باہمی تعلقات اور اسلامی ہدایات

مولانااسرارالحق قاسمی
ایک ملک اور معاشرے میں رہتے ہوئے انسان کو بہت سے لوگوں اور الگ الگ مزاج و عادات رکھنے والے انسانوں سے سابقہ پڑتاہے،ہرشخص کی سوچ الگ ہوتی اورہرانسان کا زندگی گزارنے کا معیاراور طریقہٴ کار علیحدہ ہوتاہے،ایک انسان فطری طورپرنرم دل ہوتا،جبکہ دوسرے انسان کے مزاج اور طبیعت میں نسبتاً شدت اور تلخی ہوتی ہے،کوئی ایسابھی ہوتاہے کہ اسے ہر وقت دوستوں کاایک مجمع چاہیے،جبکہ کچھ لوگ تنہائی پسندہوتے ہیں،الغرض اس دنیامیں بسنے والاہر انسان کسی نہ کسی اعتبار سے دوسرے سے مختلف ہوتاہے،مگراس اختلاف کے باوجودہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ہی زندگی گزار نا ہوتا ہے،ایسے میں ہمیں ان اصولوں اور اخلاقی ضابطوں کواپناناچاہیے جوہمارے باہمی تعلقات کوبہتربنانے میں معاون ثابت ہوں اور اختلافِ مزاج و فکرکے باوجودہماری آپسی محبت و مودت کوبرقراراورمضبوط رکھنے کی جانب رہنمائی کرتے ہوں،اس سلسلے میں اسلام کی تعلیمات نہایت ہی واضح بھی ہیں اورقابلِ قدربھی،اسلام نے باہمی تعلقات کوبنائے رکھنے اورانھیں مضبوط کرنے کے لیے نہایت ہی قیمتی اصول بتائے ہیں۔ دینِ اسلام کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ تمام انسانوں کو ایک انسانی وحدت کی لڑی میں پروتا ہے، چاہے وہ کسی جنس،مذہب، نسل یا رنگ سے تعلق رکھتے ہوں، اس انسانی وحدت کی اصل بنیاد اور طبیعت ایک ہی ہے ،اسی بنیاد پر اسلام نے ایسے اصول و اقدار کی بنیادپرلوگوں کے مابین تعلقات قائم کئے ہیں، جو الفت و رحمت اور ایک دوسرے ساتھ رواداری برتنے کی تعلیم دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک انسان سے پیدا کیا (یعنی انسانِ اوّل) اس سے اس کا جوڑا بنایا پھر اُن دونوں سے کثرت سے مرد و عورت (پیدا کر کے روئے زمین پر) پھیلا دئیے اور اللہ سے، جس کے نام کو تم اپنی حاجت برآری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور ناطہ توڑنے سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے “۔ (سورہٴ نساء: 1)مزید اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:” لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنائیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو،درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہو، یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے“۔ (سورہٴ حجرات:13)پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق کی اصلیت کوبتاتے ہوئے یہ تلقین کی ہے کہ آپسی تعلقات جب قائم ہوجائیں،توانھیں نبھاناچاہیے اورانھیں توڑنے سے گریزکرناچاہیے،جبکہ دوسری آیت میں بھی اسی چیزکوذرااوروسیع معنوں میں بیان کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ تمھاری مختلف برادریاں اور قبائل اس لیے نہیں ہیں کہ ان میں سے ایک دوسرے پر اپنی برتری جتائے اوربے جا فخرکرے،بلکہ یہ باہمی جان پہچان اور تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ہیں،البتہ تم میں بہترکون ہے اوربراکون ہے،اس کا تعلق دل سے ہے کہ جس کا دل جتنا متقی اور پرہیزگارہوگا،وہ اسی قدرمتقی و پرہیزگاراورعنداللہ مقرب ہوگا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایام تشریق کے وسط میں ہمارے سامنے خطبہٴ حجتہ الوداع دیا توآپﷺ نے فرمایا: اے لوگو، بلاشبہ تمہارا رب ایک ہی ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہی ہے ، سن لو ! کسی عربی کو کسی عجمی پر ، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں ہے ،مگر صرف تقویٰ کی وجہ سے ، بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ مکرم وباعزت وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو، سن لو! کیا میں نے پہنچا دیا؟ سب نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول!پھر آپ ﷺ نے فرمایا :یہاں موجود لوگ غیر موجود لوگوں تک پہنچادیں“۔( شعب الایمان :4774)اس تاریخی خطبے میں آپنے جس چیزپرزوردیا،وہ انسانی مساوات و برابری ہے اور اسی بنیادپرلوگوں سے تعلقات بنانے اور انھیں برقراررکھنے کی ترغیب و تعلیم دی۔ایک موقع پر آپنے فرمایا:” وہ مسلمان جو لوگوں کے ساتھ ملتا جلتا ہے اور ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے ، اس مسلمان سے کہیں بہتر ہے جو نہ لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور نہ ہی ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے“۔ (سنن ترمذی:2507) قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں غور وفکرکے بعد یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ تمام انسانوں کے ساتھ خیر اور بھلائی کا معاملہ کرنا اسلام کی بنیادی تعلیمات کا حصہ ہے، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر لوگوں کے ساتھ تعلقات کی عمارت قائم ہو نی چاہئے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون مت کرو“۔ ( سورہٴ مائدہ :2)
انہی اخلاقِ عالیہ اور بلند اقدار کے ساتھ مسلمانوں نے ماضی میں اپنی ہمعصر اقوام و ملل کے ساتھ معاملہ کیا، اور اسلام کی خالص تعلیمات کی روشن تصویر ان کے سامنے پیش کی، ایسے اسلام کی جو رحمت و محبت، الفت و اخوت ، ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے اور حل طلب مسائل میں ایک دوسرے کا موقف سننے اورجاننے کی ہدایت دیتا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے دوسروں کی صلاحیتوں ، ان کے علوم و فنون اور کامیابیوں سے فائدہ اٹھایا اور ان کو بھی فائدہ پہنچایا، اور محبت و ہمدردی اور امن و سلامتی کا پیغام عام کیا۔ مسلمان اس دنیا میں دوسروں سے الگ تھلگ اور تنہا نہیں رہ سکتے ، دوسروں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور باہمی معاملہ کرنے کے ذریعہ ہی وہ کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں،اوراسی کے نتیجے میں انسانیت خیر اور نفع سے فیضیاب ہو سکتی ہے ، انسان صرف اپنی ذات تک منحصر رہنے کی صورت میں نہایت کمزور ہے جب کہ وہ دوسرے کے ساتھ مل کر قوی اور طاقتور بن جاتا ہے، خاص طور پر مصیبت و آزمائش کے مواقع پر ایک مسلمان کواپنے ایمان کے تقاضے کی بنیاد پر مصیبت زدہ لوگوں کی تکلیف کو دور کرنے اور ان کی مدد کرنے کے لئے آگے بڑھناچاہیے، یہ ایک افضل ترین عمل اور اللہ کاتقرب حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:” مغفرت کو واجب کرنے والے اعمال میں سے یہ ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کی زندگی میں خوشی اور سرور داخل کرو،اس کی بھوک کو ختم کرو اور اس کی مصیبت کو دور کرو“۔ (مسند الحارث :912)
ہمارے ذہن میں زندگی کے یہ اصول ہر وقت رہنے چاہئیں کہ زندگی لینے اور دینے، دوسروں کو نفع پہنچانے اور ان کی تکلیف دور کرنے کے لئے مسلسل کوشش کرنے کا نام ہے۔ دوسروں کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اور خیر کے کاموں میں ان سے تعاون کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون انسانیت کے لئے بہت سے فوائد کے حصول اور محبت و رواداری کا ماحول سا ز گار کرنے کا ذریعہ ہے۔ انہی اسلامی اصول اور ضابطوں کے تحت ہم اپنے اہلِ خاندان ،دوسرے مسلمان اور برادرانِ وطن کے ساتھ اپنے تعلقات استوارکریں،ان شاء اللہ یہ معاشرے کے لیے بھی نہایت مفید ہوگا اور ملک و قوم کی مجموعی ترقی و خوش حالی میں کلیدی رول اداکرے گا۔
(مضمون نگار ممبرپارلیمنٹ اور آل انڈیاتعلیمی وملی فاوٴنڈیشن کے صدرہیں)

نماز جمعہ کے وقت کی ابتداء ظہر کی طرح زوال آفتاب کے بعد سے

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)

نماز کی وقت پر ادائیگی سے متعلق آیات قرآنیہ اور متواتر احادیث کی روشنی میں جمہور مفسرین، محدثین، فقہاء وعلماء کرام کا اتفاق ہے کہ فرض نماز کو اس کے متعین اور مقرر وقت پر پڑھنا فرض ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے: بے شک نماز اہل ایمان پر فرض ہے جس کا وقت مقرر ہے۔(سورۃ النساء ۱۰۳)
نماز جمعہ دیگر نمازوں سے مختلف ہے کہ وہ وقت کے بعد پڑھی ہی نہیں جاسکتی کیونکہ دیگر فرض نمازیں وقت ختم ہونے پر بطور قضا پڑھی جاتی ہیں، جبکہ نماز جمعہ فوت ہونے پر نماز ظہر یعنی چار رکعت ادا کی جاتی ہیں۔ تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ وقت‘ جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے۔ صحیح مسلم کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے امام نووی ؒ نے اپنی کتاب (المجموع ۴/۲۶۴) میں تحریر کیا ہے کہ امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ جمعہ کی قضا نہیں ہے، یعنی جس کا جمعہ فوت ہوگیا اسے نماز ظہر ادا کرنی ہوگی۔ ا سی طرح پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ جس نے نماز جمعہ ظہر کے وقت میں ادا کی اس نے نماز جمعہ وقت پر ادا کیا جیساکہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر فقہاء نے اس مسئلہ پر اجماع امت ذکر کیا ہے۔ پوری امت مسلمہ متفق ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی ادا کرنی چاہئے کیونکہ پوری زندگی حضور اکرم ﷺ کا یہی معمول رہا ہے اور زوال آفتاب کے بعد نماز جمعہ ادا کرنے میں کسی کا کوئی اختلاف بھی نہیں ہے۔ زوال آفتا ب سے قبل نماز جمعہ کی ادائیگی کی صورت میں جمہور محدثین وفقہاء وعلماء، نیز حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ زوال آفتاب کے بعد نماز جمعہ دوبارہ ادا کرنی ہوگی اور وقت ختم ہونے پر نماز ظہر کی قضا کرنی ہوگی۔
حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور قول کے مطابق سعودی عرب کی عام مساجد میں جمعہ کی پہلی اذان تو زوال آفتاب سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے قبل ہوتی ہے لیکن جمہور محدثین وفقہاء وعلماء کی قرآن وحدیث کی روشنی پر مبنی رائے کے مطابق خطبہ کی اذان زوال آفتاب کے بعد ہوتی ہے۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی میں پہلی اذان بھی جمہور محدثین وفقہاء وعلماء کے قول کے مطابق زوال آفتاب کے بعد ہی ہوتی ہے۔ مگر کبھی کبھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض مساجد میں خطبہ والی اذان زوال آفتاب سے قبل ہی دے دی جاتی ہے، جس سے بعض حضرات کو تشویش ہوتی ہے کہ چند منٹ انتظار کرنے میں کونسی دشواری ہے، صرف چند منٹ کے انتظار پر کافی حضرات دوسری اذان سے قبل مسجد پہنچ کر جمعہ کی فضیلت حاصل کرنے والے بن جائیں گے۔ حضور اکرم ﷺ کے اقوال کی روشنی میں جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ دوسری اذان شروع ہونے کے بعد مسجد پہنچنے والوں کی نماز جمعہ تو ادا ہوجاتی ہے لیکن انہیں جمعہ کی فضیلت کا کوئی بھی حصہ نہیں ملتا اور نہ ہی ان کا نام فرشتوں کے رجسٹر میں درج کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب کے علماء نے احتیاط پر مبنی جمہور علماء کی رائے کا احترام کرتے ہوئے یہی کہا ہے کہ عام مساجد میں خطبہ کی اذان زوال آفتاب سے قبل نہ دی جائے اور حرمین شریفین میں پہلی اذان بھی زوال آفتاب کے بعد دی جائے۔
موضوع کی اہمیت کے مدنظر یہ مضمون تحریر کر رہا ہوں، اللہ تعالیٰ صحیح بات لکھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
