رپورٹ پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ دارالعلو م دیوبند

از: مولانا محمدشاہد انورقاسمی بانکوی مرکز التراث الاسلامی دیوبند
07417032707 Email : shahid.anwar69@yahoo.in
ایشاء کی عظیم دینی اور اسلامی درسگاہ ازہر ہنددارالعلوم دیوبندمیں گذشتہ آٹھ سالوں سے اسلامی عقائد کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کے سدباب کے طور وطریق اور فضلائے مدارس اسلامیہ کو فرقہائے باطلہ سے نبردآزمائی کے طریقہ کار سے واقف کرانے اور اکابرعلماء دیوبند کی روشن خدمات اور علمی استدلال سے استفادہ کے لئے پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ ، کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی زیر نگرانی منعقد ہوتا رہا ہے ۔ اس کیمپ کے مربی خصوصی حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری ہوتے ہیں ۔ سال رواں بھی یہ تربیتی کیمپ ۲۰تا۲۵شعبان ۱۴۳۶ھ مطابق ۸تا ۱۳جون ۲۰۱۵ء کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبندکی زیر نگرانی اور حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری کی زیر تربیت بمقام دارالحدیث (فوقانی) منعقد ہوا،کیمپ کی پہلی نشست کی صدارت کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی زیدمجدہم مہتمم دار العلوم دیوبند نے اس کا افتتاح فرمایا ۔کیمپ کی روزانہ تین نشستیں (صبح ۸ تا ۱۲ بجے ،بعد نماز ظہر تاعصر اور بعد نماز مغرب تا عشاء )منعقد ہوتی تھیں اس طرح پانچ دنوں میں کل ۱۵ نشستیں ہوئیں جس میں فضلائے مدارس عربیہ اورمندوبین علمائے کرام کونت نئے فتنوں کی خطرناکی سے واقف کرایاگیااور ان کے تازہ حملوں کی تردید وتنکیر کا اصول بتایاگیا،نیز حکمت ومصلحت کے ساتھ میدان عمل میں مسلمانوں کے دین و ایمان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کام کرنے کاطریقہ کار بتلایاگیا۔ دوران بیان پیش کیے گئے حوالوں کی مراجعت اور مطالعہ ومشاہدہ کا نظم الیکٹرانک پروجیکٹر کے ذریعہ بھی کیاگیاتھاتاکہ حوالوں کو اپنی یاد داشت میں محفوظ کرنے اور مشاہدہ کرنے میں شرکاء کیمپ کوآسانی ہو۔
اس خصوصی اور یادگاری تربیتی کیمپ میں دارالعلوم دیوبند ،دارالعلوم وقف دیوبند،دارالعلوم شیخ زکریادیوبند،مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور،مدرسہ شاہی مرادآبادودیگر مدارس عربیہ کے فضلاء اور آسام ،گجرات ،بنگال ،بہار ،کیرالہ ،ممبئی وغیرہ کے علمائے کرام نے شرکت کی جن کی تعداد دو سوکے قریب تھی ۔کل ہند مجلس کی جانب سے آویزاں اعلان کے مطابق متعینہ عنوانات پرحضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری استاذحدیث وناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند،حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری استاذ و نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند،جناب مولانا اشتیاق احمد مہراج گنجی مبلغ مجلس کل ہندتحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند،جناب حافظ اقبال احمدملی ناظم احیاء السنة اسلامک سینٹرمالیگاوٴں کے تربیتی اسباق اور پر معزبیانات ہوئے۔ حوالوں کی مراجعت و مشاہدہ میں مولانا اشتیاق احمدقاسمی ،مولانا محمد شاہد انور قاسمی بانکوی ، ماسٹر محمد احمد گورکھپوری ،مولانا محمد جنیدقاسمی رانچوی ،مولانا محمد غانم قاسمی کٹکی اور مولانامحمدبلال قاسمی متعلم شعبہ تحفظ ختم نبوت نے تعاون کیا ۔ گاہے گاہے کیمپ کی مختلف نشستوں میں حضرت مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند،حضرت مولانا ریاست علی بجنوری صاحب استاذحدیث دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا مفتی محمود الحسن بلندشہری مفتی درالعلوم دیوبند ،جناب مولانا اکرام اللہ قاسمی صاحب شاہجہاں پوری استاذ حدیث مدرسہ جامع الہدی مرادآباد اور دیگر علمائے کرام کے بصیرت افروز بیانات بھی ہوئے۔
کیمپ میں شریک بیشتر شرکاء کے تأثرات یہ تھے کہ اس طرح کا تربیتی کیمپ وقت کی ضرورت ہے، دارالعلوم دیوبند کے طرز پر دیگر مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران کو بھی اپنے اپنے مدارس وجامعات اور علاقوں میں گاہے گاہے اس طرح کے تربیتی کیمپ کا انعقاد کرانا چاہئے ۔راقم الحروف گذشتہ پانچ سالوں سے تربیتی کیمپ میں مسلسل شرکت کرتا رہا ہے اور استفادہ کیا ہے ،سال رواں کے تمام نشستوں میں بھی مسلسل شریک رہااور اساتذہ کرام کے بیانات کے اہم حصوں کو ضبط تحریر بھی کرتا رہا ۔افادہ عام کے لئے کیمپ کی تمام نشستوں کی مختصر رپورٹ حسب ذیل ہے ۔
افتتاحی نشست :سابقہ روایت کے مطابق دارالعلوم دیوبند کے سالانہ امتحان کے مکمل ہونے کے بعد اسی روز ۲۰/شعبان المعظم ۱۴۳۶ئھ بروزپیر بعد نماز مغرب زیر صدارت حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب بنارسی مہتمم دارالعلوم دیوبند، تربیتی کیمپ کی پہلی و افتتاحی نشست منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام اللہ اور بارگاہ رسالت میں نذرانہ عقیدت کے بعد حضرت مہتمم صاحب کا افتتاحی و کلیدی خطاب ہوا۔حضرت والا نے اپنے خطاب میں تحفظ ختم نبوت کی اہمیت وضرورت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ تحفظ ختم نبوت امت مسلمہ کی اہم اور بنیادی ذمہ داری ہے اور یہ کام صرف علماء اور مبلغین کا نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت رکھنے والے تمام افراد امت کا ہے۔مفتی صاحب نے دارالعلوم کی روشن خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اکابر دارالعلوم میں سے حضرت علامہ انور شاہ کشمیری اپنی دیگرعلمی مصروفیات کوترک کرکے اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے ہمہ تن متوجہ ہوگئے تھے ۔ حضرت علامہ نے صرف اس فتنہ کی حقیقت آشکارہ کرنے کے لئے بغرض پیروی مقدمہ بھاولپور، پاکستان کا سفر کیا اور جج کے سامنے اس فتنہ کی حقیقت کو اجاگر کیا چنانچہ کورٹ کا فیصلہ اسلام اور مسلمانوں کے حق میں آیا۔ مفتی صاحب نے فتنہ قادیانیت کی زہرناکی اور خطرناکی کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے غلیظ اور بدترین فتنہ ہے دجل وتلبیسات کا سہارا لیکر سادہ لوح عوام اور بعض دفعہ پڑھے لکھے انسان کو گمراہ کردیتا ہے اسلئے تحفظ ختم نبوت کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ہر عام وخاص تک یہ پیغام پہونچانا علماء امت کی اہم ذمہ داریوں میں سے ہے ۔ صدر مجلس نے تربیتی کیمپ میں شرکت کے لئے تشریف لائے ہوئے علماء اور طلباء سے مخاطبت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس اہم موضوع کو سمجھنے کے لیے آپ حضرات نے پانچ روزکاوقت فارغ کیا ہے اس کے لئے آپ سبھی حضرات مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ چھٹی کے اوقات کو تعلیمی مشاغل میں لگانا طلبہ کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے ۔اسلئے تمام نشستوں کی ایک ایک لمحہ کی قدر کرتے ہوئے اس سے بھرپور استفادہ کیجئے اور آئندہ مستقل تحفظ ختم نبوت کی تحریک سے وابستہ ہوکر امت مسلمہ کی خدمت کیجئے ۔
