سود اور اس کا متبادل

مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

Sood Us Ka Mutabadil.pdf

ہم چراغوں کوڈراتے ہو،یہ کیا کرتے ہو؟!

ہم چراغوں کوڈراتے ہو،یہ کیا کرتے ہو؟!
نایاب حسن
9560188574
موجودہ حکومت میں مسلمانوں کی تشویش لگاتار بڑھتی جارہی ہے اور اس کی وجہیں بھی روزبروز نکھرکر سامنے آتی جارہی ہیں،ایسا لگتاہے کہ وزیر اعظم نریندرمودی نے اپنے لوگوں کو ایسی ہدایت دے رکھی ہے کہ کچھ لوگ اُلٹی سیدھی ہانکیں اور کچھ دوسرے لوگ ’ڈیمیج کنٹرول‘ کی مہم پرلگے رہیں۔حالیہ ہفتے دوہفتے میں لگاتارکچھ ایسے واقعات پیش آئے ،جن سے ایک بار پھر یہ واضح ہوگیاکہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو حاشیہ پر لگائے رکھنے،ان کے مذہبی جذبات کومجروح کرنے اور اُنھیں احساسِ خوف زدگی ووحشت میں مبتلا رکھنے کا باقاعدہ پلان کیاگیا ہے اور اسی پر عمل ہورہاہے ، 21/جون کو عالمی یوگاڈے کا انعقادبذاتِ خود موضوعِ بحث بناہواتھا اور مسلمان تو مسلمان،خود ہندووں کا انٹلکچوئل طبقہ بھی یہ کہہ رہاتھاکہ اگر یوگاایک ورزش اور صحت کے لیے مفید عمل ہے،تو اسے لوگوں کی اپنی مرضی پر چھوڑدیناچاہیے،جسے مفید لگے،وہ کرے اورجو چاہے نہ کرے،مگر حکومت تو ایک خاص منصوبے کے ساتھ اسے نافذکرنا چاہتی تھی،سو باقاعدہ راجپتھ پر ایک’یوگامیلہ‘لگایاگیا،جس میں میڈیاکے مطابق تقریباً چالیس ہزار لوگوں نے شرکت کی،اس کے علاوہ ملک کے دیگر خطوں،صوبوں اور شہروں میں بھی بی جے پی لیڈروں نے مجمع لگاکریوگاکیااور سارے ملک میں یوگایوگاہونے لگا،جبکہ دوسری جانب ان ہی دنوں ممبئی سے خبرآئی کہ سیکڑو ں لوگ زہریلی شراب پینے کی وجہ سے مرگئے،بارش کی وجہ سے پوراشہرجل تھل ہوگیااورنظامِ زندگی درہم برہم ہوگیا،مگر یوگا کی دھوم میں انسانی جانوں کے ضیاع کی خبریں دب کر رہ گئیں۔اس کے بعدبی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری آرایس ایس ریٹرن رام مادھونے ٹوئٹ کیا ، جس میں یوگاڈے کے پروگرام کوراجیہ سبھاٹی وی پر نہ دکھائے جانے اور پروگرام میں نائب صدرجمہوریہ حامدانصاری کی عدمِ شرکت کونشانہ بنایا گیا، پھر جب چاروں طرف سے تھوتھوہونے لگی اور معلوم ہواکہ نائب صدرکواس پروگرام میں بلایاہی نہیں گیاتھا،توفوراًاس ٹوئٹ کوڈیلیٹ کردیاگیااوررام مادھونے اظہارِ معذرت کرکے چھٹی لے لی،اس سے پہلے یومِ جمہویہ کے موقع پر قومی جھنڈے کو سلامی نہ دینے کے مسئلے پر بھی بی جے پی نے غلط پروپیگنڈہ کیا اور حامد انصاری کی تذلیل کی کوشش کی تھی۔ابھی اِس مسئلے پر میڈیامیں بحث و مباحثہ جاری ہی تھا کہ پراچی نامی نیم مجنونہ سادھوی کابیان آیاکہ یوگاپروگرام کسی سیاسی لیڈرکی شادی کی تقریب نہ تھی کہ اس میں باقاعدہ نائب صدر کو دعوت دی جاتی،انھیں خود آنا تھا اور جو لوگ ہندوستانی کلچر اور تہذیب کو اپنانے سے انکاری ہیں، وہ پاکستان چلے جائیں،انھیں اس ملک میں رہنے کی ضرورت نہیں۔23/جون کو آل انڈیاہندومہاسبھاکے حوالے سے ایک خبر یہ آئی کہ لکھنوٴمیں اس کی عاملہ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ ہندومہاسبھا’اسلام مکت بھارت‘بنانے کی مہم چلائے گا،اس کے کارگزارقومی صدرکملیش تیواری کاکہناہے کہ آنے والے ساون کے پہلے پیر کوکاشی کے وشوناتھ مندرمیں’جل‘چڑھانے کے بعدہندوستان کوہندوراشٹربنانے کی مہم چلائی جائے گی،واضح رہے کہ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے ہندومہاسبھانے باقاعدہ’غدارو،بھارت چھوڑو!‘کے عنوان سے ایک مہم چلائی تھی،جس میں حیدرآباد سے ممبرپارلیمنٹ بیرسٹراسدالدین اویسی، یوپی کے کابینی وزیر اعظم خان اورشاہجہانی جامع مسجد دہلی کے امام احمد بخاری کو ہندوستان چھوڑنے کوکہاگیا تھا۔اب پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوستان بدرکرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے،ایسا کہاجارہاہے کہ ہندومہاسبھاکا یہ فیصلہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈکے اُس خط کے ردِعمل کے طورپرسامنے آیاہے،جس میں7/جون کولکھنوٴمیں ہونے والی اس کی مجلسِ عاملہ کی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے عام مسلمانوں،دانشوروں،علمااورمساجدکے خطباسے اپیل کی گئی ہے وہ یوگا،سوریہ نمشکار،وندے ماترم جیسے مشرکانہ اعمال سے سختی سے پرہیز کریں،علماعام مسلمانوں کو اس حوالے سے بیدارکریں اورحکومت کی بدنیتی کو سمجھیں۔
بات دراصل یہ ہے کہ ابھی لگاتاربی جے پی کے چوٹی کے لیڈران،وزراکرپشن کے کیسزمیں پھنستے نظرآرہے ہیں اور اپوزیشن کو اسے گھیرنے اور کٹہرے میں کھڑاکرنے کا اچھا موقع مل گیا ہے،ایسے میں بی جے پی بھی اپنی روایتی چال اور حکمتِ عملی سے کیسے دست بردارہوسکتی ہے؛چنانچہ ایک جانب جہاں مرکزی وزیر تعلیم اسمرتی ایرانی فیک ڈگری معاملے میں پھنستی نظرآرہی ہیں اوردہلی کے پٹیالہ ہاوٴس کورٹ نے ان کے خلاف مقدمہ کی تیاری کرلی ہے،تودوسری جانب سے ان کی جانب سے یہ اعلان کرکے لوگوں کا ذہن موڑنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ایک سے آٹھویں کلاس تک تمام اسکولوں میں یوگاکولازمی سبجیکٹ کے طورپرشامل کیاجائے گا،اسی طرح وزیرِ خارجہ سشماسوراج اور راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھراراجے مبینہ طورپرایک اعلیٰ درجے کے گھوٹالے بازسابق آئی پی ایل چیئرمین للت مودی سے سانٹھ گانٹھ کے معاملے میں بے نقاب ہوچکی ہیں،اورتواورمہاراشٹرکی کابینہ میں وزیرپنکجامنڈے کے حوالے سے206/کروڑکے اچھے خاصے گھوٹالے کی بھی خبریں آرہی ہیں؛یہ سب وہ معاملات ہیں کہ ان پر بی جے پی کی اچھی طرح کلاس لگنی چاہیے تھی،جس طرح ماضی میں کانگریس کو اس نے گھیرا اور گھوٹالے کے ملزم وزراسے استعفادلوایاگیاتھا،اسی طرح اگر بی جے پی میں شرم و حیا ہوتی اور وہ عوام کے تئیں اچھی اور شفاف حکومت دینے کے اپنے وعدے میں سچی ہوتی توکرپشن کے الزام سے دوچارمذکورہ لیڈران کوان کے عہدوں سے سبک دوش کرکے ان کے خلاف منصفانہ جانچ کرواتی،مگراس کے برخلاف وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہتے نظرآرہے ہیں کہ کوئی استعفانہیں دے گا،یہ یوپی اے کی نہیں،این ڈی اے کی حکومت ہے،آخران کی اس بات کا کیامطلب ہوسکتاہے،یہ کہ عوام لاکھ چیختے رہیں،ان کے وزیراپناکاروبارِبطن پروری جاری رکھیں گے،کیا اسی لیے اُنھوں نے لوگوں کے ووٹ حاصل کیے تھے؟یہ سراسردھوکہ،فریب اورلوگوں کوالوبناناہے،سب کا ساتھ،سب کاوکاس اورنہ کھائیں گے،نہ کسی کوکھانے دیں گے؛یہ سب امت شاہ کی زبان میں واقعتاً” جملے“ہی تھے!
ایک طرف تویہ معاملہ ہے،دوسری طرف یہ حکومت اپنے اصل ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ملک کے عوام کومذہبی بنیادوں پر تقسیم و تفریق کرنے کے بھی انتظامات مسلسل کر رہی ہے؛چنانچہ حکومت کی جانب سے مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصرپرروک لگانے،زہرناک بیانات دینے والے اشخاص و افراد اور تنظیموں پر قدغن لگانے اور ملک کی جمہوریت کے تحفظ و بقاکی سمت میں اقدامات کرنے کی بجاے خاموشی سے ایسے تمام اداروں اور افراد کوانرجی پہنچائی جارہی ہے،یہ کام بہت سے وہ لوگ بھی کر رہے ہیں،جواس کی پارٹی کے لیڈرہیں،ایم پی ہیں؛بلکہ بہت سے ایسے لوگ بھی،جوقسمت سے مرکزی کابینہ میں وزیرکے عہدے پر براجمان ہیں اور جوکچھ کورکسرباقی ہے،اس کی تکمیل وشوہندوپریشد،بجرنگ دل،ہندومہاسبھاٹائپ کی ”غیر سماجی“ تنظیمیں کیے دے رہی ہیں۔یہ کتنی بھونڈی اور بے سرپیرکی بات ہے کہ کچھ لوگ رہ رہ کرمسلمانوں سے یہ کہتے ہیں کہ’ ’تم پاکستان چلے جاوٴ“اُنھیں کون سمجھائے کہ ہمیں پاکستان جانا ہوتایاہندوستان چھوڑناہوتا،توہم(یاہمارے اَجداد)47ء میں نہ چھوڑ چکے ہوتے،جب باقاعدہ مسلم اور ہندوکے نام پر چندخودغرض،ابن الوقت، مفاد پرست نام نہادلیڈران نے انگریزبہادرسے دوالگ الگ ملک بنوالیے تھے اور دونوں طرف کے انسان کش حیوانوں کی جماعت انسانی جسموں کے چیتھڑے اڑاکراپنی آزادی کا جشن منارہی تھی،ہم نے تو اُس وقت بھی ہندوستان نہیں چھوڑاتھا،جب یہ جھانسہ دیاجارہاتھا کہ ایک الگ ملک چلو،ایسے ملک، جو سراسر اسلامی ہوگا،جہاں اسلامی احکام نافذہوں گے اور مسلمان آزادی کے ساتھ جیئیں گے اور ہر طرح کی خوشحالی و فراوانی ان کے قدم چومے گی،اس کے بعد بھی ہمارے اوپر حالات کی سنگینی و شدت کے کئی اَدوار آئے،مسجدوں کی شہادت کے حوالے سے،فسادات کے ذریعے،دہشت گردی کے بہتان کے ذریعے اور دیگر مختلف حربوں سے ہمیں ہندوستان سے نکال دینے کی کتنی ہی تحریکیں چلائی گئیں،مگرنتیجہ کیانکلا؟کچھ نہیں،جوتحریک چلانے والے تھے،وہ تھک ہارکربیٹھ رہے اور ہم اِسی ہندوستان میں اُن کے سینوں پر مونگ دَل رہے اور پوری آزادی کے ساتھ جی رہے ہیں،بسا اوقات تو ہمیں اُن لوگوں کے مقابلے میں بہت زیادہ احساسِ فخر ہوتا ہے،جو اسلام کے نام پر اپنے گھربار کوچھوڑکرسرحدکے اُس پارچلے گئے تھے اور اب لمحہ لمحہ غیرمحفوظ زندگیاں جی رہے ہیں؛ کیوں کہ اللہ کے فضل سے ہمیں کم ازکم ان لوگوں کے مقابلے میں تو محفوظ زندگی نصیب ہے۔پھریہ کہ ہمیں اچھی طرح پتاہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت کا تحفظ جتنا مسلمان کررہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں،اس سے زیادہ خود یہاں کا ہندوکرتاہے،ظاہر ہے آج کے طوفانی رفتار سے آگے بڑھ رہے عہد میں کون چاہے گا کہ مذہب کے نام پر آپسی خانہ جنگی،خوں ریزی اور نفرت انگیزی میں پھنس کراپنی تعلیمی و معاشی ترقی کی راہ میں روڑااٹکالیا جائے، دنیا برق کی سی سرعت کے ساتھ کامیابیوں ،بامرادیوں اور ترقیات کی منزلیں طے کرتی رہے اورہم ایک ملک میں،ایک ساتھ رہ کر بھی ایک دوسرے کے جیب و داماں کی دھجیاں بکھیرنے میں مصروف رہیں اوراپنے آپ کو روزبروزترقی کی دوڑمیں پیچھے کرتے چلے جائیں۔وہ توکچھ لوگ ہوتے ہیں،مسلمانوں میں بھی اور ہندووں میں بھی ،کچھ سیاسی،کچھ مذہبی،جو دونوں طرف کے لوگوں کوجھوٹے بھرم میں مبتلاکیے رکھتے،ان کے مذہبی جذبات کا استحصال کرتے اوراپنی مارکیٹنگ کی خاطردونوں مذہب کے عام لوگوں کوآپس میں بھڑادیتے ہیں،ہندوستان کی آزادی سے پہلے سے لے کر آج تک کی تاریخ میں جتنے بھی فسادات ہوئے،اگران کی تہوں میں جھانکاجائے اوراصل حقائق کی چھان بین کی جائے،تو سب کے پیچھے یہی عامل کارفرمانظرآئے گا۔سوہندومہاسبھااوراس جیسی جتنی’تیس مارخاں‘ٹائپ کی تنظیمیں ہیں،ان سے دست بستہ عرض ہے کہ #
ہم نے دیکھے ہیں بہت تیز ہواوٴں کے عذاب
ہم چراغوں کوڈراتے ہو،یہ کیا کرتے ہو؟!

