*اتنا سونا اچھا نہیں*!!

*اتنا سونا اچھا نہیں*!!

(انورغازی)

ایک غلط فہمی یہ ہے کہ ہمیں 8 گھنٹے مکمل آرام کرنا چاہیے، ورنہ صحت خراب ہوجائے گی۔ ایسا بالکل نہیں۔ یہ ایک غلط فہمی ہے، اس کو دماغ سے نکال باہر کرنا چاہیے، کیونکہ آج تمام ڈاکٹر بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ اگر نیند بہتر ہو تو چار گھنٹے کی بھی بہت ہے۔ نیند کا معیار بہتر ہونا ضروری، مقدار زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ آپ نے متعدد بار دیکھا ہوگا کہ آپ آٹھ نو گھنٹے سوئے، پھر بھی سستی، کاہلی، نقاہت باقی رہی اور مزید سونے کو جی چاہے، تھکاوٹ محسوس ہو۔ متعدد بار ایسا بھی ہوا ہوگا کہ دو چار گھنٹے سوئے، لیکن جب بیدار ہوئے تو انتہائی ہشاش بشاش، چاق و چوبند۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آپ نے بھرپو رنیند کی ہو۔ نیند کی کوالٹی اچھی ہو۔ صحابہ کرامؓ اور ہماری نیند میں یہی فرق ہے۔ ان کی نیند کم، مگر بھرپور ہوا کرتی تھی، جبکہ ہماری نیند زیادہ، مگر بھرپور نہیں ہوتی۔ نیند کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے ہم پریشان اور سست رہتے ہیں۔ آپ اتنا ہی سوئیں جتنی آپ کو ضروری ہے اور ہر شخص کی ضرورت اللہ تعالیٰ نے مختلف رکھی ہے۔
کسی کی نیند دو گھنٹوں میں پوری ہوجاتی ہے تو کسی کی پانچ گھنٹوں میں۔ اگر آپ کی ضرورت چھ گھنٹوں میں پوری ہوجاتی ہے تو پھر آپ آٹھ گھنٹے کیوں سوتے ہیں؟ سوکر روزانہ ایک گھنٹہ ضایع کیوں کرتے ہیں؟ اگر روزانہ ایک گھنٹہ بچائیں تو ایک ماہ میں تیس گھنٹے بچاسکتے ہیں۔ ایک سال میں 360 گھنٹے بچ جائیں گے۔ روزانہ ایک گھنٹہ بچاکر آپ اس میں کئی کام سرانجام دے سکتے ہیں۔ بیسیوں امور نمٹاسکتے ہیں۔ ایک گھنٹہ میں ورزش کرسکتے ہیں۔ کوئی بک لکھ سکتے ہیں۔ کچھ پڑھ سکتے ہیں۔ کوئی فن سیکھ سکتے ہیں۔ اگر اس وقت کو صحیح استعمال کیا جائے تو چھوٹے بڑے سیکڑوں کام ادا کیے جاسکتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق اگر انسان 65 سال زندگی گزارے تو 27 سال سوکر ہی گزار دیتا ہے۔ اپنی زندگی بڑھانے کا ایک نسخہ یہ بھی ہے کہ اپنی نیند کم کرلی جائے۔ اسی طرح تحقیق ہے کہ 65 سالوں میں سات سال انتظاروں میں گزار دیتا ہے۔ اس انتظار کے وقت کو بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔
وقت بے وقت کی نیند سے انسان کی صحت اور خاص کر معدے پر بہت ہی برا اثر پڑتا ہے۔ ہمارے ایک دوست ایک عرصے سے معدے کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ بہت علاج کروایا گیا۔ ڈاکٹر اور حکیم سب کو آزمالیا، لیکن معدہ تھا کہ ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ ایک ہمدرد ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ معدے کا نیند کے ساتھ انتہائی گہرا تعلق ہے۔ اگر تم اپنی سونے کی ترتیب اور روٹین صحیح کرلو، نیند بہتر کرلو تو تمہارا معدہ بھی بہتر ہوسکتا ہے۔ جب اس سے اپنے سونے کی عادت درست کی تو چند ہی دنوں میں معدہ بھی درست ہوگیا۔ سارا غم دور ہوگیا۔
یہ بات درست ہے کہ جس شخص کی رات منظم نہیں، اس کا دن بھی منظم نہیں ہوسکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ نیند کم اور اس کا معیار بہتر کیسے ہوسکتا ہے؟ کم وقت میں بھرپور نیند کیسے لی جاسکتی ہے؟ اپنی راتوں کو کیسے منظم کیا جاسکتا ہے؟ ”چلو! تم ادھر کی جدھر کی ہوا ہو“ کے احمقانہ فلسفے سے کیسے بچاجاسکتا ہے؟ صبح کی برکات سے کیسے مستفید ہوا جاسکتا ہے؟ صبح کی نیند کو کیسے قربان کیا جاسکتا ہے؟ رات کی نیند کو کم کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اپنی سابقہ روٹین کو کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
تو میرے بھائیو! اس کے پانچ چھوٹے اصول ہیں۔ ان پر عمل پیرا ہوکر ان پیچیدہ مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ آپ رات کو جلدی سونے کی عادت ڈالیں۔ عشاءکے بعد جلدازجلد سوجائیں۔ 9 سے 10 بجے کے دوران سوجائیں۔ سب کام بھول کر اور سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کرکے سوجائیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ نیند کو بگاڑنے اور خراب کرنے والی اشیاءسے پرہیز کریں۔ مثال کے طور پر منشیات، مسکرات، چائے، کافی، قہوہ، پان، سگریٹ وغیرہ کو بالکلیہ چھوڑ دیں۔ ان سے نیند میں خلل واقع ہوتا ہے۔ اب تو اس کو سائنس بھی مان چکی ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ آدھے دن کے بعد دن کو ایک آدھ گھنٹے کا قیلولہ لازمی کریں۔ نیند آئے یا نہ آئے آرام اور قیلولہ کی نیت سے لیٹ جائیں۔
چوتھی بات یہ ہے کہ صبح سویرے اٹھنے کا اہتمام کریں۔ بہرصورت صبح چار پانچ بجے اٹھ جائیں اور پھر نمازِ فجر کے بعد نہ سوئیں، بلکہ اس وقت کام کریں۔ کام کرنے کا یہ بہترین او رسب سے اچھا وقت ہے۔
پانچویں بات یہ ہے کہ اپنے 24 گھنٹوں کے اوقات کو منظم کریں۔ خود بھی منظم ہوں اور اپنے بیوی بچوں اور ماتحت عملے اور افراد کو بھی منظم کریں۔ چوبیس گھٹوں کی تربیت بنائیں اور پھر اسی کے مطابق عمل کرنے کی پوری کوشش کریں۔
آخری بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ کو مشعل راہ بنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا آئیڈیل اور رول ماڈل بناکر اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں۔ دیکھیں! جب قرآن، سنت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل، صحابہ کرامؓ کا تعامل، حضرات اکابرین کا معمول تھا کہ وہ رات کو جلدی سوتے اور صبح سویرے اٹھتے تھے، دن کو قیلولہ کرتے تھے۔ اپنے اوقات کو ضائع نہیں کرتے تھے۔ ایک ایک لمحے کو نعمتِ خداوندی سمجھ کر خرچ کرتے تھے تو ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
بے شک نیند کو اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز بنایا ہے کہ وہ انسان کے تمام غموں، پریشانیوں، دُکھوں وغیرہ کو قطع کرکے اس کے دل و دماغ کو ایسی راحت دیتی ہے کہ دنیا کی کوئی راحت اس کا بدل نہیں ہوسکتی۔ یہ اسی صورت حاصل ہوسکتی ہے جب ہم ربّ کائنات کے فطری اصولوں کی خلاف ورزی نہ کریں۔ ہر ہر کام میں شریعت کے قوانین کو مدنظر رکھیں۔ آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں۔
اگر ایسا ہوجائے تو پھر اپنے کاموں، خواہشوں، آرزوﺅں، منصوبوں اور مشنوں کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں کوئی رکاوٹ نہ رہے گی۔ آپ جائزہ لے لیجیے! تمام بڑے بڑے کارنامے سرانجام دینے والوں، سائنس دانوں، صحافیوں، فاتحوں، سیاست دانوں، تاجروں، سماجی راہنمائی اور کچھ کر گزرنے والوں کی نیند ان کے کنٹرول میں ہوا کرتی تھی اور ہے۔ وہ کم سوتے تھے۔ وہ اپنی صحت کا خیال رکھتے تھے۔ وہ ورزش تھے۔ وہ اپنے اپنے طریقے سے منظم تھے۔ وہ وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔ وہ وژنری تھے۔ وہ باہمت تھے۔ وہ عزم و یقین رکھنے والے تھے۔ وہ ضرورتوں کو ضرورت کی حد تک ہی رکھنے کے قائل تھے اور اہم کاموں میں ہی لگے اور جتے رہتے تھے۔ وہ اچھے تھے اور دوسرو ںکے لیے اچھا ہی سوچتے تھے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ بھی کامیاب ہوں، تو ان باتوں، فارمولوں اور اصولوں پر آج، بلکہ ابھی اور اسی لمحے سے عمل کیجیے۔ ہمت کیجیے۔ ہمت مرداں، مددِ خدا….!!

