یتیم کی کفالت ہمارا اخلاقی فریضہ

متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن

اسلام ؛ اللہ کریم کی طرف سے عالم انسانیت کے لیے ایسا عظیم الشان لائحہ عمل اور دستور ہے جس میں سب کی رعایت کو ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ اقتدار والوں کو حکم دیا گیا کہ رعایا پر ظلم نہ کریں اور رعایا کو حکم دیا گیا کہ انتظامی معاملات میں حکمرانوں کے فیصلوں پر عمل کریں ۔دولت والوں کو حکم دیا گیا کہ غریبوں سے شفقت و نرمی کا برتائو کریں جبکہ غریبوں کو حکم دیا گیا کہ وہ احسان فراموش نہ بنیں ۔ گویا پورا نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ جس میں جذبہ خیر خواہی ، باہمی محبت ، الفت و مودت ، رواداری اور احسان مندی کو بنیادی اور لازمی قرار دیا گیا ہے ۔

اسلام کے اجتماعی نظام کو جس زاویے سےبھی دیکھا جائے مکمل نظر آتا ہے ۔ اس کی مرکزی خوبی ہے کہ یہ محض چند اشخاص اور وقتی حالات پر ہی انحصار نہیں کرتا بلکہ انسانی نسلوں کی بقاء اور عزت کا محافظ ہے ۔ اس کے حسن معاشرت کی ایک جھلک یوں بھی دیکھی جا سکتی ہے ۔

نسل انسانی کے وہ گوہر جن سے یتیمی نے ان کے سہاروں کو چھین لیا ہو ، بے آسرا ہو چکے ہوں ۔ اسلام ان کو فوراً اپنی آغوش محبت و تربیت میں لے لیتا ہے ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم تاکید مزید کے طور پر دیتا ہے ۔ ان کی کفالت ، پرورش ، دیکھ بھال کا فریضہ دوسرے مسلمانوں کو سونپتا ہے ان کو در بدر کی ٹھوکروں سے نجات دلاتا ہے زمانے کی تلخیوں سے بچانے کا حکم دیتا ہے ۔تاکہ یہ ضائع ہونے سے بچ جائیں اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکیں ۔چنانچہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں جابجا اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے اور ان لوگوں کی تعریف و تحسین کی ہے جو یتامیٰ ، مساکین اور اسیروں کی کفالت کرتے ہیں ۔ ان کی روزی کا بندوبست کرتے ہیں ۔

محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی ، آپ کا اسوہ حسنہ ہمیں اس بات کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت قرب خداوندی اور رضاء الہٰی کے حصول کا آسان ترین ذریعہ ہے ۔ چنانچہ

صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایسے) آپ نے اپنی دوانگلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے( اکٹھے ہوں گے ۔

صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یتیم کی دیکھ بھال کرنے والا اور میں جنت میں ایسے ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں آپس میں قریب قریب ہیں ۔ خواہ وہ یتیم اس کا قریبی رشتہ دار ہو یا اجنبی ہو ۔

جامع الترمذی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں جو کسی یتیم کو اپنے ساتھ کھانے پینے میں شریک کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو یقینا ً جنت میں داخل فرمائیں گے ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہ کوئی ایسا گناہ نہ کرے جس کی مغفرت بالکل نہیں ہوتی ۔

امام طبرانی رحمہ اللہ ؛ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو تمام گھروں میں سے سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم کی عزت کا خیال رکھا جاتا ہوں ۔

سنن ابن ماجہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے تفصیلی روایت موجود ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمان گھرانوں میں سے سب سے زیادہ بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم موجود ہو اور اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا جاتا ہو۔ اور مسلمان گھرانوں میں سے سب سے برا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم تو موجود ہو لیکن اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو۔

امام احمد رحمہ اللہ ؛ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے کے لیے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آتے ہیں اللہ کریم ہر بال کے بدلے اس کے نامہ اعمال میں نیکی درج فرما دیتے ہیں ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آکر عرض کرنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرا دل بہت سخت ہے ۔ )نیکی کی بات کو جلد قبول نہیں کرتااور برائی کی بات سے بے خوف ہوتا جاتا ہے (اس کا علاج تجویز فرمائیں ۔ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کرو اور مسکین کو کھانا کھلایا کرو۔ )دل کی سختی ختم ہو جائے گی(

امام طبرانی رحمہ اللہ ؛ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے برحق رسول بنا کر بھیجا اللہ قیامت کے دن ایسے شخص کو عذاب نہیں دے گا جو یتیم پر رحم کرتا ہے اور اس سے نرم گفتگو کرتا ہے ۔

یتیم کی دیکھ بھال ، تعلیم و تربیت اور صحیح معنوں میں پرورش کے بارے میں قرآن و حدیث میں بکثرت ترغیب موجود ہے لیکن آج کل یتیموں مسکینوں کے ساتھ جو ظلم و ستم ہو رہا ہے ان کے حقوق کو غضب کیا جا رہا ہے ۔ حق تلفی کی اس تلوار نے کئی خونی رشتوں کے تقدس کو بھی فنا کر دیا ہے سب سے پہلے قریبی رشتہ داریتیموں پر ظلم کا رندا چلاتے ہیں ۔ یتیموں کے مال پر قبضہ ، جائیداد پر قبضہ ، میراث پر قبضہ ان کو گھروں سے نکالنا اور در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور کرنا اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے چنانچہ قرآن کریم میں ہے : ان الذین یاکلون اموال الیتامیٰ ظلما انما یاکلون فی بطونہم ناراً و سیصلون سعیرا۔

جو لوگ ناحق طریقے سے یتیموں کا مال ہڑپ کرتے ہیں درحقیقت اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں انہی لوگوں کو بہت جلد جہنم میں ڈالا جائے گا ۔ سورۃ النساء آیت 10

آج کے مسلمان کا یتیموں کے ساتھ معاملہ انتہائی خطرناک حد تک غلط روی کا شکار ہے چچا یتیم بھتیجے کا ، پڑوسی اپنے یتیم پڑوسی کا رشتہ دار اپنے یتیم رشتہ دار کے مال کو بے دھڑک کھائے جا رہا ہے ۔ یہ حقوق العباد ہیں ان کی ادائیگی میں حقوق اللہ سے بھی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔

اس لیے ہم سب کو سوچنا چاہیے کہ ہم کسی یتیم پر ظلم تو نہیں کر رہے سرکاری ، نیم سرکاری اور غیر سرکاری تمام ادارے جہاں یتیم بچے موجود ہوتے ہیں ۔ ان کا خاص طور پر خیال رکھا جائے ان کے حقوق نہ مارے جائیں بلکہ ان کی مالی اور تعلیمی کفالت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں جنتی بننے کا عزم کریں ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔

تعلیمِ نسواں!!!مغرب اور اسلام کا نظام تعلیم…… ایک تجزیہ

مولانا الیاس گھمن

رُت ہی بدل گئی ہے ، معیار بدل گئے ہیں ، انداز بدل گئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ افکار بدل گئے ہیں ۔ نبئِ برحق حضرت خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی صبح تک مسلمان کو دنیابہتر بنانے اور آخرت سنوارنے کے جو اصول اور قوانین عطا فرمائےتھے ہم ان اصولوں اور قوانین کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ آپ کی تعلیمات میں صرف آخرت کی ہی نہیں دنیا کی کامیابیاں بھی مضمر ہیں ۔

اسلام محض چند ارکان کی ادائیگی ہی کا نام نہیں جسے کچھ وقت کے لیے اپنا کر اس کے دائرے سے نکلا جائے بلکہ یہ اس مجموعے کا نام ہے جس میں اعتقادات ، عبادات ، معاشرت ، معاملات ،کامیاب زندگی اور روشن مستقبل )اخروی فلاح (پنہاں ہے ۔جب تک اسلام کی روح کو نہیں سمجھا جائےگا اس وقت تک ہم بحیثیت قوم ترقی نہیں کر سکتے ۔ ہماری تمام تر ترقیات اسلام کے دامن سے وابستہ ہیں ۔

اس حوالے سے ہمیں سیرت مطہرہ سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات پر عمل پیرا ہوئے بغیر کامیاب زندگی محض سراب ہے جس سے آج کا مسلمان دھوکے کا شکار ہورہا ہے ۔

اگر انسانیت کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ جب سے اللہ تعالی نے انسانیت کو وجود بخشا اسی وقت سے مرد و عورت لازم و ملزوم کی حیثیت سے برابر چلے آرہے ہیں ۔مرد کو اللہ تعالی نے خارجی امور کا ذمہ دار قرار دیا اور عورت کو امور خانہ داری کے فرائض سونپے ۔ مرد گھر سے باہر کے تمام معاملات کا نگہبان ہے اور عورت کو گھر کے اندرکے سارے امورتفویض ہوئے ہیں ۔

چونکہ مرد وزن دونوں ہی معاشرے میں اپنی اپنی الگ الگ حیثیت کے حامل ہیں اس لیے دونوں کو آفاقی و سماوی ہدایات و احکامات کا مکلف بنایا گیا ہے ۔ احکام اسلامیہ پر عمل دونوں کے لیے ضروری ہے ۔

اب دوسری طرف یہ بات اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ عمل کا مدار علم پرہے ۔ علم صحیح ہو گا تو عمل بھی درست ہوگا اور اگر علم صحیح نہ ہوا تو عمل بیکار ہوگا ۔ اس تناظر میں جیسے مرد کی تعلیم اس کی ضرورت ہے ایسے ہی خاتون کی تعلیم بھی اس کی زندگی کا جزو لاینفک ہے ۔ اگر مرد تعلیم کے حصول کے بغیر زندگی گزارے گا تو معاشرے کے لیے وبال جان اور سراسر خسارے اٹھانے والا ہوگا ۔ اسی طرح اگر عورت تعلیم حاصل نہیں کرے گی تو زمانے پر بوجھ بنے گی ۔

معلوم ہوا کہ مرد کی طرح عورت کی تعلیم بھی ناگزیر ہے ۔یہاں تک تو سب اس پر متفق ہیں ،اس سے آگے جھگڑا شروع ہوتا ہے ۔ اسلام کے نظام ِتعلیم میں عورت کی محض تعلیم ہی نہیں بلکہ اس کے حیاء ، تقدس اور عزت و شرافت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے کہ یہ تعلیم تو بہر حال حاصل کرے ہی لیکن اسلام کے مقرر کردہ دائرے کے اندر رہتے ہوئے ، ایسی تعلیم جس سے اس کی دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی ۔

چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے خواتین کی تعلیم کے سلسلے میں صحیح بخاری میں باب قائم کیا ہے باب عظة الامام النساء وتعلیمہنّ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تعلیم و تربیت سے نوازے ویسے ہی صحابیات کے درمیان بھی تعلیم و موعظت فرمایا کرتے تھے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ اور منہج کو دیکھتے ہوئے شارحین حدیث یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسلام میں خواتین کی تعلیم ضروری ہے لیکن حصولِ تعلیم کے وقت اس بات کا بخوبی جائزہ لینا چاہیے کہ جو امور اسے زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں انہی امور کی تعلیم سے آراستہ کرنا چاہیے ۔ یعنی لکھنا پڑھنا ،عقائد و اعمال کی اصلاح ، تہذیب و شائستگی ، وہ علوم جن پر دنیوی و اخروی فلاح و کامیابی منحصر ہے ، تربیت اولاد ، اطاعت زوج اور حقوق العباد وغیرہ ۔

دیگر کتب حدیث میں اس بارے میں بکثرت روایات موجود ہیں معجم کبیر طبرانی میں ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادکچھ اس طرح ہے: جو شخص اپنی بیٹی کو خوب اچھی طرح تعلیم دے اس کی اچھی تربیت کرے اور اس پر دل کھول کر خرچ کرے تو (یہ بیٹی کل قیامت کے دن) اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہوگی ۔

اس حدتک تو اسلام کے نظام تعلیم میں خواتین کے حصول علم کی اجازت اور ضرورت ثابت ہے ۔ باقی رہا مغرب کا نظام تعلیم اور خواتین کا مسئلہ !!یہ ایک غور طلب پہلو ہے اور لمحہ فکریہ ہے کہ مغرب لیبل تو خواتین کی تعلیم کا لگاتا ہے لیکن در حقیقت وہ مخلوط نظام تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرم ہے ۔

مغرب کے نظام تعلیم میں خواتین کو سراسر مشکلات کا سامنا ہے ،جس میں عورت کی سب سے اہم امتیازی شان حیاء اور عفت ختم ہوجاتی ہے ۔وہ اپنی عزت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے ، مغرب کے نظام تعلیم میں اصلاح عقائد و اعمال تو رہے ایک طرف اس میں نہ تو اسلامی کلچر کی کوئی جھلک ہے ، نہ ہی انسانی تہذیب و تمدن کے کوئی آثار ، امور خانہ داری کا کوئی سبق ہے اور نہ گھریلو نظام زندگی کو بہتر بنانے کا کوئی فارمولہ ۔ تربیت اولاد کے بارے میں کوئی ہدایات ملتی ہیں اور نہ خوشحال ازدواجی زندگی کی کوئی ضمانت ۔ اس لیے اسلام کی بیٹیوں کو اسلام کے دامن سے ہی وابستہ رہنا چاہیے ، تاکہ ان کی دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی ۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

تیمارداری

متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ انسان کو صحت اور مرض دونوں پیش آتے ہیں مشت خاکی کبھی صحت مند ہوتا ہے اور کبھی مرض اس کو گھیر لیتا ہے اس بارے میں ہمیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چند نصیحتیں ذہن نشین کرنی چاہییں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو… ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ……صحت اور تندرستی کو بیماری سے پہلے غنیمت جانو۔

لیکن آج انسان جس ڈگر پر چل رہا ہے وہ بہت خطرناک ہے ، ہم اُس دھوکے کا شکار ہیں کہ جس کی نشان دہی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سارے لوگ دھوکہ میں مبتلا ہیں، پہلی تندرستی اور دوسری فراغت۔

انہی کی ناقدری کا نتیجہ ہے کہ آج جس کو یہ دو نعمتیں میسر ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اور بغاوت و سرکشی کی دلدل میں گردن تک دھنسا ہوا ہے۔

مگر اللہ کریم کا فضل اور احسان یہ ہے کہ وہ جب تندرستی عطا فرمائے تو اس کی نعمت ہے اور کبھی کسی مرض میں مبتلا کردے تو بھی انسان کو اپنے دائرے رحمت سے باہر نہیں نکالتا بلکہ اس وقت بھی اس کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے اس کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔

چونکہ انسان پر ایسے حالات عام طور پر پیش آتے رہتے ہیں اس لیے شریعت اسلامیہ نے ہماری ایسے امور میں بھر پور رہنمائی کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے باہمی حقوق کو بیان فرماتے ہوئے مریض کی تیمارداری کا ذکر بھی کیا ہے اور اس پر اجر وثواب کا تذکرہ فرمایا ہے۔

امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح مسلم میں ایک حدیث لائے ہیں : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا، اے ابن آدم میں مریض تھا تو نے میری تیمارداری کیوں نہ کی؟ بندہ عرض کرے گا :اے اللہ! میں آپ کی عیادت کیسے کرتا حالانکہ آپ رب العالمین ہیں ( یعنی آپ بیمار ہونے سے پاک ہیں) اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آئے گا کہ میرا فلاں بندہ مریض تھا تو نے اس کی تیمارداری نہیں کی کیا تجھے پتہ نہیں کہ اگر تو اس کی تیمارداری کرتا تو مجھے اسی کے پاس پاتا۔

امام طبرانی رحمہ اللہ نے حضرت ابو ہریرہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب کوئی شخص کسی مریض کی تیمارداری کے لیے جاتا ہے تو اللہ تعالی75000 فرشتوں کو مقرر فرماتے ہیں جو اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں، )یہ تیمارداری کی غرض سے جانے والا شخص ( جب قدم زمین سے اٹھاتا ہے تو اس کے لیے نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جب قدم زمین پر رکھتا ہے تو اس کا گناہ مٹادیاجاتا ہے اور اس کا درجہ بلند کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس مریض کے پاس (تیمارداری) کے لیے جابیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس وقت تک اللہ کی رحمت میں ڈھکا رہتا ہے جب تک )مریض کی تیمارداری کر کے (واپس نہیں آجاتا۔

امام احمد رحمہ اللہ نے اس سے ملتی جلتی ایک حدیث نقل کی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہیں کہ یہ تو تیمارداری کرنے والے کا اجر آپ نے بتلایا ہے مریض کے بارے میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مریض کے گنا ہ ختم ہوجاتے ہیں۔

امام ابن ابی الدنیا رحمہ اللہ آپ صلی ا للہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ساتھ نقل فرماتے ہیں کہ جو شخص تین دن تک بیمار رہے وہ گناہوں سے ایسے پاک ہوجاتا ہے جیسے وہ ماں کے پیٹ سے ابھی نکلا ہو یعنی اس کے ذمے کوئی گناہ نہ ہو۔

امام ابو داود رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے جائے تو اس کو جہنم سے ستر سال کی مسافت کے برابر دور کردیا جاتا ہے۔

مریض کی تیمارداری کرنا ہمارادینی،اخلاقی اور معاشرتی حق ہے۔ بہتر ہے کہ مریض کے پاس جاتے وقت کچھ)حسب استطاعت( پھل وغیرہ ساتھ لے لیں، مریض کو جاتے ہی تسلی آمیز کلمات کہے، زیادہ دیر اس کے پاس نہ بیٹھیں۔

امام ترمذی رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ

تیمارداری کرنے والا مریض کے پاس بیٹھ کر سات مرتبہ یہ دعا کرے تو اللہ اسے اس مرض سے شفاء عطاء فرماتے ہے: اَسْاَلُ اللہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَکَ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریض کی دعا کو خالی نہیں لوٹایا جاتا۔

ایک حدیث میں ہے کہ جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اس سے دعا کی درخواست کرو کیونکہ اس کی دعا ملائکہ کی دعا کی طرح ہے (یعنی رد نہیں ہوتی)دوسری حدیث میں ہے کہ مریض کی دعا قبول ہے اور اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

اسلام میں ”صلہ رحمی“ کا معاشرتی کردار

……? مولانا محمد الیاس گھمن

پر امن معاشرے کو تعمیر کرتے وقت رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن جن امور کو سنگِ بنیاد کی حیثیت دی ان میں ایک” صلہ رحمی“بھی ہے۔ اسلامی معاشرت میں حسن سلوک ،اخلاق حسنہ اور باہمی تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانے اور ان کو اپنانے پر بہت زور دیا گیا ہے تاکہ امن و سکون اورراحت وچین میسر آسکے۔

قران کریم کی سورۃ رعد کی آیت نمبر21 تا 24 میں جہاں ”صلہ رحمی“ کے بارے میں ترغیب اور تاکید موجود ہے وہاں پر اس کی وجہ سے ملنے والے انعامات خداوندی کا تذکرہ بھی واضح الفاظ میں مذکور ہے۔

قبیلہ خثعم کے ایک شخص نے ہادی دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں سوال کیا: کیا آپ واقعتاً اللہ کے برحق رسول ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! بالکل میں اللہ کا برحق رسول ہوں۔ اس کے بعد اس شخص نے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا کہ اللہ پر کامل ایمان لانا۔

سائل نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مزید بھی ارشاد فرمائیں) کہ عقائد اسلامیہ کے بعد اللہ کے ہاں پسندیدہ بات کون سی ہے؟( آپ نے فرمایا: ”صلہ رحمی“کرنا ۔

ایک مرتبہ ایک دیہاتی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا: اے اللہ کے برحق رسول !مجھے کوئی ایسا فارمولہ بتائیں کہ جو مجھے جنت کے قریب کردے اور جہنم سے دور کردے۔

اس کا جواب دیتے ہوئے آپ نے ایک ایسا اصول مقرر فرمایا جس پر عمل پیرا ہوکر قیامت کی صبح تک آنے والا ہرشخص جنت کے قریب اور جہنم سے دوری اختیار کرسکتا ہے۔

نمبر1: اللہ کی وحدانیت پر کامل ایمان لاؤ نمبر2: نماز قائم کرو۔ نمبر3:زکوٰۃ ادا کرو )اگر صاحب نصاب ہو تو ( نمبر4:صلہ رحمی کرو۔

راوی حدیث حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےفرمان کو سن کر وہ شخص جب چلا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میری بیان کردہ باتوں پر عمل کرے تو سیدھا جنت میں جائے گا۔

امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے اپنی کتب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ”صلہ رحمی“ کرے۔

ایک اور حدیث مبارک میں ہے: جو شخص اس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو (یعنی زندگی میں اللہ برکت عطاء فرمائے) اور اس کے رزق میں فراخی ہو مزید یہ کہ اسے بری موت بھی نہ آئے تو اسے چاہیے کہ وہ تقویٰ اختیار کرے اور”صلہ رحمی“ کرے۔

بلکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی نقل کرتے ہیں: تورات میں یہ بات لکھی ہوئی تھی جو اپنی لمبی زندگی اور رزق میں کشادگی چاہتا ہو اسے چاہیے کہ وہ”صلہ رحمی“ کرے۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم لوگ ایک جگہ اکٹھے ہو کر بیٹھے تھے ،ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمانے لگے: اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو اور”صلہ رحمی“ کرو، کیونکہ اس عمل کا ثواب جلدی قبول ہوتا ہے، حدیث کے آخر میں ہے جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کی مسافت سے محسوس کی جاسکتی ہے لیکن قطع رحمی کرنے والا اسے سونگھ بھی نہیں پائے گا۔

امام بزار اور امام حاکم رحمہما اللہ نے ایک حدیث حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے نقل کی ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین خوبیاں جس شخص کے اندر ہوں گی اللہ تعالیٰ اس کا حساب وکتاب بہت آسان کردے گا اور اسے جنت میں بھی داخل کرے گا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ کون سی تین خوبیاں ہیں؟

آپ نے فرمایا: جو شخص تم کو محروم کرے تم اسے نوازدو، جو تمہارے اوپر ظلم کرے اسے معاف کردو، جو تم سے قطع تعلقی اختیار کرے تم اس سے”صلہ رحمی“ کرو ۔ جب تم یہ کام کرو گے تو اللہ تمہیں جنت عطاءفرمائے گا ۔

قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں جابجا ”صلہ رحمی“ کا حکم موجود ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ آج ہمارا مسلم معاشرہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے کوسوں دور ہوتا چلا جارہا ہے۔ بھائی؛ بھائی سے تعلقات ختم کرچکا ہے، بہن ؛بہنوں سے سے ،ماں باپ ؛ اولاد سےاور اولاد؛ والدین سے ۔ہم لوگ اپنے اعزہ و اقارب اور دوست احباب سے ہلکی پھلکی باتوں پر قطع تعلقی کرلیتے ہیں اور پھر خوشیوں پر آنا جانا ختم حتیٰ کہ موت فوت پربھی اپنی انا اور ضد پر اڑے رہتے ہیں ، یاد رکھیں کہ قطع تعلقی کے بیج کو بو کر پیار و محبت کاشت نہیں ہو سکتی ۔ اس لیے ہم سب کو چاہیے کہ احکام اسلامیہ کے مطابق ”صلہ رحمی“ پر عمل کریں اور قطع رحمی سےہمیشہ بچیں۔

اجتماعی زندگی میں ”پردہ پوشی“ کی اہمیت

مولانا محمد الیاس گھمن

آج اہل اسلام تعداد میں کم ہیں نہ ہی دولت، اقتدار، اسباب وسائل میں کسی قوم سے پیچھے ہیں۔ لیکن بحیثیت قوم عزت و وقار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، باہمی عداوت، نفرت، بغض وعناد اور حسد و جلن جیسے دیمک نے اس کے مضبوط اور با اثر وجود کو چاٹنا شروع کردیا ہے، نتیجۃ مسلمان اخلاقی اور روحانی اعتبار سے کھوکھلا ہوچکا ہے۔

جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسی معاشرت سپرد کی تھی، جس میں باہمی محبت، انس و مودت، اخوت و بھائی چارگی، خیر خواہی و ہمدردی، شفقت و احترام ، عزت و توقیر اور عظمت و مرتبت موجود تھی، اس حوالے سے آپ کی زبان مبارک سے تمام مسلمانوں کو آپس میں ”اخوت“ کے اعزاز سے نوازا گیا۔

المسلم اخو المسلم ۔

روئے زمین پر بسنے والے تمام مسلمان خواہ کسی بھی رنگ، نسل، قبیلے، برادری یا علاقے سے تعلق رکھتے ہوں ان کا آپس میں بھائیوں والا تعلق ہونا چاہیے ایک مسلمان کی خوشی سے دوسرے کو بھی خوشی حاصل ہونی چاہیے اور اگر کسی ایک کو کوئی دکھ ،رنج ،الم یا پریشانی پیش آتی ہے تو اس کی تکلیف بھی تمام مسلمانوں کو محسوس ہونی چاہیے۔

آپس میں اجتماعی زندگی گزارتے وقت کئی طرح کے امور پیش آتے ہیں مختلف مزاج انسانوں کے جمگٹھے میں بعض ناگوار اور غیر مناسب باتیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایسے مواقع پر اسلام ہمیں غیر مناسب باتوں کو اچھالنے کی بجائے چُھپانے کا درس دیتا ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم ”پردہ دری“ کے ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں جب کہ ہمیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پردہ پوشی“ والے مقدس ماحول بنانے کا حکم دیا تھا۔

متعدد احادیث اس بارے میں کتب حدیث میں مذکور ہیں ،چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کا فرمان نقل کرتے ہیں جو خوشگوار اجتماعی زندگی کا روشن مینارہ ہے۔

آپس میں رہتے ہوئے اگر کسی کا کوئی عیب گناہ یا غیر اخلاقی کام دیکھ لیں تو اسے جگہ جگہ اچھالنے سے گریز کریں، بلکہ اسے چھپالیں۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب کو چھپائے گا اسے ذلت و رسوائی سے بچائے گا تو اللہ کریم روز قیامت اس کے گناہوں کو چھپالیں گے۔

ایک اور حدیث میں اس بات کا سبق بھی دیا گیا ہے کہ آپس میں ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبے کو موجزن رکھا جائے ،اگر کوئی مسلمان پریشانی اور تکلیف میں مبتلا ہے تو اس کی پریشانی اور تکلیف کو دور کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جائے، جو شخص کسی کی دنیاوی پریشانی دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی پریشانیوں کو دور فرمائے گا اور جو شخص کسی مسلمان بھائی کے لیےکسی معاملے میں آسانی پیدا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا و آخرت کی میں آسانیاں ہی آسانیاں پیدا فرمائیں گے ، جب تک آدمی اپنے بھائی کی ہر ممکن مدد کرنے میں لگا رہتا ہےاس وقت تک اللہ تعالیٰ اس کی ”امداد “فرماتے رہتے ہیں۔

امام طبرانی رحمہ اللہ نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت نقل فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مومن بھائی کے عیوب کو دیکھ کر چھپالیتا ہے تو اللہ اسے بدلے میں جنت عطاء فرمائیں گے ۔

امام نسائی، ابن حبان اور امام حاکم رحمہم اللہ نے اپنی اپنی کتب حدیث میں صحیح سند کے ساتھ ایک واقعہ نقل کیا ہے : دُخین ابو الہیثم نامی ایک شخص نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو اپنے پڑوسیوں کے بارے میں بتایا کہ وہ شراب خوری کرتے ہیں پھر ان سے پوچھا کیا میں ان کی اطلاع پولیس کو کردوں؟

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے :ہرگز نہیں! بلکہ تم ان کو سمجھاؤ اور اللہ کے خوف سے ڈراؤ۔ ابو الہیثم کہنے لگے کہ میں نے انہیں بارہا اس کام سے باز رہنے کو کہا لیکن وہ نہیں رکتے ۔کیا ایسی صورت میں ان کی اطلاع پولیس کو کردوں؟

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے:او اللہ کے بندے! ایسا نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جو شخص پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس کو اس کا اتنا بڑا اجر عطاء فرماتے ہیں جیسے اس نے زندہ درگور کی جانے والی بچی کو زندہ بچالیا ہو۔

امام طبرانی رحمہ اللہ انہی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہی کا ایک اور واقعہ نقل کیا ہے کہ یہ مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کے پاس ملنے کے لیے تشریف لے گئے تو مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کے دربان نے آپ کو اندر جانے سے روک دیا اور آپس میں کچھ باتیں کرنے لگے اندر سے مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ نے یہ صورتحال دیکھی تو اپنے چوکیدار سے کہا کہ انہیں اندر آنے دیں۔

جب حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ سے فرمانے لگے میں محض آپ کی زیارت کے لیے نہیں آیا بلکہ مجھے آپ سے ایک کام بھی ہے ۔کیا آپ کو وہ دن یاد ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا ”جسے اپنے بھائی کی برائی یا غیر اخلاقی کام کے بارے میں معلوم ہوجائے اور وہ اسے چھپالے یعنی اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرے تو اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے۔ “

مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں مجھے آپ علیہ السلام کا یہ فرمان یاد ہے چنانچہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں محض اسی لیے آپ کے پاس حاضر ہوا تھا کہ آپ سے اس کی تصدیق حاصل کرلوں۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بات ہمیں معلوم ہوتی ہے کہ ہمیں اپنا مزاج ایسا بنانا چاہیے کہ ہم دوسروں کے عیوب کو جگہ جگہ نہ بتاتے پھریں ہمیں عیب گوئی سے بھی شریعت منع کرتی ہے اور عیب جوئی سے بھی۔

بلکہ سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں:” جو کسی دوسرے کی ”پردہ پوشی“ کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کے عیوب اور گناہوں کو چھپالیں گے اور جو شخص لوگوں کی ”پردہ دری“ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو گھر بیٹھے ذلیل اور رسوا کردیتا ہے۔ “

اس حوالے سے آج ہم سب کو اپنی اپنی حالت دیکھ لینی چاہیے، کیا ہم وہ کام کر رہے ہیں جس سے کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہمارے عیوب اور گناہوں کو چھپا لیں گے یا پھر ہم وہ کام کر رہے ہیں جس سے انسان اپنے گھر بیٹھے رسوا ہوجاتا ہے ۔ یہ بات ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے اسلام کی تعلیمات سے منہ موڑ لیا ہے ، ہماری اخلاقی حالت قابل رحم ہے ، جب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی بجائے مغربی کلچر اپنے ماحول میں داخل کیا ہے اسی دن سے بے سکونی ہے ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک عادات اپنانے کی توفیق بخشے ۔

آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامی الکریم

عید الاضحیٰ: آوٴپھر عہدِ وفا تازہ کریں!

