موجودہ ماحول میں مسلمانوں کے لئے لائحہ عمل

از: فضل حق عارف خیرآبادی استاذ مدرسہ عربیہ منبع العلوم خیرآباد،مئو

ہندوستان کے موجودہ ماحول میں مذہب کے نام پرباہمی منافرت ،ایک دوسرے سے عداوت اور غیراسلامی وغیر فطری حرکات نے پورے ہندوستان کا سکون اور یہاں کی امن و امان کی فضا کو انتہائی مسموم بنا دیا ہے،ہمارا وطن ہندوستان جنت نشان رقابتوں اور عداوتوں کے گرداب بلاخیزمیں پھنساہے ،افتراق وانتشار کے اژدہے انسانوں کی انسانیت کونگلنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، اس خطرناک صورت حال کی بہت بڑی ذمہ دار یہاں کی فرقہ پرست تنظیمیں اورمذہب و ملت کو آلہ بناکر ہندوستانیوں کے جذبات سے کھیلنے والے افراد ہیں، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کو ان ابتر حالات میں اپنے اعمال وکردار اور طرز معاشرت پر بھی غور کرنا چاہئے کہ جس مذہب اور دین کے ہم پیروکار ہیں اس دین اور اس مذہب کو تو الاسلام یعلو ولا یعلی کی تاریخی ضمانت ملی ہوئی ہے ،پھر حالات مسلمانوں کے حق میں کیوں نہیں ہیں؟امن و سکون غاطر کرنے پر اغیار کیوں تلے ہوئے ہیں؟ مسلمانوں اور ان کے مذہب اسلام کو مشقِ ستم کیوں بنایا جارہا ہے؟
حقیقت واقعہ یہ ہے کہ آج کا مسلمان اسلامی تعلیمات کوپس پشت ڈالنے کی وجہ سے اتنابدنام ہوچکاہے کہ سکون وراحت کی ساری راہیں اس پر مسدود ہوگئی ہیں ،اس کا مستقبل تاریک ہی نہیں تاریک ترین نظر آتاہے،ا س کا علاج اغیار کی خوشامد وچاپلوسی اوراعلان ووفاداری نہیں ہے، اس کا علاج اورصحیح علاج قرآن مجید سے عملی طورسے مکمل وابستگی اوراستواری کے سوا کچھ بھی نہیں ،ہر مسلمان بلند اخلاق کاناقابل تسخیر حلقہ بلکہ قلعہ تعمیرکرے اور اپنی مذہبی زندگی سے دوسری قوموں کو یقین دلائے کہ اسکا وجود پورے عالم انسانیت کے لئے مفید اورکارآمد ہے تہذیب وتمدن اورپرسکون ماحول کے لئے مسلمان کا وجود ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے۔
ہندوستان کے موجودہ ماحول کے تناظرمیں نفرت سے نفرت اوردشمنی سے دشمنی پیداہونا ایک بدیہی بات ہے، بقول مولانا محمدعثمان صاحب فارقلیط اس چکر سے نکلنے کے لئے نفرت کو محبت سے اور دشمنی کو دوستی سے بدلنے کی ضرورت ہے ،آگ کا جواب پانی ہے، زہرکا علاج تریاق ہے، اگرکوئی حق ناشناس ہم سے نفرت وعداوت کا معاملہ کرتاہے تو ہم اس سے محبت ویگانگت سے ملیں، جس ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی دنیا کو اخوت ومساوات کا سبق دیاہے اس کی سیرت کو برتنے کی ہم بھرپور کوشش کریں یقینا نفرت کے خارزاروں میں محبت واخوت کے گل وگلزار کھلیں گے۔
ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ سے صرف نظرکرلیاہے،جس ذات والاصفات نے گرتوں کو اٹھایا ،پسماندوں اور بچھڑے ہوؤں کو سنبھالا اگرہم اس ذات والا کی صفات وسیرت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں تو کیامجال کہ نفرت کی سنگلاخ اور پتھریلی زمین سے محبت کے گلاب نہ اگیں، اور نہ کھلیں بقول مولانافارقلیط :
اگرہندوستانی مسلمانوں کو کوئی تاریخی رول اداکرنا ہے تو اس کا ایک عملی پہلو یہ ہے کہ ہم میں ہرفرد وسروں سے شخصی رابطہ اس طرح پیداکرے کہ مقابل کے دل میں اترجائے مقابل کے دماغ میں خود بخود محبت ویگانگت پیداہوجائے گی ،ہم مسلمان اپنے جس برادر وطن کو اپناسب سے بڑا مخالف سمجھیں اس سے محبت انگیز انداز میں ملیں، اس کی غلط فہمیاں از خوددوراورکافور ہوجائیں گی، اور اپنے مدمقابل کو یہ باور کرائیں کہ ہم اس کے حریف نہیں بلکہ حلیف ہیں اور اپنے ہیں ،یہ باہمی ربط وارتباط رقابتوں اورعداوتوں کو دورکرکے محبتوں کی نعمتوں سے ہمکنار کر ے گا، سوچنے اورغور کرنے کی بات یہ ہے کہ اگر بارش کے چھینٹوں سے مردہ زمین میں زندگی آسکتی ہے تو کیاوجہ سے کہ محبت کے چھینٹوں سے مردہ دلوں کو ازسرنو زندگی نہ ملے اورہماری ماسیوں کو امید بھری روشنیاں نہ فراہم ہوں۔
اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہیادفع بالتی ہی احسن فاذ الذی بینک وبینہ عداو کانہ ولی حمیم اے نبی تم بدی کو ایسی نیکی کے ذریعہ دفع کرو جوبہترین ہو ،تم دیکھوگے کہ وہ جس کی تمہارے ساتھ عداوت تھی وہ جگری دوست بن گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی دنیائے انسانیت کے لئے عموما اور اہل اسلام کے لئے خصوصا ایک آئیڈیل اور نمونہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غیرمسلموں سے بہت اعلی اور مستحکم قسم کے تعلقات تھے ،ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک سے اس موضوع سے متعلق نمونہ پیش کررہے ہیں۔
جب آپ صلی اللہ علیہ پرپہلی وحی کانزول ہوا توچونکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کا یہ پہلا سابقہ تھا اس لئے آپ ایک قسم کی گھبراہٹ اور اضطراب میں مبتلا ہوگئے، ڈرے سہمے گھرواپس آئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جو تسلی آمیز کلمات ارشاد فرئے ،وہ قابل غوروتوجہ ہیں ۔
حضرت خدیجہ نے عرض کیا کلا، واللہ لا یختریک اللہ ابدا ،انک لتصل الرحم، وتحمل الکل وتکسب المعدوم وتقری الضیف وتعین علی نوائب الحق
واللہ خداآپ کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا کیوں کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ،آپ مجبوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، آپ بے روز گار روں کے لئے روز گارفراہم کرتے ہیں، مہمانوں کے ضیافت کرتے ہیں، آپ مصیبت زدہ لوگوں کی اعانت کرتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ بالاصفات آپ کی شب وروز کی دمساز وہمراز بیوی بیان کررہی ہیں ظاہرہے یہ سلوک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرمسلموں کے ساتھ برتاتھا جس کا تذکرہ حضرت خدیجہ نے برملاکردیا،یہ اخلاق تو نبوت سے پہلے کے بیان کئے گئے۔
دوسری مثال نبوت کے بعد کی ملاحظہ فرمائی جائے:
اعلا کلم اللہ کے لئے تیرہ سالہ مکی زندگی میں آپ کی تگ ودو اور جہدمسلسل کے باوجودمکہ کی سرزمین مشرکین مکہ نے آپ پرتنگ کردی تو اللہ تعالی نے ہجرت مدینہ کا حکم دیا، ہجرت میں نکلنے سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کوبلاکر وصیت فرمائی، ہم مدینہ جارہے ہیں تم صبح کو کفارومشرکین کی یہ امانتیں ان کے حوالے کرکے مدینہ چلے آنا۔
ظاہرہے یہ امانتیں اہل ایمان اور آپ کے اصحاب کرام کی نہیں تھیں، یہ تو ان لوگوں کی امانتیں تھیں جوآپ کے راستے میں کانٹے بچھایا کرتے تھے، جو آپ کو ممکنہ ایذارسانی میں ذرابھی تامل اوردریغ نہ کرتے تھے، یہ امانتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر، شاعر اور کاہن کہنے والے مخالفین کی تھیں، تمامتر دینی مخالفت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور حسن سیرت پر کتنا اعتماد ان مخالفین کوتھا کہ ایک طرف تو جان سے ماردینے کا فیصلہ کرتے ہیں اوراسی کے پاس اپنی امانتیں بھی رکھ چھوڑی ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی اخلاق کی مثالوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھری ہوئی نظرآئے گی، یہ دومثالیں تونمون پیش کردی گئی ہیں ، اگرہم بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنائیں توکیا مجال ہے کہ ہم اپنے مخالف کو رام کرنے میں کامیاب وبامراد نہ ہوں، اسی لئے یہ عرض کیا گیاہے کہ کمزوری ہماری ہے، قصورہماراہے کہ ہم نے اپنے نبی کی پیروی یکسر پس پشت ڈال دی ہے، ضرورت ہے کہ ہم اخلاقیات ،معاملات اور سماجیات غرض زندگی کے ہر موضوع پر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنا ئیں اورفقط نامی مسلمان نہ بنیں۔