شیخ الکل حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب قدس سرہ

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم

گزشتہ مہینے برصغیر، بلکہ عالمِ اِسلام کے دِینی حلقوں کے لیے سب سے بڑا سانحہ ،شیخ الکل حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب کا حادثہ وفات تھا، جس کی وجہ سے آج ایسا لگا ہے کہ اُمت کے ہراُس فرد کا دِل صدمہ و حسرت میں ڈُوبا ہوا ہے، جو حضرت سے کسی قسم کی نسبت رکھتا تھا، حضرت قدس سرہ کا وجود اس وقت خاص طور پر برصغیر کے علماء، دِینی حلقوں اور دِینی مدارس کے لیے ایک عظیم شامیانہ رحمت تھا، جس کے تصور ہی سے اِس پُرفتن دور میں دِل کو ڈَھارس ہوا کرتی تھی۔ اس مہینے ہم اس عظیم شامیانہ سے محروم ہو گئے۔اِنَّا لِلّہِ وَاِنَّا اِلَیہ رَاجِعُوْن!
اِس دُنیا میں کوئی ہمیشہ یہاں رہنے کے لیے نہیں آتا، یہاں ہر شخص کو موت سے سابقہ پیش آتا ہے، لیکن کچھ حضرات کی وفات ایسی ہوتی ہے کہ اس کا صدمہ اس کے اہلِ خانہ کی حد تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک پورے جہان کا صدمہ ہوتا ہے:
وما کان قیس ھلکہ ھلک واحد
ولکنہ بنیان قوم تھدما
ہمارے اُستاذِ گرامی حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمة اللہ علیہ بلاشبہ ایسے ہی حضرات میں شامل تھے، چناں چہ میں نے اُن کی تدفین کے وقت بڑے بڑے علماء کو دیکھا کہ وہ ایک دُوسرے کی تعزیت کر رہے ہیں اور بجا طور پر کر رہے ہیں، وہ اس روئے زمین پر بندہ کے آخری اُستاذ رہ گئے تھے، دُوسرے تمام اساتذہ ان سے پہلے رخصت ہو چکے تھے اور اسی طرح کسی اُستاذ کے سر پر موجود رہنے کی جو عظیم حلاوت ہوا کرتی ہے، آپ کی وفات پر آج اس حلاوت کا اِختتام ہو گیا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت سے بڑے بڑے کام لیے اور ان کی خدمات کا عظیم ترین مظہر ”وفاق المدارس العربیہ“ کی صورت میں ہر شخص کے سامنے ہے، جو وقت کے فتنوں اور طوفانوں میں الحمدللہ! ثابت قدم رہ کر اہلِ علم کے لیے ایک تناور اور سایہ داردرخت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے، جس کی چھاوٴں میں سب مل بیٹھ کر سکون اور راحت حاصل کرتے ہیں۔
اس موقع پر حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب کی شخصیت، ان کے کارناموں اور خدمات کا تذکرہ کسی مختصر مضمون میں ممکن نہیں ہے، اُمید ہے کہ اِن شاء اللہ اس موضوع پر مفصل او رتحقیقی کام ایسے حضرات کے قلم سے سامنے آئے گا جو اس کا حق اَدا کرسکیں، اَلبتہ اِس وقت چندمتفرق یادیں ذِکر کرنے کو دِل چاہ رہا ہے، جو ذیل میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔
میں نے اَپنے اُستاذِ گرامی حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب کا اِسم گرامی سب ے پہلے1376ھ/1957ء میں ( جب کہ میری عمر چودہ سال تھی) اپنے بہنوئی اور سابق ناظم دارالعلوم حضرت مولانا نور احمد صاحب رحمة اللہ علیہ سے اُس وقت سنا جب ہمارا دارالعلوم نانک واڑے سے شرافی گوٹھ کے قریب نئی عمارت میں منتقل ہونے جارہا تھا۔ اِتفاق سے اس سال حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری صاحب رحمة اللہ علیہ نے جامع مسجد نیو ٹاوٴن میں ”مدرسہ عربیہ اِسلامیہ“ (حال جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاوٴن، کراچی) کے نام سے ایک نئے مدرسہ کی بنیاد ڈالی اور ہمارے بعض جلیل القدر اساتذہ کرام مثلاً حضرت مولانا مفتی ولی حسن خان ٹونکی صاحب رحمة اللہ علیہ اور حضرت مولانا فضل محمد صاحب رحمة اللہ علیہ، چوں کہ شہر سے باہر دارالعلوم کی نئی عمارت میں منتقل ہونے میں مشکلات محسوس فرماتے تھے، اس لیے حضرت بنوری رحمة اللہ علیہ کی دعوت پر وہ نیو ٹاوٴن جانے والے تھے اوران کے جانے کی وجہ سے دارالعلوم کے درجہ علیا کے اساتذہ میں بڑا خلا پیدا ہو نے والا تھا، حضرت والد ماجد رحمة اللہ علیہ کا مزاج اگرچہ ہمیشہ سے یہ تھا کہ اُستاذ کو کسی مدرسہ میں خدمت انجام دینے کے دوران وہاں سے چھوڑ کر اپنے یہاں آنے کی دعوت دینے سے پرہیز فرماتے تھے اور یہ اِرشاد فرمایا کرتے تھے کہ: ”ایک مدرسہ کو اُجاڑ کر دُوسرے مدرسہ کو آباد کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔“ لیکن حضرت مولانانور احمد صاحب کو اس موقع پر اِطلاع ملی کہ بعض حضرات اپنی جگہوں کو خود چھوڑنا چاہتے ہیں ،ان کو دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس بنیاد پر انہو ں نے جن اساتذہ کرام کو دارالعلوم میں تدریس کی دعوت دی اْن میں حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب، حضرت مولانا اکبر علی صاحب اورحضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمة اللہ علیہم بطورِ خاص قابلِ ذِکر ہیں۔حضرت مولانا نور احمد صاحب نے یہ بھی بتایا کہ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب تھانہ بھون کے قریب ایک قصبہ جلال آباد سے تعلق رکھتے ہیں اور ٹنڈوالہ یار کے مدرسہ سے مستعفی ہونے کے بعد دارالعلوم تشریف لائیں گے۔ شوال1376ھ میں دارالعلوم کی نئی عمارت میں تعلیم شروع ہونی تھی، اُس وقت دارالعلوم لق ودق صحرا میں واقع تھا، جس کے مغرب میں سمندر تک ریت کے ٹیلوں کے سوا کچھ نہیں تھا، جنوب میں جہاں آج کورنگی آباد ہے، وہاں بھی جنگلوں او رجانوروں کا بسیرا تھا، مشرق میں لانڈھی کی بستی تک کھیت اور باغات تھے اور صرف شمال مشرق میں چھوٹا سا گاوٴں شرافی آباد تھا۔ جن نئے حضرات اساتذ ہ کرام کو تعلیم کے آغاز میں دعوت دی گئی تھی ان کی رہائش کا اِنتظام بھی دارالعلوم کی زمین میں چھوٹے چھوٹے کچے پکے مکان تعمیر کرکے کیا گیا تھا، ان حضرات گرامی نے اس ویرانہ میں دارالعلوم کی خدمات کا آغاز فرمایا۔
اس سال میں اور میرے بڑے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم ہدایہ اخیرین، توضیح، میبذی، ملاحسن، سراجی اور تصریح کی جماعت میں شامل تھے۔ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمة اللہ علیہ سے سب سے پہلے اس تعلیمی سال کے آغاز میں ملاقات ہوئی، حضرت اُس وقت نوجوان تھے، حسین اور شگفتہ چہرہ، دِل کش اَندازِ گفت گو اور سادہ اور بے تکلف اَندازِ زِندگی، ان تمام باتوں نے بہت جلد حضرت سے اُنس پیدا کر دیا، اُس سال ہمارے دو سبق حضرت کے پاس تھے، ایک میبذی اور دوسرے ہدایہ اخیرین۔