رپورٹ پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ دارالعلو م دیوبند

از: مولانا محمدشاہد انورقاسمی بانکوی مرکز التراث الاسلامی دیوبند
07417032707 Email : shahid.anwar69@yahoo.in
ایشاء کی عظیم دینی اور اسلامی درسگاہ ازہر ہنددارالعلوم دیوبندمیں گذشتہ آٹھ سالوں سے اسلامی عقائد کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کے سدباب کے طور وطریق اور فضلائے مدارس اسلامیہ کو فرقہائے باطلہ سے نبردآزمائی کے طریقہ کار سے واقف کرانے اور اکابرعلماء دیوبند کی روشن خدمات اور علمی استدلال سے استفادہ کے لئے پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ ، کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی زیر نگرانی منعقد ہوتا رہا ہے ۔ اس کیمپ کے مربی خصوصی حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری ہوتے ہیں ۔ سال رواں بھی یہ تربیتی کیمپ ۲۰تا۲۵شعبان ۱۴۳۶ھ مطابق ۸تا ۱۳جون ۲۰۱۵ء کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبندکی زیر نگرانی اور حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری کی زیر تربیت بمقام دارالحدیث (فوقانی) منعقد ہوا،کیمپ کی پہلی نشست کی صدارت کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی زیدمجدہم مہتمم دار العلوم دیوبند نے اس کا افتتاح فرمایا ۔کیمپ کی روزانہ تین نشستیں (صبح ۸ تا ۱۲ بجے ،بعد نماز ظہر تاعصر اور بعد نماز مغرب تا عشاء )منعقد ہوتی تھیں اس طرح پانچ دنوں میں کل ۱۵ نشستیں ہوئیں جس میں فضلائے مدارس عربیہ اورمندوبین علمائے کرام کونت نئے فتنوں کی خطرناکی سے واقف کرایاگیااور ان کے تازہ حملوں کی تردید وتنکیر کا اصول بتایاگیا،نیز حکمت ومصلحت کے ساتھ میدان عمل میں مسلمانوں کے دین و ایمان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کام کرنے کاطریقہ کار بتلایاگیا۔ دوران بیان پیش کیے گئے حوالوں کی مراجعت اور مطالعہ ومشاہدہ کا نظم الیکٹرانک پروجیکٹر کے ذریعہ بھی کیاگیاتھاتاکہ حوالوں کو اپنی یاد داشت میں محفوظ کرنے اور مشاہدہ کرنے میں شرکاء کیمپ کوآسانی ہو۔
اس خصوصی اور یادگاری تربیتی کیمپ میں دارالعلوم دیوبند ،دارالعلوم وقف دیوبند،دارالعلوم شیخ زکریادیوبند،مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور،مدرسہ شاہی مرادآبادودیگر مدارس عربیہ کے فضلاء اور آسام ،گجرات ،بنگال ،بہار ،کیرالہ ،ممبئی وغیرہ کے علمائے کرام نے شرکت کی جن کی تعداد دو سوکے قریب تھی ۔کل ہند مجلس کی جانب سے آویزاں اعلان کے مطابق متعینہ عنوانات پرحضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری استاذحدیث وناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند،حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری استاذ و نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند،جناب مولانا اشتیاق احمد مہراج گنجی مبلغ مجلس کل ہندتحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند،جناب حافظ اقبال احمدملی ناظم احیاء السنة اسلامک سینٹرمالیگاوٴں کے تربیتی اسباق اور پر معزبیانات ہوئے۔ حوالوں کی مراجعت و مشاہدہ میں مولانا اشتیاق احمدقاسمی ،مولانا محمد شاہد انور قاسمی بانکوی ، ماسٹر محمد احمد گورکھپوری ،مولانا محمد جنیدقاسمی رانچوی ،مولانا محمد غانم قاسمی کٹکی اور مولانامحمدبلال قاسمی متعلم شعبہ تحفظ ختم نبوت نے تعاون کیا ۔ گاہے گاہے کیمپ کی مختلف نشستوں میں حضرت مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند،حضرت مولانا ریاست علی بجنوری صاحب استاذحدیث دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا مفتی محمود الحسن بلندشہری مفتی درالعلوم دیوبند ،جناب مولانا اکرام اللہ قاسمی صاحب شاہجہاں پوری استاذ حدیث مدرسہ جامع الہدی مرادآباد اور دیگر علمائے کرام کے بصیرت افروز بیانات بھی ہوئے۔
کیمپ میں شریک بیشتر شرکاء کے تأثرات یہ تھے کہ اس طرح کا تربیتی کیمپ وقت کی ضرورت ہے، دارالعلوم دیوبند کے طرز پر دیگر مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران کو بھی اپنے اپنے مدارس وجامعات اور علاقوں میں گاہے گاہے اس طرح کے تربیتی کیمپ کا انعقاد کرانا چاہئے ۔راقم الحروف گذشتہ پانچ سالوں سے تربیتی کیمپ میں مسلسل شرکت کرتا رہا ہے اور استفادہ کیا ہے ،سال رواں کے تمام نشستوں میں بھی مسلسل شریک رہااور اساتذہ کرام کے بیانات کے اہم حصوں کو ضبط تحریر بھی کرتا رہا ۔افادہ عام کے لئے کیمپ کی تمام نشستوں کی مختصر رپورٹ حسب ذیل ہے ۔
افتتاحی نشست :سابقہ روایت کے مطابق دارالعلوم دیوبند کے سالانہ امتحان کے مکمل ہونے کے بعد اسی روز ۲۰/شعبان المعظم ۱۴۳۶ئھ بروزپیر بعد نماز مغرب زیر صدارت حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب بنارسی مہتمم دارالعلوم دیوبند، تربیتی کیمپ کی پہلی و افتتاحی نشست منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام اللہ اور بارگاہ رسالت میں نذرانہ عقیدت کے بعد حضرت مہتمم صاحب کا افتتاحی و کلیدی خطاب ہوا۔حضرت والا نے اپنے خطاب میں تحفظ ختم نبوت کی اہمیت وضرورت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ تحفظ ختم نبوت امت مسلمہ کی اہم اور بنیادی ذمہ داری ہے اور یہ کام صرف علماء اور مبلغین کا نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت رکھنے والے تمام افراد امت کا ہے۔مفتی صاحب نے دارالعلوم کی روشن خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اکابر دارالعلوم میں سے حضرت علامہ انور شاہ کشمیری اپنی دیگرعلمی مصروفیات کوترک کرکے اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے ہمہ تن متوجہ ہوگئے تھے ۔ حضرت علامہ نے صرف اس فتنہ کی حقیقت آشکارہ کرنے کے لئے بغرض پیروی مقدمہ بھاولپور، پاکستان کا سفر کیا اور جج کے سامنے اس فتنہ کی حقیقت کو اجاگر کیا چنانچہ کورٹ کا فیصلہ اسلام اور مسلمانوں کے حق میں آیا۔ مفتی صاحب نے فتنہ قادیانیت کی زہرناکی اور خطرناکی کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے غلیظ اور بدترین فتنہ ہے دجل وتلبیسات کا سہارا لیکر سادہ لوح عوام اور بعض دفعہ پڑھے لکھے انسان کو گمراہ کردیتا ہے اسلئے تحفظ ختم نبوت کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ہر عام وخاص تک یہ پیغام پہونچانا علماء امت کی اہم ذمہ داریوں میں سے ہے ۔ صدر مجلس نے تربیتی کیمپ میں شرکت کے لئے تشریف لائے ہوئے علماء اور طلباء سے مخاطبت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس اہم موضوع کو سمجھنے کے لیے آپ حضرات نے پانچ روزکاوقت فارغ کیا ہے اس کے لئے آپ سبھی حضرات مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ چھٹی کے اوقات کو تعلیمی مشاغل میں لگانا طلبہ کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے ۔اسلئے تمام نشستوں کی ایک ایک لمحہ کی قدر کرتے ہوئے اس سے بھرپور استفادہ کیجئے اور آئندہ مستقل تحفظ ختم نبوت کی تحریک سے وابستہ ہوکر امت مسلمہ کی خدمت کیجئے ۔
بعد ازاں حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوری ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دار العلوم دیوبندنے خطاب کیا ۔حضرت قاری صاحب نے خطبہ مسنونہ کے بعد حدیث مبارکہ ”ابشروا ابشروا انما مثل امتی مثل الغیث لا یدری آخرہ خیر ام اولہ أوکحدیقة اطعم منہا فوج عاما ثم اطعم منہا فوج عاما لعل آخرہافوجا ان یکون اعرضہا عرضا واعمقہا عمقا و احسنہا حسنا کیف تہلک امة انا اولہا والمہدی وسطہا والمسیح آخرہا ولکن بین ذالک فیج أعوج لیسوا منی ولا انا منہم“کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس امت کی ہلاکت کیسے ممکن ہوسکتی ہے جبکہ اس کے شروع میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس موجود رہے ہیں ،درمیان میں حضرت مہدی علیہ الرضوان ہیں اور آخر میں مسیح علیہ السلام کا نزول ہونے والا ہے ۔بیشتر فتنے انہی تین شخصیتوں کے ارد گر گھومتے ہیں اور انہی کو نشانہ بنا کر فتنے پربا کئے جاتے ہیں ۔
کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے قیام کا پس منظر اور اسکی مفصل تاریخ بیان کرتے ہوئے حضرت قاری صاحب نے فرمایا کہ اکابر علماء دیوبند ہمیشہ سے ہی باطل کے سامنے نبرد آزما رہے ہیں اور ان کی تمام پالیسیوں کو ناکام بناتے رہے ہیں ۔ فدائے ملت امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحب سابق صدر جمعیة علماء ہندورکن شوریٰ دارالعلوم دیوبندہندو بیرون ہند دورہ کرتے تھے ،ان کی دور رس نگاہوں نے جہالت زدہ اور غربت زدہ علاقوں کے حالت زار کو دیکھ کر یہ اندازہ لگالیا کہ اہل فتن ان کو اپنا نشانہ بنا لیں گے اسلئے ضروری ہے کہ ان علاقوں میں ایمان کی شمع روشن کرنے کے لئے کوئی تنظیم یا ادارہ قائم کیا جائے ۔ چنانچہ مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند کی تجویز کے مطابق دار العلوم دیوبند میں سہ روزہ عالمی تحفظ ختم نبوت کانفرنس ۲۹/تا ۳۱/اکتوبر ۱۹۸۶ء ء میں منعقد کی گئی جس میں پورے ملک سے چیدہ چیدہ علماء کرام کو مدعو کیاگیا، اسی کانفرنس میں کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا ۔
