لوجہاد…شیطانی دماغ کی تخلیق،ایک مکروہ پروپیگنڈہ

مولاناسید احمد ومیض ندوی

حالیہ انتخابات سے قبل بی جے پی اقتدار کے تعلق سے ملک کی اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کو لیکر جن خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا وہ حرف بہ حرف صحیح ثابت ہورہے ہیں، بی جے پی نے ترقی وخوشحالی کے جن بلند بانگ دعووٴں کے ساتھ ملکی عوام کو سبز باغ دکھائے تھے وہ تو دھرے کے دھرے رہ گئے ،البتہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے ساتھ نت نئے مسائل کا سلسلہ شروع ہوگیا، مہنگائی کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے، بلکہ اس کا گراف مزید اونچا ہوچکا ہے، اچھے دنوں کی آمد کا انتظار کرتے کرتے عام ملکی باشندے ساری امیدیں قطع کرچکے ہیں، ملکی ترقی وخوشحالی کا کوئی مثبت ایجنڈا تو آگے نہ بڑھ سکا البتہ بی جے پی دورِ اقتدار میں دو میدانوں میں خوب ترقی ہوئی ہے، ایک فرقہ وارانہ فسادات، دوسرے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پرو پیگنڈہ مہم، بی جے پی اقتدار کے نتیجہ میں سب سے زیادہ جن عناصر کے حوصلے بلند ہوئے ہیں وہ ملک کی فرقہ پرست ہند توا طاقتیں ہیں، چنانچہ بی جے پی اقتدار لوٹنے کے ساتھ یہ طاقتیں پورے طور پر سرگرم ہوچکی ہیں، ایک طرف مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ مہم میں شدت پیدا کی جارہی ہے دوسری جانب اس سے پیدا ہونے والی اشتعال انگیز فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات تواتر کے ساتھ بھڑکائے جارہے ہیں، اتر پردیش فسادات کی آگ میں جل رہا ہے جہاں گذشتہ ۱۶/ مئی تا ۲۶ جولائی صرف دو ماہ کے عرصہ میں فرقہ وارانہ نوعیت کے ۲۵۹ واقعات رونما ہوچکے ہیں ان میں ۶۰ فیصد واقعات مغربی اتر پردیش میں پیش آئے اس طرح روزانہ اوسطاً ۱۰ تا ۱۲ واقعات کا تناسب رہا، مہاراشٹرا میں فرقہ وارانہ نوعیت کے ۱۶۷ واقعات پیش آ ئے۔
فرقہ وارانہ فسادات کے لئے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ کے ذریعہ زمین ہموار کی جاتی ہے، اس وقت نفرت پر مبنی یہ پروپیگنڈہ مہم منظم انداز میں چلائی جارہی ہے، اس کے لئے ہندتوا عناصر ایک بار پھر ”لوجہاد“ کے پروپیگنڈہ کا حربہ پوری قوت کے ساتھ استعمال کررہے ہیں، ایک سال قبل اسی لو جہاد پروپیگنڈہ کے ذریعہ مظفر نگر میں مسلم کش فسادات کرائے گئے تھے، میرٹھ کے حالیہ واقعات میں بھی مسلمانوں کے خلاف ہندو عوام کو مشتعل کرنے کے لئے یہی حربہ استعمال کیا گیا، لو جہاد محض نعرہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسا خطرناک ہتھیار بن چکا ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلا کر ان کے لئے ملک کی سر زمین تنگ کی جارہی ہے، لو جہاد در اصل مسلم مخالف رجحان کو ہوا دے کر سیاسی منافرت کو تقویت پہونچانے کا موٴثر حربہ ہے، بنیادی طور پر یہ فرقہ وارانہ سیاست کا ایجنڈا ہے، ہند توا کی فرقہ پرست تنظیمیں عرصہ سے اس بات کا پروپیگنڈہ کررہی ہیں کہ مسلم نوجوان ہندو لڑکیوں سے معاشقہ کر کے پہلے انہیں اپنے دام محبت میں پھانستے ہیں پھر انہیں جبری طریقہ سے تبدیلیٴ مذہب پر مجبور کرتے ہیں فرقہ پرست عناصر کے مطابق یہ کام بعض مسلم تنظیموں کی سر پرستی میں منظم طریقے سے انجام دیا جارہا ہے اس کے لئے باقاعدہ فنڈنگ کی جارہی ہے مسلم نوجوانوں کو اس کام کے لئے ہر قسم کی سہولیات اور مادی ترغیبات کا لالچ دیاجاتا ہے، فرقہ پرست تنظیمیں اپنے دعویٰ کو درست ثابت کرنے کے لئے بعض ان واقعات کو بطور ثبوت پیش کرتی ہیں جہاں کسی مسلم نوجوان سے محبت کرکے کوئی ہندو لڑکی اس سے شادی رچاتی ہے،ہندوستان جیسے کثیر ثقافتی ملک میں جہاں مختلف مذاہب کے پیروکار ایک ساتھ رہتے ہیں اور جہاں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مخلوط نظام تعلیم ہے اور بے پردگی اور مردوزن کا اختلاط عام ہے، بین مذہبی شادیاں کوئی تعجب کی بات نہیں اس قسم کے واقعات تقریبا ہر مذہب سی تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں پیش آرہے ہیں، لیکن ایسے اکا دکا واقعات کو بنیاد بناکر سنگھ پریوار کے تربیت یافتہ کارکنوں نے باقاعدہ ”لو جہاد“ کی اصطلاح گھڑ لی، اور بہت سی من گھڑت کہانیوں کا سہارا لیکر مسلمانوں کے خلاف عام ہندو بھائیوں میں نفرت کی آگ بھڑکانے لگے، اس کے لئے بیٹی بچاوٴ تحریک یا اینٹی لو جہاد فرنٹ نام سے باقاعدہ تحریک چلائی جانے لگی اور ”ہماری بیٹیوں کو مسلمانوں سی بچاوٴ“ جیسے نعرے لگائے گئے، ہندو بیٹیوں یا ہندو مذہب کے تحفظ کے نام پر باقاعدہ ایک میکانزم تیار کیا گیا ہے جس کے تحت ملک بھرمیں محبت والفت کا پیغام عام کرنے کے بجائے نفرت وعداوت کی فصل ا گائی جارہی ہے، لو جہاد ہی کے عنوان سے مظفر نگر میں حالات کو کشیدہ بنایا گیا، فسادات سے کافی عرصہ پہلے باقاعدہ بعض تربیت یافتہ کارکنوں کے ذریعہ ہندو لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کی منصوبہ بندی کی گئی افواہیں پھیلائی گئی، اور لو جہاد کا خوب پروپیگنڈہ کیا گیا جب لاوا خوب پک گیا تو بالآخر پھٹ پڑا اور دیہاتوں کے غریب مسلمانوں پر ایسی قیامت ٹوٹی کہ خاندان کے خاندان تباہ ہوگئے،لو جہاد در اصل شیطانی دماغ کی تخلیق ہے جس کا مقصد ایک طرف مسلمانوں کو بدنام کرکے ان کے خلاف نفرت کو ہوا دینا ہے، دوسری جانب جہاد جیسی خالص اسلامی اصلاح کی شبیہ بگاڑنا ہے۔
ملک میں اس اصطلاح کا سب سے پہلے استعمال ساحلی کرناٹک منگلور اور کیرلا کے کچھ علاقوں میں ہوا جب چندسال قبل وہاں بین مذہبی محبت کی شادیوں کے کچھ واقعات رونما ہوئے اور جب ان واقعات کی میڈیا کی جانب سے تشہیر کی گئی تو کئی ایک فرقہ پرست تنظیمیں میدان میں اتر پڑیں اور لو جہاد کا ہوا کھڑا کرنے لگیں، اس سلسلہ میں سر گرم تنظیموں میں آر یس یس کے تربیت یافتہ سویم سیوک پرمود مقالک کی قائم کردہ تنظیم شری رام سینا نے ایسے جو ڑوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا جس میں لڑکی ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہو حتی کہ ان تمام شادیوں کو جو والدین کی مرضی کے خلاف ہورہی ہوں نشانہ بنایا جانے لگا شری رام سینا کا پروپیگنڈہ ہے کہ صرف کرناٹک میں ۴ ہزار سے زائد ہندو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر مذہب تبدیل