صدقۂ فطر کے احکام ومسائل

!cid_ii_ic058pj60_14e811bd0dd695a9

قربِ الہٰی کا موٴثر وسیلہ : اعتکاف اورشب قدر

aa

غیبت: اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مشابہ

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in
حرف اوّل:
آج ہم خود کو مسلمان ضرور کہتے اور کہلواتے ہیں، مگر ہماری معاشرتی زندگی میں، اسلامی تعلیمات کی کوئی چیز اجاگر نہیں ہوتی۔لوگ نفس کی جھوٹی تسکین کے لیے حرام کو حلال اور حلال کو حرام بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جہاں پر چند لوگ جمع ہوتے ہیں، وہاں وہ اپنے قلب کی جھوٹی تسکین کےلیے، دوسروں کی ذاتیات پر رکیک بحث و مباحثہ، تنقید و تنقیص اور عیب جوئی شروع کرکے لذت محسوس کرتے ہیں، جو در حقیقت غیبت ہوتی ہے۔ دوسرے حضرات اس کو اس طرح سماعت کرتے ہیں،جیسے قرآن کریم کی کوئی آیت کریمہ تلاوت کی جارہی ہویا پھر حضور پر نور محمد عربی – صلی اللہ علیہ وسلم – کی کوئی حدیث پڑھی جارہی ہویا پھر کوئی وعظ و نصیحت کی مجلس ہو۔ ذیل کے سطور میں، بندہ قرآن و حدیث اور اسلاف و اکابر کی تحریر سے استفادہ کرکے، غیبت کے موضوع پر چند سطور اس امید کے ساتھ رقم کررہا ہے کہ اللہ تعالی اس تحریر کو، اپنے اس بندہ کے لیے اور پوری انسانیت کے مفید بنائے! آمین!
غیبت کی تعریف:
غیبت اردو زبان میں استعمال ہونے والاعربی زبان کا لفظ ہے۔ یہ "اغتیاب” سے مشتق ہے۔ اس کی تعریف مندرجہ ذیل الفاظ میں کی گئی ہے: "ایک آدمی کسی دوسرے شخص کا عیب (اس کی غیر موجودگی میں) بیان کرے ، جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔” (المصباح المنیر) اسی غیبت سے متعلق ایک اور لفظ ہے جسے "بہتان” کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ بھی عربی زبان کا ہے۔ اس کی لغوی تعریف "ناحق تہمت لگانااور جھوٹ باندھنا” ہے۔ اصطلاح میں”ایک آدمی کا ایک دوسرے شخص کے بارے میں ایسی بات کرنا، جو در حقیقت اس میں نہیں پائی جاتی ہو” کو بہتان کہا جاتا ہے۔ (التعريفات للجرجانی /143)
غیبت کی تعریف حدیث شریف میں:
ایک حدیث شریف میں پیارے رسول محمد –صلی اللہ علیہ وسلم –نے غیبت کی تعریف و توضیح فرمائی ہے۔ اسے بھی پڑھیے! حدیث مع ترجمہ ذیل میں پیش خدمت ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – أَنَّ رَسُولَ اللهِ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: "أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟” قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ” قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: "إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ.” [مسلم شریف، حدیث نمبر: 70 – (2589)]
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ –رضی اللہ عنہ – بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم – نے ارشاد فرمایا: "کیا تمھیں معلوم ہےکہ غیبت کیا ہے؟” صحابہ کرام – رضی اللہ عنہم– نےعرض کیا: اللہ اوراس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ (پھر) آپ –صلی اللہ علیہ وسلم –نے فرمایا: "تمھارا تمھارے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا، جسے وہ ناپسند کرتا ہو (غیبت ہے)۔” پھر سوال کیا گیا : اگرچہ وہ بات میرے بھائی میں پائی جاتی ہو جو میں نے کہی ہے، پھر آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ –صلی اللہ علیہ وسلم –نے جواب دیا: "اگر وہ بات جو آپ نے کہی اس میں ہے؛ تو آپ نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ بات نہیں پائی جاتی ہے؛ تو آپ نے اس پر بہتان لگایا۔”
غیبت اور بہتان میں فرق:
غیبت میں ایک آدمی کسی دوسرے شخص کے عیوب ، اس کی غیر موجودگی میں بیان کرے، جسے وہ ناپسند کرتا ہو؛ جب کہ بہتان میں، ایک آدمی کسی کی موجودگی یا غیر موجودگی میں کوئی ایسی بات کہے، جو در حقیقت اس میں پائی نہیں جاتی ہے۔ (جامع البيان 26/137)
آدمی غیبت کیوں کرتا ہے؟
غیبت کرنااخلاقی پستی کی بہت بڑی دلیل ہے؛ کیوں کہ آپ ایک ایسے شخص کے عیوب بیان کررہے ہیں، جو دفاع کے لیے وہاں موجود نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص غیبت سے بچ گیا؛ تو اس پر اللہ تعالی کا یہ بہت بڑا احسان و انعام ہے، نہیں تو اس بیماری میں اچھے اچھے لوگ مبتلا ہیں۔ غیبت کےمختلف وجوہ و اسباب ہیں۔ غیبت کے 11/ اسباب یہاں نقل کیے جارہے ہیں۔ ان میں سے بالترتیب آٹھ اسباب کا تعلق عوام سے ہے؛ جب کہ اخیرمیں ذکر کیے جانے والے تین اسباب خواص کے ساتھ مخصوص ہے۔ملاحظہ فرمائے:
(1) کینہ و غضب: کوئی ایسا واقعہ پیش آئے، جو دل میں غصہ کی آگ بھڑکادے، جب دل میں غصہ کی آگ بھڑکتی ہے؛ تو وہ غصہ دلانے والے کے عیوب کے ذکر سے ہی ٹھنڈی ہوتی ہے؛ لہذا وہ آدمی اس شخص کے عیوب بیان کرنا شروع کردیتا ہے۔
(2) موافقت: ہم نشینوں کی تائید و تصدیق کرنا ، خود بھی ان کے ساتھ غیبت میں لگ جانا اور غیبت پر ان کی معاونت و موافقت کرنا۔
(3) احتیاط اور سبقت: کبھی کسی شخص کو یہ گمان ہوتا ہے کہ فلاں شخص ایک بڑے آدمی کو میری برائی بیان کرنے والا ہےیا میرے خلاف کوئی شہادت دینے والا؛ لہذا یہ گمان کرنے والا شخص، خود ہی سبقت کرتا ہے اور اس شخص کی برائی ، اس بڑے آدمی کے پاس بیان کرنے لگتا ہے؛ تاکہ اس خلاف جو بات بعد میں کہی جائے گی، اس اثر زائل ہوجائے۔
(4) براءت: کسی برائی سے اپنی براءت کے مقصد سے، دوسرے شخص کا حوالہ دے کر یہ کہنا کہ یہ کام صرف میں نے ہی نہیں کیا؛ بل کہ فلاں صاحب بھی کرچکےہیں یا وہ بھی اس کام میں میرے ساتھ شریک تھے۔
(5) مفاخرت اور بڑائی: دوسرے شخص میں عیب نکال کر اپنی برتری ثابت کرنا؛ تا کہ لوگ میری طرح، اس شخص کی عزت و توقیر نہ کرے۔
(6) حسد: کبھی یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی کی لوگ بڑی تعریف کرتے ہیں اور محبت بھی کرتے ہیں۔ اب اس تعریف اور محبت کی وجہ سے ایک شخص اس سے حسد کرنے لگتا ہے اور لوگوں سے اس کے عیوب بیان کرنے لگتا ہے؛ تا کہ لوگ اس کی تعریف اور اس سے محبت نہ کرے۔
(7) دل لگی: دوسرے کے عیوب اس لیے ظاہر کیے جاتے ہیں کہ محفل میں دل چسپی کی فضا پیدا ہو اور اہل مجلس کو ہنسنے ہنسانے کا موقع ملے اور اچھا وقت گزرے۔
(8) تحقیر:کبھی اس لیے برائی کی جاتی ہے کہ دوسرے شخص کی تحقیر و تذلیل ہو۔ یہ متکبرین کا شیوہ ہے۔ اس میں موجودگی اور غیر موجودگی کی کوئی قید نہیں؛ کیوں کہ بسا اوقات ایک شخص اپنے سامنے بیٹھے ہوئے آدمی ہی کو تنقید و مذاق کا ہدف بناکر اس کو رسوا کرتا ہے۔
(9) تعجب: کبھی کسی دین دار سے کوئی غلطی ہوجاتی ہے، تو اس عمل پر ایک بھائی تعجب و حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس شخص کا نام بھی لے لیتا ہے۔ اس شخص کا نام لے کر تعجب و حیرت کرنا غیبت ہے۔
(10) جذبۂ شفقت: کسی شخص کی حالت غم زدہ ہوجائے، اور اسے امر معیوب میں مبتلا دیکھ کر یہ کہے کہ فلاں شخص کی موجودہ حالت نے مجھے مضطرب کر رکھا ہے، مجھے اس کی حالت پر افسوس ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس شخص کا نام بھی لے لیا۔ اب یہ شفقت اور اظہار افسوس نہ رہا؛ بل کہ یہ غیبت ہے۔
(11) اللہ کے لیے غصہ: کسی شخص کی غیر شریفانہ حرکت دیکھ کر یا کوئی غلط بات سن کر ایمانی حمیت کے تقاضے سے غصّہ آتا ہے۔ غصّہ کے اظہار کے وقت اس شخص کا نام بھی لے لیا؛ تو اب یہ غصّہ جو بسب حمیت ایمانی تھا، اب غیبت ہوگیا۔ (تلخیص ، از: احیاء العلوم 3/223)
قرآن کریم میں غیبت کی قباحت و شناعت:
قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر، زبان کو غلط استعمال کرنے اور غیبت سے آلودہ کرنے پر ممانعت آئی ہے اور غیبت کی شناعت واضح لفظوں میں بیان کی گئی ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں، ایک جگہ تو غیبت کرنے والے کو، مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مشابہ قرار دیا ہے ۔ ہم ذیل میں وہ آیت کریمہ مع ترجمہ و تفسیر پیش کرتے ہیں؛ تاکہ ہمیں اللہ کا خوف ہو اور ہم غیبت جیسی عام وبا سے، اپنی زبانوں کی حفاظت کرسکیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ.” (سورہ حجرات، آیت: 12) ترجمہ: "اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچا کرو؛ کیوں کہ بعضے گمان گناہ ہوتے ہیں اور سراغ مت لگایا کرو اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھالے، اس کو تو تم ناگوار سمجھتے ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔”