محمد عامر مظہری ،جالے
دارالعلوم سبیل الفلاح جالے
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ ”ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کرنا اس لئے مقرر کیا تاکہ وہ مخصوص جانوروں (اونٹ‘ گائے‘ بکرے وغیرہ پر ) اللہ تعالیٰ کا نام لے کراسے قربان کریں“۔ (سورہ الحج) یہی وجہ ہے کہ اللہ کو منانے اور اس کی توجہ اور قرب اپنی جانب مبذول کرنے کے لیے قربانی کرنا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک اور تاحال جاری ہے اور تقرب کا یہسلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔قربانی کرنے کا اولین ذکرہمیں قرآن سے آدم علیہ السلام کے بیٹوں کی طرف سے دی گئی قربانی کے حوالے سے ملتا ہے۔ اس کے بعد تمام امتوں ،گروہوں،قبائل اور نسلوں میں اس کا وجود کسی نہ کسی طور پر نظر آتا ہے۔مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دوسرے تمام مذاہب میں بھی قربانی کو تقرب کے ذریعے کے طور پر اختیار کیا گیا۔بت پرست اپنے بتوں کے آگے قربانی دیتے تھے۔یہاں تک کہ شیطان کے پجاری شیطان کو راضی کرنے کے لیے قربانی پیش کرتے تھے،اسی طرح مجوسی و ستارہ پرست لوگوں کے ہاں اپنا ایک طریقہ رائج رہا الغرض ہر مذہب میں اپنے معبود کو راضی رکھنے کی ڈگر جاری رہی ہے ، سیکڑوں سال قبل دنیا کے ناقابل رسائی جنگلات میں بہت سے مشرک قبائل حتیٰ کہ آدم خور قبائل بھی ان دیکھے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے قربانی دیتے آئے ہیں۔بعض قبائل میں تو اس کے لیے انسان تک کی قربانی دی جاتی رہی ہے۔ زمانہٴ قدیم میں اہل مصر کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اچھی فصل کے لیے نیل کے دیوتا کو خوش کرنے کے لیے انسان، جو عام طور پر کوئی کنواری دوشیزہ ہوا کرتی تھی، کی قربانی دیا کرتے تھے۔ انڈونیشیا کے وحشی اور آدم خور قبائل کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ انسانوں کی قربانی دیا کرتے تھے۔جنوبی امریکا کے بہت سے جنگلی قبائل میں بھی اس امر کے اشارے ملتے ہیں کہ وہ ایسا کیا کرتے تھے۔ جانوروں کی قربانی تو مختلف مذاہب میں عام رہی ہے اور آج بھی دی جاتی ہے، تاہم اس سلسلے میں حرام حلال جانور کی تمیز نہیں کی جاتی ۔ہندو مت میں بھی مختلف دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے ”بھینٹ“ کا تصور موجود ہے۔قربانی کے لیے ضروری نہیں کہ ان مذاہب میں صرف جانوروں کو قربان کیا جائے بلکہ خوراک اور دیگر مختلف اشیاء کی شکل میں بھی قربانی دی جاتی رہیں ہیں اور اسی وجہ سے قربانی کو مختلف مذاہب میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے۔مثال کے طورپر ماقبل عیسائیت کے مختلف علاقائی مذاہب میں قربانی کے لیے جو نام استعمال کیے جاتے تھے ، ان میں ہندوؤں میں اسے ”بھینٹ“ اور ’یگیہ “، یونانیوں میں ”تھوسیا“ ، جرمنی قبائل میں ”بلوٹان“ اور صیہونی یا عبرانی زبان میں ”قربان“ کہا جاتا تھا۔
اسلام میں قربانی سنت ابراہیمی کی یاد گار ہے۔کیوں کہ حدیث شریف میں موجود ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ قربانی کیا ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ الصلوة والسلام کی یادگار ہے“چوں کہ دین اسلام کو ملت ابراہیم علیہ الصلوة و السلام سے کافی امور میں مماثلت ہے اس لئے قربانی کی نسبت حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة و السلام کی طرف کی گئی ہے۔ دوسری وجہ مفسرین نے یہ بھی لکھی ہے کہ قربانی کے عمل میں حضرت اسماعیل علیہ الصلوة و السلام کے واقعہ کو خاصہ دخل ہے۔ اس لئے نسبت ان کی طرف کی گئی ہے کہ ’سنتہ ابیکم ابراہیم‘ قربانی کی فضیلت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ کوئی نبی اور کوئی امت اس مبارک عمل سے مسثتثنیٰ نہیں رہی ہے خود سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال گزارے اور ہر سال قربانی فرماتے رہے ایک اپنی طرف سے اور ایک اپنی امت کی طرف اور حجتہ الوداع کے موقع پر سو اونٹ قربان فرمائے جن میں تریسٹھ اونٹ خود اپنے دست مبارک سے راہ خدا میں ذبح فرمائے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو ترغیب دینے کے لئے اس مبارک عمل کے فضائل بیان فرمائے اور دونوں جہانوں میں رب العالمین کی رضاکا ذریعہ قرار دیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”یوم النحر (دسویں ذوالحجہ) میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک قربانی کرنے سے زیادہ پیارا نہیں۔ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا، قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے خدا کے نزدیک شرف قبولیت حاصل کرلیتا ہے لہذا اسے خوش دلی سے کرو“۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتا ہوں۔ (ترمذی 3 : 159، رقم : 1493)حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں دس سال مقیم رہے اس عرصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر سال قربانی کی۔ (ترمذی 3، 170، رقم، 1507)حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ قربانی کیا شے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اس قربانی سے ہمیں کیا ثواب ملے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اگر مینڈھا ہوتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تب بھی ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی“۔ (ابن ماجہ، 3 : 533، رقم : 3127)
یہ قربانی بلاشبہ سنت ابراہیمی ہے لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم اسلام کی سر بلندی و احیائے دین و ملت اسلامیہ کی نشأتِ ثانیہ کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار رہیں، مال و دولت، اہل و عیال یہاں تک کہ اپنی جان بھی راہ حق میں لٹانے سے گریز نہ کریں۔لیکن بدقسمتی سے ہم نے قربانی کی رسم کو تو اپنایا مگر اس کی اصل روح کو نہ سمجھ سکے۔ دراصل قربانی 10 ذی الحجہ کو جانور کی گردن پر چھری چلا کر خون بہادینے کا نام ہے۔ گوشت تقسیم کرنا بعد کا حکم ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔”ہر گز نہ (تو) اللہ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے“۔ (الحج)گویا انسان 10 ذی الحجہ کو جانور کی قربانی دے کر ذبح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یاد تازہ کرتا ہے اور اس دن اللہ سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ اے اللہ! جس طرح آج حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا فدیہ ادا کررہا ہوں اسی طرح اس خون کو گواہ بناکر یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تیرے لئے، تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تیرے دین کی سربلندی کے لئے مجھے جان بھی قربان کرنی پڑی تو کبھی بھی دریغ نہیں کروں گا۔ اگر قربانی کے عمل کے اندر یہ روح کارفرما نہ ہو تو قربانی رسم کے سوا کچھ نہیں۔کیوں کہ قربانی کے پیچھے جو حکمت کارفرما ہے وہ اخلاص، للہیت، ایثار، تقویٰ اور مجاہدانہ کردار کی تیاری کو یقینی بنانا ہے۔ قربانی محض جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ تقویٰ کے جذبات ہیں اور مقصد رضائے الہٰی ہے۔ عیدالاضحی پر جانوروں کی قربانی جہاں ایک عظیم عبادت ہے، وہاں تجدید عہد ِوفا بھی ہے۔ قربانی درحقیقت اس وعدے کو دہرانے کا نام ہے کہ ہمارا جینا، ہمارا مرنا او رہماری پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ یہی ایک مسلمان کی زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔ بندگی کے اظہار کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنا بندہ مومن کا شیوہ ہے۔ اور دنیائے کفر کو یہ باور کروانا بھی ہے کہ ہم جس طرح حکمِ خداوندی اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا مال قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے، اسی طرح ہم اپنے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر اپنی جان ، اپنا مال اور اپنی اولاد قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے ۔
مگر دنیاوی لذات میں کھو کر آج ہم ذبح عظیم کی حقیقی روح کو فراموش کر کے عید الاضحی یعنی اس سنت ابراہیمی کو فقط اپنی نمود و نمایش ہی کا ذریعہ بنا بیٹھے ہیں ، ایک بکرے کی بجاے تین یا چار جانور ذبح کر کے معاشرے میں اپنی دولت کی دھاک بٹھانا ، قربانی کا گوشت حقداروں میں تقسیم کرنے کی بجائے دوستوں کے ساتھ دعوتوں میں اڑانا،یا پھر محض گوشت کو سال بھر محفوظ رکھنے کی نیت سے عید سے قبل ڈیپ فریزر خریدنا، گھر پر یا ہوٹلوں میں عید کی شاندار پارٹیوں کا اہتمام کرنا، الغرض آج ہماری عید الاضحی صرف مظلوم و بے زبان جانوروں کی گردنوں پر چھریاں چلا کر معاشرے میں اپنی دولت کی نمود و نمایش تک محدود ہو کر رہ گی ہے ، اس عظیم قربانی کا اصل مفہوم تو یہ تھا کہ انسان اپنے نفس کی ناقہ کو قربان کرے اور انقطا ع کی چھری سے اپنی خواہشات نفسانی کی گردن کاٹ دے یہی وہ نیت ابراہیمی ہے اور یہی سنت اسماعیلی ہے، ذبح عظیم کی حقیقی روح کو فراموش کر کے ہم بیشک لاکھوں جانور ذبح کرتے چلے جا ئیں ،تمام بے سود اور فقط جانوں کا زیاں ہے ، ذبح عظیم تو وہ ہے جو اپنے دل سے ذبح ہو رہا ہو، ذبح عظیم تو نفس کو قربان کرنے کا پیغام تھا، ذبح عظیم تو اپنی نفسانی خواہشات کی گردن کا ٹنے کا نام تھا،اور ذبح عظیم تو خود اپنے حقوق اپنے ہاتھوں تلف کرتے ہوے اپنے مال کا حصہ قربانی کے گوشت کا ایک بڑا حصہ غربا و مساکین میں تقسیم کرنا تھا؛کیوں کہ خالق کائنات کی خوشنودی کا راستہ اسکی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی سے ہو کر جاتا ہے ، یہی وہ تعلیم تھی جو اسی ذبح عظیم کا ایک پیغام بھی تھا کہ مخلوق خدا سے ہمدردی کے بنا خالق سے محبت کے تمام دعوے لا حاصل ہیں ، آج ہم نے جانوروں کی گردنوں پر چھریاں چلانے کی رسم تو اپنا لی لیکن سنت اسماعیلی کو قطعا فراموش کر تے ہوے اپنے نفس کو بے لگام ہی چھوڑ دیا تمام کی تمام حقیقی قربانیوں اور ذبح عظیم کی روح کو کتابوں میں دفن کر کے بے زبان جانوروں کا خون بہانے گوشت کھانے اور دعوتیں و پارٹیاں اڑانے کوبنا دیا جب کہ حقیقی قربانیاں تو آج یہ بے چارے بے زبان جانور دے رہے ہیں ،اپنی جانوں کا ہمارے ہاتھوں زیاں کر کے ،افسوس کہ اس ذبحِ عظیم کی روح کو آج یہ بیچارے بے زبان جانور تک تو سمجھ گئے مگر یہ نسل ابراہیم آج بھی اس سنت اسماعیلی سے ناواقف ہی ہے۔
آج عزمِ ابراہیمی درکار ہے۔ کیوں کہ عید قرباں پر بارگاہِ الٰہی میں قربانی کے ذریعے ہم اس درس کی تجدید کرتے ہیں جو عرب کے ریگ زار میں اللہ کے سچے پیغمبر نے اپنے فرزند کی قربانی پیش کر کے وفا شعاری کا عزم دیا، اور رب کریم کی اطاعت و فرماں برداری کا درس دیا، پھر عزم جواں چاہیے جس سے اسلام کی فصیل کو اندرونی و بیرونی حملوں سے بچانے کا سامان مہیا ہو سکے۔ کیا ہم اپنے زخموں سے با خبر ہیں؟عراق و افغان تباہ ہو کر رہ گئے، فلسطین میں خونِ مسلم کی ہولی کھیلی جاتی رہی، مصر و لبنان، شام و یمن اور لیبیا صہیونیت کی زد پر ہیں، ہمارے کلچر کو مغرب دوخانوں میں تقسیم کر رہا ہے، تعبیرات کا یہ طلسم اس کی مثال ہے،اعتدال پسند اور انتہا پسند،لیکن مسلمان مسلمان ہے وہ ان صہیونی تعبیرات سے اپنی شناخت کو مجروح ہوتا نہیں دیکھ سکتا،دنیا کے بہت سے خطے خونِ مسلم سے لہولہان ہیں، اسلامی ممالک میں باہم اتحاد نہیں، عربوں کا سرمایہ سوئز بنکوں میں منتقل ہو رہا ہے، معاشی طور پر مسلمانوں کو تباہ کر کے رکھ دیا گیا ہے، سیاسی لحاظ سے بھی ہم کم زور کر دیئے گئے، عرب حکمراں اسلامی آثار کو ہی پامال کرتے جا رہے ہیں،آج اسلامی تمدن پر حملہ ہے، اسلامی وضع قطع پر حملہ ہے،
داڑھی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیا ہم اب بھی نہ جاگیں گے؟کیا قربانی کے لیے جذبہٴ صالح اب بھی بیدار نہیں ہوگا؟ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے نفس کی قربانی دے کر اسلامی زندگی کا عہدکریں۔ ہم اپنے مال کی قربانی دے کر باطل کے خلاف صالح لٹریچر کی اشاعت کریں، ہم گستاخوں کے مقابل ڈٹ کر عشق رسول کے داعی بن جائیں، ہم عزم ابراہیمی سے فیض حاصل کر کے قوم کے لیے کچھ جدوجہد کریں۔
قربانی کا مقصد یہی ہے کہ رب کی رضا کے لیے جیو، زندگی گزارو اپنے خالق کی خوشنودی کے لیے، جہاں رہو جس حال میں رہو اسلام کے سچے وفادار بن کر رہو، اسلامی احکام پر عمل کرو، اسلامی تہذیب اپنا کر زندگی کامیاب بناوٴ۔ یہی ہمارا مقصد ہو کہ ہمارا ہر لمحہ اطاعت الٰہی اور محبت رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں گزرے۔ ہمارا ہر عمل اسلام کے مطابق ہو #
آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