بعد ازاں حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوری ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دار العلوم دیوبندنے خطاب کیا ۔حضرت قاری صاحب نے خطبہ مسنونہ کے بعد حدیث مبارکہ ”ابشروا ابشروا انما مثل امتی مثل الغیث لا یدری آخرہ خیر ام اولہ أوکحدیقة اطعم منہا فوج عاما ثم اطعم منہا فوج عاما لعل آخرہافوجا ان یکون اعرضہا عرضا واعمقہا عمقا و احسنہا حسنا کیف تہلک امة انا اولہا والمہدی وسطہا والمسیح آخرہا ولکن بین ذالک فیج أعوج لیسوا منی ولا انا منہم“کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس امت کی ہلاکت کیسے ممکن ہوسکتی ہے جبکہ اس کے شروع میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس موجود رہے ہیں ،درمیان میں حضرت مہدی علیہ الرضوان ہیں اور آخر میں مسیح علیہ السلام کا نزول ہونے والا ہے ۔بیشتر فتنے انہی تین شخصیتوں کے ارد گر گھومتے ہیں اور انہی کو نشانہ بنا کر فتنے پربا کئے جاتے ہیں ۔
کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے قیام کا پس منظر اور اسکی مفصل تاریخ بیان کرتے ہوئے حضرت قاری صاحب نے فرمایا کہ اکابر علماء دیوبند ہمیشہ سے ہی باطل کے سامنے نبرد آزما رہے ہیں اور ان کی تمام پالیسیوں کو ناکام بناتے رہے ہیں ۔ فدائے ملت امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحب سابق صدر جمعیة علماء ہندورکن شوریٰ دارالعلوم دیوبندہندو بیرون ہند دورہ کرتے تھے ،ان کی دور رس نگاہوں نے جہالت زدہ اور غربت زدہ علاقوں کے حالت زار کو دیکھ کر یہ اندازہ لگالیا کہ اہل فتن ان کو اپنا نشانہ بنا لیں گے اسلئے ضروری ہے کہ ان علاقوں میں ایمان کی شمع روشن کرنے کے لئے کوئی تنظیم یا ادارہ قائم کیا جائے ۔ چنانچہ مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند کی تجویز کے مطابق دار العلوم دیوبند میں سہ روزہ عالمی تحفظ ختم نبوت کانفرنس ۲۹/تا ۳۱/اکتوبر ۱۹۸۶ء ء میں منعقد کی گئی جس میں پورے ملک سے چیدہ چیدہ علماء کرام کو مدعو کیاگیا، اسی کانفرنس میں کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا ۔
قاری صاحب نے تربیتی کیمپ کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند میں سب سے پہلا تربیتی کیمپ ۱۳/تا ۲۳/جمادی الاوّل ۱۴۰۹ھ مطابق ۲۴دسمبر ۱۹۸۸ء تا ۲/جنوری ۱۹۸۹ء میں حضرت مولانا اسماعیل صاحب کٹکی  سابق رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند کی زیرتربیت لگایا گیا تھا۔اس کے بعد دوسرا تربیتی کیمپ۱۱/تا ۲۱ جمادی الاوّل۱۴۱۰ھ بمطابق ۱۱/تا ۲۱/دسمبر ۱۹۸۹ءء میں لگایا گیا جس میں پاکستان سے نامور عالم دین ، فاتح ربوہ حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی رحمة الله علیہ مربی کی حیثیت سے تشریف لائے تھے اور انکی خود نوشت یادداشت زیراکس کراکرتمام شرکاء کو تقسیم کیا گیا تھا جو شائع ہوکراب ”رد قادیانیت کے زریں اصول“ کے نام سے دستیاب ہے ۔شرکاء کیمپ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ فتنوں سے نبردآزمائی کے لئے ان پانچ صفات کا پیدا کرنا بہت ضروری ہے (۱)ایمانی حس (۲) غیرت ایمانی(۳) شجاعت وبہادری (۴)علم وفضل کا سرمایہ (۵)انابت الی اللہ ۔ آپ حضرات ان صفات سے متصف ہوکر عملی میدان میں کام کریں ۔
