تعلم اللغۃ العربیۃ کے تبصرہ پر تبصرہ

ڈاکٹر مفتی عبید اللہ قاسمی
ہیڈ، عربک ڈیپارٹمنٹ، ذاکر حسین کالج، دہلی

تعلم اللغۃ العربیۃ کے تبصرہ پر تبصرہ
میرے خیال میں کسی کی خوبیوں کو نمایاں کرنے کے لئے دوسروں کی خامیوں کا تذکرہ ضروری نہیں ہوتا ہے بالخصوص جبکہ دوسروں میں وہ خامیاں پائی ہی نہ جاتی ہوں یا کم ازکم ان خامیوں کا خامی ہونا مختلف فیہ ہو. ہندوستان کے مدارس اسلامیہ کا مقصد تعلیمِ علومِ اسلامیہ ہے جس کے لئے عربی زبان و ادب اور بلاغت کی تعلیم ضروری ہوتی ہے۔ یعنی اصل مقصد دینی تعلیم ہوتا ہے اور اس کے حصول کے لئے واسطہ اور means کے طور پر عربی زبان ہوتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف عصری اداروں کے عربی شعبہ جات میں اصل مقصد عربی کی تعلیم ہوتی ہے. دونوں قسم کے اداروں کے عربی کی تدریس کے تئیں مختلف مقاصد کے پیشِ نظر دونوں کو ایک ہی کسوٹی پر پرکھنا ذرا غیر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس کے باوجود پریکٹیکلی دیکھا یہ گیا ہے کہ ہندوستان کے مدارسِ دینیہ کے فارغین تو باوجود عربی زبان کے مقصد نہ ہونے کے عربی زبان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے جاتے ہیں جبکہ عصری یونیورسٹیوں کے عربی شعبہ جات کے فارغین باوجود بڑی سہولیات اور بڑی تنخواہوں کے اس کا عشرِ عشیر بھی عربی میں نہیں کرپاتے اور جو تھوڑا بہت کر بھی لیتے ہیں وہ اولاً مدارس کے ہی فارغین ہوتے ہیں۔ خالص عصری اداروں کے فارغین میں سے میری معلومات کے مطابق اتنے بڑے ملک میں کوئی بھی فارغ تاہنوز کوئی قابلِ ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکا ہے. اس کے باوجود عصری اداروں کی عربی تدریس کے مقابلے میں دینی مدارس کی عربی تدریس پر تنقید کرنا, اسے نتیجہ خیزی میں کمتر گرداننا اور بیک ورڈ سمجھ بیٹھنا سمجھ سے بالاتر محسوس ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی عصری یونیورسٹیوں کے عربی شعبوں کے لئے یہ دینی مدارس ہی آکسیجن کا کام کرتے ہیں۔ اگر مدارس کے فارغین وہاں داخلہ نہ لیں تو یہ سارے شعبے اپنا وجود کھو بیٹھینگے. البتہ دینی مدارس کی عربی تدریس میں جزوی ترمیم کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ ان کا ہدفِ اصلی رسوخ في العلوم الإسلامية ہوتا ہے اور اس رسوخ کے لئے عربی کا جو نصاب بہتر طور پر معاون ہوسکتا ہے وہ نصاب ان مدارس میں رائج ہے. ان مدارس میں اکیڈمک عربی پڑھائی جاتی ہے اور Arabic for Specific Purpose پر فوکس ہوتا ہے نہ کہ Conversational یا Market oriented Arabic پر.

یہ حقیقت ہے کہ یہ مدارس بحمد اللہ اپنے مقصد میں کامیاب ہیں. ان مدارس پر یہ الزام لگانا کہ وہاں کے فارغین کو تحریر و تقریر تو آتی ہے مگر عربی بول چال نہیں آتی اور اسے مدارس کی ناقص نتیجہ خیزی قرار دینا باعثِ استعجاب ہے۔ واضح رہے کہ عربی بول چال عربی بول چال سے آتی ہے اور اس کے لیے ماحول زیادہ معاون ہوتا ہے. ایک عربی سے ناخواندہ جاہل عربی ممالک میں مزدوری کے لیے جاتا ہے اور وہاں چند مہینے یا سال گذارنے کے بعد فراٹے دار عربی بولنے لگتا ہے مگر وہی عربی بول چال کا ماہر شخص ہر نماز میں پڑھی جانیوالی سورہ فاتحہ حتی کہ بسم الله الرحمن الرحيم کا مفہوم بھی نہیں بتاسکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں مدارس کی عربی تدریس کے تجزییے یا تنقید کرتے وقت اس کے مقصدِ حقیقی کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