برادر ان وطن سے تعلقات کی استواری پرایک اورسنت نبوی ہماری رہنمائی کررہی ہے لگے ہاتھوں اسے بھی ملاحظہ فرمالیاجائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کچھ ہی قبل کی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زرہ ایک یہودی کے ہاتھ گروی رکھ دی اوریہ بات بالکل واضح اورکھلی حقیقت ہے کہ وہ زمانہ تھاجواسلام اور مسلمانوں کے عروج کا زمانہ ہے، لاکھوں افراد اسلامی پرچم تلے آچکے ہیں، ان میں صاحب ثروت حضرت عثمان بن عفانہیں ،زبردست اورکامیاب ترین تاجر حضرت عبدالرحمن بن عوف ہیں، ان جیسے اور بھی بامروت خوشحال اور فارغ البال متعدد صحابہ کرامموجود ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ ابرو کی دیرتھی بغیر زرہ گروی رکھے بھی مالی ضرورت پوری ہونے میں چشم زدن کی بھی تاخیر نہ ہوتی مگر ایک غیرمسلم سے رابطہ کیوں پیداکیا جارہاہے دیگر مصالح کے ساتھ ایک روشن حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے غیروں سے تعلقات میں استواری اورہمواری ہونی چاہئے تاکہ اسلامی تعلیمات عملی طورپر کارفرماہوسکیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کا مطالعہ کرلیا جائے، قبل ازنبوت ہو یابعد ازنبوت مظلومانہ اوربیکسانہ زندگی ہو یا مقتدرانہ، ازاول تا آخر غیروں سے بھی مخلصانہ،ہمدردانہ اور خوشگوارتعلقات پوری دنیائے انسانیت کے لئے عمومااور مسلمانوں کے لئے ایک اسوہ اور نمونہ ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں! ضرورت اس بات کی ہے کہ تمہاری حکمرانی دلوں پرہوتو کام بنے گا، اسلامی تعلیمات میں انسانیت کی عظمت اورانسانیت کے احترام کے رہنما خطوط متعین کئے گئے ہیں ،ہندوستانی مسلمانوں کے ملکی و ملی مسائل کا صحیح اور درست حل کل بھی اسلامی اقدار روایات کو بحال کرکے ہی ملتا تھا اور آج بھی اسی کی ضرورت ہے ۔
آج ہم پھر سے اسلامی تعلیمات کو عملی جامہ پہنائیں گے تو آپسی دوریاں نزدیکیوں میں تبدیل ہونگی، اوریقینا ہوں گی، تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ سندھ سے جب عرب مسلمان جانے لگے تو وہاں کی رعایا ان مسلمانوں سے اتنی متاثرتھی کہ ان کے جانے پر آبدیدہ ہوگئی، یہ سب اسی وقت ہوگا کہ جب ہم قرآن کو مضبوطی سے تھامیں گے اور قرآن پر عمل بغیرسنت نبوی کو اپنائے نہیں ہوسکتا۔
قرآن پاک کی تعلیمات پر مسلمانوں کے لئے عمل پیرا ہونا اتناہی ضروری ہے جتنا جسم کی بقاکے لئے روح ،بلکہ اس سے زیادہ ضروری، کیونکہ روح تو بالآخر ایک نہ ایک دن جسم سے جدا ہوجاتی ہے مگر قرآن مجید اپنے ماننے اور عمل پیرا ہونے والوں سے کبھی جدانہ ہوگا، قرآن پاک کے اوامرو نواہی کی تعمیل دنیاوی فلاح وبہبود سے ہمکنار کرنے کے ساتھ ساتھ جہان آخرت میں بھی دائمی راحت وسکون سے لطف اندوز ہوتاہے، اور یہ بات قرآن مجید کی بہت سی آیات اوراحادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
ان بشارات کے بعدضروری ہے کہ ہم اپنا عملی رشتہ قرآن مجید سے استوار کریں اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالیں دنیاکی کوئی بھی طاقت بجز قرآن مجید کے مسلمانوں کو زندہ نہیں رکھ سکتی، مسلمانوں کے تحفظ کی گارنٹی صرف اور صرف وہ اسلامی اخلاق واقدارہیں جن کی طرف رہنمائی قرآن پاک نے فرمائی ہے انتم الاعلون ن کنتم مومنینایک دم صریحی اعلان ہے۔