اس افتتاحی نشست سے حضرت مولانامفتی محمود حسن صاحب بلندشہری مفتی دارالعلوم دیوبند نے بھی خطاب کیا ۔مفتی صاحب نے حمد وصلوٰة کے بعدآیت کریمہ ” وجادلہم بالتی ہی احسن“تلاوت کرنے کے بعد فرمایا کہ علماء کرام اپنے علاقوں میں درس وتدریس ،امامت وخطابت اور مدارس ومکاتب کی انتظامی ذمہ داری کی وجہ سے اپنے ارد گرد ، محلوں اور علاقوں میں پیش آنے والے فتنوں کی طرف توجہ نہیں کرپاتے ہیں ،لیکن یہ عدم توجہی علماء کرام کی شان کے خلاف ہے کہ فتنہ آپ کے ارد گر د پھیل رہاہو اور آپ اپنے دینی وعلمی مشغولیات میں مصروف رہیں ،اسلئے علماء کرام کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ امت مسلمہ کے ایمان کی حفاظت کریں اور اخلاص کے ساتھ میدان عمل میں اتریں۔مفتی صاحب نے اکابر علماء دیوبند وبزرگان دین کے حکمت ومصلحت سے لبریز اور سبق آموز واقعات سنا کر سامعین کو محظوظ فرمایا۔
اخیرمیں حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیمپ کے اصول وضوابط اور فوائد بیان کرتے ہوئے ہندوستان میں منعقد کیے جانے تربیتی کیمپوں کی ایک مفصل و مربوط تاریخ سے حاضرین و سامعین کو روشناس کرایا ۔ یہ نشست ۳۰:۱۰/بجے شب کو مکمل ہوئی ۔
دوسری نشست :۲۱/شعبان المعظم بروز منگل صبح ۸/بجے سے شروع ہوئی ۔تلاوت قرآن مجید کے بعد اس نشست میں حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری نے ادع الی سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة وجادلہم بالتی ہی احسنکی تفسیر بیان کرتے ہوئے دعوت الی الله کے تینوں اصولوں کو مثال اور ذاتی تجربات کی روشنی میں خوب واضح کیا ۔
اس نشست میں مولانا اکرام اللہ قاسمی شاہجہاں پوری استاذ مدرسہ جامع الہدی مرادآبادنے اپنے تأثرات کا اظہار کیا ۔ مولانا محترم نے اپنے والد مرحوم مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب شاہجہاپوری صدر مدرس مدرسہ سعیدیہ جامع مسجد شاہجہاں پور کی رد قادیانیت پر خدمات کا تذکرہ کیا اور انہوں نے بتایا کہ جس وقت شاہجہاں پورمیں قادیانیوں نے شورش برپا کررکھی تھی اور ایک ٹیکلی والی مسجد پر قادیانیوں کی جانب سے مقدمہ چل رہا تھا تو والد مرحوم نے قادیانیت کی بطلان اور اس کے اسلام سے الگ ہونے پر مختلف مضامین لکھے ہیں جو اس وقت کے رسالہ صدق جدید ،اور رسالہ داراالعلوم دیوبند میں شائع ہوتے رہے ہیں اور اس مقدمہ میں قادیانیوں کو بری طرح شکست ہوئی اور فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آیا جس کی نقل کاپی میں نے دارالعلوم دیوبند کو جمع کرادی ہے ۔یہ نشست ۱ بجے تک مکمل ہوئی بعدہ طعام اور آرام کا موقع دیا گیا۔