نماز جمعہ کے اول وقت کے متعلق فقہاء وعلماء کی دو رائیں ہیں۔ دونوں رائے ذکر کرنے سے قبل اختلاف کی اصل وجہ ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ بعض روایات نماز جمعہ جلدی پڑھنے کے متعلق وارد ہوئی ہیں، حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے سمجھا کہ نماز جمعہ زوال آفتاب سے قبل پڑھی جاسکتی ہے، حالانکہ کسی ایک صحیح حدیث میں بھی وضاحت کے ساتھ مذکور نہیں ہے کہ آپ ﷺ زوال آفتاب سے قبل جمعہ پڑھا کرتے تھے۔ جمہور محدثین وفقہاء وعلماء، نیز حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ان احادیث میں صرف نماز جمعہ کے لئے جلدی جانے کی تاکید کی گئی ہے نہ کہ زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ کی ادائیگی کی۔
جمہور محدثین وفقہاء وعلماء، نیز حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہم اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری روایت کے مطابق نماز جمعہ کا وقت ظہر کی طرح زوال آفتاب کے بعد سے ہی شروع ہوتا ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ کا مشہور قول یہ ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی پڑھنی چاہئے لیکن اگر زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ ادا کرلی گئی تو زوال آفتاب کے بعد اعادہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جمعہ بھی عید ہے، اس لئے چاشت کے وقت پڑھنے کی گنجائش ہے۔ مشہور حنبلی عالم علامہ ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ تحریر کرتے ہیں کہ صحیح مذہب کے مطابق جمعہ کی نماز زوال آفتاب کے بعد ہی واجب ہوتی ہے اگرچہ پہلے ادا کرنے کی گنجائش ہے۔
جمہور محدثین وفقہاء وعلماء کے قول کے بعض دلائل: جمہور علماء کے متعدد دلائل ہیں، لیکن اختصار کے مدنظر صحیح بخاری وصحیح مسلم میں وارد صرف دو احادیث ذکر کررہا ہوں:
۱) حدیث کی سب سے مستند کتاب لکھنے والے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ نے اپنی مشہور ومعروف کتاب (صحیح بخاری) میں کتاب الجمعہ کے تحت ایک باب (Chapter) کا نام اس طرح تحریر کیا ہے: "جمعہ کا وقت زوال آفتاب کے بعد، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت نعمان بن بشیر اور حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم اجمعین سے اسی طرح منقول ہے” غرضیکہ صحابۂ کرام کے ساتھ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ کا بھی موقف واضح ہے کہ نماز جمعہ کا وقت زوال آفتاب کے بعد سے ہی شروع ہوتا ہے۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اسی باب میں مذکورہ حدیث ذکر کرتے ہیں: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ جمعہ پڑھا کرتے تھے جس وقت سورج ڈھلتا یعنی زوال کے بعد جمعہ پڑھتے تھے۔ صحیح بخاری کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں تحریر کرتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ زوال آفتاب کے بعد ہی نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔ فتح الباری
یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ کے علاوہ دیگر محدثین مثلاً امام ترمذی ؒ نے بھی اپنی کتاب "ترمذی” میں ذکر کی ہے۔ خود حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ نے اپنی کتاب "مسند احمد” میں بھی ذکر کی ہے۔
۲) حدیث کی دوسری مستند کتاب (صحیح مسلم) میں امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے کتاب الجمعہ کے تحت ایک باب (Chapter)کا نام اس طرح تحریر کیا ہے: "جمعہ کی نماز زوال آفتاب کے بعد” اور اس باب میں یہ حدیث ذکر فرمائی ہے: حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جب سورج زائل ہوجاتا تھا جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر سایہ تلاش کرتے ہوئے لوٹتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ عنہ نے بھی صحیح بخاری میں ذکر فرمائی ہے۔
نوٹ: صحیح بخاری وصحیح مسلم میں وارد ان دونوں احادیث میں وضاحت کے ساتھ مذکور ہے کہ آپ ﷺ نمازجمعہ زوال آفتاب کے بعد پڑھا کرتے تھے۔
حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ کے قول کے دلائل:
۱) حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں ہم لوگ غداء (دوپہر کا کھانا) اور قیلولہ جمعہ کے بعد کیا کرتے تھے۔ ( صحیح بخاری وصحیح مسلم) وجہ استدلال یہ ہے کہ ڈکشنری میں غداء (دوپہر کا کھانا) کے معنی ہیں وہ کھانا جو زوال آفتاب سے پہلے کھایا جائے۔ جب غداء نماز جمعہ کے بعد کھایا جائے گا تو نماز جمعہ زوال آفتاب سے پہلے ہونی چاہئے۔ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ صحابہ کرام جمعہ کے روز بھی زوال آفتاب سے پہلے کھایا کرتے تھے، بلکہ وہ کھانا جو زوال آفتاب کے بعد کھایا جاتا ہے اسے عرفاً غداء ہی کہتے ہیں جیسا کہ موجودہ زمانہ میں۔ مثلاً حضور اکرم ﷺ نے سحری کے متعلق ارشاد فرمایا : ہَلمُّوا الی الغداء المبارک لیکن دنیا کا کوئی عالم بھی یہ نہیں کہتا کہ سحری زوال سے قبل کھائی جاسکتی ہے۔
۲) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم حضور اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر لوٹ کر اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو آرام دیتے تھے۔ راوی حضرت حسن بیان کرتے ہیں کہ میں نے راوی حضرت جعفر سے کہا کہ اس وقت کیا وقت ہوتا تھا۔ فرمایا آفتاب ڈھلنے کا وقت۔ (صحیح مسلم) اس حدیث سے نماز جمعہ کا زوال آفتاب سے پہلے پڑھنے کو ثابت کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ جمعہ کے دن زوال آفتاب کے بعد نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد بھی پانی لانے والے اونٹوں کو آرام دلایا جاسکتا ہے جیساکہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ نیز یہ صحابی رسول حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا قول نہیں بلکہ راوی کا ہے، غرضیکہ اس مبہم عبارت سے نماز جمعہ کا وقت زوال آفتاب سے قبل شروع ہونا، ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
۳) حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا استدلال حضرت عبداللہ بن سیدان سلمی رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ہے جو سنن دار قطنی اور مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے جس میں خلفاء راشدین کا زوال سے پہلے جمعہ پڑھنا مروی ہے۔ مگر اس حدیث کی سند میں ضعف کی وجہ سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے جیساکہ صحیح مسلم کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے امام نووی رحمۃ اللہ نے تحریر کیا ہے کہ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے نماز جمعہ سے متعلق آثار ضعیف ہیں، اور اگر صحیح مان بھی لیا جائے تو حضور اکرم ﷺ کی واضح احادیث کی بناء پر اس مذکورہ حدیث میں تاویل اور توجیہ ہی کی جائے گی۔
۴) حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے بعض ان احادیث سے بھی استدلال کیا ہے جن میں نماز جمعہ کے لئے سویرے جانے کی ترغیب وارد ہوئی ہے، لیکن ان احادیث سے زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ کی ادائیگی کو ثابت کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ ان احادیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز جمعہ کے لئے سویرے حتی کہ چاشت کے وقت مسجد چلے جانا چاہئے ، مگر ان احادیث میں اس طرح کی کوئی وضاحت وارد نہیں ہے کہ جمعہ کی نماز زوال آفتاب سے قبل ادا کی جاسکتی ہے۔
خلاصۂ کلام: پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ جمعہ کے دن ظہر کی جگہ نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے اور اگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے جماعت کے ساتھ نماز جمعہ ادا نہیں کرسکا تو اسے نماز ظہر ہی ادا کرنی ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص نماز جمعہ وقت پر نہیں پڑھ سکا تو قضا ظہر کی نماز (یعنی چار رکعت) کی کرنی ہوگی۔ اسی طرح جمہور محدثین وفقہاء وعلماء کا اتفاق ہے کہ نماز جمعہ کا آخری وقت‘ ظہر کے آخری وقت کے مانند ہے، یعنی عصر کا وقت ہونے پر نماز جمعہ کا وقت ختم ہوجائے گا۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی کہا ہے کہ نماز جمعہ کا آخری وقت‘ نماز ظہر کے آخری وقت کی طرح ہے۔ جب جمعہ کا آخری وقت ظہر کے آخری وقت کی طرح ہے تو نماز جمعہ کا اول وقت بھی ظہر کے اول وقت کی طرح ہونا چاہئے۔
اس پر بھی پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی ادا کرنی چاہئے ، البتہ صرف امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اگر زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ ادا کرلی گئی تو نماز کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ جمہور محدثین وفقہاء وعلماء نے کہا کہ زوال آفتاب سے قبل جمعہ پڑھنے پر نماز جمعہ ادا ہی نہیں ہوگی۔ لہذا احتیاط کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی ادا کی جائے، بلکہ پہلی اذان بھی زوال آفتاب کے بعد دی جائے تو اختلاف سے بچنے کے لئے بہتر ہے۔
جمہور محدثین وفقہاء وعلماء نیز حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہم اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری روایت کے دلائل مفہوم اور سند کے اعتبار سے زیادہ قوی ہیں۔
مذکورہ اسباب کی وجہ سے جمہور محدثین وفقہاء وعلماء کا قول ہی زیادہ صحیح ہے:
1)جمہور علماء کے دلائل صحیح احادیث سے ثابت ہونے کے ساتھ اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہیں، جبکہ دوسری رائے کے بعض دلائل اگرچہ صحیح احادیث پر مشتمل ہیں لیکن وہ اپنے مفہوم میں واضح نہیں ہیں، جبکہ دیگر روایات وآثار مفہوم میں تو واضح ہیں لیکن ان کی سند میں ضعف ہے۔
2) جمہور محدثین وفقہاء وعلماء حتی کہ چاروں ائمہ میں سے تینوں ائمہ، امام بخاری، امام مسلم ، امام ترمذی، امام نووی رحمۃ اللہ علیہم اور چودہ سو سال سے جید علماء کی یہی رائے ہے کہ نماز جمعہ کا وقت زوال آفتاب کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔
۳) جمہور علماء کا قول اختیار کرنے میں احتیاط بھی ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد پڑھنے پر دنیا کے کسی بھی عالم کا کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ کی ادائیگی پر جمہور فقہاء وعلماء کا فیصلہ ہے کہ نماز جمعہ ادا نہیں ہوگی اور بعد میں نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہوگا۔
۴) اگرچہ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ کی ادائیگی کی گنجائش رکھی ہے مگر انہوں نے یہی کہا ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی ادا کرنا بہتر ہے، چنانچہ سعودی علماء (جو اختلافی مسائل میں حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں) نے یہی کہا ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ادا کی جائے۔
۵) امام المحدثین حضرت امام بخاری رحمۃا للہ کی شہادت کے مطابق حضرت عمر، حضرت علی، حضرت نعمان بن بشیر اور حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم اجمعین کا یہی موقف ہے کہ زوال آفتاب کے بعد نماز جمعہ کا وقت ہوتا ہے۔ حضرت امام بخاری ؒ اور حضرت امام مسلم ؒ نے اپنی کتابوں (صحیح بخاری وصحیح مسلم) میں باب (Chapter)کا نام رکھ کر ہی اپنا موقف واضح کردیا کہ زوال آفتاب کے بعد ہی نماز جمعہ کا وقت شروع ہوتا ہے۔
