میں دوسری قوموں سے پیچھے رہنے کی ذمہ داری ہم پر نہ ڈالیے۔ یہ نا انصافی ہے۔ اس کے بارے میں ان سے پوچھیے جنہوں نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اس کے لیے سرکاری خزانے کے کھربوں روپے اب تک انہوں نے خرچ کر ڈالے ہیں۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو مساجد میں نماز پڑھانے کے لیے امام میسر ہیں؟ قرآن کریم کی تعلیم کے لیے قاری مل رہے ہیں؟ رمضان میں قرآن سنانے کے لیے حافظ مل جاتے ہیں؟ جمعہ پڑھانے کے لیے خطیب موجود ہیں؟ مسئلہ بتانے والے مفتی صاحبان کی کمی تو نہیں؟ دینی راہ نمائی دینے کے لیے علماے کرام سے ملک کا کوئی گوشہ خالی تو نہیں؟ اس سے اگلی بات کہ میدان جنگ میں کفر کے خلاف صف آرا ہونے والے مجاہدین بھی ان مدارس سے آپ کو مل رہے ہیں یا نہیں؟ اگر یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو دینی مدارس پر اعتراض کس بات کا ہے؟
حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی آج ہی ایک محفل میں فرما رہے تھے کہ انہوں نے وفاقی وزرا سے کہا ہے کہ سرکاری نصاب تعلیم اور نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قومی کمیشن قائم کیجیے اور ہمیں اور سرکاری تعلیم کے ذمہ داروں کو اس کے سامنے پیش کیجیے۔ ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا.

ولی اللّٰہی نہج پر ایک نئی تفسیری کاوش!

