سیرت پیغمبر دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند گوشے

اُمِّ معبد کا بیاں تو پُر کشش تصویر ہے

تحریر: خورشید عالم داؤد قاسمی

Email: qasmikhursheed

آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ سبحانہ و تعالی نے ہر اعتبار سے کامل و مکمل انسان بنایا تھا۔ نہ آپ جیسا سے پہلے کوئی پیدا ہوا اور ناہی آئندہ پیدا ہوگا۔ آپ کا اخلاق اتنا اونچا کہ دس سال تک آپ کی خدمت کرنے والے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی شہادت ہے کہ کبھی مجھے اف (ہوں) تک نہ کہا۔ آپ کے حسن اخلاق کی اس سے بڑھ کر اور کیا شہادت ہو سکتی ہےکہ خود ربّ کائنات نے گواہی دی کہ آپ عظیم اخلاق کے حامل ہیں۔ آپ اتنے شفیق و رحیم کے ذات باری تعالی نے فرمایا کہ میں نے آپ کو سارے جہان کےلیے رحمت بناکر بھیجا۔ آپ اتنےحلیم و بردبار کہ محلے کی خاتون بھی اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے آپ سے تعاون لینے میں جھجھک محسوس نہیں کرتیں۔ آپ اتنے نرم دل کہ جن مکہ والوں نے ہر طرح سے ستایا حتی کہ آپ کو قتل کرنے تک کی سازش رچی، جب مکہ فتح ہوا، تو آپ نےمعافی کاعام اعلان کرتے ہوئے فرمایاجو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے، وہ مامون۔ جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے، وہ مامون۔ جو مسجد میں داخل ہوجائے، وہ مامون۔آپ اتنے متواضع اور منکسر المزاج کہ خود سے بکری کا ددوھ دوہتے، جوتا ٹوٹ جاتا؛ تو اس کی اصلاح کرتے، جب کپڑے پھٹ جاتے؛ تو پیوند لگاتے، سودا سلف کے لیےبازار جاتے اور اپنے ہاتھ لانے میں کوئی شرم وعار محسوس نہیں کرتے۔ امیر و غریب ہر ایک سے مصافحہ کرتے۔ بغیر کسی تمیز کےچھوٹا بڑا جو بھی ملتا، آپ سلام میں پہل کرتے۔ آپ اتنے حسین و جمیل کہ کسی نے خوب کہا کہ : آں چہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری۔حاصل یہ کہ آپ کی زندگی کا ہر پہلو، تواضع و انکساری کا مظہر اور انسانوں کے لیے صد فی صد نمونہ عمل۔

اس تحریر میں آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار، حسن و جمال، عادت و خصلت، اوصاف و کمالات اور شمائل و خصائل کا وہ نقشہ پیش کرنا مقصود ہے جوآپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے الفاظ میں نقل ہوتے آیا ہے۔ ہم اس کا آغاز ام معبد رضی اللہ عنہا کے الفاظ سے کرتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے پس منظر پیش خدمت ہے۔

جب کفار و مشرکین پیغمبر انقلاب کے قتل کے درپے ہوگئے؛ توانھوں نے بحکم خداوندی مکہ مکرمہ سے یثرب، جو بعد میں مدینہ منورہ بنا اور ہمیشہ کے لیے بن گيا، کی طرف اپنے رفیق غار و مزار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی معیت میں روانہ ہوئے۔ قافلۂ اہل حق کٹھن راستے کو طے کرتے ہوئے مدینہ کی سمت بڑھتے جارہے تھے۔ چلتے چلتے راستہ میں ایک علاقہ سے گزر ہوا جسے "قدید” کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ اس علاقہ میں کی ایک چھوٹی سی بستی تھی، جس میں "قبیلہ خزاعہ” کے لوگ بود و باش اختیار کیے ہوئے تھے، وہاں ایک خیمہ تھا۔ وہ خیمہ مشلل کے اندر واقع تھا۔ اس کا فاصلہ مکہ مکرمہ سے ایک سوتیس کیلو میٹر ہے۔ اب نورہدایت صلی اللہ علیہ وسلم "قبیلہ خزاعہ” میں پہنچ گئے۔ بھوک و پیاس کی شدت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی تھی۔ ہادئ عالم صلی اللہ علیہ وسلم خزاعہ کی ایک خاتون کے خیمہ نما مکان کے پاس جاکر رکے؛ تاکہ اس سے کچھ کھجور اور گوشت خرید سکیں۔ یہ خیمہ ایک خوش قسمت خاتون اُمّ معبد خزاعیہ کا تھا۔ اُمّ معبداس وقت اپنے خیمہ میں موجود تھیں۔

اُمّ معبد خزاعیہ کون ہیں؟ آپ کا نام عاتکہ بنت خالد بن منقذ الخزاعی اور کنیت ام معبد ہے۔یہ قبیلہ خزاعہ کی ایک باوقار اور با عفت، نمایاں اور تواناں خاتون تھیں؛ قبیلہ خزاعہ کی طرف منسوب کرکے آپ کوخزاعیہ کہاجاتا ہے۔ گاؤں دیہات کے خیمہ میں رہنے والی غیر مشہور، غیر خواندہ، مگر عقل مند و دانا خاتون تھیں۔ ان کی زبان بڑی ہی فصیح و بلیغ تھی۔بکری چرانے والے ابو معبد کی رفیقۂ حیات تھیں۔ گوشۂ اسلام میں داخل ہونے سے پہلے بھی راستے سے گزرنے والے لوگوں کا استقبال کرتی تھیں اور جو کچھ میسر ہوتا کھلاتی پلاتی تھیں اور ایساکرنے سے کیا مانع ہوتا؛ جب کہ وہ ایک عرب خاتون تھیں۔ وہی عرب جو اپنی سخاوت و فیاضی اور مہمان نوازی کے لیے پورے عالم میں مشہور۔ پھر ایک مدت کے بعد، اپنے سرتاج ابو معبد کے ساتھ ، محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور دونوں نے اسلام قبول کیا۔ زمانہ جاہلیت کی غیر معروف خاتون، اسلام کو گلے سے لگا کر، مشہور و معروف صحابیہ ہوگئیں ۔رضی اللہ عنہا و عن زوجہا الکریم!

جس وقت معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خیمہ کے پاس پہنچے، اس وقت امّ معبد کا شوہر بکریاں چرانے گیا ہوا تھا اور آپ تنہا گھر میں تشریف فرما تھیں۔ امّ معبد کے حالات سازگار نہیں تھے اور خستہ حالی عیاں تھی۔ صاحب کوثر صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: "کیا تمھارے پاس کچھ (کھانے پینے کا )ہے؟” ام معبد کا جواب مایوس کن تھا؛ کیوں کہ گھر میں ایک بکری کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ بکری بھی ایسی کمزور اور لاغر تھی کہ ام معبد کا شوہر اسے ریوڑ میں نہ لے جانے میں ہی عافیت محسوس کی۔ اس خاتون نے جواب دیا: واللہ! ہمارے پاس کچھ ہوتا؛ تو آپ لوگوں کی میزبانی میں تنگی نہ ہوتی۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اس دبلی پتلی اور لاغر بکری پر پڑی۔ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: "اے ام معبد! یہ بکری کیسی ہے؟” ام معبد جواب دیتی ہیں: اسے کمزوری نے ریوڑ سے پیچھے چھوڑ رکھا ہے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "کیا اس میں کچھ دودھ ہے؟” مہمان نواز خاتون پھر بڑی سنجیدگی سے یوں جواب دیتی ہیں: وہ اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے۔ رسول انس و جنّ صلی اللہ عیلہ وسلم گویا ہوتے ہیں: "اجازت ہے کہ اسے دوہ لوں؟” اس خاتون کو کیا معلوم کہ امام الانبیاء والرسل صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خیمے پر تشریف فرما ہیں۔ کوئی بھی معجزہ رونما ہوسکتا ہے۔ بڑی سنجیدگی سے یوں جواب دیتی ہیں: میرے ماں باپ آپ پر قربان! اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ اس کے تھن میں دودھ ہے؛ تو آپ ضرور دوہ لیں!

اب ایک معجزہ کا ظہور ہونے جارہا ہے۔ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کو پاس بلایا اور اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا ، اللہ کا نام لیا اور بارگاہ رب الغزت میں دعا کی۔ بکری نے پاؤں پھیلا دیا۔ تھن دودھ سے بھر گیا۔ پھر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا برتن منگوایا، پھر اتنا دوہا کہ وہ برتن پورا لبریز ہوگیا۔ پھر اس خاتون کو دودھ پلایا؛ تا آں کہ وہ آسودہ ہوگئیں۔ مینارۂ نور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وفا شعار ساتھیوں کو دودھ پیش فرمایا، وہ سب بھی آسودہ ہوگئے۔ شفقت و محبت کا پیکر صلی اللہ علیہ وسلم بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرتا رہا، دوسروں کو سیراب کرتا رہا اور خود سب سے اخیر میں دودھ نوش فرمایا۔ پھر دوسری دفعہ اتنا دودھ دوہا کہ برتن پھر بھر گیا۔ اس دودھ سے بھرے برتن کو ام معبد کے پاس چھوڑ کر، وہاں سے کوچ کرگئے۔

بس تھوڑی ہی دیر بعد ام معبد کا شوہر (ابو معبد) اپنی کمزور بکریوں کو، جو دبلے پن کی وجہ سے مریل چال چل رہی تھیں، ہانکتے ہوئے قدم رنجہ ہوئے۔اب ( گھر میں بھرا کوزہ) دودھ دیکھا۔ (حیران و ششدر ہوکر )اپنی بیوی سے گویا ہوا: اے ام معبد! کہاں سے تجھے یہ دودھ ہاتھ لگ گیا؟ جب کہ (دودھ دینے والی) بکریاں دور دراز تھیں۔ دودھ دینے والی بکری تو گھر میں نہیں تھی! امّ معبد جواب دیتی ہیں: بات تو درست ہے، مگر بخدا ہمارے یہاں سے ایک مبارک شخص کا گزر ہوا ہے، جس کی حالت ایسی ایسی تھی۔ اس نے ام معبد سے کہا: اے ام معبد! مجھے اس شخص کے اوصاف بتاؤ!پھر ام معبد گویا ہوتی ہیں۔ جو بھی الفاظ اس وقت ام معبد کے زبان سے ادا ہوتے ہیں، وہ تاریخ میں ریکارڈ ہوتے جارہے ہیں؛ تا آں کہ آج تک کتابوں میں موجود ہیں۔ ہم بھی پڑھتے ہیں، آپ بھی پڑھتے اور جن کو توفیق خداوندی ملے گی، رہتی دنیا تک پڑھیں گے۔ ام معبد رضی اللہ عنہا نے سب سے حسین و جمیل، جسیم و قوی، اعلی اخلاق و عمدہ کردار اورقابل تقلید اوصاف و کمالات کے حامل شخصیت کا نقشہ کیسے کھینچا ہے، ہم یہاں ترجمہ پر اکتفا کرتے ہیں:

"پاکیزہ رو، کشادہ چہرہ، پسندیدہ خو، نہ پیٹ باہرکو نکلاہوا، نہ سر کے بال گرے ہوئے، زیبا، صاحب جمال، آنکھیں سیاہ و فراخ، بال لمبے اور گھنے، آواز میں بھاری پن، بلند گردن، روشن مر دمک، سرمگیں چشم، باریک و پیوستہ ابرو، سیاہ گھنگھریالے بال، خاموش وقار کے ساتھ، گویا دل بستگی لئے ہوئے، دور سے دیکھنے میں زیبندہ و دلفریب، قریب سے نہایت شیریں و کمال حسین، شیریں کلام، واضح الفاظ، کلام کمی و بیشی الفاظ سے مبّرا، تمام گفتگو موتیوں کی لڑی جیسی پروئی ہوئی، میانہ قد کہ کوتاہی نظر سے حقیر نظر نہیں آتے، نہ طویل کہ آنکھ اس سے نفرت کرتی، زیبندہ نہال کی تازہ شاخ، زیبندہ منظر والا قد، رفیق ایسے کہ ہر وقت اس کے گرد و پیش رہتے ہیں، جب وہ کچھ کہتا ہے؛ تو چپ چاپ سنتے ہیں، جب حکم دیتا تو تعمیل کے لیے جھپٹتے ہیں، مخدوم، مطاع، نہ کوتاہ سخن نہ فضول گو۔” (قاضی سلیمان منصورپوری، رحمۃ للعالمین)

اُمِّ معبد کا بیاں تو پُر کشش تصویر ہے

ہر صفت ہے استعارہ ہے، پھیلتی تنویر ہے

(گوہر ملسیانی)

آپ کے اخلاق عالیہ، اوصاف کریمہ اور خصائل شریفہ کا ذکر ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ نے بڑےجامع اور بلیغ انداز میں کیا ہے۔ ہند بن ابی ہالہ امّ المومنین سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے فرزند ارجمند ہیں جو زوج سابق سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کے الفاظ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت آخرت کی فکر میں اور امور آخرت کی سوچ میں لگے رہتے ۔اس کا ایک تسلسل قائم تھا کہ کسی وقت آپ کو چین نہ ہوتاتھا۔ اکثر طویل سکوت فرماتے، بلا ضرورت کلام نہ فرماتے تھے۔ گفتگو کا آغاز فرماتے؛ تو دہن مبارک سے اچھی طرح الفاظ ادا فرماتےاور اسی طرح اختتام فرماتے۔ آپ کی گفتگو اور بیان بہت صاف، واضح اور دو ٹوک ہوتا، نہ اس میں غیر ضروری طوالت ہوتی نہ زیادہ اختصار۔ آپ نرم مزاج اور نرم گفتارتھے۔درشت خو اور بے مروّت نہ تھے۔ نہ کسی کی اہانت کرتے تھے اور نہ اپنے لیے اہانت پسند کرتے تھے۔نعمت کی بڑی قدر کرتےاور اس کو بہت زیادہ جانتےخواہ کتنی ہی قلیل ہو (کہ آسانی سے نظر بھی نہ آئے) اور اس کی برائی نہ فرماتے۔ کھانے پینے کے چیزوں کی برائی کرتے نہ تعریف،دنیا اور دنیا سے متعلق جو بھی چیز ہوتی، اس پر آپ کو کبھی غصہ نہ آتا؛ لیکن جب اللہ کے کسی حق کو پامال کیا جاتا؛ تو اس وقت آپ کے جلال کے سامنے کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی تھی؛ یہاں تک کہ آپ اس کا بدلہ لے لیتے۔ آپ کو اپنی ذات کے لیے نہ غصہ آتا، نہ اس کے لیے انتقام لیتے۔ جب اشارہ فرماتے تو پورے ہاتھ کے ساتھ اشارہ فرماتے۔ جب کسی امر پر تعجب فرماتے تو اس کو پلٹ دیتے۔ گفتگو کرتے وقت داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے ملاتے۔ غصہ اور ناگواری کی بات ہوتی؛ تو روئے انور اس طرف سے بالکل پھیر لیتےاور اعراض فرمالیتے۔خوش ہوتے تو نظریں جھکالیتے۔ آپ کا ہنسنا زیادہ تر تبسّم تھا، جس سے صرف آپ کے دندان مبارک جو بارش کے اولوں کی طرح پاک و شفاف تھے ظاہرہوتے۔” (نبی رحمت، ص: 565-566)

رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم حسین و جمیل ؛ بل کہ احسن و اجمل اور ہر طرح کے ظاہری و باطنی عیوب سے مبرّا تھے۔ آپ کے رفیق اور وقت کے عظیم شاعر حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کی زبان جب آپ کی شخصیت کو بیان کرنا شروع کرتی ہے؛ تو اس طرح کے اشعار نکلتے ہیں:

وأحسن منك لم تر قط عيني ــــ وأجمل منك لم تلد النساء

خلقت مبرّءا من كل عيب ــــ كأنك قد خلقت كما تشاء

ترجمہ: آپ سے زیادہ حسین میری آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا اور آپ سے زیادہ خوب صورت کسی خاتون نے نہیں جنا۔ آپ ہر طرح کے عیب سے مبرا ہوکر پیدا کيے گئے، ایسا لگتا کہ آپ ویسے ہی پیدا ہوئے، جیسا کہ آپ نے چاہا۔

اللہ تعالی ہم سب کو خاتم الانبیاء والمرسلین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے! آمین!

(مضمون نگار دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول ، زامبیا کے استاذ ہیں۔)