۶) نماز جمعہ ظہر کی نماز کا بدل ہے اور آخری وقت کے متعلق حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا موقف جمہور علماء کے مطابق ہے، کہ عصر کے وقت پر جمعہ کا وقت ختم ہوجاتا ہے، لہذ نماز جمعہ کا اول وقت بھی نماز ظہر کی طرح زوال آفتاب کے بعد سے ہی ہونا چاہئے۔
۷) جمعہ کے وقت کی ابتداء زوال آفتاب سے قبل ماننے پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس وقت یا لمحہ سے نماز جمعہ کے وقت کی ابتداء مانی جائے؟ احادیث میں کوئی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے حنبلی مکتب فکر کے علماء میں بھی وقت کی ابتداء کے متعلق اختلاف ہے، چنانچہ بعض علماء نے تحریر کیا ہے کہ نماز عید کی طرح سورج کے روشن ہونے سے وقت شروع ہوجاتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سعودی عرب میں عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز اشراق کا وقت شروع ہوتے ہی فوراً ادا کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے گرمیوں میں ساڑھے پانچ بجے عید کی نماز ادا ہوجاتی ہے۔ غرضیکہ زوال آفتاب سے قبل نماز جمعہ پڑھنے کا کوئی ثبوت احادیث میں نہیں ملتا ہے۔
۸) زوال آفتاب کے بعد اذان اور نماز جمعہ کی ادائیگی کی صورت میں نماز پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، اور یہ شریعت میں مطلوب ہے۔
۹) خواتین اور معذور حضرات جن کو اپنے گھر نماز ظہر ادا کرنی ہوتی ہے، زوال آفتاب کے بعد پہلی اذان دینے پر انہیں نماز ظہر کی ادائیگی کا وقت معلوم ہوجائے گا۔ لیکن زوال آفتاب سے ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ قبل اذان دینے سے ان حضرات کے لئے نماز کے وقت شروع ہونے کا کوئی اعلان نہیں ہوگا۔


حنبلی مکتب فکر کے مشہور عالم دین علامہ ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی مایہ ناز کتاب (المغنی ۳/۱۵۹) میں تحریر کرتے ہیں کہ امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ جمعہ زوال آفتاب کے بعد قائم کرنا چاہئے کیونکہ نبی اکرم ﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور اکرم ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز زوال آفتاب کے بعد پڑھتے تھے اور پھر نماز پڑھ کر سایہ تلاش کرتے ہوئے لوٹتے تھے ۔ (بخاری ومسلم) اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ جمعہ پڑھا کرتے تھے جس وقت سورج ڈھلتا۔ (صحیح بخاری) اس میں کوئی اختلاف بھی نہیں ہے کیونکہ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ زوال آفتاب کے بعد یقیناًجمعہ کا وقت ہے لیکن زوال آفتاب سے قبل کے متعلق اختلاف ہے۔


اب جبکہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ نماز جمعہ زوال آفتاب کے بعد ہی ہونی چاہئے تاکہ نماز جیسی اہم عبادت کی ادائیگی میں کوئی شک وشبہ نہ رہے، تو بعض مساجد میں خطبہ کی اذان کا زوال آفتاب سے قبل دینا کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ بلکہ اگر پہلی اذان بھی زوال آفتاب کے بعد دی جائے تواس میں زیادہ احتیاط ہے نیز دیگر تمام ائمہ کی رائے کا احترام بھی ہے اور کسی طرح کا کوئی نقصان بھی نہیں ہے بلکہ زوال آفتاب سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل اذان دینے سے اذان کامقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ زوا ل آفتاب کے بعد پہلی اذان دینے پر نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوسکتا ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے صرف یہی تو کہا ہے کہ اگر نماز جمعہ زوال آفتاب سے قبل ادا کرلی گئی تو اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے لیکن انہوں نے یہ تعلیم وترغیب نہیں دی کہ ہم زوال آفتاب سے قبل اذان اوّل کا اہتمام کرلیں۔ الحمد للہ ہمارے علماء کی جد وجہد سے حرمین میں جمعہ کی پہلی اذان زوال آفتاب کے بعد ہوتی ہے، دعا کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ عام مساجد میں بھی شروع ہوجائے تاکہ پہلی اذان بھی ایسے وقت میں دی جائے کہ اس میں دنیا کے کسی عالم کا کوئی اختلاف نہ ہو۔

Time of Juma PDF by Najeeb Qasmi.pdf

تبلیغی جماعت کے بارے میں میرے مشاہدات و تأثرات

تحریر:مولانا ڈَاکٹر عبد الرزّاق اِسکندر
(رئیس و شیخ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاوٴن کراچی
نائب صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان و امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للّٰہ الذی بعث الأنبیاء والرسول لہدایة العباد، وأفضل الصلاة وأتم السلام علی سیّدنا محمد، خاتم الأنبیاء والرسل، ارسلہ بالہدیٰ ودین الحق، بشیراً ونذیراً، وداعیا الی اللّٰہ بإذنہ وسراجاً منیرا، وعلی آلہ وصحبہ، ومن تبعہم بإحسان ودعا بدعوتہم وسلک سبیلہم الٰی یوم الدین۔ وبعد:
۱۹۸۴ء کا واقعہ ہے کہ کراچی ایئرپورٹ پر ایک عرب اسلامی ملک کے وزیر اوقاف سے میری ملاقات ہوئی، وہ پاکستان کی وزارتِ اوقاف کی جانب سے منعقدہ سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد جارہے تھے، وزیر موصوف کے ساتھ دینی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی، حسن اتفاق کہیے کہ اسلام آباد جانے والی فلائٹ لیٹ ہوگئی تو ہماری ملاقات کی نشست بھی لمبی ہوگئی، یوں وزیر موصوف مجھ سے کافی مانوس ہوگئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ: کیا آپ مجھے تبلیغی جماعت جس کا مرکز ہندوستان اور پاکستان میں ہے، اس کے لائحہ عمل کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کرسکتے ہیں؟
اور انہوں نے مجھ سے فرمائش بھی کی کہ میں جماعت کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کروں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے مجھے اپنے ملک میں ہونے والی ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دے دی جو ایک ماہ بعد ہونے والی تھی۔ میں نے ان کی دعوت قبول کرلی اور کہا کہ :جب میں کانفرنس میں شرکت کے لیے آؤں گا تو ان شاء اللہ آپ کو مطلوبہ معلومات پیش کردوں گا۔
اس کے بعد میں نے کراچی جماعت کے بعض ذمہ دار حضرات سے رابطہ کیا کہ اگر جماعت سے متعلق عربی میں لکھی ہوئی کچھ معلومات ہوں تو وہ میں ساتھ لیتا جاؤں، اور عرب حضرات کو پیش کروں، مگر جماعت کے ذمہ دار حضرات نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا، کیونکہ جماعت کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے زیادہ تر اردو میں ہے، جب میری روانگی میں صرف دو تین دن باقی رہ گئے تو ہمارے محلہ علامہ بنوری ٹاؤن کی جماعت کے امیر: بھائی نذیر صاحب میرے پاس تشریف لائے اور حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی، حضرت جی سابق امیر کے ایک مفصل مکتوب کی فوٹو کاپی لائے جو انہوں نے ایک ایسی جماعت کو لکھا تھا جو اللہ کی راہ میں دعوت کے لیے نکلی ہوئی تھی۔
اس تفصیلی خط میں حضرت جی  نے جماعت کے لائحہ عمل اور چھ نمبروں کو نہایت شرح و بسط سے ذکر کیا تھا، جن کو جماعت نے اپنی دعوت کی بنیاد قرار دیا ہے۔ الحمدللہ! اس تفصیلی خط کے ملنے سے مجھے خوشی ہوئی کہ میں وزیر موصوف سے کئے گئے وعدہ کا ایفاء کرسکوں گا۔ غالباً دوسرے دن میرا سفر تھا، لہٰذا میں نے جہاز میں بیٹھتے ہی ا س تفصیلی خط کا عربی ترجمہ شروع کردیا ۔الحمدللہ! کہ جہاز جوں ہی منزل مقصود پر پہنچا میں اس کا ترجمہ مکمل کرچکا تھا۔
چونکہ وزیر موصوف نے جماعت کے بارے میں میری ذاتی رائے کا بھی مطالبہ کیا تھا، اس لئے میں نے اپنی معلومات، مشاہدات اور جماعت کے ذمہ دار حضرات کے بیانات کی روشنی میں اپنی رائے بھی لکھ دی، جب وزیر موصوف سے ملاقات ہوئی تو حسبِ وعدہ ان کو یہ معلومات پیش کردیں۔ وزیر موصوف اس ایفائے عہد پر بہت خوش ہوئے اور شکریہ ادا کیا۔
تبلیغی جماعت کا مختصر تعارف
تقریباً ایک صدی قبل متحدہ ہندوستان کے ایک بہت بڑے عالم اور بزرگ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلوی رحمہ اللہ نے دیکھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی دینی حالت افسوسناک حد تک ابتری کا شکار ہے۔ نیز انہوں نے دیکھا کہ ہندوستان کے بعض علاقوں میں مسلمان صرف اسلام کا نام تو جانتے ہیں مگر ان کو کلمہ اسلام: ”لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا صحیح تلفظ تک بھی نہیں آتا۔
لہٰذا مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کو دکھ اور صدمہ ہوا اور سوچنے لگے کہ مسلمانوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے کس طرح کام شروع کیا جائے؟
چنانچہ اس مقصد کے لئے انہوں نے حج کا سفر اختیار کیا، وہاں جاکر مشاعر حج اور حرمین شریفین میں مقدس مقامات پر نہایت عجزو انکسار کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے رہے کہ :اے اللہ! میرے لئے عام مسلمانوں میں دعوت کا راستہ کھول دے ،اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور اس کے لئے ان کا سینہ کھول دیا گیا۔
چنانچہ آپ حج کے بعد ہندوستان واپس تشریف لائے اور ہندوستان کے دارالحکومت دہلی سے باہر بستی نظام الدین سے دعوت کا کام شروع کردیا۔
آپ کا معمول تھا کہ آپ شہر کے بازاروں، گاؤں اور قصبوں میں جاتے اور مسلمانوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے اور مساجد اور تعلیم کے حلقوں سے جڑنے کی ترغیب دیتے، تاکہ وہ اس طرح ایمان، نماز اور اسلام کے بنیادی مسائل سیکھیں، اور ان بنیادی مسائل اور اسلامی آداب کو خود سیکھنے، عملی طور پر اپنانے اور دوسروں کو سکھانے کے لئے ان سے مطالبہ کرتے تھے کہ ا پنے خرچ پر مہینہ میں تین دن، سال میں چالیس دن اور عمر بھر میں چار ماہ کے لئے اللہ کی راہ میں نکلیں۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ کی مخلصانہ محنت میں برکت عطا فرمائی اور ان کے اردگرد پاک سیرت اہلِ ایمان افراد کی ایسی جماعت جمع ہوگئی جن کا تعلق معاشرے کے ہر طبقہ سے تھا، اس میں تاجر، کاشتکار، سرکاری اور غیر سرکاری ملازم، اساتذہ، طلبہ اور مزدور وغیرہ سب ہی تھے۔
حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ نے اس جماعت کے لئے کچھ قواعد و ضوابط وضع فرمائے، جن میں سے بعض کو یہاں ذکر کیا جاتا ہے:
۱: اپنے خرچ پر نکلنا۔ لہٰذا جو شخص بھی ا للہ کی راہ میں نکلے وہ اپنی جیب سے خرچ کرے، کسی تنظیم کی طرف سے یا چندہ لے کر نہ جائے، اس لئے اگر کسی کو فرصت نہیں یا خرچ کی طاقت نہیں ،وہ اپنے محلہ کی مسجد میں اور مقامی طور پر کام کرتا رہے۔
۲: سیاسی امور میں دخل اندازی سے دور رہے۔
۳: اجتہادی، فروعی اور فقہی مسائل کو نہ چھیڑا جائے اور ہر شخص نے جو بھی فقہی مسلک اختیار کیا ہوا ہے، اسی پر عمل کرے یا اس مسلک پر، جو اس ملک میں رائج ہو اور پوری توجہ اور اہتمام سے ایمان، اخلاص، نماز، علم، ذکر، مسلمان کے اکرام اور اس کے حقوق کا خیال رکھے، دعوت اور خروج فی سبیل اللہ میں مصروف رہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ کی محنت میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ جو دعوت ایک قریہ اور بستی سے شروع ہوئی تھی وہ ترقی کرتے کرتے ایک عالمی اور بین الاقوامی دعوت بن گئی۔ اس جماعت کے بارے میں یہ میری معلومات ہیں ۔ ولا ازکی علی اللّٰہ احداً۔
تبلیغی جماعت کے بارے میں میری رائے!