*مفتی رفیق احمد بالاکوٹی

قرآنِ کریم حق تعالیٰ شانہ کا معجزاتی کلام ہے، اس کے اعجاز کا ایک متواتر ثبوت یہ بھی ہے کہ قرنِ اَوّل سے تاحال اس کلامِ معجز کے اسرار و حکم اور معانی و مطالب کے بحر ذخار سے علمائے راسخین اَپنے اَپنے دامن بھرتے چلے آرہے ہیں، مگر کوئی بھی اس بحر ذخار کی تہہ تک رسائی کا دعویٰ نہیں کرسکا، لاکھوں کی تعداد میں تفاسیر وجود میں آنے کے باوجود کوئی یہ نہیں کہہ سکا، نہ کہہ سکتا ہے کہ قرآن کے عجائب و غرائب میں میری کوشش ہی اِنتہاء ہے، باوجود یہ کہ بعض خاصانِ اِلٰہ پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے افاضہٴ خاص کا معاملہ بھی رہا۔
ہاں! یہ ضرور ہوا کہ ہرلاحق نے سابق کی تعبیر و تاویل کے لیے اَنداز و اَلفاظ کی ندرت کا سہارا لینے کی کوشش بہرحال جاری رکھی۔ یہ سلسلہ جب بارہویں صدی ہجری میں ہندوستان میں داخل ہوا تو مسند الہند حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۱۱۴ھ – ۱۱۷۶ھ) کے ذریعہ قرآنِ کریم کی تفہیم کے منفرد اَنداز متعارف ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب نے قرآنِ کریم کی تفہیم، تعبیر اور تاویل کے لیے سابقہ تفسیری اسالیب سے ہٹ کر قرآن میں تدبر و اِعتبار کا ایک ایسا اَنداز دِیا جو نہ صرف قرآنی تعبیر کی نئی نہج تھی، بلکہ قرآنی تعبیر کے لیے کسی نئی نہج کی گنجائش کا عملی ثبوت بھی تھا، تاہم آپ کی اِختیار کردہ نئی نہج کی جدت کے مسلّم بننے کے لیے تعبیر و بیان تک محدود ہونے کی شرط یہاں بھی نظر اَنداز نہیں رہی، بلکہ آپ کی آراء، تأویلات اور توجیہات کو مقامِ حجت پر ماننے کے لیے اہلِ علم نے باقاعدہ شرط رکھی، خود شاہ صاحب کی وصیت بھی تھی کہ آپ کی آراء قبولِ اخبار کے مسلمہ اُصولوں اور روایات کے اِعتباری معیارات سے متصادم نہ ہوں۔
چناں چہ اس نہج پر حضرت شاہ صاحب کی محنت شاقہ میں حق تعالیٰ شانہ کی خاص رہنمائی و معونت شامل حال رہی اور شاہ صاحب کا قرآنی تدبر و اِعتبار کسبی علوم پر مستزاد، وہبی و لدنی علوم سے آراستہ و پیراستہ بھی رہا، جسے حضرت شاہ صاحب فرطِ جذبات میں تجلیاتِ ربانیہ سے استفاضہ اور براہِ راست تلمذ قرآنی سے تعبیر فرماتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ: اس طریق سے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ عزیز کے ایسے عجائب و غرائب مجھ پر منکشف فرمائے ہیں جو شاید اس سے قبل بہت کم لوگوں پر منکشف ہوئے ہوں، مثلاً:تأویل، توجیہ، تنقیح علوم خمسہ، خواص القرآن اور ”فتح الرحمن فی ترجمة القرآن“ میں تقریب، تخصیص اور تعمیم وغیرہ کا اِلتزام شاہ صاحب کا منفرد اِمتیاز ہے۔ (الفوز الکبیر)
شاہ صاحب کے اس بیان سے یہ درس ملتا ہے کہ عجائب قرآنیہ تک رسائی کے لیے کسبی و وہبی علوم کا دروازہ وسیع تر ہے۔ ان عجائب قرآنیہ کو کسی بھی نئے تعبیری ظرف میں محفوظ و منتقل کرنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے، بلکہ قرآنی اعجاز کا مظہر بھی ہے۔
ہرچند حضرت شاہ صاحب نے جب قرآنِ حکیم کو اَپنے غور و فکر کا محور بنایا تو اس کی بدولت ہندوستان میں یہ سنت حسنہ قائم ہوئی کہ قرآنِ کریم کے ترجمہ و تفسیر کو مستقل دِینی مشغلہ کے طور پر اَپنانا قرآنِ حکیم کا لازمی حق ہے، چناں چہ آپ کے اس تفسیری ذوق کو آپ کے نامور صاحبزادگانِ گرامی نے بھی خوب خوب نبھایا۔ آپ کے فارسی ترجمہ قرآن ”فتح الرحمن فی ترجمة القرآن“ کے تقریباً ۵۵/ سال بعد آپ کے فرزند ارجمند حضرت شاہ عبد القادر دہلوی (متوفیٰ:۱۲۳۰ھ) نے ”موضح القرآن“ کے نام سے ۱۲۰۵ھ میں بامحاورہ اُردو ترجمہ لکھا جو قرآنِ کریم کا سب سے اَوّلین اُردو ترجمہ تھا، ترجمہ کے ساتھ مختصر ضرورِی فوائد بھی رقم فرمائے تھے۔ یہ ترجمہ بامحاورہ ہونے کے باوجود مدلولِ قرآنی کے قریب تر ہے، مدلولِ قرآنی کو محاورہٴ زبان پر قربان کرنے کی خرابی سے مبرا ہے۔
دُوسرا ترجمہ حضرت شاہ عبد القادر دہلوی کے بھائی حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی (متوفیٰ: ۱۲۳۳ھ) نے کیا جو تحت اللفظ ترجمہ تھا، یہاں ترجمہ کے لفظ کو قرآن کے لفظ کے قریب رکھنے کا اہتمام ملحوظ رہا، تاکہ کم اِستعداد والے لوگ لفظی ترجمہ بآسانی سمجھ سکیں۔ اسی دور میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (متوفیٰ:۱۲۳۹ھ) نے ۱۲۰۸ھ میں فارسی زبان میں قرآنِ کریم کی مبسوط تفسیر لکھنا شروع کی جو حقائق و معارف میں بلاشبہ امام رازی کی ”تفسیر کبیر“ کے ہم پلہ تھی، مگر وہ پوری نہ ہوسکی، اس کا کچھ حصہ ”تفسیر عزیزی“ کے نام سے متداول ہے۔
الغرض! ہندوستان میں ترجمہ وتفسیر کا سنگ بنیاد حضرت شاہ صاحب اور اُن کے صاحب زادگانِ گرامی نے رکھا۔ پھر یہ فکر حضرت شیخ الہند کی طرف منتقل ہوئی اور اُنہوں نے مالٹا کی قید کے دورِ تنہائی کے مراقبوں اور سوچوں کے بعد یہی نتیجہ اخذ کیا کہ اُمت کو راہِ زوال سے واپس لانے کے لیے قرآنِ حکیم کو اَپنی تدرِیسی محنتوں کا محور بنانے کی ضرورت ہے، اس فکر باکرامت کے نتیجہ میں آپ نے دورانِ قید ہی قرآنِ کریم کا ترجمہ و تفسیر لکھنا شروع فرمایا، جو بعد میں آپ کے نامور شاگرد حضرت علامہ شبیر اَحمد عثمانی کی تکمیل کے ساتھ متعارف و متداول ہوا۔
اسی طرح حضرت شیخ الہند کے ایک اور نامور شاگرد حضرت حکیم الامت مولانا اَشرف علی تھانوی نے ۱۳۲۵ھ میں ”بیان القرآن“ لکھی، جسے اُردو تفاسیر میں وہی مقام حاصل ہے جو عربی تفاسیر میں ”تفسیر جلالین“ کو حاصل ہے، جو اَپنی اِفادیت، جامعیت اور مقبولیت میں ثریٰ سے ثریا تک پہنچ گئی ہے۔ (اِبتدائیہ، معارف القرآن، حضرت کاندھلوی)
قرآنِ کریم کو مستقل جداگانہ اِمتیازی اہمیت کے ساتھ پڑھنے پڑھانے کا رواج جب عام ہوا اور اہلِ علم و اصحابِ دانش نے حضرت شیخ الہند کی تشخیص کے مطابق اُمت کو راہِ زوال سے بامِ ترقی کی طرف لانے کے لیے قرآنی تعلیم، درسِ قرآن اور ترجمہ و تفسیر کی اہمیت کا جہاں اِدراک کیا، وہاں اس اہم کام کی آڑ لے کر تجددپسندوں کی ایک بڑی کھیپ نے قرآنِ کریم کو اَپنے تجدد پسندانہ مغربی یا اِستشراقی افکار کی تخریج و تبلیغ کا ذریعہ بھی بنالیا، جس کے نتیجہ میں اعتزالِ قدیم نئی تعبیر کے ساتھ فکری وباء بننا شروع ہوگیا۔ اِس سلسلہ میں جناب حمید الدین فراہی کا مدرسة الاصلاح اور سرسیّد اَحمد خان کا مکتب فکر طاقت ور فکری و علمی اور فلسفی فتنہ کے طورپر رونما ہوئے، جنہوں نے قرآنِ کریم کے ترجمہ و تفسیر کے نام پر تأویل و تحریف کا فریضہ نا مرضیہ اَدا کیا اور قرآنی تعلیمات کو مغربی تہذیب و تمدن سے ہم رنگ یا تابع محض ثابت کرنے کی خدمت انجام دِی۔ حضرت مولانا محمد اِدرِیس کاندھلوی کے بقول ان آزاد مفسروں کی ہمہ تن یہ کوشش رہی کہ لفظ عربی ہوں اور معنی مغربی ہوں اور یورپ کے ملحدین کے خیالات کو قرآن کے نام سے مسلمانوں میں پھیلایا جائے۔ یہ گروہ قرآنِ کریم کا مترجم اور مفسر نہیں، بل کہ یورپ کے نفسانی تمدن کا مترجم ہے۔ حضرت کاندھلوی اَپنی ”معارف القرآن“ کی تالیف کا مقصد بھی یہ بتاتے ہیں، اس فتنہ سے مسلمانوں کو بچایا جائے، آپ کی کوشش رہی ہے کہ مغربیت و عصریت کے نفسانی تقاضوں سے مرعوب ہوکر قرآنِ کریم کے مدلول اور مفہوم کو نہ بدلا جائے۔
نیز فراہی صاحب، خان صاحب اور اس ڈگر کے جدت پسند مغربی افکار کے علم برداروں سے دِفاع کے لیے علماء دیوبند میں سے مولانا عبد الحق حقانی دہلوی (متوفیٰ: ۱۳۳۶ھ، ۱۹۱۷ء) نے اکابرِ دیوبند کی ہدایت پر ”فتح المنان فی تفسیر القرآن“ المعروف بہ ”تفسیر حقانی“ لکھی، اور جناب مولانا عبد الماجد دریا بادی نے ”تفسیری ماجدی“ میں مغرب زدہ لوگوں کے افکارِ کاسدہ اور تحریفاتِ باطلہ کی نشان دہی کو خاص ہدف بنایا، ان کے علاوہ خود دارالعلوم دیوبند میں تقریباً ۱۳۳۸ھ میں مجلس معارف القرآن (اکیڈمی قرآن عظیم) کے نام سے باقاعدہ مستقل شعبہ قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد قرآنِ حکیم کے معارف و محاسن، اسرار و حکم اور احکام و آداب کو تعبیر کی جدت و سہولت کے ساتھ عام کرنا تھا، نیز عصری مسائل کو قرآنِ حکیم کی روشنی میں حل کرنا اور قرآنِ حکیم سے رہنمائی و روشنی حاصل کرنے کی ترغیب اور اُمنگ پیدا کرنا ہدف تھا۔