عشرہٴ ذی الحجہ، قربانی فضائل ومسائل

تحریر :مولانا محمد ساجد حسن سہارنپوری
استاد تفسیرو حدیث جامعہ مظاہرعلوم سہارنپور یوپی

تجربات و مشاہدات سے یہ ثابت ہے کہ سال بھر میں کئی موسم، بہاریں اور فصلیں آتی ہیں اور یہ علا قا ئی اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں، مثلاً ہمارے ان اطراف(سہا رنپوروغیرہ) میں گر می کے موسم کے آغاز میں گندم (گیہوں) کی فصل اوسر دی کے موسم کے آغاز میں دھان کی فصلیں ہوتی ہیں، ایک فصل کا موسم ختم ہوتا ہے تو دوسرا آجاتا ہے۔ کاشتکار دونوں فصلوں میں گندم کی فصل کو اہم اور قیمتی سمجھتا ہے مگر کبھی کبھی تقدیرِ خداوندی سے اس فصل سے بالکل محروم یا خاطر خواہ اور اندازہ وقیاس کے مطابق نفع حاصل نہیں کرپاتا، گذشتہ کی تلافی اور مستقبل کو روشن بنانے والا کاشت کار صورت اپنی تمام تر توجہ آئندہ فصل پر مرکوز کردیتا ہے۔
نیز تاجروں کو بھی فصل کے موقع پر قیمت کم دینی ہوتی ہے اور سامان زیادہ ملتا ہے، ہوشیار، مزاج شناسی، اور تجربہ کا رتاجر اس موقع پر کم قیمت اورکم محنت اٹھا کر زیادہ اسٹاک کرلیتا ہے اور نفع حاصل کرتا ہے۔
شریعت کی نظر میں بھی ہر آدمی تاجر ہے ”کُلُّکُمْ َبائعٌ نَفْسَہ“ اس کو بھی نیکیاں حاصل کرنی ہیں، اس لیے اس کو فصل بہارا ور ایسے مواقع سے سرفراز کیا گیا ہے کہ محنت و مشقت کم اور فائدہ زیاد ہ سے زیادہ حاصل کرسکے۔
سب سے بڑی فصل بہار تو رمضان المبارک اور شب قدر تھی، مگر جو لوگ غفلت اور اپنی کوتاہ طبیعت اور اپنی کم ہمتی کی بنا پر اس سے محروم رہ گئے، تو ان کو مزید ایک اور موقع دیا جاتا ہے اور وہ ذی الحجہ کے دس دن اور دس راتیں ہیں۔
جس کی ایک رات کی عبادت ایک سال کی عبادت کے برابر ثواب رکھتی ہے اس کثیر ثواب کی خاطر ضروری ہوا کہ عشرہ ذی الحجہ میں عبادت اورروزوں کا اہتمام کریں، جو شب زندہ دار ہیں ان کے لیے تو ”سونے پر سہاگہ“ ہے مگر دیگر قدردانوں کے لیے بھی یہ نعمت غیر مترقبہ ہے۔ اس لیے ان راتوں کو بھی مثل رمضان تسبیح و تہلیل ، تلاوت و استغفار ،نیاز و نماز میں بسر کریں۔ والله الموفق وہوالمعین․
چنانچہ قرآن کریم میں قسم کھاکر اللہ رب العزت نے ان راتوں کی اہمیت بتلائی ہے
”وَالْفَجْرِ، وَلَیَالٍ عَشْرٍ، وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ، وَاللّٰیْلِ اِذَا یَسْرِ،ہَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِذِیْ حِجْرٍ․“
” قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اورجفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے ،بیشک اس میں عقل مند کے واسطے کافی قسم بھی ہے“۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں چند چیزوں کی قسم کھاکر یہ ارشاد فرمایا: کہ کافروں کو، توحید و رسالت کا انکار کرنے والوں کو ضرور سزا ہوگی، اللہ تعالیٰ کو قسم کھانے کی ضرورت تو نہیں مگر مخاطبین کے اعتبار سے کلام میں قوت پیدا کرنے کے کے لیے اور جن چیزوں کی قسم کھائی ہے ان کی عظمت واہمیت اجاگر کرنے کے لیے کلام الٰہی میں متعدد قسمیں موجود ہیں۔
مذکورہ آیت شریفہ میں اولاً وقت فجر اور بعدہ اکثر مفسرین کے بقول ماہ ذی الحجہ کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے،تذکرہ اگر چہ دس راتوں کا ہے مگر مراد و مقصود دس رات اور دس دن دونوں ہیں۔
ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں: کہ سورہٴ فجر میں اللہ رب العزت نے فجر اور دس راتوں نیز شفع اور وتر کی قسم کھائی ہے، توان دس راتوں سے ذی الحجہ کی دس راتیں مراد ہیں۔ شفع سے قربانی کا دن اور وتر سے عرفہ کا دن مراد ہے۔
(شعب الایمان، تخصیص ایام العشر من ذی الحجة بالاجتہاد وبالعمل فیہن رقم الحدیث ۳۷۴۶)
نیز سورہ ٴحج کی آیت شریفہ ۲۸: ”وَاذْکُرُ وا اللهَ فِیْ اَیَّام مَّعلُوْمَات“ کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ: اَیاّم معلومات سے بھی ذی الحجہ کے دس دن ہی مراد ہیں۔ اور بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ کا یہ عمل بھی مذکورہ ہے کہ یہ دونوں حضرات ان ایام کی خود بھی قدر کرتے، تکبیر(اللہ اکبر) و تہلیل(لا الہ) پڑھتے اور لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے بازار جاتے اور بآواز بلند تکبیر پڑھتے ان کے اس عمل کو دیکھ کر لوگ بھی تکبیر پڑھتے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی ”ما ثبت من السنة “ نامی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں :کہ اگر کسی آدمی نے نذر اور منت مان لی کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو ہفتہ کے سب سے افضل اور بہتر دن کا روزہ رکھوں گا، تو اسے جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا ہوگا کیونکہ جمعہ کا دن ہفتہ کا سب سے افضل اور بہتر دن ہے۔
اور اگر کسی نے نذر مانی کہ وہ سال کے سب سے افضل دن کا روزہ رکھے گا تو اس کو عرفہ کے دن (نویں ذی الحجہ) کا روزہ رکھنا ہوگا، کیونکہ عرفہ کا دن سال کا سب سے افضل دن ہے۔
اور اگر کسی نے نذر مانی کہ سال کے سب سے افضل دنوں کے روزہ رکھے گا تو اس کو انہیں ذی الحجہ کے دس دنوں کے روزے رکھنے ہوں گے، کیونکہ سال کے سب سے افضل دن یہی ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔
شیخ صاحب کی اس تحریر سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ذی الحجہ کے یہ دس دن کس قدر قیمتی ہیں اور ہفتہ کا سب سے افضل اور بہتر بلکہ سال کا سب سے بہتر دن بھی ان دس دنوں میں ہی آرہا ہے۔
بعض علماء نے اس عشرہ کو رمضان کے عشرہ سے بھی اس اعتبار سے افضل قرار دیا ہے کہ اس عشرہ میں بہت سی بنیادی عبادتیں اکٹھی ہوجاتی ہیں جو دوسرے دنوں رمضان وغیرہ میں جمع نہیں ہوتیں، مثلاً نماز، روزہ، صدقہ اور حج وغیرہ سب ان دس دنوں میں جمع ہیں۔
(ما ثبت من السنة ص:۲۴۳)
احادیث مبارکہ میں بھی ان ایام اور خود ذی الحجہ کی فضیلت بھی مذکور ہے۔
ماہ ذی الحجہ کی فضیلت
مہینوں میں سب مہینوں کا سردار تو رمضان المبارک ہے، مگر رمضان کے بعد جس مہینہ کی رو رعایت اور جس کا حق، جس کی حرمت، جس کا ادب و احترام اور جس کا اہتمام سب سے زیادہ ضروری ہے، وہ ذی الحجہ کا مہینہ ہے۔
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب مہینوں کا سردار تو رمضان المبارک ہے اور مہینوں میں سب سے بزرگ تر ذی الحجہ کا مہینہ ہے۔
(شعب الایمان بیہقی باب فی الصیام تخصیص أیام العشر من ذی الحجہ رقم: ۳۷۵۵)
نوٹ: ”عشرة“ کے معنی عربی زبان میں دس اور ذی الحجہ کے معنی حج والا مہینہ جو ہجری سال کا بارھواں مہینہ کہلاتا ہے، مگر یہاں عشرة سے دس نہیں بلکہ نو دن مراد ہیں، انہیں کا روزہ رکھنا بالاجماع مستحب ہے، دسواں دن قربانی کا دن ہے جس کار وزہ رکھنا حرام ہے۔ (تحفة الالمعی ۳/۱۳۰)
آداب ماہ ذی ا لحجہ:
ذی ا لحجہ کا مہینہ شروع ہو نے کے بعد مستحب ہے کہ آدمی نہ سر منڈوائے ،نہ بال کتر وائے، نہ ناخن ترشوائے ،خصوصاً جس کو قربانی کرنی ہو اس کے لئے اور زیادہ تاکید ہے ۔
ام المومنین حضر ت ام سلمہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس کو قربانی کرنی ہو، اورذی الحجہ کا چاند نظر آجائے ،تو وہ شخص اپنے بال نہ کٹائے اور نہ ناخن میں سے اس وقت تک کچھ ترشوائے جب تک کہ قربانی نہ کرلے ۔
(مسلم شریف باب نہی من دخل علیہ عشر ذی الحجہ :الرقم ۱۹۷۷)
اورجس پرقربانی واجب نہیں اس کے لئے ان چیزوں کااستحباب ایک دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے ،جس کو ہم (قربانی کے بدل)کے عنوان سے آگے لکھیں گے۔
عبادت کے لیے سب سے موزوں و مناسب دن:
کاشتکار جس موسم میں بھی بیج زمین میں ڈالدے تو بیج اُگ ہی جاتا ہے مگر تھوڑی محنت ، تھوڑی لاگت اور پیدا وار زیادہ۔ تو اس کے لیے ہوشیارکاشتکار اور دانا تاجر، مناسب اور موزوں موسم کا منتظر رہتا ہے۔ اسی طرح جس وقت اور جس حال میں بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی عبادت کرلی جائے تو بہتر ہی بہتر ہے۔ مگر تھوڑی محنت ”عمل کم اور ثواب زیادہ“ کے متلاشی حضرات کے لیے ذی الحجہ کے شروع کے دن بہت مناسب ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ عبادت کے لیے سب سے موزوں و مناسب اور سب سے محبوب و پسندیدہ دن اللہ کے نزدیک ذی الحجہ کے دس دن ہیں، کیونکہ ذی الحجہ کے ایک دن کے روزہ کا ثواب ایک سال کے روزوں کے برابر اور ایک رات کی عبادت کا ثواب شب قدر کی نفلوں کے برابر ہے۔
(رواہ الترمذی باب ماجاء فی العمل فی أیام العشر:الرقم۷۵۸)
ایک دن کے روزہ کا ثواب ایک سال کے برابر:
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، ذی الحجہ کے شروع کے دنوں میں سے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اور عرفہ (نویں ذی الحجہ) کا روزہ دو سال کے روزوں کے برابر اور عاشورا (دسویں محرم کا روزہ) ایک سال کے برابر اور جمعہ کی راتوں کی عبادت کا ثواب شب قدر کی نفلوں کے برابر ثواب رکھتا ہے۔
(اصبہانی فی الترغیب فی العمل فی ایام العشرة رقم الحدیث:۳۶۲)
ہر دن تین سال تین مہینے کے برابر:
حضرت انس بن مالک سے منقول ہے کہ (ذی الحجہ) کے دس دنوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ (ان میں سے ) ہر دن ایک ہزار دن کے برابر ہوتا ہے (اور ایک ہزار دن کے تقریباً تین سال تین مہینے ہوتے ہیں)اور(خاص) عرفہ کا دن فضل وثواب کے لحاظ سے دس ہزار دنوں کے برابرہے ۔
(بیہقی شعب الایمان الرقم ۳۷۶۶)
جہاد کے برابر ثواب
جہاد ہی کتنا مبارک عمل ہے پھر جہاد بھی وہ جس میں دن میں روزہ اوررات میں اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز گویا شب وروز کے چوبیس گھنٹے میں عبادت ہی عبادت۔ چوبیس گھنٹے عبادت کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے، اور رہا جہاد تو وہ تو بڑے دل ،گردے والے کا کام ہے۔
ایسے لوگوں کے لیے اللہ رب العزت نے ذی الحجہ کے دس دن عنایت فرمائے ہیں جو مذکورہ جہاد سے بھی کئی درجہ افضل وبہتر ہیں۔
عباس بن الولید کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا اور اوزاعی کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ (ذی الحجہ) کے دس دنوں میں سے کسی دن میں کیا جانے والا عمل اللہ کی راہ میں کئے جانے والے کسی ایسے غزوہ کے بقدر اجروثواب رکھتا ہے کہ جس کے دن میں روزہ رکھا جائے اور رات میں پہرہ داری کی جائے مگر یہ کہ کوئی شخص شہادت کو سینہ سے لگالے۔
اوزاعی کہتے ہیں کہ مجھ سے قریش میں سے بنو مخزوم کے ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی۔
(بیہقی فی شعب الایمان رقم الحدیث:۳۷۵۳)
کتنا روشن دن، کتنی منوّر رات ہے
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ ذی الحجہ کے شروع کے دس دنوں کی عبادت اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے، اور دوسرے دنوں کی بہ نسبت اِن دنوں کے عمل کے ثواب میں اضافہ کردیا جاتا ہے، چنانچہ ذی الحجہ کے ایک ایک دن کے روزوں کا ثواب ایک ایک سال کے روزوں کے برابر اور اس کی راتوں کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ثواب رکھتی ہے۔
(اصبہانی فی الترغیب فی العمل فی ایام العشرة رقم الحدیث:۳۶۵)
سب سے زیادہ ثواب والا عمل:
عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی عمل اللہ کے نزدیک اس نیک عمل سے زیادہ پاکیزہ اور ثواب میں بڑھا ہوا نہیں ہے کہ انسان جس کو عید الاضحی کے پہلے دس دنوں میں انجام دیتا ہے۔ پوچھا گیا ، کیا جہاد بھی نہیں؟ فرمایا: جہاد بھی نہیں ہاں! یہ کہ کوئی آدمی جان مال لے کر نکلے اور دونوں کو اللہ کے راستہ میں لگادے۔ اسی بنا پر سعید بن جبیر ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہونے پر عبادت میں حد سے زیادہ منہمک رہتے تھے۔
(شعب الایمان، باب فی الصیام ، الصوم فی الاشہر الحرم رقم الحدیث:۳۷۵۲)
نوٹ: ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو یوم الترویہ کہتے ہیں۔
آٹھویں دن کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ:
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں سے ہر دن کے روزہ سے ایک مہینہ کے گناہ معاف اور آٹھویں ذی الحجہ کے روزہ سے ایک سال کے گناہ معاف اور عرفہ کے دن کے روزہ سے دو سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
(اصبہانی فی الترغیب فی العمل فی ایام العشرة رقم الحدیث:۳۶۳)
عرفہ کا دن: ذی الحجہ کے نویں دن کو عرفہ کہا جاتا ہے۔
ایک سال کا کفارہ:
عرفہ ایک ایسا متبرک دن ہے کہ اگر آدمی اپنے اعضاء کو اس دن گناہوں سے محفوظ رکھ لے تو اس ایک دن کی برکت سے اللہ تعالیٰ ایک سال کے گناہوں کومعاف فرمادیتے ہیں۔
حضرت فضل بن عباس  حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: کہ جس آدمی نے عرفہ کے دن اپنی زبان، اپنے کان، اپنی آنکھ کو (حرام کاموں سے) محفوظ رکھا تو اس کے ایک سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
(شعب الایمان باب الصیام تخصیص یوم عرفة بالذکر رقم الحدیث : ۳۷۶۸ )
دو سال کے گناہوں کا کفارہ
عرفہ کا دن اتنا مبارک دن ہے کہ اس ایک دن کا روزہ رکھنے سے دو سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ایک سال گذشتہ کے اور ایک سال آئندہ کے۔
(۱) حضرت ابو قتادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں :کہ عرفہ کے دن کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ ہے، اور دسویں محرم کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
(شعب الایمان للبیہقی الرقم:۳۷۶۲ )
ایک ہزار دن کا ثواب
سابقہ حدیث سے گناہوں کا کفارہ ہونا ثابت ہوا۔ مندرجہ ذیل حدیث سے ایک روزہ کا ثواب ایک ہزار دن کے برابر ثواب کا ملنا معلوم ہورہا ہے۔
(۲) حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کے دن کا روزہ ایک ہزار دن کے روزوں کے برابر ثواب رکھتا ہے۔
(شعب الایمان للبیہقی الرقم:۳۷۶۴)
عرفہ کے دن کی دعا ء:
مانگنے کا طریقہ بھی بتا دیا جائے اور کیا مانگا جائے یہ بھی بتادیا جائے یہ اللہ کے بے پناہ احسانات میں سے ایک احسان ہے،چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (دسویں ذی الحجہ، عرفہ کے دن) درج ذیل دعا پڑھتے تھے۔
لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللهُ وَحْدَہ لاَشَرِیْکَ لَہ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ․
(شعب الایمان للبیہقی الرقم:۳۷۶۷)
سب سے زیادہ مغفرت والا دن:
حضرت جابر  سے منقول ہے کہ:ذی الحجہ کی دس دنوں سے زیادہ فضیلت والے دن اللہ کے نزدیک کوئی نہیں ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ : ذی الحجہ کے دس دن زیادہ فضیلت والے ہیں یا ان دس دنوں کے برابر اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا زیادہ افضل ہے؟ فرمایا: ذی الحجہ کے دس دن زیادہ افضل ہیں ان کی بقدر اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے سے۔
عرفہ کے دن سے زیادہ فضیلت والا اللہ کے نزدیک کوئی اوردن نہیں ہے، اس دن اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر اترتے ہیں، اور زمین والوں کے ذریعہ آسمان والوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: دیکھو میرے بندے کیسے پراگندہ ،غبار آلود دھوپ کے اندر بغیر کسی چیز کا سایہ کئے ہوئے جو آئے ہیں دور دور راستوں سے جو میری رحمت کے امیدوار ہیں اور انہوں نے میرے عذاب کو نہیں دیکھا، پس نہیں دیکھا گیا کوئی ایسا دن جس میں آگ سے آزادی زیادہ مقدار میں ہوتی ہو عرفہ کے دن کے مقابلہ میں۔
(ابن حبان رقم الحدیث : ۳۸۵۳ باب ذکر رجاء العتق من النار لمن شہد عرفات یوم عرفة)
ابلیس عرفہ کے دن سے زیادہ کسی بھی دن ذلیل و خوار ،حقیر ،ایڑیاں رگڑتا ہوا ،پھسلتا ہوا غصہ میں نہیں دیکھا گیا، اور یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ عرفہ کے دن کثرت سے نزول رحمت اور گناہوں کی بخشش کو دیکھتا ہے (کہ ابلیس نے اس سے زیادہ تکلیف دہ بات نہیں دیکھی) سوائے اس کے جو اس نے یوم بدر میں دیکھا؟ پوچھا گیا :اس نے یوم بدر میں کیا دیکھا؟فرمایا: اس نے دیکھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ملائکہ کی صف بندی کررہے تھے۔
۔(الأصبہانی رقم الحدیث: ۱۰۴۳)
ان دنوں کا خصوصی عمل
نماز ،مناجات دعاء، درود، تلاوت ، دعوت و تبلیغ آدمی جو بھی نیک عمل کرے تو بہتر ہی ہے مگر ان دنوں کا خاص عمل بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے:
سعید بن جبیر ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن زیادہ فضیلت والے ہیں، اور ان میں کیا گیا عمل بھی اللہ کو بہت محبوب ہے، تو تم ان دنوں میں لا الہ الا الله، الله اکبر اور سبحان الله بکثرت پڑھا کرو، کیونکہ یہ تہلیل و تکبیر وتسبیح کے دن ہیں، ان میں سے ہر ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ثواب رکھتا ہے اور عمل کا ثواب سات سو گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔
عشرہ ذی الحجہ کے روزے کبھی نہیں چھوڑے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ذی الحجہ کے شروع کے دس دنوں کے روزے رکھتے تھے۔
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ چار چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ترک نہیں کرتے تھے، (۱) عاشورا کا روزہ (۲) ذی الحجہ کے دس دن کے روزے (۳) ہر مہینہ کے تین دن کے روزے (۴) فجر سے پہلے دو رکعت سنت۔