اُستاذ الاساتذہ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمة اللہ علیہ اُس وقت عہد شباب میں تھے، شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمد صاحب مدنی رحمة اللہ علیہ کے شاگر د تھے اور میرے شیخ ثانی حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب قدس سرہ کے مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد میں طویل عرصہ تدریس کی خدمات اَنجام دے کر مستقل سکونت کی غرض سے پاکستان تشریف لائے تھے۔ اگرچہ اُس سال ہدایہ اخیرین اور میبذی ہماری دو کتابیں حضرت کے پاس تھیں، لیکن جہاں تک یاد ہے اسباق دن میں اِجتماعی طور پر شروع ہوئے اور شام کو اُن کے پاس میبذی کا گھنٹہ تھا، اس لیے اُن سے ہم نے پہلا سبق میبذی کا پڑھا تھا۔ مجھے طبعی طور پر منطق اور فلسفہ سے کوئی خاص دِلچسپی نہیں تھی، بس ضرورةً ہی منطق کی کتابیں پڑھتا آیا تھا، اَلبتہ فلسفہ کی یہ پہلی اور آخری کتا ب تھی۔ لیکن حضرت رحمة اللہ علیہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ اَپنے فضل خاص سے نوازیں، اُنہوں نے پہلا سبق ہی اس شان سے پڑھایا کہ کتاب اور اُستاذ دونوں سے حد درجہ مناسبت پیدا ہو گئی او راَپنے سابق طرزِ عمل کے برعکس پورے سال میں نے میبذی بڑی محنت اور ذوق وشوق کے ساتھ پڑھی۔ ان کے پا س دوسرا سبق ہدایہ اخیرین کا تھا۔ وہ بھی ماشاء اللہ خوب ہوا، حضرت رحمة اللہ علیہ نے ہدایہ اخیرین حضرت شیخ الادب والفقہ مولانا اعزاز علی صاحب رحمة اللہ علیہ سے پڑھی تھی، اس لیے اُنہیں درس میں اپنے شیخ کی اِتباع کا بڑا ذوق تھا۔ چنا ں چہ صبح کے پہلے گھنٹے میں وہ ہمیشہ وقت پر درس کے لیے تشریف لاتے اور دو گھنٹے مسلسل درس دیتے ہوئے اپنے شگفتہ چہرے اور دِل کش اَندازِ گفت گو سے ہمیں اس طرح نہال کر دیتے تھے کہ تھکن کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔
ہمارے اگلے تعلیمی سال میں جسے موقوف علیہ کا سال کہا جاتا ہے، حضرت کے پاس ہمارا کوئی سبق نہیں تھا، لیکن گذشہ سال حضرت سے جو خصوصی تعلق قائم ہوگیا تھا اس کی وجہ سے سبق نہ ہونے کے باوجود حضرت سے رابطوں میں کوئی کمی نہیں رہی، حضرت مولانا شمس الحق صاحب رحمة اللہ علیہ حضرت کے خاص شاگرد تھے، لیکن حضرت کی بے تکلفی نے ان کے ساتھ دوستانہ جیسا تعلق قائم فرما دیا تھا اور حضرت مولانا شمس الحق صاحب رحمة اللہ علیہ سے ہمارا تعلق بھی کچھ اسی قسم کا تھا، اِس لیے ان دونوں بزرگوں کی پُرلطف صحبت سے ہم فیض یاب ہوتے رہتے تھے۔ پھر جب دورہٴ حدیث کا سال آیاتو دورے کا اہم ترین سبق جامع ترمذی آپ کے سپرد ہوا او رحضرت نے ہمیں یہ سبق بہت اہتمام اور تحقیق سے پڑھایا۔ چوں کہ جامع ترمذی میں فقہی اور حدیثی مباحث بڑی تفصیل سے حضرت بیان فرماتے تھے اور طلبہ کی رعایت سے حضرت اپنی درسی تقریر املاء کرایا کرتے تھے اور چوں کہ املاء کرانے میں کچھ وقفہ مل جاتا تھا، اس لیے ان کی تقریر ،میں عربی میں ضبط کرتا تھا او رحقیقت یہ ہے کہ حضرت کی یہ تقریر اتنی منضبط ہوتی تھی کہ اُس سے مسئلہ کے تمام پہلو بڑے حسن ترتیب کے ساتھ یکجا ہو جاتے تھے اور جو باتیں شروح میں منتشر ملتی ہیں، وہ یہاں نہایت منطقی ترتیب کے ساتھ چھنے چھنائے انداز میں مہیا ہو جاتی تھیں۔ اس تقریر کے مسودات میرے پاس اب بھی محفوظ ہیں۔ اُس وقت اس حسن انضباط کا اتنا اندازہ نہیں ہوا، لیکن جب خود شروح حدیث کو کھنگالنے کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ حضرت والا نے کس طرح بکھرے ہوئے مباحث کو سمیٹ کر ہمیں لکھوایا ہے کہ ان کو سمجھنا اور یاد کرنا آسان ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ حضرت استاذ کو املاء کرانے میں وقت لگتا تھا۔ اس لیے درس کی رفتار کم رہتی تھی۔ ہیاں تک کہ آخر سال تک کتاب ارکان اربعہ تک ہی ہو پائی تھی۔ دوسری طرف ترمذی جلد ثانی حضرت نے املاء کے بغیر شروع کرارکھی تھی جس کی مقدار نسبةً زیادہ ہو گئی تھی۔ لیکن جب سال ختم ہونے میں بہت کم وقت رہ گیا تو حضرت رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ اب بیشتر احادیث ایسی ہیں جو صحیح بخاری یا صحیح مسلم یا ابوداوٴد وغیرہ میں گزر چکی ہیں اس لیے باقی کتاب روایةً پڑھ لینا بھی کافی ہو گا۔ اس کے لیے حضرت نے اضافی وقت دے کر کتاب مکمل کرانی شروع فرمائی۔ یہاں تک کہ جب تقریباً سو صفحات باقی رہ گئے ہوں گے، تو حضرت نے ایک پوری رات سبق پڑھایا۔ اس کے لیے درس گاہ ہی میں اسٹوومنگواکر وقفے وقفے سے چائے بنانے اور پلانے کا سلسلہ بھی جاری رہا، یہاں تک کہ شاید ایک یا دور اتوں میں کتاب مکمل ہو گئی۔
حضرت مولانا رحمة اللہ علیہ کے ذوقِ تدریس کا ہم نے دارالعلوم میں خوب مشاہدہ کیا او راس دوران یہ محسوس کیا تھا کہ حضرت کو نہ صرف تدریس، بلکہ مدرّسین کی تربیت کا خصوصی ذوق ہے ، لیکن اس ذوق کا ایک نمایاں مظاہرہ اَوّل تو جامعہ فاروقیہ کراچی کے ذریعہ ہوا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے ممتاز مدار س میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا، دوسرے ان کے اس ذوق کا ہمہ گیر اور مفید ترین مظاہرہ اس وقت ہوا جب وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی نظامت یا سربراہی آپ کے سپرد کی گئی۔ وفاق المدار س العربیہ اگرچہ پہلے سے قائم تھا اور بڑے بڑے علماء اور بزرگوں نے اسے قائم کرنے اور چلانے میں اپنی خدمات صرف کیں، لیکن اس کی خدمات میں جو گہرائی اور گیرائی پیدا ہوئی اس کے بارے میں بلا خوف تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمة اللہ علیہ کی انتھک جدوجہد اور مدارس کے مزاج کی حقیقت پسندانہ فہم اور اِصلاح کی مسلسل تڑپ کا نتیجہ ہے، حضرت کی بلند ہمتی ہم جیسوں کے لیے ہمیشہ ایک قابل رشک مثال رہی، جس مقصد کو آپ لے کر چلے، کسی قسم کی مشقت او رمحنت آپ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنی اور سخت سے سخت محنت اور مشقت کو آپ نے جس خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا وہ ہم جیسوں کو ہمیشہ شرم دلاتی رہی۔ وفاق کو منظم بنانے اور اس کے مقاصد کو موٴثر انداز میں حاصل کرنے کے لیے آپ نے بہ نفس نفیس ایسے گاوٴں گوٹھوں کے پُر مشقت سفر کیے جن میں آپ سے پہلے کوئی نہیں گیا تھا۔ اس محنت ومشقت میں اللہ تعالیٰ نے وہ برکت عطا فرمائی کہ الحمدللہ وفاق ایک تنومندادارہ بنا اور سازشوں او رمخالفتوں کے طوفان میں بفضلہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی نصیب ہوئی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت کے ان فیوض کو قائم ودائم رکھیں۔ آمین!