اِس شعبہ کے لیے حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کے زیر نگرانی مختلف اکابر نے کام کیا،پھر اسی فکر کے تحت دار العلوم دیوبند اور اس کے طرزِ تعلیم سے وابستہ مدارس میں ”شیخ الحدیث“ اور ”صدر مدرّس“ کی طرح باقاعدہ ”شیخ التفسیر“ کا ایک عہدہ مقرر تھا۔ دارالعلوم دیوبند کے پہلے ”شیخ التفسیر“ کے طور پر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی کا نام ملتا ہے۔ آپ ۱۹۲۹ء میں دارالعلوم دیوبند میں تدریس کے دوران فجر کے بعد نودرہ میں درسِ قرآن دیتے تھے۔ درمیان میں کچھ عرصہ دارالعلوم دیوبند سے علیحدگی کے بعد دوبارہ ۱۹۳۹ء میں علامہ شبیر اَحمد عثمانی اور حضرت مولانا قارِی محمد طیب کی دعوت پر دُوبارہ ”شیخ التفسیر“ کی حیثیت سے دارالعلوم دیوبند سے وابستہ ہوئے۔
ہمارے حضرت بنوری ڈابھیل اور پھر ٹنڈوالٰہ یار میں اِبتدائی طور پر ”شیخ التفسیر“ کے عہدہ سے مصروفِ خدمت رہے تھے، حضرت بنوری نے اپنی تألیف لطیف ”یتیمة البیان فی مقدمة مشکلات القرآن“ میں تفسیر کے بنیادِی اُصول و آداب کے علاوہ تفسیر کے جدید و قدیم مناہج میں سے مفید و مضر تفاسیر کی نشان دہی کے لیے کئی تفاسیر اور ان کے تفسیری اُسلوب کا تعارف بھی کرایاہے، بالخصوص ہندوستان کے مفسرین اور اُن کی تفاسیر کاسیر حاصل تذکرہ فرمایا ہے، جس سے بہ خوبی اَندازہ ہوسکتا ہے کہ ہندوستان میں قرآنِ حکیم کی تفسیری خدمت کی معیارِی کوششوں کے علاوہ تحریفی کاوشیں بھی بہ مقدارِ وافر رہی ہیں۔ تفسیر کے نام پرتحریف قرآن کے اس سیلاب کے سامنے بند باندھنے کے لیے علماء دیوبند نے جہاں تحریری و تقریری اَنداز میں قرآنِ حکیم کے الفاظ و معانی کی حفاظت کا فرض نبھایا، وہاں مستقل تدریسی مشغلہ اور ”دورہٴ تفسیر“ کے نام سے بھی خدمات انجام دیں۔
متحدہ ہندوستان میں ولی اللّٰہی اَنداز میں قرآنِ کریم کو اَپنے تدبر و اِعتبار کا محور بنانے والوں میں ایک نامور ہستی مولانا عبیداللہ سندھی بھی گزرے ہیں، جو اَپنے تحریکی مشاغل اور اُن کے اثرات کے باوجود وہ اس کوشش میں سرخرو ہوکر گئے کہ قرآنِ کریم کو مستقل طور پر دِیگر علوم و معارف سے زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ آپ کی یہ فکر آپ کے تفسیری ذوق اور فکری شعور کے ساتھ حضرت لاہوری کے اس سوز و گداز سے دمج ہوگئی جو سوز اُنہیں حضرت شیخ الہند اور اکابر دیوبند سے منتقل ہوا تھا، چناں چہ حضرت امام لاہوری نے تقریباً ۱۹۲۱ء میں لاہور میں دورہٴ تفسیر کا باقاعدہ آغاز فرمایا، جس میں دیوبند اور دِیگر مدارس کے فضلاء شریک ہوتے تھے۔ (پرانے چراغ، مولانا ابو الحسن ندوی)
آپ کے تلامذہ نے آپ کے دورہٴ تفسیر کی جو خصوصیات ضبط فرمائی ہیں، ان میں روایتی تفسیری اَنداز کی نمایاں خصوصیات، ربط سور، ربط رکوعات، ربط آیات، خلاصہٴ مضامین، مضامین کے عناوین، اسبابِ نزول کی نشان دہی اور تذکیر کی مختلف جہات کے علاوہ خاص اِمتیازی بل کہ اِلہامی خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے قرآنِ کریم کو ایک نظری کتاب سے زیادہ عملی دستورِ حیات کے طور پر سمجھانے کی تحلیلی اَنداز میں کوشش فرمائی تھی، جس کا حاصل یوں بنتا ہے کہ قرآنِ کریم ایک مسلمان کی عملی زندگی کو تین جہات سے اِحاطہ کرتا ہے: اِنفرادِی زندگی، عائلی زندگی اور تمدنی زندگی۔ جس کی تعبیر حضرت شاہ ولی اللہ کے علوم سے یوں مستعار لی گئی ہے: تہذیب الاخلاق، تدبیرِ منزل اور سیاست مدنیہ۔ تہذیب الاخلاق کے زیرِ عنوان خالق ومخلوق کے باہمی تعلق اور اس کے لوازم سے بحث ہوتی ہے، تدبیرِ منزل کے تحت اُن احکام وآداب کی نشان دہی کی جاتی ہے، جو مسلمان کے گھر اور اس کے متعلقات یعنی اقارب یا اجانب میں سے اہلِ دیوان، اہلِ محلہ یا قریبی سوسائٹی سے متعلق ہوں، ایسے مباحث کو اُجاگر کرنا تدبیرِ منزل کا معنون ٹھہرتا ہے۔
مسلمان اِنفرادِی زندگی سنوار کر جب عائلی زندگی اور سماجی زندگی میں مثبت قدم رکھتا ہے تو اُس کی اَگلی منزل ریاستی ہے، جسے اِنسان کے سماجی عروج کی آخری منزل بھی کہتے ہیں، اس مرحلہ کے لیے قرآنی تعلیمات کی نشان دہی ”سیاست مدنیہ“ کے زیرعنوان کی جاتی ہے، اس میں قوم و ملت کی ریاستی زندگی کے طور طریقے بتائے جاتے ہیں۔ اس پر مستزاد حضرت شاہ صاحب کے ہاں قرآنی علوم کی خماسی تقسیم یعنی علم الاحکام، علم المخاصمة، علم التذکیر بآلاء اللّٰہ، علم التذکیر بایام اللّٰہ اور علم التذکیر بالموت وما بعد الموت؛ کا اِستعمال و اِستفادہ بھی حضرت لاہوری کے درس اور درسی اِفادات میں مناسب اَنداز سے جھلکتا ہے۔
بہرکیف! قرآنِ حکیم کو جب اس تطبیقی، ترکیزی، تحلیلی اور اِستنباطی اَنداز سے پڑھا اور پڑھایا جائے تو یقینا یہ انداز قرآنِ کریم کی جامعیت اور عالمگیر اِفادیت کا عملی ثبوت ہوگا۔ درسِ قرآن کریم کی یہ خصوصیت دِیگر شیوخِ تفسیر کے دورہائے تفسیر میں شاید نہ مل سکے، اِس لیے کیا ہی غنیمت ہوگی کہ حضرت لاہوری کے تفسیری اِفادات کو اِس اَنداز سے منظر عام پر لایاجائے۔ یہ خدمت اُمت مسلمہ کے لیے بالعموم اور علماء و طلباء دِین کے لیے بالخصوص تعلیمی و تدرِیسی میدان میں عظیم اِنقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی اور قرآنِ کریم کے دُروس کے نام پر بعض فرسودہ عنادی طرزِ تفسیر اور عامیانہ تجدد پسندی کی لغویانہ حرکتوں سے نجات بھی مل جائے گی۔ اِن شاء اللہ!
ہمیں یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی اور ہم اِس خوشی میں دِیگر علماء و طلباء کو بھی شریک کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت لاہوری کے دورہٴ تفسیر سے مستفید ہونے والوں میں سے آپ کے ایک نامور شاگرد، پاکستان کے ممتاز عالمِ دِین حضرت مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہم بھی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے پناہ عملی مشاغل اور سیاسی ہنگامہ آرائی کی زد میں رہنے کے باوصف، علمی دُنیا کے بلند مقام سے نواز رکھا ہے، جسے محض حق تعالیٰ شانہ کا فضل اور مولانا موصوف کے عظیم، باکرامت ولی، پدرِ مکرم مولانا عبد الحق صاحب قدس سرہ کی زندہ کرامت ہی کہا جاسکتا ہے۔
اُنہوں نے حال ہی میں ہمارے بزرگ و شیخ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب زیدمجدہم کے نام ایک تفصیلی خط بھیجا، جس کے ہمراہ حضرت لاہوری کے تفسیری اِفادات کے مسودے کا اِبتدائی نمونہ بھی شرفِ نظر بنا، اس مراسلت کے ذریعہ معلوم ہوا کہ مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہم نے ۱۹۵۸ء میں حضرت لاہوری سے دورہٴ تفسیر پڑھا تھا، دورانِ درس آپ کے تفسیری اِفادات کو جمع بھی فرماتے رہے، جو ایک مجموعہ کی شکل میں محفوظ ہوگئے تھے، اس مجموعہ کو مرتب و مدوّن کرنے کا دیرینہ داعیہ‘ جب رو بعمل ہونے لگا، تو اس مجموعہ کے سن تسوید سے دو چار سال قبل اور دو چار سال بعد کی اِمالی سے اِستفادہ بھی کیا گیا اور حسب ضرورت حضرت لاہوری کے مطبوعہ علمی اِفادات سے راہ نمائی بھی لی گئی۔
اس طرح یہ مجموعہ بحمد اللہ! تیار ہوچکا ہے۔ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ محنت شاقہ کا یہ ثمرہ تقریباً پندرہ (۱۵) جلدوں میں منظر عام پر آئے گا، جسے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے اِلہامی و لدنی اِفادات سے آراستہ اور مولانا عبید اللہ سندھی کے ”الاعتبار والتاویل“ سے معمور ہونے کا منفرد اِعزاز حاصل ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس معتمد و مستند طریق سے جب ہمیں حضرت امام شاہ ولی اللہ اور حضرت سندھی کے افادات و افکار پڑھنے کو ملیں گے تو ان بزرگوں کے نام پر ”فکرولی اللّٰہی“ جیسے نیم جان فتنوں کی دروغ بافتگی کے تارو پود اُدھڑ جائیں گے، اِن شاء اللہ! وہو الموفق لکل خیر ومیسّر لکل عسیر!

