۲۰۱۴ میں مولانا نجیب قاسمی کے شائع شدہ مضامین

۱) امانت: اس کے احکام ومسائل JPG
۱) امانت: اس کے احکام ومسائل PDF
۲) زمین کی پیداوار میں زکوٰۃ یعنی عشر JPG
۲) زمین کی پیداوار میں زکوٰۃ یعنی عشر PDF
۳) ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے JPG
۳) ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے PDF
۴) غروب آفتاب کے وقت چھوٹے بچوں کو باہر نکالنا۔ JPG
۴) غروب آفتاب کے وقت چھوٹے بچوں کو باہر نکالنا۔ PDF
۵) ۲ عبرتناک واقعے (جھوٹ نہیں بولنا اور قرض کی ادائیگی وقت پر)۔ JPG
۵) ۲ عبرتناک واقعے (جھوٹ نہیں بولنا اور قرض کی ادائیگی وقت پر)۔ PDF
۶) بے وضو قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں۔ JPG
۶) بے وضو قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں۔ PDF
۷) صلاۃ التسبیح: اہمیت وفضیلت ا ور پڑھنے کا طریقہ JPG
۷) صلاۃ التسبیح: اہمیت وفضیلت ا ور پڑھنے کا طریقہ PDF
۸) رمضان اور روزہ سے متعلق سوالات کے جوابات (نیت اور افطار کی دعا وغیرہ کے مسائل) JPG
۸) رمضان اور روزہ سے متعلق سوالات کے جوابات (نیت اور افطار کی دعا وغیرہ کے مسائل) PDF
۹) جنبی اور حائضہ عورت کے لئے قرآن کی تلاوت ناجائز JPG
۹) جنبی اور حائضہ عورت کے لئے قرآن کی تلاوت ناجائز PDF
۱۰) ماہِ رمضان المبارک کا آخری عشرہ JPG
۱۰) ماہِ رمضان المبارک کا آخری عشرہ PDF
۱۱) دعا مؤمن کا عظیم ہتھیار JPG
۱۱) دعا مؤمن کا عظیم ہتھیار PDF
۱۲) مریض کی نماز کا حکم JPG
۱۲) مریض کی نماز کا حکم PDF
۱۳) نماز اور خطبہ صرف عربی زبان میں JPG
۱۳) نماز اور خطبہ صرف عربی زبان میں PDF
۱۴) جمعہ مبارک کہنا JPG
۱۴) جمعہ مبارک کہنا PDF
۱۵) اسلام کے پانچویں رکن یعنی حج کی اہمیت اور فضیلت JPG
۱۵) اسلام کے پانچویں رکن یعنی حج کی اہمیت اور فضیلت PDF
۱۶) کیا اونٹ کے دودھ وپیشاب سے علاج کیا جاسکتا ہے؟ JPG
۱۶) کیا اونٹ کے دودھ وپیشاب سے علاج کیا جاسکتا ہے؟ PDF
۱۷) ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اور قربانی کے احکام ومسائل JPG
۱۷) ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اور قربانی کے احکام ومسائل PDF
۱۸) حج سے متعلق خواتین کے خصوصی مسائل JPG
۱۸) حج سے متعلق خواتین کے خصوصی مسائل PDF
۱۹) حجاج کرام کی بعض غلطیاں JPG
۱۹) حجاج کرام کی بعض غلطیاں PDF
۲۰) حج کرام کے لئے ۱۰ ذی الحجہ کے اعمال میں ترتیب JPG
۲۰) حج کرام کے لئے ۱۰ ذی الحجہ کے اعمال میں ترتیب PDF
۲۱) مسائل رمی جمرات (جمرات پر کنکریاں مارنے کے مسائل) JPG
۲۱) مسائل رمی جمرات (جمرات پر کنکریاں مارنے کے مسائل) PDF
۲۲) طواف اور سعی کے احکام ومسائل JPG
۲۲) طواف اور سعی کے احکام ومسائل PDF
۲۳) سفر مدینہ منورہ (زیارت مسجد نبوی وروضۂ اقدس جناب رسول اللہ ﷺ) JPG
۲۳) سفر مدینہ منورہ (زیارت مسجد نبوی وروضۂ اقدس جناب رسول اللہ ﷺ) PDF
۲۴) حج قران میں طواف اور سعی کی تعداد JPG
۲۴) حج قران میں طواف اور سعی کی تعداد PDF
۲۵) مکہ مکرمہ کے تاریخی مقامات JPG
۲۵) مکہ مکرمہ کے تاریخی مقامات PDF
۲۶) مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات JPG
۲۶) مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات PDF
۲۷) ` شریعت اسلامیہ میں نماز قضاء کا حکم JPG
۲۷) ` شریعت اسلامیہ میں نماز قضاء کا حکم PDF
۲۸) غسل کے احکام ومسائل JPG
۲۸) غسل کے احکام ومسائل PDF
۲۹) علم کی روشنی، مدارس کا نصاب اور خدمات JPG
۲۹) علم کی روشنی، مدارس کا نصاب اور خدمات PDF
۳۰) مرتد کی سزا قرآن وحدیث کی روشنی میں JPG
۳۰) مرتد کی سزا قرآن وحدیث کی روشنی میں PDF

Mohamamd Najeeb Qasmi

http://www.najeebqasmi.com/

دارالعلوم دیوبند: تجدیدِ دین کی عالم گیر تحریک

از: مولانا محمد اللہ قاسمی

انیسویں صدی عیسوی میں یوروپی استعمار کی چیرہ دستیوں اور پوری دنیا خصوصاً عالمِ اسلام پر تصرف اور قبضہ سے ایک عالمگیر سیاسی، سماجی اور دینی بحران پیدا ہوچکا تھا۔ یوروپی استعمار اپنے ساتھ عیسائیت اور الحاد وبے دینی کا ایک سیلاب بلا خیز بھی ساتھ لا رہا تھا۔ پورے عالمِ اسلام کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ اس وقت مسلمانوں کی قوتِ فکر و عمل مفلوج ہو کر رہ گئی تھی اور انڈونیشیا سے مراکش تک کے طول وعرض میں کوئی قابلِ ذکر تحریک موجود نہ تھی، جو اس نازک صورتِ حال میں مغربی استعمال اور الحاد کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہوجاتی۔ ایسے نازک دور اور عالمگیر سناٹے میں پہلی آواز دیوبند سے اٹھی جو اگرچہ ابتدا میں ہلکی اورنحیف تھی؛ لیکن آہستہ آہستہ وہ الحاد و بے دینی اور ظلم وبربریت کے سناٹے کو چیرتی چلی گئی اور نصف صدی کے اندر اندر پوری دنیا میں اس کا ڈنکا بجنے لگا:

تا ابد گوشِ جہاں زمزمہ زا خواہد بود

زیں نواہا کہ دریں گنبدگردوں زدہ ایم

عالمِ اسلام کی موٴثر ترین دینی تحریک

یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی حیاتِ اجتماعی کی نشاةِ ثانیہ کی تاریخ میں دارالعلوم کی مسلسل تعلیمی اور تبلیغی جد و جہد کا بڑا حصہ ہے۔ دارالعلوم کی طویل زندگی میں حوادث کے کتنے ہی طوفان الٹے او رحالات و سیاسیات میں کتنے ہی انقلاب آئے؛ مگر یہ ادارہ جن مقاصد کو لے کر عالمِ وجود میں آیا تھا، انتہائی استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ ان کی تکمیل میں سرگرم عمل رہا۔ فکر و خیال کے ان ہنگاموں اور فتنہٴ مغرب میں ڈوبی ہوئی تحریکوں کے دور میں اگر بالعموم مدارس عربیہ اور بالخصوص دارالعلوم جیسے ادارے کا وجود نہ ہوتا تو نہیں کہا جاسکتا کہ آج مسلمان جمود وبے حسی کے کس گردابِ عظیم میں پھنسے ہوئے ہوتے۔ ارشاد و تلقین، تبلیغ و تذکیر، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ خلق کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں دارالعلوم کے فضلامصروفِ عمل نہ ہوں اور ملتِ اسلامیہ کی اصلاح و تربیت میں انھوں نے اہم کردار ادانہ کیا ہو، دعوت و ارشاد اور وعظ و تبلیغ کے بڑے بڑے جلسوں کی رونق اس وقت بر صغیر میں دارالعلوم ہی کے گرامی قدر علماء کے دم سے قائم ہے۔ بڑے بڑے مدارس اسلامیہ کی مسند تدریس کی زینت آج یہی اصحاب ہیں۔

دارالعلوم دیوبند صرف ایک تعلیم گاہ ہی نہیں؛ بلکہ درحقیقت ایک مستقل تحریک اور تجدید دین کا مرکز ہے جس سے ہندو پاک اور بنگلہ دیش کے علاوہ پورے ایشیا، مشرقی و جنوبی افریقہ اور یورپ و امریکہ کے کروڑہا کروڑ مسلمان وابستہ ہیں اور اسے اپنا علمی و فکری مرکز سمجھتے ہیں۔ الحمدللہ دارلعلوم دیوبند کا علمی و فکری فیض ایشیا سے گزر کر افریقہ، یورپ اور امریکہ تک پہنچ چکا ہے۔ان علاقوں میں دارالعلوم کے فیض یافتہ افراد دینی و علمی خدمات انجام دے رہے ہیں اور مرکزی شہروں میں دارالعلوم کے طرز پر اسلامی درس گاہیں کھل چکی ہیں۔

برصغیر میں احیائے اسلام کا مرکز

دارالعلوم دیوبند نے برصغیر کے مسلمانوں کی دینی زندگی میں ان کو ایک ممتاز مقام پر پہنچانے کا بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، یہ نہ صرف ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارہ ہے؛ بلکہ ذہنی نشو و نما، تہذیبی ارتقا اور ملّی حوصلہ مندیوں کا ایک ایسا مرکز بھی ہے جس کے صحیح علم، بلند کردار اور نیک نیتی پر مسلمانوں کو ہمیشہ بھروسہ اور فخر رہا ہے۔ جس طرح عربوں نے ایک زمانے میں یونانیوں کے علوم کو ضائع ہونے سے بچایا تھا ٹھیک اسی طرح دارالعلوم دیوبند نے اس زمانے میں علومِ اسلامیہ اور بالخصوص علم حدیث کی جو گراں قدر خدمت انجام دی ہے وہ اسلام کی علمی تاریخ میں ایک زریں کارنامے کی حیثیت رکھتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے ہندوستان میں نہ صرف دینی علوم اور اسلامی قدروں کی بقا و تحفظ کے زبردست اسباب فراہم کیے ہیں؛ بلکہ اس نے تیرہویں صدی ہجری کے اواخر اور چودہویں صدی کی معاشرتی اور سیاسی زندگی پر بھی بہت دوررس اور نتیجہ خیز اثرات ڈالے ہیں۔

ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد جب انگریزوں نے اپنے سیاسی مصالح کے پیش نظر اسلامی علوم و فنون کی قدیم درسگاہوں کو یکسر ختم کردیا تھا، اس وقت ضرورت تھی کہ نہ صرف اسلامی علوم و فنون اور اسلامی تہذیب کی بقا کے لیے؛ بلکہ مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لیے ایک تحریک شروع کی جائے جو مسلمانوں کو الحاد و بے دینی کے فتنہٴ عظیم سے محفوظ رکھ سکے۔ اس وقت اسلام کے تحفظ کی تمام ذمہ داری علمائے کرام کے کاندھوں پر تھی؛ کیوں کہ اسلامی حکومت کا شیرازہ بکھر چکا تھا ۔ خدا کا شکر ہے کہ علمائے کرام نے اپنا فرض انجام دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور مسلمانوں کی تمام توقعات دارالعلوم دیوبند کے ذریعہ بدرجہٴ اتم پوری ہوئیں۔

دارالعلوم دیوبند سے جو افراد فارغ ہوئے انھوں نے تعلیم و تبلیغ، تزکیہٴ اخلاق، تصنیف و تالیف، فقہ و فتاویٰ، مناظرہ وخطابت ، صحافت و تذکیر اور حکمت و طب وغیرہ میں جو بیش بہا خدمات انجام دی ہیں، وہ کسی مخصوص خطے میں محدود نہیں ہیں؛ بلکہ ہندو پاک کے ہرہر خطہ کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی پھیل چکی ہیں۔ دارالعلوم نے اپنے یومِ قیام سے اب تک برصغیر کے کونے کونے اور دنیا بھر کے مرکزی اور بڑے شہروں میں اپنے فرزندانِ رشید کو پہنچادیا ہے جو پورے خطے میں آفتاب و ماہتاب بن کر چمک رہے ہیں اور مخلوقِ خدا کو ظلمت و جہل سے نکال کر نورِ علم سے مالامال کررہے ہیں۔