حضرت رحمة اللہ علیہ اکابر علمائے دیوبند کے مسلک کے بارے میں بہت متصلّب تھے، لیکن مدارِسِ دِینیہ کے مشترکہ مقاصد کے لیے حضرت نے دُوسرے مکاتب فکر کے ساتھ مل کر کام کرنے میں اِس تصلّب کو رُکاوٹ بننے نہیں دیا اور یہ آپ ہی کی حکیمانہ تدبیر کا نتیجہ تھا کہ مختلف مکاتب فکر کے مدارس کا ایک اتحاد”اِتحاد تنظیماتِ مدارِسِ دِینیہ پاکستان“ کے نام سے نہ صرف وجود میں آیا، بلکہ اس نے مدارس کے خلاف ہونے والی سازشوں اور پروپیگنڈے کا موٴثر مقابلہ کیا اور الحمدللہ وہ تادمِ تحریر کام یابی کے ساتھ رو بعمل ہے۔
حضرت نے جن اکابر سے تعلیم وتربیت حاصل کی تھی، اس کا نتیجہ تھا کہ دِینی عقائد وافکار میں ان کا تصلّب کسی مداہنت کو گوارا نہیں کرتاتھا، چناں چہ انہوں نے جس بات کو حق سمجھا، اس کے اِظہار میں کبھی تساہل سے کام نہیں لیا۔ عمر کے آخری حصہ میں حضرت کے لیے نہ صرف نقل وحرکت، بلکہ گفت گو بھی سخت مشکل ہو گئی تھی ،لیکن دینی حلقوں میں پیش آنے والے واقعات پر اُن کی گہری نظر رہتی تھی اور ان کے بارے میں جہاں ضروری سمجھتے زبانی یا تحریری طور پر اپنی رائے ظاہر فرماتے تھے۔
الحمدللہ! ان معاملات میں بکثرت وہ مجھ ناکارہ شاگرد کو بھی شریک رہنے کی سعادت عطا فرماتے، اِجتماعی مسائل میں حضرت کی ہدایت بھی زبانی یا تحریری پہنچتی رہتی تھی اور حضرت ان میں مشورہ بھی فرماتے اور بندہ کی طرف سے کوئی طالب علمانہ مشورہ دیا جاتا، تو اسے قبول فرماکر بندہ کی قدر افزائی فرماتے تھے۔
حضرت کے ضعف وعلالت کی بنا پر حضرت کی زیارت بھی کم ہونے لگی تھی اور زیادہ رابطہ فون یا خط کے ذریعہ رہتا تھا، لیکن وفات سے کچھ ہی پہلے وفاق المدارس میں جو ایک بحرانی کیفیت پیدا ہوئی اس سلسلہ میں ایک ہی ہفتہ میں کئی بار حضرت کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور وفاق کے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے حضرت نے اکابر وفاق کا جو اِجتماع طلب فرمایا۔ اس میں اس ناکارہ کو نہ صرف خصوصی دعوت دی، بلکہ اجلاس کی صدارت حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب مدظلہم کے سپر د فرماکر حکم دیا کہ ان کی نیابت ومعاونت میں کارروائی یہ ناکارہ چلائے۔ بالآخر الحمدللہ! حضرت والا اس اِجلاس کے نتائج سے مطمئن رہے اور اس وقت حضرت کی دست بوسی کی ایک بار پھر سعادت ملی۔ اس وقت یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ حضرت کی آخری زیارت ہو گی، لیکن اس کے فوراً بعد حضرت کی علالت کی شدت کا علم ہوا۔ بندہ حضرتکے معالج اور صاحب زادگان سے رابطہ میں رہا، صحت میں اُتار چڑھاوٴ کی خبریں ملتی رہیں، اس دوران دو مرتبہ ہسپتال سے گھر بھی منتقل ہوئے، لیکن اتوار16 ربیع الثانی 1438ھ (15/ جنوری 2017ء ) کو طبیعت زیادہ خراب ہوئی، دِل کی تکلیف کی وجہ سے ٹبہ ہسپتال منتقل کیا گیا، وہیں 17/ربیع الثانی1438ھ پیرکی شب میں حضرت کا وقت معہودآگیا اور وہ مالک حقیقی سے جاملے۔
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون اللھم اکرم نزلہ، ووسع مدخلہ، وابدلہ داراً خیر من دارہ، واھلا خیراً من اھلہ، ونقّہ من الخطایا کما ینقّی الثوب الابیض من الدّنس، واسکنہ بحْوة جنانک، یا ارحم الراحمین، ولا تحرمنا اٰجرہ ولا تفتنا بعدہ

ہوسپٹن : برصغیر میں جہاں پہلے پہل حفظ قرآن کا باقاع دہ نظام قائم ہوا

ہوسپٹن : برصغیر میں جہاں پہلے پہل حفظ قرآن کا باقاعدہ نظام قائم ہوا
بقلم : عبد المتین منیری ۔ بھٹکل
amuniri@gmail.com
ہندوستان کے مغربی ساحل پر گوا کے جنوب میں قومی شاہراہ نمبر (۱۷) کے ساتھ ساتھ ریاست کرناٹک کے علاقے کینرا کی سرحدمیں جب ہم داخل ہوتے ہیں تومغربی گھاٹ کے جنگلوں اور اس کے آبشاروں سے نکل کر بحر عرب میں گرنے والی ندیو ں اور دریاوٴں کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتاہے، ان میں سے کالی اور مرجان ندی سے گذر نے کے بعد ایک لمبی چوڑی ندی آتی ہے جوشراوتی کہلاتی ہے۔یہ ندی گیرسوپا کے مشہور عالم آبشار جوگ فال سے نکل کر کھاڑی پر ناریل کے درختوں سے بھرے پرے چھوٹے چھوٹے جزیرے بناکر سمندر میں مل جاتی ہے۔اس ندی کے دونوں کناروں پر ایک تعلقہ آباد ہے جو ہناور (Honavar) کہلاتا ہے۔عرب جغرافیہ دانوں نے اپنی کتابوں میں اسکے لئے ہنور کا لفظ اورپرتگالی اور انگریز مورخین نے اس کے لئے Honore یا Onore کا لفظ استعمال کیا ہے۔موجودہ ہناور کا قصبہ ندی کے شمالی کنارے پر آباد ہے۔ لیکن جب ہم ندی کو پار کرکے جنوبی کنارے پر پہنچتے ہیں تو شاہراہ سے بائیں جانب کو ایک چھوٹی سڑک جاتی ہے جو کچھ دور ہناور کے ریلوے پل کے جنوبی سرے پر جاکر ختم ہوتی ہے۔یہیں پر ندی کنارے ایک گاوٴں آباد ہے جو ہوسپٹن Hosapatna کہلاتا ہے۔ وکٹر ڈیسوزا (۱) نے لکھا ہے کہ یہ کنٹر ی زبان کے دو لفظ ہوسا Hosa ( نیا) اور پٹن Patana (بندرگاہ یا شہر ) سے مل کر بنا ہے، اس کا مطلب ہوا نیا آباد شدہ شہر، اس مصنف اور ایک دوسرے مورخ مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی(۲) کا بیان ہے کہ یہاں سے سو کلومیٹر کی حدود کے اندر بھٹکل اور دوسرے قصبات میں بسنے والے عرب نژاد قبیلے نوائط کے آباء و اجداد یہیں سے ہجرت کرکے ان علاقوں میں منتشر ہوئے تھے ۔ لفظ نوائط کی مورخین نے کئی ایک توجیہات کی ہیں، لیکن برنل ،ڈیمس ، بریجس اور دیسوزا کی یہ توجیہ زیادہ قرین قیاس لگتی ہے کہ یہ سنسکرت یا فارسی کے دو الفاظ نو (Nawa نئے) آید / آیتا Aayata) آئے ہوئے )سے مرکب ہے(۳) ۔ اس کا مطلب ہو ا نئے شہر میں آباد ہوئے نو وارد لوگ۔
مورخین کے مطابق اہل نوائط حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں،ان کی مدینہ منورہ سے ہوتے ہوئے بغداد اور بصرہ ہوتے ہوئے اس علاقے میں ۷۵۲ ئھ / ۱۳۵۱ ء ء کے آس پاس ہرمز اور خلیج فارس کے راستے ہجرت ہوئی تھی(۴) ، اسی زمانے میں صلیبی جنگوں اور اندلس پر عیسا ئیوں کے قبضہ کے بعد یورپ کی نشات ثانیہ کا آغاز ہوا تھا ، یورپ میں تہذیب و تمدنی زندگی کے آغاز کے ساتھ ہی ہندوستانی مصالحہ جات ، اناج اور مصنوعات یہاں کی زندگی کا لازمی جزء بن گئیں اور بحر عرب کے دونوں کناروں پر واقع بندرگاہوں کے توسط سے بحری تجارت کو فروغ ملا ، بحر احمر کے دہانے پر واقع﴿ عدن﴾ اور خلیج فارس کے دہانے پر واقع﴿ ہرمز﴾ دو ایسی بندرگاہیں تھیں جن کے راستے ہندوستانی سامان تجارت یورپ کی منڈیوں میں پہنچتا تھا، یہ عہد وسطی میں جہازرانی اور بحری تجارت کا سنہرا دور تھا، ہندوستان کے ساحل پر نووارد نوائط اس تجارت میں مرکزی عنصر کی حیثیت اختیار کر گئے تھے ، کیونکہ یہ جہازرانی کے ساتھ تجارت میں بھی یکتا تھے،چونکہ مقامی ہندو سامان تجارت تیار کرتا تھا ، لیکن بحری سفر اور جہازرانی سے اس کا سروکار نہیں تھا، وہ انہی نوائط کے توسط سے اپنا سامان تجارت عرب اور یورپ کی منڈیوں میں پہنچاتا تھا، اس طرح مقامی لوگوں اور ان نو واردوں کے درمیان ایک دوسرے کے مفادات اور ضرورتیں ملنے کے وجہ سے یہاں پر تجارتی دشمنی اور مخاصمت کے بجائے دوستی اور مفاہمت کی فضا قائم ہوگئی تھی، چونکہ زمانہ جاہلیت سے ان ساحلوں پر عربوں کی آمد ہوتی تھی جہازرانی کے اس عہد عروج میں ان نئے آنے والوں کو دوسروں سے ممیز کرنے کے لئے شاید نوآید (نوائت )اور ان کی نئی آبادی کو﴿ ہوسپٹن﴾ کہا گیا، اور مرور زمانے سے حرف (ت) قرشت (ط) حطی میں بدل گئی۔