ملک کی موجودہ صورت حال اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں

امداد الحق بختیار قاسمی*

ہمارے ملک ہندوستان اور پورے عالم اسلام کی موجودہ صورت حال انتہائی تکلیف دہ ہے ، تمام باطل اور طاغوتی طاقتیں مسلمانوں کو اور ان کے دین ومذہب کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کے لیے اپنی انتھک کوشش کر رہی ہیں ، اسلام اور مسلمانوں پر ہر چہار جانب سے زمین تنگ کی جارہی ہے ، خصوصاً ہندوستان میں ، جہاں مسلمانوں نے تقریباً ایک ہزار سال تک امن و امان کے ساتھ شاندار حکمرانی کی ہے اور جسے مسلمانوں نے اپنے خون جگر اور جان ومال کی بھاری قربانی دے کر انگریزوں کے ظالم پنجہ سے آزاد کرایا ، آج اسی سرزمین میں امت مسلمہ کی جان و مال ، عزت و آبر اور دینی و ملی تشخص داوٴ پر ہے ،مسلمانوں کے اقتصادی ذرائع بھی نشانہ پر ہیں ، جان بھی خطرے میں ہے ، عزت وآبرو بھی پامالی کی دہلیز پر ہے اور دین ومذہب تو اغیار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے ۔
لیکن ان حالات سے مسلمانوں کو گھبرانے اور ہمت ہارنے کی بالکل ضرورت نہیں ، اسلام دشمن طاقتوں نے ہمیشہ اس طرح کی حرکتیں کی ہیں اور مسلمان ہر پیش آمدہ مصیبت سے سرخ رو ہوکر آگے بڑھے ہیں ، یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام اور مسلمان اس دنیا کا مقدر ہیں ، جس دن اسلام نہ رہا، وہ دن اس دنیا کی زندگی کا آخری دن ہوگا ، اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی ہمارے ذہنوں سے غائب نہیں ہونی چاہیے کہ یہ دنیا مسلمانوں کی منزل نہیں؛ بلکہ منزل کا ایک پڑاوٴ ہے(This world is a station not the destination)ہماری منزل جنت ہے اور خدا کے دشمنوں کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شیطانیت اور انسانیت کی جنگ روز اول سے جاری ہے اور قیامت تک رہے گی ، اور حالات زندہ قوموں پر ہی آتے ہیں ، مردہ قوموں سے کوئی نبردآزما نہیں ہوتا اور ہمارے پاس ہر مصیبت سے نمٹنے کے لیے دو مضبوط ہتھیار موجود ہیں ایک قرآن کریم اور دوسری نبی پاک ﷺ کی سنت مبارکہ ؛ لہذا ہمیں ہر معاملہ میں ان دونوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے،یہ حالات ہمیں ایک ہمہ گیر خود احتسابی کی دعوت دیتے ہیں ، مسلمانوں کو خود اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ، ایک ایسا جائزہ جو زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہو، ایک ایسا جائزہ جو رب کائنات سے رجوع اور اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کرنے کے جذبے پر موقوف ہو۔ ہماری ناکامی نامرادی اور ذلت و رسوائی کا سبب قرآن وسنت کی تعلیمات سے دوری کے علاوہ کچھ نہیں ۔قرآن بتاتا ہے کہ انسانوں پر جو بھی مصیبت آتی ہے ، وہ خود اس کی شامت اعمال کا نتیجہ ہے:
وَمَا أَصَابَکُم مِّن مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْْدِیْکُمْ وَیَعْفُو عَن کَثِیْرٍ․شوری(30)
(ترجمہ)اور جو مصیبت تم پر آئی ہے ، تو وہ ہمارے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالی نے بہت سی کوتاہیں سے درگزر کردیا ہے ۔
موجودہ حالات کی پیشین گوئی قرآن میں
موجودہ حالات مسلمانوں پر کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے ؛ بلکہ ان سنگین حالات کی خبر قرآن کریم نے ہمیں بہت پہلے دی ہے اور ان کے وجوہ و اسباب اور ان سے نکلنے کے راستے بھی بتائے ہیں ، اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے :
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْْء ٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ․
(ترجمہ)اور ہم تمہیں ضرور آزمائش میں مبتلا کریں گے:کچھ خوف اور بھوک کے ذریعہ ، مال ، اولاد اور رزق میں نقصان کے ذریعہ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔
ایک اور موقع پر اللہ تعالی فرماتے ہیں:
لَتُبْلَوُنَّ فِیْ أَمْوَالِکُمْ وَأَنفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَذًی کَثِیْراً وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَلِکَ مِنْ عَزْمِ الأُمُورِ․ آل عمران(186)
(ترجمہ) یقینا تم آزمائش میں ڈالے جاوٴگے اپنے مال اور جانوں کے سلسلہ میں ، اور تم ضرور سنوگے یہود ونصاری اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں، اور اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو ، تو یقینا یہ تمام تدبیروں میں سب سے پختہ تدبیر ہے۔
اور اس آیت میں ہمارے لیے بڑی تسلی کا سامان ہے:
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا یَأْتِکُم مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِکُم مَّسَّتْہُمُ الْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء وَزُلْزِلُواْ حَتَّی یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ مَعَہُ مَتَی نَصْرُ اللّہِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللّہِ قَرِیْبٌ․ البقرہ (214)
(ترجمہ)کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ جنت میں یونہی داخل ہو جاوٴگے ؛حالاں کہ ابھی تک تمہارے پاس وہ حالات نہیں آئے ، جو تم سے پہلے لوگوں کے پاس آئے:انھیں دشمن سے جنگ اور بیماری کی مصیبتیں اتنی پہنچیں کہ ان کی بنیادیں ہل گئیں؛یہاں تک کہ وقت کے رسول اور ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؛سنو اللہ کی مدد قریب ہے۔
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان
جب خود خالق کائنات اور کاتب تقدیر کی کتاب نے ان حالات کی پیشین گوئی کی ہے اور ہمیں خبر دار کیا ہے ، تو ہمیں مایوس ہونے اور خوف کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ؛ بلکہ اسی کتاب کی روشنی میں ان حالات سے نمٹنے کے راستے اور تدبیریں تلاش کرنی چاہیے ۔
ہماری مقدس کتاب قوم مسلم سے مخاطب ہو کر کہتی ہے :
قرآنی بشارت
وَلاَ تَہِنُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَأَنْتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ․آل عمران(139)
(ترجمہ)نہ آئندہ کے لیے ہمت ہارو اور نہ موجودہ اور گزرے ہوئے تکلیف دہ حالات پر غم کرو ، تم ہی سر بلند رہو گے ؛ شرط یہ ہے کہ تم ایمان پر قائم رہو۔
اس آیت میں مسلمانوں کے لیے تسلی کا بڑا سامان ہے اور ساتھ ہی ایک سبق بھی ہے کہ ہر حال میں ایمان کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں تو دنیا کی تمام تر کامیابی مسلمانوں کے قدم چومے گی۔
قرآن وسنت کی تعلیمات سے ہمیں ان مصائب سے نجات کے لیے جو ہدایات اور راہنمائی ملتی ہیں، وہ درج ذیل ہیں :
(۱) اللہ کی طرف رجوع
سب سے پہلی چیز جو ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے ، وہ یہ ہے کہ ہم دونوں جہان کے پروردگار کے ساتھ اپنا رشتہ استوار کریں ،بندوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ اللہ کے حقوق بھی ادا کریں ، اپنی عبادتوں ،دینی اور رفاہی کاموں میں پہلے کے مقابلہ میں اضافہ کریں ؛ کیوں کہ ہر مشکل آسان کرنے والی ذات صرف اور صرف اللہ تعالی کی ہے ، اللہ کا پاک ارشاد ہے :
الَّذِیْنَ إِذَا أَصَابَتْہُم مُّصِیْبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّہِ وَإِنَّا إِلَیْْہِ رَاجِعونَ․البقرہ (156)
(ترجمہ)جنہیں جب بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں :ہم اللہ کے لیے ہیں اور یقینا ہم اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ایسے لوگوں پر ان کے رب کی جانب سے رحمتیں اور عنایتیں ہیں اور وہی راستے پر ہیں۔
نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں:
یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اسْتَعِیْنُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ․البقرہ (153)
(ترجمہ) اے ایمان والوں! صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ کی مددچاہو، بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اس آیت میں نماز سے مراد اللہ کی طرف رجوع ہونا ہے اور ہر معاملہ میں اللہ کی طرف متوجہ ہونا ؛ لہذا ہمیں زیادہ سے زیادہ اللہ تبارک وتعالی سے لو لگانا چاہیے اور عبادتوں کا خوب اہتمام کرنا چاہیے۔
(۲)صبر اور استقامت
اللہ تبارک وتعالی اور ہمارے نبیﷺنے کئی مقامات پر مصائب اور شدائد میں مضبوطی کے ساتھ صبر کا دامن تھامے رہنے کی تاکید وتلقین کی ہے ، اور صبر کا مطلب ہے کہ کسی بھی ناگفتہ بہ حالت سے نکلنے کے لیے کسی غلط راستہ کا انتخاب نہ کیا جائے ؛ صبر کے بڑے فوائدہیں اور یہ بہت مجرب اور قیمتی خدائی نسخہ ہے ؛ چناں چہ ایک مقام پر اللہ تعالی فرماتے ہیں :” بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“ اور جس کے ساتھ اللہ تعالی ہو ، اسے بڑی سے بڑی مصیبت نقصان نہیں پہنچا سکتی ، دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے :”اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔“ خوش خبری اچھی خبر کو کہتے ہیں ، بری خبر کو نہیں ، یعنی اگر ہم صبر کریں گے تو آئندہ ہمارے لیے اچھی خبر ہوگی اور حالیہ برے حالات سے ان شاء اللہ نکل جائیں گے۔
(۳)توبہ و استغفار
ہمارے لیے موجودہ حالات میں تیسرا اہم کام یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کریں ، تقوی اختیار کریں اور استغفار کی کثرت رکھیں، آزمائش کے اوقات میں صبرکے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے تقوی اختیار کرنے کا بھی حکم عطا کیا ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے :” اور اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو ، تو یقینا یہ تمام تدبیروں میں سب سے پختہ تدبیر ہے۔“اور تقوی کا مطلب اللہ کی فرمانبرداری کرنا اور گناہوں سے رکناہے ؛ اور اللہ تعالی نے سورہ طلاق میں تقوی کے کئی فائدے بیان فرمائے ہیں :(۱)” اور جو تقوی اختیار کرے گا ، اللہ تعالی اس کے لیے پریشانی سے نکلنے کی راہ بنادیں گے اور اسے روزی ایسی جگہ سے ملے گی ،جہاں سے وہم و گمان نہ ہوگا ۔“(۲)”اور جو تقوی اختیار کرے گا ، اللہ پاک اس کے معاملہ کو آسان کردیں گے۔“(۳) ” اور جو تقوی اختیار کرے گا ، اللہ تعالی اس کے گناہ معاف کردیں گے اور اسے بڑا اجر عطا کریں گے۔“لہذا ہمیں گناہوں سے سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے اور تقوی شعار بننا چاہیے نیز استغفار کی کثرت رکھنی چاہیے ، استغفار کے تعلق سے نبی اکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے : من لزم الاستغفار جعل اللہ لہ من کل ضیق مخرجا ، ومن کل ہم فرجا، ورزقہ من حیث لایحتسب․ (ابوداوٴد:(۱۵۱۸)ابن ماجہ:۳۸۱۹)(ترجمہ) جو استغفار کو لازم پکڑ لے ، اللہ تعالی ہر تنگی سے اس کے لیے راستہ نکالیں گے اور ہر غم سے نجات عطا فرمائیں گے اور اسے روزی ایسی جگہ سے عطاکریں گے ،جہاں سے اس کو وہم وگمان بھی نہ ہوگا ۔
(۴)دعا وٴں کا زیادہ سے زیادہ اہتمام
جماعت کی نماز اور اپنی خصوصی نمازوں میں ہمیں خوب خشوع و خضوع کے ساتھ بارگاہ الہی میں دعاوٴں کا اہتمام کرنا چاہیے ، دعا موٴمن کا ہتھیار ہے اور دعا کی طاقت کا اندازہ حضورﷺکے اس فرمان سے لگایا جاسکتا ہے : ”لایرد القدر الا الدعاء“ یعنی دعا میں اتنی طاقت ہے کہ اس سے تقدیر بھی ٹل جاتی ہے۔
اور قرآن کریم دعا کے تعلق سے کہتا ہے :
أَمَّن یُجِیْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوء َ وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَاء الْأَرْضِ أَإِلَہٌ مَّعَ اللَّہِ قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُونَ․ نمل(62)
(ترجمہ) کون بے بس کی دعا قبول کرتا ہے اور مصیبت کو دور کرتا ہے اور تمہیں زمین میں نائب بناتا ہے ، کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہے ، تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔
(۵)اسلام کی خوبیوں سے برادران وطن کو روشناس کرانا
اوران سب کاموں کے ساتھ نہایت اہم اور ضروری کام یہ ہے کہ ہم برادران وطن کو اسلام کی خوبیوں سے روشناس کرائیں ، اسلام کی تبلیغ اور اسلام کے پیغام کو پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں ، اسلام کے تعارف کے لیے قدیم وجدید تمام وسائل استعمال کیے جائیں اور یاد رکھیں کہ تاریکی مٹانے کا صرف ایک راستہ ہے کہ روشنی پھیلائی جائے،اور اگر ہم نے اپنا یہ فریضہ ادا نہیں کیا تو ہم خود بھی زندگی کے کسی موڑ پر اس تاریکی کے شکار ہوں گے، جیساکہ ابھی ہمیں ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے ، اپنی مقدس کتاب میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
کُنْتُمْ خَیْْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ․آل عمران(۱۱۰)
(ترجمہ) تم بہترین امت ہو ، تمہیں بھیجا گیا ہے، لوگوں کی بھلائی کے لیے ، تم اچھی باتیں پھیلاتے ہو اور برائی کی روک تھام کرتے ہو۔
(۶)نئی نسل کوتعلیم اور دینی تعلیم سے آرستہ کرنا
جیسے زندہ رہنے کے لیے کھانا ، پانی اور ہوا ضروری ہے ، ٹھیک اسی طرح” صحیح زندگی “کے لیے تعلیم کی اشد ضرورت ہے ، تعلیم کے بغیر انسان اپنی زندگی کے صحیح اور غلط فیصلے میں فرق نہیں کرسکتا اور اللہ تعالی نے ہمیں لوگوں کی بھلائی کے لیے پیدا کیا ہے اور بھلائی کی ذمہ داری سے ہم تعلیم کے بغیر سبکدوش نہیں ہوسکتے ؛لہذ مسلم نوجوانوں کو تعلیم کے ہر میدان میں نمایاں کار کردگی پیش کرنی چاہیے ، جب تک زندگی کے ہر شعبہ میں قوم وملت کی خدمت نہ کریں ، ہم وہ بہترین امت نہیں ہوسکتے ، جسے اللہ تعالی نے لوگوں کی بھلائی کے لیے بھیجا ہے ۔
نیز اس تعلیم سے بھی پہلے جس کی طرف سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ، وہ ہے دینی تعلیم ، اسلامی تہذیب واخلاق، ہمیں اپنی اولاد کی دینی تعلیم کے لیے اسی طرح فکر مند ہونا پڑیگا ، جیسے ہم ان کی روٹی ، کپڑے اور بیماری کے اوقات میں علاج ومعالجہ کے لیے فکرمند ہوتے ہیں؛ تاکہ وہ ملک کے جس شعبہ میں بھی کام کریں ، اسلام کی اچھائیوں سے دوسروں کو متاثر کرسکیں اور الحادی تحریکوں کے شکار ہوکر ذہنی اور فکری ارتداد میں نہ پڑیں۔
(۷)قنوت نازلہ کا اہتمام
نبی پاکﷺ کی سنت ہے کہ جب بھی مسلمانوں پر کوئی مصیبت اور آفت عمومی شکل میں آئے تو فجر کی نماز میں قنوت نازلہ کا اہتمام کیا جائے ، خود آپﷺ نے ایک مہینہ تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی ہے ، جس میں عرب کے بعض قبائل کے خلاف آپ نے بددعا کی ہے ، لہذا موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری مساجد میں اس سنت کا اہتمام ہونا چاہیے ۔
(۸)انبیاء واسلاف کی آزمائش کے واقعات
نیزہمیں انبیاء علیہم الصلاة والسلام اور اسلاف کی آزمائشوں سبق لینا چاہیے کہ دین حق کے راستہ میں اللہ کے ان برگزیدہ بندوں نے کیسی کیسی تکلیفیں برداشت کی ہیں ، جضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال ابتلاوٴں کے ساتھ گزارے ہیں ، حضرت ابراہیم ، حضرت یوسف اور انبیاء بنی اسرائیل علیہم السلام نے بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کی ہیں ؛ خود محبوب رب کائنات کو طائف میں ، صحن کعبہ میں ، تیرہ سالہ مکی زندگی میں ، ابتدائی مدنی زندگی میں غزوہ ٴ احد و احزاب اور دیگر غزاوات میں دشمنان اسلام نے کیا کیا تکلیفیں نہیں پہچائیں ، صحابہ  کو دین کی خاطر کس کس طرح سے ستایا جاتا بزرگان دین نے حق کی راہ میں کیسی کیسی قربانیاں دیں ، ہماری مجلسوں میں ان کا تذکرہ ہونا چاہیے ؛ تاکہ ہمارے ایمان میں تازگی پیدا ہو اور ہمیں ان کی زندگی میں تسلی کا سامان ملے۔