کرایا گیا ہے، اس افواہ کو جنگل کی آگ کی طرح سارے ملک میں پھیلادیا گیا جبکہ یہ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے، کرناٹک اور کیرلا واقعات کے بعد جب انہیں ریاستی ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تو عدالتوں نے پولیس کے ذریعہ کئی ماہ تک ان واقعات کی بھر پور جانچ کروائی، پولیس تفتیش کی تفصیلی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد فاضل ججوں جو فیصلہ صادر کیا اس میں صاف کہاگیا کہ لوجہاد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے اور اس کے منفی اثرات کا کوئی ثبوت نہیں، کیرلا میں پیش آئے جس واقعہ پر فرقہ پرستوں نے شور مچایا تھا کئی مہینوں کی تحقیقات کے بعد کیرالا پولیس نے ہائی کورٹ میں جو رپورٹ داخل کی تھی اس میں واضح طور پر بتایا گیا کہ پورے صوبے میں کئی گئی تفتیش کے بعد پولیس کو کسی بہی شہر میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے یہ ثابت ہو کہ کیرالا میں لو جہاد کے نام سے کوئی تحریک چل رہی ہے، کیرلا پولیس نے ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنائے جانے کی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ ایسے کوئی ثبوت نہیں ہیں جن سے معلوم ہو کہ ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنایا جارہا ہے، حیرت ہے کہ ان تمام حقائق کے باوجود نفرت کی سوداگر فرقہ پرست تنظیمیں لوجہاد کا ہوا کھڑا کررہی ہیں، مہاراشٹرا میں ہندو رکشک سمیتی نام کے گروپ نے بھی یہ نعرہ لگایا کہ ہندو مذہب کو بچانے کے لئے ہر اس جوڑے کو توڑ دو جس میں لڑکی ہندو ہے، کیرالا میں ایک عیسائی گروپ اس طرح کے رجحان کو روکنے کے لئے وی ایچ پی سے ہاتھ ملایا ہوا ہے، گجرات فسادات کے دوران بھی اس بات کا خوب پروپیگنڈہ کیا گیا کہ مسلم لڑکے آدی واسی لڑکیوں سے نہ صرف شادی کررہے ہیں بلکہ ان کا مذہب بھی تبدیل کررہے ہیں، صورتِ حال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ فرقہ پرست ہندو توا تنظیمیں لو جہاد کا پروپیگنڈہ کرکے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے سوشیل میڈیا یوٹیوب وغیرہ کا بھر پور استعمال کررہی ہیں، جس سے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بری طرح متأثر ہورہی ہے اور نوجوانوں کے ذہن زہر آلود ہوتے جارہے ہیں، اس مکروہ مہم کے لئے نیٹ اور سوشیل میڈیا کا استعمال کس عیاری کے ساتھ کیا جارہا ہے، اس کا اندازہ ایک صحافی کے اقتباس سے کیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے خود اپنے ساتھ پیش آئے معاملہ کا ذکر کیاہے وہ لکھتے ہیں :
”آج جیسے ہی ایک ضروری کام سے میں نے اپنا یوٹیوب اکاوٴنٹ کھولا ایک عجیب وغریب آڈیو ساوٴنڈ نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرلی، صاحب! آپ کا ذرا سا وقت لیا جائے گا، ہوسکتا ہے آپ کے ذریعے کسی کی زندگی بچ جائے․․․․ اتنا کہہ کر وہ آواز ذرا دیر کے لیے رکی، اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا، میں سوچ میں پڑ گیا ، یہ کیا ہے؟ پھر اس سے پہلے کہ مجھے کوئی جواب ملتا وہی آواز آنی شروع ہوئی۔