آیت مذکورہ کے تحت، "ظن” اور "تجسس” کے حوالے سے مدلل و مفصل بحث کرنے کے بعد، مفتی محمد شفیع عثمانی –رحمہ اللہ- غیبت کے حوالے سے رقم طراز ہیں: "اس آیت نے کسی مسلمان کی آبروریزی اور توہین و تحقیر کو، اس کا گوشت کھانے کی مثل و مشابہ قرار دیا ہے۔ اگر اس کے وہ شخص سامنے ہو؛ تو ایسا ہے جیسے کسی زندہ انسان کا گوشت نوچ کر کھایا جائے، اس کو قرآن میں بلفظ "لمز”تعبیر کرکے حرام قرار دیا ہے…. اور وہ آدمی غائب ہو، اس کے پیچھے اس کے متعلق ایسی بات کہنا، جس سے اس کی آبرو میں خلل آئے اور اس کی تحقیر ہو ، یہ ایسا ہے جیسے کسی مردہ انسان کا گوشت کھایا جائے کہ جیسے مردہ کا گوشت کھانے سے مردے کو کوئی جسمانی اذیت نہیں ہوتی، ایسے ہی اس غائب کو جب تک غیبت کی خبر نہیں ہوتی، اس کو بھی کوئی اذیت نہیں ہوتی، مگر جیسا کسی مردہ مسلمان کا گوشت کھانا حرام اور بڑی خسّت و دنائت کا کام ہے، اسی طرح غیبت حرام بھی ہے اور خست و دنائت بھی کہ پیٹھ پیچھے کسی کو برا کہنا کوئی بہادری کا کام نہیں۔ (معارف القرآن: 8/121)
حدیث شریف میں غیبت کی مذمّت:
اب حدیث رسول –صلی اللہ علیہ وسلم –میں غیبت کو کس طرح بیان کیا گیا ہے، اسے بھی دیکھتے ہیں! ہم چند احادیث ترجمہ و قدرے وضاحت کے ساتھ، اس امید کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ اللہ عزّ و جل ہمیں اس بدترین گناہ سے نجات دے اور ہماری حفاظت فرمائے۔
ایک حدیث شریف میں محمد رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم -نے فرمایا کہ معراج کے وقت آپ -صلی اللہ علیہ وسلم – کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جو تانبے کے ناخنوں سے، اپنے سینے اور چہرے کو نوچ رہےتھے۔ جب آپ -صلی اللہ علیہ وسلم -نے ان کے بارے میں دریافت کیا؛ تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ غیبت کیا کرتے تھے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَمَّا عُرِجَ بِي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ، قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ، وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ.” [ابوداؤد، حدیث نمبر: 4878]
ترجمہ: انس بن مالک –رضی اللہ عنہ- بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم -نے ارشاد فرمایا: "جب مجھے معراج میں لے جایا گیا، میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے تھے، وہ اپنے چہرے اور بدن کو نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبریل ! یہ کون ہیں؟ جبریل نے جواب دیا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) ہیں اور ان کی آبروریزی کرتے ہیں۔”
یہاں میں ایک دوسری حدیث نقل کررہا ہوں، جس میں اللہ کے رسول -صلی اللہ علیہ وسلم – نے غیبت کو زنا سے بھی بد ترین فعل قرار دیا ہے؛ جب کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ زنا خود کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ذیل کی سطروں میں المعجم الاوسط کے حوالے سے حدیث شریف ملاحظہ فرمائے:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُما – قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – :”الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا.” قِيلَ: وَكَيْفَ؟ قَالَ: "الرَّجُلُ يَزْنِي ثُمَّ يَتُوبُ، فَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَإِنَّ صَاحِبَ الْغِيبَةِ لَا يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يَغْفِرَ لَهُ صَاحِبُهُ.” [المعجم الاوسط، حدیث نمبر: 6590]
ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت ابو سعید خدری –رضی اللہ عنہما- بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم- نے ارشاد فرمایا: "غیبت زنا سے بدترین ہے۔” سوال ہوا، کیسے؟ آپ – صلی اللہ علیہ وسلم – نے جواب دیا: "آدمی زنا کرتا ہے ، پھر توبہ کرلیتا ہے؛ لہذا اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ اور غیبت کرنے والے کو معاف نہیں کیا جاتا ہے؛ تا آں کہ وہ شخص اسے معاف کردے جس کی اس نے غیبت کی۔”
آلۂ غیبت زبان ہے۔ زبان اللہ تعالی کی عطاکردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ اگر زبان نہ ہو؛ تو انسان قوت گویائی سے محروم ہوجائے گا اور مافی الضمیر کی ادائے گی جیسی ضرورت سے محروم ہوجائے گا۔ مگر اس عظیم نعمت کا استعمال، اگردینی باتوں کے لیے ہو، اللہ کے ذکر و اذکار کے لیے ہو اور اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے ہو؛ تو یہ سب ہمارے لیے اجر و ثواب کا باعث ہوں گے۔ مگر ہم اس عظیم نعمت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ہم اسی زبان سے غیبت اور بہتان جیسے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں، لوگوں کو اذیت پہونچاتے ہیں اور مردہ بھائی کا گوشت کھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی حدیثوں میں زبان کی حفاظت کی اشد تاکید آئی ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب ایک آدمی صبح کرتا ہے؛ تو سارے اعضاء زبان سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈرو؛ کیوں کہ اگر تم نہیں ڈرتی ہواور کچھ غلط کرتی ہو؛ تو تمھارے ساتھ ہمیں بھی سزا بھگتنی ہوگی۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ – رَضِيَ اللّهُ عَنْهُ – رَفَعَهُ قَالَ: "إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّ الأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ فَتَقُولُ: اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّمَا نَحْنُ بِكَ، فَإِنْ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنْ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا.” [ترمذی، حدیث نمبر: 2407]
ترجمہ: ابو سعید خدری -رضی اللہ عنہ – مرفوعا بیان کرتے ہیں: "جب ابن آدم صبح کرتاہے؛ تو اس کے تمام اعضاء زبان سے عاجزی کرتے ہیں، پھر کہتے ہیں: ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈرو؛ کیوں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں۔اگر تم سیدھی ہو؛ تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تم ٹیڑھی ہوئے، تو ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔”
ایک حدیث میں ہے کہ جسے اللہ تعالی نے زبان اور شرم گاہ کے شر سے محفوظ رکھا؛ تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، وَشَرَّ مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ دَخَلَ الجَنَّةَ.” [ترمذی، حدیث نمبر: 2409]
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ –رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے کہ رسول اللہ – صلی اللہ علیہ وسلم- نے ارشاد فرمایا: "جسے اللہ نے اس شر سے محفوظ رکھا ، جو اس کے دو ڈارھوں کے درمیان (زبان) ہے اور اس کے شر سے جو اس کے دو پاؤں کے درمیان (شرم گاہ) ہے؛ تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔”
غیبت کی حرمت:
ان آیت قرآنی اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ جس طرح کسی کی جان و مال کو نقصان پہونچانا شریعت اسلامیہ میں قطعی طور پرحرام ہے، اسی طرح کسی کی عزت و آبرو کو نقصان پہونچانا بھی کلی طور پر حرام ہے۔جس شخص کی غیبت کی جاتی، یہ غیبت اس کی عزت و آپرو پر ایک خفیہ حملہ ہے؛ کیوں کہ غیبت کا مقصد بھی شخص مخصوص کی عزت و آبرو کو نقصان پہونچانا اور اس کی تحقیر کرنا ہے ۔ اسی بنا پر غیبت ایک حرام فعل ہے۔
غیبت ہمارے معاشرہ میں:
ہمارے موجودہ معاشرہ میں، جہاں چند آدمی بیٹھ جائیں، پھر تو یہ مجلس، غیبت اور جھوٹ بیانی: ہر طرح کی برائی سے بھری مزین ہوتی ہے۔ گستاخی کی معذرت کے ساتھ، یہ بھی عرض کردیتا ہوں کہ آج کے دور میں کچھ بڑے بڑے لوگوں کی مجلس بھی اس مفسد وبا سے شاید ہی خالی ہوتی ہے۔قرآنی آیت اور احادیث شریفہ جو اوپر کی سطروں میں پیش کیے گئے ہیں، وہ ایک سمجھ دار کے لیے عبرت اور سبق حاصل کرنے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اگر ہم نے اپنے معاشرہ کو سنبھالنے کی کوشش نہیں کی؛ تو پھر ہمیں اپنے اعمال صالحہ سے ہاتھ دھونے کے لیے تیار رہنا چاہیے؛ کیوں کہ غیبت حقوق العباد میں سے ہے۔ اس وقت تک یہ معاف نہیں ہوسکتا، جب تک ہم اس شخص سے معافی نہ مانگ لیں، جس کی ہم نے غیبت کی ہے۔ نہیں تو پھر قیامت کے دن اس شخص کو اپنی نیکی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
امام ابو حنیفہ اور غیبت:
سفیان ثوری –رحمہ اللہ- سے کسی نے کہا: "ہم نے امام اعظم ابو حنیفہ کو کبھی کسی کی غیبت کرتے نہیں سنا۔” سفیان ثوری نے فرمایا: "ابو حنیفہ –رحمہ اللہ- اتنے بے وقوف نہیں کہ اپنے اعمال صالحہ کو خود برباد کریں۔”
امام اعظم ابوحنیفہ –رحمہ اللہ- کے بارے میں یہ واقعہ بہت مشہور ہے کہ امام صاحب کی کسی نے غیبت کی۔ امام صاحب کو جب معلوم ہوا ؛ تو اس کے پاس ہدیہ لے کر گئے۔ اس نے کہا: "آپ نے یہ زحمت کیوں گوارا فرمائی؟ ” امام صاحب نے فرمایا: "آپ ہمارے محسن ہیں، اس لیے ہدیہ پیش کررہا ہوں۔” اس شخص نے عرض کیا: ” میں نے تو کبھی آپ کے ساتھ احسان کا معاملہ نہیں کیا۔” پھر امام صاحب نے فرمایا: ” سنا ہے آپ نے ہماری غیبت کی ہے۔ یہ آپ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ میدانِ آخرت میں، آپ ہمارے گناہ اپنے سرلیں اور اپنی نیکیاں ہمارے حساب کے پلڑہ میں ڈال دیں! آخرت کے محسن سے بڑھ کر کون محسن ہوگا؟”