ماہ ربیع الاوّل اور عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم

مولانا حبیب الرحمن اعظمی

ربیع الاوّل وہ مبارک مہینہ ہے جس میں رب العالمین نے محسن انسانیت، پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت مجسم بناکر اس خاکدان عالم میں بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی روشن تعلیمات اور نورانی اخلاق کے ذریعہ دنیا سے نہ صرف کفر و شرک اور جہالت کی مہیب تاریکیوں کو دور کردیا بلکہ لہوولعب، بدعات و رسومات اور بے سروپا خرافات سے مسخ شدہ انسانیت کو اخلاق و شرافت، وقار و تمکنت اور سنت و شریعت کے زیور سے آراستہ وپیراستہ کردیا۔
اس محسن اعظم کا حق تو یہ تھا کہ ہمارے قلوب ہرلحظہ اس کی عظمت واحترام سے معمور اور ہمارے دلوں کی ہر دھڑکن اس کی تعظیم و توقیر کی ترجمان ہوتی، ہمارا ہر عمل اس کے اسوئہ پاک کا نمونہ اور ہر حرکت و سکون اس کی سنت مطہرہ کے تابع ہوتا گویا ایک مسلمان کی مکمل زندگی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تذکار اور اخلاقِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جیتی جاگتی تصویر ہونی چاہئے۔ نہ یہ کہ دیگر اہل ادیان وملل کی طرح ہم بھی اس نبی برحق کی یاد و تذکرہ کے لئے چند ایام کو مخصوص کرلیں اور پھر پورے سال بھولے سے بھی اس کی سیرت و اخلاق کا ذکر زبان پرنہ لائیں۔ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں زندگی کے جتنے لمحات بھی گذرجائیں وہ ہمارے لئے سعادت اور ذریعہ نجاتِ آخرت ہیں۔
لیکن آہ کہ ! آج رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم فداہ روحی، ابی، وامّی کے نام لیوا اوراس کے عشق و محبت کے دعویدار ماہ ربیع الاوّل میں ”عید میلاد النبی“ کے دل نشین نام پر جو وقتی اور بے روح محفلیں منعقد کرتے ہیں اس کے تصور ہی سے روح تھرا اٹھتی ہے اور کلیجہ منھ کو آنے لگتا ہے۔ ملت اسلامیہ کی یہ کیسی بدبختی و بدنصیبی ہے کہ سیرت پاک اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پراس ہڑبونگ، غل غپاڑہ اور طوفان بے تمیزی کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے شیطان بھی شرماجاتا ہے۔ دل کی دنیا تاریک وتباہ ہوتی جارہی ہے، مگر اس کی فکر سے بے پرواہ بازاروں کے گلی اور کوچے برقی قمقموں سے منور اور خوش نما جھنڈیوں سے سجائے جاتے ہیں۔ چار چار اور چھ چھ گھنٹے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جلوس میں گذاردئیے جاتے ہیں مگر اسلام کے رکن اولیں نماز کا خیال تک نہیں آتا۔ میلادالنبی کے ان جلسوں اور جلوسوں میں فکرننگ وناموس سے بے نیاز ہوکر مردوں اور عورتوں کا جس طرح اجتماع اوراختلاط ہوتا ہے عہد جاہلیت کا جشن نوروز بھی اس کے آگے ماند پڑجاتا ہے۔ اور قوم وملت کااس قدر سرمایہ ان سطحی اور غیرشرعی مجلسوں کی زیبائش و آرائش پر صرف ہوتا ہے کہ اس کا اندازہ بھی دشوار ہے۔
محسن کائنات کے عشق کے مدعیو! ذرا کچھ تو غور و فکر اور ہوش سے کام لو وہ دعویٰ محبت یکسر فریب ہے جواطاعت واتباع سے خالی ہو۔
لوکان حبّک صَادقًا لاطعتہ
لان المحب لمن یحب یطیع
تم زبان سے محبت رسول کا دم بھرتے ہو، مگر تمہارے طور طریقے اوراعمال و اشغال تعلیمات رسول ہدایاتِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے سراسر خلاف ہیں۔ ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل آخری وقت میں جب کہ نبض ڈوب رہی تھی اور نزع کا عالم طاری تھا تمہیں نماز کی وصیت فرمائی تھی۔ غیر محرم عورتوں سے اختلاط تو بڑی چیز ہے ان کی جانب نظر اٹھانے کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین وایمان کی ہلاکت قرار دیاتھا۔ بیجا اسراف اور فضول خرچی سے تمہیں باز رہنے کی موٴکد ہدایت فرمائی تھی۔ لیکن آج انہیں کے نام پر ان جلسوں جلوسوں میں تم وہ سب کچھ کرتے ہو جس سے تمہارے محسن نے روکاتھا۔
خدارا ہوش میں آوٴ اور دیکھو دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے اور تم ہو کہ ان سطحی اجتماعات اور غیرشرعی رسومات میں اپنی طاقت، سرمائے اور وقت کو برباد کررہے ہو اور اس طرح اپنی دنیا کو تباہ و برباد کرنے کے ساتھ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی بھی اپنے ہاتھوں خرید رہے ہو۔
اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں اعلان فرمادیا ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابی اللہ کے احکام کے پوراکرنے اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر چلنے میں ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
فَلیَحذَرِ الَّذِینَ یْخَالِفْونَ عن اَمرِہ اَن تْصِیبَہْم فَتَنَة اَو یْصِیبَہْم عَذَاب الیم (المومنون)
(جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ ان پر کوئی آفت آجائے یا ان پرکوئی دردناک عذاب نازل ہوجائے۔)
ایک موقع پر ارشاد ہے:
مَن عَمِلَ صَالِحًا مِن ذَکَرٍ اَو اْنثٰی وَہْو مْومِن فَلَنْحیِیَنَّہ حَیوة طَیَّبَة ولَنَجزِیَنَّہْم اَجرَہم بِاَحسَن مَا کَانْوا یَعمَلْونَ
(جو شخص نیک کام کرے مرد ہو یا عورت بشرطیکہ ایمان والا ہو تو ہم اسے ضرور اچھی زندگی بسر کرائیں گے (یہ دنیا میں ہوگا اور آخرت میں) ان کے اچھے کاموں کے بدلے میں ان کو اجر دیں گے)
ان آیات پر غور کریں اور دیکھیں کہ ہم اپنے اعمال واخلاق کے ذریعہ اپنے آپ کو مورد آفات اورمستحق عذاب بنارہے ہیں یا دنیا میں حیات طیبہ (راحت کی زندگی) اور آخرت میں اجر و ثواب کے لائق بن رہے ہیں۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک ارشاد ہے:
قد افلح من اخلص قلبہ للایمان وجعل قلبہ سلیماً ولسانہ صادقًا ونفسہ مطمئنة وخلیقة مستقیمہ وجعل اذنہ مستمعة وعینہ ناظرة (الحدیث رواہ الامام احمد فی مسندہ ۵/۱۴۸)
یقینا وہ شخص کامیاب ہوگیاجس نے اپنے دل کو ایمان کے لئے خالص کرلیا اور اپنے دل کو (کفر و شرک اور نفسانی رذائل) سے پاک و صاف کرلیا، اپنی زبان کو سچا رکھا اپنے نفس کو مطمئن بنالیا (کہ اس کو اللہ کی یاد سے اوراس کی مرضیات پر چلنے سے اطمنان وسکون ملتا ہو) اپنی طبیعت کو درست رکھا (کہ وہ برائی کی طرف نہ چلتی ہو) اپنے کان کو حق سننے والا بنایا اور اپنی آنکھ کو (ایمان کی نگاہ سے) دیکھنے والا بنایا۔
قرآن و حدیث میں یہ مضمون بار بار مختلف اسلوب میں بیان کیاگیا ہے کہ دنیا وآخرت کی فلاح و کامیابی اللہ اوراس کے پاک رسول کی اطاعت میں منحصر ہے۔ اللہ رب العزت کی اطاعت و فرماں برداری ہی محبت رسول کی کسوٹی اور معیار ہے۔ قْل اِن کْنتْم تْحِبّْونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعْونِی الایة اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں سے کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔ (بغیر اتباع الٰہی کے دعویٰ محبت خود فریبی ہے۔ بلکہ اگر بغور دیکھا جائے تو یک گونہ مذاق و استہزاء ہے)(نعوذ باللہ منہ)
اس لئے ہم سب کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پاک رسول کی صریح مخالفت کرتے ہوئے یہ میلاد النبی اجلاس و جلوس ، ہمیں فلاح و کامیابی کی جانب لے جارہے ہیں یا دنیا و آخرت کی ناکامی اور خسارے کی جانب۔
صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے
․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․

جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک لمحہٴ فکریہ

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

۱۲/ ربیع الاول کو عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم منانے کارواج کچھ عرصہ سے مسلسل چلا آرہا ہے، چونکہ عہد صحابہ کرام رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین اور قرون اولیٰ میں اس ”عید“ کا کوئی پتا نشان نہیں ملتا۔ اسلیے اکابر علمائے حق ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ یہ دن منانے کی رسم ہم میں عیسائیوں اور ہندوؤں سے آئی ہے، تاریخ اسلام کے ابتدائی دور میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ملتی، لہٰذا اس رسم کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، مسلمانوں کااصل کام یہ ہے کہ وہ ان رسمی مظاہروں کے بجائے سرکار دوعالم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہوں اور ایک دن میں عید میلاد مناکر فارغ ہوجانے کے بجائے اپنی پوری زندگی کو آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کی فکر کریں۔
یہ علمائے دیوبند اور علمائے اہل حدیث کا موقف تھا اور بریلوی مکتب فکر کے حضرات اس سے اختلاف کرتے تھے لیکن اب چند سالوں سے جو صورتحال سامنے آرہی ہے، اس میں یہ مسئلہ صرف دیوبندی مکتب فکر کا نہیں رہا، بلکہ ہر اس مسلمان کا مسئلہ بن گیا ہے جو سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کی عظمت و محبت اور حرمت و تقدیس کا کوئی احساس اپنے دل میں رکھتا ہو، اب صرف علمائے دیوبند اور علمائے اہل حدیث ہی کو نہیں بلکہ علمائے بریلی کو بھی اس پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے کہ جشن عیدمیلاد النبی صلی الله علیہ وسلم کے نام پر یہ قوم دینی تباہی کے کس گڑھے کی طرف جارہی ہے، کیونکہ جن حضرات نے ابتدا میں محفل میلاد وغیرہ کو مستحسن قرار دیا تھا، ان کے چشم تصور میں بھی غالباً وہ باتیں نہیں ہوں گی جو آج ”جشن میلادالنبی صلی الله علیہ وسلم“ کا جزو لازم بنتی جارہی ہیں۔
شروع میں محفل میلاد کا تصور ایک ایسی مجلس کی حد تک محدود تھا جس میں سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان کیا جاتا ہو، لیکن انسان کا نفس اس قدر شریر واقع ہوا ہے کہ جو کام وحی کی رہنمائی کے بغیر شروع کیا جاتا ہے، وہ ابتدا میں خواہ کتنا مقدس نظر آتا ہو، لیکن رفتہ رفتہ اس میں نفسانی لذت کے مواقع تلاش کرلیتا ہے اور اس کا حلیہ بگاڑ کر چھوڑتا ہے، چنانچہ اب الله کے محبوب ترین پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے مقدس نام پر جو کچھ ہونے لگا ہے، اسے سن کر پیشانی عرق عرق ہوجاتی ہے۔
ہر سال ”عید میلاد النبی“ کے نام سے صرف کراچی میں ظلم و جہالت کے ایسے ایسے شرمناک مظاہرے کیے جاتے ہیں کہ ان کے انجام کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے، مختلف محلوں کو رنگین روشنیوں سے دلہن بنایا جاتا ہے اور شہر کے تقریباً تمام ہوٹلوں میں عید میلاد اس طرح منائی جاتی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر لگاکر بلند آواز سے شب و روز ریکارڈنگ کاطوفان برپا رہتا ہے۔ بہت سے سینما ”عیدمیلاد کی خوشی میں“ سینکڑوں بلب لگا کر ان اخلاق سوز اور برہنہ تصویروں کو اور نمایاں کردیتے ہیں جو اپنی ہر ہر ادا سے سرکار دوعالم صلی الله علیہ وسلم کے احکام کی نافرمانی کی برملا دعوت دیتی ہیں اور انہی مقامات پر انسانیت کی تصویروں کے سائے میں شاید تبرک کے خیال سے خانہ کعبہ اور روضہ اقدس کی تصویریں بھی چسپاں کردی جاتی ہیں، ایک محلہ میں قدم قدم پر روضہ اطہر اور مسجد نبوی کی شبیہیں بناکر کھڑی کی جاتی ہیں، جنہیں کچھ بے فکرے نوجوان ایک تفریح گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور کچھ بے پردہ عورتیں انہیں چھو چھوکر ”خیر و برکت“ حاصل کرتی ہیں اور اور ظاہر ہے کہ جب پورے محلہ کو روشنیوں میں نہلاکر جگہ جگہ محرابیں کھڑی کرکے اور قدم قدم پر فلمی ریکارڈ بجاکر ایک میلے کا سماں پیدا کردیا جائے تو پھر عورتیں اور بچے ایسے میلے کو دیکھنے کے لیے کیوں نہ پہنچیں جس میں میلے کا لطف بھی ہے اور (معاذ الله) تعظیم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ثواب بھی، چنانچہ راتوں کا دیر تک یہاں تفریح باز مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایسا مخلوط اجتماع رہتا ہے جس میں بے پردگی، غنڈہ گردی اور بے حیائی کو کھلی چھوٹ ملی ہوتی ہے۔
راقم الحروف ایک روز اس محلے سے گزرتے ہوئے یہ دلدوز مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور اس آیت قرآنی کے تصور سے روح کانپ رہی تھی، جس کا ترجمہ یہ ہے:
” اور ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کشی اختیار کرلو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنارکھا ہے اور دنیاوی زندگی نے ان کو دھوکہ میں ڈال دیا ہے اور اس قرآن کے ذریعے ان کو نصیحت کرو تاکہ کوئی شخص اپنے کیے میں اس طرح گرفتار نہ ہوجائے کہ الله کے سوا اس کا کوئی حمایتی اور سفارش کرنے والا نہ ہو اور اگر وہ دنیا بھر کا معاوضہ دے ڈالے تب بھی نہ لیا جائے، یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے کیے میں گرفتارہوئے، ان کے لیے کھولتا ہوا پانی پینے کے لیے ہوگا اور کفر کے سبب دردناک سزا ہوگی۔“
الله تعالیٰ ہر مسلمان کو اس آیت کا مصداق بننے سے محفوظ رکھے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس محلے سے گزرتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے خاتم النبین صلی الله علیہ وسلم کا لایا ہوا دین پکار پکار کر یہ فریاد کررہا ہے کہ ”محمد عربی صلی الله علیہ وسلم کے نام لیواؤ! تم گمراہی اور بے حسی کے کس اندھے غار میں جاگرے ہو؟ کیا سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کے احسانات کا بدلہ یہی ہے کہ انہی کی محبت و عظمت کے نام پر ان کی ایک ایک تعلیم کو جھٹلاؤ؟ ان کے ایک ایک حکم کی نافرمانی کرو؟ اور ان کی یاد منانے کے بہانے جاہلیت کی ان تمام رسموں کو زندہ کرکے چھوڑو جنہیں اپنے قدموں تلے روندنے کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تھے؟ خدا کے لیے سوچو کہ جس ذات کو سازو رباب اور چنگ و بربط کے توڑنے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا، اس کے ”جشن ولادت“ میں ساز ورباب سے کھیل کر تم کس غضب الٰہی کو دعوت دے رہے ہو؟ جس ذات نے عورت کے سر پر عفت و عصمت کا تاج رکھا تھا اور جس نے اس کے گلے میں عزت و آبرو کے ہارڈالے تھے، اس کی محبت و تقدیس کے نام پر تم عورت کو بے پردگی اور بے حیائی کے کس میلے میں کھینچ لائے ہو؟ جس ذات نے نام و نمود، ریا و نمائش، اسراف و تبذیر سے منع کیا تھا، یہ نمائشیں منعقد کرکے تم کس کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہو؟ اگر دین کی کوئی صحیح خدمت تم سے نہیں ہوسکتی، اگر تم اپنی عام زندگی میں الله کی نافرمانیوں کو ترک نہیں کرسکتے، اگرمحمد عربی صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات تمہارے عیش پرست مزاج کوبار معلوم ہوتی ہیں، توتمہاری زندگی کے بہت سے شعبے اس عیش پرستی کے لیے کافی ہیں، خدا کے لیے الله کے محبوب ترین پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے نام پر ہوا و ہوس کا یہ بازار لگاکر اس نبی رحمت صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کا مذاق تو نہ اڑاؤ، اس کے تقدس اور پاکیزگی کے آگے فرشتوں کی گردنیں بھی خم ہوجاتی ہیں، اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھو کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کے ایک ایک حکم کی نافرمانی کرنے کے بعد تم کس چیز کی خوشی میں اپنے درودیوار پر چراغاں کررہے ہو؟ کیا تمہیں اس بات کی خوشی ہے کہ تم نے اپنی عملی زندگی میں اس دین برحق کی کوئی قدر صحیح سالم نہیں دیکھی؟“ لیکن عیش و نشاط کی گونجتی ہوئی محفلوں میں کون تھا جو دین مظلوم کی اس فریاد کو سن سکتا؟