دارالعلوم دیوبند نے جہاں ایک طرف مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لیے صحیح الفکر علماء و فضلاء پیدا کیے، وہیں مدارسِ اسلامیہ کے وسیع نظام کے ساتھ دین و اسلام کی اشاعت کا سامان بھی پیدا کیا۔ برصغیر کی پچھلی ڈیڑھ سو سالہ دینی و سماجی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ برصغیر کے مسلمانوں کی زندگی میں سب سے زیادہ مثبت اثر دارالعلوم کی تحریک سے پیدا ہوا ہے اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں سب سے زیادہ حصہ علمائے دیوبند کی علمی و دینی کوششوں کا ہے۔

عالمی دینی تعلیمی تحریک کا مرکز

ہندوستان میں برطانوی نظامِ تعلیم کے جاری ہونے کے بعد جب یہاں ایک نئی تہذیب اور نئے دور کا آغاز ہورہا تھا تو اس نازک وقت میں دارالعلوم کے اکابر نے دینی تعلیم اور مدارسِ اسلامیہ کے قیام کی تحریک شروع کردی، خدا کے فضل و کرم سے ان کی تحریک مسلمانوں میں مقبول ہوئی؛ چنانچہ برصغیر میں جگہ جگہ دینی مدارس جاری ہوگئے اور ایک وسیع جال کی شکل میں روز بروز وسعت پذیر رہے۔بہت ہی قلیل مدت میں دارالعلوم کی شہرت بامِ عروج کو پہنچ گئی اور بہت جلد دارالعلوم نہ صرف ہندوستان ، پاکستان، بنگلہ دیش؛ بلکہ افغانستان، وسط ایشیا، انڈونیشیا، ملیشیا، برما، تبت، سیلون اور مشرقی و جنوبی افریقہ، یورپ ، امریکہ و آسٹریلیا کے ممالک کے مسلمانوں کے لیے ایک بین الاقوامی دینی تعلیم کی تحریک کا مرکز بن گیا۔

اس وقت سے لے کر اب تک برصغیر کے طول و عرض میں بحمداللہ بے شمار دینی مدارس جاری ہوچکے ہیں، اور روز بروز ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ حتی کہ جو مدرسے دارالعلوم کے مزاج و مذاق سے ہٹے ہوئے ہیں یا دارالعلوم کے نصابِ تعلیم کی اتباع نہیں کرتے ہیں، ان کا نظام بھی دارالعلوم کے وضع کردہ بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج برصغیر میں جس قدر بھی دینی مدارس نظر آتے ہیں ان میں سے بیشتر وہی ہیں جو دارالعلوم دیوبند کے نقشِ قدم پر یا اس کے قائم کردہ اثرات سے جاری ہوئے ہیں؛ اس طرح دارالعلوم دیوبند کا وجود اسلام کی جدید تاریخ میں ایک عہد آفریں حیثیت رکھتا ہے، اور یہیں سے اس وقت پورے برصغیر میں دینی تعلیم گاہوں کا جال پھیلا ہوا ہے۔ہندوستان میں موجود مدارس کا کوئی حتمی اعدا و شمار موجود نہیں؛ تاہم چھوٹے بڑے مدارس کی تعداد ایک اندازے کے مطابق دس ہزار سے زائد ہے۔ یہ تعداد ان لاکھوں مکاتب کے علاوہ ہے جو تقریباً ہر مسجد اور مسلم محلہ میں قائم ہوتے ہیں۔

ہندوستان کے علاوہ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے چپے چپے میں بھی اسی نہج پر ہزاروں مدرسے قائم ہیں، جن کے بڑے مدرسوں میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔پاکستان میں وفاق المدارس کے تحت دس ہزار کے قریب مدراس کا متحدہ پلیٹ فارم بھی قائم ہے جن میں اکثریت دیوبندی مدارس کی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی دینی مدارس ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ ہند و پاک اور بنگلہ دیش کے علاوہ برصغیر کے قریب دیگر ملکوں جیسے مشرق میں برما، شمال میں نیپال، مغرب میں افغانستان و ایران اور جنوب میں سری لنکاوغیرہ میں بھی کافی مدارس دارالعلوم کے طرز پر قائم ہیں۔ ان مدارس سے ہزاروں علماء ہر سال فارغ ہوکر معاشرہ میں علم کی روشنی پھیلاتے ہیں۔ براعظم افریقہ کے جنوبی ملکوں خصوصاً ساؤتھ افریقہ میں دارالعلوم کے طرز کے سیکڑوں چھوٹے بڑے مدارس قائم ہیں۔ اسی طرح بر اعظم یورپ میں خصوصاً برطانیہ میں متعدد بڑے دارالعلوم اور مدارس قائم ہیں ۔ بحر انٹلانٹک کے اس پار ریاستہائے متحدہ امریکہ ، کناڈا اور ویسٹ انڈیز میں بھی دارالعلوم قائم ہوچکے ہیں اور دارالعلوم کے نہج پر علوم دینیہ کی تدریس و اشاعت میں مشغول ہیں۔ دوسری طرف مشرق میں آسٹریلیا،فیجی، نیوزی لینڈوغیرہ میں بھی الحمد للہ دارالعلوم دیوبند کے نہج پر مدارس قائم ہیں۔

دفاعِ اسلام کا مضبوط قلعہ

دین اسلام کے بنیادی عقائد کی حفاظت ، اسلامی افکار و روایات کی پاسداری اور تمام فرقِ باطلہ اور افکارِ فاسدہ سے اسلام کا دفاع دارالعلوم دیوبند کے اکابر اور فضلاء کا طغرائے امتیاز رہا ہے۔ ہندوستان میں برطانوی استعمار کی نحوست سے مسلمانوں کو نت نئے فتنوں سے واسطہ پڑا، اسلام دشمن طاقتوں نے مسلمانوں میں افتراق و انتشار پیدا کرنے کے لیے باطل افکار و فرق کو خوب خوب پھلنے پھولنے کا موقع دیا۔ خود مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت زوالِ اقتدار کے ساتھ دینی و اخلاقی زوال سے دو چار تھیں ۔ مسلمانوں کے عقائد و افکار میں تزلزل اور اضطراب پیدا ہوچکا تھا۔ اس نازک دور میں جب مسلمان سیاسی جنگ ہار چکا تھا، ایک طرف عیسائیت پوری قوت کے ساتھ حملہ آور تھی، آریہ سماج اور ہندوؤں کی یلغار تھی، تو دوسری طرف خود مسلمانوں کی صفوں سے ایسے افراد اور جماعتیں جنم لے رہی تھیں جو مختلف زاویوں سے اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگی تھیں۔

دارالعلوم دیوبند اپنے روزِ قیام سے اب تک اسلام کے دفاع میں تمام فرقِ باطلہ و افکار فاسدہ کے خلاف سدِ سکندری کی طرح ڈٹا رہا اور حدیث مبارک: یَحْمِلُ ہَذَا الْعِلْمَ مِنْ کُلِّ خَلْفٍ عَدُوْلُہ یَنْفَوْنَ عَنْہُمْ تَحْرِیْفَ الْغَالِیْنَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِیْنَ وَ تَأوِیْلَ الْجَاہِلِیْنَ، طبرانی (ہر آئندہ نسل میں سے اس علم کے حامل ایسے عادل لوگ ہوتے رہیں گے جو اس سے غلو کرنے والوں کی تحریف، باطل پرستوں کے غلط انتساب اور جاہلوں کی تاویل کو دور کرتے رہیں گے) کے مطابق دینی عقائد و تعلیمات کا بھرپور دفاع کیا اور قرآن وحدیث اور صحابہ و سلف سے آنے والے متوارث دین کو اس کی اصلی حالت میں نئی نسلوں تک پہنچایا۔ علمائے دیوبند کو اس فرض کی انجام دہی میں مختلف محاذوں پر بیک وقت لڑنا پڑا۔

عیسائیت کا مقابلہ: ہندوستان پر انگریزی تسلط کے بعد عیسائی مشنری برصغیر میں اس زعم سے داخل ہوئی کہ وہ ایک فاتح قوم ہیں، مفتوح قومیں فاتح قوم کی تہذیب کو آسانی سے قبول کرلیتی ہیں۔ انھوں نے پوری کوشش کی کہ مسلمانوں کے دل و دماغ سے اسلام کے تہذیبی نقوش مٹادیں یا کم از کم انھیں ہلکا کردیں؛ تاکہ بعد میں انھیں اپنے اندر ضم کیا جاسکے اور اگر وہ عیسائی نہ بن سکیں تو اتنا تو ہو کہ وہ مسلمان بھی نہ رہ جائیں۔اس محاذ پر دارالعلوم اور اکابرِ دیوبند نے عیسائی مشنری اور مسیحی مبلغین سے پوری علمی قوت سے ٹکر لی اورنہ صرف علم و استدلال سے ان کے حملے پسپا کردیے؛ بلکہ عیسائی تہذیب اور ان کے مذہبی ماخذ پر کھلی تنقید کی، اس سلسلے میں حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی خدمات سے علمی دنیا اچھی طرح واقف ہے۔

ہندو احیاء پرستی کا مقابلہ: غیر منقسم ہندوستان کی غالب اکثریت ایسے مسلمانوں کی ہے جن کے آباء واجداد کسی زمانے میں ہندو تھے۔ انگریزوں نے سیاسی اقتدار پر تسلط جما لینے کے بعد یہاں کے ہندوؤں کو اکسایا کہ یہ مسلمان جو کسی زمانہ میں تمہاری ہی قوم کے ایک حصہ تھے؛ اس لیے اپنی عددی قوت کو بڑھانے کے لیے انھیں دوبارہ ہندو بنانے کی کوشش کرو؛ چناں چہ انگریزوں کی خفیہ سرپرستی میں ”آریہ سماج“ کے ذریعہ مسلمانوں کو مرتد کرنے کی تحریک پوری قوت سے شروع ہوگئی۔اسلام کے خلاف اس فکری محاذ پر حالات سے ادنیٰ مرعوبیت کے بغیر اکابر دارالعلوم نے اسلام کا کامیاب دفاع کیا۔ تقریر و تحریر، بحث و مناظرہ اور علمی و دینی اثر و نفوذ سے اس ارتدادی تحریک کو آگے بڑھنے سے روک دیا؛ بالخصوص علمائے دیوبند کے سرخیل اور قائد و امام حضرت حجة الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی نے اس سلسلے میں نہایت اہم و موٴثر خدمات انجام دیں، برصغیر کی مذہبی و سماجی تاریخ کا ہر معمولی طالب علم حضرت موصوف کی ان خدماتِ جلیلہ سے پوری طرح واقف ہے۔تقسیمِ ہند کے قیامت خیز حالات میں جب کہ برصغیر کا اکثر حصہ خون کے دریا میں ڈوب گیا تھا، اس ہولناک دور میں بھی شدھی و سنگٹھن کے نام سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی ایمان سوز تحریک برپا کی گئی۔ اس موقع پر بھی علمائے دیوبند وقت کے خونی منظر سے بے پروا ہوکر میدان میں کودپڑے اور خدائے رب العزت کی مدد و نصرت سے ارتداد کے اس سیلاب سے مسلمانوں کو بحفاظت نکال لے گئے۔

قادیانیت کا مقابلہ: الحمدللہ علمائے دیوبند کو یہ فخر حاصل ہے کہ جب ختمِ نبوت کے اس عظیم بنیادی عقیدہ پر یلغار کی گئی اور انگریز کی خانہ ساز نبوت مسلمانوں کوارتداد کی دعوت دینے لگی تو علمائے دیوبند سب سے پہلے پوری قوت کے ساتھ میدان میں آئے اور مسلمانوں کو اس ارتدادی فتنہ سے خبردار کیا۔ اکابر دارالعلوم اور اساطین علمائے دیوبند میدان میں نکلے اور اپنی گراں قدر علمی تصانیف، موثر تقاریر اور لاجواب مناظروں سے انگریزی نبوت کے دجل و فریب کا اس طرح پردہ چاک کیا اور ہر محاذ پر ایسا کامیاب تعاقب کیا کہ اسے اپنے مولد منشاء لندن میں محصور ہوجانا پڑا۔ علمائے دیوبند کے علمی و فکری مرکز دارالعلوم دیوبندکی زیر نگرانی حریمِ ختم نبوت کی پاسبانی کی یہ مبارک خدمت پوری توانائیوں کے ساتھ آج بھی جاری و ساری ہے۔