ہوسپٹن میں جب آپ داخل ہوں تو وہاں پر لگے ہوئے نئے سائن بورڈ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ کوئی مندروں کا شہر ہو لیکن اس کے اطراف و اکناف کے قصبوں بھٹکل ،کائکینی ،گیرسوپا وغیرہ کے برخلاف جہاں کہ پانچ چھ سو سالہ پرانے جین مندر ،اور محلات نظر آتے ہیں ،یہاں دس بیس سال سے زیادہ پرانا کوئی مندر نظر نہیں آتا ، سب قریبی دور کی تعمیرات ہیں،البتہ جو چیز یہاں پر دیکھنے والے کو فرط حیرت میں ڈال دیتی ہے وہ ہے ایک ایسی جگہ جہاں کوئی بھی مسلم گھر موجود نہ ہو، وہاں پر ایک گھر کے پچھواڑے میں ایستادہ کئی صدیاں ایک ٹوٹا پھوٹا قدیم مسجد کا مینار، یہ اور اس کے قریب مسلم محلہ کے چند کھنڈرات کی وکٹر ڈیسوزا نے ۱۹۵۵ءء میں جو تصویر اپنی کتاب کی زینت کی ہے،وہ اپنی جگہ پر اب بھی باقی ہیں، بس اب یہ دونوں گھر کے آنگن اور پچھواڑے میں آگئے ہیں۔فسطا ئی تحریکات کے اس دور میں اب چار دیواری پھلانک کر وہاں تک جانا دشوار سا ہوگیا ہے۔
یہی ہوسپٹن مشہور عرب سیاح ابن بطوطہ کی تذکرہ کردہ سلطنت ہنور کا مرکز تھا۔ مورخ ہند حکیم عبد الحی حسنی مرحوم نے نوائط سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ مخدوم علاء الدین علی المھایمی  کے تذکرے میں لکھا ہے کہ ﴿ میرے نزدیک ہندوستان کے ہزار سالہ دور میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے سوائے حقائق نگاری میں ان کا کوئی نظیر نہیں ، مگر ان کی نسبت یہ معلوم نہیں کہ وہ کس کے شاگرد تھے کس کے مرید تھے،اور مراحل زندگی انہوں نے کیونکر طئے کئے تھے،جو تصنیفات ان کی پیش نظر ہیں ان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہیں کہ ایسا شخص جس کو ابن عربی ثانی کہنا زیبا ہے،وہ کسمپرسی کی حالت میں ہے، کہیں اور ان کا وجود ہوا ہوتا تو ان کی سیرت پر کتنی کتابیں لکھی جاچکی ہوتیں،اور کس پُر فخر لہجہ میں موٴرخین ان کی داستانوں کو دہراتے (۵) ۔ کچھ یہ صورت حال ہوسپٹن کی باقی ماندہ مسجد کے مینار اور محلے کے کھنڈرات کی بن گئی ہے۔اگر ان کی صفائی کرکے مرمت کی جائے اور جھاڑ جھنکار سے انہیں پاک کیا جائے توشاید یہ ریاست کرناٹک میں اسلامی تاریخ کی سب سے قدیم یادگار بن جائے ۔لیکن جو حالات ہیں انہیں دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے اب ان یادگاروں کے دن گنے چنے ہیں۔
ابن بطوطہ (۷۷۹ئھ/۱۳۷۷ء)نے ہنور کا محل وقوع یوں بیان کیا ہے ﴿ جزیرہ انجدیو سے دوسری صبح ہم شہر ہنور پہنچے ، یہ ایک بڑی کھاڑی پر واقع ہے،یہاں بڑی بڑی کشتیاں آکر اترتی ہیں،سمندر شہر سے نصف میل دور ہے،بارش کے موسم میں اس سمندر کی جوش طغیانی بڑھ جاتا ہے، اور چار ماہ تک اس میں مچھلی کے شکار کے علاوہ کوئی سواری کرنا ممکن نہیں(۶)
وہ سلطنت ہنور اور اس کے سلطان جمال الدین ہنوری کے کوائف یوں بیان کرتا ہے۔
شہرہنور کے باشندے شافعی مذہب ہیں۔دیندار اور نیک بخت اور بحری طاقت کے لئے مشہور ہیں۔ سنداپور فتح ہونیکے بعد وہ اور کہیں کے نہ رہے تھے اس شہر کے عابدوں میں سے شیخ محمدناگوری ہیں ۔ا نھوں نے میری دعوت اپنی خانقاہ میں کی ، وہ اپنا کھانا ا ٓپ پکاتے ہیں۔ فقیہ اسماعیل کلام اللہ پڑھاتے ہیں ۔ نہایت خوش اخلاق اور فیاض تھے قاضی شہر نورالدین علی ہے۔ خطیب کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ اس شہر کی عورتیں اور اس پورے ساحل کی عورتیں سلاہواکپڑا نہیں پہنتیں۔ بغیرسلایاکپڑا اوڑھتی ہیں چادر کے ایک آنچل سے تمام بدن لپیٹ لیتی ہیں ، اور دوسرے کو سر اور چھاتی پر ڈال لیتی ہیں (ساڑھی مراد ہے) یہ عورتیں خوبصورت اور باعفت ہوتی ہیں ناک میں سونے کا بلاق پہنتی ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ سب کی سب حافظِ قرآن ہوتی ہیں۔ اس شہر میں تیرہ (۱۳) مکتب لڑکیوں کے اور بتیس(۳۲) لڑکوں کے ہیں۔ سوائے اس شہر کے یہ بات میں نے کہیں نہیں دیکھی۔ یہ لوگ فقط بحری تجارت پر گذارہ کرتے ہیں۔ زراعت نہیں کر تے۔ مالابار کے لوگ بھی سلطان جمال الدین کو کچھ نہ کچھ خراج دیتے ہیں کیونکہ اس کے پاس بحری طاقت بہت بڑی ہے اور چھ ہزار پیادہ اور سواربھی رکھتاہے بادشا ہ جمال الدین محمد بن حسن بڑا نیک بخت ہے وہ ایک ہندو راجہ کے ماتحت ہے ، جس کا نام ہریب (ہری ہر) ہے ،سلطان جمال الدین ہمیشہ جماعت کیساتھ نماز پڑھتاہے اس کا دستور ہے کہ صبح ہونے سے پہلے مسجد میں چلاجاتاہے اور صبح ہونے تک تلاوت کرتارہتاہے۔ اول وقت نماز پڑھتاہے پھر شہر کے باہر سوار ہوکر چلاجاتاہے چاشت کے وقت واپس آتاہے پہلے مسجد میں دوگانہ پڑھ کر پھر محل میں جاتاہے ایام بیض کے روزے رکھتاہے۔ جب میں اس کے پاس ٹہراہواتھا تو افطار کے وقت مجھے بلا لیتاتھا۔(۷)
پھر ابن بطوطہ نے سلطان جمال الدین کی سنداپور (موجودہ chitakul یا ( Sadasivagarh پر چڑھا ئی کی تفصیلات بیان کی ہیں ، وہ کہتا ہے کہ ﴿سلطان جمال الدین نے (۵۲) جہاز تیار کئے ، اس کا ارادہ سنداپور پر چڑھائی کا تھا،وہاں کے راجہ اور اس کے بیٹے کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے،راجہ کے بیٹے نے سلطان کو لکھاکہ اگر وہ سنداپور فتح کرلے تو وہ مسلمان ہوجائے گا۔اور سلطان اپنی بہن کا نکاح اس کے ساتھ کردے گا(۸)
ابن بطوطہ نے اس کے بعد جنگ سنداپور کی تفصیلات بتائی ہیں۔ یہاں سے وہ کالیکٹ روانہ ہوا۔کالیکٹ سے جب وہ سلطان ہنور کی زیارت کی غرض سے واپس لوٹا تو غالبا اس وقت تک سلطنت ہنور کا خاتمہ ہوچکا تھا اور علاقے میں بد امنی پھیل چکی تھی ،وہ بیان کرتا ہے کہ : جب ہم ہنور اور فاکنور(بارکور) کے درمیان ایک جزیرے پر پہنچے تو کافراپنی بارہ کشتیوں کے ساتھ نکل آئے،انہوں نے ہمارے ساتھ سخت لڑائی کی اور ہم پر غالب آگئے ،انہوں نے جو کچھ ہم نے جمع کیا تھا اسے لوٹ لیا،جو کچھ ہیرے جواہرات شاہ سیلان نے ہمیں دئے تھے انہیں چھین لیا،میرے کپڑے اور بزرگوں اوراولیاء اللہ کی دی ہوئی تبرکات بھی لے لیں اور میرے پاس ایک تہ بند کے علاوہ بدن ڈھانکنے کیلئے کچھ نہ بچا۔انہوں نے ہم سے سب کچھ چھین کر ساحل پر ہمیں چھوڑ دیا(۹)
