شادی کو مشکل کس نے بنایا؟

مدثر احمد قاسمی
مضمون نگار مر کز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ممبئی میں لکچرار اور ایسٹرن کریسنٹ کے نائب ایڈیٹر ہیں۔

تمباکو نوشی : نسل ِنو کے لیے سم ِ قاتل اور ہماری ذم ہ داریاں

آصف اقبال قاسمی
iqubal.asif8

دنیا میں آج سگریٹ نوشی کے خلاف عالمی دن منایا جارہا ہے۔تمباکو نوشی کی لعنت روز اول ہی سے انسانی صحت کے لیے دشمن ثابت ہوئی ہے۔ اس کی بڑھتی ہوئی تباہ کاریو ں کو روکنے کے لیے عالمی ادارہ ٴ صحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(WHO) نے آج سے تقریبا پچیس سال قبل 1987میں ہر سال 31مئی کو ’ ’ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے“ یعنی انسدادِ سگریٹ نوشی کا دن منانے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے بعد سے مسلسل ڈبلیو ایچ او کے ممبر ممالک کی جانب سے ہر سال اس دن کا اہتمام عالمی پیمانے پر پورے جوش وخروش کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔عالمی یوم انسداد تمباکونوشی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کم از کم اس ا یک دن میں کسی بھی طرح کی تمباکونوشی اور سگریٹ نوشی نہ کی جائے اور بعد میں اس لَت کو ترک کرنے کی کوشش کی جائے۔تمباکونوشی کی بڑھتی ہوئی لعنت اور اس حوالے سے حکومتوں کی بے اعتنائی کے تناظر میں اس سال ڈبلیو ایچ او نے اس دن کے لیے اپنے مرکزی نعرے (Theme) میں جدت لانے کی کوشش کی ہے ۔2015 کا مرکزی نعرہ ہے ” تمباکو کے نقصانات اور ٹھوس پالیسی کی تشکیل، نیز تمباکو مصنوعات کی غیر قانونی تجارت کو روکنا“۔ اس دن پوری دنیا بشمول ہندوستان سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مختلف پروگرام کا اہتمام کیا جاتا ہے اورتمباکونوشی سے انسانی صحت پر پڑنے والے بُرے اورمنفی اثرات کے بار ے میں لوگوں کو بیدار کیا جاتا ہے۔
تاہم اس نوعیت کی ہر ممکن کوشش اور پالیسی وضع کئے جانے کے باوجود اس وقت دنیا کی ایک ارب سے زیادہ کی آبادی تمباکو نوشی کی لَت میں مبتلا ہے اور ہندوستان میں تو اس کا تناسب خطرناک حد تک جا پہنچا ہے ۔ دراصل سگریٹ میں پائے جانے والے نکوٹین نامی زہر آلود مادہ انسان کے اعصاب اور ذہن و دماغ پر اس طرح سوار ہوتا ہے کہ اس کا عادی شخص سگریٹ نوشی کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔یہی وجہ ہے کہ ایک کمزور قوتِ ارادی کا حامل شخص کوشش ِبسیار کے باوجود اس لعنت کو ترک نہیں کرپاتا۔
اطباء اور ماہرین نفسانیات کے مطابق تمباکو نوشی کسی انسان کا ایسی منفی اور اختیاری لَت ہے جسے وہ اپنے داخلی طمانیت کے لیے اختیار کرتا ہے۔انسان کی فطرت اس عمل سے بنیادی طور پر ابا ء کرتی ہے ،چنانچہ کسی بھی تمباکو نوشی کے عادی انسان کا پہلا تجربہ نہایت کٹھن اور دشوار ہوتا ہے اوروہ پہلی اسموکنگ کے بعد اپنے نظام ِ تنفس میں پریشانی اور اپنے ذہنی صلاحیت کو ماوٴف محسوس کرتاہے۔ان سب کے پیچ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب وعوامل ہیں جو ہمارے ملک کے نوجوان حتی کہ اب خواتین وطلبا کو بھی اس وبا میں مبتلا کرنے کے ذمہ دار ہیں ۔اس ضمن میں علاقائی پس ِمنظر، عائلی مسائل اور آپسی مصاحبت کو ماہرین تمباکو نوشی کے اہم اسباب شمارکرتے ہیں ۔ تمباکو اور سگریٹ نوشی کے سفر کا آغاز تو اکثر نوجوانوں میں لاپرواہی اور ڈرامائی انداز میں ہوتا ہے۔ ایک شخص اپنے مصاحبوں کی ہم نوائی میں اس لعنت کا سب سے پہلا تجربہ کرتا ہے ،اور پھر اس کا زہر اسے جنون کی حد تک اس کا عادی بنادیتا ہے ،اب وہ اس کے بنا چاہ کر بھی زندہ نہیں رہ سکتا ، بلکہ تمسخر تو یہ کہ سگریٹ وتمباکو نوشی کے ایسے عشاق بھی اس روئے زمین پر پائے جاتے ہیں جنہیں اس کے بغیر فراغت حاصل نہیں ہوتی اور اپنی اس مکروہ عادت سے دوسروں کی ایذا کے موجب بنتے ہیں ۔