شیعیت کا مقابلہ: دارالعلوم ایک ایسے وقت میں قائم ہوا؛ جب کہ انگریزوں نے لکھنوٴ کی شیعی حکومت کا ۱۸۵۷ء میں الحاق کرکے اس کا وجود مٹادیا تھا؛ لیکن اودھ کی شیعی حکومت اورسلطنتِ مغلیہ میں ان کے گہرے اثرات کی وجہ ان کے مذہبی عقائد کی چھاپ پورے ہندوستان پر پڑ گئی تھی۔ پورے ہندوستان میں شیعی عقائد اور ان کے مشرکانہ رسوم غیر شیعہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں اس قدر رچ بس گئے تھے کہ اگر ان کو صحیح طور پر کلمہٴ شہادت بھی ادا کرنا نہ آتا ہو؛ مگر وہ تعزیہ داری اور اس کے ساتھ عقیدت مندی کا والہانہ جذبہ سینوں میں موج زن رکھتے تھے اور اس کو اپنے مسلمان ہونے کی سند سمجھتے تھے۔ حیرت ناک بات یہ تھی کہ شیعہ اتنے بڑے ملک میں سنیوں کے مقابل میں مٹھی بھر تھے؛ لیکن کروڑوں اہل السنة والجماعة مسلمانوں کے دلوں میں شیعوں نے اپنے سارے عقائد و مراسم، جذبات و خیالات کی چھاپ ڈال دی تھی اور پورے ہندوستان کو شیعیت کے رنگ میں رنگ دیا تھا۔ علمائے دیوبند کا یہ قابلِ فخر کارنامہ ہے کہ انھوں نے برصغیر کو شیعوں کے ہمہ گیر اثرات سے پاک کیا اور اہل السنة والجماعة کے عقائد و افکار کی حفاظت و اشاعت کا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا۔ علمائے دیوبند نے کتابوں، فتاوی اور بیانات کے ذریعہ امتِ مسلمہ کی بھر پور رہ نمائی فرمائی۔

شرک و بدعت کا مقابلہ: یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام جب ہندوستان پہنچا تو یہاں کی قدیم تہذیب و تمدن، رسم و رواج، طور و طریق، ذہن و مزاج اور مذہبی تعلیمات و روایات پر اس نے زبردست اثر ڈالا؛ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ہندو تہذیب نے بھی مسلم تہذیب کو کم متاثر نہیں کیا ہے۔ یہ اثرات مسلم سماج میں اس طرح پیوست ہوکر رہ گئے کہ آج یہ احساس بھی مٹ گیا کہ یہ رسم و رواج اور طور و طریق اسلامی معاشرہ میں غیر مسلموں سے آئے ہیں۔ یہی نہیں؛بلکہ علمائے سو نے دنیا کمانے کے لیے شرک و بدعت کی تائید میں سامنے آگئے اور انھوں نے مستقل فرقہ کی شکل اختیار کرلی۔ علمائے دیوبند نے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کا فرض پوری دیانت داری سے ادا کرتے ہوئے پورے ملک میں اہلِ بدعت کا مقابلہ کیا، ان سے مناظرے کیے اور عوام پر حق واضح کیا۔اس سلسلہ میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوری، حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی وغیرہ نے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں اور ان کے اخلاف کے ذریعہ اصلاحِ عقائد و اعمال کا یہ مبارک سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر مقلدیت کا مقابلہ: تاریخ شاہد ہے کہ ہندوستان کی تقریباً تمام اہم مسلم حکومتوں نے مذہبِ حنفی کا اتباع کیا اور فقہِ حنفی ہی تمام قوانین و ضوابط کی بنیاد بنا رہا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی غالب اکثریت مذہبِ حنفی کی پابند تھی۔ پوری مسلم تاریخ میں تقلید سے انحراف، اسلامی روایات سے بغاوت اور سلفِ صالحین سے نفرت و کدورت کا کوئی قابلِ ذکر ثبوت نہیں ملتا؛ لیکن آخری زمانے میں جب سلطنتِ مغلیہ رو بہ زوال تھی اور ہندوستان میں انگریزوں کے ناپاک قدم پڑ چکے تھے، اس وقت نت نئی جماعتوں نے جنم لینا شروع کیا۔ عدمِ تقلید کا فتنہ بھی اسی تاریک زمانے کی پیداوار تھا ۔ اس فرقہ نے بالکل خارجیوں جیسا طریقہٴ کار اپناکر نصوص فہمی کے سلسلہ میں سلفِ صالحین کے مسلَّمہ علمی منہاج کو پسِ پشت ڈال کر اپنے علم و فہم کو حق کا معیار قرار دے کر اجتہادی مختلف فیہ مسائل کو حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کے درجہ میں پہنچادیا، اور فرد و طبقہ جو اُن کی اس غلط فکر سے ہم آہنگ نہیں تھا، اس کو وہ ہدایت سے عاری، مبتدع، ضال و مضل، فرقہٴ ناجیہ؛ بلکہ دینِ اسلام سے ہی خارج قرار دے دیا۔علمائے دیوبند نے عمل بالحدیث کے نام سے اباحیت، ذہنی آزاد ی اور ہویٰ پرستی کے اس فتنہ کا بھرپور مقابلہ کیا اور غیر مقلدین کے ذریعہ اٹھائے گئے مسائل پر ان حضرات نے عظیم الشان تحقیقی مواد یکجا کردیا۔پچھلی دہائیوں میں عالم عرب خصوصاً سعودی عرب میں تیل کی دولت کے ظہور کے بعد جب اس فتنے نے دوبارہ نہایت شد و مد کے ساتھ بال و پر نکالنے شروع کیے اور عرب کی سلفی و وہابی تحریک سے ہم آہنگ ہو کر اور وہاں سے مالی امداد پا کر ہندوستان میں دوبارہ افتراق بین الامت کی کوششیں شروع کیں تو پھر علمائے دیوبند میدان میں آگئے اور انھوں نے علم و تحقیق کی سطح پر غیر مقلدین کی ہفوات کا جواب دینے کے ساتھ پورے ملک میں جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ عوام کو اس فتنہ سے باخبر کیا۔

نیچریت اور غیر اسلامی افکار و خیالات کا مقابلہ: اٹھارہویں صدی میں یورپ سے اٹھنے والے اقتصادی اور سائنسی انقلاب میں جہاں سماجی و سیاسی اور تجارتی و اقتصادی سطح پر بہت ساری مثبت تبدیلیاں وجود میں ا ٓئیں، وہیں مذہبی دنیا میں اس نے کہرام بپا کر دیا۔ یورپ کا سائنسی انقلاب در اصل مذہب یعنی عیسائیت سے بغاوت ہی کے بعد وجود میں آیا تھا؛ کیوں کہ عیسائیت علم و سائنس کی ترقیات کے راستے میں رکاوٹ تھی۔ یورپ کے مذہب بیزار انقلابیوں نے بالآخر مذہب کو فعال اور معاشرتی زندگی سے نکال کر، اسے چرچوں اور انفرادی زندگیوں تک محدود کردیا۔ مذہب کو ناکارہ، فرسودہ اور از کاررفتہ سمجھ کر زندگی کے ہر گوشے کو سیکولزم (لامذہبیت یا مذہب بیزاری) اور تعقل کے پہلو سے دیکھنے اور پرکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ مسلمانوں میں پیدا ہونے والے اس عقل پرست نے جہاں ایک طرف جدید معتزلہ اور نیچری پیدا کیے، وہیں اسی فکر کے پیٹ سے انکار حدیث کے فتنہ نے جنم لیا۔ اخیر زمانے میں تجدید پسندی اور مودودیت بھی اسی فکر کا شاخسانہ تھے۔ علمائے دیوبند نے مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت اور اسلامی حدود کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے ان باطل افکار و خیالات سے بھی ٹکر لی۔ انھوں نے دین کے صحیح فہم، اسلامی اصطلاحات و روایات کی سلیم تعبیر اور ہر دور میں اسلامی تعلیمات کی ابدی حقانیت و معنویت کو ثابت کیا۔

ان تمام تحریکات کے علاوہ جب بھی کسی فرد یا جماعت نے ما انا علیہ واصحابی کے جادہٴ مستقیم سے انحراف کیا اور ملتِ اسلامیہ کے اندر غلط افکار و نظریات کے سرایت کر جانے کا اندیشہ ہوا تو دارالعلوم کی جانب سے ہمیشہ ان پر نکیر کی گئی۔ غلط عقائد کا سدِ باب کیا گیا اور اس کی جگہ صحیح و متوارث اسلام پیش کرنے کی خدمات انجام دی گئیں۔ علمائے دیوبند کی انھیں مبارک کوششوں سے الحمد للہ! آج ہندوستان میں دینِ اسلام اپنی پوری صحیح شکل میں نہ صرف موجود ہے؛ بلکہ مدارسِ اسلامیہ، جماعتِ تبلیغ اور دینی اداروں کی برکت سے آج ہندوستان عالم اسلام کے اندر مستند دینی تعلیمات اور صحیح اسلامی روایات کے تحفظ و اشاعت میں سب سے ممتاز نظر آتا ہے۔

مرکزِ تجدید و احیائے دین

انیسویں صدی کے استعماری دور میں اکابرِ دیوبند نے اپنی علمی و دینی بصیرت سے اس حقیقت کا پورا ادراک کرلیا کہ سماجی و اقتصادی تبدیلیاں جب اقتدار کے زیر سایہ پروان چڑھتی ہیں تو دینی و روحانی قدروں کی زمین بھی ہل جاتی ہے، اس باب میں عثمانی ترکوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ترک قوم مغربی تہذیب کے طوفان میں اپنے آپ کو سنبھال نہ سکی اور مصطفی کمال کی قیادت میں اپنے ماضی سے کٹ گئی جس کا نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ ترک اسلامی تہذیب، مغربیت میں فنا ہوگئی اور ایک عظیم اسلامی سلطنت کا صفحہٴ ہستی سے وجود ختم ہوگیا۔الغرض! تہذیبِ اسلام کے لیے یہ نہایت نازک وقت تھا۔ تاریخ کے اس انتہائی خطرناک موڑ پر اکابرِ دیوبند کے سامنے وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ تھی کہ اسلامی تہذیب کو مغربیت کے اس سیلاب سے محفوظ رکھا جائے اور مسلمانوں کے دین و مذہب کا تحفظ کرکے انھیں ارتداد سے بچایا جائے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے پوری بیدار مغزی و ژرف نگاہی سے ہر اس محاذ کو متعین کیا، جہاں سے مسلمانوں پر فکری و عملی یلغار ہوسکتی تھی اور پھر اپنی بساط کی حد تک حکمت و تدبر کے ساتھ ہر محاذ پر دفاعی خدمات انجام دیں۔

اپنی ایک ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں دارالعلوم نے ہندوستانی مسلمانوں کو جہاں ایک طرف سماجی زندگی کا ترقی یافتہ شعور دیا ہے، تو دوسری طرف انھیں فکر و عمل کا توازن بخشا ہے، آج مسلمانوں کا جو طبقہ اسلامی نظریات کی معقول تعبیر ، اسلامی افکارکی اطمینان بخش توجیہ اور صحیح اسلامی زندگی اختیار کیے ہوئے ہے، وہ دارالعلوم کی زائد از سوسالہ علمی و عملی جد و جہد کا نتیجہ ہے۔عام روایات کے برخلاف یہاں کا مذہبی رجحان کبھی رجعت پسند نہیں رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دارالعلوم ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہے جو قدیم و جدید کے حسین سنگم پر قائم ہے اور جس کی اپنی شان دار روایت اس کے تابناک ماضی کی نقیب اور اس کے عظیم مستقبل کی پیامبر ہے۔

حضرت مولانا محمدیوسف لدھیانوی نے دارالعلوم دیوبند کی ہمہ جہت خدمات کو ’تجدیدِ دین‘ کا عنوان دیتے ہوئے لکھا : ”تجدید و احیائے دین کی جو تحریک گیارہویں صدی سے ہندوستان کو منتقل ہوئی تھی اور اپنے اپنے دور میں مجدد الفِ ثانی، (شاہ ولی اللہ )محدث دہلوی اور شہید بالا کوٹ (سید احمد شہید) جس امانت کے حامل تھے، دارالعلوم دیوبند اسی وراثت وامانت کا حامل تھا۔ لوگ دارالعلوم کو مختلف زاویہ سے دیکھتے ہیں؛ کوئی اسے علومِ اسلامیہ کی یونیورسٹی سمجھتا ہے، کوئی اسے جہادِ حریت کے مجاہدین کی تربیت گاہ قرار دیتا ہے، کوئی اسے دعوت و عزیمت اور سلوک و تصوف کا مرکز سمجھتا ہے؛ لیکن میں حضرت حاجی امداد اللہ صاحب کے لفظوں میں اس کو ”بقائے اسلام اور تحفظ دین کا ذریعہ“ سمجھتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ مجددینِ امت کا جو سلسلہ چلا آرہا تھا، دارالعلوم دیوبند اپنے دور کے لیے مجددینِ امت کی تربیت گاہ تھی۔ یہیں سے مجددِ اسلام حکیم الامت حضرت تھانوی نکلے۔ اسی سے دعوت و تبلیغ کی تجدیدی تحریک ابھری جس کی شاخیں چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہیں سے تحریکِ حریت کے داعی تیار ہوئے، یہیں سے فرقِ باطلہ کا توڑ کیا گیا۔ یہیں سے محدثین، مفسرین، فقہاء اور متکلمین کی کھیپ تیار ہوئی۔ مختصر یہ کہ دارالعلوم دیوبند نے نہ صرف یہ کہ نابغہٴ روزگار شخصیات تیار کیں؛ بلکہ اسلام کی ہمہ پہلو تجدید و احیائے کے لیے عظیم الشان اداروں کو جنم دیا۔ اس لیے دارالعلوم دیوبند کو اگر تجدید و احیائے دین کی یونیورسٹی کا نام دیا جائے تو یہ اس کی خدمات کا صحیح عنوان ہو گا۔ (ماہنامہ الرشید ساہیوال پاکستان ، دارالعلوم دیوبند نمبر ، 1976، ص 667 )

دارالعلوم دیوبند: دینی تعلیمی تحریک کا بین الاقوامی مرکز


دارالعلوم دیوبند: دینی تعلیمی تحریک کا بین الاقوامی مرکز
مولانا مفتی محمد اللہ قاسمی

برصغیر ہند میں سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد انگریزوں نے اپنے سیاسی مصالح کے پیش نظر اسلامی علوم و فنون کی قدیم درسگاہوں کو یکسر ختم کردیا تھا ۔علماء و اہل علم کی بڑی تعداد کو تہہ تیغ کرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے مدارس کو تباہ و برباد کر ڈالا۔ ہندوستان میں مسلم سلطنتوں کے زمانے میں مدارس کا نظام عموماً اوقاف کی آمدنیوں یا مسلم حکمرانوں، نوابوں اور امراء و روٴساء کی سرپرستی میں چلتا تھا۔ مسلم حکومت اور مسلم حکمرانوں کے جانے کے بعد برطانوی تسلط کے زمانے میں شدید ضرورت تھی کہ نہ صرف اسلامی علوم و فنون اور اسلامی تہذیب کی بقا کے لئے بلکہ مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے ایک دینی و تعلیمی تحریک شروع کی جائے جو مسلمانوں کو الحاد و بے دینی کے فتنہ عظیم سے محفوظ رکھ سکے۔ غیور اور باہمت علماء نے اس عظیم ضرورت کا بروقت ادراک کیا اور اسی کے نتیجہ میں دارالعلوم دیوبندکا قیام عمل میں آیا۔ بہت ہی قلیل مدت میں دارالعلوم کی شہرت بامِ عروج کو پہنچ گئی اور بہت جلد دارالعلوم نہ صرف ہندوستان ، پاکستان، بنگلہ دیش بلکہ افغانستان، وسط ایشیا، انڈونیشیا، ملیشیا، برما، تبت، سیلون اور مشرقی و جنوبی افریقہ، یورپ ، امریکہ و آسٹریلیا کے ممالک کے مسلمانوں کے لیے ایک بین الاقوامی دینی تعلیم کی تحریک کا مرکز بن گیا۔
دارالعلوم دیوبند صرف ایک دینی تعلیم کا مدرسہ نہیں تھا،بلکہ وہ ایک دینی و تعلیمی تحریک تھی۔ اس تحریک کے بنیادی عناصر ’اصول ہشت گانہ‘ میں وضع کیے گئے جن سے آئندہ ہندوستان میں مضبوط و مستحکم دینی تعلیمی نظام کی بنیاد پڑی۔ پہلا بنیادی اصول یہ تھاکہ مدارس کو حکومت و امراء کی سرپرستی سے نکال کر اسے جمہور اور عوام سے جوڑا گیا ۔ عوام کے چندوں سے چلنے والے اس نظام میں استحکام بھی تھا اور سماج کے ہر طبقہ سے بھر پور ربط،جس کی وجہ سے تعلیم سماج کے ہر حلقہ میں پہنچنے لگی۔ دوسرا بنیادی اصول یہ تھا کہ مدارس کا نظام شورائی بنیادوں پر قائم ہو تاکہ اس کی کارکردگی زیادہ بہتر ہواور اس کے نظام میں شفافیت ہو۔ گویا ہندوستان میں جمہوری سیاسی نظام شروع ہونے سے پون صدی قبل ہی دارالعلوم نے جمہوری اداروں کی بنیاد رکھ دی تھی۔
دارالعلوم دیوبند نے نصاب بھی ایسا مرتب کیا جو حالات زمانہ سے بالکل ہم آہنگ تھا اور اسلامی ہند کے تمام نظامہائے تعلیم کی خوبیوں کا جامع تھا۔ دارالعلوم نے ولی اللہی نصاب سے قرآن و حدیث، فرنگی محل کے نصاب سے فقہ اور خیرآباد کے نصاب سے معقولات کو لے کر ایسا جامع و حسین گلدستہ تیار کیا کہ جس کی دل آویز خوشبو کی کشش سے دیوبند میں ہند و بیرون ہند کے طالبان علوم اسلامیہ کا جمگھٹا لگ گیا۔
دارالعلوم کے طرز پر مدارس کا قیام
ہندوستان میں مدارس کا سابقہ نظام تیرہویں ہجری تک تقریباً ختم ہوچکا تھا، کہیں کہیں مقامی حیثیت کے حامل کچھ خزاں رسیدہ مدارس کا وجود برائے نام باقی تھا جن میں علوم معقولہ کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی، حدیث و تفسیر وغیرہ کی تعلیم کا بہت ہی کم رواج تھا، اس کے برعکس دارالعلوم کا قیام ولی اللّٰہی طرزِ فکر پر عمل میں آیا تھا، اس لئے یہاں علوم معقولہ کے بجائے زیادہ اہمیت علوم منقولہ تفسیر و حدیث اور فقہ کو دی گئی ۔ دارالعلوم کے قیام کے بعد بر صغیر میں جتنے بھی دینی مدارس جاری ہوئے ان میں بھی کم و بیش دارالعلوم کے اسی طریقہ کو پسند کیا گیا۔ قیام دارالعلوم کے چھ ماہ بعد رجب ۱۲۸۳ھ (نومبر۱۸۶۶ء) میں سہارنپور میں مدرسہ مظاہر علوم جاری ہوا تو اس میں بھی وہی نصاب جاری کیا گیا جو دارالعلوم میں جاری تھا، پھر رفتہ رفتہ دارالعلوم کے نقش قدم پر مختلف مقامات میں دینی مدارس جاری ہوگئے۔ ۱۲۸۵ھ/ ۱۸۶۶ء کی روداد میں تحریر ہے: ”ہم نہایت خوشی ظاہر کرتے اس امر پر کہ اکثر حضرات باہمت نے اجراء مدارس عربی کو توسیع دینے میں کوشش کرکے مدارس بمقامات مختلفہ دہلی، میرٹھ، خورجہ، بلند شہر و سہارنپور وغیرہ میں جاری فرمائے اور دوسری جگہ مثل علی گڑھ وغیرہ اس کار کی تجویزیں ہورہی ہیں“۔ (روداد: ص۷۰،۱۲۸۵ھ)
دارالعلوم دیوبند کے نقش قدم پر اس وقت جومدارس جاری ہوئے دارالعلوم کی رودادوں میں تفصیل سے اس کے حالات لکھے گئے ہیں، ۱۲۹۷ھ/ ۱۸۸۰ء کی روداد میں تحریر ہے: ”ہم کمال خوشی سے یہ بات ظاہر کرتے ہیں اور منعم حقیقی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس سال میرٹھ، گلاوٴٹھی، دان پور میں مدارس اسلامی جدید جاری ہوئے اور ان کا تعلق کم و بیش اس مدرسہ (دارالعلوم دیوبند) سے ہوا اور ان مقامات کے باشندوں کو مبارک باد دیتے ہیں اور خدائے عز وجل کی جناب میں دعا کرتے ہیں کہ ان مدارس کو قیام ہو اور روز بروز ترقی پکڑیں اور بڑے بڑے شہروں اور قصبوں کے مسلمانوں کو اس کارِ خیر کی تقلید کی توفیق ہو، اے خدا پاک! وہ دن دکھلا کہ کوئی بستی اس دولت پائیدار سے خالی نہ رہے اور ہر گلی کوچے میں علم کا چرچہ ہو او رجہل عالم سے کافور ہو، آمین!“۔ (روداد ۱۲۹۷ھ: ص۶۳-۶۱)
مشہور شہر میرٹھ میں حضرت نانوتوی نے اپنے آخری زمانہٴ قیام میرٹھ میں ایک اسلامی مدرسہ قائم کیا تھا، یہ مدرسہ دارالعلوم دیوبند کی شاخ تھا، اس کے اولین اساتذہ دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل فضلا ء تھے۔ مفتی عزیزالرحمن دیوبند اور مولانا حبیب الرحمن عثمانی جو علی الترتیب بعد میں دارالعلوم کے مفتیٴ اعظم اور مہتمم ہوئے، اس مدرسہ کے مسند درس کو زینت دیتے رہے، مولانا قاضی زین العابدین سجاد اور مولانا سراج احمد میرٹھی جیسی مقتدر ہستیاں اس مدرسہ کے اولین طلبہ میں شامل تھے۔
مرادآباد مدرسہ کے قیام کے بارے میں ۱۲۹۷ھ کی روداد میں لکھا ہوا ہے: ”مرادآباد ایک مشہور و معروف شہر ہے وہاں کے غریب مسلمانوں نے حسب ایماء حضرت نانوتوی عرصہ دو تین سال سے ایک مدرسہ اسلامی جاری کیا، اگرچہ اوائل میں یہ کارخانہ مختصر تھامگر ماشاء اللہ یہ مدرسہ اچھے عروج پر ہے اور یوماً فیوماً امید ترقی ہے۔ واقعی اس مدرسہ کے جملہ کارپردازان نہایت زیرک اور امانت دار و دیانت دار ہیں، خداوند تعالیٰ ان کی سعی میں برکت عطا فرمائے اور اس کارخانہ کو قائم رکھے۔ اور زیادہ تر ترقی بخشے۔ آمین۔(روداد ۱۲۹۷ھ: ص۶۳-۶۱)
مرادآباد کا یہ مدرسہ جامعہ قاسمیہ کے نام مرادآباد کی شاہی مسجد میں قائم ہے ۔ دارالعلوم کے ابتدائی دور میں جو مدارس جاری ہوئے ان میں مظاہر علوم سہارن پور کے بعد جامعہ قاسمیہ نے سب سے زیادہ ترقی کی۔مشہور علمائے کرام کی کوششوں کے باعث اس مدرسہ کوبڑی شہرت حاصل رہی اور یہاں سے پڑھ کر مشہور علماء پیدا ہوئے۔
برصغیر ہند میں اسلامی مدارس کا جال
اس موقع پر یہ بات یاد رہے کہ آج مدارس کا قیام کچھ زیادہ مشکل نہیں رہا مگر ڈیڑھ سو سال پہلے کا خیال کیا جائے جب اس طرح کے مدارس کا رواج نہیں تھا، اور لوگ قیامِ مدارس کے طریقے اور ان کی ضرورت سے زیادہ واقف نہیں تھے۔ ان حالات میں حکومت کی امداد و اعانت کے بغیر صرف مسلمانوں کے چندہ کے بھروسے پر دینی مدارس جاری کرنا ایک زبردست کام تھا۔دارالعلوم دیوبند کا علمی فیضان محض عالم بنادینے تک ہی محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے ہمہ گیر افراد سے ایسا ماحول بھی پیدا ہوگیا جس سے جابجا دینی مدارس قائم ہوتے چلے گئے، دارالعلوم کے قیام کے بعد ملک میں جس کثرت سے دینی مدارس قائم ہوئے اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اس وقت مسلمانوں میں دینی مدارس قائم کرنے کا شدید جذبہ موجود تھا؛ لیکن اجراء مدارس کے قدیم وسائل چوں کہ یکسر ختم ہوچکے تھے اس لیے ہمتیں پست ہوگئیں تھیں، مگر جب دارالعلوم دیوبند نے پہل کی تو مسلمانوں کے سامنے ایک نئی شاہ راہ کھل گئی اسی کے ساتھ بعض مدارس کے منتظمین نے دارالعلوم کی حیثیت کو مرکزی قرار دے کر مناسب سمجھا کہ اپنے اپنے مدرسوں کو دارالعلوم دیوبند کے زیر اثر ایک سلسلے میں منسلک کردیں۔
اس وقت سے لے کر اب تک برصغیر کے طول و عرض میں بحمداللہ بے شمار دینی مدارس جاری ہوچکے ہیں، اور روز بروز ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ حتی کہ جو مدرسے دارالعلوم کے مزاج و مذاق سے ہٹے ہوئے ہیں یا دارالعلوم کے نصاب تعلیم کی اتباع نہیں کرتے ہیں ان کا نظام بھی دارالعلوم کے وضع کردہ بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج برصغیر میں جس قدر بھی دینی مدارس نظر آتے ہیں ان میں سے بیشتر وہی ہیں جو دارالعلوم دیوبند کے نقش قدم پر یا اس کے قائم کردہ اثرات سے جاری ہوئے ہیں؛ اس طرح دارالعلوم دیوبند کا وجود اسلام کی جدید تاریخ میں ایک عہد آفریں حیثیت رکھتا ہے، اور یہیں سے اس وقت پورے برصغیر میں دینی تعلیم گاہوں کا جال پھیلا ہوا ہے۔دارالعلوم کے مزاج و منہاج پر اس وقت پورے ہندوستان کے طول و عرض میں بلاشبہہ ہزاروں مدارس قائم ہیں جن میں بہت سے مدرسوں کا دارالعلوم سے باقاعدہ الحاق بھی ہے۔ ہندوستان کے جملہ مدارس کو باہم مربوط کرنے کے لئے رابطہ مدارس عربیہ دارالعلوم دیوبند کا مرکزی دفتر سرگرم عمل ہے جس سے اس وقت ڈھائی ہزار سے زائد مدارس عربیہ مربوط ہوچکے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند سے ملک کے دینی مدارس کا یہ ارتباط جماعت دیوبند کی شیرازہ بندی ، علمی تنظیم، فکری اتحاد اور یگانگتِ باہمی کا ایک مفید اور موٴثر ذریعہ ہے۔
ہندوستان میں موجود مدارس کا کوئی حتمی اعدا و شمار موجود نہیں تاہم چھوٹے بڑے مدارس کی تعداد ایک اندازے کے مطابق دس ہزار سے زائد ہے۔ یہ تعداد ان لاکھوں مکاتب کے علاوہ ہے جو تقریباً ہر مسجد اور مسلم محلہ میں قائم ہوتے ہیں۔
ہندوستان کے علاوہ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے چپے چپے میں بھی اسی نہج پر ہزاروں مدرسے قائم ہیں جن کے بڑے مدرسوں میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان مدارس میں جن میں دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوریہ کراچی، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ کھٹک، جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ فاروقیہ کراچی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ پاکستان میں وفاق المدارس کے تحت دس ہزار کے قریب مدراس کا متحدہ پلیٹ فارم بھی قائم ہے جن میں اکثریت دیوبندی مدارس کی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی دینی مدارس ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں جن میں دارالعلوم ہاٹ ہزاری سب سے زیادہ قدیم ہے۔ اس کے علاوہ چٹاگانک، دھاکہ، سلہٹ وغیرہ میں متعدد بڑے مدارس موجود ہیں۔
بیرون ممالک میں دارالعلوم کے طرز پر مدارس کا قیام
دارالعلوم کے قیام کے بعد ہی مکہ مکرمہ میں مشہور عالم دین حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے مدرسہ صولتیہ قائم کیا۔ یہ مدرسہ ۱۵ شعبان ۱۲۹۰ھ کو دارالعلوم کے ہی خطوط پر قائم کیا گیا تھا۔ اسی طرح مکہ مکرمہ میں ہی ایک دوسرا مدرسہ مولانا اسحاق امرتسری نے قائم کیا جو دارالعلوم کے فیض یافتہ تھے۔ مدینہ منورہ میں حضرت مولانا سید احمد فیض آبادی ( خلیفہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیو برادر اکبر حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ) نے ۱۳۴۰ھ / ۱۹۲۱ء میں مدرسہ علوم شرعیہ قائم فرمایا۔ یہ مدرسہ اہل مدینہ کے بہت بافیض ثابت ہوا اور مدتوں تک ان مدرسہ کا شمار وہاں کے بڑے مدرسوں میں ہوتا تھا۔ مدرسہ صولتیہ اور مدرسہ شرعیہ کی پرانی عمارتیں حرم مکی اور حرم مدنی کے بہت قریب تھیں ، لیکن اب وہ حرم کی توسیع کے بعد حرمین شریفین کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہ دونوں مدرسے اس وقت تک قائم ہیں۔
ہند و پاک اور بنگلہ دیش کے علاوہ برصغیر کے قریب دیگر ملکوں جیسے مشرق میں برما، شمال میں نیپال، مغرب میں افغانستان و ایران اور جنوب میں سری لنکاوغیرہ میں بھی کافی مدارس دارالعلوم کے طرز پر قائم ہیں۔ ان مدارس سے ہزاروں علماء ہر سال فارغ ہوکر معاشرہ میں علم کی روشنی پھیلاتے ہیں۔
براعظم افریقہ کے جنوبی ملکوں خصوصاً ساؤتھ افریقہ میں دارالعلوم کے طرز کے سیکڑوں چھوٹے بڑے مدارس قائم ہیں، جہاں پورے افریقہ، یورپ اور امریکہ تک کے طلبہ داخل رہ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ساؤتھ افریقہ کے ان مدارس میں دارالعلوم زکریا جوہانسبرگ، مدرسہ انعامیہ کیمپر ڈاوٴن، دارالعلوم آزاد ویل، دارالعلوم نیو کیسل، دارالعلوم ابو بکر پورٹ ایلزبتھ، جامعہ محمودیہ اسپرنگس، دارالعلوم العربیة الاسلامیة کیپ ٹاوٴن وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
اسی طرح بر اعظم یورپ میں خصوصاً برطانیہ میں متعدد بڑے دارالعلوم اور مدارس قائم ہیں جہاں دارالعلوم کے طرز پر دینی تعلیم کا بہترین نظم موجود ہے۔برطانیہ کے بڑے دینی مدارس میں دارالعلوم بری، دارالعلوم لندن، دارالعلوم برمنگھم، دارالعلوم لیسٹر ، دارالعلوم بولٹن وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
بحر انٹلانٹک کے اس پار امریکہ ، کناڈا اور ویسٹ انڈیز میں بھی دارالعلوم قائم ہوچکے ہیں اور دارالعلوم کے نہج پر علوم دینیہ کی تدریس و اشاعت میں مشغول ہیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں دارالعلوم نیو یارک، دارالعلوم المدنیہ بفیلو، دارالعلوم ٹورنٹو، دارالعلوم شکاگو، اسی طرح کناڈامیں دارالعلوم اونٹاریووغیرہ قابل ذکر ہیں۔ دوسری طرف مشرق میں آسٹریلیا،فیجی، نیوزی لینڈوغیرہ میں بھی الحمد للہ دارالعلوم دیوبند کے نہج پر مدارس قائم ہیں۔
اس طرح مطلع دیوبند سے پھوٹنے والی یہ علم کی یہ روشنی اس وقت الحمد للہ پورے عالم کو روشن کیے ہوئے ہے۔ ان مدارس سے استفادہ کرنے والے علماء و فضلاء پوری دنیا میں دینی علوم کی تدریس وتصنیف، دعوت و تبلیغ اور نشر و اشاعت میں مشغول ہیں۔ قدیم روایت کے ان مدارس دینیہ نے اسلامی علوم کی حفاظت و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سلف صالحین کے نہج پر دینی علوم کی تعلیم کا یہ نظام اپنے اندر بہت ساری برکتیں رکھتا ہے جس سے دوسرے نظام خالی نظر آتے ہیں۔
مدارسِ دینیہ سے برصغیر کے مسلمانوں کو کیا نفع پہنچا اس سلسلے میں علامہ اقبال کے مشہور تاثر جو انھیں کے ایک عقیدت مند حکیم احمد شجاع سے منقول ہے مدارس اسلامیہ کو ایک اچھا خراج عقیدت ہے۔ علامہ فرماتے ہیں: ”ان مدارس کو اس حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدرسوں میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا اسے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں، اگر ہندوستان کے مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سوبرس حکومت کے باوجود ہوا، آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈر اور الحمراکے نشانات کے سوا اسلام کے پیروٴں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دہلی کے لال قلعہ کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا“۔ (خون بہا، از حکیم احمد شجاع حصہ اول: ص۴۳۹)

علی گڑھ کا برج کورس اور پروفیسرراشد شاذ… ؟


محمد شاہد انور ایم اے متعلم ایم ایم ایچ یونیورسٹی پٹنہ

آج کل شوشل میڈیا پراخبارات کے چند تراشے گردش کرہے ہیں،ہر عام وخاص اس پر اپنا تبصرہ لکھ رہے ہیں ،میں نے بھی اس تراشے کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ کسی خبر ومراسلہ کے جواب میں لکھی گئی ہے ،پھر میں نے تلاش بسیار کے بعد وہ متنازعہ مراسلہ کو حاصل کیا جو دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ مجریہ ۵ /دسمبر ۲۰۱۴ء ادارتی صفحہ میں بعنوان ”پروفیسر راشد شاذ کا خطاب “ چھپا تھا ،مراسلہ نگار نے برج کورس میں پڑھ رہے طلبا کے سامنے کی گئی راشد شاذ کی زہریلی تقریر کوشائع کرایا تھا ۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ دوسرے ہی دن اسی اخبار میں دوبارہ اسی مراسلہ کو خبر کے کالم میں بھی شائع کرایاگیا، مراسلہ کو پڑھنے کے بعدہی اندازہ ہوگیا کہ یہ تقریر کسی ایسے شخص کی ہے جومسلمانوں کے درمیان انتشارکی ایک نئی جہت کوہوا دیناچاہتا ہے لیکن دوسرے روز کے خبروں میں پڑھنے سے یہ بھی یقین ہوگیا کہ صرف راشد شاذ ہی نہیں اس کھیل میں اخباربھی شریک ہے ۔ایسا شاید اس لئے ہے کہ ائمہ اربعہ اور فقہی مسائل کے خلاف طعن وتشنیع اور ہواخیزی میں دونوں کا قارورہ مل رہا ہے ۔ اخبار بین حضرات جانتے ہیں کہ بہت سے مغرب زدہ لوگ اپنی جدید تعبیر وتشریح لیکر اسلام کو تختہ مشق بناتے رہتے ہیں اور ان کی ہر واہی تباہی کی آن علماء دین پر آکر ٹوٹتی ہے۔ ہمیشہ اُن کا نشانہ اسلامی مدارس ،دینی رجحانات وفکر اور اسلام پر تصلب کے ساتھ عمل کرنے والے افراد ہوتے ہیں لیکن اس نئے کھیل میں تو ایک نئی جھلک یہ نظر آئی کہ مسلم یونیورسٹی کا باضابطہ ایک شعبہ ”برج کورس“ کے نام سے مدارس کے فضلاء اور کچھ باعزت ترقی پسند مسلم گھرانوں کی طالبات پراپنے ہدف کی تکمیل میں مصروف عمل ہے، اس پر ہمیں لکھنے کی چنداں ضرورت اس لئے بھی نہیں تھی کہ راشد شاذ اپنے فکر ومزاج کے ساتھ کئی جگہوں سے دھتکارے جاچکے ہیں اور امید یہ ہے کہ ان کے فکری جغرافیے پر لگام کسنے کے لئے جن طلباء وطالبات کو وہ اپنا نرم چارہ سمجھتے ہیں وہ خود ہی کافی ہونگے۔ البتہ مسلم یونیورسٹی میں رائج برج کورس کا جومقصد راشد شاذ نے واضح کیا ہے وہ ہر صاحب فکر کو قلم اٹھانے کی دعوت دیتا ہے اسلئے کہ یونیورسٹی یا اس کا کوئی شعبہ اگر مذہبی اکھاڑا بازی کے لئے قائم کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف ہندوستانی قوانین سے تصادم کے مترادف ہوگا بلکہ علیگڑھ کے ساتھ ”مسلم یونیورسٹی “کی حیثیت عرفی کو بٹا لگانے اور بدنام کرنے کے بھی مترادف ہوگاجو ہندوستانی مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔مسلم یونیورسٹی کی عزت وتشخص کے محافظ طلباء کی یونین کے ذمہ داران کو بھی اس کا نوٹس ضرورلینا چاہئے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ راشد شاذ گھر کا بھیدی بن کر لنکا ڈھانے چلے ہوں!اہل فہم و دانش سمجھ سکتے ہیں کہ کسی بھی یونیورسٹی کا مطلب ہوتا ہے عصری علوم وآگاہی میں ترقی کے بام عروج کو چھونا نہ کہ اس کو مذہبی اکھاڑہ بناکر کسی خاص مذہب و مسلک کو تختہ مشق بنانا یا بہت سارے مذاہب کو کسی ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ۔ خدا نہ خواستہ ایسا ہوا تو یہ اس یونیورسٹی کی جڑوں کو کھودنے کے مترادف ہوگا ۔ نیز دوسری یونیوسٹیاں جیسے ہندو یونیورسٹی بنارس یا بودھ یونیورسٹی گیا وغیرہ کے لئے یہ جواز فراہم کرنا ہوگا کہ وہ بھی اس طرح کے شعبے قائم کرکے اپنے مذاہب کے لوگوں کو متحد کرنے کے نام پر ادھم بازی کرتے پھریں اور یہ سارا کام سرکاری خرچے پر انجام دیئے جانے لگیں۔عقل حیران ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی نگاہیں اس خطرناک قول وعمل کے عواقب ونتائج پر کیوں نہیں ہیں؟۔ واضح رہے کہ ” برج کورس “ کا مقصد جو متعارف کرایاگیا ہے وہ یہ ہے کہ عصری اور جدید پروفیشنل تعلیم و ترقی کے دھارے سے الگ تھلگ پڑے مذہبی درسگاہوں کے طلباء کو اس قابل بنادیا جائے کہ وہ مسلم تشخص کی حامل یونیورسٹی کے کسی بھی کورس میں داخلے کے اہل ہوسکیں ۔گویا فضلاء مدارس عربیہ کی اہلیت سازی میں اس شعبہ کا اہم کردار اس کا بنیادی مقصد اور برج (زینہ)تسلیم کیاگیا ہے ؛ اسی لیے مذہبی رجحانات رکھنے والے یا نہ رکھنے والے دونوں ہی طبقوں کی جانب سے اس کی پذیرائی ہوئی اور دیوبند ،ندوة ، مدرسہ اصلاح ،جامعہ اشرفیہ ،مدرسة الفلاح وغیرہ بے شمار مدارس کے طلباء کی دلچسپی کا مرکز یہ شعبہ بنا ہوا ہے اور عین ممکن ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے اس خوش آئند اور مفیداقدام سے ،حیدرآباد ،بنگلور وغیرہ دیگر صوبوں سے بھی ترقی پسند طلباء کا رجوع بڑھ جائے۔ ان طلباء میں انگریزی زبان و ادب میں کچھ کم لیکن عربی و فارسی اوراردو کی بھر پور صلاحیت ہوتی ہے ۔ اب ضرورت تھی کہ ان کے اوقات کو اُن تعلیمی مشاغل میں صرف کیاجاتا جس کی انھیں آئندہ ضرورت پڑنے والی ہے ۔اسطرح یونیورسٹی کے تعارف میں عالمی سطح پراضافہ بھی ہوتا؛ لیکن راشد شاذ کے مخصوص فکر و مزاج کے باعث لگتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ یہ شعبہ اپنے مقصد سے دور ہوکر اصل راستے سے بھٹک چکا ہے بلکہ اب فقہی اختلافات ، مذہبی عقائد و نظریات ، رطب و یابس تاریخی ماخذ و ذخائر اور مغربی فکر و رجحانات کا ایک زبردست اکھاڑا بنا ہوا ہے ۔موصوف کے بعض زہریلے مراسلات انگریزی اخباروں میں بھی پڑھے گئے ہیں ان کی مسلسل تگ ودو سے ایسا لگتا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر نے ان کو سرکاری صرفے پر ایک محفوظ گوشہ فراہم کر رکھا ہے جہاں وہ ہر طرح کی گرفت سے محفوظ رہ کر بلکہ یونیورسٹی کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مکروہ فکرو مزاج کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ بعض باتیں ایسی بھی سامنے آئی ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اصلاح کی امید ہونے کی وجہ سے قلم ابھی تک ان کو منظر عام پر لانے سے مصلحت پسندی کا شکارہے ،اگر انتظامیہ مخلص ہے تو ذرا بھی تفتیش و تحقیق سے ساری باتیں سامنے آجائیں گی ۔ اس موقع سے مجھ جیسا ایک طالب علم بھی یونیورسٹی کے محترم وائس چانسلر اور اس کی باڈی میں شامل ممبران سے یہ پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ کیا سرکاری گرانٹوں سے چلنے والی مسلم یونیورسٹی کا یہ شعبہ اب یہی فریضہ انجام دے گا کہ بقول راشد شازملکی تعمیروترقی کو بالائے طاق رکھ کر”برج کورس کے روشن خیال علماء وعالمات کا یہ قافلہ متحدہ اسلام کی تشکیل میں مدد دیگا؟“ اور کیا اس شعبہ میں” شیعہ ،سنی ،حنفی ،شافعی جیسی مختلف شاخوں کو پیغمبرانہ اسلام میں تحلیل کرنے کا فریضہ“ انجام دیاجائے گا؟۔ اور اس” متحدہ اسلام “کے نقیب راشد شاذ ہونگے اور ان کا معاون و مددگاردہلی سے شائع ہونے والاوہ اخبار ہوگاجس نے امت مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے کے لئے اسے خبر بناکر نشر کیا ہے۔ نیز یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب یونیورسٹیوں کا یہی مشغلہ رہ گیا ہے کہ جمہوری ملک میں سرکاری خرچے پر مسلمانوں کو ”اپنے ہزار سالہ فکری انحراف کے سدباب کے بعد اقوام عالم کی قیادت سنبھالنے کے قابل بنائیں گی ؟۔خدا ناخواستہ اگر یہ باتیں فرقہ پرست ہندو تنظیموں کے ہاتھ لگ گئیں تو بعید نہیں کہ یونیورسٹی کا اقلیتی کردار مشکوک ہوکر پورے ملک میں مختلف طرح کے ہنگامے جنم دینے کا باعث ہوجائے اور اس ناعاقبت اندیشی کا مکمل ذمہ دار راشد شاذ اور موجودہ وائس چانسلر ہونگے ۔ راشد شاذ کی کس قدر مضحکہ خیز فکر اور متضاد دانشوری ہے کہ ایک طرف تو یہ مفروضہ تسلیم کراگیا ہے کہ کہ امت مسلمہ ایک ہزار سال سے اپنے فکری انحراف کا شکار ہوچکی ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ماننا پڑے گا کہ صحیح اسلام ، دنیا میں پھیلا ہی نہیں یا کم از کم ہندوستان میں صحیح اسلام آیا ہی نہیں اور دوسری طرف یہ حوصلہ مندی کہ ” برج کورس “ امت مسلمہ کا قبلہ درست کرے گا ۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک ہزار سال سے امت منحرف ہے تو وہ صحیح اسلام ، راشد شاذ جیسے” مصلحین امت اور مخلصین ملت “کو کہاں سے دستیاب ہوگیا ؟اور کن خفیہ راستوں سے ایک ہزار سال بعد صحیح و سالم مل گیا ؟کہ جس کی طرف امت مسلمہ کا قبلہ پھیرنے کی کوشش میں ” برج کورس “ لگا ہے ؟ ۔راشد شاذ کے فکر وخیال کے مطابق چودہ سو سال کے تمام علماء غیر مستند ،تمام اسلامی درسگاہیں بے معنی ،تمام فقہا غیر متعبر ہیں تو سوال یہ ہے کہ موصوف کا سلسلہ سند کیا ہے جن کے ذریعہ صحیح اسلام تک موصوف کی رسائی ہوئی ہے ؟۔کیا اس فکری اور ادّعائی تجدد پسندی میں دور حاضر کی اسرائیلی اور برطانوی روح نہیں جھلکتی ہے ؟۔ بریں فکر ودانش بباید گریست ۔ ممکن ہے ہماری کمزور آواز اقلیتی کردار و شناخت کی حامل یونیورسٹی کے ایک بااثر وائس چانسلر محترم ضمیرالدین شاہ تک نہ پہونچے لیکن قوی امید ہے کہ وہ کمزور مسلمان جنہوں نے اپنے نونہالان کوتعلیم وترقی کے نام پر ”برج کورس“میں داخلہ دلا رکھا ہے ان تک توضرور پہونچے گی اور انہیں یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑیگا کہ تعلمی ترقی کے نام پر شاید” برج کورس“ کا یہ شعبہ فضلائے مدارس عربیہ کے تحویل قبلہ میں اپنا سارا زور صرف کررہا ہے ، جیسا کہ راشد شاذ باور کرانا چاہتے ہیں۔ابھی تک تو ہمارا مأخذ ان کی شائع کردہ تقریر ہے ،شعبہ میں ان کا عمل کیا ہے یہ وہاں کے لوگ بتائیں گے ۔اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو عین ممکن ہے کہ علیگ برادری کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے اور قانونی چارہ جوئی کے لئے محترم وائس چانسلر کا دامن گیر ہو کہ ہندوستان کے تعلیمی ٹیکس دہندگان کے ٹیکس کا مصرف یقینا مذہبی اکھاڑے بازی نہیں ہے ۔اپنے ہی چمن کے نونہالان کی تعمیر وترقی کے ساتھ کسی کو کھیل کرتا ہوازیادہ دنوں تک نہیں دیکھ سکتے۔ خبر اور مراسلہ میں راشد شاذ کی جانب سے اٹھائے گئے فکری انحراف اور ذہنی کج روی کے جو نکات ہیں وہ یہ بتارہے ہیں کہ ان کے پیچھے کچھ کرشماتی قوتوں کا ہاتھ ہے مثلاً وہ علم کی شرعی اور غیر شرعی تقسیم کو اجنبی وغیر قرآنی تقسیم قرار دیتے ہوئے ناجائز بتاتے ہیں ،لیکن محترم اس بات کی وضاحت کرنے سے معذور نظر آتے ہیں کہ یہ تقسیم کس نے کی ؟اور کب کی ہے؟ اور اس تقسیم کا امت کے زوال سے کیا تعلق ہے؟ اور اگر تعلق ہوبھی توکسی جمہوری ملک کی یونیورسٹی کے برج کورس میں شامل طلباء وطالبات کے درس سے اس کا کیا تعلق ہے ؟۔یہ ”برج “مدارس کے فضلاء کو عصری علوم سے روشناس کرانے کے لئے قائم کیا گیا ہے یا انہیں مذہبی مباحث میں الجھا کر اسلام سے مشکوک اور مسلمانوں سے بدظن کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے؟۔ جیسا کہ راشد شاذ کا عمل اور بیان غماز ہے ۔ موصوف کے دانشورانہ فکرومزاج کی داد دیجئے کہ تاریخ سے قطعی طور پر ناواقف ہوتے ہوئے بھی فاطمی داعیوں اور اسماعیلی مسلک کی درسگاہوں نیز عباسی خلافت کے قائم کردہ نظام مدارس پر انگلی اٹھاتے اور اس بات پر آنسو بہاتے ہیں کہ حکومت کے بیش بہا وسائل دین کی مختلف سیاسی تعبیروں اور مختلف خلافتوں کو جواز فراہم کرنے کے لئے بلادریغ استعمال ہونے لگے جن سے آج تک مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوٹ سکا ۔لیکن موصوف کو اس کی خبر نہیں کہ تاریخ کی جن خرابیوں کو وہ امت کے زوال کا سبب بتا رہے ہیں اُس خطرناک مرض میں وہ خود ہی بری طرح گرفتار ہیں،کیا ان کا قول وعمل اس بات کا شاہد عدل نہیں کہ مسلم یونیورسٹی کے بیش بہا وسائل کو اپنے فکری انحراف کے فروغ میں بے دریغ استعمال کرکے طلباء کے داخلے کامقصد فوت کررہے ہیں؟۔اگر یہ طلباء مستقبل میں ناکام رہے اور جن کورسوں میں داخلہ لینے کے لئے برج کورس کو اپنے لئے ترقی کا زینہ سمجھا تھا اُن کورسوں میں اُن کا داخلہ نہ ہوسکا تو یقینا اس کا جوابدہ راشد شاز کو ہونا پڑیگا۔فی الحال کیا یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ بتائیں گے کہ موصوف سے پیچھا چھڑانے اور طلباء کے اوقات کو کارآمد بنانے اور داخلہ کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے کیا طریقہ کار اپنانا پڑیگا؟۔ راشد شاذ کو یہ بھی خبر نہیں کہ ائمہ اربعہ کی تشریحات وتوضیحات کو ماننے اور نہ ماننے کا مسئلہ یہ خالص اور مخلص مسلمانوں کے اندور ن کا معاملہ ہے اس سے اسلام اور مسلمانوں کی تقسیم کا کہیں دُور دُور تک اسیطرح کوئی واسطہ نہیں جیسے کہ اس موضوع کا کوئی تعلق برج کورس سے نہیں ، یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی ہندوستانی خود کو صوبہ بہار میں رہنے کیوجہ سے بہاری ، یا دہلوی ، یا راجستھانی بتاوے اور کبھی مزید اپنا تعارف کراتے ہوئے یوپی کا رہنے والا علی گڑھی بتاوے اور اپنے نام کے ساتھ علیگ لکھے اور کوئی ندوی ، یا قاسمی لکھے ، اسکا ہرگزیہ مطلب نہیں کہ ان سے ہندوستان تقسیم ہوکررہ گیا یا انھوں نے ہندوستان کو تقسیم کرکے رکھ دیا، اگر اس طرح کی تقسیم اتنا ہی معیوب ہے تو پھر تو راشد شاذ کو اپنا نام صرف آدمی رکھنا چاہئے تھا تا کہ مختلف ناموں کی وجہ سے آدمیت تقسیم نہ ہوتی بلکہ ” متحدہ اسلام “ اور پیغمبرانہ اسلام ، کی طرح ” متحدہ آدمیت “ اور آدمیانہ انسان، کی تحریک چلانے کی کوشش بھی ” برج کورس “ سے ہونی چاہئے ۔ فقہائے اربعہ سے فکر ی اتفاق و اختلاف کی تفصیلات پر چھوٹی بڑی کتابیں ہر جگہ مارکیٹ میں دستیاب ہیں، عوامی اخبارات کو میڈیا کے اصولوں کے تحت ان اختلافی موضوعات سے دُور رہنا چاہئے، کچھ لوگ اگراس کے مخالف ہیں توان کی ڈور اُن کرشماتی لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو بدقسمتی سے اِن دنوں سعودی عرب کے واسطے سے برطانیہ اور امریکہ میں مقیم ہیں جبکہ خود سعودی حکومت ان کے مخالف ہے ۔ خیر ائمہ اربعہ کا مسئلہ مسلمانوں کا آپسی مسئلہ ہے،عقیدے کے اختلاف سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور شیعہ سنی اختلاف ایمان وکفراور عقائد کا اختلاف ہے لیکن افسوس ہے کہ راشد شاذ اپنی بھڑاس نکالنے کے لئے سب کو ایک ہی سطر میں ہانکتے چلے جاتے ہیں اور ان کے اس بے تکاپن پر کسی نے ”معروف مفکر اور کلیدی خطاب“ کا پشتارہ بھی چڑھا دیا ہے ،یہ ایسے ہی لگتا ہے جیسے کوڑھ پر کھاج۔ یہ موقع ائمہ اربعہ کی حیثیت اور شیعہ سنی اختلافات کے اجاگر کرنے کا نہیں؛ جن کو بھی ضرورت ہو وہ تفصیلی کتابوں کی طرف رجوع کریں ۔ہاں ! اس موقع سے ہر مسلمان کو یہ پوچھنے کاحق ضرور ہے کہ برج کورس میں اس طرح کے اختلافی مسائل چھیڑنے کا مقصد کیا ہے اگر یہ سب کچھ محترم وائس چانسلر کے چشم وابرو کے مطابق ہورہا ہے تو پھر تو برج کورس کا تعارف مذہبی اکھاڑے سے کرانا زیادہ مناسب ہوگااور اس کے عواقب ونتائج کے ذمہ دار صرف راشد شاذ ہی نہیں وائس چانسلر بھی ہونگے۔ راشد شاذ نے اپنی بے معنی دانشوری کا ثبوت دیتے ہوئے پوری امت مسلمہ کو ہزار سالہ فکری انحراف میں مبتلا بتایا ۔محترم!مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے یہ بات کس حد تک امت کی خیراخواہی وہمدردی میں ڈوب کر کہی ہے یا اس کا کوئی اور زاویہ ہے …ہمیں اس پر یقین ہے کہ امت مسلمہ کی ہمدردی میں آپ نماز روزے جیسے فرائض ترک کردینے تو کیا بنیادی عقائد کو بھی ترک کردینے میں کوئی دریغ نہیں کرینگے ۔لیکن خدا را سرکاری وسائل اور یونیورسٹی کے بامقصد شعبے سے ایسی ہمدردی نہ دکھائیں کہ فتنہ وفساد کا ایک وسیع باب کھل جائے ۔عہد قدیم کے مسلکی ودینی درسگاہوں سے تو ابھی تک تو آپ اپنا پیچھا نہ چھڑا سکے کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے کاشت کئے ہوئے فتنے سے پیچھا چھڑا نا بھی آپ کے لئے مسئلہ بن جائے ۔ آپ جیسے ہمددردان قوم کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کے لئے تو آپ کو قریب سے جاننے والے ہی موزوں ہوسکتے ہیں۔لیکن اگر آپ نے اس حدیث پاک ”لا تجتمع امتی علی الضلالة“(میری امت گمراہی پر اکٹھا نہیں ہوسکتی) کو پڑھ لیا ہوتا تو ایسی بات ہرگز نہ کرتے جس سے آپ کی جگ ہنسائی ہوتی اور مسلم یونیورسٹی کے پاکیزہ دامن پر دھبہ لگتا ۔

آسام میں پھر ہوا قتل عام، نیند میں ہے گوگوئی سرکار

از: خورشید عالم داؤد قاسمی

Email: qasmikhursheed

پڑوسی ملک پاکستان کے شہر پشاورمیں واقع آرمی اسکول میں، دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کیے گئے150 معصوم طلبہ و اسٹافس کی موت پر، نرم دل، حساس طبیعت اور انسانیت نواز لوگوں کی طرف سےمذمتی بیان کا سلسلہ تا ہنوز جاری ہی ہے کہ اسی درمیان ہمارے وطن عزیز کا شمال مشرقی صوبہ آسام میں "این ڈی ایف بی” (نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ) سے تعلق رکھنے والے ” بوڈو دہشت گردوں” نے، اپنے انسانیت سوز حرکت سے ،کھلبلی مچادی اوردرجنوں بے گناہ غیر بوڈو قبائلی لوگوں کا قتل عام کرکے، انسانیت کو نادم و شرمسار کردیا۔ اس دہشت گردی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے انسانیت دشمن لوگوں کو، اس روئے زمین پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مرکزی اورریاستی حکومتیں جتنی جلدی ایسے انسانیت دشمن لوگوں کا خاتمہ کردے، معاشرہ اور سوسائٹی کے لیے اتنا ہی زیادہ مفید اور سود مندہوگا۔

آسام سے علاحدہ ہوکر، الگ "بوڈولینڈ” کامطالبہ کرنے والے "این ڈی ایف بی” کے زبردست اسلحہ سے لیس دہشت گردوں نے، گزشتہ 23/دسمبر کو سونت پور اورکوکرا جھار ضلعے کے غریب ونادار غیر بوڈو قبائل باشندگان کے گاؤں میں آکر، ان کے گھروں کے دروازے توڑ کر، جبرا داخل ہوگئے اور مرد و خواتین اور معصوم بچوں پر گولی چلانی شروع کردی۔ پھر پلک جھپکتے ہی، ان دہشت گردوں نے 52 لوگوں کو، بغیر کسی جرم کے موت کی دائمی نیند سلادیا۔ یہ وہ مفلس اور مفلوک الحال لوگ ہیں، جن کی معیشت کا دار و مدار، دن بھر چائے کے باغات میں کام کرنے پر ہے؛ تاکہ کسی طرح اپنی روزی روٹی کا انتظام کرسکیں۔

آسام پولیس کے آئی جی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 22/دسمبر کو، پولیس مہم کے دوران "این ڈی ایف بی” کے دو اہم رہنما کا قتل ہوا تھا۔ اس کا بدلہ لینے کے لیے "این ڈی ایف بی” کے دہشت گردوں نے ان معصوموں کے گھروں میں گھس کر ان پر حملہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان بوڈو دہشت گردوں کی نظر میں، ان معصوم لوگوں کاجرم یہ ہے کہ یہ لوگ غیر بوڈو قبائل میں پیدا ہوئے ہیں۔ اگر ان لوگوں کا بوڈو قبیلہ سے تعلق ہوتا؛ تو ان کے ساتھ ایسا انسانیت سوز معاملہ نہ کیا جاتا۔

جب ان بوڈو دہشت گردوں کے قتل عام کے خلاف، مظلومین اور مقتولین کے ورثاء نے گزشتہ 24/دسمبر کو مظاہرہ اور احتجاج کیا؛ تو آسام پولیس نے اپنے طاقت کے بل پر، اس مظاہرہ کو روکنے کی پوری کوشش کی؛ تا آں کہ پولیس کی فائرنگ میں مزید تین معصوم لوگوں کی جانیں تلف ہوگئیں۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ان مقتولین کے ورثاء سے، پولیس نے احتجاج کا حق بھی چھین لیا۔ اس طرح دو دنوں حادثے میں 65 لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔

آسام کی سرزمین پر "نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ” سے تعلق رکھنے والے بوڈو کی دہشت گردی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے؛ بل کہ اس سے پہلے بھی کئی بار، ان لوگوں نے کھلے عام، بے گناہ شہریوں کا قتل کیا ہے۔ انہوں نے متعدد بار، بلا خوف و خطر سنتھالی قبیلہ کے لوگوں کا قتل کیا ہے۔ اسی طرح بنگالی مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے۔ اسی سال مئی کے مہینہ میں، ان ظالموں نے اپنی ہی قومیت و ثقافت سے تعلق رکھنے والے مقامی قبائلیوں اور بنگالی مسلمانوں کا کھلے عام قتل کرکے درجنوں بے گناہوں کو موت کی نیند سلایا ہے۔

تعجب اس پر ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ مسٹر راجناتھ سنگھ نے اخباری نمائندوں کو خطاب کرتے ہوئے جہاں "ضروری کاروائی” کا صرف وعدہ کیا ہے؛ وہیں ریاست کے، لاء اینڈ آڈر کے حوالے سے، ناکام وزیر اعلی مسٹر ترون گوگوئی نے کہا ہے کہ انہوں نے سینئر وزراء : نیل منی سین ڈیکا اور بسنت داس کو کوکرا جھار اور رقیب الحسین، پرتھوی ماجھی اور تنکا بہادر رائے کو سونت پور ضلع کا "دورہ کرنے کی ہدایت” دی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بوڈو دہشت گردوں نے جو کچھ کیا ہے، کیا یہ پہلی بار ہوا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی دہشت گردی کا انہوں نے بے شمار دفعہ ارتکاب کیا ہے۔ پھر اب تک مرکزی و ریاستی سرکاروں نے ان کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی؟! نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ کے لوگوں نے یہ جو کچھ کیا ہے، وہ دہشت گردی ہے۔ دہشت گردی، دہشت گردی ہوتی ہے، چاہے کرنے والا کوئی ہو۔ ہر ایک دہشت گرد کے ناپنے کا پیمانہ ایک ہونا چاہیے، مختلف نہیں، تب جاکر ہم دہشت گردی پر قابو پاسکیں گے۔ یہ بھی ایک بڑی مضحکہ خیز حقیقت ہے کہ ایک مسلمان کو اپنے دفاع میں، ایک پتھر پھیکنے پر "دہشت گرد” (Terrorist) کے لفظ سے تعبیر کرنے والے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے جرنلسٹس، ان لوگوں کے لیے بڑے محتاط طریقے "تشدّد پسند” (Militant) کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

اصل واقعہ یہ ہے کہ حکومت کی کرسی پر قابض سیاستداں، عوام کے مفاد کو نظر انداز کرکے، خودعیش و عشرت کی زندگی گزار نے میں مشغول ہیں۔ نہیں تو یہ ممکن نہیں کہ ایک مخصوص قبیلہ کے لوگ جس کو چاہیں، جہاں چاہیں دہشت پھیلاتے پھریں اور حکومت ان کو صرف وارننگ دے کر خاموش ہوجائے۔ در اصل صوبائی سرکار اپنی ڈوبتی کشتی کو بچانے کےلیے، کچھ غیر معقول تعلقات کی خاطر، ان بوڈو دہشت گردوں کو لگام کسنے میں سست رفتاری سے کام لے رہی ہے؛ جہاں آدی باسی، بنگالی مسلم اور ہندی بولنے والے لوگوں کا کھلے عام قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ بات کسی قیاس کی بنیاد پر نہیں کہی جارہی؛ بل کہ ایک نیوز چینل سے ایڈریس کرتے ہوئے، ریاست کے ایک سابق ڈائرکٹر جنرل آف پولیس نے دعوی کیا ہے۔ یہی حال مرکزی اقتدار سے لطف اندوز ہو رہی "بي جے پی” کا بھی ہے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے موقع سے "بی جے پی” کے ایک مقامی لیڈر بھابادیو گوسوامی نے ایک مقامی نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ وہ خود اور کچھ دوسرے پارٹی کارکنان نے”این ڈی ایف بی” (جس کا ذکر اوپر گزرا) کے ممبران سے، آنے والے لوک سبھا انتخابات میں، ان کی حمایت کے حوالے سے، گفت و شنید کی ہے۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا تھا کہ یہ لوگ کانگریس حکومت سے غیر مطمئن ہیں؛ اس لیے انہوں نے "بی جے پی” کی حمایت کرنے کا طے کرلیا ہے۔

اس موجودہ سانحہ کے بعد، اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ ” بی ٹي اے ڈی” کے دور دراز علاقے کےآدیباسی عیسائی باشندے، اپنی جان کی حفاظت کےلیے، اپنے گھر اور گاؤں کو خیر باد کہہ کر، کیمپوں کی طرف کوچ کررہے ہیں۔ اس موسم سرما میں، دسمبر کے مہینہ میں، لوگ اپنے گھر میں نیچے سے موٹے بستر اور اوپر سے لحاف اور کمبل کے باوجود، ٹھنڈی سے پریشان نظر آتے ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ ان لوگوں کا اپنے مسکن کو چھوڑ کر، دوسری جگہ کیمپوں میں جاکر زندگی گزارنا، کتنا مشکل اور دشوار ہوگا! اس حقیقت کے باوجود مرکزی اور ریاستی سرکار وعدہ اور ہدایت سے ہی کام چلا رہی ہے۔ ان کو اپنے مفاد کی خاطر، ان مظلومین کا کچھ خیال نہیں آرہا ہے۔

واضح رہے کہ”بوڈولینڈ ٹیریٹوریل کونسل” کا ماتحت علاقہ”بوڈو لینڈ ٹیریٹوریل ایریا ڈسٹرکٹ” (BTAD) کہلاتا ہے۔ بوڈولینڈ ٹیریٹوریل کونسل، جس کا قیام 2003 میں عمل میں آیا، 70% قومی دھارے سے کٹے ہوئے لوگوں کا مجموعہ ہے، جن میں بوڈو، ربہاس، گروس وغیرہ قبائلی جماعتیں ہیں۔ یہ لوگ شمال مشرقی ریاست آسام کی ماتحتی میں رہنے کے مخالف ہیں اور "بوڈولینڈ ” کے نام سے، ایک علاحدہ ریاست کامطالبہ کررہے ہیں۔ یہ علاقہ جغرافیائی طور پر بھارت کا انتہائی غیر ترقی یافتہ علاقہ ہے۔ ان لوگوں کے گزر بسرکا واحد ذریعہ زراعت ہے۔ صنعت کاری اور نوکری کے دوسرے مواقع نہ کے برابر ہے۔ ٭٭٭

The author can be accessed at: qasmikhursheed@yahoo.co.in

اسلامی موضوعات پر ویڈیوز


1) نزول وحفاظت قرآن
2) قرآن فہمی حدیث نبوی کے بغیر ممکن نہیں
3) بے وضو قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں
4) حدیث پریزینٹیشن (ویڈیو)
5) حدیث پریزینٹیشن (آڈیو + سلائڈ شو)
6) وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
7) حضور اکرم کی ازواج مطہرات
8) لباس النبی ﷺ
9) حضور اکرم ﷺ کا نماز سے شغف اور تعلق
10) سنن ونوافل
11) صلاۃ التسبیح کی اہمیت اور پڑھنے کا طریقہ
12) نماز اور خطبہ صرف عربی زبان میں
13) تحفہ رمضان المبارک
14) روزہ کے چار بنیادی اہم مقاصد
15) ماہ رمضان کا آخری عشرہ (شب قدر اور اعتکاف)
16) صدقۂ فطر کے احکام ومسائل
17) عیدالفطر کے احکام ومسائل
18) ماہ رمضان المبارک کے بعد
19) زکوٰۃ کے مسائل
20) حج کیسے کریں؟ (Hajj Orientation Video)
21) حج کے پانچ ایام (ETV Live Telecast)
22) حج کی اہمیت وفضیلت
23) حج نظم
24) عمرہ کی ادائیگی کیسے کریں؟
25) سفر مدینہ منورہ
26) حج تربیتی پروگرام ۲۰۱۴ء
27) وقفۂ سوال وجواب ۔ حج تربیتی پروگرام ۲۰۱۴ء
28) دعا مؤمن کا عظیم ہتھیار
29) ٹوپی اور عمامہ

30) ماہِ رجب اور واقعہ معراج
31) شعبان اور شب براء ت
32) ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اور قربانی کے احکام ومسائل
33) امانت اور اس کے احکام ومسائل
34) ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے

Mohamamd Najeeb Qasmi

http://www.najeebqasmi.com/

Najeeb Qasmi – YouTube

Whatsapp: 0508237446

نیا سال :جشن یامحاسبہ؟

مرغوب الرحمن مظاہری، سہارن پور
موبائل 9897109226

۲۰۱۴ءءء ختم ہونے کو ہے ۲۰۱۵ءء آنے کو ہے اور مسلم جوان طبقہ بڑھ چڑھ کر اس کے جشن اور نیوائیر نائٹ منانے کی ہوڑ میں لگا ہوا ہے اور عیسائیوں کی اندھی نقالی عریانی وفحاشی والے فنکشن اور بے حیائی کے اور ایمان خراب کرنے والے پروگراموں کو ترتیب دینے میں لگا ہوا ہے جس میں فضول خرچی، دوسروں کو تکلیف پہنچانا،وقت کا ضائع کرنا ،جانی نقصان، ہلڑبازی ،شراب نوشی ،آتش بازی ،فائرنگ ،جنسی آوارگی ،ناچ گانا و موسیقی اور شریعت کے اصولوں کا مذاق اڑانا وغیرہ یہ سب اس میں شامل ہیں ،اور اب تو اس میں ایک وبا اور شامل ہوگئی ہے اور وہ یہ کہ لڑکے اور لڑکیاں ۳۱دسمبر کی رات کو ہوٹل یا نہرپر ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ اس میں ۹۰فیصدی کالج کے اسٹوڈینٹ ہوتے ہیں اور زیادہ تر اس رات کو دیر سے گھر لوٹتے ہیں۔ اول تو ماں باپ پو چھتے ہی نہیں کہ کہاں گئے تھے اگر پوچھتے بھی ہیں تو جواب ملتاہے فرینڈ کے یہاں تھے۔اس طرح کے پروگرام عقلًا اور شرعًا کسی طرح بھی درست نہیں بلکہ ناجائز اور حرام ہیں کہ ہماری زندگی کا ایک قیمتی سال کم ہوجائے اور ہم اس پر جشن منائیں، یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ابتداء ہی سے نئے سال کی آمد پر جشن کا کوئی تصور نہیں ۔کیا ہمارے مال میں سے اگر کچھ کم ہوجائے تو ہم ڈھول بجاتے ہیں ؟یا ماتم کرتے ہیں اور یہاں تو پھربیش بہاقیمتی اور انمول شئی زندگی کا ایک دن کم نہیں بلکہ ایک سال کم ہوگیا اس پر جشن کیوں کر منایا جائے۔
او پر جن برائیوں کو ذکر کیا گیاشریعت میں انکی کوئی اجازت نہیں بلکہ پہلے ہی ان کا دروازہ بند کردیاگیاہے اور ایسی تدابیر اختیار کی گئی ہیں اور ایسے سنہر ے اصول مرتب کئے گئے ہیں جو رہتی دنیا تک عرب وعجم ،کا لے گورے، بادشاہ ورعایا سب کے لئے حکمت سے بھرے مفید اور مشعل راہ ہیں کہ اگر انسان اسلامی شریعت کی روشنی میں زندگی کے راستے پر چلے تو بھٹکنے کا کوئی امکان نہیں (کوئی چانس نہیں ) اس نئی نسل کو علماء اپنے بیانات سے اور کتابوں کے ذریعہ سمجھارہے ہیں مگر ماں باپ ان پر کسی طرح کی کوئی روک ٹوک نہیں کررہے ہیں مسلمانو! خدا را،اپنے بچوں کی فکر کرو اور انہیں جہنم کے راستے سے بچاوٴ ۔
خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا :مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ (ابوداوٴد ومسند احمد)جوشخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے، یعنی خوب سمجھ لو کہ جو شخص عیسائیوں کے طریقے اختیار کرتا ہے تو وہ انہیں میں شمار کیا جائے گا ۔پس جو شخص زندہ ضمیر رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ رحمة للعٰلِمین حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قول پر عمل کرے تاکہ ان کے خیمہ میں کھڑ ا ہوسکے اور کل برے انجام سے بچ جائے۔
علامہ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم میں غیروں کی یعنی مسلمانوں کے علاوہ دوسروں کی مشابہت اختیار کرنے کے ممنوع ہونے کے بارے میں بہت سی وجوہات بیان فرمائی ہیں چند کو ذکر کیاجاتاہے ۔غیرمسلموں کی نقل اور پیر وی کرنے سے آدمی خود بخود صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے ،کفارکی مشابہت پر، کفار کے طریقوں پر جمے رہنے سے خود ہی شریعت مطہر ہ سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر یہ ہو رہاہے کہ مسلمانوں کی اس نقالی کو دیکھ کر کفار دلی خوشی محسوس کرتے ہیں اور اپنے کفر پر مضبوط سے مضبوط تر ہو تے چلے جاتے ہیں ۔کفار کے اعمال وعقائد رسم ورواج اور جشن وتہوار سب کے سب برائیوں کا مجموعہ اور بھلا ئیوں سے بالکل خالی ہیں ۔اے مسلمانو! اگر تم کو نیاسال مناناہی ہے تو نیا اسلامی سال مناتے کیونکہ اسلامی سال کی ابتداء وانتہاء کی تاریخ کا علم رکھنا مسلمانوں پرفرض کفایہ ہے اور اسلامی سال کے ہر ماہ کے چاند دیکھنے کی بھی تعلیم دی گئی ہے اور احادیث میں چاند دیکھنے کی دعاوٴں کا تذکرہ بھی موجود ہے اگر یہ دن منانا ہی ہے تواسمیں جائزہ لیجئے کہ حق تعالی نے زندگی جیسی نعمت عظمی سے سر فراز کیا اور اس کا ایک سال کم ہوگیا ۔کیاہم نے اللہ تعالیٰ کی ایسی ہی عبادت کی جیسا اس کا حق ہے یاہم نے اس میں کو تاہی برتی ؟ٹھندے دل سے سوچیں ساتھ ہی گذشتہ سال میں جو کوتاہیاں سر زدہوئیں ان کاآنے والے وقت میں دوبارہ نہ کرنے کا عزم کریں اور ان کی اصلاح کا پختہ ارادہ کریں ،پتہ نہیں کہ کب زندگی ختم ہوجائے اور پھر ہماری رب کے حضور حاضری ہو جائے ۔وماعلینا الاالبلاغ۔