قاری صاحب نے تربیتی کیمپ کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند میں سب سے پہلا تربیتی کیمپ ۱۳/تا ۲۳/جمادی الاوّل ۱۴۰۹ھ مطابق ۲۴دسمبر ۱۹۸۸ء تا ۲/جنوری ۱۹۸۹ء میں حضرت مولانا اسماعیل صاحب کٹکی  سابق رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند کی زیرتربیت لگایا گیا تھا۔اس کے بعد دوسرا تربیتی کیمپ۱۱/تا ۲۱ جمادی الاوّل۱۴۱۰ھ بمطابق ۱۱/تا ۲۱/دسمبر ۱۹۸۹ءء میں لگایا گیا جس میں پاکستان سے نامور عالم دین ، فاتح ربوہ حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی رحمة الله علیہ مربی کی حیثیت سے تشریف لائے تھے اور انکی خود نوشت یادداشت زیراکس کراکرتمام شرکاء کو تقسیم کیا گیا تھا جو شائع ہوکراب ”رد قادیانیت کے زریں اصول“ کے نام سے دستیاب ہے ۔شرکاء کیمپ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ فتنوں سے نبردآزمائی کے لئے ان پانچ صفات کا پیدا کرنا بہت ضروری ہے (۱)ایمانی حس (۲) غیرت ایمانی(۳) شجاعت وبہادری (۴)علم وفضل کا سرمایہ (۵)انابت الی اللہ ۔ آپ حضرات ان صفات سے متصف ہوکر عملی میدان میں کام کریں ۔
اس افتتاحی نشست سے حضرت مولانامفتی محمود حسن صاحب بلندشہری مفتی دارالعلوم دیوبند نے بھی خطاب کیا ۔مفتی صاحب نے حمد وصلوٰة کے بعدآیت کریمہ ” وجادلہم بالتی ہی احسن“تلاوت کرنے کے بعد فرمایا کہ علماء کرام اپنے علاقوں میں درس وتدریس ،امامت وخطابت اور مدارس ومکاتب کی انتظامی ذمہ داری کی وجہ سے اپنے ارد گرد ، محلوں اور علاقوں میں پیش آنے والے فتنوں کی طرف توجہ نہیں کرپاتے ہیں ،لیکن یہ عدم توجہی علماء کرام کی شان کے خلاف ہے کہ فتنہ آپ کے ارد گر د پھیل رہاہو اور آپ اپنے دینی وعلمی مشغولیات میں مصروف رہیں ،اسلئے علماء کرام کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ امت مسلمہ کے ایمان کی حفاظت کریں اور اخلاص کے ساتھ میدان عمل میں اتریں۔مفتی صاحب نے اکابر علماء دیوبند وبزرگان دین کے حکمت ومصلحت سے لبریز اور سبق آموز واقعات سنا کر سامعین کو محظوظ فرمایا۔
اخیرمیں حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیمپ کے اصول وضوابط اور فوائد بیان کرتے ہوئے ہندوستان میں منعقد کیے جانے تربیتی کیمپوں کی ایک مفصل و مربوط تاریخ سے حاضرین و سامعین کو روشناس کرایا ۔ یہ نشست ۳۰:۱۰/بجے شب کو مکمل ہوئی ۔
دوسری نشست :۲۱/شعبان المعظم بروز منگل صبح ۸/بجے سے شروع ہوئی ۔تلاوت قرآن مجید کے بعد اس نشست میں حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری نے ادع الی سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة وجادلہم بالتی ہی احسنکی تفسیر بیان کرتے ہوئے دعوت الی الله کے تینوں اصولوں کو مثال اور ذاتی تجربات کی روشنی میں خوب واضح کیا ۔
اس نشست میں مولانا اکرام اللہ قاسمی شاہجہاں پوری استاذ مدرسہ جامع الہدی مرادآبادنے اپنے تأثرات کا اظہار کیا ۔ مولانا محترم نے اپنے والد مرحوم مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب شاہجہاپوری صدر مدرس مدرسہ سعیدیہ جامع مسجد شاہجہاں پور کی رد قادیانیت پر خدمات کا تذکرہ کیا اور انہوں نے بتایا کہ جس وقت شاہجہاں پورمیں قادیانیوں نے شورش برپا کررکھی تھی اور ایک ٹیکلی والی مسجد پر قادیانیوں کی جانب سے مقدمہ چل رہا تھا تو والد مرحوم نے قادیانیت کی بطلان اور اس کے اسلام سے الگ ہونے پر مختلف مضامین لکھے ہیں جو اس وقت کے رسالہ صدق جدید ،اور رسالہ داراالعلوم دیوبند میں شائع ہوتے رہے ہیں اور اس مقدمہ میں قادیانیوں کو بری طرح شکست ہوئی اور فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آیا جس کی نقل کاپی میں نے دارالعلوم دیوبند کو جمع کرادی ہے ۔یہ نشست ۱ بجے تک مکمل ہوئی بعدہ طعام اور آرام کا موقع دیا گیا۔
تیسری نشست :بعد نماز ظہر ۳۰:۳بجے منعقد ہوئی، اس نشست میں مولانا اشتیاق احمد صاحب مہراج گنجی ،مولانا شاہد انور قاسمی بانکوی ،ماسٹر محمد احمد گورکھپوری ،مولانا بلال احمد مدراسی اورمجلس تحفظ ختم نبوت ساوٴتھ دہلی کے کارکنان نے حوالوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کرایا اور تمام شرکاء کو بیان کے دوران پیش کیے گئے حوالہ جات نوٹ کرائے ،تمام حاضرین نے بچشم خود کتابوں کا مطالعہ کرکے حوالوں کو اپنی اپنی کاپیوں میں نوٹ بھی کیا اور ہر حوالے کے سیاق و سباق کو بھی سمجھا ۔
اس نشست میں حضرت مولاناعبدالخالق صاحب سنبھلی مدظلہ العالی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند کا تقریباً نصف گھنٹہ خصوصی خطاب ہوا۔ حضرت نے اپنے تمہیدی بیان میں کہا کہ آپ لوگ خوش نصیب ہیں جو اس تربیتی کیمپ سے اسفتادہ کررہے ہیں ،اس کیمپ سے آپ کو میدان میں کام کرنے کے ایسے اصول ملیں گے جن سے باطل وگمراہ فرقوں کے مقابلے کے لئے کوئی دشواری نہیں ہوگی ۔حضرت نے اصول بیان کرتے ہوئے کہا کہ باطل اور گمراہ فرقوں کے بطلان اور گمراہی کے بنیادی اسباب تین ہیں (۱)اتباع ہویٰ (۲)تقلید آباء (۳)خوش فہمی جس کو عربی میں اعجاب بالنفس کہتے ہیں ،انہوں نے تینوں اسباب کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا(۱)اتباع ہویٰ جس کو قرآن پاک نے أرَأیْتَ مَنِ اتَّخَذَ الَہَہُ ہَوَاہُ کے ذریعہ بیان کیا ہے (۲)تقلید آباء جس کو قرآن کریم نے کفارومشرکین کے مقولہ کے طور پر بے شمار جگہ بیان فرمایا ہے جیسے :قالوا بل نتبع ما وجدنا علیہ آبائنا ، قالوا بل وجدنا آبائنا کذالک یفعلون، قالوا حسبنا ما وجدنا علیہ آبائنا۔ (۳)خوش فہمی جس کو عربی میں اعجاب بالنفس کہتے ہیں ، بدقسمتی سے مرزائیوں کے اندر یہ تینوں اسباب مکمل پائے جاتے ہیں ۔ یہ نشست اذان عصر تک مکمل ہوئی ۔
چوتھی نشست:بعد نماز مغرب متصلاً شروع ہوئی ،تلاوت ونعت کے بعد حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری کا ”مرزا کادیانی کا تعارف وتجزیہ کادیانی تحریرات کی روشنی میں“کے موضوع پر مفصل تربیتی بیان ہوا، حضرت نے مرزا کے نام میں تضاد کو مرزائی تحریرات سے واشگاف کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اصل نام نہ تو ”غلام احمد “ہے اور نہ ”مرزا غلام احمد قادیانی “ بلکہ اس کے نانیہال کی عورتوں کا بتایا ہوانام ”سندھی“ہی اصل ہے ۔مرزا کی تاریخ پیدائش میں بھی زبردست تضاد ہے مرزا کی تحریر کے مطابق ۱۸۳۹ءء یا ۱۸۴۰ء ء ہے جبکہ مرزائی اس تاریخ کو نہیں مانتے ہیں اور ۱۸۳۵ءء یا ۱۸۳۶ءء بتاتے ہیں۔مرزائیوں کی تاویل کی وجہ مرزا کی ایک پیشینگوئی کو درست کرنا ہے کہ جس میں مرزا نے اللہ تعالیٰ کی جانب منسوب کرکے یہ الہام بنایا کہ ہم تجھے ۸۰ سال یا اس کے قریب قریب یا اس سے زائد کی زندگی عطا کریں گے لیکن مرزا کو خدائی فیصلے کے مطابق ہیضے کی موت نے ۶۹ سال کی ہی مدت میں آ دبوچا جس سے وہ الہام بافی میں جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔مرزا کو خطہ زمین کے اُس منحوس حصہ میں گاڑا گیا جہاں کے لوگ بقول اس کے ناپاک پلید اور یزیدی الطبع ہوتے ہیں ۔یہ نشست ۱۰/ بجے شب میں مکمل ہوئی۔بعدہ نماز عشاء پروگرام ہال میں ادا کی گئی اور طعام وآرام کا وقت دیا گیا۔
پانچویں نشست:۲۲/شعبان المعظم بروز بدھ صبح ۸/بجے شروع ہوئی ،تلاوت کلام اللہ اور نعتیہ کلام کے بعد حضرت مولاناقاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوری دامت برکاتہم استاذ حدیث وناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کا ”مسئلہ رفع ونزول عیسیٰ “پرمفصل خطاب ہوا ۔حضرت قاری صاحب نے اسلامی تعلیمات و ہدایات کو شرح وبسط کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ رفع قرآن کریم کی متعدد آیتوں سے ثابت ہے ۔ اور بیشمار احادیث ان آیتوں کی مویٴد ہیں ۔ خود مرزا کادیانی بھی دعویٴ مسیحیت سے قبل حضرت عیسیٰ کے رفع ونزول کا قائل تھا ۔یہ نشست ۱/بجے تک مکمل ہوئی ۔بعدہ طعام وآرام کا موقع دیا گیا۔
چھٹی نشست :بعد نمازظہر متصلاً منعقد ہوئی،اس نشست میں حوالوں کا مشاہد ہ کرایا گیا بعدہ حضرت مولانا شاہ عالم صاحب نے شرکاء کے سوالات کے جوابات تفصیل سے دئیے۔
ساتویں نشست :بعد نماز مغرب متصلاً منعقد ہوئی ،حضرت مولانا قاری عبدالروٴف صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند کی تلاوت کلام اللہ شروع ہوئی ۔بعدہ جناب حافظ اقبال احمدملّی صاحب ناظم احیاء السنة اسلامک سینٹر مالیگاوٴں نے تحفظ ختم نبوت کی عملی اور میدانی خدمت میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو کس طرح اور کیسے ہٹایا جائے اور مختصر وقت میں اس رکاوٹ کو دفع کرکے تحفظ ختم نبوت کے مشن کو آگے کس طرح آگے بڑھائیں اس موضوع پر حافظ صاحب کا تفصیلی خطاب ہوا۔