تیسری نشست :بعد نماز ظہر ۳۰:۳بجے منعقد ہوئی، اس نشست میں مولانا اشتیاق احمد صاحب مہراج گنجی ،مولانا شاہد انور قاسمی بانکوی ،ماسٹر محمد احمد گورکھپوری ،مولانا بلال احمد مدراسی اورمجلس تحفظ ختم نبوت ساوٴتھ دہلی کے کارکنان نے حوالوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کرایا اور تمام شرکاء کو بیان کے دوران پیش کیے گئے حوالہ جات نوٹ کرائے ،تمام حاضرین نے بچشم خود کتابوں کا مطالعہ کرکے حوالوں کو اپنی اپنی کاپیوں میں نوٹ بھی کیا اور ہر حوالے کے سیاق و سباق کو بھی سمجھا ۔
اس نشست میں حضرت مولاناعبدالخالق صاحب سنبھلی مدظلہ العالی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند کا تقریباً نصف گھنٹہ خصوصی خطاب ہوا۔ حضرت نے اپنے تمہیدی بیان میں کہا کہ آپ لوگ خوش نصیب ہیں جو اس تربیتی کیمپ سے اسفتادہ کررہے ہیں ،اس کیمپ سے آپ کو میدان میں کام کرنے کے ایسے اصول ملیں گے جن سے باطل وگمراہ فرقوں کے مقابلے کے لئے کوئی دشواری نہیں ہوگی ۔حضرت نے اصول بیان کرتے ہوئے کہا کہ باطل اور گمراہ فرقوں کے بطلان اور گمراہی کے بنیادی اسباب تین ہیں (۱)اتباع ہویٰ (۲)تقلید آباء (۳)خوش فہمی جس کو عربی میں اعجاب بالنفس کہتے ہیں ،انہوں نے تینوں اسباب کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا(۱)اتباع ہویٰ جس کو قرآن پاک نے أرَأیْتَ مَنِ اتَّخَذَ الَہَہُ ہَوَاہُ کے ذریعہ بیان کیا ہے (۲)تقلید آباء جس کو قرآن کریم نے کفارومشرکین کے مقولہ کے طور پر بے شمار جگہ بیان فرمایا ہے جیسے :قالوا بل نتبع ما وجدنا علیہ آبائنا ، قالوا بل وجدنا آبائنا کذالک یفعلون، قالوا حسبنا ما وجدنا علیہ آبائنا۔ (۳)خوش فہمی جس کو عربی میں اعجاب بالنفس کہتے ہیں ، بدقسمتی سے مرزائیوں کے اندر یہ تینوں اسباب مکمل پائے جاتے ہیں ۔ یہ نشست اذان عصر تک مکمل ہوئی ۔
چوتھی نشست:بعد نماز مغرب متصلاً شروع ہوئی ،تلاوت ونعت کے بعد حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری کا ”مرزا کادیانی کا تعارف وتجزیہ کادیانی تحریرات کی روشنی میں“کے موضوع پر مفصل تربیتی بیان ہوا، حضرت نے مرزا کے نام میں تضاد کو مرزائی تحریرات سے واشگاف کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اصل نام نہ تو ”غلام احمد “ہے اور نہ ”مرزا غلام احمد قادیانی “ بلکہ اس کے نانیہال کی عورتوں کا بتایا ہوانام ”سندھی“ہی اصل ہے ۔مرزا کی تاریخ پیدائش میں بھی زبردست تضاد ہے مرزا کی تحریر کے مطابق ۱۸۳۹ءء یا ۱۸۴۰ء ء ہے جبکہ مرزائی اس تاریخ کو نہیں مانتے ہیں اور ۱۸۳۵ءء یا ۱۸۳۶ءء بتاتے ہیں۔مرزائیوں کی تاویل کی وجہ مرزا کی ایک پیشینگوئی کو درست کرنا ہے کہ جس میں مرزا نے اللہ تعالیٰ کی جانب منسوب کرکے یہ الہام بنایا کہ ہم تجھے ۸۰ سال یا اس کے قریب قریب یا اس سے زائد کی زندگی عطا کریں گے لیکن مرزا کو خدائی فیصلے کے مطابق ہیضے کی موت نے ۶۹ سال کی ہی مدت میں آ دبوچا جس سے وہ الہام بافی میں جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔مرزا کو خطہ زمین کے اُس منحوس حصہ میں گاڑا گیا جہاں کے لوگ بقول اس کے ناپاک پلید اور یزیدی الطبع ہوتے ہیں ۔یہ نشست ۱۰/ بجے شب میں مکمل ہوئی۔بعدہ نماز عشاء پروگرام ہال میں ادا کی گئی اور طعام وآرام کا وقت دیا گیا۔