آپ اسے دیکھے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، یہ ایک فنڈا ہے، ایک چھچورا کام ہے، اس کا نام ”لوجہاد“ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان لڑکے بھولی بھالی غیر مسلم لڑکیوں کو اپنے عشق کے جال میں پھنساتے ہیں اور ان سے شادی کے وعدے کرکے انہیں ہندووٴں کے خلاف بھڑکاتے ہیں ،کہیں کہیں تو شادی بھی کر کے اور ہماری بہن بیٹیوں کا ذہنی وجسمانی استحصال کر کے ان سے بچے پیدا کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے، اس طرح ان مسلمانوں کا مقصد اپنی آبادی میں اضافہ کرکے ہندوستان میں مسلم حکومت قائم کرنا ہے، اس طرح سے ہندووٴں کی زندگی خطرے میں ہے، باہر کے لوگ ہم پر چھارہے ہیں اور ہم سے ہمارا ملک چھیننے کی کوشش کررہے ہیں، ان کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہماری بہن بیٹیوں کو جہاد کی ٹریننگ دے کر ہمارے کے خلاف کیا جائے میری ہندو بھائیوں سے اپیل ہے کہ وہ ایسے کسی بھی خطرے سے ہوشیار رہیں اور اگرکہیں ایسا دیکھیں تو فوراً پولیس کو بتاکر بھارت ماتا کے سچے سپوت ہونے کا ثبوت دیں․․․ اب آپ ایک ویڈیو دیکھیں جس میں ایک متأثرہ اپنی کہانی خود بتاتی ہے۔
اس زہریلی بکواس کے بعد ایک ویڈیو چلائی گئی جس میں ایک برقعہ پوش خاتون سے ایک شخص پوچھ رہا تھا: آپ ان کی چنگل میں کیسے پھنسے؟ اس نے جواب دیا: وہ مجھ سے کپل ورما کے نام سے ملا اصل میں میں اس کا نام ساحل عزیز تھا میں اسکے پیار میں پاگل ہوگئی، بغیر کچھ دیکھے جانے اس کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی، اس نے مجھ سے شادی کی اور اس طرح کے کام کرائے، آپ پہلے ہندو تھے؟ پوچھنے والا پوچھ رہا تھا، ہاں! مگر انہوں نے دھوکے سے شادی کی اور مجھے مسلمان بنایا․․․․مگر میرا استعمال کر کے چھوڑ دیا، اب میں پھر سے ہندو ہوگئی اور ان کے گھر سے بھاگ آئی ہوں․․․․ میری زندگی برباد ہوگئی ہائے ! میں کیا کرو، کہاں جاوٴں ، سماج میں کسی کو بھی منھ دکھانے کے قابل نہیں رہی، اتنا کہہ کر وہ ڈھونگی لڑکی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی، ابھی یہ مکالمہ یہیں تک پہنچا کہ پس منظر سے دل خراش آواز آنے لگی، آپ نے دیکھا بھائیو! کس طرح کے گیم کھیلے جارہے ہیں ،ہمارے ہی گھر میں سیندھ لگائی جارہی ہے، بھارت ماتا اب ہم کہاں جائیں ہمارے گھر میں ہی دشمن ہمیں برباد کررہا ہے۔
یہ بکواس یہاں تک آکر ختم ہوگئی مگر دماغ تک خراب کر دیا بعد میں اس واقعے کی تحقیق کی گئی اور یوٹیوب انتظامیہ سے اس سلسلے میں ربط کیا گیا تو انہوں نے ایک چونکا دینے والی بات کہی، ایک عرصے سے شیو سینا، بجرنگ دل ، وشو ہندو پریشد اور منسے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ہماری سائٹ کوہیک کر رکھا ہے مگر تعجب یہ ہے کہ وہ اتنی بات کہہ کر سائٹ کو آزاد کردیتے ہیں، ہمیں دھمکیاں بھی دیتے ہیں اور ہمیں وارننگ بھی دی جاتی ہے، اگر ہم نے ان کا کہا نہ مانا تو ہم پر پابندی لگانے کی بات کی جاتی ہے، اب ہم کیا کریں حکومت ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، یہ جیسا چاہیں گے اس ملک میں یہی ہوگا!