ماہرین کے مطابق جہاں کچھ لوگ اپنا غم غلط کرنے اور ذہنی پریشانیاں دُور کرنے کے لیے سگریٹ نوشی کا سہا را لیتے ہیں تو تمباکو نوشی کا عادی ایسا بھی ایک طبقہ ہے جو اپنے آپ کو چست اور ایکٹیو رکھنے،معاملات کو صحیح رُخ میں حل کرنے اور اختراعی عمل کو انجام دینے کے لیے سگریٹ نوشی کو انجام دیتا ہے۔ تاہم تلخ سچائی یہ ہے کہ نشہ کا عادی اپنی باطنی تسکین اور داخلی عارضی خوشی کے حصول کے لیے عمداً اس سماجی لعنت کو اختیار کرتا ہے اوراس کے توسط سے نہ صرف اپنی عطائے خداوندی اور انمول صحت کے ساتھ خیانت کرتا ہے بلکہ اپنی آنے والی نسل اور سماج کے دوسرے افراد کو زندگی کی حقیقی لطف اندوزی سے محرومی کا باعث بھی بنتا ہے۔سگریٹ نوش تو بخوشی اس زہر کو اپنے جسم کے اندر اتار تا ہے ،لیکن اس کے ارد گرد موجود افرااجباری طور پر اس زہر کے شکار ہوتے ہیں اور اپنے اس ناکردہ گناہ کی سزا پانے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ چناچہ WHOکی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب اعداد وشمار کے مطابق پوری دنیا میں ہر سال تقریبا چھ لاکھ افراد دوسرے کی تمباکونوشی کے اثر سے موت کے شکار ہورہے ہیں جویقینا ایک انسانی المیہ ہے اور ماحولیات پر پڑنے والے اس کے دیگر منفی اثرات رہبران ِ عالم کو ایک جامع و موٴثر لائحہٴ عمل کی دعوت دے رہے ہیں۔
عالمی ادارہٴ صحت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سگریٹ اور تمباکو نوشی سے ہر سال تقریبا 60لاکھ لوگ لقمہ ٴ اجل بن جاتے ہیں اور اگر جلد ہی عالمی پیمانے پر اس سماجی لعنت سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوئی ٹھوس کاروائی نہ کی گئی، تو موت کا یہ سودا گر ہر سال 80-90لاکھ لوگوں کو موت کی نیند سلادے گا اور وبا کی شکل میں پوری آبادی کے لیے ایک ناگہانی صورتحال پید کردے گا۔ ڈبلیو ایچ او نے اس سلسلے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔جہاں تک ہندوستان میں تمباکونوشی سے ہونے والے اموات کے اعداد وشمار کی بات ہے توہمارے ملک میں تمباکو نوشی کے خاتمے پر ریسرچ کرنے والی تنظیم ’ ’نیشنل آرگنائزیشن فور ٹوبیکو اراڈیکیشن“ کے جنرل سیکریٹری شیکھر سلکار کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر دن ڈھائی ہزار لوگ تمباکو نوشی کی بنا پر موت کے شکار ہوتے ہیں ،جن میں سرطان، حرکت قلب کا بند ہونا ،دمہ اور برونکائٹس کے مریض شامل ہیں۔جب کہ عالمی ادارہ ٴصحت دہلی شاخ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں عالمی تناسب کے لحاظ سے 12% لوگ تمباکو کی زد میں ہیں اور سرکاری سروے کے مطابق تقریبا 120کروڑہندوستانی کسی نہ کسی نوعیت سے تمباکو کا بے دریغ استعمال کرتا ہے جن میں خواتین ومرد اور نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔ نتیجتاً ہر سال نو لاکھ پچاس ہزارکچھ کم یا زیادہ لوگ اس بنا پر دردناک موت کے شکار ہوتے ہیں۔ کیا یہ کسی ذمہ دار حکومت اورزندہ سماج کے لیے ایک دردناک المیہ سے کم ہے!۔ 2010میں یوپی اے حکومت میں وزارت ِصحت کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملک میں مرنے والے ہر پانچ مرد اور اوربیس خواتین میں میں سے ایک تمباکو کا شکار ہوکر مرتا ہے۔ملک میں بڑھتے ہوئے حرکتِ قلب کے مریضوں کی تعداد جو پوری دنیا کے 60%سے زیادہ ہے، اسی تمباکونوشی اور ماحولیات پر اس کے پڑنے والے تباہ کن اثرات کا ہی ثمرہ ہے۔اگر اب بھی مرکزی اور صوبائی حکومتوں نیزسماجی تنظیموں اور صحتی مراکزنے اس سمت میں کوئی ٹھوس اور سخت قدم نہ اٹھا یا توملک کی ترقی میں آبیاری کرنے والے نوجوانوں کے لیے یہ ایک جانکاہ وبا نہ بن جائے۔
ہمارے ملک میں تمباکو کا استعمال سگریٹ، بیڑی،گٹکھا ،حقہ اور پان کی شکل میں کیا جاتا ہے۔ وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں تمباکو نوش افراد کو ملا کر بیڑی پینے والوں کی تعداد سب سے زیادہ 54فیصدی ہے ، جب کہ سگریٹ کا رواج شہروں میں زیادہ عام ہے اور اس کا تناسب تقریبا 16فیصدی ہے ۔ غورطلب پہلو یہ ہے کہ گٹکھا اور کھینی کا استعمال جن میں عموما نوجوان اور کمزور معیشت کے لوگ مبتلا ہیں،ان کا تناسب 36فیصد سے زیادہ ہے اور یہ صحت کے زاویہ سے سگریٹ سے کہیں زیادہ مضر ہے۔ سروے کے مطابق جموں ۔کشمیر اور اترا کھنڈ کے صوبے سگریٹ نوشی میں سب سے اونچے پائیدان پرہیں۔ماہرینِ کینسر مانتے ہیں کہ منھ،حلق اور پھیپھڑوں کا 90فیصد سرطان تمباکو نوشی کی وجہ سے پھیلتا ہے اور ہر سال ملک کے مختلف علاقوں میں ڈیڑھ سے دو لاکھ لوگ اس طرح کے سرطان کے شکار ہوتے ہیں ۔ ابھی حالیہ ایک موٴقر انگریزی نامے میں چھپی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں امراضِ قلب کے بعد تمباکو نوشی سے جنم لینے والا سرطان سب سے بڑا قاتل ثابت ہورہا ہے اور سال رواں اس کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوتے ہوئے کل مریضوں کی تعداد 1,27168 تک پہنچ چکی ہے جو عالمی تناسب کے حوالے سے سب سے زیادہ ہے ۔ رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اگر تمباکو نوشی کی لعنت پر قابو نہیں پایا گیا تویہ وبا اس حد تک مہلک ثابت ہوگی کہ ہر تین سیکنڈ میں ایک شخص اس کی زد میں آکر موت کا لقمہ بن جائے گا۔رپورٹ میں امراض قلب اور سرطان کے لیے سگریٹ وتمباکو نوشی کو سب سے بڑا سبب قراردیا گیا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ اس لعنت سے انسانی جوہر دماغ، قلب ،نظام تنفس،پھیپھڑے،ہڈیاں اور دیگر اعضاء رئیسہ سمیت پورا سسٹم متاثر ہوتاہے اور قوت مدافعت مفلوج ہوتی چلی جاتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ حالیہ انکشاف کے مطابق پوری دنیا میں تمباکو او رسگریٹ نوشی کرنے والوں میں 60فیصد افراد تعلیم تافتہ
ہیں ۔وکلاء، صحافی، پولس کے شعبے سے وابستہ حتی کہ ڈاکٹر اور معالجین بھی اس عادت میں ملوث ہیں۔حالیہ چند سالوں میں اس خاموش سرطان نے ملک کے طلبا اور کم سن بچوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔اس قطار میں ملک کی خواتین بھی پیچھے نظر نہیں آتیں ۔ وزات صحت کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں دس فیصد سے زیادہ خواتین کسی نہ کسی شکل میں تمباکو نوشی کرتی ہیں اور اس سے ان کی جسمانی و معاشی حالات پر پڑنے والے اثرات نہایت دور رس ثابت ہورہے ہیں ،چنانچہ ایسی خواتین میں عجز جنسی کی بنا پر طلاق کی شرح بھی زیادہ پائی جاتی ہے۔