وہ مزید لکھتا ہے کہ : میں یہاں سے ہنور پھر سنداپور کو لوٹا ، یہاں میں محرم کے اواخر کو پہنچا ،اور ربیع الآخر کی دوسری تاریخ تک مقیم رہا ،تو یہاں کے کافر راجہ جس کی سلطنت میں ہم گھس آئے تھے اس نے اسے واپس لینے کے لئے پیش قدمی کی،تمام کافر اس کے پاس بھاگ کر جمع ہوگئے،سلطان کی فوج دیہاتوں میں منتشر تھی، وہ ہم سے کٹ گئی ، کفار نے ہمار ا محاصرہ تنگ کیا ، جب حالات اتنے سخت ہوئے تو میں وہاں سے سنداپور کو محصور چھوڑ کر نکل پڑا اور کالیکٹ کو لوٹ آیا (۱۰)
ابن بطوطہ کی وفات (۷۷۹ء ھ/۱۳۷۷ءء) کو ہوئی ، برنل نے آپ کی اس علاقے میں آمد کی تاریخ قرائن سے ۷۴۳ء ھ /۱۳۴۲ءء بتائی ہے(۱۱)۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سنداپور پر حملہ کے ایک سال بعد بکا اول Bukka مہاراجہ سلطنت وجے نگر (۱۳۴۳ ءء۔۱۳۷۹ءء) کے دور حکومت میں سنداپور میں سلطان جمال الدین کی فوج دشمن کے گھیرے میں آگئی اور سنداپور اور ہنور دونوں جگہ ان کی فوجی قوت کا خاتمہ ہوا ، وجے نگر کا مورخ رابرٹ سیول رقم طراز ہے کہ گوا کی بندرگاہ سے بلگام تک کا علاقہ اور تلوگھاٹ Tulughat (کینرا) کے ضلعے بکا اول کے قبضے میں آگئے(۱۲)۔
عرب مصنفین میں ابن بطوطہ کے علاوہ ابوالفداء (۷۳۲ء ھ/۱۳۳۱ء) نے تقویم البلدان(۱۳) میں ہنو ر کا تذکرہ کیا ہے۔ ابو الفداء اور ابن بطوطہ میں دس سال کا فرق ہے، ان سے قدیم کسی اور عرب مورخ نے اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہنور کو شہرت اسی دور سے نصیب ہوئی۔
ابن بطوطہ کے بیان میں مندرجہ ذیل امور قابل غور ہیں ۔ان پرتحقیق کی صورت میں ہندوستان کی اسلامی تاریخ پر سے مزید پردے اٹھ سکتے ہیں۔
۱۔ ابن بطوطہ کے زمانے میں ہنور کے باشندے شافعی المذہب تھے، واضح رہے کہ شراوتی ندی کے مغربی کنارے پر ہوسپٹن اور کاسرکوڈ سے ہندوستان میں شافعی مذہب کے ماننے والے مسلمانوں کا سلسلہ شروع ہوکر جنوب مشرقی ساحل پر کایل پٹم جاکر ختم ہوتا ہے۔یہ ہندوستان میں سب سے قدیم نسل کے مسلمان شمار ہوتے ہیں۔ہنور اور اس کے اطراف صرف نوائط برادری کے مسلمان ہی مذہب شافعی کے متبع ہیں،مورخین کا اس پر اتفاق ہے کہ بھٹکل و اطراف کے نوائط سلطنت ہنور کی عرب نژاد مسلمانوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں (۱۴)
۲۔ ابن بطوطہ نے آٹھویں صدی میں ہنور میں حفظ قرآن کے رواج اور مکاتب کے نظام کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کا صراحت کے ساتھ یہ بیان کہ سوائے اس شہر کے یہ بات میں نے کہیں نہیں دیکھی ،چونکہ ہمارے علم کی حد تک کسی اور مورخ نے اس سے قبل ہندوستان میں حفظ قرآان کے تعلیم کے نظام کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی ہے اور ابن بطوطہ نے تغلقی دور حکومت میں شمال تا جنوب مختلف سرکاری عہدوں پر رہ کر برصغیر کا مشاہد ہ کیا ہے۔ یہ کہنے میں مضائقہ نہیں کہ برصغیر میں حفظ قرآن کا باقاعدہ ا یسا نظام کہ تمام عورتیں بھی حافظ قرآن رہیں پہلے پہل سلطنت ہنور میں قائم ہوا۔یہ سبقت اس سلطنت کے لئے بڑی باعث فخر ہے۔
قریبی دور میں بھٹکل کے ایک نامور رہنما جناب محی الدین منیری رحمة اللہ علیہ اپنی تقاریر میں ہمیشہ ابن بطوطہ کے اس بیان کا حوالہ دیتے تھے، انہوں نے بچیوں کے لئے جامعة الصالحات کی بنا ڈالی تو ۱۹۸۰ءء میں یہاں پر حفظ قرآان کا شعبہ قائم کیا، اس کی برکت ہے کہ آج بھٹکل میں سینکڑوں حافظات قرآن پائی جاتی ہیں اور ہر دوتین گھر چھوڑ کر خواتین ماہ رمضان المبارک میں تراویح میں پورا قرآن پاک سناتی ہیں، اورچار پانچ مربع کلومیٹر پر محیط شہر بھٹکل کی تمام نوے (۹۰) مساجد میں تراویح میں پورا قرآن سنانے کا اہتمام ہوتا ہے۔ان میں زیادہ تر حافظات کی تعلیم دسویں اور حفاظ کی تعلیم عالمیت سے اوپر ہوتی ہے۔
۳۔ ابن بطوطہ نے سلطنت ہنور کے بحری بیڑے میں فوج کی تعداد چھ ہزار اور جنگی کشتیوں کی تعداد (۵۲) بتائی ہے۔ ہمارے علم کی حد تک یہ برصغیرکی کسی مسلم سلطنت کا پہلا بحری بیڑا ہے۔یہ برصغیر کے مسلمانوں کی بدقسمتی رہی کے یہاں مسلم حکمرانوں نے بحری بیڑے کی طرف توجہ نہیں دی، اسے انہوں نے بہادری کے خلاف سمجھا ،اس سلسلہ میں شاہ گجرات محمود بیگرا کا مشہور جملہ ہے کہ : بحری بیڑوں وغیرہ سے ہمارا کیا کام یہ تو تاجروں کی چیز ہے ۔
سلطنت ہنور صرف ہوسپٹن کانام نہیں تھا ، بلکہ آخر الذکر اس کا مرکز تھا، ایسا لگتا ہے کہ سلطنت ہنور کے خاتمہ کے بعد شراوتی ندی کے شمالی حصہ پر موجودہ ہناور قصبہ واطراف سے مسلمانوں کا انخلاء ہونا شروع ہو ا جو یکم مئی ۴۲۷اءء اپنی انتہاء کو پہنچا ،اس تعلق سے وکٹر ڈیسوزا نے بڑی جانسوزی سے قریبی گاوٴں کائکینی کے قریب واقع جین بستی میں موجود اس دور کی ایک قدیم پتھر کے ستون کی عبارت خوانی کرکے مہاراجہ دیو پرتاب (۱۴۱۹ءء تا ۱۴۴۴ءء) کے دور حکومت میں اس کے گورنر مہا پردھانا تمنا اوڈیا Maha pardhana Tmanna Adya سے اختلافات کی بنیاد پر مسلمان تاجروں کے سردار عمر مرکلا اپنے لوگوں کے ساتھ شراوتی کے جنوبی ساحل پر منتقل ہونے اور پھر یہاں پر بھی خونریزی اور جنگ کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ تاریخی قرائن سے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ سلطنت ہنور کے زوال کے فورا بعد یہاں سے مسلمانوں کا انخلاء ہوگیا ہو،کیونکہ اس واقعہ کے ایک سو سال بعد پرتگالی نامہ نویس جاوٴ دی بیروس (۱۵۵۳ءء) میں لکھتا ہے کہ
ہناور کی یہ بندرگاہ اور بھٹکل کی بندرگاہ جو کہ سات فرسخ کی دوری پرتھی دوسرے ساحلی علاقوں کی طرح وجے نگر کے تابع تھی راجہ ہناور اس کا باجگذار تھا ، چالیس سال کے دوران ان دونوں بندرگاہوں کی پورے ساحل پر بڑی دھوم تھی ، اس کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ یہاں کی زمین زرخیز تھی ، اور بڑی مقدار میں یہاں غلہ ملتا تھا ،اور تمام جگہوں کے لئے یہاں سامان لادا جاتا تھا ، بلکہ ان کی اہمیت اس لئے بھی تھی کہ سلطنت وجے نگر کی جملہ در آمدات اور برآمدات انہی بندرگاہوں سے ہوتی تھی ، یہاں سے اسے نہ صر ف بہت سا لگان ملتا تھا بلکہ اس کی خاص وجہ عرب و فارس سے یہاں در آمد ہونے والے گھوڑے بھی تھے، جن کی وجے نگر کی فوج میں بڑی اہمیت تھی ، کیونکہ دکن کی مسلم سلطنت سے اس کی مسلسل جنگ جاری تھی ، اس نے شمال کی جانب سے وجے نگر کا گھیرا تنگ کر رکھا تھا ، اس کے بہت سارے علاقوں پر اس نے قبضہ کر لیا تھا ، جنگی مدافعت میں یہ گھوڑے بنیادی قوت فراہم کرتے تھے،ان بندرگاہوں کی زرخیزی اور یہاں کی تجارت کی وجہ سے یہاں پر Naiteas (نائطی) کہلائے جانے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد تھی ، یہ گھوڑے خرید کر دکن کے مسلمانوں کو فروخت کیا کرتے تھے، اس وجہ سے راجہ وجے نگر کو اس وقت بڑا نقصان اٹھانا پڑا جب کہ دکن کے ساتھ گھڑسوار فوج کی جنگ چھڑ گئی، یہ خسارہ اس وقت بہت بڑھ گیا جب کہ گھوڑوں کی مانگ کی وجہ سے گھوڑوں کی قیمت دگنی ہوگئی۔ جب ریاست کو اس سے تکلیف محسوس ہونے لگی تو وجے نگر نے ہوناور کے اپنے باجگذار راجہ کو حکم دیا کہ وہ جتنے زیادہ ممکن ہو یہاں کے مسلمانوں کو قتل کرے، تا کہ یہ ڈر کے مارے ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں، پھر مسلمانوں کے سال ۹۱۷ئھ جو کہ ۱۴۷۹ء ء بنتا ہے ہوناور اور بھٹکل کے تمام علاقوں میں سازش کے الزام میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوا ۔جس میں دس ہزار مسلمان مارے گئے، جو بچ گئے انہوں نے جتھے بنائے اور یہاں سے نکل کر زوڈی Tissuari جزیرے میں بود و باش اختیار کی ، یہیں سے شہر گو ا کی بنیاد پڑی۔ہوناور کے باجگذار کی جانب سے جو بد سلوکی ان مسلمانوں کے ساتھ کی گئی تھی ، اس کے نتیجہ میں ہوناور کے ہندوٴوں سے انہیں نفرت سی ہوگئی، انہوں نے گوا کو آباد کرنے اور یہاں کی تجارت کو دلکش بنانے ، خاص طور سے گھوڑوں کی تجارت کو فروغ دینے ، انہیں بآسانی سلطنت دکن کو روانہ کرنے کے انتظامات کے تعلق سے بڑی پھرتی سے اپنا کام پورا کیا ، یہ کام انہیں اس وجہ سے بھی آسان ہوا کہ یہ سامان تجارت جہازوں پر چڑھانے والے جہازراں مسلمان ہی ہوا کرتے تھے ،انہیں بھٹکل اور ہوناور میں جو تکلیف دی گئی تھی اس کی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کردیا تھا کہ ہندووٴں کے بالمقابل وہ اپنے ہم مذہب مسلمانوں کا ساتھ دیں گے ، اس کی وجہ سے ہوناور اور بھٹکل کی بندرگاہوں کا نقصان ہونے لگا (۱۵)۔
اس سلسلے میں سلطنت وجے نگر کے مورخ روبرٹ سیول bert Sewell Ro نے یوں لکھا ہے۔
۱۳ / ذی قعدہ ۸۶۷ئھ/ ۳۰ جولائی ۱۴۹۳ءء محمد شاہ بہمنی بادشاہ بنا ، ۱۴۶۹ءء کے اواسط میں جب کہ راج شیکھر ا یا ویرپکشا اول وجے نگر کا گدی نشین تھا ، محمد شاہ بہمنی کے وزیر محمود گاواں نے مغرب کی طرف کوچ کیا اور واضح طور پر ایک کامیا ب مہم چلاکر گوا پر حملہ کردیا، پھر اس کے بعد برو بحر دونوں راستوں سے وجے نگر کے رایا Raya کے مورچوں پر حملہ بول دیا ، اس حملہ میں اسے فتح نصیب ہوئی اور یہاں کے تمام علاقہ جات پر اس کا قبضہ ہوگیا۔
بیروس کے بقول یہ غالبا ۱۴۶۹ءء میں ہونے والے مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام کا بدلہ تھا ، اس زمانے میں ساحلی علاقہ کی جملہ تجارت مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھی، یہ مسلمان بڑی تعداد میں گھوڑے در آمدکرتے تھے ، یہ گھوڑے بنیادی طور پر سلطنت دکن اور وجے نگر کی دو مد مقابل کثیر تعداد فوج میں استعمال ہوتے تھے، ہندو راجہ کی فوج کا دارو مدار انہی گھوڑوں کی درآمد پر تھا۔ ۔۔ (اس قتل عام کے بعد) بچ کرنکلنے والوں نے گوا میں پناہ لی، یہیں سے اس شہر کی بنیاد پڑی جسے ہندستان میں پرتگالیوں نے اپنی راجدھانی بنایا۔۔۔ پرچیس Purcheas کا بیان ہے کہ یہ قتل عام ۱۴۷۹ءء میں ہوا تھا(۱۶) ۔
ہنور اور بھٹکل میں قتل عام کے بعد گوا کی تاسیس اور اس کے نتیجہ میں وجے نگر کا جو تجارتی نقصان ہونے لگا اس کے بعدوجے نگر کی مزید کاروائی نے ہنور سے مسلمانوں کو مزید دوری کے جو اسباب پیدا ہوئے اس سلسلے میں بیروس مزید لکھتا ہے کہ : راجہ وجے نگر نے اس حکم کے ساتھ کہ گھوڑے لانے اور سامان تجارت لانے والے جہازوں کو ان دو نوں بندرگاہوں پر لانے کے لئے مجبور کیا جائے،انہیں گوا نہ جانے دیا جائے،اس نے راجہ ہناور کے پاس اپنے چار کپتان ایک بحری بیڑے کے ساتھ روانہ کئے، تاکہ یہ تمام جہازوں کو اپنی بندرگاہوں پر لانے کے لئے مجبور کرے، اور ان کی جانب سے مدافعت کی صورت میں قزاقی اور لوٹ مار سمیت ان جہازوں کو جو نقصان پہنچایا جاسکے پہنچائے،اس بحری بیڑے کا تیمیا Timmayya بڑا کپتان تھا ، اس نے ساحل پر آباد مسلمانوں کوجتنا نقصان پہنچا سکا پہنچایا ، اس رتبہ پر اسکے پہنچنے سے پہلے راجہ ہناور کے دوسرے کپتان یہاں ہوا کرتے تھے،اس وجہ سے راجہ ہناور اور حکومت گوا (عادل شاہی) میں ہمیشہ جنگ جاری رہتی تھی، اور سینتاکورا Sintacora (Sadashivgarh) کا قلعہ دشمن کی سرحد کا کام دیتا تھا،مسلمانوں نے راجہ ہناور کے خلاف بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں ، خاص طور پر Sabia (یوسف عادل خان) کے گوا کا حاکم بننے کے بعد تور اجہ ہناور جو کہ ندی کے دہانے پر رہائش پذیر تھا بھاگ کر ندی کے اندر ونی علاقے میں منتقل ہوگیا(۱۷)۔
قصبہ ہوناور اللہ کے نام لیواوٴں سے خالی نہیں ہوا،قریبی دور میں آئے ہوئے توحید کے پرستار اب بھی وہاں موجود ہیں، لیکن ہوسپٹن جسے اس تاج کا ہیرا کہنا چاہئے اب سونا پڑا ہے، یہ بستی جہاں برصغیر کا کلام اللہ حفظ کرنے کاقدیم ترین باقاعدہ نظام قائم کیا گیا تھامدت ہوئی اس کی فضاوٴں میں تکبیر کی صدائیں گم ہوگئی ہیں۔ بس بوسیدہ مینار کا ایک ڈھانچہ ہے جو یاد دلاتا رہتا ہے کہ میر عرب کا کارواں کبھی یہا ں سے گذرا تھا،یہاں بھی کبھی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند ہوتی تھیں،لیکن مرور زمانے نے قومی حافظے سے اس کا نام فرامو ش کردیا، یہاں کے اڑوس پڑوس میں اب جو ماحول بن گیا ہے اس سے اب ایسا نہیں لگتا کہ توحید کی وہ بہاریں یہاں دوبارہ لوٹائی جاسکیں گی،لیکن ایسا تو ہوسکتا ہے کہ قومی حافظہ میں اسے محفوظ رکھنے کا انتظام ہو تاکہ آئندہ نسلیں اس کی ضو پاشی سے منور رہ سکیں۔
۱۴/۱۱/۲۰۱۶ء
عبد المتین منیری
مدیر : اخباروافکارڈاٹ کام
دار المعارف ۔ امین الدین روڈ ۔ بھٹکل (ین ۔ کے ) کرناٹکا ۔ بھارت
ammuniri@gmail.com
حوالہ جات:
۱۔ p.47 The Navayats of kanara, viktor S.D’sousa , Kannada Research Inistitute Dharwar , 1955
۲ ۔ عرب و دیار ہند ، خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی ، دارالسلام نوائط کالونی ، بھٹکل ، ۱۹۸۰ء ، ص ۴۲۰
۳۔ p.620، hobson jobson , col.henry yule and A.C . Burnell , John Murray london , 1903
۳۔ The Book of Duarte Barbosa , Mensel Longworth Dames , hakluyt Society London , 1918 , vol.1 p.2237
۳۔ ۔ تاریخ فرشتہ ، محمد قاسم فرشتہ ۔ ترجمہ : محمد فدا علی طالب ، جامعہ عثمانیہ حیدرآباد ، ۱۹۲۴ء ، ج۱۔ص ۸۴۱
۳۔ ,p.12 The Navayats of kanara, viktor S.D’sousa , Kannada Research Inistitute Dharwar , 1955
۴۔ تاریخ النوائط ، نواب عزیز جنگ بہادر ،عزیز المطابع ۱۳۲۲ھ ، ص ۳۷۔
۵۔ یاد ایام ، سید عبد الحی حسنی ، انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ کالج ، ۱۹۱۹ء ، ص ۵۹۔
۶۔ رحلة ابن بطوطة المسماة تحفة النظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار ، ابن بطوطة : شمس الدین ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ اللواتی الطنجی، تحقیق : عبد الھادی التازی ، اکادیمیة المملکة المغربیة ، ۱۹۹۷ء ۔ص ۴۴۔۴۵