غیبت کا کفارہ:
جب ایک شخص نے اپنے کسی بھائی کی غیبت کی؛ تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ غیبت کرنے والا اپنے فعل پر نادم و پشیماں ہو،افسوس کا اظہار کرے اور توبہ کرکے اللہ تعالی کے حق سے بری الذمہ ہوجائے۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی؛ بل کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے، اب اس شخص کے پاس بھی جائے اور اس سے معافی کی درخواست کرے اور اس کے ساتھ وہ اپنے فعل پر متاسف او رنادم و غمگیں بھی ہو۔ غیبت کرنے والے کو یہ بھی چاہیے کہ جس شخص کی غیبت کی ہے اس کی ثناء اور تعریف کرے اور اس کے لیے دعائے خیر بھی کرے۔ (تلخیص، از: احیاء العلوم: 3/234)
غیبت کب جائز ہے؟
وہ شرعی اغراض و مقاصد جن کا حصول بغیر غیبت کے ممکن نہ ہو، اس وقت غیبت مباح اور جائز ہے جیسا کہ علماء کرام نے لکھا ہے۔ اس حوالے سے شيخ الإسلام ابو زكريا محیی الدين یحیی بن شرف نووي – رحمہ الله – (631-676 ھ) نے غیبت کے جواز کےلیے اپنی کتاب : "ریاض الصالحین” میں "بيان ما يباح من الغیبة” کے تحت چھ اسباب کا ذکر کیا ہے ۔ اگر ان میں سے کوئی سبب پایا جاتا ہے؛ تو غیبت کرنا مباح ہے۔ ذیل کی سطروں میں ان چھ اسباب کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے:
(1) اگر کسی شخص پر ظلم کیا جارہا ہو؛ تو وہ سلطان اور قاضی یا ایسی شخصیت کے پاس جاکر ظلم کی روداد بیان کرے ، جو اسے انصاف دلاسکے؛ تو اس طرح کی غیبت درست ہے۔
(2) کوئی شخص برائی کا ارتکاب کررہا ہو، تو اس کی اصلاح کی نیت سے کسی ایسے آدمی سے مدد طلب کرنا، جس سے امید ہو کہ یہ شخص اس کو، اس منکر سے روک سکتا ہے؛ تو یہ بھی غیبت نہیں ہے۔ ہاں، اگر اس کی نیت اصلاح کے بجائے کچھ اور ہو، مثلا اس کو ذلیل کرنا، تو یہ غیبت ہے جو کہ حرام ہے۔
(3) جب ایک شحص کسی پر ظلم کررہا ہو، تو اس حوالے سےمفتی سے فتوی طلب کرنے کے لیے اس شخص کے عیب بیان کرنا غیبت نہیں ہے۔ البتہ محتاط طریقہ یہ ہے کہ فتوی طلب کرتے وقت اس شخص کا نام کے بجائے فرضی نام پیش کرکے فتوی معلوم کرے۔
(4) کسی شخص کے اندر کسی طرح کی برائی ہو؛ تو اس سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے اور اہل ایمان کی خیرخواہی کی نیت سے اس شریر کے شر کو بیانا جائز ہے۔
(5) اگر کوئی شخص اپنے "فسق”، "بدعت” اور "شراب نوشی” وغیرہ جیسے گناہوں اور عیوب کا اعلانیہ بیان کرتا ہو؛ تو اس شخص کے ان عیوب اور گناہوں کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیر کرنا جائز ہے؛ لیکن ان کے علاوہ دوسرے عیوب، جن کو وہ اعلانیہ بیان نہیں کرتا، بیان کرنا جائز نہیں ہے۔
(6) کسی انسان کا تعارف اور شناخت اس لقب سے کرانا، جو در حقیقت تو عیب ہے، جیسے: لنگڑا، بہرا، اندھا، بھینگا وغیرہ؛ مگر وہ لوگوں کے درمیان اسی لقب سے مشہور و معروف ہے؛ تو یہ بھی جائز۔ مگر جب شناخت کرانے والے کی نیت، شناخت کے بجائے تنقیص ہو، تو یہ حرام ہے۔
یہ وہ چھ وجوہ و اسباب ہیں ان کے پائے جانے کے بعد، غیبت جائز ہو جاتی ہے۔ دلیل کے طور علماء کرام نے حضرت عائشہ – رضی اللہ تعالی عنہا- سے مروی ایک صحیح حدیث کا ذکر کیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ : "ایک شخص نے رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم – سے ملاقات کرنے کے لیے اجازت طلب کی۔ اس پر آپ – صلی اللہ علیہ وسلم – نے فرمایا کہ اسے اجازت دے دو ، یہ اپنے قبیلہ کا ایک برا آدمی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ شخص آپ – صلی اللہ علیہ وسلم – کی رائے میں برا تھا؛ لہذا آپ – صلی اللہ علیہ وسلم -نے اس کی حقیقت بیان کردی؛ تاکہ مستقبل میں آپ – صلی اللہ علیہ وسلم -کے فیملی ممبرس اس سے بچ کر رہیں۔ امام بخاری -رحمہ اللہ – نے اس حدیث کو "باب ما یجوز من اغتیاب اہل الفساد والریب” کے تحت لاکر اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ان جیسے مواقع سے غیبت کرنا جائز ہے۔ حدیث مع ترجمہ پیش خدمت ہے:
عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَقَالَ: "ائْذَنُوا لَهُ، بِئْسَ أَخُو العَشِيرَةِ، أَوِ ابْنُ العَشِيرَةِ” فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَهُ الكَلاَمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ الَّذِي قُلْتَ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الكَلاَمَ؟ قَالَ: "أَيْ عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ، أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ، اتِّقَاءَ فُحْشِهِ” (بخاری، حدیث نمبر: 6054)