یوٹیوب انتظامیہ کی یہ بات ملک کے منصف مزاج لوگوں کے لیے لمحہٴ فکریہ سے کم نہیں ہے اورآخری الفاظ تو ہندوستان کی ہی سالمیت پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں، یوٹیوب پر شرپسندی کے علاوہ کتابچوں، پمفلٹوں، پوسٹروں اور اسٹیکروں کے ذریعہ بھی یہ گندگی پھیلائی جارہی ہے، جسے بڑے پیمانے پر چوراہوں، فٹ پاتھوں، پارکوں اور اسکول کالجز میں انہیں تقسیم کیا جارہا ہے، چنانچہ ایک اسٹیگر میرے ہاتھ بھی لگا جو کسی اینٹی لو جہاد فرنٹ کی جانب سے شائع ہے، اس کا متن ہے: ہندو بھائیوں سے اپیل ،جاگو ہندو جاگو! لو جہاد سے سودھان، مسلم لڑکے ہندو نام رکھ کر ہاتھ میں کلاوا باندھ کر وٹیکا لگا کر ہندو لڑکیوں کو جال میں پھنساتے ہیں، ان کا دھرم پر ورتن (بدل) کر کے شادی کر کے بچے پیدا کرتے ہیں ایوم (نیز) شریرک ومانسک سوشن (جسمانی وذہنی استحصال) کر کے انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔“
جہاں تک اسلامی تعلیمات اور مزاج شریعت کا تعلق ہے تو وہ اس سلسلے میں بالکل واضح ہے، قرآن مجید صاف کہتا ہے، لا إکراہ في الدین (البقرة) دین میں جبر نہیں، تاریخ کے کسی بھی دور میں اسلام تلوار یا طاقت کے بل بوتے پر نہیں پھیلا، اگر اسلام کی اشاعت میں کسی جبر یا لالچ کا دخل ہوتا تو آج دنیا میں اسلام کے علاوہ کوئی مذہب باقی نہ رہتا، خود ہمارے ملک میں مسلمانوں کی حکمرانی صدیوں پر محیط رہی، اگر جبر کا سہارا لیا ہوتا تو یہاں دیگر اہلِ مذاہب کا دور دور تک نام ونشان نہ ہوتا، اس کے علاوہ کسی کو جبر کر کے دوسرا مذہب اپنانے پر کیونکر مجبور کیا جاسکتا ہے، عقیدے کا تعلق دل سے ہوتا ہے، محض زبان سے کسی چیز کا اقرارکرلینا کافی نہیں، کوئی شخص کسی کے کہنے پر اپنا عقیدہ نہیں بدلتا، الا یہ کہ اس پر کسی مذہب کی حقانیت آشکارا ہوجائے، اس وقت دنیا بھر میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے جس تیزی کے ساتھ اسلام قبول کررہے ہیں ،وہ در اصل اُن کے ضمیر کی آواز ہے، انہوں نے اپنے ذاتی مطالعہ کی بنیاد پر اسلام کو برحق مذہب جانا ہے، سنگھ پریوار کی جانب سے لو جہاد کا جو ہوا کھڑا کیا جارہا ہے اس کی حقیقت تعصب وعناد کے علاوہ کچھ نہیں ہے، فرقہ پرست تنظیمیں جن واقعات کو بنیاد بنا کر اس وقت نفرت پھیلارہی ہیں، تحقیقات کے بعد اُن واقعات کی اصل حقیقت سامنے آچکی ہے، میرٹھ کی جس لڑکی کے تعلق سے پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے، حقائق سے ثابت ہوچکا ہے کہ وہاں جبراًتبدیلی مذہب کا کوئی معاملہ نہیں پیش آیا، لڑکی نے خود بیان دیا کہ وہ اپنے عاشق کے ساتھ اپنی مرضی سے بھاگ گئی تھی، کیوں کہ ان دونوں کے والدین اُن کی شادی کے لئے رضا مند نہیں تھے، بی جے پی قائدین کا دعویٰ ہے کہ حالیہ دنوں میں ۲۰ سے زائدجبری تبدیلی مذہب کے واقعات پیش آئے ہیں، لیکن جب اُن سے ثبوت کا مطالبہ کیا گیا تو وہ بغلیں جھانکنے لگے۔