پانچویں نشست:۲۲/شعبان المعظم بروز بدھ صبح ۸/بجے شروع ہوئی ،تلاوت کلام اللہ اور نعتیہ کلام کے بعد حضرت مولاناقاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوری دامت برکاتہم استاذ حدیث وناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کا ”مسئلہ رفع ونزول عیسیٰ “پرمفصل خطاب ہوا ۔حضرت قاری صاحب نے اسلامی تعلیمات و ہدایات کو شرح وبسط کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ رفع قرآن کریم کی متعدد آیتوں سے ثابت ہے ۔ اور بیشمار احادیث ان آیتوں کی مویٴد ہیں ۔ خود مرزا کادیانی بھی دعویٴ مسیحیت سے قبل حضرت عیسیٰ کے رفع ونزول کا قائل تھا ۔یہ نشست ۱/بجے تک مکمل ہوئی ۔بعدہ طعام وآرام کا موقع دیا گیا۔
چھٹی نشست :بعد نمازظہر متصلاً منعقد ہوئی،اس نشست میں حوالوں کا مشاہد ہ کرایا گیا بعدہ حضرت مولانا شاہ عالم صاحب نے شرکاء کے سوالات کے جوابات تفصیل سے دئیے۔
ساتویں نشست :بعد نماز مغرب متصلاً منعقد ہوئی ،حضرت مولانا قاری عبدالروٴف صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند کی تلاوت کلام اللہ شروع ہوئی ۔بعدہ جناب حافظ اقبال احمدملّی صاحب ناظم احیاء السنة اسلامک سینٹر مالیگاوٴں نے تحفظ ختم نبوت کی عملی اور میدانی خدمت میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو کس طرح اور کیسے ہٹایا جائے اور مختصر وقت میں اس رکاوٹ کو دفع کرکے تحفظ ختم نبوت کے مشن کو آگے کس طرح آگے بڑھائیں اس موضوع پر حافظ صاحب کا تفصیلی خطاب ہوا۔
دوران تقریر حافظ صاحب نے تقلید کی شرعی حیثیت کو ایک چارٹ بنام” الکلام الفرید فی اثبات التقلید “(یہ چارٹ تمام شرکاء کو آخری نشست میں بشکل انعام دیا گیا)کے ذریعہ سمجھاتے ہوئے کہا کہ مسائل منصوصہ متعارضہ غیر معلوم التقدیم والتاخیر غیر اجماعی اور مسائل غیر منصوصہ غیر اجماعی میں مجتہد اجتہاد کرتا ہے اور مقلد مجتہد کے اجتہاد کی پیروی کرتا ہے اور اسی کا نام تقلید ہے بلکہ ان مسائل میں بھی دو قسم کے اقوال ہوتے ہیں ایک مفتی بہ ، دوسرا غیر مفتی بہ۔ مقلدین کا مسلک مفتی بہ اقوال پر عمل کرنا ہے نہ کہ غیر مفتی بہ پر۔اور غیر مقلد ین اجماع ہی سے الگ ہوگئے ہیں اسی لئے وہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں ۔حافظ صاحب نے مسلک اور فرقہ کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ غیرمقلدین ایک فرقہ ہے اسے مسلک سے جوڑنا درست نہیں ہیں۔یہ نشست ۳۰:۱۰ بجے شب تک اختتام پذیر ہوئی۔بعدہ نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد طعام اور آرام کا موقع دیا گیا۔
آٹھویں نشست :۲۳/ شعبان بروز جمعرات صبح ۸ بجے منعقد ہوئی،تلاوت ونعت کے بعد دارالعلوم دیوبند کے موٴقر استاذ حدیث مولانا ریاست علی بجنوری مدظلہ کا خصوصی بیان ہوا ،حضرت نے دوران بیان سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا فخرالدین مرادآبادی کے حوالے سے گمراہ اور باطل کو جانچنے کے معیار پر تفصیل سے خطاب کیا ۔ اس کے بعدحضرت مولانا شاہ عالم صاحب نے شعبہ تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے مجلس کے مبلغ جناب مولانا اشتیاق احمد صاحب کو کذبات مرزا پر بیان کرنے کے لئے دعوت دی ۔جناب مولانا اشتیاق احمد صاحب نے کذبات مرزا پر مفصل خطا ب کیا،مولانا نے دو ران بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاران کی چوٹی سے اپنی نبوت کا اعلان اس وقت تک نہیں کیا جب تک کہ حاضرین نے یہ یقین نہیں دلادیا کہ ماجربناعلیک الا صدقا اورہم آپ کو الصادق الامین کے لقب سے جانتے ہیں۔