جن لوگوں کا مقصد ہی اس قسم کے ہنگاموں سے عیش و نشاط کا سامان پیدا کرنا ہے، ان کا تو کوئی ذکر ہی نہیں، لیکن جو لوگ واقعتاً آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تعظیم و محبت ہی کے خیال سے اس قسم کے جشن مناتے ہیں، وہ بھی یہ بات فراموش کررہے ہیں کہ اسلام اور اکابر اسلام کو دوسرے مذاہب اور ان کے پیشواؤں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام نے جہاں ہمیں ان کی تعظیم اور ان کے تذکرے کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے، وہاں ہمیں اس کا طریقہ بھی بتایا ہے، یہ وہ دین حق ہے جو ہمیں دوسرے مذاہب کی طرح رسمی مظاہروں میں الجھانے کے بجائے زندگی کے اصلی مقصد کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس کے لیے یہ اکابر اس دنیا میں تشریف لائے تھے۔ ورنہ اگر اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح ان رسمی مظاہروں کی طرح جانا جاتا تو آج ہم اس بات پر فخر محسوس نہ کرسکتے کہ ہمارا دین بفضلہ تعالیٰ اسی شکل میں محفوظ ہے جس شکل میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اسے لے کر دنیا میں تشریف لائے تھے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی مذہب کے پیروکار محض ظاہری رسموں اور نمائشوں میں الجھ جاتے ہیں تو رفتہ رفتہ اس مذہب کی اصل تعلیمات مٹتی چلی جاتی ہیں اور بالآخر بے جان رسوم کا ایک ایسا ملغوبہ باقی رہ جاتا ہے جس کا مقصد انسانی نفسانی خواہشات کی حکمرانی کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور جو مادہ پرستی کی بدترین شکل ہے، ان تمام تقریبات کا اصل مقصد تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ ان کے ذریعہ وہ خاص شخصیت یا وہ خاص واقعہ ذہن میں تازہ ہو جس کی یاد میں وہ تقریب منعقد کی جارہی ہے اور پھر اس سے اپنی زندگی میں سبق حاصل کیا جائے، لیکن انسان کا نفس بڑا شریر واقع ہوا ہے، اس نے ان تہواروں کی اصل روح کو تو بھلا کرنابود کردیا اور صرف وہ چیزیں لے کر بیٹھ گیا جس سے لذت اندوزی اور عیش پرستی کی راہ کھلتی تھی۔ اس کی وضاحت ایک مثال سے ہوسکے گی۔
عیسائی قومیں ہر سال 25دسمبر کو کرسمس کا جشن مناتی ہیں، یہ جشن دراصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جشن ولادت ہے اور اس کی ابتدا اسی مقدس انداز سے ہوئی تھی کہ اس دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی تعلیمات کو لوگوں میں عام کیا جائے گا، چنانچہ ابتداء میں اس کی تمام تقریبات کلیسا میں انجام پاتی تھیں اور ان میں کچھ مذہبی رسوم ادا کی جایا کرتی تھیں، رفتہ رفتہ اس جشن کا سلسلہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا؟ اس کی مختصر داستان، جشن و تقریبات کی ایک ماہر مصنفہ ہیزلٹائن ہے، اس سے سنیے، وہ انسائیکلوپیڈیا پر برٹانیکا کے مقالہ ”کرسمس“ میں لکھتی ہیں:
”کئی صدیوں تک کرسمس خالصتاً ایک کلیسا کا تہوار تھا، جسے کچھ مذہبی رسوم ادا کرکے منایا جاتا تھا، لیکن جب عیسائی مذہب بت پرستوں کے ممالک میں پہنچا تو اس میں ”سرمانی نقطہ انقلاب“ کی بہت سی تقریبات شامل ہوگئیں اور اس کا سبب گریگوری اعظم (اول) کی آزاد خیالی اور اس کے ساتھ مبلغین عیسائیت کا تعاون تھا، اس طرح کرسمس ایک ایسا تہوار بن گیا جو بیک وقت مذہبی بھی تھا اور لادینی بھی، اس میں تقدس کا پہلو بھی تھا اور لطف اندوزی کا سامان بھی۔“
اب کرسمس کس طرح منایا جانے لگا؟ اس کو بیان کرتے ہوئے میری ہیرزلٹائن لکھتی ہیں:
”رومی لوگ اپنی عبادت گاہوں اور اپنے گھروں کو سبز جھاڑیوں اور پھولوں سے سجاتے تھے، ڈرائڈس (پرانے زمانے کے پادری) بڑے تزک و احتشام سے امربیلیں جمع کرتے اور اسے اپنے گھروں میں لٹکاتے، سیکسن قوم کے لوگ سدابہار پودے استعمال کرتے۔“
انہوں نے آگے بتایا ہے کہ:
”کس طرح شجر کرسمس( Chirstmas Tree) کا رواج چلا، چراغاں اور آتش بازی کے مشغلے اختیار کیے گئے، قربانی کی عبادت کی جگہ شاہ بلوط کے درخت نے لے لی، مذہبی نغموں کی جگہ عام خوشی کے نغمے گائے گئے اور : ”موسیقی کرسمس کا ایک عظیم جزو بن گئی۔“
مقالہ نگار آگے رقمطراز ہے:
”اگرچہ کرسمس میں زیادہ زور مذہبی پہلو پر دیا گیا تھا، لیکن عوامی جوش و خروش نے نشاط انگیزی کو اس کے ساتھ شامل کرکے چھوڑا۔“
اور پھر… ”گانا بجانا، کھیل کود، رقص، ناٹک بازی اور پریوں کے ڈرامے تقریبات کا حصہ ہوگئے۔“ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ص، ۶۴۲۔اے ج ۵، مطبوعہ ۱۹۵۰ء مقالہ “کرسمس“)
ایک طرف کرسمس کے ارتقاء کی یہ مختصر تاریخ ذہن میں رکھیے اور دوسری طرف اس طرز عمل پر غور کیجیے، جو چند سالوں سے ہم نے جشن عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم منانے کے لیے اختیار کیا ہوا ہے، کیا اس سے یہ حقیقت بے نقاب نہیں ہوتی کہ:
ایں رہ کہ تومی روی بہ ترکستان است
اسلام اس عالم الغیب کا مقرر کیا ہو ادین ہے جو اس کائنات کے ذرہ ذرہ سے باخبر ہے اور جس کے علم محیط کے آگے ماضی، حال اور مستقبل کی سرحدیں بے معنی ہیں، وہ انسانی نفس کی ان پر فریب کاریوں سے پوری طرح واقف ہے جو تقدس کا لبادہ اوڑھ کر انسانیت کو گمراہ کرتی ہیں، اس لیے اس نے خاص خاص واقعات کی یادگار قائم کرنے کے لیے ان تمام طریقوں سے پرہیز کا حکم دیا ہے، جو ان کی اصل روح کو فنا کرکے انہیں عیش و عشرت کی چند ظاہری رسوم کے لیے بہانہ بناسکتے ہوں، چنانچہ صحابہ رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین اور تابعین کے دور میں ہمیں کہیں نظر نہیں آتا کہ انہوں نے سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کی ولادت باسعادت جیسے عظیم الشان واقعہ کا کوئی دن منایا ہو، اس کے برخلاف ان کی تمام تر توجہات آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنانے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے پیغام کو پھیلانے کی طرف مرکوز رہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ چودہ سو سال گزرنے پر بھی ہم مسلمان بیٹھے ہیں اور اگر اسلام پر عمل کرنا چاہیں تو یہ دین ٹھیک اسی طرح محفوظ ہے جس طرح آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان تک پہنچایا تھا۔
لہٰذا اگر ہم اپنے اسلاف کے اس طرز عمل کو چھوڑ کر غیر مسلم اقوام کے دن منانے کے طریقے کو اپنائیں گے تو مطلب یہ ہوگاکہ ہم دین کے نام پر کھیل تماشوں کے اسی راستے پر جارہے ہیں جس سے اسلام نے بڑی احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہمیں بچایا تھا، آپ کو معلوم ہے کہ اسلام نے غیر مسلم اقوام کی مشابہت سے پرہیز کرنے کی جابجا انتہائی تدبیر کے ساتھ تلقین فرمائی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ عاشورہ محرم کا روزہ جو ہر ا عتبار سے ایک نیکی ہی نیکی تھی، اس میں یہودیوں کی مشابہت سے بچانے کے لیے یہ حکم دیا گیا کہ صرف دس تاریخ کا روزہ نہ رکھا جائے، بلکہ اس کے ساتھ نو یا گیارہ تاریخ کا روزہ بھی رکھا جائے تاکہ مسلمانوں کا روزہ عاشورہٴ یہود سے ممتاز ہوجائے۔
غور فرمائیے! کہ جس دین حنیف نے اس باریک بینی کے ساتھ غیر مسلم اقوام کی تقلید بلکہ مشابہت سے بچانے کی کوشش کی ہے، اس کو یہ کیسے گوارا ہوسکتا ہے کہ سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کا یوم پیدائش منانے کے لیے ان کی نقالی شروع کردی جائے جنہوں نے اپنے دین کو بگاڑ بگاڑ کر کھیل تماشوں میں تبدیل کردیا ہے؟
مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر ہم اپنے ملک کے تمام علماء، دینی رہنماؤں، مذہبی جماعتوں اور با اثر مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور فرمائیں، ہماری یہ اپیل صرف اہل حدیث اور دیوبندی مکتب فکر کے حضرات کی حد تک محدود نہیں بلکہ ہم بریلوی مکتب فکر کے حضرات سے بھی یہی گزارش کرنا چاہتے ہیں ”عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم“ کے نام پر جو المناک حرکتیں اب شروع ہوگئی ہیں، وہ یقینا ان کو بھی گوارا نہیں ہوں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم

مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید
۱۲/ ربیع الاول کو آنحضرت سرورِ عالم صلی الله علیہ وسلم کا ”جشن عید“ منایا جاتا ہے اور آج کل اسے اہل سنت کا خاص شعار سمجھا جانے لگا ہے۔ اس کے بارے میں بھی چند ضروری نکات عرض کرتا ہوں:
(۱)… آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا ذکرِ خیر ایک اعلیٰ ترین عبادت بلکہ روح ایمان ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک واقعہ سرمہٴ چشمِ بصیرت ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی ولادت، آپ صلی الله علیہ وسلم کی صغرسنی، آپ صلی الله علیہ وسلم کا شباب، آپ صلی الله علیہ وسلم کی بعثت، آپ صلی الله علیہ وسلم کی دعوت، آپ صلی الله علیہ وسلم کا جہاد، آپ صلی الله علیہ وسلم کی قربانی، آپ صلی الله علیہ وسلم کا ذکر و فکر، آپ صلی الله علیہ وسلم کی عبادت و نماز، آپ صلی الله علیہ وسلم کااخلاق و شمائل، آپ صلی الله علیہ وسلم کی صورت وسیرت، آپ صلی الله علیہ وسلم کا زہد و تقویٰ، آپ صلی الله علیہ وسلم کا علم و خشیت، آپ صلی الله علیہ وسلم کا اٹھنا بیٹھا، چلنا پھرنا، سونا جاگنا، آپ صلی الله علیہ وسلم کی صلح و جنگ، خفگی و غصہ، رحمت و شفقت، تبسم و مسکراہٹ، الغرض آپ صلی الله علیہ وسلم کی ایک ایک ادا اور ایک ایک حرکت و سکون امت کے لیے اسوہٴ حسنہ اور اکسیر ہدایت ہے اور اس کا سیکھنا سکھانا، اس کا مذاکرہ کرنا، دعوت دینا امت کا فرض ہے۔ صلی الله علیہ وسلم
اسی طرح آپ صلی الله علیہ وسلم سے نسبت رکھنے والی شخصیات اور چیزوں کا تذکرہ بھی عبادت ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کے احباب و اصحاب، ازواج و اولاد، خدام و عمال، آپ صلی الله علیہ وسلم کا لباس و پوشاک، آپ صلی الله علیہ وسلم کے ہتھیاروں، آپ صلی الله علیہ وسلم کے گھوڑوں ، خچروں اور ناقہ کا تذکرہ بھی عین عبادت ہے، کیوں کہ یہ دراصل ان چیزوں کا تذکرہ نہیں، بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی نسبت کا تذکرہ ہے۔ صلی الله علیہ وسلم
۲)… آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے دو حصے ہیں، ایک ولادت شریفہ سے لے کر قبل از نبوت تک کااور دوسرا بعثت سے لے کر وصال شریف تک کا، پہلے حصہ کے جستہ جستہ بہت سے واقعات حدیث و سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں اور حیات طیبہ کا دوسرا حصہ۔ جسے قرآن کریم نے امت کے لیے ”اسوہ حسنہ“ فرمایا ہے۔ اس کا مکمل ریکارڈ حدیث و سیرت کی شکل میں محفوظ ہے اور اس کو دیکھنے سے ایسا لگتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم باہمہ خوبی و زیبائی گویا ہماری آنکھوں کے سامنے چل پھر رہے ہیں، اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے جمالِ جہاں آراء کی ایک ایک ادا اس میں صاف جھلک رہی ہے۔ صلی الله علیہ وسلم۔
بلامبالغہ یہ اسلام کا عظیم ترین اعجاز اور اس امت مرحومہ کی بلند ترین سعادت ہے کہ اس کے پاس ان کے محبوب صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کا پورا ریکارڈ موجود ہے۔ اور وہ ایک ایک واقعہ کے بارے میں دلیل و ثبوت کے ساتھ نشاندہی کرسکتی ہے کہ یہ واقعہ کہاں تک صحیح ہے؟ اس کے برعکس آج دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جن کے پاس ان کے ہادی کی زندگی کا صحیح اور مستند ریکارڈ موجود ہو۔ یہ نکتہ ایک مستقل مقالے کا مضمون ہے، اس لیے یہاں صرف اسی قدر اشارے پر اکتفا کرتا ہوں۔
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو بیان کرنے کے دو طریقے کے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے ایک ایک نقشے کو اپنی زندگی کے ظاہر و باطن پر اس طرح آویزاں کیا جائے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے ہر امتی کی صورت و سیرت، چال ڈھال، رفتار گفتار، اخلاق و کردار آپ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت کا مرقع بن جائے اور دیکھنے والے کو نظر آئے کہ یہ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا غلام ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جہاں بھی موقع ملے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے ذکرخیر سے ہر مجلس و محفل کو معمور و معطر کیا جائے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کے فضائل و کمالات اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے بابرکت اعمال و اخلاق اور طریقوں کا تذکرہ کیا جائے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کے ہر نقشِ قدم پر مرمٹنے کی کوشش کی جائے۔ سلف صالحین، صحابہ و تابعین اور ائمہ ہدیٰ ان دونوں طریقوں پر عامل تھے۔ وہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی ایک ایک سنت کو اپنے عمل سے زندہ کرتے تھے اور ہر محفل و مجلس میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا تذکرہ کرتے تھے۔ آپ نے سیدنا عمر فاروق رضی الله تعالیٰ عنہ کا یہ واقعہ سنا ہوگا کہ ان کے آخری لمحات حیات میں ایک نوجوان ان کی عیادت کے لیے آیا۔ واپس جانے لگا تو حضرت نے فرمایا: ”برخوردار! تمہاری چادر ٹخنوں سے نیچی ہے اور یہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے“۔ ان کے صاحبزادے سیدنا عبدالله بن عمر رضی الله عنہما کو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو اپنانے کا اس قدر شوق تھا کہ جب حج پر تشریف لے جاتے تو جہاں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سفر حج میں پڑاؤ کیا تھا، وہاں اترتے، جس درخت کے نیچے آرام فرمایا تھا، اس درخت کے نیچے آرام کرتے۔ اور جہاں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم فطری ضرورت کے لیے اترے تھے، خواہ تقاضا نہ ہوتا تب بھی وہاں اترے اور جس طرح آنحضرت صلی الله علیہ وسلم بیٹھے تھے اس کی نقل اتارتے۔ رضی الله عنہ۔ یہی عاشقان رسول صلی الله علیہ وسلم تھے جن کے دم قدم سے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی سیرت طیبہ صرف اوراق و کتب کی زینت نہیں رہی، بلکہ جیتی جاگتی زندگی میں جلوہ گر ہوئی اور اس کی بوئے عنبرین نے مشامِ عالم کو معطر کیا۔ صحابہ کرام اور تابعین بہت سے ایسے ممالک میں پہنچے جن کی زباں نہیں جانتے تھے، نہ وہ ان کی لغت سے آشنا تھے، مگر ان کی شکل و صورت، اخلاق و کردار اور اعمال و معاملات کو دیکھ کر علاقوں کے علاقے اسلام کے حلقہٴ بگوش اور جمالِ محمدی صلی الله علیہ وسلم کے غلام بے دام بن گئے۔ یہ سیرت نبوی صلی الله علیہ وسلم کی کشش تھی، جس کا پیغام ہر مسلمان اپنے عمل سے دیتا تھا۔ صلی الله علیہ وسلم
سلف صالحین نے کبھی سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم کے جلسے نہیں کیے اور نہ میلاد کی محفلیں سجائیں، اس لیے کہ وہاں ”ہر روز روزِ عید“ اور ”ہر شب شبِ برأت“ کا قصہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جب ان کی پوری زندگی ”سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم“ کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی، جب ان کی ہر محفل و مجلس کا موضوع ہی سیرت طیبہ تھا اور جب ان کا ہر قول و عمل سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم کا مدرسہ تھا، تو ان کو اس نام کے جلسوں کی نوبت کب آسکتی تھی۔ لیکن جوں جوں زمانہ کو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے مبارک دور سے بُعد ہوتا گیا، عمل کے بجائے قول کا اور کردار کے بجائے گفتار کا سکہ چلنے لگا۔ الحمدلله! یہ امت کبھی بانجھ نہیں ہوئی۔ آج اس گئے گزرے دور میں بھی الله تعالیٰ کے ایسے بندے موجود ہیں جو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا آئینہ سامنے رکھ کر اپنی زندگی کے گیسوو کاکل سنوارتے ہیں اور ان کے لیے محبوب صلی الله علیہ وسلم کی ایک ایک سنت ملکِ سلیمان اور گنج قارون سے زیادہ قیمتی ہے۔ لیکن مجھے شرمساری کے ساتھ یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ ایسے لوگ کم ہیں، جب کہ ہم سے اکثریت مجھ جیسے بدنام کنند ہ، گپوڑوں اور نعرہ بازوں کی ہے جو سال میں ایک دو بار سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم کے نعرے لگا کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کے ذمہ ان کے محبوب نبی صلی الله علیہ وسلم کا جو حق تھا، وہ قرض انہوں نے پورا ادا کردیا، اور اب ان کے لیے شفاعت واجب ہوچکی ہے۔ مگر ان کی زندگی کے کسی گوشے میں دور دور تک سیرت طیبہ کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی پاک سیرت کے ایک ایک نشان کو انہوں نے اپنی زندگی کے دامن سے کھرچ کھرچ کر صاف کرڈالا ہے، اور روزمرہ نہیں بلکہ ہر لمحہ اس کی مشق جاری رہتی ہے، مگر ان کے پتھردل کو کبھی احساس تک نہیں ہوا کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو اپنی سنتوں اور اپنے طریقوں کے مٹنے سے کتنی تکلیف اور اذیت ہوتی ہوگی۔ وہ اس خوش فہمی میں ہیں کہ بس قوالی کے دوچار نغمے سننے، نعت شریف کے دوچار شعر پڑھنے سے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا حق ادا ہوجاتا ہے۔
میلاد کی محفلوں کے وجود سے امت کی چھ صدیاں خالی گزرتی ہیں اور ان چھ صدیوں میں جیسا کہ میں ابھی عرض کرچکا ہوں، مسلمانوں نے کبھی ”سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم“ کے نام سے کوئی جلسہ یا ”میلاد“ کے نام سے کوئی محفل نہیں سجائی۔ ”محفل میلاد“ کا آغاز سب سے پہلے ۶۰۴ھ میں سلطان ابو سعید مظفر اور ابوالخطاب ابن دحیہ نے کیا، جس میں تین چیزیں بطور خاص ملحوظ تھیں:
۱)… بارہ ربیع الاول کی تاریخ کا تعیین۔
۲)… علماء و صلحاء کا اجتماع۔
۳)… اور ختم محفل پر طعام کے ذریعہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی روح پُرفتوح کوایصال ثواب۔