میں سمجھتا ہوں کہ اِس جماعت کا کسی ملک میں جانا، وہاں کے عوام اور وہاں کی حکومت دونوں کے لیے باعث ِرحمت ہے، کیونکہ یہ جماعت ایک عام فرد اور شہری کی اِصلاح پر محنت کرتی ہے، تاکہ وہ ایک ایسا اچھا شہری بن جائے جو اپنے خالق کا وفادار، اپنے وطن اور اہلِ وطن کا خیر خواہ ہو، وہ ایسی کوئی حرکت نہ کرے جس سے وطن اور اہل ِ وطن کو نقصان پہنچے، وہ چوری نہ کرے، کسی کو ناحق قتل نہ کرے، کسی کا مال نہ لوٹے، کسی کی عزت پر حملہ نہ کرے، جھوٹ نہ بولے اور نہ کسی کو دھوکا دے، بلکہ وہ دوسروں کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو حکومت اور عوام دونوں کے حق میں مفید ہیں۔
حکومتیں عام طور پر اِسلامی ہوں یا غیر اِسلامی، اپنی بگڑی ہوئی عوام سے نالاں ہوتی ہیں ا ور دہشت گردوں، چوروں، ڈاکوؤں اور منشیات اور مسکرات کے اِستعمال کرنے والوں کا شکوہ کرتی ہیں اور اُن جرائم کو روکنے کے لئے قوانین اور سزائیں وضع کرتی ہیں، لیکن اُن سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا۔
لیکن تبلیغی جماعت کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ تعلیم و تربیت کے ذریعہ نوجوانوں کے نفوس میں ایسا ملکہ اور ایسی اخلاقی قوت پیدا کردے جو اُنہیں ان جرائم کے اِ رتکاب سے روکے اور ان جرائم سے دِلوں میں نفرت پیدا کردے اور اُنہیں ایسی صفات اور اعلیٰ اخلاق اپنانے کی ترغیب دیتی ہے جن سے عوام اور حکومت دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسلم کا اِرشاد ہے: ”اَلدِّیْنُ اَلنَّصِیْحَةُ؟ قُلْنَا: لِمَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہَ؟ قَالَ: لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہ وَلِکِتَابِہ وَلِاَئِمَّةِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَتِہِمْ۔“(مشکوٰة،ص:۴۲۳)
ترجمہ:”دِین خیر خواہی کا نام ہے، ہم نے عرض کیا: کس کے لیے؟ یا رسول اللہ! فرمایا: اللہ کے لیے، اُس کے رسول کے لیے، اُس کی کتاب کے لیے اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے۔“
یقینی بات ہے کہ جب فرد کی اِصلاح ہوگی تو اس سے پورے معاشرہ کی اِصلاح ہوگی ، ملک میں امن و امان کی فضاء پیدا ہوگی، روحانی و اخلاقی قدریں عام ہوں گی اور لوگ امن و امان کی زندگی بسر کریں گے۔
دیکھا جائے تو عموماً حکومتیں دو باتوں سے گھبراتی ہیں:
۱:۔ایک یہ کہ باہر سے کوئی اجنبی آئے اور آکر ملک کی سیاست میں دخل اندازی کرے۔
۲:۔دوسرا یہ کہ کوئی اجنبی باہر سے آکر عوام الناس میں اِختلاف پیدا کرے۔
ان دونوں باتوں میں حکومت کو اس جماعت سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ وہ سیاست میں دخل نہیں دیتی اور نہ ہی وہ عوام میں اِختلاف پیدا کرتی ہے۔
تبلیغی جماعت کا پاکستان اور ہندوستان میں مرکز ہے، جہاں اسے یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ سیاست میں حصہ لے، لیکن اس نے رضاکارانہ طور پر اپنا یہ حق چھوڑ رکھا ہے، لہٰذاجو جماعت اپنے ملک میں ا پناسیاسی حق اِستعمال نہیں کرتی، وہ دوسرے ملک میں کیسے سیاست میں حصہ لے گی، جہاں اسے اس کا حق ہی حاصل نہیں؟ لہٰذا کسی ملک کی حکومت کو اس جماعت سے کوئی سیاسی خطرہ نہیں۔
باقی رہا یہ کہ عوام میں اِختلاف پیدا کرنا اور اُن کی صفوں میں پھوٹ ڈالنا، تو اِس اعتبار سے بھی جماعت سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ تبلیغی جماعت کا محور ہی دِین کی بنیادی باتیں اور ایسے اُمور ہیں، جن پر پوری اُمت کا اِتفاق ہے، وہ فروعی اور اِجتہادی مسائل کو نہیں چھیڑتی، جس سے اِختلاف پیدا ہونے کا اِمکان ہے۔
بطور مثال: ہم دیکھتے ہیں کہ جماعت ایک مسلمان کو نماز کی دعوت دیتی ہے، جو کہ دِین کا ایک بنیادی ستون ہے اور جس کی فرضیت میں کسی کا اختلاف نہیں، نیز وہ مسلمان کو اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنا تعلق مسجد سے جوڑے، اِس میں بھی کسی مسلمان کو کوئی اِختلاف نہیں۔
اب اگر کوئی مسلمان نوجوان اُن کی بات مان لیتا ہے اور مسجد سے اپنا تعلق جوڑ لیتا ہے اور نمازوں کی پابندی شروع کردیتا ہے تو الحمدللہ! مقصد حاصل ہوگیا۔ اب تبلیغی جماعت کو اُس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ نوجوان اپنی نماز فقہ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی وغیرہ میں سے کس کے مطابق ادا کرتا ہے، لہٰذا اِس اعتبار سے بھی کسی حکومت کو فکر مند نہیں ہونا چاہئے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے اور سنتے ہیں کہ بہت سی اِسلامی اور غیر اِسلامی حکومتیں جنہوں نے اِس جماعت اور اِس کی دعوت کی حقیقت کو جان لیا ہے ،اُنہوں نے اس کے لیے اپنے ملک کے دروازے کھول دیئے ہیں اور وہ اس کے لیے سہولتیں مہیا کرتی ہیں، نیز ان کی عوام بھی اپنے ملک میں اس کا اِستقبال کرتی ہے اور اسے دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔
تبلیغی جماعت کے بارے میں بعض شبہات اور اُن کا اِزالہ
یہ بات سب کو معلوم ہے کہ تبلیغی جماعت میں عوام الناس کے ہر طبقہ کے لوگ شریک ہوتے ہیں، علماء، طلباء، تاجر، ملازم، کسان اور مزدور وغیرہ۔ اب ان میں سے ہر ایک شخص تو ایسا نہیں ہوتا کہ جس کی کامل اِصلاح اور تربیت ہوچکی ہو، اِسی لیے بعض اوقات ان میں سے کسی سے کوئی نامناسب حرکت سرزد ہوجاتی ہے تو بعض جذباتی حضرات فوراً اس فرد کی اس غلطی کو جماعت کی طرف منسوب کردیتے ہیں، حالانکہ یہ اِنصاف کے خلاف ہے۔ اِنصاف یہ ہے کہ یہ غلطی اس فرد کی طرف منسوب کی جائے نہ کہ جماعت کی طرف، کیونکہ جماعت خود اسے غلط سمجھتی ہے۔
ایک اِسلامی ملک کے سفر کے دوران میری ملاقات ایک ایسے اِدارے کے ذمہ دار شخص سے ہوئی جو اِنسدادِ منشیات کا سربراہ تھا۔ اپنے اِدارہ کا تعارف کراتے ہوئے اُس نے کہا کہ ہمارا کام یہ ہے کہ قانون اور سزاؤں کے ذریعہ نوجوانوں کو منشیات وغیرہ سے روکیں۔
میں نے اس سے کہا کہ: یہ بہت اچھی بات ہے۔ ملک میں ایسے قوانین اور سزائیں ہونی چاہئیں جن کے ذریعہ لوگوں کو منشیات اور دِیگر جرائم سے روکا جاسکے، خصوصاً: اسکول اور کا لج کے طلباء کو جو مستقبل کا سرمایہ ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور راستہ بھی ہے جس کے ذریعہ نوجوانوں کو منشیات و مسکرات کے اِستعمال اور بے راہ روی سے روکا جاسکتا ہے اور ملک کو ان جرائم سے پیدا ہونے والی مشکلات سے بچایا جاسکتا ہے؟
چنانچہ اس کی صورت یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو دِین کی راہ پر ڈال دِیا جائے اور اُن کے دِلوں میں اِیمان کی روح پیدا کی جائے، تاکہ وہ صالح شہری بن جائیں اور خودبخود بلا کسی قانون اور سزا کے خوف سے منشیات اور بے راہ روی کو چھوڑ دیں۔ نہ ان سے کسی کا ناحق قتل ہو، نہ کسی کا مال لوٹیں، نہ کسی کی عزت پر حملہ کریں اور نہ ہی حکومت اور عوام کے لیے مسائل پیدا کریں، بلکہ اپنے فرائض نہایت ذمہ داری اور پوری امانت داری سے ادا کریں۔
مزید میں نے اُن سے یہ کہا کہ: گزشتہ رات مجھے اپنے ساتھیوں کے ساتھ آپ کے شہر کے تبلیغی مرکز میں جانے کا اِتفاق ہوا، جہاں نوجوانوں کا ایک بڑا مجمع تھا، جن کی اکثریت اسکول اور کالج کے اساتذہ اور طلباء کی تھی، اُن کے چہروں پر ایک نور اور وقار ہویدا تھا، جن سے یہ اُمید نہیں کی جاسکتی کہ وہ منشیات یا دِیگر جرائم کا اِرتکاب کریں گے۔
وہ صاحب کہنے لگے کہ: یہ بات بالکل صحیح ہے، ہم نے بھی دیکھا ہے کہ جو لوگ اس جماعت کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، اُن پر صلاح و تقویٰ کے آثار نمایاں ہوتے ہیں ا ور وہ منشیات یا دِیگر جرائم سے دور بھاگتے ہیں۔ لیکن ہمیں جماعت سے دو شکوے ہیں:
۱:۔ایک یہ کہ جب کوئی ملازم پیشہ شخص اُن سے متأثر ہوکر کچھ وقت اُن کے ساتھ لگاتا ہے، مثلاً: ایک چلہ۔ تو بعض مرتبہ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ وہ شخص چلہ لگانے کے بعد اسی جماعت کا ہوکر رہ جاتا ہے، اُسے نوکری کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ بیوی بچوں کی فکر۔ اِدھر دفتر والے پوچھ رہے ہیں، اُدھر گھر والے پریشان۔
۲:۔ اِسی طرح یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اسکول یا کالج کا جوطالب علم چھٹی کے دِنوں میں جماعت کے ساتھ نکل جائے تو وہ تعطیلات ختم ہونے کے بعد بھی جماعت کے ساتھ چلتا رہتا ہے اور وہ اسکول چھوڑ دیتا ہے، اُسے تعلیم کی فکر ہوتی ہے اور نہ والدین کی پرواہ۔
میں نے اُن سے کہا: بے شک اِس طرح کے اِکا دُکا واقعات ہمارے ہاں بھی پیش آتے ہیں، لیکن یہ اِنفرادی کوتاہیاں ہیں، اُن کا جماعت کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا ان کوتاہیوں کو ان افراد کی طرف منسوب کرنا چاہئے نہ کہ جماعت کی طرف۔
اِس لیے کہ جماعت والے کسی ملازم پیشہ شخص یا طالب علم کو ہرگز نہیں کہتے کہ: تم اپنی ملازمت چھوڑ دو یا اسکول اور کالج کی تعلیم ترک کردو اور جماعت میں لگ جاؤ، بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ: بھائی! رخصت کے ایام ہمارے ساتھ گزارو، پھر اِخلاص اور دیانت داری سے اپنا کام کرو۔
پھر میں نے کہا کہ: ہمارے جامعہ کی مسجد میں ہر ہفتہ جماعت کا اجتماع ہوتا ہے، جس میں طلبہ اور محلہ کے لوگ بیٹھتے ہیں ا ور جماعت کے کسی بزرگ کا بیان ہوتا ہے، ہم نے آج تک کسی کی زبان سے یہ نہیں سنا کہ وہ طلباء سے کہیں کہ تعلیم چھوڑو اور جماعت میں چلو، بلکہ وہ تو اُنہیں خوب پڑھنے اور محنت کی ترغیب دیتے ہیں، ہاں یہ ضرور کہتے ہیں کہ جمعہ کی رات مدنی مسجد کراچی کے تبلیغ کے مرکز میں آجایا کریں، کیونکہ اُس دِن چھٹی ہوتی ہے اور سالانہ چھٹیوں میں ایک چلہ لگالیا کریں۔
اصل بات یہ ہے کہ معاشرے کے ہر طبقہ میں اِکا دُکا جذباتی افراد ہوتے ہیں، جن سے اِس طرح کے غلط تصرفات صادِر ہوجاتے ہیں، آخر آپ نے بھی تو ایسے ملازمین کا تذکرہ سنا ہوگا، جنہوں نے کسی دوسری وجہ سے جذبات میں آکر ملازمت چھوڑ دی یا ایسے طلباء کا تذکرہ بھی سنا ہوگا جو اسکول یا کالج سے بھاگ گئے۔
لہٰذا ایسے تصرفات کی نسبت ان افراد کی طرف کرنی چاہئے نہ کہ جماعت کی طرف۔ کیونکہ جماعت کی یہ پالیسی ہرگز نہیں۔ وہ صاحب میری اِس گفتگو سے کافی مطمئن ہوئے اور کہنے لگے کہ: واقعی عوام الناس کی اِصلاح کا یہی صحیح طریقہ ہے۔
بعض مرتبہ ذہن میں شبہات اِس لیے بھی پیدا ہوتے ہیں کہ اِنسان شرعی احکام اور آداب سے ناواقف ہوتا ہے۔
اِسی طرح کا ایک قصہ ہے کہ ایک عرب ملک میں مجھے ایک عرب نوجوان ملا، جب تبلیغی جماعت کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ: یہ جماعت بہت اچھا اور مفید کام کررہی ہے، مگر اس میں کچھ بدعات ہیں، جن پر مجھے اعتراض ہے!
میں نے اُس نوجوان سے کہا کہ: آپ مجھے کسی ایک بدعت کی نشان دہی کردیجئے، تاکہ میں جماعت کے ذمہ دار حضرات تک آپ کی بات پہنچاسکوں۔
کہنے لگے: جب کوئی جماعت دعوت کے لئے نکلتی ہے تو کہتے ہیں: یہ ہمارا امیر ہے، حالانکہ یہ بدعت ہے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ اعتراض یااشکال اس کی دِینی معلومات کی کمی کی وجہ سے ہے۔ اِس لیے میں نے اُس نوجوان سے پوچھا: آپ کہاں کام کرتے ہیں؟
کہنے لگا: میں وزارتِ اوقاف اور مذہبی اُمور میں کام کرتا ہوں۔
میں نے کہا: آپ کے دفتر میں کتنے ملازمین کام کرتے ہیں؟
کہنے لگا: اِتنے ملازمین کام کرتے ہیں، غالباً بیس سے پچیس تک بتائے۔
میں نے پوچھا: کیا اُن ملازمین پر کوئی نگران بھی ہوتا ہے؟
کہنے لگا: ہاں! ایک مدیر ہوتا ہے جو اُن کی نگرانی اور نظم قائم رکھتا ہے۔
میں نے کہا: کیا وزارتِ اوقاف اور مذہبی اُمور میں یہ بدعت نہیں کہ یہ مدیر ہے، اور یہ موظفین ہیں؟
کہنے لگا: یہ بدعت نہیں، بلکہ یہ ایک نظام ہے، اور نظام کا تقاضا ہے کہ ایک ایسا ذمہ دار شخص ہو جو سب کی نگرانی کرے، تاکہ نظام صحیح ہو۔
اس پر میں نے کہا: برادر ِعزیز! اگر آپ اپنے شہر اور اپنے دفتر میں ہوتے ہوئے، جہاں چند ملازم کام کرتے ہیں اور ہر شخص کا کام بھی متعین ہے، اپنی یہ ضرورت سمجھتے ہیں کہ ایک ذمہ دار اور نگران ہو جو اُس نظام کو صحیح چلا سکے، تو آپ خود سوچیں کہ جب ایک جماعت جو دس پندرہ اِنسانوں پر مشتمل ہو، دعوت کے لیے سفر پر نکلی ہو، کیا اس کو نظام کی ضرورت نہیں ہوگی؟ کہ ان میں ایک شخص ایسا ہو جو سب کی نگرانی کرے، ان میں نظم قائم کرے اوران کے حالات پر نظر رکھے۔ جب کہ سفر میں اس کی ضرورت زیادہ ہے، کھانا پینا، نماز پڑھنا، سامان کی حفاظت اور دعوت کی ترتیب وغیرہ اُمور مستقل منتظم کے متقاضی ہیں۔ آپ اس نگرانی کا نام امیر رکھ دیں یا مدیر، نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اُس نوجوان نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ: آپ نے صحیح کہا، مجھے مسئلہ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ پھر میں نے اُس سے کہا کہ: امیر بنانا نہ صرف جائز اور مباح ہے، بلکہ سنت اور آدابِ سفر میں سے ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وَسلم نے ہمیں حکم دِیا ہے کہ: جب ہم جماعت کی شکل میں سفر کریں تو اپنے لیے ایک امیر چن لیا کریں۔
بعض عوام اور غیر علماء سے دورانِ سفر ایک یہ اعتراض بھی سننے میں آیا کہ: جماعت نے چھ نمبر متعین کرکے باقی دِین کے شعبوں کو چھوڑ دیا ہے ،جب کہ دِین زندگی کے سب شعبوں کو شامل ہے۔
یہ اعتراض بھی لاعلمی پر مبنی ہے، بے شک دِین زندگی کے تمام شعبوں کو شامل ہے، لیکن اُس کے ساتھ ساتھ تقسیم کار بھی ایک فطری اور شرعی قاعدہ ہے، چنانچہ جس طرح کچھ لوگ پڑھنے پڑھانے، کچھ جہاد اور کچھ دِیگر شعبوں میں کام کررہے ہیں، ٹھیک اِسی طرح تبلیغی جماعت کے بزرگوں نے اپنی فراست اور تجربہ سے یہ چھ نمبر متعین کئے کہ ان سے افراد اُمت کی اِصلاح اور اُن کی زندگی میں اِنقلاب آئے گا، جب افراد اُمت کی تربیت اور اِصلاح ہوگی تو پھر وہ زندگی کے جس شعبے میں بھی جائیں گے، وہ دِین کے احکام پر چلیں گے۔ میرے سامنے ایک واقعہ اس کی واضح مثال ہے وہ یہ کہ:
ایک بار حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے پاس ایک رکشہ والا آیا اور آپ سے رکشہ، ٹیکسی کے کرایہ کے بارے میں سوال کرنے لگا اور بعض ڈرائیور جو میٹر وغیرہ خراب رکھتے ہیں یا سواریوں کے ساتھ دھوکا بازی کرتے ہیں، اُن کے بارے میں پوچھنے لگا، حضرت نے اُس کے سوالات کے جوابات دیئے اور فرمایا: بھائی! آپ اِتنے عرصہ سے رکشہ چلارہے ہیں اور اب آپ کو حلال وحرام کا کیسے خیال آیا؟
کہنے لگا: حضرت جی! مجھے اللہ تعالیٰ نے توفیق دِی اور میں تبلیغی جماعت کے ساتھ جانے لگا، تو مجھے حلال و حرام کی فکر ہوئی، کیونکہ اللہ کا حکم ہے، حلال کماؤ، حلال کھاؤ، حلال کھلاؤ اور حلال خرچ کرو، اِس لیے میں نے یہ مسائل پوچھے ہیں تاکہ حرام سے بچوں۔
اس کے علاوہ امیر جماعت دعوت و تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلوی رحمہ اللہ کے ملفوظات اور خطابات میں جابجا اس کا ذکر ہے کہ جو حضرات علم میں لگے ہوئے ہیں، وہ بھی دِین کا کام کر رہے ہیں، جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں، وہ بھی دِین کا کام کر رہے ہیں، میں آپ کو اِس کام میں لگنے کا کہہ رہا ہوں۔
بہرحال یہ چند شبہات اور اُن کے جوابات بطور ِنمونہ پیش کردیئے ہیں، اگر کسی کو تفصیل معلوم کرنی ہو تو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کی کتابیں: ۱:تبلیغی جماعت پر چند عمومی اعتراضات اور اُن کے مفصل جوابات، ۲:الاعتدال، ۳:فضائلِ تبلیغ، دیکھ لی جائیں۔
حاصل یہ ہے کہ میں اِس جماعت کو مخلص سمجھتا ہوں، جس کا فائدہ حکومت اور عوام دونوں کو پہنچ رہا ہے۔ (ولا ازکی علی اللّٰہ أحداً)
پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ تبلیغی جماعت ایک کھلی ہوئی کتاب ہے، جس میں کوئی چھپی ہوئی چیز نہیں، ہر شخص قریب سے اس کتاب کو پڑھ سکتا ہے، جس کو جماعت کے بارے میں شک و شبہ ہو، اُسے چاہئے کہ جماعت کے مراکز میں جائے، اُن کے اجتماعات میں شامل ہو اور اُن کے بیانات سنے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اُن کے ساتھ وقت لگائے اور دیکھے کہ وہ کیا کرتے ہیں؟ اِسی طرح جماعت کے بڑوں سے ملے اور اگر کوئی اشکال یا اعتراض ہو تو اُن کے سامنے پیش کرکے تسلی بخش جواب حاصل کرے۔
یہاں میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس سلسلہ کی دو شہادتیں نقل کردوں:
۱:۔ پہلی شہادت ایسے نوجوان کی ہے، جس نے جماعت کے ساتھ غیر اِسلامی ملکوں میں وقت لگایا اور اس جماعت کے نیک آثار دیکھ کر اپنی رائے کا اِظہار کیا۔
۲:۔ دوسرے ایک عالم فاضل کی ہے، جس نے اپنے دوستوں کے ساتھ رائیونڈ کے سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع میں شرکت کی، اور وہاں جو کچھ دیکھا، اُس کی رپورٹ اپنے ملک کے بڑے عالم کو پیش کی۔
ایک عرب نوجوان کی شہادت کے سلسلہ میں عرض ہے کہ ۱۹۹۵ءء میں ا مریکا کے ایک سفر کے دوران شکاگو کی ایک مسجد میں میری اُس سے ملاقات ہوئی۔
ہوا یوں کہ میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک مسجد میں عشاء کی نماز ادا کی، مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، یہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی، نماز کے بعد کسی نے بتایا کہ یہاں عربوں کی جماعت آئی ہوئی ہے، ہم اُن سے ملنے کے لیے گئے، تعارف ہوا۔ جب امیر صاحب کو معلوم ہوا کہ ہمارا تعلق پاکستان سے ہے تو اُنہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور الگ ایک جگہ بیٹھ گئے اور مجھ سے جماعت کے بارے میں سوالات کرنے لگے۔ میں نے اپنی معلومات کے مطابق اُن کو جوابات دیئے، تو کہنے لگے: یا شیخ! میرے ملک میں بعض لوگ اِس جماعت کے خلاف باتیں کرتے ہیں، لیکن حق یہ ہے کہ میں نے ان ملکوں میں اس جماعت کے جو اچھے اثرات دیکھے ہیں، وہ اِس بات کی کھلی ا ور روشن دلیل ہے کہ یہ اہلِ حق کی جماعت ہے۔
اس عرب نوجوان کا:”اچھے اثرات“ کہنے کا معنیٰ یہ تھا کہ وہ اِسلامی مظاہر، جو ان ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔ یعنی باوجود اس کے کہ مسلمان اقلیت میں ہیں، مگر اُن کا دِین کی طرف متوجہ ہونا، اپنے اور اپنی نئی نسل کے اِیمان و اِسلام کی فکر کرنا، اس کے لیے جگہ جگہ مساجد تعمیر کرنا اور مساجد میں قرآنِ کریم کی تعلیم کے لیے مکاتب کا اِجراء وغیرہ، یہ اسی کی برکت ہے کہ اب وہ مسلمان خود بھی مساجد میں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لاکر مکاتب میں قرآنِ کریم کی اور دِین کے بنیادی مسائل کی تعلیم دِلواتے ہیں، جب کہ اس سے پہلے وہ مغربی تہذیب اور وہاں کی مادی زندگی پر اِس قدر فریفتہ ہوچکے تھے کہ اُنہیں دِین و اِیمان تک کا کچھ پتہ نہ تھا۔
اب جب کہ وہ جماعت کی محنت کی برکت سے دِین کی طرف متوجہ ہوئے تو اپنی مساجد کے لیے اِسلامی ملکوں سے علماء، ائمہ اور خطباء اور مکاتب کے لیے حفاظ اور قراء لائے، تاکہ وہ اُنہیں د ینِ اسلام سکھائیں۔
ایک دوسری شہادت ایک بہت بڑے عالمِ دِین کی ہے، جن کا تعلق ایک عرب برادر ملک سے ہے اور وہ ہیں: فضیلة الشیخ صالح بن علی الشویمان حفظہ اللہ تعالیٰ جو خود بنفسِ نفیس رائے ونڈ کے سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع میں شریک ہوئے اور پھر اُس کی رپورٹ اپنے ملک کے مفتی اعظم کو پیش کی، چنانچہ وہ رپورٹ ملاحظہ ہو:
پاکستان کی تبلیغی جماعت کے بارے میں فضیلة الشیخ صالح ابن علی الشویمان کی رپورٹ:
جو اُنہوں نے ۱۴۰۷ھ میں پیش کی، یہ رپورٹ ایک کتاب ”جلاء الاذہان عما اشتبہ فی جماعة التبلیغ بعض اہل الایمان“ سے لی گئی ہے جو مختلف خطوط کا مجموعہ ہے، جسے محترم مولانا غلام مصطفی حسن صاحب نے جمع کیا ہے اور مکتبہ محمدیہ۸۶۔ وی: ۱، کشمیر روڈ غلام محمد آباد، فیصل آباد نے چھاپا ہے:
”بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
سماحة الوالد الکریم الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز الرئیس العام لادارة البحوث العلمیہ والأفتاء والدعوة والارشاد حفظہ اللہ من کل سو ء ووفقہ وسدد خطاہ آمین۔
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ امام بعد!