دوران تقریر حافظ صاحب نے تقلید کی شرعی حیثیت کو ایک چارٹ بنام” الکلام الفرید فی اثبات التقلید “(یہ چارٹ تمام شرکاء کو آخری نشست میں بشکل انعام دیا گیا)کے ذریعہ سمجھاتے ہوئے کہا کہ مسائل منصوصہ متعارضہ غیر معلوم التقدیم والتاخیر غیر اجماعی اور مسائل غیر منصوصہ غیر اجماعی میں مجتہد اجتہاد کرتا ہے اور مقلد مجتہد کے اجتہاد کی پیروی کرتا ہے اور اسی کا نام تقلید ہے بلکہ ان مسائل میں بھی دو قسم کے اقوال ہوتے ہیں ایک مفتی بہ ، دوسرا غیر مفتی بہ۔ مقلدین کا مسلک مفتی بہ اقوال پر عمل کرنا ہے نہ کہ غیر مفتی بہ پر۔اور غیر مقلد ین اجماع ہی سے الگ ہوگئے ہیں اسی لئے وہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں ۔حافظ صاحب نے مسلک اور فرقہ کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ غیرمقلدین ایک فرقہ ہے اسے مسلک سے جوڑنا درست نہیں ہیں۔یہ نشست ۳۰:۱۰ بجے شب تک اختتام پذیر ہوئی۔بعدہ نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد طعام اور آرام کا موقع دیا گیا۔
آٹھویں نشست :۲۳/ شعبان بروز جمعرات صبح ۸ بجے منعقد ہوئی،تلاوت ونعت کے بعد دارالعلوم دیوبند کے موٴقر استاذ حدیث مولانا ریاست علی بجنوری مدظلہ کا خصوصی بیان ہوا ،حضرت نے دوران بیان سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا فخرالدین مرادآبادی کے حوالے سے گمراہ اور باطل کو جانچنے کے معیار پر تفصیل سے خطاب کیا ۔ اس کے بعدحضرت مولانا شاہ عالم صاحب نے شعبہ تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے مجلس کے مبلغ جناب مولانا اشتیاق احمد صاحب کو کذبات مرزا پر بیان کرنے کے لئے دعوت دی ۔جناب مولانا اشتیاق احمد صاحب نے کذبات مرزا پر مفصل خطا ب کیا،مولانا نے دو ران بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاران کی چوٹی سے اپنی نبوت کا اعلان اس وقت تک نہیں کیا جب تک کہ حاضرین نے یہ یقین نہیں دلادیا کہ ماجربناعلیک الا صدقا اورہم آپ کو الصادق الامین کے لقب سے جانتے ہیں۔اسی طرح مدعیان نبوت کو پرکھنے کے لئے ان کے اقوال کو دیکھیں گے کہ وہ کتنے پانی میں ہیں ۔مولانا موصوف نے مسیلمہ پنجاب کے جھوٹے اقوال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ مرزا نے جھوٹ کی قباحت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جھوٹ بولنامرتد ہونے سے کم نہیں (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ،خزائن ص ۵۶ ج۱۷)اسی طرح دوسری جگہ لکھتا ہے کہ تکلف سے جھوٹ بولنا گُوہ کھانا ہے (تتمہ حقیقة الوحی ،خزائن ص ۵۹ ج ۲۲) کادیانی فیصلے سنانے کے بعد مرزاکادیانی کے بہت سے جھوٹے اقوال کو حاضرین کے سامنے پیش کیا ۔مولانا نے سوا گھنٹہ اس موضوع پر بیان کیا ۔
بعد ازاں جناب مولانا حافظ اقبال احمد ملی نے اپنے موضوع کو مکمل کیا ۔یہ نشست ۱/بجے تک مکمل ہوئی بعدہ طعام و آرام کا موقع دیا گیا۔
نویں نشست :بعد نماز ظہر متصلا منعقد ہوئی ، حوالوں کے مطالعہ ومشاہد کے بعدو قفہ سوالات کا موقع دیا گیا۔ شرکاء کیمپ نے اپنے اشکالات واعتراضات پیش کئے حافظ اقبال احمد صاحب نے ان کے تحقیقی اور تشفی بخش جوابات دیئے ۔یہ نشست اذان عصر تک مکمل ہوئی۔
دسویں نشست :بعد نماز مغرب متصلا منعقد ہوئی،اس نشست میں حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری نے ”مرزا کادیانی کا تعارف“ کے موضوع کو مکمل کیا ، مولانا نے بتایا کہ مرزا کی پہلی شادی۱۸۵۲ء میں ہوگئی تھی اور مرزا ابھی بچہ ہی تھا کہ سلطان احمد پیدا ہوگیا تھا ،مرزا کی دوسری شادی دہلی کے میر ناصر نواب کی بیٹی نصرت جہاں بیگم سے۱۳۰۴ھ میں ہوئی جو مرزا ہی کے گھر میں پہلے کرایہ دار کی حیثیت سے رہا کرتی تھی ۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ آشنائی پہلے سے تھی لیکن یہ ضرور کہتاہوں کہ شناسائی پہلے سے تھی ۔اور تیسری شادی محمدی بیگم سے ہوئی تھی ،بقول مرزا یہ نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمان پرپڑھایا تھا ۔نکاح کے چھوارے تقسیم ہوئے بھی یا نہیں اور ہوئے تو کس کس نے کھائے اس سلسلے میں مرزائی کچھ نہیں بتاتے مگر افسوس صد افسوس کہ مرزائیوں کی اس ماں کو کوئی دوسرا لے کر بھاگ گیا اور مرتے دم تک مرزا کو یہ نصیب نہیں ہوئی۔ مولانا موصوف نے مرزا کادیانی کا مکمل تعارف مرزا کادیانی اور مرزائی کتابوں سے کرایا ۔علاوہ ازیں مرزا کے اقوال اور پیشینگوئیوں کی روشنی میں اس کا جھوٹا ہونا ثابت کیا۔یہ نشست تقریباً ۱۵:۱۰/بجے اختتام کو پہونچی بعد ازاں نماز عشاء کی ادائیگی کیمپ کے ہال میں ہوئی ۔اور طعام وآرام کا وقت دیا گیا۔
گیارہویں نشست :۲۴/شعبان المعظم بروز جمعہ کو صبح ۸/بجے شروع ہوئی ،حافظ اقبال احمد صاحب نے مبتدعین کی جانب علمائے دیوبند پر اعتراض کو دفع کرنے کا آسان حل بتایا اور مختصر وقت میں اتحاد کے طریقہ کار پر تفصیل سے خطاب کیا ۔اس کے بعد اس نشست میں حضرت مولانا شاہ عالم صاحب نے دعاوی مرزا اور پیشیگوئیوں پر تفصیل سے خطاب کیا ، دعاوی مرزا کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ مرزا کادیانی کے دعاوی بیشمار ہیں ،بے شمار دعاوی ہی اس کے جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہیں۔ مولاناموصوف نے تفصیل سے مرزا کے دعاوی کو شمار کراتے ہوئے کہاکہ ۱۸۸۰ءء سے مرزا کادیانی کے ملہم من اللہ ہونے کے دعوے کا ثبوت ملتا ہے ۔ اس سے قبل دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔ اورمرزائی جوثبو ت فراہم کرتے ہیں وہ سب بعد از وقت ہیں خود مرزا کادیانی نے بھی ۱۸۸۰ء سے قبل کے جو الہامات شمار کرائے ہیں وہ بعد از وقت ہیں ۔۱۸۸۲ءء میں مجدد ہونے کا دعویٰ کیا، ۱۸۹۱ءء میں مسیح موعود ہونے کا، ۱۸۹۹ءء میں ظلی بروزی نبوت کا اور ۱۹۰۱ءء میں باقاعدہ تشریعی نبوت اور عین محمد ہونے کا دعویٰ کیا اور سب سے اخیر میں ۱۹۰۲ءء میں اس نے کرشن اوتار ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ گویا پہلادعویٰ ملہم من الله ہونے کا اور آخری دعویٰ کرشن ہونے کا ۔ دوران بیان مولانا نے مرزا کے تمام دعاوی میں اسے جھوٹا ہونا ثابت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب مالیخولیا اور مراق کا اثر تھا جو مرزا کو لاحق تھا اور اسی وجہ سے اول فول بکتا رہتا تھا۔ یہ نشست تقریباً ۱۲/بجے مکمل ہوئی اور شرکاء کو نماز جمعہ کی تیاری کا موقع دیا گیا۔
بارہویں نشست :بعد نماز عصر منعقد ہوئی۔اس نشست میں حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری نے ”جھوٹے مدعیان مہدویت اور ان کا تاریخی پس منظر “ کے عنوان پر تفصیل سے خطاب کیا ۔مولانا کا بیان اذان عصر تک مکمل ہوا۔
تیرہویں نشست :بعد نماز مغرب متصلا منعقد ہوئی،اس نشست میں حضرت مولانا شاہ عالم صاحب نے ”علمی اور عملی میدان میں فتنہ کادیانیت کا تعاقب کس طرح کیا جائے اور اس میں پیش آنے والی دشواریوں کا ازالہ کس طرح ہو “کے عنوان پر بیان کرتے ہوئے علمی اور عملی میدانوں میں کام کرنے کے طوروطریق اور اصول بیان کئے۔آپ نے بتایا کہ اہل علم اور مدارس اسلامیہ ، اسی طرح کالج اور یونیورسیٹیوں ں میں کام کرنے کی متعدد نوعیتیں ہیں جو فضلاء علمی ذوق رکھتے ہیں ان کے لیے اس میدان میں کام کرنے کا سنہرا موقع ہے ۔اسی طرح پبلک کے درمیان خدمت انجام دینے کے مواقع بھی متعدد جہتوں سے ہیں جن کے لائق جو خدمت ہو اس میں لگ جائیں ۔ یہ نشست ساڑھے دس بجے شب میں اختتام کو پہنچی۔بعدہ طعام وآرام کا موقع دیا گیا۔
۴۱ ویں اور اختتامی نشست :۲۵/شعبان المعظم مطابق ۱۳/جولائی بروز سنیچر صبح ۸/ بجے منعقد ہوئی ،شرکاء کیمپ میں سے منتخب علماء نے اپنے تاثرات پیش کئے۔ بعدہ مولانا شاہ عالم گورکھپوری نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے خطاب کیا ۔بعد ازاں حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند نے صدارتی خطاب کیا اور شرکائے کیمپ کو پند ونصائح سے نوازا ۔آخیر میں مہتمم صاحب کے بدست تمام شرکاء کو بصورت کتب قیمتی انعامات سے نوازاگیا۔اس آخری نشست میں حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوری ،حضرت مولانا عبدالخالق سنبھلی نائب مہتمم ،جناب حافظ اقبال احمدملّی مالیگاوٴں،جناب مولانا اسعداللہ قاسمی ،جناب مولانا اشتیاق احمد صاحب مبلغ شعبہ تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند،جناب مولانا شاہد انور قاسمی بانکوی مرکز التراث الاسلامی دیوبند،ماسٹر محمد احمد گورکھپوری وغیرہ شریک رہے ،مفتی ابوالقاسم نعمانی کی دعاء پر پروگرام کا اختتام ہوا۔