ان دونوں صاحبوں کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ کس قماش کے آدمی تھے؟ بعض مورخین نے ان کو فاسق و کذاب لکھا ہے اور بعض نے عادل و ثقہ۔ والله اعلم۔ جب یہ نئی رسم نکلی تو علمائے امت کے درمیان اس کے جواز و عدم جواز کی بحث چلی، علامہ فاکہانی اور ان کے رفقاء نے ان خود ساختہ قیود کی بناء پر اس میں شرکت سے عذر کیا اور اسے ”بدعت سیّئہ“ قرار دیا۔ اور دیگر علماء نے سلطان کی ہم نوائی کی۔ او ان قیود کو مباح سمجھ کر اس کے جواز و استحسان کا فتویٰ دیا۔ پھر جب ایک بار یہ رسم چل نکلی تو یہ صرف ”علماء و صلحاء کے اجتماع“ تک محدود نہ رہی، بلکہ عوام کے دائرے میں آکر ان کی نئی نئی اختراعات کا تختہٴ مشق بنتی چلی گئی۔ آج ہمارے سامنے عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم کی جو ترقی یافتہ شکل موجود ہے (اور ابھی خدا بہتر جانتا ہے کہ اس میں مزید کتنی ترقی مقدر ہے) اب ہمیں اس کا جائزہ لینا ہے۔
سب سے پہلے دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ جو فعل صحابہ و تابعین کے زمانے میں کبھی نہیں ہوا، بلکہ جس کے وجود سے اسلام کی چھ صدیاں خالی چلی آئی ہیں۔ آج وہ ”اسلام کا شعار“ کہلاتا ہے۔ اس شعار اسلام کو زندہ کرنے والے ”عاشقانِ رسول صلی الله علیہ وسلم“ کہلاتے ہیں، اور جو لوگ اس نوایجاد شعارِ اسلام سے نا آشنا ہوں،ان کو دشمنان رسول صلی الله علیہ وسلم تصور کیا جاتا ہے۔ انا لله و انا الیہ راجعون۔
کاش! ان حضرات نے کبھی یہ سوچا ہوتا کہ چھ صدیوں کے جو مسلمان ان کے اس خود تراشیدہ شعارِ اسلام سے محروم رہے ہیں، ان کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ کیا وہ سب نعوذ بالله! دشمنان رسول صلی الله علیہ وسلم تھے؟ اور پھر انہوں نے اس بات پر کبھی غور کیا ہوتا کہ اسلام کی تکمیل کا اعلان تو حجة الوداع میں عرفہ کے دن ہوگیا تھا۔ اسکے بعد وہ کونسا پیغمبر آیا تھا جس نے ایک ایسی چیز کو ان کے لیے شعارِ اسلام بنادیا جس سے چھ صدیوں کے مسلمان نا آشنا تھے۔ کیا اسلام میرے یا کسی کے ابا کے گھر کی چیز ہے کہ جب چاہو اس کی کچھ چیزیں حذف کردو اور جب چاہو اس میں کچھ اور چیزوں کا اضافہ کرڈالو؟
دراصل اسلام سے پہلے قوموں میں اور اپنے بزرگوں کے بانیان مذہب کی برسی منانے کا معمول ہے، جیسا کہ عیسائیوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یوم ولادت پر ”عید میلاد“ منائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے برسی منانے کی رسم کو ختم کردیا تھا اور اس میں دو حکمتیں تھیں۔ ایک یہ کہ سالگرہ کے موقع پر جو کچھ کیا جاتا ہے وہ اسلام کی دعوت اور اس کی روح و مزاج سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ اسلام اس ظاہری سج دھج، نمود و نمائش او رنعرہ بازی کا قائل نہیں، وہ اس شور و شغب اور ہاؤ ہو سے ہٹ کر اپنی دعوت کا آغاز دلوں کی تبدیلی سے کرتا ہے، اور عقائد حقہ، اخلاقِ حسنہ اور اعمالِ صالحہ کی تربیت سے ”انسان سازی“ کا کام کرتا ہے۔ اس کی نظر میں یہ ظاہری مظاہرے ایک کوڑی کی قیمت بھی نہیں رکھتے، جن کے بارے میں کہا گیا ہے #
جگمگاتے درو دیوار، دل بے نور ہیں
دوسری حکمت یہ ہے کہ اسلام دیگر مذاہب کی طرح کسی خاص موسم میں برگ و بار نہیں لاتا، بلکہ وہ تو ایسا سدا بہار شجرہٴ طوبیٰ ہے جس کا پھل اور سایہ دائم و قائم ہے۔ گویا اس کے بارے میں قرآنی الفاظ میں ”اکلہا دائم و ظلہا“ کہنا بجا ہے۔ اس کی دعوت اور اس کا پیغام کسی خاص تاریخ کا مرہونِ منت نہیں بلکہ آفاق و ازمان کو محیط ہے۔
اور پھر دوسری قوموں کے پاس تو دوچار ہستیاں ہوں گی جن کی سالگرہ مناکر وہ فارغ ہوجاتی ہیں۔ اس کے برعکس اسلام کے دامن میں ہزاروں لاکھوں نہیں، بلکہ کروڑوں ایسی قد آور ہستیاں موجود ہیں جو ایک سے ایک بڑھ کر ہیں اور جن کی عظمت کے سامنے آسمان کی بلندیاں ہیچ اور نورانی فرشتوں کا تقدس گردِ راہ ہے۔ اسلام کے پاس کم و بیش سوا لاکھ کی تعداد تو ان انبیاء علیہم السلام کی ہے۔ جو انسانیت کے ہیرو ہیں اور جن میں سے ایک ایک کا وجود کائنات کی ساری چیزوں پر بھاری ہے۔ پھر انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد صحابہ کرام کا قافلہ ہے، ان کی تعداد بھی سوا لاکھ سے کیا کم ہوگی، پھر ان کے بعد ہر صدی کے وہ لاکھوں اکابر اولیاء الله ہیں جو اپنے اپنے وقت میں رشد و ہدایت کے مینارہٴ نور تھے اور جن کے آگے بڑے بڑے جابر بادشاہوں کی گردنیں جھک جاتی تھیں۔ اب اگر اسلام شخصیتوں کی سالگرہ منانے کا دروازہ کھول دیتا تو غور کیجیے! اس امت کو سال بھر میں سالگرہوں کے علاوہ کسی اور کام کے لیے ایک لمحہ کی بھی فرصت ہوتی؟
چونکہ یہ چیز ہی اسلام کی دعوت اور اس کے مزاج کے خلاف تھی، اس لیے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم، صحابہ و تابعینکے بعد چھ صدیوں تک امت کا مزاج اس کو قبول نہ کرسکا۔ اگر آپ نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اسلامی تاریخ میں چھٹی صدی وہ زمانہ ہے، جس میں فرزندانِ تثلیث نے صلیبی جنگیں لڑیں، اور مسیحیت کے ناپاک اور منحوس قدموں نے عالم اسلام کو روند ڈالا۔ ادھر مسلمانوں کا اسلامی مزاج داخلی و خارجی فتنوں کی مسلسل یلغار سے کمزور پڑگیا تھا۔ ادھر مسیحیت کا عالم اسلام پر فاتحانہ حملہ ہوا، اور مسلمانوں میں مفتوح قوم کا سا احساس کمتری پیدا ہوا، اس لیے عیسائیوں کی تقلید میں یہ قوم بھی سال بعد اپنے مقدس نبی صلی الله علیہ وسلم کے ”یوم ولادت“ کا جشن منانے لگی، یہ قوم کے کمزور اعصاب کی تسکین کا ذریعہ تھا، تاہم جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں، امت کے مجموعی مزاج نے اس کو قبول نہیں کیا۔ بلکہ ساتویں صدی کے آغاز سے لے کر آج تک علمائے امت نے اسے ”بدعت“ قرار دیااور اسے ”ہر بدعت گمراہی ہے“ کے زمرے میں شمار کیا۔
اگرچہ ”میلاد“ کی رسم ساتویں صدی کے آغاز سے شروع ہوچکی تھی اور لوگوں نے اس میں بہت سے امور کے اضافے بھی کیے، لیکن کسی کو یہ جرأت نہیں ہوئی تھی کہ اسے ”عید“ کا نام دیتا۔ کیونکہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”میری قبر کوعید نہ بنانا“۔ اور میں اوپر حضرت قاضی ثناء الله پانی پتی کے حوالے سے بتاچکا ہوں کہ ”عید“ بنانے کی ممانعت کیوں فرمائی گئی تھی۔ مگر اب چند سالوں سے اس سالگرہ کو ”عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم“ کہلانے کاشرف بھی حاصل ہوگیا ہے۔
دنیا کا کون مسلمان اس سے ناواقف ہوگا کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے ”عید“ کے دو دن مقر ر کیے ہیں: عید الفطر اور عید الاضحی۔ اگر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے یوم ولادت کو بھی ”عید“ کہنا صحیح ہوتا اور اسلام کے مزاج سے یہ چیز کوئی مناسبت رکھتی تو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم خود ہی اس کو ”عید“ قرار دے سکتے تھے، اور اگر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے نزدیک یہ پسندیدہ چیز ہوتی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نہ سہی، خلفائے راشدین ہی آپ صلی الله علیہ وسلم کے یوم ولادت کو ”عید“ کہہ کر ”جشن عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم“ کی طرح ڈالتے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا، اس سے دو ہی نتیجے نکل سکتے ہیں یا یہ کہ ہم اس کو ”عید“ کہنے میں غلطی پر ہیں یا یہ کہ نعوذ بالله ہمیں تو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے یوم ولادت کی خوشی ہے، مگر صحابہ کرام خصوصاً خلفائے راشدین کو کوئی خوشی نہیں تھی، انہیں آپ صلی الله علیہ وسلم سے اتنا عشق بھی نہیں تھا جتنا ہمیں ہے۔ ستم یہ ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تاریخ ولادت میں تو اختلاف ہے، بعض ۹/ ربیع الاول بتاتے ہیں، بعض ۸/ ربیع الاول، اور مشہور بارہ ربیع الاول ہے۔ لیکن اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی وفات شریفہ ۱۲/ ربیع الاول ہی کو ہوئی۔ گویا ہم نے ”جشن عید“ کے لیے دن بھی تجویز کیا تو وہ جس میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم دنیا سے داغِ مفارقت دے گئے، اگر کوئی ہم سے یہ سوال کرے کہ تم لوگ ”جشنِ عید“ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی ولادت طیبہ پر مناتے ہو یا آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی وفات کی خوشی میں؟ (نعوذ بالله) تو شاید ہمیں اس کا جواب دینا بھی مشکل ہوگا۔
بہرحال میں اس دن کو ”عید“ کہنا معمولی بات نہیں سمجھتا، بلکہ اس کو صاف صاف تحریف فی الدین سمجھتا ہوں اس لیے کہ ”عید“ اسلامی اصطلاح ہے، اور اسلامی مطابق اصطلاحات کو اپنی خودرائی سے غیر منقول جگہوں پر استعمال کرنا دین میں تحریف ہے۔
اور پھر یہ ”عید“ جس طرح منائی جاتی ہے، وہ بھی لائقِ شرم ہے، بے ریش لڑکے غلط سلط نعتیں پڑھتے ہیں، موضوع اور من گھڑت قصے کہانیاں، جن کا حدیث و سیرت کی کسی کتاب میں کوئی وجود نہیں، بیان کی جاتی ہیں، شورو شغب ہوتا ہے۔ نمازیں غارت ہوتی ہیں، اور نامعلوم کیا کیا ہوتا ہے، کاش! آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے نام پر جو ”بدعت“ ایجاد کی گئی تھی اس میں کم از کم آپ صلی الله علیہ وسلم کی عظمت و تقدس ہی کو ملحوظ رکھا جاتا۔
غضب یہ کہ سمجھا یہ جاتاہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم ان خرافاتی محفلوں میں بنفس نفیس تشریف بھی لاتے ہیں۔ فیاغربة الاسلام! (ہائے اسلام کی بیچارگی!)
اب میں اس ”عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم“ کا آخری کارنامہ عرض کرتا ہوں، کچھ عرصہ سے ہمارے کراچی میں ”عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم“ کے موقع پر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے روضہٴ اطہر اور بیت الله شریف کی شبیہ بنائی جاتی ہے، اور جگہ جگہ بڑے بڑے چوکوں میں سانگ بناکر رکھے جاتے ہیں۔ لوگ ان سے تبرک حاصل کرتے ہیں اور ”بیت الله“ کی خود ساختہ شبیہ کا طواف بھی کرتے ہیں اور یہ سب کچھ مسلمانوں کے ہاتھوں اور علماء کی نگرانی میں کرایا جارہا ہے۔ فیا اسفاہ!