میری رخصت ۱/۳/۱۴۰۷ھ کو شروع ہوئی اور میں ۳/۳/۱۴۰۷ھ کو علماء اور طلباء کی ایک جماعت کے ساتھ پاکستان کے سفر پر روانہ ہوا، ان علماء اور طلباء کا تعلق مملکت کی مختلف جامعات سے تھا، یعنی جامعة الاسلامیہ، جامعة الامام محمد بن سعود الاسلامیہ اور جامعة الملک سعود وغیرہ۔
اِس سفر میں ہم نے عجائبات کا مشاہدہ کیا، جب ہم لاہور کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو ہمارا اِستقبال ایک ایسی صالح نوجوانوں کی جماعت نے کیا، جن کے چہروں اور داڑھیوں سے علم اور اِیمان کا نور چمک رہا تھا۔
ہم ہوائی اڈے کی مسجد میں پہنچے، تحیة المسجد ادا کرنے کے بعد ہم سب مل جل کر بیٹھ گئے، ہمارا تعلق مختلف ممالک سے تھا، اب ان میں سے ایک نوجوان اُٹھا اور اس نے ایسا بیان شروع کیا جو دِلوں کو کھینچ رہا تھا، پھر گاڑیاں آگئیں اور ہمیں رائیونڈ (تبلیغی مرکز) لے گئیں، جہاں سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع منعقد ہوتا ہے، وہ خوبصورت اجتماع جسے دیکھ کر دِل میں خشوع پیدا ہوتا ہے اور آنکھیں ڈر، خوشی اور اللہ کے خوف سے بارش کی طرح آنسو بہاتی ہیں، یہ اجتماع اہلِ جنت کے اجتماع سے مشابہ ہے، جہاں نہ کوئی شوروغل تھا اور نہ کوئی تکلیف، نہ کوئی فضول بات، نہ لاقانونیت اور نہ جھوٹ۔ صاف ستھرا ماحول، نہ کوئی بدبو اور نہ کوئی گندگی۔ ہر چیز ذہانت و سلیقہ سے ترتیب دِی ہوئی تھی۔ نہ ٹریفک پولیس، نہ عام پولیس اور نہ کوئی چوکیدار۔ جب کہ اجتماع میں آنے والوں کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے۔
ایک فطری اور پاکیزہ زندگی ہے، جہاں ذکر اللہ کی فضا پھیلی ہوئی ہے، دِن رات ہر طرف علمی، محاضرات، دروس اور ذکر اللہ کے حلقے لگے ہوئے ہیں، بخدا! یہ ایک ایسا اجتماع ہے جس سے دِل زندہ اوراِیمان چمکتا ہے اور اس میں اِضافہ ہوتا ہے۔
کتنا بارعب اور کتنا خوبصورت اجتماع ہے جو آپ کے سامنے صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کی بولتی ہوئی تصویر پیش کرتا ہے۔ ہر طرف محنت، علم، ذکر، میٹھی گفتگو، خوبصورت اعمال، عمدہ اِسلامی حرکات اور اِیمان اور علم سے چمکتے ہوئے چہرے آپ کو ملیں گے۔ آپ اس اجتماع میں صرف توحید، ذکر، تسبیح و تحمید، تحلیل و تکبیر، قرآن کریم کی تلاوت، السلام علیکم، وعلیکم السلام و رحمة اللّٰہ اور جزاکم اللّٰہ خیراً جیسی باتیں سنیں گے۔
آپ کی نگاہ ایسی چیزوں پر پڑے گی جن سے آپ کو خوشی ہوگی اور آپ کا دِل باغ باغ ہوجائے گا اور وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وَسلم کی سنتوں کو تروتازہ و زندہ کرنا ہے، جنہیں آپ ہر آن اور ہر وقت دیکھ کر لطف اندوز ہوں گے، یہ کتنا خوبصورت اور کتنا ہی عمدہ عظیم الشان اجتماع ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ یہاں آپ کو واضح طور پر قرآنِ کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسلم کی سنت کا عملی نمونہ نظر آئے گا، کیا ہی خوب پاکیزہ اور سعادت مند زندگی ہے۔
میرے دِل میں بار بار یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش! اِس قسم کی دعوت کا اجتماع مملکت سعودی عرب میں بھی منعقد ہو، اِس لیے کہ ہر اچھے کام اسی مملکت کے ساتھ زیب دیتے ہیں اور اس لیے بھی کہ مرحوم ملک عبدالعزیز  کے اِبتدائی تابندہ دور سے لے کر مملکت ہمیشہ ہر عمل خیر میں آگے آگے رہی ہے۔
اِس عظیم اجتماع میں اکٹھے ہونے والے افراد جن کا تعلق دنیا کے مختلف ملکوں سے تھا، سب کی ایک شکل، ایک طبیعت، ایک بات اور ایک ہدف ہے، گویا وہ سب ایک باپ کی اولاد ہیں یا یہ سمجھیں کہ گویا اللہ تعالیٰ نے ایک دِل پیدا فرمایا اور اُن سب میں تقسیم کردِیا ہے۔
ان سب کا مقصد اور غرض اس کے سوا کچھ نہیں کہ دِین کو مضبوطی سے پکڑا جائے اور مسلمان نوجوانوں کی اِصلاح کی جائے اور غیر مسلموں کو اللہ تعالیٰ کے راستہ کی طرف راہنمائی کی جائے۔ تعجب ہے کہ ایسے صالحین کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلانے والے کیوں غلط بیانی سے کام لیتے ہیں؟؟؟
ان حضرات کے بارے میں شیخ عبدالمجید زندانی نے کیا خوب فرمایا ہے: ”یہ تو آسمان کی مخلوق ہے جو زمین پر چل پھر رہی ہے۔“
اس کے بعد کون ایسا دِل ہوگا جو ان کو برا بھلا کہے اور ایسی باتوں کی تہمت لگانے کی جرأت کرے گا جو ان میں نہیں ہیں!۔
میرا خیال یہ ہے کہ اِس جماعت کا ہدف اور مقصد بھی وہی ہے جو ہماری مملکت کا ہے اور وہ ہے: دنیا کے اِنسانوں کی اِصلاح اور زمین کے چپہ چپہ پر امن و امان کی ترویج، اب آپ ہی بتائیں! کہ کون سی بات اُن کی قابلِ گرفت ہے؟؟
اب دوبارہ اجتماع کی طرف آیئے! عشاء کے بعد جب بیان ختم ہوتا ہے تو دائیں، بائیں نگاہ دوڑائیں تو آپ کو مختلف علمی حلقے نظر آئیں گے، اُن میں جس حلقے میں بھی آپ بیٹھیں گے، لطف اندوز ہوں گے اور وہاں سے کچھ نہ کچھ فائدہ اُٹھاکر ہی اُٹھیں گے، پھر جب سونے کا وقت ہوجاتا ہے اور چاروں طرف خاموشی اور سکون طاری ہوجاتا ہے تو آپ ان کو دیکھیں گے گویا جگہ جگہ ستون کھڑے ہیں اور نماز میں مشغول ہیں اور جب رات کا آخری وقت ہوتا ہے تو ان کو دیکھیں گے گویا شہد کی مکھیاں ہیں جوبھنبھنارہی ہیں، ہر طرف آہ و بکا اور رو رو کے ہاتھ اُٹھائے دعا کررہے ہیں کہ:اللہ تعالیٰ ان کے اور تمام مسلمانوں کے گناہ معاف فرمائے، اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے تمام مسلمان بھائیوں کو جہنم کی آگ سے بچائے اور سب لوگوں کو ہدایت بخشے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وَسلم کی سنتوں کو زندہ کریں۔
مختصر یہ کہ یہ ایک ایسا اجتماع ہے، جس میں ہر عالم اور ہر طالب ِعلم کو آنا چاہئے، بلکہ ہر اُس مسلمان کو آنا چاہئے جو دِل میں اللہ کا خوف اور آخرت میں جنت کی اُمید رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس اجتماع کے ذمہ دار حضرات کو جزائے خیر دے، اُن کو ثابت قدم رکھے، اُن کی مدد فرمائے اور اُن کے ذریعہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے۔ اِنَّہُ سَمِیْعٌ مُّجِیْبٌ۔
اب ان کے بارے میں سنیں جو اس اجتماع میں آنے والوں کی خدمت پر مقرر ہیں، وہ سب کے سب قرآنِ کریم کے حافظ ہیں، آٹا پیسنے والے کی زبان پر اللہ کا نام اور تسبیح و تکبیر جاری ہے، آٹا گوندھنے والے کی زبان پر اللہ کا نام، أَللّٰہُ أَکْبَر، سُبْحَانَ ا للّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ جاری ہے، اور روٹی پکانے والے کی زبان پر بھی اللہ کا نام، اللہ کا ذکر، تسبیح، تحمید اور تکبیر جاری ہے اور یہ ہم نے اُس وقت اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا، جب کہ اُن کو ہمارے آنے کی پیشگی کوئی اِطلاع نہیں تھی اور نہ ہی اُن کو پتہ چلا کہ ہم دیکھ اور سن رہے ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اُن پر بصیرت کے دروازے کھول دیئے ہیں اور اپنے ذکر کی توفیق دِی ہے، اور اُن کو وہ سیدھا راستہ دِکھایا ہے جس کی ہر مسلمان تمنا کرتا ہے۔
سَمَاحَةُ الْشَّیْخ! حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بھی اِس جماعت میں شامل ہوگا اور ان کی صحبت میں شامل ہوگا اور ان کی صحبت میں رہے گا وہ ضرور عملی طور پر داعی اِلی ا للہ بن کر رہے گا۔
کاش! میں جب جامعہ میں طالب ِعلم تھا، اُس وقت سے اِس جماعت سے متعارف ہوتا تو آج میں دعوت اور تمام علوم میں علامہ ہوتا۔
بخدا! میرا ان کے بارے میں یہ اعتقاد ہے اور قیامت کے روز کہ: ”جس دِن مال، اولاد اور کوئی چیز کسی کے کام نہ آئے گی“ اگر جبار مجھ سے پوچھیں گے تو میں یہی جواب دوں گا۔
فَضِیْلَةُ الْشَّیْخ! کاش! وہ تمام دعا ة حضرات جو آپ کے مبارک شعبہ کے ماتحت کام کرتے ہیں، وہ اس اجتماع میں شریک ہوں، اور جماعت کے ساتھ اللہ کی راہ میں نکلیں اور اِخلاص اور دعوت کا انداز سیکھیں اور صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین  کے اخلاق سیکھیں! اور آخر میں ا للہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حق کو حق دِکھائے اور اُس کی اِتباع کی توفیق دے اور رُشد و ہدایت کی رہنمائی فرمائے اور اخلاص اور صحیح اعمال کی توفیق دے اور ہمیں ہمارے نفس، خواہشات اور شیطان کے شر سے بچائے اور اپنے دِین کی نصرت فرمائے اور کلمہٴ حق کو بلند کرے اور ہماری حکومت کو اِسلام سے عزت دے اور اِسلام کو اُس کے ذریعہ عزت دے اور وہی اُس کے ولی اور اس پر قادر ہیں۔ وَصَلّٰی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہ وَأَصْحَابِہ
صالح بن علی الشویمان
عنیزہ کے علاقہ میں
دعوت و ارشاد کا نمائندہ“۔
اِس رپورٹ کے جواب میں سماحة الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز نے اُن کو جو خط لکھا ہے اور جس کا نمبر ہے: ۱۰۰۷ خ ۱۷۔ ۸۔ ۱۴۰۷ھ، وہ درج ذیل ہے:
”بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
عبدالعزیز بن باز کی طرف سے (روحانی بیٹے) مکرم و محترم فضیلة الشیخ صالح بن علی الشویمان کی جانب! آپ جہاں بھی ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو مبارک بنائے، آمین۔
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ، اما بعد!
میں نے آپ کی رپورٹ جو آپ نے پیش کی ہے پڑھی ہے، جس میں آپ نے اپنے اور اپنے ساتھ جانے والے علماء اور طلباء، جن کا تعلق الجامعة الاسلامیہ مدینہ منورہ، جامعة الامام محمد بن سعود اور جامعہ ملک سعود وغیرہ سے ہے، اس اجتماع میں شریک ہونے کی تفصیلات لکھی ہیں، جسے تبلیغی جماعت نے رائے ونڈ میں ربیع الاول ۱۴۰۷ھ میں منعقد کیا ہے اس رپورٹ کو میں نے پڑھا ہے اور اسے کافی و شافی پایا ہے، اس رپورٹ میں اس اجتماع کی ایسی باریک تصویر پیش کی گئی ہے، جسے پڑھنے والے کو ایک شوق پیدا ہوتا ہے اور رپورٹ پڑھنے والا ایسا محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ خود اس کا مشاہدہ کررہا ہے۔
مجھے اس سے بھی بہت خوشی ہوئی کہ آپ سب حضرات نے اس اجتماع سے بہت سے فوائد حاصل کئے اور ذمہ دار حضرات سے تبادلہٴ خیالات کیا، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے، اور اس قسم کے اجتماعات زیادہ سے زیادہ ہوں اور ان سے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نفع دے۔
بے شک اس وقت مسلمانوں کو اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ اس قسم کی پاکیزہ ملاقاتیں ہوں، جن میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا تذکرہ ہو اور جن میں اِسلام کو مضبوط پکڑنے، اُس کی تعلیمات پر عمل کرنے اور توحید کو بدعات اور خرافات سے پاک رکھنے کی دعوت ہو۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو، چاہے حاکم ہوں یا رعیت، اِس فرض کی کامل ادائیگی کی توفیق دے۔“
انہ جواد کریم ….والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ،