تمباکو نوشی کی آزادی اور اس حوالے سے قانون کے کردار کے تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے 2005میں WHOکے ساتھ اپنے دیار میں تمباکو اور سگریٹ نوشی پر قابو پانے کے لیے قانونی شراکت کی ۔ اس سے قبل 2003میں ہی پارلیمنٹ COTPAایکٹ پاس کر چکا ہے ۔انسداد تمباکونوشی کے باب میں یہ ایکٹ مرکزی قانون کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے مطابق غیر قانونی طریقے سے نشیلی اشیاء کی خرید و فروخت،اس کی تشہیر اور مخصوص اور حساس عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی قانونا ً جائز نہ ہوگا ۔اس کی روشنی میں تعلیمی ادارے،صحتی مراکز،حکومتی دفاتر اور پبلک ٹرانسپورٹ اسموکنگ فری تسلیم کئے جاتے ہیں اور خلاف ورزی کی صورت میں 200سوروپئے کا جرمانہ بھی لگایا جاتا ہے۔نیز تمباکو والی اشیاء کے پیکٹ پر جلی حروف میں اس کے نقصاندہ ہونے کو بتایا جاتا ہے ۔ موجودہ سرکار نے اس اشتہاری وارننگ کے سائز کو40%سے بڑھاکر 85%کردیا ہے، تاکہ اس اشتہاری قانون کو زیادہ بامعنیٰ بنا یا جاسکے۔ انسداد تمباکو نوشی پر سپریم کورٹ بھی کافی سنجیدہ ہے اور اس کے حالیہ فیصلے تمباکو نوشی کے منفی نتائج کو واضح طور پر اجاگر کرتے ہیں۔ اس کے باجودہ حکومتیں اس حوالے سے اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہیں ہیں اور محض قانون بناکر اپنی ذمہ داری سے سبکدوشی کا احساس دلاتی ہیں؛لیکن نسل ِنو کی تباہی کا سلسلہ تا ہنوز جاری ہے۔
حیرت ہوتی ہے کہ تمباکو نوش ،تمباکو فروش اور برملا سگریٹ کا دھواں اڑاکر دوسروں کو ایذا پہنچانے والے نیزگٹکھا اور پان چبا کرعوامی مقامات کو گندہ کرنے والوں میں موجودہ قانون کے حوالے سے نہ توکسی طرح کا کوئی خوف ہے اور نہ ہی اپنی جسمانی و معاشی تباہی کے سلسلے میں وہ اب تک مطلوبہ حد تک بیدار اور متمدن ہوپائے ہیں ۔طُرّہ تویہ ہے کہ ملک کے چنندہ ممبران پارلیمنٹ میں بھی کچھ ایسے دور اندیش ہیں جو تمباکو نوشی کے انسداد کے لیے اٹھائے جانے والے اقدمات کو ملک کی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں اور انسانی جسم پر پڑنے والے منفی اثرات کا بھی یکسر انکار کردیتے ہیں۔ملک کے طول وعرض میں سگریٹ ،تمباکو،پان اور گٹکھا جیسی مضرِصحت اشیاء نہایت آسانی سے دستیاب ہیں اور عوام کی روز مرہ کی زندگیوں کا حصہ بن چکی ہیں۔اس ضمن میں فلمی ہستیوں کی جانب سے سگریٹ نوشی کے فیشن نے نہایت منفی کردار ادا کیاہے ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ فلمی مناظر اور اس پروفیشن نے ہندوستانی نوجوانوں اور معاشرے کے درمیان تخریبی کردار ہی ادا کیا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہماری اس لعنت کے انسداد کے حوالے سے فعال ول ادا کرے اور کاغذی کاروائی کی جگہ زمینی سطح پر تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن ذرائع کو اختیا کیا جائے ،تاکہ ہندوستان ڈبلیو ایچ او کی جانب سے مطلوبہ مہم میں ایک مثالی ممبر کا کردار ادا کرسکے۔ غورطلب ہے کہ تمباکو کی پیداوار میں چین اور برازیل کے بعدہندوستان تیسرے نمبر پر ہے اور یہاں 96,865رجسٹرڈ تمباکو پیدا کرنے والے کسانوں کے علاوہ لاکھوں کسان غیر قانونی طور پر اس کی کاشت کرتے ہیں اور ملکی معیشت کے فروغ کے نام پر حکومت اس انڈسٹری کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع دے رہی ہے۔