ہمیں ایک نئے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے

ہمیں ایک نئے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے:
دارالعلوم کراچی کے تحت ’’حرا فائونڈیشن اسکول‘‘ کی حفظ قرآن کی تقریب کے موقع پر شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا معلومات آفریں اور بصیرت افروز خطاب مشاہدات:
وقت کی کمی کے پیش نظر بہت اختصار کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ’’حرا فائونڈیشن اسکول‘‘ جس کی حفظ قرآن کی تقریب میں آج ہم اور آپ شریک ہیں، اس کا پس منظر کیا ہے؟ یہ بات رئیس الجامعہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے مختلف مواقع پر مختلف نشستوں میں دہرائی، مجھے بھی اپنے والد مفتی محمد شفیع صاحبؒ سے سنی گئی اس بات کو کئی جگہ سنانے کی توفیق ہوئی۔ پاکستان بننے سے پہلے ہندوستان میں تین بڑے نظامِ تعلیم معروف تھے: ایک دارالعلوم دیوبند کا نظامِ تعلیم، دوسرا مسلم یونیورسٹی علیگڑھ کا نظامِ تعلیم اور تیسرے دارالعلوم ندوۃ العلماء کا نظامِ تعلیم۔ حضرت والد ماجدؒ نے تقریباً 1950ء میں ایک موقع پر جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات فرمائی تھی: ’’پاکستان بننے کے بعد درحقیقت نہ ہمیں علیگڑھ کی ضرورت ہے، نہ ندوہ کی ضرورت ہے، نہ دارالعلوم دیوبند کی ضرورت ہے، بلکہ ہمیں ایک تیسرے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے جو ہمارے اَسلاف کی تاریخ سے مربوط چلا آرہا ہے۔‘‘

بظاہر سننے والوں کو یہ بات بڑی تعجب خیز معلوم ہوتی تھی کہ دارالعلوم دیوبند کا ایک مستند مفتی اعظم اور دارالعلوم دیوبند کا ایک سپوت یہ کہے کہ ہمیں پاکستان میں دیوبند کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہمیں ایک نئے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے۔

حضرت والد ماجدؒ نے جو بات فرمائی وہ درحقیقت ایک بہت گہری بات ہے اور اُسی کے نہ سمجھنے کے نتیجے میں ہمارے ہاں بڑی عظیم غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ ہندوستان میں جو تین نظامِ تعلیم جاری تھے، وہ درحقیقت فطری نہیں تھے، بلکہ انگریز کے لائے ہوئے نظام کا ایک نتیجہ اور انگریز کی لائی ہوئی سازشوں کا ایک ردّعمل تھا، ورنہ اس سے پہلے رائج مسلمانوں کے صدیوں پرانے نظامِ تعلیم پر غور کیا جائے تو اس میں مدرسے اور اسکول کی کوئی تفریق نہیں ملے گی۔ وہاں شروع سے لے کر اور انگریز کے زمانے تک مسلسل یہ صورت حال رہی کہ مدارس یا جامعات میں بیک وقت دونوں تعلیمیں دینی اور عصری تعلیم دی جاتی تھیں۔