الرئیس العام لادارةالبحوث العلمیة والافتاء والدعوة و الارشاد“

ٹیپوسلطان تحریک ِ آزادی کا نقطہٴ آغاز

آصف اقبال قاسمی
شیر ِ میسور ٹیپو کی جشن ِ سالگرہ پر عدم ِ رواداری اور انارکی کا جو کھیل کھیلا گیا اس نے جہاں ملک کو شرمسار کیا ہے ،وہیں اس فتنہ نے تاریخ ِ ہند کو داغدار کرنے کی ہورہی منظم سازشوں کے خدشات کو بھی تقویت دی ہے
میسور کے حکمراں ٹیپو سلطان کے جشن ِ پیدائش پر ریاست کرناٹک میں پھیلائی گئی انارکی جس میں تین افراد کی موت بھی ہوئی ،ملک میں بڑھ رہے عدم ِ تحمل کے رجحانات اور رواداری کے فقدان کی ایک نئی شکل پیش کرتی ہے۔ بہارانتخاب میں شکست کے بعد ایسا محسوس ہورہا تھا کہ بی جے پی اور بھگوا بریگیڈ خود احتسابی میں مصروف ہوجائیں گی اور اپنی منفی فطرت میں تبدیلی کا ٹھوس منصوبہ بنائیں گی،لیکن انتخابی نتائج کے اعلان کے فورا بعد ٹیپو سلطان کی جینتی پر جس طرح سے انارکی کا کھیل کھیلا گیا وہ اس بات کی غماز ہے کہ عدم ِ برداشت کی اس نئی داستان میں لوگوں کو الجھا کربی جے پی اور آرایس ایس اپنی شکست ِفاش سے عوام کی توجہ ہٹائے رکھنا چاہتی ہے۔اب معاملہ عظیم مجاہد ِ آزادی اور شہید وطن ٹیپو سلطان کی سالگرہ پر جشن ِ ولادت کا ہے۔کرناٹک میں ریاستی سرکار کی جانب سے مملکت ِ خداداد کے حکمراں اور اٹھارہویں صدی کے عظیم بادشاہ ٹیپو سلطان کے یوم ِ پیدائش 10/نومبر کو’یوم ٹیپو سلطان‘ منائے جانے کے فیصلے سے سخت گیر تنظیموں وشو ہندو پریشد،بجرنگ دل،ہندو جاگرن اوران سب کی سرپرست بی جے پی نے جس رد ِ عمل اور انارکی کا مظاہرہ کیا اس نے تو غیر ملکی میڈیاکی نظر میں بھی ملک کی عدم روادار فضا اور مذہبی تنوع کے وجود کو سوال کے کٹہرے میں لا کھڑا کردیا ہے۔اسی سلسلے کا ایک بد نما پہلو اس وقت سامنے آیا جب معروف ڈرامہ نگار گریش کرناڈنے ریاستی حکومت کو یہ تجویز دی کہ ریاست کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو کے انٹر نیشنل اےئر پورٹ کا نام تبدیل کرکے ٹیپو سلطان کے نام سے موسو م کیا جائے،انھوں نے اپنی ایک تقریر کے دوران سچ کہا کہ اگر ٹیپو سلطان مسلمان نہ ہوتے تو ان کو بھی وہی تاریخی عزت اور سمّان ملتا جو مہاراشٹر میں شیواجی کو ملا ہے۔ اس تجویز نے تو انتہا پسندوں کو حواس باختہ ہی کردیااور انھوں نے کرناڈ کو بھی ایم۔ایم گلبرگی جیسے انجام کی دھمکی دے ڈالی۔
اس جشن ِ ولادت کی یہ کہہ کر مخالفت شروع کی گئی کہ ٹیپو سلطان’ ہندوٴوں کے تئیں متعصب‘ تھا جس نے اپنے دور ِ حکومت میں کئی مندر توڑوائے اورتبدیلی ٴ مذہب کی مہم کی سرپرستی کی تھی ۔اسے ملک کی بد نصیبی کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ جس بادشاہ نے اپنے دور حکمرانی میں ملک کو سامان ِ زندگی کے معاملے میں خودکفیل بنادیا ہو ،جس نے ملک کے غریب کسانوں کو ان کی حق دلانے اور انھیں خوشحال بنانے کے لیے جاگیردارانہ بربریت کا استیصال کردیا ہو اور عدل ومساوات اور مذہبی رواداری کے ساتھ باہم متحد ہوکرانگریزوں کے دانت کھٹے کردیے ہوں،اسی بادشاہ کی شبیہ کو زک پہنچانے، ان کی خدمات کو یکسر فراموش کرنے اور ان سب سے بڑھ کر ان کے تئیں نسل ِ نو میں نفرت کی تخم ریزی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سب سے پہلے ہم قارئین کے سامنے ٹیپوسلطان پر لگائے گئے اس طرح کے بے بنیاد الزام کے تعلق سے تاریخی دستاویز اور موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ فرقہ پرستوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات ٹیپو کی شبیہ کو مسخ کرنے کی ایک عالمی سازش کا حصہ ہیں۔ہندوستان میں ایسے کئی مسلم بادشاہ گزرے ہیں جن کی زندگی اور خدمات کی ترجمانی سنگھی فکر کے حامل مورخین نے غلط پیرایے میں کی اور اُن کے طرز ِ حکمرانی کو جان بوجھ پیچیدہ اورمتنازع بنا دیا گیا اور یہ سلسلہ تا ہنوز جاری ہے۔ان میں سے ایک مجاہد آزادی ٹیپو سلطان  (10/نومبر 1750۔4/مئی 1799)بھی ہیں۔
آئیے ذرااب تاریخ کے دریچے کو کھولیں۔تاریخ شاہد ہے کہ ٹیپو سلطان ایک نرم دل ، عدل پرور،مساوات ، مذہبی رواداری کے علمبردار اور بار بار معاف کردینے کے عادی بادشاہ تھے۔وہ ایک ایماندار اور روشن خیال حکمراں تھے جنھوں نے اپنے دورِ حکومت میں نہ صرف بین المذاہب رواداری کو باقی رکھا بلکہ اس کی جڑوں کو مستحکم کرتے ہوئے ہندووٴں کو اعلی عہدوں پر فائز بھی کیا،ان کی حکمرانی میں وزیراعظم،پیش کار،علاقائی نگراں اور خزانچی جیسے بڑے عہدے غیر مسلموں کے پاس ہی تھے۔’پونیا پنڈت‘ ٹیپو کے وزیر اعظم تھے تو’کرشنا راوٴ‘ خزانچی تھا۔’شامیا اینگر ‘نامی شخص اُن کا وزیر برائے پوسٹ وپولیس تھا،اسی طرح متعدد ہندووٴں کو انھوں نے مختلف ڈپلومیسی مشن کے لیے مامور کررکھا تھا اور ایک برہمن کو تو انھوں نے ’مالا بار‘ علاقہ کی پوری ذمہ داری دے رکھی تھی۔ انھیں اپنی عبادت کے لیے مکمل آزادی دی، غیرمسلموں کی اپنے مذہبی پروگرام کے انعقاد پر حوصلہ افزائی بھی کرتے، تاکہ ہماری مذہبی رواداری اور مشترکہ تہذیب باقی رہے اور انگریزی ثقافت اس پر حاوی نہ ہونے پائے ۔تاریخی حوالے سے یہ بات ثابت ہے کہ ٹیپوسلطان سرنگیری،کولور،میلکوٹ جیسے سیکڑوں مندروں اور اہم مٹھوں کو امداد بھیجتے تھے، وہ سلطنت ِ خداداد میں واقع مندروں کی سرپرستی بھی کرتے تھے ؛بلکہ ایک موقع پرتو مندر کی تعمیر کاحکم بھی دیا تھا، سرنگیری مٹھ پر جب مراٹھیوں نے حملہ کیا اور اسے لوٹ لیا تو ٹیپو ہی نے اس کی باز آباد کاری کرائی ۔یہ تاریخ کی عجب ستم ظریفی ہے کہ آج مراٹھی اور ان کے لیڈر شیواجی کو ملک کی تاریخ میں ایک’ ہیرو‘کا مقام حاصل ہے اور ٹیپو کو ایک مخصوص مذہب کا نمائندہ بادشاہ بتا کر انھیں جابر اور سفاک بتایا جارہا ہے۔ٹیپو کے تعلق سے اس طرح کے دیگرتاریخی حقائق کا تذکرہ تاریخ نویس محب الحسن# نے اپنی انگریزی کتاب ’ہسٹری آف ٹیپو سلطان‘ میں مختلف اور معتبر مصادر کی مراجعت کے ساتھ کیا ہے ۔ اسی کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ 1916میں میسور کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر’راوٴ بہادر‘ کو سرنگیری مندر میں ٹیپو کے خطوط کا ایک مجموعہ ہاتھ لگا جو دراصل ہندووٴں کے تئیں ٹیپوسلطان کی مدارات اور مذہبی رواداری کے سیکڑوں واقعات کی دستاویزکی حیثیت رکھتا تھا۔ اگر فرقہ پرستی کے عینک کو اتار کر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تاریخ کی دیگر کتابوں میں بھی یہ حقائق حرف جلی کے ساتھ نظر آتے ہیں جیسا کہ ان کی جانب جسٹس کاٹجو نے بھی اشارہ کیا ہے ۔
اس موقع پر اس سچائی کو تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ بعض موقع پر انھوں نے غیر مسلموں کے ساتھ سخت گیری کا معاملہ کیا، لیکن ساتھ میں اس حقیقت کو بھی تسلیم کرناہوگا کہ اس طرح کے معاملے ٹیپو کے مذہبی جذبات سے وابستہ نہ تھے بلکہ یہ سخت گیری بادشاہی حکم کی سرتابی کا نتیجہ تھی اور حکم عدولی جیسے جرم کے پاداش میں دی جانے والی سزا میں تو انھوں نے مسلمانوں اور ہندووٴں کے درمیان کوئی امیتاز ہی نہیں برتا۔ٹیپو کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ مذہب اور سیاست کو علیحدہ علیحدہ رکھتے تھے اور ملک کے مفاد میں بنائے جانے والی حکومتی پالیسیوں میں کبھی بھی مذہبی عقائد کواثر انداز نہیں ہونے دیا۔یہ الزام تو عقل کے بھی خلاف ہے کہ ٹیپو ہندو۔مسلم ہم آہنگی کے مخالف تھے اور انھوں نے ہندووٴں پر ظلم کیا؛ کیوں کہ برطانوی سامراج جیسی طاقت سے لوہا لینے کی مہم میں بھی اگر وہ اندورن ِ خانہ مذہبی تعصب کے برتاوٴکو رَوا رکھتے اور آپسی انتشار کی لکیر کھینچتے تو اس عمل سے تو ٹیپو کی انگریزوں کے خلاف معرکہ آرائی کمزور پڑجاتی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کو ملک سے بے دخل کرنے کے لیے ہورہی جد وجہد ماند پر جاتی۔
جہاں تک ٹیپو پر جبراً تبدیلی ٴمذہب کا الزام ہے تو یہ سراسر بے بنیاد اور تاریخ کی رُوح کو مسخ کردینے کے مترادف ہے۔ٹیپو یقیناایک مسلم بادشاہ تھے ؛لیکن مذہب کو انھو ں نے اپنی بادشاہت سے جدا رکھا اور رعایا کے ساتھ مذہبی رواداری اور عقائد کی آزادی کا برتاوٴ کیا،تاریخ اس پر شاہد ہے۔تاہم ٹیپو کی تاریخ میں تبدیلی ٴمذہب کے عنوان سے اِکا دُکّا واقعہ ملتا ہے۔اس کا تاریخی تجزیہ کرتے ہوئے موٴرخ محب الحسن نے اپنی اُسی کتاب میں لکھا ہے کہ دراصل یہ تبدیلی ٴمذہب باغیوں کی بغاوت کی سزا تھی اور اس کی حیثیت مذہبی نہیں بلکہ سیاسی تھی اور اس کے پیچھے کوئی مذہبی محرک کارفرما نہ تھابلکہ بغاوت کے سُرکو دبانے کے لیے ٹیپو نے یہ موٴثر حربہ استعمال کیا تھا۔ انگریزوں کے خلاف مشکل معرکوں کو سَر کرنے اور ہندوستان کو برطانوی بربریت سے پاک کرنے کے لیے کسی بھی طرح کی بغاوت کا دبانا لازمی تھاجس کے لیے اگر ٹیپو نے یہ راہ اختیار کی تو اس میں بُرا کیا ہے اور کیا اس جرم کی تعقیب میں باغیوں کا قتل تبدیلی ٴ مذہب کا بہتر متبادل ہوسکتا تھا؟ اس سزا میں سیاسی نقطہٴ نظر سے بادشاہ اور باغی رعایا دونوں کے لیے بڑی مصلحتیں ہیں جنھیں ہر صاحب ِ بصیرت سیاست داں اور سپہ سالار ِ جنگ سمجھ سکتا ہے۔ اپنے ایک خط میں وہ خود لکھتے ہیں کہ ’ میں نے ’نائرس‘نامی شخص کو قبول ِاسلام اس لیے کروایا کہ اس نے اس سے قبل چھ مرتبہ بغاوت کی اور ہر مرتبہ میں نے اسے معاف کردیا‘۔ اس موقع پر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ بغاوت پرتبدیلی ٴمذہب کی یہ سزا وقتی مصلحت پر مبنی تھی اور صرف ’مالابار ‘اور’ کُرگ‘ علاقے میں رَوا رکھی گئی تھی اور باقی مملکت میں یہ بات نہ تھی۔
ٹیپو کی مملکت میں مذہبی پالیسی کا تاریخی تجزیہ کرتے وقت عموما ًہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کی مملکت میں تبدیلی ٴ مذہب کے بعض واقعات برضا ورغبت بھی پیش آتے تھے۔کُرگ کے لیڈر ’ رنگا نایر ‘ جیسے متعدد لوگوں نے ٹیپو سلطان کی سخاوت ،انسانیت دوستی اور بلندیٴ اخلاق سے متاثر ہوکر مذہب ِاسلام کواپنایا تھا،وہیں کچھ ایسے بھی تھے جو سلطان کی قربت اور ان کی چاپلوسی کے لیے ایسا کرتے تھے،تاہم ٹیپو نے بلا وجہ جبراً تبدیلی ٴمذاہب کرایا ہو، اس دعوی پر کوئی ٹھوس تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ٹیپو کے معاملے میں حقائق جاننے کے لیے ہم نہ تو عیسائیوں کی تصنیف کردہ تاریخی کتابوں پراعتماد کرسکتے ہیں ؛کیوں کہ انگریزی رائٹرس کی تحریریں ان کے تئیں انتقامی جذبہ سے متاثر ہیں اور نہ ہی آج کے سنگھی فکر کے حامل تاریخ نویسوں کی تحریر کردہ دستاویزات لائق اعتماد ہیں؛کہ انھوں نے بھی اس معاملہ میں عیسائی لابی کی تقلید کا حلف لیا ہوا ہے،چنانچہ جس تاریخی کتاب کا حوالہ دے کر ٹیپو کے تعلق سے واویلا مچایا گیا وہ انگریزی مفکرین سے متاثر ہوکر فکشن کے طرز پر لکھی گئی ایک کتاب ہے جو دیگر تاریخی کتابوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ اعتماد کے لائق نہیں۔
تاریخی سچائی یہ ہے کہ میسور کے حیدر علی کے بیٹے اور مملکت خداداد کے اس سلطان کا شمار ہندوستان کے اُن چند حکمرانوں میں ہوتا ہے جنھوں نے ملک کی آزادی کے لیے برطانوی سامراج کے خلاف کئی کامیاب جنگیں لڑیں ۔جس زمانے میں بنگال اور شمالی ہند میں برطانوی سامراج اپنے مقبوضات میں مسلسل اضافہ کررہے تھے،اُسی دور میں جنوبی ہند میں دو ایسے مجاہد بادشاہ پیدا ہوئے جن کے نام تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف میں ثَبت ہیں ،یہ دو نام حیدر علی اور ٹیپو سلطان ہیں۔پورے ملک میں انگریزوں کو اگر کہیں سخت مقابلہ کا سامنا کرنا پڑا اور اُن کے جارحانہ قدم کہیں رُک پائے تو وہ سلطنت خداداد ہی کا حصہ تھا جس کے روحِ رواں ٹیپو سلطان تھے۔ میسور کے اس بہادر بادشاہ نے انگریزوں کے دانت کھٹے کردیے اور اس تاریخی جملہ کے ساتھ کہ ’شیرکی ایک دن کی زندگی، گیڈر کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے‘ مملکت میسور اور انگریزوں کے مابین1799کی طویل اور مشہور جنگ کے دوران سرنگاپٹم میں شہادت پائی۔ ٹیپو کا یہ پیغام ان کے ہم وطنوں کے دلوں میں انگریز کی غلامی سے نفرت اور آزادی کا شیدائی بنادیا جو بعد میں جدو جہد آزادی کے ثمر آور کوشش پر منتج ہوا، اس طرح ہم ٹیپو کو تحریک ِ آزادی کا نقطہ آغاز کہہ سکتے ہیں۔ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد ہی انگریزی فوج کے قائد جنرل جارج ہیرس# نے کہہ دیا تھا کہ اب ہندوستان ان کا ہے اور ’ میں نے ہندوستان فتح کرلیا‘۔جنرل کا یہ قول بتاتا ہے کہ برطانوی سامراج کی نظر میں ٹیپو سب سے بڑا خطرہ تھے اور ہندوستان پر حکمرانی کے لیے ان کی شہادت کتنی اہم او رضروری تھی۔دوسری جانب اپنی ملک دوستی اور دیش بھکتی کے ہزاروں دعووں کے باوجود تاریخ شاہد ہے کہ سنگھ بریگیڈ نے ہمیشہ برطانوی سامراج کی وفاداری نبھائی،ان کا کوئی بھی لیڈر انگریزوں کے خلاف کبھی نبرد آزما نہ ہوا۔1921میں گاندھی کی ’عدم ِ تعاون ‘کی تحریک ہو یا پھر 1942میں’بھارت چھوڑو آندولن ‘یا اس جیسی دیگر تحریک ِ آزادی ہو، سنگھیوں کا رویہ ہمیشہ سے انگریزوں کے تئیں وفاداری اور اُن کی مخبری کا رہا ہے۔لہذااگر اس ملک میں ٹیپوسلطان جیسے وطن پرست مجاہدین کا یوم ِ پیدائش نہیں منایا جائے گاتوکیا گوڈسے،ساورکراورگولوالکر جیسے سنگھی نظریات کے حامل افراد کا جشن ملک منائے گا؟
ٹیپو سلطان ایک ممتاز سپہ سالار کے علاوہ ایک اچھے مصلح بھی تھے۔وہ تعلیم یافتہ اور ایک دیندار انسان تھے،دینداری کا حال یہ تھا کہ ہمیشہ باوضو رہتے اور قرآن مجید کی تلاوت اُن کا خاص مشغلہ تھا۔ملک دوستی اور انسانیت نوازی اُن کے رگ وپے میں پیوست تھی۔ انھوں نے جنوبی ہندوستان میں ایک ایسے نظام ِ حکومت کی بنیاد رکھی اورایک ایسی سلطنت قائم کی جو ملک اور بیرون ِ ملک کے لیے اپنی مثال آپ ہے۔انھوں نے بلا تفریق ِ مذہب وملت رعایا کو خوشحال بنانے کے لیے جو فلاحی منصوبے تیار کئے،بعد میں آنے والے حکمراں ایسے منصوبے تو کیا بناتے ،اُن پر عمل آوری بھی نہ کراسکے۔عام انسانوں کے ہمدرد اور شرافت ومساوات کے حامل ٹیپو سلطان نے سب سے زیادہ توجہ کسانوں کے مسائل پر دی،جو طبقہ آج کے دور ِحکومت اور” سب کا ساتھ،سب کا وکاس اور سب کا انصاف“ کے ببانگ دہل نعرہ کے علی الرغم سب سے زیادہ تباہ ہے اور خودکشی پر آمادہ ہے۔موٴرخین کے خیال میں کسانوں کے حق میں اٹھا یا جانے والاایسا انقلابی قدم آج تک تاریخ کی آنکھو ں نے نہیں دیکھا۔جاگیرداری کو ختم کرکے اراضی کی اصلاحات پر جو کام ٹیپو کے دور میں ہوئے ان سے نہ صرف صدیوں بیکار پڑیں زمینیں کاشت کے قابل ہوگئیں بلکہ اس سے کروڑوں کاشتکاروں کی اقتصادی حالت بہتر ہوئی اور ملک نے ترقی کی نئی راہیں دیکھیں ، اسی عہد میں ریاست میں پہلی مرتبہ بینک قائم کئے گئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب تک ٹیپوسلطان بر سر ِ اقتدار رہے،انھوں نے ملک میں کوئی چیز باہر سے نہ آنے دی،یہاں تک کہ نمک بھی اندرون ِ ملک تیار ہونے لگا۔اسی طرح اسلحہ سازی سے لے کر کپڑے،برتنوں کی تیاری،لکڑی کے سامان،ریشمی مصنوعات اور لوہے وغیرہ کی صنعت میں ریاست ِ میسور نہ صرف خودکفیل ہوگئی، بلکہ بہت سارے سامان برآمدبھی کرنے لگی۔انھوں نے اپنی ریاست میں کئی معاشرتی اور اقتصادی اصلاحاتیں کیں جن سے پوری ریاست خوشحال بن گئی۔ ریاست میسور کی خوشحالی کا اعتراف اس زمانے کے ایک انگریز نے ان الفاظ میں کیا ہے ’ میسور ہندوستان میں سب سے سرسبز علاقہ ہے،یہاں ٹیپو کی حکمرانی ہے،میسور کے باشندے سب سے زیادہ خوشحال ہیں،اس کے برعکس انگریز ی مقبوضات صفحہ ٴ عالم پر بد نما دھبوں کی حیثیت رکھتے ہیں،جہاں رعایا قانونی شکنجوں میں جکڑی ہوئی پریشان ہے‘۔
انھوں نے اپنے دور حکمرانی میں متعدد اور مفید انتظامی اور فلاحی اقدامات سے ملک کو روشناس کرایا۔ زمینی پیدا وار سے ملک کو حاصل ہونے والی آمدنی کا نظام،ملک میں رائج سکّوں کا چلن، شمسی اور قمری نظام کا امتزاجی کیلنڈر اور جنوبی ہندوستان میں ریشم کی صنعت کا فروغ،یہ سارے اقدامات ٹیپو# کی یادگار ہیں جن سے ان کی ملک دوستی،غریب پروری ،سیکولر مزاجی اور روشن خیالی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ملک کے معروف تاریخ داں عرفان حبیب ٹیپو کی خدمات کے سیاق میں کہتے ہیں کہ میسور اور اس کے اطراف میں ریشم کی صنعت کافروغ دراصل ٹیپوسلطان کی غریب پرورحکمرانی کی رہین ِ منت ہے۔پورے ملک کی ریشمی صنعت کا 70%سے زیادہ حصہ تنہا کرناٹک میں ہوتا ہے جس میں سب سے زیادہ میسور ضلع کی پیداوار ہے۔ ملک میں ریشم کی صنعت کو فروغ دینے کے کا پورا کریڈٹ ٹیپو کو جاتا ہے اوراسے تمام تاریخ نویسوں نے تسلیم کیا ہے۔ عرفان حبیب کہتے ہیں کہ اگر ٹیپو سلطان اپنے دور میں انگریزوں سے مصالحت کرلیتے تو صرف جنوب ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی بادشاہت انھیں مل جاتی جیسا کہ برطانوی سامراج نے انھیں باربار اس کی پیشکش کی تھی۔تاریخی زاویہ سے ٹیپو کو ملک کے دفاعی نظام میں بھی ممتاز مقام حاصل ہے،ملک کے موجودہ ایڈوانس میزائل سسٹم بھی انھیں کے دفاعی اسٹراٹیجی کا حصہ ہے جو 1799کی جنگ میں برطانوی ترقی یافتہ دفاعی نظام کے مقابلے میں انھوں نے تیارکی تھی،اسی وجہ سے ٹیپو کو برصغیر میں راکٹ سازی کا موجد کہا جاتا ہے، ڈاکٹراے پی جے عبد الکلام مرحوم بھی اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ ’ناسا‘ ہندوستان کے ایک بادشاہ (ٹیپو سلطان) کو راکٹ مین کی حیثیت سے یاد کررہا ہے‘ ۔
ہونا تو یہ چاہئے کہ ٹیپو کو ایک تاریخی بادشاہ کی حیثیت سے یاد کیا جاتا نہ کہ کسی خاص مذہب سے جوڑ کر،اور علم ِتاریخ کا اصول بھی یہی بتا تاہے کہ تاریخ کے واقعات کا جائزہ اس کے متعلقہ تمام گوشوں کو سامنے رکھ کرکرنا چاہئے ناکہ کسی خاص حصہ کو اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا چاہئے ،ایسا کرنیاتاریخ کے ساتھ خیانت ہے۔چنانچہ ٹیپو پر مچائے جارہے واویلا پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے متعدد نامور تاریخ دانوں نے ان الزامات کی پرزور تردید کی ہے اور سیاسی جماعتوں سے اس مسئلے کو اپنا سیاسی ایشو بنانے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ایک موٴقر انگریزی روزنامہ کے مطابق مشہور جدید تاریخ دان دلیپ مینن# نے ٹیپو پر حزب ِاختلاف کی جانب سے لگائے جارہے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ:’ بی جے پی ٹیپو کی جشن ِ پیدائش کی مخالفت کیوں کررہی ہے،ٹیپو کی شخصیت گوکہ پیچیدہ اور موضوع بحث ہے،تاہم انگریزوں کے خلاف سرنگاپٹم میں جام ِشہادت نوش کرنے والا یہ بادشاہ اٹھارہویں صدی کا سب سے بہتر مطلق العنان حکمراں تھا،جہاں تک ہندوٴوں کے خلاف اس کے رویہ کی بات ہے تو اس طرح کی زیادتی تو ’اشوکا‘ نے بھی ہندوٴوں کے ساتھ کی تھی،کیا بی جے پی اشوکا کی مخالفت کرے گی؟تاریخ کا مطلب ماضی کے واقعات اور تجربات کو بعینہ جاننا ہے نہ کہ سیاسی شعبدہ بازی کے لیے ان کا استعمال کرنا‘۔ فوجی موٴرخ مندیپ سنگھ بجوا# نے بھی بی جے پی کے اس موقف کی سختی سے تردید کی ہے اور ٹیپو کی زندگی کے اختلافی اور متنازع پہلووٴں پر واویلا مچانے کے بجائے انتظامی اور فلاحی کاموں میں اُن کی جانب سے اٹھائے گئے مثالی اقدمات کا مطالعہ کرنے اور انھیں اپنانے کی صلاح دی ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اورنگ زیب عالمگیر  کے انتقال کے بعد غیر آزاد ہندوستان میں نظام الملک آصف جاہ ،حیدر علی اور ٹیپو سلطان جیسی حیرت انگزیز صلاحیت رکھنے والا کوئی تیسرا حکمراں نظر نہیںآ تا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بر صغیر میں انگریزوں کا جتنا کامیاب مقابلہ ٹیپو سلطان نے کیا اور بر طانوی سامراج کے خلاف 35سالوں تک مسلسل نبر دآزمائی کرتے ہوئے جس شجاعت اور سپہ سالاری کا ثبوت دیا وہ کسی اور مسلم یا غیر مسلم حکمراں میں کی حصے میں نہیں آیا۔حکمراں ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو عام آدمی سمجھتے تھے ۔علامہ اقبال نے ٹیپو کی عظمت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی،وہ مذہب وملت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتے رہے،یہاں تک کہ اس راہ میں وہ شہید ہوگئے“۔
ہندوستان کی تاریخ سے مسلم حکمرانوں کے نام ونشان مٹانے کے تعلق سے ہندوتو اور سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیموں کا یہ منفی رویہ جگ ظاہر ہے۔ مودی سرکار سے قبل اٹل بہاری واجپئی کے دور حکومت میں بھی سرکار پر تاریخ کو مسخ کرنے کا الزام سامنے آیاتھا اور اب تو سنگھ اپنے اسٹار پرچارک کی قیادت میں تاریخ ِ ہند کو مسخ کرنے کی مذموم کوشش میں پوری تگ ودو کے ساتھ مصروف ہے۔مسلمان بادشاہوں کی عظمت کو تار تار کرنے کے لیے کبھی اورنگ زیب عالمگیر اور ٹیپو سلطان  جیسے منصف ،رواداراور ملک دوست مسلم حکمرانوں کو ہندو مخالف بتاکر تاریخ میں لیپا پوتی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو کبھی جے این یو اور اے ایم یو جیسے ملک کے ممتاز اور سیکولر تعلیمی اداروں کو دہشت پسندی کی نرسری بتا کر نیا شگوفہ چھوڑا جارہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کاملک سے باہر برطانیہ کی کیمرون سرکار سے ’ ہندوستان میں عدم ِ برداشت کی کوئی جگہ نہیں‘ کا وعدہ کہاں تک سنگھ پریوار اور خود اپنی پارٹی سے منسلک متشددافراد کو درس ِ رواداری دے پاتا ہے،تاکہ یہ لوگ ملک کی تاریخ کو سیاست کی گلیاروں کا کھیل نہ بنائیں اورمحض سیاسی مفاد کے حصول کے لیے تاریخ کے سفید باب کو سیاہ اور سیاہ کو سفیدبنانے کی سعی بند کرسکیں۔

مذہبی رواداری