حالاں کہ تمباکو نوشی کی لَت سے اس ملک کا جوہر یعنی نوجوان نہ صرف جسمانی طور پر تباہ ہورہا ہے، بلکہ اس کی معاشی صورتحال بھی متاثر ہورہی ہے ۔ نشہ کا عادی شخص اپنی گاڑھی کمائی کا بڑا حصہ تمباکو کی نذر کردیتا ہے۔ مرکزی و صوبائی سرکاریں تمباکو کی کاشت کرنے والے کسانوں کے لیے دوسرے متبادل پیش کرسکتی ہیں تاکہ اُن کی زراعت بھی متاثر نہ ہو اور ہمارا ملک اس مہلک وبا سے آزاد ہونے میں کامیاب ہوسکے۔اس سلسلے میں دوسرا قدم یہ اٹھانا ہوگا کہ تمباکو نوشی سے چھٹکارے میں سرگرم بازآباد کاری سینٹر آج بہت مہنگے ہیں ،انہیں سستا اور عام آدمی کی رسائی کے قابل بنانا ہوگا ۔ڈاکٹر و معالجین و ماہر نفسانیات کو بھی اس حوالے سے اپنے پروفیشنل نظریہ سے ذرا ہٹ کر سوچنا ہوگا اور انہیں خدمت کی نیت سے مثالی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو میڈیا کا سہارا بھی لینا چاہئے ؛ کہ عوام الناس میں کسی امر کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے اور کسی بھی فکر کو لوگوں کی ذہن ودماغ میں اتاردینے میں جمہوریت کے اس چوتھے ستون کی کوئی نظیر نہیں ہے۔
اس موقع پر ہمیں بھی سماجی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگااور تمباکو نوشی کے خلاف معاشرے کے تمام طبقوں کو مشترکہ طور پر ایک موٴثر اور جامع مہم چلانے کی ضرورت ہے جو خصوصا ہماری نوجوان نسل میں اس حوالے سے عملی آگہی پید اکرسکے ، کیوں کہ موجودہ حالات کے تناظر میں تمباکو اور سگریٹ نوش کی تربیت اور ان کی بازآبادکاری کی کوشش کرنا صرف حکومت کے بس کی بات نظر نہیں آتی۔خصوصی طورپر مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنی مفلسی و ناداری کے علی الرغم اس لعنت کا شکار ہے ۔ اُن کے تحفظ وبیداری کے حوالے سے کام کرنا ہمارا دینی وسماجی فریضہ ہے۔ ہمیں خوش اسلوبی سے نوجوانوں کو بتاناہوگا کہ ہمارا جسم اور ہماری صحت اللہ کی دی ہوئی ایک امانت ہے اور تمباکو نوشی کے ذریعہ اس میں خیانت کلی طور جائز نہیں۔قابل ذکر ہے کہ سگریٹ وتمباکو نوشی کوئی ایسا فطری مرض نہیں جس کے لیے ماہرین ِطب کوئی ویکسین اور ٹیکا کاری کا فلسفہ پیش کریں ،بلکہ
سماجی بیداری اور نوجوانوں میں اپنی زندگی کے حوالے سے احساسِ ضیاع کا پیدا کرنا ہی اس لعنت اور خاموش قاتل سے نجات کا تنہا راستہ ہے ۔

تعلیم کا اسلام میں وسیع تر تصور اور ہماری حصولیابیاں

مدثر احمد قاسمی
مضمون نگار مر کز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسر چ سینٹر ممبئی میں لکچرار اور ایسٹرن کریسنٹ ممبئی کے نائب ایڈیٹر ہیں۔

مسجد اقصیٰ کی ایک بار پھر بے حرمتی

مدثر احمدقاسمی
مضمون نگا ر مر کز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ممبئی میں لکچرار اور ایسٹرن کریسنٹ کے نائب ایڈیٹر ہیں۔

دلی میں عام آدمی پارٹی کی فتح: مسلمانوں نے کیا کھویا کیا پایا

مدثر احمد قاسسمی
مضمون نگار مر کز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ممبئی میں لکچرار اور ایسٹرن کریسنٹ کے نائب ایڈیٹر ہیں۔

بابری مسجد پر سیاست

مدثر احمد قاسسمی
مضمون نگار مر کز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ممبئی میں لکچرار اور ایسٹرن کریسنٹ کے نائب ایڈیٹر ہیں۔

کیا 15 شعبان کی کوئی فضیلت ہے؟

مولانا نجیب قاسمی سنبھلی