پھر غور کرنے کی بات ہے کہ جس طرح ہندو لڑکیاں مسلم لڑکوں کے عشق میں گرفتار ہوکر مذہب تبدیل کررہی ہیں اسی طرح بہت سی مسلم لڑکیاں ہندو لڑکوں کے معاشقہ کا شکار ہوکر تبدیلی مذہب کررہی ہیں، ایسے میں صرف مسلمانوں ہی کے لئے لوجہاد کی اصطلاح کیوں گھڑ لی گئی ؟ اگر ہندو لڑکیوں کا عشق رچا کر نکاح کرنا لو جہاد ہے تو پھر مسلم لڑکیوں کے جو واقعات رونما ہورہے ہیں، اُسے کیا نام دیا جائے گا؟ بات صرف کسی مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی نہیں ہے، اِس وقت مخلوط نظام تعلیم اور فحاشی وبے حیائی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے نتیجہ میں پوری دنیا میں بین المذاہب شادیوں کے واقعات کثرت سے رونما ہورہے ہیں، مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں سے رشتہٴ نکاح میں منسلک ہورہے ہیں، ایک سروے کے مطابق آندھراپردیش میں ہر سال ایک ہزار دلت ہندو لڑکیوں کا عیسائیوں سے نکاح ہوتا ہے، پھر ان واقعات کو لو جہاد سے کیوں موسوم نہیں کیا جاتا؟ بی جے پی قائدین جو لو جہاد کا ہوا کھڑا کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں خود بین مذہبی شادیوں کے مرتکب ہیں، شاہنوازحسین نے ایک ہندو خاتون رینو سے نکاح کیا، جو تا حال ہندو ہے، سکندر بخت اور مختار عباس نقوی کی بیویاں بھی ہندو ہیں، بی جے پی کے قد آور لیڈر مرلی منوہر جوشی نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک مسلم نوجوان سے کیا، اسی طرح وشو ہندو پریشد کے قائد اشوک سنگل نے اپنی بیٹی کی شادی ایک مسلم نوجوان سے کرائی، خود اڈوانی کی بھتیجی کا شوہر مسلم نوجوان ہے، اس شادی میں خود اڈوانی بنفس نفیس شریک رہے، بال ٹھاکرے کی پوتی نیہا ٹھاکرے کا نکاح بھی ایک مسلم لڑکے سے ہوا، سبرا منیم سوامی جو کٹر مسلم مخالف شخصیت ہے، اُن کی بیٹی سہانی سوامی نے ایک مسلم لڑکے ندیم حیدر سے شادی رچائی، فرقہ پرست تنظیموں کی نظر اِن واقعات پر کیوں نہیں جاتی؟ اور ان کے خلاف کیوں ہنگامہ برپا نہیں کیاجاتا؟ بات صرف ہندو لڑکیوں ہی کی نہیں ہے جو مسلم نوجوانوں کے عشق میں مبتلا ہو کر قبول اسلام کرہی ہیں بلکہ اس قسم کے واقعات مسلم سماج میں بھی پیش آرہے ہیں، جہاں بے دین مسلم خواتین نے ہندو مردوں سے نکاح کی خاطر ہندو مت قبول کرلیا، اس سلسلے میں دل نواز شیخ، فاطمہ رشید، بختیار مراد، خوشبو سندر، عائشہ اور روشن آراء کے نام پیش کئے جاسکتے ہیں، جنہوں نے بالترتیب سنجے دت، سنیل دت اور راجیو رائے سے نکاح کے لئے اپنا مذہب ترک کردیا۔
مسئلہ پر غور وفکر کا ایک اور پہلو ہے، جو بالعموم فرقہ پرستوں کے ذہنوں سے اوجھل رہتا ہے، وہ یہ کہ جو مذہب بے حیائی اور فحاشی پر سخت امتناع عائد کرتا ہو جس کے پیروکاروں کے لئے شادی کے بغیر اجنبی مردوں کے ساتھ اختلاط کی قطعی اجازت نہ ہو، اور جو اپنے ماننے والوں کو حجاب کا پابند بناتا ہو، نیز جس کے قوانین میں عشق ومعاشقہ سراسر معصیت ہو ایسا مذہب بین مذہبی شادیوں کی کیسے حوصلہ افزائی کرسکتا ہے، جس مسلم نوجوان لڑکی یا لڑکے میں تھوڑی بھی مذہبی حس ہوگی وہ غیر مذہب کے رشتے کو کسی طرح پسند نہ کرے گا، بین مذہب شادیوں کی کثرت در اصل مغربی تہذیب کے غلبہ کا نتیجہ ہے، اس وقت ساری دنیا مغرب کی مادہ پرست اور حیوانیت زدہ تہذیب کی آنکھ بند کر کے تقلید کررہی ہے، ہر مذہب کے پیروکاروں میں مغربی تہذیب سے جنون کی حد تک لگاوٴ رکھنے والوں کی بڑی تعداد ہے، جن کی نگاہ میں مذہبی اور انسانی قدروں کی کوئی وقعت نہیں ہے، بین مذہبی شادیوں کے لئے کسی خاص طبقے یا مذہب کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے نئی نسل کو مغربیت کے طوفان سے بچانے کی فکر کرنی چاہئے۔
اخیر میں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے جس لو جہاد کا ہوا کھڑا کیا جارہا ہے، مسلم معاشرہ میں اس قسم کی کسی تحریک کا وجود نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے، البتہ حالات ومشاہدات بتاتے ہیں کہ بعض فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے مسلمان لڑکیوں کو مرتد بنانے کے لئے باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے، ۲۰۰۹ء میں مہاراشٹر کے شہر پربھنی میں پیش آئے ایک واقعہ کی خبر اخبارات میں ان الفاظ کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔
”پربھنی شہر میں ایک ہندو نوجوان نے خو د کو مسلم (پرویز صدیقی) بتاتے ہوئے علاقے کے ساکن شیخ عثمان کی لڑکی سلطانہ کی شادی پرشانت دت راوٴ (پرویز صدیقی) کے ساتھ ہورہی تھی عین عقد کے وقت قاضی صاحب نے اُس سے کلمہٴ شہادت پڑھنے کو کہا لیکن اس کو کلمہٴ شہادت نہ آنے کی وجہ سے حاضرین کو اس کے تعلق سے شک ہوا جب اس کی تحقیقات کی گئی تو خود کو مسلمان بتلانے والا نوجوان دھیرممبئی کا ساکن در اصل ہندو فرقہ پرست تنظیم کا ورکر نکلا، وہاں موجود لوگوں نے اسے شدید زدو کوب کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کردیا، پولیس نے اُس کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد اُسے پربھنی عدالت میں پیش کیا، عدالت نے اس کو پولیس تحویل میں رکھنے کے احکامات جاری کئے، دورانِ تحقیقات پولیس نے ملزم پرشانت دت راوٴ کے قبضہ سے ایک لیپ ٹاپ ضبط کرلیا، لیپ ٹاپ میں مرھٹواڑہ کی مسلم لڑکیوں کی کئی تصاویر اور اُن کی تفصیلات پولیس کو دستیاب ہوئیں، دورانِ تحقیق ملزم نے بتایا کہ اس سے قبل بھی اُس نے جنتور کے ساکن شیخ سلیم کی دختر حنا کے ساتھ ایک ماہ خود کو مسلم بتا کر شادی رچائی تھی، اسی طرح ہنگولی میں بھی اس نے اسی طرح کا ایک اور کارنامہ انجام دیا“
اس خبر سے اندازہ ہوتا ہے کہ فرقہ پرست تنظیمیں نہایت منظم طریقے سے مسلمانوں میں ارتدار کی مہم چلارہی ہیں، ایسے میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کے تعلق سے نہایت چوکنا رہیں۔

Love Jihad.pdf