صورت حال یہ تھی کہ شریعت نے جو بات مقرر کی کہ عالم بننا ہر ایک آدمی کے لیے فرضِ عین نہیں، بلکہ فرضِ کفایہ ہے۔ یعنی ضرورت کے مطابق کسی بستی یا کسی ملک میں علماء پیدا ہوجائیں تو باقی سب لوگوں کی طرف سے وہ فریضہ ادا ہوجاتا ہے، لیکن دین کی بنیادی معلومات حاصل کرنا فرضِ عین ہے، یہ ہر انسان کے ذمے فرض ہے۔ اُن مدارس کا نظام یہ تھا کہ اُن میں فرضِ عین کی تعلیم بلاامتیاز ہر شخص کو دی جاتی تھی، ہر شخص اُس کو حاصل کرتا تھا، جو مسلمان ہوتا تھا۔ البتہ جس کو علمِ دین میں اختصاص حاصل کرنا ہو، اُس کے لیے الگ مواقع تھے۔ جو کسی عصری علم میں اختصاص حاصل کرنا چاہتا تھا، اُس کے لیے مواقع الگ تھے۔

گزشتہ سال میں اور برادرم معظم حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مراکش میں تھے۔ میں نے پچھلے سال دیکھا تھا اور حضرت نے اِس سال اُس کی زیارت کی۔ مراکش کو انگریزی میں ’’موروکو‘‘ کہتے ہیں، اُس کا ایک شہر ہے جس کا نام ’’فاس‘‘ ہے۔ میں ’’فاس‘‘ کے شہر میں پچھلے سال گیا تھا اور اِس سال حضرت بھی تشریف لے گئے تھے۔ وہاں ’’جامعۃ القرویین‘‘ کے نام سے ایک جامعہ آج تک کام کررہی ہے۔ اگر ہم اسلامی تاریخ کی مشہور اسلامی جامعات کا جائزہ لیں تو چار بنیادی اسلامی جامعات ہماری تاریخ میں نظر آتی ہیں۔ اُن میں سب سے پہلی مراکش کی جامعہ ’’القرویین‘‘ ہے۔ دوسری تیونس کی جامعہ ’’زیتونہ‘‘ ہے۔ تیسری مصر کی ’’جامعۃ الازہر‘‘ ہے اور چوتھی ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ ہے۔ تاریخی ترتیب اسی طرح ہے۔

اس میں سب سے پہلی اسلامی یونیورسٹی جو مراکش کے شہر ’’فاس‘‘ میں قائم ہوئی، تیسری صدی ہجری کی جامعہ ہے۔ ابھی تک ایسی کوئی ترتیب میرے سامنے نہیں آئی کہ یہ صرف عالم اسلام ہی کی نہیں، بلکہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے۔ اس تیسری صدی یونیورسٹی کے بارے میں اُس کی تاریخ کے کتابچے میں یہ بات لکھی ہوئی کہ اُس وقت جامعۃ القرویین میں جو علوم پڑھائے جاتے تھے اُن میں اسلامی علوم، تفسیر، حدیث، فقہ اور اس کے ساتھ ساتھ طب، ریاضی، فلکیات جنہیں ہم آج عصری علوم کہتے ہیں، وہ سارے علوم پڑھائے جاتے تھے۔ ابن خلدونؒ، ابن رُشدؒ، قاضی عیاضؒ اور ایک طویل فہرست ہمارے اکابر کی ہے جنہوں نے جامعۃ القرویین میں درس دیا۔ اُن کے پاس یہ تاریخ آج بھی محفوظ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابن خلدونؒ درس دیا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابن رُشدؒ درس دیا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں قاضی عیاضؒ نے درس دیا ہے۔ یہاں ابن عربی مالکیؒ نے درس دیا ہے۔ تاریخ کی یہ ساری باتیں اُن کے پاس آج بھی محفوظ ہیں۔ یہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے، اس لحاظ سے کہ چھوٹے چھوٹے مدارس تو ہر جگہ ہوں گے، لیکن جامعۃ القرویین ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتی تھی جس میں تمام دینی اور عصری علوم پڑھائے جاتے تھے۔

اس یونیورسٹی میں آج بھی تیسری اور چوتھی صدی کی سائنٹفک ایجادات کے نمونے رکھے ہیں۔ اُس زمانے میں اسی جامعۃ القرویین سے فارغ لوگوں نے جو ایجادات گھڑی وغیرہ کی کیں، اُن ایجادات کے نمونے بھی وہاں پر موجود ہیں۔ آپ تیسری صدی ہجری تصورکیجیے۔ یہ تیسری صدی ہجری کی یونیورسٹی ہے۔ اس میں اسلامی علوم کے بادشاہ بھی پیدا ہوئے

اور وہیں سے ابن رُشد فلسفی بھی پیدا ہوا اور وہیں سے بڑے بڑے سائنسدان بھی پیدا ہوئے۔ ہوتا یہ تھا کہ دین اسلام کا فرضِ عین علم سب کو اکٹھا دیا جاتا تھا۔ اُس کے بعد اگر کوئی علمِ دین میں تخصصات حاصل کرنا چاہتا تھا تو وہ اسی جامعۃ القرویین میں علم دین کی درس گاہوں میں پڑھتا۔ اگر کوئی ریاضی پڑھانے والا ہے تو وہ ریاضی بھی وہاں پڑھا رہا ہوتا۔ اگر کوئی طب پڑھانے والا ہے تو وہ طب بھی وہاں پڑھا رہا ہوتا۔ یہ سارا کا سارا نظام اس طرح چلا کرتا تھا۔ جامعۃ القرویین کی طرح جامعہ زیتونہ تیونس اور جامعۃ الازہر مصر کا نظامِ تعلیم بھی رہا۔ یہ تینوں یونیورسٹیاں ہمارے قدیم ماضی کی ہیں۔ ان میں دینی اور عصری تعلیم کا سلسلہ اس طرح رہا۔

اس میں آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ اگر قاضی عیاضؒ جو حدیث اور سنت کے امام ہیں، اُن کا حلیہ دیکھا جائے اور ابن خلدون جو فلسفہ تاریخ کے امام ہیں، ان کا حلیہ دیکھا جائے، دونوں کو دیکھنے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تھا کہ یہ دین کا عالم ہے اور وہ دنیا کا عالم ہے۔ دونوں کا حلیہ، لباس، ثقافت، طرزِ زندگی، طرزِ کلام سب یکساں تھا۔ اگر آپ مشہور اسلامی سائنسدان فارابی، ابن رُشد، ابوریحان البیرونی ان سب کا حلیہ دیکھیں اور جو محدثین، مفسرین اور فقہاء پیداہوئے اُن کا حلیہ دیکھیں، دونوں کا حلیہ ایک جیسا نظر آئے گا۔ اگر وہ نماز پڑھتے تھے تو یہ بھی نماز پڑھتے تھے۔ اگر اُن کو نماز کے مسائل معلوم تھے تو اِن کو بھی معلوم تھے۔ اگر اُن کو روزے کے مسائل معلوم تھے تو اِن کو بھی معلوم تھے۔ بنیادی اسلامی تعلیمات جو ہر انسان کے ذمے فرضِ عین ہیں، اُس دور میں ہر انسان جانتا تھا اور اس یونیورسٹی میں اُس کو پڑھایا جاتا تھا۔۔ تفریق یہاں سے پیداہوئی کہ انگریز نے آکر باقاعدہ سازش کے تحت ایک ایسا نظامِ تعلیم جاری کیا کہ اس سے دین کو دیس نکالا دے دیا گیا۔ اُس وقت ہمارے اکابرین مجبور ہوئے کہ وہ مسلمانوں کے دین کے تحفظ کے لیے کم از کم جو فرضِ کفایہ ہے، اُس کا تحفظ کریں۔ اُنہوں نے دارالعلوم دیوبند قائم کیا جس نے الحمدللہ! وہ خدمات انجام دیں جس کی تاریخ میں نظیر ملنامشکل ہے، لیکن یہ ایک مجبوری تھی۔ اصل حقیقت وہ تھی جو جامعۃ القرویین میں تھی، جو جامعہ زیتونہ میں تھی، جو جامعۃ الازہر کے ابتدائی دور میں تھی۔ اصل حقیقت وہ تھی۔ اگر پاکستان صحیح معنی میں اسلامی ریاست بنتا اور صحیح معنی میں اس کے اندر اسلامی احکام کا نفاذ ہوتا تو پھر اُس صورت میں ہمیں بقول حضرت والد ماجدؒ کے نہ علیگڑھ کی ضرورت تھی، نہ ندوہ کی ضرورت تھی، نہ دارالعلوم دیوبند کی ضرورت تھی، ہمیں جامعۃ القرویین کی ضرورت ہے، جامعہ زیتونہ کی ضرورت ہے اور ایسی یونیورسٹی کی ضرورت ہے جس میں سارے کے سارے علوم اکٹھے پڑھائے جائیں۔ سب دین کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں، چاہے وہ انجینئر ہو، چاہے وہ ڈاکٹر ہو، چاہے کسی بھی شعبۂ زندگی سے وابستہ ہو، وہ دین کے رنگ میں رنگا ہوا ہو، لیکن ہم پر ایسا نظامِ تعلیم لاد دیا گیا جس نے ہمیں سوائے ذہنی غلامی کے سکھانے کے اور کچھ نہیں سکھایا۔ اُس نے ہمیں غلام بنایا۔ اکبر الٰہ آبادی نے صحیح کہا تھا ؎