”جشن عید میلاد“ کی باقی ساری چیزوں کو چھوڑ کر اسی ایک منظر کاجائزہ لیجیے کہ اس میں کتنی قباحتوں کو سمیٹ کر جمع کردیا گیا ہے۔
اول : اس پر جو ہزاروں روپیہ خرچ کیا جاتاہے، یہ محض اسراف و تبذیر اور فضول خرچی ہے۔ آپ ملا علی قاری کے حوالے سے سن چکے ہیں کہ آ نحضرت صلی الله علیہ وسلم نے قبروں پر چراغ اور شمع جلانے والوں پر اس لیے لعنت فرمائی ہے کہ یہ فعل عبث ہے اور خدا کے دیے ہوئے مال کو مفت ضائع کرنا ہے۔ ذراسوچیے! جو مقدس نبی صلی الله علیہ وسلم قبر پر ایک چراغ جلانے کو فضول خرچی کی وجہ سے ممنوع اور ایساکرنے والوں کو ملعون قرار دیتا ہے ، اس کا ارشاد اس ہزاروں لاکھوں روپے کی فضول خرچی کرنے والوں کے بارے میں کیا ہوگا؟ اور پھر یہ بھی دیکھیے کہ یہ فضول خرچی وہ غربت زدہ قوم کررہی ہے جو روٹی، کپڑا، مکان کے نام پر ایمان تک کا سودا کرنے کو تیار ہے۔ اس فضول خرچی کے بجائے اگر یہی رقم آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے ایصال ثواب کے لیے غرباء و مساکین کو چپکے سے نقد دے دی جاتی، تو نمائش تو بلاشبہ نہ ہوتی مگر اس رقم سے سینکروں اجڑے گھر آباد ہوسکتے تھے۔ ان سینکڑوں بچیوں کے ہاتھ پیلے کیے جاسکتے تھے جو اپنے والدین کے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی ہیں۔ کیا یہ فضول خرچی اس قوم کے رہنماؤں کو سجتی ہے جس کے بہت سے افراد و خاندان نانِ شبینہ سے محروم اورجان و تن کا رشتہ قائم رکھنے سے قاصر ہوں؟ اور پھر یہ سب کچھ کیا بھی جارہا ہے کس ہستی کے نام پر؟ جو خود تو پیٹ پر پتھر بھی باندھ لیتے تھے، مگر جانوروں تک کی بھوک پیاس سن کرتڑپ جاتے تھے۔ آج کمیونزم اور لادین سوشلزم، اسلام کو دانت دکھا رہاہے۔ جب ہم دنیا کی مقدس ترین ہستی کے نام پر یہ سارا کھیل کھیلیں گے تو لادین طبقے، دین کے بارے میں کیا تاثر لیں گے؟ فضول خرچی کرنے والوں کو قرآن کریم نے ”اخوان الشیاطین“ فرمایا تھا، مگر ہماری فاسد مزاجی نے اس کو اعلیٰ ترین نیکی اور اسلامی شعار بناڈالا ہے #
بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبیست
دوسرے اس فعل میں شیعوں اور رافضیوں کی تقلید ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ رافضی، حضرت حسین رضی الله عنہ کی سالانہ برسی منایا کرتے اور اس موقع پر تعزیہ، علم، دُلدُل وغیرہ نکالا کرتے ہیں، انہوں نے جو کچھ حضرت حسین اور آلِ رسول صلی الله علیہ وسلم کے نام پر کیا، وہی ہم نے خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے نام پر کرنا شروع کردیا۔ انصاف کیجیے کہ اگر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے روضہٴ اطہر اور بیت الله شریف کا سوانگ بناکر اسے بازاروں میں پھرانا اور اس کے ساتھ روضہٴ اطہر اور بیت الله کا معاملہ کرنا صحیح ہے تو روافض کا تعزیہ اور دلدل کا سوانگ رچانا کیوں غلط ہے؟ افسوس ہے کہ جوملعون بدعت رافضیوں نے ایجاد کی تھی، ہم نے ان کی تقلید کرکے اس پرمہرِ تصدیق ثبت کرنے کی کوشش کی۔
تیسرے : اس بات پر بھی غور کیجیے کہ روضہٴ اطہر اور بیت الله کی جو شبیہ بنائی جاتی ہے، وہ شیعوں کے تعزیہ کی طرح محض جعلی اور مصنوعی جسے آج بنایا جاتا ہے اور کل توڑ دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس مصنوعی سوانگ میں اصل روضہٴ اطہر اور بیت الله کی کوئی خیر و برکت منتقل ہوجاتی ہے یا نہیں؟ اور اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی اس چیز میں کسی درجے میں تقدس پیدا ہوجاتا ہے یا نہیں؟ اگر اس میں کوئی تقدس اور کوئی برکت نہیں تو اس فعل کے محض لغو اور عبث ہونے میں کیا شک ہے؟ اور اگر اس میں تقدس اور برکت کا کچھ اثر آجاتا ہے تو اس کی شرعی دلیل کیا ہے؟ اور کسی مصنوعی اور جعلی چیز میں روضہٴ مقدس اور بیت الله شریف سے تقدس و برکت کا اعتقاد رکھنا اسلام کی علامت ہے یا جاہلیت کی؟ اور پھر روضہ شریف اور بیت الله شریف کی شبیہ بناکر اگلے دن اسے توڑ پھوڑ دینا کیا ان کی توہین نہیں؟ آپ جانتے ہیں کہ بادشاہ کی تصویر بادشاہ نہیں ہوتی، نہ کسی عاقل کے نزدیک اس میں بادشاہ کا کوئی کمال ہوتا ہے۔ اس کے باوجود بادشاہ کی تصویر کی توہین کو قانون کی نظر میں لائقِ تعریز جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اور اسے بادشاہ سے بغاوت پر محمول کیا جاتا ہے۔ لیکن آج روضہٴ اطہر اور بیت الله شریف کی شبیہ بناکر کل اسے منہدم کرنے والوں کو یہ احساس تک نہیں ہوتاکہ وہ اسلامی شعائر کی توہین کے مرتکب ہورہے ہیں۔
چوتھے: جس طرح شیعہ لوگ حضرت حسین رضی الله عنہ کے تعزیہ پر چڑھاوے چڑھاتے اور منتیں مانتے ہیں۔ اب رفتہ رفتہ عوام کالانعام اس نو ایجاد ”بدعت“ کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرنے لگے ہیں۔ روضہٴ اطہر کی شبیہ پر درود و سلام پیش کیا جاتاہے اور بیت الله شریف کی شبیہ کا باقاعدہ طواف ہونے لگا ہے۔ گویا مسلمانوں کو حج و عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے روضہٴ اطہر کی زیارت کے لیے مدینہ منورہ جانے کی ضرورت نہیں، ہمارے ان دوستوں نے گھر گھر میں روضے اور بیت الله بنادیے ہیں، جہاں سلام بھی پڑھا جاتاہے اور طواف بھی ہوتا ہے۔ میرے قلم میں طاقت نہیں کہ میں اس فعل کی قباحت و شناعت اور ملعونیت کو ٹھیک ٹھیک واضح کرسکوں۔ ہمارے ائمہ اہل سنت کے نزدیک یہ فعل کس قدر قبیح ہے؟ اس کا اندازہ لگانے کے لیے صرف ایک مثال کافی ہے، وہ یہ کہ ایک زمانے میں ایک بدعت ایجاد ہوئی تھی کہ عرفہ کے دن جب حاجی حضرات عرفات کے میدان میں جمع ہوتے ہیں تو ان کی مشابہت کے لیے لوگ اپنے شہر کے کھلے میدان میں نکل کر جمع ہوتے اور حاجیوں کی طرح سارا دن دعا و تضرع، گریہ و زاری اور توبہ و استغفار میں گزارتے، اس رسم کا نام ”تعریف“ یعنی عرفہ منانا رکھا گیا تھا۔ بظاہر اس میں کوئی خرا بی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک اچھی چیز تھی کہ اگر اس کا رواج عام ہوجاتا تو کم از کم سال بعد تو مسلمانوں کو توبہ و استغفار کی توفیق ہوجایا کرتی۔ مگر ہمارے علمائے اہل سنت نے (الله ان کو جزائے خیر عطا فرمائے) اس بدعت کی سختی سے تردید کی اور فرمایا: ”التعریف لیس بشیٴ“ یعنی اس طرح عرفہ منانا بالکل لغو اور بیہودہ حرکت ہے۔
شیخ ابن نجیم صاحب البحر الرائق لکھتے ہیں:
”چونکہ وقوف عرفات ایک ایسی عبادت ہے جو ایک خاص مکان کے ساتھ مخصوص ہے اس لیے یہ فعل اس مکان کے سوا دوسری جگہ جائز نہ ہوگا۔ جیسا کہ طواف وغیرہ جائز نہیں، آپ دیکھتے ہیں طواف کعبہ کی مشابہت کے طور پر کسی اور مکان کا طواف جائز نہیں۔“
(ص، ۱۷۶ ، ج۲)
حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی فرماتے ہیں:
”آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے جو فرمایا کہ ”میری قبر کو عید نہ بنالینا“ اس میں تحریف کا دروازہ بند کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یہود و نصاریٰ نے اپنے نبیوں کی قبروں کے ساتھ یہی کیا تھا، اور انہیں حج کی طرح عید اور موسم بنالیا تھا۔“ (حجة الله البالغہ)
شیخ علی القاری رحمہ الله شرح مناسک میں فرماتے ہیں کہ:
”طواف کعبہ شریف کی خصوصیات میں سے ہے۔ اس لیے انبیاء و اولیاء کی قبور کے گرد طواف کرنا حرام ہے۔ جاہل لوگوں کے فعل کا کوئی اعتبار نہیں، خواہ وہ مشایخ و علماء کی شکل میں ہوں۔“ (بحوالہ الجنة لاہل السنة ص۷)
اور البحرالرائق، کفایہ شرح ہدایہ اور معراج الدرایہ میں ہے کہ: ”جو شخص کعبہ شریف کے علاوہ کسی اور مسجد کا طواف کرے، اس کے حق میں کفر کا اندیشہ ہے۔“ (الجنة لاہل السنة ص۷)
ان تصریحات سے معلوم ہوسکتاہے کہ روضہٴ اطہر اور کعبہ شریف کا سوانگ بناکر ان کے ساتھ اصل کا سا جو معاملہ کیا جاتاہے، ہمارے اکابر اہل سنت کی نظر میں اس کی کیا حیثیت ہے۔
خلاصہ یہ کہ ”جشن عید میلاد“ کے نام پر جو خرافات رائج کردی گئی ہیں اور جن میں ہر آئے سال مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے، یہ اسلام کی دعوت، اس کی روح اور اس کے مزاج کے یکسر منافی ہیں۔ میں اس تصور سے پریشان ہوجاتا ہوں کہ ہماری ان خرافات کی روئیداد جب آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں پیش ہوتی ہوگی تو آپ صلی الله علیہ وسلم پر کیا گزرتی ہوگی؟ اور اگر صحابہ کرام رضوان الله علیہم ہمارے درمیان موجود ہوتے تو ان چیزوں کو دیکھ کر ان کا کیا حال ہوتا؟ بہرحال میں اس کو نہ صرف ”بدعت“ بلکہ ”تحریف فی الدین“ تصور کرتا ہوں اور اس بحث کو امام ربانی مجدد الف ثانی کے ایک ارشاد پر ختم کرتا ہوں۔ جو انہوں نے اسی مسئلہ میں اپنے مرشد خواجہ باقی بالله کے بارے میں فرمایا ہے:
”بہ نظر انصاف بینند کہ اگر فرضاً حضرت ایشاں دریں اوان در دنیا زندہ می بودندوایں مجلس و اجتماع منعقد می شد، آیا بایں امر راضی می شد ند، وایں اجتماع رامی پسندیدندیانہ؟ یقینِ فقیر آں است کہ ہر گز ایں معنی را تجویز نمی فرمودند، بلکہ انکارمی نمودند، مقصودِ فقیر اعلام بود، قبول کنندیانہ کنند، ہیچ مضائقہ نیست و گنجائش مشاجرہ نہ۔“
ترجمہ:۔ ”انصاف کی نظر سے دیکھیے کہ اگر بالفرض حضرت ایشاں اس وقت دنیا میں تشریف فرما ہوتے اور یہ مجلس اور یہ اجتماع منعقد ہوتا، آیا آپ اس پر راضی ہوتے اور اس اجتماع کو پسند فرماتے یا نہیں؟ فقیر کا یقین یہ ہے کہ اس کو ہرگز جائز نہ رکھتے بلکہ اس پر نکیر فرماتے… فقیر کا مقصود صرف امر حق کا اظہار ہے قبول کریں یا نہ کریں کوئی پرواہ نہیں اور نہ کسی جھگڑے کی گنجائش۔“ (دفتر اول مکتوب ۲۷۳)
(اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم)

صنفِ نازک کی عزت و حرمت کو گہن کون لگا رہا ہے

مدثر احمد قاسمی

حضرت مولانا بدرالدین اجمل با اث ر پانچ سو مسلم شخصیتوں میں شامل

مدثر احمد قاسمی
مضمون نگار مر کز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ممبئی میں لکچرار، ایسٹرن کریسنٹ کے نائب ایڈیٹر اور روزنامہ انقلاب ممبئی میں ڈیلی کالم نگار ہیں۔