(احمد ۶/۲۸۷، النسائی فی الصیام باب کیف یصوم ثلاثة ایام من کل شہر ۱/۲۶۸)۔

قربانی : فضائل ومسائل
تکبیر تشریق :
نویں ذی الحجہ کی نمازِ فجرسے تیرھویں ذی الحجہ کی نمازِ عصر تک ہر فرض نمازکے بعد مردوں، اور عورتوں پر اَللّٰہُ اَکْبَرُ أَللّٰہُ أَکْبَرُ لاَاِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ أَللّٰہُ أَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ“پڑھنا واجب ہے،البتہ مرد بلند آواز سے اورعورتیں آہستہ سے پڑھیں گی۔
قربانی کامفہوم:
لفظ قربانی کا مادہ ہے ،”قَ رُ بَ“جس کا مفہوم ہے قریب ہونا ۔
قربانی اصطلاح لفظ ِقربان سے بنی ہے جس کے معنی ہیں ”ہر وہ چیز جسے اللہ کی راہ میں اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے پیش کر دیا جائے،،۔
تاریخِ قربانی:
حضرت ابراہیم جب اپنے اہل وطن کے ایمان سے بالکل مایوس ہو گئے،اور آپ کے بھانجے حضرت لوط علیہ السلام کے سوا کوئی آپ پر ایمان نہیں لایا،توآپ اپنی زوجہٴ مطہرہ حضرت سارہ اور اپنے بھانجے حضرت لوط علیہ السلام کو لیکر سفر پر روانہ ہوئے اور عراق کے مختلف حصوں سے ہو تے ہوئے بالآخر ملک ِشام پہنچ گئے، اس وقت تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یہا ن کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی اس لئے آپنے دعا فر مائی ”رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ“اے میرے پروردگار مجھے ایک نیک فرزند عطا فرما ۔
چنانچہ آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالی نے آپ کو ایک فرزند کے پیدائش کی خوش خبری سنائی”فَبَشَّرْنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ“ پس ہم نے ان کوایک حلیم المزاج فرزند کی بشارت دی ،حلیم المزاج کہہ کر اشارہ کر دیا گیا کہ وہ بچہ اپنی زندگی میں ایسے صبر و ضبط اور بردباری کا مظاہرہ کرے گا کہ دنیا اس کی مثال پیش نہیں کرسکے گی ۔
”فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ ٰیبُنَیَّ اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْٓ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْمَاذَا تَرٰیط“تو جب وہ فرزند اتنی عمر کو پہونچا کہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلنے، پھرنے لگا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :بر خوردار! میں نے خوا ب دیکھا کہ: میں تم کو ذبح کر رہا ہوں ،بعض روایات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تین روز متواتر دکھایا گیا ۔ (قرطبی)
اور یہ بات طے شدہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا خواب وحی ہوتا ہے ،اس لئے اس خواب کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالی کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا ہے کہ: اپنے اکلوتے بیٹے کوذ بح کردو،اور وہ پو ری طرح ذبح کرنے پرآمادہ ہو گئے۔
(اللہ تعالی نے” فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ“ کے الفاظ بڑھائے ہیں یعنی ارمانوں سے مانگے ہوئے اس بیٹے کو قربان کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا تھا جب یہ بیٹا اپنے باپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گیاتھا،اور پرورش کی مشقتیں برداشت کرنے کے بعد اب وقت آگیا تھا کہ وہ قوت ِبازو بن کر باپ کا سہارا بنے،مفسرین نے لکھاہے کہ اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر تیرہ سال تھی)،حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل سے فرمایا” فاَنْظُرْ مَاذَا تَریٰ“( تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟)
حضر ت اسما عیل نے جواب دیا:” ٰٓیاَبَتِ افْعَلْ مَا تُوٴْمَرُ ز“ابا جان! جس بات کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزریئے، اس سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بے مثال جذبہٴ جاں سپاری کی تو شہادت ملتی ہی ہے، اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کم سنی میں اللہ نے انہیں کیسی ذہانت اور کیسا علم عطافرمایا تھا ،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے سامنے اللہ کے کسی حکم کا حوالہ نہیں دیا تھا ،بلکہ محض ایک خواب کا تذکرہ فرمایاتھا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنی طرف سے اپنے والد بزرگوار کو یہ یقین بھی دلایا کہ:”سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ“(انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے)
”فَلَمَّآأَسْلَمَا وَتَلَّہ لِلْجَبِیْنَ“ (پس جب وہ دونوں اللہ کے حکم کے آگے جھک گئے،یعنی باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کااور بیٹے نے ذبح ہوجانے کا ارادہ کر لیا ۔
بعض تاریخی اور تفسیری روایات سے معلوم ہوتاہے :کہ شیطان نے تین مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہکانے کی کوشش کی ،ہر بار حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں مار کر بھگادیا،آج تک منیٰ کے تین جمرات پر اسی محبوب عمل کی یادگار، کنکریاں مار کر منائی جاتی ہے۔
با لآخر جب دونوں باپ بیٹے یہ انوکھی عبادت انجام دینے کے لئے قربان گاہ پہونچے تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا :کہ ابا جان !مجھے خوب اچھی طرح باندھ دیجئے ،تاکہ میں زیادہ تڑپ نہ سکوں ،اور اپنے کپڑوں کو بھی مجھ سے بچائیے ،ایسا نہ ہو کہ ان پر میرے خون کی چھینٹیں پڑیں،اور میرا ثواب گھٹ جائے،اس کے علاوہ میری والدہ خون دیکھیں گی تو انہیں غم زیادہ ہوگا ،اور اپنی چھری بھی تیز کر لیجئے ،اور اسے میرے حلق پر ذرا جلدی جلدی پھیرئے گا ،تاکہ آسانی سے میرا دم نکل سکے ،کیوں کہ موت بڑی سخت چیز ہے ،اور جب آپ میری والدہ کے پاس جائیں تو ان سے میرا سلام کہدیجئے گا ،اور آپ میری قمیص میری والدہ کے پاس لیجانا چاہیں تو لیجائیں ،شاید کہ اس سے انہیں کچھ تسلی ہو۔
اکلوتے بیٹے کی زبان سے یہ الفاظ سن کر ایک باپ کے دل پر کیا گزر ی ہو گی؟لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام اِستِقامت کے پہاڑ بن کر جواب دیتے ہیں کہ ”بیٹے!تم اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے میرے کتنے اچھے مددگار ہو “یہ کہہ کر انہوں نے بیٹے کو بوسہ دیا ،پر نم آنکھوں سے انہیں باندھا، ”وَتَلَّہ لِلْجَبِیْنِ“(انھیں پیشانی کے بل خاک پر لٹا دیا )اس طرح کروٹ پر لٹادیا کہ پیشانی کا ایک کنارہ زمین سے چھونے لگا ۔
بعض دوسرے حضرات نے اس طرح لٹانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ شروع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انھیں سیدھا لٹایا تھا ،لیکن جب چھری چلانے لگے تو بار بار چلانے کے باوجود گلا نہیں کٹتا تھا ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے پیتل کا ایک ٹکڑا بیچ میں حائل کردیا تھا ،اس موقع پر بیٹے نے خود یہ فرمائش کی کہ ابا جان!مجھے چہرے کے بل کروٹ سے لٹادیجئے،اس لئے کہ جب آپ کو میرا چہرہ نظر آتا ہے تو شفقت پدری جوش مارنے لگتی ہے ،اور گلا پوری طرح کٹ نہیں پاتا،اس کے علاوہ چھری مجھے نظر آتی ہے تو مجھے بھی گھبراہٹ ہونے لگتی ہے،چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں اسی طرح لٹاکرچھری چلانی شروع کی،”وَنَادَیْنٰہُاَنْ یّٰٓاِبْرٰھِیْمُ “ (اور ہم نے انہیں آواز دی کہ اے ابراہیم !تم نے خواب سچ کر دکھایا )یعنی اللہ کے حکم کی تعمیل میں جو کام تمہارے کرنے کا تھا تم نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی،اب یہ آزمائش پوری ہوچکی اب انہیں چھوڑدو،”أِنَّاکَذٰ لِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ“(ہم مخلصوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں)یعنی جب کوئی اللہ کا بندہ اللہ کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کرکے اپنے تمام جذبات کو قربان کرنے پر آمادہ ہوجاتاہے،تو ہم بالآخر اسے دنیوی تکلیف سے بھی بچالیتے ہیں ،اور آخرت کا اجروثواب بھی اس کے نامہٴ اعمال میں لکھ دیتے ہیں۔
روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ آسمانی آواز سن کر اوپر کی طرف دیکھا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک مینڈھا لئے کھڑے تھے۔
یہ جنتی مینڈھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عطا ہوا ،اور انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنے بیٹے کے بجائے اس کو قربان کیا ۔ (تفسیرمعا ر ف القرآن۵،۴۵۷)
انہیں کی یاد گار کے طورپرقربانی کاطریقہ جاری کیا گیا۔
قربانی سب سے افضل عمل ہے:
بعض لوگ اپنی ناواقفیت کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ قربانی کرنے سے گوشت حاصل ہو تا ہے اور قربانی کے دنوں میں سب ہی قربانی کر تے ہیں ،تو گوشت کی حاجت بھی نہیں رہتی اس لئے قربانی کے بجائے اگر ان دنوں میں قربانی کی قیمت کو صدقہ کر دیا جائے ،یا کسی دوسرے رفاہی ،فلاحی کاموں میں لگا دیا جائے تو شاید یہ زیادہ بہتر ہے ،حدیث شریف میں بتلایاگیا ہے کہ سونا چاندی کی خیر خیرات بھی ثو اب میں قربانی کی برابری نہیں کرسکتی۔
حضرت ابن عباس سے روایت ہے: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاندی (یا کوئی بھی مال ) کسی ایسی چیز میں خرچ نہیں کیاگیا جو اللہ کے نزدیک اس اونٹ سے زیادہ پسندیدہ ہو جو عید کے دن ذبح کیا گیا ۔
(رواہ لطبرانی فی الکبیر۱۱/۱۷،رقم الحد یث۱۰۸۹۴)
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن ارشاد فرمایا :آج کے دن کسی آدمی نے خون بہانے سے زیادہ افضل عمل نہیں کیا ،ہاں کسی رشتہ دار کے ساتھ حسنِ سلوک اگر اس سے بڑھ کر ہوتو ہو۔
(رواہ الطبرانی فی الکبیررقم الحدیث ۱۰۹۴۸)
خو ن کے پہلے قطرہ پر ہی معا فی:
حضرت ابو سعید  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی بیٹی حضرت فاطمہ  سے فرمایا:اے فاطمہ !اٹھو اور اپنی قربانی کے پاس رہو (اپنی قربانی کے ذبح ہوتے وقت قریب موجود رہو)کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے کے ساتھ ہی تمہارے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے،حضرت فاطمہ نے عرض کیا:کہ اللہ کے رسول!یہ فضیلت ہم اہل بیت کے ساتھ مخصوص ہے یا عام مسلمانوں کے لئے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمارے لئے بھی ہے اور تمام مسلمانوں کے لئے بھی۔
(مستدرک حاکم ۴/۲۲۲)
قر با نی کے خو ن کا مقا م:
قر با نی کے جانو ر کا خو ن بھی بہر حال خو ن ہی ہے مگریہ خون چو نکہ اپنی کسی ذاتی منفعت کے لٴے نہیں بہا یا جا رہا بلکہ حضر ت ابرا ہیم علیہ السلا م کی جاں نثا ری و فدا کاری کی نقل ا ور سنت رسو ل کے اتبا ع او ر اپنے پر و ر دگا ر کی رضا و خو شنو دی حا صل کر نے کے لئے بہا یا جا رہا ہے، اس لئے اس خو ن کا اللہ کے یہا ں ایک خاص د ر جہ ا ور خاص مقا م ہے ۔
حضرت علی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے لوگو! تم قربانی کرو اوران قربانیوں کے خون پر اجروثواب کی امید رکھو ،اس لئے کہ (ان کا ) خون اگرچہ زمین پر گرتا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی حفظ وامان میں چلا جاتا ہے۔
(رواہ الطبرانی فی الاوسط،رقم الحد یث۸۳۱۵)
ہر بال کے بدلے ایک نیکی :
حضرت زیدبن ارقم راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ !یہ قربانی کیا ہے ؟ فرمایا :تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ (ان کی سنت )ہے ،صحابہ نے عرض کیا :کہ پھر اس میں ہمارے لئے کیا (اجروثواب)ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(جانور کے )ہر بال کے بدلے ایک نیکی ، انہوں نے عرض کیا او ر(دنبہ وغیرہ اگر ذبح کریں تو ان کی) اون میں کتنا ثواب ہے؟( او ر اس تعجب کی وجہ یہ ہے کہ بھیڑ، دنبہ کے اوپر تواون اور بال بہت بڑی تعداد میں ہو تے ہیں )حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ اون کے ہربال کے بدلے ایک نیکی۔سبحا ن اللہ
(ابو داوٴد رقم الحدیث ۳۱۲۷، باب ثواب الا ضحیة)
قربانی کا جانور خود نیکیوں میں تبدیل:
انسان جو عمل کرتا ہے تو اس کونیت واخلاص کے بقدر اجروثواب ملتا ہے ،مقدار اور تعداد پر نہیں،مگر قربانی ایسا عمل ہے کہ اس کی مقدار بھی مطلوب ہے اور اس پر اجر وثواب بھی ،چنانچہ قربانی کا جانور ہی کل قیامت کے روز خود نیکی میں تبدیل ہوکر نیکوں کے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : کہ فر ز ندِ آدم(انسان)نے قربانی کے دن کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو الله کے نزدیک خون بہانے(قربانی کرنے)سے زیادہ پسندیدہ ہو،اورقیامت کے دن وہ ذبح کیا ہواجانوراپنے سینگوں،بالوں اورکھروں کے ساتھ آئے گا،اورقربانی کا خون ز مین پر گر نے سے پہلے الله تعالیٰ کے یہاں قبول ہوجاتاہے،لہذاتم خو شد لی سے قربانی کیا کر و۔
(رواہ ابن ماجہ،الرقم ۳۱۲۶،الترمذی۱۴۹۳)
ستر گنا زیا د ہ و زن:
ایک دوسر ی حدیث میں تو قر با نی کے جانو ر کا وزن ستر گنا زیا دہ کر کے ترا زوئے اعما ل میں رکھ دینے کا تذ کر ہ مو جو د ہے چنا نچہ:
حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے(حضرت فاطمہ سے)فرمایا:اے فاطمہ اٹھو اور اپنی قربانی کے پاس(ذبح کے وقت) موجودرہو، اس لئے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے کے ساتھ ہی تمہارے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے، یہ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے گوشت اور خون کے ساتھ لایا جائے گا ،اور تمہارے عمل کے ترازو میں ستر گنا (و ز ن زیادہ ) کرکے رکھا جائے گا ، حضرت ابوسعید نے عرض کیا کہ: اللہ کے رسول!یہ فضیلت خاندانِ نبوت کے ساتھ خاص ہے جو کسی بھی خیر کے ساتھ مخصوص ہونے کے حقدارہیں،یا تمام مسلمانوں کے لئے ہے؟ فرمایا : یہ فضیلت آلِ محمد کے لئے تو خصوصاًاور عموماًتمام مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔
(سنن بیھقی۹/۲۸۳)
قر بانی جہنم سے بچاؤ کا ذ ریعہ ہے:
شر یعتِ مطہر ہ میں سب سے زیا دہ تعلیم انسا ن کو اس کی دی گئی ہے کہ وہ ایسے اعمال سے بچے جو جہنم میں جانے کا سبب بنتے ہیں اور ایسی ہی دعائیں سکھا ئی گئیں جن کے پڑھنے سے أدمی جہنم سے بچ سکے، قربانی بھی انہیں ذرا ئع واسباب میں سے ہے جو آد می کیلئے جہنم میں جانے سے آڑ بن جا تی ہے۔
حضرت حسین بن علی  سے سے مروی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو شخص خوش دلی کے ساتھ، اجروثواب کی امید رکھتے ہوئے قربانی کرے گا تو وہ قربانی اس کے لئے جہنم کی آگ سے آڑبن جائے گی ۔
(رواہ الحاکم فی المستدرک،رقم الحدیث۰۲۷۳۶قال الہیثمی۴/۱۷فیہ سلیمان بن عمرالنخعی وہوکذاب )
امام الا نبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کی قربانی:
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر(۱۰۰) سو او نٹوں کی قربانی دی۔
اگر کو ئی انسان کسی انسان کو جان بوجھ کر مار دے تو جان کے بدلے جان ہے قاتل کو بدلہ میں قتل کردیا جاے گااور اگرکسی سے غلطی سے قتل ہوگیا تو بدلہ میں اسے (۱۰۰) سو اونٹ دینے ہوں گے۔
توشریعت میں ایک جان کا بدلہ سو اونٹ ہیں تو گویا سیددوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کے بدلے سواونٹ قربان کردئے ۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں(۶۳)تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ مبارک سے ذبح کئے اور باقی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ذبح کرائے،علماء فرماتے ہیں کہ تریسٹھ اونٹ ذبح کرنے میں اس طرف اشارہ تھا کہ تریسٹھ برس میری عمر ہے،عمر کے ہر سال کے بدلے ایک اونٹ ،تو جب نبی اپنی جان کا فدیہ سو اونٹ کی قربانی کی شکل میں پیش کر رہے ہیں تو امتی کو بدرجہ اولیٰ اپنی زندگی میں سَوْ (۱۰۰)جانور یا کم از کم سَوْ حصوں کی قربا نی کر کے اپنی جان کو جہنم سے آزاد کرا نا چاہیے۔
عقلی تقاضہ :
عقل وخرد کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ قربانی کا یہ طریقہ جاری رکھا جائے کیونکہ بغور مطالعہ سے یہ عیاں ہو جاتا ہے کہ کائنات کی ہر چھوٹی چیز بڑی چیز پر قربان ہو رہی ہے ،اور قربانی کی بدولت ہی کا ئنات کا یہ نظام بدستورجاری ہے مثلا پانی اپنے وجود کو فنا کرکے زمین پر قربان ہوا ،اور اس قربانی کے نتیجہ میں زمین کی قوت نامیہ میں اضافہ ہوا،اور دیکھتے ہی دیکھتے خشک بنجرزمین ہری بھری ،سرسبز وشاداب ہوگئی، اورزمین مخملی فرش سے معمور نظر آنے لگی پھر اس گھاس نے بھی قربانی کیلئے خود کو جانور کے حوالہ کیا ،اور اس قربانی کے نتیجہ میں جانور میں کچھ توگوشت وپوست بنا اور کچھ نفیس وبے بدل مشروب دودھ بنا ،اور دودھ کی قربانی کے نتیجہ میں انسان کی قوتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ،اوریہ سب قربانی کی بدولت ہوا۔
قربانی نہ کر نے پر وعید:
بہتر تو یہ ہے کہ جس پر قربانی واجب نہیں ہے وہ بھی قربانی کرے، تا کہ زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرے، جس پر قربانی واجب ہو اور وہ پھربھی قربانی نہ کرے،تواس سے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ناراضگی ظاہر فرمائی ہے ،آنحضرت نے ارشادفرمایاکہ جو شخص باوجود وسعت کے قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے ۔
۔(رواہ الحاکم فی المستدرک ج۲/۳۸۹)
افضل و بہتر قربانی:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :کہ افضل و بہتر قربانی وہ ہے جو زیادہ قیمتی اورزیادہ موٹی ہو۔ اِن افضل الضحایااعلاھا وأثمنہا․
قربانی کس پر واجب ہے:
قربانی ہر اس عاقل ،بالغ،مقیم،مسلمان پر واجب ہوتی ہے جو نصاب کا مالک ہویا اس کی ملکیت میں ضرورت اصلیہ سے زائد اتنا سامان ہوجس کی مالیت نصاب تک پہونچتی ہواور اس کے برابر نصاب ہو،
نصاب سے مرادیہ ہے کہ اس کے پاس ساڑھے باون تولہ(موجودہ دس گرام کے تو لہ سے) ۶۱۲ گرام۳۶۰ ملی گرام چاندی یا۸۷ گرام سونا یا اس کی قیمت کے برابرنقد رقم ہو یا اس کی ضرورت اصلیہ سے زائد اتناسامان ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔
ضرورت ِاصلیہ:
واضح رہے کہ ضرورت اصلیہ سے مراد وہ ضرورت ہے جو انسان کی جان یا اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے ضروری ہو اس ضرورت کے پورا نہ ہونے کی صورت میں جان جانے یابے آبروہونے کااندیشہ ہو مثلاً کھانا ، پینا، رہائش کا مکان، پہننے کے کپڑے، کاریگر کے اوزار، سفر کی گاڑی، سواری و غیرہ۔
قربا نی کے وا جب ہو نے کی صورتیں مثلاً:
۱:- ایک شخص کے پاس دو مکان ہیں ،ایک مکان اس کی رہائش کا ہے اور دوسرا خالی ہے تو اس پر قربانی واجب ہے ،جبکہ اس خالی مکان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی مالیت کے برابر ہو۔
۲:-یا ایک مکان میں وہ خود رہتا ہو اور دوسرا مکان کرایہ پر دے رکھا ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے البتہ اگر اس کا ذریعہ معاش یہی مکان کا کرایہ ہے تو یہ بھی ضروریات زندگی میں شمار ہوگا اور اس پر قربانی کرنا واجب نہیں ہوگی۔
۳:-یاکسی کے پاس دو گاڑیاں ہیں،ایک عام استعمال کی ہے اور دوسری زائد تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔
۴:-یااگر کوئی آدمی مقروض ہے اور اس کے پاس کچھ مال بھی ہے تو قرض کی رقم نکالنے کے بعداگر اس کے پاس ساڑھے باون تولہ(موجودہ دس گرام کے تو لہ سے) ۶۱۲ گرام۳۶۰ ملی گرام چاندی یا۸۷ گرام سونا یا اس کی قیمت کا سامان ہو تو اس پر قر با نی واجب ہے۔
۵:-یا کسی کے پاس پلاٹ ہے، تو اگر اس کے پلاٹ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔
۶:-یاعورت کا نقدمہراگر اتنی مالیت کا ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے ، یا صرف والدین کی طرف سے دیا گیا زیور اور استعمال سے زائد کپڑے نصاب کی مالیت کو پہونچتے ہوں تو اس پر بھی قربانی کرنا واجب ہے ۔
۷:-ایک شخص کے پاس کاشت کاری کے آلا ت واوزار بیل،ٹریکٹراور اس کے متعلقات اوردودھ دینے والی گائے ،بھینس کے علاوہ اگراور جانور اتنے ہیں کہ ان کی مالیت نصاب کو پہونچتی ہے تو اس پربھی قربانی کرنا واجب ہے۔
۸:-اگر کوئی شخص قربانی کے دنوں میں بارہویں کا سورج طلوع ہونے سے پہلے صاحب نصاب ہو گیاتو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔
قربانی کی طاقت نہ ہو تو کیا کرے
جس شخص کے ذمہ قربانی واجب نہ ہو،اور نہ اتنی وسعت ہو کہ نفلی قربانی کرسکے تو اس کو بھی قربانی کرنے والوں کی طرح عید کے دن بال ناخن وغیرہ بنوانے چاہئیں۔
حضر ت عبداللہ بن عمروبن العاص  نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے آپ نے فرمایا :مجھے قربانی کے دن عید منانے کا حکم ہوا ہے اس کو اللہ نے میری امت کے لئے مقرر کر دیا ہے ،ایک شخص نے کہا :یا رسول اللہ مجھ کو کسی نے مادہ جانور دودھ پینے کے لئے دیا ہے ،اس کے سوا دوسرا جانور میر ے پاس نہیں ،تو کیا میں اسی کی قربانی کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نہیں اس کی قربانی مت کرو ،لیکن تم(عید الا ضحی کی نماز کے بعد)اپنے بال کٹوالو،ناخن ترشوالو،مونچھیں کتروالو، اورزیر نا ف بال مونڈلو ،اللہ کے نزدیک تمہاری یہ قربانی مکمل ہو جائے گی ۔