اسی طرح مدعیان نبوت کو پرکھنے کے لئے ان کے اقوال کو دیکھیں گے کہ وہ کتنے پانی میں ہیں ۔مولانا موصوف نے مسیلمہ پنجاب کے جھوٹے اقوال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ مرزا نے جھوٹ کی قباحت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جھوٹ بولنامرتد ہونے سے کم نہیں (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ،خزائن ص ۵۶ ج۱۷)اسی طرح دوسری جگہ لکھتا ہے کہ تکلف سے جھوٹ بولنا گُوہ کھانا ہے (تتمہ حقیقة الوحی ،خزائن ص ۵۹ ج ۲۲) کادیانی فیصلے سنانے کے بعد مرزاکادیانی کے بہت سے جھوٹے اقوال کو حاضرین کے سامنے پیش کیا ۔مولانا نے سوا گھنٹہ اس موضوع پر بیان کیا ۔
بعد ازاں جناب مولانا حافظ اقبال احمد ملی نے اپنے موضوع کو مکمل کیا ۔یہ نشست ۱/بجے تک مکمل ہوئی بعدہ طعام و آرام کا موقع دیا گیا۔
نویں نشست :بعد نماز ظہر متصلا منعقد ہوئی ، حوالوں کے مطالعہ ومشاہد کے بعدو قفہ سوالات کا موقع دیا گیا۔ شرکاء کیمپ نے اپنے اشکالات واعتراضات پیش کئے حافظ اقبال احمد صاحب نے ان کے تحقیقی اور تشفی بخش جوابات دیئے ۔یہ نشست اذان عصر تک مکمل ہوئی۔
دسویں نشست :بعد نماز مغرب متصلا منعقد ہوئی،اس نشست میں حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری نے ”مرزا کادیانی کا تعارف“ کے موضوع کو مکمل کیا ، مولانا نے بتایا کہ مرزا کی پہلی شادی۱۸۵۲ء میں ہوگئی تھی اور مرزا ابھی بچہ ہی تھا کہ سلطان احمد پیدا ہوگیا تھا ،مرزا کی دوسری شادی دہلی کے میر ناصر نواب کی بیٹی نصرت جہاں بیگم سے۱۳۰۴ھ میں ہوئی جو مرزا ہی کے گھر میں پہلے کرایہ دار کی حیثیت سے رہا کرتی تھی ۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ آشنائی پہلے سے تھی لیکن یہ ضرور کہتاہوں کہ شناسائی پہلے سے تھی ۔اور تیسری شادی محمدی بیگم سے ہوئی تھی ،بقول مرزا یہ نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمان پرپڑھایا تھا ۔نکاح کے چھوارے تقسیم ہوئے بھی یا نہیں اور ہوئے تو کس کس نے کھائے اس سلسلے میں مرزائی کچھ نہیں بتاتے مگر افسوس صد افسوس کہ مرزائیوں کی اس ماں کو کوئی دوسرا لے کر بھاگ گیا اور مرتے دم تک مرزا کو یہ نصیب نہیں ہوئی۔ مولانا موصوف نے مرزا کادیانی کا مکمل تعارف مرزا کادیانی اور مرزائی کتابوں سے کرایا ۔علاوہ ازیں مرزا کے اقوال اور پیشینگوئیوں کی روشنی میں اس کا جھوٹا ہونا ثابت کیا۔یہ نشست تقریباً ۱۵:۱۰/بجے اختتام کو پہونچی بعد ازاں نماز عشاء کی ادائیگی کیمپ کے ہال میں ہوئی ۔اور طعام وآرام کا وقت دیا گیا۔
گیارہویں نشست :۲۴/شعبان المعظم بروز جمعہ کو صبح ۸/بجے شروع ہوئی ،حافظ اقبال احمد صاحب نے مبتدعین کی جانب علمائے دیوبند پر اعتراض کو دفع کرنے کا آسان حل بتایا اور مختصر وقت میں اتحاد کے طریقہ کار پر تفصیل سے خطاب کیا ۔اس کے بعد اس نشست میں حضرت مولانا شاہ عالم صاحب نے دعاوی مرزا اور پیشیگوئیوں پر تفصیل سے خطاب کیا ، دعاوی مرزا کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ مرزا کادیانی کے دعاوی بیشمار ہیں ،بے شمار دعاوی ہی اس کے جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہیں۔ مولاناموصوف نے تفصیل سے مرزا کے دعاوی کو شمار کراتے ہوئے کہاکہ ۱۸۸۰ءء سے مرزا کادیانی کے ملہم من اللہ ہونے کے دعوے کا ثبوت ملتا ہے ۔ اس سے قبل دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔ اورمرزائی جوثبو ت فراہم کرتے ہیں وہ سب بعد از وقت ہیں خود مرزا کادیانی نے بھی ۱۸۸۰ء سے قبل کے جو الہامات شمار کرائے ہیں وہ بعد از وقت ہیں ۔۱۸۸۲ءء میں مجدد ہونے کا دعویٰ کیا، ۱۸۹۱ءء میں مسیح موعود ہونے کا، ۱۸۹۹ءء میں ظلی بروزی نبوت کا اور ۱۹۰۱ءء میں باقاعدہ تشریعی نبوت اور عین محمد ہونے کا دعویٰ کیا اور سب سے اخیر میں ۱۹۰۲ءء میں اس نے کرشن اوتار ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ گویا پہلادعویٰ ملہم من الله ہونے کا اور آخری دعویٰ کرشن ہونے کا ۔ دوران بیان مولانا نے مرزا کے تمام دعاوی میں اسے جھوٹا ہونا ثابت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب مالیخولیا اور مراق کا اثر تھا جو مرزا کو لاحق تھا اور اسی وجہ سے اول فول بکتا رہتا تھا۔ یہ نشست تقریباً ۱۲/بجے مکمل ہوئی اور شرکاء کو نماز جمعہ کی تیاری کا موقع دیا گیا۔
بارہویں نشست :بعد نماز عصر منعقد ہوئی۔اس نشست میں حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری نے ”جھوٹے مدعیان مہدویت اور ان کا تاریخی پس منظر “ کے عنوان پر تفصیل سے خطاب کیا ۔مولانا کا بیان اذان عصر تک مکمل ہوا۔
تیرہویں نشست :بعد نماز مغرب متصلا منعقد ہوئی،اس نشست میں حضرت مولانا شاہ عالم صاحب نے ”علمی اور عملی میدان میں فتنہ کادیانیت کا تعاقب کس طرح کیا جائے اور اس میں پیش آنے والی دشواریوں کا ازالہ کس طرح ہو “کے عنوان پر بیان کرتے ہوئے علمی اور عملی میدانوں میں کام کرنے کے طوروطریق اور اصول بیان کئے۔آپ نے بتایا کہ اہل علم اور مدارس اسلامیہ ، اسی طرح کالج اور یونیورسیٹیوں ں میں کام کرنے کی متعدد نوعیتیں ہیں جو فضلاء علمی ذوق رکھتے ہیں ان کے لیے اس میدان میں کام کرنے کا سنہرا موقع ہے ۔اسی طرح پبلک کے درمیان خدمت انجام دینے کے مواقع بھی متعدد جہتوں سے ہیں جن کے لائق جو خدمت ہو اس میں لگ جائیں ۔ یہ نشست ساڑھے دس بجے شب میں اختتام کو پہنچی۔بعدہ طعام وآرام کا موقع دیا گیا۔
۴۱ ویں اور اختتامی نشست :۲۵/شعبان المعظم مطابق ۱۳/جولائی بروز سنیچر صبح ۸/ بجے منعقد ہوئی ،شرکاء کیمپ میں سے منتخب علماء نے اپنے تاثرات پیش کئے۔ بعدہ مولانا شاہ عالم گورکھپوری نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے خطاب کیا ۔بعد ازاں حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند نے صدارتی خطاب کیا اور شرکائے کیمپ کو پند ونصائح سے نوازا ۔آخیر میں مہتمم صاحب کے بدست تمام شرکاء کو بصورت کتب قیمتی انعامات سے نوازاگیا۔اس آخری نشست میں حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوری ،حضرت مولانا عبدالخالق سنبھلی نائب مہتمم ،جناب حافظ اقبال احمدملّی مالیگاوٴں،جناب مولانا اسعداللہ قاسمی ،جناب مولانا اشتیاق احمد صاحب مبلغ شعبہ تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند،جناب مولانا شاہد انور قاسمی بانکوی مرکز التراث الاسلامی دیوبند،ماسٹر محمد احمد گورکھپوری وغیرہ شریک رہے ،مفتی ابوالقاسم نعمانی کی دعاء پر پروگرام کا اختتام ہوا۔