جہاں تک رہی بات عربی کی تدریسی کتابوں کا انگریزی کی نئی تدریسی کتابوں کے مطابق ہونے کی بہتریت کی تو میری رائے اس سے مختلف ہے۔ میرے ناقص علم کے مطابق انگریزی کی پرانی گرامر کی کتابیں مثلاً
Wren & Martin
لاطینی زبان کے طرز پر لکھی گئی ہیں جن میں قواعد, تعریف اور مثالیں دی گئی ہیں. جبکہ نئے طرز کی کتابوں میں مشق پر بہت زیادہ زور ہے اور گرامر ندارد یا آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہ طرزِ نصاب direct method کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ یہ طریقہ یقیناً بہت اچھا اور فطری ہے مگر اس میں وقت بھی فطری یعنی تین گنا یا چار گنا لگتا ہے۔ یعنی پانچ سال کی مدت کی بجائے پندرہ سال کی مدت طے کرنی ہوگی جو ناقابلِ عمل ہے۔ اس نہج کی کتابیں انگریزی ممالک کے لئے تو مفید ہیں مگر غیر انگریزی ممالک کے لئے مفید نہیں ہیں. ہندوستان جیسے غیر انگریزی ممالک کے لئے تیز رفتاری سے انگریزی سیکھنے کا طریقہ وہی پرانا لاطینی اور ٹرانسلیشن میتھڈ والا ہے کیونکہ یہاں انگریزی بول چال کا وہ ماحول نہیں ہے۔ اکسفورڈ یونیورسٹی پریس یا کیمبرج یونیورسٹی پریس کی گرامری کتابیں اسی نئی نوعیت کی ہیں. وہاں کی شائع شدہ بہت ساری کتابوں پر
For learners of English Language as a Second Language
لکھا ہوا رہتا ہے مگر میری سمجھ کے مطابق یہ تجارتی مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہوتا ہے کہ انگریزی ممالک کے انگریزی ٹیچرز کو ہی hire کیا جائے اور ان کو زیادہ سے زیادہ ملازمت مل سکے کیونکہ وہ لوگ Translation method پر قادر نہیں ہیں.
دوسری بات یہ ہے کہ عربی گرامر نہایت جامع, سائنٹفک اور استیعابی ہے, مستثنیات بہت کم ہیں. اس کے برعکس انگریزی زبان کا گرامر غیر سائنٹفک ہے اور مستثنیات کی بھر مار ہے جس کی وجہ سے کوئی قاعدہ پڑھ لینے کے بعد گارنٹی نہیں دی جاسکتی کہ اب اس پڑھنے والے کی انگریزی اس قاعدہ سے متعلق بالکل صحیح ہوجائے گی جب تک وہ بکھرے ہوئے سینکڑوں متعلقہ مستثنیات کا علم بھی حاصل نہ کرلے. جبکہ عربی زبان کے قواعد اپنے محتویات کو پورے طور پر شامل ہوتے ہیں اور انہیں حاصل کرکے انہیں اپلائی کرنے پر غلطی کا امکان بہت نادر رہتا ہے۔ اور شاید اسی وجہ سے عربی زبان کے گرامر پر مدارس میں زیادہ زور دیاجاتا ہے۔ لہٰذا میرے خیال میں عربی کی گرامری کتابوں کا اکسفورڈ یونیورسٹی پریس یا کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع شدہ انگریزی کی گرامری کتابوں کے طرز پر ہونا مفید نہیں بلکہ مضر ہے کیونکہ دونوں زبانوں کے گرامر کے احوال بالکل مختلف ہیں.

کتاب کا نام تعلم اللغة العربية للأطفال کی بجائے اللغة العربية للأطفال مجھے زیادہ موزوں محسوس ہورہا ہے کہ یہ زیادہ چست معلوم ہوتا ہے نیز اس وجہ سے بھی کہ قاری جب پڑھتے ہوئے تعلم اللغة العربية تک پہنچتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ لفظ تعلم صیغۂ امر ہے اور اللغة العربية منصوب ہے پھر جب آگے للأطفال پر نظر پڑتی ہے تو وہ اپنی غلطی پر جھینپ جاتا ہے اور اب اسے پتہ چلتا ہے کہ جسے امر سمجھا تھا وہ مصدر نکلا اور اللغة العربية مجرور ہے۔

بہر کیف, کتاب پر تبصرہ زوردار اور بھر پور ہے, زبان وبیان دلکش اور ساحرانہ ہے۔ ہندوستان جیسے عجم میں عربی زبان کی قحط سالی اور ناقدری کے ماحول میں عربی زبان کی خدمت کرنا اور کتابوں پر تبصرے لکھنا کوہ کنی سے کم نہیں ہے. دعاء ہے کہ اللہ تعالی مصنف کو اور تبصرہ نگار دونوں کو خوب خوب اجر سے نوازے, قلم میں مزید طاقت عطا کرے اور ہم سب کو اپنے دینِ متین کی خدمت کے لئے قبول فرمائے!

Tabsera Book.pdf