اب علیگڑھ کی بھی تم تمثیل لو
اب معزز پیٹ تم اُس کو کہو
صرف پیٹ بھرنے کا ایک راستہ نکالنے کے لیے انگریز یہ نظامِ تعلیم لایا اور اُس کے نتیجے میں مسلمانوں کی پوری تاریخ اور پورا ورثہ تباہ کردیا گیا۔

نتیجہ یہ کہ آج اس نئے نظامِ تعلیم کے ذریعے زبردست دو فرق واضح طو رپر سامنے آئے ہیں۔ ایک یہ کہ موجودہ تعلیمی نظام میں اسلامی تعلیم کے نہ ہونے کی وجہ سے فرضِ عین کا بھی معلوم نہیں۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے اکثر طالب علم جانتے ہی نہیں ہیں کہ دین میں فرض کیا ہے؟ دوسرے اُن کے اوپر افکار مسلط کردیے گئے ہیں کہ اگر عقل اور ترقی چاہتے ہو تو تمہیں مغرب کی طرف دیکھنا ہوگا۔ تیسری ان کی ثقافت بدل دی گئی۔ ان کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ اگر اس دنیا میں ترقی چاہتے ہو تو صرف مغربی اَفکار میں ملے گی، مغربی ماحول میں ملے گی، مغربی انداز میں ملے گی۔ افسوس یہ ہے کہ اس نئے نظامِ تعلیم سے جو گریجویٹس، ڈاکٹرز یا پروفیسرز بن کر پیدا ہوتے ہیں، وہ ہم جیسے طالب علموں پر تو روز تنقید کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے اجتہاد کا دروازہ بند کردیا، یہ اجتہاد نہیں کرتے۔ قرآن و سنت اور فقہ میں ’’اجتہاد‘‘ ایک عظیم چیز تھی، لیکن ایک ایسی چیز جس میں اجتہاد کا دروازہ چاروں طرف چوپٹ کھلا ہوا تھا، وہ تھی سائنس اور ٹیکنالوجی، ریاضی، علومِ عصریہ اس میں تو کسی نے اجتہاد کا دروازہ بند نہیں کیا۔ علیگڑھ کے اور اس نئے نظامِ تعلیم کے ذریعے آپ نے کیوں ایسے مجتہد پیدا نہیں کیے جو مغرب کے سائنسدانوں کا مقابلہ کرتے۔ اُس میں آپ نے کیوں ایسے مجتہد پیدا نہیں کیے جو اجتہاد کرکے طب، فلکیات، ریاضی، سائنس وغیرہ میں نئے راستے نکالتے۔ اجتہاد کا دروازہ جہاں چوپٹ کھلا تھا وہاں کوئی اجتہاد کیا ہی نہیں، اور جہاں قرآن و سنت کی پابندی ہے اور قرآن و سنت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اجتہاد کرنا ہوتا ہے، وہاں شکایت ہے کہ علمائے کرام اجتہاد کیوں نہیں کرتے؟

ابھی کچھ دن پہلے کسی صاحب نے ایک کلپ بھیجا جس میں ایک عالم دین سے یہ سوال کیا جارہا تھا کہ مولانا! یہ بتائیے کہ علمائے کرام کی خدمات ویسے اپنی جگہ ہے، لیکن یہ کیا بات ہے کہ علمائے کرام میں کسی طرف سے بھی کوئی سائنسدان پیدا نہیں ہوا، کوئی ڈاکٹر پیدا نہیں ہوا، کسی بھی طرح کی ایجاد نہیں ہوئی، اس کا علمائے کرام کے پاس کیا جواب ہے؟ بندئہ خدا! یہ سوال تو آپ اپنے آپ سے کرتے کہ ہمارے نظامِ تعلیم میں کوئی ایسا مجتہد پیدا ہوا جس نے کوئی نئی ایجاد کی ہو؟ لیکن وہاں تو اجتہاد کے دروازے اس طرح بند ہیں کہ جو انگریز نے کہہ دیا، مغرب نے کہہ دیا بس وہ نظریہ ہے، اُس نے جو دواء بتادی وہ دواء ہے، اُس نے اگر کسی چیز کے بارے میں کہہ دیا کہ یہ صحت کے لیے مضر ہے تو اس کی اقتداء کرتے ہیں۔ انڈے کی زردی کے بارے میں سالہاسال سے کہا جارہا تھا کہ یہ کولیسٹرول پیدا کرتی ہے اور امراضِ قلب میں مضر ہوتی ہے، لیکن آج اچانک ہر ڈاکٹر یہ کہہ رہا ہے کہ انڈے کی زردی کھائو، اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ مغرب سے یہ پیغام آگیا ہے، اُسے آپ نے قبول کرلیا ہے۔

ہمارے ملک میں بے شمارجڑی بوٹیاں لگی ہوئی ہیں، اُس پر آپ نے کبھی تحقیق کی ہوتی، اُس سے آپ نے کوئی نتیجہ نکالا ہوتا کہ فلاں جڑی بوٹی ان امراض کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلونجی کے فوائد بیان فرمائے تھے، اُس پر کوئی تحقیق کی ہوتی۔ وہاں تو اجتہاد کا دروازہ ٹوٹل بند ہے اور اُس میں کوئی تحقیق کا راستہ نہیں، اور جو قرآن و سنت کی بات ہے اُس میں اجتہاد کا مطالبہ ہے۔ یہ ذہنی غلامی کا نظام ہے جس نے ہمیں اس نتیجے تک پہنچایا۔ دوسرا یہ کہ تصورات بدل گئے۔ پہلے علم کا تصور ایک معزز چیز تھی جس کا مقصد معاشرے اور مخلوق کی خدمت تھی، یہ اصل مقصود تھا۔ اس کے تحت اگر معاشی فوائد بھی حاصل ہوجائیں تو ثانوی حیثیت رکھتے تھے، لیکن آج معاملہ الٹا ہوگیا، علم کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے۔ علم کا مقصد یہ ہے کہ اتنا علم حاصل کرو کہ لوگوں کی جیب سے زیادہ سے زیادہ پیسہ نکال سکو۔ تمہارا علم اس وقت کارآمد ہے کہ جب تم لوگوں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کماسکو۔ آپ دیکھیں کہ موجودہ دور میں کتنے لوگ پڑھ رہے ہیں اور گریجویشن کررہے ہیں، ماسٹر ڈگریاں لے رہے ہیں، قسما قسم کی ڈگریاں حاصل کررہے ہیں، اُن کے ذہن سے پوچھا جائے کہ کیوں پڑھ رہے ہو؟ وہ کہیں گے کہ اس لیے پڑھ رہے ہیں کہ کیریئر اچھا ہو، اچھی ملازمتیں ملیں، پیسے زیادہ ملیں۔ تعلیم کی ساری ذہنیت بدل کر یہ تبدیلی کردی کہ علم کا مقصد پیسہ کمانا ہے۔ عالم حاصل کرکے معاشرے یا مخلوق کی کوئی خدمت انجام دینی ہے، اس کا کوئی تصور اس موجودہ نظامِ تعلیم میں نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر شخص پیسے کمانے کی دوڑ میں مبتلا ہے اور اُس کو نہ وطن کی فکر ہے، نہ ملک و ملت کی فکر ہے اور نہ مخلوق کی خدمت کرنے کا کوئی جذبہ اُس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ دن رات اسی دوڑ دھوپ میں مگن ہے کہ پیسے زیادہ بننے چاہیے۔ اُس کے لیے چوری، ڈاکہ، رشوت و ستانی وغیرہ کے ناجائز ذرائع بھی استعمال کرتا ہے۔

یہ بتائیے! موجودہ نظامِ تعلیم کے تحت جو لوگ یہاں تیار ہورہے ہیں، انہوں نے مخلوق کی کتنی خدمت کی؟ کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچایا؟ ہمیں تو پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تلقین فرمائی تھی: ’’اَللّٰھُمَّ لَاتَجْعَلِ الدُّنْیَا أَکْبَرَ ھَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا غَایَتَ رَقْبَتِنَا‘‘… ’’یااللہ! دنیا کو ہمارے لیے نہ تو ایسا بنائیے کہ ہمارا ہر وقت دھیان دنیا ہی کی طرف رہے اور نہ ہمارے علم کا سارا مَبلغ دنیا ہی ہوکر رہ جائے، اور نہ ہماری ساری رغبتوں اور شوق کا مرکز دنیا ہوکر رہ جائے۔‘‘ لیکن اس نظامِ تعلیم نے کایا پلٹ دی۔