ماہ رمضان اور قرآن

محمد اللہ قاسمی ، دیوبند
khaliliqasmi

اللہ تعالی کی خاص رحمت و مغفرت کا مبارک مہینہ ہمارے اوپر سایہ فگن ہے۔ ماہ رمضان اللہ تعالی کی خصوصی الطاف و عنایات کا رازدار اور نیکیوں کی فصل بہار ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کی آمد سے دوماہ قبل ہی سے یہ دعا فرمانا شراع کردیتے تھے: ”اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب فرما“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کا انتظار فرماتے اور پوری تیاری کے ساتھ اس کا استقبال فرماتے۔ رمضان المبارک میں آپ کے شب و روز کے معمولات بڑھ جاتے۔ قیام لیل فرماتے ، تہجد میں خود بھی اٹھتے اور دوسروں کو بھی تاکید فرماتے۔ باد بارش خیز سے بڑھ کر سخی و فیاض ہوتے اور صدقات و عطیات کی کثرت فرماتے۔ رمضان کے اخیر عشرہ میں ان تمام امور میں مزید اہتمام کے پیش نظر مسجد میں اعتکاف کی نیت سے قیام فرماتے۔
ماہ رمضان یوں تو روزہ کے علاوہ نماز و عبادت، قیام لیل و تہجد، تقوی و طہارت اور زکاة و صدقات کا خصوصی مہینہ ہے، لیکن ماہ رمضان کی قرآن کریم سے بڑی خاص مناسبت ہے۔ قرآن و حدیث سے دونوں کے مابین گہرا تعلق معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کریم کے مطابق ماہ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے ۔ اللہ تعالی کا اشاد ہے: ”رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اورجس میں ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور جوحق وباطل کو الگ الگ کرنے والا ہے۔ “ (سورة البقرة2:185 )
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مصحف ابراہیمی اور تورات اور انجیل سب کا نزول رمضان ہی میں ہوا ہے اور قرآن شریف بھی رمضان کی چوبیسویں تاریخ میں نازل ہوا۔ لیکن نزول قرآن اور دیگر مقدس کتب و صحائف کے نزول میں فرق یہ ہے کہ وہ جس پیغمبر پر اتریں ایک ساتھ ایک ہی مرتبہ اتریں لیکن قرآن کریم لوح محفوظ سے اول آسمان پر سب ایک ساتھ بھیجا گیا پھر تھوڑا تھوڑا کر کے مناسب احوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا ۔ قرآن کے اسی نزول کا مختلف مقامات پر کیا گیا ہے: (۱) ”ہم نے قرآن کو لیلة القدر کو نازل کیا “۔ سورة القدر97:1 (۲) ”ہم نے قرآن کو مبارک رات میں نازل کیا“۔ سورة الدخان 44:2 ۔ ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم ایک ساتھ آسمان اول پر رمضان المبارک کے مہینے میں لیلتہ القدر کو نازل ہوا اور اسی کو لیلہ مبارکہ بھی کہا گیا ہے ۔ قران کریم کو لیلتہ القدر میں لوح محفوظ سے پہلے آسمان کی طرف اتار کر بیت العزة میں رکھا گیا پھر حسب ضرورت واقعات تھوڑا تھوڑا اترتا رہا اور دو عشروں پر محیط زمانے میں مکمل ہوا۔
احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ہر سال ماہ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ا س وقت تک جتنا قرآن نازل ہوچکا ہوتا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور کرتے تھے۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا ، اُس سال آپ نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ (ابن ماجہ ، حدیث 1759)
رمضان المبارک کے قرآن مجید کے ساتھ خاص ربط کا مظہر نماز تراویح بھی ہے۔ نماز تراویح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع فرمائی اور مسجد میں باجماعت اس کو ادا بھی فرمایا، لیکن اس خیال سے اس کو ترک فرمادیا کہ کہیں امت پر واجب نہ ہوجائے تو امت کو اس کو نبھانے میں پریشانی لاحق ہوسکتی ہے، چناں حضرات صحابہ انفرادی طور پر تراویح ادا فرماتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد جب یہ خدشہ دور ہوگیا،تو خلیفہٴ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرات صحابہ کے مشورہ اور اجماع سے دوبارہ مساجد میں بیس رکعت باجماعت تراویح کا اہتمام فرمایا۔ اس وقت سے اب تک پورے عالم اسلام میں جمہور امت کا اسی پر عمل ہے اور تمام ائمہ اربعہ اس پر متفق ہیں۔حرمین شریفین میں بھی آج تک بیس رکعت کا معمول چلا آرہا ہے۔ نماز تراویح سنت موٴکدہ ہے اور تراویح میں پورے قرآن کریم کا ایک بار ختم سنت ہے۔ اس طرح رمضان میں نماز تراویح کی برکت سے عام خواندہ و ناخواندہ مسلمان کم از کم ایک بار قرآن کریم سن لیتا ہے اور پورے قرآن کریم کی حلاوت آمیز تلاوت سے کام و دہن معطر ہوتے اور مسلم بستیوں میں لاہوتی پیغام کی گونج سنائی دیتی ہے۔
ان سب آیاد و احادیث کی روشنی میں ماہ رمضان کی فضیلت اور قرآن مجید کے ساتھ اس کی خصوصی مناسبت اور تعلق کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی بے بہا دولت اور ایمان و یقین کا خزانہ ہمیں ماہ رمضان میں ملا۔ رمضان کا مہینہ اس نعمت کی سالانہ یادگار کا مہینہ ہے۔ قرآن کے نزول کی یہ یادگار جشن کی صورت میں نہیں منائی جاتی بلکہ تقویٰ اور شکر گزاری کے ماحول میں منائی جاتی ہے۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کریں اور خود کو قرآنی احکام و ہدایات کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ رمضان کا مہینہ قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے کا مہینہ ہے۔ قرآن جیسے ہدایت نامہ کا نزول دنیائے انسانیت کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے کیونکہ وہ انسان کو عظیم ترین کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ انسان کس طرح اپنی موجودہ زندگی کو گزارے کہ آنے والی اخروی زندگی میں ابدی کامیابی سے ہم کنار ہوسکے۔ یہ مہینہ اس مقصد کے لیے خاص ہے کہ اس میں اللہ کی سب سے بڑی نعمت کا سب سے زیادہ تذکرہ کیا جائے۔
رمضان اور قرآن کے خاص ربط کا راز یہ ہے کہ اللہ تعالی نے روزہ کا مقصد تقوی کا حصول قرار دیا ہے ، ارشاد ہے: اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ ۔ (سورة البقرة 2:183) اب انسان کو تقوی حاصل کیسے ہو اور اس سلسلے میں وہ رہنمائی کس سے حاصل کرے ، اس کو سورة البقرة ہی کی دوسری آیت میں بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہے: یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کوئی شک نہیں، یہ رہ نما ہے تقوی والوں کے لیے۔ لہٰذا رمضان کے اصل مقصد کو حاصل کرنے میں سب سے زیادہ معاون قرآن ہے ، جو تقوی حاصل کرنے والوں کے لیے رہ نما اور گائڈ ہے ۔ پورے قرآن میں شروع سے آخر تک اسی کا ذکر ہے کہ انسان کس طرح تقوی اور اللہ کی رضا حاصل کرکے آخرت کی سرمدی زندگی میں کامیاب و کامران ہوسکتا ہے۔
اس لیے روایات سے معلوم ہوتا ہے ہمارے سلف صالحین صحابہ و تابعین اور اکابرین دین رمضان میں قرآن مجید کے ساتھ خصوصی شغف فرماتے تھے۔ بعض بزرگان دین کے سلسلے میں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تلاوت قرآن کے علاو ہ ان کا کوئی اور شغل ہی نہیں ہوتاتھا۔ بہر حال وہ اپنے اوقات کا اکثر حصہ اسی عظیم عبادت میں صرف کرتے تھے۔ حضرات صحابہ ، تابعین اور بزرگان دین کے بارے میں منقول ہے کہ بعض حضرات روزآنہ متعدد دفعہ قرآن ختم کرتے تھے۔ بعض حضرات ایک ہی رات میں نمازوں میں قرآن ختم کر لیتے تھے۔ امام نووی رحمة اللہ نے اپنی کتاب التبیان فی آداب حملة القرآن میں لکھتے ہیں کہ ایک رکعت میں قرآن ختم کرنے والوں کی تعداد بے شمار ہے۔ ختم قرآن سے متعلق سلف صالحین کے مجاہدات و واقعات اتنے کثیر ہیں کہ جن کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا ۔ فضائل رمضان اور فضائل قرآن سے متعلق کتابوں کی ان کی تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں۔
یہاں ایک وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ عجمیوں اور عربی ناخواندہ لوگوں کے لیے قرآن کریم کی تلاوت اور قرآن فہمی دونوں امور مساوی طور پر اہم ہیں۔ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ قرآن کی صرف تلاوت کو نظر انداز کرتے ہیں اور قرآن کا ترجمہ پڑھنے پر زور دیتے ہیں۔ یہ تلاوت قرآن کی فضیلت سے لاعلمی کی بنیادپر ہے۔ قرآن پاک کی تلاوت خود ایک مستقل عبادت ہے خواہ تلاوت کرنے والا اس کا مفہوم سمجھے یا نہ سمجھے۔ ہاں اگر تلاوت کے ساتھ معنی و مفہوم بھی سمجھ رہاہے تو نور علی نور۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے ایک حرف کی تلاوت پر دس ثواب ملتا ہے۔ حتی کہ یہ بھی ذکر ہے کہ اگر کوئی شخص ٹھیک طرح سے پڑھنا نہیں جانتا اور اٹک اٹک کر پڑھتا ہے تو اس کو اس مشقت کی وجہ سے دوہرا اجر ملتا ہے۔
ہمارے لیے غور کا مقام ہے کہ ہم رمضان المبارک میں قرآن کریم کی کتنی تلاوت کررہے ہیں اور کتنا اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں۔ کیا ہم نے رمضان کے لیے کوئی معمول سوچا ہے کہ رمضان میں قرآن کے کتنے ختم کرنے ہیں اور اپنی مصروفیات کو کم کرکے کس طرح رمضان گزارنا ہے ؟ اس لیے بہتر ہے ہم اپنی مصروفیات اور معمولات میں قرآن کے خاص طور سے وقت نکالیں اور قرآن پاک کی تلاوت سے اپنے ایمان کو تازہ کریں۔ نیز، اس کی بھی کوشش ہونی چاہیے کہ رمضان المبارک کے نورانی ماحول میں قرآن کریم کا معتبر ترجمہ کسی عالم کی نگرانی میں پڑھنا شروع کردیں اور جہاں کہیں کچھ اشکال یا پریشانی ہو تو ان سے رجوع کرلیں۔
قرآن کریم کی تلاوت کے سلسلے میں بھی کچھ آداب ہیں جن کا تلاوت کے وقت پاس ولحاظ رکھنا ضروری ہے تاکہ تلاوت اللہ تعالی کے یہاں مقبول ہو اور ثواب کا باعث ہو۔ تلاوت ایک عبادت ہے اور عبادت کے لیے سب سے بنیادی شرط اخلاص وللہیت ہے۔ لہٰذا تلاوت کا مقصد اللہ تعالی کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنا ہو۔ تلاوت قرآن کے وقت قرآن کا پوراادب و احترام ملحوظ رکھے ۔ تلاوت پاکی اور طہارت کی حالت میں باوضو کرنی چاہیے؛ کیوں کہ باوضو ہو کر قرآن کی تلاوت کرنے میں اللہ کے کلام کی تعظیم اور احترام ہے۔ تیسرا اہم ادب یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر اور اچھی آواز میں تلاوت کرنے کی کوشش کرے۔ پڑھتے وقت ہر حرف کی ادائیگی کا لحاظ رکھے اور تجوید کے قواعد کے مطابق پڑھے۔ اسی طرح اگر معنی و مفہوم سمجھتا ہے تو رحمت کی آیت کے وقت اللہ تعالی سے رحمت طلب کرے اور عذاب کی آیت کے وقت اللہ تعالی سے اس کی پناہ مانگنا چاہیے۔ تلاوت کے وقت آیتوں کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرے ، غور وفکر اور تدبر کے ساتھ پڑھے۔
قرآن اللہ کا کلام ہے ، قرآن پڑھنا اللہ سے ہم کلام ہونے کے مترادف ہے۔ تلاوت قرآن سے بندہ اور اللہ کے درمیان نورانی اتصال قائم ہوتا ہے۔ قرآن میں وہ ان سعید روحوں کی بابت پڑھتا ہے جنہوں نے مختلف وقتوں میں ربانی زندگی گزاری تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا! تو مجھ کو بھی اپنے ان پسندیدہ بندوں میں شامل فرما۔ قرآن مین وہ جنت اور جہنم کا تذکرہ پڑھتا ہے، اس وقت اس کی روح سے یہ صدا بلند ہوتی ہے کہ خدایا! مجھے جہنم سے بچا لے اور جنت میں داخل کر دے۔اس طرح قرآن بندہ کے لیے ایک ایسی کتاب بن جاتا ہے جس کے توسط سے وہ اپنے خالق سے سرگوشیاں کرتا ہے اور اس کی تلاوت کی لذت و حلاوت سے مستفید ہوتا ہے۔
قرآن بندے کے اوپر اللہ کا انعام ہے اور روزہ بندے کی طرف سے اس انعام کا عملی اعتراف ۔ روزہ کے ذریعہ بندہ اپنے آپ کو شکر گزاری کے قابل بناتا ہے۔ روزہ کے عمل سے گزر کر وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق دنیا میں تقوی کی زندگی گزارے اور رشک ملائکہ بن جائے۔