(ابوداؤد فی الضحایا الرقم۲۷۸۹)
دوسرے کی طرف سے قربانی:
جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہو وہ اپنی واجب قربانی کے علاوہ اپنے مرحوم والدین اور دیگر بزرگوں کی طرف سے بھی قربانی کرے ،اس کا بڑااجروثواب ہے،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بھی ہم پر بڑے احسانات اور حقوق ہیں،اللہ تعالیٰ نے گنجائش دی ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی قربانی کی جائے،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجةالوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی کی ہے ،جس میں اپنی امت کی طرف سے بھی کی ہے ،ہمیں بھی اس موقع پر آپ کو نہیں بھولنا چاہئے،مگراپنی جوقربانی لازم ہے اس کو چھوڑناجائزنہیں ۔
قربانی کے جانور:
گھر میں جو چھ طرح کے جانو ر پا لے جاتے ہیں قربانی ان ہی میں سے کسی کی ہوسکتی ہے ،نر ہو یامادہ ہرایک کی قربانی درست ہے،تفصیل یہ ہے:
جانوراور ان کی عمریں:
بڑ ے جا نو ر
(۱) اونٹ ، یااونٹنی، عمرکم ازکم پانچ سال سات آدمی تک شریک ہوسکتے ہیں۔
(۲) بیل یا گائے، عمر کم از کم دوسال سات آدمی تک شریک ہوسکتے ہیں۔
(۳) بھینس یا بھینسا، عمر کم از کم دوسال سات آدمی تک شریک ہوسکتے ہیں۔
چھوٹے جانور
(۴) بھیڑ، عمر کم از کم ایک سال ، صرف ایک شخص کی طرف سے ،
(۵)بکرا ،یا بکری، عمر کم از کم ایک سال ، صرف ایک شخص کی طرف سے ، (۶) دنبہ یا دنبی، عمر کم از کم ایک سال ، صرف ایک شخص کی طرف سے ،
(۷)دنبہ یا بھیڑ اگر اتنا فربہ اور موٹاہو کہ سال بھر والے میں چھوڑ دیں تو کوئی فرق معلوم نہ ہو ،تو سال سے کم عمر یعنی کم از کم چھ مہینے کا بھی جائز ہے۔
(۸)جانور بیچنے والا اگر پوری عمر بتلا تا ہے اور ظاہری حالت سے بھی اندازہ ہوتا ہے تو اس پر اعتماد کرنا درست ہے ۔
(۹)خصی (بدھیا)بکرے کی قربانی درست ، بلکہ افضل ہے ۔
(۱۰)حاملہ (گابھن )جانور کی قربانی جائزہے لیکن اگر وِلادت (بچہ دینے)کا وقت قریب ہوتب قربانی کرنا مکروہ ہے ۔ (عالمگیری)
(۱۱)گابھن جانور کے پیٹ سے بچہ زندہ نکلے تو اس کو بھی ذبح کردیا جائے۔
جانور عیب دار نہ ہو:
قربانی کا جانور اللہ کی بارگاہ میں بندہ کا ہدیہ ہے،جہاں تک ہوسکے بہتر سے بہتر ہونا چاہئے ،خود پال کر یا کچھ دن پہلے خرید کر اس کے کھلانے پلانے کا خیال رکھے تو اس کا بھی ثواب ہے۔لہذا قربانی کا جانور :
(۱) اندھا،کانا نہ ہو ،اگر ایک آنکھ کی تہائی روشنی یا اس سے زیادہ جاتی رہی تو اس کی قربانی درست نہیں ہوگی۔
(۲) ایک کان یا دونوں کان تہائی یا اس سے زیادہ کٹے ہوئے نہ ہو ں۔
(۳) دُم ،تہائی یا اس سے زیادہ کٹی ہوئی نہ ہو۔
(۴) لنگڑانہ ہو، اگر چلنے میں اس لنگڑے پاوٴں سے اتنالنگڑا ہے کہ اس کا سہار ا نہیں لے سکتا ،تو درست نہیں۔
(۵) اتنا مریل، دبلا نہ ہو کہ ہڈیوں میں گودا نہ رہے اور کمزوری کی وجہ سے اپنے پاوٴں سے چل بھی نہ سکے۔
(۶) جس جانور کے بالکل دانت نہ ہو ں اس کی قربانی درست نہیں،اگر کچھ گر گئے مگر زیادہ باقی ہیں تو درست ہے۔
(۷)جس جانور کے پیدائشی کان نہ ہوں اس کی قربانی درست نہیں ، اگر بہت چھوٹے چھوٹے ہیں مگر کٹے ہوئے نہیں ہیں تودرست ہے۔
(۸) جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہو ں اس کی قربانی درست ہے ، اگر تھے مگر ایک یادونوں سینگ ٹوٹ گئے اور اوپر سے صرف خول اترا ہے، اندرکا گودا باقی ہے اس کی قربانی بھی درست ہے،اگر ایک یا دونوں سینگ جڑسے ٹوٹ گئے جس کا اثر دماغ پر پڑتا ہے اس کی قربانی درست نہیں۔
اوقات قربانی:
(۱)ذی الحجہ کی دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام (آفتاب غروب ہونے سے پہلے )تک قربانی کا وقت ہے، ان دنوں میں جب چاہے قربانی کر سکتا ہے،لیکن پہلا دن افضل ہے،پھر گیارہویں تاریخ ،پھر بارھویں تاریخ۔
ان تین دنوں کے دوران رات کے وقت بھی قربانی کرنا جائز ہے،لیکن قربانی کا بہتر وقت دن ہے ،رات میں قربانی کرنے کو فقہاء نے مکروہ لکھاہے ۔
(۲)شہر میں عید کی نماز سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں ،اگر کسی نے عیدکی نماز سے پہلے جانور ذبح کرلیا تو یہ گوشت کا جانور ہوا ،قربانی نہیں ہوگی،البتہ دیہات میں جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی وہاں عید کے دن صبح صادق کے بعد قربانی کرنا درست ہے۔
(۳)اگر شہری آدمی خودتو شہر میں موجودہے ،مگر قربانی کا جانور دیہات میں بھیج دے اور وہاں صبح صادق کے بعد قربانی ہو جائے تو درست ہے۔
(۴)جس شخص کے ذمہ قربانی واجب ہے اس کے لئے ان دنوں میں قربانی کا جانور ذبح کرنا ہی لازم ہے،اگر اتنی رقم صدقہ خیرات کر دے تو قربانی ادا نہیں ہوگی،اور یہ شخص گناہ گار ہوگا۔
ٰٓ ٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓئئٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٓطریقہٴ قربانی:
قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا بہتر ہے ذبح سے پہلے جانور کو بھوکا پیاسا نہ رکھیں ،ذبح سے پہلے یہ دعاء پڑھنا چاہئے ۔
اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفاً وَّمَا أَنَامِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، اِنَّ صَلوٰتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، لاَ شَرِیْکَ لَہ وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ․
جا نور کو لٹانے کا طریقہ:
ا س کے بعد جانور کو قبلہ رخ اس کی بائیں پر کروٹ لٹا یا جا ئے جس سے اس کاسر ذبح کرنے والے کی بائیں طرف ہو جائے اوروہ اس کے سرکو با ئیں ہاتھ سے دبا کر دائیں ہاتھ سے سہو لت کے ساتھ ذبح کرسکے یعنی قر بانی کا سر جنو ب (دکھن)کی طر ف اور ٹانگیں شمال (اتر)کی طرف کی جائیں اور بائیں کر وٹ پر لٹا یا جائے اس طر ح جانو ر کا رخ قبلہ کی طر ف ہو جائے گا بعد ہ اس کے کندھے پرپاؤں رکھ کر تیز چھری سے ” بِسْمِ اللهِ أَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ“کہہ کر جلد ذبح کردے ،اور چھری اتنی دیرچلائے کہ گردن کی چاروں رگیں:
(۱)(نرخرہ ،سانس لینے کی نالی
(۲) ”أَلمَرْیُ“ جس سے دانہ پا نی اندر جاتا ہے ،
(۳)اور(۴)”وَدْجاَنْ“ وہ دورگیں جو نرخرے کے دائیں بائیں ہو تی ہیں)کٹ جائیں۔
ذبح کرنے کے بعد یہ دعاء پڑھے ”اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَاتَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ، وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللهِ عَلَیْھِمَا الصّلوٰةُ وَالسَّلاَمُ“
اگر دوسرے کی طرف سے ذبح کررہا ہوتواوپر کی دعاء میں مِنِّی کی جگہ اس کا نام لے جس کی طرف سے ذبح کر رہا ہے۔
جانور پکڑنے والا بھی” بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرْ“کہتا جائے ۔
نوٹ :… قربانی کے وقت کوئی دعا زبان سے پڑھنا ضروری نہیں صرف دل میں خیال کرلے ،”میں قربانی کرتاہوں “اور” بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرْ“کہہ کر ذبح کر دینے سے قربانی ہو جاتی ہے البتہ مذکورہ دعائے ماثورہ کاپڑھنا بہتر ہے ۔
اور ذبح کے بعد جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے،اس وقت تک کھال اتارنا یاٹکڑے کرنا شروع نہ کریں۔
قربانی کے مسائل:
(۱)اگرچند افراد مل کر بڑے جانور کا ایک حصہ یا چھوٹا جانور حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نام سے قربانی کریں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
(۲)اگر صاحب ِنصاب شخص اپنی قربانی چھوڑ کر میت کے نام سے قربانی کرے تو اس سے قربا نی کا وجو ب ساقط نہیں ہوگا البتہ میت کو ثواب مل جائے گا۔(شامی ۹/۴۸۴)
(۳)اگر کسی میت نے قربانی کی وصیت کی ہو(بشرطیکہ انتقال قربانی کے دنوں میں ہوا ہو) تو ورثاء کے ذمہ واجب ہے کہ ایک تہائی مال میں سے میت کے نام کی قربانی کریں۔
(۴)اگر کسی شخص نے بغیر وصیت کے کسی میت کی طرف سے قربانی کر دی تو اس کا ثواب میت کو مل جائے گا۔
(۵)اگر ایک جانور یا ایک حصہ کی قربانی کرکے اس کا ثواب بہت سے افراد کو پہونچادیاجائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ،درست ہے۔
(۶)جانور کو ذبح کرنے کے بعد ٹھنڈا ہو نے (جان نکلنے) سے پہلے اس کی کھال کو اتار نادرست نہیں یہ جانور پر ظلم ہے حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
(۷)اگر کوئی شخص جنگلی جانور نیل گائے، وغیرہ کو پکڑکر پال لے اور اس کی قربانی کرے تو قربانی درست نہیں ہوگی، قربانی کا وجوب ذمہ سے ساقط نہیں ہو گا ۔
(۸)اگر نرومادہ دونوں گوشت وقیمت میں برابر ہوں تو موٴنث (مادہ)کی قربانی افضل ہے۔
(۹)اگر بکرے کی قیمت بڑے جانورکے ایک حصہ کی قیمت کے برابر یازائد ہو تو بکرے کی قربانی افضل ہے ۔
(۱۰)اگر کسی شخص کو کسی بڑے جانور میں صرف ایک حصہ کی قربانی کرنی ہوتو،بہتر یہ ہے کہ جانورخریدنے سے پہلے ہی اپنے علاوہ مزید چھ(۶)آدمی شریک تلاش کرلے ،اس کے بعد جانور خریدے لیکن اگر پورا جانور خرید لیا ،اس کے بعد اس نے حصے دار تلاش کئے اور ان سے پیسے لے کر ان کو حصہ دار بنایا تب بھی کوئی حرج نہیں ،قربانی ہو جائیگی۔
(۱۱)اگر قربانی کے جانور کے تھن میں دودھ ہو تو اس کو نکال کر اپنی ضرورت میں استعمال کرنادرست نہیں ،ہاں اگر جانورکو اتنا چارہ دیتاہوتو درست ہے ،اگر چارہ نہ دیتا ہو تو صدقہ کردینا چاہئے۔
(۱۲)اگر قربانی کے جانور کے پیٹ سے زندہ بچہ نکل آئے تو اس کو بھی ذبح کر دینا چاہئے اور اچھا یہ ہے کہ اس گوشت کوصدقہ کردے ۔
(۱۳)اگر کوئی شخص بڑے جانور میں چند حصے ولیمہ(مسنونہ) کی نیت سے لے لے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
(۱۴)اگر عورت طاقتور ہے اور قربانی کرنا جانتی ہے تو افضل یہ ہے کہ وہ بھی خود اپنے ہاتھ ہی سے ذبح کرے ،لیکن قَصَّابْ (قصائی )کے سامنے بے پردہ نہ آئے بلکہ ذ بح کر کے چلی جائے ،اس کے بعد قَصَّابْ آکرکھال اتارے ۔
(۱۵)اگر نابالغ بچہ قربانی کرناجانتا ہواوروہ قربانی کردے تو کوئی حرج نہیں ،قربانی درست ہے۔
(۱۶)اگر ذبح کرتے وقت، سر بدن سے جداہو جائے تب بھی قربانی ہو جاتی ہے،البتہ ایسا کرنا مکروہ ہے ۔ (شامی)
(۱۷)ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہیں کرناچا ہئے،حضورصلی ا لله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
قر بانی کاگو شت :
(۱)قربانی کا گوشت اگر کئی آدمیوں کے درمیان مشترک ہو تو اس کو اٹکل(اندازہ) سے تقسیم کرنا جا ئز نہیں،بلکہ خوب احتیاط سے تول کر برابر حصہ کرناضروری ہے ،ہاں!اگر کسی کے حصے میں سری اور پائے لگا دئے جائیں تو اس کے وزن کے حصے میں کمی بیشی جائز ہے۔
(۲)قربانی کا گوشت خود کھائے ،دوست، احباب میں تقسیم کرے ،غریب مسکینوں کو دے ،البتہ بہتر یہ ہے کہ اس کے تین حصے کرے ،ایک اپنے لئے ،ایک دوست احباب ،عزیز و اقارب کو ہدیہ دینے کے لئے اورتیسرا ضرورت مندوں، ناداروں میں تقسیم کرنے کے لئے۔الغرض! کم از کم تہائی حصہ خیرات کر دے لیکن اگر کسی نے تہائی سے کم گوشت خیرات کیا،باقی سب کھا لیا یا عزیز و اقارب کو دیدیا تب بھی گناہ نہیں۔
(۳)قربانی کاگوشت غیرمسلم کو دینا جائز ہے بشرطیکہ وہ غیر مسلم مسلمانوں کوتکلیف نہ دیتا ہو۔
(۴)اگر نذر کی قربانی ہو یا میت نے وصیت کی ہو ،اوراس کی طرف سے ورثاء نے قربانی کی ہو تواس گوشت کو صدقہ کرنا ضروری ہے ۔ (عالمگیری)
بکرے کے خصیتین(کپورے) کھانا درست نہیں کھانے والا گنہ گار ہو گا ۔
کھا ل کے مسا ئل:
(۱)قربانی کی کھال، قصاب کو اجرت میں دینا یا اس کی قیمت مسجد کی ضروریات یا کسی انجمن یا مسلمانوں کی تجہیز وتکفین میں لگانا جائز نہیں ،اس کو خیرات کرنا ضروری ہے، دینی مدارس میں دینا بہتر ہے جہاں غریب، نادار بچوں کی کفالت ہوتی ہو۔
(۲)قربانی کی کھال یاتو یوں ہی خیرات کردے یا بیچ کر اس کی قیمت ایسے لوگوں کو دے جن کو زکوٰةکا پیسہ دینا درست ہے اور قیمت میں جو پیسے ملے ہیں ، وہی خیرات کرنے چاہئیں،اگر وہ پیسے کسی کام میں خرچ کر ڈالے اور اتنے ہی پیسے اپنے پاس سے دیدے تواداتو ہو جائیں گے مگربری بات ہے۔
(۳)اگر کھا ل کو اپنے کام میں لائیں جیسے اسکی چھلنی بنوالی، یا مشک ،یاڈول،یا جائے نمازبنوائی یہ بھی درست ہے،قربانی کی رسی جھول وغیرہ سب چیزیں خیرات کر دیں۔
(۴)قربانی کی کھال اپنے استعمال کے لئے رکھ سکتاہے ،کسی کو ہدیہ بھی کر سکتا ہے ،لیکن اگر اس کو فروخت کر دیا تو اس کے پیسے نہ خود استعمال کر سکتا ہے نہ کسی مالدار کو دینا جائز ہے،بلکہ کسی غریب پر صدقہ کر دینا واجب ہے۔
س:ہم دو بھائی ہیں اور کاروبار اکٹھا ہی ہے اور دونوں صاحب نصاب ہیں تو کیا دونوں پر قربانی واجب ہو گی ؟
ج:دونوں پر واجب ہے۔
س:میں نے اپنی بیوی کو مہر میں زیور دیدیاتھا جو نصاب کو پہنچتاہے اور میں خود بھی صاحب نصاب ہوں ،تو کیا میاں بیوی دونوں پر قربانی واجب ہے؟
ج:دونوں پر واجب ہے۔
عیدالاضحی کی حقیقت:
ہر وہ دن جس میں کسی صاحب فضل ہستی ، یا کسی بڑے واقعے کی یادگار منائی جائے تو اس کو عید کہتے ہیں ،عید کا لفظ” عَوْدٌ“سے بنا ہے ،”عَوْدٌ‘ کے معنی لوٹنا کیونکہ یہ دن ہر سال لو ٹ کر آتا ہے اس لئے اس کو عید کہتے ہیں ۔
سب سے پہلی عیدالاضحی:
مدینہ طیبہ تشریف آ وری کے دوسرے سال کی بات ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ”غزوئہ سویق“سے ذی الحجہ کی نو تاریخ کو مدینہ طیبہ واپس ہوئے تو اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوا ”فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ“ (الکوثر․۲)
اپنے پروردگار کے لئے (عیدالاضحی کی) نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے۔
اگلے روزیعنی ذی الحجہ کی دس تاریخ کو آپ نے عیدالاضحی کی دورکعت نماز پرھائی اور نماز وخطبہ کے بعد عیدگاہ میں ہی اپنے ہا تھ سے قربانی کی،اورمالدار مسلمانوں کو قربانی کر نے کا حکم دیا، ۲ ئھ میں یہ پہلی عیدالاضحی تھی۔
مسلمانوں کے لئے سال میں دو عیدیں ہیں،(۱)رمضان المبارک کے ختم پر شوال کی پہلی تاریخ کو عیدالفطر،رمضان کے روزے مکمل ہونے کی خو شی میں ،(۲) ذی الحجہ، حج کے مہینے کی دس تاریخ کو عیدالاضحی (عید قرباں)۔
حضرت انس  سے روایت ہے :کہ حضرت رسول اللہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکر مہ سے ہجرت فرماکرمدینہ منورہ تشریف لائے تواہل مدینہ کے دودن تھے جن میں وہ تیوہار مناتے تھے ،اور کھیل تماشے ہوا کرتے تھے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:یہ دودن کیسے ہیں؟ لوگوں نے بتلایا: ہم زمانہٴ جاہلیت میں ان دنوں میں کھیل، تماشے کیا کرتے تھے ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اللہ نے تم کو اس کے بدلہ میں اس سے بہتر دودن دیدئے ہیں،عیدالاضحی اور عیدالفطر۔
(رواہ ابوداوٴد) (مشکوة باب صلوةالعیدین،الفصل الثانی/۱۲۶)
اسلام سے پہلے نوروز اور مہرجان کے نام سے دو عیدیں منا ئی جاتی تھیں،ان کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے عیدالاضحی اور عیدالفطر کے دو مبارک دن عطافرمائے۔
عید کی رات کی عبادت:
مذہب اسلام میں عیدکے روز خوشی ومسرت کے اظہار کی اجازت دی ہے بلکہ اس کو مستحب گردانا ہے مگر ہر چیز کی ایک حد اور ایک دائرہ ہوتا ہے ،عید کے روز کی خوشی کا بھی ایک دائرہ اور ایک حد ہے ،افسوس ہوتا ہے کہ لوگ عیدکی خوشی میں مست ومگن ہو کرتمام حدود کو پامال کردیتے ہیں۔
جب کہ یہ رات بھی عبا دت کی رات ہے ،اور عید کی رات میں عبادت کرنے والا قیامت کے دن خوف وہراس اور گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا،اور یہ اللہ کے انعامات میں سے بڑا انعام ہے کہ جس دن لوگ خوف وگھبراہٹ میں مبتلا ہوں،اور صرف ایک رات (عید کی رات )ایک رات کی عبا دت کرنے والا مامون ومطمئن رہے،چناچہ :حضرت ابو امامہ  سے مروی ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ جس نے دونوں عیدوں کی راتوں میں ثواب کا یقین کرتے ہوئے عبادت کی تو اس کا دل اس دن نہیں مرے گا جس دن لوگوں کے دل (غم سے )مردہ ہو جائیں گے (قیامت کے دن خوف وگھبراہٹ سے محفوظ رہے گا )۔
( ابن ماجہ باب فی من قام لیلتی العیدین الرقم ۱۷۸۲)
ایمان پر خاتمہ:
ہر مسلمان کو اپنے ایمان پر خاتمہ کی فکر لگی ہے،اور کتابوں میں لکھا ہے کہ جو جو شخص عیدین کی راتوں میں عبادت کرلے تو اللہ تعالیٰ سوء خاتمہ سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں اور اس کی موت ایمان پر ہوجا تی ہے۔ یأمن سوء الخاتمة۔ (المناوی الرقم ۳۔۸۹)
جنت میں داخلہ:
عیدین کی رات میں عیدین کی رات کی عبادت جنت میں داخلہ کا قوی ترین ذریعہ اور مضبوط وسیلہ ہے ،چنانچہ :حضرت معاذبن جبل  کے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ جو شخص پانچ راتوں میں اللہ کی عبادت کر لے جنت اس کے لئے واجب ہوجاتی ہے ،(۱) آٹھویں ذی الحجہ کی رات (۲)نویں ذی الحجہ کی رات جس کو عرفہ کی رات کہا جاتا ہے (۳) عیدالفطر کی رات (۴)عیدا لاضحی کی رات(۵) پندرھویں شعبان کی رات جس کو شب برأت کہا جاتا ہے۔
عیدکے دن کے مستحبات:
عیدالاضحی کے دن مستحب اور باعث ثواب ہے کہ :
(۱) صبح سویرے اٹھا جائے۔
(۲) مسواک کی جائے،غسل کیا جائے ،شرع کے مطابق زیب و زینت کی جائے۔
(۳) اپنے پاس جو موجودہو،ان میں جو سب سے بہترین لباس ہو وہ پہناجائے۔
(۴) خوشبو لگائی جائے ۔
(۵) اپنے ہی محلہ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھنا ،یوں توجماعت سے فجرکی نمازکا
پڑھنا ہر روز ضروری ہے لیکن عید کے دن اپنے ہی محلہ کی مسجد میں پڑھنا بہتر ہے ۔
(۶) عید کی نمازسے پہلے گھر میں یا عید گاہ میں اشراق یا کوئی نفل نماز نہ پڑھے،
اور عید کی نماز کے بعدعید گاہ میں بھی کوئی نفل نماز نہ پڑھی جائے،گھر
واپس آکرگھر میں چاشت یا کوئی نفل نماز پڑھ سکتے ہیں۔
(۷) عیدالاضحی کی نماز کو جانے سے پہلے کچھ کھایا پیا نہ جائے ،بلکہ نماز کے بعد
کھایا جائے ،اور اگر آپ کے یہاں قربانی ہو ،تو قربانی کے گوشت سے کھایا جائے۔
(۸) عید کی نماز کے لئے جلدی پہونچاجائے۔
(۹) عید کی نماز، آبادی سے باہر عید گاہ میں یاکسی میدان میں ادا کی جائے۔
(۱۰) اگر ممکن ہو تو نماز کے لئے پیدل جائے۔
(۱۱) اگر آنے اور جانے کے دو راستے ہوں تو ایک راستے سے جائے،اور
دوسرے راستے سے واپس آئے۔
(۱۲) عید کی نماز کو جاتے اور آتے ہوئے یہ تکبیر -تشریق-درمیانی درجہ کی بلند آواز سے
پڑھتارہے ”اََللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُاَللّٰہُ أَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ“۔
(۱۳) عید الاضحی کی نماز کے بعد بھی یہ تکبیر تشریق ایک مرتبہ پڑھیں۔
(۱۴) کثرت سے صد قہ و خیرات کرے۔
(۱۵) جائز طریقہ پرخوشی کااظہار کرے۔
(۱۶) جن کے ذمہ قربانی ہو! انہیں ذی الحجہ کی چاند رات سے لیکردسویں ۱۰/تاریخ تک
حجامت نہ بنوانا چا ہئے، اور نہ ناخن ترشوانا چا ہئے ،عید الاضحی کی نما ز کے بعد مستحب ہے ۔
(۱۷) قربانی کے دن مستحب یہ ہے: کہ سب سے پہلا لقمہ جومنہ میں جائے وہ قربانی کاگوشت ہو، لیکن یہ تصورغلط ہے کہ بقرعید کے دن کا روزہ ہوتاہے اور افطاری قربانی کے گوشت سے ہی ضروری ہے،اگر قربانی کے گوشت کے علاوہ کوئی دوسری چیز کھا، پی لی، تو کچھ گنہ گار نہ ہوگا۔
عید الفطر اور عیدالاضحی کے خطبے اگر چہ سنت ہیں،مگر ان کا سننا واجب ہے اس لئے نماز سے فراغت کے بعد اپنی اپنی جگہ بیٹھیں رہیں اور دھیان سے خطبے سنیں،نہ بات چیت کریں نہ سلام کریں اورنہ دوسرے کے سلام کا جواب دیں،نہ کسی کو بیٹھنے کے لئے کہیں،اور خطبے کے درمیان میں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کانام آئے تو دِل دِل میں درود پڑھیں۔
پیغام
صرف جانور کو ذبح کرنے اور زمین کو خون سے رنگین کر دینے کا نام قربانی نہیں،بلکہ اپنے تمام جذبات ،خواہشات ،تمناوٴ ںآ رزوٴں کے فنا کر دینے کا نام قربانی ہے،ما سوی اللہ اور غیر کی محبت کو قربان کر دینے کا نام قربانی ہے۔
یہ سالانہ اس بات کاعہد ہے کہ جب بھی ، جہا ں بھی،جان،مال،عزت وآبرو ،آل واولاد کی ضرورت ہوگی،اسلام کی خاطر قربان کر دینے میں کبھی دریغ نہ ہو گا ۔آئیے غور کریں!
(۱) جانور کو ذبح کرتے وقت جانب قبلہ لٹاکر ”اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَالخ“ تو پڑھ لیا کہ میں نے اپنا رخ خالق کی طرف کر لیاتو کیا واقعتہ دنیا سے اپنا رخ ہٹاکر قبلہٴ حقیقی ،اللہ کی طرف کربھی لیا ہے؟
(۲) چند سو روپئے کا جانور خرید کر آپ نے قربانی کردی ،کیا اسلام کے لیے جان و مال کی ہر قربانی دینے کے لیے بھی خود کو تیار کر لیا ہے؟
(۳) خدا کے نام پر تو آپ نے جانور کا خون بہا دیا ،کیا اپنی خواہشات کا بھی آپ نے خون کر دیا ہے؟
(۴) بدن،خون اور گوشت کو تو آپ نے قربان کر دیا،کیا اپنی روح اور دل کو بھی اللہ کی نذر کیاہے؟
(۵) جانور کے پاوں میں تو رسی ڈال کر اس کو بے بس کر دیاتو کیا اپنے نفس کو بھی آئندہ لگام لگانے کا ارادہ کر لیا ہے؟
(۶) قربانی کے گوشت کو تین حصو ں میں تقسیم کر کے اپنے رشتہ دار، غرباء و مساکین کے چولہے کو بھی گرم کر دیا ہے تو کیا آئندہ بھی ان کی خبر گیری کرنے کا آپ نے تہیہ کر لیا ہے؟اگر کر لیا ہے !تو آپ کو ایسی قربانی مبارک ورنہ یہ صرف ظاہری قربانی ہو گی !
باری تعالیٰ ہمیں ظاہری وباطنی ہر طرح کی قربانی کے لئے قبول فرمائے۔
آمین اللہم آمین