حضرت والا ماجد مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے جو بات فرمائی تھی اُس کا منشاء یہ تھا کہ انگریز کی غلامی کے بعد جو تعلیم کی کایا پلٹی گئی ہے، اُس کایا کو دوبارہ پلٹ کر اُس راستے پر چلیں جو راستہ جامعۃ القرویین نے دکھایا، جو جامعہ زیتونہ نے دکھایا، جو ابتدائی دور میں جامعۃ الازہر نے دکھایا۔ میں ابتدائے دور کی بات اس لیے کررہا ہوں کہ آج جامعہ ازہر کی بھی کایا پلٹ چکی ہے، اسی لیے ابتدائی دور کی بات کررہا ہوں۔ ہمارے یہاں حکومتی سطح پر وہ نظام تعلیم نافذ نہیں ہوسکا، لہٰذا مجبوراً کم از کم دارالعلوم دیوبند کے نظام کا تحفظ تو ہو۔ الحمدللہ! اسی غرض سے مدارس قائم ہوئے۔ جب تک ہمیں حکمرانوں او رنظامِ حکومت پر اور اُن کے بنائے ہوئے قوانین پر بھروسہ نہیں ہے اور نہ مستقبل قریب میں کوئی بھروسہ ہونے کی امید ہے، اس لیے اُس وقت تک ہم اِن مدارس کا پورا تحفظ کریں گے۔ مدارس کو اسی طرح برقرار رکھیں گے جس طرح ہمارے اکابر نے دیوبند کی طرح برقرار رکھا۔ اس کے اوپر ان شاء اللہ کوئی آنچ بھی نہیں آنے دیں گے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ رفتہ رفتہ یہ قوم اُس طرف بڑھے جو ہمارا ابتدائی مطمح نظر تھا۔ اسی سلسلے میں حرا فائونڈیشن کی یہ چھوٹی سی پریذینٹیشن تھی۔

اس میں رئیس الجامعہ کا چھوٹا سا خطاب تھا اور میں بھی اسے ہر جگہ بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ الحمدللہ! پاکستان میں دینی مدارس کی تعداد بقدرِ ضرورت اچھی خاصی ہوگئی، لیکن سارے مدارس فرضِ کفایہ کی تعلیم دے رہے ہیں۔ اگر ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والوں کا تناسب پورے ملک کے حساب سے دیکھا جائے تو مشکل سے ایک فیصد ہوگا، لیکن ننانوے فیصد قوم جن اداروں میں جارہی ہے اور جس طرح وہ انگریزوں کی ذہنی غلام بن رہی ہے، اس تعداد کا آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔

میں یہ بات کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں اور کہتا رہتا ہوں کہ آپ کا اصل مقصد یہ ہے کہ خدا کے لیے ہماری اس نسل کو اس انگریز کی ذہنی غلامی سے نکالیے۔ آپ کو یہ تاثر دینا ہے کہ الحمدللہ! ہم ایک آزاد قوم ہیں، ہم ایک آزاد سوچ رکھتے ہیں، ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوچ رکھتے ہیں اور یہ جو ذہنی غلامی کا تصور پالا گیا ہے کہ جو کچھ ہوگا وہ مغرب سے آئے گا اور ہم مغربی افکار پر پروان چڑھیں گے، خدا کے لیے اس نئی نسل کے ذہنوں سے یہ چیز مٹائیے اور ان کے اندر اسلامی ذہنیت پیدا کیجیے۔ ہم نے اسی مقصد کے لیے یہ ادارہ قائم کیا۔ مغرب کی بھی ہر بات بری نہیں ہے، کچھ چیزیں اچھی بھی ہیں، لیکن اُن اچھی چیزو ںکو لے لو اور بری چیزوں کو پھینک دو، ’’خُذْ مَاصَفا وَدَعَ ماکدر‘‘ اس اصول کے اوپر اگر کام کیا جائے تو ان شاء اللہ ہم منزل تک پہنچ جائیں گے۔

اقبال مرحوم نے بعض اوقات ایسے حسین تبصرے کیے ہیں کہ وہ قوم کے لیے مشعل راہ ہیں۔ مغرب کی ترقی جو کہیں سے کہیں پہنچی ہے اُس پر تبصرہ کرتے ہوئے چند شعر کہے ہیں، وہ ہمیشہ یاد رکھنے کے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ؎

قوتِ مغرب نہ از چنگ و رباب
نے ز رقصِ دخترانِ بے حجاب
چنگ و رباب یعنی موسیقی کے آلات۔ مغرب کی قوت اس لیے نہیں ہوئی کہ وہاں موسیقی کا بڑا رواج ہے، نہ اس وجہ سے ہوئی کہ بے حجاب اور بے پردہ عورتیں رقص کرتی ہیں۔

نے ز سحر ساحران لالہ روست
نے ز عریاں ساق و نے ز قطع موست .
نہ اس وجہ سے ہوئی کہ وہاں حسین عورتیں بہت پھرتی ہیں اور نہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنی ٹانگیں ننگی کر رکھی ہیں اور اپنے بال دراز کر رکھے ہیں۔

قوتِ مغرب از علم و فن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
قوت اگر ہوئی ہے تو علم و فن میں محنت کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اسی آگ سے اُس کا چراغ روشن ہے۔ اور پھر آخر میں بڑا خوبصورت شعر کہا ہے کہ
حکمت از قطع و برید جامہ نیست
مانع علم و ہنر عمامہ نیست
یعنی حکمت و علم کپڑوں کی قد و برید یا تراش و خراش سے حاصل نہیں ہوتا۔ کسی نے پتلون پہن لی تو ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ہوگئے۔ اگر شلوار قمیص پہن لی تو پسماندہ ہیں، ترقی پسند نہیں ہیں۔ اگر عمامہ پہن لیا تو اُس سے علم و ہنر میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی، لیکن تم نے چند جواہر کو یہ سمجھا ہوا ہے کہ مغرب کو اُس سے قوت حاصل ہوئی ہے اور اُس کے نتیجے میں اپنی نسلوں کو اُس کے پیچھے چلاکر تباہ کررہے ہو، لہٰذا اس سے اپنے آپ کو بچائو۔ یہ ہے حرا فائونڈیشن اسکول۔ الحمدللہ! دوسری جگہو ںپر یہ توجہ عام ہوئی ہے اور بھی اسکول قائم ہورہے ہیں۔ جن کا اصل مقصود یہ ہے کہ ہم واپس اُس نظام تک لوٹیں ؎
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
کوئی کہے گا کہ یہ رِجعت پسندی ہے، لیکن اقبال جیسا ترقی پسند شاعر کہتا ہے کہ ’’دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تُو‘‘ یعنی ہم اُس طرف دوڑیں جو جامعۃ القرویین کی بات تھی، جو جامعہ زیتونہ کی بات تھی، ہم اُس طرف دوڑیں۔ ہم نے اس غرض کے تحت یہ ادارہ اللہ کے نام پر قائم کیا۔ حضرت والد ماجد صاحبؒ کے ارشاد کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔
ابھی فی الحال آپ نے اس کی جھلکیاں دیکھی ہیں، لیکن الحمدللہ ثم الحمدللہ! اس قلیل عرصے میں اللہ تعالیٰ نے ترقی کے بہت سے منازل طے کروائی ہیں۔ سچی بات ہے کہ میرے بیٹے ہیں، نہیں کہنا چاہیے، مگر مولانا اشرف عثمانی نے خصوصی توجہ اور دن رات کھپاکر انتہائی عرق ریزی اور دیدہ ریزی کے ساتھ ان حضرات نے بڑی محنت کرکے اس ادارے کو پروان چڑھانے کی کوشش کی ہے، جس کے کچھ تھوڑے سے نتائج آپ نے دیکھے ہیں۔
اسے ہم نے مجبوراً انگریزی میڈیم میں رکھا ہے، ورنہ تعلیم مادری زبان ہی میں ہونی چاہیے، مگر چونکہ یہاں ایک وباء چل پڑی اور اس واسطے ہمیں ان خاندانوں کو Attract کرنا ہے جو اپنے بچوں کو اُس نظامِ تعلیم میں بھیجتے ہیں، اس لحاظ سے ہم نے اسے انگلش میڈیم رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ حفظ اور عربی کی کلاسیں بھی ہیں۔ اردو کو بھی ایک اچھے مقام کے ساتھ پڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہماری نیتوں میں بھی اخلاص پیدا فرمائے، ہمارے طریقِ عمل میں بھی اللہ تعالیٰ سلامتی عطا فرمائے اور ہر طرح کے شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رضاء کے مطابق اس معاملے کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے