کیا قربانی- جیوہتیا ہے؟

کیا قربانی- جیوہتیا ہے؟
مفتی مرغوب الرحمن سہارنپور
MOB.9897109226

مسلم دنیا کے سب سے بڑے اجتماع ”حج“ اور ذوالحجہ کے مخصوص ایام بقر عید کے دنوں میں پورے عالم کے مسلمان، حق جل مجدہ کی قربت اور خوشنودی و رضا مندی حاصل کرنے کے لیے اور اپنے فرض سے سبکدوش ہونے کے لیے قربانی کی عبادت سے سر فراز ہوتے ہیں۔ جس کا حکم رب العالمین نے اپنے کلام ”فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ“۔ (الکوثر:۲) میں دیا ہے ۔
بعض حضرات قربانی یعنی جانور کے ذبیح کرنے پر شک و شبہ کا اظہار کرتے ہیں اور اشکال پیش کرتے ہیں ، در اصل اگر ان کو صحیح نظر و فکر اور واضح زاویے سے دیکھاجائے تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ یہ شکوک و شبہات کے گھروندے اور اشکالات کا ڈھیر ہے، جس کے پیچھے کوئی علمی، تاریخی مذہبی بنیاد نہیں ہے، اور یہ کم علمی، تاریخ سے نادانستگی اور عصبیت کی بنیاد پر پیش آتے ہیں یہ اشکال کہ مسلمان جیوہتیا کرتے ہیں، اور خصوصاً بقر عید کے چند ایام میں کروڑوں جانوروں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں، جو ایک مذموم و معیوب حرکت ہے۔
قربانی جیسی عظیم و اہم عبادت مذموم ومعیوب نہیں بلکہ محمود و مطلوب ہے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ شانہ اپنی کتاب ”قرآن حکیم“ میں ارشاد فرماتے ہیں ”فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ“ اپنے رب کے آگے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے ”اُحِلَّتْ لَکُمْ بَہِیْمَةُ الْاَنْعَامِ“ (المآئدہ: ۱) تمہارے لیے چوپائے حلال کئے گئے ہیں ”وَالْاَنْعَامَ خَلَقَہَا لَکُمْ“ (نحل:۵) اور چوپائے تمہارے لیے بنادئے ”وَمِنْہَا تَأْکُلُوْنَ“ (نحل:۵، مومنون:۲۱) اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو، در اصل مذموم و معیوب حرکت بتانے والے خود معتوب ہیں۔ یہ حضرات علم سے کورے ہیں اور تو اور اپنی مذہبی تعلیم سے بھی نابلد ہیں۔
قربانی کا تصور وفلسفہ اور گوشت خوری کا مسئلہ صرف مذہب اسلام ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے دیگر بڑے مذاہب، مثلاً عیسائی مذہب، یہودی مذہب، ہندو دھرم، بدھ مت، سکھ مت اور پارسی مت وغیرہ میں بھی پایا جاتا ہے، خود ہمارے عزیز ملک میں ”نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹریشن“ کے سروے کے مطابق چونسٹھ فیصد خاندان گوشت خوری کرتے ہیں، یہودی اور عیسائی شریعتوں میں بھی ذبیحہ و قربانی کے احکامات اور مسائل اتنی کثر ت سے مذکور ہیں کہ بائبل ان سے بھربور ہے، خود وہ لوگ جو غلط فہمی اور عصبیت کا شکار ہیں ان کی مذہبی کتب و صحائف جیسے چاروں وید (رگ وید، یجروید، سام وید، اتھروید) اپنشذوں، براہمنوں رامائن، مہابھارت، منو سمرتی وغیرہ میں لحم خوری اور قربانی کے طور طریقہ، دنیاوی اور اخروی فوائد و منافع اور ثمرات وبرکات مذکور ہیں، شاہد ہی دیگر مذہبی کتب میں اتنا تفصیلی ذکر ہو، آئیے اب ایک جائزہ ہندو مذہبی کتب کا لیتے ہیں خوف طوالت کی بناء پر صرف ترجمہ پیش خدمت ہے۔
ہندو دھرم کے چاروں ویدوں میں سب سے اہم اور قدیم وید ہے ”رگ وید“ سب سے پہلے اسی کے منتروں کا ترجمہ پیش ہے۔
”وہ بیلوں کو پکاتے ہیں اور تم ان کو کھاتے ہو“۔ (منڈل:۱۰، سوکت منتر:۱۳)
تیرے لیے اے اندرا جس کی حمد وثنا تمام ماردت یکساں خوش ہو کر کرتے ہیں ، لیسان اور دشنو تمہارے لیے ایک سو بھینس پکائیں۔ (۶-۱۱-۱۷)
جب میں دیوتا کے مخالف دشمنوں پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ حملہ کروں گا تب میں تمہارے لیے قوی بیل پکاؤں گا اور سوم رس نچوڑوں گا۔ (۱۰-۲۷-۲)
…اندر تمہارے بیلوں کو کھالے۔ (۱۰-۲۷-۱۳)
رگ وید میں شادی کی تقریب کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے ”دولہا اور بارات کے لوگ دلہن کے گھر جاتے تھے یہاں دلہن بارات کے ساتھ مل کر کھانا کھاتی تھی مہمانوں کو اس موقع پر گایوں کا گوشت پیش کیا جاتا تھا۔ (۱۰-۸۵-۱۳)
اندر کہتے ہیں وہ میرے لیے پندرہ بیس بیل پکاتی ہے جنہیں کھاکر میرے جسم کی فربہی بڑھتی ہے اور میں اپنے پیٹ کی دونوں کوکھیں بھر لیتا ہوں۔ (۱۰-۸۶-۱۴)
اور یجروید ادھیائے (۶ تا ۲۲) کے ادھیاؤں میں ذبح ہونے والے جانور کے منتر اور کھمبے کا تذکرہ ہے، اسی دید کے ادھیائے (۲۲ تا ۲۵) کے ادھیاؤں میں اشومیہ یگیہ (شرعی رسوم کی انجام دہی کا ذکر ہے، مزید برآں رگوید کے منڈل :۱، سوکت :۱۶۲، انوواک:۲۲ کے منتر ۴۰۳، ۹ تا ۱۶، ۱۸ تا ۲۰ منتروں میں ذبح کرنے ، گوشت کاٹنے ، پکانے، کھانے کا طریقہ تفصیل سے موجود ہے اور ساتھ ہی پکوان کا بھی ذکر مذکور ہے)۔
یجروید میں ہی گائے کی چربی سے پتروں کے آسودہ کرنے اور نتیجہ میں تمناؤں کے پورا ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ (۳۵-۲۰)
اتھروید کے کھنڈ ۹، انوواک: ۱۹، منتر:۶ میں گوشت کی تعریف یوں کی گئی ”جل اور گھی سے پکا ہوا بکرا سب سے اعلی کھانا ہے، اس سے بہتر منھ کو صاف کرنے والا سمجھ وغیرہ سے مملو اور دھرم لوک (جنت) کا حاصل کرانے والا ہے، ایسے ہی منتر:۸ میں بکرے کے گوشت کے پکائے جانے کا ذکر ملتا ہے۔
چوتھے وید یعنی سام وید میں بچھڑے کی بلی (قربانی) کا چڑھایا جانا موجود ہے۔ اے اگنی ! ہم تجھ کو روشن کریں گے تاکہ ہم کو بہت دولت بھیجے، پس اے جوان بچھڑے بڑے چڑھاوے کے واسطے آسمان و زمین سے ہمارے پاس آنے کو کہہ۔ (۱-۲-۵-۳)
ہندو قانون کی بنیادی اور مسلمہ کتاب ”منوسمرتی“ کے کچھ شلوک پیش خدمت ہیں۔
ہر مہینہ جو شرادھ (یہ مجلس مردہ بزرگوں کی فاتحہ خوانی کے لیے قائم کی جاتی ہے اس میں تیار کئے جانے والا کھانا پہلے برہمنوں کو کھلا یا جاتا ہے، پھر رشتہ داروں اور قرابت داروں کو دیا جاتا ہے) کیا جاتا ہے وہ ایشوربادی کہلاتا ہے، اس کو اچھے مانس (گوشت) سے کرنا چاہے۔ (۳-۱۲۳)
آگے پھر درجہ بدرجہ جانورں کی قربانی پر ان کی روح کو سکون ملنے کا ذکر ہے، حتی کہ یہ بھی مذکور ہے کہ گائے کا گوشت پیش کرنے سے ایک سال تک اور بڑے بیل کے گوشت سے بارہ سال تک سکھ شانتی پراپت ہوتی ہے۔ (مہابھارت انو شاسن پرو، ادھیائے:۸۸، شلوک :۵، منوسمرتی :۳۶۸)
وشنو دھرمو ترپران میں شرادھ کے بارے میں یہ ہے کہ جو شخص شرادھ میں کھانا کھانے والوں کی صف میں پیش کئے گئے گوشت کو نہیں کھاتا وہ جہنم میں جاتا ہے۔ (۱/۱۴۰/۵۷۴۹)
یگیہ (قربانی) کے واسطے اور نوکروں کے کھانے کے واسطے اچھے ہرن اور پرند مارنا چاہئے۔ اگلے زمانے میں رشیوں نے یگیہ کے واسطے کھانے کے لائق ہرن اور پرندوں کو مارا ہے۔ (۲۲/۲۳)
ساکن و متحرک جتنی چیزیں دنیا میں ہیں وہ جان کی غذا ہیں اس بات کو شری برہماجی نے کہا ہے۔ (۵-۲۸)
وہ جو ان کا گوشت کھاتے ہین جو کھانے کے لائق ہیں، وہ کوئی اپرادھ (گناہ) نہیں کرتا، چاہے وہ ایسا روزانہ ہی کیوں نہ کرے، کیونکہ کھانے کے لائق جانور اور نہ کھائے جانے کے لائق جانور کو برہما جی نے پیدا کیا ہے، قربانی کا گوشت کھانا صحیح ہے، اسے دیوی رسم و رواج کے مطابق دیوتاؤں کا حکم مانا جاتا ہے۔ (۳۰/۳۱)
شاستری کی ودھ () سے جو شدھ مانس ہے ان کو جو آدمی نہیں کھاتا وہ پرلوک () ہیں ، اکیس جنم تک جانور ہوتا ہے (۳۵) شری برہما جی نے قربانی کے جانوروں کو خود ہی بنایا ہے قربانی کے لیے، قربانی کے لیے جانور کو مارنا کوئی قتل نہیں ہے۔ (۳۹)
ایسے کاموں کے لیے جانور کو مار کروید کے اصل مطلب کو جاننے والا برہمن خود کو اور اس جانور کو اچھی حالت کو پہنچاتا ہے۔ (۴۲)
والمیکی رامائن میں درج ہے کہ ”اس وقت لچھمن دس ہزار ہرنوں کو مار کر لاتے اور رام چند کے آگے رکھ دئے، رام چندر جی بہت خوش ہوکر کہنے لگے کہ آج مانس (گوشت) بہت دیوتاؤں کو دینا چاہے، یہ سن کر جانکی جی (سیتا جی) نے اٹھا کر رام چند ر جی کے آگے رکھ دیا اور رام چندرجی دیوتا لوگوں کو بھوگ (کھانا) دینے لگے (اجودھیا کھنڈ، ادھیائے:۹۵)
مہابھارت کے شانتی پرو، ادھیائے :۲۹، شلوک:۱۷۹ میں یہ بات بھی صراحت کے ساتھ ملتی ہے ، ایک دن راجہ رنتی دیو کے بہت سے مہمان آگئے ، لہٰذا اس نے بیس ہزار ایک سو گائیں ذبح کیں۔
دی ہسٹری اینڈ کلچر آف انڈین پیپل میں مہا بھارت کے حوالہ سے تحریر ہے کہ راجہ رنتی دیو لوگوں کو گوشت پیش کرنے کے لیے روزانہ دوہزار عام جانور اور دو ہزار گائیں مارا کرتے تھے۔ (ص:۵۷۹)
بھاگوت اسکند:۱۰، ادھیائے: ۵۸ میں تحریر ہے: شری کرشن اور ارجن جی نے قربانی کا وقت آپہنچنے پر بہت سے جانور قربان کئے، جن میں ایک بن گائے بھی تھی۔
شت پتھ براہمن میں ہے، مہمان کے لیے بڑا بیل ذبح کرنا چاہئے۔ (۳/۴/۲)
جو مانس ہے یہ سب سے بہتر غذا ہے۔ (۱۱/۷/۲۰۱)
برہمہ دیورت پر ان کرتی کھنڈ میں مہادیو سویگیہ نامی راجہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کی حکومت میں برہمنوں کو روزانہ گوشت دیا جاتا تھا۔ (۵۰/۱۲)
گوشت خوری انسانی ضرورت:
غذا انسان کے لیے بنیادی ولازمی ضرورت ہے، قدیم زمانے میں غذا کے مقصد صرف دو ہوا کرتے تھے بھوک کا ختم کرنا، اور حصول ذائقہ لیکن فی زماننا یہ دونوں چیزیں زائد و اضافی بن چکی ہیں، موجودہ دور میں سائنسی تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ غذا کا اصل اور بنیادی مقصد وہ ہے جس کو ہمارے زمانے میں ”متوازن غذا“ سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس میں چھ اجزاء بنیادی طور پر شامل ہوتے ہیں وہ یہ ہیں، لحمیات (Proteins) حیاتین (Vitamins) ریشہ دار اجزاء (Fibre) نشاستہ (Carbohydrates) معدنی نمکیات(Minerals salts) شحمیات (Fat)، ان میں لحمیات کا ہمارے جسم کی نشو و نما اور بناوٹ میں اہم رول رہتا ہے، اور گوشت پروٹین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے بلکہ پروٹین کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ لحمی غذا ہی ہے، اگر چہ غیر لحمی غذا سے بھی پورٹین حاصل ہوتا ہے لیکن وہ نسبتاً ناقص و ناتمام ہوتا ہے اور گوشت میں وہ تمام آٹھ ضروری امینیو ایسڈ موجود ہوتے ہیں، جن کی انسان کا جسم پیدائش وخلقت نہیں کرسکتا بلکہ کھانے کے ذریعہ ہی پہنچائے جاتے ہیں، گوشت میں فولاد، نیا سین اور وٹامن بی -ون بھی پایا جاتا ہے۔
انسانی ساخت:
خالق کائنات نے خود انسانی ساخت و بناوٹ ایسی بنائی ہے کہ جس سے بخوبی یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خالق نے اس کو گوشت خور بنایا ہے کیونکہ احکم الحاکمین نے انسان کے دہن کے اندر کچھ دانت نوکیلے رکھے ہیں جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ خود اوپر والے نے انسان کو گوشت خور بنایا ہے آپ دیکھیں گے کہ جو جانور گوشت خور ہوتے ہیں جیسے چیتا، شیر وغیرہ وہ نوکیلے دانت رکھتے ہیں، یہ یکسانیت و مماثلت بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسان لحم خور ہے۔ کچھ دانت غیر نوکدار ، سپاٹ عطا فرمائے ہیں جو اس بات کے مشیر ہیں کہ انسان سبزی خور بھی ہوسکتا ہے اسی طرح وہ جانور جو سبزی خوری کرتے ہیں، مثلاً گائے، بکری، بھیڑ وغیرہ کو نوکیلے دانت نہیں بلکہ سپاٹ دانت دئیے ہیں۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ انسانی دانت بالکل اور کلی طور پر گوشت خور جانوروں کے مشابہ نہیں یہ بات ٹھیک ہے کہ انسانی دانت کلی طور پر گوشت خور جانوروں کے مشابہ نہیں لیکن جرزئی طور پر مشابہ ہیں، وجہ فرق یہ ہے کہ جانور گوشت کو کچا کھاتے ہیں جب کہ انسان پکاکر کھاتے ہیں چاہے وہ کسی طریقہ پر ہو۔
غذائی اجزا کھالینے کے بعد اس کا صرف پیٹ میں پہنچ جانا ہی کافی نہیں بلکہ غذائی اجزا کا ہضم ہونا بھی از حد ضروری ہے جس کے بعد ہی یہ اجزا جسم کے اجزا بنتے ہیں جو ایک پیچیدہ نظام یعنی ”نظام ہضم“ کے تحت ہوتا ہے اگر یہ نظام ہضم نہ ہو تو کوئی بھی غذا، صحت بخش غذا نہیں بن سکتی، جو حیوان سبزی خور ہیں ان کو اللہ تعالیٰ شانہ نے صرف ایسا نظام ہضم عطا کیا ہے کہ وہ گھانس پھونس ہی کو ہضم کرسکتے ہیں اور جو جانور اپنی غذا گوشت کو بناتے ہیں ان کو ایسا نظام ہضم عطا کیا ہے کہ وہ گوشت کو ہضم کرسکتے ہیں جب کہ انسان کو رب العالمین نے دونوں طرح کے نظام ہضم عطا فرمائے ہیں، اگر حق جل مجدہ کو انسان کا گوشت کھانا مطلوب و مقصود نہ ہوتا تو پھر وہ دونوں نظام کیونکر عطا فرماتا؟
اس پورے معاملہ کا تعلق اس خالق کائنات سے ہے جس نے کوئی بھی چیز بغیر فائدہ کے پیدا نہ کی
نہیں کوئی ہے عائدہ قدرت کے کارخانے میں
خالق نے اپنی تخلیق میں جو نظام مقررو متعین فرمایا ہے وہ یہی ہے کہ انسانی جسم کی غذائی ضرورت زندہ اجسام کے ذریہ ہو، قانون فطرت کے مطابق کوئی انسان اپنے جسم کے اندر زندہ اجسام کو پہنچائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، خالق ارض وسموات کے اصول وقانون کے مطابق زندہ اشیاء ہی زندوں کی خوراک بنتی ہیں، زندہ شئ ہی زندوں کو زندگی اور صحت وتوانائی عطا کرتی اور بخشتی ہے۔
سبزی بھی جن رکھتی ہیں:
جو حضرت رحم و کرم اور انصاف کے علم بردار ہیں ”جیو ہتیا“ نہیں، اور ”جیو ہتیا“ پاپ ہے، کے نعرے الاپتے ہیں، اہنسا پر مودھرم کے پجاری کیا یہ نہیں جانتے کہ وہ جو ہوا، پانی، دودھ، دہی اور سبزیاں منوں نہیں بلکہ ٹنوں ڈکار جاتے ہیں کیا اس میں ”جیو ہتیا“ کرنے کا احساس ان کو دامن گیر ہوتا ہے؟ اور کیا ان کو یہ اہنسا معلوم ہوتی ہے؟ کل تک لوگوں کا خیال یہ تھا کہ بناتات وغیرہ اپنے اندر حس وحیات اور دکھ درد کا احساس نہیں رکھتے، حالانکہ قرآن کریم روز اول سے یہ کہہ رہا ہے:” وَاِنْ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہِ وَلَکِنْ لَا تَفْقَہُونَ تَسْبِیْحَہُمْ“ (بنی اسرائیل:۴۴) ( )
اگر چہ سائنس اس آیت و حکیمہ کی آج تک مکمل تحقیقی تفسیر نہیں کرسکی لیکن علم حیاتیات (Biology) اس جگہ تک ضرور پہنچ گیا ہے کہ نباتات وغیرہ اپنے اندر حس و حیات رکھتے ہیں، ہندوستان کے مشہور سائنسداں ڈاکٹر جگدیش چندر بوس نے سائنٹفک دلائل و براہین کے ذریعہ یہ ثابت کردکھایا کہ پیڑپودے بھی حس و شعور رکھتے ہیں، ڈاکٹر صاحب نے پیڑ پودوں کے دکھ، درد، تکلیف اور موت کے حالات ، کیفیات اور واردات کا مشاہدہ پردے پر بھی کرایا، انہوں نے پودوں میں بجلی کی ہلکی سی ایک لہر دوڑائی جس کی وجہ سے پودوں کا کانپنا اور تڑپنا پردے پر صاف اور بدیہی طور پر دکھائی دینے لگا، اور پودے آہستہ آہستہ بے جان و پژمردہ ہوگئے۔
ایک امریکی کاشتکار نے پودوں پر تحقیق کی اور ایک ایسا آلہ ایجاد کیا جو پیڑ پودوں کی چیخ و پکار کو بتدیل کرکے فریکونسی کے اس دائرہ میں لاتا ہے جہاں انسانی سماعت بھی اس صوتی لہر کو سن سکے، کیونکہ انسانی سماعت کے سننے کا جو دائرہ کار ہے وہ ایک حد تک محدود ہے یعنی انسانی بیس ہرٹز سے لے کر بیس ہزار ہرٹز تک ہی سن سکتا ہے، اس سے کم یا زیادہ حد کی آوازیں انسان نہیں سن سکتا۔ جب کبھی پودے پانی کے لیے چلاتے تو اس کو یہ کسان معلوم کرلیتا اور دیگر جدید محققین نے بھی اپنی ریسرچ اور تحقیق کے ذریعہ یہ ثابت کیا ہے کہ نباتات بھی خوشی اور غم کا احساس کرتے ہیں اور پیڑپودے تو بہت زیادہ حساس اور ذکی الحس ہوتے ہیں، جن کو علم نباتات (Botany)میں سریع التاثیر پودے (Sensitive Plant) کا نام دیا گیا ہے، لاجونتی ڈراسیر بھی اس کی ایک مثال ہے، حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے کچھ پودے بھی ایسے پیدا کئے ہیں، جو انسان کی طرح لحم خوری کرتے ہیں جو عالم کے مختلف خطوں میں نمودار ہوتے اور پائے جاتے ہیں، جیسے پوٹرپکلریا (Utricularia ) نپنتھیز (Nepenthes) پکچر پلانٹ (Pitcher Plant) وینس مگس (Venus Fly Trat Megus)ڈراسرا (Drosera) وغیرہ۔

فخر دیوبند حضرت مولانا سرفراز خان صفدر

( محمد اللہ خلیلی قاسمی ، شعبہٴ انٹرنیٹ، دارالعلوم دیوبند )

بشکریہ: ماہنامہ دارالعلوم دیوبند، ستمبر اکتوبر 2009

گذشتہ ۵/ مئی ۲۰۰۹ء کو پاکستان میں بر صغیر کے مشہور و متبحر عالم ربانی حضرت مولانا سرفراز خان صفدر (رحمة اللہ علیہ) کا سانحہٴ انتقال پیش آیا۔ ملکی سرحدوں اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان بے اعتمادی کے تعلقات کی وجہ سے کتنے ایسے آفتاب و ماہتاب ہیں جو سرحد کے اس پار چمک دمک رہے ہیں لیکن ہم اہل ہند کو ان کی عظمت اور اہمیت کاصحیح اندازہ نہیں ہوپاتا۔ تاہم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر (رحمة اللہ علیہ)کا معاملہ پھر بھی مختلف ہے، آپ کی عظیم الشان جامع علمی شخصیت اور بلند پایہ علمی خدمات کا شہرہ ہندوستان کے دینی و علمی مراکز تک محیط ہے اور علوم اسلامیہ کا ہر طالب علم آپ کی محققانہ اور بابصیرت تصنیفات کے حوالے سے آپ کو خوب جانتا ہے۔

آپ امام اہل سنت کے لقب سے جانے جاتے تھے اور آپ کی عظیم شخصیت کو بجا طور پر فخر دیوبند اور ترجمان اہل حق کے طور پر جانا جاتا تھا۔ قرآن و حدیث، فقہ و تصوف اور جملہ علوم اسلامیہ میں آپ کو تبحر حاصل تھا۔ عقائد اہل سنت کی تشریح اور اہل حق کے مضبوط دفاع میں آپ اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ آپ کا شمار ان چند گنے چنے کثیر التصانیف علمائے دیوبند میں ہوتا ہے جس فہرست میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی رحمة الله عليه کا نام آتا ہے۔ تقریباً ایک صدی پر محیط زندگی میں آپ نے متعدد میدانوں میں جو علمی ، دینی، دفاعی اور اصلاحی خدمات انجام دی ہیں وہ بلاشبہہ آپ کو زندہ جاوید بنانے کے لیے کافی ہیں۔

ولادت اور تعلیم

آپ متحدہ ہندستان کے مانسہرہ (صوبہ سرحد) کے ایک گاؤں ڈھکی چیڑاں داخلی کڑمنگ میں ۱۹۱۴ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اسم گرامی محمد سرفراز خان ابن نور محمد خان ابن گل احمد خان تھا۔ بچپن میں ہی والدہ فوت ہوگئیں۔ والد صاحب گو امی تھے، لیکن انھوں نے طلب علم کے لیے گھر سے دور بھیجا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مانسہرہ ہی میں مولانا غلام غوث ہزاروی سے حاصل کی ۔ اسی دوران ۱۹۳۱ء میں والد صاحب کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اپنے برادر خورد کے ساتھ یتیمی اور بے کسی کی حالت میں برسوں یہاں وہاں بھٹکتے رہے ۔ آخر کار کچھ خیر خواہوں کی رہنمائی سے سیالکوٹ و ملتان کا رخ کیا اور وہاں علمی تشنگی بجھائی۔ وڈالہ سندھواں ضلع سیالکوٹ میں مولانا محمد اسحاق رحمانی (شاگرد مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمة الله عليه) سے ابتدائی عربی کتب پڑھیں۔ ۱۹۳۷ء میں جہانیاں منڈی ضلع ملتان میں مولانا غلام محمد لدھیانوی ( شاگرد حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه) کے زیر سایہ علمی منازل طے کیے۔ اس کے بعد مزید تعلیم کے لیے آپ نے جامعہ انوارالعلوم گجرانوالہ میں داخلہ لیا جس کے مہتمم مولانا عبد العزیز صاحب رحمة الله عليه فاضل دیوبند اور صدر مدرس علامہ عبد القدیر خان کیملپوری (شاگرد حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه ) تھے۔

آپ نے ۱۹۴۱ء میں اپنے چھوٹے بھائی مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا اور دورہٴ حدیث میں داخل ہوئے۔ دیوبند میں آپ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمة الله عليه سے بخاری و ترمذی پڑھی، جب کہ امام المنطق والفلسفہ علامہ ابراہیم بلیاوی رحمة الله عليه سے مسلم شریف اور شیخ الادب والفقہ حضرت مولانا اعزاز علی امرہوی رحمة الله عليه سے ابو داؤد شریف کی تکمیل کی۔ اس سال دورہٴ حدیث میں ۳۳۳ طلبہ داخل تھے، جبکہ پورے دارالعلوم میں طلبہ کی تعداد ۱۹۹۵ تھی۔ اسی سال حضرت مدنی رحمة الله عليه کو مرادآباد میں ایک تقریر کی پاداش میں گرفتار کرلیا گیا ۔ اس موقع پر طلبہٴ دارالعلوم نے حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا، حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدر اس تحریک میں طلبہ کے نمائندے تھے اور انھوں نے بڑے دانشمندانہ طریقے سے اکابرین دارالعلوم کے ساتھ مل کر اس ہنگامہ سے دارالعلوم کو بچایا ورنہ یہ خدشہ پیدا ہوچکا تھا کہ برطانوی حکومت اس بہانے سے دارالعلوم کو بند کردیتی۔

تدریس و دینی سرگرمیاں

تکمیل تعلیم کے بعد آپ نے مدرسہ انوارالعلوم جامع مسجد شیرانوالہ باغ (گجرانوالہ ، پنجاب) میں تدریس کا آغاز کیا۔ ۱۹۴۳ء میں آپ گکھڑتشریف لائے جو اس زمانے میں شرک و بدعت کا گڑھ تھا۔ یہاں آپ نے جامع مسجد میں خطابت اور درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا اور نہایت صبر آزما حالات میں کام کیا ، لوگوں کو توحید و سنت کی طرف دعوت دیتے رہے۔ گکھڑ میں ہی آپ نے گورنمنٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں ۱۹۴۳ء میں درس قرآن شروع کیا جس کا سلسلہ نصف صدی سے زیادہ مدت تک قائم و دائم رہا۔ ۱۹۵۵ء میں آپ نے اپنے بھائی کے قائم کردہ جامعہ نصرة العلوم گجرانوالہ میں مدرس ہوئے جہاں آپ نے شیخ الحدیث کے عہدہ تک ترقی کی اور ۲۰۰۱ء تک بخاری شریف پڑھاتے رہے۔ ۲۰۰۱ء میں مرض کی شدت کی وجہ سے بخاری شریف پڑھانا چھوڑ دیا۔

زمانہٴ طالب علمی ہی سے خطابت کے سلسلے میں مشہور تھے۔ آپ کی گرمیٴ گفتار اور تقریری صلاحیت کو دیکھ کر طالب علمی ہی کے زمانے میں دیوبند کے مشہور مجاہد آزادی شاعر علامہ انور صابری نے آپ کو ’صوبہ سرحد کا ابو الکلام آزاد‘ کے لقب سے نوازا۔ چناں چہ آپ نے متحدہ ہندوستان اور پاکستان کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تحریک آزادی میں جمعیة علما ہند کے پلیٹ فارم سے شریک ہوتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۳ء میں جب تحریک ختم نبوت شروع ہوئی اس میں بھرپور حصہ لیا۔ بالآخر گرفتار ہوئے اور پہلے گجرانوالہ جیل اور پھر نیو سینٹرل جیل ملتان کو سنت یوسفی سے زندہ رکھا۔ نو ماہ جیل میں رہے۔ زنداں کی تنہائی و خلوت کی زندگی سے آپ کی تحریری زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ آپ کی مختصر خود نوشت سوانح کے مطابق آپ نے اپنی کتاب ’ایک اسلام‘ کا مسودہ نیو سینٹرل جیل ملتان میں ہی تیار کیا۔ جیل میں بھی آپ کے علمی و دینی ذوق کی حد یہ تھی کہ تدریس و تصنیف کا سلسلہ ممکنہ حد تک جاری رکھتے۔

پاکستان میں اٹھنے والی دیگر تحریکات جیسے تحریک نفاذ شریعت اور تحریک نظام مصطفی میں پیش پیش رہے۔ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی کے دوران ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے جب ایف ایس ایف کے کمانڈر نے وارننگ دی کہ اگر انہوں نے ریڈ لائن عبور کی تو انہیں گولی مار دی جائے گی ۔ آپ نے تمام لوگوں کو روک کرکہا کہ آپ لوگ گواہ رہو، میں نے ۶۳ سال کی سنت عمر گزار لی ہے، میں شہادت کی تمنا رکھتا ہوں۔ چناں چہ آپ نے سب سے پہلے اس ریڈ لائن کو پار کر کے اس چیلنج کو قبول کیا۔

طریقت میں آپ کے شیخ حضرت مولانا حسین علی (وان بھچراں ضلع میانوالی ) تھے جو نقشبندی مجددی شیخ خواجہ محمد عثمان درمانی کے خلیفہ اور امام ربانی قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة الله عليهکے شاگرد رشید تھے۔ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے گل سرسبد، امام الموحدین حضرت مولانا حسین احمدصاحب شیخ القرآن کے طور پر جانے جاتے تھے۔ آپ انھیں کے تلمیذ و مجاز، ان کی فکرو سوچ کے امین اور سلوک و احسان اور تفسیر و بیان میں ان کے علمی جانشین تھے۔

جامع علمی شخصیت

حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمة الله عليه ایک بے مثال علمی شخصیت کے مالک تھے ۔ ایک طرف آپ نے مدارس میں نصف صدی سے زائد مدت تک مسند درس سجا رکھی تھی جہاں سے چالیس ہزار سے زائد طالبین علوم نبوت نے آپ سے استفادہ کیا جو اس وقت پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی جگہوں پر انتہائی اہم اور قائدا نہ کردار ادا کررہے ہیں۔خصوصاً فن حدیث پر آپ کو بے انتہا عبور حاصل تھا ، چناں چہ بر صغیر کے ممتاز ترین محدثین میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔دوسری طرف آپ شیخ طریقت تھے جہاں لوگ آپ سے استرشاد کا تعلق قائم کیے ہوئے تھے۔ حضرت مولانا حسین احمد نقشبندی مجددی سے جو دولت قرآن آپ کو ملی تھی اسے بھی آپ نے گکھڑ میں نصف صدی سے زائد مدت تک پابندی کے ساتھ عوام و خواص کو تقسیم کیا۔ درس و تدریس اور تفسیر قرآن و خطابت جمعہ کی بے انتہا مشغولیت کے باوجود آپ نے تحریری میدان میں بھی قلم کی جولانی دکھائی اور مختلف موضوعات پر تقریباً ساٹھ کتابیں بھی تصنیف فرمائیں جو اپنی علمی وقعت، تحقیقی بلندی اور اسلوب و زبان کی متانت کے لحاظ سے قابل صد رشک ہیں۔ آپ بہترین خطیب بھی تھے، پوری عمر جامع مسجد گکھڑ کے محراب و منبر کو آپ نے اپنے علمی و اصلاحی خطبوں سے رونق بخشی۔ مگر بایں ہمہ تواضع کا یہ عالم تھا کہ تحقیقی تحریروں اور علمی رفعتوں کے سبب علمی حلقوں میں جب آپ کو بجا طور پر امام اہل سنت کے لقب سے پکارا جاتا تو آپ کا رد عمل یہ ہوتا: ”جی ہاں میں اہل سنت والجماعة کی جامع مسجد کا امام ہوں“۔

دفاع حق اور فرق با طلہ کا تعاقب

دیوبند ہی میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمة الله عليه نے آپ کو ’صفدر‘ کا لقب عطا فرمایا تھا، جو بعد میں حرف بحرف آپ پر صحیح ثابت ہوا۔ اہل حق کے دفاع اور فرق باطلہ کے تعاقب کا سلسلہ گکھڑ کے اہل بدعت سے شروع ہوا ۔ آپ نے بعد میں فتنہٴ غیر مقلدیت، فتنہٴ انکار حدیث ، فتنہٴ قادیانیت کو زبردست علمی دلائل سے رد کیا اور حق کی اشاعت و ترویج کا حق ادا کردیا۔ آپ نے جس فتنہ اور فتنہ پرور کا تعاقب کیا، اس کو گھر تک پہنچاکر دم لیا۔ مگر بایں ہمہ آپ نے ہمیشہ متانت و سنجیدگی اور قوت استدلال سے بات کی، کٹر سے کٹر مخالف بھی آپ کی حذاقت و صداقت اور اعتدال کا قائل اور آپ کے زور استدلال کا معترف تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی تصانیف کو سند و حجت کا درجہ حاصل ہے اور ایسے تمام اختلافی مسائل جن پر ہندوپاک میں ایک عرصہ سے میدان کار زار اور جنگ و جدل کا اکھاڑہ برپا تھا، آپ نے نہایت مدلل و محقق انداز میں مبرہن فرمادیا۔ بلاشبہ امام اہل سنت نوراللہ مرقدہ دین و مذہب اور مسلک کے معاملہ میں مضبوط و متصلب ضرور تھے، لیکن متعصب نہیں تھے۔یہی وہ اعتدال تھا جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو عزیز جہاں بنادیا تھا، اپنے تو اپنے پرائے اور مخالف بھی آپ کی عظمت کے قائل تھے۔ بہت کم لوگوں کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہوگا کہ جس نے قریب قریب تمام فروعی مسائل اور فرق باطلہ کی تردید میں مدلل و محقق انداز میں لکھا ہو، اور ان کی کھل کر تردید کی ہو، مگر اس کے باوجود اسے ہر فرقہ کے لوگ بلکہ عوام و خواص اور جاہل و عالم، عظمت و قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوں ۔

کبھی کبھی کسی موضوع پر آپ سے حضرت مفتی محمد شفیع صاحب، علامہ بنوری اور مفتی محمود (رحمہم اللہ) کتاب لکھنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ شیخ الاسلام حضرت مدنی، شیخ عبد الفتاح ابوغدہ، شیخ الحدیث مولانا عبد الحق حقانی، حضرت قاری محمد طیب، امیر شریعت حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، حافظ حدیث مولانا عبد اللہ درخواستی، شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری، محدث جلیل مولانا حبیب الرحمن اعظمی، علامہ خیر محمد جالندھری ، علامہ شمس الحق افغانی، مفتی سید مہدی حسن، شیخ الحدیث مولانا محمد عبد الرحمن کیملپوری وغیرہ اکابر حضرات نے آپ کی تحریروں کی تعریف کی ہے اور ان پر اپنی گراں قدر تصدیقات ثبت کی ہیں۔

تصنیفات کی فہرست

ذیل میں حضرت مولانا سرفراز صفدر خان رحمة الله عليه کی تصنیفات کی ایک فہرست پیش کی جارہی ہے :

(۱) تفسیر قرآن (آٹھ جلدیں) (۲) خزائن السنن: دو جلدوں میں جامع ترمذی کی شرح (۳) احسن الباری (۴) گلدستہٴ توحید (۵) راہ سنت (۶) تبرید النواظر (آنکھوں کی ٹھنڈک )، (۷) تفریح الخواطر (حاضر و ناظر) (۸) دل کا سرور (۹) تنقید متین بر تفسیر نعیم (۱۰) مسئلہٴ نور و بشر (۱۱) عبارات اکابر (۱۲) تسکین الصدور فی تحقیق احوال الموتی فی البرزخ والقبور (۱۳) احسن الکلام مسئلہ فاتحہ خلف الامام (۱۴) الکلام المفید فی اثبات التقلید (۱۵) طائفہٴ منصورہ (۱۶) ازالة الریب عن عقیدة علم الغیب (۱۷) آئینہ محمدی (۱۸) درود شریف پڑھنے کا شرعی طریقہ (۱۹) چہل مسئلہ حضرات بریلویہ (۲۰) اظہار الغیب فی کتاب اثبات علم الغیب (۲۱) ملا علی قاری اور مسئلہٴ علم غیب (۲۲) المسلک المنصور (۲۳) اتمام البرہان فی رد توضیح البیان(چار جلدیں) (۲۴) عمدة الاثاث (طلاق ثلاث) (۲۵) مقام ابی حنیفہ رحمة الله عليه (۲۶) الشہاب المبین (سماع موتی) (۲۷) سماع موتی (۲۸) ینابیع (تراویح) (۲۹) ہدایة المرتاب الی طریق الثواب فی تحقیق المعجزات (۳۰) ضوء السراج فی تحقیق المعراج (۳۱) اطیب الکلام (۳۲) الکلام الحاوی فی تحقیق عبارة الطحاوی (۳۳) حکم ذکر بالجہر (۳۴) اخفاء الذکر (۳۵) ارشاد الشیعة (۳۶) عیسائیت کا پس منظر (۳۷) توضیح المرام فی نزول المسیح (۳۸) مقالہ ختم نبوت (۳۹) مرزائی کا جنازہ اور مسلمان (۴۰) صرف ایک اسلام (منکر حدیث غلام جیلانی برق کی کتاب ’دو اسلام‘ کے رد میں) (۴۱) انکار حدیث کے نتائج (۴۲) شوق حدیث (۴۳) مودودی کا غلط فتوی (۴۴) تبلیغ اسلام (۴۵) بانی دارالعلوم دیوبند (۴۶) باب جنت (۴۷) چالیس دعائیں (۴۸) مسئلہٴ قربانی (۴۹) حلیة المسلمین (داڑھی) (۵۰) شوق جہاد (۵۱) راہ ہدایت (۵۲) خطبات امام اہل سنت (تین جلدیں) وغیرہ

امام اہل سنت قدس سرہ کی جملہ کتابیں خصوصاً عقائد و ایمانیات سے متعلق تحریریں نہایت ہی ایمان افروز اور بصیرت افزا ہیں۔ ان کتابوں نے بلامبالغہ ہزارہا ہزار ڈانواں ڈول افراد کو شکوک و شبہات سے بچایا اور ان کے دین و ایمان کا تحفظ کیا۔

وفات

۹۵/ سال کی طویل عمر گزارنے کے بعد آپ ۵/ مئی ۲۰۰۹ء مطابق ۹/جمادی الاولیٰ ۱۴۳۰ھ پیر اور منگل کی درمیانی شب کو دو بجے اس عالم فانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت فرماگئے۔ جنازے میں دو لاکھ سے زیادہ سوگوار فرزندان توحید نے شرکت کی اور اس عالم ربانی ، محقق دوران اور شیخ وقت کو سپرد خاک کیا۔ اللّٰھم اغفرہ وارحمہ وارفع درجاتہ فی جنات النعیم!