روزہ: اسلام کا چوتھا اہم ترین رکن

محمد اللہ خلیلی قاسمی
حدیث شریف کے مطابق اسلام کی پانچ بنیادی تعلیمات میں توحید، نماز اور زکاة کے بعد روزوں کا درجہ ہے ۔اسلام میں ہر مسلمان عاقل بالغ پر پورے ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں جو ہجری کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔ جو شخص بلاکسی عذر اورمجبوری کے رمضان کا ایک روزہ بھی چھوڑدے تو وہ بہت ہی سخت گناہگار ہے، ایک حدیث میں ہے کہ:”جو شخص بلاکسی معذوری اور بیماری کے رمضان کا ایک روزہ بھی چھوڑدے، وہ اگر اس کے بدلہ ساری عمر بھی روزے رکھے، تو اس کا پورا حق ادا نہ ہوسکے گا۔
روزہ دن کے اوقات میں کھانے، پینے اور نفسانی شہوت کو پورا کرنے سے رکنے کا نام ہے۔روزہ میں نفس کو عبادت کی نیت سے روکا جاتا ہے اور اللہ کے واسطے اپنی خواہشوں اور لذتوں کو قربان کیا جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا ثواب بھی سب سے نرالاہے کہ :”بندوں کے سارے نیک اعمال کی جزا کا ایک قانون مقرر ہے اور ہرعمل کا ثواب اسی مقررہ حساب سے دیا جائے گا۔ لیکن روزہ اس عام قانون سے مستثنیٰ ہے، اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ بندہ روزے میں میرے لیے اپنا کھانا پینا اور اپنے نفس کی شہوت کو قربان کرتا ہے، اس لیے روزے کی جزا بندہ کو میں خود براہِ راست دوں گا“۔
روزوں کے خاص فوائد: روزہ کا خاص فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے آدمی میں تقویٰ اور پرہیزگاری کی صفت پیدا ہوتی ہے اور اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی طاقت آتی ہے اور اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنے نفس کی خواہش اور جی کی چاہت کو دبادنے کی عادت پڑتی ہے اور روح کی ترقی اور تربیت ہوتی ہے۔لیکن یہ سب باتیں جب حاصل ہوسکتی ہیں کہ روزہ رکھنے والا خود بھی ان کے حاصل کرنے کا ارادہ رکھے اور روزے میں ان تمام باتوں کا لحاظ رہے جن کی ہدایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے، یعنی کھانے پینے کے علاوہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے بھی پرہیز کرے، نہ جھوٹ بولے نہ غیبت کرے، نہ کسی سے لڑے جھگڑے۔ الغرض روزہ کے زمانہ میں تمام ظاہری اور باطنی گناہوں سے پوری طرح بچے، جیسا کہ حدیثوں میں اس کی تاکید کی گئی ہے۔چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو چاہیے کہ کوئی گندی اور بری بات اس کی زبان سے نہ نکلے اور وہ شور و شغف بھی نہ کرے اور اگر کوئی آدمی اس سے جھگڑا کرے اور اس کو گالیاں دے، تو اس سے بس یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، (اس لیے تمہاری گالیوں کے جواب میں بھی گالی نہیں دے سکتا)“۔(بخاری)ایک اور حدیث میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”جو شخص روزے میں بھی غلط گوئی اور غلط کاری نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے کھانا پانی چھوڑنے کی کوئی ضرورت اور کوئی پرواہ نہیں“۔ (بخاری)ایک اور حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کتنے ہی ایسے روزے دار ہوتے ہیں (جو روزے میں بری باتوں اور برے کاموں سے پرہیز نہیں کرتے اور اس کی وجہ سے ان کے روزوں کاحاصل بھوک پیاس کے سوا کچھ نہیں)
غرض روزہ کے اثر سے روح میں پاکیزگی اور تقویٰ اور پرہیزگاری کی صفت اور نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی طاقت جب ہی پیدا ہوگی جب کہ کھانے پینے کی طرح دوسرے تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے بھی پرہیز کیا جائے اور خاص کر جھوٹ، غیبت اور گالی گلوج وغیرہ سے زبان کی حفاظت کی جائے۔بہرحال اگر اس طرح کے مکمل روزے رکھے جائیں تو انشاء اللہ وہ سب فائدے حاصل ہوسکتے ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا اور ایسے روزے آدمی کو فرشتہ صفت بناسکتے ہیں۔
روزہ کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسانوں کو دوسرے حیوانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ جب جی چاہا کھالیا، جب جی میں آیا پی لیا اور جب نفسانی خواہش ہوئی اپنے جوڑے سے لذت حاصل کرلی، یہ صفت حیوانوں کی ہے اور کبھی نہ کھانا، کبھی نہ پینا اور جوڑے سے کبھی لذت حاصل نہ کرنا، یہ شان فرشتوں کی ہے۔ پس روزہ رکھ کر انسان دوسرے حیوانوں سے ممتاز ہوتا ہے اور فرشتوں سے ایک طرح کی مناسبت اس کو حاصل ہوجاتی ہے۔
نیز روزہ رکھنے سے انسان بھوک کی شدت اور اور پیاسا رہنے کی کلفت کا احساس کرتا ہے ، گویا روزوں کے ذریعہ سے اس کو غریبوں اور پریشان حال لوگوں کی کیفیت کا اندازہ کرایا جاتا ہے تاکہ ان کے دل میں ان غریبوں کے تئیں احساس ہمدردی و اعانت پیدا ہو۔