ترجمہ: حضرت عائشہ –رضی اللہ عنہا – فرماتی ہیں کہ : ایک شخص نےرسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم- سے ملاقات کی اجازت طلب کی۔ آپ -صلی اللہ علیہ وسلم – نے ارشاد فرمایا: "اسے اجازت دیدو، یہ اپنے قبیلے کا کیا ہی بُرا آدمی ہے۔” پھر جب وہ داخل ہوا؛ تو آپ -صلی اللہ علیہ وسلم – نے اس سے نرمی کے ساتھ بات کی۔ میں کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے جو کہا وہ کہا، پھر آپ نے اس سے بڑی نرمی سے گفتگو فرمائی؟ آپ نے جواب دیا: "اے عائشہ! یقینا وہ لوگوں میں بدترین ہوگا، جسے لوگ اس کی بد زبانی کے ڈر سے (اس سے ملنا جلنا) چھوڑ دیں”۔
اسی طرح اس سلسلے کی ایک اور حدیث ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ ایک خاتون نبی اکرم- صلی اللہ علیہ وسلم – کے پاس آئی اور اس نے اپنی داستان سنانی شروع کردی کہ اس کا خاوند ایک کنجوس آدمی ہے، وہ اتنا مال بھی نہیں دیتا ، جو اس کے بچے اور اس کی ضرویات کے لیے کافی ہو۔ اس خاتون کا یہ واقعہ نبی کریم – صلی اللہ علیہ وسلم – سے بیان کرنا بھی غیبت ہے؛ مگر اس حوالے سے وہ خاتون مظلوم تھی اور اپنی پریشانی کے حل کے لیے اس نے یہ شکایت، اس امید کے ساتھ کی کہ آپ – صلی اللہ علیہ وسلم – اس کا کوئی حل نکالیں گے؛ لہذا یہ صورت جائز ہے۔ مکمل حدیث درج ذیل ہے:
عَنْ عَائِشَةَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْها – أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَيْسَ يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي، إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ وَهُوَ لاَ يَعْلَمُ، فَقَالَ: "خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ، بِالْمَعْرُوفِ.” [بخاری، حدیث نمبر: 5364 ، مسلم، حدیث نمبر: 7 – (1714)]
ترجمہ: عائشہ- رضی اللہ عنہا – روایت کرتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یقینا ابو سفیان ایک بخیل آدمی ہیں، مجھے اتنا نہیں دیتے ہیں، جو مجھے اور میرے لڑکے کو کافی ہو، سوائے اس (مال ) کے جو میں ان سے لیتی ہوں اور ان کو معلوم نہیں ہوتا۔ پھر آپ- صلی اللہ علیہ وسلم – نے فرمایا: "جتنا تمھیں اور تمھارے لڑکا کو کافی ہوجائے، اچھے طریقے سے لو۔”
حرف آخر:
اس تحریر سے یہ بالکل واضح ہوگیا کہ غیبت ایک حرام عمل اور یہ بدترین گناہوں میں سے ہے۔ اس سے ہمیں کلی طور پر اجتناب کرنا چاہیے۔ ہمیں خود سوچنا چاہیے کہ اس گناہ بے لذت سے ہمیں کیا حاصل ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غیبت ان گناہوں میں سے ہےکہ اگر اس شخص کو معلوم ہوجائے،جس کی ہے نے غیبت کی ہے؛ تو ہم اس کے سامنےدنیا میں رسوا ہوتے ہیں۔ پھر روز محشر عند اللہ ، ہمیں اس گناہ پر عذاب دیا جائے گا اور اللہ تعالی اور سارے بندگان خدا کے سامنے ، ہم ذلیل و خوار ہوں گے۔ اس سے بھی بدترین یہ ہوگا کہ ہمارے نیک اور اچھے اعمال، اس شخص کی جھولی میں ڈال دیے جائیں گے، جس کی ہم نے غیبت کی ہے۔ اگر اس سے بھی معاملہ برابر نہ ہوا ؛ تو پھر اس شخص کا گناہ ہمیں اپنے سر لینا ہوگا۔ اس لیے ایک عاقل و بالغ مسلمان کے لیے بہتر یہ ہے کہ اپنی زبان کی ہر طرح سے حفاظت کرے۔ وہی بات کرے جس کی ضرورت ہو، مصلحت ہو یا ناگزیر ہو۔ ایسی صورت ہو جہاں بات کرنا اور نہ کرنا، ہر دو صورتوں میں آپ کے مقصد کی تکمیل ہورہی ہو؛ تو بات نہ کرے، یہی بڑھیا طریقہ ہے؛ کیوں کہ بسا اوقات ایک بات مباح اور درست ہوتی، پھر وہی بات بڑھ کر مکروہ اور حرام تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ بات ہمارے روز مرہ کی زندگی میں بہت عام ہے، ہم تھوڑی سے توجّہ سے اسے تاڑ سکتے ہیں۔ ہمیں ہر وقت اللہ تعالی کا ارشاد: "لَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا؟” (کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھالے؟) یاد رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہر طرح کے گناہوں سے ہماری حفاظت فرمائے! آمین!
(مضمون نگار دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ کے استاذ ہیں۔ ان سے qasmikhursheed@yahoo.co.in پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

مدارس اسلامیہ: پھونکو ں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا!

شمس تبریز قاسمی
stqasmi@gmail.com
004
ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کی خدمات کسی سے مخفی نہیں ہے ۔ ہندوستان کی آزادی ، معاشرہ کی اصلاح ، اقتصادی نمو ، اور تعلیمی شرح میں اضافہ کی شرح کا سہرا انہیں دینی مدارس کو جاتا ہے ۔بے سروسامانی کے عالم میں علم نبوت کی اشاعت کا مدارس نے جو فریضہ سنبھالاتھا وہ آج تسلسل کے ساتھ برقررر ہے اور ہزراوں خوفناک طوفان کے باوجود مدارس کا چراغ گل نہیں ہوسکا ہے ۔ ہر دور میں مدارس کو ختم کر نے کی کوششیں کی گئیں۔ اہل مدارس کے خلاف الزام تراشیاں کی گئیں۔ ان کا ناطقہ حیات بندکرنے کی سازشیں رچی گئیں۔ عوام کو مدارس سے دوررکھنے کی عوامی اور سرکاری سطح پر تحریکیں چلائی گئیں ۔ مدارس کے طلبہ کو غریب اور پسماندہ قراردیا گیا ۔ انہیں جاہل اور گنوار کہاگیا ۔ان کے مستقبل کو تاریک بنانے کی کوشش کی گئی۔ دہشت گردکا خطاب دیا گیا ۔ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالاگیا ۔ارباب اقتدار نے یہ فرما ن بھی جاری کردیا کہ ” مدارس کی بڑھتی ہوئی تعداد سے ہندوستان کی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے“ ۔ان سب کے پیچھے یہی مقصد کارفرما تھا کہ مسلم عوام مدارس سے برگشتہ ہوجائیں ۔ ان کے دلوں میں مدارس کے تئیں نفرت سماجائے ۔ مسلم والدین اپنے بچوں کو دینی مدارس میں حصول تعلیم کے لئے نہ بھیجیں کیوں کہ اسلامی تعلیمات انہیں مدارس سے زندہ ہے ۔ اسلامی تشخص اور شعائر کو فروغ دینے کے کے علم بردار یہی مدراس ہیں ۔ قرآن و حدیث سے مسلمانوں کا رشتہ انہیں مدارس کی وجہ سے بر قرار ہے ۔ مساجد اور مکاتب انہیں مدرسہ والوں کی وجہ سے آباد ہیں۔بہت پہلے ایک انگریز دانشور نے کہا تھا کہ اگر مسلمانوں پر حکومت کرنا ہے اور انہیں اپنا مطیع اور غلام بنانا ہے تو انہیں قرآن پاک سے دور کردو ، جب وہ قرآن پاک نہیں پڑھ سکیں گے تو ایک مسلمان کی حیثیت سے زندگی بھی نہیں گذار سکیں گے ۔ لیکن اس طرح کی کو ئی بھی سازش کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکی ہے ۔ ارباب اقتدرا اور اسلام دشمن عناصر کی یہ تمام ترکیبیں بے اثر اور رائیگاں ثابت ہوئی ہیں۔
بی جے پی کی زیر قیادت مہاراشٹرا کی فڈنویس سرکار کا یہ فیصلہ اسی سلسلے کی عملی کڑی ہے جس کو نافذ کرنے کے لئے اب باضابطہ طور پر قانون کا سہار الیا گیا ہے ۔ مہاراشٹر ا حکومت نے چندر وز قبل یہ فیصلہ لیا ہے کہ اسکول کے نصاب کے مطابق تعلیم نہ حاصل کرنے والے مدارس کے طلبہ ناخواندہ اور غیر اسکولی کہلائیں گے ۔”سروا شکچھا ابھیان “اور آر ٹی ای کے تحت ان کا شمار نہیں ہوگا۔ جن مدارس میں عصری علوم کی تعلیم نہیں دی جائے گی انہیں کسی بھی طرح کی کوئی سرکاری گرانٹ نہیں ملے گی ۔ مہاراشٹر حکومت کا یہ فیصلہ وا ضح طور پر مسلم مخالف اور قانون مخالف ہے ۔ دستور ہند کی دفعہ نمبر30 کے تحت اس ملک میں اقلیتوں کو اپنی مرضی کے تعلیمی ادارہ جات کھولنے کی پوری آزادی حاصل ہے ۔ سپریم کورٹ کے مطابق ان ادارہ جات میں مدرسے سے لے کر اسکول تک سبھی تعلیمی ادارے آتے ہیں لہٰذا مہاراشٹر حکومت کا یہ اقدام نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کی بھی توہین کے مترادف ہے ۔
ہندوستان میں دینی مدارس کی تعداد تقریبا لاکھوں سے زائد ہے جہاں سے ہر سال کم و بیش پندرہ ہزار طلبہ فراغت حاصل کرتے ہیں ۔ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے مدارس میں کچھ وہ ہیں جن کا شمار سرکاری بورڈ کے تحت ہوتا ہے ۔بہار ، بنگال ،آسام یوپی اور ایم پی میں اسکول بورڈ کی طرح باضابطہ مدرسہ بورڈ ہے۔ بورڈ سے منسلک طلبہ اپنی اہلیت کے دائرے میں سرکاری ملازمت کے حقدار ہوتے ہیں ۔انہیں سرکاری امداد ملتی ہے ۔ دوسر ے لفظوں میں انہیں گورنمنٹ اسکول کی طرح گورنمنٹ مدرسہ کہا جاتا ہے۔ مدرسہ عالیہ کلکتہ یونیورسیٹی لیول پر مسلسل ترقی کررہی ہے ۔بقیہ مدارس وہ ہیں جنہیں حکومت سے کسی طرح کی کوئی امداد نہیں ملتی ہے ۔ ملت اسلامیہ کے تعاون سے وہ مدارس چلتے ہیں ۔گذشتہ یو پی اے حکومت کے دوران مرکزی مدرسہ بور ڈ کی تجویزیں بار ہا زیر غور آئی لیکن مسلم قیادت نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا کیوں کہ ریاستی سطح پر جو بورڈ ہیں وہ ناکامی کے شکار ہیں ۔ ڈگری ملنے کے سوا کسی طرح کی قابلیت اور صلاحیت وہاں کے طلبہ کو نہیں مل سکی ہے۔ ایسے میں مرکزی مدرسہ بورڈ کا قیام دینی مدارس کو تعلیمی انحطاط سے دو چار کرنے اور اصل مقصد سے منحرف کرنے کا ایک منصوبہ تھا جس میں حکومت ہند کامیاب نہیں ہوسکی ۔
مہاراشٹرا ان صوبوں میں شامل ہے جہاں کسی طرح کا کوئی مدرسہ بورڈبھی نہیں ہے ۔ سرکاری محکموں میں مدراس کے طلبہ کو کوئی ملازمت نہیں دی جاتی ہے ۔ 2013 میں محمود الرحمن کمیٹی کی رپورٹ نے مہاراشٹر ا حکومت سے مہاراشٹرا مدرسہ بورڈ تشکیل دینے کی سفارش بھی کی تھی ۔ مہاراشٹر ا کے دینی مدارس کی تعداد تقریبا1900 سے زائد ہے ۔ یہاں دو لاکھ کے قریب طلبہ زیر تعلیم ہیں جن کی مکمل کفالت من جانب مدرسہ کی جاتی ہے ۔ حکومت نہ طلبہ کو نہ ہی مدارس کو کسی طر ح کا امداد دیتی ہے ۔
مہاراشٹرا حکومت کے فیصلہ کا یہ جز ہمیں خوشی بہ خوشی تسلیم ہے کہ وہ مدارس کو کسی طرح کا گرانٹ نہیں دے گی لیکن دوسرا جز ا قانو ن مخالف ، اسلام دشمنی اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کے نفاذ پر مبنی ہے کہ مدارس کے طلبہ غیر تعلیم یافتہ شمار کئے جائیں گے۔ مدارس کے فارغ طلبہ اپنی جدو جہد اور مدارس کی آغوش میں ملی فکری بلندی کے سبب زمانہ سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ حسب سہولت یونیورسیٹز اور کالج کا رخ کرکے اعلی ترین عصری تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ یوپی ایس سی تک کا سفر طے کرتے ہیں ۔ سرکاری محکموں میں نمائندگی حاصل کرتے ہیں ۔ سیاست میں قدم جماتے ہیں ۔ سیاسی ، سماجی اور تعلیمی انقلاب برپا کرتے ہیں ۔ ایسے میں حکومت نے غیر تعلیم یافتہ قراردے کر اور آر ٹی ای سے باہر کرکے ان کے شہ رگ پر ہی حملہ کردیا ہے ۔ عملی طور پر مدارس سے دل چسپی رکھنے والوں کو اس سے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔مہاراشٹرا حکومت کا مسلمانوں کے خلاف یہ دوسرا اقدام ہے ۔ اس سے قبل گائے اور اس کی نسل کے ذبیحہ پر ریاستی حکومت پابندی عائد کرکے مسلمانوں کو اقتصادی طور پر نقصان پہچارہی ہے ۔ اب یہ فیصلہ لیا گیا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو تعلیمی سطح پر کمزور کرنا ہے کیوں کہ یہاں پڑھنے والے وہ غریب بچے ہوتے ہیں جن کے والدین خط افلاس سے نیچے زندگی گزارتے ہیں ۔ ان کے پاس اپنے چھوٹوں بچوں کو کام میں لگانے کے سوا کسی طرح کی تعلیم دلانے کی کوئی صلاحیت نہیں ہوتی ہے ۔
مدراس اسلامیہ اسلام کا قلعہ ہے ۔ اسلامی تہذیب و ثقافت کے علم بردار ہیں ۔ حب الوطنی ، فرض شناسی اور حسن اخلاق کی تعلیم دی جاتی ہے۔انسانیت کا سبق سکھایا جاتا ہے ۔ دینی تعلیم کے ساتھ تقریبا تمام چھوٹے بڑے مدارس میں عصری تعلیم کے ضروری مضامین بھی شامل ہیں ۔ جیسے کہ انگریزی ، ہندی حساب ان سب کے باوجود اگر یہ کہاجائے کہ مدارس کے طلبہ مین اسٹریم سے باہر ہیں ۔ وہ جاہل اور غیر تعلیم یافتہ ہیں تو اسے اسلام دشمنی ، اور مدرسہ مخالف مہم کے علاوہ کچھ نہیں کہاجاسکتا ہے ۔ ہندوستان کی آزادی دارالعلوم دیوبند اور مدارس اسلامیہ کی مرہون منت ہے۔بر صغیر کی تہذیبی ،ثقافتی ، سماجی ، تعلیمی اور معاشی اصلاحات میں مدارس کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ جن اسباب کی بناپر ہندوستان کو دنیا بھر میں شہرت ملی ہے ان میں ام المدارس دارالعلوم دیوبند سرفہرست ہے ۔گذشتہ سال کی بات ہے جب پاکستان کے سفر کے دوران ایک یورپین مفکر نے یہ اعتراف کیا کہ” سرخ اینٹوں سے بنی ان عمارتوں میں نہ جانے کیا رکھا ہے جس نے گذشہ ڈیڑھ صدی میں بر صغیر کا مزاج بدل کر رکھ دیاہے “۔
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکو ں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا!

صدقۃ الفطر اور عید الفطر کے احکام ومسائل

Eidul Firt ke Akham wa Masail.pdf

Sadqa Fitr.pdf

رمضان المبارک کا آخری عشرہ

16329264

زکات اسلام کا اہم فریضہ

1631314