۷۔ رحلة ابن بطوطة المسماة تحفة النظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار ، ابن بطوطة : شمس الدین ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ اللواتی الطنجی، تحقیق : عبد الھادی التازی ، اکادیمیة المملکة المغربیة ، ۱۹۹۷ء ۔ ۴۴۔۴۵
۸۔ رحلة ابن بطوطة المسماة تحفة النظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار ، ابن بطوطة : شمس الدین ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ اللواتی الطنجی، تحقیق : عبد الھادی التازی ، اکادیمیة المملکة المغربیة ، ۱۹۹۷ء ۔ ۴۴۔۴۵
۹۔ رحلة ابن بطوطة المسماة تحفة النظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار ، ابن بطوطة : شمس الدین ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ اللواتی الطنجی، تحقیق : عبد الھادی التازی ، اکادیمیة المملکة المغربیة ، ۱۹۹۷ء ۔ ۴۴۔۴۵
۱۰۔, p.620 hobson jobson , col.henry yule and A.C . Burnell , John Murray london , 1903
۱۱۔,p46 A Forgotton Empire ( Vijayanagar) , Rebert Sewell , Swan Sonnasnschein & Co London , 1900
۱۲ ۔ تقویم البلدان ، عماد الدین اسماعیل ابو الفداء ، پیریس ۱۸۴۰ء ص ۳۵۴
۱۳۔ The Book of Duarte Barbosa , Mensel Longworth Dames , hakluyt Society London , 1918 , vol.1/18
۱۳۔ The Navayats of kanara, viktor S.D’sousa , Kannada Research Inistitute Dharwar , 1955,p.47
۱۳ ۔ عرب و دیار ہند ، خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی ، دارالسلام نوائط کالونی ، بھٹکل ، ۱۹۸۰ء،ص ۲۰۰
۱۴۔ Asia De 4 Decadas , Joa de Barros , Lisbon , 1945,v.1 347
۱۵۔ Goa Kanara Portuguese Relations 1498-1763 , B.S.Shastry , Concept Publishing Company , New Delhi , 2000 , p.14
۱۵۔ A Forgotton Empire ( Vijayanagar) , Rebert Sewell , Swan Sonnasnschein & Co London , 1900,p 99
۱۶۔ Goa Kanara Portuguese Relations 1498-1763 , B.S.Shastry , Concept Publishing Company , New Delhi , 2000,p87
The Portuguese in India , Friderick Charls Danvers, W.H.Allen &co London 1894,V.1 p..55960

مكتبة أكاديمية مفتي إلهي بخش بمدينة كاندهلة بالهن د: ميراث عائلة علمية عريقة

مكتبة أكاديمية مفتي إلهي بخش بمدينة كاندهلة بالهند
ميراث عائلة علمية عريقة

تقع هذه المكتبة في قرية كاندهلة بمديرية سهارنفور, ولاية أترابرادتش بالهند وهي قديمة جداً, ويشرف على إدارتها الآن الشيخ نور الحسن راشد الكاندهلوي, خلفاً لوالده العلامة افتخار الحسن الذي عجز عن ذلك بسبب المرض.
ويعدُّ العلامة مفتي إلهي بخش هو أول من بدأ بجمعها وترتيبها, في المنزل الذي اشتراه والده سنة 1132 هـ, حيث لم يقتصر في جمعها على ما كان موجوداً في الهند فقط، بل سعى إلى تطوير دائرة البحث والجمع للمخطوطات والكتب النادرة لتشمل تركيا ومصر والشام، وبعد وفاته اهتم ابنه بتطوير المكتبة وتحسينها حيث ذاع صيتها وطارت شهرتها بين الناس في أيامه, إلا أن المكتبة بعد ذلك قُسِّمَتْ بين الورثة وذهب كل فرد بجزء منها, إلا أن حفيد مفتي إلهي بخش الشيخ نور الحسن أعاد جمع شواردها ولمّ شتاتها, كما أضاف إليها مجموعة قيمة من المخطوطات, واشترى لها كتباً كثيرة, فأصبحت من أشهر المكتبات, وكانت وفاته في عام 1285هـ = 1868م.
ثم بعد وفاته جاء ابنه وأضاف إليها أيضا مجموعة كبيرة من الكتب, حصل عليها من داخل الهند وخارجها, وبعد مرور أربعة أجيال لمفتي إلهي بخش بدأت المكتبة تفقد ذخيرتها, وذلك في حدود 1930م, وقد تعرضت المكتبة للضياع في مسيرتها ثلاث مرات.
المرة الأولى : لما جاء الملك نادر شاه إلى كاندهلة فأحرق المكتبة.
المرة الثانية : على أيدي السيخ, وذلك في حدود سنة 1220م.
المرة الثالثة : بعد الاستقلال 1947م لم يهتم أحد من العائلة بالمكتبة بسبب ظروف السياسية المحيطة بالمسلمين كلهم في الهند, وبخاصة بعد استشهاد عالم من العائلة على يد الهندوس, وبدأ أفراد العائلة يسافرون من كاندهلة إلى باكستان، عندئذ قُسِّمَ الباقي من المكتبة إلى ( 37 ) حصة, بين ورثة الشيخ نور الحسن؛ لأن المكتبة كانت من تركته.
وبعد عام 1947م بدأ الشيخ نور الحسن راشد (المسؤول الحالي) بجمعها وترتيبها من جديد, واشترى من أفراد العائلة المخطوطات الموجودة لديهم والتي كانت من نصيبهم, ويوجد نحو ثمانمائة مجلد ما بين مخطوط ومطبوع عند والده الشيخ افتخار الكاندهلوي.
أما مقتنيات المكتبة حاليا فهي على النحو الآتي:
عدد المخطوطات : في حدود 1700 مخطوط.
المخطوطات العربية : 600 مخطوط
المخطوطات الفارسية : 500 مخطوط والباقي باللغة الأردية.
أما عدد المطبوعات فقد بلغ بحمد الله 10000 عنوان, كما يوجد في المكتبة رسائل لعلماء كبار بخط يدهم, ومن أهم ما يوجد بالمكتبة مؤلفات لكبار علماء العائلة مثل ؛
مؤلفات مفتي إلهي بخش ( نحو 100 مؤلف ), مؤلفات الشيخ زكريا الكاندهلوي ( نحو 25 مؤلفا ), مؤلفات الشيخ إدريس الكاندهلوي وغيره من علماء العائلة الآخرين ( نحو 40 مؤلفا ), وهذه بعض عناوين تلك المؤلفات:
1. معجم شيوخ البخاري / مفتي إلهي بخش
2. حد البصائر في عد الكبائر / مفتي إلهي بخش
3. تلخيص حياة الحيوان / مفتي إلهي بخش
4. أمثال العرب / مفتي إلهي بخش
5. شرح بانت سعاد / مفتي إلهي بخش
6. الأصحاب البدريون / مفتي إلهي بخش
7. حاشية مقامات الحريري / مفتي إلهي بخش
8. تلخيص الهداية / مفتي إلهي بخش
9. تقرير مشكاة / الشيخ زكريا الكاندهلوي
10. مقدمات كتب الحديث / الشيخ زكريا الكاندهلوي
11. أصول الحديث على مذهب الحنفية / الشيخ زكريا الكاندهلوي
12. المؤلفات والمؤلفين / الشيخ زكريا الكاندهلوي
13. حاشية وذيل تهذيب التهذيب / الشيخ زكريا الكاندهلوي
14. أصول الحديث على مذهب الحنفية / الشيخ زكريا الكاندهلوي
15. أوليات القيامة / الشيخ زكريا الكاندهلوي
16. شذرات الحديث / الشيخ زكريا الكاندهلوي
17. شرح البخاري / الشيخ إدريس الكاندهلوي
18. تراجم البخاري / الشيخ إدريس الكاندهلوي
19. مقدمة البخاري ( في مجلد ) / الشيخ إدريس الكاندهلوي
20. حاشية البيضاوي / الشيخ إدريس الكاندهلوي
ومن المخطوطات النادرة والمهمة لغير علماء العائلة والموجودة بالمكتبة هي:
1. مقدمة شرح البخاري لشهاب الدين أحمد بن علي ابن حجر العسقلاني – كتبت هذه النسخة عن نسخة كتبت بخط المصنف, وعليها خط ابن حجر العسقلاني, وكتبها محمد بن أبي الجاه الحضرمي بن سليمان بن داود في المدرسة الناصرية بالقاهرة سنة 476 من الهجرة النبوية.
2. الفوائد الحسان في حل ما ألفه الجلالان من تفسير القرآن لمؤلفه أبي الحسن السندهي المدني المتوفي سنة 1139هـ ( إلى سورة النساء ) بخط المصنف.
3. القاموس المحيط للفيروز آبادي المتوفي سنة 817هـ, هذه النسخة منقولة من نسخة المؤلف.
حفظ الله المكتبة وأهلها من كل سوء