عقیدہ سے کسی بھی طرح سمجھوتہ نہیں کرسکتے مسلمان

ہندتواکے ایجنڈے کونافذکررہی ہے بی جے پی:مولانامحمدولی رحمانی

نئی دہلی۔19جون(فکروخبر/ذرائع)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کارگزار جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے اپنے صحافتی بیان میں کہاہے کہ روئے زمین کی تمام چیزیں ایک پروردگار کی بنائی ہوئی ہیں، جسے اس نے انسانوں کی مختلف ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بنایا ہے، انسانوں کوان چیزوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے، اور ہماری ذمہ داری ہے کہ اللہ کی بندگی کریں، اسی کے سامنے جھکیں ، اسی سے دعائیں مانگیں، اور یہ نہ بھولیں کہ جو چیزیں انسانوں کے لئے بنائی گئیں ہیں، ان کے سامنے جھکنا، نمشکارکرنا، بندگی کرنا یا ان سے کچھ مانگنا انسانوں کی توہین ہے۔

آپ نے مزید تفصیل بیا کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان جوکچھ کہیںیا کریں وہ بہت سوچ سمجھ کر اور ہر پہلو پر غور کرکے کہیں، اور پوری تحقیق کرلیا کریں، انہیں یاد رکھنا چاہئے ، وہ ایک ایسی ملت ہیں،جس کے پاس توحید کا عقیدہ ہے، جو انتہائی ٹھوس اور مضبوط علمی اور عقلی بنیادوں پر قائم ہے، مسلمانوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے ملک میں ایسے لوگ بھی ہیں، جو ان سے اور ان کی نسلوں سے یہ عقیدہ چھین لینا چاہتے ہیں، اور کسی نہ کسی ترکیب سے ان کو اپنے مشرکانہ برہمنی رنگ میں رنگ لینا چاہتے ہیں ___اسی ترکیب کا ایک حصہ سوریہ نمشکار، یوگا اور وندے ماترم ہیں، جن کا تعلق برہمنی دھرم اور ویدک کلچر سے ہے، اور ان چیزوں کا عقیدۂ توحید سے ٹکراؤ ہے۔ اس سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کی روشنی میں وضاحت کرتے ہوئے کارگزار جنرل سکریٹری صاحب نے فرمایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ۷؍ جون کو لکھنؤ میں منعقد مجلس عاملہ میں ایک بار پھر سوریہ نمشکار اور یوگا کے بارے میں پالیسی واضح کردی ہے___ سوریہ نمشکار سورج کی پوجا ہے، اور یوگا بھی ایک طرز عبادت ہے، اور بھگتی کا ایک طریقہ ہے، جس کا پس منظر ماضی بعید سے ملا ہؤا ہے، اور بھگوت گیتا کے ایک باب کا نام یوگا ہے__ شری کرشن جی نے شری ارجن جی کو یوگا کی تعلیم دی تھی، جو ’’بھگوت گیتا باب نمبر۔۶ ‘‘ میں تفصیل کے ساتھ درج ہے، یوگا آسن میں سورج کی پہلی کرن کو پرنام کرتے ہیں، مختلف مرحلوں میں اشلوک پڑھے جاتے ہیں،جس کی ابتداء ’’اوم‘‘ سے ہوتی ہے_ اس طرح یوگا اور سوریہ نمشکار برہمنی دھرم اور ویدک کلچر کا اہم حصہ ہے۔ مسلمانوں کو اور جولوگ بھی اللہ کی وحدانیت کے قائل ہیں، انہیں سوریہ نمشکار ، یوگا اور وندے ماترم سے الگ رہنا چاہئے، اورمسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اسلام کو سمجھنے، ایمان کو مضبوط کرنے اور دین کے ہر ایک حکم پر عمل کرنے کی طرف اپنی توجہ بڑھادیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یوگا ڈے ۲۱؍ جون کو منایا جارہا ہے، اور وزیر اعظم شری نریندر مودی نے ۲۱؍ جون کو اقوام متحدہ سے ’’یوم یوگا‘‘ کے طور پر منانے کو منظور کرایا ہے، اور اسی دن آر ایس ایس کے بانی کیشو بلی رام ہیگڑے جی (۱۹۸۹ء ۔۱۹۴۰ء) نے آخری سانس لی تھی، اس طرح ایک طریقہ عبادت کے دن کو آر ایس ایس کی تاریخ ساز شخصیت سے جوڑاگیاہے۔اس پر بھی غور کرنا چاہئے۔ ملک کے دردمندوں کو متوجہ کرتے ہوئے آپنے یہ بھی فرمایا کہ مذہب وملت کی کسی تفریق کے بغیر ملک کے تمام شہریوں سے ہم کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک کے آئین میں تمام شہریوں کو اپنے مذہب اور اپنی تہذیب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے، ساتھ ہی آئین میں یہ بھی صراحت ہے کہ بھارت کی حکومت سیکولر رہے گی، حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا، حکومت کے کام اور حکومتی ادارے نہ کسی مذہب کی پیروی کریں گے، اور نہ کسی سے پیروی کرائیں گے، اس لئے سرکاری وسائل اور اختیارات کو کسی مخصوص مذہب یا کلچر کی ترقی اور استحکام کے لیے استعمال کرنا بھارت کے آئین کے خلاف ہے، آئین کا تقاضہ ہے کہ حکومتی ادارے حکومت کے زیر نظم چلنے والے کالج اور اسکول میں سوریہ نمشکار اور یوگا نہیں کرایا جائے۔یہ ذہن میں رہے کہ معاملہ اسکول میں یوگا اور سوریہ نمشکار سے غیر ہندو طلبہ کو الگ رکھنے کانہیں ہے، وہ تو ان مشرکانہ اعمال میں شرکت کرہی نہیں سکتے، اصل معاملہ آئین ہند کے تقاضوں کو پورا کرنے اور سرکاری اداروں میں خلاف آئین کام کے روکنے کا ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھارت کے آئین کے مطابق کام کرانا چاہتا ہے، اور غیر آئینی کاموں سے روکناچاہتا ہے۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ حکومت اور اس کی آڑ میں مختلف تنظیمیں اور شخصیات آئین کی صریح خلاف ورزی کررہی ہیں، اس لیے ہم ملک کے تمام انصاف پسند شہریوں ، تنظیموں اور جماعتوں کو آواز دیتے ہیں کہ وہ بھارت کے آئین کی حفاظت کے لئے ایک بھر پور اور متحدہ تحریک شروع کریں۔ہم ملک کے تمام شہریوں کی توجہ اس طرف بھی مبذول کراناضروری سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت ۲۰۱۴ء کے پارلیمانی انتخاب کے موقع سے کئے گئے تعمیری وعدوں کی تکمیل نہ کرنے کی کمزوری کو چھپانے میں لگی ہے۔ خاص طریقہ پر مہنگائی کم کرنے اور کالے دھن کو واپس لانے اور دوسرے کئی وعدوں کوپوراکرنے میں بری طرح میں ناکام رہی ہے اور عوام کی توجہات تعمیری پہلوؤں سے ہٹاکر سوریہ نمشکار اور یوگا جیسے مسائل کی آڑ میں RSSکے ایجنڈے کوملک پر تھوپنے کا کام کررہی ہے۔ اخیر میں آپ نے ملت اسلامیہ ہندیہ سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے حلقۂ کار میں مذکورہ صورتحال سے لوگوں کو واقف کرانے کی زحمت فرمائیں، اور انہیںآمادہ کریں کہ وہ دوسرے بھائیوں تک ان باتوں کو پہونچائیں ساتھ ہی ائمہ کرام جمعہ کے خطبہ میں انہیں موضوع بنائیں، تاکہ عام لوگوں کو صحیح علم ہو اور وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے اسٹینڈ کو سمجھیں

یوگا کے سلسلہ میں مسلم پرسنل لا کا واضح موقف